خُروج

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40


باب 1

1 اسرائیل کے بیٹوں کے نام جو اپنے اپنے گھرانے کولے کر یعقوب کے ساتھ مصر میں آے یہ ہے۔
2 رُوبن شمعون لاوی یہوداہ۔
3 اِشکار۔زبولُون۔بنیمین ۔
4 دان۔نفتالی۔جد۔آشر۔
5 اور سب جانیں جو یقوب کے صُلب سے پیدا ہوئیں ستر تھیں اور یوسف تو مصر میں پہلے ہی سے تھا۔
6 اور یوسف اور اُس کے سب بھا ئی اور اُس پُشت کے سب لوگ مر مٹے۔
7 اور اسرائیل کی اولاد برومنداور کثیرالتعداد اورفراوان اور نہایت زورآور ہو گئی اور وہ مُلک اُن سے بھر گیا۔
8 تب مصر میں ایک نیا بادشاہ ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا ۔
9 اور اُس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا دیکھو اسرائیلی ہم سے زیادہ اور قوی ہو گئے ہیں ۔
10 سو آو ہم اُنکے ساتھ حکمت سے پیش آئیں تا نہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہو جائیں اور اُس وقت جنگ چھڑ جائے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل کر ہم سے لڑیں اور مُلک سے نکل جائیں ۔
11 اس لیے اُنہوں نے اُن پر بیگار لینے والے مقرر کیے جو اُن سے سخت کام لے کر اُن کو ستائیں ۔سو اُنہوں نے فرعون کے لئے ذخیرہ کے شہر پتوم اور رعمسیس بنائے ۔
12 پر اُنہوں نے جتنا اُنکو ستایا وہ اُتنا ہی زیادہ بڑھتے اور پھیلتے گئے ۔اس لئے وہ لوگ بنی اسرائیل کی طرف سے فکر مند ہو گئے ۔
13 اور مصریوں نے بنی اسرائیل پر تشدد کر کے اُن سے کام کرایا ۔
14 اور اُنہوں نے اُن سے سخت محنت سے گارا اور اینٹ بنوا کر اور کھیت میں ہر قسم کی خدمت لے لےکر اُنکی زندگی تلخ کی ۔اُنکی سب خدمتیں جو وہ اُن سے کراتے تھے تشدد کی تھیں ۔
15 تب مصر کے بادشاہ نے عبرانی دایئوں سے جن میں ایک کا نام سفرہ اور دوسری کا فوعہ تھا باتیں کیں ۔
16 اور کہا کہ جب عبرانی عورتوں کے تُم بچہ جناو اور اُنکو پتھرکی بیٹھکوںپر بیٹھی دیکھوتو اگر بیٹاہو تو اُسے ما ر ڈالنا اور اگر بیٹی ہو تو وہ جیتی ر ہے ۔
17 لیکن وہ دائیاں خدا سے ڈرتی تھیں ۔ سو اُنہوں نے مصر کے بادشاہ کا حکم نہ مانا بلکہ لڑکوں کو جیتا چھوڑدیتی تھیں ۔
18 پھر مصر کے بادشاہ نے دائیوں کو بلُوا کر اُن سے کہا تم نے ایسا کیوں کیا کہ لڑکوں کو جیتا رہنے دیا ۔
19 ) دایئوں نے فرعون سے کہا عبرانی عورتیں مصری عورتوں کی طرح نہیں ہیں ۔وہ ایسی مضبوط ہو تی ہیں کہ دایئوں کے پہنچنے سے پہلے ہی جن کر فارغ ہو جا تی ہیں ۔
20 ) پس خدا نے دائیوں کا بھلا کیا اور لوگ بڑھے اور بُہت زبردست ہو گئے ۔
21 )اور اس سبب سے کہ دائیاں خدا سے ڈریں اُس نے اُنکے گھر آباد کر دیے ۔
22 ) اورفرعون نے اپنی قوم کے سب لوگوں کو تاکید ا کہا کہ اُن میں جو بیٹا پیدا ہو تم اُسے دریا ماین ڈال دینا اورجوبیٹی ہو اُسے جیتی چھوڑنا۔


باب 2

1 اور لادی کے گھرانے کے ایک شخص نے جا کر لاوی کی نسل کی ایک عورت سے بیاہ کیا ۔
2 وہ عورت حاملہ ہو ئی اور اُسکے بیٹا ہوا اُس نے یہ دیکھ کر کہ بچہ خُوبصورت ہے تین مہینے تک اُسے چھپا کر رکھا ۔
3 اور جب اُسے اور زیادہ چھپا نہ سکی تو اُس نے سر کنڈوں کا ایک ٹوکرا لیا اور اُس پر چکنی مٹی اور رال لگا کر لڑکے کو اُس میں رکھا اور اُسے دریا کے کنارے جھاو میں چھوڑ آئی ۔
4 اور اُسکی بہن دُور کھٹری رہی تاکہ دیکھے کہ اُسکے ساتھ کیا ہو تا ہے ۔
5 اور فرعون کی بیٹی دریا پر غُسل کر نے آئی اور اُسکی سہیلیاں دریا کے کنا رے کنا رے ٹہلنے لگیں ۔تب اُس نے جھاو میں وہ ٹوکرا دیکھ کر اپنی سہیلی کو بھیجا کہ اُسے اُٹھا لائے ۔
6 جب اُس نے اُسے کھولا تو لڑکے کو دیکھا تو وہ بچہ رو رہا تھا ۔ اُسے اُس پر رحم آیا اور کہنے لگی یہ کیسی عبرانی کا بچہ ہے ۔
7 تب اُسکی بہن نے فرعون کی بیٹی سے کہا کیا میں جا کر عبرانی عورتوں میں سے ایک دائی تیرے پاس بُلا لاوں جو تیر ے لئے اس بچے کع دُودھ پلا یا کرے ؟۔
8 فِرعون کی بیٹی نے اُسے کہا جا ۔وہ لڑکی جا کر اُس کی ماں کو بُلا لائی ۔
9 فِرعون کی بیٹی نے اُسے کہا تو اِس بچے کو لے جا کر میرےلیے دُودھ پلا ۔ میں تُجھے تیری اُجرت دیا کرونگی ۔وہ عورت اُس بچے کو لے جا کر دُودھ پلانے لگی ۔
10 جب بچہ کُچھ بڑا ہوا تو وہ اُسے فِرعون کی بیٹی کے پاس لے گئی اور وہ اُسکا بیٹا ٹھہرا اور اُس نے اُس کا نام موسیٰ یہ کہہ کر رکھا کہ میں نے اُسے پانی سے نکالا ۔
11 اِتنے میں جب موسیٰ بڑا ہو تو باہر اپنے بھائیوں کے پاس گیا اور اُنکی مشقتوں پر اُسکی نظر پڑی اور اُس نے دیکھا کی ایک مصری اُسکے ایک عبر انی بھائی کو مار رہا ہے۔
12 پھر اُس نے اِدھر اُدھر نگا ہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کو ئی دُوسرا آدمی نہیں ہے تو اُس مصری کو جان سے مار کر اُسے ریت میں چھپا دیا ۔
13 پھر دُوسرے دن وہ باہر گیا اور دیکھا کہ وہ عبرانی آپس مین مار پیٹ کر رہے ہیں ۔ تب اُس نے اُسے جسکا قصور تھا کہا کہ تُو اپنے ساتھی کو کیوں مارتا ہے ۔
14 اُس نے کہا تجھے کس نے ہم پر حکم یا منصف مقرر کیا ؟کیا جس طرح تُو نے اُس مصر ی کو مار ڈالا مجھے بھی ما ڈالنا چاہتا ہے ؟تب موسیٰیہ سوچ کر ڈرا کہ بلاشک یہ بھید فاش ہو گیا ۔
15 جب فِرعون نے یہ سُنا تو چاہا کہ موسیٰ کو قتل کرے پر موسیٰ فِرعون کے حغور سے بھاگ کر مُلکِ مدیان مین جا بسا ۔ وہاں وہ ایک کُوئیں کے نزدیک بیٹھا تھا ۔
16 اور مدیان کے کا ہن کی سات بیٹیاں تھیں ۔وہ آئیں اور پانی بھر بھر کر کھٹروں میں دالنے لگیں تاکہ اپنے باپ کی بھیڑبکریوں کو لائیں ۔
17 اور گڈرئے آکر اُنکو بھگانے لگے لیکن موسیٰ کھڑا ہوگیااور اُس نے اُ ن کی مدد کی اور اُن کی بھیڑ بکریوں کو پانی پلایا۔
18 اور جب وہ اپنے باپ رعوایل کے پاس لوٹیں تو اُس نے پوچھا کہ آج تم اس قدر جلد کیسے آگئیں؟۔
19 اُنہوں نے کہا ایک مصری نے ہم کو گڈریوں کے ہاتھ سے بچایااور ہمارے بدلے پانی بھر بھر کر بھیڑ بکریوں کو پلایا۔
20 اُس نے اپنی بیٹیوں سے کہا کہ وہ آدمی کہاںہے؟تم اُسے کیوں چھوڑ آئیں؟اُسے بُلا لائوکہ روٹی کھائے۔
21 اور موسیٰ اُس شخص کے ساتھ رہنے کو راضی ہو گیا۔تب اُس نے اپنی بیٹی صضورہ موسیٰ کو بیاہ دی۔
22 اور اُس کے ایک بیٹا ہوا اور موسیٰ نے اُس کا نام جیرسوم یہ کہہ کر رکھا کہ میں اجنبی ملک میں مسافر ہوں۔
23 اور ایک مُدت کے بعد یوں ہو کہ مصر کا بادشاہ مر گیا اور بنی اسرائیل اپنی غلامی کے سبب سے آہ بھرنے لگے اور روئے اور اُنکا رونا جو اُنکی غلامی کے باعث تھا خدا تک پہنچا ۔
24 اور خدا نے اُن کا کراہنا سُنا اور خدا نے اپنے عہد کو جو ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کے ساتھ تھا یاد کیا ۔
25 اور خدا نے بنی اسرائیل پر نظر کی اور اُنکے حال کو معلوم کیا ۔


باب 3

1 اور موسیٰ اپنے سُسر یترو کی جو مِدیان کا کاہن تھا بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور وہ بھیڑ بکریوں کو ہنکاتا ہو ا اُنکو بیابان کی پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ کے نزدیک کے آیا ۔
2 اور خداوند کا ایک فرشتہ جھاڑی میں سے آک کے شُعلہ میں اُس پر ظاہر ہو ۔ اُس نے نگا ہ کی اور کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی میں آگ لگی ہو ئی ہے پر وہ جھاڑی بھسم نہیں ہو تی ۔
3 تب موسیٰ نے کہا کہ میں اب ذرا اُدھر کترا کر اس بڑے منظر کو دیکھوں کہ یہ جھاڑی کیو ں نہیں جل جاتی ہے۔
4 جب خداوند نے دِیکھا کہ وہ دیکھنے کو کترا کر آر ہا ہے تو خدا نے اُسے جھاڑی میں سے پُکارا اور کہا اے موسیٰ!اے موسیٰ !اُس نے کہا میں حاضر ہوں ۔
5 تب اُس نے کہا کہ اِدھر پاس مت آ ۔ اپنے پاوں سے جوتا اُتار کیونکہ جس جگہ تُو کھڑا ہے وہ مقدس زمین ہے ۔
6 پھر اُس نے کہا کہ میں تیرے باپ کا خدا یعنی ابرہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں ۔موسیٰ نے اپنا مُنہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نطر کرنے سے ڈرتا تھا ۔
7 اور خداوند نے کہا کہ میں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں خُوب دِیکھی اور اُنکہ فریاد جو بیگار لینے والوں کے سبب سے ہے سُنی اور میں اُن کے دُکھوں کو جانتا ہو ں ۔
8 اور میں اُترا ہو ں کے اُن کو مصریوں کے ہاتھ سے چُھڑاوں اور اُس مُلک سے نکال کر اُنکو ایک اچھے اور وسیع مُلک میں جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے یعنی کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے مُلک میں پہنچاوں ۔
9 دِیکھ بنی اسرائیل کی فریاد مُجھ تک پہنچی ہے اور میں نے وہ ظلم بھی جو مصر ی اُن پر کرتے ہیں دِیکھا ہے ۔
10 سواب آمیں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہو ں کہ تُو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے ۔
11 موسیٰ نے خدا سے کہا میں کون ہوں جوفرعون کے پاس جاوں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاو ں ؟۔
12 اُس نے کہا میں ضرور تیر ے ساتھ رہونگا اور اِسکا کہ میں نے تُجھے بھیجا ہے تیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ جب تُو اُن لوگوں کو مصر سے نکال لائیگا تو تُم اِس پہاڑ پر خدا کی عبادت کرو گے۔
13 تب موسیٰ نے خدا سے کہا جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر اُنکو کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھے کہیں کہ اُس کا نام کیا ہے ؟ تو میں اُنکو کیا بتاوں ؟۔
14 خدا نے موسیٰ سے کہا میں جو ہو ں سو میں ہوں ۔ سو تُو بنی اسرائیل سے یو ں کہنا کہ میں جو ہو ں نے مجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے ۔
15 پھر خدا نے موسیٰ سے کہا کہ تُوبنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ خدا وند تُمہارے باپ دادا کے خدا ابرہام کے خدا اور اضحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا نے مُجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے ۔ ابد تک میرا یہی نام ہے اور سب نسلوں میں اِسی سے میرا ذکر ہو گا ۔
16 جا کر اسرائیلی بزرگوں ایک جگہ جمع کر اور اُنکو کہہ کہ خداوند تُمہارے باپ دادا کے خدا ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کے خدا نے مُجھے دِکھائی دے کر یہ کہا ہے کہ میں نے تُمکو بھی اور جو کُچھ برتاو تُمہارے ساتھ مصر میں کیا جا رہا ہے اُسے بھی خُوب دِیکھا ہے ۔
17 اور میں نے کہا ہے کہ میں تُمکو مصر کے دُکھ میں سے نکال کر کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے مُلک میں لےچُلونگا جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے ۔
18 اور وہ رتیر ی بات مائینگے اور تُو اِسرائیلی بزرگوں کو ساتھ لے کر مصر کے بادشاہ کے پاس جانا اور اُس سے کہنا کہ خداوند عبرانیوں کے خد اکی ہم سے ملاقات ہوئی ۔ اب تو ہم کو تین دِن کی منزل تک بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خدا کے لئے قُربانی کریں ۔
19 اور میں جانتا ہو ں کہ مصر کا بادشاہ تُمکو نہ یوں جانے دے گا نہ بڑے زور سے ۔
20 سو میں اپنا ہاتھ بڑھاو نگا اور مصر کو اُن سب عجائب سے جو مین اُس میں کرونگا مُصیبت میں ڈالوونگا ۔ اِسکے بعد وہ تُم کو جانے دیگا ۔
21 اور مِیں اُن لوگوں کو مصریوں کی نظر میں عزت بخشونگا اور یو ں ہو گا کہ جب تم نکلو گے تو خالی ہاتھ نہ نکلو گے ۔
22 بلکہ تُمہاری ایک ایک عورت اپنی اپنی پڑوسن سے اور اپنے اپنے گھر کی مہمان سونے چاندی کے زیور اور لباس مانگ لیگی ۔ اِنکو تم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پہناو گے اور مصریو ں کو لُوٹ لو گے


باب 4

1 تب موسیٰ نے جواب دیا لیکن وہ تو میرا یقین ہی نہیں کرنیگے نہ میری بات سُنینگے ۔وہ کہے گے خداوند تُجھے دِکھائی نہیں دیا ۔
2 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیر ے ہاتھ میں کیا ہے ؟اُس نے کہا لاٹھی ۔
3 پھر اُس نے کہا کہ اِسے زمین پر ڈال دے اُس نے اُسے زمین پر ڈالا اور وہ سانپ بن گئی اور موسٰ اُس کے سامنے سے بھا گا ۔
4 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہاتھ بڑھا کر اُسکی دم پکڑ لے (اُس نے ہاتھ بڑھایا اور اُسے پکڑلیا ۔ وہ اُس کے ہاتھ میں لا ٹھی بن گیا )۔
5 تاکہ وہ یقین کریں کہ خداوند اُن کے با پ دادا کا خدا ابرہام کا خدا اور یعقوب کا خدا تُجھکو دِکھائی دِیا ۔
6 پھر خداوند نے اُسے یہ بھی کہا کہ تُو اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھکر ڈھانک لے ۔ اُس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لیا اور جب اُس نے اُسے نکالکر دِیکھا تو اُس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا ۔
7 اُس نے کہا کہ تُو اپنا ہاتھ پھر اپنے سینہ پر ر کھ کر ڈھانک لے ( اُس نے پھر اُسے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لیا ۔ جب اُس نے اُسے باہر نکال کر دِکھا تو وہ پھر اُسے باقی جسم کی مانند ہو گیا )۔
8 اور یو ں ہو گا کہ اگر وہ تیرا یقین نہ کر یں اور پہلے مُعجزہ کو بھی نہ مانیں تو وہ دُوسرے مُعجزے کے سبب سے یقین کر نیگے ۔
9 اور اگر وہ اِن دونوں مُعجزوں کے سبب سے یقین نہ کریں اور تیر ی بات نہ سُنیں توتُو دریا کا پانی لے کر خشک جگہ پر چھڑک دِینا اور وہ پانی جو تُو دریا سے لے گا خشک زمین پر خُون ہو جائیگا ۔
10 تب موسیٰ نے خداوند سے کہا اے خداوند ! میں فصیح نہیں ۔ نہ تو پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تُو نے اپنے بند ے سے کلام کیا بلکہ رُک رُک کر بولتا ہو ں اور میر ی زبان کُندہے ۔
11 تب خدا وند نے اُسے کہا کہ آدمی کا مُنہ کس نے بنایا ہے ؟ اور کون گونگا یا بہرا یا بینایا اندھا کر تا ہے ؟ کیا میں ہی جو خداوند ہو ں یہ نہیں کرتا ؟۔
12 سو اب تُو جا اور میں تیری زبان کا ذمہ لیتا ہو ن اور تجھے سیکھا تا رہونگا کہ تُو کیا کیا کہے ۔
13 تب اُس نے کہا کہ اے خدا وند میں تیری منت کرتا ہو ں کسی اور کے ہاتھ سے جِسے تُو چاہے یہ پیغام بھیج ۔
14 تب خداوند کا قہر موسیٰ پر بھڑکا اور اُس نے کہا کیا لادیو ں میں سے ہارون تیرا بھائی نہیں ہے ؟ میں جانتا ہوں کہ وہ فصیح ہے اور وہ تیری ملاقات کو بھی آ رہا ہے اور تجھے دِیکھ کر دل میں خو ش ہو گا ۔
15 سو تُو اُسے سب کُچھ بتانا اور یہ سب با تیں اُ سے سکھاتا اور میںتیر ی اوراُس زبان کا ذمہ لیتا ہو ں اور تمکو سکھاتا رہونگا کہ تم کیا کیا کرو ۔
16 اور وہ تیری طرف سے لوگوں سے باتیں کریگا اور وہ تیرا مُنہ بنیگا اور تُو اُ س کے لئے گویا خدا ہو گا ۔
17 اور تُو اِس لاٹھی کو اپنے ہاتھ میں لئے جا اور اِسی سے اِن مُعجزوں کو دِکھانا ۔
18 تب موسٰی لوٹ کر اپنے سُسر یترو کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ مجھےذرا اِجازت دے کہ اپنےبھایئوں کے پاس جو مصر میں ہیں جا وں اور دیکھوں کہ وہ اب تک جیتے ہیں کہ نہیں ۔ یترو نے موسیٰ سے کہا سلامت جا۔
19 اور خداوند نے مِدیان میں موسیٰ سے کہا کہ مصر کو لوٹ جا کیونکہ وہ سب جو تیری جان کے خواہاں تھے مر گئے ۔
20 تب موسیٰ اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں کو لےکر اور اُنکو ایک گدھے پر چڑھا کر مصر کو لوٹا اور موسیٰ نے خدا کی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لے لی ۔
21 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ جب تُو مصر میں پہنچے تو دیکھ وہ سب کرامات جو میں نے تیرے ہاتھ میں رکھی ہیں فِرعون کے آگے دِکھا نا لیکن میں اُس کے دل کو سخت کرونگا اور وہ اُن لوگوں کو جا نے نہیں دیگا ۔
22 اور تُو فِرعون سے کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پہلوٹھا ہے ۔
23 اور میں تُجھے کہہ چکا ہو ں کہ میرے بیٹے کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کریں اور تُو نے اب تک اُسے جانے دینے سے انکار کیا ہے ۔ سو دیکھ میں تیرے بیٹے کوبلکہ تیرے پہلوٹھے کو مار ڈالونگا ۔
24 اور راستہ میں منزل پر خداوند اُسے مِلا اور چاہا کہ اِسے مار ڈالے ۔
25 تب صفورہ نے چقمق کا ایک پتھر لے کر اپنے بیٹے کی کھلڑی کاٹ ڈالی اور اُسے موسیٰ کے پاوں پر پھینک کر کہا تُو بیشک میرے لئے خُونی دُلہا ٹھہرا ۔
26 تب اُس نے اُسے چھوڑ دیا ۔ پس اُس نے کہا کہ ختنہ کے سبب سے تُو خُونی دُلہا ہے ۔
27 اور خداوند نے ہارُون سے کہا کہ بیابان میں جا کر موسیٰ سے مُلا قات کر ۔ وہ گیا اور خدا کے پہاڑ پر اُس سے مِلا اور اُسے بوسہ دیا ۔
28 اور موسیٰ نے ہارُون کو بتا یا کہ خدا نے کیا کیا با تیں کہہ کر اُسے بھیجا اور کون کون سے مُعجزے دِکھانے کا اُسے حُکم د یا ہے ۔
29 تب موسیٰ اور ہارُون نے جا کر بنی اسرائیل کے سب بزرگوں کو ایک جگہ جمع کیا ۔
30 اور ہارُون نے سب باتیں جو خداوند نے موسیٰ سے کہی تھین اُن کو بتائیں اور لوگوں کے سامنے مُعجزے کئے ۔
31 تب لوگوں نے اُن کا یقین کیا اور یہ سُن کر خداوند نے بنی اسرائیل کی خبر لی اور اُنکے دُکھوں پر نظر کی اُنہوں نے اپنے سر جُھکا کر سجدہ کیا ۔



باب 5


1 اِس کے بعد موسیٰ اور ہارُون نے جا کر فِرعون سے کہا کہ خداوند اِسرائیل کا خدا یُوں فرماتا ہے کہ میرے لوگو ں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میرے لئے عید کریں ۔
2 فِرعون نے کہ خداوند کون ہے کہ میں اُسکی بات کو مان کر بنی اِسرائیل کو جانے دُوں ؟میں خداوند کو نہیں جانتا اور میں بنی اسرئیل کو جانے بھی نہیں دُونگا ۔
3 تب اُنہوں نے کہا کہ عبرانیوں کا خدا ہم سے ملا ہے سو ہم کو اجازت دے کہ ہم تین دن کی منزل بیابان میں جا کر خداوند اپنے خدا کے لئے قُربانی کریں تانہ ہو کہ وہ ہم میں وبا بھیج دے یا ہمکو تلوار سے مروا دے۔
4 تب مصر کے بادشاہ نے اُن کو کہا اے موسیٰ اور ہارون تم کیوں اُن لوگوں کو اُن کے کام سے چھڑواتے ہو؟تم جاکر اپنے اپنے بوجھ کو اُٹھائو۔
5 اور فرعون نے یہ بھی کہا دیکھو یہ لوگ اس ملک میں بہت ہو گے ہیں اور تم اُن کو اُن کے کام سے بٹھاتے ہو۔
6 اور اُسی دن فرعون بیگار لینے والوں اور سرداروں کو جو لوگوں پر تھے حکم کیا۔
7 کہ اب اگے کو تم اُن لوگوں کو اینٹیں بنانے کےلئے بھُس نہ دیناجیسے اب تک دیتے رہے۔وہ خود ہی جا کر اپنے لئے بُھس بٹوریں۔
8 اور اُن سے اُتنی ہی اینٹیں بنوانا جتنی وہ اب تک بناتے آئے ہیں۔تم اُس میں سے کچھ نہ گھٹانا کیونکہ وہ کاہل ہو گئے ہیں۔اسی لئے چلا چلا کر کہتے ہیں کہ ہم کو جانے دوکہ ہم اپنے خدا کے لئے قربانی کریں۔
9 سو ان سے زیادہ سخت محنت لی جائے تا کہ کام میں مشغُول رہےاور جھوٹی باتوں سے دل نہ لگائیں۔
10 تب بیگار لینے والوں اور سرداروں نے جو لوگوں پر تھے جا کر اُن سے کہا کہ فرعون کہتا ہےمیں تم کو بھُس نہیں دینے کا۔
11 تم خود ہی جائو اور جہاں کہیں تم کو بھُس ملے وہاں سے لائو کیونکہ تمارا کام کچھ بھی گھٹایا نہیں جائے گا۔
12 چنانچہ وہ لوگ تمام مصر میں مارے مارے پھرنے لگے کہ بھُس کے عوض کُھونٹی جمع کریں۔
13 اور ایک بیگار لینے والے یہ کہہ کر جلدی کراتے تھے کہ تم اپنا روز کا کام جیسے بُھس پا کر کرتے تھے اب بھی کرو۔
14 اور بنی اسرائیل میں سے جو جو فرُعون کے بیگار لینے والوں کی طرف سے اُن لوگوں پر سردار مقرر ہوے تھے اُن پر مار پڑی اور اُن سے پوچھا گیا کہ کیا سبب ہے کہ تم نے پہلے کی طرح آج اور کل پوری پوری اینٹیں نہیں بنوائیں۔
15 تب اُن سرداروں نے جو بنی اسرائیل میں سے مقرر ہوے تھے فرُعون کے آگے جا کر فریاد کی اور کہا کہ تُو اپنے خادموں سے ایسا سلوک کیوں کر تا ہے۔
16 تیرے خادموں کوبھُس تو دیا نہیں جاتا اور وہ ہم سے کہتے رہتے ہیں کہ اینٹیں بنائواور دیکھ تیرے خادم مار بھی کھاتے ہیں پر قصور تیرے لوگوں کا ہے ۔
17 اُس نے کہا تم سب کاہل ہوکاہل۔ اسی لئے تم کہتے ہو کہ ہم کو جانے دے کہ خداوند کے لئے قربانی کریں۔
18 سو اب تم جاو کام کرو کیونکہ بُھس تم کو ملے گااور اینٹوں کو تمہیں اسی حساب سے دینا پڑے گا ۔
19 جب بنی اسرائیل کہ سرداروں سے یہ کہا گیا کہ تم اپنی اینٹوں اور روزمرہّ کہ کام میں کچھ بھی کمی نہیں کرنے پائو گے تو وہ جان گئے کہ وہ کیسے وبال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
20 جب وہ فرعون کے پاس سے نکلے آ رہے تھے تو اُنکو موسیٰ اور ہارون ملاقات کےلئے راستہ پر کھڑے ملے۔
21 تب اُنھوں نے اُن سے کہہ کہ خداوند ہی دیکھےاور تمہارا انصاف کرے کیونکہ تم نےہم کو فرُعون اور اُس کے خادموں کی نگاہ میں ایسا گھِنونا کیا ہے کہ ہمارے قتل کے لئے اُن کے ہاتھ میں تلوار دے دی ہے۔
22 تب موسیٰ خداوند کے پاس لوٹ کر گیا اورکہا کہ اے خداوند تُو نے اُن لوگوں کو کیوں دُکھ میں ڈالا اور مجھے کیو ں بھیجا۔
23 کیو نکہ جب سے میں فرُعون کے پاس تیر ے نام سے باتیں کرنے گیا اُس نے اُن لوگوں سے برائی ہی برائی کی اور تُو نے اپنے لوگوں کو ذرا بھی رہائی نہ بخشی ۔


باب 6

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اب تُو دِیکھیےگا کہ میں فِرعون کے ساتھ کیا کرتا ہوں ۔ تب وہ زور آور ہاتھ کے سبب سے اُنکو جانے دِیگا اور زورآور ہاتھ ہی کے سبب سے وہ اُنکو اپنے مُلک سے نکال دے گا ۔
2 پھر خدا نے موسیٰ سے کہا میں خداوند ہوں ۔
3 اور میں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کو خدا یِ قادرِمُطلق کے طور پر دِکھائی دیا لیکن اپنے یہوواہ نام سے اُن پر ظاہر نہ ہو ا ۔
4 اور میں نے اُن کے ساتھ اپنا عہد بھی باندھا ہے کہ مُلکِ کعنان جو اُنکی مُسافرت کا مُلک تھا اور جس میں وہ پردیسی تھے اُنکو دُونگا ۔
5 اور میں نے بنی اسرائیل کے کراہنے کو بھی سُن کر جنکو مصریوں نے غلامی میں رکھ چھوڑ ا ہے اپنے اُس عہد کو یاد کیا ہے ۔
6 سُو تُو بنی اسرائیل سے کہہ کہ میں خداوند ہوں اور میں تُمکو مصریوں کے بوجھوں کے نیچے سے نکال لُونگا ۔اور میں تُمکو اُنکی غُلامی سے آزاد کرونگا اور میں اپنا ہاتھ بڑھا کر اور اُنکو بڑی بڑی سزائیں دیکر تُمکو رہائی دُونگا ۔
7 اور میں تُمکو لےلُونگا کہ میری قوم بن جاؤ اور میں تُمہارا خدا ہونگا اور تُم جان لُوں گے کہ میں خداوند تُمہارا خدا ہوں جو تم کو مصریوں کے بوجھوں کے نیچے سے نکالتا ہوں ۔
8 اور جس مُلک کو ابراہام اور اضحاق اور یعقوب کو دینے کی قسم میں نے کھائی تھی اُس مین تم کو پہنچا کر اُسے میراث کر دُونگا خداوند میں ہوں ۔
9 اور موسیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ بایتں سُنا دی پر اُنہوں نے دل کی کڑھن اور غُلامی کی سختی کے سبب سے موسیٰ کی بات نہ سُنی ۔
10 پھر خداوند نے موسیٰ کو فرمایا ۔
11 کہ جا کر مصر کے بادشاہ فِرعون سے کہہ کہ بنی اسرائیل کو اپنے مُلک میں سے جانے دے ۔
12 موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ دِیکھ بنی اسرائیل نے تو میری سُنی نہیں ۔پس میں جو نامختُون ہونٹ رکھتا ہو ں فِرعون میری کیونکر سُنیگا ؟۔
13 تب خداوند نے موسیٰ اور ہارُون کو بنی اسرائیل اور مصر کے بادشاہ کے حق میں اِس مضمون کا حُکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو مُلِک مصر سے نکال لے جائیں ۔
14 اُنکے آبائی خاندانوں کے سرداریہ تھے رُوبن جو اسرائیل کا پہلوٹھا تھا ۔ اُسکے بیٹے حنوک اور فلّواور حسرون اور کرمی تھے ۔ یہ رُوبن کے گھرانے تھے ۔
15 بنی شمعون یہ تھے ۔ یموئیل اور یمین اور اُہد اور یکین اور صحرا اور ساؤل جو ایک کنعانی عورت سے پیدا ہوا تھا ۔یہ شمعون کے گھرانے تھے ۔
16 اور بنی لاوی جن سے اُنکی نسل چلی اُنکے نام یہ ہیں ۔ جیرسون اور قہات اور مراری ۔اور لاوی کی عمر ایک سو سینتیس برس کی ہوئی ۔
17 بنی جیرسون لبِنی اور سمعی تھے ۔ اِن ہی سے اِنکے خاندان چلے ۔
18 اور بنی قہات عمرام اور اضہار ا ور خُبرون اور عُزِئیل تھے اور قہات کی عُمر ایک سو تینتیس بر س کی ہو ئی ۔
19 اور بنی مراری محلی اور موشی تھے ۔لاویوں کے گھرانے جن سے اُنکی نسل چلی یہی تھے ۔
20 اور عمرام نے اپنے باپ کی بہن یوکبد سے بیاہ کیا ۔ اُس عورت کے اُس سے ہارُون اور موسیٰ پیدا ہوئے اور عمرام کی عُمر ایک سو سینتیس برس کی ہوئی ۔
21 بنی اضہار قورح اور نفج اور زکری تھے ۔
22 اور بنی عِزئیل یسائیل اور الصفن اور ستری تھے۔
23 اور ہارُون نے نحسون کی بہن عمینداب کی بیٹی الیسبع سے بیاہ کیا ۔اُس سے ندب اور ابہیو اور الیعزر اور اتمِرپیدا ہوئے ۔
24 اور بنی قورح اشیر اور القنہ اور ابیاسف تھے اور یہ قورچوں کے گھرانے تھے ۔
25 اور ہارُون کے بیٹے الیعزر نے فوطیئل کی بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ بیاہ کیا ۔ اُس سے فینحاس پیدا ہوا ۔ لاویوں کے باپ دادا کے گھرانوں کے سردار جن سے ان کے خاندان چلے یہی تھے ۔
26 یہ وہ پارون اور موسیٰ ہیں جن کو خداوند نے فِرمایا کہ بنی اسرائیل کو اُنکے جتھوں کے مُطابق مُلک مصر سے نکال لے جاؤ ۔
27 یہ وہ ہیں جنہوں نے مصر کے بادشاہ فِرعون سے کہا کہ ہم بنی اسرائیل کو مصر سے نکا ل لے جائینگے ۔ یہ وہی موسیٰ اور ہارون ہیں ۔
28 جب خداوند نے مُلک مصر میں موسیٰ سے باتیں کیں تو یوں ہوا ۔
29 کہ خداوند نے موسیٰ سے کہا میں خداوند ہوں ۔ جو کُچھ میں تُجھے کہوں تُو اُسے مصر کے باد شاہ فِرعون سے کہنا ۔
30 موسیٰ نے خداوند سے کہا دِیکھ میرے تو ہونٹو ں کا ختنہ نہیں ہو ا ۔ فِرعون کیونکر میری سُنیگا ؟۔


باب 7

1 پھر خدا وند نے موسیٰ سے کہا دِیکھ میں نے تجھے فِرعون کے لئے گویا خدا ٹھہریا اور تیرا بھائی ہارُون تیرا پیغمبر ہو گا ۔
2 جو جو حُکم میں تجھےدُوں سو تُو کہنا اور تیرا بھائی ہارون اُسے فِرعون سے کہے کہ وہ بنی اسرائیل کو انپے مُلک سے جانے دے ۔
3 اور میں فِرعون کے دل کو سخت کرونگا اور اپنے نشان اور عجائب مُلک مصر میں کثرت سے دِکھا ؤنگا ۔
4 تو بھی فِرعون تُمہاری نہ سُنیگا ۔ تب میں مصر کو ہاتھ لگاؤنگا اور اُسے بڑی بڑی سزائیں دے کر اپنے لوگوں بنی اسرائیل کے جتھوں کو مُلک مصر سے نکال لاؤنگا ۔
5 اور میں جب مصر پر ہاتھ چلاؤنگا اور بنی اسرائیل کو ان میں سے نکال لاؤنگا تب مصری جانینگے کہ میں کاخداوند ہوں ۔
6 موسیٰ اور ہارون نے جیسا خداوند نے اُن کو حُکم دیا ویسا ہی کیا ۔
7 اور موسیٰ اِسی برس اور ہارون تراسی برس کا تھا جب وہ فرعون سے ہم کلام ہوئے ۔
8 اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا ۔
9 کہ جب فرعون تُم کو کہے کہ اپنا معجزہ دکھاؤ تو ہارون سے کہنا کہ اپنی لاٹھی کو لے کر فرعون کہ سامنے ڈال دے تاکہ وہ سانپ بن جائے ۔
10 اور موسیٰ اور ہارون فرعون کہ پاس گئے اور انہوں نے خداوند کے حکم کہ مطابق کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی فرعون اور اُس کہ خادموں کہ سامنے ڈال دی اور وہ سانپ بن گئی ۔
11 تب فرعو ن نے بھی داناؤں اور جادوگروں کو بلوایا اور مصر کہ جادو گروں نے بھی اپنی جادو سے ایسا ہی کیا ۔
12 کیونکہ انہوں نے بھی اپنی اپنی لاٹھی سامنے ڈالی اور وہ سانپ بن گیئں لیکن ہارون کی لاٹھی اُن کی لاٹھیوں کو نگل گئی ۔
13 اور فرعون کا دل سخت ہوگیا اور جیسا خداوند نے کہدیا تھا اُس نے اُن کی نہ سنُی۔
14 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ فرعون کا دل مُتصّب ہے ۔وہ ان لوگوں کو جانے نہیں دیتا ۔
15 اب تُو صُبح کو فرعون کہ پاس جا۔وہ دریا پر جائیگا۔سو تُو لب دریا اُس کی ملاقات کے لئے کھڑا رہنا اور جو لاٹھی سانپ بن گئی تھی اُسے ہاتھ میں لے لینا۔
16 اور اُس سے کہناکہ خداوند عبرانیوں کہ خدا نے مجھے تیرے پاس یہ کہنے کو بھیجا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میری عبادت کریںاور اب تک تُو نے کُچھ سماعت نہیں کی ۔
17 پس خداوند یُوں فرماتا ہے کہ تُو اِسی سے جان لیگا کہ میں خداوند ہوں۔دیکھ میَں اپنے ہاتھ کی لاٹھی کو دریا کہ پانی پر مارونگا اور وہ خون ہو جائیگا ۔
18 اور جو مچھلیاں دریا میں ہیں مر جائینگی اور دریا سے تعفن اُٹھیگا اور مصریوں کو دریا کا پانی پینے سے کر اہیت ہو گی ۔
19 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی لے اور مصر میں جتنا پانی ہے یعنی دریا ؤں اور نہرؤں اور جھیلوں اور تالابوں پر اپنا ہاتھ بڑھا تاکہ وہ کُون بن جائیں اور سار ےمُلک مصر میں پتھر اور لکڑی کے برتنوں میں بھی خُون ہی خُون ہو گا ۔
20 اور موسیٰ اور ہارون نے خداوند کے حُکم کے مُطابق کیا ۔ اُس نے لاٹھی اُٹھا کر اُسے فِرعون اور اُس کے خادموں کے سامنے دریا کے پانی پر مارا اور دریا کا پانی سب خُون ہو گیا ۔
21 اور دریا کی مچھلیاں مر گئیں اور دریا سے تعفن اُٹھنے لگا اور مصر ی دریا کا پانی پی نہ سکے اور تمام مُلک مصر میں خُون ہی خُون ہو گیا ۔
22 تب مصر کے جادُوگرؤں نے بھی اپنے جادُو سے ایسا ہی کیا پر فِرعون کا دل سخت ہو گیا اور جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اُس نے اُن کی نہ سُنی ۔
23 اور فِرعون لَوٹکر اپنے گھر چلا گیا اور اُسکے دل پر کُچھ اثر نہ ہوا ۔
24 اور سب مصریوں نے دریا کے آس پاس پینے کے پانی کے لئے کُوئیں کھودڈالے کیونکہ وہ دریا کا پانی نہیں پی سکتے تھے ۔
25 اور جب سے خداوند نے دریا کو مارا اُسکے بعد سات دن گُزرے۔


باب 8

1 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ فِرعون کے پاس جا اور اُس سے کہہ خداوند یُوں فِرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کریں۔
2 اور اگر تُو اُن کو جانے نہ دے گا تو دِیکھ میں تیرے مُلک کو مینڈکوں سے مارُونگا ۔
3 اور دریا بےشمار مینڈکوں سے بھر جائے گا اور وہ آ کر تیرے گھر میں اور تیر ی آرام گاہ میں اور تیرے پلنگ پر اور تیرے ملازموں کے گھروں میں اور تیری رعنیت پر اور تیرے تنوروں اور آٹا گوندھنے کے لگنوں میں گھستے پھرینگے ۔
4 اور تُجھ پر اور تیری رعیت اور تیرے نوکروں پر چڑھ جائینگے ۔
5 اور خداوند نے موسیٰ کو فِرمایا کہ ہارُون سے کہہ اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ دریا اور نہروں اور جھیلوں پر بڑھا اور مینڈکوں کو مُلِک مصر پر چڑھا لا ۔
6 چنانچہ جتنا پانی مصر میں تھا اُس پر ہارون نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور مینڈک چڑھ آے اور مُلِک مصر کو ڈھانک لیا ۔
7 اور جادُوگروں نے بھی اپنے جادُو سے ایسا ہی کیا اور مُلِک مصر پر مینڈک چڑھا لائے ۔
8 تب فِرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بُلوا کر کہا کہ خداوند سے شفاعت کرو کہ مینڈکوں کو مُجھ سے اور میری رعیت سے دفع کرے اور میں اُن لوگوں کو جانے دُونگا تاکہ وہ خداوند کے لئے قُربانی کریں ۔
9 موسیٰ نے فِرعون سے کہا تجھے مجھ پر یہی فخر رہے میں تیرے اور تیرے نوکروں اور تیری رعیت کے واسطے کب کے لئے شفاعت کروں کہ مینڈک تجھ سے اور تیرے گھروں سے دفع ہوں اور دریا ہی میں رہیں ۔
10 اُس نے کہا کل کے لئے ۔ تب اُس نے کہا تیرے ہی کہنے کے مطابق ہو گا تا کہ تُو جانے کے خداوند ہمارے خدا کی مانند کوئی نہیں ۔
11 اور مینڈک تجھ سے اور تیرے گھروں سے اور تیرے نوکروں سے اور تیری رعیت سے دُور ہو کر دریا ہی میں رہا کریں گے ۔
12 پھر موسیٰ اور فِرعون کے پاس سے نکل کر چلے گے اور موسیٰ نے خداوند سے مینڈکوں کے بارے میں جو اُس نے فِرعون پر بھیجے تھ فِریاد کی ۔
13 اور خداوند نے موسیٰ کی درخواست کے موافق کیا اور سب گھروں اور صحنوں اور کھیتوں کے مینڈک مر گئے ۔
14 اور لوگوں نے اُن کو جمع کر کر کے اُن کے ڈھر لگا دیے اور زمین سے بدبُو آنے لگی ۔
15 پر جب فِرعون نے دِیکھا کہ چھٹکاکر مل گیا تو اُس نے اپنا دل سخت کر لیا اور جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اُن کی نہ سُنی ۔
16 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی بڑھا کر زمین کی گرد کو مار تاکہ وہ تمام مُلک مصر میں جُوئیں بن جائے ۔
17 اُنہوں نے ایسا ہی کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور زمین کی گرد کو مارا اور انسان اور حیوان پر جُو ئیں ہوگئیں اور تمام مُلک مصر میں زمین کی ساری گرد جُوئیں بن گئی ۔
18 اور جادُوگروں نے کوشش کی کہ اپنے جادُو سے جُوئیں پیدا کریں پر نہ کر سکے اور انسان اور حیوان دونوں پر جُوئیں چڑھی رہیں ۔
19 تب جادُوگروں نے فِرعون سے کہا کہ یہ خداکا کام ہے پر فِرعون کا دل سخت ہو گیا اور جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اُس نے ان کی نہ سُنی ۔
20 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا صبح سویرے اُٹھ کر فِرعون کے آگے جا کھڑا ہو نا ۔ وہ دریا پر آئے گا ۔ سو تُو اُس سے کہنا خداوند یُوں فِرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے کہ وہ میری عبادت کریں ۔
21 ورنہ اگر تُو اُن کو جانے نہ دے گا تو دِیکھ میں تجھ پر اور تیرے نوکروں اور تیری رعیت پر اور تیرے گروں میں مچھروں کے غول کے غول بھیجونگا اور مصریوں کے گھر اور تمام زمین جہاں جہاں وہ ہیں مچھروں کے غولوں سے بھر جائیگی ۔
22 اور میں اُس دن جشن کے علاقہ کو جس میں میرے لوگ رہتے ہیں جدا کر ونگا اور اُس میں مچھروں کے غول نہ ہو نگےتا کہ تُو جان لے کہ دنیا میں خداوند میں ہی ہوں۔
23 اور میں اپنے لوگوں اور تیرے لوگوں میں فرق کرونگا اور کل تک یہ نشان ظہور میں آئےگا۔
24 چنانچہ خداوند نے ایسا ہی کیا اور فرعون کے گھر اور اُ س کے نوکرں کے گھروں اور سارے ملک مصر میں مچھروں کے غول کے غول بھر گےاور اُن مچھروں کے غولوں کے سبب سے ملک کا ناس ہو گیا۔
25 تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلوا کر کہا کہ تم جائو اور اپنے خدا کےلئے اسی ملک میں قربانی کرو ۔
26 مویٰ نے کہا ایسا کرنا مناسب نہیں کیونکہ ہم خداوند اپنےخدا کےلئے اُس چیز کی قربانی کریں گے جس چیز سے مصری نفرت کرتے ہیں۔سو اگر ہم مصریوں کی آنکھوں کے آگے اُس چیز کی قربانی کریں جس سے وہ نفرت رکھتے ہیں تو کیا وہ ہم کو سنگسار نہ کر ڈالینگے۔
27 پس ہم تین دن کی راہ بیابان میں جا کر خداوند اپنے خدا کےلئے جیسا وہ ہم کو حکم دے گاقربانی کریں گے۔
28 فرُعون نے کہا میں تم کو جانے دونگا تا کہ تم خداوند اپنے خدا کےلئے بیابان میں قربانی کرولیکن تم بہت دور مت جانااور میرے لئے شفاعت کرنا۔
29 موسیٰ نے کہا دیکھ میں تیرے پاس سے جاکر خداوند سے شفاعت کرونگا کہ مچھروں کے غول فرُعون اوراُس کے نوکروں اور اُس کی رعیّت کے پاس سے کل ہی دور ہو جائے فقط اتنا ہو کہ فرعون آگے کو دُعا کر کہ لوگوں کو خداوند کے لئے قربانی کرنے کو جانےدینے سے انکار نہ کر دے۔
30 اور موسیٰ نے فرعون کے پاس جا کر خداوند سے شفاعت کی ۔
31 خداوند نے موسیٰ کی درخواست کے موافق کیا اور اُس نے مچھروں کے غولوں کو فرعون اور اُس کے نوکروں اور اُس کی رعّیت کے پاس سے دور کر دیا یہاں تک کے کہ ایک بھی باقی نہ رہا۔
32 پر فرعون نے اس بار بھی اپنا دل سخت کر لیا اور اُن لوگوں کو جانے نہ دیا۔


باب 9

1 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا فرعون کے پاس جا کر اُس سے کہہ کہ خداوند عبرانیوں کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تا کہ وہ میری عبادت کریں ۔
2 کیونکہ اگر تُو انکار کرے اور اُن کو جانے نہ دے اور اب بھی اُن کو روکے رکھے ۔
3 تو دیکھ خداوند کا ہا تھ تیرے چوپایوں پر جو کھیتوں میں ہیں یعنی گھوڑوں ،گدھوں،اونٹوں ،گائے بیلوں اور بھیڑ بکریوں پر ایسا پڑے گا کہ اُن میں بڑی بھاری مری پھیل جایئگی۔
4 خداوند اسرائیل کے چوپایوں کو مصریوں کے چوپایوں سے جُدا کرے گا اور جوبنی اسرائیل کے ہے اُن میں سے ایک بھی نہیں مرے گا۔
5 اور خداوند نے ایک وقت مقرر کر دیا اور بتا دیا کہ کل خداوند اس ملک میں یہی کام کرے گا ۔
6 اور خداوند نے دوسرے دن ایسا ہی کیا اور مصریوں کہ سب چوپائے مر گئےلیکن بنی اسرائیل کے چوپایوں میں سے ایک بھی نہ مرا۔
7 چنانچہ فرعون نے آدمی بھیجے تو معلوم ہوا کہ اسرائیلیوں کے چوپایوں میں سے ایک بھی نہیں مرا ہےلیکن فرعون کا دل متّصب تھا اور اُس نے لوگوں کو جانے نہ دیا۔
8 اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ تم دونوں بھّٹی کہ راکھ اپنی مٹھیوں میں لےلواور موسیٰ اُسے فرعون کے سامنے آسمان کی طرف اُڑا دے۔
9 اور وہ سارے ملک مصر میں باریک گرد ہو کر مصر کے آدمیوں اور جانوروں کے جسم پر پھوڑے اور پھپولےبن جائے گی۔
10 سو وہ بھٹّی کی راکھ لے کر فرعون کے آگے جا کھڑے ہوئے اور موسیٰ نے اُسے آسمان کی طرف اُڑا دیا اور وہ آدمیوں اور جانوروں کے جسم پر پھوڑے اور پھپولے بن گئی۔
11 اور جادوگر پھوڑوں کے سبب سےموسیٰ کے آگے کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ جادو گروں اور سب مصریوں کے پھوڑے نکلے ہوے تھے۔
12 اور خداوند نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا اور اُس نے جیسا خداوند نے موسیٰ سے کہہ دیا تھا اُن کی نہ سُنی ۔
13 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہہ کہ صبح سویرے اُتھ کر فرعون کے آگے جا کھٹرا ہو اور اُسے کہہ کہ خداوند عبرانیوں کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کرے ۔
14 کیونکہ میں اب کی بار اپنی سب ملائیں تیرے دل اورتیر ے نوکروں اور تیری رعیّت پرنازل کرونگاتا کہ تُو جان لے کہ تمام دُنیا میں میری مانند کوئی نہیں ہے۔
15 اور میں نے تو ابھی ہاتھ بڑھا کر تجھے اور تیری رعیّت کو وبا سے مارا ہوتا اور تُو زمین پر سے ہلاک ہو جاتا ۔
16 پر میں نے تجھے فی الحقیقت اسلئے قائم رکھا ہے کہ اپنی قوت تجھے دکھائوں تا کہ میرا نام ساری دُنیا میں مشہور ہو جائے۔
17 کیا تُو اب بھی میرے لوگوں کے مقابلہ میں تکّبر کرتا ہے کہ اُن کو جانے نہیں دیتا۔
18 دیکھ میں کل سے اسی وقت ایسے بڑے بڑے اولے برساوُنگا جو مصر میں جب سے اُس کی بنیاد ڈالی گئی آج تک نہیں پڑے۔
19 پس آدمی بھیج کر اپنے چوپایوں کو اور جو کچھ تیرا مال کھیتوں میں ہےاُس کو اندر کر لے کیونکہ جتنے آدمی اور جانور میدان میں ہونگے اور گھر میں نہیں پہنچائے جائیں گے اُن پر اولے پڑے گے اور وہ ہلاک ہو جائیں گے۔
20 سو فرعون کہ خادموں میں جوجو خداوند کے کلام سے ڈرتا تھا وہ اپنے نوکروں اور چوپایوں کوگھر میں بھگا لے آیا۔
21 اور جنہوں نے خداوند کے کلام کا لحاظ نہ کیا انھوں نے اپنے نوکروں اور چوپایوں کو میدان میں رہنے دیا۔
22 اور خداوند نے موسیٰ سے کہہ کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا تاکہ سب ملک مصر میں نسان اور حیوان کھیت کی سبزی پر جو ملک مصر میں ہےاولے گریں۔
23 اور موسیٰ نے اپنی لاٹھی آسمان کی طرف اُٹھائی اور خداوند نے رعد اور اولے بھیجےاور آگ زمین تک آنے لگی اور خداوند نے ملک مصر پراولے برسائے۔
24 پس اولے گرے اوراولوں کے ساتھ آگ ملی ہوئی تھی اور وہ اولے ایسے بھاری تھے جب سے مصری قوم آباد ہوئی ایسے اولے ملک میں کبھی نہیں پڑے تھے۔
25 اور اولوں نے سارے ملک مصر میں اُن کو جو میدان میں تھے کیا انسان کیا حیوان سب کو مارااور کھیتوں کی ساری سبزی کو بھی اولے مار گئےاور میدان کے بھی سب درختوں کو توڑ ڈالا۔
26 مگر جشن کے علاقہ میں جہاں بنی اسرائیل رہتے تھے اولے نہیں گرے۔
27 تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلوا کر اُن سے کہا کہ میں نے اس دفعہ گناہ کیا۔خداوند صادق ہے اور میری قوم ہم دونوں بدکار ہے۔
28 خداوند سے شفاعت کرو کیونکہ کہ یہ زور کا گرجنا اور اولوں کا برسنا بہت ہو چُکااور میں تم کو جانے دُونگااور تم اب رُکے نہیں رہو گے۔
29 تب موسیٰ نے اُسے کہا کہ میں شہر سے باہر نکلتے ہی خداوند کے آگے ہاتھ پھیلاونگااور رعد موقوف ہوجائے گااور اولے بھی پھر نہ پڑنیگےتاکہ تُو جان لے کہ دُنیا خداوند کی ہی ہے۔
30 لیکن میں جانتا ہوں کہ تُو اور تیرے نوکر اب بھی خداوند خدا سے نہیں ڈرو گے۔
31 پس سُن اور جو کو تُو اولے مار گئےکیونکہ جو کی بالیں نکل چُکی تھی اور سُن میں پھول لگے ہوے تھے۔
32 پر گیہوں اور کٹھیا گیہوں مارے نہ گےکیونکہ وہ بڑھے نہ تھے۔
33 اور موسیٰ نے فرعون کے پاس سے شہر کے باہر جا کر خداوند کے آگے ہاتھ پھیلائے۔سو رعد اور اولے موقوف ہوگئےاور زمین پر بارش تھم گئی۔
34 جب فرعون نے دیکھا کہ مینہ اور اولے اور رعد موقوف ہو گے تو اُس نے اور اُس کے خادموں نے اور زیادہ گناہ کیا کہ اپنا دل سخت کر لیا ۔
35 اور فرعون کا دل سخت ہو گیا اور اُس نے بنی اسرائیل کو جیسا خداوند نے موسیٰ کی معرفت کہہ دیا تھا جانے نہ دیا۔


باب 10

1 اورخداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ فرعون کے پاس جا کیونکہ مَیں ہی نے اُسکے دِل اور اُنکے نوکروں کے دل کو سخت کر دِیا ہے تاکہ مَیں اپنے یہ نِشان اُنکے بیچ دِکھاؤں۔
2 اور تُو اپنے بیٹے اور اپنے پوتے کو میرے نِشان اور وہ کام جو میَں نے مصر میں اُنکے درمیان کئے سُنائے اور تُم جان لو کہ خداوند مَیں ہی ہُوں۔
3 اور مُوسیٰ اور ہارون نے فرعون کے پاس جا کر اُس سے کہا کہ خُداوند عبرانیوں کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ تُو کب تک میرے سامنے نِیچا بننے سے اِنکار کریگا؟میرے لوگوں کو جانےدے کہ وہ میری عِبادت کریں۔
4 ورنہ اگر تُو میرے لوگوں کو جانے نہ دیگا تو دیکھ کل میں تیرے مُلک میں ٹِڈیاں لے آؤنگا۔
5 اور وہ زمین کی سطح کو اَیسا ڈھانک لینگی کہ کوئی زمین کو دیکھ بھی نہ سکیگا اور تُمہارا جو کُچھ اولوں سے بچ رہا ہے وہ اُسے کھا جائینگی اور تُمہارے جتنے درخت مَیدان میں لگے ہیں اُنکو بھی چٹ کر جائینگی ۔
6 اور وہ تیرے اور تیرے نوکروں بلکہ سب مصریوں کے گھروں میں بھر جائینگی اور اَیسا تیرے آباواجداد نے جب سے وہ پیدا ہُوئے اُس وقت سے آج تک نہیں دیکھا ہوگا اور وہ نوٹکر فرعون کے پاس سے چلا گیا۔
7 تب فرعون کے نوکر فرعون سے کہنے لگے کہ یہ شخص کب تک ہمارے لِئے پھندا بنا رہیگا ؟اِن لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ خُداوند اپنے خدا کی عبادت کریں ۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ مصر برباد ہوگیا ؟۔
8 تب مُوسیٰ اور ہاروُن فرعون کے پاس پھر بُلالئے گئے اور اُس نے اُنکو کہا کہ جاؤاور خداوند اپنے خدا کی عبادت کرو پر وہ کَون کَون ہیں جائینگے ؟۔
9 مُوسیٰ نے کہا کہ ہم اپنے جوانوں اور بُڈھوں اور اپنے بیٹوں اور بیٹیوں اور اپنی بھیڑ بکریوں اور اپنے گائے بیلوں سمیت جائینگے کیونکہ ہمکو اپنے خُدا کی عِید کر نی ہے ۔
10 تب اُس نے اُنکو کہا کہ خُداوند ہی تُمہارے ساتھ رہے ۔ میں تو ضرور ہی تُمکو بّچوں سمیت جانے دُونگا ۔ خبردار ہو جاؤ ۔ اِس میں تُمہاری خرابی ہے۔
11 نہیں ۔ اَیسا نہیں ہونے پائیگا ۔ سو تُم مرد ہی مرد جاکر خُداوند کی عِبادت کرو کیونکہ تُم یہی چاہتے تھے اور وہ فرعون کے پاس سے نِکال دِئے گئے ۔
12 تب خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ مُلِک مِصر پر اپنا ہاتھ بڑھا تاکہ ٹڈیا ں مُلِک مِصر پر آئیں اور ہر قِسم کی سبزی کو جو اِس مُلک میں اولوں سے بچ رہی ہے چٹ کر جائیں ۔
13 پس موسیٰ نے مُلِک مِصر پر اپنی لاٹھی بڑھائی اور خُداوند نے اُس سارے دِن اور ساری رات پُرواآندھی چلائی اور صبح ہوتے ہوتے پُرواآندھی ٹِڈیاں لے آئی ۔
14 اورٹِڈیاں سارے مُلِک مصر پر چھاگئیں اور وہیں مصر کی حدوُد میں بسیرا کِیا اور اُنکا دَل اَیسا بھاری تھا کہ نہ تو اُن سے پہلے اَیسی ٹِڈیاں کبھی آئیں نہ اُنکے بعد پھر آئینگی ۔
15 کیونکہ اُنہوں نے تمام رُویِ زمین کو ڈھانک لِیا اَیسا کہ مُلک میں اندھیرا ہوگیا اور اُنہوں نے اُس مُلک کی ایک ایک سبزی کو اور درختوں کے میووں کو جواولوں سے بچ گئے تھے چٹ کر لِیا اور مُلِک مصر میں نہ تو کِسی درخت کی نہ کھیت کی کِسی سبزی کی ہریالی باقی رہی۔
16 تب فرعون نے جلد مُوسیٰ اور ہارون کو بُلوا کر کہا کہ میں خُداوند تُمہارے خُدا کا اور تُمہارا گنہگار ہوں ۔
17 سو فقط اِس بار میرا گُناہ بخشو اور خُداوند اپنے خُدا سے شفاعت کرو کہ وہ صِرف اِس مُوت کو مُجھ سے دُور کر دے ۔
18 سو اُس نے فرعون کے پاس سے نکلکر خُداوند سے شفاعت کی ۔
19 اور خُداوند نے بیچھواآندھی بھیجی جو ٹِڈیوں کو اُڑا کر لے گئی اور اُنکو بحِر قُلزم میں ڈالدیا اور مصر کی حُدود میں ایک ٹِڈی بھی باقی نہ رہی ۔
20 پر خُداوند نے فرعون کے دِل کو سخت کر دیا اور اُس نے بنی اِسرائیل کو جانے نہ دِیا ۔
21 پھر خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا تاکہ مُلِک مصر میں تاریکی چھا جائے ۔ اُیسی تاریکی جسے ٹٹول سکیں۔
22 اور مُوسیٰ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھایا اور تین دِن تک سارے مُلک مصر میں گہری تاریکی رہی ۔
23 تین دِن تک نہ تو کسِی نے کسِی کودیکھااور نہ کوئی اپنی جگہ سے ہلا پر سب بنی اسرائیل کے مکانوں میں اُجالا رہا ۔
24 تب فرعون نے مُوسیٰ کو بُلواکر کہاکہ تُم جاؤ اور خُداوند کی عِبادت کرو ۔ فقط اپنی بھیڑ بکریوں اور گائے بَیلوں کو یہیں چھوڑ جاؤ اور جو تُمہارے بال بچے ہیں اُنکو بھی ساتھ لیتے جاؤ ۔
25 مُوسیٰ نے کہا کہ تُجھے ہمکو قُربانیوں اور سوختنی قُربانیوں کے لئے جانور دینے پڑینگے تاکہ ہم خُداوند اپنے خُدا کے آگے قُربانی کریں۔
26 سو ہمارے چوپائے بھی ہمارے ساتھ جائینگے اور اُنکا ایک کُھر تک بھی پیچھے نہیں چھوڑا جائیگا کیونکہ اُن ہی میں سے ہمکو خُداوند اپنے خُدا کی عِبادت کا سامان لینا پڑیگا اور جب تک ہم وہاں پہنچ نہ جائیں ہم نہیں جانتے کہ کیا کیا لیکر ہمکو خُداوند کئی عِبادت کر نی ہوگی ۔
27 لیکن خُداوند نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا اور اُس نے اُنکو جانے ہی نہ دیا ۔
28 اور فرعون نے اُسے کہا میرے سامنے سے چلاجا اور ہوشیار رہ ۔ پھر میرا مُنہ دیکھنے کو مت آنا کیونکہ جس دِن تُو نے میرا منہ دیکھا تُو مارا جائیگا ۔
29 تب مُوسیٰ نے کہا کہ تُو نے ٹھیک کہا ہے ۔ میں پھر تیرا مُنہ کبھی نہیں دیکھُونگا۔


باب 11

1 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ میں فرعون اور مصریوں پر ایک بلا اور لاونگا۔اُس کے بعد وہ تم کو یہاں سے جانے دے گا اور جب وہ تم کو جانے دئیگا تو یقیناتم سب کو یہاں سے بالکل نکالدئیگا۔
2 سو اب تُو لوگوں کے کان میں یہ بات ڈال دے کے اُن میں سے ہر شخص اپنے پڑوسی اور ہر عورت اپنی پڑوسن سے سونے چاندی کے زیور لے۔
3 اور خداوند نے اُن لوگوں پر مصریوں کو مہربان کر دیا اور یہ آدمی موسیٰ بھی ملک مصر میں فرعون کے خادموں کے نزدیک اور اُن لوگوں کی نگاہ میں بڑا بزرگ تھا۔
4 اور موسیٰ نے کہا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں آدھی رات کو نکل کر مصر کے بیچ میں جاونگا۔
5 اور ملک مصر کے سب پہلوھٹے فرعون جو تخت پر بیٹھا ہے اُس کے پہلوھٹے سے لیکر وہ لونڈی جو چکی پیستی ہے اُس کے پہلوھٹے تک اور سب چوپایوں کے پہلوھٹے مر جائے گے۔
6 اور سارے ملک مصر میں ایسا بڑا ماتم ہو گا جیسا نہ کبھی پہلے ہوا اور نہ پھر کبھی ہو گا۔
7 لیکن اسرائیلوں میں سے کسی پر خواہ انسان ہو خواہ حیوان ایک کتا بھی نہیں بھونکیگا تا کہ تم جان لو کہ خداوند مصریوں اور اسرائیلوں میں کیسا فرق کرتا ہے۔
8 اور تیرے یہ سب نوکر میرے پاس آکر میرے آگے سر نگو ں ہونگے اور کہینگے کہ تو بھی نکل اور تیرے سب پیرو بھی نکلیں۔اُس کے بعد میں نکل جاونگا۔یہ کہہ کر وہ بڑے طیش میں فرعون کے پاس سے نکل کر چلا گیا۔
9 اورخداوند نے موسیٰ سے کہا کہ فرعون تماری اسی سبب سے نہیں سنیگاتاکہ عجائب ملک مصر میں بہت زیادہ ہو جائیں۔
10 اور موسیٰ اور ہارون نے یہ کرامات فرعون کو دکھائیں اور خداوند نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا کہ اُس نے اپنے ملک سے بنی اسرائیل کو جانے نہ دیا


باب 12

1 پھر خداوند نے ملک مصر میں موسیٰ اور ہارون سے کہاکہ۔
2 یہ مہینہ تمہارے لئے مہینوں کا شروع اور سال کا پہلا مہینہ ہو
3 پس اسرائیلیوں کی ساری جماعت سے یہ کہہ دوکہ اسی مہینے کےدسویں دن ہر شخص اپنے آبا ئی خاندان کے مطابق گھر پیچھے ایک برہ لے۔
4 اور اگر کسی کےگھرانےمیںبرہ کو کھانےکے لئے آدی کم ہوں تو وہ اور اُسکا ہمسایہ جو اُسکےگھر کے برابررہتا ہو دونوں ملکر نفری کے شُمار کے موافق ایک برہ لے رکھیں ۔تم ہر ایک آدمی کے کھانے کی مقدارکے مطابق برّہ کا حساب لگانا۔
5 تمُارا بّرہ بے عیب اور یکسالہ نر ہو اور اَیسا بّچہ یاتو بھیڑوں میں سے چن کر لینا یا بکر یوں میں سے ۔
6 اور تُم اُسے اِس مہینے کی چودھویں تک رکھ چھوڑنا اور اِسرائیلیوں کے قبیلوں کی ساری جماعت شام کو اٰسے زبح کریں ۔
7 اور تھوڑا سا خُون لے کر جن گھروں میں وہ اُسے کھائیں اُن کے دروازوں کے دونُوں بازُوؤں اور اُوپر کی چوکھٹ پر لگا دیں ۔
8 اور وہ اُس کے گوشت کو اُسی رات آگ پر بھُون کر بےخمیری روٹی اور کڑوے ساگ پات کے ساتھ کھا لیں ۔
9 اُسے کچّا یا پانی میں اُبال کر ہرگز نہ کھانا بلکہ اُس کو سر اور پائے اور اندرُونی اعضا سمیت آگ پر بھُون کر کھانا ۔
10 اور اُس میں سے کچُھ بھی صبح تک باقی نہ چھوڑنا اور اگر کچُھ اُس میں سے صبح تک باقی رہ جائے تو اُسے آگ میں جلادینا ۔
11 اور تُم اُسے اِس طرح کھانا اپنی کمر باندھے اور اپنی جوتیاں پاؤں میں پہنے اور اپنی لاٹھی ہاتھ میں لئے ہوئے ۔ تم اُسے جلدی جلدی کھانا کیونکہ یہ فسح خُداوند کی ہے ۔
12 اِس لئے کہ میں اُس رات مُلک مصر میں سے ہو کر گزرونگا اور انسان اور حیوان کے سب پہلوٹھوں کو جو مُلک مصر میں ہیں مارُونگا اور مصر کے سب دیوتاؤں کو بھی سزا دونگا مَیں خُداوند ہوں ۔
13 اور جن گھروں میں تم ہو اُن پر وہ خُون تُمہاری طرف سے نشان ٹھہریگا اور مَیں اُس خُون کو دِیکھ کر تُم کو چھوڑتا جاؤنگا اور جب مَیں مصریوں کو مارُونگا تو وبا تُمہارے پاس پھٹکنے کی بھی نہیں کہ تم کو ہلاک کرے ۔
14 اور وہ دِن تُمہارے لئے ایک یادگار ہوگا اور تم اُس کو خداوند کی عیدکا دن سمجھ کر ماننا ۔ تم اُسے ہمیشہ کی رسم کر کے اُس دن کو نسل در نسل عید کا دن ماننا ۔
15 سات دن تک تم بےخمیری روٹی کھانا اور پہلے ہی دن سے خمیر اپنے اپنے گھر سے باہر کر دینا اِس لئے کہ جو کوئی پہلے دن سے ساتویں دن تک خمیری روٹی کھائے جو شخص اسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جائے گا ۔
16 اور پہلے دن تُمہارا مقدس مجمع ہو اور ساتویں دن بھی مقدس مجمع ہو اِن دونوں دِنوں میں کوئی کام نہ کیا جائے ۔ سوا اُس کھانے کے جیسے ہر ایک آدمی کھائے فقط یہی کیا جائے ۔
17 اور تم بےخمیری روٹی کی یہ عید منانا کیونکہ مَیں اُسی دِن تُمہارے جتھوں کو مُلک مصر سے نکا لُونگا ۔ اِس لئے تُم اُس دِن کو ہمیشہ کی رسم کر کے نسل درنسل ماننا ۔
18 پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام سے اکیسویں تاریخ کی شام تک تم بے خمیری روٹی کھانا ۔
19 سات دِن تک تمہارے گھروں میں کُچھ بھی خمیر نہ ھو کیونکہ جو کوٰئ کسی خمیری چیز کو کھا ئے وہ خمیری چیز کو کھائےوہ خواہ مُسافر ہوخواہ اُسکی پیدایش اُسی مُلک کی ہو اِسرائیل کی جماعت سے کاٹ ڈالا جائیگا ۔
20 تُم کوئی خمیری چیز نہ کھانا بلکہ اپنی سب بستیوں میں بے خمیری روٹی کھانا ۔
21 تب موسیٰ نے اسرائیل کے سب بزرگوں کو بُلواکر اُن کو کہا کہ اپنے اپنے خاندان کے مطابق ایک ایک بّرہ نکال رکھو اور یہ فسح کا بّرہ ذبح کرنا ۔
22 اورتُم زُوفے کا ایک گُچھّا لیکر اُس خُون میں جو باسن میں ہو گا ڈبونا اور اُسی باسن کے خُون میں سے کُچھ اُوپر کی چَوکٹ اور دروازہ کے دونوں بازوؤں پر لگا دینا اور تم میں سے کوئی صبح تک اپنے گھر کے دروازہ سے باہر نہ جائے ۔
23 کیو نکہ خداوند مصریوں کو مارتا ہو ا گزریگا اور جب خداوند اُوپر کی چوکٹ اور دروازہ کے دونوں بازوؤں پر خُون دِیکھیگا تو وہ اُ س دروازہ کو چھوڑ جائیگا اور ہلاک کرنے والے کو تم کو مارنے کے لئے گھر کے اندر آنے نہ دیگا ۔
24 اور تم اِس بات کو اپنے اور اپنی اولاد کے لئے ہمیشہ کی رسم کر کے ماننا ۔
25 اور جب تُم اُس مُلک میں جو خدوند تُمکو اپنے وعدہ کے مافق دیگا داخل ہو جائو تو اس عبادت کو برابر جاری رکھنا ۔
26 اور جب تمہاری اَولاد تُم سے پوچھے کہ اِ س عبادت سے تمہارامقصد کیاہے۔
27 تو تُم یہ کہنا کہ یہ خُداوند کی فسح کی قُربانی ہے جو مِصر میں مِصریوں کو مارتے وقت بنی اِسرائیل کےگھروں کوچھوڑگیااوریُوںہمارےگھروںکوبچالیا۔تب لوگوں نےسرجُھکاکرسجدہ کِیا۔
28 اوربنی اِسرائیل نےجاکرجیساخُداندنےمُوسی اورہارُون کوفرمایاتھاوَیساہی کِیا۔
29 اورآدھی رات کوخُدوندنےمُلک مِصرکے سب پہلوٹھوںکوفرعون جواپنےتخت پربیٹھاتھااُسکےپہلوٹھےسےلیکر وہ قَیدی جوقَیدخانہ میں تھااُسکےپہلوٹھےتک بلکہ چَوپایوں کےپہلوٹھوں کوبھی ہلاک کردِیا۔
30 اور فرعون اوراُسکےسب نوکراورسب مِصری رات ہی کو اُٹھ بیٹھے اورمِصرمیں بڑاکُہرام مچا کیونکہ ایک بھی اَیسا گھر نہ تھا جِسں میں کوئی نہ مرا ہو ۔
31 تب اُس نے رات ہی رات میں مُوسی اور ہارُون کوبُلواکرکہا کہ تُم بنی اِسرائیل کو لیکر میری قَوم کے لوگوں میں سے نکِل جا و اور جیسا کہتے ہوجاکر خُداوند کی عِبات کرو ۔
32 اوراپنے کہنے کے مُطابق اپنی بھیڑبکریاں اور گائے بَیل بھی لیتے جاو اور میرے لئے بھی دُعاکرنا ۔
33 اور مِصری اُن لوگوں سے بجد ہونےلگے تاکہ اُنکو مُلک مِصر سے جلد باہر چلتا کریں کیونکہ وہ سمجھے کہ ہم سب مرجائینگے ۔
34 سواِن لوگوں نے اپنے گُندھے گُندھائے آٹے کو بغیر خمیر دئے لگنوں سمیت کپڑوں میں با ندھ کر اپنے کندھوں پر دھرلِیا ۔
35 اور بنی اسرائیل نے مُوسیٰ کے کہنے کے مُوافِق یہ بھی کِیا کہ مِصریوں سے سونے چاندی کے زیور اور کپڑے مانگ لئے ۔
36 اور خُداوند نے ان لوگوں کو مِصریوں کی نِگاہ میں اَیسی عِزت بخشی کہ جو کُچھ اُنہوں نے ما نگا اُنہوں نے دے دیا سو انہوں نے مصر یو ں کو لو ٹ لیا۔
37 اور بنی اسرائیل نے رعمسیس سے سکّات تک پیدل سفر کِیا اور بال بّچوں کو چھوڑ کر وہ کوئی چھ لاکھ مرد تھے ۔
38 اور اُنکے ساتھ ایک مِلی جلی گروہ بھی گئی اور بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور بہت چوپائے اُنکے ساتھ تھے ۔
39 اور اُہنوں نے اُس گندھے ہو ئے آٹے کی جسے وہ مصر سے لائے تھے بےخمیری روٹیاں پکایئں کیونکہ وہ اُس میں خمیر دِینے نہ پائے تھے اِسلئے کہ وہ مصر سے ایسے جبراً نکال دِئے گئے کہ وہاں ٹھر نہ سکے اور نہ کُچھ کھانا اپنے لِئے تیار کرنے پائے ۔
40 اور بنی اسرائیل کو مصر میں بُودوباش کرتے ہوئے چارسَو تیس برس ہوئے تھے ۔
41 اور اُن چار سَو تیس برسوں کے گُزرجانے پر ٹھیک اُسی روز خُداوند کا لشکر مُلِک مِصر سے نکل گیا ۔
42 یہ وہ رات ہے جسے خُداوند کی خاطر ماننا بہت مُناسب ہے کیونکہ اِس میں وہ اُنکو مُلِک مصِر سے نِکال لایا ۔ خُداوند کی یہ وہی رات ہے جِسے لازِم ہے کہ سب بنی اِسرائیل نسل در نسل خوب مانیں۔
43 پھر خُداوند نے مُوسیٰ اور ہارُون سے کہا کہ فسح کی رسم یہ ہے کہ کوئی بیگانہ اُسے کھانے نہ پائے ۔
44 لیکن اگر کوئی شخص کِسی کا زرخرید غُلام ہو اور تُو نے اُس کا ختنہ کر دیا ہو تو وہ اُسے کھائے ۔
45 پر اجنبی اور مزدوُر اُسے کھانے نہ پائے ۔
46 اور اُسے ایک ہی گھر میں کھائیں یعنی اُسکا ذرا بھی گوشت تُو گھر سے باہر نہ لے جانا اور تُم اُسکی کوئی ہڈی توڑنا۔
47 اِسرائیل کی ساری جماعت اِس پر عمل کرے ۔
48 اور اگر کوئی اجنبی تیرے ساتھ مُقیم ہو اور خُداوند کی فسح کو ماننا چاہتا ہو اُسکے ہاں کے سب مرد اپنا ختنہ کرائیں ۔تب و ہ پاس آکر فسح کرے ۔ یُوں وہ اَیسا سمجھاجائیگا گویا اُسی مُلک کی اُسکی پیدایش ہے پر کوئی نا مختون آدمی اُسے کھانے نہ پائے ۔
49 وطنی اور اُس اجنبی کے لئے جو تمہارے بیچ مُقیم ہو ایک ہی شریعت ہوگی ۔
50 پس سب بنی اِسرائیل نے جیسا خُداوند نے مُوسیٰ اور ہارون کو فر مایا ویَسا ہی کیا۔
51 اور ٹھیک اُسی روز خُداوند بنی اِسرائیل کے سب جتھوں کو مُلِک مصر سے نکال لے گیا۔


باب 13

1 اور خُداوند نے مُوسیٰ کو فرمایا کہ ۔
2 سب پہلوٹھوں کو یعنی جو بنی اِسرائیل میں خواہ اِنسان ہو خواہ حیوان پہلوٹھی کے بچے ہوں اُنکو میرے لئے مُقدس ٹھہراکیونکہ وہ میرے ہیں۔
3 اور مُوسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تُم اِس دِن کو یاد رکھنا جس میں تُم مصر سے جو غلامی کا گھر ہے نکلے کیونکہ خُداوند اپنے زورِ بازو سے تُم کو وہاں سے نکال لایا ۔اس میں خمیری روٹی کھائی نہ جائے ۔
4 تُم ابیب کے مہینے میں آج کے دن نکلے ہو ۔
5 سو جب خُداوند تجھ کو کِنعانیوں اور حِتّیوں اور اموریوں اور حویوں اور یبوسیوں کے ملک میں پہنچا دے جسے تُجھ کو دینے کی قسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی تھی اور جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے تو تُو اِسی مہینے میں یہ عبادت کیا کرنا ۔
6 سات دن تک تو تُو بے خمیری روٹی کھانا اور ساتوٰیں دن خُداوند کی عید منانا ۔
7 بے خمیری روٹی ساتوں دن کھائی جائے اور خمیری روٹی تیرے پاس دکھائی بھی نہ دے اور نہ تیرے مُلک کی حدود میں کہیں کچھ خمیر نظر آئے ۔
8 اور تُو اُس روز اپنے بیٹے کو یہ بتانا کہ اس دن کو میں اس کام کے سبب سے مانتا ہوں جو خُداوند نے میرے لئے اُس وقت کیا جب میں مُلک مصِر سے نکلا ۔
9 یہ ہی تیرے پاس گویا تیرے ہاتھ میں ایک نشان اور تیری دونوں آنکھوں کہ سامنے ایک یادگار ٹھہرے تاکہ خُداوند کی شریعت تیری زبان پر ہوکیونکہ خُداوند نے تجھ کو اپنے زورِبازو سے ملک مصر سے نکلا ۔
10 پس تُو اِس رسم کو اِسی وقت مُعیِّن میں سال بسال ماناکرنا۔
11 اور جب خُداوند اُس قَسم کے مُطابق جو اُس نے تجھ سے اور تیرے باپ دادا سے کھائی تُجھ کو کنعانیوں کے مُلک میں پہنچا کر وہ مُلک تُجھکو دے دے ۔
12 تو تُو پہلوٹھی کے بچوں کو اور جانوروں کے پہلوٹھوں کو خُداوند کےلئے الگ کر دینا ۔ سب نر بچے خُداوند کے ہونگے ۔
13 اور گدھے کے پہلے بّچے کے فِدیہ میں بّرہ دینا اور اگر تُو اُسکا فدیہ نہ دے تو اُسکی گردن توڑڈالنا اور تیرے بیٹوں میں جتنے پہلوٹھے ہوں اُن سب کا فدیہ تُجھ کو دینا ہوگا ۔
14 اور جب آیندہ زمانہ میں تیرا بیٹا تُجھ سے سوال کرے کہ یہ کیا ہے ؟تو تُو اُسے یہ جواب دینا کہ خُداوند ہمکو مصر سےجو غلامی کا گھر ہے بزورِبازُو نکال لایا ۔
15 اور جب فرعون نے ہمکو جانے دینا نہ چاہا تو خُداوند نے مُلِک مصر میں اِنسان اور حیوان دونوں کے پہلوٹھے مار دِئے اِسلئے میں جانوروں کے سب نر بچّوں کو اپنی اپنی ماں کے رِحم کو کھولتے ہیں خُداوند کے آگے قُربانی کرتا ہُوں لیکن اپنے بیٹوں کے سب پہلوٹھوں کا فدیہ دِیتا ہوں ۔
16 اور یہ تیرے ہاتھ پر ایک نشان اور تیری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں کیونکہ خُداوند اپنے زورِبازو سے ہمکو مصر سے نِکال لایا۔
17 اور جب فرعون نے اُن لوگوں کو جانے کی اِجازت دے دی تو خُدا انکو فلستیوں کے مُلک کے راستہ سے نہیں لے گیا اگرچہ اُدھر سے نزدِیک پڑتا کیونکہ خُدا نے کہا اَیسا نہ ہو کہ یہ لوگ لڑائئ بھڑائی دیکھ کر پچھتا نے لگیں اور مصر کو لوٹ جائیں ۔
18 بلکہ خُدا اِنکو چکّر کھِلا کر بحِر قلزم کے بیابان کے راستہ سے لے گیا اور بنی اِسرائیل مُلِکمصر سے مُسلّح نکلے تھے ۔
19 اور مُوسیٰ یُوسُف کی ہڈیوں کو ساتھ لیتا گیا کیو نکہ اُس نے بنی اِسرائیلسے کہکر کہ خُدا ضرور تُمہاری خبر لیگا اِس بات کی سخت قسم لے لی تھی کہ تُم یہاں سے میری ہڈیاں اپنے ساتھ لیتے جانا۔
20 اور اُنہوں نے سکات سے کُوچ کر کے بیابان کے کنارے ایتام میں ڈیرا کیا۔
21 اور خُداوند اُنکودِن کو راستہ دِکھانے کے لئے ستُون میں اور رات کو روشنی دینے کے لئے آگ کے ستُون میں ہو کر اُنکے آگے چلاکر تا تھا تاکہ وہ دِن اور رات دونوں چل سکیں ۔
22 وہ بادل کا ستُون دِن کو اور آگ کا ستُون رات کو اُن لوگوں کے آگے ہٹتا نہ تھا۔


باب 14

1 اور خُداوند نے موسیٰ سے فرمایا ۔کہ
2 بنی اسرائیل کو حُکم دے کے وہ لَوٹکر مجدال اور سُمندر کے بیچ فی ہخیروت کے مُقابل لعبل صفون کے آگے ڈیرے لگایئں ۔ اُسی کے آگے سُمندر کے کنارے کنارے ڈیرے لگانا ۔
3 فِرعون بنی اسرائیل کے خق میں کہے گا کہ وہ زمین کی اُلجھنوں میں آکر بیابان میں گِھر گئے ہیں ۔
4 اور مَیں فِرعون کے دل کو سخت کرونگا اور وہ اُن کا پیچھا کریگا اور مَیں فِرعون اور اُس کے سارے لشکر پر ممُتاز ہونگا اور مصری جان لینگے کہ خداوند مَیں ہوں اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا ۔
5 جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چل دئے تو فِرعون اور اُس کے خادموں کا دل اُن لوگوں کی طرف سے پھر گیا اور وہ کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا کیا کہ اسرائیلیوں کواپنی خدمت سے چُھٹی دے کر اُن کو جانے دیا ۔
6 تب اُس نے اپنا رتھ تیار کروایا اور اپنی قوم کے لوگوں کو ساتھ لیا ۔
7 اور اُس نے چھے سو چُنے ہو ئے رتھ بلکہ مصر کے سب رتھ لیے اور ان سبھوں میں سرداروں کو بٹھایا۔
8 اور خداوند نے مصر کے بادشاہ فرعون کے دل کو سخت کر دیا اور اُس نے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا کیو نکہ بنی اسرائیل بڑے فخر سے نکلے تھے۔
9 اور مصری فوج نے فرعون کے سب گھوڑوں اور رتھوں اور سواروں سمت اُن کا پیچھا کیا اور اُن کو جب وہ سمندر کے کنارے فی ہخیروت کے پاس بغل صفون کے سامنے ڈیرا لگا رہے تھے جا لیا ۔
10 اور جب فرعون نزدیک آ گیا تب بنی اسرائیل نے آنکھ اُٹھا کر دِیکھا کہ مصری اُن کا پیچھا کیے چلے آتے ہیں اور وہ نہایت خوف ذدہ ہو گئے تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فریاد کی ۔
11 اور موسیٰ سے کہنے لگے کیا مصر میں قبریں نہ تھیں جو تُو ہم کو وہاں سے مرنے کے لئے بیا بان میں لے آیا ہے ، تُو نے ہم سے یہ کیا کیا کہ ہم کو مصر سے نکال لایا ۔
12 کیا ہم تُجھ سے مصر میں یہ بات نہ کہتے تھے کہ ہم کو رہنے دے کہ ہم مصریوں کی خدمت کریں ؟ کیونکہ ہمارے لئے مصریوں کی خدمت کرنا بیابان میں مرنے سے بہتر ہو تا ۔
13 تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا ڈرو مت چُپ چاپ کھٹر ے ہو کر خداوند کی نجات کے کام کو دِیکھو جو وہ آج تُمہارے لئے کریگا کیو نکہ جن مصریوں کو تم آج دِیکھتے ہو اُن کو پھر کبھی ابدتک نہ دِیکھوگے ۔
14 خداوند تمہاری طرف سے جنگ کریگا اور تم خاموش رہوگے ۔
15 اور خداوند نے ماسیٰ سے کہا کہ تُو کیوں مُجھ سے فریاد کر رہا ہے ؟ بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ آگے بڑھیں ۔
16 اور تُو اپنی لاٹھی اُٹھا کر اپنا ہاتھ سمندر کے اُوپر بڑھا اور اُسے دو حصے کر اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل جائینگے ۔
17 اور دِیکھ مَیں مصریوں کے دل سخت کر دونگا اور وہ اُن کا پیچھا کریں گے اور مَیں فرعون اور اُس کی سپاہ اور اُس کے رتھوں اور سواروں پر ممتاز ہونگا ۔
18 اور جب مَیں فرعون اور اُسکے رتھوں اور سواروں پر ممتاز ہو جائونگا تو مصری جان لینگے کہ مَیں ہی خداوند ہوں ۔
19 اور خدا کا فرشتہ جو اسرائیلی لشکرکے آگے آگے چلا کرتا تھا جا کر اُن کے پیچھے ہو گیا اور بادل کا ستون اُن کے سامنے سے ہٹکر اُنکے پیچھے جا ٹھہرا ۔
20 یُوں وہ مصریوں کے لشکر اور اسرائیلی لشکر کے بیچ میں ہو گیا ۔ سو وہاں بادل بھی تھا اور اندھیرا بھی تو بھی رات کو اُس سے روشنی رہی۔ پس وہ رات بھر ایک دُوسرے کے پاس نہیں آئے ۔
21 پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تُندپُوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اُسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دوحصے ہو گیا ۔
22 اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چلکر نکل گئے اور اُنکے دہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا ۔
23 اور مصریوں نے تعاقُب کیا اور فرعون کے سب گھوڑے اور رتھ اور سوار اُنکے پیچھے پیچھے سمندر کے بیچ میں چلے گئے ۔
24 اور رات کے پچھلے پہر خداوند نے آگ اور بادل کے ستون میں سے مصریوں کے لشکر پر نظرکی اور اُنکے لشکر کو گھبرا دیا ۔
25 اور اُس نے اُنکے رتھوں کے پہیوں کو نکال ڈالا ۔ سو اُنکا چلانا مُشکل ہو گیا ۔ تب مصڑی کہنے لگے آؤ ہم اسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگیں کیو نکہ خداوند اُنکی طرف سے مصریوں کے ساتھ جنگ کرتا ہے ۔
26 اور خاوند نے ماسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اُوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور اُنکے رتھوں اور سواروں پر پھر بہنے لگے ۔
27 اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اُوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہو تے سمندر پھر اپنی اصلی قُّوت پر آ گیا اور مصری اُلٹے بھاگنے لگے ساور خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہ وبالا کر دیا ۔
28 اور پانی پلٹ کر آیا اور اُس نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہوا سمندر میں گیا تھا غرق کر دیا اور ایک بھی اُن میں سے باقی نہ چُھو ٹا ۔
29 پر بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چلکر نکل گئے اور پانی اُنکے دہنے اور بایئں ہاتھ دیوار کی طرح رہا ۔
30 سو خداوند نے اُس دن اسرائیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے اِس طرح بچایا اور اسائیلیوں نے مصریوں کو سمندر کے کنارے مرے ہوئے پڑے دِیکھا ۔
31 اور اسرائیلیوں نے وہ بڑی قدرت جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی دِیکھی اور وہ لوگ خداوند سے ڈرے اور خداوند پر اور اُسکے بندہ موسیٰ پر ایمان لائے ۔


باب 15

1 اور یُوں کہنے لگے : مَیں خداوند کی ثنا گائُونگا کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتحمند ہوا ۔ اُس نے گھوڑے کو سوار سمت سمندر میں ڈال دیا خداوند میرا زُور اور راگ ہے ۔ وہی میری نجات بھی ٹھہرا ۔
2 وہ میرا خُدا ہےمَیں اُ سکی بڑائی کرونگا ْ وہ میرے باپ کا خُداہے ۔ میں اُسکی بُزرگی کرونگا۔
3 خُداوند صاخِب جنگ ہے یہوداہ اُسکا نام ہے ۔
4 فرعون کے رتھوں اور لشکر کو اُس نے سمندرمیں ڈالدیا اور اسکے چیدہ سردار بحرِ قلزم میں غرق ہوئے۔
5 گہرے پانی نےاُنکو چھپا لِیا۔وہ پتھر کی مانند تہ میں چلے گئے ۔
6 اے خداوند ؛ تیرا دہنا ہاتھ قدرت کے سبب سے جلالی ہے۔ اَے خُداوند ؛تیرا دہنا ہاتھ دُشمن کو چکنا چور کر دیتا ہے ۔
7 تُو اپنی عظمت کے زور سے اپنے مُخالفوں کو تہ و بالا کرتا ہے ۔تو اپنا قہر بھیجتا ہے اور وہ اُن کو کھو نٹی کی مانند بھسم کر ڈالتا ہے ۔
8 تیرے نتھنوں کے دم سے پانی کا ڈھیر لگ گیا سیلاب تُو دے کی طرح سیدھے کھڑے ہو گئے اور گہرا پانی سمندر کے بیچ میں جم گیا ۔
9 دشمن نے تو یہ کا تھا میں پیچھا کرونگا ۔میں جا پکڑونگا میں لوٹ کا مال تقسیم کرونگا ۔ان کی تباہی سے میرا کلیجہ ٹھنڈا ہو گا ۔میں اپنی تلوار کھنچ کر اپنے ہی ہاتھ سے اُن کو ہلاک کرونگا ۔
10 تُو نے اپنی آندھی کی پُھونک ماری تو سمندر نے اُنکو چھپالیا ۔وہ زور کےپانی میں سیسے کی طرح ڈُوب گئے۔
11 مبعودوں میں اَسے خُداوند ۔تیری مانند کَون ہے ؟ کَون ہے جو تیری مانند اپنے تقدُس کے باعث جلالی اور اپنی مدح کے سبب سے رُعب والااور صاحبِ کرامات ہے ؟
12 تُو نے اپنا دہنا ہاتھ بڑھایا تو زمین اُنکو نِگل گئی ۔
13 اپنی رحمت سے تُو اُن لوگوں کی جِنکو تُو نے خلاصی بخشی راہنمائی کی ۔ اور اپنے زور سے تو اُنکو اپنے مُقدّس مکان کو لے چلا ہے ۔
14 قُومیں سُنکر تھّرا گئی ہیں ۔ اور فلستین کے باشِندوں کی جان پر آبنی ہے۔
15 ادوم کے رئیس حیران ہیں ۔ موآب کے پہلوانوں کو کپکپی لگ گئی ہے ۔ کنعان کے سب باشِندوں کے دِل پگھلے جاتے ہیں۔
16 خَوف وہراس اُن پر طاری ہے ۔ تیرے بازُو کی عظمت کے سبب سے وہ پتھر کی طرح بے حِس و حرکت ہیں ۔ جب تک اے خُداوند تیرے لوگ جنکو تُو نے خریدا ہے پار نہ ہو جائیں۔
17 تُو اُنکو وہاں لے جا کر اپنی میراث کے پہاڑ پردرخت کی طرح لگائیگا۔ تُو اُنکو اُسی جگہ لے جائیگا جسے تُو نے اپنی سکُونت کے لئے بنایا ہے ۔ اَے خُداوند ! وہ تیری جایِ مُقّدس ہے جسے تیرے ہاتھوں نے قائم کِیا ہے۔
18 خُداوند ابدُالآباد سلطنت کر یگا۔
19 اِس گیت کا سبب یہ تھا کہ فرعون کے سوار گھوڑوں اور رتھوں سمیت سمندر ہیں گئے اور خُداوند سمندر کے پانی کو اُن پر لوٹا لایا ۔ لیکن بنی اِسرائیل سمندر کے بیچ میں خُشک زمین پر چلکر نِکل گئے ۔
20 تب ہارون کی بہن مریم نبِیّہ نے دف ہاتھ میں لِیا اور سب عورتیں دف لئے ِ ناچتی ہُوئی اُسکے پیچھے چلیں ۔
21 اور مریم اُنکے گانے کے جواب میں یہ گاتی تھی :۔ خُداوند کی حمدوثنا گاؤ کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتحمند ہئوا ہے ۔ اُس نے گھوڑے کو اُسکے سوار سمیت سمندر میں ڈالدیاہے ۔
22 پھر مُوسیٰ بنی اِسرائیل کو بِحرقلزم سے آگے لے گیا اور وہ شور کے بیابان میں آئے اور بیابان میں چلتے ہُوئے تین دن تک اُنکو کوئی پانی کا چشمہ نہ ملا۔
23 اور جب وہ مارہ میں میں آئے تو مارہ کا پانی پی نہ سکے کیونکہ وہ کڑوا تھا۔ اِسی لئے اُس جگہ کا نام مارہ پڑگیا۔
24 تب وہ لوگ مُوسیٰ پر بڑبڑا کر کہنے لگے کہ ہم کیا پئیں۔
25 اُس نے خُداوند سے فریاد کی ۔ خُداوند نے اُسے ایک پیڑدِکھایا جسِے جب اُس نے پانی میں ڈالاتو پانی میٹھا ہوگیا ۔ وہیں خُداوند نے اُنکے لئِے ایک آئین اور شریعت بنائی اور وہیں یہ کہکر اُنکی آزمائش کی ۔
26 کہ اگر تُو دِل لگا کر خُداوند اپنے خُدا کی بات سُنے اور وُہی کام کرے جو اُسکی نظر میں بھلا ہے اور اُسکے حُکموں کو مانے اور اُسکے آئین پر عمل کرے تو مَیں اُن بیماریوں میں سے جو میں نے مصریوں پر بھیجیں تُجھ پر کوئی نہ بھیجُونگا کیونکہ میں میَں خُداوند تیرا شافی ہُوں
27 پھر وہ ایلیم میں آئے جہاں پانی کے بارہ چشمے اور کھجُور کے سّتر درخت تھے اور وہیں پانی پانی کے قریب اُنہوں نے اپنے ڈیرے لگائے۔


باب 16

1 پھر وہ ایلیم سے روانہ ہوئے اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت ملک مصر سے نکلنے کے بعد دوسرے مہینے کیپندرھویں تاریخ کو سَین کے بیابان میں جوایلیم اور سَینا کے درمیان ہے پہنچی۔
2 اور اُس بیابان میں ساری جماعت مُوسیٰ اور ہارُون پر بڑ بڑانے لگی۔
3 اور بنی اسرائیل کہنے کا شکہ ہم خداوند کے ساتھ سے ملک مصر میں جب ہی مار دیے جاتے ہم گوشت کی ہانڈیوں کے پاس بیٹھ کر دل بھر کر روٹی کھاتے تھے کیونکہ تُم تو ہم کو اس بیابان میں اسلئے لے آئے ہو کہ سارے مجمع کو بُھوکا مارو۔
4 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا میں آسمان سے تمہارے لئے روٹیاں برسانگا۔سو یہ لوگ نکل نکل کر فقط ایک ایک دن کا حصّہ ہر روز بٹور لیا کریں کہ اِس سے میں اُن کی آزمائش کرونگا کہ وہ مری شریعت پر چلینگے یا نہیں۔
5 اور اُس چھٹے دن ایسا ہو گا کہ وہ ہر روز جیتنا پکائینگے وہ اُس سے جیتا روز جمع کرتے ہیں دُونا ہو گا۔
6 تب موسیٰ اور ہارُون نے سب بنی اسرائیل سے کہا کہ شام کو تُم جان لو گے کہ جو تمکو مُلک مصر سے نکالکر لایا ہے وہ خداوند ہے۔
7 اور صُبح کو تُم خُداوند کا جال دیکھو گے کیونکہ تُم جو خداوند پر بڑبُڑانے لگتے ہو اُسے وہ سُنتا ہے اور ہم کون ہیں جو تُم ہم پر بڑ بڑاتے ہو؟۔
8 اور موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ شام کو خُداوند تُمکو کھانے کو گوشت اور صُبح کو پیٹ بھر کر کھانے کو دے گاکیونکہ تم جو خداوند پر بڑ بڑاتے ہو اُسے وپ سُنتا ہے اور ہماری کیا حقیقت ہے؟تمہارا بڑ بڑانا ہم پر نہیں بلکہ خدا وند پر ہے۔
9 پھر موسیٰ اور ہارُون نے بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہا کہ تم خداوند کے نزدیک آئو کیونکہ اُس نے تمہارا بڑبڑانا سُن لیا ہے۔
10 اور جب اسرائیل بنی اسرائیل سے یہ باتیں کہہ رہا تھا تو اُنہوں نے بیابان کی طرف نظر کہ اور اُنکو خداوند کا جلال بادل میں نظر آیا ۔
11 اور خداوند نے موسیٰ سے کہہ۔
12 میں نے بنی اسرائیل کا بڑ بڑانا سُن لیا ہے سو تُو اُن سے کہہ دےکہ شام کو تُم گوشت کھائو گے اور صُبح کو روٹی سے سیر ہوگےاور تُم جان لو کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
13 اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بیڑیں آئیں کہ اُن کا خٰمہ گاہ کو ڈھانک لیا اور صُبح کو خیمہ گاہ کہ آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی۔
14 اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابا ن میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز ایسے پڑی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں زمین پر پڑی ہے۔
15 بنی اسرائیل اُسے دیکھکر آپس میں کہنے لگے مَن؟ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے۔تب موسیٰ نے کہا کہ وہی روٹی ہے جو خداوند نے تمکو کھانے کو دی ہے۔
16 سو خداوند کا حکم یہ ہے کہ تُم اُسے اپنے اپنے کھانے کی مقدار کے موافق یعنی اپنت آدمیوں کے شمار کے مطابق فی کس ایک اومر جمع کرنا اور ہر شخص اُتنے ہی آدمیوں کےلئے جمع کرے جتنے اُسکے ڈیرے میں ہوں۔
17 بنی اسرائیل نے ایسا ہی کیا اور کسی نے زیادہ اور کسی نے کم جمع کیا۔
18 اور جب اُنہو ں نے اُسے اومر سے ناپا تو جس نے زیادہ جمع کیا کچھ زیادہ نہ پایا اور اُسکا جس نے کم جمع کیا تھا کم نہ ہوا ۔اُن اُن میں سے ہر ایک نے اپنے کھانے کی مقدار کے مطابق جمع کیا تھا ۔
19 اور موسیٰ نے اُن سے کہدیا تھا کہ کوئی اُس میں سے کچُھ صبح تک باقی نہ چھوڑے۔
20 تو بھی اُنہوں نے موسیٰ کی بات نہ مانی بلکہ بعضوں نے صُبح کے لئے کچھ باقی رہنے دیا سو اُس میں کیڑے پڑ گئے اور وہ سڑ گیا۔سو موسیٰ آن سے ناراض ہوا۔
21 اور وہ ہر صُبح اپنے اپنے کھانے کی مقدار کے مطابق جمع کر لیتے تھے اور دھُوپ تیز ہوتے ہی وہ پگھل جاتا تھا ۔
22 اور چحٹے روز ایسا ہوا کہ جتنی روٹی وہ روز جمع کرتے تھے اُس سے دُونی جمع کی یعنی فی کس دو اومراور جماعت کے سب سرداروں نے آکر یہ موسیٰ کو بتایا۔
23 اُس نے اُن کو حُکم دیا کہ خداوند کا حُکم یہ ہے کہ کل خاص آرام کا دن یعنی خداوند کا سبت کا دن ہے جو تُمکو پکانا ہو پکا لو اور جو اُبالنا ہو اُبال لو اور جو بچ رہے اُس کو اپنے لئے صُبح کے لئے محفوظ رکھو۔
24 چنانچہ اُنہوں نے جیسا موسیٰ نے کہا تھا اُسے صُبح تک رہنے دیا اور وہ نہ سڑا اور نہ اُس میں کیڑے پڑے ۔
25 اور موسیٰ نے کہا آج اُسی کو کھائو کیونکہ آج خداوند کا سبت ہےاسلئے وہ تُمکو آج میدان میں نہیں ملیگا۔
26 چھ دن تم اُسے جمع کرنا پر ساتویں دن سبت ہے۔اُس میں وہ نہیں ملیگا۔
27 اور ساتویں دن ایسا ہوا کہ اُن میں سے بعض آدمی مَن بٹورنے گئےپر اُن کو کچھ نہیں ملا۔
28 تب خداوند نے اُن سے کہا کہ تم لوگ کب تک میری شریعت کو ماننے سے انکار کرتے رہو گئے؟۔
29 دیکھو چونکہ خداوند نے تُمکو سبت کا دن دیا ہے اسی لئے وہ چھٹے دن دو دن کا کھانا دیتا ہے۔سو تم اپنی اپنی جگہ رہو اور ساتویں دن کوئی اپنی جگہ سے باہر نہ جائے۔
30 چنانچہ لوگوں نے ساتویں دن آرام کیا۔
31 اور بنی اسرائیل نے اُسکا نام مَن رکھا اور وہ دھنئے کے بیج کی طرح اور اُسکا مزہ شہد کے پوئے کی طرح تھا۔
32 اور موسیٰ نے کہا کہ خداوند یہ حُکم دیتا ہے کہ اُسکا ایک اومر بھر کر اپنی نسل کےلئے رکھ لوتا کہ وہ اُس روٹی کو دیکھتے جو میں نے تُمکو بیابان میں کھلائی جب میں تُمکو ملک مصر سے نکالکر لایا۔
33 اور موسیٰ نے ہارون سے کہا ایک مرتبان لے اور ایک اومر مَن اُس میں بھر کر اُسے خداوند کے آگے رکھ دے تاکہ وہ تمہاری نسل کےلئے رکھتا رہے۔
34 اور جیسا خداوند نے موسیٰ کو حُکم دیا تھا اُسی کے مطابق ہارون نے اُسے شہادت کے صندوق کے آگے رکھ دیا تاکہ وہ رکھتا رہے۔
35 اور بنی اسرائیل جب تک آبائو ملک میں نہ آئے یعنی چالیس برس تک مَن کھاتے رہے۔الغرض جب تک وہ ملک کنعان کی حدود تک نہ آئے مَن کھاتے رہے۔
36 اور ایک اومر ایفہ کا دسواں حصّہ ہے۔


باب 17

1 پھر بنی اسرائیل کی ساری جماعت نسِین کے بیابان سے چلی اور خُداوند کے حُکم کے مُطابق سفرکرتی ہو ئی رفیدیم میں آکر ڈیرا کیا ۔وہاں اُن لوگوں کے بینے کو پانی نہ مِلا ۔
2 وہاں وہ لوگ موسیٰ سے جھگڑا کر کے کہنے لگے کہ ہم کو پینے کو پانی دے ۔موسیٰ نے اُں سے کہا تُم مُجھ سے کیوں جھگڑتے ہو اور خُداوند کو کیوں آزماتے ہو ؟ ۔
3 وہاں اُں لوگوں کو بڑی پیاس لگی ۔ سو وہ لوگ موسیٰ پر بڑبڑانے لگے اور کہا کہ تُم ہم کو اور ہمارے بچوں اور چوپا یوں کو پیاسا مرنے کے لئے ہم لوگوں کو کیوں مُلِک مصر سے نکال لایا ؟۔
4 موسیٰ نے خُداوند سے فِریاد کر کے کہا کہ مَیں اِن لوگوں سے کیا کُروں ؟ وہ سب تو ابھی مجھے سنگسار کرنے کو تیار ہیں ۔
5 خُداوند نے موسیٰ سے کہا کہ لوگوں کے آگے ہو کر چل اور بنی اسرائیل کے بُزرگوں میں سے چند کو اپنے ساتھ لےلے اور جس لاٹھی سے تُو نے دریا پر مارا تھا اُسے اپنے ہاتھ میں لیتا جا ۔
6 دِیکھ مَیں تیرے آگے جا کر وہاں حورِب کی ایک چٹان پر کھڑا رہونگا اور تُو اُس چٹان پر مارنا تو اُس میں سے پانی نکلے گا کہ یہ لوگ پِئیں ۔ چنانچہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بزرگوں کے سامنے یہی کیا ۔
7 اور اُس نے اُس جگہ کا نام متسہ اور مریبہ رکھا کیونکہ بنی اسرائیل نے وہاں جھگڑا کیا اور یہ کہہ کر خُداوند کا امتحان کیا کہ خُداوند ہمارے بیچ میں ہے یا نہیں ۔
8 تب عمالیقی آکر رفیدیم میں بنی اسرائیل سے لڑنے لگے ۔
9 اور موسیٰ نے یشوع سے کہا کہ ہماری طر ف کے کُجھ آدمی چُن کر لے جا اور عمالیقیوں سے لڑ اور مَیں کل خُدا کی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے پہاڑ کی چُوٹی پر کھڑا رہونگا ۔
10 سو مُوسیٰ کے حُکم کے مطابق یشوع عمالیقیوں سے لڑنے لگا اور مُوسیٰ اور ہاروُن اور حور پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے ۔
11 اور جب تک مُوسیٰ اپنا ہاتھ اُٹھائے رہتا تھا بنی اِسرائیل غالب رہتے تھے اور جب وہ ہاتھ لٹکا دیتا تھا تب عمالیقی غائب ہوتے تھے ۔
12 اور جب مُوسیٰ کے ہاتھ بھر گئے تو اُنہوں نے ایک پتھر لیکر مُوسیٰ کے نیچے رکھ دِیا اور وہ اُس پر بیٹھ گیا اور ہارون اور حور ایک اِدھر سے دُوسرا اُدھر سے اُسکے ہاتھوں کو سنبھالے رہے ۔ تب اُسکے ہاتھ آفتاب کے غروُب ہونے تک مضبوطی سے اُٹھے رہے ۔
13 اور یشوع نے عمالیق اور اُسکے لوگوں کو تلوار کی دھار سے شکست دی ۔
14 تب خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا اِس بات کی یاد گاری کے لئے کتاب میں لکھ دے اور یشوع کو سنا دے کہ میں عمالیق کا نام و نشان دُنیا سے بِالکل مِٹا دُونگا ۔
15 اور مُوسیٰ نے ایک قُربانگاہ بنائی اور اُس کا نام یہواہ نِسّی رکھا ۔
16 اور اُس نے کہا خُداوند نے قسم کھائی ہے ۔ سو خُداوند عمالیقیوں سے نسل در نسل جنگ کرتا رہیگا۔


باب 18

1 اور جو کچھ خُداوند نےمُوسیٰ اور اپنی قَوم اِسرائیل کے لئے کِیا اور جس طرح سے خُداوند نے اِسرائیل کو مصر سے نکالا سب مُوسیٰ کےسُسر یترو نےجو مِدیان کا کاہن تھا سُنا۔
2 اور مُوسیٰ کے سسر یترو نے مُوسیٰ کی بیوی صفورہ کو جو میکے بھیج دی گئی تھی ۔
3 اور اُسکے دونوں بیٹوں کو ساتھ لِیا ۔ اِن میں سے ایک کا نام مُوسیٰ نے یہ کہکر الیعز جیر سوم رکھا تھا کہ مَیں پر دیس میں مُسافر ہُوں۔
4 اور دوسرے کا نام الیعزر یہ کہکر رکھا تھا کہ میرے باپ کا خُدا میرا مدد گار ہوا اور اُس نے مُجھے فرعون کی تلوار سے بچایا۔
5 اور مُوسیٰ کا سسر یترو اُسکے بیٹوں اور بیوی کو لیکر مُوسیٰ کے پاس اُس بیابان میں آیا جہاں خُدا کے پہاڑکے پاس اُسکا ڈیرا لگاتھا ۔
6 اور مُوسیٰ سے کہا کہ میں تیرا سسر یترو تیری بیوی کو اور اُسکے ساتھ اسکے دونوں بیٹوں کو لیکر تیرے پاس آیا ہوں۔
7 تب مُوسیٰ اپنے سسر سے ملنے کو باہر نکلا اور کو رنش بجا لا کر اُسکو چُوما اور وہ ایک دوسرے کی خیروعافیت پُوچھتے ہوئے خَیمہ میں آئے ۔
8 اور مُوسیٰ نے اپنے سسر کو بتایا کہ خُداوند نے اِسرائیل کی خاطر فرعون کے ساتھ کیا کیا کِیا اور اِن لوگوں پر راستہ میں کیا کیا مُصیبتیں پڑیں اور خُداوند اُنکو کس کس طرح بچاتا آیا ۔
9 اور تیو ان سب اِحسانوں کے سبب سے خُداوند نے اِسرائیل پر کئے کہ اُنکو مصریوں کے ہاتھ سے نجات بخشی باغ باغ ہوا۔
10 اور تیرونے کہا خُداوند مُبارک ہو جس نے تُمکو مصریوں کے ہاتھ اور فرعون کے ہاتھ سے نجات بخشی اور جس نے اس قوم کو مصریوں کے پنجہ سے چھڑایا۔
11 اب میں جان گیا کہ خُداوند سب معبودوں سے بڑا ہے کیونکہ وہ اُن کاموں میں جو اُنہو ں نے غرورسے کئے اُن پر غالب ہُوا۔
12 اور مُوسیٰ کے سسر تیرو نے خُدا کے لئے سوختنی قربانی اورذبیحے چڑھائے اور ہارون اور اِسرائیل کے سبب بزرگ مُوسیٰ کے سسر کے ساتھ خُدا کے حضور کھانا کھانے آئے ۔
13 اور دوسرے دن مُوسیٰ لوگوں کی عدالت کرنے بیٹھا اور لوگ مُوسیٰکے آس پاس صُبح سے شام تک کھڑے رہے ۔
14 اور جب مُوسیٰ کے سسر نے سب کچھ جو وہ لوگوں کے لئے کرتا تھا دیکھ لیا تو اُس سے کہا یہ کیا کام ہے جو تُو لوگوں کے لئے کرتا ہے ؟ تُو کیوں آپ اکیلا بیٹھتا ہے اور سب لوگ صُبح سےشام تک تیرے آس پاس کھڑے رہتے ہیں۔
15 مُوسیٰ نے اپنے سسر سے کہا اِسکا سبب یہ ہے کہ لوگ میرے پاس خُدا سے دریافت کرنے کے لئے آتے ہیں۔
16 جب اُن میں کُچھ جھگڑا ہوتا ہےتو وہ میرے پاس آتےہیں اور میں اُنکے درمیان اِنصاف کرتا اور خُداکےا حکاماور شریعت اُنکو بتاتا ہُوں۔
17 تب مُوسیٰ کے سسر نے اُس سے کہا کہ تو اچھا کام نہیں کرتا ۔
18 اِس سے تُو بلکہ یہ لوگ بھی جو تیرے ساتھ ہیں قطی گُھل جا ئینگے کیو نکہ یہ کام تیرے لئے بہت بھاری ہے۔ تُو اکیلا اِسے نہیں کر سکتا ۔
19 سو اب تُو میری بات سُن ۔ میَں تُجھے صلاح دیتا ہوں اور خُدا تیرے ساتھ رہے ۔ تُو اِن لوگوں کے لئے خُدا کے سامنے جایا کر اور اِنکے سب معاملے خُدا کے پاس پہنچا دِیا کر ۔
20 اور تُو رسوم اور شریعت کی باتیں اِنکو سِکھایا کر اور جس راستہ اِنکو چلنا اور ہر کام اِنکو کرنا ہو وہ اِنکو بتا یا کر۔
21 اور تُو اِن لوگوں میں سے ایسےلالق اشخاص چُن لے جو خُدا ترس اور سچے اور رشوت کے دشمن ہوں اور اُنکو ہزار ہزار اور سو سو اور پچاس پچاس اور دس دس آدمیو ں پر حاکم بنا دے۔
22 کہ وہ ہر وقت لوگوں کا اِنضاف کِیا کریں اور اَیسا ہو کر بڑے بڑے مقدمے تو وہ تیرے پاس لائیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا فیصلہ حُود ہی کر دِیا کریں۔ یُوں تیرا بوجھ ہلکا ہو جا ئیگا اور وہ بھی اُسکے اُٹھانے میں تیرے شریک ہونگے ۔
23 اگر تُو یہ کام کرے اور خُدا بھی تُجھے ایسا ہی حکم دے تو تُو سب کچھ جھیل سکیگا اور یہ لوگ بھی اپنی جگہ اطمینان سےجا ئینگے ۔
24 اور مُوسیٰ نے اپنے سسر کی بات مانکر جیسا اُس نے بتایا تھا ویسا ہ ہی کیا ۔
25 چُنانچہ مُوسیٰ نے سب اِسرائیلیوں میں سے لا لق اشخاص چُنے اور اُنکو ہزار ہزار اور سو سو اور پچاس پچاس اور دس دس آدمیوں کے اوپر حاکم مُقرر کیا ۔
26 سو یہی ہر وقت لوگوں کا اِنضاف لگے ۔ مشکل مقدمات تو وہ موسیٰ کے پاس لے آتے تھے پر چھوٹی چھوٹی باتوں کا فیصلہ خُود ہی کر دیتے تھے ۔
27 پھر موسیٰ نے اپنے سسر کو رخصت کیا اور وہ اپنے وطن کو روانہ ہو گیا ۔


باب 19

1 اور بنی اِسرائیل کو جس دن مُلِک مصر سے نکلے تین مہینے ہو ئے اُصی دن وہ سینا کے بیابان میں آئے ۔
2 اور جب وہ رفیدیم سے روانہ ہو کر سِینا کے بیابان میں آئے تو بیا بان ہی میں ڈیرے لگالئے ۔ سو وہیں پہاڑ کے سامنے اِسرائیلیوں کے ڈیرے لگے ۔
3 اور مُوسیٰ اُس پر چڑھکر خُدا کے پاس گیا اور خُداوند نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا کہ تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اِسرائیل کو سُنا دے ۔
4 کہ تُم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تُمکا گویا عُقاب کے پروں بیٹھاکر اپنے پاس لے آیا ۔
5 سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے ۔
6 اور تم میرے لئے کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مقدس قوم ہوگے ۔ ان ہی باتوں کو تو بنی اِسرائیل کو سنا دینا ۔
7 تب مُوسیٰ نے آکر اور اُن لوگوں کے بزرگوں کو بلا کر اُنکے رُوبرو وہ سب باتیں جو خُدا وند نے اسے فرمائی تھیں بیان کیں۔
8 اور سب لوگوں نے ملکر جواب دیا کہ جو کچھ خُداوند نے فرمایا ہے وہ سب ہم کر ینگے اور مُوسیٰ نے لوگوں کا جواب خُداوند کو جا کر سنا یا۔
9 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ دیکھ میں کالے بادل میں اسلئے تیرے پاس آتا ہوں کہ جب میں تُجھ سے باتیں کروں تو یہ لوگ سُنیںاور سدا تیرا یقین کریں اور مُوسیٰ نے لوگوں کی باتیں خُداوند سے بیان کیں ۔
10 اور خُداوند نے مُوسیٰ کہا کہ لوگوں کے پاس جا اور آج اور کل اُنکو پاک کر اور وہ اپنے کپڑے دھولیں ۔
11 اور تیسرے دان تیار رہیں کیونکہ خُداوند تیسرے دن لوگوں کو دیکھتے دیکھتے کوہ سینا پر اتریگا۔
12 اور تو لوگوں کے لئے طرف حد باندھ کر اُن سے کہہ دینا کہ خبردار تُم نہ اس پہاڑ پر چڑھنا اور نہ اسکے دامن کو چھونا ۔ جو کوئی پہاڑ کو چھوئے ضرور جان سے مارڈلا جائے۔
13 مگر اُسے کوئی ہاتھ نہ لگائے بلکہ وہ لا کلام سنگسار کیا جائے یا تیرے چھیدا جائے خواہ وہ انسان ہو خواہ ہو حیوان وہ جیتا نہ چھوڑا جائے اور جب نر سنگا دیر تک پھونکا جائے تو وہ سب پہاڑ کے پاس آجائیں ۔
14 تب مُوسیٰ پہاڑ پر سے اُترکر لوگوں کے پاس گیا اور اُس نے لوگوں کو پاک صاف کیا اور اُنہوں نے اپنے کپڑے دھولئے ۔
15 اور اُس نے لوگوں سے کہہ کہ تیسرے دن تیار رہنا اور عورت کے نزدیک نہ جانا۔
16 جب تیسرا دن آیا تو صبح ہوتے ہی بادل گرجنے اور بجلی چمکنے لگی اور پہاڑ پر کالی گھٹا چھا گئی اور قرناکی آواز بہت بلند ہوئی اور سب لوگ ڈیروں میں کانپ گئے ۔
17 اور مُوسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خُدا سے مِلائے اور وہ پہاڑ سے نیچے آکھڑے ہوئے ۔
18 اور کوہ سینا اُوپر سے نیچے تک دُھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خُداوند شُعلہ میں ہو کر اُس پر اُترا اور دھواں تنُور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا ۔
19 اور جب قرناکی آواز نہایت ہی بلند ہوتی گئی تو مُوسیٰ بولنے لگا اور خُدانے آواز کے ذریعہ سے اُسے جواب دیا ۔
20 اور خُداوند کوہ سینا کی چوٹی پر اُترااور خُدواند نے پہاڑ کی چوٹی پر مُوسیٰ کو بلایا۔سو مُوسیٰ اُوپر چڑھ گیا۔
21 اور خُداوند نے موسیٰ سے کہا کہ نیچے اتر کر لوگوں کو تاکید اًً سمجھا دے تا ایسا نہ ہو کہ وہ دیکھنے کے لئے حدوں کو توڑ کر خُداوند کے پاس آجائیں اور اُن میں سے بہتیرے ہلاک ہو جائیں۔
22 اور کاہن بھی جو خُداوند کے نز دیک آیا کرتے ہیں اپنے تئیں پاک کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ خُاوند اُن پر ٹوٹ پڑے۔
23 تب مُوسیٰ نے خُداوند سے کہا کہ لوگ کوہ سینا پر نہیں چڑھ سکتے کیونکہ تو نے تو ہمکو تاکیداًً کہا ہے کہ پہاڑ کے چوگرد حد بندی کرکے اُسے پاک رکھو ۔
24 خُادوند نے اُسے کہا نیچے اُتر جا اور ہارون کو اپنے ساتھ لیکرآ پر کاہن اور عوام حدیں توڑ کر خُداوند کے پاس اوپر نہ آئیں تا نہ پڑ ے۔
25 چنانچہ مُوسیٰ نیچے اتر کر لوگوں کے پاس گیا اور یہ باتیں اُنکو بتائیں ۔


باب 20

1 اور خُدا نے یہ سب باتیں اُنکو بتائیں۔ ۔
2 خُداوندتیرا خُدا جو تُجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہُوں۔
3 میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا ۔
4 تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنا نا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔
5 تو اُنکے آگے سجدہ نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔
6 اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔
7 تو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اسکا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اسے بے گناہ ٹھہرائیگا۔
8 یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا ۔
9 چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔
10 لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرابیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔
11 کیونکہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اسلئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
12 تو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس مُلِکک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو ۔
13 تو خُون نہ کر ۔
14 تُو زِنانہ کر۔ّ
15 ) تُو چوری نہ کر۔
16 تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی دینا ۔
17 تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔
18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔
19 اور مُوسیٰ سے کہنے لگے تُو ہی ہم سے باتیں کیا کر اور ہم سن لیا کریں گے لیکن خُدا ہم سے باتیں نہ کرے تانہ ہو کہ ہم مر جائے ۔
20 مُوسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تم ڈرو مت کیو نکہ خُدا اس لئے آیا ہے کہ تمہارا امتحان کرے اور تم کو اُس کا خوف ہو تاکہ تم گناہ نہ کرو ۔
21 اور وہ لوگوں دور ہی کھڑے رہے اور مُوسیٰ اُس گہری تاریکی کے نزدیک گیا جہاں خُدا تھا۔
22 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا تُو بنی اِسرائیل سے یہ کہنا کہ تُم نے خود دِیکھاکہ میں نے آسمان پر سے تمہارے ساتھ باتیں کیں۔
23 تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا یعنی چاندی یا سونے کے دیوتا اپنے لئے نہ گھڑلینا ۔
24 اور تو مٹی کی ایک قربانگاہ میرے لئے بنایا کرنا اور اُس پر اپنی بھیڑ بکریوں اور گائے بیلوں کی سوختنی قربانیاں اور سلامتی کی قربانیاں چڑھنا جہاں جہاںمیں اپنے نام کی یاد گاری کراؤنگا وہاں میں تیرے پاس ؤکر تجھے برکت دونگا ۔
25 اور اگر تُو میرے لئے پتھر کی قربانگاہ بنائے تو تراشے ہوئے پتھر سے بنانا کیونکہ اگر تو اس پر اپنے اوزار لگائے تو تُو اسے ناپاک کر دیگا۔
26 اور تُو اُس پرسیڑھیو ں سے ہر گز نہ چڑھناتانہ ہو کہ تیری برہنگی اُس پر ظاہر ہو۔


باب 21

1 وہ احکام جو تُجھے اُنکو بتانے ہیں یہ ہیں۔
2 اگر تو کوئی عبرانی غلام خریدے تو وہ چھ برس خدمت کرے اور ساتویں برس مُفت آزاد ہو کر چلاجائے۔
3 اگر وہ اکیلاآیا ہو تو اکیلا ہی چلا جائے اور اگر وہ بیاہا ہو تو اُسکی بیوی بھی اُسکے ساتھ جائے ۔
4 اگر اُسکے آقانے اُسکا بیا ہ کرایا ہو اور اُس عورت کے سے بیٹے اور بیٹیاں ہوئی ہوں تو وہ عورت اور اُسکے بچےاُس آقا کے ہو کر رہیں اور وہ اکیلا چلا جائے ۔
5 پر اگر وہ غلام صاف کہہ دے کہ میں اپنے آقا سے اور اپنی بیوی اور بّچوں سے محبّت رکھتا ہوں ۔ میں آزاد ہو کر نہیں جائُونگا ۔
6 تو اُسکا آقا اُسے خُدا کے پاس لے جائے اور اُسے دروازہ پر ےا دروازہ کی چوکھٹ پر لاکر سُتاری سے اُسکا کان چھیدے تب وہ ہمیشہ اُسکی خدِمت کرتا رہے۔
7 اور اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کو لوَنڈی ہونے کے لئے بیچ ڈالے تو وہ غلا موں کی طرح چلی نہ جائے ۔
8 اگر اْ سکا آقا جِس نے اْس سے نِسبت کی ہے اْسے خوْش نہ ہو تو وہ اْسکا فِدیہ منظْور کرے پر اْسے یہ اِختیار نہ ہو گا کہ اْسکو کسِی اجنبی قَوم کے ہاتھ بیچے کیونکہ اْس نے اْس سے دغابازی کی۔
9 اور اگر وہ اُسکی نِسبت اپنے بیٹے سے کر دے تو وہ اُس سے بیٹیوں سا سلُوک کرے ۔
10 اگر وہ دُوسری عورت کر لے تو بھی وہ اُس کے کھا نے کپڑے اور شادی کے فرض سے قاصر نہ ہو ۔
11 اور اگر وہ اُس سے یہ تینوں باتیں نہ کرے تو وہ مُفت بے روپے دِئے چلی جائے ۔
12 اگر کوئی کسِی آدمی کو اَیسا مارے کہ وہ مرجائے تو وہ قطعی جان سے مارا جائے
13 پر اگر وہ شخص گھات لگا کر نہ بیٹھا ہو بلکہ خُدا ہی نے اُسے اُسکے حوالہ کر دیا ہو تو مَیں اَیسے حال میں ایک جگہ بتادُونگا جہاں وہ بھاگ جائے ۔
14 اور اگر کوئی دِیدہ ودانِستہ اپنے ہمسایہ پر چڑھ آئے تاکہ اُسے مکر سے مار ڈالے تو تُو اُسے میری قُربانگا ہ سے جُدا کر دینا تاکہ وہ مارا جائے ۔
15 اور جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں کو مارے وہ قطعی جان سے مارا جائے ۔
16 اور جو کوئی کِسی آدمی کو چُرائے خواہ وہ اُسے بیچ ڈالے خواہ وہ اُسکے ہاں ملے وہ قطعی مار ڈالا جائے ۔
17 اور جو اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرے وہ قطعی مار ڈالا جاے ۔
18 اور اگر وہ شخص جھگڑیں اور ایک دُوسرے کو پتھر یا مُکا مارے اور وہ مر ے تو نہیں پر بستر پر پڑا رہے ۔
19 تو جب وہ اُٹھکر اپنی لاٹھی کے سہارے باہر چلنے پھرنے لگے تب وہ جِس نے مارا تھا بری ہو جائے اور فقط اُسکا ہرجانہ بھر دے اور اُسکا پورا علاج کرا دے ۔
20 اور اگر کوئی اپنے غُلام یا لَونڈی کو لاٹھی سے ایسا مارے کہ وہ اُسکے ہاتھ سے مر جائے تو اُسے ضرور سزا دی جائے ۔
21 لیکن اگر وہ ایک دُو دِن جِیتا رہے تو آقا کو سزا نہ دی جائے اِسلئے کہ وہ غُلام اُسکا مال ہے ۔
22 اگر لوگ آپس میں مار پیٹ کریں اور کسی حاملہ کو ایسی چوٹ پہنچایئں کہ اُسے اِسقاط ہو جائے پر اور کوئی نُقصان نہ ہو تو اُس سے جتنا جُرمانہ اُسکا شوہر تجویز کرے لیا جائے اور وہ جس طرح قاضی فیصلہ کریں جُرمانہ بھر دے ۔
23 لیکن اگر نُقصان ہو جائے تو تُو جان کے بدلے جان لے ۔
24 اور آنکھ کے بدلے آنکھ ۔ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ ۔ پاؤں کے بدلے پاؤں ۔
25 جلانے کے بدلے جلانا ۔ زخم کے بدلے زخم اور چوٹ کے بدلے چوٹ ۔
26 اور اگر کوئی اپنے غُلام یا اپنی لونڈی کی آنکھ پر ایسا مارے کہ وہ پُھوٹ جائے تو وہ اُسکے آنکھ کے بدلے اُسے آزاد کر دے ۔
27 اگر کوئی اپنے غُلام یا اپنی لونڈی کا دانت مار کر توڑ دے تو وہ اُسکے دانت کے بدلے اُسے آزاد کر دے ۔
28 اگر بیل کسی مرد یا عورت کو اِیسا سِینگ مارے کہ وہ مر جائے تو وہ بیل ضرور سنگسار کیا جائے اور اُسکا گوشت کھا یا نہ جائے لیکن بیل کا مالک بے گناہ ٹھہرے ۔
29 پر اگر اُس بیل کی پہلے سے سَینگ مارنے کی عادت تھی اور اُسکے مالک کو بتا بھی دیا گیا تھا تو بھی اُس نے اُسے باندھکر نہیں رکھا اور اُس نے کِسی مرد یا عورت کو مار دیا ہو تو بیل سنگسار کیا جائے اور اُسکا مالک بھی مارا جائے ۔
30 اور اگر اُس سے خُون بہامانگا جائے تو اُسے اپنی جان کے فدیہ میں جتنا اُسکے لِئے ٹھہرایا جائے اُتنا ہی دینا پڑیگا ۔
31 خواہ اُسنے کسی کے بیٹے کو مارا ہو یا بیٹی کو اِسی حُکم کے مُوافق اُسکے ساتھ عمل کیا جائے ۔
32 اگر بیل کسی کے خُلام یا لونڈی کو سینگ سے مارے تو مالک اُس غُلام یا لونڈی کے مالک کو تیس مِثقال روپے دے اور بیل سنگسار کیا جائے ۔
33 اور اگر کوئی آدمی گڑھا کھولے یا کھودے اور اُسکا مُنہ نہ ڈھانپے اور کوئی بیل یا گدھا اُس میں گر جاے ۔
34 تو گڑھے کا مالک اِسکا نُقصان بھر دے اور اُنے کے مالک کو قمیت دےاور مرے ہو ئے جانور کو خُود لےلے ۔
35 اور اگر کسی کا بیل دُوسرے کے بیل کو اَیسی چوٹ پہنچائے کہ وہ مر جائے تو وہ جِیتے بیل کو بیچیں اور اُسکا دام آدھا آدھا آپس میں بانٹ لیں اور اِس مرے ہو ئے بیل کو اَیسے ہی بانٹ لیں ۔
36 اور اگر معلوم ہو جائے کہ اُس بیل کی پہلے سے ہی سینگ مارنے کی عادت تھی اور اُسکے مالک نے اُسے باندھکر نہیں رکھا تو اُسے قطعی بیل کے بدلے بیل دِینا ہو گا اور وہ مرا ہوا جانور اُسکا ہوگا


باب 22

1 اگر کوئی آدمی بیل یا بھیڑچُرالے اور اُسے ذبح کر دے یا بیچ ڈالے تو وہ ایک بیل کے کے بدلے پانچ بیل اور ایک بھیڑکے بدلے چار بھیڑیں بھرے۔
2 اگر چور سیندھ مارتے ہو ئے پکڑا جائے اور اُس پر اَیسی مار پڑے کہ وہ مر جائے تو اُسکے خُون کا کوئی جُرم نہیں ۔
3 اگر سوْرج نکل چکے تو اُس کا خون جرم ہو گا بلکہ اسے نقصان بھرنا پڑیگا اور اگر اُسکے پاس کچھ نہ ہو تو وہ چوری کے لئے بیچا جائے ۔
4 اگر چوری کا مال اسکے پاس جیتا مِلے خُواہ وہ بیل ہو یا گدھا یا بھیڑ تو وہ اسکا دُونا بھر دے۔
5 اگر کوئی آدمی کسی کھیت یا تاکِستان کو کھلوا دے اور اپنے جانور کو چھوڑ دے کہ وہ دوسرے کے کھیت کو چرلے تو اپنے کھیت یا تاکستان کی اچھی سے اچھی پیداوار میں سے اسکا معاوضہ دے ۔
6 اگر آگ بھڑ کے اور کانٹو ں میں لگ جائے اور اناج کے ڈھیر یا کھڑی فصل یا کھیت کو جالا کر بھسم کر دے تو جس نے آگ جلائی ہو وہ ضرور معاوضہ دے۔
7 اگر کوئی اپنے ہمسایہ کو نقد یا جنس رکھنے کو دے اور وہ اُس شخص کے گھر سے چوری ہو جائے تو اگر چور پکڑا جائے تو دونا اُسکو بھرنا پڑیگا ۔
8 پر اگر چور پکڑا نہ جائے تو اُس گھر کا مالک خُدا کے آگے لایا جائے تا کہ معلوم ہو جائے کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کے مال کو ہاتھ نہیں لگایا ۔
9 ہر قسم کی خیانت کے معاملہ میں خواہ بیل کا خواہ گدھے یا بھیڑیا کپڑے یا لسی اور کھوئی ہوئی چیز کا ہوجسکی نسبت کو ئی بول اُٹھے کہ وہ چیز یہ ہے تو فریقین کا مُقدمہ خُدا کے حضور لا یا جائے اور جسے خُدا مجرم ٹھہرائے وہ اپنے ہمسایہ کو دونا بھر دے۔
10 اگر کوئی اپنے ہمسایہ کے پاس گدھا یا بیل یا بھیڑیا کوئی اور جانور امانت رکھے اور وہ بغیر کسی کے دیکھے مر جائے یا چوٹ کھا ئے یا ہنکا دیا جائے۔
11 تو ان دونوں کے درمیان خُداوند کی قسم ہو کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کے مال کو ہاتھ نہیں لگایا اور مال کو ہاتھ نہیں لگایا اور مالک اسے سچ مانے اور دوسرا اسکا معاوضہ نہ دے ۔
12 پر اگر وہ اسکے پاس سے چوری ہو جائے تو وہ اسکے مالک کو معاوضہ دے ۔
13 اور اگر اسکو کسی درندے نے پھاڑ ڈالا ہو تو وہ اسکو گواہی کے طور پیش کردے اور پھاڑے ہوئے کا نقصان نہ بھرے ۔
14 اگر کوئی شخص اپنے ہمسایہ سے کوئی جانور عاریت لے اور وہ زخمی ہوجئے یا مر جائے اور مالک وہاں موجود نہ ہو تو وہ ضرور اسکا معاوضہ دے ۔
15 پر اگر مالک ساتھ ہو تو اسکا نقصان نہ بھرے اور اگر کرایہ کی ہوئی چیز ہو تو اسکا نقصان اسکے کرایہ میں آگیا۔
16 اگر کوئی آدمی کسی کنواری کو جسکی نسبت نہ ہوئی ہو پھسلا کر اس سے مبا شرت کرے تو وہ ضرور ہی اسے مہر دیکر اس سے بیاہ کرے ۔
17 لیکن اگر اسکا باپ ہرگز راضی نہ ہو کہ اس لڑکی کو اسے دے تو وہ کنواریوں کے مہر کے موافق اسے نقدی دے۔
18 تو جادو گرنی کو جینے نہ دینا۔
19 جو کوئی کسی جانور سے مبا شرت کرے وہ قطعی جان سے ماراجائے ۔
20 جو کوئی واحد خُداوند کو چھوڑ کر کسی اور معبود کے آگے قربانی چڑھائے وہ بالکل نا بود کر دیا جائے۔
21 اور تو مسافر کو نہ ستانا نہ اس پر ستم کرنا اسلئےب کہ تم بھی مُلِک مصر میں مسافر تھے۔
22 تم کسی بیوہ یا یتیم لڑکے کو دکھ نہ دینا ۔
23 اگر تو انکو کسی طرح سے دکھ دے اور وہ مجھ سے فریاد کریں تو مَیں ضرور انکی فریاد سنونگا۔
24 اور میرا قہر بھڑ کیگا اور میں تمکو تلوار سے مار ڈالونگا اور تمہاری بیویاں بیوہ اور تمہارے بچے یتیم ہوجا ئینگے ۔
25 اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی مُحتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو کچھ قرض دے تو اس سے قرضخواہ کی طرح سلُوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔
26 اگر تو کسی وقت اپنے ہمسایہ کے کپڑے گرد رکھ بھی لے تو سورج کے ڈوبنے تک اسکو واپس کر دینا ۔
27 کیونکہ فقط وہی اسکا ایک اوڑھنا ہے۔ اسکے جسم کا وہی لباس ہے۔ پھر وہ کیا اوڑھکر سوئیگا ؟ پس جب وہ فریاد کریگا تو میں اسکی سنونگا کیونکہ میں مہربان ہوں۔
28 تُو خُدا کو نہ سُنا اور نہ اپنی قوم کے سردار پر لعنت بھیجنا۔
29 تُو اپنی کثیر پیدا وار اور اپنے کو لُھو کے رس میں سے مجھے نذر دنیازدینے ص میں دیر نہ کر نا اور اپنے بیٹوں میں سے پہلوٹھے کو مجھے دینا۔
30 اپنی گایوں اور بھیڑوں سے بھی اِیسا ہی کر نا ۔ سات دن تک تو بچہ اپنی ماں کے ساتھ رہے ۔ آٹحویں دن تُو اُس کو مجھے دینا ۔
31 اور تم میرے لئے پاک آدمی ہو نا ۔اِسی سبب سے درِندوں کے پھاڑے ہُو ئے جانور کا گوشت جو میدان میں پڑا ہو ا ملے مت کھا نا ۔ تُم اُسے کُتوں کے آگے پھینک دینا ۔


باب 23

1 تُو جھوٹی بات نہ پھیلانا اور نا راست گواہ ہو نے کے لئے شرِیروں کا ساتھ نہ دینا ۔
2 بُرائی کرنے کے لئے کِسی بھیڑ کی پیروی نہ کرنا اور نہ کسی مُقدمہ میں اِنصاف کا خُون کرانے کے لئے بھیڑ کا مُنہ دیکھ کر کُچھ کہنا ۔
3 اور نہ مُقدمہ میں کنگال کی طرفداری کرنا ۔
4 تُو تیرے دُشمن کا بیل یا گدھا تُجھے بھٹکتا ہوا ملے تو تُو ضرور اُسے اُسکے پاس پھیر کر لے آنا ۔
5 اگر تُو اپنے دُشمن کے گدھے کو بوجھ کے نیچے دبا ہوا دیکھے اور اُسکی مدد کرنے کو جی بھی نہ چاہتا ہو تو بھی ضرور اُسے مدد دینا ۔
6 تُو اپنے کنگال لوگوں کے مُقدمہ میں اِنصاف کا خُون نہ کر نا ۔
7 جُھوٹے مُعاملہ سے دُور رہنا اور بے گُناہوں اور صادِقوں کو قتل نہ کرنا کیو نکہ مَیں شریرکو راست نہیں ٹھہراؤنگا ۔
8 تُو رِشوت نہ لینا کیو نکہ رِشوت بِیناؤں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادقوں کی با توں کو پلٹ دیتی ہے ۔
9 اور پردیسی پر ظُلم نہ کرنا کیو نکہ تُم پردیسی کے دل کو جانتے ہو اِسلئے کہ تُم خُود بھی مُلِک مصر میں پردیسی تھے ۔
10 اور چھ برس تک تُو زمین میں بونا اور اُسکا غلّہ جمع کر نا ۔
11 پر ساتویں برس اُسے یُوں ہی چھوڑدینا کہ پڑتی رہے تاکہ تیری قُوم کے مسکین اُسے کھایئں اور جو اُن سے بچے اُسے جنگل کے جانور چرلیں ۔ اپنے انگور اور زیتون کے باغ سے بھی اَیسا ہی کرنا ۔
12 چھ دن تک اپنا کام کاج کرنا اور ساتویں دن آرام کرنا تاکہ تیرے بیل اور گدھے کو آرام مِلے اور تیری لَونڈی کا بیٹا اور پردیسی تازہ دم ہو جایئں ۔
13 اور تُم سب باتوں میں جو مَیں نے تُم سے کہی ہیں ہوشار رہنا اور دُوسرے معبُودوں کا نام تک نہ لینا بلکہ وہ تیرے مُنہ سے سُنائی بھی نہ دے ۔
14 تُو سال بھر میں تین بار میرے لِئے عید منانا ۔
15 عید فطیر کو ماننا ۔ اپس میں میرے حُکم کے مُطابق ابیب مہینے کے مُقّررہ وقت پر سات دِن تک بے خمیری روٹیاں کھانا ( کیو نکہ اُسی مہینے میں تُو مِصر سے نکلا تھا ) اور کو ئی میرے آگے خالی ہاتھ نہ آئے ۔
16 اور جب تیرے کھیت میں جِسے تُو نے محنت سے بویا پہلا پھل آئے تو فصل کا ٹنے کی عید ماننا اور سال کے آخر میں جب تُو اپنی مِحنت کا پھل کھیت سے جمع کرے تو جمع کرنے کی عید منانا ۔
17 اور سال میں تینوں مرتبہ تُمہارے ہاں کے سب مرد خُداوند خُدا کے آگے حاضر ہو ا کریں ۔
18 تُو خمیری روٹی کے ساتھ میرے ذبیحہ کا خُون نہ پڑھا نا اور میری عید کی چربی صُبح تک باقی نہ رہنے دینا ۔
19 تُو اپنی زمین کے پہلے پھلوں کا پہلا حِصہ خُداوند اپنے خُدا کے گھر میں لانا ۔ تُو حلوان کو اُسکی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا ۔
20 دیکھ مَیں ایک فرشتہ تیرے آگے بھیجتا ہوں کہ راستہ میں تیرا نگہبان ہو اور تجھے اُس جگہ پہنچا دے جسے مَیں نے تیار کیا ہے ۔
21 تُم اُسکے آگے ہوشار رہنا اور اُسکی بات ماننا ۔ اُسے ناراض نہ کرنا کیو نکہ وہ تُمہاری خطا نہیں بخشیگا اِسلئے کہ میرا نام اُس میں رہتا ہے ۔
22 پر اگر تُو سچ مچ اُسکی بات مانے اور جو مَیں کہتا ہوں وہ سب کرے تو مَیں تیرے دُشمنوں کا دُشمن اور تیرے مُخالِفوں کا مُخالف ہُونگا ۔
23 اِسلئے کہ میرا فرشتہ تیرے آگے آگے چلیگا اور تجھے اموریوں اور حِتّیوں اور فرزّیوں اور کنعانیوں اور حوّیوں اور یبوسیوں میں پہنچا دیگا اور مَیں انکو ہلاک کر ڈالُونگا ۔
24 تُو اُنکے معُنودوں کو سجدہ نہ کر نا نہ اُنکی عبادت کر نا نہ انکے سے کام کر نا بلکہ اُنکو بالکل اُلٹ دینا اور اُنکے سُتونوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے کر ڈالنا ۔
25 اور تُم خُداوند اپنے خُدا کی عبادت کرنا تب وہ تیری روٹی اور پانی پر برکت دیگا اور مَیں تیرے بیچ سے بیماری کو دُور کر دُونگا ۔
26 اور تیرے مُلک میں نہ تو کسی کے اِسقاط ہو گا اور نہ کوئی بانجھ رہیگی اور مَیں تیری عمر پوری کرونگا ۔
27 مَیں اپنی ہیبت کو تیرے آگے آگے بھیجونگا اور مَیں اُن سب لوگوں کو جنکے پاس تُو جائیگا شکت دُونگا اور مَیں اَیسا کرونگا کہ تیرے سب دُشمن تیرے آگے اپنی پُشت پھیردینگے ۔
28 مَیں تیرے آگے زنبوُروں بھیجونگا جو حوّی اور کنعانی اور حِتّی کو تیرے سامنے سے بھگا دینگے ۔
29 مَیں اُنکو ایک ہی سال میں تیرے آگے سے دُور نہیں کرونگا تا نہ ہو کہ زمین ویِران ہو جائے اور جنگلی دِرندے زیادہ ہو کر تجھے ستانے لگیں ۔
30 بلکہ مَیں تھوڑا تھوڑا کر کے اُنکو تیرے سامنے سے دُور کرتا رہونگا جب تک تُو شُمار میں بڑھ کر مُلک کا وارث نہ ہو جائے ۔
31 مَیں بِحرقُلزم سے لے کر فلستیوں کے سمندر تک اور بیابان سے لےکر نِہر فرات تک تیری حدّیں با ندھُونگا کیونکہ مَیں اُس مُلک کے باشندوں کو تُمہارے ہاتھ میں کردُونگا اور تُو اُنکو اپنے آگے سے نکا ل دیگا ۔
32 تُو اُن سے یا اُنکے معبودوں سے کوئی عہد نہ باندھنا ۔
33 وہ تیرے مُلک میں رہنے نہ پایئں تا نہ ہو کہ وہ تجھ سے میرے خِلاف گُناہ کرایئں کیو نکہ اگر تُو اُن کے معبودوں کی عبا دت کرے تو یہ تیرے لِئے ضرور پھنداہوجائیگا۔


باب 24

1 اور اُس نے مُوسیٰ سےکہا کہ تُو ہارُون اور ندب اور ابہیو اور بنی اِسرائیل کے ستر بُزرگو ں کو لیکر خپداوند کے پاس اُوپر آاور تُم دُور ہی سے سجدہ کرنا۔
2 اور مُو سیٰ اکیلا خُداوند کے نزدیک آئے پر وہ نزدیک نہ آئیں اور اَور لو گ اُسکے ساتھ اُوپر نہ چڑھیں ۔
3 اور مُو سیٰ نے لو گو ں کے پاس جا کر خُداوند کی سب با تیں اوراحکام اُنکو بتا دِئے اور سب لو گو ں نے ہم آواز ہو کر جو اب دِیا کہ جِتنی با تیں خُداوند نے فرما ئی ہیں ہم اُن سب ما ئنیگے ۔
4 اور مُو سیٰ نے خُداوند کیسب با تیں لکھ لیں اور صُبح کو سو یرے اُٹھ کر پہاڑ کے نیچے ایک قُر با نگاہ اور بنی اِسرائیل کے بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ سُتون بنائے۔
5 اور اُس نے بنی اِسرائیل کے جو انو ں کو بھیجا جنہوں نے سو ختنی قُر با نیاں چڑھا ئیں اور بیلوں کو ذبح کر کے سلامتی کے ذبحیے خُداوند کے لئے گُذرانے ۔
6 اور مُوسیٰ نے آدھا خُون لیکر با سنوں میں رکھّا اور آدھا قُربانگاہ پر چھڑک دیا ۔
7 پھر اُس نے عہد نامہ لیا اور لو گوں کو پڑھکر سُنا یا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جو کُچھ خُداوند نے فرما یا ہے اُس سب کو ہم کر نیگے اور تا بع رہے گئے ۔
8 تب مُو سیٰ نے اُس خُون کو لیکر لو گوں پر چھڑکا اور کہا دیکھو یہ اُس عہدکا خُون ہے جو خُداوند نے اِن سب با توں کے بارے میں تُمہارے ساتھ با ند ھا ہے ۔
9 تب مُو سیٰ اور ہا رُون اور ندب اور ابہیو اور بنی اِسرائیل کے ستّربُزرگ اُوپر گئے ۔
10 اور اُنہوں نے اِسرائیل کے خُدا کو دیکھا اور اُسکے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبُوترا سا تھا جو آسمان کی ما نند شفاف تھا۔
11 اور اُس نے بنی اِسرائیل کے شرفا پر اپنا ہا تھ نہ بڑھا یا ۔ سو اُنہوں نے خُدا کو دیکھا اور کھا یا اور پِیا۔
12 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ پہاڑپر میرے پاس آاور وہیں ٹھہرا رہ اور مَیں تجھے پتھر کی لَو حیں اور شریعت اور احکام جو مَیں نے لکھّےہیں دُونگا تاکہ تُو اُنکو سکھا ئے ۔
13 اور مُوسیٰ اور اُسکا خادم یشوع اُٹھے اور مُوسیٰ خُدا کے پہاڑ کے اُوپر گیا ۔
14 اور بُزرگوں سے کہہ گیا کہ جب تک ہم لَوٹکر تُمہارے پاس نہ آجا ئیں تُم ہمارے لئے یہیں ٹھہر ے ر ہو اور دیکھو ہا رُون اور جو تُمہارے ساتھ ہیں ۔ جِس کسی کا کو ئی مُقدّمہ ہو وہ اُنکے پاس جا ئے ۔
15 تب مُوسیٰ پہاڑ کے اُوپر گیا اور پہاڑ پر گھٹا چھا گئی ۔
16 اور خُداوند کا جلال کوہِ سینا پر آکر ٹھہر ا اور چھ دن تک گھٹا اُس پر چھا ئی ر ہی اور ساتویں دن اُس نے گھٹا میں سے مُوسیٰ کو بُلایا ۔
17 اور بنی اِسرائیل کی نگاہ میں پہاڑ کی چو ٹی پر خُداوند کے جلال کا منظربھسم کر نے والی آگ کی مانند تھا ۔
18 اور مُوسیٰ گھٹا کے بیچ میں ہو کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہ پہاڑ پر چا لیس دن اور چا لیس رات ر ہا ۔


باب 25

1 اور خُداوند نے مُوسیٰ کو فرمایا ۔
2 بنی اِسرائیلی سے یہ کہنا کہ میرے لئے نذر لا ئیں اور تُم اُن ہی سے میری نذر لینا جو اپنے دل کی خُوشی سے دیں ۔
3 اور جن چیزوں کی نذر تُمکو اُن سے لینی ہے وہ یہ ہیں :۔ سو نا اور چاند ی اور پیتل ۔
4 اور آسمانی اور ارغوانی اور سُر خ رنگ کا کپڑا اور باریک کتان اور بکری کی پشم ۔
5 اور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہو ئی کھالیں اور تخس کی کھالیں اور لیکر کی لکڑی ۔
6 اور چراغ کے لئے تیل اور مسح کر نے کے تیل کے لئے اور بخُور کے لئے مصا لح ۔
7 اور سنگ سلُیمانی اور افُود اور سینہ بند میں جڑانے کے نگینے ۔
8 اور وہ میرے لئے ایک مُقدس بنائیں تاکہ مَیں اُنکے درمیان سکُونت کُروں ۔
9 اور مسکن اور اُسکے سارے سامان کا جو نمونہ مَیں تجھے دکھاؤں ٹھیک اُسی کے مُطابق تُم اُسے بنانا ۔
10 اور وہ لیکر کی لکڑی کی ایک صنُدوق بنا ئیں جسکی لمبائی ڈھائی ہا تھ اور چوڑائی ڈیڑھ ہاتھ اور اُونچائی ڈیڑھ ہا تھ ہو ۔
11 اور تُو اُسکے اندر اور با ہر خا لص سو نا منڈھنا اور اُسکے اُوپر گرداگرد ایک زرّین تا ج ۔
12 اور اُسکے لئے سو نے کے چار کڑے ڈھالکراُسکے چاروں پا یوں میں لگا نا ۔ دو کڑے ایک طرف ہو ں اور دوہی دُوسری طرف ۔
13 اور لیکر کی لکڑی کی چوبیں بنا کر اُن پر سو نا منڈھنا ۔
14 اور اِن چوبوں کو صنُدوق کے اطراف کے کڑوں میں ڈالنا کہ اُنکے سہارے صنُدوق اُٹھ جا ئے ۔
15 چو بیں صنُدوق کے کڑوں کے اندر لگی رہیں اور اُس سے الگ نہ کی جا ئیں ۔
16 اور تُو اُس شہادت نا مہ کو جو مَیں تجھےدُونگا اُسی صنُدوق میں رکھنا ۔
17 اور تُو کفّارہ کا سر پوش خالص سو نے کا بنا نا جِسکا طُول ڈھائی ہاتھ اور عرض ڈیڑھ ہاتھ ہو ۔
18 اور سونے کے دو کروبی سرپوش کے دونوں سروں پر گھڑکر بنا نا ۔
19 ایک کر وبی کو ایک سرے پر اور دُوسرے کروبی کو دُوسرے سرے پر لگانا اور تُم سر پو ش کو اور دونو ں سروں کے کروبیوں کو ایک ہی ٹُکڑے سے بنا نا ۔
20 اور وہ کروبی اِس طرح اوپر کواپنے پر پھیلاےہوں کہ سر پوش کو اپنے پروش ڈھانک لے اور اُن کے منہ آمنے سامنے سر پوش کی طرح ہوں۔
21 اور تُو اُس سر پوش کو اُس صنُدوق کے اُوپر لگا یا اور وہ عہد نا مہ جو مَیں دُونگا اُسے اُس صنُدوق کے اندر رکھنا ۔
22 وہاں مَیں تجھ سے ملا کرونگا اور اُس سر پوش کے اُوپر سے اور کروبیوں کے بیچ میں سے جو عہد نا مہ کے صنُدوق کے اُوپر ہو نگے اُن سب احکام کے بارے میں جو مَین بنی اِسرائیل کے لئے تجھے دُونگا تجھ سے بات چِیت کیا کرُرنگا ۔
23 اور تُو دو ہا تھ لمبی اور ایک ہاتھ چو ڑی اور ڈیڑھ ہا تھ اُونچی کیکر کی لکڑی کی ایک میز بھی بنا نا ۔
24 اور اُسکو خا لص سو نے سے منڈھنا اور اُسکے گردا گرد ایک زرّین تاج بنا نا ۔
25 اور اُسکے چَوگردچار اُنگل چوڑی ایک کنگنی لگانا اور اُس کنگنی کے گردا گرد ایک زرّین تا ج بنا نا ۔
26 اور سو نے کے چار کڑے اُسکے لئے بنا کر کڑوں کو چاروں کو نو ں میں لگا نا جو چاروں پایوں کے مُقابل ہو نگے ۔
27 وہ کڑے کنگنی کے پاس ہی ہوں تاکہ چوبوں کے واسطے جنکے سہارے میز اُٹھائی جا ئے گھروں کا کام دیں ۔
28 اور کیکر کی لکڑی کی چوبیں بنا کر اُنکو سونے سے منڈ ھنا تاکہ میز اُنہی سے اُٹھائی جائے ۔
29 اور تُو اُسکے طباق اور چمچے اور آفتابے اور اُنڈیلنے کے بڑے بڑے کٹورے سب خالص سو نے کے بنا نا ۔
30 اور تُو اُس میز پر نذر کی رو ٹیاں ہمیشہ میرے رُو برُو رکھنا ۔
31 اور تُوخالص سو نے کا ایک شمعدان بنا نا ۔ وہ شمعدان اور اُسکا پایہ اور ڈنڈی سب گھڑ کر بنا ئے جا ئیں اور اُسکی پیالیاں اور لٹو اور اُسکے پُھول سب ایک ہی ٹُکڑے کے بنے ہوں ۔
32 اور اُسکے دونوں پہلُوؤں سے چھ شا خیں با ہر کو نکلتی ہو ں ۔تین شا خیں شمعدان کے ایک پہلُو سے نکلیں اور تین دُوسرے پہلُو سے ۔
33 ایک شا خ میں با دام کے پُھول کی صورت کی تین پیا لیا ں ۔ ایک لٹو اور ایک پُھول ہو اور دُوسری شا خ میں بھی با دام کے پُھو ل کی صُورت کی تین پیا لیا ں ایک لٹو اور ایک پُھول ہو ۔ اِسی طرح شمعدان کی چھؤں شا خوں میں یہ سب لگا ہو ا ہو ۔
34 اور خُود شمعدان میں بادام کے پُھول کی صُورت کی چار پیا لیا اپنے اپنے لٹو اور پھول سمیت ہو ں ۔
35 اور دو شا خوں کے نیچے ایک لٹو ۔ سب ایک ہی ٹُکڑے کے ہوں اور پھر دو شاخو ں کے نیچے ایک لٹو ۔ سب ایک ہی ٹُکڑے کے ہوں ۔ شمعدان کی چھؤں با ہر کو نکلی ہو ئی شا خیں اَیسی ہی ہو ں ۔
36 یعنی لٹو اور شاخیں اور شمعدان سب ایک ہی ٹُکڑے کے بنے ہوں ۔ یہ سب کا سب خا لص سو نے کے ایک ہی ٹُکڑے سے گھڑ کر بنا یا جا ئے ۔
37 اور تُو اُسکے لئے چراغ بنا نا ۔ یہی چرالائیں تاکہ شمعدان کے سامنے روشنی ہو ۔
38 اور اُسکے گُلگیر اور گُلدان خا لص سو نے کے ہوں ۔
39 شمعدان اور یہ سب ظروف ایک قنطار خا لص سو نے کے بنے ہُو ئے ہوں ۔
40 اور دِیکھ تُو اِنکو ٹھیک اِنکے نمونہ کے مُطابق جو تجھے پہاڑ پر دکھایا گیا بنا نا ۔


باب 26

1 اور تُو مسکن کے لئے دس بنانا ۔ یہ بٹے ہو ئے باریک کتان اور آسمانی قِرمزی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں کے ہو ں اور اِن میں کسی ماہر اُستاد سے کروبیوں کی صُورت کڑھوانا ۔
2 ہر پردہ کی لمبائی اٹھائیس ہاتھ اور چوڑائی چار ہاتھ ہو اور سب پردے ایک ہی نا پ کے ہوں ۔
3 اور پا نچ پر دے ایک دُوسرے سے جو ڑے جا ئیں ۔
4 اور تُو ایک بڑے پردہ کے حا شیہ میں بٹے ہُو ئے کنا رے کی طرف جو جو ڑا جا ئیگا آسمانی رنگ کے تُکمے بنا نا اور اَیسے ہ دُوسرے بڑے پردہ کے حا شیہ میں جو اِسکے ساتھ ملا یا جا ئیگا تُکمے بنا نا ۔
5 پچاس تُکمے ایک بڑے پردہ میں بنا نا اور پچاس ہی دُوسرے بڑے پردہ کے حا شیہ میں جو اِسکے ساتھ ملا یا جا ئیگا بنا نا اور سب تُکمے ایک دُوسرے کے آمنے سا منے ہو ن ۔
6 اور سو نے کی پچاس گُھنڈیا ں بنا کر اِن پردوں کو اِن ہی گُھنڈیوں سے ایک دُوسر ے کے ساتھ جوڑ دینا ۔ تب وہ مسکن ایک ہو جائیگا ۔
7 اور تُو بکری کے بال کے پردے بنا نا تاکہ مسکن کے اُوپر خیمہ کا کام دیں ۔ اَیسے پردے گیارہ ہو ں ۔
8 اور ہر پردہ کی لمبا ئی تیس ہاتھ اور چو ڑائی چار ہا تھ ہو ۔ وہ گیارہ ہوں ۔ پردے ایک ہی نا پ کے ہو ں ۔
9 اور تُو پا نچ پردے ایک جگہ اور چھ پر دے ایک جگہ آپس میں جوڑ دینا اور چھٹے پردہ کو خیمہ کے سامنے موڑ کر دُہرا کر دینا ۔
10 اور تُو پچا س تُکمے اُس پردہ کے حاشیہ میں جو با ہر سے ملا یا جائیگا اور پچاس ہی تُکمے دُوسری طرف کے پردے کے حاشیہ میں جو با ہر سے ملا یا جا ئیگا بنا نا ۔
11 اور پیتل کی پچاس گُھنڈیاں بنا کر اِن گُھنڈیوں کو تُکموں میں پہنا دینا اور خیمہ کو جو ڑ دینا تاکہ وہایک ہو جا ئے ۔
12 اور خیمہ کے ہر دوں کا لٹکا ہو ا حصّہ یعنی آدھا پردہ جو بچ رہیگاوہ مسکن کی پچھلی طرف لٹکا ر ہے ۔
13 اور خیمہ کے پردوں کی لمبائی کئ با قی حصّہ میں سے ایک ہا تھ پر دہ اِدھر سے اور ایک ہا تھ پر دہ اُدھر سے مسکن کی دونوں طرف اِدھر اور اُدھر لٹکا ر ہے تا کہ اُسے ڈھا نک لے ۔
14 اور تُو اِس خیمہ کے لئے مینڈھو ں کی سُرخ رنگی ہو ئی کھالوں کا غلاف اور اُسکے اُوپر تخسوں کی کھا لو ں کا غلاف بنانا ۔
15 اور تُو مسکن کے لئے کیکر کی لکڑی کے تختے بنانا کہ کھڑے کئے جائیں ۔
16 ہر تختہ کی لمبا ئی دس ہا تھ اور چوڑائی ڈیڑھ ہا تھ ہو۔
17 اور ہر تختہ میں دو دو چُولیں ہو ں جو ایک دُو سری سے ملی ہو ئی ہو ں ۔ مسکن کے سب تختے اِسی طرح کے بنا نا ۔
18 اور مسکن کے لئے جو تختے تُو بنا ئیگا اُن میں سے بیس تختے جنوبی سمت کے لئے ہوں ۔
19 اور اِن بیسوں تختوں کے نیچے چا ندی کے چا لیس خا نے بنا نا یعنی ہر ایک تختہ کے نیچے اُسکی دونوں چُولوں کے لئے دو دو خا نے ۔
20 اور مسکن کی دُوسری طرف یعنی شما لی سمت کے لئے بیس تختے ہو ں
21 اور اُنکے لئے بھی چا ندی کے چا لیس ہی خا نے ہو ں یعنی ایک تختہ کے نیچے دو دو خا نے ۔
22 اور مسکن کے پچھلے حصّہ کے لئے مغربی سمت میں چھ تختے بنا نا ۔
23 اور اُسی پچھلے حصّہمیں مسکن کے کو نو ں کے لئے دو تختے بنا نا ۔
24 یہ نیچے سے دُہر ے ہو ں اور اِسی طرح اُوپر کے سر ے تک آکر ایک حلقہ میں ملا ئے جا ئیں ۔ دو نو ں تختے اِسی ڈھب کے ہو ں ۔ یہ تختے دو نو ں کو نو ں کے لئے ہو نگے ۔
25 پس آٹھ تختے اور چا ندی کے سو لہ خا نے ہو نگے یعنی ایک ایک تختہ کے لئے دو دو خا نے ۔
26 اور تُو کیکر کی لکڑی کے بینڈے بنا نا ۔ پا نچ بینڈے مسکن کے ایک پہلو کے تختوں کے لئے ۔
27 اور پا نچ بینڈے مسکن کے دُوسرے پہلُو کے تختوں کے لئے اور پا نچ بینڈے مسکن کے پچھلے حصّہ یعنی سمت کے تختوں کے لئے ۔
28 اور وسطی مینڈا جو تختوں کے بیچ میں ہو وہ خیمہ کی ایک حدّ سے دُوسری حدّتک پہنچے۔
29 اور تُو تختوں کو سو نے سے منڈھنا اور بینڈوں کے گھروں کے لئے سو نے کے کڑے بنا نا اور بینڈوں کو بھی سو نے سے منڈھنا ۔
30 اور تُو مسکن کو اُسی نمونہ کے مُطابق بنا نا جو پہا ڑ پر تجھے دکھا یا گیا ہے ۔
31 اور تُو آسما نی ۔ ارغوانی اور سُرخ کے کپڑوں اور با ریک بٹے ہُو ئے کتان کا ایک پردہ بنا نا اور اُس میں کسی ما ہر اُستاد سے کروبیوں کی صُورت کڑھوانا ۔
32 اور اُسے سو نے سے منڈھے ہو ئے کیکر کے چا ر سُتونوں پر لٹکا نا ۔ اُنکے کُنڈے سو نے کے ہو ں اور چا ند ی کے چار خا نوں پر کھڑے کئے جا ئیں ۔
33 اور پردہ کو گھُنڈیو ں کے نیچے لٹکا نا اور شہادت کے صنُدوق کو وہیں پردہ کے اندر لے جا نا اور یہ پردہ تُمہارے لئے پا ک مقام کو پاک ترین مقام سے الگ کریگا ۔
34 اور تُو سر پوش کو پاک ترین مقام میں شہادت کے صنُدوق پر رکھنا ۔
35 اور میز کو پردہ کے باہر دھر کر شمعدان کو اُسکے مقابل مسکن کی جنوبی سمت میں رکھنا یعنی میز شمالی سمت میں رکھنا ۔۔
36 اور تُو ایک پردہ کے دروازہ کے لئے آسمانی ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور باریک بٹے ہو ئے کتان اور اُس پر بیل بُو ٹے کڑھے ہُوئے ہوں ۔
37 اور اِس پردہ کے لئے کیکر کی لکڑی کے پانچ ستُون بنانا اور اُنکو سونے سے منڈھنا اور اُنکے کُنڈے سونے کے ہو ں جنکے لئے تُو پِیتل کے پانچ خانے ڈھا لکر بنا نا ۔


باب 27

1 اور تُو کیکر کی لکڑی کی قربانگاہ پانچ ہاتھ لمبی اور پانچ ہاتھ چوڑی بنانا۔وہ قُر بانگاہ چوَکھُونٹی اور اُسکی اُونچائی تین ہاتھ ہو ۔
2 اور تُو اُسکے لئے چاروں کونوں پر سینگ بنانا اور وہ سینگ اور قُر بانگاہ سب ایک ہی ٹُکڑے کے ہوں اور تُو اُنکو پِیتل سے منڈھنا ۔
3 اور تُو اُسکی راکھ اُٹھانے کے لئے دیگیں اور بیلچے اور کٹورے اور سِیخیں اور انگیٹھیاں بنانا ۔ اُسکے سب ظروُف پِیتل کے بنانا ۔
4 اور اُسکے لئے پِیتل کی جالی کی جھنجری بنانا اور اُس جالی کے چاروں کونوں پر پِیتل کے چار کڑے لگانا ۔
5 اور اُس جھنجری کو قُربانگاہ کی چاروں طرف کے کنارے کے نیچے اِس طرح لگانا کہ وہ اُونچائی میں قُربانگاہ کی آدھی دُور تک پہنچے ۔
6 اور تُو قُر بانگاہ کے لئے کیکر کی لکڑی کی چوبیں بناکر اُنکو پیتل سے منڈھنا ۔
7 اور تُو اُن چوبوں کو کڑوں میں پہنا دینا کہ جب کبھی قُر بانگاہ اُٹھائی جائے وہ چوبیں اُسکی دونوں طرف رہیں ۔
8 تختوں سے وہ قُربانگاہ بنانا اور وہ کھوکھلی ہو ۔ وہ اُسے اَیسی ہی بنائیں جَیسی تجھے پہاڑ پر دِکھائی گئی ہے ۔
9 پھر تُو مسکن کے لئے صحن بنانا ۔ اُس صحن کی جنوُبی سمت کے لئے باریک بٹے ہوئے کتان کے پردے ہوں جو ملا کر سو ہاتھ لمبے ہو ں ۔ یہ سب ایک ہی سمت میں ہوں ۔
10 اور اُنکے لئے بِیس سُتوُن بنیں اور سُتوُنوں کے لئے پیتل کے بیس ہی خانے بنیں اور اِن سُتوُنوں کے کُنڈے اور پٹیاں چاندی کی ہوں ۔
11 اِسی طرح شمالی سمت کے لئے پردے ملاکر لمبائی میں سَوہاتھ ہو ں۔ اُنکے لئے بھی بِیس ہی سُتوُن اور سُتوُنوں کے لئے بِیس ہی پِیتل کے خانے بنیں اور سُتوُنوں کے کُنڈے اور پٹیاں چاندی کی ہوں ۔
12 اور صحن کی مغربی سمت کی چوڑائی میں پچاس ہاتھ کے پردے ہوں ۔اُنکے لئے دس سُتوُن اور سُتوُنوں کے لئے دس ہی خانے بنیں ۔
13 اور مشرقی سمت میں صحن ہو ۔
14 اور صحن کے دروازہ کے ایک پہلُو کے لئے پندرہ ہاتھ کے پردے ہوں جنکے لئے تین سُتوُن اور سُتوُنوں کے لئے تین ہی خانے بنیں۔
15 اور دُوسرے پہلُو کے لئے بھی پندرہ ہاتھ کے پردے اور تین سُتوُن ہی خانے بنیں۔
16 اور صحن کے دروازہ کے لئے بیس ہاتھ کا ایک پردہ ہو جو آسمانی ۔ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور باریک بٹےہو ئے کتان کا بنا ہوا ہو اور اُس پر بیل بُوٹے کڑھے ہوں ۔ اُسکے سُتون چار اور سُتوُنوں کے خانے بھی چار ہی ہوں۔
17 اور صحن کے آس پاس سب سُتوُن چاندی کی پٹیوں سے جڑے ہُوئے ہوں اور اُنکے کُنڈے چاندی کے اور اُنکے خانے پِتیل کے ہوں۔
18 صحن کی لمبائی سَو ہاتھ اور چوڑائی ہر جگہ پچاس ہاتھ اور قنات کی اآونچائی پانچ ہاتھ ہو۔ پردے بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے اور سُتُونوں کے خانے پِتیل کے ہو ں۔
19 مسکن کے قِسم قِسم کے کام کے سب سامان اور وہاں کی میخیں اور صحن کی میخیں یہ سب پِتیل کے ہوں۔
20 اور بنی اِسرائیل کُو حکم دینا کہ تیرے پاس کُو ٹکر نکلا ہُوا زتیون کا خالص تیل روشنی کے لئے لائیں تاکہ چراغ ہمیشہ جلتا رہے۔
21 خیمہ اجتماع میں اس پردہ کے باہر جو شہادت کے صندوق کے سامنے ہوگا ہارون اور اسکے بیٹےشام سے صبح تک شمعدان کو خُداوند کے رُوبرُو آراستہ رکّھیں ۔ یہ دستور العمل بنی اِسرائیل کے لئے نسل در نسل سدا قائم رہیگا۔


باب 28

1 اور تُو بنی اسرائیل میں سے ہارُون کو جو تیرا بھائی ہے اور اُسکے ساتھ اُسکے بیٹوں کو اپنے نزدیک کر لینا تاکہ ہارُون اور اُسکے بیٹے ۔ ندب اور ابہیواور الیعزر اور اِتمرکہانت کے عہدہ پر ہو کر میری خدمت کریں ۔
2 اور تُو اپنے بھائی ہارُون کے لئے عزّت اور زِنیت کے واسطے مُقدس لباس بنا دینا ۔
3 اور تُو اُن سب روشن ضمیروں سے جنکو مَیں نے حکمت کی روح سے بھرا ہے کہہ کہ وہ ہارُون کے لئے لباس بنایئں تاکہ وہ مُقدس ہو کر میرے لِئے کاہن کی خدمت کو انجام دے ۔
4 اور جو لباس وہ بنائینگے یہ ہیں یعنی سِینہ بند اور افوُد اور جبُنہ اور چار خانے کا کُرتہ اور عمامہ اور کمر بند ۔ وہ تیرے بھائی ہارُون اور اُسکے بیٹوں کے واسطے یہ پاک لباس بنائیں تاکہ وہ میرے لئے کاہن کی خدمت کو انجام دے ۔
5 اور وہ سونا اور آسمانی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑے اور مہین کتان لیں ۔
6 اور وہ افوُد سونے اور آسمانی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور باریک بٹے ہو ئے کتان کا بنایئں جو کسی ماہر اُستاد کے ہاتھ کا کام ہو ۔
7 اور وہ اِس طرح سے جوڑا جائے کہ اُسکے دونوں مونڈھوں کے سرے آپس میں ملا دئے جاہیں ۔
8 اور اُسکے اُوپر جو کاریگری سے بنا ہوا پٹکااُسکے باندھنے کے لئے ہو گا اُس پر افوُد کی طرح کام ہو ا اور وہ اُسی کپڑے کا ہو اور سونے اور آسمانی او ر ارغوانی اور سُر خ رنگ کے کپڑوں اور باریک بٹے ہو ئے کتان کا بنا ہوا ہو ۔
9 اور تُو دو سُلیمانی پتھر لیکر اُن پر اسرائیل کے بیٹوں کے نام کندہ کر انا ۔
10 اُن میں سے چھ نام دُوسرے پتھر پر اُنکی پیدایش کی ترتیب کے مُوافق ہوں ۔
11 تُو پتھر کے کندہ کار کو لگا کر انگشتری کے نقش کی طرح اسرائیل کے بیٹوں کے نام اُن دونوں پتھروں پر کندہ کراکے اُنکو سونے کے خانوں میں جڑوانا ۔
12 اور دونوں پتھروں کو افُود کے دونوں مونڈھوں پر لگانا تاکہ یہ پتھر اسرائیل کے بیٹوں کا یاد گاری کے لئےکندھوں پر یادگاری کے لئے لگائے رہے ۔
13 اور تُو سو نے خانے بنا نا ۔
14 اور خالص سونے کی دو زنجیروں ڈوری کی طرح گُندھی ہو ئی بنانا اور اِن گُندھی ہو ئی زنجیرکو خانوں میں جڑدینا ۔
15 اور عدل کا سِینہ بند کسی ماہر اُستاد سے بنوانا اور افُود کی طرح سونے اور آسمانی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور باریک بٹے ہو ئے کتان کا بنوانا ۔
16 وہ چوکھُونٹا اور دُہراہو ۔ اُسکی لمبائی ایک بالشت اور چوڑائی بھی ایک ہی بالشت ہو ۔
17 اور چاروں قطاروں میں اُس پر جواہر جڑنا ۔ پہلی قطار میں یا قوت ِسُرخ اور مُکھپراج اور گوہرشب چراغ ہو ۔
18 دُوسری قطار میں زمرّد اور نِیلم اور ہیرا۔
19 تیسری قطار لشم اور یشم اور قوت ۔
20 چوَتھی قطار میں فیروزہ اور سنگ ِ سُلیمانی اور زبرجد ۔ یہ سب سونے کے خانوں میں جڑے جائیں۔
21 یہ جواہر اسرائیل کے بیٹوں کے ناموں کے مُطابق شُمار میں بارہ ہوں اور انگشتر ی کے نقش کی طرح یہ نام جو بارہ قبیلوں کے نام ہونگے اُن پر کندہ کئے جائیں ۔
22 اور تُو سِینہ بند پر ڈوری کی طرح گُندھی ہو ئی خالص سونے کی دو زنجیریں لگانا ۔
23 اور سِینہ بند کے لئے سونے کے دو حلقے بنا کر اُنکو سِینہ بند کے دونوں سروں پر لگانا ۔
24 اور سونے کی دونوں گُندھی ہُوئی زنجیروں کو اُن دونوں حلقوں میں جو سِینہ بند کے دونوں سروں پر ہو نگے لگا دینا ۔
25 اور دونوں گُندھی ہُوئی زنجیروں کے باقی دونوں سروں کو دونوں پتھروں کے خانوں میں جڑکر اُنکو افُود کے دونوں مونڈھوں پر سامنے کی طرف لگا دینا ۔
26 اور سونے کے اَور دو حلقے بناکر اُنکو سِینہ بند کے دونوں سروں کے اُس حاشیہ میں لگانا جو اندر کی طرف ہے ۔
27 پھر سونے کے دو حلقے اَور بنا کر اُنکو افُود کے دونوں مونڈھوں کے نیچے اُسکے اگلے حصّہ میں لگانا جہاں افُود جوڑا جائیگا تاکہ وہ افُود کے کاریگری سے بٹے ہوئے پٹکے کے اُوپر ر ہے ۔
28 اور وہ سِینہ بند کو لیکر اُسکے حلقوں کو ایک نیلے فیتے سے باندھ دیں تاکہ یہ سِینہ بند افُود کے کاریگری سے بٹے ہوئے پٹکے کے اُوپر بھی رہے اور افود سے بھی الگ نی ہونے پائے ۔
29 اور ہارُون اِسرائیل کے بیٹوں کے نام عدل کے سِینہ بند پر اپنے سِینہ پاک مقام میں داخل ہونے کے وقت خُداوند کے رُوبرُولگائے رہے تاکہ ہمیشہ اُنکی یاد گاری ہوا کرے ۔
30 اور تُو عدل کے سِینہ بند میں اُوریم اور تُمیّم کو رکھنا اور جب ہارُون خُداوند کے حضور جائے تو یہ اُسکے دِل کے اُوپرہوں ۔یُوں ہارُون بنی اِسرائیل کے فَیصلہ کو اپنے دِل کے اُوپر خُداوند کے رُوبُرو ہمیشہ لئےِ رہیگا ۔
31 اور تُو افُود کا جُبّہ بِالکل آسمانی رنگ کا بنانا ۔
32 اور اُسکا گر یبان بیچ میں ہو اور زِرہ کے گریبان کی طر ح اُسکے گریبان کے گردا گرد بُنی ہُوئی گو ٹ ہو تا کہ وہ پھٹنے نہ پا ئے ۔
33 اور اُسکے دامن کے گھیرمیں چاروں طرف آسمانی ۔ارغوانی اور سُرخ رنگ کے انار بنانا اور اُنکے درمیان چاروں طرف سونے کی گھنٹیاں لگانا۔
34 یعنی جُبّہ کے دامن کے پُورے گھیر میں ایک سونے کی گھنٹی ہو اور اُسکے بعد انار ۔ پھر ایک سونے کی گھنٹی ہو اور اُسکے بعد انار۔
35 اِس جُبّہ کےہارُون خدمت کے وقت پہنا کرے تاکہ جب جب وہ پاک مقام کے اندر خُداوند کے حضور جائے یا وہاں سے نکلے تو اُسکی آواز سُنائی دے اَیسا نہ ہو کہ وہ مر جائے ۔
36 اور تُو خالص سونے کا ایک پتّر بناکر اُس پر انگشتری کے نقش کی طرح یہ کندہ کرنا خُداوند کے لئے مُقدس۔
37 اور اُسے نیلے فیتے سے باندھنا تاکہ وہ عمامہ پر یعنی عمامہ کے سامنے کے حصّہ پر ہو ۔
38 اور یہ ہارُون کی پیشانی پر رہے تاکہ جو کُچھ بنی اسرائیل اپنے پاک ہدیوں کے ذریعہ سے مُقدس ٹھہرائیں اُن مُقدس ٹھہرائی ہوئی چیزوں کی بدی ہارُون اُٹھائے اور یہ اُسکی پیشانی پر ہمیشہ رہے تاکہ وہ خُداوند کے حضور مقبُول ہوں ۔
39 اور کُرتہ باریک کتان کا بُنا ہو ا اور چار خانے کا ہو اور عمامہ بھی باریک کتان ہی کا بنانا اور باریک کمربند بنانا جِس پر بیل بُوٹے کڑھے ہو ں۔
40 اور ہارُون کے بیٹوں کے لئے کُرتے بنانا اور عزّت اور زینت کے واسطے اُنکے لئے کمر بند اور پگڑیاں بنانا ۔
41 اور تُو یہ سب اپنے بھائی ہارُون اور اُسکے ساتھ اُسکے بیٹوں کو پہنانا اور اُنکو مسح اور مخصُوص اور مُقدس کر نا تاکہ وہ سب میرے لئے کاہن کی خدمت کو انجام دیں ۔
42 اور تپو اُن کے لئے کتان کے پاجامے بنا دینا تاکہ اُنکا بدن ڈھکا رہے ۔ یہ کمرسے ران تک کے ہوں
43 اور ہارُون اور اُسکے بیٹے جب جب خیمہ اجتماع میں داخل ہوں یا خدمت کرنے کو پاک مکان کے اندر قُر بانگاہ کے نزدیک جائیں اُنکو پہنا کر یں تا اَیس نہ ہو کہ گنہگار ٹھہریں اور مر جا ئیں ۔ یہ دستُور العمل اُسکے اور اُسکی نسل کے لئے ہمیشہ رہیگا ۔


باب 29

1 اور اُنکو پاک کر نے کی خاطر تاکہ وہ میرے لئے کاہن کی خدمت کو انجام دیں تُو اُنکے واسطے یہ کرنا کہ ایک بچھڑا اور وہ بے عیب مینڈھے لینا ۔
2 اور بے خمیری روٹی اور بے خمیر کے کلُچے جنکے ساتھ تیل ملا ہو اور تیل کی چُپڑی ہوئی بے خمیری چپاتیاں لینا ۔ یہ سب گہیوں کے میدہ کی بنانا ۔
3 اور اُنکو ایک ٹوکری میں رکھکر اُس ٹوکری کو بچھڑے اور دونوں مینڈھوں سمیت آگے لے آنا ۔
4 پھر ہارُون اور اُسکے بیٹوں کو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر لا کر اُنکو پانی سے نہلانا ۔
5 اور وہ لباس لیکر ہارُون کو کُرتہ اور افُود کا جُبّہ اور افُود اور سِینہ بند پہنانا اور افُود کا کاریگری سے بُنا ہوا کمر بند اُسکے باند ھ دینا ۔
6 اور عمامہ کو اُسکے سر پر رکھکر اُس عمامہ کے اُوپر مُقدس تاج لگا دینا
7 اور مَسَح کر نے کا تیل لیکر اُسکے سر پر ڈالنا اور اُسکو مَسَح کر نا ۔
8 پھر اُسکے بیٹوں کو آگے لا کر اُنکو کُرتے پہنانا ۔
9 اور ہارُون اور اُسکے بیٹوں کے کمر بند لپیٹ کر اُنکے پگڑیاںباندھنا تاکہ کہانت کے منصب پر ہمیشہ کے لئے اُنکا حق ر ہے اور ہارُون اور اُسکے بیٹو کو مخصُوص کر نا ۔
10 پھر تُو اُس بچھڑے کو خیمہ ِاجتماع کے سامنے لانا اور ہارُون اور اُسکے بیٹے اپنے ہاتھ اُس بچھڑے کے سر پر رکھیّں۔
11 پھر اُس بچھڑے کو خُداوند کے آگے خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر ذبح کر نا ۔
12 اور اُس بچھڑے کے خُون میں سے کُچھ لیکر اُسے اپنی اُنگلی سے قُربانگاہ کے سِینگوں پر لگانا اور باقی سارا خُون قُربانگاہ کے پایہ پر اُنڈیل دینا ۔
13 پھر اُس چربی کو جس سے انتٹریاں ڈھکی ر ہتی ہیں اور جگر پر کی چھلّی کو اور دونوں گُردوں کو اور اُنکے اُوپر کی چر بی کو لیکر سب قُر بانگاہ پر جلانا ۔
14 لیکن اُس بچھڑے کےگوشت اور کھال اور گوبر کو خیمہ گاہ کے باہر آگ سے جلادینا اِس لئے کہ یہ خطا کی قُر بانی ہے ۔
15 پھر تُو ایک مینڈھے کو لینا اور ہارُون اور اُسکے بیٹے اپنے ہاتھ اُس مینڈھے کے سر پر رکھیّں ۔
16 اور تُو اُس مینڈھے کو کو ذبح کر نا اور اُسکا خُون لیکر قُربانگاہ پر چاروں طرف چھڑکنا ۔
17 اور تُو مینڈھے کو ٹُکڑے ٹُکڑے کاٹنا اور اُسکی انتڑیوں اور پایوں کو دھوکر اُسکے ٹُکڑوں اور اُسکے سر کے ساتھ مِلا دینا ۔
18 پھر اِس پُورے مینڈھے کو قُربانگاہ پر جلانا ۔ یہ خُداوند کے لئے سوختنی قُربانی ہے ۔ یہ راحت انگیزخُوشبوُیعنی خُداوند کے لئے آتشین قُربانی ہے ۔
19 پھر دُوسرے مینڈھے کو لینا اور ہارُون اور اُسکے بیٹے اپنے ہاتھ اُس مینڈھے کے سر پر ر کھیّں۔
20 اور تُو اِس مینڈھے کو ذبح کر نا اور اُس کا خُون میں سے کُچھ لیکر ہارُون اور اُسکے بیٹوں کے دہنے کان کی لَوپر اور دہنے ہاتھ اور دہنے پاؤں کے انگُوٹھوں پر لگانا اور خُون کو قُربانگاہ پر چاروں طرف چھڑک دینا ۔
21 اور قُر بانگاہ پر کے خُون اور مسح کر نے کے تیل میں سے کُچھ کُچھ لے کر ہارُون اور اُُسکے لباس پر اور اُسکے ساتھ اُسکے بیٹوں اور اُنکے لباس پر چھڑ کنا تب وہ اپنے لباس سمیت اور اُسکے ساتھ ہی اُسکے بیٹے اپنے اپنے لباس سمیت مُقدس ہونگے۔
22 اور تُو مینڈھے کی چربی اور موٹی دُم کو اور جِس چربی دے انتٹریاں ڈھکی رہتی ہیں اُسکو اور جِگر پر کی جھلّی کو اور دونوں گُردوں کو اور اُنکے اُوپر کی چربی کو اور دہنی ران کو لینا اِس لئے کہ یہ تخصیصی مینڈھا ہے ۔
23 اور بے خمیری روٹی کی ٹوکری میں سے جو خُداوند کے آگے دھری ہو گئی روٹی کا ایک گُردہ اور ایک کلُچہ جس میں تیل ملا ہوا ہو اور ایک چپاتی لینا ۔
24 اور اِن سبھوں کو ہارُون اور اُسکے بیٹوں کے ہاتھوں پر رکھ کر اُنکو خُداوند کے رُوبرُو ہلانا تاکہ یہ ہلانے کا ہدیہ ہو ۔
25 پھر اُنکو اُنکے ہاتھوں سے لےکر قُر بانگاہ پر سوختنی قُربانی کے اُوپر جلادینا تاکہ وہ خداوند کے آگے راحت انگیز خُوشبوُ ہو یہ خُداوند کے لئے آتشین قُربانی ہے ۔
26 اور تُو ہارُون کے تخصیصی مینڈھے کا سِینہ لے کر اُسکو خُدوند کے رُوبرُو ہلانا تاکہ وہ ہلانے کا ہدیہ ہو۔ یہ تیرا حصّہ ٹھہریگا ۔
27 اور تُو ہارُون اور اُسکے بیٹوں کے تخصیصی مینڈھے کے ہلانے کے ہدیہ کے سِینہ کو جو ہلایا جا چُکا ہے اور اُٹھائے جانے کے ہدیہ کی ران کو جو اُتھائی جا چُکی ہے لے کر اُن دونوں کو پاک ٹھہرانا ۔
28 تاکہ یہ سب بنی اسرائیل کی طرف سے ہمیشہ کے لئے ہارُون اور اُسکے بیٹوں کا حق ہو کیونکہ یہ اُٹھائے جانے کا ہدیہ ہے ۔ سو یہ بنی اسرائیل کی طرف سے اُن کی سلامتی کے ذبیحوں میں سے اُٹھائے جانے کا ہدیہ ہو گا جو اُنکی طرف سے خُداوند کے لئے اُٹھایا گیا ہے ۔
29 اور ہارُون کے بعد اُسکے پاک لباس اُسکی اولاد کے لئے ہونگے تاکہ اُن ہی میں وہ مسح وا مخصُوص کئے جائے ۔
30 اُس کا جو بیٹا اُسکی جگہ کاہن ہو وہ جب پاک مقام میں خدمت کرنے کو خیمہ اجتماع میں داخل ہو تو اُنکو سات دِن تک پہنے رہیں ۔
31 اور تُوتخصِیصی مینڈھے کو لے کر اُسکے گوشت کو کِسی پاک جگہ میں اُبالنا۔
32 اور ہارُون اور اُسکے بیٹے مینڈھے کا گوشت اور ٹوکری کی روٹیاں خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کھائیں ۔
33 اور جن چیزوں سے اُنکو مخُصوص اور پاک کرنے کے لئے کفارہ دیا جائے وہ اُن کو بھی کھائیں لیکن اجنبی شخص اُن میں سے کُچھ نہ کھانے پائے کیو نکہ یہ چیزیں پاک ہیں ۔
34 اگر مخُصوص کرنے کے گوشت یا روٹی میں سے کُچھ صبح تک بچا رہ جایئں تو اُس بچے ہو ئے کو آگ سے جلادینا ۔ وہ ہرگز نہ کھایا جائے اِس لئے کہ وہ پاک ہے ۔
35 اور تُو ہارُون اور اُسکے بیٹوں کے ساتھ جو کُچھ مَیں نے حکُم دِیا ہے وہ سب عمل میں لانا اور سات دِن تک اُنکی تخصیص کرتے ر ہنا ۔
36 اور تُو ہر روز خطا کی قُربانی کے بچھڑ ےکو کفارہ کے واسطے ذبح کرنا اور تُو قُربانگاہ کو اُس کے کفارہ دینے کے وقت صاف کرنا اور اُسے مسح کرنا تاکہ وہ پاک ہو جائے ۔
37 تُو سات دِن تک قُربانگاہ کے لئے کفارہ دینا اور اُسے پاک کرنا تو قُربانگاہ نہایت پاک ہو جائے گئی اور جو کُچھ اُس سے چھُوجایگا وہ بھی پاک ٹھہرے گا ۔
38 اور تُو ہر روز سدا ایک ایک برس کے دو دو برّے قُربانگاہ پر چڑھایا کرنا ۔
39 ایک برّہ صبح کو اور دُوسرا برّہ زوال اور غروب کے درمیان چڑھانا ۔
40 اور ایک برّہ کے ساتھ ایفہ کے دسویں حصّہ کے برابر میدہ دینا جس میں بین کے چوتھے حصّہ کی مقدار میں کُوٹکر نکالا ہوا تیل ملا ہو ا ہو اور بین کے چوتھے حصّہ کی مقدار میں تپاون کے لئے بھی دینا ۔
41 اور تُو دُوسرے برّہ کو زوال اور غرو ب کے درمیان چڑھانا اور اُسکے ساتھ صبح کی طرح نذر کی قُربانی اور ویسا ہی تپاون دینا جس سے وہ خُداوند کے لئے راحت انگیز خُوشبوُاور آتشین قُربانی ٹھہرے۔
42 اِیسی ہی سو ختنی قُربانی تُمہاری پُشت رد پُشت خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے آگے ہمیشہ ہوا کرے ۔ وہاں مَیں تُم سے مِلونگا اور تُجھ سے باتیں کرونگا ۔
43 اور وہیں مَیں بنی اسرائیل سے مُلاقات کرونگا اور وہ مقام میرے لئے جلال سے مُقدس ہو گا ۔
44 اور مَیں خیمہ اجتماع کواور قُربانگاہ کو مقدس کرونگا اور مَیں ہارُون اور اُسکے بیٹوں کو مقدس کرونگا تاکہ وہ میرے لئے کاہن کی خدمت کو انجام دیں۔
45 اور مَیں بنی اسرائیل کے درمیان سکوُنت کرونگا اور اُنکا خدا ہونے کا ۔
46 تب وہ جان لینگے کہ مَیں خُداوند اُنکا خُدا ہوں جو اُنکو مُلک مصر سے اِس لئے نکالکر لیا کہ مَین اُن کے درمیان سکوُنت کروں ۔ مَیں ہی خُداوند اُنکا خُدا ہوں ۔


باب 30

1 اور تُو بخُور جلانے کے لئے کیکر کی لکڑی کی ایک قُربانگاہ بنانا ۔
2 اُسکی لمبائی ایک ہاتھ اور چوڑائی ایک ہاتھ ہو۔ وہ چو کھونٹی رہے اور اُسکی اُونچائی دو ہاتھ ہو اور اُسکے سِینگ اُسی ٹکڑے سے بنائے جائیں۔
3 اور تُو اُسکی اوپر کی سطح اور چاروں پہلُوؤں کو جو اُسکے گِردا گردہیں اور اُسکے سینگوں کو خالِص سونے سے منڈھنا اور اُسکے لئے گردا گرد ایک زرِّین تاج بنانا۔
4 اور تو اس تاج کے نیچے اسکے دونوں پہلوؤں میں سونے کے دو کڑے اسکی دونوں طرف بنانا۔ وہ اسکے اُٹھانے کی چوبوں کے لئے خانوں کا کام دینگے ۔
5 اور چوبیس کیکر کی لکڑی کی بنا کر انکو سونے سے منڈھنا۔
6 اور تُو اسکو اس پردہ کے آگے رکھنا جو شہادت کے صندوق کے سامنے ہے ۔ وہ سر پوش کے سامنے رہے جو شہادت کے صندوُق کے اوپر ہے جہاں میں تجھ سے ملا کرونگا۔
7 اِسی پر ہارون خوشبودار بخُور جلایا کرے ۔ ہر صُبح چراغوں کو ٹھیک کرتے وقت بخُور جلائے ۔
8 اور زوال وغروب کے درمیان بھی جب ہارون چراغوںکو روشن کرے تب بخُور جلائے ۔ خُداوند کے حضور تُمہاری پشت در پُشت ہمیشہ جلایا جائے ۔
9 اور تُم اُس پر اور طرح کا بخُور نہ جلانا نہ اس پر سوختنی قُربانی اور نذر کی قُربانی چڑھانا اور کوئی تپاون بھی اس پر نہ تپانا۔
10 اور ہارون سال میں ایک بار اسکے سینگوں پر کفارہ دے ۔ تُمہاری پُشت در پُشت سال میں ایک بار اِس خطا کی قُربانی کے خُون سے جو کفارہ کے لئے ہو ا اُسکے واسطے کفارہ دیا جائے ۔ یہ خُداوند کے لئے سب زیادہ پاک ہے ۔
11 اور خُاوند نے موسیٰ سے کہا ۔
12 جب تُو بنی اسرائیل کا شُمار کرے جِتنوں کا شُمار ہوا وہ فی مرد شُمار کے وقت اپنی جان کا فدِیہ خُداوند کے لئے دیں تاکہ جب تُو اُنکا شُمار کر رہا ہو اُس وقت کو ئی وبا اُن میں پھیلنے نہ پائے ۔
13 ہر ایک جو نکل نکل کر شُمار کئے ِہُوؤں میں ملتا جائے وہ مُقدس کی مثقال کے حساب سے نیم مثقال دے ۔ مثِقال بیِس جِیرہ کی ہو تی ہے ۔ یہ نیم مثِقال خُداوند کے لئے نذر ہے ۔
14 جتنے ِبِیس برس کے یا اِس سے زیادہ عُمر کے نکل نکل کر شُمار کئےِ ہُوؤں میں ملتے جا ئیں اُن میں سے ہر ایک خُداوند کی نذر دے ۔
15 جب تُمہاری جانوں کے کفارہ کے لئے ِ خُداوند کی نذر دی جائے تو دَولتمند نِیم مِثقال سے زیادہ نہ دے اور نہ غریب اُس سے کم دے ۔
16 اور تُو بنی ا سرائیل سے کفارہ کی نقدی لیکر اُسے خیمہ اجتماع کے کام میں لگانا تاکہ وہ بنی اسرائیل کی طرف سے تُمہاری جانوں کے کفارہ کے لئے ِ خُداوند کے حضور یاد گار ہو ۔
17 پھر خُداوند نے موسیٰ سے کہا ۔
18 تُو دھونے کے لئے پِیتل کا ایک حَوض اور پِیتل ہی کی اُسکی کُرسی بنانا اور اُسے خیمہ اجتماع اور قُربانگاہ کے بیچ میں رکھکر اُس میں پانی بھر دینا ۔
19 اور ہارُون اور اُسکے بیٹے اپنے ہاتھ پاؤں اُس سے دھویا کر یں ۔
20 خیمہ اجتماع میں داخل ہو تے وقت پانی سے دھولیا کر یں تاکہ ہلاک نہ ہوں یا جب وہ قُربانگاہ کے نزدیک خِدمت کے واسطے یعنی خُداوند کے لئے سوختنی قُر بانی چڑھانے کو آئیں ۔
21 تو اپنے اپنے ہاتھ پاؤں دھولیں تاکہ مر نہ جائیں ۔ یہ اُسکے اور اپسکی اَولاد کے لئے نسل درنسل دائمی رسم ہو ۔
22 اور خُداوند نے موُسیٰ سے کہا ۔
23 کہ تُو مُقدس کی مِثقال کے حِساب سے خاص خاص خُوشبُودار مصالِح لینا یعنی اپنے آپ نکلا ہُوا مُرپا پخسَومثِقال اور اُسکا آدھا یعنی ڈھائی سو مِثقال دار چِینی اور خُوشبُودار اگر ڈھائی سَومِثقال۔
24 اور تج پا پخسَو مِثقال اور زیتُون کا تیل ایک ہیں ۔
25 اور تُو اُن سے مَسح کرنے کا پاک تیل بنانا یعنی اُنکو گندھی کی حکمت کے مُطابق ملا کر ایک خُوشبُو دار روغن تیار کرنا ۔ یہی مسح کر نے کا پاک تیل ہو گا ۔
26 اِسی سے تُو خیمہ اِجتماع کو اور شہادت کے صندُوق کو ۔
27 اور میز کو اُسکے ظرُوف سمیت اور شمعدان کو اُسکے ظرُوف سمیت اور بخوُر جلانے کی قُربانگاہ کو ۔
28 ساور سو ختنی قُربانی چڑھانے کے مذبح کو اُسکے سب ظرُوف سمیت اور حَوض کو اور اُسکی کُرسی کو مسح کرنا ۔
29 اور تُو اُنکو مُقدس کرنا تاکہ وہ نہایت پاک ہو جائیں جو کُچھ اُن سے چھُوجائیگا وہ پاک ٹھہریگا ۔
30 اور تُو ہارُون اور اُسکے بیٹوں کو مسح کرنا اور اُنکو مُقدس کرنا تاکہ وہ میرے لئے کاہن کی خِدمت کو انجام دیں ۔
31 اور تُو بنی اسرائیل سے کہہ دینا کہ یہ تیل میرے لئے تُمہاری پُشت در پُشت مسح کرنے کا پاک تیل ہو گا ۔
32 یہ کسی آدمی کے جِسم پر نہ ڈالا جائے اور نہ تُم کو ئی اور روغن اِسکی ترکیب سے بنانا اِسلئے کہ یہ مُقدس ہے یا اِس میں سے کُچھ کسی اجنبی پر لگائے وہ اپنی قَوم میں سے کاٹ ڈالا جائے ۔
33
34 اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا تُو خُوشبُودار مصالحِ مُراور مصطکی اور لَون اور خُوشبُودار مصالح ِکے ساتھ خالص لُبان وزن میں برابر برابر لینا ۔
35 اور نمک ملا کر اُن سے گندھی کی حکمت کے مُطابق خُوشبُو دار روغن کی طرح صاف اور پاک بخور بنانا ۔
36 اور اِس میں سے کُچھ خُوب باریک پِیس کر خیمہ اجتماع میں شہادت کے صندُوق کے سامنے جہاں مَیں تجھ سے ملا کرونگا رکھنا ۔ یہ تُمہارے لئے نہایت پاک ٹھہرے ۔
37 اور جو بخور تُو بنا ئے اُسکی ترکیب کے مُطا بق تُم اپنے لئے کُچھ نہ بنانا ۔ وہ بخور تیرے نزدیک خُداوند کے لئے پاک ہو ۔
38 جو کوئی سُونگھنے کے لئے بھی اُسکی طرح کُچھ بنائے وہ اپنی قُوم میں سے کاٹ ڈالا جائے ۔


باب 31

1 پھر خُداوند نے موسیٰ سے کہا ۔
2 دِیکھ مَیں نے بضلی ایل بِن اوری بِن حور کو یہوداہ کے قبیلہ میں سے نام لیکر بُلایا ہے ۔
3 اور میَں نے اُسکو حکمت اور فہم اور عِلم اور ہر طرح کی صنعت میں رُوح الّہہ سے معمُور کیا ہے ـ
4 تاکہ ہُنر مندی کے کاموں کو ایجاد کرے اور سونے اور چاندی اور پیتل کی چیزیں بنائے ـ
5 اور پتھر کو جڑنے کے لئے کاٹے اور لکڑی کو تراشے جس سے سب طرح کی کاریگری کا کام ہو ۔
6 اور دیکھ مَیں نے اہلیاب کو جو اخیسمک کا بیٹا اور دان کے قبیلہ میں سے ہے اُسکا سا تھی مُقرر کِیا ہے اور میں نے سب روشن ضمیروں کے دل میں اَیسی سمجھ رکّھی ہے کہ جن جن چیزوں کا میں نے تُجھ کو حُکم دیا ہے اُن سبھوں کو وہ بنا سکیں ۔
7 یعنی خیمئہ اجتماع اور شہادت کا صندُوق اور سر پوش جو اُسکے اُوپر رہیگا اور خیمہ کا سب سامان ۔
8 اور میز اور اُسکے ظرُوف اور خالِص سونے کا شمعدان اور اُسکے سب ظرُوف اور بخُور جلانے کی قربانگاہ ۔
9 اور سوختنی قُربانی کی قربانگاہ اور اُسکے سب ظرُوف اور حَو ض اور اُسکی کُرسی ۔
10 اور بیل بُو ٹے کڑھے ہُو ئے جامے اور ہارُون کاہن کے مُقدس لِباس اور اُسکے بیٹوں کے لِباس تاکہ کاہن کی خدِمت کو انجام دیں ۔
11 اور مسح کرنے کا تیل اور مُقدس کے لئے خُوشبُو دار مصالحِ کا بخُور ۔ اِن سبھوں کو وہ جیسا مَیں نے تجھے حُکم دیا ہے ویسا ہی بنائیں ۔
12 اور خُداوند نے موسیٰ سے کہا ۔
13 تُو بنی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دینا کہ تُم میرے سبتوں کو ضرور ماننا ۔ اِسلئے کہ یہ میرے اور تُمہارے درمیان تُمہاری پُشت در پُشت ایک نشان رہیگا تاکہ تُم جانوکہ مَیں خُداوند تُمہارا پاک کرنے والا ہوں ۔
14 پس تُم سبت کو ماننا اِسلئے کہ وہ تُمہارے لئے مُقدس ہے ۔ جو کوئی اُسکی بے حُرمتی کرے وہ ضرور مار ڈالا جائے ۔ جو اُس میں کُچھ کام کرے وہ اپنی قُوم میں سے کاٹ ڈالا جا ئے ۔
15 چھ دِن کام کاج کیا جائے لیکن ساتواں دِن آرام کا سبت ہے جو خُداوند کے لئے مُقدس ہے ۔جو کو ئی سبت کے دِن کام کر ے وہ ضرور مار ڈالا جائے۔
16 پس بنی اسرائیل سبت کو مانیں اور پُشت در پُشت اُسے دائمی عہدجانکر اُسکا لحاظ رکھیں ّ ۔
17 میرے اور بنی اسرائیل کے درمیان یہ ہمیشہ کے لئے ایک نشان رہیگا اِسلئے کہ چھ دِن میں خُداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دِن آرام کرکے تازہ دم ہُوا ۔
18 اور جب خُداوند کوہِ سینا پر مُوسیٰ سے باتیں کر چُکا تو اُس نے اُسے شہادت کی دولَوحیں دیں ۔ وہ لَوحیں پتھر کی اور خُدا کے ہاتھ کی لکھی ہُوئی تھیں ۔


باب 32

1 اور جب لوگوں نے دِیکھا کہ مُوسیی نے پہاڑ سے اُتر نے میں دیر لگائی تو وہ ہارُون کے پاس جمع ہو کر اُس سے کہنے لگے کہ اُٹھ ہمارے لئے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیو نکہ ہم نہیں جانتے کہ اِس مرد مُوسیٰ کو جو ہم کو مُلکِ مصر سے نکا لکر لایا کیا ہو گا ۔
2 ہارُون نے اُن سے کہا تُمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں اُنکو اُتار کر میرے پاس لے آؤ۔
3 چُنانچہ سب لوگ اُنکے کانوں سئ سونے کی بالیا ں اُتا ر اُتار کر اُنکو ہارُون کے پاس لے آئے ۔
4 اور اُس نے اُنکو اُنکے ہاتھوں سے لیکر ایک ڈھالا ہوا بچھڑا بنا یا جس کی صُورت چھَینی سے ٹھیک کی ۔ تب وہ کہنے لگے اَے اِسرائیل یہی تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملکِ مصر سے نکا لکر لایا ۔
5 یہ دِیکھ کہ ہارُون نے اُسکے آگے ایک قُربانگاہ بنائی اور اُس نے اِعلان کر دیا کہ کل خُداوند کے لئے عید ہو گی ۔
6 اور دُوسرے دِن صُبح سویرے اُٹھکر اُنہوں نے قُربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قُر بانیاں گُذرانیں۔ پھر اُن لوگوں نے بیٹھ کر کھایا پِیا اور اُٹھ کر کھیل کُود میں لگ گئے ۔
7 تب خُداوند نے موُسیٰ کو کہا نیچے جا کیو نکہ تیرے لوگ جنکو تُو مُلکِ مصِر سے نکال لایا بگڑ گئے ہیں ۔
8 وہ اُس راہ سے جسکا مَیں نے اُنکو حُکم دیا تھا بہت جلد پھر گئے ہین ۔ اُنہوں نے اپنے لئے ڈھالا ہوا بچھڑا بنا یا اور اُسے پُو جا اور اُسکے لئے قُر بانی چڑھا کر یہ بھی کہا کہ اے اسرِائیل یہ تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو مُلک مصر سے نکا ل کر لایا ۔
9 اور خُداوند نے موسیٰ سے کہا مَیں اِس قُوم کو دِیکھتا ہُو ں کہ یہ گردن کش قوم ہے ۔
10 اِسلئے تُو مُجھے اب چھوڑ دے کہ میرا غضب ساُن پر بھڑکے اور مَیں اُنکو بھسم کردُوں ااور مَیں تجھے ایک بڑی قوم بناؤنگا ۔
11 تب موسیٰ نے خُداوند اپنے خُدا کے آگے سمنت کر کے کہا اَے خُداوند کیوں تیرا غضب اپنے لوگوں پر بھڑکتا ہے جنکو تُو قُوتِ عظیم اور دستِ قوی سے مُلکِ مصِر سے نکال کر لایا ہے ۔
12 مصِر لوگ یہ کیوں کہنے پائیں کہ وہ اُنکو بُرائی کے لئے نکال لے گیا تاکہ اُنکو پہاڑوں میں مار ڈالے اور اُنکو رُوی زمین پر سے فنا کر دے ؟ سو تُو اپنے قہر و غضب سے باز رہ اور اپنے لوگو ں سے اِس بُرائی کرنے کے خیال کو چھوڑ دے ۔
13 تُو اپنے بندوں ابرہام اور اِضحاق اور یعقوب کو یاد کر جن سئ تُو نے اپنی ہی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ مَیں تُمہاری نسل کو آسمان کے تاروں کی مانند بڑھاؤنگا اور یہ سارا مُلک جسکا مَیں نے ذکر کیا ہے تُمہاری نسل کو بخشونگا کہ وہ سدا اُسکے مالک رہیں ۔
14 تب خُداوند نے اپس بُرائی کے خیال کو چھوڑ دیا جو اُس نے کہا تھا کہ اپنے لوگوں سے کر یگا ۔
15 اور موسیٰ شہادت کی دونوں لَوحیں ہاتھ میں لِئے ہو ئے اُلٹا پھرا اور پہاڑ سے نیچے اُترا اور وہ لَوحیں اِدھر سے اور اُدھر سے دونوں طرف سے لکھی ہو ئی تھیں ۔
16 اور وہ لَوحیں خُدا ہی کی بنائی ہوئی تھیں اور جو لکھا ہوا تھا وہ بھی خُدا کا ہی لکھا اور اُن پر کندہ کیا ہوا تھا ۔
17 اور جب یشوع نے لوگوں کی للکار کی آواز سُنی تو موسیٰ سے کہا کہ لشکر گاہ میں لڑائی کا شور ہو رہا ہے ۔
18 موسیٰ نے کہا یہ آواز نہ تو فتمندوں کا نعرہ ہے نہ مغلُوبوںکی فریاد بلکہ مجھے تو گانے والوں کی آواز سُنائی دیتی ہے ۔
19 اور لشکر گاہ کے نزدیک آکر اُس نے وہ بچھڑا اور اُنکا ناچنا دیکھا ۔ تب موسیٰ کا غضب بھڑکا اور اُس نے اُن لُوحوں کو اپنے ہاتھوں میں سے پٹک دیا اور اُنکو پہاڑ کے نیچے توڑ ڈالا ۔
20 اور اُس نے اُس بچھڑے کو جِسے اُنہوں نے بنایا تھا لیا اور اُسکو آگ میں جلایا اور اُسے باریک پیس کر پانی پر چھڑکا اور اُسی میں سے بنی اسرائیل کو پلوایا ۔
21 اور موسیٰ نے ہارُون سے کہا کہ اِن لوگوں نےتیرے ساتھ کیا کیِاتھا جو تُو نے اُنکو اِتنے بڑے گناہ مین پھنسا دیا ۔
22 ہارُون نے کہا کہ میرے مُلک کا غضب نہ بھڑکے ۔ تُو اِن لوگوں کو جانتا ہے بدی پر تُلے رہتے ہیں ۔
23 چنانچہ اِنہی نے مجھے کہا کہ ہمارے لئے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اِس آدمی موسیٰ کو جو ہمکو مُلک مصر سے نکال کر لایا کیا ہو گیا۔
24 تب مَیں اِن سے کہا کہ جس جس کے ہاں سونا ہو وہ اُسے اُُتار لائے ۔ پس اِنہو ں نے اُسے مجھ کو دیا اور مَیں نے اُسے آگ میں ڈالا تو یہ بچھڑا نکل پڑا ۔
25 جب موسیٰ نے دیکھا کہ لوگ بے قابو ہو گئے کیونکہ ہارُون نے اُنکو بے لگام چھوڑ کر اُنکو اُنکے دُشمنوں کے درمیان ذلیل کر دیا ۔
26 تو موسیٰ نے لشکرگاہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا جو خُداوند کی طرف ہے وہ میرے پاس آجائے ۔ تب سب بنی لا وی اُسکے پاس جمع ہو گئے ۔
27 اور اُس نے اُن سے کہا کہ خُداوند اِسرائیل کا خُدایُوں فرماتاہے کہ تُم اپنی اپنی ران سے تلوار لٹکا کر پھاٹک پھاٹک گُھوم گھُوم کر سارے لشکر گاہ میں اپنے اپنے بھائیوں اور اپنے اپنے ساتھیوں اوراپنے اپنے پڑوسیوں کو قتل کرتے پھرو ۔
28 اور بنی لاوی نے مُو سیٰ کے کہنے کے مُوافُق عمل کِیا چنا نچہ اُس دن لوگوں میں سے قریباً تِین ہزار مرد کھیت آئے ۔
29 اور مُوّسیٰ نے کہا کہ آج خُداوند کے لئے اپنے آپ کو مخصوص کرو بلکہ ہر شخص اپنے ہی بیٹے اور اپنے ہی بھائی کے خلاف ہوتاکہ وہ تمکو آج ہی برکت دے ۔
30 اور دُوسرے دن مُوّسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تُم نے بڑاگُناہ کِیا اور اب مَیں خداوند کے پاس اُوپر جاتاہُوں۔ شاید مَیں تُمہارے گُناہ کا کفارہ دے سکُوں۔
31 اور مُوسیٰ خُداوند کے پاس لوٹکر گیا اور کہنے لگا ہائے اِن لوگوں نے بڑا گُناہ کِیا کہ اپنے لئے سونے کا دیوتا بنایا ۔
32 اور اب اگر تُو اِنکا گُناہ معاف کردے تو خیر ورنہ میرانام اُس کِتاب میں سے جو تُونے لکھی ہے ہٹادے ۔
33 اور خُداوند نے مُوسیٰ کہا کہ جِس نے گُناہ کِیا ہے مَیں اُسی کے نام کو اپنی کِتاب میں سے مِٹائونگا ۔
34 اب تُو روانہ ہو اور لوگوں کو اُس جگہ لے جا جو مَیں نے تُجھے بتائی ہے ۔دیکھ میرا فرشتہ تیرے آگے آگے چلیگا لیکن مَیں اپنے مُطالبہ کے دن اُنکے گُناہ کی سزا دُونگا ۔
35 اور خُداوند نے اُن لوگوں میں مری بھیجی کیونکہ جو بچھڑا ہارُون نے بنایا وہ اُن ہی کا بنوایا ہُوا تھا ۔


باب 33

1 اور خُداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اُن لوگوں کو اپنے ساتھ لیکر جنکو تُو مُلکِ مصر سے نکال کر لایا یہاں سے اُس کی طرف روانہ جسکے کے بارے میں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے مَیں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ اِسے مَیں تیری نسل کو دُونگا ۔
2 اور مَیں تیرے آگےآگے فرشتہ کو بھیجونگا اور مَیں کنعانیوں اور اموریوںاور جتّیوں اورفرزّیوں اورحوّیوں اور یبوسیوں کو نکال دُونگا ۔
3 اُس مُلک میں دُودھ اور شہد بہتا ہے اور چونکہ تُو گردن کش قًوم ہے اسلئے مَیں تیرے بیچ میں ہوکرنہ چلُونگا تااَیسانہ ہو کہ مَیں تُجھ کو راہ میں فنا کر ڈالوں ۔
4 لوگ اِس وحشتناک خبر کو سُنکر غمگین ہُوئے اور کسِی نے اپنے زیور نہ پہنے ۔
5 کیونکہ خُداوند نےمُوًسیٰ سے کہدیا تھا کہ بنی اِسرائیل سے کہنا کہ تُم گردن کش لوگ ہو ۔ اگر مَیں ایک لمحہ بھی تیرے بیچ میں ہو کر چلُوں تو تُجھ کو فنا کُردُونگا۔سوتُو اپنے زیور اُتار ڈال تاکہ مُجھے معلُوم ہو کہ تیرے ساتھ کیا کرنا چاہئے ۔
6 چنانچہ بنی اِسرائیل حورِب پہاڑ سے لیکر آگے آگے اپنے زیوروں کو اُتاے رہے ۔
7 اور موسیٰ خیمہ کو لے کر اُسے لشکر گاہ سے باہر لشکر گاہ سے دور لگا لیا کرتا تھااور اُس کانام خیمہ اجتماع رکھا اور جو خداوند کا طالب ہوتا وہ لشکر گاہ کے باہر اُسی خیمہ کی طرف چلا جاتا۔
8 اور جب موسیٰ باہر خیمہ کی طرف جاتا تو سب لوگ اُٹھ کر اپنے اپنے ڈیرے کے دروازہ پر کھڑے ہو جاتے اور موسیٰ کے پیچھے دیکھتے رہتے تھے جب تک وہ خیمہ کے اندر داخل نہ ہو جاتا۔
9 اور جب موسیٰ خیمہ کے اندر چلا جاتا تو ابر کا ستون اُتر کر خیمہ کے دروازہ پر ٹھہرا رہتا اور خُداوند مُوسیٰ سے باتیں کرنے لگتا۔
10 اور سب لوگ اُٹھ اُٹھ کر اپنے اپنے ڈیرے کے دروازہ پر سے اُسے سجدہ کرتے تھے ۔
11 اور جیسے کوئی شخص اپنے دوست سے بات کرتا ہے ویسے ہی خُداوند رُو برُو ہو کر مُوسیٰ لشکر گاہ کو لوٹ آتا تھا پر اُسکا خادِم یشوع جو نُون کا بیٹا اور جوان آدمی تھا خیمہ سے باہر نہیں نکلتاتھا۔
12 اور مُوسیٰ نے خُداوند سے کہا دیکھ تو مجھ سے کہتا ہے کہ ان لوگوں کو لے چل پر مُجھے یہ نہیں بتایا کہ تو کِس کو میرے پاس بھیجیگا حالانکہ تو نے یہ کہا ہے کہ میں تجھکو بنام جانتا ہوں اور تجھ پر میرے کرم کی نظر ہے۔
13 پس اگر مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہے تو مجھ کو اپنی راہ بتا جس سے میں تُجھے پہچان لوں تاکہ مجھ پر تیرے کرم کی نظر رہے اور یہ خیال رکھ کہ یہ قوم تیری ہی امت ہے۔
14 تب اس نے کہا میں ساتھ چلُو نگا اور تجھے آرام دونگا۔
15 مُوسیٰ نے کہا اگر تو ساتھ نہ چلے تو ہمکو یہاں سے آگے نہ لے جا۔
16 کیونکہ یہ کیونکر معلوم ہوگا کہ مجھ پر اور تیرے لوگوں پر تیرے کرم کی نظر ہے؟کیا اسی طریق سے نہیں کہ تو ہمارے ساتھ ساتھ چلے تاکہ میں اورتیرےلوگ روی زمین کی سب قوموں سے نرالے ٹھہریں۔
17 خُداوند نے موُ سٔیٰ سے کہا میں یہ کا م بھی جسکا تُو نے زِکر کیا ہے کروُنگا کیو نکہ تُجھ پر میرے کرم کی نظر ہے اور میں تُجھ کو بنام پہچانتا ہُوں۔
18 تب وہ بول اُٹھا کہ میں تیری مِنّت کر تا ہُوں مُجھے اپنا جلال دکھا دے۔
19 اُس نے کہا میں اپنی ساری نیکی تیرے سامنے ظاہر کروُنگا اور تیرے ہی سامنے خداوند کے نام کا اعلان کر وُنگا اور میں جس پر مہربانی ہُوں مہربان ہوُنگا اور جس پر کرنا چاہُوں رحم کروُنگا۔
20 اور یہ بھی کہا تُو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اِنسان مجُھے دیکھ کر زندہ نہیں رہیگا ۔
21 پھر خدُاوند نے کہادیکھ میرے قریب ہی ایک جگہ ہے سو تُو اُس چٹا ن پر کھٹرا ہو۔
22 اور جب تک میرا جلال گُزرتارہیگا میں تجُھے اُس چٹان کے شِگاف میں رکھُّو نگا اور جب تک میں نکل نہ جاوُں تجھے اپنےہاتھ سے ڈھانکے رہُونگا ۔
23 اِسکے بعد میں اپنا ہاتھ اُٹھا لُونگا اور تُو میرا پیچھا دیکھیگا لیکن میرا چہرہ دِکھاہی نہیں دیگا۔


باب 34

1 پھر خُداوند نے موسیٰ سے کہا پہلی لَوحوں کی مانند پتھر کی دو لَوحیں اپنے لئے تراش لینا ار مَیں اُن لَوحوں پر وہی باتیں لکھ دُونگا جو پہلی لَوحوں پر جنکو تُو نے توڑ ڈالا مرقوم تھیں ۔
2 اور صبح تک تیار ہو جانا اور سویرے ہی کوہِ سینا پر آ کر وہاں پہاڑ کی چوٹی پر میرے سامنے حاضر ہونا ۔
3 پر تیرے ساتھ کو ئی اور آدمی نہ آئے اور نہ پہاڑ پر کہیں کو ئی دُوسرا شخص دِکھائی دے ۔ بھیڑ بکریاں اور گائے بیل بھی پہاڑ کے سامنے چرنے نہ پائیں ۔
4 اور موسیٰ نے پہلی لَوحوں کی مانند پتھر کی دو لَوحیں تراشیں اور صبح سویرے اُٹھ کر پتھر کی دونوں لَوحیں ہاتھ میں لئے ہو ئے خُداوند کے حُکم کئ مُطابق کوہِ سینا پر چڑھ گیا۔
5 تب خُداوند ابر میں ہو کر اُسکے ساتھ وہاں کھڑے ہو کر خُداوند کے نام کا اِعلان کیا ۔
6 اور خُداوند اُسکے آگے سے یہ پُکارتا ہُوا گُزرا خُداوند خُداوند خُدای رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت اور وفا میں غنی ۔
7 ہزاروں پر فضل کرنے والا ۔گناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا لیکن وہ مُجرم کو ہرگزبری نہیں کریگا بلکہ باپ دادا کے گناہ کی سزا اُنکے بیٹوں اور پوتوں کو تیسری اور چوتھی پُشت تک دیتا ہے۔
8 تب مُوسیٰ نے جلدی سے سر جھکا کر سجدہ کیا۔
9 اور کہا اَے خُداوند اگر مُجھ پر تیرے کرم کی نظرہے تو اَے خُداوند میں تیری مِنت کرتا ہوں کہ ہمارے بیچ میں ہو کر چل گو یہ قوم گردن کش ہے اور تو ہمارے گُناہ اور خطا کو معاف کراور ہم کو اپنی میراث کر لے۔
10 اُس نے کہا دیکھ میں عہد با ند ھتا ہُوں کہ تیرے سب لوگوں کے سامنے اَیسی کرامات کرونگا جو دنیا بھر میں اور کسِی قَوم میں کبھی کی یہں گیئِں اور وہ سب لوگ جنکے بِیچ تُو رہتا ہے خُداوند کے کام کو دیکھینگے کیونکہ جو میں تُم لوگوں سے کرنے کو ہوں وہ ہَیبت ناک کام ہوگا۔
11 آج کے دِن جُو حکم میں تجھے دیتاہُوں تُو اُسے یاد رکھنا ۔دیکھ میں اموریوں اور کنعا نیوں اور حِتّیوںاور فرزّیوں اور حّویوں اور یبوسیوں کو تیرے آگے سے نکالتا ہُوں۔
12 سو خبردار رہنا کہ جِسں مُلک کو تُو جاتا ہے اُسکے باشِندوں سے کوئی عہدنہ باندھنا ۔اَیسا نہ ہُو کہ وہ تیرے لئِے پھندااٹھہرے۔
13 بلکہ تُم اُنکی قُربانگا ہوں کو ڈھادینا اور اُنکے سُتُونوں کے ٹُکڑےٹُکڑےکردنیا اور اُنکی یسِیرتوںکوکاٹ ڈالنا۔
14 کیونکہ تُجھکو کِسی دُوسرے معبُودکی پرستِش نہیں کرنیہوگی اِسِلئےکہ خُداوند جِسکا نام غُیور ہے وہ خُدا ایِغُیور ہے بھی۔
15 سواَیسانہ ہو کہ تُو اُس مُلک کے باشِندوں سےکوہی عہدباندھلے اور جب وہ اپنے معُبودوں کی پَیروی میں زِناکار ٹھہریں اور اپنے معُبدوں کے لئِے قُربانی کریں اور کوئی تُجھکو دعوت دے اور تُو اُسکی قُربانی میں سے کُچھ کھا لے۔
16 او تُو اُن کی بیٹاں اپنے بیٹوں سے بیاہے اور اُنکی بیٹاں اپنے معُبودوں کی پیروی میں زِنا کار ٹھہریں اور تیرے بیٹوں کو بھی اپنے معُبودوں کی پیروی میں زِنا کار بنا دیں ۔
17 تُو اپنے لئے ڈھائے ہو ئے دیوتا نہ بنا لینا۔
18 تُو بے خمیری روٹی کی عید مانا کر نا ۔ میرے حُکم کئ مُطابق سات دِن تک ابیب کے مہینے میں وقت ِ مُعیّنہ پر بے خمیری روٹیاں کھانا کیونکہ ماہِاا بیب میں تُو مِصر سے نکلا تھا ۔
19 سب پہلوٹھے میرے ہیں اور تیرے چوپایوں میں جو نر پہلوٹھے ہوں کیا بچھڑے کیا بّرے سب میر ے ہو نگے۔
20 لیکن گدھے کے پہلے بچے کا فدیہ بّرہ دیکر ہو گا اور اگر تُو فدیہ نہ چا ہے تو اُسکی گردن توڑ ڈالنا پر اپنے سامنے سب خالی ہاتھ دِکھائی نہ دے۔
21 چھ دِن کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن آرام کرنا۔ہل جوتنے اور فصل کاٹنے کے مَوسم میں بھی آرام کرنا۔
22 اور تُو گہیوں کے پہلے پھل کاٹنے کے وقت ہفتوںکی عِید اور سال کے آخر میں فصل جمع کر نے کی عِید مانا کرنا ۔
23 تیرے سب مرد سا ل میں تِین ار خُداوند خُدا کے آگے جو اِسٔرائیل کا خُدا ہے حاضِر ہوں۔
24 کیونکہ مَیں قَوموں کو تیرے آگے سے نکال کر تیریسرحدوں کو بڑ ھا دونگا اور جب سال میں تِیں بار تُو خُداوند اپنے خُداکے آگے حاضِر ہو گا تو کوئی تیری زمین کا لالچ نہیں کرے یگا ۔
25 تُو میری قُربانی کا خُون خمیری روٹی کے ساتھ نہ گزراننا اور عِید فسح کی قُربانی سے کچھ صبح تک نہ رہنے دینا۔
26 اپنی زمین کی پہلی پَیداوار کا پھل خُداوند اپنے خدا کے گھر میں لانا ۔حلو ان کو اُسی کی ما ں کے دوُدھ میں نہ پکانا۔
27 اور خُداوند مُوسیٰ سے کہا کہ تُو یہ با تیں لِکھ کیونکہ ان ہی باتوں کے مفہوم کے مطابق تُجھ سے ااسئرایئل سے عہِد باندھتا ہوں۔
28 سو وہ چالِیس رات وہیں خُداوند کے پاس رہا اور نہ روٹی کھائی نہ پانی پِیا اور اُس نے اُن لَوحوںپراُس عہد کی باتوں کو یعنی دس احکام کو لِکھا ۔
29 اور جب مُوسیٰ شہادت کی دونوں لوحیں اپنے ہاتھ میں لیے ہُوئے کوہِ سیئنا سے اُترا آتا تھا تو پہاڑ سے نِیچے اُتر تے وقت اُسے خبرنہ تھی کہ خُداوند کے ساتھ با تیں کر نے کی وجہ سے اُسکا چہرہ چمک رہا تھا ۔
30 اور جب ہارون اور بنی اِسرائیل نے مُوسیٰ پر نظر کی اور اُسکے چہرہ کو چمکتے دیکھا تُو اُسکے نزدِیک آنے سے ڈرے ۔
31 تب مُوسیٰ نے اُنکوُ بلا یا اور ہارُون اور جما عت کتے سب سردار اُسکے پا س لَو ٹ آئے اور مُوسیٰ اُن سے با تیں کرنے لگا۔
32 اور بعد میں سب بنی اِسرائیل نزدیک آئے اور اُس نے وہ سب احکام جو خُداوند نے کوہِ سئینا پر با تیں کر تے وقت اُسے دِئے تھے اُنکو بتائے۔
33 اور جب مُو سیٰ اُن سے باتیں کر چُکا تو اُس نے اپنے مُنہ پر نقاب ڈال ِ لیا۔
34 اور جب مُو سیٰ خُداوند سے باتیں کرنے کے لئے اُسکے سا منے جاتا تو با ہرنکلنے کے وقت نقاب کو اُتارے رہتا تھا اور جو حُکم اسے ملتا تھا وہ اُسے باہر آکر بنی اسرائیل کو بتا دیتا تھا ۔
35 اور بنی اسرائیل مُوسیٰ کے چہرہ کو دیکھتے تھے کہ اسکے چہرہ کی جلِد چمک رہی ہے اور جب تک مُوسیٰ خُداوند سے با تیں کرنے نہ جاتا تب تک اپنے مُنہ پر نقاب ڈالے رہتا تھا۔



باب 35

(باب نمبر35)
1 اور مُوسیٰ نے بنی اسرائیل کی ساری جماعت کو جمع کر کے کہا جن باتوں پر عمل کرنے کا حُکم خُداوند نے تُم کو دیا ہے وہ یہ ہے
2 چھ دن کام کاج کیا جائے لیکن ساتواں دن تُمہارے لئے روز ِمُقدس یعنی خُداوند کے آرام کا سبت ہو۔ جو کوئی اُس میں کُچھ کام کرے وہ مارا ڈالا جائے ۔
3 تُم سبت کے دن اپنے گھروں میں کہیں بھی آگ نہ جلانا ۔
4 اور موسیٰ نے بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہا جس بات کا حُکم خُداوند نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ۔
5 تُم اپنے پاس سے خُداوند کے لئے ہدیہ لایا کرو ۔ جس کسی کے دل کی خُوشی ہو وہ خُداوند کا ہدیہ لائے ۔ سونا اور چاندی اور پیتل ۔
6 اور آسمانی رنگ اور ارغوانی رنگ اور سُرخ رنگ کے کپڑے اور مہین کتان اور بکریوں کی پشم ۔
7 اور مینڈھو ں کی سُرخ رنگی ہو ئی کھالیں اور تخس کی کھالیں اور کیکر کی لکڑی ۔
8 اور جلانے کا تیل اور مسح کرنے کے تیل کےلئے اور خُوشبُودار بخور کے لئے مصالح۔
9 اور افُود اور سینہ بند کے لئے سلُیمانی پتھر اور اَورجراؤپتھر ۔
10 اور تُمہارے درمیان جو روشن ضمیر ہیں وہ آکر وہ چیزیں بنائیں جنکا حُکم خُداوند نے دیا ہے ۔
11 یعنی مسکن اور اُسکا خیمہ اور غلاف اور اُسکی گھُنڈیاں اور تختے اور بینڈے اور اُسکے سُتون اور خانے ۔
12 صندُوق اور اُسکی چوبیں ۔ سر پوش اور بیچ کا پردہ ۔
13 میز اور اُسکی چوبیں اور اُسکے سب ظروف اور نذر کی روٹیاں ۔
14 اور روشنی کے لئے شمعدان اور اُسکے برتن اور چراغ اور جلانے کا تیل ۔
15 اور بخور جلانے کی قُر بانگاہ اور اُسکی چوبیں اور مسح کرنے کا تیل اور خُوشبُو دار بخور اور مسکن کے دروازہ کے لئے دروازہ کا پردہ ۔
16 اور سوختنی قُربانی کا مذبح اور اُسکے لئے پیِتل کی جھنجری اور اُسکی چوبیں اور اُسکے سب ظروُف اور حوض اور اُسکی کُرسی ۔
17 اور صحن کے پردے ستوُنوں سمیت اور اُنکے خانے اور صحن کے دروازہ کا پردہ ۔
18 اور مسکن کی میخیں اور صحن کی میخیں اور اُن دونوں کی رسّیاں ۔
19 اور مقدس کی خدمت کےلئے بیل بُوٹے کڑھے ہو ئے لباس اور ہارُون کاہن کے لئے مُقدس لباس اور اُسکے بیٹوں کے لِباس تاکہ وہ کاہن کی خدمت کو انجام دیں ۔
20 تب بنی اسرائیل کی ساری جماعت مُوسیٰ کے پاس سے رُخصت ہو ئی ۔
21 اور جِس جِس کا جی چاہا اور جِس جِس کے دل میں رغبت ہو ئی وہ خیمہ اجتماع کے کام اور وہاں کی عبادت اور مُقدس لِباس کے لئے خُداوند کا ہدیہ لایا ۔
22 اور کیا مرد کیا عورت جِتنوں کا دل چاہا وہ سب جُگنو بالیاں انگشتریاں اور بازُو بند سب سونے کے زیور تھے لانے لگے ۔ اس طریقہ سے لوگو ں نے خُداوند کو سونے کا ہدیہ دیا ۔
23 اور جِس جِس کے پاس آسمانی رنگ اورارغوانی رنگ اور سُرخ رنگ کے کپڑے اور مہین کتان اور بکریاں کی پشم اور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہو ئی کھا لیں اور تخس کی کھالیں تھیں وی اُنکو لے آئے ۔
24 جِس نے چاندی یا پِیتل کا ہدیہ دینا چا ہا وہ ویسا ہی ہد یہ خُداوند کے لئے لا یا اور جِس کِسی کے پاس کیکر کی لکڑی تھی وہ اُسی کو لے آیا ۔
25 اور جِتنی عورتیں ہو شار تھیں اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے کاٹ کاتکرآسمانی ارغوانی اور سُرخ رنگ کے اور مہین کتان کے تار لاکر دئے ۔
26 اورجِتنی عورتوں کے دل حکمت کی طرف مائل تھے اُنہوں نے بکریوں کی پشم کاتی ۔
27 اور جو سردار تھے وہ افُود اور سِینہ سبند کے لئے سلُیمانی پتھر اور اَور جڑاؤ پتھر ۔
28 اور روشنی اور مسح کر نے کے تیل اور خُوشبُو دار بخور کے لئے مصا لح اور تیل لائے ۔
29 یُوں بنی اسرائیل اپنی ہی خُوشی سے خُداوند کے لئے ہدئے لائے یعنی جِس جِس سمرد یا عورت کا جی چاہا کہ اِن کا موں کے لئے جِنکے بننے کا حکم خُداوند نے مُوسیٰ کی معرفت دیا تھا کُچھ دے وہ اُنہوں نے دیا ۔
30 ساور مُوسیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا دِیکھو خُداوند نے بضلی ایل بِناوری بن حُور کو جو یہوداہ کے قبیلہ میں سے ہے نام لیکر بُلایا ہے ۔
31 اور اُس نے اُسے حکمت اور فہم اور دانش اور ہر طرح کی صنعت کے لئے رُوح اللّٰد سے معمور کیا ہے ۔
32 اور صعنت کاری میں اور سونے چاندی اور پِیتل کے کام میں ۔
33 اور جڑاؤ پتھر اور لکڑی کے تراشے میں غرض ہر ایک بادِرکام کے بنانے میں ماہر کیا ہے ۔
34 اور اُس نے اُسے اخیسمک کے بیٹے اہلیاب کو بھی جو دان کے قبیلہ کا ہے ہُنر سکھانے کی قابلیت بخشی ہے ۔
35 اور اُنکے دِلو ں میں اَیسی حکمت بھر دی ہے جِس سے وہ ہر طرح کی صعنت میں ما ہر ہو ں او کندہ کار کا اور ما ہر اُستا د کا زردوز کا جو آسمانی ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور مہین کتا ن پر گُلکاری کر تا ہے اور جو لاہے کا اور ہر طرح کے دستکار کا کام کر سکیں اور عجیب اور نا دِرچیزیں اِیجاد کر یں ۔


باب 36

1 پس بضلی ایل اور اہلیاب اور سب روشن ضمیر آدمی کام کریں جنکو خُداوند نے حکمت اور فہم سے مالا مال کیا ہے تاکہ وہ مُقدس کی عبادت کے سب کام کو خُداوند کے حُکم کے مُطابق انجام دیں۔
2 تب مُوسیٰ نے بضلی ایل اور اہلیاب اور سب روشن ضمیر آدمیوں کو بُلایا جنکے دِل میں خُداوند نے حِکمت بھر دی تھی یعنی جنکے دِل تحریک ہوئی کہ جا کر کام کریں ۔
3 اور جو جو ہدئے بنی اسرائیل لائے تھے کہ اُن سے مُقدس کی عبادت کی چیزیں بنائی جائیں وہ سب اُنہوں نے مُوسیٰ سے لے لئے اور لوگ پھر بھی اپنی خُوشی سے ہر صبح اُسکے پاس ہدیہ لاتے رہے ۔
4 تب وہ سب عقل مند کار یگر جو مُقدس کے سب کام بنار ہے تھے اپنے اپنے کام کو چھوڑ کر مُوسیٰ کے پاس آئے ۔
5 اور مُوسیٰ سے کہنے لگے سکہ لوگ اِس کام کے سرانجام کے لئے جِسکے بنانے کا حُکم خُداوند نے دیا ہے ضرورت سے بُہت زیادہ لے آئے ہیں ۔
6 تب موسیٰ نے جو حکم دیا اُسکا اِعلان اُنہوں نے تمام لشکرگاہ میں کرایا کہ کوئی مرد یا عورت اب سے مُقدس کے لئے ہدیہ دینے کی غرض سے کُچھ اور کام نہ بنائے ۔ یُون وہ لوگ اِور لانے سے روک دِئے گئے ۔
7 کیونکہ جو سامان اُنکے پاس پہنچ چُکا تھا وہ سارے کام کو تیا ر کر نے کے لئے نہ فقط کا فی بلکہ زیادہ تھا ۔
8 اور کام کر نے میں جِتنے روشن ضمیر تھے اُنہوں نے مَقدِس کے واسطے باریک بٹے ہو ئے کتان کے اور آسمانی اور ارگوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں کے دس پردے بنائے جن پر ما ہر اُستاد کے ہاتھ کے کڑھے ہُوئے کر وبی تھے ۔
9 ہر پردے کی لمبائی اٹھائیس ہاتھ اور چوَڑائی چار ہاتھ تھی اور وہ سب پردے ایک ہی ناپ کے تھے ۔
10 اور اُس نے پانچ پردے ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دے اور دُوسرے پانچ پردے بھی ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دے ۔
11 اور اُس نے ایک بڑے پردے کے حاشیہ میں اُسکے مِلانے کے رُخ پر آسمانی رنگ کے تُکمے بنا ئے ۔ اَیسے ہی تُکمے اُ س نے دُوسرے بڑے پردہ کی اُس طرف کے حاشیہ میں بنا ئے جد ھر مِلانے کا رُخ تھا ۔
12 پچاس تُکمے اُس نے ایک پر دہ میں اور پچاس ہی دُوسرے پردہ کے حا شیہ میں اُسکے مِلا نے کے رُخ پر بنا ئے ۔ یہ تُکمے آپس میں ایک دُوسرے کے مقابِل تھے ۔
13 اور اُس نے سونے کی پچاس گھُنڈیا ں بنا ئیں اوع اُن ہی گھُنڈیوں سے پر دوں کو آپس میں اَیسا جو ڑ دیا کہ مسکن مِل کر ایک ہو گیا ۔
14 اور مکری کی با لوں سے گیا رہ پر دے مسکن کے اُوپر کے خیمہ کے لئے بنا ئے ۔
15 ہر پر دے کی لمبا ئی تیس ہا تھ اور چوَڑائی چا ر ہا تھ تھی اور وہ گیا رہ پر دے ایک ہی نا پ کے تھے۔
16 اور اُس نے پانچ پر دے تو ایک ساتھ جو ڑے اور چھ ایک ساتھ ۔
17 اور پچاس تُکمے اُن جُڑے ہو ئے پر دوں میں سے کنا رہ کے پر دہ کے حا شیہ میں بنا اور پچاس ہی تُکمے اُن دُوسرے جُڑے ہو ئے پر دوں میں سے کنا رہ کے پر دہ کے حا شیہ میں بنا ئے ۔
18 اور اُس نے پِیتل کی پچاس گھُنڈ یاں بھی بنا ئیں تا کہ اُن سے اُس خیمہ کو اَیسا جو ڑدے کہ وہ ایک ہو جا ئے ۔
19 اور خیمہ کے لئے ایک غلاف مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہو ئی کھا لوں کا اور اُسکے لئے غلا ف تخس کی کھالوں کا بنا یا ۔
20 اور اُس نے مسکن کے واسطے کیکر کی لکڑی کے تختے بنا ئے کہ کھڑے کئے جا ئیں ۔
21 ہر تختہ کی لمبا ئی دس ہا تھ اور چوَڑائی ڈیڑھ ہا تھ تھی ۔
22 اور اُس نے ایک ایک تختہ کے لئے دو دو جُڑی ہُو ئی چُولیں ۔ مسکن کے سب تختوں کی چوُلیں اَیسی ہی بنائیں۔
23 اور مسکن کے لئے جو تختے بنے تھے اُن میں سے بِیس تختے جنُوبی سمت میں لگا ئے ۔
24 اور اُس نے اُن بیسوں تختوں کے نیچے چاندی کے چا لیس خا نے بنا ئے یعنی ہر تختہ کی دونوں چوُلوں کے لئے دو دو خا نے ۔
25 اور مسکن کی دُوسری طرف یعنی شمالی سمت کے لئے بِیس تختے بنائے۔
26 اور اُنکے لئے بھی چا ند ی کے چا لیس ہی خا نے بنا ئے یعنی ایک تختہ کے نیچے دو دو خا نے ۔
27 اور مسکن کے پچھلے حصّہ یعنی مغربی سمت کے لئے چھ تختے بنا ئے ۔
28 اور دو تختے مسکن کے دونوں کو نوں کے لئے پچھلے حصّہ میں بنا ئے ۔
29 یہ نیچے سے دُہر ے تھے اور اِسی طرح اُو پر کے سر ے تک آکر ایک ہی حلقہ میں مِلا دِئے گئے تھے ۔ اُس نے دونوں کو نو ں کے دونوں تختے اِسی ڈھب کے بنا ئے ۔
30 پس آٹھ تختے تھے اور اُنکے لئے چاندی کے سولہ خانےیعنی ایک ایک تختہ کے لئے دو دو خانے ۔
31 اور اُس نے کِیکر کی لکڑی کے بینڈے بنائے ۔ پانچ بینڈے مسکن کی ایک طرف کے تختوں کے لِئے ۔
32 اور پانچ بینڈے مسکن کی دُوسری طرف کے تختوں کے لئے اور پانچ بینڈے مسکن کے پچھلے حِصہ میں مغری طرف کے تختوں کے لئے بنائے ۔
33 اور اُس نے وسطی بینڈے کو اَیسا بنایا کہ تختوں کے بِیچ میں سے ہو کر ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک پُہنچے۔
34 اور تختوں کو سونے سے منڈھا اور سونے کے کڑے بنائے تاکہ بینڈوں کے لئے خانوں کاکام دیں اوربینڈوں کو سونے سے منڈھا ۔
35 اور اُس نے بِیچ کا پردہ آسمانی ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کا بنایا جِس پر ماہر اُستاد کے ہاتھ کے کروبی کڑھے ہُوئے تھے۔
36 اور اُسکے لئے کیکر کے چارسُتُون بنائے اور اُنکو سونے سے منڈھا۔ اُنکے کُنڈے سونے کے تھے اور اُس نے اُنکے لئے چاندی کے چارخانے ڈھال کر نبائےس۔
37 اور اُس نے خیمہ کے دروازہ کے لئے ایک پردہ آسمانی ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کا بنایا ۔ وہ بیل بُوٹے دار تھا ۔
38 اور اُسکے لئے پانچ سُتُون کُنڈوں سمیت بنائے اور اُنکے سِروں اور پٹیوں کو سونے سے مندھا ۔ اُنکے لِئے جو پانچ خانے تھے وہ پِیتل کے بنے ہُوئے تھے ۔


باب 37

1 بضلی ایل نے وہ صندُوق کِیکر کی لکڑی کا بنایا ۔اُسکی لمبائی ڈھا ئی ہاتھ اور چوڑائی ڈیڑھ ہاتھ اور اُونچائی ڈیڑھ ہاتھ تھی ۔
2 اور اُس نے اُسکے اندر اور باہر حالِص سونا منڈھا اور اُسکے لئِے گرِداگرِد ایک سونے کا تاج بنایا۔
3 س اور اُس نے اُسکے چاروں پایوں پر لگانے کو سونے کے چارکڑے ڈھالے۔دو کڑے تو اُسکی ایک طرف اور دو دُوسری طرف تھے ۔
4 اور اُس نے کِیکرکی لکڑی کی چوبیں بنا کر اُنکو سونے سے منڈھا۔
5 اور چوبوں کو صندُوق کی دونوں طرف کے کڑوں میں ڈالا تاکہ صندُوق اُتھایا جائے ۔
6 اور اُس نے سر پو ش خالِص سونے کا بنایا ۔ اُسکی لمبائی ڈھائی ہاتھ اور چوڑائی ڈیڑھ ہاتھ تھی ۔
7 اور اُس نے سرپوش کے دونوں سِروں پر سونے کے دو کروبی گھڑ کر بنائے ۔
8 ایک کروبی کو اُس نے ایک سِرے پر رکَھا اور دُوسرے کو دُوسرے سِرے پر۔دونوں سِروں کے کروبی اور سرپوش ایک ہی ٹکڑے سے بنے تھے۔
9 اور کرویبوں کے بازُو اُوپر سے پَھیلے ہوئے تھے اور اُنکے بازُوؤں سے سرپوش ڈھکا ہؤا تھا اور اُن کروبیوں کے چہرے سرپوش کی طرف اور ایک دُوسرےکے مُقاِبل تھے ۔
10 اور اُس نے وہ میرنکیکر کی لکڑی کی بنائی ۔ اُسکی لمبائی دو ہاتھ اور چوڑائی ایک ہاتھ اور اُنچائی ڈیڑھ ہاتھ تھی ۔
11 اور اُس نے اُسکو خالص سونے سے منڈھا اور اُسکے لئے گِرداگرد سونے کا ایک تاج بنایا ۔
12 اور اُس نے ایک کنگنی چار اُنگل چوَڑی اُسکے چاروں طرف رکھیّ ساور اُس کنگنی پر گردا گرد سو نے کا تاج بنا یا ۔
13 اور اُس نے اُسکے لئے سونے کے چار کڑے ڈھا لکر اُنکو اُسکے چاروں پایوں کے چا روں کو نو ں میں لگا یا ۔
14 یہ کڑے کنگنی کے پاس تھے تا کہ میز اُٹھا نے کی چو بوں کے خا نوں کا کا م دیں ۔
15 اور اُس نے میز اُٹھا نے کی وہ چو بیں کیکر کی لکڑی کی بنا ئیں اور اُنکو سو نے سے منڈھا ۔
16 اور اُس نے میز پر کے سب طروُف یعنی اُسکے طباق اور چمچے اور بڑے بڑے پیا لے اور اُنڈلینے کے آفتابے خالص سو نے کے بنا ئے ۔
17 اور اُس نے شمعدان خالص سونے کا بنا یا ۔ وہ شمعدان اور اُسکا پا یہ اور اُسکی ڈنڈی گھڑے ہُو ئے تھے ۔ یہ سب اور اُسکی پیا لِیاں اور لٹوُ اور پھُول ایک ہی ٹُکڑے کے بنے ہُو ئے تھے ۔
18 اور چھ شا خیں اُسکی دونوں طرف سے نکلی ہو ئی تھیں ۔ شمعدان کی تین شا خیں تو اُسکی ایک طرف سے اور تین شا خیں اُسکی دُوسری طرف سے ۔
19 اور ایک شا خ میں با دام کے پھُول کی شکل کی تین پیا لِیا ں اور ایک لٹوُ اور ایک پھُول تھا اور دُو سری شا خ میں بھی با دام کے پھُول کی شکل کی تین پیا لِیاں اور ایک لٹوُ اور ایک پھُول تھا ۔ غرض اُس شمعدان کی چھوں شا خوں میں سب کُچھ اَیسا ہی تھا ۔
20 اور خود شمعدان میں با دام کے پھُول کی شکل کی چار پیا لِیا ں اپنے اپنے لٹوُاور پھُول سمیت بنی تھیں ۔
21 اور شمعدان کی چھؤں نکلی ہو ئی شاخوں میں سے دو دو شا خیں اور ایک لٹوُ ایک ہی ٹُکڑے کے تھے۔
22 اُنکے لٹوُ اور اُنکی شا خیں سب ایک ہی ٹُکڑے کے تھے ۔ سارا شمعدان خالص سونے کا اور ایک ہی ٹکُڑے کا گھڑا ہو ا تھا ۔
23 اور اُس نے اُسکے لئے سات چراغ بنائے اور اُسکے گُلِگیر اور گلُدان خا لص سع نے کے تھے ۔
24 اور اُس نے اُ سکو اور اُس کے سب ظروُف کو ایک قنطار خالص سونے سے بنا یا ۔
25 اور اُس نے بخور جلانے کی قُر بانگاہ کیکر کی لکڑی کی بنا ئی ۔ اُسکی لمبا ئی اُونچا ئی دو ہا تھ تھی اور وہ اور اُسکے سِینگ ایک ہی ٹُکڑے کے تھے ۔
26 اور اُس نے اُسکے اُو پر کی سطح اور گردا گر د کی اطراف اور سینگو ں کو خا لص سو نے سے منڈھا اور اُسکے لئےسونے کا ایک تا ج گردا گرد بنایا۔
27 اور اُس نے اُس کی دونوں طرف کے دونو ں پہلُوؤں میں تا ج کے نیچے سو نے کے دو کڑے بنا ئے جو اُس کے اُٹھا نے کی چو بو ں کے لئے خا نو ں کا کا م دیں ۔
28 اور چو بیں کیکر کی لکڑی کی بنا ئیں اور اُنکو سو نے سے منڈھا ۔
29 اور اُس نے مسح کر نے کا پا ک تیل اور خُوشُبودار مصالح کا خالص بخور گندھی کی حکمت کے مُطابق تیا ر کیا ۔


باب 38

1 اور اُس نے سو ختنی قُر بانی کا مذبح کیکر کی لکڑی کا بنا یا ۔ اُس کی لمبائی پانچ ہاتھ اور چَوڑائی پانچ ہاتھ تھی ۔ وہ چوکھُوٹا تھا اور اُسکی اُونچائی تین ہاتھ تھی۔
2 اور اُس نے اُسکے چاروں کو نوں پر سینگ بنا ئے ۔ سینگ اور وہ مذبح دونوں ایک ہی ٹُکڑے کے تھے اور اُس نے اُسکو پِیتل سے منڈھا ۔
3 اور اُس نے مذبح کے سب ظروُف یعنی ویگیں اور بیلچے اور کٹورے اور سیحیں اور انگیٹھیاں بنا ئیں ۔ اُسکے سب ظروُف پیتل کے تھے ۔
4 اور اُس نے مذبح کے لئے اُسکی چاروں طرف کنا رے کے نیچے پِیتل کی جا لی کی جھنجری اِس طرح لگائی کہ وہ اُسکی آدھی دُور تک پہنچتی تھی ۔
5 اور اُس نے پیتل کی جھنجری کے چاروں کو نو ں میں لگا نے کے لئے چا ر کڑے ڈھا لے تا کہ چو بو ں کے لئے خانو ں کا کا م دیں ۔
6 اور چو بیں کیکر کی لکڑی کی بنا کر اُنکو پِیتل سے منڈھا ۔
7 اور اُس نے وہ چو بیں مذبح کی دو نو ں طرف کے کڑوں میں اُسکے اُٹھا نے کے لئے ڈال دیں ۔ وہ کھو کھلا تختوں کا بنا ہوا تھا ۔
8 اور جو خِدمت گذُار عورتیں خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر خِدمت کر تی تھیں اُنکے آئینوں کے پِیتل سے اُس نے پِیتل کا حَوض اور پِیتل ہی کی اُسکی کُرسی بنائی ۔
9 پھر اُس نے صحن بنا یا اور جنوبی سمت کے لئے اُس صحن کے پردے باریک بٹے ہو ئے کتان کے تھے اور سب ملا کر ہاتھ لمبے تھے ۔
10 اُنکے لئے بیس ستُون اور اُنکے واسطے پِیتل کے بیس خا نے تھے اور سُتونوں کے کُنڈے اور پٹیاں چاندی کی تھیں ۔
11 اور شمالی سِمت میں بھی وہ سو ہاتھ لمبے اور اُنکے لِئے بیس سُتُون اور اُنکے واسطے بیس ہی پیتل کے خانے تھے اور سُتُونوں کے کُنڈے اور پٹیاں چاندی کی تھیں ۔
12 اور مغربی سمت کے لئے سب پردے مِلا کر پچاس ہاتھ کے تھے ۔ اُنکے لئے دس سُتُون اور دس ہی اُنکے خانے تھے اور سُتُونوں کے کُنڈے اور پٹیاں چاندی کی تھیں۔
13 اور مشرقی سمت میں بھی وہ پچاس ہی ہاتھ کے تھے۔
14 اُسکے دروازہ کی طرف پندرہ ہاتھ کے پردے اور اُنکے لئے تین سُتُون اور تین خانے تھے ۔
15 اور دوسری طرف بھی ویسا ہی تھا۔ پس صحن کے دروازہ کے اِدھر اُدھر پندرہ پندرہ ہاتھکے پردے تھے۔ اُنکے لئے تین تین سُتُون اور تین ہی تین خانے تھے۔
16 صحن کے گردا گرد کے سب پردے باریک بٹے ہوئے کتان کے بنے ہوئے تھے۔
17 اور سُتُونوں کے خانے پیتل کے اور اُنکے اور پٹیاں چاندی کی تھیں۔ اُنکے سرے چاندی سے منڈھے ہوئے اور صحن کے کُل سُتُون چاندی کی پٹیوں سے جڑے ہوئے تھے ۔
18 اور صحن کے دروازہ کے پردہ پر بیل بُوٹے کا کام تھا اور وہ آسمانی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور باریک بٹے ہوئے کتان ک بنا ہوا تھا ۔ اُسکی لمبائی بیس ہاتھ اور اُنچاوئی صحن کے پردوں کی چوڑائی کے مُطابق پانچ ہاتھ تھی ۔
19 اُنکے کُنڈے چاندی کے تھے اور اُنکے سروں پر چاندی منڈھی ہوئی اور اُنکی پٹیاں بھی چاندی کی تھیں۔
20 اور مسکن کی اور صحن کے گردا گرد کی سب میخیں پیتل کی تھیں۔
21 اور مسکن یعنی مسکن شہادت کے جو سامان لاویوں کی خدمت کے لئے بنے اور جنکو مُوسیٰ کےحکم کے مطابق ہارون کاہن کے بیٹے اتمر نے گناہ انکا حساب یہ ہے۔
22 بضلی ایل بن اُوری بن حُور نے جو یہوداہ کے قبیلہ کا تھا سب کُچھ جو خداوند نے مُوسیٰ کو فرمایا تھا بنایا۔
23 اور اسکے ساتھ دان کے قبیلہ کا اہلیاب بن اخیمک تھا جو کندہ کار اور ماہر کاریگر تھا اور آسمانی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور باریک کتان پر بیل بوٹے کاڑھتا تھا۔
24 سب سونا جو مقدس کی چیزوں کے کام میں لگا یعنی ہدیہ کا سونا اُنتِیس قنطار اور مقدس کی مثقال کے حساب سے سات سو تیس مثقال تھا۔
25 اور جماعت میں سے گنِے ہُوئے لوگوں کے ہدیہ کی چاندی ایک سُو قِنطار اور مقِدس کی مثقال کے حِساب سے ایک ہزار سات سُو پچھتر مثقال تھی ۔
26 مَقِدس کی مِثقال کے حِساب سے فی آدمی جو نِکلکر شُمار کئِے ہُوئوں میں مِل گیا ایک بیکا یعنی نِیم مِثقال بِیسں برس اور اُس سے زیادہ عُمر کے لوگوں سے لِیا گیا تھا ۔یہ چھ لاکھ تِین ہزار ساڑھے پانچسو مرد تھے ۔
27 اِس سِو قِنطار چاندی سے مَقِدس کے اور بِیچ کے پردہ کے خانے ڈھالے گئے ۔ سو قِنطار سے سَوہی خانے بنے یعنی ایک ایک قِنطار ایک ایک خانے میں لگا۔
28 اور ایک ہزار سات سُو پچھتر مِثقال چاندی سے سُتُونوں کے کُنڈے بنے اور اُنکے مِیرے منڈھے گئے اور اُنکے لئِےپٹیاں تیار ہُوئیں ۔
29 اور ہدیہ کا پِیتل ستّر قِنطار اور دو ہزار چار سَو مِثقال تھا ۔
30 اِس سے اُس نے خیمہ اجتماع کے دروازہ کے خانے اور پِیتل کا مذبح اور اُسکےلئِے پیتل کی جھنجری اور مذبح کے سب ظرُوف ۔
31 اور صحن کے گِرداگِرد کے خانے اور صحن کے دروازہ کے خانے اور مسکن کی میخیں اور صحن کی چاروں طرف کی میخیں بنائیں ۔


باب 39

1 اور اُنہوں نے مقدس میں خدمت کر نے کے لئے آسمانی اور ارغوانی اور سُر خ بیل بُو ٹے کڑے ہُو ئے لِباس اور ہارُون کے واسطے مُقدس لِباس جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم دیا تھا بنا ئے ۔
2 اور اُس نے سو نے اور آسما نی اور ارغوانی اور سُر خ رنگ کے کپڑوں اور با ریک بٹے ہُو ئے کتان کا افُود بنا یا ۔
3 اور اُنہو ں نے سو نا پِیٹ پِیٹ کر پتلے پتلے پتّر اور پتّروں کو کا ٹ کا ٹکر تا ر بنا ئے تا کہ آسمانی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور با ریک بٹے ہُو ئے کتان پر ما ہر اُستاد کی طرح اُن سے زردوزی کر یں ۔
4 اور افُود کو جو ڑنے کے لئے اُنہوں نے دو مونڈھے بنا اور اُنکے دونو ں سروں کو ملا کر با ندھ دیا ۔
5 اور اُسکے کسنے کے لئے کاریگری سے بنُا ہوا کمر بند اُسکے اُوپر تھا وہ بھی اُسی ٹکڑے اور بنا وٹ کا تھا یعنی سو نے اور آسما نی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور با ریک بٹے ہُو ئے کتا ن کا بنا ہوا تھا جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
6 اور انہوں نے سُلیمانی پتھر کا ٹکر صاف کئے جو سو نے کے خا نوں میں جڑے گئے اور اُن پر انگشتری کے نقش کی طرح بنی اِسرائیل کے نام کندہ تھے ۔
7 اور اُس نے اُنکو افُود کے مونڈھوں پر لگایا تاکہ وہ بنی اِسرائیل کی یاد گاری کے پتھر ہوں جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
8 اور اُس نے افُود کی بنا وٹ کا سینہ بند تیار کیا جو ماہر اُستاد کے ہاتھ کا کام تھا یعنی وہ سو نے اور آسما نی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور با ریک بٹے ہُو ئے کتان کا بنا ہُوا تھا ۔
9 وہ چوکھُونٹاتھا ۔ انہوں نے اُس سینہ بند کو دُہرا بنا یا اور دُہرے ہو نے پر اُسکی لمبا ئی ایک با لشت اور چوڑائی ایک با لشت تھی ۔
10 اِس پر چا ر قطاروں میں اُنہوں نے جو اہر جڑے ۔ یا قُوت سُر خ اور پُکھراج اور زمرّد کی قطار تو پہلی قطا ر تھی ۔
11 اور دُوسری قطار میں گوہر شب چراغ اور نِیلم اور ہیرا ۔
12 تیسری قطار لشم اور یشم اور یا قُوت ۔
13 چوتھی قطار میں فیروزہ اور سنگِ سُلیمانی اور زبرجد ۔ یہ سب الگ الگ سو نے کے سو نے کے خا نوں میں جڑے ہُو ئے تھے ۔
14 اور یہ پتھر اِسرائیل کے بیٹوں کے نا موں کے شُمار کے مُطابق با رہ تھے اور انگشتری کے نقش کی طرح با رہ قبیلوں میں سے ایک ایک کا نام الگ الگ ایک ایک پتھر پر کندہ تھا ۔
15 اور اُنہو ں نے سینہ بند پر ڈوری کی طرح گُنڈھی ہُو ئی خا لص سو نے کی زنجیریں بنائیں ۔
16 اور اُنہوں نے سو نے کے دو خا نے اور سو نے کے دو کڑے بنا ئے اور دونوں کڑوں کو سینہ بند کے دونوں سروں پر لگا یا ۔
17 اور سو نے کی دونوں گُنڈھی ہو ئی زنجیریں اُن کڑوں میں پہنا ئیں جو سینہ بند کے سروں پر تھے ۔
18 اور دو نو ں گُنڈھی ہو ئی زنجیروں کے با قی دو نو ں سروں کو دونوں خا نوں میں جڑکر اُنکو افُود کے دونوں مونڈھوں پر سامنے کے رُخ لگایا۔
19 اور اُنہوں نے سو نے کے کڑے اور بنا کر اُنکو سینہ کے دونوں سروں کے اُس حاشیہ میں لگا یا جس کا رُخ اندر افُود کی طرف تھا ۔
20 اور اُنہو ں نے سو نے کے دو کڑے اَور بنا کر اُنکو افُود کے دو نوں مونڈھوں کے سامنے کے حصّہ میں اندر کے رُخ جہاں افُود جڑُا تھا لگا یا تاکہ وہ افُودکے کاریگری سے بُنےہُو ئے پٹکے کے اُوپر ر ہے ۔
21 اور اُنہوں نے سینہ بند کو لیکر اُسکے کڑوں کو افُود کے کڑوں کے ساتھ ایک نیلے فیتے سے اِس طرح باندھا کہ وہ افُود کے کاریگری سے بُنے ہُوئے پٹکے کے اُوپر رہے اور سینہ بند ڈِھیلاہو کر افُود سے الگ نہ ہو نے پائے جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم دیا تھا ۔
22 اور اُس نے افُود کا جُبہّ بنُا کر بِالکل آسمانی رنگ کا بنا یا ۔
23 اور اُسکا گریباں زِرہ کے گریباں کی طرح بیچ میں تھا اور اُسکے گِردا گِرد گوٹ لگی ہُوئی تھی تاکہ وہ پھٹ نہ جائے ۔
24 اور اُنہوں نے اُس کے دامن کےگھیرمیں آسمانی اور ارغوانی اور سُرخ رنگ کے بٹے ہوئے تارے انار بنائے ۔
25 اور خالص سونے کی گھنٹیاں بنا کر اُنکو جُبہّ کے دامن کے گھیر میں چاروں طرف اناروں کے درمیان لگایا ۔
26 پس جُبّہ کے دامن کے سارے گھیر میں خِدمت کر نے کے لئے ایک ایک گھنٹی تھی اور پھر ایک ایک انار جیسا خُداوند نے مُو سیٰ کو حُکم دیا تھا۔
27 اور اُنہوں نے باریک کتان کے بُنے ہُو ئے کُرتے ہارُون اور اُسکے بیٹوں کے لئے بنا ئے ۔
28 اور با ریک کتا ن کا عما مہ اور با ریک کتان کی خُوبصورت پگڑیاں اور با ریک بٹے ہُو ئے کتان کے پا جا مے ۔
29 اور سُرخ رنگ کے کپڑوں کا بیل بُوٹے دار کمر بند بھی بنا یا جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
30 اور اُنہوں نے مُقدس تاج کا پتّر خالص سونے کا بناکر اپس پر انگشتری کے نقش کی طرح یہ کندہ کیا خُداوند کے لئے مُقدس ۔
31 اور اُسے عمامہ کے ساتھ اُوپر باندھنے کے لئے اُس میں ایک نیلا فیتہ لگایا جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
32 اِس طرح خیمہ اِجتماع کے مسکن کا سب کا م ختم ہو ا اور بنی اِسرائیل نے سب کُچھ جیسا خُداوند نے مُو سیٰ کو حُکم دیا تھا ویسا ہی کیا ۔
33 اور وہ مسکن کو مُوسیٰ کے پاس لائے یعنی خیمہ اور اُسکا سارا سامان اُسکی گھُنڈیاں اور تکتے اور بینڈے اور سُتون اور خانے ۔
34 اور گھٹا ٹوپ ۔ مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہو ئی کھالوں کا غلاف اور تخس کی کھالوں کی غلاف اور بیچ کا پردہ۔
35 شہادت کا صندوُق اور اُسکی چوبیں اور سر پوش ۔
36 اور میز اور اُسکے سب ظروُف اور نذر کی روٹی ۔
37 اور پاک شمعدان اور اُسکی سجاوٹ کے چراغ اور اُسکے سب ظروُف اور جلا نے کا تیل ۔
38 اور زرّین قُربانگاہ اور مسح کر نے کا تیل اور خُوشبُو دار بخور اور خیمہ کے دروازہ کا پردہ ۔
39 اور پیتل منڈھا ہو ا مذبح اور پیتل کی جھنجری اور اُسکی چو بیں اور اُسکے سب ظروُف اور حَوض اور اُسکی کُرسی ۔
40 صحن کے پردے اور اُنکے سُتون اور خانے اور صحن کے دروازہ کا پردہ اور اُسکی رسّیاں اور میخیں اور خیمہ اِجتماع کے کام کے لئے مسکن کی عبادت کے سب سامان ۔
41 اور پاک مقام کی خدمت کے لئے کڑھے ہوئے لِباس اور ہارُون کاہن کے مُقدس لِباس اور اُسکے بیٹوں کے لِباس جنکو پہن کر اُنکو کا ہن کی خدمت کو انجام دینا تھا ۔
42 جو کُچھ خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکمکیا تھا اُسی کے مُطابق بنی اِسرائیل نے سب کام بنا یا ۔
43 اور مُوسیٰ نے سب کام کا مُلاحظہ کیا اور دیکھا کہ اُنہوں نے اُسے کر لیا ہے جیسا خُداوند نے حُکم دیا تھا اُنہوں نے سب کُچھ ویساہی کیا اور مُو سیٰ نے اُنکو بر کت دی ۔


باب 40

1 اور خُداوندنے مُوسیٰ سے کہا ۔
2 پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو تُو خیمہ اِجتماع کے مسکن کو کھڑا کر دینا ۔
3 اور اُس میں شہادت کا صنُدوق رکھ کر صنُدوق پر بیچ کا پر دہ کھینچ دینا ۔
4 اور میز کو اند ر لے جا کر اُس پر کی سب چیزیں ترتیب سے سجا دینا اور شمعدان کو اندر کر کے اُسکے چراغ روشن کر دینا۔
5 اور بخُور جلا نے کی زرّین قُربانگاہ کو شہادت کے صنُدوق کے سامنے رکھنا اور مسکن کے دروازہ کا پر دہ لگا دینا ۔
6 اور سو ختنی قُربا نی کا مذبح خیمہ اِجتماع کے مسکن کے دروازہ کے سامنے رکھنا ۔
7 اور حَوض کو خیمہ اِجتماع اور مذبح کے بیچ میں رکھ کر اُس میں پا نی بھر دینا ۔
8 اور صحن کو چاروں طرف سے گھیر کر صحن کے دروازہ میں پردہ لٹکا دینا ۔
9 اور مسح کر نے کا تیل لیکر مسکن کو اور اُسکے اندر کی سب چیزوں کو مسح کر نا اور یُوں اُسے سب ظروُف کو مُقدس کر نا ۔ تب وہ مُقدس ٹھہر یگا ۔
10 اور تُو سو ختنی قُربانی کے مذبح اور اُسکے سب ظروُف کو مسح کر کے مذبح کو مُقدس کر نا ۔
11 اور مذبح نہایت ہی مُقدس ٹھہریگا۔اور تُو حَوض اور اُسکی کُرسی کو بھی مسح کر کے مُقدس کر نا ۔
12 اور ہا رُون اور اُسکے بیٹوں کو خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر لا کر اُنکو پا نی سے غسل دلانا ۔
13 اور ہارُون کو مُقدس لِباس پہنانا اور اُسے مسح اور مُقدس کر نا تا کہ وہ میرے لئے کا ہن کی خِدمت کو انجام دے ۔
14 اور اُسکے بیٹوں کو لا کر اُنکو کُرتے پہنانا ۔
15 اور جیسے اُنکے باپ مسح کرے ویسے ہی اُنکو بھی مسح کرنا تاکہ وہ میرے لئے کا ہن کی خدمت کو انجام دیں اور اُنکا مسح ہو نا اُنکے لئے نسل در نسل ابدی کہانت کا نشان ہو گا ۔
16 اور مُوسیٰ نے سب کُچھ جیسا خُداوند نے اُسکو حُکم کیا تھا اُسی کے مُطابق کیا ۔
17 اور دُوسرے سال کے پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو مسکن کھڑا کیا گیا ۔
18 اور مُوسیٰ نے مسکن کو کھرا کیا اور خانوں کو دھر اُن میں تختے لگا اُنکے بینڈے کھینچ دِئے اور اُسکے سُتونوں کو کھڑا کر دیا ۔
19 اور مسکن کے اُوپر خیمہکو تان دیا اور خیمہ پر اُسکا غلاف چڑھا دیا جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
20 اور شہا دت نامہ کو لیکر صنُدوق میں رکھّا اور چو بوں کو صنُدوق میں لگا کر سر پوش کو صنُدوق کے اُوپر دھرا ۔
21 پھر اُس صنُدوق کو مسکن کے اند لا یا اور بیچ کا پردہ لگا کر شہادت کے صنُدوق کو پردہ کے اندر کیا جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
22 اور میز کو اُس پردہ کے باہر مسکن کی شما لی سمت میں خیمہ اِجتماع کے اند رکھّا ۔
23 اور اُس پر خُداوند کے رُوبُرو روٹی سجا کر رکھّی جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
24 اور خیمہ اِجتماع کے اندر ہی میز کے سامنے مسکن کی جنُوبی سمت میں شمعدان کو رکھّا ۔
25 اور چراغ خُداوند کے رُوبُرو روشن کردئے جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا۔
26 اور زرّین قُربا نگاہ کو خیمہ اِجتما ع کے اند پردہ کے سامنے رکھّا ۔
27 اور اُس پر خُوشبُو دار مصالح کا بخُور جلایا جیسا خُداوند نے مُوسیٰ کو حُکم کیا تھا۔
28 اور اُس نے مسکن کے دروازہ میں پردہ لگایا ۔
29 اور خیمہ اِجتماع کے مسکن کے دروازہ پر سو ختنی قُر با نی کا مذبح رکھ کر اُس پر سو ختنی قُربا نی اور نذر کی قُر با نی چڑھا ئی جیس خُداوند نے مُو سیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
30 اور اُس نے حَوض کو خیمہ اِجتماع اور مذبح کے بیچ میں رکھ کر اُس میں دھونے کے لئے پا نی بھر دیا ۔
31 اور مُوسیٰ اور ہا رُون اور اُسکے بیٹوں نے اپنے اپنے ہاتھ پاؤں اُس میں دھو ئے ۔
32 جب جب وہ خیمہ اِجتما کے اندر داخل ہو تے اور جب جب وہ مذبح کے نزدیک جا تے تو اپنے آپ کو دھو کر جا تے تھے جیسا خُداوند نے مُو سیٰ کو حُکم کیا تھا ۔
33 اور اُس نے مسکن اور مذبح کے گردا گرد صحن کو گھیرکر صحن کے دروازہ کا پردہ ڈالدِیا ۔ یُوں مُوسیٰ نے اُس کام کو ختم کیا ۔
34 تب خیمہ اِجتماع پر ابرچھا گیا اور مسکن خُداوند کے جلال سے معمور ہو گیا ۔
35 اور مُوسیٰ خیمہ اِجتماع میں داخل نہ ہو سکا کیو نکہ وہ ابر اُس پر ٹھہرا ہو ا تھا اور مسکن خُداوند کے جلال سے معمور تھا ۔
36 اور بنی اِسرائیل کے سارے سفر میں یہ ہو تا رہا کہ جب وہ ابر مسکن کے اُوپر سے اُٹھ جاتا تو وہ آگے بڑھتے ۔
37 پر اگر وہ ابر نہ اُٹھتا تو وہ اُس دن تک سفر نہیں کر تے تھے جب تک وہ اُٹھ نہ جاتا ۔
38 کیو نکہ خُداوند کا ابراِسرائیل کے سارے گھرانے کے سامنے اور اُنکے سارے سفر میں دِن کے وقت تو مسکن کے اُوپر ٹھہرا رہتا اور رات کو اُس میں آگ ر ہتی تھی ۔