پیَدایش

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50


باب 1

1 خُدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پَیدا کیا۔
2 اور زمین ویران اور سُنسان تھی اور گہراو کے اُوپر اندھیرا تھا اور خُدا کی روُح پانی کی سطح پر جُنبش کرتی تھی ۔
3 اور خُدا نے کہا کہ روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی۔
4 اور خُدا نے کہاکہ روشنی اچھی ہے اور خُدا نے روشنی کو تاریکی سے جُدا کیا
5 اور خُدا نے روشنی کو دن کہا اور تاریکی کو رات اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی ۔ سو پہلا دن ہوا۔
6 اور خُد ا نے کہا کہ پانیوں کے درمیان فضا ہو تاکہ پانی پانی سے جُدا ہو جائے۔
7 پس خُدا نے فضا کو بنایا اور فضا کے نیچے کے پانی کو فضا کے اُوپر کے پانی سے جُدا کیا اور ایسا ہی ہوا ۔
8 اور خُدا نے فضا کو آسمان کہا اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی ۔ سو دُوسرا دن ہوا۔
9 اور خُدا نے کہا کہ آسمان کے نیچے کا پانی ایک جگہ جمع ہو کر خُشکی نظر آئے اور اَیسا ہی ہوا ۔
10 اور خُدا نے خُشکی کو زمین کہا اور جو پانی جمع ہوگیا تھا اُسکو سمندر اور خُدا نے دیکھا کہ اچھا ہے ۔
11 اور خُدا نے کہا زمین گھاس اور بیج دار بوٹیوں کو اور پھلدار درختوں کو جو اپنی اپنی جنس کے موافِق پھلیں اور جو زمین پر اپنے آپ ہی میں بیج رکھیں اُگائے اور ایسا ہی ہوا۔
12 تب زمین نے گھاس اور بوُٹیوں کو جو اپنی اپنی جِنس کے موافق بیج رکھیں اور پلدار درختوں کو جنکے بیج اُنکی جِنس کے مُوافِق اُن میں ہیں اُگیا اور خُدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔
13 اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی ۔ سو تیسرا دِن ہوا۔
14 ۔ اور خُدا نے کہا کہ فلک پر نیر ہوں کہ دِن کو رات سے الگ کریں اور وہ نشانوں اور زمانوں اور دِنوں اور برسوں کے اِمتیاز کے لئے ہوں ۔
15 اور فلک پر انوار کے لئے ہوں کہ زمین پر روشنی ڈالیں اور اَیسا ہی ہوا ۔
16 خُدا نے دو بڑے نیر بنائے ۔ ایک نیر اکبر کہ دن کو حکم کرے اور ایک نیر اصغرکہ رات پر حکم کرے اور اُس نے ستاروں کو بھی بنایا ۔
17 اور خُدا نے اُنکوں فلک پر رکھا کہ زمین پر روشنی ڈالیں ۔ اور دِن پر اور رات پر حکم کریں اور اُجالے کو اندھیرے سے جُدا کریں اور خُدا نے دیکھا کہ اچھا ہے ۔
18 اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی۔ سو چوتھا دن ہوا ۔
19 اور خُدا نے کہا کہ پانی جانداروں کو کثرت سے پیدا کرے اور پرندے زمین کے اُوپر فضا میں اُڑیں۔
20 اور خُدا نے بڑے بڑے دریائی جانوروں کو اور ہر قسم کے جاندار کو جو پانی سے بکثرت پیدا ہوئے تھے اُنکی جنسِ کے موافِق اور ہر قسم کے پرندوں کو اُنکی جنس کے مُوافق پیدا کیا اور خُدا نے دیکھا کہ اچھا ہے ۔
21
22 اور خُدا نے اُنکو یہ کہکر برکت دی کہ پھلو اور بڑھو اور اِن سمندروں کے پانی کو بھر دو اور پرندے زمین پر بہت بڑھ جائیں ۔
23 اور شام ہوئی اور صبح ہوئی ۔ سو پانچواں دِن ہوا۔
24 اور خُدا نے کہا کہ زمین جانداروں کو اُنکی جِنسکے موافق چوپائے اور رینگنے والے جاندار اور جنگلی جانور اُنکی جِنس کے موافق پیدا کرے اور اَیسا ہی ہوا۔
25 ۔ اور خُدا نے جنگلی جانوروں اور چوپایوں کو اُنکی جنِس کے موافق بنایا اور خُدا نے دیکھا کہ اچھا ہے ۔
26 پھر خُدا نے کہا کہ ہم اِنسان کو اپنی صُورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اِختیار رکھیں ۔
27 اور خُدا نے انسان کو اپنی صور ت پر پیدا کیا ۔ خُدا کی صورت پر اُسکو پیدا کیا ۔ نر و ناری اُنکو پیدا کیا۔
28 خُدا نے اُنکو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معُمورو محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کُل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اِختیار رکھو ۔
29 اور خُدا نے کہا کہ دیکھو میں تمام رُوی زمین کی کُل بیج دار سبزی اور ہر درخت جس میں اُسکا بیج دار زمین کی کُل بیج دار سبزی اور ہر درخت جس میں اُسکا بیج دار پھل ہو تمکو دیتا ہوں ۔ یہ تمہارے کھانے کو ہوں ۔
30 اور زمین کے کل جانوروں کے لئے اور ہوا کے کُل پرندوں کے اور اُن سب کے لِئے جو زمین پر رینگنے والے ہیں جن میں زندگی کا دم ہے کُل ہری بوٹیاں کھانے کو دیتا ہوں اور اَیسا ہی ہوا۔ ۔
31 اور خُدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی اور چھٹا دِن ہوا ۔


باب 2

1 سو آسمان اور زمین اور اُنکے کُل لشکر کا بنانا ختم ہُوا۔۔
2 اور خُدا نے اپنے کام کوجِسے وہ کرتا تھا ساتویں دِن ختم کیا اور اپنے سارے کام سے جِسے وہ کررہا تھا ساتویں دِن فارغ ہُوا ۔۔
3 اور خُدا نے ساتویں دِن کو برکت دی اور اُسےمقُدس ٹھہرایا کیونکہ اُس میں خُدا ساری کائنات سے جسے اُس نے پَیدا کیا اور بنایا فارِغ ہُوا۔
4 یہ ہے آسمان اور زمین کی پیدایش جب وہ خلق ہوئے جِس دِن خُداوند خُدا نے زمین اور آسمان کو بنایا ۔۔
5 اور زمین پر اب کھیت کا کوئی پَودا نہ تھا اور نہ مِیدان کی کوئی سبزی اب تک اُگی تھی کیونکہ خُداوند خُدا نے زمین پر پانی نہیں برسایا تھا اور نہ زمین جو تنے کو کوئی اِنسان تھا ۔ ۔
6 بلکہ زمین سے کُہر اُٹھتی تھی اور تمام رُویِ زمین کو سیراب کرتی تھی۔
7 اور خُداوند خُدا نے زمین کی مِٹی سے اِنسان کو بنایا اور اُسکے نتھنوں میں زِندگی کا دم پُھونکا تو اِنسان جیِتی جان ہُوا۔
8 اور خُداوند خُدا نے مشِرق کی طرف عدنؔ میں ایک باغ لگایا اور اِنسان کو جِسے اُس نے بنایا تھا وہاں رکھّا ۔ ۔
9 اور خُدا وند خُدا نے ہر درخت کو جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لئے اچھّا تھا زمین سے اُگایا اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک وبد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔ ۔
10 اور عدؔن سے ایک دریا باغ کے سیراب کرنے کو نِکلا اور وہاں سے چارندیوں میں تقسیم ہُوا ۔۔
11 ۔ پہلی کا نام فیسؔون ہے جو حِویلہ کی ساری زمین کو جہاں سونا ہوتا ہے گھیرے ہوئے ہے ۔ ۔
12 اور اِس زمین کا سونا چوکھا ہے اور وہاں موتی اور سنگِ سُلیمانی بھی ہیں ۔۔
13 اور دوسری ندی کا نام جیحوؔن ہے جو کُوؔش کی ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ ۔
14 اور تیسری ندی کا نام دِجلہؔ ہے جو اسؔور کے مشرِق کو جاتی ہے اور چَوتھی ندی کا نام فراؔت ہے ۔۔
15 اور خُداوند خُدا نے آدم کو لیکر باغِ عدنؔ میں رکھّا کہ اُسکی باغبانی اور نگہبانی کرے ۔ ۔
16 اور خُداوند خُدا نے آدمؔ کو حکُم دِیا اور کہا کہ تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے ۔۔
17 ۔ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جِس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔
18 اور خُداوند خُدا نے کہا کہ آدمؔ کا ایکلا رہنا اچھّا نہیں ۔ میں اِس کے لِئے ایک مددگار اُسکی مانِند بناؤ نگا۔ ۔
19 اور خُداوند خُدا نے کُل دشتی جانور اور ہوا کے کُل پرندے مٹی سے بنائے اور اُنکو آدمؔ کے پاس لایا کہ دیکھے کہ اُنکے کیا نام رکھتا ہے اور آدمؔ نے جِس جانور کو جو کہا وہی اُسکا نام ٹھہرا ۔
20 اور آدمؔ نے کُل چوپایوں اور ہوا کے پرندوں اور کُل دشتی جانوروں کے نام رکھّے پر آدمؔ کے لئے کوئی مدگار اُسکی مانِند نہ مِلا ۔ ۔
21 اور خُداوند خُدا نے آدمؔ پر گہری نِیند بھیجی اور وہ سو گیا اور اُس نے اُسکی پسلیوں میں ایک کو نِکال لِیا اور اُسکی جگہ گوشت بھر دِیا۔۔
22 اور خُداوند خُدا اُس پسلی سے جو اُس نے آدمؔ سے نکلالیِ تھی ایک عَورت بنا کر اُسے آدمؔ کے پاس لایا ۔۔
23 اور آدمؔ نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور مِیرے گوشت میں سے گوشت ہے اسلئے ناری کہلائیگی کیونکہ وہ نر سے نِکالی گئی ۔۔
24 اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑیگا اور اپنی بیوی سے مِلا رہیگا اور وہ ایک تن ہونگے ۔ ۔
25 اور آدمؔ اور اُسکی بیوی دونوں ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے۔


باب 3

1 سانپ کُل دشتی جانوروں سے جِنکو خُداوند خُدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اُس نے عَورت سے کہا کیا واقِعی خُدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخَت کا پھل تم نہ کھانا؟ ۔۔
2 عَورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں ۔ ۔
3 پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُسکے پھل کی بابت خُدا نے کہا ہے کہ تُم نہ تو اُسے کھا نا اور نہ چھُونا ورنہ مر جاؤ گے ۔ ۔
4 تب سانپ نے عَورت سے کہا کہ تُم ہر گز نہ مرو گے۔
5 بلکہ خُدا جانتا ہے کہ جس دِن تم اُسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کُھل جائینگی اور تُم خُدا کے مانِند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔
6 عَورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خُوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُسکے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوَہر کو بھی دِیا اور اُس نے کھایا۔
7 تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور اُنکو معلوم ہُوا کہ وہ ننگے ہیں اور اُنہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لِئے لُنگیاں بنائیں۔
8 اور اُنہوں نے خُداوند خُدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا سُنی اور آدمؔ اور اُسکی بیوی نے آپ کو خُداوند خُدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا ۔
9 تب خُداوند خُدا نے آدمؔ کو پُکارا اور اُس سے کہا کہ تُوں کہاں ہے؟ ۔
10 اُس نے کہا میں نے باغ میں تیری آواز سُنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا ۔ ۔
11 اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تُو ننگا ہے ؟ کیا تُو نے اُس درخت کا پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھکو حُکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟۔
12 آدمؔ نے کہا جِس عورت کو تُو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دِیا اور میں نے کھایا ۔ ۔
13 تب خُدا وند خُدا نے عَورت سے کہا کہ تُو نے یہ کیا کِیا ؟ عَورت نے کہا کہ سانپ نے مجھکو بہکایا تو میں نے کھایا۔۔
14 اور خُداوند خُدا نے سانپ سے کہا اِسلئے کہ تُونے یہ کیا تُو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعوُن ٹھہرا ۔ تُو اپنے پیٹ کے بل چلیگا اور اپنی عمُر بھر خاک چاٹیگا۔۔
15 اور مِیں تیرے اور عَورت کے درمیان اور تیری نسل اور عَورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کُچلیگا اور تُو اُسکی ایٹری پر کاٹیگا۔۔
16 پھر اُس نے عَورت سے کہا کہ میں تیرے دردِحمل کو بہت بڑھاؤنگا ۔ تُو درد کے ساتھ بچے جنیگی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کریگا ۔۔
17 اور آدمؔ سے اُس نے کہا چُونکہ تُو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اُس درخت کا پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا اِسلئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہُوئی ۔ مشقّت کے ساتھ تُو اپنی عُمر بھر اُسکی پَیداوار کھائیگا ۔۔
18 اور وہ تیرے لِئے کانٹے اور اُونٹکٹارے اُگائیگی اور تُو کھیت کی سبزی کھائیگا ۔۔
19 تُو اپنے مُنہ کے پسینے کی روٹی کھائیگا جب تک کہ زمین میں تُو پھر لوٹ نہ جائے اِسلئے کہ تُو اُس سے نِکالا گیا ہے کیونکہ تو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائیگا ۔ اور آدمؔ نے اپنی بیوی کا نام حّواؔ رکھا اِسلئے کہ وہ سب زِندوں کی ماں ہے۔ ۔
20 اور خُداوند خُدا نے آدمؔ اور اُسکی بیوی کے واسطے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُنکو پہنائے۔ ۔
21 اور خُداوند خُدا نے کہا دیکھو اِنسان نیک و بد کی پہچان مین ہم میں سے ایک کی مانِند ہو گیا ۔ اب کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کُچھ لیکر کھائے اور وہ ہمیشہ جیتا رہے۔
22 اِسلئے خُداوند خُدا نے اُسکو باغِ عدنؔ سے باہر کر دیا تا کہ وُہ اُس زمین کی جس میں سے وہ لیا گیا تھا کھیتی کرے۔
23 چنانچہ اُس نے آدمؔ کو نِکال دیا اور باغِ عدنؔ کے مشِرق کی طرف کروبیون کو اور چوگرد گُھومنے والی شعلہ زن تلوار کو رکھّا کہ وہ زندگی کے درخت کی راہ کی حِفاظت کریں۔
24


باب 4

1 اور آدمؔ اپنی بیوی حوّاؔ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اسکے قاؔئن پیدا ہوا ۔ تب اُس نے کہا مجھے خُداوند سے ایک مرد مِلا۔
2 پھر قاؔئن کا بھائی ہابلؔ پیدا ہوا اور ہابلؔ بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائِن کِسان تھا ۔
3 چند روز کے بعد یُوں ہوا کہ قاؔئِن اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خُداوند کے واسطے لایا۔۔
4 اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کُچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کُچھ اُنکی چربی کا ہدیہ لایا اور خُداوند نے ہاؔبل کو اور اُسکے ہدیہ کو منظور کِیا ۔۔
5 پر قاؔئنِ کو اور اُسکے ہدیہ کو منظور نہ کیا اِسلئے قاؔئنِ نہایت غضبناک ہُوا اور اُسکا مُنہ بِگڑا ۔
6 اور خُداوند نے قاؔئنِ سے کہا تُو کیوں غضبناک ہُوا ؟۔ اور تیرا مُنہ کیوں بگڑا ہُوا؟۔
7 اگر تُو بھلا کرے تو کیا مقبول نہ ہوگا؟ اور اگر تُو بھلا نہ کرے تو گُناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مُشتاق ہے پار تُو اُس پر غالب آ۔
8 اور قاؔئنِ نے اپنے بھائی ہاؔبل کو کُچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یُوں ہوا کہ قاؔئنِ نے اپنے بھائی ہاؔبل پر حملہ کِیا اور اُسے قتل کر ڈالا ۔
9 تب خُداوند نے قاؔئن سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہا ہے؟ اُس نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔ کیا میں اپنے بھائی کا مُحافظ ہُوں؟۔
10 پھر اُس نے کہا تو نے کیا کِیا ؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھکو پُکارتا ہے ۔۔
11 اب تُوزمین کی طرف سے لعنتی ہُوا۔ جس نے اپنے مُنہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خُون لے۔
12 اور زمین کو جوتے گا تو ہو اب تجھے اپنی پَیداوار نہ دیگی اور زمین پر تُو خانہ خراب اور آوارہ ہوگا۔۔
13 تب قاؔئن نے خُداوند سے کہا کہ میری سزا برداشت سے باہر ہے ۔۔
14 دیکھ آج تُو نے مجھے رُویِ زمین سے نِکل دیا ہے اور مَیں تیرے حضور سے رُوپوش ہوجاءنگا اور زمین پر خانہ خراب اور آوارہ رہونگا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی مجھے پائیگا قتل کر ڈالیگا۔۔
15 تب خُداوند نے اُسے کہا نہیں بلکہ جو قاؔئِن کو قتل کرے اُس سے سات گُنا بدلہ لیا جائیگا اور خُداوند نے قاؔئِن کے لئِے ایک نِشان ٹھہرایا کہ کوئی اُسے پاکر مار نہ ڈالے۔۔
16 سو قاؔئِن خُداوند کے حضور سے نِکل گیا اور عدؔن کے مشرق کی طرف نُود کے علاقہ میں جا بسا۔
17 اور قاؔئِن اپنی بیوی کے پاس گیا اور وہ حاملِہ ہوئی اور اُسکے حؔنوک پَیدا ہوا اور اُس نے ایک شہر بسایا اور اُسکا نام اپنے بیٹے کے نام پر حؔنوک رکھا۔۔
18 اور حؔنوک سے عؔیراد پَیدا ہوا اور عیؔراد سے محؔویا ایل پَیدا ہوا اور محؔویاایل سے متؔوساایل پَیدا ہوا اور متؔوساایل سے لمکؔ پیدا ہوا ۔
19 اور لمؔک دو عورتیں بیاہ لایا۔ ایک کا نام عدؔہ اور دُوسری کا نام ضِلّہ تھا ۔
20 اور عدہؔ کے یاؔبل پَیدا ہوا ۔ وہ اُن کا باپ تھا جو خیموں میں رہتےاور جانور پالتے ہیں ۔
21 اور اُسکے بھائی کا نام یوؔبل تھا ۔ وہ بین اور بانسلی بجانے والوں کا باپ تھا۔
22 اور ضِلّہ کے بھی توؔبلقائِن پَیدا ہوا جو پیتل اور لوہے کے سب تیز ہتھیاروں کا بنانے والاتھا اور نمعؔہ توؔبلقائِن کی بہن تھی ۔
23 اور لمؔک نے اپنی بیویوں سے کہا کہ اَے عدؔہ اور ضِلؔہ میری بات سُنواَے لمؔک کی بیویو یرے سخن پر کان لگائو۔مِیں نے ایک مرد کو جس نے مجھے زخمی کیا مار ڈالا اور ایک جوان کو جس نے میرے چوٹ لگائی قتل کر ڈالا۔
24 اگر قؔائِن کا بدلہ سات گُنا لیا جائیگا تو لمؔک کا سترّ اور سات گُنا۔
25 اور آدمؔ پھر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اُسکے ایک اَور بیٹا ہُوا اور اُسکا نام سیؔت رکھاّ اور وہ کہنے لگی کہ خُدا نے ہاؔبل کے عِوض جسکو قاؔئنِ نے قتل کیا مجھے دُوسرا فرزند دیا۔
26 اور سیّت کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہُوا جِسکا نام اُس نے اؔنُوس رکھاّ۔ اُس وقت سے لوگ یہوؔواہ کا نام لیکر دُعا کرنے لگے۔


باب 5

1 یہ آدمؔ کا نسب نامہ ہے ۔ جِس دِن خُدا نے آدمؔ آدم کو پیدا کیا تو اُسے اپنی شبِیہ پر بنایا۔
2 نر اور ناری اُنکو پیدا کیا اور اُنکو برکت دی اور جس روز وہ خلق ہوءے اُنکا نام آدمؔ رکھا ۔
3 آدم ایک سوَ تیس برس کا تھا جب اُسکی صورت و شبِیہ کا ایک بیٹا اُسکے ہاں پیداہُوا اور اُس نے اُس نام سیت رکھاّ ۔
4 اور سیؔت کی پیدایش کے بعد آدمؔ آٹھ سَو برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔
5 اور آدمؔ کی کُل عمر نوَ سَو تیس برس کی ہوئی۔ تب وہ مرا۔
6 اور سؔیت ایک سوَپانچ برس کا تھا جب اُس سے اُنوسؔ پیدا ہُوا ۔
7 اور انوُسؔ کی پیدایش کے بعد سیؔت آٹھ سو سات برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔
8 اور سیؔت کی کُل عمر نَو سَو بارہ برس کی ہوئی ۔ تب وہ مرا۔
9 اور اُنوسؔ نوّے برس کا تھا جب اُس سے قیناؔن پَیدا ہُوا۔
10 اور قِینان کی پیدایش کے بعد اُنوؔس آٹھ سو پندرہ برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں ۔
11 اور اُنؔوس کی کُل عُمر نَو سَو پانچ برس کی ہوئی ۔ تب وہ مرا۔
12 اور قِیناؔن سترّبرس کا تھا جب اُس سے محلؔل ایل پیدا ہوا۔
13 اورمحلؔل ایل کی پَیدایش کے بعد قیؔنان آٹھ سَو چالیس برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں ۔
14 اور قیؔنان کی کُل عمر نَو سَو دس بر س کی ہوئی تب وہ مرا۔
15 اور محلؔل ایل پینسٹھ برس کا تھا جب اُس سے یارؔد پَیدا ہوا۔
16 اور یاؔرد کی پیدایش کے بعد محلؔل ایل آٹھ سُو تیس برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں ۔
17 اور محلؔل ایل کی عمر آٹھ سَو پچانوے برس کی ہوئی ۔ تب وہ مرا۔
18 اور یارؔد ایک سُو باسٹھ برس کا تھا جب اُس سے حؔنوک پیدا ہوا۔
19 اور حؔنوک کی پیدایش کے بعد یارؔد آٹھ سو برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔
20 اور یارؔد کی کُل عمر نَو سو باسٹھ برس کی ہوئی ۔ تب وہ مرا۔
21 اور حِنوؔک پینسٹھ بر کا تھا جب اُس سے متوسلحِ پَیدا ہوا ۔
22 اور متؔوسِلح کی پیدایش کے بعد حؔنوک تین سو برس تک خُدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیَدا ہوئیں ۔
23 اور حؔنوک کی کُل عمر تین سَو پَینسٹھ بر س کی ہوئی ۔
24 اور حؔنوک خُدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور غائِب ہو گیا کیونکہ خُدا نے اُسے اُٹھا لیا۔
25 اور متؔوسِلح ایک سَو ستاسی برس کا تھا جب اُس سے لمؔک پیدا ہوا ۔
26 اور لؔمک کی پَیدایش کے بعد متوسِلحِ سات سو بیاسی برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں ۔
27 اور متوسلِح کی کُل عمر نو سَو اُنہتر برس کی ہوئیں ۔تب وہ مرا۔
28 اور المؔک ایک سَو بیاسی برس کا تھا جب اُس سے ایک بیٹا پیدا ہوا ۔
29 اور اُس نے اُس کا نام نُوح رکھاّ اور کہا کہ یہ ہمارے ہاتھوں کی محنت اور مشقّت سے جو زمین کے سبب سے ہے جِس پر خُد نے لعنت کی ہے ہمیں آرام دیگا۔
30 اور نُوح کی پَیدایش کے بعد لمؔک پانچ سوَو پچانوے برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیَدا ہوئیں۔
31 اور لمؔک کی کُل عمر سات سو ستہتر برس کی ہوئی۔ تب وہ مرا۔
32 اور نؔوح پانچ سوَ برس کا تھا جب اُس سے سؔم حاؔم اور یافت پیدا ہوئے۔


باب 6

1 جب رُویِ زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور اُنکے بیٹیاں پَیدا ہوئیں ۔
2 تو خُدا کے بیٹوں نے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا کہ وہ خوبصورت ہیں اور جِنکو اُنہوں نے چُنا اُن سے بیا کر لیِا ۔
3 خُداوند نے کہا کہ میری رُوح اِنسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہیگی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے تَوبھی اُسکی عمُر ایک سَو بیس برس کی ہوگی ۔
4 اُن دِنوں میں زمین پر جبّار تھے اور بعد میں جب خُدا کے بیٹے اِنسان کی بیٹیوں کے پاس گئے تو اُنکے لِئےاُن سے اَولاد ہوئی ۔ یہی قدیم زمانہ کے سُورما ہیں جو بڑے نامور ہوئےہیں ۔
5 تب خُداوند زمین پر انسان کو پَیدا کرنے سے ملُول ہوا اور دِل میں غم کِیا ۔
6
7 اور خُداوند نے کہا کہ مَیں اِنسان کو جِسے مَیں نے پَیدا کیا رُویِ زمین پر سے مِٹا ڈالونگا۔ اِنسان سے لیکر حیوان اور رینگنے والے جاندار اور ہوا کے پرندوں تک کیونکہ میں اُنکے بنانے سے ملُول ہوں۔
8 مگر نُوح خُداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔
9 نُوح کا نسب بامہ یہ ہے ۔ نُوح مرچ راستباز اور اپنے زمانہ کے لوگوں میں بے عَیب تھا اور نُوحؔ خُدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔
10 اور اُس سے تین بیٹے سؔم حؔام اور یاؔفت پَیدا ہوئے ۔
11 پر زمین خُدا کے آگے ناراست ہوگئی اور وہ ظلم سے بھری تھی۔
12 اور خُدا نے زمین پر نظر کی اور دیکھا کہ وہ ناراست ہوگئی ہے کیونکہ ہر بشر نے زمین پر اپنا طریقہ بگاڑ لیا تھا ۔
13 اور خُدا نے نُوحؔ سے کہا کہ تمام بشر کا خاتمہ میرے سامنے آپہنچا ہے کیونکہ اُنکے سبب سے زمین ظلم سے بھر گئی ۔ سو دیکھ مِیں زمین سمیت اُنکو ہلاک کرونگا۔
14 تُو گو پھر کی لکڑی کی ایک کشتی اپنے لئےبنا۔ اُس کشتی میں کوٹھریاں تیار کرنا اور اُسکے اندر اور باہر رال لگانا ۔
15 اور اَیسا کرنا کہ کشتی کی لمباءی تین سَو ہاتھ ۔ اُسکی چَوڑائی پچاس ہاتھ اور اُسکی اُونچائی تیس ہاتھ ہو۔
16 اور اُس کشتی میں ایک روشندان بنانا اور اُوپر سے ہاتھ بھر چھوڑ کر اُسے ختم کر دینا اور اُس کشتی کا دروازہ اُسکے پہلُو میں رکھنا اور اُس میں تین درجے بنانا ۔ نِچلا۔ دُوسرا اور تِیسرا ۔
17 اور دیکھ مَیں خود زمین پر پانی کا طُوفان لانے والا ہوُں تاکہ ہر بشر کو جِس میں زندگی کا دم ہے دُنیا سے ہلاک کر ڈالوں اور سب جو زمین پر ہیں مر جائینگے ۔
18 پر تیرے ساتھ مَیں اپنا عہد قائِم کرونگا اور تُو کشتی میں جانا۔ تُو اور تیرے ساتھ تیرے بیٹے اور تیری بیوی اور تیرے بیٹوں کی بیویاں ۔
19 اور جانوورں کی ہر قِسم میں سے دو دو اپنے ساتھ کشتی میں لے لینا کہ وہ تیرے ساتھ جیتے بچیں۔ وہ نر و مادہ ہوں ۔
20 اور پرندوں کی ہر قِسم میں سے اور چرندوں کی ہر قِسم میں سے اور زمین پر رینگنے والوں کی ہر قسم میں سے دو دو تیرے پاس آئیں تاکہ وہ جیتے بچیں ۔
21 اور تُو ہر طرح کی کھانے کی چیز لیکر اپنے پاس جمع کر لینا کیونکہ یہی تیرے اور اُنکے کھانے کو ہوگا ۔
22 اور نُوحؔ نے یوُں ہی کِیا ۔ جَیسا خُدا نے اُسے حُکم دیا تھا وَیسا ہی عمل کیا۔


باب 7

1 اور خُدا وند نے نُوحؔ سے کہا کہ تُو اپنے پُورے خاندان کے ساتھ کشتی میں آ کیونکہ مَیں نے تجھی کو پنے سامنے اِس زمانہ میں راستباز دیکھا ہے ۔
2 کُل پاک جانوروں میں ساتھ سات نر اور اُنکی مادہ اور اُن میں جو پاک نہیں ہیں دو دو نر اور اُنکی مادہ اپنے ساتھ لے لینا۔
3 اور ہوا کے پرندوں میں سے بھی سات سات نر اور مادہ لینا تاکہ زمین پر اُنکی نسل باقی رہے۔
4 کیونکہ سات دِن کے بعد مَیں زمین پر چالیس دِن اور چالیس رات پانی برساوٗں گااور ہر جاندار شے کو جِسے مَیں نے بنایا زمین پر سے مِٹا ڈالُونگا۔
5 اور نُوحؔ نے وہ سب جیَسا خُداوند نے اُسے حکم دیا تھا کِیا ۔
6 اور نُوحؔ چھ سَوبرس کا تھا جب پانی کا طوفان زمین پر آیا۔
7 تب نُوحؔ اور اُسکے بیٹے اور اُسکی بیوی اور اُسکے بیٹوں کی بیویاں اُسکے ساتھ طُوفان کے پانی سے بچنے کے لئے کشتی میں گئے ۔
8 اور پاک جانوروں میں سے اور اُن جانوروں میں سے جو پاک نہیں اور پرندوں میں سے اور زمین پر کے ہر رینگنے والے جاندار میں سے۔
9 دو دو نر اور مادہ کشتی میں نوُحؔکے پاس گءے جَیسا خُدا نے نُوحؔ کو حُکم دیا تھا۔
10 اور سات دِن کے بعد اَیسا ہوا کہ طُوفان کا پانی زمین پر آگیا۔ ۔
11 نُوحؔ کی عمُر چھ سواں سال تھا کہ اُس کے دُوسرے مہینے کی ٹِھیک سترھویں تاریخ کو بڑے سمندر کے سب سوتے پُھوٹ نِکلےاور آسمان کی کِھڑکیاں کُھل گئیں ۔
12 چالیس دِن اور چالیس رات زمین پر بارش ہوتی رہی۔
13 اُسی روز نُوحؔ اور نُوحؔ کے بیٹے سؔم اور حؔام اور یافؔت اور نُوحؔ کی بیوی اور اُسکے بیٹوں کی تینوں بیویاں۔
14 اور ہر قِسم کا جانور اور ہر قِسم کا چوپایہ اور ہر قسم کا زمین پر کارینگنے والا جاندار اور ہر قِسم کا پرندہ اور ہر قِسم کی چڑیا یہ سب کشتی میں داخِل ہوئے ۔
15 اور جو زندگی کا دم رکھتے ہیں اُن میں سے دو دو کشتی میں نُوحؔ کے پاس آئے ۔
16 اور جواندر آئے وہ جَیسا خُدا نے اُسے حُکم دیا تھا سب جانوروں کے نر و مادہ تھے۔ تب خُدا وند نے اُسکو باہر سے بند کر دیا ۔
17 اور چالیس دِن تک زمین پر طُوفان رہا اور پانی بڑھا اور اُس نے کشتی کو اُوپراُٹھا دِیا۔سو کشتی زمین پر سے اُٹھ گئی۔
18 اور پانی زمین پر چڑھتا ہی گیا اور بہت بڑھا اور کشتی پانی کے اُوپر تیرتی رہی۔
19 اور پانی زمین پر بہت ہی زیادہ چڑھا اور سب اُونچے پہاڑ جو دُنیا میں ہیں چھپ گئے ۔
20 پانی اُن سے پندرہ ہاتھ اَور اُوپر چڑھا اور پہاڑ ڈوب گئے۔
21 اور سب جانور جو زمین پر چلتے تھے پرندے اور چوپائے اور جنگلی جانور اور زمین پر کے سب رینگنے والے جاندار اور سب آدمی مر گئے ۔
22 اور خُشکی کے سب جاندار جنکے نتھنوں میں زندگی کا دم تھا مرگئے ۔
23 بلکہ ہر جاندار شَے جو رُویِ زمین پر تھی مر مِٹی ۔ کیا اِنسان کیا حَیوان ۔ کیا رینگنے والا جاندار کیا ہوا کا پرندہ یہ سب کے سب زمین پر سے مرمِٹے ۔ فقط ایک نُوحؔباقی بچیا وہ جو اُسکے ساتھ کشتی میں تھے ۔
24 اور پانی زمین پر ایک سَو پچاس دِن تک چڑھتا رہا۔


باب 8

1 پھر خُدا نے نُوحؔ کو اور کُل جانداروں اور کُل چوپایوں کو جو اُسکے ساتھ کشتی میں تھے یاد کِیا اور خُدا نے زمین پر ایک ہوا چلائی اور پانی رُک گیا۔
2 اور سمندر کے سوتے اور آسمان کے دریچے بند کئے گءے اور آسمان سے جو بارِش ہورہی تھی تھم گئی۔
3 اور پانی زمین پر سے گھٹتے گھٹتے ایک سو پچاس چِن کے بعدکم ہُوا۔
4 اور ساتویں مہینے کی سترھویں تاریخ کو کشتی ارؔارط کے پہاڑوں پر ٹِک گئی ۔
5 اور پانی دسویں مہینے تک برابر گھٹتا رہا اور دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیا نظر آئیں ۔
6 اور چالیس دِن کے بعد یُوں ہوا کہ نُوحؔ نے کشتی کی کھڑکی جو اُس نے بنائی تھی کھولی۔
7 اور اُس نے ایک کوّے کو اُڑا دِیا۔ سو وہ نِکلا اور جب تک زمین پر سے پانی سُکھ نہ گیا اِدھر اُدھر پِھرتا رہا۔
8 پھر اُس نے ایک کبُوتری کو اپنے پاس سے اُڑا دی تاکہ دیکھے کہ زمین پر پانی گھٹا یا نہیں ۔
9 پر کُبوتری نے پنجہ ٹیکنے کی جگہ نہ پاءی اور اُنکے پاس کشتی کو لَوٹ آئی کیونکہ تمام رُویِ زمین پر پانی تھا ۔ تب اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے لے لِیا اور پنے پاس کشتی میں رِکھّا۔
10 اور سات دِن ٹھہر کر اُس نے اُس کُبوتری کو پھر کشتی سے اُڑا دیا۔
11 اور وہ کُبوتری ‏‏شام کے وقت اُسکے پاس لَوٹ آئی اور دیکھا تو زَیتون کی ایک تازہ پتّی اُسکی چونچ میں تھی۔ تب نُوحؔنے معلوم کِیا کہ پانی زمین پر سے کم ہوگیا۔
12 تب وہ سات دِن اور ٹھہرا۔ اِسکے بعد پھر اُس کبُوتری کو اُڑایا پر وہ اُسکے پاس پھر کبھی نہ لَوٹی۔
13 اور چھ سَو پہلے برس کے پہلے مہینے کی پہلی تارِیخ کو یُوں ہوا کہ زمین پر سے پانی سُکھ گیا اور نوُحؔ نے کشتی کی چھت کھولی اور دیکھا کہ زمین کی سطح سُکھ گئی ہے ۔
14 اور دُوسرے مہینے کی ستائیسوں تاریک کو زمین بالکل سُوکھ گئی۔
15 تب خُدا نے نُوحؔ سے کہا کہ ۔
16 کشتی سے باہر نِکل آ۔ تُو اور تیرے ساتھ تیری بیوی اور تیرے بیٹے اور تیرے بیٹوں کی بیویاں۔
17 اور اُن جانداروں کو بھی باہر نِکال لا جو تیرے ساتھ ہیں کیا پرندے کیا چَوپائے کِیا زمین کے رینگنے والے جاندار تاکہ وہ زمین پر کثرت سے بچےّ دیں اور بارورہوں اور زمین پر بڑھ جائیں۔
18 تب نُوحؔ اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں اور اپنے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ باہر نِکلا۔
19 اور سب جانور سب رینگنے والے جاندار۔ سب پرندے اور سب جو زمین پر چلتے ہیں اپنی اپنی جِنس کے ساتھ کشتی سے نِکل گئے۔
20 تب نُوحؔ نے خُداوند کے لِئے ایک مذبح بنایا اور سب پاک چَوپایوں اور پاک پرندوں میں سے تھوڑے سے لیکر اُس مذبح پر سوُختنی قربانیاں چڑھائیں۔
21 اور خُداوند نےاُنکی راحت انگیز خوشُبولی اور خُداوند نے اپنے دل میں کہا کہ اِنسان کے سبب سے مَیں پھر کبھی زمین پر لعنت نہیں بھیجوُنگا کیونکہ اِنسان کے دِل کا خیال لڑکپن سے بُر اہے اور نہ پھر سب جانداروں کو جَیسا اب کیا ہے مارونگا۔
22 بلکہ جب تک زمین قائمِ ہے بیج بونا اور فصل کاٹنا ۔ سردی اور تپش ۔ گرمی اور جاڑا دِن اور رات موقوف نہ ہونگے۔


باب 9

1 اور خُدا نے نُوحؔ اور اُسکے بیٹوں کو برکت دی اور اُنکو کہا کہ بارور ہو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو ۔
2 اورزمین کے کُل جانداروں اور ہوا کے کُل پرندوں پر تمہاری دہشت اور تمہارا رُعب ہو گا۔ یہ اور تمام کیڑے جِن سے زمین بھر پڑی ہے اور سمندر کی کُل مچھلیاں تمہارے ہاتھ میں کی گئیں ۔
3 ہر چلتا پھرتا جاندار تمہارے کھانے کو ہوگا۔ ہری سبزی کی طرح میں نے سب کا سب تُم کو دیدیا۔
4 مگر تُم گوشت کے ساتھ خون کو جو اُسکی جان ہے نہ کھانا۔
5 مَیں تمہارے خون کا بدلہ ضرور لوُنگا ۔ ہر جانور سے اُسکا بدکہ لُونگا ۔آدمی کی جان کا بدلہ آدمی سے اور اُسکے بھائی کے بھائی بند سے لُونگا۔
6 جو آدمی کا خون کرے اُسکا خون آدمی سے ہوگا کیونکہ خُدا نے اِنسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔
7 اور تُم بارورہون اور بڑھو اور زمین پر خُوب اپنی نسل بڑھاؤ اور بہت زیادہ ہو جاؤ۔
8 اور خُدا نے نُوحؔ اور اُسکے بیٹوں سے کہا۔
9 دیکھو مَیں خود تُم سے اور تمہارے بعد تمہاری نسل سے۔
10 اور سب جانداروں سے جو تمہارے ساتھ ہیں کیا پرندے کیا چوپائے کیا زمین کے جانور یعنی زمین کے اُن سب جانوروں کے بارے میں جو کشتی سے اُترے عہد کرتا ہوں۔
11 مَیں اِس عہد کو تمارے ساتھ قائم رکھُونگاکہ سب جاندار طُوفان کے پانی سے پھر ہلاک نہ ہونگے اور نہ کبھی زمین کو تباہ کرنے کے لِئے پھر طوُفان آئیگا۔
12 اور خُدا نے کہا کہ جو عہد مَیں اپنے اور تمہارے درمیان اور سب جانداروں کے درمیان جو تمہارے ساتھ ہین پُشت در پُشت ہمیشہ کے لِئے کرتا ہوں اُسکا نِشان یہ ہے کہ ۔
13 مَیں اپنی کمان کو بادل میں رکھتا ہوں ۔ وہ میرے اور زمین کے درمیان عہد کا نِشان ہوگی۔
14 اور اَیسا ہوگا کہ جب مَیں زمین پر بادل لاؤنگا تو میری کمان بادل میں دِکھائی دیگی۔
15 اور میں پنے عہد کو جو میرے اور تمہارے اور ہر طرح کے جاندار کے دریمانن ہے یاد کرونگا اور تمام جانداروں کی ہلاکت کے لِئے پانی کا طوُفان پھِر نہ ہوگا۔
16 اور کمان بادل میں ہوگی اور مَیں اُس پر نِگاہ کرونگا تاکہ اُس ابدی عہد کو یاد کروں جو خُدا کے اور زمین کے سب طرح کے جاندار کے درمیان ہے۔
17 پس خُدا نے نُوحؔسے کہا کہ یہ اُس عہد کا نِشان ہے جو مَیں اپنے اور زمین کے کُل جانداروں کے درمیان قائمِ کرتا ہوں۔
18 ۔نوُحؔ کے بیٹے جو کشتی سے نکلے سِؔم حاؔم اور یافؔت تھے اور حاؔم کنعاؔن کا باپ تھا۔
19 ۔یہی تینوں نُوحؔ کے بیٹے تھے اور اِن ہی کی نسل ساری زمین پر پَھیلی۔
20 اور نُوحؔ کاشتکاری کرنے لگا اور اُس نے ایک انُگور کا باغ لگایا۔
21 اور اُس نے اُسکی مَے پی اور اُسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرے میں برہنہ ہوگیا۔
22 اور کنعؔان ے باپ حاؔم نے اپنے باپ کو برہنہ دیکھا اور پانے دونوں بھائیوں کو باہر آکر خبر دی۔
23 تب سِؔم ور یاؔفت نے ایک کپڑا لیا اور اُسے اپنے کندھوں پر دھرا اور پیچھے کو اُلٹے چل کر گئے اور اپنے باپ کی برہنگی ڈھانکی ۔ سو اُنکے مُنہ اُلٹی طرف تھے اور اُنہوں نے اپنے باپ کی برہنگی نہ دیکھی۔
24 جب نُوحؔ اپنے مَے کے نشہ سے ہوش میں آیا تو جو اُسکے چھوٹے بیٹے نے اُسکے ساتھ کیا تھا اُسے معلوم ہوا۔
25 اور اُس سے کہا کہ کنعؔان ملعُون ہو۔وہ اپنے بھائیوں کے غلاموں کا غلام ہوگا۔
26 پھر کہا خُداوند سِؔم کا خُدا مبارک ہو اورکنعؔان سِؔم کا غلام ہو۔
27 خُدا یافؔت کو پھیلائےکہ وہ سِؔم کے ڈیروں میں بسے اور کنعؔان اُسکا غلام ہو۔
28 اور طوُفان کے بعد نُوحؔ ساڑھے تین سَو برس اَور جیتا رہا۔
29 اور نُوح کی کُل عمُر ساڑھے نَو سَو برس کی ہوئی ۔ تب اُس نے وفات پائی۔‏‏


باب 10

1 نُوحؔ کے بیٹوں سِمؔ حامؔ اور یافؔت کی اُولاد یہ ہیں۔ طوُفان کے بعد اُنکے ہاں بیٹے پیدا ہوئے۔
2 بنی یاؔفت یہ ہیں ۔ حُمرؔ اور ماجوؔجاور ماؔدی اور یاوؔاناور تؔوبل اور مؔسکاور تِیراس۔
3 جمُرؔ کے بیٹے اشکناز اور رِیفتؔ اور تجرؔمہ۔
4 اور یاوؔان کے بیٹے اِلیؔسہ اور تؔرسیس کِتؔیّ اور دوؔدانی۔
5 قوموں کے جزیرے اِن ہی کی نسل میں بٹ کر ہر ایک کی زبان اور قبیلہ کے مطُابق مختلف مُلک اور گروہ ہوگئے۔
6 اور بنی حامؔیہ ہیں۔ کُوشؔ اور مصرؔ اور فُوطؔ اور کنعؔان ۔
7 اور بنی کُوشؔ یہ ہیں ۔ سباؔ اور حوِؔیلہ اور سبؔتہ اور عؔمارہ اور سبتیکہ اور بنی رؔعماہ یہ ہیں۔ سباؔ اور دوانؔ ۔
8 اور کُوشؔ سے نمُروؔد پیَدا ہوا۔
9 وہ رُویِ زمین پر ایک سُورما ہوُا ہے اِسلئے یہ مثل چلی کہ خُداوند کے سامنے نمُؔرود سا شکاری سُورما ۔
10 اور اُس کی بادشاہی کی اِبتدا مُلک سنعؔار میں باؔبل اور اؔرک اور اکؔاد اور کلؔنہ سے ہوئی۔
11 اُسی مُلک سے نِکل کر وہ اؔسور میں آیا اور نینوؔہ اور رؔحوبوت عیر اور کلح ؔکو۔
12 اور نیِنوہ اور کلح کے درمیان رؔسن جو بڑا شہر ہے بنایا۔
13 اور مِصر سے لؔودی اور عؔنامی اور لہؔابی اور نفتوحی۔
14 اور فُتروسی اور کؔسلوحی (جن سے فؔلستی نِکلے ) اور کفؔتوری پیَدا ہوئے۔
15 اور کنعؔان سے صیدؔا جو اُسکا پہلوٹھا تھا اور حِتؔ۔
16 یبوسی اور اموری اور جِجاسی۔
17 اور حّوی اور عرقی اور سینی۔
18 اور اروادی اورصمارمی اور حماتی پَیدا ہوئے اور بعد میں کنعانی قبیلے پھَیل گئے۔
19 اور کنعانیوں کی حّدیہ ہے ۔ صیؔدا سے غزّؔہ تک جو جؔرار کے راستے پر ہے۔ پھر وہاں سے لسؔع تک جو صدؔوم اور عؔمورہ اور اؔدمہ اور ضِبیاؔن کی راہ پر ہے۔
20 سو بنی حؔام یہ ہیں ۔ جو اپنے اپنے مُلک اور گروہوں میں اپنے قبیلوں اور اپنی زبانوں کے مُطابق آباد ہیں۔
21 اور سِؔم کے ہاں بھی جو تمام بنی عَبرؔ کا باپ اور یاؔفت کا بڑا بھائی تھا اَولاد ہوئی۔
22 بنی سِؔم یہ ہیں ۔ عَیلام اور اؔسور اور ارفکَؔسداور لُودؔ اور ارؔام۔
23 اور بنی ارؔام یہ ہیں ۔ عُوضؔ اور حُوؔ ل اور جتؔر اور مؔس۔
24 اور ارؔفکسَد سے سِلحؔ پَیدا ہوا۔ اور سِلحؔ سے عِبر۔
25 اور عِبرؔ کے ہاں دو بیٹے پَیدا ہوئے ۔ ایک کا نام فؔلج تھا کیونکہ زمین اُسکے ایام میں بٹی اور اُسکے بھائی کا نام یُقطؔان تھا۔
26 اوریقطان سے الموؔداد اور سلؔف ورحصؔار ماوت اور اِراخ۔ ۔
27 اور ہدؔورام اور اوؔزال اور دِقلہؔ۔
28 اور عؔوبل اور ابؔی مائیل اور سِباؔ۔
29 اور اؔوفیر اور حؔویلہ اور یُوباب پَیدا ہوئے۔ یہ سب بنی یُقطان تھے۔
30 اور اِن کی آبادی میؔسا سے مشرق کے ایک پہاڑ سؔفار کی طرف تھی۔
31 سو بنی سِؔم یہ ہیں جو اپنے اپنے مُلک اور گروہوں میں اپنے قِبیلوں اور اپنی زبانوں کے مُطابق آباد ہیں۔
32 نُوحؔ کے بیٹوں کے خاندان اُنکی گروہوں اور نسلوں کے اِعتبار سے یہی ہیں اور طُوفان کے بعد جو قومیں زمین پر جا بجا مُنقسم ہوئیں وہ اِن ہی میں سے تھیں۔


باب 11

1 اور تمام زمین پر ایک ہی زبان اور ایک ہی بولی تھی۔
2 اور اَیسا ہوا کہ مشرق کی طرف سفر کرتے کرتے اُنکو مُلکِ سِنعاؔر میں ایک میدان مِلااور وہ وہاں بس گئے ۔
3 اور اُنہوں نے آپس میں کہا آؤ ہم اِینٹیں بنائیں اور اُنکو آگ میں خُوب پکائیں ۔ سو اُنہوں نے پتھر کی جگہ اینٹ سے اور چُونے کی جگہ گارے سے کام لِیا۔
4 پھر وہ کہنے لگے کہ آؤ ہم اپنے واسطے ایک شہر اور ایک بُرج جِسکی چوٹی آسمان تک پہنچے بنائیں اور یہاں اپنا نام کریں ۔ اَیسا نہ ہو کہ ہم تمام رُویِ زمین پر پرگندہ ہوجائیں ۔
5 اور خُداوند اِس شہر اور بُرج کو جِسے بنی آدم بنانے لگے دیکھنے کو اُترا۔
6 اور خُداوند نے کہا دیکھو یہ لوگ سب ایک ہیں اور اِن سبھوں کی ایک ہی زبان ہے۔ وہ جو یہ کرنے لگے ہیں تو اب کُچھ بھی جسکا وہ اِرادہ کریں اُن سے باقی نہ چُھوٹیگا۔
7 سو آؤ ہم وہاں جا کر اُنکی زان میں اِختلاف ڈالیں تاکہ وہ ایک دُوسرے کی بات سمجھ نہ سکیں ۔
8 پس خُداوند نے اُنکو وہاں سے تمام رُویِ زمین پر پراگندہ کِیا سو وہ اُس شہر کے بانے سے باز آئے۔
9 اِسلئے اُسکا نام بابؔل ہُوا کیونکہ خُداوند نے وہاں سے خُداوند نے اُنکو تمام رویِ زمین پر پراگندہ کیا۔
10 یہ سِمؔ کا نسب نامہ ہے۔ سِمؔ ایک سَو برس کا تھا جب اُس سے طوُفان کے دو برس بعد ارفؔکسد پَیدا ہوا ۔
11 اور ارفؔکسد کی پَیدایش کے بعد سِمؔ پانچ سوَ برس جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں۔
12 جب ارفؔکسد پَینتیس برس کا ہُوا تو اُس سے سِؔلح پیدا ہوا۔
13 اور سَؔلح کی پَیدایش کے بعد ارفؔکسد چار سَو تین برس اَور جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں۔
14 سِؔلح جب تیس برس کا ہُوا تو اُس سے عِبؔر پَیدا ہوُا ۔
15 اور عَبرؔ کی پَیدیش کے بعد سِؔلح چار سَو تین برس اَور جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں۔
16 جب عِؔبر چَونتیس برس کا تھا تو اُس سے فلجؔ پیدا ہوا۔
17 اور جلج کی پَیدایش کے بعد عِؔبر چار سَو تیس برس اَور جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔
18 فلج تیس برس کا تھا جب اُس سے رؔعو پیدا ہُوا۔
19 رؔعو کی پَیدایش کے بعد جلج دو سَو نَو برس اَور جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں۔
20 اور رؔعوبتیس برس کا تھا جب اُس سے سرؔوج پَیدا ہوا۔
21 اور سؔروج کی پَیدایش کے بع رؔعو دو سَو سات برس اَور جیتا رہا اور اپس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں۔
22 اور سؔروج تیس برس کا تھا جب اُس سے نُؔحور پَیدا ہُوا ۔
23 او ر نؔحُور کی پَیدایش کے بعد سؔروج دو سَو برس اَور جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں۔
24 نؔحُور اُنتیس برس کا تھا جب اُس سے تارؔح پیدا ہوا ۔
25 تارؔح کی پَیدایش کے بعد نؔحُور ایک سَو اُنیس برس اور جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پَیدا ہوئیں ۔
26 اور تؔارح ستر برس کا تھا جب اُس سے ابؔرام اور نؔحُور اور حاؔران پَیدا ہوئے۔
27 اور یہ تاؔرح سےابرؔام اور نؔحُور اور حؔاران پَیدا ہوئے اور حؔاران سے لُوطؔ پَیدا ہوُا ۔
28 اور حؔاران اپنے باپ تاؔرح کے آگے اپنی زادبُوم یعنی کسدیوں کے اُورؔ میں مرا۔
29 اور ابرؔام اور نؔحُور نے اپنا اپنا بیاہ کر لِیا۔ اَبرام کی بیوی کا نام سؔاری اور نؔحُور کی بیوی کا نام مَلکؔہ تھاجو حارؔان کی بیٹی تھی۔
30 وہی ملَکہ کا با اور اَسؔکہ کا باپ تھا۔ اور ساؔرَی بانجھ تھی۔ اُسکے کوءی بال بچہّ نہ تھا۔
31 اور تاؔرح نے اپنے بیٹے اؔبرام کو اور اپنے پوتے لُوطؔ کو جو حاؔران کا بیٹا تھا اور اپنی بہو سؔارَی کو جو اُسکے بیٹے ابرؔام کی بیوی تھ ساتھ لِیا اور اوہ سہب کسدیوں کے اُورؔ سے روانہ ہوئے کہ کنعؔان کے مُلک میں جائیں اور وہ حؔاران تک آئے اور وہیں رہنے لگے۔
32 اور تارؔح کی عمر دو سَو پانچ برس کی ہوئی اور اُس نے حاراؔن میں وفات پائی۔


باب 12

1 اور خُداوند نے اؔبرام سے کہا کہ تُو اپنے وطن اور اپنے ناتے داروں کے بیچ سے اور اپنے باپ کے گھر سے نِکل کر اُس مُلک میں جاجو مَیں تجھے دِکھاؤنگا۔
2 اور میں تجھے ایک بڑی قَوم بناؤنگا اور برکت دُونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تُو باعثِ برکت ہوا۔
3 جو تجھے مبارک کہیں اُنکو میں برکت دُونگا اور جو تُجھ پر لعنت کرے اُس پر مَیں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔
4 سو ابؔرام خُداوند کے کہنے کے مُطابق چل پڑا اور لُوطؔ اُس کے ساتھ گیا اور ابرؔام پچھتر برس کا تھا جب وہ حاؔران سے روانہ ہوا۔
5 اور ابراؔم نے اپنی بیوی سارَؔی اور پانے بتیجے لُوطؔ کو اسور سب ما کو جو اُنہوں نے جمع کیا تھا اور اُن آدمیوں کو جو اُنکو حارؔان میں مَل گئے تھے ساتھ لِیا اور وہ مُلک ِ کنعاؔن کو روانہ ہوئے اور مُلکِ کنعؔان میں آئے ۔
6 اور ابرؔام اُس مُلک مین سے گُزرتا ہوا مقامِ سِؔکم میں مؔورہ کے بلوط تک پہنچا۔ اُس وقت مُلک میں کنعانی رہتے تھے ۔
7 تب خُداوند نے ابرؔام کو دِکھائی دیکر کہا کہ یہی مُلک مَیں تیری نسل کو دُونگا اور اُس نے وہاں خُداوند کے لِئے جو اُسے دِکھائی دیا تھا ایک قُربان گاہ بنائی ۔
8 اور وہاں سے کُوچ کر کے اُس پہار کی طرف گیا جو بیتؔ ایل کے مشرق میں ہے اور اپنا ڈیرا اَیسے لگایا کہ بیت ایل مغرب میں عُؔی مشرق میں ہے پڑا اور وہاں اُس نے خُداوند کے لئے ایک قُربان گاہ بنائی اور خُداوند سے دُعا کی۔
9 اور ابراؔم سفر کرتا کرتا جنوب کی طرف بڑھ گیا۔
10 اور اُس مُلک میں کال پڑا اور ابرؔام مؔصر کو گیا کہ ہواں ٹِکا رہے کیونکہ مُلک میں سخت کال تھا۔
11 اور اَیسا ہوا کہ جب وہ مؔصر میں داخِل ہونے کو تھا تو اُس نے اپنی بیوی ساؔرَی سے کہا کہ دیکھ مَیں جانتا ہوں کہ تُو دیکھنے میں خوبصورت عورت ہے۔
12 اور یوں ہوگا کہ مصری تجھے دیکھ کر کہینگے کہ یہ اُسکی بیوی ہے۔ سو وہ مجھے توہ مار ڈالینگے۔ مگر تجھے زندہ رکھ لینگے۔
13 سو تُو یہ کہہ دینا کہ مَیں اِسکی بہن ہوں تا کہ تیرے سبب سے میری خَیر ہواور میری جان تیری بدولت بچی رہے۔
14 اور یُوں ہُوا کہ جب ابرؔام مؔصر میں آیا تو مصریوں نے اُس عورت کو دیکھا کہ وہ نہایت خوبصور ہے۔
15 اور فؔرعون کے اُمرا نے اُسے دیکھ کر فرعؔون کے حضور میں اُسکی تعریف کی اور وہ عورت فرعؔون کے گھر میں پہنچائی گئی۔
16 اور اُس نے اُسکی خاطر ابؔرام پر اِحسان کِیا اور بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور گدھے اور غلام اور لَونڈیاں اور گدھیاں اور اُونٹ اُسکے پاس ہوگئے ۔
17 پر خُداوند نے فرؔعون اور اُسکے خاندان پر ابرؔام کی بیوی سارَؔی کے سبب سے بڑی بلائیں نازِل کیِں ۔
18 تب فرعؔون نے ابراؔم کو بُلا کر اُس سے کہا کہ تُو نے مجھ سے یہ کِیا کیا ؟ تُو نے مجھے کیون نہ بتایا کہ یہ تیری بیوی ہے ؟۔
19 یہ کیوں کہا کہ وہ میری بہن ہے۔ ؟ اِسی لِئے مَیں نے اُسے لیا کہ وہ میری بیوی بنے۔ سو دیکھ تیری بیوی حاضر ہے۔ اُسکو لے اور چلا جا۔
20 اور فرعؔون نے اُسکے حق میں اپنے آدمیوں کو ہدایت کی اور اُنہوں نے اُسے اور اُسکی بیوی کو اُسکے سب مال کے ساتھ روانہ کر دیا۔


باب 13

1 اور ابرؔام مؔصر سے اپنی بیوی اور اپنے سب مال اور لوُطؔ کو ساتھ لیکر کنعؔان کے جنوب کی طرف چلا۔
2 اور ابرؔام کے پاس چَوپائے اور سونا چاندی بکثرت تھا۔
3 اور وہ کنعؔان کے جنوب سے سفر کرتا ہوا بیتؔ ایل میں اُس جگہ پہنچا جہاں پہلے بیتؔایل اور عؔی کے درمیان اُسکا ڈیرا تھا۔
4 یعنی وہ مقام جہاں اُس نے شروع میں قربان گاہ بنائی تھی اور وہاں ابرؔام نے خُداوند سے دُعا کی۔
5 اور لوُطؔ کے پاس بھی جو ابراؔم کا ہم سفر تھع بھیڑ بکریاں گائے بیل اور ڈیرے تھے۔
6 اور اُس مُلک میں اِتنی گنایش نہ تھی کہ وہ اِکٹھے رہیں کیونکہ اُنکے پاس اِتنا مال تھا کہ وہ اِکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔
7 اور ابراؔم کے چرواہوں اور لوُطؔ کے چرواہوں میں جھگڑا ہوا اور کنعانی اور فرزأی اُس وقت مُلک میں رہتے تھے۔
8 تب ابراؔم نے لُوطؔ سے کہا کہ میرے اور تیرے درمیان اور میرے چرواہوں اور تیرے چرواہوں کے درمیان جھگڑانہ ہُوا کرے کیونکہ ہم بھائی ہیں ۔
9 کیا یہ سارا مُلک تیرے سامنے نہیں ؟ سو تُو مجھ سے الگ ہو جا۔ اگر تُو بائیں جائے تو مَیں دہنے جاؤنگا اور اگر تُو دہنے جاٖئے تو میں بائیں جاؤنگا۔
10 تب لوُطؔ نے آنکھ اُٹھا کر یرؔدن کی ساری ترائی پر جو ضُغؔر کی طرف ہے نظر دَوڑائی کیونکہ وہ اِس سے پیشتر کہ خُداوند نے سؔدوم اور عمؔورہ کو تباہ کیا خُداوند کے باغ اور مؔصر کے مُلک کی مانند خوب سیراب تھی۔
11 سو لُوطؔ نے یرؔدن کی ساری ترائی کو اپنے لِئے چُن لِیا اور وہ مشرق کی طرف چلا اور وہ ایک دُوسرے سے جُدا ہوگئے۔
12 ابراؔم تو مُلک کنعان میں رہا اور لُوطؔ نے ترائی کے شہروں میں سکونت اِختیار کی اور سؔدوم کی طرف اپنا ڈیرا لگایا۔
13 اور سؔدوم کے لوگ خُداوند کی نظر میں نہایت بدکار اور گنہگار تھے ۔
14 اور لُوطؔ کے جُدا ہو جانے کے بعد خُداوند نے ابراؔم سے کہا کہ اپنی آنکھ اُٹھا اور جِس جگہ تُو ہے وہاں سے شِمال اور جنوب اور مشرق اور مغرب کی طرف نظر دَوڑا ۔
15 کِیونکہ یہ تمام مُلک جو تُو دیکھ رہا ہے مَیں تجھ کو اور تیری نسل کو ہمیشہ کے لئے دُونگا۔
16 اور میں تیری نسل کو خاک کے ذرّوں کی ماند بناؤنگا اَیسا کہ اگر کوئی شخص خاک کے ذرّوں کو گِن سکے تو تیری نسل بھی گِن لی جائیگی ۔
17 اُٹھ اور اِس ملک کے طُول و عرض میں سَیر کر کیونکہ مَیں ااِسے تجھ کو دُونگا۔
18 اور ابراؔم نے اپنا ڈیرا اُٹھایا اور ممؔزے کے بلُوطوں میں جو حبؔون میں ہیں جا کر رہنے لگا اور وہاں خُداوند کے لِئے ایک قُربان گاہ بنائی ۔


باب 14

1 اور سؔنعار کے بادشاہ امرؔافل اور اؔلاسر کے بادشاہ اریوؔک اور عؔیلام کے بادشاہ کِرؔلاعمر اور جؔوئیم کے بادشاہ تؔدعال کے ایام میں ۔
2 یوُں ہوا کہ اُنہوں نے سؔدوم کے بادشاہ برَعؔ اور عمؔورہ کے بادشاہ برؔشع اور ادمؔہ کے بادشاہ سنؔی اب اور ضبوئیم کے بادشاہ شؔمیبر اور باؔلع یعنی ضُغر کے بادشاہ سے جنگ کی۔
3 یہ سب سیّؔدم یعنی دریایِ شور کی وادی میں اِکٹھے ہوئے۔
4 بارہ برس تک وہ کِدرؔ لا عمر کے مُطیع رہے پر تیرھوین برس اُنہوں نے سر کشی کی۔
5 اور چودھویں برس کؔدر لعطر اور اُسکے ساتھ کے بادشاہ آءے اور رفاؔئیم کو عستارات قرنیم میں اور زوزیوں کو ہاؔم میں اور اییمؔکو سَوِٰ قریتیم میں۔
6 اور حوریوں کو اُنکے کوہِ شعیرؔ میں مارتے مارتے ایلؔ فاران تک جو بیابان سے لگا ہوُا ہے آئے ۔
7 پھر وہ لَوٹ کر عَین مصفات یعنی قاؔدِس پہنچے اور عمالیقیوں کے تمام مُلک کو اور اموریوں کو جو حصیصون تمر میں رہتے تھے مارا۔
8 تب سؔدوم کا بادشاہ اور عؔمورہ کا بادشاہ اور اؔدمہ کا بادشاہ اور ضؔبوئیم کا بادشاہ اور باؔلع یعنی ضُغر کا بادشاہ نِکلے اور اُنہوں نے سیؔدّیم کی وادی میں معرکہ آراءی کی ۔
9 تاکہ عیلؔام کے بادشاہ کِدر لاعمر اور جؔئیم کے بادشاہ تدعال اور سؔنعار کے بادشاہ امرؔافل اور اؔلاّسر کے بادشاہ ارؔیوک سے جنگ کریں۔ یہ چار بادشاہ اُن پانچوں کے مقابلہ میں تھے۔
10 سؔدّیم کی وادی میں جا بجا نفت کے گڑے تھے اور سؔدوم عؔمورہ کے بادشاہ بھاگتے بھاگتے وہاں گِرے اور جو بچے پہاڑ پر بھاگ گئے۔
11 تب وہ سؔدوم اور عؔمورہ کا سب ما ل اور وہاں کا سب اناج لیکر چلے گئے ۔
12 اور اؔبراکے بھتیجے لُوطؔ کو اور اُسکے مال کو بھی لیگئے کیونکہ وہ سؔدوم میں رہتا تھا۔
13 تب ایک نے جو بچ گیا تھا جاکر اؔبرام عِبرائی کو خبر دی جو اِسکال اور عؔانیر کے بائی ممرے اموری کے بلوؔطوں میں رہتا تھا اور یہ ابؔرام کے ہم عہد تھے۔
14 جب ابؔرام نے سُنا کہ اُسکا بھائی گرفتار ہُوا تو اُس نے اپنے تین سَو اٹھارہ مشاّق خانہ زادوں کو لیکر دؔان تک اُنکا تعاقب کیِا ۔
15 اور رات کو اُ س نے اور اُسکے خادموں نے غول غول ہو کر اُن پر دھاوا کیا اور اُنکو مارا اور خؔوبہ تک جو دمؔشق کے بائیں ہاتھ ہے اُنکا پیچھا کِیا۔
16 اور وہ سارے مال کو اور اپنے بھائی لوُطؔ کو اور اُسکے مال اور عورتوں کو بھی اور اَور لوگوں کو واپس پھیر لایا۔
17 اور جب وہ کِدؔرلاعمر اور اُسکے ساتھ کے بادشاہوں کو مار کر پھا تو سؔدوم کا بادشاہ اُسکے اِستقبال کو سِؔوی کی وادی تک جو بادشاہی وادی ہے آیا۔
18 اور مَلکِ صدؔق سؔالم کا بادشاہ روٹی اور مَے لایا اور وہ خُدا تعالےٰ کا کاہن تھا ۔
19 او ر اُس نے اُسکو برکت دیکر کہا کہ خُدا تعالےٰکی طرف سے جو آسمان اور زمین کا مالِک ہے ابراؔم مبارک ہو۔
20 اور مبارک ہے خُدا تعالےٰ جس نے تیرے دُشموں کو تیرے ہاتھ میں کر دیا ۔ تب ابؔرام نے سب کا دسواں حصّہ اُسکو دیا۔
21 اور سؔدوم کے بادشاہ نے ابرؔام سے کہا کہ آدمیوں کو مجھُے دیدے اور مال اپنے لئِے رکھ لے۔
22 پر ابرؔام نے سؔدوم کے بادشاہ سے ککہا کہ مَیں نے خُداوند خُدا تعالےٰ آسمان اور زمین کے مالک کی قَسم کھائی ہے۔
23 کہ مَیں نہ تو کوئی دھاگا نہ جُوتی کا تسمہ نہ تیری اَور کوئی چیز لُون تاکہ تویہ نہ کہے سکے کہ مَیں نے ابرؔام کو دَولتمند بنا دیا۔
24 سِو اُسکے جو جوانوں نے کھا لِیا اور اُن آدمیوں کے حصِّے کے جو میرے ساتھ گئے۔ سو عؔانیر اور اؔسکال اور مؔمرے اپنا اپنا حصہِ لے لیں ۔


باب 15

1 اِن باتوں کے بعد خُداوند کا کلام رویا میں ابرؔام پر نازِل ہوا اور اُس ن ے فرمایا اَے ابراؔم تو مت ڈر۔ مَیں تیری سپر اور تیرا بہت بڑا اجر ہُوں۔
2 ابرؔام نے کہا اَے خُداوند خُدا تُو مجھے کیا دیگا؟ کیونکہ مَیں تو بے اَولاد جاتا ہُوں اور میرے گھر کا مُختار دمشقی الِیؔعز ہے۔
3 پِھر ابرؔام نے کہا دیکھ تُو نے مجُھے کوئی اَولاد نہیں دی اور دیکھ میرا خاِنہ زاد میرا وارِث ہوگا۔
4 تب خُداوند کا کلام اُس پر نازِل ہُوا اور اُس نے فرمایا یہ تیرا وارِث نہ ہوگا بلکہ وہ جو تیرے صُلب سے پَیدا ہوگا وُہی تیرا وارِث ہوگا۔
5 اور وہ اُسکو باہر لے گیا اور کہا کہ اب آسمان کی طرف نگاہ کر اور اگر تُو ستاروں کو گِن سکتا ہے توگِن اور اُس سے کہا کہ تیری اَولاد اَیسی ہی ہوگی۔
6 اور وہ خُداوند پر ایمان لایا اور اِسے اُس نے اُسکے حق میں راستبازی شمار کیا ۔
7 اور اُس نے اُس سے کہا کہ مَیں خُداوند ہُوں جو تُجھے کسدیوں کے اُؔور سے نِکال لیا کہ تُجھکو یہ مُلک میراث میں دُوں۔
8 اور اُس نے کہا اَے خُداوند خُدا ! مَیں کیونکر جانُوں کہ مَیں اُسکا وارِث ہُونگا؟۔
9 اُس نے اُس سے کہا کہ میرے لئے تین برس کی ایک بچھیا اور تین برس کا ایک بکری اور تین برس کا ایک میڈھا اور ایک قُمری اور ایک کبُوتر کا بچہّ لے ۔
10 اُس نے اُن سبھوں کو لِیا اور اُنکو بیچ سے دو ٹُکڑے کِیا اور ہر ٹُکڑے کو اُسکے ساتھ کے دُوسرے ٹُکڑے کے بقابل رکھاّ مگر پرندوں کے ٹُکڑے نہ کِئے۔
11 تب شکاری پرنِدے اُن ٹکڑوں پر جپٹنے لگے پر ابرؔام اُنکو ہٹکاتا رہا۔
12 سُورج ڈُبتے وقت ابرؔام پر گہری نِیند غالِب ہوئی اور دیکھو ایک بڑی ہَولناک تاریکی اُس پر چھا گئی ۔
13 اور اُس نے ابراؔم سے کہا یقین جان کہ تیری نَسل کے لوگ اَیسے مُلک میں جو اُنکا نہیں پردیسی ہونگے اور وہاں کے لوگوں کی غلامی کرینگے اور وہ چار سَو برس تک اُنکو دُکھ دینگے۔
14 لیکن مَیں اُس قوم کی عدالت کرونگا جِسکی وہ غلامی کرینگے اور بعد میں بڑی دَولت لیکر وہاں سے نِکل آئینگے ۔
15 اور تُو صحیح سلامت اپنے باپ دادا سے جامِلیگا اور نہایت پِیری میں دفن ہوگا۔
16 اور وہ چَوتھی پُشت میں یہاں لَوٹ آئینگے کیونکہ اموریوں کے گُناہ اب تک پُورے نہیں ہُوئے۔
17 اور جب سُورج ڈُوبا اور اندھیرا چھا گیا تو ایک تنوُر جِس میں سے دُھواں اُٹھتا تھا دِکھائی دِیا اور ایک جلتی مشعل اُن ٹکڑوں کے بیِچ میں سے ہو کر گُذری۔
18 اُسی روز خُداوند نے ابراؔم سے عہد کِیا اور فرمایا کہ یہ مُلک دریایِ مصؔر سے لیکر اُس بڑے دیرا یعنی دریایِ فراؔت تک۔
19 قینیوں اور قنیزیوں اور قدمُونیوں۔ اور حِتّیوں اور فِرزیوں اور فائیم۔
20 اور اموریوں اور کنعانیوں اور جرجاسِیوں اور یبوسیوں سمیت میں نے تیری اَولاد کو دِیا ہے۔
21



باب 16

1 (باب نمبر 16) اور ابراؔم کی بِیوی ساؔری کے کوئی اَولاد نہ ہُوئی۔ اُسکی ایک مصری لوَنڈی تھی جِسکا نام ہاؔجرہ تھا۔
2 اور ساؔرَی نے ابرؔام سے کہا کہ دیکھ خُداوند نے مجھے تو اَولاد سے محروم رکھا ہے سو تُو میری لَونڈی کے پاس جا شاید اُس سے میرا گھر آباد ہو اور ابؔرام نے ساؔرَی کی بات مانی۔
3 اور ابرؔام کو مُلک کنعاؔن میں رہتے دس برس ہوگئے تھے جب اُسکی بیوی سؔارَی نے اپنی مصری لَونڈی اُسے دی کہ اُسکی بیوی بنے۔
4 اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حامِلہ ہو گئی تو اپنی بی بی کو حقیر جاننے لگی ۔
5 تب ساؔرَی نے ابرؔام سے کہا کہ جو ظُلم مجھ پر ہُوا وہ تیری گردن پر ہے۔ مَیں نے اپنی لَونڈی تیرے آغوش میں دی اور اب جو اُس نے آپ کو حامِلہ دیکھا تو مَیں اُسکی نظر میں حقیر ہوگئی۔ سو خُداوند میرے اور تیرے درمیان انصاف کرے۔
6 ابراؔم نے سؔارَی سے کہا کہ تیری لَونڈی تیرے ہاتھ میں ہے جو تجھے بھلا دِکھا۴ی دے سو اُسکے ساتھ کر ۔ تب ساؔرَی اُ س پر سختی کرنے لگی اور وہ اُکے پاس سے بھاگ گئی۔
7 اور وہ خُداوند کے فرشتہ کو بیابان میں پانی کے ایک چشمہ کے پاس مِلی۔ یہ وہی چشمہ ہے جو شؔور کی راہ پر ہے۔
8 اور اُس نے کہا اَے ساؔرَی کی لَونڈی ہاؔجرہ تُو کہا سے آئی اور کِدھر جاتی ہے؟ اُس نے کہا کہ مَیں اپنی بی بی ساؔرَی کے پاس سے بھاگ آئی ہُوں۔
9 خُداوند کے فرشتہ نے اُس سے کہا کہ مَیں تیری اَولاد کو بہت بڑھاؤنگا یہاں تک کہ کثرت کے سبب سے اُسکا شمار نہ ہوسکیگا۔
10 اور خُداوند کے فرشتہ نے اُس سے کہا کہ تُو حامِلہ ہے اور تیرے بیٹا ہوگا ۔
11 اُس کا نام اسِمعیٰل رکھتا اِسلئے کہ خُداوند نے تیر دُکھ سُن لِیا۔
12 وہ گرخر کی طرح آزاد مرد ہوگا۔ اُسکا ہاتھ سب کے خِلاف اور سب ہاتھ اُسکے خِلاف ہونگے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہیگا۔
13 اور ہاؔجرہ نے خُداوند کا جِس نے اُس سے باتیں کیِں اتاؔایل روٹ نام رکھاّ یعنی اَے خُدا تو بصیر ہے کیونکہ اُس نے کہا کیا مَیں نے یہاں بھی اپنے دیکھنے والے کو جاتے ہوئے دیکھا؟۔
14 اَسی سبب سے اُس کُوئیں کا نام بیرؔلحی روٹی پڑ گیا۔ وہ قاؔدِس اور بؔرِد کے درمیان ہے۔
15 اور ابرؔام سے ہاجرؔہ کے ایک بیٹا ہُوا اور ابراؔم نے اپنے اُس بیٹے کا نام جو ہاؔجرہ سے پَیدا ہُوا اِسمعٰیل رکھا ۔
16 اور جب ابرام سے ہاؔجرہ کے اِسمٰعیل پَیدا ہُوا تب ابرؔام چھیاسی برس کا تھا۔



باب 17

1 (باب نمبر 17) جب ابرؔام نِنانوے برس کا ہُوا تب خُداوند ابراؔم کو نظر آیا اور اُس سے کہا کہ مَیں خُدایِ قادِر ہُوں ۔ تو میرے حضور میں چل اور کامِل ہو۔
2 اور میں اپنے اور تیرے درمیان عہد باندھونگا اور تجھے بہت زیادہ بڑھاؤنگا۔
3 تب ابراؔم سرنگو ہوگیا اور خُدا نے اُس سے ہمکلام ہو کر فرمایا۔
4 کہ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو سب قوموں کا باپ ہوگا۔
5 اور تیرا نام پِھر ابراؔم نہیں کہلائیگا بلکہ تیرا نام ابرؔہام ہوگا کیونکہ مَیں تجھے بہت قوموں کا باپ ٹھہرا دیا ہے۔
6 اور مَیں تجھے بہت برومند کرونگا اور قومیں تیری نسال سے ہونگی اور بادشاہ تیری اَولاد میں سے برپا ہونگے۔
7 اورمَیں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسال کے درمیان اُنکی سب پُشتوں کے لئے اپنا عہد جو ابدی عہد ہوگا باندھُونگا تاکہ مَیں تریا اور تیرے بعد تیری نسال کا خُدا رہُوں۔
8 اور مَیں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنؔعان کا تمام مُلک جِس میں تُو پردیسی ہے اَیسا دُونگا کہ وہ دائمی مِلکیت ہو جائے اور مَیں اُنکا خُدا ہُونگا۔
9 پِھر خُدانے ابرؔہام سے کہا کہ تُو میرے عہد کو ماننا اور تیرے بعد تیری نسل پُشت در پُشت اُسے مانے ۔
10 اور میرا عہد جو میرے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے دریمان ہے اور جِسے تم مانو گے سو یہ ہے کہ تُم میں سے ہر ایک فرزند ِ نرینہ کا ختنہ کِیا جائے۔
11 اور تُم اپنے بدن کی کھلڑی کا ختنہ کِیا کرنا۔ اور یہ اُس عہد کا نِشان ہوگا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔
12 پُشت در پُشت ہر لڑکے کا ختنہ جب وہ آٹھ روز کا ہو کِیا جائےخواہ وہ گھر میں پیدا ہو خواہ اُسے کِسی پردیسی سے خریدا ہو جو تیری نسل سے نہیں۔
13 لازم ہے کہ تیرے خانہ زاد اور تیرے زر خرید کا ختنہ کِیا جائے اور میرا عہد تمہارے جِسم میں ابدی عہد ہوگا۔
14 اور وہ فرزندِ نرینہ جِسکا ختنہ نہ ہُوا جِسکا ختنہ نہ ہُوا ہو اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے کیونکہ اُس نے میرا عہد توڑا۔
15 اور خُدا نے ابرؔام سے کہا کہ ساؔرَی جو تیری بیوی ہے سو اُسکو ساؔرَی نہ پُکارنا۔ اُسکا نام ساؔرہ ہوگا۔
16 اورمَیں اُسے برکت دُونگا اور اُس سے بھھی تجھے ایک بیٹا بخشونگا ۔ یقیناً مَیں اُسے برکت دونگا کہ قَومیں اُسکی نسل سے ہونگی اور عالم کے بادشاہ اُس سے پَیدا ہونگے۔
17 تب ابرہؔام سرنگو ہُوا اور ہنس کر چِل میں کنہے لگا کہ کیا سَو برس کے بُڈّھے سے کوئی بچہّ ہوگا اور کیا ساؔرہ کے جو نوّے برس کی ہے اولاد ہوگی؟۔
18 اور ابرؔہام نے خُدا سے کہا کہ کاش اِسمٰعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے۔
19 تب خُدا نے فرمایا کہ بیشک تیری بیوی ساؔرہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا تُو اُسکا نام اِضؔحاق رکھنا اور مَیں اُس سے اور پھر اُسکی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھُونگا۔
20 اور اِسؔمعیل کے حق میں بھی میں نے تیری دُعا سُنی ۔ دیکھ مَیں اُسے برکت دُونگا اور اُسے برومند کرونگا اور اُسے بڑھاؤنگا اور اُس سے بارہ سردار پیَدا ہونگے اورمَیں اُسے بڑی قوم بناؤنگا۔
21 لیکن مَیں اپنا عہد اِضؔحاق سے باندھُونگا جو اگلے سال اِسی وقت مُعیّن پر ساؔرہ سے پَیدا ہوگا۔
22 اور جب خُدا ابرؔہام سے باتیں کر چُکا تو اُسکے پاس سے اُوپر چلا گیا ۔
23 تب ابرؔہام نے اپنے بیٹے اِسؔمٰعیل کو اور سب خانہ زادوں اور اپنے سب زرخریدوں کو عینی اپنے گھر کے سب مردوں کو لِیا اور اُسی روز خُدا کے حُکم کے مُطابق اُنکا ختنہ کیا۔
24 ابرؔہام نِناّنوے برس کا تھا جب اُسکا ختنہ ہُوا۔
25 اور جب اُسکے بیٹے اِسؔمٰعیل کا ختنہ ہُوا تو وہ تیرہ برس کا تھا۔
26 ابرؔہام اور اُسکے بیٹے اِسؔمٰعیل کا ختنہ ایک ہی دِن ہُوا۔
27 اور اُسکے گھر کے سب مردوں کا ختنہ خانہ زادوں اور اُنکا بھی جو پردیسیوں سے خریدے گئے تھے اُسکے ساتھ ہُوا۔


باب 18

1 پِھر خُداوند ممؔرے کے بلُوطوں مین اُسے نظر آیا اور وہ دِن کو گرمی کے وقت اپنے خیمہ کے دروازہ پر بیٹھا تھا ۔
2 اور اُ نے اپنی آنکھیں اُٹھا کر نظر کی اور کِیا دیکھتا ہے کہ تین مرد اُسکے سامنے کھٹرے ہیں ۔ وہ اُنکو دیکھ کر خیمہ کے دروازہ سے اُن سے مِلنے کو دَوڑ ا اور زمین تک جُکا۔
3 اور کہنے لگا کہ اَے میرے خُداند اگر مجھ پر آپ نے کرم کی نظر کی ہے تو اپنے خادِم کے پاس سے چلے نہ جائیں۔
4 بلکہ تھوڑا سا پانی لایا جائے اور آپ اپنے پاؤں دھو کر اُس درخت کے نیچے آرام کریں ۔
5 مَیں کچھ روٹی لاتا ہُوں ۔ آپ تازہ دم ہوجائیں ۔ تب آگے بڑھیں کیونکہ آپ اِسی لِئے اپنے خادِم کے ہاں آئے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا جَیسا تُو نے کہا ہے وَیسا ہی کر۔
6 اور ابرؔہام ڈیرے میں ساؔرہ کے پاس دَوڑا گیا اور کہا کہ تین پَیمانہ باریک آٹا جلد لے اور اُسے گوندھ کر پُھلکے بنا۔
7 اور ابرؔہام گلہّ کی طرف دَوڑا اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر ایک جوان کو دِیا اور اُس نے جلدی جلدی اُسے تیا کیا۔
8 پَھر اُس نے مکھن اور دُودھ اور اُس بچھڑے کو جو اُس نے پکوایا تھا لیکر اُنکے سامنے رکھاّ اور آپ اُنکے پاس درخت کے نیچے کھڑا رہا اور اُنہوں نے کھایا۔
9 پھر اُنہوں نے اُس سے پُوچھا کہ تیری بیوی سارؔہ کہا ہے؟ اُس نے کہا وہ ڈیرے میں ہے۔
10 تب اُس نے کہا مَیں پھر موسمِ بہار میں تیرے پاس آؤنگا اوردیکھ تیری بیوی سارؔہ کے بیٹا ہوگا ۔ اُسکے پیچھے دیرے کا دروازہ تھا ۔ سارؔہ وہاں سے سُن رہی تھی۔
11 اور ابرؔہام اور سارؔہ ضعیف اور بڑی عمر کے تھے اور سارؔہ کی وہ حالت نہیں رہی تھی جو عورتوں کی ہوتی ہے۔
12 تب سارؔہ نے اپنے دِل میں ہنس ہر کہا کِیا اِس قدر عُمر رسیدہ ہونے پر بھی میرے لئِے شادمانی ہو سکتی ہے حالانکہ میرا خاوند بھی ضیعف ہے ؟۔
13 پِھر خُداوند نے ابرؔہام سے کہا کہ ساؔرہ کیوں یہ کہکر ہنسی کہ کیا میرے جو اَیسی بُڑھیا ہُوں واقعی بیٹا ہوگا؟۔
14 کیا خُداوند کے نزدیک کوئی بات مُشکل ہے؟ موسمِ بہار میں مُعیّن وقت پر میں تیرے پاس پِھر آؤنگا اور ساؔرہ کے بیٹا ہوگا۔
15 ۔ تب ساؔرہ اِنکار کر گئی کہ مَیں نہٰن ہنسی کیونکہ وہ ڈرتی تھی ۔ پر اُس نے کہا نہیں تُو ضرور ہنسی تھی۔
16 تب وہ مرد وہاں سے اُٹھے اور اُنہوں نے سؔدوم کا رُخ کیا اور ابراہام اُنکو رُخصت کرنے کو اُنکے ساتھ ہو لِیا ۔
17 اور خُدواند نے کہا کہ جو کُچھ مَیں کو ہوُں کِیا اُسے ابرؔہام سے پوشیدہ رکھُوّں؟۔
18 ابراؔہام سے تو یقیناً ایک ؓری اور زبردست قَوم پَیدا ہوگی اور زمین کی سب قومیں اُسکے وسیلہ سے برکت پائینگی ۔
19 کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ وہ اپنے بیٹوں اور گھرانے کو جو اُسکے پیچھے رہ جائینگے وصِیت کریگا کہ وہ خُداوند کی رہ میں قائم رہ کر عدل اور اِنصاف کریں تا کہ جو کچھ خُداوند نے ابرؔہام کے حق میں فرمایا ہے اُسے پُورا کرے ۔
20 پِھر خُداوند نے فرمایا چونکہ سؔدوم اور عؔمورہ کا شور بڑھ گیا اور اُنک جُرم نہایت سنگین ہو گیا ہے۔
21 اِسلئے مَیں اب جا کر دیکھونگا کہ کیا اُنہوں نے سراسر وَیسا ہی کِیا ہے جَیسا شور میرے کان تک پہنچا ہے اور اگر نہیں کِیا تو مَیں معلوم کو لُونگا۔
22 سو وہ مرد وہاں سے مُڑے اور سِؔدوم کی طرف چلے پر ابرؔہام خُداوند کے حضور کھڑا رہا ۔
23 تب ابرؔہام نے نزدیک جا کر کہا کیا تُو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کریگا؟۔
24 شاید اُس شہر میں پچاس راستباز ہوں ۔ کیا تُو اُسے ہلاک کریگا اور اُن پچاس راستبازوں کی خاطر جو اُس میں ہوں اُس مقام کو نہ چھوڑیگا؟۔
25 اَیسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہو جائیں ۔ یہ تجھ سے بعید ہے ۔ کِیا تمام دُنیا کا اِنصاف کرنے والا اِنصاف نہ کریگا ؟ ۔
26 اور خُداوند نے فرمایا کہ اگر مُجھے سؔدُوم میں شہر کے اندر پچاس راستباز مِلیں تو مَیں اُنکی خاطر اُس مقام کو چھوڑ دُونگا۔
27 تب ابرؔہام نے جواب دِیا اور کہا دیکھئے! مَیں نے خداوند سے بات کرنے کی جُرات کی اگرچہ مَیں خاک اور راکھ ہُوں۔
28 شاید پچاس راستبازوں میں پانچ کم ہوں ۔ کیا اُن پانچ کی کمی کے سبب سے تُو تمام شہر کو نیست کریگا؟ اُس نے کہا اگر مُجھے وہاں پَینتالیس مِلیں تو مَیں اُسے نیست نہیں کرونگا۔
29 پِھر اُس نے کہا کہ شاید وہاں چالِیس مِلیں ۔ تب اُس نے کہا کہ مَیں اُن چالیس کی خاطر بھی یہ نہیں کرونگا۔
30 پھر اُس نے کہا خُداوند ناراض نہ ہو تو مَیں کُچھ اَور عرض کرو۔ شاید وہاں تیس مَلیں۔ اُس نے کہا ۔ اگر مُجھے وہاں تیس بھی مِلیں تو بھی اَیسا نہیں کرونگا۔
31 پِھر اُس نے کہا دیکھئے ! مَیں نے خُداوند سے بات کرنے کی جُراٗت کی ۔ شاید وہاں بیِس مِلیں ۔ اُس نے کہا مَیں بِیس کی خاطرِ ھی اُسے نیست نہیں کرونگا۔ تب اُس نے کہا مَیں بیِس کی خاطِر بھی اُسے نیست نہیں کرونگا۔
32 تب اُس نے کہا خُداوند ناراض نہ ہو تو مَیں دس کی خاطِر بھی اپسے نیست نہیں کرونگا۔
33 جب خُداوند ابرؔہام سے باتیں کر چُکا تو چلا گیا اور ابرؔہام اپنے مکان کو لَوٹا


باب 19

1 اور وہ دونوں فرشتے شام کو سؔدُوم میں آئے اور لؔوُط سؔدُوم کے پھاٹک پر بَیٹھا تھا اور لؔوُط اُنکو دیکھ کر اُن کے اِستقبال کے لئے اُٹھا اور زمین تک جُھکا۔
2 اور کہا اَے میرے خُداوند اپنے خادِم کے گھر تشریف لے چلئے اور رات بھر آرام کیجئے اور اپنے پاؤں دھوئیے اور صُبح اُٹھکر اپنی راہ لَیجئے اور اُنہوں نے کہا نہیں ہم چَوک ہی میں رات کاٹ لینگے۔
3 لیکن جب وہ بہت بجِد ہُوا تو وہ سُسکے ساتھ چل کر اُسکے گھر میں آئے اور اُس نے اُنکے لِئے ضیافت تیار کی اور بے خمیری روٹی پکائی اور اُنہوں نے کھایا۔
4 اور اِس سے پیشتر کہ وہ آرام کرنے کے لِئے لیتیں سؔدُوم شہر کے مردوں نے جوان سے لیکر بُڈھے تک سب لوگوں نے ہر طرف سے اُس گھر کو گھیر لیا۔
5 اور اُنہوں نے لؔوُط کو پُکار کر اُس سے کہا وہ مرد جو آج رات تیرے ہاں آئے کہاں ہیں؟ اُنکو ہمارے پاس باہر لے آ تاکہ ہم اُن سے صحبت کریں۔
6 تب لؔوُط نِکل کر اُنکے پاس دروازہ پر گیا اور اپنے پیچھے کواڑ بند کر دیا۔
7اور کہا کہ اَے بھائیو! اَیسی بدی تو نہ کرو۔
8 دیکھو! میری دوبیٹیان ہیں جو مرد سے واقف نہیں ۔ مرضی ہو تو مَیں اُنکو تمہارے پاس لے آؤں اور جو تُمکو بھلا معلوم ہو اُن سے کرو۔ مگر اِن مردوں سے کُچھ نہ کہنا کیونکہ وہ اِسی واسطے میری پناہ میں آئے ہیں۔
9 اُنہوں نے کہا یہاں سے ہٹ جا۔ پِھر کہنے لگے کہ یہ شخص ہمارے درمیان قیام کرنے آیا تھا اور اب حکومت جتاتا ہے ۔ سو ہم تیرے ساتھ اُن سے زیادہ بدسلوکی کرینگے ۔ تب وہ اُس مرد یعنی لؔوُط پر پِل پڑے اور نزدیک آئے تاکہ کِواڑ توڑ ڈالیں ۔
10 لیکن اُن مردوں نے اپنے ہاتھ بڑھا کر لؔوُط کو اپنے پاس گھر میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کردیا۔
11 اور اُن مردوں کو جو گھر کے دروازہ پر تھے کیا چھوٹے کیا بڑے اندھا کر دیا۔ سو وہ دروازہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے۔
12 تب اپن مردوں نے لؔوُط سے کہا کیا یہاں تیرا اور کوئی ہے ۔؟۔ داماد اور اپنے بیٹوں اور بیٹیوں اور جو کئی تیرا ِس شہر میں ہو سب کو اِس مقام سے باہر نِکال لے جا۔
13 کیونکہ ہم اِس مقام کو نیست کرینگے اِسلئے کہ اُنکا شور خُداوند کے حضوربہت بلند ہُوا ہے اور خُداوند نے اُسے نیست کرنے کو ہمیں بھیجا ہے۔
14 تب لؔوُط نے باہر جاکر اپنے دامادوں سے جنہوں نے اُسکی بیٹیاں بیاہی تھیں باتیں کیں اور کہا کہ اُٹھواور اِس مقام سے نِکلو کیونکہ خُداوند اِس شہر کو نیست کریگا۔ لیکن وہ اپنے دامادوں کی نظر میں مُضحِک سا معلوم ہُوا۔
15جب صُبح ہوئی تو فرشتوں نے لؔوُط سے جلدی کرائی اور کہا کہ اُٹھ اپنی بیوی اور اپنی دونوں بیٹیوں کو جو یہاں ہیں لے جا۔ اَیسا نہ ہو کہ تُو بھی اِس شہر کی بدی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو جائے۔
16 مگر اُس نے دیر لگائی تو اُن مردوں نے اُسکا اور اُسکی بیوی اور اُسکی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا کیونکہ خُداوند کی مہربانی اُس پر ہوئی اور اُسے نِکال کی شہر سے باہر کر دیا۔
17 اور یُوں ہُوا کہ جب وہ اپنکو باہر نِکال لائے تو اُس نے کہا اپنی جان بچانے کو بھاگ۔ نہ تو پیچھے مُڑ کر دیکھنا نہ کہیں مَیدان میں ٹھہرنا۔ اُس پہاڑ کو چلا جا۔ تانہ ہو کہ تو ہلاک ہو جائے۔
18 لؔوُط نے اُن سے کہا کہ اَے میرے خُداوند اَیسا نہ کر۔
19 دیکھ تُو نے اپنے خادم پر کرم کی نظر کی ہے اور اَیسا فضل کِیا کہ میری جان بچائی ۔ مَیں پہاڑ تک جا نہیں سکتا۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ مجھ پر مُصیبت آپڑے اور مَیں مر جاؤں۔
20دیکھ یہ شہر اَیسا نزدیک ہے کہ وہاں بھاگ سکتا ہوُں اور یہ چھوٹا بھی ہے ۔ اِجازت ہو تو میں وہاں چلا جاؤں ۔ وہ چھوٹا سا بھی ہے ۔ اور میری جان بچ جائیگی ۔
21اُس نے اُس سے کہا کہ دیکھ مَیں اِس بات میں بھی تیرا لحاظ کرتا ہوں کہ اِس شہر کو جِسکا تو نے ذِکر کیا ہے غارت نہیں کرونگا۔
22 جلدی کر اور وہاں چلا جا کیونکہ مَیں کچھ نہیں کر سکتا جب تک کہ تُو وہاں پہنچ نہ جائے۔ اَسی لئے اُس شہر کا نام ضُؔغر کہلایا۔
23 اور زمین پر دُھوپ نِکل چُکی تھی جب لؔوُط ضُؔغر میں داخل ہُوا۔
24 تب خُداوند نے اپنی طرف سے سؔدُوم اور عؔمورہ پر گندھک اور آگ آسمان سے برسائی۔
25اور اُس نے اُن شہر وں کو اور اُس ساری ترائی کو اور اُن شہروں کے سب رہنے والون کو اور سب کُچھ جو زمین سے اُگا تھا غارت کِیا۔
26 مگر اُسکی بیوی نے اُسکے پیچھے سے مُڑ کر دیکھا اور وہ نمک کا سُتون بن گئی۔
27 اور ابرؔہام صبح سویرے اُٹھ کر اُس جگہ گیا جہاں وہ خُداوند کے حضور کھڑا ہوا تھا۔
28 اُس نے سؔدُم اور عؔمورہ اور اُس ترائی کی ساری زمین کی طف نظر کی اور کیا دیکھتا ہے کہ زمین پر سے دُھوان اِیسا اُٹھ رہا ہے جَیسے بھٹیّ کا دُھواں ۔
29 اور یُوں ہُوا کہ جب خُدا نے اُس ترائی کے شہروں کو نیست کِیا تو خُدا نے ابرؔہام کو یاد کیا اور اُن شہروں کو جہاں لؔوُط رہتا تھا غارت کرتے وقت لؔوُط کو اُس بلا سے بچایا۔
30اور لؔوُط ضُغؔر سے نِکل کر پہاڑ پر جا بسا اور اُس کی دونوں بیٹیاں اُسکے ساتھ تھیں کیونکہ اُسے ضُؔغر میں بستے ڈرلگا اور وہ اور اُسکی دونوں بیٹیاں ایک غار میں رہنے لگے۔
31تب پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بُڈ ّھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں جو دُنیا کے دستور کے مُطابق ہمارے پاس آئے ۔
32 آؤ ہم اپنے باپ کو مِے پِلائیں اور اُس سے ہم آغوش ہوں تاکہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھّیں ۔
33 سو اُنہوں نے اُسی رات اپنے باپ کو مِے پِلائی اور پہلوٹھی اندر گئی اور اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی پر اُس نے نہ جانا کہ وہ کب لیتی اور کب اُٹھ گئی۔
34 اور دُوسرے روز یُوں ہُوا کہ پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہ کہ دیکھ کل رات کو میں اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی۔آؤ آج رات بھی اُسکو مَے پِلائیں اور تُو بھی جا کر اُس سے ہم آغوش ہو تا کہ ہم اپنے باپ سے نسل باقی رکھّیں ۔
35 سو اُس رات بھی اُنہوں نے اپنے باپ کو مَے پِلائی اور چھوٹی گئی اور اُس سے ہم آغوش ہوئی پر اُس نے نہ جانا کہ وہ کب لیٹی اور کب اُٹھ گئی ۔ سو لؔوُط کی دو بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہُوئیں ۔ اور بڑی کے ایک بیٹا ہُوا اور اُس نے اُس کا نام مؔوآب رکھا۔ وُہی موآبیوں کا باپ ہے جو اب تک موجود ہیں ۔ اور چھوٹی کے بھی ایک بیٹا ہُوا اور اُس نے اُسکا نام بِن عمی رکھا۔ وہی بنی عمّون کا باپ ہے جو اب تک موجود ہیں
36
37
38



باب 20

1 (باب نمبر 20) اور ابؔرہام وہاں سے جنوب کے مُلک کی طرف چلا اور قؔادِس اور شؔور کے درمیان ٹھہرا اور جؔرار میں قیام کیا۔
2 اور اؔبرہام نے اپنی بیوی ساؔرہ کے حق میں کہا کہ وہ میری بہن ہے اور جؔرار کے بادشاہ اؔبی مَلک نے سارؔہ کو بُلوالیا۔
3 لیکن رات کو خُدا ابیؔ مَلِک کے پاس خواب میں آیا اور اُ سے کہا کہ دیکھ تُو اُس عورت کے سبب سے جِسے تُو نے لِیا ہے ہلاک ہو گا کیو نکہ وہ شوہر والی ہے۔
4 پر اؔبی مَلِک نے اُس سے صُحبت نہیں کی تھی۔ سو اُس نے کہا اَے خُداوند کیا تُو صادق قوم کو بھی ماریگا؟
5 کیا اُس نے خُود مُجھ سے نہیں کہا کہ یہ میری بہن ہے؟ اور وہ آپ بھی یہی کہتی تھی کہ وہ میرا بھائی ہے۔ مَیں نے تو اپنے سّچے دِل اور پاکیزہ ہاتھو ں سے یہ کیا۔
6 اور خُدا نے اُسے خواب میں کہا ہاں میں جانتا ہوں کہ تُو نے اپنے سّچے دل سے یہ کیا اور مَیں نے بھی تجھے رہکا کہ تُو میرا گُنا نہ کرے۔ اِسی لِئے مَیں نے تجھے اُسکو چُھونے نہ دِیا۔
7 اب تو اُس مرد کی بیوی کو واپس کر دے کیونکہ وہ نبی ہے اور تیرے لئےِ دُعا کریگا اور تُو جیتا رہیگا۔ پر اگر تُو اُسے واپس نہ کرے تو جان لے کہ تُو بھی اور جِتنے تیرے ہیں سب ضرور ہلاک ہونگے۔
8 تب ابؔی مَلِک نے صُبح سویرے اُٹھ کر اپنے سب نوکروں کو بُلایا اور اُنکو یہ سب باتین کہ سُنائیں۔ تب وہ لوگ بہت ڈر گئے ۔
9 اور ابؔی مَلِک نے ابرؔہام کو بُلا کر اُس سے کہا کہ تُو نے ہم سے یہ کیا کِیا؟ اور مُجھ سے تیرا کیا قصُور ہُوا کہ تو مجھ پر اور میری بادشاہی پر ایک گُناہِ عظیم لایا؟ تُونے مجُھ سے وہ کام کِئے جن کا کرنا مُناسب نہ تھا۔
10 ابؔی مَلِک نے ابرؔہام سے یہ بھی کہا کہ تُو نے کیا سمجھ کر یہ بات کی؟۔
11 ابرؔہام نے کہ کہ میرا خیال تھا کہ خُدا کا خوف تواِس جگہ ہرگز نہ ہوگا اور وُہ مُجھے میری بیوی کے سبب سے مار ڈالینگے ۔
12 اور فی الحقیقت وہ میری بہن بھی ہے کیونکہ وہ میرے باپ کی بیٹی ہے اگرچہ میری ماں کی بیٹی نہیں ۔ پھر وہ میری بیوی ہوئی۔ اور جب خُدا نے میرے باپ کے بھر سے مجھے آوارہ کِیا تو میں نے اِس سے کہا کہ مُجھ پر یہ تیری مہربانی ہوگی کہ جہاں کہیں ہم جائیں تُو میرے حق میں کہنا کہ یہ میرا بھائی ہے۔
13
14 تب ابؔی مَلِک نے بھیڑ بکریاں اور گائے بَیل اور غلام اور لونڈیاں ابؔرہام کو دِیں اور اُسکی بیوی ساؔرہ کو بھی اُسے واپس کر دِیا۔
15 اور ابؔی مَلِک نے کہا کہ دیکھ میرا مُلک تیرے سامنے ہے ۔ جہاں جی چاہے رہ۔
16 اور اُس نے ساؔرہ سے کہ کہ دیکھ مَیں نے تیرے بھائی کو چاندی کے ہزار سِکےّ دِئے ہیں ۔ وہ اُن سب کے سامنے جو تیرے ساتھ ہیں تیرے لئِے آنکھ کا پردہ ہے اور سب کے سامنے تیری داد رسی ہوگئی۔
17 تب ابرؔہام نے خُدا سے دُعا کی اور خُدا نے ابؔی مَلِک اور اُسکی بیوی اور اُسکی لونڈیوں کو شفا بخشی اور اُنکے اَولاد ہونے لگی۔
18 کیونکہ خُداوند نے ابرؔہام کی بیوی ساؔرہ کے سبب سے ابؔی مَلِک کے خاندان کے سب رَحِم بند کردِئے تھے۔


باب 21

1 اور خُداوند نے جَیسا اُس نے فرمایا تھا ساؔرہ پر نظر کی اور اُس نے اپنے وعدہ کے مُطابق ساؔرہ سے کِیا۔
2 سو ساؔرہ حاملہ ہوئی اور ابرؔہام کے لئے اُسکے بڑھاپے میں اُسی مُعیّن وقت پر جِسکا ذِکر خُدا نے اُس سے کِیا تھا اُسکے بیٹا ہُوا۔
3 اور ابؔرہام نے اپنے بیٹے کا نام جو اُس سے ساؔرہ کے پَیدا ہُوا اِؔضحاق رکھّا۔
4 اور ابؔرہام نے خُدا کے حکُم کے مُطابق اپنے بیٹے اِضؔحاق کا ختنہ اُس وقت کِیا جب وہ آٹھ دِن کا ہُوا۔
5 اور جب اُسکا بیٹا اِضؔحاق اُس سے پیدا ہُوا تو ابرؔہام سَو بر س کا تھا۔
6 اور سارؔہ نے کہا کہ خُدا نے مجھے ہنسایا اور سب سُننے والے میرے ساتھ ہنسینگے ۔
7 اور یہ بھی کہ کہ بھلا کوئی ابرؔہام سے کہہ سکتا تھا کہ ساؔرہ لڑکوں کو دوُدھ پلائیگی ؟ کیونکہ اُس سے اُسکے بُڑھاپے میں میرے ایک بیٹا ہوا۔
8 اور وہ لڑکا بڑھا اور اُسکا دُودھ چُھڑا یا گیا اور اِضؔحاق کے دُودھ چھُڑانے کے دِن ابرؔہام نے بڑی ضیافت کی ۔
9 اور ساؔرہ نے دیکھا کہ ہاؔجرہ مصری کا بیٹا جو اُسکے ابرؔہام سے ہُوا تھا ٹھٹّھے مارتا ہے ۔
10 تب اُس نے ابرؔہام سے کہاکہ اِس لَونڈی کو اور اُسکے بیٹے کو نِکال دے کیونکہ اَس لَونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اِضؔحاق کے ساتھ وارِث نہ ہوگا۔
11 پر ابؔرہام کو اُسکے بیٹے کے باعِث یہ بات نہایت بُری معلوم ہوئی ۔
12 اور خُدا نے ابرؔہام سے کہا کہ تجھے اِس لڑکے اور اپنی لَونڈی کے باعِث بُرا نہ لگے ۔ جو کُچھ سارؔہ تجھ سے کہتی ہے تُو اُسکی بات مان کیونکہ اِضؔحاق سے تیری نسل کا نام چلیگا۔
13 اور اَس لَونڈی کے بیٹے سے بھی مَیں ایک قوم پیدا کرونگا اِسلئے کہ وہ تیری نسل ہے۔
14 تب ابرؔہام نے صبح سویرے اُٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک لی اور اپسے ہاؔجرہ کو دِیا بلکہ اُسے اُسکے کندھے پر دھر دیا اور لڑکے کو بھی اُسکے حوالہ کر کے اُسے رُخصت کی دیا۔ سو وہ چلی گئی اور بیر ؔسبع کے بیابان میں آوارہ پِھرنے لگی۔
15 اور جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو اُس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نِیچے ڈالدیا ۔
16 اور آپ اُسکے مقابل ایک تیِر کے ٹپّے پر دُور جا بِیٹھی اور کہنے لگی کہ مَیں اِس لڑکے کا مرنا تو نہ دیکھوں ۔ سو وہ اُسکے مُقابل بَیٹھ گئی اور چلاّ چِلاّ کر رونے لگی۔
17 اور خُدا نے اُس لڑکے کی آواز سُنی اور خُدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاجؔرہ کو پُکارا اور اُس سے کہا اَے ہاجرؔہ تجھ کو کیا ہُوا؟ مت ڈر کیونکہ خُدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اُسکی آواز سُن لی ہے۔
18 اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کیونکہ مَیں اُسکو ایک بڑی قوم بناؤنگا۔
19 پِھر خُدانے اُسکی آنکھیں کھو لیں اور اُس نے پانی کا ایک کُوآں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لِیا اور لڑکے کو پِلایا۔
20 اور خُدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑا ہُوا اور بیابان میں رہنے لگا اور تیر انداز بنا۔
21 اور وہ فاؔران کے بیا بان میں رہتا تھا اور اُسکی ماں نے مُلکِ مصؔر سے اُسکے لِئے بیوی لی۔
22 پِھر اُس وقت یُوں ہوُا کہ ابیؔ مَلِک اور اُسکے لشکر کے سردار فِیکُل نے ابرؔہام سے کہا کہ ہر کام میں جو تُو کرتا ہے خُدا تیرے ساتھ ہے۔
23 اِسلِئے تو اب مجھ سے خُدا کی قسم کھا کہ تُو نہ مُجھ سے نہ میرے بیٹے سے اور نہ میرے پوتے سے دغاکریگا بلکہ جو مِہربانی مَیں نے تُجھ پر کی ہے وَیسی ہی تُو بھی مُجھ پر اور اِس مُلک پر جِس میں تُو نے قیام کیا ہے کریگا۔
24 تب ابؔرہام نے کہامَیں قسم کھاؤنگا۔
25 اور ابرؔہام نے پانی کے ایک کُوئیں کو وجہ سے جِسے ابؔی مَلِک کے نوکروں نے زبردستی چھین لِیا تھا ابؔی مَلِک کو جھڑکا۔
26 ابیؔ مَلِک نے کہا مُجھے خبر نہٰن کہ کِس نے یہ کام کِیا اور تُو نے بھی مُجھے نہیں بتایا اور نہ مَیں نے آج سے پہلے اِسکی بابت کُچھ سُنا۔
27 پِھر ابرؔہام نے بھیڑ بکریاں اور گائے بَیل لیکر ابؔی مَلِک کو دِئے اور دونوں نے آپس میں عہد کِیا۔
28 اور ابرؔہام نے بھیڑ کے ساتھ مادہ بچوّں کو لیکر الگ رکھا۔
29 اور ابیؔ مَلِک نے ابرؔہام سے کہا کہ بھیڑ کے اِن سات مادہ بچوں کو الگ رکھنے سے تیرا مطلب کیا ہے؟۔
30 اُس نے کہا کہ بِھیڑ کے اِن ساتوں مادہ بچّوں کو تُو میرے ہاتھ سے لے تاکہ وہ میرے گواہ ہوں کہ مَیں نے یہ کُوآں کھودا ۔
31 اِسی لئے اُس مقام کا نام بیرؔسبع رکھّاکیونکہ وہیں اُن دونوں نے قسم کھائی۔
32 سو اُنہوں نے بیرؔسبع میں عہد کِیا ۔ تب اؔبی مَلِک اور اُسکے لشکر کا سردار فِیکُل دونوں اُٹھ کھڑے ہوئے اور فلستیوں کے مُلک کو لَوٹ گئے۔
33 تب ابرؔہام بیرؔسبع میں جھاؤ کا ایک درخت لگایا اور وہاں اُس نے خُداوند سے جو ابدی خُدا ہے دُعا کی ۔ اور ابؔرہام بہت دِنوں تک فلستیوں کے مُلک میں رہا۔
34


باب 22

1 اِن باتوں کے بعد یُوں ہُوا کہ خُدا نے ابرؔہام کو آزمایا اور اُسے کہا اَے ابرہام ! اُس نے کہا مَیں حاضِر ہُوں ۔
2 تب اُس نے کہا کہ تُو اپنے بیٹے اِضؔحاق کو جو تیرا اِکلوتا ہے اور جِسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر مؔوریا کے مُلک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جَو میں تجھے بتاؤنگا سو ختنی قُربانی کے طَور پر چڑھا۔
3 تب اؔبرہام نے صبح سویرے اُٹھکر اپنے گدھے پر چارجامہ کسا اور پنے ساتھ دو جوانوں اور اپنے بیٹے اِضؔحاق کو لِیا اور سوختنی قُربانی کے لِئے لکڑیاں چیریں اور اُٹھ کر اُس جگہ کو جو خُدا نے اُسے بتائی تھی روانہ ہُوا ۔
4 تِیسرے دِن ابرؔہام نے نِگاہ کی اور اُس جگہ کو دُور سے دیکھا۔
5 تب ابرؔہام نے اپنے جوانوں سے کہا تم یہیں گدھے کے پاس ٹھہرو۔ مَیں اور یہ لڑکا دونوں زرا وہاں تک جاتے ہیں اور سِجدہ کرکے پھر تمہارے پاس لَوٹ آئینگے ۔
6 اور ابرؔہام نے سوختنی قُربانی کی لکڑیاں لیکر اپنے بیٹے اِضؔحاق پر رکھّیں اور آگ اور چُھری اپنے ہاتھ میں لی اور دونوں اِکٹھےّ روانہ ہُوئے۔
7 تب اِضؔحاق نے اپنے باپ ابؔرہام سے کہااَے باپ ! اُس نے جواب دیا کہ اِے میرے بیٹے مَیں حاضِر ہُوں ۔ اُس نے کہا دیکھ آگ اور لکڑیاں تو ہیں پر سوختنی قرُبانی کے لئے برہ کہا ں ہے؟۔
8 ابرؔہام نے کہا اَے میرے بیٹے خُدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قُربانی کے لِئے برہّ مُہیا کرلیگا۔ سو وہ دونوں آگے چلتے گئے۔
9 اور اُس جگہ پہنچے جو خُدا نے بتائی تھی ۔ وہاں ابرؔہام نے قُربانگا بنائی اور اُس پر لکڑیاں چُنیں اور اپنے بیٹے اِضحاؔق کو باندھا اور اُسے قُربانگاہ پر لکڑیون کے اُوپر رکّھا۔
10 ابرؔہام نے ہاتھ بڑھا کر چُھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبھ کرے۔
11 تب خُداوند کے فرشتہ نے اُسے آسمان سے پُکارا کہ اَے ابرؔہام اَے ابرؔہام! اُس نے کا مَیں حاضِر ہُوں ۔
12 پِھر اُس نے کہا کہ تُو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اُس سے کُچھ کر کیونکہ مَیں اب جان گیا کہ تُو خُدا سے نہ ڈر تا ہے اَسلئے کہ تُو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اِکلوتا ہے مُجھ سے دریغ نہ کِیا۔
13 اور ابؔرہام نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جِسکے سِینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابرؔہام نے جا کر اُس مینڈے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سو ختنی قُربانی کے طَور پر چڑھایا۔
14 اور ابرؔہام نے اُس مقام کا نام یہوؔواہ یری رکھا چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خُداوند کے پہاڑ پر مُہیا کا جائیگا۔
15 اور خُداوند کے فرشتہ نے آسمان سے دوبارہ ابرؔہام کو پُکارا اور کہا کہ ۔
16 خُداوند فرماتا ہے چُونکہ تُو نے یہ کام کِیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اِکلوتا ہے دریغ نہ رکّھااِسلئےمیں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ ۔
17 مَیں تجھے برکت پر برکت دُونگا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانِند کر دُونگا اور تیری اَولاد اپنے دُشمنوں کے پھا ٹک کی مالِک ہوگی۔
18 اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومٰن برکت پائینگی کیونکہ تُو نے میری بات مانی۔
19 تب ابرؔہام نے اپنے جوانوں کے پاس لَوٹ گیا اور وہ اُٹھے اور اِکٹھے بیرسؔبع کو گئے اور ابرؔہام بیرؔسبع میں رہا۔
20 اِن باتوں کے بعد یُوں ہُوا کہ ابرؔہام کو یہ خبر مِلی کہ مَکاؔہ کے بھی تیرے بھائی نؔحور سے بیٹے ہوئے ہیں ۔
21 یعنی عُوضؔ جو اُسکا پہلوٹھا ہے اور اُسکا بھائی بُوز اور قمؔوایل ارؔام کا باپ۔
22 اور کسؔد اور حؔزوُ اور فِلدؔاس اور اِدلان اور بتیوؔایل ۔
23 اور بتیوؔایل سے رِبؔقہ پَیدا ہوئی۔ یہ آٹھوں ابؔرہام کے بائی نُحوؔر سے مِلکؔاہ کے پَیدا ہوئے۔
24 اور اُسکی حرم سے بھی جِسکا نام رُومؔہ تھا طِؔنج اور جاؔحم اور تخؔص اور مؔعکہ پَیدا ہوئے۔


باب 23

1 اور ساؔرہ کی عُمر اِیک سو ستائیس برس کی ہوئی ۔ ساؔرہ کی زندگی کے ا،تنے ہی سال تھے۔
2 اور ساؔرہ نے قؔربت اربع میں وفات پائی۔ یہ کنعؔان میں ہے اور حؔبُرون بھی کہلاتا ہے اور ابرؔہام ساؔرہ کے لئِے ماتم اور نوحہ کرنے کو وہاں گیا۔
3 پھر ابرؔہام میت کے پاس سے اُٹھ کر بنی حِتؔ سے باتیں کرنے لگا اور کہا کہ۔
4 مَیں تمہارے درمیان پردیسی اور غریب الوطن ہُوں۔ تم اپنے ہاں گورِستان کے لئے کوئی مِلکیت مُجے دو تا کہ مَیں اپنے مُردہ کو آنکھ کے سامنے سے ہٹا کر دفن کر دُوں ۔
5 تب بنی حِؔت نے ابرؔہام کو جواب دِیا کہ ۔
6 اَے خُداوند ہماری سُن ۔ تُو ہمارے درمیان زبردست سردار ہے ۔ ہماری قبروں میں جو سب سے اچّھی ہو اُس میں تُو اپنے مُردہ کو دفن کر ہم میں اَیسا کوئی نہیں جو تُجھ سے اپنی قبر کا اِنکار کرے تا کہ تُو اپنا مُردہ دفن نہ کر سکے۔
7 ابرؔہام نے اُٹھ کر اور بنی حِتؔ کے آگے جو اُس مُلک کے لوگ ہیں آداب بجا لا کر۔
8 اُن سے یُوں گفتگو کی کہ اگر تُمہاری مرضی ہو کہ مَیں اپنے مرُدہ کو آنکھ کے سامنے سے ہٹا کر دفن کردُو تو میری عرض سُنو اور صُحؔر کے بیٹے عِفرون سے میری سفارِش کرو۔
9 کہ وہ مکفیؔلہ کے غار کوجو اُسکا ہے اور اُسکے کھیت کے کنارے پر ہے اُسکی پُوری قیمت لیکر مجھے دیدے تا کہ وہ گورِستان کےلئے تُمہارے درمیان میری ملکیت ہو جائے۔
10 اور عِفؔرون بنی حِؔت کے درمیان بیٹھا تھا۔ تب عؔفرون حِتّی نے بنی حِؔت کے سامنے اُن سب لوگوں کے رُو برو جو اُسکے شہر کے دروازہ سے دِاخل ہوتے تھے۔ ابرؔہام کو جواب دیا۔
11 اِے میرے خُداوند یوُں نہ ہوگا بلکہ میری سُن ۔ مَیں یہ کھیت تجُھے دیتا ہُوں اور وہ غار بھی جو اُس میں ہے تُجھے دِئے دیتا ہُوں ۔ یہ مَیں اپنی قُوم کے لوگوں کے سامنے تُجھے دیتا ہوں تو پنے مُردہ کو دفن کر۔
12 تب ابرؔہام اُ س مُلک کے لوگوں کے سامنے جُھکا۔
13 پِھر اُ س نے مُلک کے لوگوں کے سُنتے ہُوئے عِفؔرون سے کہاکہ اگر تُو دینا ہی چاہتا ہے تو میری سُن ۔ مَیں تجھے اُس کھیت کا دام دُونگا ۔ یہ تُو مجھ سے لے لے تومَیں اپنے مُردہ کو وہاں دفن کرونگا۔
14 عفِؔرون نے ابؔرہام کو جواب دِیا ۔
15 اَے میرے خُداوند میری بات سُن۔ یہ زمین چاندی کی چار سَو مثَقال کی ہے سو میرے اور تیرے درمیان یہ ہے کہ؟ پس اپنا مُردہ دفن کرونگا۔
16 اورابرؔہام نے عِفرون نے ابرؔہام کی بات مان لی ۔ سو ابؔرہام نے عِفرون کو اُتنی ہی چاندی کی چار سَو مِثقال جو سَوداگروں میں رائج تھی ۔
17 سو عِؔفرون کا وہ کھیت جو مکؔفیلہ میں مؔمرے کے سامنے تھا اور وہ غار جو اُس میں تھا اور سب درخت جو اُس کھیت میں اور اُسکی چاروں طرف کی حُدود میں تھے ۔
18 یہ سب بنی حِؔت کے اور اُن سب کے رُوبرو جو اُسکے شہر کے دروازہ سے دخِل ہوتے تھے ابرؔہام کی خاص ملکیت قرار دِئے گئے ۔
19 اَسکے بعد ابؔرہام نے اپنی بیوی ساؔرہ کو مکفیؔلہ کے کھیت کے غار میں جو مُلکِ کنعان میں مؔمرے یعنی حَبرُونؔ کے سامنے ہے دفن کِیا ۔
20 چنانچہ وہ کھیت اور وہ غٓر جو اُس میں تھا بنی حِتؔ کی طفر سے گورِستان کے لِئے ابرہؔام کی مِلکیت قرار دِئے گئے۔


باب 24

1 اور ابرؔہام ضعیف اور عُمر رسیدہ ہُوا اور خُداوند نے سب باتوں میں ابرؔہام کو برکت بخشی تھی ۔
2 ابرؔہام نے اپنے گھر کے سالخوردہ نوکر سے جو اُسکی سب چیزوں کا مُختار تھا کہ ا تو اپنا ہاتھ ذرا میری ران کے نِیچے رکھ کہ
3 میں تجھ سے خُداوند کی جو زمین و آسمان کا خُدا ہے قسم لُوں کہ تُو کنعانیوں کی بیٹیوں میں سے جِن میں مَیں رہتا ہُوں کِسی کو میرے بیٹے سے نہیں بیاہیگا۔
4 بلکہ تُو میرے وطن میں میرے رِشتہ داروں کے پاس جا کر میرے بیٹے اِضحاقؔ کے لئِے بیوی لائیگا۔
5 اُس نوکر نے اُس سے کہا شاید وہ عورت اِس مُلک میں میرے ساتھ آنا نہ چاہے تو کیا مَیں تیرے بیٹے کو اُس مُلک میں جہاں سے تُو آیا پھِر لے جاؤں ؟
6 تب ابؔرہام نے اُس سے کہا خبردار تپو میرے بیٹے کو وہاں ہر گز نہ لے جانا۔
7 خُداوند آسمان کا خُدا جو مجھُے میرے باپ کے گھر اور میری زاد بُوم سے نِکال لایا اور جِس نے مُجھ سے باتیں کیں اور قسم کھا کر مُجھ سے کہا کہ میَں تیری نسل کو یہ مُلک دُونگا وُہی تیرے آگے آگے اپنا فرشتہ بھیجیگا کہ تُو وہاں سے میرے بیٹے کے لئِے بیوی لائے۔
8 اور اگر وہ عورت تیرے ساتھ آنا نہ چاہے تو تُومیری اِس قسم سے چُھوٹٓ پر میرے بیٹے کو ہرگز وہاں نہ لے جانا۔
9 اُس نوکر نے اپنا ہاتھ اپنے آقا ابرؔہام کی ران کے نیچے رکھ کر اُس س اِس بات کی قِسم کھائی۔
10 تب وہ نوکر اپنے آقا کے اُنٹوں میں سے اُونٹ لیکر روانہ ہُوا اور اُسکے آقا کی اچھی اچھی چیزیں اُسکے پاس تھیں اور وہ اُٹھکر مسوؔپتامیہ میں نؔحور کے شہر کو گیا۔
11 اور شام کو جس وقت عورتیں پانی بھرنے آتی ہیں اُس نے اُس شہر کے باہر باؤلی کے پاس اُونٹوں کو بِٹھایا۔
12 اور کہا اَے میرے خُداوند میرے آقا برؔہام کے خُد مَیں تیری مِنت کرتا ہُوں کہ آج تُومیرا کام بنا دے اور میرے آقا ابرؔہام پر کرم کر۔
13 دیکھ پانی کے چشمہ پر کھڑا ہُوں اور اِس شہر کے لوگوں کی بیٹیاں پانی بھرنے کو آتی ہیں۔
14 سو اَیسا ہو کہ جِس لڑکی سے مَیں کُہوں کہ تُو ذرا اپنا گھڑا جُھکا دے تو مَیں پانی پی لُوں اور وہ کہے کہ لے پی اور مَیں تیرے اُونٹوں کو بھی پلاؤنگی تو وہ وُہی ہو جِسے تُو نے اپنے بندہ اِضحاقؔ کے لِئے ٹھہرایا ہے اور اِسی سے مَیں سمجھ لوُنگا کہ تُو نے میرے آقا پر کرم کیا ہے۔
15 وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ رِبقؔہ جو ابرؔہام کے بھائی نؔحُور کی بیوی مِلؔکاہ کی بیٹے بیوؔایل سے پَیدا ہوئی تھی اپنا گھڑا کندے پر لئِے ہوءے نِکلی۔
16 وہ لڑکی نہایت خُو بصورت اور کنواری اور مرد سے ناواقفِ تھی۔ وہ نیچے پانی کے چشمہ کے پاس گئی اور اپنا گھڑا بھر کر اُوپر کو آئی۔
17 تب وہ نوکر اُس سے مِلنے کو دَوڑا اور کہا کہ ذرا اپنے گھڑے سے تھوڑٓ سا پانی مُجے پِلا دے۔
18 اُسنے کہا پِیجئے صاحب اور فوراً گھڑے کو ہاتھ پر اُتار اُسے پانی پِلایا۔
19 جب اُسے پلا چُکی تو کہنے لگی کہ مَیں تیرے اُونٹوں کو بھی پانی بھر بھر لاؤنگی جب تک وہ پی نہ چُکیں ۔
20 اور فوراً اپنے گھڑے کو حَوض میں خالی کرکے پھر باؤلی کی طر پانی بھرنے دَوڑی گئی اور اُسکے سب اُونٹوں کے لئِے بِھرا۔
21 وہ آدمی چُپ چاپ اُسے غور سے دیکھتا رہا تا کہ معلوم کرے کہ خُداوند نے اُسکا سفر مُبارک کیا ہے یا نہیں ۔
22 جب اُونٹ پی چُکے تو اُس شخص نے نِصف مِثقال سونے کی ایک نتھ اور دس مِثقال سونے ے دو کڑے اُسکے ہاتھوں کے لئِے نِکالے ۔
23 اور کہا کہ ذرا مجھے بتا کہ تُو کِس کی بیٹی ہے؟ اور کیا تیرے باپ کے گھر میں ہمارے ٹکنے کی جگہ ہے؟
24 اُس نے اُس سے کہا کہ میَں بیتوؔایل کی بیٹی ہوُں۔ وہ مِلکاؔہ کا بیٹا ہے جو نؔحُور سے اُسکے ہوا۔
25 اور یہ بھی اُس سے کہا کہ ہمارے پاس بُھوسا اور چارا بہت ہے اور ٹِکنے کی جگہ بھی ہے ۔
26 تب اُس آدمی نے جُھک کر خُداوند کو سِجدہ کیا۔
27 اور کہا خُداوند میرے آقا ابرؔہام کا خُدا مُبارک ہو جس نے میرے آقا کو پانے کرم اور راستی سے محروم نہیں رکّھا اور مُجھے تو خُداوند ٹھیک راہ پر چلا کر میرے آقا کے بھائیو ں کے گھر لایا۔
28 تب اُس لڑکی نے دَوڑ کر اپنی ماں کے گھر میں یہ سب حال کہہ سُنایا ۔
29 اور ربؔقہ کا ایک بھائی تھا جسکا نام لؔابن تھا ۔ وہ باہر پانی کے چشمہ کے پاس اُس آدمی کے پاس دَوڑا گیا۔
30 اور یُوں ہُوا کہ جب اُس نے وہ نتھ دیکھی اور وہ کڑے بھی جو اُُسکی بہن کے ہاتھوں میں تھے اور اپنی بہن رِبقہؔ کا بیان بھی سُن لیا کہ اُس شخص نے مجُھ سے اَیسی اَیسی باتیں کہیں تو وہ اُس آدمی کے پاس آیا اور دیکھا کہ وہ چشمہ کے نزدیک ے پاس کھڑا ہے۔
31 تب اُس سے کہا اَے تو جو خُداوند کی طرف سے مبارک ہے اندر چل۔ باہر کیوں کھڑا ہے؟ میں نے گھر کو اور اُونٹوں کے لئِے بھی جگہ کو تیار کر لِیا ہے ۔
32 پس وہ آدمی گھر میں آیا اور اُس نے اُسکے اُونٹوں کو کھولا اور اُونٹوں کے لئِے بُھوسا اور چارا اور اُسکے اور اُسکے آدمیوں کے پاؤں بھی دُھونے کو پانی دِیا۔
33 اور کھان اُسکے آگے رکّھا گیا پر اُس نے کہا کہ میں جب تک اپنا مطلب بیان نہ کر لُوں نہیں کھاؤنگا۔ اُس نے کہا اچّھا کہہ۔
34 تب اُس نے کہا کہ مَیں اؔبرہام کا نوکر ہُوں ۔
35 اور خُداوند نے میرے آقا کو بڑی برکت دی ہے اور وہ بہت بڑا آدمی ہو گیا ہے اور اُس نے اُسے بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور سونا چاندی اور لَونڈیاں اور غُلام اور اُونٹ اور گدھے بخشے ہیں ۔
36 اور میرے آقا کی بیوی ساؔرہ جب وہ بُڑھیا ہوگئی اُس سے ایک بیٹا ہوا۔ اُسی کو اُس نے اپنا سب کچھ دیدیاہے ۔
37 اور میرے آقا نے مُجھے قسم دیکر کہا ہے کہ تُو کنعانیوں کی بیٹیوں میں سے جِنکے مُلک میں میَں رہتا ہوں کِسی کو میرے بیٹے سے نہ بیاہنا۔
38 بلکہ تُو میرے باپ کے گھر اور میرے رِشتہ داروں میں جانا اور میرے بیٹے کے لئِے بیوی لانا۔
39 تب میں نے اپنے آقا سے کہا شای وہ عورت میرے ساتھ آنا نہ چاہے ۔
40 تب اُس نے مُجھ سے کہا کہ خُداوند جِسکے حضور میں چلتا رہا ہوں اپنا فرشتہ تیرے ساتھ بھیجیگا اور تیرا سفر مُبارک کریگا۔ تو میرے رِشتہ داروں اور میرے باپ کے خاندان میں میرے بیٹے کے لئِے بیوی لانا۔
41 اور جب تُو میرے خاندان میں جا پہنچیگا تب میری قسم سے چھُوٹا ۔
42 سو مَیں آج پانی کے اُس چشمہ پر آکر کہنے لگا اَے خُداوند میرے آقا ابؔرہام کے خُدا اگر تو میرے سفر کو جو مَیں کر رہا ہوُں مُبارک کرتا ہے۔
43 تو دیکھ مَیں پانی کے چشمہ کے پاس کھڑا ہوتا ہوں اور اَیسا ہو کہ جو لڑکی پانی بھرنے نِکلے اور مَیں اُس سے کہوں کہ ذرا پنے گھڑے سے تھوڑا پانی مُجھے پِلا دے ۔
44 اور وہ مجُھے کہے کہ تُو بھی پی اور مَیں تیرے اُونٹوں کے لئِے بھی بھردُونگی تو وہ ہی عورت ہو جِسے خُداوند نے میرے آقا کے بیٹے کے لئِے ٹھہرایا ہے ۔
45 مَیں دِل میں یہ کہ ہی رہا تھا کہ ربقہ اپنا گھڑا کندھے پر لئِے ہوئے باہر نِکلی اور نیچے چشمہ کے پاس گئی اور پانی بھرا ۔ تب مَیں نے اُس سے کہا ذرا مجھے پانی پِلا دے ۔
46 اُس نے فوراً اپنا گھڑا کندھے پر سے اُتارا اور کہا لے پی اور مَیں تیرے اُونٹوں کو بھی پلا دُونگی سَو میں نے پِیا اور اُس نے میرے اُونٹوں کو بھی پِلایا ۔
47 پھر میں نے اُس سے پُوچھا کہ تُو کِس کی بیٹی ہے؟ اُس نے کہا میں بیتؔو ایل کی بیٹی ہوں ۔ وہ نؔحُور کا بیٹٓ ہے جو مِلکؔاہ سے پیدا ہوا۔ پھر میں نے اُسکی ناک میں نتھ اور اُسکے ہاتھ میں کڑے پہنا دِئے ۔
48 اور مَیں نے جُھک کر خُداوند کو سِجدہ کیا اور خُداوند اپنے آقا ابرؔہام کے خُدا کو مُبارک کہا جِس نے مجھے ٹھیک رہ پر چلایا کہ اپنے آقا کے بھائی کی بیٹی اُسکے بیٹے کے واسطے لیجاؤں۔
49 سو اب اگر تُم کرم اور راسی سے میرے آقا کے ساتھ پیش آنا چاہتے ہو تو مُجھے بتاؤ اور اگر نہیں تو کہدو تاکہ میں دہنی یا بائیں طرف پِھر جاؤں ۔
50 تب لاؔبن اور بیؔتوایل نے جواب دِیا کہ یہ بات خُداوند کی طرف سے ہُوئی ہے ۔ ہم تجھے کُچھ بُرا یا بھلا نہیں کہہ سکتے ۔
51 دیکھ رِبؔقہ تیرے سامنے مَوجود ہے ۔ اُسے لے اور جا اور خُداوند کے قول کے مُطابق اپنے آقا کے بیٹے سے اُسے بیاہ دے۔
52 جب ابرؔہام کے نوکر نے اُنکی باتیں سُنیں تو زمین تک جُھک کر خُداوند کو سِجدہ کیا۔
53 اور نوکر نے چاندی اور سونے کے زیور اور لباس نِکال کر رِبقؔہ کو دِئے اور اُسکے بھائی اور اُسکی ماں کو بھی قیمتی چیزیں دیں۔
54 اور اُس نے اور اُسکے ساتھ کے آدمیوں نے کھایا پیا اور رات بھر وہیں رہے ۔صُبح کو وہ اُٹھے اور اُس نے کہا کہ مُجھے میرے آقا کے پاس روانہ کر دو۔
55 رِؔبقہ کے بھائی اور ماں نے کہا کہ لڑکی کو کُچھ روز کم سے کم دس روز ہمارے پاس رہنے دے۔ اِسکے بعد وہ چلی جائیگی ۔
56 اُس نے اُن سے کہا کہ مُجے نہ روکو کیونکہ خُداوند نے میرا سفر مُبارک کیا ہے ۔ مجھے رُخصت کر دو تا کہ مَیں اپنے آقا کے پاس جاؤں ۔
57 اُنہوں نے کہا کہ ہم لڑکی کو بُلا کر پُوچھتے ہیں کہ وہ کیا کہتی ہے۔
58 تب اُنہوں نے رِؔبقہ کو بُلا کر اُس سے پُوچھا کیا تُو اِس آدمی کے ساتھ جائیگی؟ اُس نے کہا جاؤنگی ۔
59 تب اُنہوں نے اپنی بہن رِؔبقہ اور اُسکی دایہ اور ابؔرہام کے نوکر اور اُسکے آدمیوں کو رُخصت کِیا۔
60 اور اُنہوں نے رِؔبقہ کو دُعا دی اور اُس سے کہا اے ہماری بہن تُو لاکھوں کی ماں ہو اور تیری نسل اپنے کینہ رکھنے والوں کے پھاٹک کی مالِک ہو۔
61 اور رِؔبقہ اور اُسکی سہیلیاں اُٹھ کر اُونٹوں پر سوار ہُوٹیں اور اُس آدمی کے پیچھے ہولیں ۔ سو وہ آدمی رِؔبقہ کو ساتھ لیکر روانہ ہُوا۔
62 اور اِضحاقؔ بیرؔلحی روٹی سے ہو کر چلا آرہا تھا کیونکہ وہ جنوب کے مُلک میں رہتاس تھا۔
63 اور شام کے وقت اِؔضحاق سوچنے کو مَیدان میں گیا اور اُس نے جو اپنی آنکھیں اُٹھائیں اور نظرکی تو کیا دیکھتا ہے کہ اُونٹ چلے آرہے ہیں۔
64 اور رِبؔقہ نے نگاہ اور اِضؔحاق کو دیکھ کر اُونٹ پر سے اُتر پڑی۔
65 اور اُس نے نوکر سے پُوچھا کہ یہ شخص کون ہے جو ہم سے مِلنے کو مَیدان میں چلا آرہا ہے ؟اُس نوکر نے کہا یہ میرا آقا ہے ۔ تب اُس نے بُرق لیکر اپنے اُوپر ڈال لیا۔
66 نوکر نے جو جو کِیا تھا سب اِؔضحاق کو بتایا۔
67 اور اِؔضحاق رِؔبقہکو اپنی ماں سؔارہ کے ڈیرے میں لے گیا۔ تب اُس نے رِبؔقہ سے بیاہ کر لیا اور اُس نے محبت کی اور اِضحاق نے پانی ماں کے مرنے کے بعد تسلّی پائی۔


باب 25

1 اور ابؔرہام نے پِھر ایک اَور بیوی کی جسکا نام قؔطُور تھا۔
2 اور اُس سے زمرؔان اور یُقسان اور مِؔدان اور مِؔدیان اور اِؔسباق اور سُخ پیدا ہُوئے ۔
3 اور دؔدان پَیدا ہوئے اور اور دؔدان کی اَولاد سے اُسوری اور لؔطونی اور لُومی تھے۔
4 اور مِؔدیان کے بیٹے عیٖؔفاہ اور عِفؔر اور حؔنوک اور ابیداعؔ اور الؔدوعا تھے ۔ یہ سب بنی قؔطُورہ تھے ۔
5 اور اؔبرہام نے اپنا سب کچھ اِضحاق کو دیا ۔
6 اور اپنی حرموں کے بیٹوں کو ابرؔہام نے بہت کُچھ اِنعام دیکر اپنے جیتے جی اُنکو اپنے بیٹے اِضؔحاق کے پاس سے مشرق کی طرف یعنی مشرِق کے مُلک میں بھیج دِیا۔
7 اور ابرؔہام کی کُل عمر جب تک کہ وہ جیتا رہا ایک سَو پچھترّ برس کی ہوئی ۔
8 تب ابرؔہام نے دم چھوڑ دِیا اور خُوب بُڑھاپے میں نہایت ضعیف اور پُوری عمر کا ہو کر وفات پائی اور اپنے لوگو میں جا مِلا۔
9 اور اُسکے بیٹے اِؔضحاق اور اِسؔمٰعیل نے مِکفیلؔہ کے غار میں جو ممؔرے کے سامنے حِتیؔ صُحر کے بیٹے عِفؔرون کے کھیت میں ہے اُسے دفن کیا۔ یہ وہی کھیت ہے جِسے ابرؔہام نے بنی حِؔت سے خریدا تھا۔ وہیں اؔبرہام اور اُسکی بیوی ساؔرہ دفن ہوئے ۔ اور ابؔرہام کی وفات کے بعد خُدا نے اُسکے بیٹے اِضؔحاق کو برکت بخشی اور اِضؔحاق بیرلؔح روئی کے نزدیک رہتا تھا ۔
10
11
12 یہ نسب نامہ ابرہاؔم کے بیٹے اِسؔمعیل کا ہے جو ابؔرہام سے ساؔرہ کی لَونڈی ہاؔجرہ مصری کے بطن سے پَیدا ہوا۔
13 اور اِسؔمعیل کے بیٹوں کے نام یہ ہیں ۔ یہ نام ترتیب وار اُنکی پَیدایش کے مُطابق ہیں ۔ اَسؔمعیل کا پہلوٹھا نباؔیوت تھا ۔ پِھر قَؔیدار اور اؔوبئیل اور مَؔسبام ۔
14 اور مشؔماع اور دُومؔہ اور مؔسّا ۔
15 حؔدد اور تَیماؔ اور یطُور اور نؔفیس اور قؔدِمہ ۔
16 یہ اِسؔمعیل کے بیٹے ہیں اور اِن ہی کے ناموں سے اِنکی بستیاں اور چھاؤنیاں نامزد ہُوئیں اور یہی بارہ اپنے اپنے قبیلہ کے سردار ہُوئے ۔
17 اور اِسؔمعیل کی کُل عُمر ایک سَو سینتیس برس کی ہُوئی تب اُس نے دم چوڑ دِیا اور وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جا مِلا۔
18 اور اُسکی اَولاد حؔوِیلہ سے شؔور تک جو مِصر کے سامنے اُس راستہ پر ہے جِس سے اؔسُور کو جاتے ہیں آباد تھی ۔ یہ لوگ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسے ہوئے تھے۔
19 اور ابؔرہام کے بیٹے اِؔضحاق کا نسب نامہ یہ ہے ۔ اؔبرہام سے اِضؔحاق پَیدا ہوا ۔
20 اِضؔحاق چالیس برس کا تھا جب اُس نے رِؔبقہ سے بیاہ کیا جو فدّؔان ارام کے باشندہ بیتؔوایل ارامی کی بیٹی اور لؔابن ارامی کی بہن تھی ۔
21 اور اِضؔحاق نے اپنی بیوی کے لئے خُداوند سے دُعا کی کیونکہ وہ بانجھ تھی اور خُداوند نے اُسکی دُعا قبول کی اور اُسکی بیوی رؔبقہ حامِلہ ہُوئی ۔ اور اُسکے پیٹ میں دو لڑکے آپس میں مُزاحمت کرنے لگے ۔ تب اُس نے کہا اگر اَیسا ہی ہے تو مَیں جیتی کیوں ہُوں ؟ اور وہ خُداوند سے پوچھنے گئی۔
22
23 خُداوند نے اُسے کہا ۔ دو قومیں تیرے پیٹ میں ہیں ۔ اور دو قبیلے تیرے بطن سے نِکلتے ہی الگ الگ ہو جائینگے اور ایک قبیلہ دُوسرے قبیلہ سے زور آور ہوگا اور بڑا چھوٹے کی خدمت کریگا۔
24 اور جب اُسکے وضع حمل کے دِن پوُرے ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُسکے پیٹ میں تَواٗم ہیں ۔
25 اور پہلا جو پَیدا ہوا تو سُرخ تھا اور اُوپر سے ایسا جَیسے پشمینہ اور اُنہوں نے اُسکا نام عؔیسو رکھا۔
26 اُسکے بعد اُسکا بھائی پَیدا ہوا اور اُسکا ہاتھ عؔیسو کی ایڑی کو پکڑے ہوئے تھا اور اُسکا نام یعقوب رکّھا گیا۔ جب وہ رِؔبقہ سے پَیدا ہوئے تو اِضؔحاق ساٹھ برس کا تھا۔
27 اور وہ لڑکے بڑھے اور عیؔسو شِکار میں ماہر ہوگیا اور جنگل میں رہنے لگا اور یعقؔوب سادہ مزاج ڈیروں میں رہنے والا آدمی تھا۔
28 اور اِضؔحاق عؔیسو کو پیار کرتا تھا کیونکہ وہ اُسکے شکار کا گوشت کھاتا تھا اور رِؔبقہ یعؔقوب کو پیار کرتی تھی۔
29 اور یعؔقوب نے دال پکائی اور عؔیسو جنگل سے آیا اور بے دم ہو رہا تھا۔
30 اور عؔیسو نے یعؔقوب سے کہا کہ جو لال لال ہے مُجھے کھلا دے کیونکہ مَیں بے دم ہو رہا ہوُں اِسی لئِے اُسکا نام ادؔوم بھی ہو گیا۔
31 تب یعؔقوب نے کہا تُو آج اپنا پہلوٹھے کا حق میرے ہاتھ بیچ دے ۔
32 عیؔسو نے کہا دیکھ مَیں تو مرا جاتا ہُوں پہلوٹھے کا حق میرے کِس کام آئیگا۔
33 تب یعؔقوب نے کہا کہ آج ہی مجھ سے قسم کھا۔ اُس نے اُس سے قسم کھائی اور اُس نے اپنا پہلوٹھے کا حق یعؔقوب کے ہاتھ بیچ دِیا ۔
34 تب یعؔقوب نے عؔیسو کو روٹی اور مُسور کی دال دی ۔ وہ کھا پی کر اُٹھا اور چلا گیا ۔ یُوں عیؔسو نے اپنے پہلوٹھے کے حق کو ناچیز جانا۔


باب 26

1 اور اُس مُلک میں اُس پہلے کال کے علاوہ جو ابؔرہام کے ایام میں پڑا تھا پھر کال پڑا۔ تب اِضؔحاق جؔرار کو فلستوں کے بادشاہ اؔبی مِلک کے پاس گیا۔
2 اور خُداوند نے اُس پر ظاہر ہو کر کہا کہ مِؔصر کو نہ جا بلکہ جو مُلک میں تجھے بتاؤں اُس میں رہ۔
3 تُو اِسی مُلک میں قیام رکھ اور مَیں تیرے ساتھ رہُونگا اور تجھے برکت بخشُونگا کیونکہ مَیں تجھے اور تیری نسل کو یہ سب مُلک دُونگا۔ اور مَیں اُس قسم کو جو مَیں نے تیرے باپ اؔبرہام سے کھائی پُورا کرونگا۔
4 اور مَیں تیری اَولاد کو بڑھا کر آسمان کے تاروں کی ما نِند کر دُونگا اور یہ سب مُلک تیری نسل کو دُونگا اور زمین کی سب قومیں تیری نسل کے وسیلہ سے برکت پائینگی ۔
5 اِسلئے کہ ابؔرہام نے میری بات مانی اور میری نصیحت اور میرے حُکموں اور قوانین و آئین پر عمل کِیا۔
6 پس اِضؔحاق جؔرار میں رہنے لگا۔
7 اور وہاں کے باشِندوں نے اُس سے اُسکی بیوی کی بابت پُوچھا اُس نے کہا وہ میری بہن ہے کیونکہ وہ اُسے اپنی بیوی بتانے سے ڈرا۔ یہ سوچ کر کہ کہیں رِؔبقہ کے سبب سے وہاں کے لوگ اُسے قتل نہ کر ڈالیں کیونکہ وہ خُوبصورت تھی ۔
8 جب اُسے وہاں رہتے بہت دِن ہوگئے فلستیوں کے بادشاہ ابیؔ مِلک نے کِھڑکی میں جھانک کر نظر کی اور دیکھا کہ اِضؔحاق اپنی بیوی رؔبقہ سے ہنستی کھیل کر رہا ہے ۔
9 تب ابیؔ مِلک نے اِؔضحاق کو بُلا کر کہ کہ وہ تو حقیت میں تیری بیوی ہے ۔ پِھر تُو نے کیونکر اُسے اپنی بہن بتایا؟ اِؔضحاق نے اُس سے کہا اِسلئے کہ مجھے خیال ہوا کہ کہیں مَیں اُسکے سبب سے مارا نہ جاؤں ۔
10 اِبیؔ ملِک نے کہا ہم سے کیا کیا ؟ یوں تو آسانی سے اِن لوگوں میں کوئی تیری بِیوی کے ساتھ مُباشرت کر لیتا اور تُو ہم پر الزام لاتا۔
11 تب اِبیؔ ملِک نے سب لوگوں کو یہ حُکم کیا کہ جو کوئی اِس مرد کو یا اُسکی بیوی کو چُھوئیگا سو مار ڈالا جائیگا ۔
12 اور اِضؔحاق نے اُس مُلک میں کھیتی کی اور اُسی سال اپسے سَوگُنا پھل مِلا اور خُداوند نے اُسے برکت بخشی۔
13 اور وہ بڑھ گیا اور اُسکی ترقی ہوتی گئی یہاں تک کہ وہ بہت بڑا آدمی ہوگیا۔
14 اور اُسکے پاس بھیڑبکریاں اور گائے بَیل اور بہت سے نوکر چاکر تھے اور فِلستیوں کو اُس پر رشک آنے لگا۔
15 اور اُنہوں نے سب کُوئیں جو اُسکے باپ کے نوکروں نے اُسکے باپ اؔبرہام کے وقت میں کھودے تھے بند کر دِئے اور اُنکو مٹی سے بھِر دیا۔
16 اور اِبؔی مِلک نے اِضؔحاق سے کہا کہ تُو ہمارے پاس سے چلا جا کیونکہ تُو ہم سے زیادہ زور آور ہوگیا ہے۔
17 تب اِؔضحاق نے وہاں سے جؔرار کی وادی میں جا کر اپنا ڈیرا لگایا اور وہاں رہنے لگا۔
18 اور اِؔضحاق نے پانی کے اُن کُوؤں کو جو اُسکے باپ اؔبرہام کے ایاّم میں کھو دے گئے تھے پِھر کُدوایا کیونکہ فَلستیوں نے ابؔرہام کے مرنے کے بعد اُنکو بند کر دیا تھا اور اُس نے اپنکے پھر وہی نام رکھّے جو اُسکے باپ نے رکھّے تھے۔
19 اور اِضؔحاق کے نوکروں کو وادی میں کھودتے کھودتے بہتے پانی کا یاک سو تامِل گیا۔
20 تب جؔرار کے چرواہوں نے اِضؔحاق کے چرواہوں سے جھگڑا کیا اور کہنے لگے کہ یہ پانی ہمارا ہے اور اُس نے اُس کوئیں کا نام عِسؔق رکّھا کیونکہ اُنہوں نے اُس سے جھگڑا کِیا ۔
21 اور اُنہوں نے دُوسرا کوُآں کھودا اور اُسکے لِئے بھی وہ جھگڑنے لگے اور اُس نے اُسکا نام سِتؔنہ رکّھا ۔
22 سو وہ وہاں سے دُسوری جگہ چلا گیا اور ایک اَور کُوآں کھودا جِسکے لئِے اُنہوں نے جھگڑا نہ کیا اور اُس نے اُسکا نام رحؔوبوت رکّھا اور کہا کہ اب خُداوند نے ہمارے لئِے جگہ نِکالی اور ہم اِس مُلک میں برومند ہونگے۔
23 وہاں سے وہ بیرؔسبع کو گیا ۔
24 اور خُداوند اُسی رات اُس پر ظاہر ہُوا اور کہا کہ مَیں تیرے باپ ابؔرہام کا خُدا ہوں ۔ مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھے برکت دونگا اور اپنے بندہ ابؔرہام کی خاطِر تیری نسل بڑھاؤنگا ۔
25 اور اُس نے وہاں مذبح بنایا اور خُداوند سے دُعا کی اور اپنا ڈیرا وہیں لگا لِیا اور وہاں اِؔضحاق کے نوکروں نے ایک کُوآں کھودا ۔
26 تب اَبی مِلک اپنے دوست اخُورت اور اپنے سپہ سالارفیؔکُل کو ساتھ لیکر جؔرار سے اُسکے پاس گیا ۔
27 اِضؔحاق نے اُن سے کہا کہ تُم میرے پاس کیونکر آئے حالانکہ مجھ سے کینہ رکھتے ہو اور مُجھ کو اپنے پاس سے نِکال دیا۔
28 اُنہوں نے کہا ہم نے خُوب صفائی سے دیکھا کہ خُداوند تیرے ساتھ ہے سو ہم نے کہا کہ ہمارے اور تیرے دریمان قسم ہوجائے اور ہم تیرے ساتھ عید کریں۔
29 کہ جَیسے ہم نے تجھے چُھوا تک نہیں اور سِوا نیکی کے تجھ سے اَور کُچھ نہیں کِیا اور تجھ کو سلامت رُخصت کیا تُو بھی ہم سے کوئی بدی نہ کریگا کیونکہ تُو اب خُداوند کی طرف سے مُبارک ہے ۔
30 تب اُس نے اُنکے لئِے ضِیافت تیار کی اور اُنہوں نے کھایا پیا
31 اور وہ صُبح سویرے اُٹھے اور آپس میں قسم کھائی اور اِضؔحاق نے اُنکو رُخصت کیا اور وہ اُسکے پاس سے سلامت چلے گئے۔
32 اُسی روز اِضؔحاق کے نوکروں نے آکر اُس سے اُس کُوئیں کا ذکر کِیا جسے اُنوں نے کھودا تھا اور کہا کہ ہمکو پانی مِل گیا۔
33 سو اُس نے اُسکا نام سؔبع رکّھا اِسی لئِے وہ شہر آج تک بیرؔ سبع کہلاتا ہے۔
34 جب عؔیسو چالیس برس کا ہُوا تو اُس نے بیؔری ھتی کی بیٹی یؔہودِتھ اور اَؔیلون حتی کی بیتی بشاؔستھ سے بیاہ کیا۔
35 اور وہ اِضؔحاق اور رِؔبقہ کے لئِے وبال جان ہُوئیں ۔


باب 27

1 جب اِضؔحاق ضیعف ہوگیا اور اُسکی آنکھیں اَیسی دُھندلا گئیں کہ اُسے دِکھائی نہ دیتا تھا تو اُس نے اپنے بڑے بیتے عؔیسو کو بُلایا اور کہا اَے میرے بیٹے! اُس نے کہا مَیں حاضِر ہُوں۔
2 تب اُس نے کہا دیکھ! مَیں تو صعیف ہو گیا اور مُجھے اپنی مَوت کا دِن معلوم نہیں ۔
3 سو اب تُو ذرا اپنا ہتھیار اپنا ترکش اور اپنی کمان لیکر جنگل کو نِکل جا اور میرے لئِے شکار مار لا۔
4 اور میری حسبِ پسند لذیذ کھانا میرے لئِے تیاّر کر کے میرے آگے لے آتا کہ مَیں کھاؤں اور اپنے مَرنے سے پہلے دِل سے تُجھے دُعا دوُں۔
5 اور جب اِضؔحاق اپنے بیٹے عؔیسو سے باتیں کر رہا تھا تو رِبؔقہ سُن رہی تھی اور عؔیسو جنگل کو نِکل گیا کہ شکار مار کر لائے ۔
6 تب رِبؔقہ نے اپنے بیٹے یعقؔوب سے کہا کہ دیکھ مَیں نے تیرے باپ کو تیرے بھائی عؔیسو سے یہ کہتے سُنا کہ ۔
7 میرے لئَےشِکار مار کر لذید کھانا میرے واسطے تیار کر تا کہ مَیں کھاؤں اور اپنے مرنے سے پیشتر خُداوند کے آگے تجھے دُعا دُوں ۔
8 سو اَے میرے بیٹے اِس حُکم کے مُطابق جو مَیں تجھے دیتی ہُوں میری بات کو مان۔
9 اور جا کر ریوڑ میں سے بکری کے دو اچھّے اچھّے بچےّ مجھے لا دے اور مَیں اُنکو لیکر تیرے باپ کے لئِے اُسکی حسبِ پسند لزید کھانا تیاّر کر دُونگی ۔
10 اور تُو اُسے اپنے باپ کے آگے لیجانا تا کہ وہ کھائے اور پنے مرنے سے پیشتر تجھے دُعا دے ۔
11 تب یعقؔوب نے اپنی ماں رِؔبقہ سے کہا دیکھ میرے بھائی عیؔسو کے جس پر بال لیں اور میرا جِسم صاف ہے ۔
12 شاید میرا باپ مجھے ٹٹولے تو مَیں اُسکی نظر میں ڈغا باز ٹھہر ؤنگا اور برکت نہیں بلکہ لعنت کماؤنگا۔
13 اُسکی ماں نے اُسے کہا اَے میرے بیٹے ! تیری لعنت مجھ پر آئے ۔ تُو صِرف میری بات مان اور جا کر وہ بچے مجھے لادے۔
14 تب وہ گیا اور اُنکو لا کر اپنی ماں کو دیا اور اُسکی ماں نے اُسکے باپ کی حسبِ پسند لذیذ کھانا تیار کیا ۔
15 اور رِؔبقہ نے اپنے بڑے بیٹے عؔیسو کے نفِیس لِباس جو اُسکے پاس گھر میں تھے لیکر اُنکو اپنے چھوٹے بیٹے یعقؔوب کو پہنایا ۔
16 اور بکری کے بچّوں کی کھالیں اُسکے ہاتھوں اور اُسکی گردن پر جہاں بال نہ تھے لپیٹ دیں۔
17 اور وہ لِذیذ کھانا اور روٹی جو اُس نے تیاّر کی تھی اپنے بیٹے یعقؔوب کے ہاتھ میں دیدی۔
18 تب اُس نے باپ کے پاس آکر کہا اَے میرے باپ ! اُس نے کہا مَیں حاضرِ ہُوں ۔ تُو کون ہے میرے بیٹے؟۔
19 یعؔقوب نے اپنے باپ سے کہا مَیں تیرا پہلوٹھا بیٹا عؔیسوہُوں ۔ مَیں نے تیرے کہنے کے مُطابق کِیا ہے ۔ سو ذرا اُٹھ اور بیٹھ کر میرے شِکار کا گوشت کھا تا کہ تُو چِل سے مُجھے دُعا دے۔
20 تب اِضؔحاق نے اپنے بیٹے سے کہا بیٹا! تُجھے یہ اِس قدر جلد کَیسے مل گیا؟ اُس نے کہا اَسلئِے کہ خُداوند تیرے خُدا نے میرا کام بنا دیا۔
21 تب اَضؔحاق نے یعقؔوب سے کہا اَے میرے بیٹے ذرا نزدیک آکہ مَیں تُجھے ٹٹولوں کہ تُو میرا بیٹا عؔیسو ہے یا نہیں
22 اور یعؔقوب اپنے باپ اِضؔحاق کے نزدیک گیا اور اُس نے اُسے ٹٹول کر کہا کہ آواز تو یعؔقوب کی ہے پر ہاتھ عؔیسو کے ہیں ۔
23 اور اُس نے اُسے نہ پہچانا اِسلئِے کہ اُسکے ہاتھو ں پر اُسکے بھائی عؔیسو کے ہاتھوں کی طرح بال تھے۔ سو اُس نے اُسے دُعا دی۔
24 اور اُس نے پوچھا کہ کیا تو میرا بیٹا عؔیسو ہی ہے۔ اُس نے کہا مَیں وہی ہُوں۔
25 تب اُس نے کہا کھانا میرے آگے لے آ اور مَیں اپنے بیٹے کے شِکار کا گوشت کھاؤنگا تکہ دِل سے تجھے دُعا دُوں ۔ سو وہ اُسے اُسکے نزدیک لے آیا اور اُس نے کھایا اور وہ اُسکے لئِے مَے لایا اور اُس نے پی۔
26 پھر اُسکے باپ اِضؔحاق نے اُس سے کہا اَے میرے بیٹے ! اب پاس آکر مجھے چُوم ۔
27 اُس نے پاس جا کر اُسے چوُما۔ تب اُس نے اُسکے لباس کی خُوشُبو پائی اور اُسے دُعا دیکر کہا دیکھو ! میرے بیٹے کی مہک اُس کھیت کی مہک کی مانِند ہےجِسے خُداوند نے برکت دی ہو۔
28 خُدا آسمان کی اوس اور زمین کی فربہی اور بہت سا اناج اور مَے تجھے بخشے ۔
29 قَومیں تیری خدمت کریں اور قبیلے تیرے سامنے جُھکیں!تُو اپنے بھائیوں کا سردار ہواور تیری ماں کے بیٹے تیرے آگے جُھکیں !جو تُجھ پر لعنت کرے وہ خُد لعنتی ہو اور جو مُجھے دُعا دے وہ برکت پائے!۔
30 جب اِضؔحاق یعقؔوب کو دُعا دے چُکا اور یعقؔوب اپنے باپ اِضؔحاق کے پاس سے نِکلا ہی تھا کہ اُسکا بھائی عؔیسو اپنے شِکار سے ۔لَوٹا ۔
31 وُہ بھی لذیذ کھانا پکا کر اپنے باپ کے پاس لایا اور اپس نے اپنے باپ سے کہا میرا باپ اُٹھ کر اپنے بیٹے کے شِکار کا گوشت کھائے تا کہ چِل سے مجھے دُعا دے۔
32 اُسکے باپ اِضحاق نے اُس سے پُوچھا کہ تُو کَون ہے؟ اُس نے کہا مَیں تیرا پہلوٹھا بیٹا عؔیسو ہوُں۔
33 تب تو اَضحاؔق بشِدت کانپنے لگا اور اُس نے کہا پھر وہ کَون تھا جو شِکار مار کر میرے پاس لے آیا اور مَیں نے تیرے آنے سے پہلے سب میں سے تھوڑا تھوڑا کھایا اور اُسے دُعا دی ؟ اور مُبارک بھی وہی ہوگا۔
34 عؔیسو اپنے باپ کی باتیں سُنتے ہی بڑی بلند اور حسترناک آواز سے چِلاّ اُٹھا اور اپنے باپ سے کہا مُجھ کو بھی دُعا دے۔ اَے میرے باپ! مُجھ کو بھی۔
35 اُس نے کہا تیرا بھائی دغا سے آیا اور تیری برکت لے گیا۔
36 تب اُس نے کہا کیا اُسکا نام یعؔقوب ٹھیک نہیں رکھّا گیا ؟کیونکہ اُس نے دوبارہ مُجھے اڑنگا مارا۔ اُس نے میرا پہلوٹھے کا حق تو لے ہی لِیا تھا اور دیکھ ! اب وہ میری برکت بھی لے گیا۔ پِھر اُس نے کہا کیا تُو نے میرے لئِے کوئی برکت نہیں رکھ چھوڑی ہے؟۔
37 اِضؔحاق نے عؔیسو کو جواب دِیا کہ دیکھ مَیں نے اُسے تیرا سردار ٹھہرایا اور اُسکے سب بھائیوں کو اُسکے سپُرد کیا کہ خادم ہوں اور اناج اور مَے اُسکی پرورِش کے لئِے بتائی۔ اب اَے میرے بیٹے تیرے لئِے میں کیا کُروں ۔؟۔
38 تب عؔیسو نے اپنے باپ سے کہا کیا تیرے پاس چِلاّ چِلاّ کر رویا۔
39 تب اُسکے باپ اِضؔحاق نے اُس سے کہا دیکھ! زرخیز زمیں میں تیرا مسک ہواور اُوپر سے آسمان کی شبنم اُس پر پڑے!۔
40 تیری اَوقات بسری تیری تلوار سے ہو اور تُو اپنے بھائی کی خِدمت کرے!اور جب تُو آزاد ہوتو اپنے بھائی کا جُوٗا اپنی گردن پر سے اُتار پھینکے۔
41 اور عؔیسو نے یعؔقوب سے اُس برکت کے سبب سے جو اُسکے باپ نے اُسے بخشی کینہ رکّھا اور عؔیسو نے اپنے دِل میںکہا کہ میرے باپ کے ماتم کے دِن نزدیک ہیں ۔ پھر مَیں اپنے بھائی یعؔقوب کو ما ڈالوُنگا۔
42 اور رِؔبقہ کو اُسکے بڑے بیٹے عؔیسو کی یہ باتیں بتائی گئیں ۔ تب اُس نے اپنے چھوٹے بیٹے یعقؔوب کو بُلوا کر اُس سے کہا کہ دیکھ تیرا بائی عؔیسو تجھے مار ڈالنے پر ہے اور یہی سوچ سوچ کر اپنے کو تسلی دے رہا ہے ۔
43 سو اَے میرے بیٹے تُو میری بات مان اور اُٹھ کر حاؔران کو میرے بائی لؔبن کے پاس بھاگ جا۔
44 اور تھوڑے دِن اُسکے ساتھ رہ جب تک کہ تیرے بائی کی خفگی اُتر نہ جائے
45 یعنی جب تک تیرے بھائی کا قہر تیری طرف سے ٹھنڈا نہ ہو اور وہ اُس بات کو جو تُو نے اُس سے کی ہے بھُول نہ جائے ۔ تب مَیں تجھے وہاں سے بُلوا بھیجونگی۔ مَیں ایک ہی دِن میں تُم دونوں کو کیوں کھو بَیٹھوں؟۔ (
46 اور رِؔبقہ نے اِضؔحاق سے کہا مَیں حِتّی لڑکیوں کے سبب سے انی زندگی سے تنگ ہُوں ۔ سو اگر یعؔقوب حِتّی لڑکیوں میں سے جَیسی اِس مُلک کی لڑکیاں ہیں کِسی سے بیا ہ کر لے تو میری زندگی میں کیا لُطف رہیگا۔


باب 28

1 تب اِضؔحاق نے یعؔقوب کو بُلایا اور اُسے دُعا دی اور اُسے تاکید کی کہ تُو کنعانی لڑکیوں میں سے کِسی سے بیاہ نہ کرنا ۔
2 تُ اُٹھ کر فِؔدان ارام کو اپنے ناننا بیتوؔایل کے گھر جا اور وہاں سے سے اپنے ماموں لؔابن کی بیٹیوں میں سے ایک کو بیاہ لا۔
3 اور قادرِ مُطلق خُدا تجھے برکت بخشے اور تُجے برومند کرے اور بڑھائے کہ تُجھ سے قَوموں کے جتھے پَیدا ہوں۔
4 اور وہ ابرؔہام کی برکت تُجھے اور تیرے ساتھ تیری نسل کو دے کہ تیری مسافرت کی یہ سرزمین جو خُدا نے ابؔرہام کو دی تیری میراث ہو جائے۔
5 سو اِضؔحاق نے یعؔقوب کو رُخصت کیا اور وہ فؔدان ارام میں لؔا بن کے پاس جو ارامی بیتؔوایل کا بیٹا اور یعؔقوب اور عؔیسو کی ماں رَبقؔہ کا بائی تھا یا۔
6 پس جب عؔیسو نے دیکھا کہ اِضحاؔق نے یعقوب کو دُعا دیکر اُسے فؔدان ارام کو بیضا ہے تا کہ وہ ہواں سے بیوی بیاہ کر لائے اور اُسے دُعا دیتے وقت یہ تاکید بھی کی ہے کہ تُو کنعانی لڑکیوں میں سے کِسی سے بیاہ نہ کرنا۔
7 اور یعؔقوب اپنے ماں باپ کی بات مان کر فَدّان ارام کو چلا گیا۔
8 اور عؔیسو نے یہ بھی دیکھا کہ کنعانی لڑکیاں اُسکے باپ اِضؔحاق کو بُری لگتی ہیں۔
9 تو عؔیسو اِسؔمعیل کے پاس گیا اور مؔہلت کو جو اسمؔیعل بِن ابرؔہام کی بیٹی اور نِؔبایوت کی بہن تھ بیاہ کر اُسے اپنی اَور بیویوں میں شامل کیا۔
10 اور یعؔقوب بیرؔسبع سے نِکل کر حاؔران کی طرف چلا۔
11 اور ایک جگہ پہنچ کر ساری رات وہیں رہا کیونکہ سُورج ڈوب گیا تھا اور اُس نے اُس جگہ کے پتھروں میں سے ایک اُٹھا کر اپنے سرہانے دھر لیا اور اُسی جگہ سونے کو لیٹ گیا ۔
12 اور خُواب میں کیادیکھتا ہے کہ ایک سیڑھی زمین پر کھڑی ہے۔ اور اُسکا سِرا آسمان تک پہنچا ہُوا ہے اور خُدا کے فرشتے اُس پر سے چڑھتے اُترتے ہیں ۔
13 اور خُداوند اُسکے اُوپر کھڑا کہہ رہا ہے کہ مَیں خُداوند تیرے باپ اؔبرہام کا خُدا اور اِضؔحاق کا خُدا ہُوں ۔ مَیں یہ زمیں جس پر تُو لیٹا ہے تجھے اور تیری نسل کو دُونگا۔
14 اور تیری نسل زمین کی گرد کے ذرّوں کی مانِند ہوگی اور تُو مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پَھیل جائیگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے اور تیری نسل کے وسیلہ سے برکت پائینگے۔
15 اور دیکھ مَیں تیرے ساتھ ہُوں اور ہر جگہ جہاں کہیں تُو جائے تیری حِفاظت کرُونگا اور تجھ کو اِس مُلک میں پِھر لاؤنگا اور جو مَٰن نے تجھ سے کہا ہے جب تک اُسے پُورا نہ کر لُوں تجھے نہیں چوڑونگا۔
16 تب یعؔقوب جاگ اُٹھا اور کہنے لگا کہ یقیناً خُداوند اِس جگہ ہے اور مُجھے معلوم نہ تھا۔
17 اور اُس نے ڈر کر کہا یہ کَیسی بھیانک جگہ ہے ! سو یہ خُدا کے گھر اور آسمان کے آستانہ کے سِوا اَور کُچھ نہ ہوگا۔
18 اور یعقؔوب صبُح سویرے اُٹھا اور اُس پتھر کو جِسے اُس نے اپنے سرہانے دھرا تھا لیکر ستون کی طرح کھڑا کیا اور اُسکے سِرے پر تیل ڈالا۔
19 اور اُس جگہ کا نام بیؔت ایل رکھا لیکن پہلے اُس بستی کا نام لُوزؔ تھا ۔
20 اور یعقوؔب نے مَنت مانی اور کہا کہ اگر خُدا میرے ساتھ رہے اور جو سفر مَیں کر رہا ہُوں اور اِس میں میری حفاظت کرے اور مُجھے کھانے کو روٹی اور پہننے کو کپڑا دیتا رہے۔
21 اور میں اپنے باپ کے گھر سلامت لَوٹ آؤن تو خُداوند میرا خُدا ہوگا ۔
22 اور یہ پتھر جو مَیں نے ستون سا کھڑا کیا ہے خُدا کا گھر ہوگا اور جو کُچھ تُو مجھے دے اُسکا دسواں حصّہ ضرور ہی تُجھے دِیا کرُونگا۔


باب 29

1 اور یعؔقوب آگے چل کر مشرقی لوگوں کے مُلک میں پہنچا۔
2 اور اُس نے دیکھا کہ مَیدان میں ایک کُوآں ہے اور کُوئیں کے نزدیک بھیڑ بکریوں کے تین ریوڑ بیٹھے ہیں کیونکہ چرواہے اِسی کُوئیں سے ریوڑوں کو پانی پلاتے تھے اور کُوئیں کے مُنہ پر ایک بڑا پتھر دحرا رہتا تھا۔
3 اور جب سب ریوڑ وہاں اِکھٹے ہوتے تھے تب وہ اُس پتھر کو کوئیں کے مُنہ پر سے ڈھلکاتے اور بھیڑوں کو پانی پلا کر اُس پتھر کو پِھر اُسی جگہ کُوئیں کے مُنہ پر رکھ دیتے تھے ۔ تب یعؔقوب نے اُن سے کہا اَے میرے بھائیوں تُم کہاں کے ہو؟ اُنہوں نے کہا ہم حؔاران کے ہیں ۔
4
5 پھر اُس نے پُوچھا کہ تُم نؔحُور کے بیٹے لؔابن سے واقف ہوَ انُہوں نے کہا کہ ہم واقف ہیں ۔
6 اُس نے پُوچھا کیا وہ خیریت سے ہے ۔؟ اُنہوں نے کہا خَیریت سے ہے اور وہ دیکھ اُسکی بیٹی راؔخل بھیڑ بکریوں کے ساتھ چلی آتی ہے۔
7 اور اُس نے کہا دیکھو ابھی تو دِن بہت ہے اور چوپایوں کے جمع ہونے کا وقت نہیں ۔ تُم بھیڑ بکریوں کو پانی پلا کر پھر چرانے کو لے جاؤ۔
8 اُنہوں نے کہا ہم اَیسا نہیں کر سکتے جب تک کہ سب ریوڑ جمع نہ ہو جائیں ۔ تب ہم اُس پتھر ہم اُ س پتھر کو کُوئیں کے منہ پر سے ڈھلکاتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کو پانی پلاتے ہیں ۔
9 وہ اُن سے باتیں کر ہی رہا تھا کہ رؔاخل اپنے باپ کی بھیڑ بکریوں کے ساتھ آئی کیونکہ وہ اُنکو چرایا کرتی تھی۔
10 جب یعقؔوب نے اپنے ماموں لؔابن کی بیٹی راؔخل کو اور اپنے ماموں لابؔن کے ریوڑ کو دیکھا تو وہ نزدیک گیا اور پتھر کو کُوئیں کے مُنہ پر سے ڈھلکا کر اپنے ماموں لؔابن کے ریوڑ کو پانی پلایا۔
11 اور یؔعقوب نے راؔخل سے کو چُوما اور چِلاّ چِلّا کر رویا۔
12 اور یعقؔوب نے راؔخل سے کہا کہ مَیں تیرے باپ کا رشتہ دار اور رِؔبقہ کا بیٹا ہوں ۔ تب اُس نے دَوڑ کر اپنے باپ کو خبر دی۔
13 لؔابن اپنے بھانچے کی خبر پاتے ہی اُس سے مِلنے کو دَوڑا اور اُسکو گلے لگایا اور چُوما اور اُسے اپنے گھر لیا تب اُس نے لؔابن کو اپنا سارا حال بتایا۔
14 لؔابن نے اُسے کہا کہ تُو واقعی میری ہڈّی اور میرا گوشت ہے ۔ سو وہ ایک مہینہ اُسکے ساتھ رہا۔
15 تب لؔابن نے یعؔقوب سے کہا چونکہ تُو میرا رِشتہ دار ہے تو کیا اِسلئِے لازِم ہے کہ تُو میری خِدمت مفت کرے؟ سو مُجھے بتا کہ تیری اُجرت کیا ہوگی ؟۔
16 اور لؔابن کی دو بیٹیاں تھیں ۔ بڑی کا نام لؔیاہ اور چھوڑی کا نام رؔاخِل تھا ۔
17 لؔیاہ کی آنکھیں چُندھی تھیں پر رؔاخل حسین اور خوبصورت تھی۔
18 اور یعقوب رؔاخل پر فریفتہ تھا۔ سو اپس نے کہا کہ تیری چھوٹی بیٹی رؔاخل کی خاطر میں سات برس تیری خدمت کر دُونگا۔
19 لاؔبن نے کہا اُسے غیر آدمی کو دینے کی جگہ تو تجھی کو دینا بہتر ہے ۔ تُو میرے پاس رہ۔
20 چُنانچہ یؔعقوب سات بر س تک راؔخل کی خاطر خدمت کرتا رہا پر وہ اُسے رؔاخل کی محّت کے سبب سے چند دِنوں کے برابر معلوم ہُوئے ۔
21 اور یعؔقوب نے لؔابن سے کہا کہ میری مُدّت پُوری ہو گئی ۔ سو میری بیوی مُجھے دے تا کہ مَیں اُسکے پاس جاؤں ۔
22 تب لؔابن نے اُس جگہ کے سب لوگوں کو بُلا کر جمع کیا اور اُنکی ضیافت کی۔
23 اور جب شام ہوئی تو اپنی بیٹی لؔیاہ کو اُسکے پاس لے آیا اور یعؔقوب اُس سے ہم آغوش ہُوا۔
24 اور لؔابن نے اپنی لَونڈی زِؔلفہ اپنی بیٹی لؔیاہ کے ساتھ کر دی کہ اُسکی لَونڈی ہو۔
25 جب صُبح کو معلوم ہُوا کہ یہ تو لؔیاہ ہے تب اُس نے لؔابن سے کہ کہ تُو نے مُجھ سے یہ کیا کیا؟ کیا میں نے جو تیری خدمت کی وہا رؔاکل کی خاطر نہ تھی؟ پھر تُونے کیوں مجھے دُھوکا دیا ؟۔
26 لؔابن نے کہا ہمارے مُلک میں یہ دستور نہیں کہ پہلوٹی سے پہلے چھوٹی کو بیاہ دیں ۔
27 تُو اِسکا ہفتہ پُورا کر دے پِھر ہم دُوسری بھی تُجھے دیدینگے جِسکی خاطر تجھے سات برس اَور میری خدمت کرنی ہوگی۔
28 یؔعقوب نے اٰسا ہی کِیا کہ ۔ؔیاہ کا ہفتہ پُورا کیا تب لؔبن نے اپنی بیتی رؔاخِل بھی اُسے بیاہ دی۔
29 اور اپنی لَونڈی بِلؔہاہ اپنی بیٹی رؔاخِل کے ساتھ کر دی کہ اُسکی لَونڈی ہو۔
30 سو وہ رؔاخِل سے بھی ہم آغوش ہُوا اور وہ ۔ؔیاہ سے زیداہ رؔاخل کو چاہتا تھا اور ست برس اَور ساتھ رہ کر لؔابن کی خدمت کی۔
31 اور جب خُداوند نے دیکھا کہ لؔیاہ سے نفرت کی گئی تو اُس نے اُسکا رَحِم کھولا مگر رؔاخَل بانجھ رہی ۔
32 اور لؔیاہ حامِلہ ہُوئی اور اُسکے بیٹا ہُوا اور اُس نے اُسکا نام رؔوبن رکھاّ کیونکہ اُس نے کہا کہ خُداوند نے میرا دُکھ دیکھ لیا سو میرا شوہر اب مُجھے پیرا کریگا۔
33 وہ پھر حامِلہ ہوئی اور اُسکے بیٹا ہُوا ۔ تب اُس نے کہا کہ خُداوند نے سُنا کہ مُجھ سے نفرت کی گئی اِسلئِے اُس نے مُجھے یہ بھی بخشا۔ سو اُس نے اُسکا نام شمعؔون رکھا۔
34 اور وہ پِھر حاملہ ہوئی اور اُسکے بیٹا ہُوا۔ تب اُس نے کہا کہ اب اِس بار میرے شوہر کو مُجھ سے لگن ہوگی کیونکہ اُس سے میرے تین بیٹے ہوئے اِسلئِے اُسک انام لؔاوی رکّھا گیا۔
35 اور وہ پِھر حامِلہ ہوئی اور اُسکے بیٹا ہُوا ۔ تب اُس نے کہا کہ اب مَیں خُداوند کی ستایش کرونگی اِسلئے اُسکا نام یہؔوداہ رکھّا۔ پھر اُسکے اَولاد ہونے میں توقُف ہُوا۔


باب 30

1 اَور جب رؔاخل نے دیکھا کہ یعؔقوب سے اُسکے اَولاد نہیں ہوتی تو راؔخل کو اپنی بہن پر رشک آیا سو وہ یعؔقوب سے کہنے لگی کہ مُجھے بھی اولد دے نہیں تو مَیں مر جاؤنگی ۔ تب یعقؔوب کا قہر رؔاخل پر بھڑکا اور اُس نے کہا کیا مَیں خُدا کی جگہ ہُوں جس نے تجھ کو اَولاد سے مُروم رکھاّ ہے ؟ ۔
2
3 اُس نے کہا دیکھ میری لَونڈی بلؔہاہ حاضر ہے ۔ اُسکے پاس جا تاکہ میرے لئے اُس سے اَولاد ہو اور وہ اولاد میری ٹھہرے ۔
4 اور اُس نے اپنی لَونڈی بِلؔہاہ کو اُسے دیا کہ اُسکی بیوی بنے اور یعؔقوب اُسکے پاس گیا
5 اور بِلؔہاہ حامِلہ ہوئی اور یعقؔوب سے اُسکے بیٹا ہُوا۔
6 تب رؔاخل نے کہا کہ خُدا نے میرا اِنصاف کِیا اور میری فریاد بھی سُنی اور مُجھ کو بیٹا بخشا اِسلئے اُس نے اُسکا نام دؔان رکھاّ ۔
7 اور رؔاخل نے کی لَونڈی بلؔہاہ پھر حاملہ ہُوئی اور یعؔقوب سے اُسکے دُوسرا بیٹا ہُوا ۔
8 تب رؔاخل نے کہا مَیں اپنی بہن کے ساتھ نہایت زور مار مار کر کُشتی لڑی اور مَیں نے فتح پائی۔ سو اپس نے اُسکا نام نفؔتالی رکّھا ۔
9 جب لؔیاہ نے دیکھا کہ وہ جننے سے رہ گئی تو اُس نے اپنی لَونڈی زؔلفہ کو لیکر یعقؔوب کو دیا کہ اُسکی بیوی بنے ۔
10 اور لؔیاہ کی لَونڈی زِؔلفہ کے بھی یعؔقوب سے ایک بیٹا ہُوا۔ تب لؔیاہ کہا زہے قسمت ! سو اُس نے اُسکا نام جؔد رکھا۔
11
12 تب لیؔاہ کی لَونڈی زِؔلفہ کے یعؔقوب سے پھر ایک بیٹا ہُوا ۔
13 تب لؔیاہ نے کہا کہ میں خُوش قِسمت ہُوں ۔ عورتیں مجھے خوش قسمت کہینگی اور اُس نے اُسکا نام آشؔر رکّھا ۔
14 اور رؔوبن گیہوں کاٹنے کے موسم میں گھر سے نِکلا اور اُسے کھیت میں مردُم گیاہ مِل گئے اور وہ اپنی ماں لؔیاہ کے پاس لے آیا۔ تب رؔاخل نے لؔیاہ سے کہا کہ اپنے بیٹے کے مردُم گیاہ میں سے مجھے بھی کُچھ دیدے۔
15 اُس نے کہا کیا یہ چھوٹی بات ہے کہ تُو نے میرے شوہر کو لے لیا اور اب کیا میرے بیٹے کے مردُم گیاہ بھی لینا چاہتی ہے؟ راؔخل نے کہا بس تو آج رات وہ تیرے بیٹے کے مردُم گیاہ کی خاطر تیرے ساتھ سوئیگا۔
16 جب یعؔقوب شام کو کھیت سے آرہا تھا تو لؔیاہ آگے سے اُس سے مِلنے کو گئی اور کہنے لگی کہ تجھے میرے پاس آنا ہوگا کیونکہ مَیں نے اپنے بیٹے کے مردُم گیاہ کے بدلے تجھے اُجرت پر لیا ہے ۔ سو وہ اُس رات اُسی کے ساتھ سویا۔
17 اور خُدا نے لِؔیاہ کی سُنی اور وہ حامِلہ ہوئی اور یعؔقوب سے اُسکے پانچواں بیٹا ہُوا۔
18 تب لِؔیاہ نے کہا کہ خُدا نے میری اُجرت مُجھے دی کیونکہ مَیں نے اپنے شوہر کو اپنی لَونڈی دی اور اُس نے اُسکا نام ابؔشکا رکھا ۔
19 اور لِؔیاہ پھر حامِلہ ہوئی اور یعؔقوب سے اُسکے چھٹا بیٹا ہُوا ۔
20 تب لؔیاہ نے کہا کہ خُد ا نے اچھا مہر مجھے بخشا ۔ اب میرا شہوہر میرے ساتھ رہیگا کیونکہ میرے اُس سے چھ بیتے ہو چکے ہیں ۔ سو اُس نے اُس کا نام زبلُون رکھّا۔
21 اِسکے بعد اُسکے ایک بیٹی ہوئی اور اُس نے اُسکا نام وؔینہ رکھا ۔
22 اور خُدا نے راؔخل کو یاد کیا اور خُدا نے اُسکی سُن کر اُسکے رَحم کو کھولا۔
23 اور وہ حامِلہ ہوئی اور اُسکے بیٹا ہُوا۔ تب اُس نے کہا کہ خُدا نے مُجھ سے رُسوائی دُور کی ۔
24 اور اُس نے اُسک انام یُوسؔف یہ کہہ کر رکّھا کہ خُداوند مُجھ کو ایک اور بیٹا بخشے ۔
25 اور جب رؔاخِل سے یوُسؔف پیدا ہوا تو یعؔقوب نے لؔابن سے کہا مُجھے رُخصت کر کہ مَیں اپنے گھر اور اپنے وطن کو جاؤں۔
26 میری بیویاں اور میرے بال بچے جنکی خاطرِ مَیں نے تیری خدمت کی ہے میرے حوالہ کر اور مُجھے جانے دے کیونکہ تُو آپ جانتا ہے کہ میں نے تیری کَیسی خِدمت کی ہے ۔
27 تب لؔابن نے اُسے کہا اگر مُجھ پر تیرے کرم کی نظر ہے تو یہیں رہ کیونکہ مَیں جان گیا ہُوں کہ خُداوند نے تیرے سبب سے مُجھ کو برکت بخشی ہے۔
28 اور یہ بھی کہا کہ مُجھ سے اپنی اُجرت ٹھہرالے اور مَٰن تجھے دِیا کرونگا۔
29 اُس نے اُسے کہا کہ تُو آپ جانتا ہے کہ مَیں نے تیری کیسی خدمت کی اور تیرے جانور میرے ساتھ کیَسے رہے ۔
30 کیونکہ میرے آنے سے پہلے یہ تھوڑے تھے اور اب بڑھ کر بہت سے ہو گئے ہیں اور خُداوند نے جہاں جہاں میرے قدم پڑے تجھے برکت بخشی ۔ اب مَیں اپنے گھر کا بندوبست کب کرو۔؟
31 اُ س نے کہا تجھے مَیں کیا دُوں؟ یعؔقوب نے کہا تو مجھے کُچھ نہ دینا پر اگر تُو میرے لئےِ ایک کام کردے تو مَیں تیری بھیڑ بکریوں کو پھر چراؤنگا اور اُنکی نِگہبانی کرُونگا۔
32 مَیں آج تیری سب بھیڑ بکریوں میں چکر لگاؤنگا اور جتنی بھیڑیں چِتلی اور ابلق اور کالی ہوں اور جتنی بکریا ابلق اور چِتلی ہوں اُن سب کو الگ ایک طرف کردُونگا۔ اِن ہی کو میں اپنی اُجرت ٹھہراتا ہوں ۔
33 اورآیندہ جب کبھی میری اُجرت کا حِساب تیرے سامنے ہو تو میری صداقت آپ میری طرف سے ا،س طرح بول اُٹھیگی کہ جو بکریاں چِتلی اور ابلق نہیں اور جو بھیڑیں کالی نہیں اگر وہ میرے پاس ہوں تو چُرائی ہوئی سمجھی جائینگی ۔
34 لؔابن نے کہا مَیں راضی ہُوں۔ جو تُو کہے وُہی سہی ۔
35 اور اُس نے اُسی روز دھار یدار اور ابلق بکروں کو اور سب چتلی اور ابلق بکریوں کو جن میں کُچھ سفید ی تھی اور تیمام کالی بیڑوں کو الگ کرک ے اُنکو اپنے بیٹوں کے حوالہ کِیا۔
36 اور اُس نے اپنے اور یعؔقوب کے درمیان تین دِن کے سفر کا فاصلہ ٹھہرایا اور یعؔقوب لؔابن کے باقی ریوڑوں کو چرانے لگا ۔
37 اور یعؔقوب نے سفیدہ اور بادام اور چنار کی ہری ہری چھڑیاں لیں اور اُنکو چھیل چھیل کر اِس طرح گنڈیدار بنا لیا کہ اُن چھڑیوں کی سفیدی دِکھائی دینے لگی۔
38 اور اُس نے وہ گنڈیدار چھڑیاں بھیڑ بکریوں کے سامنے حَوضوں اور نالیوں میں جہاں وہ پانی پینے آتی تھیں کھڑی کر دیں اور جب وہ پانی پینے آئیں سو گابھن ہوگئیں ۔
39 اور اُن چھڑیوں کے آگے گابن ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے دھاریدار چتلے اور ابلق بچے دِئے۔
40 اور یعؔقوب نے گھیڑ بکریوں کے اُن بچوں کو الگ کیا اور لاؔبن کی بھیڑ بکریوں کے منہ دھاریدار اور کالے بچوں کی طرف پھیر دِئے ۔ اور اُس نے اپنے ریوڑوں کو جُدا کِیا اور لؔابن کی بھیڑ بکریوں میں مِلنے نہ دِیا۔
41 اور جب مضبوط بھیڑ بکریاں گابھن ہوتی تھیں تو یعؔقوب چھڑیوں کو نالیوں میں اُن کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا تھا تاکہ وہ اُن چھڑیوں کے آگے گابھن ہوں۔
42 پر جب بھیڑ بکریاں دُبلی ہوتیں تو وہ اُنکو وہاں نہیں رکھتا تھا۔ سو دُبلی تو لاؔبن کی رہیں اور مضبوط یعؔقوب کی ہوگئیں ۔
43 چنانچہ وہ نہایت بڑھتا گیا اور اُسکے پاس بہت سے ریوڑ اور لَونڈیاں اور نوکر چاکر اور اُونٹ اور گدھے ہوگئے۔


باب 31

1 اور اُس نے لاؔبن کے بیٹیوں کی یہ باتیں سُنیں کہ یعؔقوب نے ہمارے باپ کا سب کُچھ لے لیا اور ہمارے باپ کے مال کی بدَولت اُسکی یہ ساری شان و شوکت ہے۔
2 اور یعؔقوب نے لاؔبن کے چہرے کو دیکھ کر تاڑ لِیا کہ اُسکا رُخ پہلے سے بدلا ہُوا ہے۔
3 اور خُداوند نے یعؔقوب سے کہا کہ تُو اپنے باپ دادا کے مُلک کو اور اپنے رشتہ داروں کے پاس لَوٹ جا اور مَیں تیرے ساتھ رہُونگا۔
4 تب یعقؔوب نے رؔاخل اور لؔیاہ کو مَیدان میں جہاں اُسکی بھیڑ بکریاں تھیں بُلوایا ۔
5 اور اُن سے کہا مَیں دیکھتا ہوں کہ تمہارے باپ کا رُخ پہلے سے بدلا ہُوا ہے پر میرے باپ کا خُدا میرے ساتھ رہا۔
6 تم تو جانتی ہو کہ مَیں نے اپنے مقدور بھر تمہارے باپ کی خِدمت کی ہے ۔
7 لیکن تُمہارے باپ نے مُجھے دُھوکا دیکر دس بار میری مزدوری بدلی پر خُدا نے اُسکو مجھے نقصان پہنچانے نہ دیا۔
8 جب اُس نے یہ کہا کہ چِتلے بچے دینے لگیں اور جب کہا کہ دھار یدار بچے تیرے ہونگے تو بھیڑ بکریان چِتلے بچے دینے لگیں اور جب کہا کہ دھاریدار بچے تیرے ہونگے تو بھیڑ بکریوں نے دھاریدار بچے دِئے۔
9 یوُں خُدا نے تمہارے باپ کے جانور لیکر مُجھے دیدئے۔
10 اور جب بھیڑ بکریاں گا بھن ہُوئیں تو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ جو بکرے بکریوں پر چڑھ رہے ہیں سو داریدار چتلے اورچتکبرے ہیں ۔
11 اور خُدا کے فرشتہ نے خواب میں مُجھ سے کہا اَے یعؔقوب ! مَیں نے کہا مَیں حاضرِ ہوں ۔
12 تب اُس نے کہا کہ اب توُ اپنی آنکھ اُٹھا کر دیکھ کہ سب بکرے جو بکریوں پر چڑھ رہے ہیں دھاریدار چِتلے اور چتکبرے ہیں کیونکہ جو کُچھ لاؔبن تجھ سے کرتا ہے مَیں نے دیکھا ۔
13 مَیں بیؔت ایل کا خُدا ہُوں جہاں تُو نے ستُون پر تیل ڈالا اور میری مَنت مانی ۔ پس اب اُٹھ اور اِس مُلک سے نکل کر اپنی زادبُوم کو لَوٹ جا۔
14 تب رؔاخل اور لَیاؔہ نے اُسے جواب دیا کیا اب بھی ہمارے باپ کے گھر میں کُچھ ہمارا بخرہ یامیراث ہے؟۔
15 کیا وہ ہم کو اجنبی کے برابر نہیں سمجھتا؟ کیونکہ اپس نے ہمکو بھی بیچ ڈالا اور ہمارے روپے بھی کھا بیٹھا۔
16 اِسلئے اب جو دَولت کُدا نے ہمارے باپ سے لی وہ ہماری اور ہمارے فرزندوں کی ہے ۔ پس جو کُچھ خُدا نے تجھ سے کہا ہے وہی کر۔
17 تب یعؔقوب نے اُٹھ کر اپنے بال بچوں اور بیویوں کو اُونٹوں پر بِٹھایا۔
18 اور اپنے سب جانوروں اور مال و اسباب کو جو اُس نے اِکٹھاکیا تھا یعنی وہ جانور جو اُسے فؔدّان ارام میں اُجرت میں مِلے تھے لیکر چلا تا کہ مُلکِ کنعان میں اپنے باپ اِضحاؔق کے پاس جائے۔
19 اور لاؔبن اپنی بھیڑوں کو پسم کترنے کو گیا ہُوا تھا۔ سو راؔخل اپنے باپ کے بُتوں کو چُرالے گئی۔
20 اور یعقؔوب لاؔبن ارامی کے پاس سے چوری سے چلا گیا کونکہ اُسے اُس نے اپنے بھاگنے کی خبر نہ دی۔
21 سو وہ اپنا سب کُچھ لیکر بھاگا اور دریا پار ہو کر اپنا رُخ کوِ جلؔعاد کی طرف کِیا۔
22 اور تیسرے دِن لاؔبن کو خبر ہوئی کہ یعؔقوب بھاگ گیا۔
23 تب اُس نے اپنے بھائیوں کو ہمرا لیکر سات منزل تک اُسکا تعاقب کیا اور جلؔعاد کے پہاڑ پر اُسے جا پکڑا ۔
24 اور رات کو خُدا لاؔبن ارامی کے پاس خواب میں آیا اور اُس سے کہا خبردار تو یعؔقوب کر بُرایا بھلا کُچھ نہ کہنا۔
25 اور لاؔبن یعؔقوب کے برابر جا پہنچا اور یعقؔوب نے اپنا خیمہ پہاڑ پر کھڑا کر رکھّا تھا ۔ سو لاؔبن نے بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ جِلؔعاد کے پہاڑ پر ڈیرا لگا لیا۔
26 تب لاؔبن نے یؑقوب سے کہا کہ تُو نے یہ کیا کیا کہ میرے پاس سے چوری سے چلا آیا اور میری بیٹیوں کو بھی اِس طرح لے آیا گویا وہ تلوار سے اسیرکی گئی ہے؟
27 تُو چھپ کر کیون بھاگا اور میرے پاس سے چوری سے کیوں چلا آیا اور مجے کچھ کہا بھی نہیں ورنہ مَیں تجھے خوشی خوشی طبلے اور بربط کے ساتھ گاتے بجاتے روانہ کرتا؟۔
28 اور مجھے اپنے بیٹوں اور نیٹیوں کو چومنے بھی نہ دیا؟ یہ تُو نے بیہودہ کام کیا ۔
29 مُجھ میں اِتنا مقدور ہے کہ تُم کو دُکھ دُوں لیکن تیرے باپ کے خُدا نے کل رات مُجھے یُوں کہ کہ خبردار تُو یعؔقوب کو بُرا یا بھلا کچھ نہ کہنا ۔
30 خیر! اب تپو چلا آیا تو چلا آیا کیونکہ تُو اپنے باپ کے گھر کا بہت مُشتاق ہے لین میرے بُتوں کو کیوں چُرالایا؟۔
31 تب یعقوب نے لاؔبن سے کہ ااِسلئِے کہ مَیں ڈرا کیونکہ مَیں نے سوچا کہ کہیں تو اپنی بیٹیوں کی جبرا! مُجھ سے چھین نہ لے۔
32 اب جِسکے پاس تجھےتیرے بُت مِلیں وہ جیتا نہیں بچیگا۔ تیرا جو کُچھ میرے پاس نِکلے اُسے اِن بھائیوں کے آگے پہچان کر لیلے کیونکہ یعؔقوب کو معلوم نہ تھا کہ رؔاخِل اُن بُتوں کو چُرالائی ہے ۔
33 چُنانچہ لاؔبن یعقؔوب اور لِؔیاہ اور دونوں لَونڈیوں کے خِیموں میں گیا پر اُنکو وہاں نہ پایا تب وہ لؔیاہ کے خیمہ سے نکل کر رؔاخِل کے خَیمہ میں داخِل ہُوا۔
34 اور رؔاخِل اُن بُتوں کو لیکر اور اُنکو اُونٹ کے کحاہ وہ میں رکھ کر اُن پر بَیٹھ گئی تھی اور لاؔبن نے سارے خَیمہ میں ٹٹول ٹٹول کر دیکھ لِیا پر اُنکو نہ پایا ۔
35 تب وہ اپنے باپ سے کہنے لگی کہ اَے میرے بُزرگ! تُو اِس بات سے ناراض نہ ہونا کہ مِیں نے تیرے آگے اُٹ نہیں سکتی کیونکہ مَیں اَیسے حال میں ہُوں جو عورتوں کا ہُوا کر تا ہے سو اُس نے ڈُھونڈا پر وہ بُت اُسکو نہ مِلے ۔
36 تب یعؔقوب نے غضبناک ہو کر لاؔبن کو ملامت کی اور یعقؔوب لاؔبن سے کہنے لگا کہ میرا کیا جُرم اور کیا قصُور ہے کہ تُو نے اَیسی تُندی سے میرا تعاقُب کیا؟۔
37 تُو نے جو میرا سارا اسباب ٹٹول ٹٹول کر دیکھ لِیا تو تُجھے تیرے گھر کے اسباب میں سے کیا چیز مِلی؟ اگر کُچھ ہے تو اُسے میرے اور اپنے اِن بھائیوں کے آگے رکھ کہ وہ ہم دونوں کے درمیان اِنصاف کریں ۔
38 مَیں پُورے بِیس برس تیرے ساتھ رہا۔ نہ تو کبھی تیری بھیڑوں اور بکریوں کا گابھ گِرا اور نہ تیرے ریوڑ کے مینڈے میں نے کھائے۔
39 جِسے درندوں نے پھاڑا مِیں اُسے تیرے پاس نہ لایا۔ اُسکا نقصان مِیں نے سہا ۔ جو دِن کو یا رات کو چوری گیا اُسے تُونے مجھ سے طلب کیا۔
40 میرا ھال یہ رہا کہ مِیں دِن کو گرمی اور رات کو سردی میں مرا اور میری آنکھو سے نیند دُور رہتی تھی۔
41 مِیں بیس برس تک تیرے گھر میں رہا۔ چَودہ برس تک تو مَیں نے تیری دونوں بیٹیوں کی خاطِر اور چھ برس تک تیری بھیڑبکریوں کی خاطِر تیری خدِمت کی اور تُو نے دس بار میری مزدُوری بدل ڈالی۔
42 اگر میرے باپ کا خُدا ابرؔہام کامعبود جِسکا رُعب اِضؔحاق مانتا تھا میری طرف نہ ہوتا تو ضرور ہی تپو اب مُجھے خالی ہتھ جانے دیتا ۔ خُدا نے میری مُصیبت اور میرے ہاتھوں کی محنت دیکھی ہے اور کل رات تجھے ڈانٹا بھی۔ ۔
43 تب لاؔبن نے یعقؔوب کو جواب دِیا کہ یہ بیٹیاں میری اور یہ لڑکے بھی میرے اور یہ بھیڑ بکریاں بھی میری ہیں بلکہ جو کُچھ تُجھے دِکھائی دیتا ہے وہ سہب میرا ہی ہے ۔ سو میں آج کے دِن اپنی ہی بیٹیوں سے یا اُنکے لڑکوں سے جو اُنکے ہوئے کیا کرسکتا ہوں؟۔
44 پس اب آکہ مَیں اور تُو دونوں مِل کر آپس میں ایک عہد بانڈھیں اور وُہی میرے اور تیرے درمیان گواہ رہے ۔
45 اور یعقوب نے ایک پتھر لیکر اُسے ستون کی طرح کھڑا کیا۔
46 اور یعؔقوب نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ پتھر جمع کرو۔ اُنہوں نے پتھر جمع کرکے ڈھیر لگا دیا اور وہیں اُس ڈھیر کے پاس اُنہوں نے نے کھانا کھایا۔
47 اور لاُبن نے اُسکا نام یحبر شاہُدو تھا اور یعؔقوب نے جِلعؔاد رکھاّ۔
48 اور لاؔبن نے کہا کہ یہ ڈھیر آج کے دِن میرے اور تیرے درمیان گواہ ہو۔ اِسی لئےِ جلؔعاد رکّھا گیا۔
49 اور مِصؔفاہ بھی کیونکہ لاؔبن نے کہا کہ جب ہم ایک دُوسرے سے غیر حاضر ہوں تو خُداوند میرے اور تیرے بیچ نِگرانی کرتا رہے۔
50 اگر تُو میری بیٹیوں کو دُکھ دے اور اُنکے سِوا اور بیویاں کرے تو کوؑی آدمی ہمارے ساتھ نہیں ہے پر دیکھ خُدا میرے اور تیرے بیچ میں گواہ ہے ۔
51 لاؔبن نے یعقؔوب سے یہ بھی کہا کہ اِس ڈھیر کو دیکھ اور اِس ستُون کو دیکھ جو مَیں نے اپنے اور تیرے بیچ میں کھڑا کیا ہے۔
52 یہ ڈھیر گواہ ہو اور یہ سُتون گواہ ہو۔ ضرر پہنچانے کے لِئے نہ تو مَیں اِس ڈھیر سے اُدھر تیری طرف تجاوز کروں اور نہ تو اِس ڈھیر اور ستُون سے اِدھر میری طرف تجاوز کرے۔
53 ابؔرہام کا خُدا اور نؔحُور کا خُدا اور اُنکے باپ کا خُدا ہمارے بیچ میں اِنصاف کرے اور یعقوب نے اُس ذات کی قِسم کھائی جسکا رُعب ُسکا باپ اِؔضحاق مانتا تھا۔
54 تب یعؔقوب نے وہیں پہاڑ پر قُربانی چڑھائی اور اپنے بھائیوں کو کھانے پر بُلایا اور اُنہوں نے کھانا کھایا اور رات پہاڑ پر کاٹی۔
55 اور لابن صبُح سویرے اُٹھا اور اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کو چُوما اور اُنکو دُعا دیکر روانہ ہو گیا اور اپنے مکان کولَوٹا۔


باب 32

1 اور یعؔقوب نے بھی اپنی راہ لی اور خُدا کے فرشنے اُسے مِلے ۔
2 اور یعؔقوب نے اُنکو دیکھ کر کہا کہ یہ خُدا کا لشکر ہے اور اُس جگہ کا نام مَنؔایِم رکھا۔
3 اور یعقؔوب نے اپنے آگے آگے قاسدوں کو ادوؔم کے مُلک کو جو شؔعیر کی سر زمین میں ہے اپنے بھائی عؔیسو کے پاس بھیجا ۔
4 اور اُنکو حکم دیا کہ تُم میرے خُداوند عؔیسو سے یہ کہنا کہ آپ کا بندہ یعؔقوب کہتا ہے کہ مَیں لاؔبن کے ہاں مُقیم تھا اور اب تک وہیں رہا۔
5 اور میرے پاس گائے بیَیل اور گدھے اور بھیڑبکریاں اور نوکر چاکر اور لَونڈیاں ہیں اور مَیں اپنے خُداوند کے پاس اِسلئِے خبر بھیجتا ہُوں کہ مُجھ پر آپ کے کرم کی نظر ہو۔
6 پس قاصد یعؔقوب کے پاس لَوٹ کر آئےاور کہنے لگے کہ ہم تیرے بھائی عؔیسو کے پاس گئے تھے ۔ وہ چار سَو آدمیوں کو ساتھ لیکر تیری مُلاقات کو آرہا ہے۔
7 تب یعؔقوب نہایت ڈر گیا اور پریشان ہُوا اور اُس نے اپنے ساتھ کے لوگوں اور بھیڑ بکریوں اور گائے بیلوں اور اُونٹوں کے دو غول کئے ۔
8 اور سوچا کہ اگر عؔیسوایک غول پر آپڑے اور اُسے مارے تو دُورا غول بچھ کر بھاگ جائیگا ۔
9 اور یعؔقوب نے کہا اَے میرے باپ ابؔرہام کے دُدا اور میرے باپ اِضؔحاق کے خُدا ! اَے خُداوند جِس نے مجھے یہ فرمایا کہ تُو اپنے مُلک کو اپنے رِشتہ داروں کے پاس لَوٹ جا اور مَیں تیرے ساتھ بھلائی کرُونگا۔
10 مَیں تیری سب رحمتوں اور وفاداری کے مقابلہ میں جو تُو نے اپنے بندہ کے ساتھ برتی ہے بالکل ہیچ ہوُں کیونکہ مَیں صرف اپنی لاٹھی لیکر اِس یؔردن کے پار گیا تھا اور اب اِیسا ہُوں کہ میرے دو غول ہیں ۔
11 مَیں تیری مِنت کر تا ہوں کہ مُجھے میرے بھاؑی عؔیسو کے ہاتھ سے بچالے کیونکہ مِیں اُس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ آکر مجھے اور بچّوں کو ماں سمیت مار نہ ڈالے۔
12 یہ تیرا ہی فرمان ہے کہ مَیں تیرے ساتھ ضرور بھلائی کرونگا اور تیری نسل کو دریا کی ریت کی مانند بناؤنگا جو کثرت کے سبب سے گِنی نہیں جا سکتی۔
13 اور وہ اُس رات وہیں رہا اور جو اُسکے پاس تھا اُس میں سے اپنے بھائی عؔیسو کے لئِے یہ نذرانہ لیا۔
14 دو سَو بکریاں اور بیس بکرے ۔ دو سَو بھیڑیں اور بیس مینڈے ۔
15 اور تیس دُودھ دیِنے والی اُونٹنیاں بچّوں سمیت اور چالِیس گائیں اور دَس بَیل بیس گدھیاں اور دس گدھے۔
16 اور اُنکو جُدا ضُدا غول کرکے نوکروں کو شَونپا اور اُن سے کہا کہ تُم میرے آگے آگے پار جاؤ اور غولوں کو زرا دُور دُور رکھانا ۔
17 اور اُس نے سب سے اگلے غول کے رکھوالے کو حُکم دیا کہ جب میرا بھائی عؔیسو تُجھے مِلے اور تُجھ سے پُوچھے کہ تُو کِس کا نوکر ہے اور کہاں جاتا ہے اور یہ جانور جو تیرے آگے آگے ہیں کِس کے ہیں ؟ ۔
18 تُو کہنا کہ یہ تیرے خادِم یعؔقوب کے ہیں ۔ یہ نذرانہ ہے جو میرے خُداوند عیؔسو کے لِئے بھیجا گیا ہے اور وہ خُود بھی ہمارے پیچھے پیچھے آرہا ہے ۔
19 اور اُس نے دُوسرے اور تیسرے کو اور غولوں کے سب رکھوالوں کو ھُکم دیا کہ جب عؔیسو تمکو مِلے تو تُم یہٰ بات کہنا۔
20 اور یہ بھی کہنا کہ تیرکادم پیچھے پیچھے آرہا ہے ۔ اُس نے یہ سوچا کہ مِیں اِس نذرانہ سے جو مُجھ سے پہلے وہاں جائیگا اُسے راضی کر لُوں ۔ تب اُسک امُنہ دیکھُونگا۔ شاید یُوں وہ مُجھکو قُبول کرے۔
21 چنانچہ وہ نذرانہ اُسکے آگے آگے پار گیا پر وُہ خُود اُس رات اپنے ڈیرے میں رہا۔
22 اور وہ اُسی رات اُٹھا اور اپنی دونوں بیویوں دونوں لَونڈیوں اور گیارہ بیٹیوں کو لیکر اُنکو یبوؔق کے گھاٹ سے پار اُتارا۔
23 اور اُنکو لیکر ندی پار کرایا اور اپنا سب کُچھ پار بھیج دِیا۔
24 اور یعؔقوب اکیلا رہ گیا اور پَوپھٹنے کے وقت تک ایک شخص وہاں اُس سے کُشتی لڑتا رہا۔
25 اُس نے دیکھا کہ وہ اُس پر غالِب نہیں ہوتا تو اپسکی ران کو اندر کی طرف چُھوٗا اور یعؔقوب کی ران کی نس اُسکے ساتھ کُشتی کرنے پر چڑھی گئی۔
26 اور اُس نے کہا مُجھے جانے دے کیونکہ پَوپھٹ چلی ۔ یعؔقوب نے کہا کہ جب تک تُو مُجھے برکت نہ دے مِیں تجھے جانے نہیں دونگا۔ تب اُس نے اُس سے پوچھا کہ تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے جواب دِیا یعقؔوب ۔
27 اُس نے کہا کہ تیرا نام آگے کو یعؔقوب نہیں بلکہ اِسرؔائیل ہوگا کیونکہ تُو نے خُدا اور آدمیوں کے ساتھ زور آزمائی کی اور غالِب ہُوا ۔
28
29 تب یعقؔوب نے اُس سے کہا کہ میں تیری مِنت کرتا ہوُں تُو مُجھے اپنا نام بتا دے ۔ اُس نے کہا کہ تو میرا نام کیوں پُوچھتا ہے؟ اور اُس نے اُسے وہاں برکت دی۔
30 اور یعؔقوب نے اُس جگہ کا نام فؔنی ایل رکّھا اور کہا کہ مٰیں نے خُدا کو روبرو دیکھا تو بھی میری جان بچی رہی۔
31 اور جب وہ فنیؔ ایل سے گُذر رہا تھا تو آفتاب طُلوع ہوُا اور وہ اپنی ران سے لنگڑاتا تھا۔
32 اِسی سبب سے بنی اِسراؔئیل اُس نس کو جو ران میں اندر کی طرف ہے آج تک نہیں کھاتے کیونکہ اپس شخص نے یعؔقوب کی ران کی نس کو جو اندر کی طرف سے چڑھ گئی تھی چھُو دیا تھا۔


باب 33

1 اور یعقؔوب نے اپنی آنکھیں اُٹھا کر نظر کی اور کیا عیکھتا ہے کہ عؔیسو چار سَو آدمی ساتھ لِئے چلا آرہا ہے ۔ تب اُس نے لَؔیاہ اور رؔاخِل اور دونوں لَونڈیوں کو بچےّ بانٹ دِئے۔
2 اور لَونڈیوں اور اُنکے بچّوں کو سب سے آگے اور لِؔیاہ اور اُسکے بچّوں کو پیچھے اور رؔاخِل اور یوُسف کو سب سے پیچھے رکّھا۔
3 اور وہ خُد اُنکے آگے آگے چلا اور اپنے بھائی کے پاس پُہنچتے پہنچتے سات بار زمین تک جُھکا۔
4 اور عیؔسو اُس سے مِلنے کو دَوڑا اور اپس سے بغلگیر ہُوا اور اُسے گلے لگایا اور چُوما اور وہ دونوں روئے ۔
5 پِھر اُس نے آنکھیں اُٹھائیں اور عورتوں اور بچّوں کو دیکھا اور کہا کہ یہ تیرے ساتھ کِون ہیں؟ اُس نے کہا یہ وہ بّچے ہیں جو خُدا نے تیرے خادِم کو عنایت کئِے ہیں ۔
6 تب لونڈیاں اور اُنکے بچے نزدیک آئے اور اپنے آپ کو جُھکایا۔
7 پھر لؔیاۃ اپنے بچوں کے ساتھ نزدیک آئی اور وہ جُھکے۔ آخر کو یُوسؔف اور رؔاخِل پاس آئے اور اُنہوں نے اپنے آپ کو جُھکایا۔
8 پھر اُس نے کہا کہ اُس بڑے غول سے جو مُجھے مِلا تیرا کیا مطلب ہے؟ اُس نے کہا یہ کہ مَیں اپنے خُداوند کی نظر میں مقبول ٹھہُروں۔
9 تب عؔیسو نے کہا میرے پاس بہت ہے ۔ سو اَے میرے بھائی جو تیرا ہے وہ تیرا ہی رہے۔
10 یعؔقوب نے کہا نہیں اگر مُجھ پر تیرے کرم کی نظر ہُوئی ہے تو میرا نذرانہ میرے ہاتھ سے قُبول کر کیونکہ میں نے تیرا مُنہ اَیسا دیکھا جَیسا کو ؑی خُدا کا مُنہ دیکھتا ہے اور تُو مُجھ سے راضی ہوا۔
11 سو میرا نذرانہ جو تیرے حضور پیش ہُوا قُبول کر لے کیونکہ خُدا نے مُجھ پر بڑا فضل کیا ہے اور میرے پاس سب کُچھ ہے۔ غرض اُس نے اُسے مجُبور کیا تب اُس نے اُسے لے لیا۔
12 اور اُس نے کہا کہ اب ہم کُوچ کریں اور چل پڑیں اور مِیں تیرے آگے آگے ہولونگا۔
13 اُس نے اُسے جواب دیا میرا خُداوند جانتا ہے کہ میرے ساتھ نازک بچے اور دُودھ پلانے والی بھیڑ بکریان اور گائیں ہیں ۔ اگر اُنکو ایک دِن بھی حد سے زیداہ ہنکائیں تو سب بھیڑ بکریاں مر جائینگی ۔
14 سو میرا خُداوند اپنے خادِم سے پیشتر روانہ ہو جائے اور مَیں چَوپایوں اور بچوں کی رفات کے مُطابق آہستہ آہستہ چلتا ہُوا اپنے خُداوند کے پاس شؔعیر میں آجاؤنگا۔
15 تب عؔیسو نے کہا کہ مرضی ہو تو مَیں جو لوگ میرے ہمراہ ہیں اُن میں سے تھوڑے تیرے ساتھ چھوڑتا جاؤں۔ اُس نے کہا اِسکی کیا ضرورت ہے ؟ میرے خُداوند کی نظر کرم میرے لئے کافی ہے۔
16 تب عؔیسو اُسی روز اُلٹے پاؤں شؔعیر کو لَوٹا ۔
17 اور یعقؔوب سفر کرتا ہوا اُسکؔات میں آیا اور اپنے لئےِ ایک گھر بنایا اور اپنے چوُپایوں کے لئِے جھونپڑے کھڑے کئِے ۔ اِسی سبب سے اِس جگہ کا نام سُکؔاّت پڑگیا۔
18 اور یعؔقوب جب فؔدّان ارام سے چلا تو مُلکِ کنؔعان کے ایک شہر سِکم کے نزدیک صحیح و سلامت پہنچا اور اُس شہر کے سامنے اپنے ڈیرے لگائے۔
19 اور زمین کے جِس قطعہ پر اُس نے اپنا خَیمہ کھڑا کیا تھا اُسے اُس نے سِکمؔ کے باپ حؔمور کے لڑکوں سے چاندی کے سَو سِکّے دیکر خرید لیا ۔
20 اور اُس نے وہاں ایک مذبح بنایا اور اُسکا نام اؔیل اَلہِ اسرائیل رکّھا۔


باب 34

1 لیؔاہ کی بیٹی دؔینہ جو یعؔقوب سے اُسکے پیدا ہوئی تھی۔ اُس ملک کی لڑکیوں کے دیکھنے کو باہر گئی۔
2 تب اُس ملک کے امیر حوی حؔمور کے بیٹے سِکمؔ نے اُسے دیکھا اور اُسے لے جا کر اُسکے ساتھ مباشرت کی اور اُسے ذلیل کیا۔
3 اور اُسکا دِل یعؔقوب کی بیتی دِینہؔ سے لگ گیا اور اُس نے اُس لڑکی سے عِشق میں میٹھی میٹھی باتیں کیں
4 اور سِؔکم نے اپنے باپ حمؔور سے کہا کہ اِس لڑکی کو میرے لئِے بیاہ لا دے۔
5 اور یعؔقوب کو معلوم ہؤا کہ اُس نے اُسکی بیٹی دؔینہ کو بے حُرمت کیا ہے پر اُسکے بیٹے چَوپایوں کے ساتھ جنگل میں تھے سو یعقؔوب اُنکے آنے تک چُپکا رہا۔
6 تب ؔسِکم کا باپ حؔمور نِکل کر یعؔقوب سے بات چیت کرنے کو اُسکے پاس گیا ۔
7 اور یعؔقوب کے بیتے یہ بات سُنتے ہی جنگل سے آئے ۔ یہ مرد برے رنجیدہ اور غضبناک تھے کیونکہ اُس نے جو یعؔقوب کی بیٹی سے مباشرت کی تو بنی اَسرائیل میں اَیسا مکروہ فعل کِیا جو ہرگز مُناسب نہ تھا۔
8 تب حؔمور اُنسے کہنے لگا کہ میرا بیٹا ؔسِکم تمہاری بیٹی کو دِل سے چاہتا ہے ۔ اُسے اُسکے ساتھ بیاہ دو۔
9 ہم سمدھیانہ کولو ۔ اپنی بیٹیاں ہمکو دو اور ہماری بیٹیاں آ پ لو۔
10 تو تُم ہمارے ساتھ بسے رہو گے اور یہ مُلک تہمارے سامنے ہے۔ اِس میں بُود و باش اور تجارت کرنا اور اپنی اپنی جایدادیں کھڑی کر لینا۔
11 اور ؔسِکم نے اِس لڑکی کے باپ اور بھائیوں سے کہا کہ مُجھ پر بس تُمہارے کرم کی نظر ہو جائے پِھر جو کُچھ تُم مُجھ سے کہو گے میں دونگا۔
12 میَں تُمہارے کہنے کے ُمطابق جِتنا مہر اور جہیز تُم مجھ سے طلب کرو دُونگا۔ لیکن لڑکی کو مُجھ سے بیا دو۔
13 تب یعقؔوب کے بیتوں نے اِس سبب سے کہ اُس نے اُنکی بہن دِینہ کو بے حُرمت کیا تھا رِیا سے ؔسکِم اور اُسکے باپ حؔمور کو جواب دیا۔
14 اور کہنے لگے کہ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ نامختُون مرد کو اپنی بہن دیں کیونکہ اِس میں ہماری بری رُسوائی ہے۔
15 لیکن جَیسے ہم ہیں اگر تُم وَیسے ہی ہو جاؤ کہ تُمہارے ہر مرد کا ختنہ کر دِیا جائے تو ہم راضی ہو جائینگے ۔
16 اور ہم اپنی بیٹیاں تُمہیں دینگے اور تُمہاری بیٹیاں لینگے اور تُمہارے ساتھ رہینگے اور ہم سب ایک قوم ہو جائینگے ۔
17 اور اگر تُم کتنہ کرانے کے لئِے ہماری بات نہ مانو تو ہم اپنی لڑکی لیکر چلے جائینگے ۔
18 اُنکی باتیں حؔمور اور اُسکے بیٹے ؔسِکم کو پسند آئیں ۔
19 اور اپس جوان نے اِس کام میں تاخیر نہ کی کیونکہ یعؔقوب کی بیتی کا اِشتیاق تھا اور وہ اپے باپ کے سارے گھرانے میں سب سے معُزز تھا۔
20 پھر حؔمور اور اُسکا بیٹا ؔسِکم اپنے شہر کے پھاٹک پر گئے اور اپنے شہر کے لوگوں سے یُوں گفتگو کرنے لگے کہ۔
21 یہ لوگ ہم سے میل جول رکھتے ہیں پس وہ ا،س ملک میں رہ کر سوداگری کریں کیونکہ اِس ملک میں اُنکے لئِے گنجایش ہے اور ہم اُنکی بیٹیاں بیاہ لیں اور اپنی بیٹیاں اُنکو دیں ۔
22 اور وہ بھی ہمارے ساتھ رہنے اور ایک قوم بن جانے کو راضی ہیں مگر فقط اِس شرط پر کہ ہم میں سے ہر مرد کا ختنہ کِیا جائے جیسے اُنکا ہؤا ہے ۔
23 کیا اُنکے چوپائے اور مال اور سب جانور ہمارے نہ ہوجائینگے ۔ ہم فقط اُنکی مان لیں اور وہ ہمارے ساتھ رہنے لگینگے ۔
24 تب اُن سبھوں نے جو اُسکے شہر کے پھاٹک سے آیا جایا کرتے تھے حُمؔور اور اُسکے بیٹے ؔسِکم کی بات مانی اور جتنے اُسکے شہر کے پھاٹک سے آمد و رفت کرتے تھے اُن میں سے ہر مرد نے ختنہ کرایا۔
25 اور تیسرے دِن جب وہ درد میں مُبتلا تھے تو یُوں ہؤا کہ یعؔقوب کے بیٹوں میں دِؔینہ کے دو بھائی شؔمعون اور لؔاوی اپنی اپنی تلوار لے کر نا گہان شہر پر آ پڑے اور سب مردوں کو قتل کِیا۔
26 اور حؔمور اور اُسکے بیٹے ؔسِکم کو بھی تلوار سے قتل کر ڈالا اور ؔسکِم کے گھر سے دؔینہ کو نکال لے گئے ۔
27 اور یعؔقوب کے بیتے مقتُولوں پر آئے اور شہر کو لوُٹا اِسلئِے کہ اُنہوں نے اُنکی بہن کو بے حُرمت کیا تھا ۔
28 اُنہوں نے اُنکی بھیڑ بکریاں اور گائے بَیل اور گدھے اور جو کچُھ شہر اور کھیت میں تھالے لِیا۔
29 اور اُنکی سب دَولت لوُٹی اور اُنکے بچّوں اور بیویوں کو اسیر کر لِیا اور جو کچُھ گھر میں تھا سب لوُٹ گھُسوٹ کر لیگئے۔
30 تب یعؔقوب نے شمعؔون اور لؔاوی سے کہا کہ تُم نے مجُھے کُڑھایا کیونکہ تُم نے مجُھےاِس ُملک کے باشندوں یعنی کنعانیوں اور فرزّیوں میں نفرت انگیز بنا دِیا کیونکہ میرے ساتھ تو تھوڑے ہی آدمی ہیں ۔ سو وہ ملِ کر میرے مقابلہ کو آئینگے اور مجُھے قتل کر دینگے اور مَین اپنے گھرانے سمیت برباد ہوجاؤنگا ۔ اُنہوں نے کہا تو کیا اُسے مناسب تھا کہ وہ ہماری بہن کے ساتھ کسی کی طرھ برتاؤ کرتا۔
31 فَقَالا: «انَظِيرَ زَانِيَةٍ يَفْعَلُ بِاخْتِنَا؟».


باب 35

1 اور خُد ا نے یعقؔوب سے کہا کہ اُٹھ بیتؔ ایل کو جا اور وہی راہ اور وہاں خُد کے لئِے جو تجھے اُس وقت دِکھائی دیا جب تو اپنے بھائی عؔیسو کے پاس سے بھاگا جارہا تھا ایک مذبح بنا ۔
2 تب یعؔقوب نے اپنے گھرانے اور اپنے سب ساتھیوں سے کہا کہ بیگانہ دیوتاؤں کو جو تُمہارے درمیان ہیں دُور کرو اور طہارت کرکے اپنے کپڑے بدل ڈالو۔
3 اور آؤ ہم روانہ ہوں اور بؔیت ایل کو جائیں ۔ وہاں میَں خُدا کے لئِے جس نے میری تنگی کے دِن میری دُعا قبُول کی اور جِس راہ میں میَں چلا میرے ساتھ رہا مذبح بناؤنگا۔
4 تب اُنہوں نے سب بیگانہ دیوتاؤں کو جو اُنکے پاس تھاے اور منُدروں کو جو اُنکے کانوں میں تھے یعؔقوب کو دیدیا اور یعقوب نے اُنکو اُس بلؔوط کے درخت کے نیچے جو ؔسِکم کے نزدیک تھا دبا دِیا۔
5 اور اُنہوں نے کُوچ کِیا اور اُنکے آس پاس کے شہروں پر اَیسا بڑا خوف چھایا ہؤا تھا کہ اُنہوں نے یعؔقوب کے بیٹوں کا پیچھا نہ کیا۔
6 اور یعؔقوب اُن سب لوگوں سمیت جو اُسکے ساتھ تھے لؔوُز پہنچا۔ بؔیت ایل یہی ہے اور ملکُ کنعانن میں ہے ۔
7 اور اُس نے وہاں مزبح بنایا اور اپس مقام کا نام اؔیل بیت ایل رکھاّ کیونکہ جب وہ اپنے بھائی کے پاس سے بھاگا جا رہا تھا تو خُدا وہیں اُس پر ظاہر ہؤا تھا ۔
8 اور رِؔبقہ کی دایہ دؔبورہ مرگئی اور وہ ؔبیت ایل اُترائی میں بلوُؔط کے درخت کے نیچے دفن ہُوئی اور اُس بؔلوُط کا نام اؔنون بکوُت رکھا گیا۔
9 اور یعؔقوب کے فؔدّان ارام سے آنے کے بعد خُدا اُسے پِھر دِکھائی دیا اور اُسے برکت بخشی ۔ اور خُدا نے اُسے کہا کہ تیرا نام یعؔقوب ہے ۔ تیرا نام آگے سے یعؔقوب نہ کہلائیگا بلکہ تیرا نام اِسرائیل ہوگا ۔ سو اپس نے اُسکا نام اِسرائیل رکھاّ ۔
10 پھر خُدا نے اُسے کہا کہ میَں خدایِ قادرِ مُطلق ہُوں ۔
11 تُو برومند ہو اور بہت ہو جا۔ تجھُ سے ایک قوم بلکہ قَوموں کے جتھے پیدا ہونگے اور بادشاہ تیرے صُلب سے نِکلینگے۔
12 اور یہ ملک جو میَں نے ابؔرہام اور اِؔضحاق کو دِیا ہے سو تُجھ کو دُونگا اور تیرے بعد تیری نسال کو بھی یہی ُملک دُونگا ۔
13 اور خُدا جِس جگہ اُس سے ہمکلام ہؤا وہیں سے اُسکے پاس سے اُوپر چلا گیا۔
14 تب یعؔقوب نے اُس جگہ جہاں وہ اُس سے ہمکلام ہؤا پتّھر کا ایک ستون کھڑا کیا اور تیل ڈالا۔
15 اور یعؔقوب نے اپس مقام کا نام جہاں خُدا اُس سے ہمکلام ہؤا بؔیت ایل رکھاّ۔
16 اور وہ بؔیت ایل سے چلے اور اِفؔرات تھوڑی ہی دُور رہ گیا تھا کہ رؔاخِل کے دردِزہِ لگا اور وضع حمل میں نِہایت دِقت ہُؤئی ۔
17 اور جب وہ سخت درد میں مبُتلا تھی تو دائی نے اُس سے کہا ڈر مت۔ اب کے بھی تیرے بیٹا ہی ہوگا۔
18 اور یُوں ہُؤا کہ اُس نے مرتے مرتے اُسکا نام بِنؤُُؔنی رکھا اور مر گئی پر اُسکے باپ نے اُسکا نام بِنیمین رکھا ۔
19 اور رؔاخِل مر گئی اور اِفؔرات یعنی بؔیت الحم کے راستہ میں دفن ہُؤئی ۔
20 اور یعؔقوب نے اُسکی قبر پر ایک سُتون کھڑا کر دیا۔ رؔاخِل کی قبر کا یہ ستُون آج تک موُجوُد ہے۔
21 اور اِؔسرائیل آگے بڑھا اور عؔدر کے بُرج کی پرلی طرف اپنا ڈیرا لگایا۔
22 اور اِؔسرائیل کے اُس ملک میں رہتے ہؤئے یُوں ہؤا کہ رُوؔبن نے جا کر اپنے باپ کی حرم بِلؔہاہ سے مباشرت کی اور اِؔسرائیل کو یہ معلوم ہو گیا۔ اُس وقت یعقؔوب کے بارہ بیٹے تھے۔
23 لؔیاہ کے بیٹ یہ تھے ۔ رُوؔبن یعؔقوب کا پہلوٹھا اور شمؔعون اور لؔاوی اور یؔہوُداہ اور اؔشکار اور زؔبوُلوُن ۔
24 اور رؔاخِل کے بیٹے یؔوُسف اور بِنیمین تھے۔
25 اور رؔاخِل کی لوَنڈی بلؔہاہ کے بیتے دؔان اور نفؔتالی تھے ۔
26 اور لؔیاہ کی لوَنڈی زِؔلفہ کے بیتے جؔد اور آؔشر تھے ۔ یہ سب یعؔقوب کے بیٹے ہیں جو فؔدّان ارام میں پیدا ہؤئے ۔
27 اور یؔعقوب ممؔرے میں جو قؔریت اربع یعنی حؔبرُون ہے جہاںن ابؔرہام اور اِؔضحاق نے ڈیرا کیا تھا اپنے باپ اِؔضحاق کے پاس آیا۔
28 اور اِؔضحاق ایک سَو اسّی برس کا ہؤا ۔
29 تب اِؔضحاق نے دم چھوڑ دیا اور وفات پائی اور بُوڑھا اور پُوری عُمر کا ہو کر اپنے لوگوں میں جا مِلا اور اُسکے بیٹوں عؔیسو اور یعقؔوب نے اُسے دفن کیا۔


باب 36

1 اور عؔیسو یعنی اؔدوم کا نسب نامہ یہ ہے۔
2 عؔیسو کنعانی لڑکیوں میں سے حِتی اُؔیلون کی بیٹی عدّؔہ کو اور حو صؔبعون کی نواسی اور عؔنہ کی بیٹی اُہؔلیبامہ و۔
3 اسؔمعٰیل کی بیٹی اور نؔبایوت کی بہن بؔشامہ کو بیاہ لایا۔
4 اور عؔیسو سے عؔدّہ کے اِلیؔفز پیدا ہُؤا اور بؔشامہ کے رؔعوایل پیدا ہؤا۔
5 اور اُبِلؔیبامہ کے یعؔوس اور یؔعلام اور قؔورح پیدا ہُؤئے ۔ یہ عؔیسو کے بیٹے ہیں جو ملک کنعان میں پیدا ہُؤئے ۔
6 اور عؔیسو اپنی بیویوں اور بیٹے بیٹیوں اور اپنے گھر کے سب نوکر چاکروں اور اپنے چَوپایوں اور تمام جانوروں اور اپنے سب مال اسباب کو جو اُس نے ملکِ کنعان میں جمع کیا تھا لیکر اپنے بھائی یعؔقوب کے پاس سے ایک دُوسرے ملک چلا گیا۔
7 کیونکہ اُنکے پاس اِس قدر سامان ہو گیا تھا کہ وہ ایک جگہ رہ نہیں سکتے تھے اور اُنکے چَوپایوں کی کثرت کے سبب سے اپس زمین میں جہاں اپنکا قیام تھا گنُجایش نہ تھی۔
8 پس عؔیسو جسے اؔدوم بھی کہتے ہیں کوہِ شؔعیر میں رہنے لگا ۔
9 اور عؔیسو جو کوہِ شعؔیر کے ادومیوں کا باپ ہے یہ جسب نامہ ہے ۔
10 عؔیسو کے بیٹوں کے نام یہ ہیں ۔ اِلیؔفز عیؔسو کی بیوی عدّہ کا بیٹا اور رؔعوایل عؔیسو کی بیو ی بؔشامہ کا بیٹا ۔
11 اِلیؔفز کے بیٹے تیماؔن اور اؔوقمر اور صؔفور اور جعتاؔم اور قؔنز تھے۔
12 اور تِمنؔع صؔیو کے بیٹے اِؔلیفز کی حرم تھی اور اِلیؔفز اور جعؔتام اور قؔنز تھے۔ تمنع عؔیسو کے بیٹے اِلیؔفز کی حرم تھی اور اِلؔیفز سے اُسکے عماؔلیق پیدا ہؤا ۔ سو عؔیسو کی بیوی عؔدّہ کے بیٹے یہ تھے ۔
13 رؔعوایل کے بیٹے یہ ہیں۔ نؔحتِ اور زؔارح اور سؔمہّ اور مِزّہ ۔ یہ عؔیسو کی بیوی بشؔامہ کے بیٹے تھے۔
14 اور اُہلیبامہ کے بیٹے جو عؔنہ کی بیٹی صؔبعون کی نواسی اور عؔیسو کی بیوی تھی یہ ہیں ۔ عؔیسو سے اُسکے یعؔوس اور یؔعلام اور قؔورح پیدا ہوئے ۔
15 اور عؔیسو کی اَولاد میں جو رئیس تھے سو یہ ہیں ۔ عؔیسو کے پہلوٹھے بیٹے اؔلیفز کی اَولاد میں رئیس تؔیمان رئیس اؔومر رئیس صؔفور رئیس قؔنز ۔
16 رئیس قؔورح رئیس جعؔتام رئیس عؔمالیق ۔ یہ وہ رئیس ہیں جو اؔلیفز سے مُلک ادؔوم میں پیدا ہوئے اور وعدہ کے فرزند تھے ۔
17 اور رؔعوایل بن عؔیسو کے بیٹے یہ ہیں رئیس نؔحت رئیس زاؔح رئیس سؔمہ رئیس مِؔزہّ۔ یہ وہ رئیس ہیں جو عؔیسوکی بیوی بشؔامہ کے فرزند تھے۔
18 اور عؔیسو کی بیوی اُہلِیؔبا کی اَولاد یہ ہیں رئیس کی بیوی اُسامہ بِنت عؔنہ کے فرزند تھے ۔
19 سو عؔیسو یعنی اؔدوم کی اَولاد اور اُنکے رئیس یہ ہیں۔
20 اور شؔعیر حوری کے بیٹے جو اُس مُلک کے باشِندے تھے یہ ہیں ۔ لوؔطان اور سؔوبل اور صبعوؔن اور عؔنہ ۔
21 اور دِؔیسون اور ایصؔر اور دِیسان۔ بنی شؔعیر میں سے جو حوری رئیس مُلک ادؔوم میں ہُؤئے یہ ہیں ۔
22 حؔوری اور ہیمام لؔوطان کے بیٹے اور تِمنؔع لوؔطان کی بہن تھی ۔
23 اور یہ سَوبل کے بیٹے ہیں ۔ عؔلوان اور مؔانحت اور عیباؔل اور سؔفو اور اوؔنام۔
24 اور صؔبعون کے بیٹے یہ ہیں ۔ آؔیہ اور عؔنہ ۔ یہ وہ عؔنہ ہے جِسے اپنے باپ کے گدھوں کو بیابان میں چراتے وقت گرم چشمے مِلے ۔
25 اور عؔنہ کی اَولاد یہ ہے دِیسوؔن اور اُہلِیبامہ بِنت عؔنہ ۔
26 اور دِیؔسون کے بیٹے یہ ہیں حمؔدان اور اؔشبان اور یترؔان اور کرؔان ۔
27 یہ ایؔصر کے بیٹے ہیں بلؔہان اور زؔعوان اور عقؔان ۔
28 دِؔیسان کے بیٹے یہ ہیں۔ عُوض اور اِراؔن ۔
29 جو حوریوں میں سے رئیس ہؤئے وہ یہ ہیں ۔ رئیس لؔوطان رئیس ہُؤئے وہ یہ ہیں ۔ رئیس لؔوطان رئیس سوؔبل رئیس صبعؔون رئیس عؔنہ۔
30 رئیس لؔوطان رئیس ایؔصر رئیس دِیسان ۔ یہ اُن حوریوں کے رئیس ہیں جو مُلکِ شؔعیر میں تھے۔
31 یہی وہ بادشاہ ہیں جو مُلکِ ادوؔم پر پیشتر اُس سے کہ اِؔسرائیل کا کوئی بادشاہ ہو مُسلط تھے ۔
32 باؔلع بِن بعؔور ادؔوم میں ایک بادشاہ تھا اور اُسکے شہر کا نام دِنہابا تھا۔
33 باؔلع مرگا اور یؔوباب بِن زؔادح جو بُصراہی تھا اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا ۔
34 پھر یُوباؔب مر گیا اور حُشیم جو تیمانیوں کے مُلک کا باشندہ تھا اُسکا جانشین ہُوا ۔ اور حُشیم مر گا اور ہدؔدین بدؔد جِس نے مؔوآب کے میدان میں مِدیانیوں کو مارا اُسکا جانشین ہُؤا اور اُسکے شہر کا نام عِؔویت تھا۔
35
36 اور ہؔدد مرگیا اور شملہ جو مُسؔرقہ کا تھا اُسکا جانشین ہُؤا ۔
37 اور شؔملہ مر گیا اور سؔاؤل اُسکا جانشین ہُؤا ۔ یہ رحؔوبت کا تھا جو دریایِ فُراتؔ کے برابر ہے۔
38 اور سؔاؤل مر گیا اور بؔعلحنان بن عکبوؔر اُسکا جانشین ہُؤا ۔
39 اور بؔعلحنان بن عکبؔور مرگیا اور حؔدر اُسکا جانشین ہُؤا اور اُسکے شہر کا نام پؔؤ اور اُسکی بیوی کا نام مہیؔطب ایل تھا جو مؔطِرد کی بیٹی اور میؔضاہاب کی نواسی تھی۔
40 پس عؔیسو کے رئیسوں کے نام اُنکے خاندانوں اور مقاموں اور ناموں کے موافِق یہ ہیں ۔ رئیس تِمنعؔ رئیس مؔتیت ۔
41 رئیس اُہلِؔیبامہ رئیس اَیلؔہ رئیس فِؔینون ۔
42 رئیس قؔنز رئیس تؔیمان ڑئیس مِبؔصار۔
43 رئیس مؔجد ایل ۔ رئیس عِؔرام ۔ اؔدوم کے رئیس یہی ہیں جِن کے نام اُنکے مقبوضہ مُلک میں اُنکے مسکن کے مطابق دِئے گئے ہیں ۔ یہ حال ادومیوں کے باپ عیؔسو کا ہے۔


باب 37

1 اور یؔعقوب مُلکِ کنعان میں رہتا تھا جہاں اُسکا باپ مُسافر کی طرح رہا تھا۔
2 یعؔقوب کی نسل کا حال یہ ہے کہ یُوسؔف سترہ برس کی عُمر میں اپنے بھائیوں کے ساتھ بھیڑ بکریاں چرایا کرتا تھا۔ یہ لڑکا اپنے باپ کی بیویون بِلؔہاہ اور زِؔلفہ کے بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا ۔ اور وہ اُنکے بُرے کاموں کی خبر باپ تک پہنچادیتا تھا ۔
3 اور اَؔسرائیل یُوسؔف کو اپنے سب بیٹوں سے زیادہ پیار کرتا تھا کیونکہ وہ اُسکے بُڑھاپے کا بیٹا تھا اور اُس نے اُسے ای بُو قلمُون قبا بھی بنوادی۔
4 اوراُسکے بھائیوں نے دیکھا کہ اُنکا باپ اُسکے سب بھائیوں سے زیادہ اُسی کو پیار کرتا ہے۔ سو وہ اُس سے بُغض رکھنے لگے اور ٹھِیک طور پر بات بھی نہیں کرتے تھے۔
5 اور یُوسؔف نے ایک خواب دیکھا جِسے اُس نے اپنے بھائیوں کو بتایا تو وہ اُس سے اَور بھی بُغص رکھنے لگے۔
6 اور اُس نے اُن سے کہا ذرا وہ خواب تو سُنو جو مَیں جو مَیں نے دیکھا ہے ۔
7 ہم کھیت میں پُولے باندھتے تھے اور کیا دیکھتا ہوُں کہ میرا پُولا اُٹھا اور سیدھا کھڑا ہوگیا اور تُمہارے پُولوں نے میرے پُولے کو چاروں طرف سے گھیر لیااور اُسے سِجدہ کیا۔
8 تب اُسکے بھائیوں نے اُ س سے کہا کہ کیا تُو سچ مچ ہم پر سلطنت کریگا ۔ ہم پر تیرا تسُلط ہوگا؟ اور اُنہوں نے اُسکے خوابوں اور اُسکی باتوں کے سبب سے اُس سے اَور بھی زیادہ بغص رکھا۔
9 پِھر اُس نے کہا دیکھو مُجھے ایک اَور خواب دیکھائی دیا ہے کہ سوُرج اور چاند اور گیارہ ستاروں نے مُجھے سِجدہ کیا۔
10 اور اُس نے اِسے اپنے باپ اور بھائیوں دونوں کو بتایا۔ تب اُسکے باپ نے اُسے ڈانٹا اور کہا کہ یہ خواب کیا ہے جو تُو نے دیکھا ہے ؟ کیِا مَیں اور تیری ماں اور تیرے بھائی سچ مُچ تیرے آگے زمین پر جُھک کر تُجھے سِجدہ کرینگے ؟
11 اور اُسکے بھائیوں کو اُس سے حسد ہوگیا لیکن اُسکے باپ نے یہ بات یاد رکھّی ۔
12 اور اُسکے بھائی اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چُرانے سِؔکم کو گئے ۔
13 تب اِسرؔائیل نے یُوسؔف سے کہا تیرے بھائی سِؔکم میں بھیڑ بکریوں کو چرا رہے ہونگے۔ سوآکہ مَیں تجھےُ اُنکے پاس بھیجوں ۔ اُس نے اُسے کہا مَیں تیار ہُوں۔
14 تب اُس نے کہا تُو جا کر دیکھ کہ تیرے بھائیوں کا اور بھیڑ بکریوں کا کیا حال ہے اور آکر مجھُے خبر دے۔ سو اُس نے اُسے حؔبرون کی وادی سے بھیجا اور وہ سِؔکم میں آیا ۔
15 اور ایک شخص نے اُسے میدان میں اِدھر اُدھر آوارہ پِھرتے پایا۔ یہ دیکھ کر اُس شخص نے اُس سے پوُچھا کہ تُو کیا ڈھونڈتا ہے۔ ؟
16 اُس نے کہا مَیں اپنے بھائیوں کو ڈھُونڈتا ہُوں ذرا مُجھے بتا دے کہ وہ بھیڑ بکریوں کو کہاں چرارہے ہیں ۔
17 اُس شخص نے کہا وہ یہاں سے چلے گئے کیونکہ مَیں نے اُنکو یہ کہتے سُنا کہ چلو ہم دُو ؔتین کو جائیں۔ چنانچہ یُوسؔف اپنے بھائیون کی تلاش میں چلا اور اُنکو دُوتؔین میں پایا۔
18 اور جُوں ہی اُنہوں نے اُسے دوُر سے دیکھا تو پیشتر اِس سے کہ وہ نزدیک پہنچے اُسکے قتل کا منصوبہ باندھا۔
19 اور آپس میں کہنے لگے دیکھو خوابوں کا دیکھنے والا آرہا ہے ۔
20 آؤ اب ہم اُسے مار ڈالیں اور کسی گڑھے میں ڈال دیں اور یہ کہدینگے کہ کوئی بُرا درِندہ اُسے کھا گیا۔ پھر دیکھینگے کہ اُسکے خوابوں کا انجام کیا ہوتا ہے ۔
21 تب رُوؔبن نے یہ سُن کر اُسے اُنکے ہاتھوں سے بچایا اور کہا ہم اُسکی جان نہ لیں ۔
22 اور رُوؔبن نے اُن سے یہ بھی کہا کہ خُون نہ بہاؤ بلکہ اُسے اِس گڑھے میں جو بیابان میں ہے ڈالدو لیکن اُس پر ہاتھ نہ اُٹھاؤ۔ وہ چاہتا تھا کہ اُسے اُنکے ہاتھ سے بچا کر اُسکےباپ کے پاس سلامت پہنچا دے ۔
23 اور یُوں ہُوا کہ جب یُوسؔف اپنے بھائیوں کے پاس پہنچا تو اُنہوں نے اُسکی بُو قلُمون قبا کو جو وہ پہنے تھا اُتار لِیا۔
24 اور اُسے ُٓٹھا کر گڑھے میں ڈالدِیا ۔ وہ گڑھا سُوکھا تھا ۔ اُس میں ذرا بھی پانی نہ تھا۔
25 اور وہ کھانا کھانے بَیٹھے اور آنکھ اُٹھائی تو دیکھا کہ اِسمعٰیلیوں کا ایک قافلہ جؔلعاد سے آرہا ہے اور گرم مصالح اور روغن بلسان اور مُّ اُونٹوں پر لادے ہُوئے مؔصر کو لئِے جا رہا ہے۔
26 تب یُہوؔداہ نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ اگر ہم اپنے بھائی کو مار ڈالیں اور اُسکا کون چھپائیں تو کیا نفع ہو گا؟۔
27 آؤ اُسے اِسمٰعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالیں کہ ہمارا ہاتھ اُس پر نہ اُٹھے کیونکہ وہ ہمارا بھائی اور ہمار خُون ہے ۔ اُس کے بھائیوں نے اُسکی بات مان لی۔
28 پِھر وہ مِدیانی سَوداگر اُدھر سے گذرے ۔ تب اُنہوں نے یوُسؔف کو کھینچ کر گڑھے سے باہر نکالا اور اُسے اِسمٰعیلیوں کے ہاتھ بیس روپے کو بیچ ڈالا اور وہ یُوسؔف مصر میں لے گئے۔ جب رُوبن گڑھے پر لَوٹ کر آیا اور دیکھا کہ یوُسؔف اُس میں نہیں ہے تو اپنا پیراہن چاک کیِا۔
29 اور بھائیوں کے پاس اُلٹا پھرا اور کہنے لگا کہ لڑکا تو وہاں نہیں ہے ۔ اب میں کہاں جاؤں؟۔
30 پھِر اُنہوں نے یُوسفؔ کی قبا لیکر اور ایک بکرا ذبح کر کے اُسے اُسکے خُون سے تر کیا۔
31 اور اُنہوں نے اُس بُوقلمُون قبا کو بھیجوا دیا ۔ سو وہ اُسے اُنکے باپ کے پاس لے آئے اور کہا کہ ہم کو یہ چیز پڑی ملی۔ اب تُو پہنچان کہ یہ تیرے بیتے کی قبا ہے یا نہیں ؟۔
32 اور اُنہوں نے اُسے پہنچان لیا اور کہا کہ یہ تو میرے بیٹے کی قبا ہے ۔ کوئی بُرا درِندہ اُسے کھا گیا ہے ۔ یُوسؔف بیشک پھاڑا گیا ۔
33 تب یعؔقوب نے اپنا پیراہن چاک کیا اور ٹاٹ اپنی کمر سے لپیٹا اور بہت دِنوں تک اپنے بیتے کے لئِے ماتم کرتا رہا۔
34
35 اور اُسکے سب بیٹے بیٹیاں اپسے تسلّی دینے جانتے تھے پر اُسے تسلّی نہ ہوتی تھی۔ وہ یہی کہتا رہا کہ مَیں تو ماتم ہی کرتا ہُوا قبر میں اپنے بیٹے سے جامِلونگا ۔ سو اُسکا باپ اُسکے لئِے روتا رہا۔
36 اور مِدیانیوں نے اُسے مصؔر میں فؔوطِیفار کے ہاتھ جو فؔرعون کا ایک حاکم اور جلوداروں کا سردار تھا بیچا۔


باب 38

1 اُنہی دِنوں میں اَیسا ہُوا کہ یہؔوداہ اپنے بھائیوں سے جُدا ہو کر ایک عؔدلاّمی آدمی کے پاس جِسکا نام حِیرؔہ تھا گیا۔
2 اور یُہودؔاہ نے وہاں سُنوؔع نام کِسی کنعانی کی بیٹی کو دیکھا اور اُس سے بیاہ کرکے اُسکے پاس گیا۔
3 وہ حامِلہ ہوئی اور اُسکے ایک بیٹا ہُوا جِسکا نام اُس نے عؔیر رکھا۔
4 اور پِھر حاملہ ہُوئی اور ایک بیٹا ہُؤا اُسکا نام اوؔنان رکھاّ ۔
5 پھر اُسکے ایک اَور بیٹا ہُوا اور اُسکا نام سؔیلہ رکّھا اور یُہوؔداہ کؔزیب میں تھا جب اِس عورت کے یہ لڑکا ہؤا ۔
6 اور یؔہوداہ اپنے پہلوٹھے بیٹے عیر کے لئے ایک عورت بیاہ لایا جسکا نام تؔمر تھا۔
7 اور یُہودؔاہ کا پہلوٹھا بیٹا عؔیر خُداوند کی نِگاہ میں شریر تھا ۔ سو خُداوند نے اُسے ہلاک کر دیا۔
8 تب یؔہوداہ نے اونانؔ سے کہا کہ اپنے بھائی کی بیوی کے پاس جا اور دیور کا حق ادا کر تاکہ تیرے بھائی کے نام سے نسل چلے۔
9 اور اوؔنان جانتا تھا کہ یہ نسل میری نہ کہلائیگی ۔ سو یُوں ہُوا کہ جب وہ اپنے بھائی کی بیوی کے پاس جاتا تو نطُفہ کو زمین پر گرا دیتا تھا کہ مبادا اُسکے بھا ئی کے نام سے نسل چلے ۔
10 اور اُسکا یہ کام خُداوند کی نظر میں بہت بُرا تھا اِسلئے اُس نے اُسے بھی ہلاک کیا۔
11 تب یہُؔوداہ نے اپنی بہُو تمؔر سے کہ کہ میرے بیٹے سؔیلہ کے بالغ ہونے تک تُو اپنے باپ کے گھر بیوہ بَیٹھی رہ کیونکہ اُس نے سوچا کہ کہیں یہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح ہلاک نہ ہو جائے سو تؔمر اپنے باپ کے گھر میں جا کر رہنے لگی ۔
12 اور ایک عرصہ کے بعد اَیسا ہوا کہ سُؔوع کی بیٹی جو یُہوؔداہ کی بیوی تھھی مر گئی اور جب ُیہؔوداہ کو اُسکا غم بُھولا تو وہ اپنے عدُلاّمی دوست حِیرؔہ کے ساتھ اپنی بھیڑوں کی پشم کے کترنے والوں کے پاس تمِنت کو گیا ۔
13 اور تؔمر کو یہ خبر مِلی کہ تیرا خُسر اپنی بھیڑوں کی پشم کترنے کے لئے تمِؔنت کو جا رہا ہے۔
14 تب اُس نے اپنے رنڈا پے کے کپڑوں کو اُتار پھینکا اور بُرقع اوٹھا اور اپنے کو ڈھانگا اور عیؔنیم کے پھاٹک کے برابر جو تمِنؔت کی رہ پر ہے جا بیَٹھی کیونکہ اُس نے دیکھا کہ سؔیلہ بالغ ہو گیا مگر یہ اُس سے بیاہی نہیں گئی ۔
15 یُہوداؔہ اُسے دیکھ کر سمجھا کہ کوئی کسبی ہے کیونکہ اُس نے اپنا مُنہ ڈھانک رکّھا تھا ۔
16 سو وہ راستہ سے اُسکی طرف کو پِھرا اور اُس سے کہنے لگا کہ ذرا مُجھے اپنے ساتھ مباشرت کر لینے دے کیونکہ اِسے بالکل نہیں معلوم تھا کہ وہ اِسکی بہُو ہے۔ اُس نے کہا تو مجھے کیا دیگا تا کہ میرے ساتھ مُباشرت کرے؟۔
17 اُس نے کہا مَیں ریوڑ میں سے بکری کا ایک بچہّ تُجھے بھیجدونگا۔ اُس نے کہا اُس کہ اُسکے بھیجنے تک تُو میرے پاس کچھ رہن کر دیگا؟۔
18 اُس نے کہا تُجھے رہن کیا دوں ؟ اُس نے کہا اپنی مُہر اور اپنا بازو بند اور اپنی لاٹھی جو تیرے ہاتھ میں ہے۔ اُس نے یہ چیزیں اُسے دِیں اور اُس کے ساتھ مُباشرت کی اور وہ اُس سے حامِلہ ہوگئی۔
19 پِھر وہ اُٹھ کر چلی گئی اور بُرقع اُتار کر رنڈاپے کا جوڑا پہن لیا۔
20 اور یُہوؔدا ہ نے اپنے عُدلاّمی دوست کے ہاتھ بکری کا بچّہ بھیجا تا کہ اُس عورت کے پاس سے اپنا رہن واپس منگائے پر وہ عورت اُسے نہ مِلی ۔
21 تب اُس نے اُس جگہ کے لوگو سے پوچھا کہ وہ کسبی جو عینؔیم میں راستہ کے برابر بَیٹھی تھی کہاں ہے ؟ اُنہوں نے کہا یہاں کوئی کسبی نہ تھی۔
22 تب اُس نے یہوؔداہ نے کہا خَیر ! اُس رہن کو وہی رکھے ہم تو بدنام نہ ہوں ۔ میَں نے تو بکری کا بچّہ بھیجا پر وہ تجھے نہیں مِلی۔
23
24 اور قریباً تین مہینے کے بعد یہوؔداہ نے کہا کہ اُسے باہر نِکال لاؤ کہ وہ جلائی جائے۔
25 جب اُسے باہر نِکالا تو اُس نے اپنے خُسر کو کہلا بھیجا کہ میرے اُسی شخص کا حمل ہے جِسکی یہ چیزیں ہیں ۔ سو تُو پہچان تو سہی کہ یہ مہراور بازو بند اور لاٹھی کس کی ہے؟۔
26 تب یہوؔداہ نے اِقرار کیا اور کہا کہ وہ مُجھ سے زیادہ صادِق ہے کیونکہ میَں نے اُسے اپنے بیٹے سیلؔہ سے نہیں بیاہا اور وہ پھر کبھی اُسکے پاس نہ گیا۔
27 اور اُسکے وضعِ حمل کے وقت معلوم ہُؤا کہ اُسکے پیٹ میں تَواٗؔم ہیں ۔
28 اور جب وہ جننے لگی تو ایک بچّے کا ہاتھ باہر آیا اور دائی نے پکڑ کر اُسکے ہاتھ میں لال ڈورا باندھ دِیا اور کہنے لگی کہ یہ پہلے پیدا ہؤا ۔
29 اور یُوں ہؤا کہ اُس نے اپنا ہاتھ پھر کینچ لیا ۔ اِتنے میں اُسکا بھائی پَیدا ہو گیا۔ تب وہ دائی بول اُٹھی کہ کیسے زبردستی نِکل پڑا؟ سو اُسکا نام فاؔرص رکھاّ گیا ۔
30 پھر اُسکا بائی جِسکے ہاتھ میں لال ڈورابندھا تھا پیدا ہؤا اور اُسکا نام زاؔرح رکھاّ گیا۔


باب 39

1 اور یوسف کو مصؔر میں لائ٫ے اور فُوطیفار مصری نے ج فرؔعون کا یاک حاکم اور جلوداروں کا سردار تھا اُسکو اِسمٰعیلیوں کے ہاتھ سے جو اُسے وہاں لے گئے تھے خرید لیا۔
2 اور خُداوند یوُسفؔ کے ساتھ تھا اور وہ اِقبالمند ہُوا اور اپنے مصری آقا کے گھر میں رہتا تھا۔
3 اور اُسکے آقا نے دیکھا کہ خُداوند اُسکے ساتھ ہے اور جس کام کو وہ ہاتھ لگاتا ہے خُداوند اُس میں اُسے اقبالمند کرتا ہے۔ چنانچہ یوُسؔف اُسکی نظر میں مقبُول ٹھہرا اور وہی اُسکی خِدمت کرتا تھا اور اُس نے اُسے اپنے گھر کا مختار بنا کر اپنا سب کچھ اُسے سَونپ دِیا۔
4
5 اور جب اُس نے اُسے گھر کا اور سارے مال کا مُختار بنایا تو خُداوند نے اُس مصری کے گھر میں یُوؔسف کی خاطر برکت بخشی اور اُسکی سب چیزوں پر جو گھر میں اور کھیت میں تھیں خُداوند کی برکت ہونے لگی۔
6 اور اُس نے اپنا سب کچھ یوُؔسف کے ہاتھ میں چھوڑ دیا اور سِوا روٹی کے جِسے وہ کھا لیتا تھا اُسے اپنی کِسی چیز کا ہوش نہ تھا اور یُوؔسف خوبصورت اور حِسین تھا۔
7 اِن باتوں کے بعد یُوں ہؤا کہ اُسکے آقا کی بیوی کی آنکھ یُوؔسف پر لگی اور اُس نے اُس سے کہا کہ میرے ساتھ ہم بِستر ہو۔
8 لیکن اُس نے اِنکار کیا اور اپنے آقا کی بیوی سے کہا کہ دیکھ میرے آقا کو خبر بھھی نہیں کہ اِس گھر میں میرے پاس کیا کیا ہے اور اُس نے اپنا سب کچھ میرے ہاتھ میں چھوڑ دیا ہے۔
9 اِس گھر میں مجھ سے بڑا کوئی نہیں اور اُس نے تیرے سِوا کوئی چِیز مُجھ سے باز نہیں رکھیّ کیونکہ تو اُسکی بیوی ہے سو بھلا میَں کیوں اَیسی بری بدی کُروں اور خُدا کا گُنہگار بنُوں ۔؟
10 اور وہ چند روز یُوؔسف کے سر ہوتی رہی پر اُس نے اُسکی بات نہ مانی کہ اُس سے ہم بستر ہونے کے لئِے اُسکے ساتھ لیٹے۔
11 اور ایک دِن یوُں ہوا کہ وہ اپنا کام کرنے کے لئے گھر میں گیا اور گھر کے آدمیوں میں سے کوئی بھی اندر نہ تھا۔
12 تب اُس عورت نے اُسکا پیراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم بِستر ہو۔ وہ اپنا پیراہن اُسکے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔
13
14 تو اُس نے اپنے گھر کے آدمیوں کو بُلا کر اُن سے کہا کہ دیکھو وہ ایک عبِری کو ہم سے مذاق کرنے کے لئِے ہمارے پاس لے آیا ہے۔ یہ مُجھ سے ہم بستر ہونے کو اندر گُھس آیا اور مِیں بلند آواز سے چِلاّنے لگی ۔
15 جب اُس نے دیکھا کہ میَں زور زور سے چِلاّ رہی ہُوں تو اپنا پیراہن میرے پاس چھوڑ کر بھاگا اور باہر نِکل گیا۔
16 اور وہ اُسکا پیراہن اُسکے آقا کے گھر لَوٹنے تک اپنے پاس رکھے رہی ۔
17 تب اُس نے یہی باتیں آس سے کہیں کہ یہ عبِری غلام جو تُو لیا ہے میرے پاس اندر گھُس آیا کہ مُجھ سے مذاق کرے۔
18 جب مَیں زور زور سے چِلاّ نے لگی تو وہ اپنا پیراہن میرے ہی پاس چھوڑ کر باہر بھاگ گیا ۔
19 جب اُسکے آقا نے اپنی بیوی کی وہ باتیں جو اُس نے اُس سے کہیں سُن لِیں کہ تیرے غلام نے مُجھ سے اَیسا اَیسا کیا تو اُسکا غضب بھڑکا۔
20 اور یُوسُؔف کے آقا نے اُسکو لیکر قید خانہ میں جہاں بادشاہ کے قیدی بند تھے ڈالدیا۔ سو وہ وہاں قید خانہ میں رہا۔
21 لیکن خُداوند یُوسُؔف کے ساتھ تھا ۔ اُس نے اُس پر رحم کیا اور قید خانہ کے داروغہ کی نظر میں اُسے مقُبول بنایا۔
22 اور قید خا خانہ کے داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یُوسُؔف کے ہاتھ میں سَونپا اور جو کچھ وہ کرتے اپسی کے حُکم سے کرتے تھے۔
23 اور قید خانہ کا داروغہ سب کاموں کی طرف سے جو اُسکے ہاتھ میں تھے بے فکر تھا اِسئِے کہ خُداوند اُسکے ساتھ تھا اور جو کچھ وہ کرتا خداوند اُس میں اِقبالمند ی بخشتا تھا۔


باب 40

1 اِن باتوں کے بعد یُوں ہوا کہ شاہِ مصؔر کا ساقی اور نان پَز اپنے خُداون دشاہِ مصؔر کے مُجِرم ہوئے۔
2 فرؔعون اپنے اِن دونوں حاکموں سے جِن سے میں ایک ساقیوں اور دُسرا نان پرزوں کا سردار تھا ناراض ہوگیا۔
3 اور ُس نے اِنکو جلوداروں کے سردار کے گھر میں اُسی جگہ جہاں یُوؔسف حراست میں تھا قید خانہ میں نظر بند کرادای۔
4 جلوداروں کے سردار نے اُنکو یوُسؔف کے حوالے کیِا اور وہ اُنکی خِدمت کرنے لگا اور وہ ایک مُدّت تک نظر بند رہے۔
5 اور شاہ مؔصر کے ساقی اور نان پز دونوں نے جو قید خانہ نظر بند تھے ایک ہی رات میں اپنے اپنے ہو نہار کے مُطابق ایک ایک خواب دیکھتا۔
6 اور یُوسُؔف صبح کو اُنکے پاس اندر آیا اور دیکھا کہ وہ اُداس ہیں
7 اور اُس نے فؔرعون کے حاکموں سے جو اُسکے ساتھ اُسکے آقا کے گھر میں نظر بند تھے پُوچھاکہ آج تُم کیوں اَیسے اُداو نظر آتے ہو؟
8 اُنہوں نے اُس سے کہا ہم نے ایک خواب دیکھا ہے جسکی تعبیر کرنے والا کوئی نہیں ۔ یُوؔسُف نے اُن سے کہا کہ تعبیر کی قُدرت خُدا کو نہیں ؟ مجھےُ ذراہ خواب بتاؤ
9 تب سردار ساقی نے اپنا خواب یُوؔسُف سے بیان کیا اُس نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ اُنگور کی بیل میرے سامنے ہے۔
10 اور اُس بیل میں تین شاخیں ہیں ۔ اوراَیسا دِکھائی دیا کہ اُس میں کلیاں لگیں اور پھُول ّئے اور اپسکے گُچھوّں میں پِکے پِکے اُنگوُر لگے۔
11 اور فرؔعون کا پیالہ میرے ہاتھ میں ہے اور میِں نے اُن انگوُروں کو لیکر فؔرعون کے پیالہ میں نچوڑا اور وہ پیالہ میَں نے فؔرعون کے ہاتھ میں دیا۔
12 یُوؔسُف نے اُس سے کہا اِسکی تعبیر یہ ہے کہ وہ تین شاخیں تین دِن ہیں ۔
13 سو اب سے تین دِن کے اندر فؔرعون تجھے سرفرزفرمائیگا اور تُجھے پھر تیرے منصب پر بحال کردیگااور پہلے کی طرح جب تُو اُسکا ساقی تھا پیالہ فؔرعون کے ہاتھ میں دیا کریگا۔
14 لیکن جب تو خوشحال ہو جائے تو مجھے یاد کرنا اور ذرا مُجھ سے مہربانی سے پیش آنا اور فؔرعون سے میرا ذِکر کرنا اور مجھےاِس ھگر سے چھٹکارا دِلوانا۔ کیونکہ عبرانیوں کے مُلک سے مُجھے چرُاکر لے آئے ہیں اور یہاں بھی میَں نے اَیسا کوئی کام نہیں کیا جسکے سبب سے قَید خانہ میں ڈالا جاؤں۔
15
16 جب سردار نان پز نے دیکھا کہ تعبیر اسھی نگلی تو یُوؔسف سے کہا کہ میں نے بھی ایک خواب دیکھا کہ میرے سر پر سفید روئی کی تین تین ٹوکریاں ہیں ۔
17 اور اُوپر کیو ٹوکری میں ہر قِسم کا پکا ہُؤا کھانا فرؔعون کے لئےِ ہے اور پرندے میرے سرپر کی ٹوکری میں سے کھا رہے ہیں ۔
18 یُوؔسُف نے اُسے کہا اِسکی تعبیر یہ ہے کہ وہ تین ٹوکریاں تین دن ہیں ۔
19 سو اب سے تین دِن کے اندر فرؔعون تیرا سر تیرے تن سے جُدا کرکے تجھے ایک درخت پر ٹنگوادیگا اور پرندے تیرا گوشت نوچ نوچ کر کھائینگے۔
20 اور تیسرے دِن جو فؔرعون کی سالگرہ کا دِن تھا یُوں ہوا کہ اُس نے اپنے سب نوکروں کی ضیافت کی اور اُس نے سردار ساقی اور سردار نان پز کو اپنے نوکروں کے ساتھ یاد فرمایا۔
21 اور اُس نے سردار ساقی کو پھر اُسکی خدمت پر بحال کیا اور فرؔعون کے ہاتھ میں پیالہ دینے لگا۔
22 پر اُس نے سردار نان پز کو پھانسی دِلوائی جیسا یُوؔسُف نے تعبیر کرکے اُنکو بتایا تھا۔
23 لیکن سردار ساقی نے یُوؔسُف کو یا نہ کا بلکہ اُسے ُبھول گیا۔


باب 41

1 پوُرے دو برس کے بعد فرؔعون نے خواب میں دیکھا کہ وہ لبِ دریا کھڑا ہے ۔
2 اور اُس دریا میں سے سات خُوبصُورت اور موٹی موٹی گائیں نِکل کر نیستان میں چرنے لگیں ۔
3 اُنکے بعد اَور سات بدشکل اور دُبلی دُبلی گائیں دریا سے نکلی اور دوُسری گایوں کے برابر دریا کے کنارے جا کھڑی ہُؤئیں ۔
4 اور یہ بد شکل اور دُبلی دُبلی گائیں اُن ساتوں خُوبصورت اور موٹی موٹی گایوں کو کھا گِئیں ۔ تب فرؔعون جاگ اُٹھا۔
5 اور وہ پھر سو گیا اور اُس نے دُوسرا خواب دیکھا کہ ایک ڈنٹھی میں اناج کی سات موٹی اور اچھّی اچھّی بالیں نِکلیں ۔
6 اُنکے بعد اَور سات پتلی اور پُوربی ہوا کی ماری مُرجھائی ہُؤئی بالیں نِکلیں۔
7 یہ پتلی بالیں اُن ساتوں موٹی اور بھری ہُؤئی بالوں کو نِگل گئیِں اور فرؔعون جاگ گیا اور اُسے معلوم ہُوا کہ یہ خواب تھا۔
8 اور صُبح کو یُوں ہُؤا کہ اُسکا جی گھبرایا ۔ تب اُس نے مِصؔر کے سب جادُوگروں اور سب دانشمندوں کو بُلوا بھیجا اور اپنا خواب اُنکو بتایا پر اُن میں سے کوئی فرؔعون کے آگے اُنکی تعبیر نہ کر سکا۔
9 اُس وقت سردار ساقی نے فرؔعون سے کہا کہ میری خطائیں آج مجُھے یاد آئیں ۔
10 جب فرؔعون اپنے خادِموں سے ناراض تھا اور اُس نے مجھے اور سردار نان پز کو جلوداروں کے سردار کے گھر میں نظر بند کروادِیا ۔
11 مَیں نے اور اُس نے ایک ہی رات میں ایک ایک خُواب دیکھا یہ خواب ہم نے اپنے اپنے ہونہار کے مُطابق دیکھے۔
12 وہاں ایک عِبری جوان جلوداروں کے سردار کا نوکر ہمارے ساتھ تھا۔ ہم نے اُسے اپنے خواب بتائے اور اُس نے اُنکی تعبیر کی اور ہم میں سے ہر ایک کو ہمارے خواب کے مُطابق اُس نے تعبیر بتائی۔
13 اور جو تعبیر اُس نے بتائی تھی وَیسا ہی ہُؤا کیونکہ مُجھے تو اُس نے میرے منصب پر بحال کیا تھا اور اُسے پھانسی دی تھی۔
14 تب فرؔعون نے یُوسُؔف کو بُلوا بھیجا۔ سو اُنہوں نے جلد اُسے قَید خانہ سے باہر نِکالا اور اُس نے حجامت بنوائی اور کپڑے بدل کر فرؔعون کے سامنے آیا۔
15 فرؔعون نے یُوسُؔف سے کہا مَیں نے ایک خواب دیکھا ہے جسکی تعبیر کو ئی نہیں کر سکتا اور مُجھ سے تیرے بارے میں کہتے ہیں کہ تُو خواب کو سُن کر اُسکی تعبیر کرتا ہے۔
16 یُوسُؔف نے فرعؔون کو جواب دِیا کہ میں کُچھ نہیں جانتا ۔ خُدا ہی فرعؔون کو سلامتی بخش جواب دیگا ۔
17 تب فرعؔون نے یُوسُؔف سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں دریا کے کنارے کھڑا ہُوں۔
18 اور اُس دریا میں سے ساتھ موٹی اور خُوبُصورت گائیں نِکل کر نیَستان میں چرنے لِگیں ۔
19 اُن کے بعد اَور سات خراب اور نہایت بد شکل اور دُبلی گائیں نِکلیں اور وہ اِس قدر بُری تھیں کہ مَیں نے سارے مُلکِ مصؔر میں اَیسی کبھی نہیں دیکھیں۔
20 اور وہ دُبلی اور بد شکل گائیں اُن پہلی ساتوںموٹی گایوں کو گھا گئیں۔
21 اور اُنکے کھا جانے کے بعد یہ معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ اُنہوں نے اُنکو کھا لیا ہے بلکہ وہ پہلے کی طرح جَیسی کی تیسی بد شکل رہیں ۔ تب مَیں جاگ گیا۔
22 اور پھر خواب میں دیکھا کہ ایک ڈنٹھی میں سات بھری اور اچھّی اچھّی بالیں نکلیں۔
23 اور اُنکے بعد اَور سات سُکھی اور پتلی اور پُوربی ہوا کی ماری مُرجھائی ہُوئی بالیں نِکلیں ۔
24 اور یہ پتلی بالیں اُن ساتوں اچھّی اچھّی بالوں کو نِگل گئیں اور مَیں نے اِن جادُوگروں سے اِسکا بیان کِیا پر اَیسا کوٹی نہ نِکلا جو مُجھے اِسکا مطلب بتاتا۔
25 تب یُوسُؔف نے فرعؔون سے کہا کہ فرعؔون کا خواب ایک ہی ہے ۔ جو کُچھ خُدا کرنے کو ہے اُسے اُس نے فرعؔون پر ظاہر کِیا ہے ۔
26 وہ سات اچھّی اچھّی گائیں سات برس ہیں اور وہ سات اچھّی اچھّی گائیں سات برس ہیں اور وہ سات اچھّی اچھّی بالیں بھی سات برس ہیں خواب ایک ہی ہے۔
27 اور وہ سات بدشکل اور دُبلی گائیں جو اُنکے بعد نِکلیںاور وہ سات خالی اور پُوربی ہوا کی ماری مُرجھا ئی ہُؤئی بالیں بھی سات برس ہیں مگر کال کے سات برس۔
28 یہ وہی بات ہے جو مَیں فرعؔون سے کہ چُکا ہُوں کہ جو کُچھ خُدا کرنے کو ہے ہے اُسے اُس نے فرعؔون پر ظاہر کِیا ہے۔
29 دیکھ ! سارے مُلکِ مصؔر میں سات برس تو پیداوارِ کثیر کے ہونگے۔
30 اُنکے بعد سات برس کال کے آئینگے اور تمام مُلکِ مصؔر میں لوگ اِس ساری پیداوار کو بھُول جائینگے اور یہ کال مُلک کو تباہ کردیگا۔
31 اور ارزانی مُلک میں یاد بھی نہیں رہیگی کیونکہ جو کال بعد میں پڑیگا وہ نہایت ہی سخت ہوگا۔
32 اور فرؔعون نے جو یہ خواب دو دفعہ دیکھا تو اِسکا سبب یہ ہے کہ یہ بات خُدا کی طرف سے مُقرر ہو چُکی ہے اور خُدا اِسے جلد پُورا کریگا۔
33 اَسلئِے فرؔعون کو چاہیتے کہ ایک دانشور اور عقلمند آدمی کو تلاش کر لے اور اُسے مُلکِ مِصؔر پر مُختار بنائے۔
34 فرؔعون یہ کرے تاکہ اُس آدمی کو اِختیار ہو کہ وہ مُلک میں ناظِروں کو مُقرر کر دے اور ارزانی کے سات برسوں میں سارے مُلکِ مِصؔر کی پَیداوار کا پانچوں حصّہ لیلے۔
35 اور اُن اچھّے برسوں میں جو آتے ہیں سب کھانے کی چیزیں جمع کریں اور شہر شہر میں غلّہ جو فرؔعون کے اِختیار میں ہو خُورِش کے لِئے فراہم کرکے اُسکی حِفاظت کریں ۔
36 یہی غلّہ مُلک کے لئِے ذخیرہ ہوگا اور ساتوں برس کے لئے جب تک مُلک میں کال رہیگا کافی ہوگا تا کہ کال کی وجہ سے مُلک برباد نہ ہو جائے ۔
37 یہ بات فرؔعون اور اُسکے سب خادِموں کو پسند آئی ۔
38 سو فرعؔون نے اپنے خادِموں سے کہا کہ کیا ہمکو اَیسا آدمی جَیسا یہ ہے جس میں خُدا کی رُوح ہے مِل سکتا ہے؟۔
39 اور فرؔعون نے یُوسُؔف سے کہا چونکہ خُدا نے تجھے یہ سب کُچھ سمجھا دیا ہے اِسلئِے تیری مانِند دانِشور اور عقلمند کوئی نہیں ۔
40 سو تُو میرے گھر کا مُختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حُکم پر چلیگی ۔ فقط تخت کا مالِک ہونے کے سبب سے میں بُزرگتر ہُونگا۔
41 فرؔعون نے یُوسُؔف سے کہا کہ دیکھ مَیں تجھے سارے مُلکِ مِصؔر کا حاکم بناتا ہُوں ۔
42 اور فرؔعون نے اپنی انگُشتری اپنے ہاتھ سے نِکالکر یُوسُؔف کے ہاتھ میں پہنا دی اور اُسے باریک کتان کے لباس میں ّراستہ کراکر سونے کا طُوق اُس کے گلے میں پہنایا ۔
43 اور اُس نے اُسے اپنے دُوسرے رتھ میں سوار کرا کر اُسکے آگے آگے یہ منادی کروادی کہ گُھٹنے ٹیکو اور اُس نے اُسے سارے مُلکِ مِصؔر کا حکام بنا دِیا۔
44 اور فرؔعون نے یُوسُؔف سے کہا مَیں فرؔعون ہُوں اور تیرے حُکم کے بغیر کوئی آدمی اِس سارے مُلکِ مِصؔر میں اپنا ہاتھ یا پاؤں ہِلانے نہ پائیگا۔
45 اور فَرؔعون نے یُوسُؔف کا نام صِفناؔت فعنیح رکھّا اور اُس نے اؔون کے پُجاری فوطِؔفیرع کی بیٹی آسِؔناتھ کو اُس سے بیا ہ دِیا اور یُوسُؔف مُلکِ مصِؔر میں دَورہ کرنے لگا۔
46 اور یُوسُؔف تِیس برس کا تھا جب وہ مِصؔر کے بادشاہ فرؔعون کے سامنے گیا اور اُس نے فرؔعون کے پاس سے رُخصت ہو کر سارے مُلکِ مصِؔر کا دَورہ کِیا ۔
47 اور ارزانی کے ساتھ برسوں میں اِفراط سے فصل ہُوئی ۔
48 اور وہ لگاتار ساتوں برس ہر قِسم کی خُورِش جو مُلکِ مِصؔر میں پیدا ہوتی تھی جمع کر کرکے شہروں میں اُسکا ذخیرہ کرتا گیا۔ ہر شہر کی چاروں اطراف کی خُرِش وہ اُسی شہر میں رکھتا گیا۔
49 اور یُوسُؔف نے غلّہ سمندر کی ریت کی مانِند نہایت کثرت سے ذخیرہ کِیا یہاں تک کہ حساب رکھنا بھی چھوڑ دِیا کیونکہ وہ بے حساب تھا۔
50 اور کال سے پہلے اوؔن کے پُجاری فو طِؔیفر ع کی بیٹی آسِؔناتھ کے یُوسُؔف سے دو بیٹے پیدا ہُوئے ۔
51 اور یُوسُؔف نے پہلوٹھے کا نام مُنسّؔیی یہ کہہ کر رکھّا کہ خُدا نے میری اور میرے باپ کے گھر کی سب مُشقت مُجھ سے بھُلا دی ۔
52 اور دُوسرے کا نام اِفؔرائیم یہ کہکر رکھا کہ خُدا نے مجھے میری مُصیبت کے مُلک میں پھلدار کِیا ۔
53 اور ارزانی کے وہ سات برس جومُلکِ مصِؔر میں ہُوئے تمام ہو گئے اور یُوسُؔف کے کہنے کے مُطابق کال کے ساتھ برس شروع ہُوئے ۔
54 اور اَور سب مُلکوں میں تو کال تھا پر مُلکِ مصِؔر میں ہر جگہ خُرِش موجود تھی۔
55 اور جب مُلکِ مصر میں لوگ بُھوکوں مرنے لگے تو روٹی کے لئِے فرؔعون کے آگے چِلاّئے ۔ فرؔعون نے مِصریوں سے کہا کہ یُوسُؔف کے پاس جاؤ۔ جوکُچھ وہ تُم سے کہے سو کرو۔
56 اور تمام روِٰ ی زمین پر کال تھا اور یُوسُؔف اناج کے کھتوں کو کُھلوا کر مِصریوں کے ہاتھ بیچنے لگا اور مُلکِ مصؔر میں سخت کال ہوگیا۔
57 اور سب مُلکوں کے لوگ اناج مول لینے کے لئِے یُوسُؔف کے پاس مِصؔر میں آنے لگے کیونکہ ساری زمین پر سخت کال پڑا تھا۔


باب 42

1 اور یعؔقوب کو معلوم ہُؤا کہ مِصؔر میں غلّہ ہے تب اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تُم کیوں ایک دُوسرے کا مُنہ تاکتے ہو؟
2 دیکھو مَیں نے سُنا ہے کہ مِصؔر میں غلّہ ہے ۔ تم وہاں جاؤ اور وہاں سے ہمارے لئِے اناج مول لے آؤ تاکہ ہم زِندہ رہیں اور ہلاک نہ ہوں ۔
3 سو یُوسُؔف کے دس بھائی غلّہ مول لینے کو مِؔصر میں آئے ۔ پر یعؔقوب نے یُوسُؔف کے بھائی بنیمؔین کو اُسکے بھائیوں کے ساتھ نہ بھیجاکیونکہ اُس نے ککہا کہ کہیں اُس پر کوئی آفت نہ آجائے۔ سو جو لوگ غلّہ خرید نے آئے اُنکے ساتھ اِسؔرائیل کے بیٹے بھی آئے کیونکہ کنعاؔن کے مُلک میں کال تھا۔
4
5
6 اور یُوسُؔف مُلکِ مِصؔر کا حاکمِ تھا اور وہی مُلک کے سب لوگوں کے ہاتھ غلّہ بیچتا تھا ۔ سو یوُسُؔف کے بھائی آئے اور اپنے سر زمین ٹیک کر اُسکے حضُور آداب بجا لائے۔
7 یُوسؔف اپنے بھائیوں کو دیکھ کر اُنکو پہچان گیا پر اُس نے اُنکے سامنے اپنے آپ کو انجان بنا لیا اور اُن سے سخت لہجہ میں پُوچھا تُم کہاں سے آئے ہو؟ اُنہوں نے کہا کنعانؔ کے مُلک سے اناج مول لینے کو۔
8 یُوسُؔف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا پر اُنہون نے اُسے نہ پہچانا۔
9 اور یوُسؔف اُن خوابوں کو جو اُس نے اُنکی بابت دیکھے تھے یاد کر کے اُن سے کہنے لگا کہ تُم جاسُوس ہو۔ تُم آئے ہو کہ اِس مُلک کی بُری حالت دریافت کرو۔
10 اُنہوں نے اُس سے کہا نہیں خُداوند ۔ تیرے غُلام اناج مول لینے آئےہیں۔
11 ہم سب ایک ہی شخص کے بیٹے ہیں۔ ہم سچّے ہیں ۔ تیرے غلام جاسُوس نہیں ہیں ۔
12 اُس نے کہا نہیں بلکہ تُم اِس مُلک کی بُری حالت دریافت کرنے کو آئے ہو۔
13 تب اُنہوں نے کہا تیرے غلام بارہ بھائی ایک ہی شخص کے بیٹے ہیں جو مُلکِ کنعان میں ہے ۔ سب سے چھوٹا اِس وقت ہمارے باپ کے پاس ہے اور ایک کا کُچھ پتا نہیں ۔
14 تب یُوسُؔف نے اُن سے کہا ۔ مَیں تو تُم سے کہہ چُکا کہ تُم جاسُوس ہو۔
15 سو تُمہاری آزمایش اِس طرح کیجائیگی کہ فرؔعون کی حیات کی قسم تُم یہاں سے جانے نہ پاؤ گے جب تک تُمہارا سب سے چھوٹا بھائی یہاں نہ آجائے۔
16 سو اپنے میں سے کسی ایک کو بھیجو کہ وہ تُمہارے بحا4ی کو لے +4ے اور تُم قید رہو تا کہ تمُہاری باتوں کی تصدیق ہو کہ تُم سچے ہو یا نہیں ورنہ فرؔعون کی حیات کی قسم تُم ضرور ہی جاسُوس ہو۔
17 اور اُس نے اُن سب کو تین دِن تک اِکھٹّے نظر بند رکھّا ۔
18 اور تیسرے دِن یُوسُؔف نے اُن سے کہا ایک کام کرو تو زِندہ رہو گے کیونکہ مُجھے خُدا کا خوف ہے۔
19 اگر تُم سچّے ہو تو اپنے بھائیوں میں سے ایک کو قَید خانہ میں بند رہنے دو اور تُم اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئِے کے کھانے کے لئِے اناج لیجاؤ۔
20 اور اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پا س لے آؤ ۔ یُوں تُمہاری باتوں کی تصدیق ہو جائیگی اور تُم ہلاک نہ ہوگے۔ سو اُنہوں نے اَیسا ہی کِیا۔
21 اور وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہم دراصل اپنے بھائی کے سبب سے مُجرم ٹھہرے ہیں کیونکہ جب اُس نے ہم سے مِنت کی تو ہم نے یہ دیکھ کر بھی کہ اُسکی جان کَیسی مصُیبت میں ہے اُسکی نہ سُنی ۔ اِسی لئِے یہ مُصیبت ہم پر آپڑی ہے ۔
22 تب رُوبنؔ بول اُٹھا کیا مَیں نے تُم سے نہ کہا تھا کہ اِس بچّے پر ظُلم نہ کرو اور تُم نے نہ سُنا ۔ سو دیکھ لو۔ اب اُسکے خُون کا بدلہ لیا جاتا ہے ۔
23 اور اُنکو معلوم نہ تھا کہ یُوسُؔف اُنکی باتیں سمجھتا ہے اِسلئِے کہ اُنکے درمیان ایک ترجمان تھا۔
24 تب وہ اُنکے پاس سے ہٹ گیا اور رویا اور پھر اُنکے پاس آکر اُن سے باتیں کِیں اور اُن میں سے شمعؔون کو لیکر اُنکی آنکھوں کے سامنے اُسے بندھوادِیا۔
25 پھِر یوُسُؔف نے حُکم کِیا کہ اُنکے بوروں میں اناج بھریں اور ہر شخص کی نقدی اُسی کے بورے میں رکھ دیں اور اُنکو زادِ رہ بھی دیدیں ۔چنانچہ اُنکے لئِے اَیسا ہی کِیاگیا۔
26 اور اُنہوں نے اپنے گدھوں پر غلّہ لاد لِیا اور وہاں سے روانہ ہُؤئے ۔
27 جب اُن میں سے ایک نے منزل پر اپنے گدھے کو چارا دینے کے لئِے اپنا بورا کھولا تو اپنی نقدی بورے کے منہ میں رکھّی دیکھی ۔
28 تب اُس نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ میری نقدی پھیر دی گئی ہے ۔ وہ میرے بورے میں ہے ۔ دیکھ لو! پھر تو وہ حواس باختہ ہو گئے اور ہکاّ بکاّ ہو کر ایک دُوسرے کو دیکھنے اور کہنے لگے خُدا نے ہم سے یہ کیا کِیا؟۔
29 اور وہ مُلکِ کنعان میں اپنے باپ یعؔقوب کے پاس آئے اور ساری واردات اُسے بتائی اور کہنے لگے۔
30 کہ اُس شخص نے جو اُس مُلک کامالکِ ہے ہم سے سخت لہجہ میں باتیں کِیں اور ہمکو اُس مُلک کے جاسُوس سمجھا۔
31 ہم نے اُس سے کہا کہ ہم سچّے آدمی ہیں ۔ ہم جاسُوس نہیں ۔
32 ہم بارہ بھائی ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں ۔ ہم میں سے ایک کا کُچھ پتا نہیں اور سب سے چھوٹا اِس وقت ہمارے باپ کے پاس مُلکِ کنعان میں ہے ۔
33 تب اُس شخص نے جو مُلک کا مالِک ہے ہم سے کہا مَیں اِسی سے جان لُونگا کہ تم سچّے ہو کہ اپنے بھائیوں میں سے کِسی کو میرے پاس چھوڑ دو اور اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئِے اناج لیکر چلے جاؤ۔
34 اور اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لے آؤ۔ تب مَیں جان لُونگا کہ تم جاسوُس نہیں بلکہ سچّے آدمی ہو اور مَیں تُمہارے بھائی کو تُمہارے حوالہ کر دُونگا ۔ پھِر تُم مُلک میں سَوداگری کرنا۔
35 اور یُوں ہوا کہ جب اُنہوں نے اپنے اپنے بورے خالی کئِے تو ہر شخص کی نقدی کی تھیلی اُسی کے بورے میں رکھّی دیکھی اور وہ اور اُنکا باپ نقدی کی تھَیلیاں دیکھ کر ڈر گئے۔
36 اور اُنکے باپ یعؔقوب نے اُن سے کہا تُم نے مُجھے بے اَولاد کر دیا ۔ یوُسف نہیں رہا اور شمعؔون بھی نہیں ہے اور بنیمیؔن کو بھی لیجانا چاہتے ہو۔ یہ سہب باتیں میرے خِلاف ہیں ۔
37 تب رُوؔبن نے اپنے باپ سے کہا گر مَیں اُسے تیرے پاس نہ لے آؤں تو میرے دونوں بیٹوں کو قتل کر ڈالنا۔ اُسے میرے ہاتھ میں سونپ دےاور مَیں اُسے پھر تیرے پاس پہنچاؤ نگا۔
38 اُس نے کہا میرا بیٹا تُمہارے ساتھ نہیں جائیگا کیونکہ اُسکا بھائی مرگیا اور وہ اکیلا ہے ۔ اگر راستہ میں جاتے جاتے اُس پر کوئی آفت آ پڑے تو تُم میرے سفید بالوں کو غم کے ساتھ گورمیں اُتاروگے۔


باب 43

1 اور کال مُلک میں اَور بھی سخت ہو گیا ۔
2 اور یُوں ہُؤا کہ جب اُس غلّہ کو جِسے مِصؔر سے لائے تھے کھا چُکے تو اُنکے باپ نے اُن سے کہا کہ جا کر ہمارے لئِے پِھر اناج مول لے آؤ۔
3 تب یہؔوداہ نے اُسے کہا کہ اُس شخص نے ہمکو نہایت تاکید سے کہہ دِیا تھا کہ تُم میرا مُنہ نہ دیکھو گے جب تک تُمہارا بھائی تمہارے ساتھ نہ ہو۔
4 سو اگر تُو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دے تو ہم جائینگے اور تیرے لئِے اناج مول لائینگے۔
5 اگر تُو اُسے نہ بھیجے تو ہم نہیں جائینگے کیونکہ اُس شخص نے کہہ دِیا ہے کہ تُم میرا مُنہ نہ دیکھو گے جب تک تُمہارا بھائی تُمہارے ساتھ نہ ہو۔
6 تب اِسؔراؑیل نے کہا کہ تُم نے مُجھ سے کیوں یہ بدُسُلوکی کی کہ اُس شخص کو بتا دِیا کہ ہمارا ایک بھائی اور بھی ہے۔ ؟
7 اُنہوں نے کہا اُس ژخص نے بجِد ہو کر ہمارا اور ہمارے خاندان کا حال پُوچھا کہ کیا تُمہارا باپ اب تک جِیتا ہے ؟ اور کیا تُمہارا کوئی اَور بھائی ہے؟ تو ہم نے اِن سوالوں کے مُطابِق اُسے بتا دِیا ۔ ہم کیا چانتے تھے کہ وہ کہیگا کہ اپنے بھائی کو لے آؤ۔ تب یہؔوداہ نے اپنے باپ اِسؔراؑیل سے کہا کہ اُس لڑکے کو میرے ساتھ کر دے تو ہم چلے جائینگے تا کہ ہم اور تُو اور ہمارے بال بچےّ زِندہ رہیں اور ہلاک نہ ہوں ۔
8
9 اورمَیں اُسکا ضامِن ہوتا ہُوں ۔ تُو اُسکو میرے ہاتھ سے واپس مانگنا ۔ اگر مَیں اُسے تیرے پاس پہنچا کر سامنے کھڑا نہ کردُوں تو مَیں ہمیشہ کے لئِے گنہگار ٹھہرونگا۔
10 اگر ہم دیر نہ لگاتے تو اب تک دُوسری دفعہ لَوٹ کر آبھی جاتے ۔
11 تب اُنکے باپ اِؔسرائیل نے اُن سے کہا اگر یہی بات ہے تو اَیسا کرو کہ اپنے برتنوں میں اِس مُلک کی مشہور پیداوار میں سے کُچھ اُس شخص کے لئِے نذرانہ لیتے جاؤ جِیسے تھورا سا روغن بلسان تھوڑا سا شہید کُچھ گرم مصالح اور مُّر اور پَستہ اور بادام ۔
12 اور دُونادام اپنے ہاتھ میں لے لو اور وہ نقدی جو پھیر دی گئی اور تُمہارے بوروں کے مُنہ میں رکھّی ملی اپنے ساتھ واپس لے جاؤ کیونکہ شاید بھُول ہوگئی ہوگی۔
13 اپنے بھائی کو بھی ساتھ لو اور اُٹھ کر پھر اُس شخص کے پاس جاؤ۔
14 اور خُداٰ قادِر اُس شخص کو تُم پر مہربان کرے تا کہ وہ تُمہارے دُوسرے بھائی کو اور بینمؔین کو تُمہارے ساتھ بھیج دے۔ مَیں اگر بے اَولاد ہُؤا تو ہُؤا۔
15 تب اُنہوں نے نذرانہ لیا اور وہ نادم بھی ہاتھ میں لے لِیا اور بینمؔین کو لیکر چل پڑے اور مِصؔر پہنچ کر یُوسُؔف کے سامنے جا کھڑے ہوئے ۔
16 جب یُوسُؔف نے بینمؔین کو اُنکے ساتھ دیکھا تو اُس نے اپنے گھر کے مُنتظمِ سے کہا اِن آدمیوں کو گھر میں لے جا اور کوئی جانور ذبح کر کے کھانا تیار کرو ا کیونکہ یہ آدمی دوپہر کو میرے ساتھ کھانا کھائینگے ۔
17 اُس شخص نے جِیسا یُوسؔف نے فرمایا تھا کِیا اور اِن آدمیوں کو یُوسؔف کے گھر میں لے گیا۔
18 جب اِنکو یُوسؔف کے گھر میں پہنچا دِیا تو ڈر کے مارے کہنے لگے کہ وہ نقدی جو پہلی دفعہ ہمارے بورو میں رکھ کر واپس کر دی گئی تھی اُسی کے سبب سے ہمکو اندر کروا دیا ہے تاکہ اُسے ہمارے خِلاف بہانہ مِل جائے اور وہ ہم پر حملہ کرکے ہمکو غُلام بنالے اور ہمارے گدھوں کو چھِین لے۔
19 اور وہ یُوسؔف کے گھر کے مُنتظمِ کے پاس گئے اور دروازہ پر کھڑے ہو کر اُس سے کہنے لگے۔
20 جناب! ہم پہلے بھی یہاں اناج مول لینے آئے تھے
21 اور یُوں ہُوا کہ جب ہم نے منزل پر اُتر کر اپنے بوروں کو کھولا تو اپنی اپنی پوری تُلی ہوئی نقدی اپنے اپنے بورے کے مُنہ میں رکھی دیکھی سو ہم اُسے اپنے ساتھ واپس لیتے آئے ہیں ۔
22 اور ہم اناج مول لینے کو اَور بھی نقدی ساتھ لائے ہیں ۔ یہ ہم نہیں جانتا کہ ہماری نقدی کِس نے ہمارے بوروں میں رکھ دی۔
23 اُس نے کہا کہ تُمہاری سلامتی ہو ۔ مت ڈرو۔ تُمہارے خُدا اور تُمہارے باپ کے خُدا نے تُمہارے بوروں میں تمکو خزانہ دِیا ہوگا۔ مُجھے تو تُمہاری نقدی مِل چُکی ۔ پھر وہ شمؔعون کو نِکال کر اُنکے پاس لے آیا۔
24 اور اُس شخص نے اُنکو یُوسؔف کے گھر میں لا کر پانی دیا اور اُنہوں نے اپنے پاؤں دھوئے اور اُنکے گدھوں کو چارا دِیا ۔
25 پِھر اُنہوں نے یُوسؔف کے اِنتظار میں کہ وہ دوپہر کو آئیگا نذرانہ تیار کرکے رکھا۔ کیونکہ اُنہوں سُنا تھا کہ اُنکو وہیں روٹی کھانی ہے۔
26 جب یُوؔسف گھر آیا تو وہ اُس نذرانہ کو جو اُنکے پاس تھا اُسکے سامنے لے گئے اور زمین پر جُھک کر اُسکے حضور آداب بجا لائے ۔
27 اُس نے اُن کے خیر و عافیت پُوچھی اور کہا کہ تُمہارا بُوڑھا باپ جِسکا تُم ذِکر کیا تھا اچھّا تو ہے ؟ کیا وہ ابتک جِیتا ہے ؟۔
28 اُنہوں نے جواب دِیا تیرا خادِم ہمارا باپ خیریت سے ہے اور اب تک جِیتا ہے ۔ پھر وہ سر جُھکا جُھکا کر اُسکے حضور آداب بجا لائے ۔
29 پِھر اُس نے آنکھ اُٹھا کر اپنے بھائی بینؔمین کو جو اُسکی ماں کا بیٹا تھا دیکھا اور کہا کہ تُمہارا سب سے چھوٹا بھائی جِسکا ذِکر تُم مُجھ سے کِیا تھا یہی ہے؟ پھر کہا کہ اَے میرے بیٹے ! خُدا تُجھ پر مہربان رہے۔
30 تب یُوؔسف نے جلدی کی کیونکہ بھائی کو دیکھ کر اُسکا جی بھر آیا اور وہ چاہتا تھا کہ کہیں جا کر روئے ۔ سو وہ اپنی کوٹھری میں جا کر وہاں رونے لگا۔
31 پھر وہ اپنا مُنہ دھو کر باہر نِکلا اور اپنے کو ضبط کرکے حکم دِیا کہ کھانا چُنو۔
32 اور اُنہوں نے اُسکے لئے جو اُسکے ساتھ کھاتے تھے جُدا کھانا چُنا کیونکہ مصؔر کے لوگ عبرانیوں کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتے تھے کیونکہ مصریوں کو اِس سے کراہیت ہے ۔
33 اور یُوؔسف کے بھائی اُسکے سامنے ترتیب وار اپنی عُمر کی بڑائی اور چھوٹائی کے مطُابق بَیٹھے اور آپس میں حَیران تھے۔
34 پھر وہ اپنے سامنے سے کھانا اُٹھا کر حِصّے کر کر کے اُنکو دینے لگا اور بینؔمین کو حِصّہ اُنکے حِصہّ سے پانچ گنُا ذِیادہ تھا اور اُنہوں نے مَے پی اور اُسکے ساتھ خوشی منائی۔


باب 44

1 پھر اُس نے اپنے گھر کےمنُتِظم کو حُکم کیا کہ اِن آدمیوں کے بوروں میں جِتنا اناج وہ لے جاسکیں بھر دے اور ہر شخص کی نقدی اُسی کے بورے کے مُنہ میں رکھ دے۔
2 اور میرا چاندی کا پیالہ سب سے چھوڑے کے بورے کے مُنہ میں اُسکی نقدی کے ساتھ رکھنا ۔ چنانچہ اُس نے یُوؔسف کے فرمانے کے مطُابق عمل کیا۔
3 صُبح روشنی ہوتے ہی یہ آدمی اپنے گدوں کے ساتھ رخصت کر دیئے گئے۔
4 وہ شہر سے نِکل کر ابھی دُور بھی نہیں گئے تھعے کہ یُوؔسف نے اپنے گھر کے منتظم سے کہا کہ جا اِن لوگوں کا پیچھا کر اور جب تک اُنکو جالے تو اُن سے کہنا کہ نیکی کے عوض تُم نے بدی کیوں کی ؟۔
5 کیا یہ وہی چیز نہیں جِس سے میرا آقا پِیتا اور اِسی سے ٹھیک فال بھی کھولا کرتا ہے ۔؟ تُم نے جو یہ کیا سو بُرا کیا۔
6 اور اُس نے اُنکو جا لِیا اور یہی باتیں اُن سے کہیں ۔
7 تب اُنہوں نے اُس سے کہا کہ ہمارا خُداوند اَیسی باتیں کِیوں کہتا ہے ؟ خُدا نہ کر کہ تیرے خادِم اَیسا کام کریں ۔
8 بھلا جو نقدی ہمکو اپنے بوروں کے مُنہ میں مِلی اُسے تو ہم مُلکِ کنعان سے تیرے پاس واپس لے آُئے ۔ پھر تیرے آقا کے گھر سے چاندی یا سونا کیونکر چُراسکتے ہیں ؟۔
9 سو تیرے خادِموں میں سے جس کسی کے پاس وہ نکلے وہ مار دِیا جائے اور ہم بھی اپنے خُداوند کے غلام ہو جائینگے۔
10 اُس نے کہا کہ تُمہارا ہی کہنا سہی۔ جسکے پاس وہ نِکل آئے وہ میرا غلام ہو گا اور تُم بے گناہ ٹھہرو گے۔
11 تب اُنہوں نے جلدی کی اور ایک ایک نے اپنا بورا زمین پر اُتار لیا اور ہر شخص نے اپنا بورا کھول دِیا ۔
12 سو وہ ڈُھونڈنے لگا اور سب سے بڑے سے شروع کرکے سب سے چھوٹے پر تلاشی ختم کی اور پیالہ بینؔمین کے بورے میں مِلا ۔
13 تب اُنہوں نے اپنے پیراہن چاک کئِے اور ہر ایک اپنے گدھے کو لاد اُلٹا شہر کو پِھرا ۔
14 اور یُؔہوداہ اور اُسکےبھائی یُوؔسف کے گھر آئے ۔ وہ اب تک وہیں تھا ۔ سو وہ اُسکےآگے زمین پر گرِے۔
15 تب یُوؔسف نے اُن سے کہا تم نے یہ کیسا کام کیا؟ کیا تمکو معلوم نہیں کہ مجھ سا آدمی ٹھیک فال کھولتا ہے؟۔
16 یؔہوداہ نے کہا کہ ہم اپنے خُداوند سے کیا کہیں؟۔ ہم کیا بات کریں یا کیونکر اپنے کو بری ٹھہرائیں ؟ خُدا نے تیرے خادِموں کی بدی پکڑ لی۔ سو دیکھ! ہم بھی اور وہ بھی جِسکے پاس پیالہ نِکلا دونوں اپنے خُداوند کے غلام ہیں ۔
17 اُس نے کہا خُدا نہ کرے کہ میَں ایسا کروں ۔ جس شخص کے پاس یہ پیالہ نِکلا وُہی میرا غُلام ہوگا اور تُم اپنے باپ کے پاس سلامت چلے جاؤ۔
18 تب یہؔوداہ اُسکے نزدیک جا کر کہنے لگا اے میرے خُداوند ذرا اپنے خادم کو اجازت دے کہ اپنے خُداوند کے کان میں ایک بات کہے اور تیرا غضب تیرے خادِم پر نہ بھڑکے کیونکہ تو فرؔعون کی مانند ہے۔
19 میرے خُداوند نے اپنے خادِموں سے سوال کیا تھا کہ تمہارا باپ یا تُمہارا بھائی ہے؟۔
20 اور ہم نے اپنے خُداوند سے کہا تھا کہ ہمارا ایک بوڑھا باپ ہے اور اُس کے بڑھاپے کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے۔ اور اُسکا بھائی مرگیاہے اور وہ اپنی ماں کا ایک ہی رہ گیا ہے۔ سو اُسکا باپ اُس پر جان دیتا ہے۔
21 تب تو نے اپنے خادموں سے کہا کہ اُسے میرے پاس لے آؤ کہ میَں اُسے دیکھوں ۔
22 ہم نے اپنے خُداوند کو بتایا کہ وہ لڑکا اپنے باپ کو چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ اگر وہ اپنے باپ کو چھوڑے تو اُسکا باپ مر جائیگا۔
23 پھر تو نے اپنے خادِموں سے کہا کہ جب تک تُمہارا چھو ٹا بھائی تمہارے ساتھ نہ آئے تُم پھر میرا مُنہ نہ دیکھو گے۔
24 اور یُوں ہُؤا کہ جب ہم اپنے باپ کے پاس جو تیرا خادِم ہے پہنچے تو ہم نے اپنے خُداوند کی باتیں اُس سے کہیں۔
25 ہمارے باپ نے کہا پھر جا کر ہمارے لئِے کچھ اناج مول لاؤ۔
26 ہم نے کہا ہم نہیں جاسکے ۔ اگر ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ ہو تو ہم جائینگے کیونکہ جب تک ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ نہ ہو ہم اُس شخص کا مُنہ نہ دیکھینگے ۔
27 اور تیرے خادِم میرے باپ نے ہم سے کہا تُم جانتے ہو کہ میری بیوی کے مُجھ سے دو بیٹے ہوئے۔
28 ایک تو مجُھے چوڑ ہی گیا اور میَں نے خیال کیا کہ وہ ضرور پھاڑ ڈالا گیا ہوگا اور میَں نے اُسے اُس وقت سے پھر نہیں دیکھا ۔
29 اب اگر تُم میرے سفید بالوں کو غم کے ساتھ قبر میں اُتاروگے۔
30 سو اب اگر میں تیرے خادم اپنے باپ کے پاس جاؤں اور یہ لڑکا ہمارے ساتھ نہ ہو تو چونکہ اُسکی جان اس لڑکے کی جان کے ساتھ وابستہ ہے۔
31 وہ یہ دیکھ کر کہ لڑکا نہیں آیا مر جائیگا اور تیرے خادم اپنے باپ کے جو تیرا خادم ہے سفید بالوں کو غم کے ساتھ قبر میں اُتارینگے۔
32 اور تیرا خادم اپنے باپ کے سامنے اس لڑکے کا ضامن بھی ہو چُکا ہے۔ اور یہ کہا ہے کہ اگر میَں اُسے تیرے پاس واپس نہ پہنچادُوں تو میَں ہمیشہ کے لئِے اپنے باپ کا گہنگار ٹھہرؤنگا۔
33 اِسلئے اب تیرے خادِم کو اجازت ہو کہ وہ اِس لڑکے کے بڈلے اپنے خُداوند کا غُلام ہو کر رہ جائے اور یہ لڑکا اپنے بھائیوں کے ساتھ چلا جائے ۔
34 کیونکہ لڑکے کے بغیر میَں کیا مُنہ لیکر اپنے باپ کے پاس جاؤں ۔؟ کہیں اَیسا نہ ہو کہ مجُھے وہ مُصیبت دیکھنی پڑے جو اَیسے حال میں میرے باپ پر آئیگی۔


باب 45

1 تب یُوؔسف اُنکے آگے جو اُسکے آس پاس کھڑے تھے اپنے کو ضبط نہ کر سکا اور چلاّ کر کہا ہر ایک آدمی کو میرے پاس سے باہر کر دو۔ چنانچہ جب یُوؔسف نے اپنے آپ کو اپنے بھائیوں پر ظاہر کیا اُس وقت اور کوئی اُسکے ساتھ نہ تھا۔
2 اور وہ چلاّ چلاّ کر رونے لگا اور مصرِیوں نے سُنا کہ فرؔعون کے محل میں بھی آواز گئی۔
3 اور یُوؔسف نے اپنے بھائیوں سے کہا میں یُوؔسف ہُوں ۔ کیا میرا باپ اب تک جِیتا ہے؟ اور اُسکے بھائی اُسے کُچھ جواب نہ دیسکے کیونکہ وہ اُسکے سامنے گھبرا گئے ۔
4 اور یُوؔسف نے اپنے بھائیوں سے کہا ذرا نزدیک آجاؤ اور وہ نزدیک آئے ۔ تب اُس نے کہا میَں تُمہارا بھائی یُوؔسف ہُوں ۔ جس کو تُم نے بیچ کر مصؔر پہنچوایا۔
5 اور اس بات سے کہ تم نے مجُھے بیچ کر یہاں پہنچوایا نہ تو غمگین ہو اور نہ اپنے اپنے دل میں پریشان ہو کیونکہ خُدا نے جانوں کو بچانے کے لئے مجُھے تم سے آگے بھیجا ۔
6 اِس لئے کہ اب دو برس سے ملک میں کال ہے اور ابھی پانچ برس اور ایسے ہیں جن میں نہ تو ہل چلیگا اور نہ فصل کٹیگی ۔
7 اور خُدا نے مجُھکو تمہارے آگے بھیجا تا کہ تُمہارا بقیہّ زمین پر سلامت رکھےّ اور تُمکو بڑی رہائی کے وسیلہ سے زندہ رکھےّ۔
8 پس تم نے نہیں بلکہ خُدا نے مجُھے یہاں بھیجا اور اپس نے مجُھے گویا فرؔعون کا باپ اور اُسکے سارے گھر کا خُداوند اور سارے ملک مصؔر کا حاکم بنایا۔
9 سو تُم جلد میرے باپ کے پاس جا کر اُسے سے کہو کہ تیرا بیٹا یُوؔسف یُوں کہاتا ہے کہ خُدا نے مجُھ کو سارے مصؔر کا مالک کر دیا ہے تو میرے پاس چلاّ آ دیر نہ کر۔
10 تُو جشؔن کے علاقہ میں رہنا اور تُو اور تیرے بیٹے اور تیرے پوتے اور تیری بھیڑ بکریاں اور گائے اور بیل اور تیرا مال و متاع یہ سب میرے نزدیک ہونگے۔
11 اور وہیں میَں تیری پرورش کرُونگا تا نہ ہو کہ تحُھکو اور تیرے گھرانے اور تیرے مال و متاع کو مُفلسی آدبائے کیونکہ کال کے ابھی پانچ برس اَور ہیں ۔
12 اور دیکھو تمہاری آنکھیں اور میرے بھائی بینؔمین کی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ خود میرے مُنہ سے یہ باتیں تُم سے ہو رہی ہیں ۔
13 اور تُم میرے باپ سے میری ساری شان و شوکت کا جو مجُھے مؔصر میں حاصل ہے اور جو کچُھ تُم نے دیکھا ہے سب کا ذِکر کرنا اور تُم بہت جلد میرے باپ کو یہاں لے آنا۔
14 اور وہ اپنے بھائی بینؔمین کے گلے لگ کر رویا۔ اور بینؔمین بھی اُسکے گلے لگ کر رویا۔
15 اور اُس نے سب بھائیوں کوچُوما اور اُن سے ملکر رویا۔ اِسکے بعد اُسکے بھائی اپس سے باتیں کرنے لگے۔
16 اور فرؔعون کےمحل میں اِس بات کا ذکر ہُوا کہ یُوؔسف کے بھائی آئے ہیں اور اِس سے فرؔعون اور اُسکے نوکر چاکر بہت خُوش ہوئے ۔
17 اور فرؔعون نے یوُؔسف سے کہا کہ اپنے بھائیوں سے کہہ تُم یہ کام کرو کہ اپنے جانوروں کو لاد کر ملک کنعان کو چلے جاؤ۔
18 اور اپنے باپ کو اور اپنے اپنے گھرانے کو لیکر میرے پاس آجاؤ اور جو اور جو کچھ ُملک مؔصر میں اچھےّ سے اچھاّ ہے وہ میَں تُمکو دونگا اور تُم اس ُملک کی عُمدہ عُمدہ چیزیں کھانا۔
19 تجھے حکم ملِ گیا ہے کہ اُن سے کہے تُم یہ کرو کہ اپنے بال بچّوں اور اپنی بیویوں کے لئِے ُملک مصؔر سے اپنے ساتھ گاڑیاں لیجاؤ اور اپنے باپ کو بھی ساتھ لیکر چلے آؤ۔
20 اور اپنے اسباب کا کچُھ افسوس نہ کرنا کیونکہ ُملک مؔصر کی سب اچھیّ چیزیں تُمہارے لئِے ہیں ۔
21 اور اِؔسرائیل کے بیٹوں نے اَیسا ہی کا اور یُوؔسف نےھ فرؔعون کے حکم کے مطُابق اُنکو گاڑیاں دیں اور زادِ راہ بھی دِیا ۔
22 اور اُس نے اُن میں سے ہر ایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا دیا لیکن بینؔمین کو چاندی کے تین سَو سکےّ اور پانچ چوڑے کپڑے دِئے ۔
23 اور اپنے باپ کے لئِے اُس نے یہ چیزیں بھیجیں یعنی دس گدھے جو مؔصر کی اچھی چیزوں سے لدے ہوئے تھے اور دس گدھیاں جو اُسکے باپ کے راستہ کے لئے غلہّ اور روٹی اور زادِ راہ سے لدی ہُؤئی تھیں۔
24 چنانچہ اُس نے اپنے بھائیوں کو روانہ کیا اور وہ چل پڑے اور اُس نے اُن سے کہا دیکھنا ! کہیں راستہ میں تم جھگڑا نہ کرنا ۔
25 اور وہ مؔصر سے روانہ ہوئے اور ملک کنعان میں اپنے باپ یعقؔوب کے پاس پہنچے ۔
26 اور اُس سے کہا یُوؔسف اب تک جیتا ہے اور وہی سارے ملک مؔصر کا حاکم ہے اور یعؔقوب کا دِل دھک سے رہ گیا کیونکہ اُس نے اُنکا یقین نہ کِیا ۔
27 تب اُنہوں نے اُسے وہ سب باتیں جو یُوؔسف نے اُن سے کہی تھیں بتائیں اور جب اُنکے باپ یعؔقوب نے وہ گاڑیاں دیکھ لیں جو یُوؔسف نے اُسکے لانے کو بھیجی تھیں تب اُسکی جان میں جان آئی۔
28 اور اِؔسرئیل کہنے لگا یہ بس ہے کہ میرا بیٹا یُوؔسف اب تک جِیتا ہے ۔ میَں اپنے مرنے سے پیشتر جا کر اُسے دیکھ تو لوُنگا۔


باب 46

1 اِؔسرئیل اپنا سب کچُھ لیکر چلا اور بیرؔسبع میں آکر اپنے باپ اِؔضحاق کے خُدا کے لئِے قُربا نیاں گُذرانیں ۔
2 اور خُدا نے رات کو رویا میں اِؔسرئیل سے باتیں کیں اور کہا اَےیعؔقوب اَےیعؔقوب ! اُس نے جواب دِیا میَں حاضر ہوں۔
3 اُس نے کہا میں خُدا تیرے باپ کا خُدا ہُؤں ۔ مصؔر میں جانے سے نہ ڈر کیونکہ میَں وہاں تجُھ سے ایک بڑی قَوم پَیدا کرُونگا۔ (۴4) میَں تیرے ساتھ مؔصر کو جاؤنگااور پھر تجھے ضرور لوَٹا بھی لاؤنگا اور یُوؔسف اپنا ہاتھ تیری آنکھوں پر لگائیگا ۔
4
5 تب یعؔقوب بیر ؔسبع سے روانہ ہُؤا اور اِؔسرائیل کے بیٹے اپنے باپ یعؔقوب کو ااور اپے بال بچّوں اور اپنی بیویوں کو اُن گاڑیوں پر لے گئے جو فؔرعون نے اُنکے لانے کو بھیجی تھیں۔
6 اور وہ اپنے چوپایوں اور سارے مال و اسباب کو جو اُنہوں نے ملک کنعؔان میں جمع کیا تھا لیکر مصؔر میں آئے اور یعقؔوب کے ساتھ اُسکی ساری اَولاد تھی ۔
7 وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں اور پوتوں اور پوتیوں غرض اپنی کُل نسل کو اپنے ساتھ مصؔر میں لے آیا۔
8 اور یعؔقوب کے ساتھ جو اِسرائیلی یعنی اُسکےبیٹے وغیرہ مصَر میں آئے اُنکے نام یہ ہیں ۔ روُؔبن یعؔقوب کا پہلوٹھا۔
9 اور بنی رُوؔبن یہ ہیں ۔ حؔنوک اور فلؔو اور حؔسرون اودکرؔمی۔
10 اور بنی شمعوؔن یہ ہیں۔ یموؔایل اور یمؔین اور اُؔہد اور ریکین اور صُحر اور ساؔؤل جو ایک کنعانی عورت سے پیدا ہو اتھا ۔
11 اور بنی لاؔوی یہ ہیں جؔیرسون اور قؔہات اور مؔراری۔
12 اور بنی یؔہوداہ یہ ہیں ؔعیر اور اوؔنان اور ؔسیلہ اور فؔارص اور زاؔرح ۔ اِن میں سے عؔیر اور اؔونان ملک کنعؔان میں مر چُکے تھے اور فاؔرص کے بیٹے یہ ہیں ۔ حؔصرون اور حؔمول ۔
13 اور بنی اِشکار یہ ہیں ۔ تؔولع اور فُوؔوہ اور یؔوب اور سمؔرون ۔
14 اور بنی زؔبولوُن یہ ہیں ۔ سرؔد اور اؔیلون اور ؔبجلی ایل ۔
15 یہ سب یعؔقوب کے اُن بیٹوں کی اَولاد ہیں جو فؔدّان ارام میں لؔیاہ سے پیدا ہوٹے ۔ اِسی کے بطن سے اُسکی بیٹی دِؔینہ تھی۔ یہاں تک تو اُسکے سب بیٹے بیٹیوں کا شُمار تینتیس ہُوا ۔
16 بنی جؔدیہ ہیں صفیان اور حؔجیّ اور سُونی اور اؔصبان اور عؔیری اور اؔرودی اور اؔریلی ۔
17 اور بنی آشر یہ ہیں ۔ یمؔنہ اور اؔسواہ اور اؔسوی اور برؔیعاہ اور سِؔرہ اُنکی بہن اور بنی برؔیعاہ یہ ہیں ۔ حِؔبر اور ؔملکی ایل ۔
18 یہ سب یعؔقوب کے اُن بیٹوں کی اولاد ہیں ۔ جو زؔلفہ لوَنڈی سے پیدا ہوئے جِسے لاؔبن نے اپنی بیٹی کو دِیا تھا۔ اُنکا شمار سولہ تھا ۔
19 اور یعؔقوب کے بیٹے یُوؔسف اور بینؔمین راؔخل سے پیدا ہوئے تھے۔
20 اور یُوؔسف مصرؔ میں اؔون کے پُجاری فؔوطیفر ع کی بیٹی آسؔناتھ کےمُنسؔیّ اور افراؔئیم پیدا ہوئے۔
21 اور بنی بینؔمین یہ ہیں۔ بالؔع اور بکر اور اشؔبیل اور جؔیرا اور نؔعمان اخی اور رؔوس مُفیمّؔ اور حُؔفیمّ اور اؔرد ۔
22 یجہ سب یعؔقوب کے اُن بیٹوں کی اَولاد ہیں جو رؔاخل سے پیدا ہوئے ۔ یہ سب شُمار میں چَودہ تھے۔
23 اور دان کے بیٹے کا نام حؔشیم تھا ۔
24 اور بنی نفتاؔلی یہ ہیں۔ یحؔصی ایل اور جُؔونی اور یؔصر اور سؔلیم ۔
25 یہ سب یؔعقوب کے اُن بیٹوں کی اَولاد ہیں جو بلؔہاہ لوَنڈی سے پیدا ہوئے جِسے لاؔبن نے اپنی بیٹی رؔاخل کو دِیا تھا ۔ اِنکا شمار سات تھا ۔
26 یعؔقوب کے صُلب سے جو لوگ پیدا ہوٹے اور اُسکے ساتھ مؔصر میں آئے وہ اُسکی بہوؤں کو چھوڑ کر شُمار میں چھیاسٹھ تھے ۔
27 یوُؔسف کے دو بیٹے تھے جو مؔصر میں آئے وہ سب ملکر شترّ ہُؤئے۔
28 اور اُس نے یہؔوداہ کو اپنے سے آگے یُوؔسف کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُسے جؔشن کا راستہ دِکھائے اور وہ ؔجشن کے علاقہ میں آئے۔
29 اور یُوؔسف اپنا رتھ تیار کروا کے اپنے باپ اِسؔرائیل کے اِستقبال کے لئے جشؔن کو گیا اور اُسکے پاس جا کر اُسکے گلے سے لِپٹ گیا اور وہیں لِپٹا ہوا دیر تک روتا رہا۔
30 تب اؔسرائیل نےیُوؔسف سے کہا اب چاہے میں مر جاؤں ۔ کیونکہ تیرا مُنہ دیکھ چُکا کہ تُو ابھی جیتا ہے۔
31 اور یؔوسف نے اپنے بھائیوں سے اور اپنے باپ کے گھرانے سے کہا میں ابھی جا کر فرؔعون کو خبر کر دُونگا اور اُس سے کہدونگا کہ میرے بھائی اور میرے باپ کے گھرانے کے لوگ جو ملک کنعان میں تھے میرے پاس آگئے ہیں ۔
32 اور وہ چَوپان ہیں کیونکہ برابر چَوپایوں کو پالتے آئے ہیں اور وہ اپنی بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور جو کچھ اُنکا ہے سب لے آئےہیں ۔
33 پس جب فرؔعون تمکو بُلا کر پُوچھے کہ تمہارا پیشہ کیا ہے ؟
34 تو تُم یہ کہنا کہ تیرے خادِم ہم بھی اور ہمارے باپ دادا بھی لڑکپن سے لیکر آج تک چَوپائے پالتے آئے ہیں ۔ تب تُم جشن کے علاقہ میں رہ سکو گے اِسلئے کہ مصریوں کو چَوپانوں سے نفرت ہے۔


باب 47

1 تب یُوؔسف نے آکر فرؔعون کو خبر دی کہ میرا باپ اور میرے بھائی اور اُنکی بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور اُنکا سارا مال ول متاع ملک کنؔعان سے آگیا ہے اور ابھی تو وہ سب جؔشن کے علاقہ میں ہیں ۔
2 پھر اُس نے اپنے بھائیوں میں سے پانچ کو اپنے ساتھ لیا اور اُنکو فرؔعون کے سامنے حاضر کیا۔
3 فرؔعون نےاُسکے بھائیوں سے پُوچھا تُمہارا پیشہ کیا ہے ؟ اُنہوں نے فرؔعون سے کہا تیرے خادم چَوپان ہیں جَیسے ہمارے باپ دادا تھے۔
4 پھر اُنہوں نے فرؔعون سے کہا کہ ہم اِس ملک میں مسافر انہ طور پر رہنے آئے ہیں کیونکہ ملک کنؔعان میں سخت کال ہونے کی وجہ سے وہاں تیرے خادموں کے چوپایوں کے لئے چرائی نہیں رہی ۔ سو کرم کرکے اپنے خادِموں کو جؔشن کے علاقہ میں رہنے دے۔
5 تب فرؔعون نے یُوؔسف سے کہا کہ تیرا باپ اور تیرے بھائی تیرے پاس آگئے ہیں ۔
6 مصرؔ کا ملک تیرے آگے پڑا ہے ۔ یہاں کے اچھےّ علاقہ میں اپنے باپ اور بھائیوں کو بسا دے یعنی جؔشن ہی کے علاقہ میں اُنکو رہنے دے اور اگر تیری دانِست میں اُن میں ہوشیار آدمی بھی ہوں تو اُنکو میرے چَوپایوں پر مقرر کر دے۔
7 یُوؔسف اپنے باپ یعؔقوب کو اندر لایا اور اُسے فرؔعون سامنے حٖاضر کیا اور یعقؔوب نے فرؔعون کو دُعا دی ۔
8 اور فرؔعون نے یعؔقوب سے پوچھا کہ تیری عمر کتنے سال کی ہے ۔ ؟
9 یعؔقوب نے فرؔعون سے کہاکہ میری مسافرت کے برس ایک سو تیس ہیں ۔میری زندگی کے ایام تھوڑے اور دُکھ سے بھرے ہُوئے رہے اور ابھی یہ اُتنے ہوئے بھی نہیں ہیں جِتنے میرے باپ دادا کی زندگی کے ایام تھوڑے اور دُکھ سے بھرے ہوئے رہے اور بھی اتنے ہوئے بھی نہیں ہیں جِتنے میرے باپ دادا کی زندگی کے ایام اُنکے دَور مساُفرت میں ہوئے ۔
10 اور یعقوب فرؔعون کو دُعا دیکراُسکے پاس سے چلا گیا۔
11 اور یُوؔسف نے اپنے باپ اور بھائیوں کو بسا دیا اور فرؔعون کے حکم کے مطُابق رعؔمسیس کے علاقہ کو جو ملک مصؔر کا نہایت زرخیز خِطہّ ہے اُنکی جاگیر ٹھہرایا ۔
12 اور یُوؔسف اپنے باپ اور اپنے بھائیوں اور اپنے باپ کے گھر کے سب آدمیوں کی پرورِش ایک ایک کے خاندان کی ضرورت کے مطُابق اناج سے کرنے لگا۔
13 اور اُس سارے ملک میں کھانے کو کچھ نہ رہا کیونکہ کال اِیسا سخت تھا کہ ملک مصر اور ملک کنعؔان دونوں کال کے سبب سے تباہ ہو گئے تھے۔
14 اور جتنا روپیہ ملک مؔصر اور ملک کنؔعان میں تھا وہ سب یُوؔسف نے اُس غلہّ کے بدلے جسے لوگ خریدتے تھے لے لیکر جمع کر لیا اور سب روپے کو اُس نے فرؔعون کے محل میں پہنچا دیا ۔
15 اور جب وہ سارا روپیہ جو مصرؔ اور کنعاؔن کے ملکوں میں تھا خرچ ہوگیا تو مصری یُوؔسف کے پاس آکر کہنے لگے ہمکو اناج دے کیونکہ روپیہ تو ہمارے پاس رہا نہیں ہم تیرے وہتے ہوئے کیوں مریں ۔؟۔
16 یُوؔسف نے کہا کہ اگر روپیہ نہیں ہے تو اپنے چوپائے دو اور میں تمہارے چوپایوں کے بدلے تمکو اناج دُونگا۔
17 سو وہ اپنے چوپائے یوُؔسف کے پاس لانے لگے اور یُوؔسف گھوڑوں اور بھیڑ بکریوں اور گائے بَیلوں اور گدھوں کے بدلے اُنکو اناج دینے لگا اور پُورے سال بھر اُنکو سب چَوپایوں کے بدلے اناج کھلایا۔
18 جب یہ سال گُذر گیا تو وہ دُوسرے سال اُسکے پاس آکر کہنے لگے کہ اِس میں ہم اپنے خُداوند سے کچھ نہیں چھپاتے کہ ہمارا سارا روپیہ خرچ ہو چکا اور ہمارے چَوپایوں کے گلوں کا مالک بھی ہمارا خُداوند ہوگیا ہے ۔ اور ہمارا خُداوند دیکھ چُکا ہے کہ اب ہمارے جسم اور ہماری زمین کے سوا کچھ باقی نہیں۔
19 پس ایسا کیوں ہو کہ تیرے دیکھتے دیکھتے ہم بھی مریں اور ہماری زمین بھی اُجڑ جائے؟ سو تو ہم کو ہماری زمین کو اناج کے بدلے خریدلے کہ ہم فرؔعون کے غُلام بن جائیں اور ہماری زمین کا مالک بھی وہی ہو جائے اور ہمکو بیج دے تاکہ ہم ہلاک نہ ہوں ۔
20 اور یُوؔسف نے مؔصر کی ساری زمین فؔرعون کے نام پر خریدلی کیونکہ کال سے تنک آکر مصریوں میں سے ہر شخص نے اپنا کھیت بیچ ڈالا ۔ سو ساری زمین فرؔعون کی ہو گئی ۔
21 اور مصر کے ایک سرے سے لیکر دُوسرے سِرے تیک جو لوگ رہتے تھے اُنکواُس نے شہروں میں بسایا ۔
22 لیکن پُجاریوں کو رسد مِلتی تھی ۔ سو وہ اپنی اپنی رسد جو فرؔعون اُنکو دیتا تھا کھاتے تھے اِسلئے اُنہوںنے نے اپنی زمین نہ بیچی ۔
23 تب یُوؔسف نے وہان کے لوگوں سے کہا کہ دیکھو میَں نے آج کے دن تمکو اور تمہاری زمین کو فرؔعون کے نام پر خرید لیا ہے ۔ سو تُم اپنے لئے یہاں سے بیج لو اور کھیت بو ڈالو۔
24 اور فصل پر پانچواں حصہّ فرؔعون کو دیدینا اور باقی چار تُمہارے رہے تاکہ کھیتی کے لئے بیج کے بھی کام آئیں اور تمہارے اور تمہارے گھر کے آدمیوں اور تمہارے بال بچوّں کے لئے کھانے کو بھی ہوں ۔
25 اُنہوں نے کہا کہ تُو نے ہماری جان بچائی ہے ۔ ہم پر ہمارے خُداوند کے کرم کی نظر رہے اور ہم فرؔعون کے غُلام بن کر رہینگے ۔
26 اور یُوؔسف نے یہ آئین جو آج تک ہے مصرؔ کی زمین کے لئے ٹھہرایا کہ فرؔعون پیداوار کا پانچواں حصہ لیا کرے۔ سو فقط پُجاریوں کی زمین اَیسی تھی جو فرؔعون کی نہ ہوئی ۔
27 اور اِسرائیلی ملک مصؔر میں جشن کے علاقہ میں رہتے تھے اور اُنہوں نے اپنی جایدادیں کھڑی کر لیں اور وہ بڑے اور بہت زیادہ ہوگئے۔
28 اور یعؔقوب ملک مصر میں سترہ برس اور جیا ۔ سو یعؔقوب کی کل عمر ایک سو سینتالیس برس کی ہوئی ۔
29 اور اسؔرائیل کے مرنے کا وقت نزدیک آیا ۔ تب اپس نے اپنے بیٹے یُوؔسف کو بُلا کر اُس سے کہا اگر مجھُ پر تیرے کرم کی نظر ہے تو اپنا ہاتھ میری ران کے نیچے رکھ اور دیکھ ! مہربانی اور صداقت سے میرے ساتھ پیش آنا۔ مجھُ کو مصر میں دفن نہ کرنا ۔
30 بلکہ جب میَں اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جاؤں تو مجھےُ مصر سے لیجا کر اُنکے قبرستان میں دفن کرنا ۔ اُس نے کہکا جواب دیا جَیسا تُونے کہا ہے میں ویسا ہی کرُونگا۔
31 اور اُس نے کہا کہ تُو مجھُ سے قسم کھا اور اُس نے اپس سے قسم کھائی تب اِسرائیل اپنے بستر پر سرہانے کی طرف سِجدہ میں ہوگیا۔


باب 48

1 اِن باتوں کے بعد یوُں ہوا کہ کشی نے یُوؔسف سے کہا تیرا باپ بیمار ہے ۔ سو وہ اپنے دونوں بیٹوں منسؔیّ اور افرؔائیم کو ساتھ لیکر چلا۔
2 اور یعؔقوب سے کہا گیا کہ تیرا بیٹا یوُؔسف تیرے پاس آرہا ہے اور اِؔسرائیل اپنے کو سنبھال کر پلنگ پر بیٹھ گیا ۔
3 اور یعؔقوب نے یُوؔسف سے کہاکہ خُدایِ قادر مطُلق مجھے لوُزمیں جو ملک کنعؔان میں ہے دِکھائی دِیا اور مجھےُ برکت دی ۔
4 اور اُس نے مجھُ سے کہا میں تجھے برومند کرونگا اور بڑھاؤنگا اور تجھُ سے قوموں کا ایک زُمرہ پیدا کرونگا اور تیرے بعد یہ زمین تیری نسل کو دُونگا تاکہ یہ اُنکی دائمی ملکیت ہو جائے ۔
5 سو تیرے دونوں بیٹے جو ملک مصر میں میرے آنے سے پہلے پیدا ہوئے میرے ہیں یعنی رُوبؔن اور شمؔعون کی طرح اؔفرائیم اور منؔسیّ بھی میرے ہی ہونگے۔
6 اور جو اَولاد اب اُنکے بعد تجھُ سے ہوگی وہ تیری ٹھہریگی پر اپنی میراث میں اپنے بھائیوں کے نام سے وہ لوگ نامرد ہونگے۔
7 اور میَں جب فؔدّان سے آتا تھا تو رؔاخل نے راستہ ہی میں جب اِفؔرات تھوڑیدُور رہ گیا تھا میرے سامنے ملک کنعؔان میں وفات پائی اور میَں نے اُسے وہیں اِفرؔات کے راستہ میں دفن کیا۔ بَیت الحم وہی ہے ۔
8 پِھر اِؔسرائیل نے یُوؔسف کے بیٹوں کو دیکھ کر پُوچھا یہ کَون ہیں ۔؟
9 یُوؔسف نے اپنے باپ سے کہا یہ میرے بیٹے ہیں جو خُدا نے مُجھے یہاں دِئے ہیں ۔ اُس نے کہا اُنکو ذرا میرے پاس لا۔ میَں اُنکو برکت دُونگا ۔
10 لیکن اِؔسرائیل کی آنکھیں بڑھاپے کے سبب سے دھندلا گئی تھیں اور اُسے دِکھائی نہیں دیتا تھا ۔ سو یُوؔسف اُنکو اُسکے نزدیک لے آیا ۔ تب اُس نے اُنکو چوم کر گلے لگا لِیا ۔
11 اور اِسؔرائیل نے یُوؔسف سے کہا مجھےُ خیال بھی نہ تھا کہ تیرا مُنہ دیکھونگا۔لیکن خُدا نے تیری اَولاد بھی مجھےُ دِکھائی ۔
12 اور یُوؔسف اُنکو اپنے گھُٹنوں کے بیچ سے ہٹا کر مُنہ کے بل زمین تک جُھکا ۔
13 اور یُوؔسف اُن دونوں کو لیکر یعنی افؔرائیم اکو اپنے دہنتے ہاتھ سے اِسؔرائیل کے بائیں ہاتھ کے مُقابل اور منسؔیّ کو اپنے بائیں ہاتھ کے مُقابل اور منُسؔیّ کو اپنے بائیں ہاتھ سے اِسرؔائیل کے دہنے ہاتھ کے مُقابل کر کے اُنکو اُسکے نزدیک لایا۔
14 اور اؔسرائیل نے اپنا دہنا ہاتھ بڑھا کر اؔفراہیم کے سر پر جو چھوٹا تھا اور بایاں ہاتھ منؔسیّ کے سر پر رکھ دیا۔ اُس نے جان بوُجھ کر اپنے ہاتھ یُوں رکھےّ کیونکہ پہلوٹھا تو منؔسیّ ہی تھا۔
15 اور اُس نے یُوؔسف کو برکت دی اور کہا کہ خُدا جِسکے سامنے میرے باپ ابرؔہام اور اِؔضحاق نے اپنا دَور پورا کیا۔ وہ خُدا جِس نے ساری عُمر آج کے دن تک میری پاسبانی کی۔
16 اور وہ فرشتہ جس نے مجھےُ سب بلاؤں سے بچایا اِن لڑکوں کو برکت دے اور جو میرا اور میرے باپ دادا ابرؔہام اور اِؔضحاق کا نام ہے اُسی سے یہ نامزد ہوں اور زمین پر نہایت کثرت سے بڑھ جائیں ۔
17 اور یُوؔسف یہ دیکھ کر کہ اُسکے باپ نے اپنا دہنا ہاتھ اِفراؔئیم کے سر پر رکھاّ ناخُوش ہُوا اور اُس نے اپنے باپ کا ہاتھ تھام لیا تا کہ اُسے اِفؔرائیم کے سر پر سے ہٹا کر منؔسیّ کے سر پر رکھے ۔
18 اور یُوؔسف نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ اَیسا نہ کر کیونکہ پہلوٹھا یہ ہے اپنا دہنا ہاتھ اِسکے سر پر رکھ ۔
19 اُسکے باپ نے نہ مانا اور کہا اَے میرے بیٹے ! مجھےُ خُوب معلوم ہے ۔ اِس سے بھی ایک گروہ پیدا ہوگی اور یہ بھی بزرگ ہوگا اور اُسکی نسل سے بہت سی قَومیں ہونگی ۔
20 اور اُس نے اُنکو اُس دِن برکت بخشی اور کہا کہ اسرؔائیلی تیرا نام لے لیکر یُوں دُعا دیا کرینگے کہ خُدا تجھُ کو اِؔفرائیم اور منؔسیّ کی مانند اقبالمند کرے!۔ سو اُس نے اِفؔرائیم کو منؔسیّ پر فضیلت دی ۔
21 اور اسرؔاؑیل نے یُوؔسف سے ککہامیَں تو مرتا ہُوں لیکن خُدا تمہارے ساتھ ہوگا اور تمکو پھر تمہارے باپ دادا کے ملک لیجائیگا ۔
22 اور میَں تجھےُ تیرے بھائیوں سے زیداہ ایک حِصہّ جو میَں نے اموریوں کے ہاتھ سے اپنی تلوار اور کمان سے لیا دیتا ہُوں۔


باب 49

1 اور یعؔقوب نھے اپنے بیٹوں کو یہ کہکر بُلوایا کہ تُم سب جمع ہو جاؤ تاکہ میں تمکو بتاؤں کہ آخری دِنوں میں تُم پر کیا کیا گُذریگا۔
2 اِے یعؔقوب کے بیٹو جمع ہو کر سُنو۔ اور اپنے باپ اِؔسرائیل کی طرف کان لگاؤ۔
3 اِے رُوؔبن ! تو میرا پہلوٹھا میری قُوت اور میری شہزوری کا پہلا پھل ہے ۔ تو میرے رُعب کی اور میری طاقت کی شان ہے ۔
4 تو پانی کی طرح بے ثبات ہے اِسلئے مجھےُ فضیلت نہیں ملیگی۔ کیونکہ تُو اپنے باپ کے بستر پر چڑھا ۔ تُو نے اُسے نجس کیا ۔ رُوؔبن میرے بچھونے پر چڑھ گیا۔
5 شؔمعون اور لاؔوی تو بھا ئی بھائی ہیں اُنکی تلواریں ظُلم کے ہتھیار ہیں ۔
6 اَے میری جان ! اُنکے مشورہ میں شریک نہ ہو ۔ اَے میری بُزرگی! اُنکی مجلس میں شامل نہ ہو ۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنے غضب میں ایک مرد کو قتل کیا۔ اور اپنی خودرائی سے بیلوں کو نچیں کاٹیں ۔
7 لعنت اُنکے غضب پر کیونکہ وہ تُند تھا اور اُنکے قہر پر کیونکہ وہ سخت تھا ۔ میَں اُنہیں یعقوب میں الگ الگ اور اِسؔرائیل میں پراگندہ کردُونگا۔
8 اَے میرے یُہوؔداہ ! تیرے بھائی تیری مدح کرینگے تیرا ہاتھ تیرے دُشمنوں کی گردن پر ہوگا۔ تیرے باپ کی اَولاد تیرے آگے رنگوُں ہوگی۔
9 یُہوداہ شیر ببر کا بچہّ ہے ۔ اَے میرے بیٹے ! تُو شکار مار کر چل دیا ہے ۔ وہ شیر ببر بلکہ شیرنی کی طرح دَبک کر بیٹھ گیا ۔ کَون اُسے چھیڑے ؟
10 یُؔہوداہ سے سلطنت نہیں چھوٹیگی اور نہ اُسکی نسل سے حکومت کا عصا موقوف ہوگا ۔ جب تک شیلؔوہ نہ آئے۔ اور قَومیں اُسکی مُطیع ہونگی۔
11 وہ اپنا جوان گدھا انگوُر کے درخت سے اوراپنی گدھی کا بچہّ اعلےٰ درجہ کے انگوُر کے درخت سے باندھ کر یگا۔ اور وہ اپنا لباس مَے میں اور اپنی پوشاک آپ انگو میں دھویا کریگا۔
12 اُسکی آنکھیں مَے کے سبب سے لال اور اُسکے دانت دُودھ کی وجہ سے سفید رہا کرینگے ۔
13 زبُؔولون سمندر کے کنارے بسیگا اور جہازوں کے لئے بند کا کام دیگا۔ اور اُسکی حد صَیدؔا تک پَھیلی ہوگی۔
14 اِشکار مضوبط گدھا ہے ۔ جو دوبھیڑسالوں کے درمیان بَیٹھا ہے ۔
15 اُس نے ایک اچھیّ آرامگاہ اور خُوشنما زمین کو دیکھ کر اپنا کندھا بوجھ اُٹھانے کو جُھکایا اور بیگار میں غُلام کی طرح کام کرنے لگا۔
16 دؔان اِؔسرائیل کے قبیلوں میں سے ایک کی مانِند اپنے لوگوں کا اِنصاف کریگا۔
17 دان راستے کا سانپ ہے ۔ وہ راہ گزر کا افعی ہے جو گھوڑے کے عقب کو َایسا ڈستا ہے کہ اُسکا سوار پچھاڑ کھا کر گِر پڑتا ہے ۔
18 اَے خُداوند ! میں تیری نجات کی راہ دیکھتا آیا ہوں ۔
19 جؔد پر ایک فَوج حملہ کریگی پر وہ اُسکے دُنبالہ پر چھاپا ماریگا۔
20 آشؔر نفیس اناج پیدا کیا کریگا اور بادشاہوں کے لائق لذیذ اشیا مہیُا کریگا۔
21 نفتاؔلی اَیسا ہے جیسے چھوٹی ہُوئی ہرنی ۔ وہ میٹھی میٹھی باتیں کرتا ہے ۔
22 یُوؔسف ایک پھلدار پَودا ہے ۔ اَیسا پھلدار پَودا جو پانی کے چشمہ کے پاس لگا ہُوا ہو اور اُسکی شاخیں دیوار پر پَھیل گئی ہوں ۔
23 تِیراندازوں نے اُسے بہت چھیڑا اور مارا اور ستایا ہے ۔
24 لیکن اُسکی کمان مضُبوط رہی اور اُسکے ہاتھوں اور بازؤوں نے یعؔقوب کے قادر کے ہاتھ سے قُوت پائی ۔ (وہیں سے وہ چَوپان اُٹھا ہے جو اَؔسرائیل کی چٹان ہے۔ )
25 یہ تیرے باپ کے خُدا کاکلام ہے جو تیری مدد کریگا۔اُسی قادرِ مطُلق کا کام جو اُوپر سے آسمان کی برکتیں اور نیچے سے گہرے سمُندر کی برکتیں اور چھاتیوں اور رَحموں کی برکتیں عطا کریگا۔
26 تیرے باپ کی برکتیں میرے باپ دادا کی برکتوں سے کہیں زیادہ ہیں اورقدیُم پہاڑوں کی اِنتہا تک پُہنچی ہیں ۔ وہ یُوؔسف کے سر بلکہ اُسکے سر کی چاندی پر جو اپنے بھائیوں سے جُدا ہُوا نازل ہونگی۔
27 بنیمؔین پھاڑنے والا بھیڑیا ہے ۔ وہ صُبح کو شکار کھائیگا اور شام کو لوُٹ کا مال بانٹیگا۔
28 اِؔسرائیل کے بارہ قبیلے یہی ہیں اور اُنکے باپ نے جو جو باتیں کہکر اُنکو برکت دی وہ بھی یہی ہیں۔ ہر ایک کو اپس کی برکت کے موافِق اُس نے برکت دی ۔
29 پھر اُس نے اُنکو حُکم کیا اور کہا کہ میَں اپنے لوگو ں میں شامِل ہونے پر ہُوں مجھےُ میرے باپ دادا کے پاس اُس مغارہ میں جو عؔفِرون حِتیّ کے کھیت میں ہے دفن کرنا۔
30 یعنی اپس مغارہ میں جو ملک کنعاؔن میں ممرے کے سامنے مکفؔیلہ کے کھیت میں ہے جِسے ابؔرہام نے کھیت سمیت عِؔفرون حؔتیّ سے مول لیا تھا تا کہ گورِستان کے لئے وہ اُسکی ملکیت بن جائے۔
31 وہاں اُنہوں ے ابرؔہام کو اور اُسکی بیوی ساؔرہ کو دفن کیا ۔ وہیں اُنہوں نے اِضؔحاق اور اُسکی بیوی رؔبقہ کو دفن کیا اور وہیں میَں نے بھی لیؔاہ کو دفن کیا۔
32 یعنی اُسی کھیت کے مغارہ میں جو بنی حِؔت سے خریدا تھا۔
33 اور جب یعؔقوب اپنے بیٹوں کو وصِیت کر چُکا تو اُس نے اپنے پاؤں بچھونے پر سمیٹ لئِے اور دم چھوڑ دِیا اور اپنے لوگوں میں جاملا۔


باب 50

1 تب یُوؔسف اپنے باپ کے مُنہ سے لپٹ کر اُس پر رویا اور اُسکو چُوما ۔
2 اور یُوؔسف نے اُن طبیبوں کو جو اُسکے نوکر گھے اپنے باپ کی لاش میں خوشُبو بھرنے کا حُکم دیا۔ سو طبیبوں نے اِؔسرائیل کی لاش میں خُوشبو بھری ۔
3 اور اُسکے چالیس دِن پورے ہُوئے کیونکہ خُوشبو بھرنے میں اِتنے ہی دن لگتے ہیں اور مصری اُسکے لئے ستّر دِن تک ماتم کرتے رہے۔
4 اور جب ماتم کے دِن گذر گئے تو یُوؔسف نے فرؔعون کے گھر کے لوگوں سے کہا اگر مجھُ پر تُمہارے کرم کی نظر ہے تو فرؔعون سے ذرا عرض کردو۔
5 کہ میرے باپ نے مجھُ سے قسم لیکر کہا ہے کہ میَں تو مرتا ہُوں ۔ تو مجھُ کو میری گور میں جو میَں نے ملک کنعؔان میں اپنے لئے کھدوائی ہے دفن کرنا اِسلئے ذرا مجھےُ اجازت دے کہ میَں وہاں جا کر اپنے باپ کو دفن کروں اور میَں لوٹ کر آجاؤنگا۔
6 فرؔعون نے کہا کہ جا اور اپنے باپ کو جَیسے اُس نے تجھُ سے قسم لی ہے دفن کر۔
7 سو یُوؔسف اپنے باپ کو دفن کرنے چلا اور فرؔعون کے سب خادِم اور اُسکے گھر کے مشائخ اور ملک مصر کے سب مشائخ ۔
8 اور یُوؔسف کے گھر کے سب لوگ اور اُسکے بھائی اور اُسکے باپ کے گھر کے آدمی اُسکے ساتھ گئے ۔ وہ صِرف اپنے بال بچےّ اور بھیڑ بکریاں اور گائے بَیل جؔشن کے علاقہ میں چھوڑ گئے۔
9 اور اُسکے ساتھ رتھ اور سوار بھی گئے ۔ سو ایک بڑا انبوہ اُسکے ساتھ تھا۔
10 اور وہ اؔتد کے کھلیہان پر جو یرؔدن کے پار ہے پہنچے اور وہاں اُنہوں نے بلند اور دِلسوز آواز سے نوحہ کیا اور یُوؔسف نے اپنے باپ کے لئے سات دِن تک ماتم کرایا۔
11 اور جب اُس ملک کے باشندوں یعنی کنعانیوں نے اؔتد میں کھلیہان پر اِس طرح کا ماتم دیکھا تو کہنے لگے کہ مصریوں کا یہ بڑا دردناک ماتم ہے۔ سو وہ جگہ اؔبیل مصریم کہلائی اور وہ یرؔدن کے پار ہے۔
12 اور یعؔقوب کے بیٹوں نے جَیسا اُس نے اُنکو حکم کیا تھا وَیسا ہی اُسکے لئے کِیا ۔
13 کیونکہ اُنہوں نے اُسے ملک کنعان میں لیجا کر ممرؔے کے سامنے مکؔفیلہ کے کھیت کے مغارہ میں جِسے ابرؔہام نے عِفرؔون حِتؔیّ سے خرید کر گورِستان کے لئے اپنی ملکیت بنالیا تھا دفن کیا۔
14 اوریوُؔسف اپنے باپ کو دفن کر کے اپنے بھائیوں اور اپنکے ساتھ جو اُسکے باپ کو دفن کرنے کے لئِے اُسکے ساتھ گئے تھے مصر کو لَوٹا ۔
15 اور یُوؔسف کے بھائی یہ دیکھ کر کہ اُنکا باپ مر گیا کہنے لگے کہ یوُؔسف شاید ہم سے دُشمنی کرے اور ساری بدی کا جو ہم نے اُس سے کی ہے پُورا بدلہ لے ۔
16 سو اُنہوں نے یُوؔسف کو یہ کہلا بھیجا کہ تیرے باپ نے اپنے مرنے سے آگے یہ حُکم کیاتھا۔
17 کہ تُم یُوؔسف سے کہنا کہ اپنے بھائیوں کی خطا اور اُنکا گناہ اب بخش دے کیونکہ اُنہوں نے تجھُ سے بدی کی ۔ سو اب تُو اپنے باپ کے خُدا کے بندوں کی خطا بخش دے اور یُوؔسف اُنکی یہ باتیں سُن کر رویا ۔
18 اور اُسکے بھائیوں نے خود بھی اُسکے سامنے جاکر اپنے سر ٹیک دِئے اور کہا دیکھ ہم تیرے خادم ہیں ۔
19 یُوؔسف نے اُن سے کہا مت ڈرو۔ کیا میں خُدا کی جگہ پر ہُوں ؟ (
20 تُم نے تو مُجھ سے بدی کرنے کا ا،رادہ کیا تھا لیکن خُدا نے اُسی سے نیکی کا قصد کیا تاکہ بہت سے لوگوں کی جان بچائے چنانچہ آج کے دِن اَیسا ہی ہو رہا ہے ۔
21 اِسلئے تُم مت ڈرو۔ میَں تُمہاری اور تُمہارے بال بچوّں کی پر ورِش کرتا رہُونگا ۔ یُوں اُس نے اپنی مُلائیم باتوں سے اُنکی خاطرِ جمع کی۔
22 اور یُوؔسف اور اُسکے باپ کے گھر کے لوگ مصر میں رہے اور یُوؔسف ایک سَو دس برس تک جِیتا رہا ۔
23 اور یُوؔسف نے افؔرائیم کی اَولاد تیسری پُشت تک دیکھی اور مُنسؔیّ کے بیٹے مکیر کی اَولاد کو بھی یُوؔسف نے اپنے گھٹنوں پر کھِلایا۔
24 اور یُوؔسف نھے اپنے بھائیوں سے کہا میَں مرتا ہوں اور خُدا یقیناً تُمکو یاد کریگا اور تُمکو اس ملک سے نکال کر اُس ملک میں پہنچائیگا جِسکے دینے کی قسم اُس نے ابرؔہام اور اِضؔحاق اور یعؔقوب سے کھائی تھی۔
25 اور یُوؔسف نے بنی اِسؔرائیل سے قسم لیکر کہا خُدا یقیناً تُمکو یاد کریگا۔ سو تُم ضرور ہی میری ہڈیوں کو یہا ں سے لیجانا ۔
26 اور یُوؔسف نے ایک سو دس برس کا ہو کر وفات پائی اور اُنہوں نے اُسکی لاش میں خُوشبو بھری اور اُسے مصؔر ہی میں تابوت میں رکھاّ۔