احبار

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27


باب 1

1 اور خُداوند نے خیمہِ اجتماع میں سے موسیٰ کو بُلا کر اُس سے کہا۔
2 بنی اسرائیل سے کہہ کر جب تم میں سے کوئی خُداوند کے لئے چڑھاوا چڑھا ئے تو تم چوپاں یعنی گائے بیل اور بھیڑ مکری کا چڑھاوا چڑھانا ۔
3 اگر اُس کا چڑھاوا گائے بیل کی سوختنی قُربانی ہوتو وہ بے عیب نرکر لاکر اُسے خیمہ اجتماع کے دروازے پر چڑھائے تاکہ وہ خُود خُداوند کے حضور مقبول ٹھہرے ۔
4 اور وہ سوختنی قُربانی کے جانور کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے تب وہ اُس کی طرف سے مقبول ہوگا تاکہ اُس کے لئے کفارا ہو ۔
5 اور وہ اُس بچھڑے کوخُداوند کے حضور ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے جو کاہن ہیں خون کو لاکر اُسے اُس مذبح پر گرداگرد چھڑکیں جو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ہے ۔
6 تب وہ اس سوختنی قُربانی کے جانور کی کھال کھینچے اور اُس کے غضو عُضوکو کاٹ کر جداجدا کرے ۔
7 پھر ہارُون کاہن کے بیٹے مذبح پر آگ رکھیں اور آگ پر لکڑیاں ترتیب سے چُن دیں ۔
8 اورہارُون کے بیٹے جو کاہن ہیں اُس کے اعضاکو اور سراورچربی کو اُن لکڑیوں پر جو مذبح کی آگ پر ہونگی ترتیب سے رکھ دیں ۔
9 لیکن وہ اُس کی انتڑیوں اور پایوں کو پانی سے دھولے تب کاہن سب کو مذبح پر جلائے کہ وہ سوختنی قُربانی یعنی خُداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قُربانی ہو ۔
10 اور اگر اُس کا چڑھاوار یوڑیں سے بھیڑ یا بکر ی کی سوختنی قُربانی ہو تو وہ بے عیب نرکو لائے ۔
11 اور وہ اُسے مذبح کی شمالی سمت میں خُداوند کے آگے ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے جو کاہن ہیں اُس کے خُون کو مذبح پر گردا گرد چھڑکیں ۔
12 پھر وہ اُس کے عُضو عُضو کو اور سراور چربی کاٹ کر جداجدا کرے اور کاہن ان کو ترتیب سے ان لکڑیوں پر جو مذبح کی آگ پر ہونگی چن دے ۔
13 وہ انتڑیوں اور پایوں کی پانی سے دھولے تب کاہن سب کو لیکر مذبح پر جلادے ۔ وہ سوختنی قُربانی یعنی خُداوند کے لئے راحت انگیزخوشبوکی آتشین کی آتشین قُربانی ہے ۔
14 اور اگر اُس کا چڑھاوا خداوند کے لئے پرندوں کی سوختنی قربانی ہو تو وہ قمریوں یا کبُوتر کے بچوں کا چڑھاوا چڑھائے ۔
15 اور کاہن اُس کا خُون مذبح کے پر لاکر اس کا سر مروڑ ڈالے اور اُسے مذبح پر جلادے اور اُس کا خُون مذبح کے پہلو پر گرجانے دے ۔
16 اور اُس کے پوٹے کو آلایش سمیت لے جاکر مذبح کی مشرقی سمت میں راکھ کی جگہ میں ڈال دے ۔
17 اور وہ اُس کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر اسے چیرے پر الگ الگ نہ کرے ۔ تب کاہن اسے مذبح پر اُن لکڑیوں کے اوپر رکھ کر جو آگ پر ہونگی جلادے ۔ وہ سوختنی قُربانی یعنی خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قُربانی ہے ۔


باب 2

1 اور اگر کوئی خُداوند کے لئے نذرکی قُربانی کا چڑھاوا لائے تو اپنے چڑھاوے کے لئے میدہ لے اور اُس میں تیل ڈال کر اُس کے اوپر لبان رکھے ۔
2 اور وہ اُ سے ہارون کے بیٹوں کے پاس جو کاہن ہیں لائے اور تیل ملے ہوئے میدہ میں سے اس طرح اپنی مٹھی بھر کر نکالے کہ سب لبان اُس میں آجائے تب کاہن اُسے نذر کی کی قُربانی کی یاد گاری کے طور پر مذبح کے اوپر جلائے ۔ یہ خُداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قُربانی ہو گی ۔
3 اور جو کچھ اس نذر کی قُربانی میں سے باقی رہ جائے وہ ہارون اور اس کے بیٹوں کاہو گا ۔یہ خُداوند کی آتشین قُربانیوں میں پاکترین چیز ہے۔
4 اور جب تو تنور کا پکا ہوا نذر کی قربانی کا چڑھاوا لائے تو وہ تیل ملے ہوئے میدہ کے بے خمیری گردے یا تیل چپڑی ہوئی بے خمیری چپاتیاں ہوں ۔
5 اور اگر تیری نذر کی قُربانی کا چڑھاوا توے کا پکا ہوا ہو تو تیل ملے ہوئے بے خمیری میدہ کا ہو ۔
6 اُس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس پر تیل ڈالنا تو وہ نذر کی قُربانی ہو گی ۔
7 اور اگر تیری نذر کی قُربانی کا چڑھاوا کڑاہی کا تلا ہوا ہو تو وہ میدہ سے تیل میں بنایا جائے ۔
8 تو ان چیزوں کی نذر کی قربانی کا چڑھاوا خداوند کے پاس لانا ۔ وہ کاہن کو دیا جائے اور وہ اسے مذبح کے پاس لائے ۔
9 اور کاہن اُس نذر کی قُربانی میں سے اس کی یاد گاری کا حصہ اٹھا کر مذبح پر جلائے ۔ یہ خداوند کے لئے راحت انگیزخوشبوکی آتشین قُربانی ہوگی ۔
10 اور جو کچھ اُس نذر کی قربانی میں سے بچ رہے وہ ہارُون اور اُس کے بیٹوں کا ہو گا ۔ یہ خداوند کی آتشین قربانیوں میں پاکترین چیز ہے ۔
11 کوئی نذر کی قُربانی جو تم خداوند کے حضور چڑھاؤ وہ خمیر ملا کر نہ بنائی جائے تم کبھی آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور خمیر یا شہد نہ جلانا ۔
12 تم ان کو پہلے پھلوں کے چڑھاوے کے طور پر خداوند کے حضور لانا ۔ پر راحت انگیز خوشبو کے لیے وہ مذبح پر نہ چڑھائے جائیں ۔
13 اور تو اپنی نذر کی قُربانی کے ہر چڑھاوے کو نمکین بنانا اور اپنی کسی نذر کی قُربانی کو اپنے خدا کے عہد کے نمک بغیر نہ رہنے دینا ۔ اپنے سب چڑھاووں کے ساتھ نمک بھی چڑھانا ۔
14 اور اگر تُو پہلے پھلوں کی نذر کا چڑھاوا خداوند کے حضور چڑھائے تو اپنے پہلے پھلوں کی نذر کے چڑھاوے کے لئے اناج کی بھنی ہوئی بالیں یعنی ہری ہری بالوں مین سے ہاتھ سے ملکر نکالے ہوئے اناج کو چڑھانا ۔
15 اور اس میں تیل ڈالنا اور اس کے اوپر لبان رکھنا تو وہ نذر کی قُربانی ہوگی ۔ اور کاہن اس کی یاد گاری کے حصہ کو یعنی تھوڑے سے ملکر نکالے ہوئے دانوں کو ارو تھوڑے سے تیل کو اور سارے لبان کو جلادے یہ خُداوند کے لئے آتشین قربانی ہوگی۔
16


باب 3

1 اور اگر اُس کا چڑھائے تو خواہ وہ نر ہو اور وہ گائے بیل میں سے کسی کو چڑھائے تو خواہ وہ نر ہو یا مادہ پر جو بے عیب ہو اسی کو وہ خداوند کے حضور چڑھائے۔
2 اور وہ اپنا ہاتھ اپنے چڑھاوے کے جانور کے سر پر رکھے اور خمیہ اجتماع کے دروازہ پر اسے ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے و کاہن ہیں اُس کے خون کو مذبح پر گرداگرد چھڑکیں ۔ اور وہ سلامتی کے ذبیحہ میں سے خداوند کے لیےآتشین قُربانی گذرانے یعنی جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں
3
4 اور وہ ساری چربی جو کمر کے پاس رہتی ہےاور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت ان سبھوں کو وہ جدا کرے ۔
5 اور ہارون کے بیٹے انہیں مذبح پر سوختنی قُربانی کے اوپر جلائیں جو ان لکڑیوں پر ہوگی جو آگ کے اوپر ہیں ۔ یہ خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قُربانی ہے ۔
6 اور اگر اس کا سلامتی کے ذبیحے کا چڑھاوا خداوند کے لئے بھیڑ بکری میں سے ہو تو خواہ نر ہو یا مادہ پر جو بے عیب ہو اسی کو وہ چڑھائے۔
7 اگر وہ برہ چڑھاتا ہو تو اسے خداوند کے حضور چڑھائے۔
8 اور اپنا ہاتھ اپنے چڑھاوے کے جانور کے سر پر رکھے اور اسے خیمہ اجتماع کے سامنے ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے اس کے خون کو مذبح پر گرداگرد چھڑکیں
9 ۔ اور وہ سلامتی کے ذبیحہ میں سے خداوند کے لئے آتشین قربانی گزرانے ینعنی اس کی پوری چربی بھری دم کو وہ ریڑھ کے پاس سے الگ کرے اور جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی تہتی ہیں اور وہ ساری چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے۔
10 اور دونوں گردے اور انکے اوپر کی چربی جو کمرے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت سبھوں کو وہ الگ کرے۔
11 اور کاہن انہیں مذبح پر جلائے، یہ اس آتشین قربانی کی غذا ہے جو خداوند کو گذرانی جاتی ہے۔
12 اور اگر وہ بکرایا بکری چڑھاتا ہو تو اسے خداوند کے حضور چڑھائے۔
13 اور وہ اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھے اور اسے خیمہ اجتماع کے سامنے ذبح کرے اور ہارون کے بیٹے اس کے خون کو ذبح پر گرداگرد چھڑکیں۔
14 اور وہ اس میں سے اپنا چڑھاوا آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذرانے یعنی جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور وہ سب چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے۔
15 اور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمرے کے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت ان سبھوں کو وہ الگ کرے۔
16 اور کاہن ان کو مذبح پر جلائے۔ یہ اس آتشین قربانی کی غذا ہے جو راست انگیز خوشبو کے لئے ہوتی ہے۔ ساری چربی خداوند کی ہے۔
17 یہ تمہاری سب سکونت گاہوں میں نسل درنسل ایک دائمی قانون رہگا کہ تم چربی یا خون مطلق نہ کھاؤ۔


باب 4

1 اور خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی ان کاموں میں سے جنکو خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کرے اور اس سے نادانستہ خطا ہو جائے۔
3 اگر کاہن ممسوح کے واسطے جو اس نے کی ہے ایک بے عیب بچھڑا خطا کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گزرانے۔
4 وہ اس بچھڑے کو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے آگے لائے اور بچھڑے کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے اور اس کو خدواند کے آگے ذبح کرے۔
5 اور وہ کاہن ممسوح اس بچھڑے کے خون میں سے کچھ لیکر اسے خیمہ اجتماع میں لے جائے۔
6 اور کاہن اپنی انگلی خون میں ڈبو ڈبو کر اور خون میں سے لے لیکر اسے مقدس کے پردہ کے سامنے سات بار خداوند کے آگے جھڑکے۔
7 اور کاہن اسی خون میں سے خوشبع دار بخور جلانے کی قربانگاہ کے سینگوں پر جو خیمہ اجتماع میں ہے خدواند کے آگے لگائے اور اس بچڑے کے باقی سب خون کو سوختنی قربانی کے مذبح کے پایہ پر جو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ہے انڈیل دے۔
8 پھر وہ خطا کی قربانی کے بچھڑے کی سب چربی کو اس سے الگ کرے یعنی جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور وہ سب چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے۔
9 اور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمرکے پاس رہتی ہےاور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمرکے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت ان سبھوں کو وہ ویسے ہی الگ کرے۔
10 جیسے سلامتی کے ذبیحہ کے بچھڑے سے وہ الگ کئے جاتے ہیں اور کاہن ان کو سوختنی قربانی کے ذبح پر جلائے۔
11 اور اس بچھڑے کی کھال اور اس کا سب گوشت اور سر اور پائے اور انتڑیاں اور گوبر۔
12 یعنی پورے بچھڑے کو لشکر گاہ کے باہر کسی صاف جگہ میں جہان راکھ پڑتی ہے لیجائے اور سب کچھ لکڑیوں پر رکھ کر آگ سے جلائے۔ وہ وہیں جلایا جائے جہاں راکھ ڈالی جاتی ہے۔
13 اگر بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے انجانے چوک ہو جائے اور یہ بات جماعت کی آنکھوں سے چھپی تو ہو تو بھی وہ ان کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کرکے مجرم ہو گئی ہو۔
14 تو اس خطا کے جس کے وہ قصور وار ہوں معلوم ہو جانے پر جموعت ایک بچھڑا خطا کی قربانی کے طور پر چڑھانے کے لئے خیمہ اجتماع کے سامنے لائے۔
15 اور جماعت کے بزرگ اپنے اپنے ہاتھ خداوند کے آگے اس بچھڑے کے سر پررکھیں اور بچھڑا خداوند کے آگے ذبح کیاجائے۔
16 اور کاہن ممسوح اس بچھڑے کے کون میں سے کچھ خیمہ اجتماع میں لے جائے۔
17 اور کاہن اپنی انگلی اس خون میں ڈبو کر اسے پردہ کے سامنے سات بارخداوند کے آگےچھڑکے۔
18 اور اسی خون میں سے مذبح کے سینگوں پر خداوند کے آگے خیمہ اجتماع میں ہے لگائے اور باقی سارا خون سوختنی قربانی کے مذبح کے پایہ پر جو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ہے اندیل دے۔
19 اور اس کی سب چربی اس سے الگ کر کے اسے مذبح پر جلائے۔
20 وہ بچھڑے سے یہی کرے یعنی جو کچھ خطا کی قربانی کے بچھڑے سے کیا تھا وہی اس بچھڑے سے کرے۔ یوں کاہن ان کے لئے کفارہ دے تو انہیں معافی ملے گی۔
21 اور وہ اس بچھڑے کو لشکر گاہ کے باہر لے جا کر جلائے جیسے پہلے بچھڑے کو جلایا تھا۔ یہ جماعت کی خطا کی قربانی ہے۔
22 اور جب کسی سردار سے خطا سرزد ہو اور وہ ان کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کا نادانستہ کر بیٹھے اور مجرم ہو جائے۔
23 تو جب وہ خطا جو اس سے سرزد ہوئی ہے اسے بتادی جائے تو وہ ایک بے عیب بکرا اپنی قربانی کے واسطے لائے۔
24 اور اپنا ہاتھ اس بکرے کے سر پر رکھے اور اسےاس جگہ ذبح کرے جہاں سوختنی قربانی کے جانور خداوند کے آگے ذبح کرتے ہیں۔ یہ خطا کی قربانی ہے۔
25 اور کاہن خطا کی قربانی کا کچھ خون اپنی انگلی پر لیکر اسے سوختنی قربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اور اسکا باقی سب خون سوختنی قربانی کے مذبح کے پایہ پر انڈیل دے۔
26 اور سلامتی کے ذبیحہ کی چربی کی طرح اس کی سب چربی مذبح پر جلائے۔یوں کاہن اس کی خطا کا کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
27 اور اگر کوئی عام آدمیوں میں سے نادانستہ خاطا کرے اور ان کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کر کے مجرم ہو جائ۔
28 تو جب وہ خطا جو اس نے کی اسے بتادی جائے تو وہ اپنی اس خطا کے واسطے جو اس سے سرزد ہوئی ہے ایک بے عیب بکری لائے۔
29 اور وہ اپنا ہاتھ خطا کی قربانی کے جانور کو سوختنی قربانی کی جگہ پر ذبح کرے۔
30 اور کاہن اس کا کچھ خوناپنی انگلی پر لیکر اسے سوختنی قربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اور اسکا باقی سب خون مذبح کے پایہ پر انڈیل دے۔
31 اور وہ اسکی ساری چربی کو الگ کرے جیسے سلامتی کے ذبحیہ کی چربی الگکی جاتی ہے اور کاہن اسے مذبح پر راحت انگیز خوشبو کے طور پر خداوند کے لیئے جلائے۔ یوں کاہن اس کے لئے کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
32 اور اگر خطا کی قربانی کے لئے اس کا چڑھاوا برہ ہو تو وہ بے عیب مادہ لائے۔
33 اور اپنا ہاتھ خطا کی قربانی کے جانور کے سرپر رکھے اور اسے خطا کی قربانی کے طور پر اس جگہ ذبح کرے جہاں سوختنی قربانی ذبح کرتے ہیں۔
34 اور کاہن خطا کی قربانی کا کچھ خون اپنی انگلی پر لیکر اسے سوختنی قربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اور اسکا باقی سب خون مذبح کے پایہ پر انڈیل دے۔
35 اور اسکی سب چربی کو الگ کرے جیسے سلامتی کے ذبحیہ کے برہ کی چربی الگ کی جاتی ہے اور کاہن اس کو مذبح پر خداوند کی آتشین قربانیوں کے اوپر جلائے۔یوں کاہن اس کے لئے اس کی خطا کا جو اس سے ہوئی ہے کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔


باب 5

1 اور اگر کوئی اس طرح خطا کرے کہ وہ گواہ ہو اور اسے قسم دی جائے کہ آیا اس نے کچھ دیکھا یا اسے کچھ معلوم ہے اور وہ نہ بتائے تو اسکا گناہ اسی کے سر لگیگا۔
2 یا اگ کوئی شخص کسی ناپاک چیز کو چھولے خواہ وہ ناپاک جانور یا ناپاک چوپائے یا ناپاک رینگنے والے جاندار کی لاش ہو تو چاہے اسے معلوم بھی نہ ہو کہ وہ ناپاک ہو گیا ہے تو بھی وہ مجرم ٹھہریگا۔
3 یا اگر وہ انسان کی ان نجاستوں میں سے جن سے وی نجس ہو جاتا ہے کسی نجاست کو چھولے اور اسے معلوم نہ ہو تو وہ اس وقت مجرم ٹھہیگا جب اسے معلوم ہو جایئگا۔
4 یا اگر کوئی بغیرسوچے اپنی زبان سے برائی یا بھلائی کرنے کی قسم کھالے تو قسم کھا کر وہآدمی چاہے کیسی ہی بات بغیر سوچے کہدے بشرطیکہ اسے معلوم ہوجائیگا۔
5 اور جب وہ ان باتوں میں سے کسی میں مجرم ہو تو جس امر میں اس سے خطا ہوئی ہے وہ اس کا اقرار کرے۔
6 اور خداوند کے حضور اپنے مجرم کی قربانی لائے یعنی جو خطا اس سے ہوئی ہےاس کے کئے ریوڑ میں سے ایک مادہ یعنی ایک بھیڑیا بکری خطا کی قربانی کے طور پر گزرانے اور کاہن اس کی خطا کا کفارہ دے۔
7 اور اگر اسے بھیڑ دینے کا مقدور نہ ہو تو وہ اپنی خطا کے لئے جرم کی قربانی کے طور پر دو قمریاں یا بوتر کے دو بچے خداوند گزرانے۔ ایک خطا کی قربانی کے لئے اور دوسرا سوختنی قربانی کے لئے ۔
8 وہ انہیں کاہن کے پاس لے آئے جو پہلے اسے جو خطا کی قربانی کے لئے ہے گزرانے اور اس کا سر گردن کے پاس سے مروڑ ڈالے پر اسے الگ نہ کرے۔
9 اور خطا کی قربانی کا کچھ خون مذبھ کے پہلو پر چھڑکے اور باقی خون کو مذبح کے پایہ پر گر جانے دے۔ یہ خطا کی قربانی ہے۔
10 اوردوسرے پرندے کو حکم کے موافق سوختنی قربانی کے طور پر چڑھائے۔یوں کاہن اس کی خطا کا جو اس نے کی ہے کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
11 اور اگر اسے دوقمریاں یا کبوتر کے دو بچے لانے کا بھی مقدور نہ ہو ہو تو اپنی خطا کے واسطے اپنے چڑھاوے کے طور پر ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ خطا کی قربانی کے لئے لا۴ے۔ اس پر نہ تو وہ تیل ڈالے نہ لبان رکھے کیونکہ یہ خطا کی قربانی ہے۔
12 وہ اسے کاہن کے پاس لائے اور کاہن اس میں سے اپنی مٹھی بھر کر اس کی یاد گاری کا حصہ مذبح پر خداوند کی آتشین قربانی کے اوپر جلائے۔یہ خطا کی قربانی ہے۔
13 یوں کاہن اس کے لئے ان باتوں میں سے جس کسی میں سے خطا ہوئی ہے اس خطا کا کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی اور جو کچھ باقی رہ جائے گا وہ نذر کی قربانی کی طرح کاہن کا ہو گا۔
14 اور خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
15 اگر خداوند کی پاک چیزوں میں کسی سے تقصیر ہو اور وہ نادانستہ خطا کرے تو وہ اپنے جرم کی قربانی کے طور پر ریوڑ میں سے بے عیب مینڈھا خداوند کےحضور چڑھائے۔جرم کی قربانی کے لئے اس کی قیمت مقدس کی مثقال کے حساب سے چاندی کی اتنی ہی مثقالیں ہوں جیتنی تو مقرر کردے۔
16 اور جس پاک چیز میں اس سے تقصیر ہوئی ہے وہ اس کا معاوضہ دے اور اس میں پانچواں حصہ اور بڑھا کر اسے کاہن کے حوالہ کرے۔یوں کاہن جرم کی قربانی کا مینڈھا چڑھا کر اس کا کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
17 اور اگر کوئی خطا کرے اور ان کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کرے تو چاہے وہ یہ بات جانتا بھی نہ ہو تو بھی مجرم ٹھہریگا اور اس کا گناہ اسی کے سر لگے گا۔
18 پس وہ ریوڑ میں سے ایک بے عیب مینڈھا اتنے ہی دام کا جو تو مقرر کردے جرم کی قربانی کے طوور پر کاہن کے پاس لائے۔یوںٍکاہن اس کی اس بات کا جس میں اس سے نادانستہ چوک ہو گئی کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی۔
19 یہ جرم کی قربانی ہے کیونکہ وہ یقینأ خداوند کے آگے جمرم ہے۔


باب 6

1 پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
2 اگر کسی سے یہ خطا ہو کہ وہ خداوند کا قصور کرے اور امانت یا لین دین یا لوٹ کے معاملہ میں اپنے ہمسایہ کو فریب دے یا اپنے ہمسایہ پر ظلم کرے۔
3 یا کسی کھوئی ہوئی چیز کو پاکر فریب دے اور چھوٹی قسم بھی کھائے پس ان میں سے خواہ کوئی بات ہو جس میں کسی شخص سے خطا ہو گئی ہے۔
4 سو اگر اس سے خطا ہوئی ہے اور وہ مجرم ٹھہرا ہے تو جو چیز اس نے لوٹی یا جو چیز اس نے ظلم کر کے چھینی یا جو چیز اس کے پاس امانت تھی یا جو کھوئی ہوئی چیز اسے ملی۔
5 یا جس چیز کے بارے میں اس نے جھوٹی قسم کھائی اس چیز کو وہ ضرور پورا واپس کرے اور اصل کے ساتھ پانچواں حصہ بھی بڑھا کر دے۔ جس دن یہ معلوم ہو کہ وہ مجرم ہے اسی دن وہ اسے اس کے مالک کو واپس دے۔
6 اور اپنے جرم کی قربانی خداوند کے حضور چڑھائےاور جیتنا دام تو مقرر کرے اتنے دام کا ایک بے عیب مینڈھا ریوڑ میں ہے جرم کی قربانی کے طور پر کاہن کے پاس لائے۔
7 یو کاہن اس کے لئے خداوند کے حضور کفارہ دے تو جس کام کو کرے وہ مجرم ٹھہرا ہے اس کی اسے معافی ملے گی۔
8 پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
9 ہارون اور اسکے بیٹوں کو یوں حکم دے کہ سوختنی قربانی کے بارے میں شرع یہ ہے کہ سوختنی قربانی مذبح کے اوپر آتشدان پر تمام رات صبح تک رہے اور مذبح کی آگ اس پر جلتی رہے۔
10 اور کاہن اپنا کتان کا لباس پہنے اور کتان کے پاجامے کو اپنے تن پر ڈالے اور آگ نے جو سوختنی قربانی کو مذبح پر بھسم کر کے راکھ کر دیا ہے اس راکھ کو اٹھا کر اسے مذبح کی ایک طرف رکھے۔
11 پھر وہ اپنے لباس کو اتار کر دوسرے کپڑے پہنے اور اس راکھ کو اٹھا کر لشکر گاہ کے باہر کسی صاف جگہ میں لیجائے۔
12 اور مذبح پر آگ جلتی رہے اور کبھی بجھنے نہ پائے اور کاہن ہر صبح کو اس پر لکڑیاں جلا کر سوختنی قربانی کو اس کے اوپر چن دے اور سلامتی کے ذبیحوں کی چربی کو اس کے اوپر جلایا کرے۔
13 مذبح پر آگ ہمیشہ جلتی رکھی جائے۔وہ کبھی بجھنے نہ پائے۔
14 اور نذر کی قربانی کے بارے میں شرع یہ ہے کہ ہارون کے بیٹے اسے مذبح کے آگے خداوند کے حضور گزارا نیں۔
15 اور وہ نذر کی قربانی میں سے اپنی مٹھی بھر اس طرح نکالے کہ اس میں تھوڑا سا میدہ اور کچھ تیل جو اس میں پڑا ہو گا اور نذر کی قربانی کا سب لبان آجائےاور اس یادری کے حصہ کو مذبح پر خداوند کے حضور راحت انیز خوشبو کے طور پر جلائے۔
16 اور جو باقی جگہ میں کھاایا جائے یعنی وہ خیمہ اجتماع کے صحن میں اسے کھائیں۔
17 وہ خیمر کے ساتھ پکایا نہ جائے۔ میں نے یہ اپنی آتشین قربانیوں میں سے ان کا حصہ دیا ہے اور یہ خطا کی قربانی اور جرم کی قربانی کی طرح نہایت پاک ہے۔
18 ہارون کی اولاد کے سب مرد اس میں سے کھائیں۔ تمہاری پشت در پشت خداوند کی آتشین قربانیوں میں سے یہ انکا حق ہو گا۔ جو کوئی انہیں چھوئے وہ پاک ٹھہریگا۔
19 اور خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
20 جس دن ہارون کو مسح کیا جائے اس دن وہ اور اس کے بیٹے خداوند کے حضور یہ چڑھاوا چڑھائیں کہ ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ آدھا صبح کو اور آدھا شام کو ہمیشہ نذر کی قربانی کے لئے لائیں۔
21 وہ توے پر تیل میں پکایا جائے۔ جب وہ تر ہو جائے تو تو اسے لے آنا۔ اس نذر کی قربانی کو پکوان کے ٹکڑوں کی صورت میں گزرننا تاکہ وہ خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو بھی ہو۔
22 اور جو اس کے بیٹوں میں سے اس کی جگہ کاہن ممسوح ہو وہ اسے گذرانے۔یہ دائمی قانون ہو گا کہ وہ خداوند کے حضور بالکل جلایا جائے۔
23 کاہن کی ہر ایک نذر کی قربانی بالکل جلائی جائے وہ کبھی کھائی نہ جائے۔
24 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
25 ہارون اوراسکے بیٹوں سے کہہ کہ خطا کی قربانی کے بارے میں شرع یہ ہے کہ جس جگہ سوختنی قربانی کا جانور ذبح کیا جاتا ہے وہیں خطا کی قربانی کا جانور بھی خداوند کے آگے ذبح کیا جائے۔ وہ نہایت پاک ہے۔
26 جو کاہن اسے خطا کے لئے گذرانے وہ اسے کھائے۔ وہ ایک جگہ میں یعنی خیمہ اجتماع کے صحن میں کھایا جائے۔
27 جو کچھ اس کے گوشت سے چھو جائے وہ پاک ٹھہریگا اور اگر کسی کپڑے پر اسکے خون کی چھینٹ پڑ جائے تو جس کپڑے پر اسکی چھینٹ پڑی ہے تو اسے کسی پاک جگہ میں دھونا۔
28 اور مٹی کا وہ برتن جس میں وہ پکایا جائے توڑدیا جائےپر اگر وہ پیتل کے برتن میں پکایا جائے تو اس برتن کو مانج کر پانی سے دھو لیا جائے۔
29 اور کاہنوں میں سے ہر مرد اسے کھائے۔ وہ نہایت پاک ہے۔
30 پر جس خطا کی قربانی کا کچھ خون خیمہ اجتماع کے اندر پاک مقام میں کفارہ کے لئے پہنچایا گیا ہے اسکا گوشت کبھی نہ کھایا جائے بلکہ وہ آگ سے جلادیا جائے۔


باب 7

1 اور جرم کی قربانی کے بارے میں شرع یہ ہے۔ وہ نہایت مقدس ہے۔
2 جس جگہ سوختنی قربانی کے جانور کو مذبح کرتے ہیںوہیں وہ جرم کی قربانی کے جانور کو بھی ذبح کریں اور وہ اس کے خون کو مذبح کے گرداگرد چھڑکے۔
3 اور وہ اس کی سب چربی کو چڑھائے یعنی اس کی سوئی دم کو اور اس چربی کو جس سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں۔
4 اور دونوں گردے اور انکے اوپر کی چربی جو کمرکے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت۔ان سب کو وہ الگ کرے۔
5 اور کاہن انکو مذبح پر خداوند کے حضور آتشین قربانی کے طور پر جلائے۔ یہ جرم کی قربانی ہے۔
6 اور کاہنوں میں سے ہر مرد اسے کھائے اور کسی پاک پاک جگہ میں اسے کھائیں۔وہ نہایت پاک ہے۔
7 جرم کی قربانی دیسی ہی ہے جیسی خطا کی قربانی ہے اور انکے لئے ایک ہی شرع ہے اور انہیں وہی کاہن لے جو ان سے کفارہ دیتا ہے۔
8 اور جو کاہن کسی شخص کی طرف سے سوختنی قربانی گذرانتا ہےوہی کاہن اس سوختنی قربانی کی کھال کو جو اس نے گذرانی اپنے واسطے لےلے۔
9 اور ہر ایک نذر کی قربانی جو تنور میں پکائی جائے اور وہ بھی جو کڑاہی میں تیار کی جائے اور توے کی پکی ہوئی بھی اسی کاہن کی جو اسے گذرانے۔
10 اور ہر ایک نذر کی قربانی خواہ اس میں تیل ملا ہوا ہو یا وہ خشک ہو برابر ہارون کے سب بیٹوں کے لئے ہو۔
11 اور سلامتی کے ذبیحہ کے بارے میں جسے کوئی خداوند کے حضور چڑھائے شرع یہ ہے۔
12 کہ وہ اگر شکرانہ کے طور پر اسے چڑھائے تو وہ شکرانہ کے ذبیحہ کے ساتھ تیل ملے ہوئے بے خیمری کلچے اور تیل چپڑی ہوئی بے خیمری چپاتیاں اور تیل ملے ہوئے میدہ کے تر کلچے بھی گذرانے۔
13 اور سلامتی کے ذبیحہ کی قربانی کے ساتھ جو شکرانہ کے لئے ہو گی وہ خیمری روٹی کے گردے اپنے چڑھاوے پر گذرانے۔
14 اور ہر چڑھاوے میں سے وہ ایک کو لیکر اسے خداوند کے روبرو ہلانے کی قربانی کے طور پر چڑھائے اور یہ اس کاہن کا ہو جو سلامتی کے ذبیحہ کا خون چھڑکتا ہے۔
15 اور سلامتی کے ذبیحوں کی اس قربانی کا گوشت جو اسکی طرف سے شکرانہ کے طور پر ہوگی قربانی چڑھانے کے دن ہی کھالیا جائے۔ وہ اس میں سے کچھ صبح تک باقی نہ چھوڑے۔
16 پر اگر اسکے چڑھاوے کی قربانی منت کا یا رضا کا ہدیہ ہو تو وہ اس دن کھائی جائے جس دن وہ اپنی قربانی گذرانے اور جو کچھ اس میں ے بچ رہے وہ دوسرے دن کھایا جائے۔
17 پر جو کچھ اس قربانی کے گوشت میں سے تیسرے دن تک رہ جائے وہ آگ میں جلادیا جائے۔
18 اور اسکے سلامتی کے ذبیحوں کی قربانی کے گوشت میں سے اگر کچھ تیسرے دن کھایا جائے تو وہ منظور نہ ہو گا اور نہ اسکا ثواب قربانی دینے والے کی طرف منسوب ہوگا بلکہ یہ مکروہ بات ہوگی اور جو اس میں سے کھائے اسکا گناہ اسی کے سرلیگا۔
19 اور جو گوشت کسی ناپاک چیز سے چھو جائے کھایا نہ جائے۔ وہ آگ میں جلایا جائے اور ذبیحہ کے گوشت کو پاک ہے وہ تو کھائے۔
20 لیکن جو شخص نجاست کی حالت میں خداوند کی سلامتی کے ذبیحہ کا گوشت کھائے وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
21 اور جو کوئی کسی ناپاک چیز کو چھوئے خواہ وہ انسان کی نجاست ہو یا ناپاک جانور ہو یا کوئی نجس مکروہ شے ہو اور پھر خداوند کے سلامتی کے ذبیحہ کے گوشت میں سے کھائے وہ بھی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
22 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
23 بنی اسرائیل سے کہہ کہ تم لوگ نہ تو تیل کی نہ بھیڑ کی اور نہ بکری کی کچھ چربی کھانا۔
24 جو جانور خود بخود مرگیا ہو اور جسکو درندوں نے پھاڑا ہو انکی چربی اور اور کام میں لاؤ تو لاؤ پر اسے تم کسی حال میں نہ کھانا۔
25 کیونکہ جو کوئی ایسے چوپائے کی چربی کھائے جسے لوگ آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور چڑھاتے ہیں وہ کھانے والا آدمی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
26 اور تم اپنی سکونت گاہوں میں کہیں بھی کسی طرح کا خون خواہ پرندے کا ہویا چوپائے کا ہرگز نہ کھانا۔
27 جو کوئی کسی طرح کا خون کھائے وی شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
28 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
29 بنی اسرائیل سے کہہ کہ جو کوئی اپنا سلامتی کا ذبیحہ خداوند کے حضور گذرانے وہ خود ہی اپنے سلامتی کے ذبیحہ کی قربانی میں سے اپنا چڑھاوا خداوند کےحضور لائے۔
30 وہ اپنے ہی ہاتھوں میں خدوند کی آتشین قربانی کو لائے یعنی چربی کو سینہ سمیت لائے کہ سینہ ملانے کی قربانی کے طور پر ہلایا جائے۔
31 اور کاہن چربی کو مذبح پر جلائے پر سینہ پورون اور اسکے بیٹوں کوہو۔
32 اور تم سلامتی کے ذبیحوں کی دہنی ران اٹھانے کی قربانی کے طور پر کاہن کو دینا۔
33 ہارون کے بیٹوں میں سے جو سلامتی کے ذبیحوں کا خون اور چربی گذرانے وہی وہ دہنی ران اپنا حصہ لے۔
34 کیونکہ بنی اسرائیل کے سلامتی کے ذبیحوں میں سے ہلانے کی قربانی کا سینہ اور اٹھانے کی قربانی کی ران کو لیکر میں نے ہارون کاہن اور اسکے بیٹوں کو دیا ہے کہ یہ ہمیشہ بنی اسرائیل کی طرف سے انکا حق ہو۔
35 یہ خداوند کی آتشین قربانیوں میں سے ہارون کے ممسوح ہونے کا اور اسکے بیٹوں کے ممسوح ہونے کا حصہ ہے جو اس دن مقرر ہوی جب وہ خداوند کے حضور کاہن کی خدمت کو انجام دینے کے لئے حاضر کئے گئے۔
36 یعنی جس دن خداوند نے انہیں مسح کیا اس دن اس نے یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کی طرف سے انہیں یہ ملا کرے۔ سو انکی نسل در نسل یہ انکا حق رہیگا۔
37 سوختنی قربانیاور نذر کی قربانی اور خطا کی قربانی اور جرم کی قربانی اور تخصیص اور سلامتی کے ذبیحہ کے بارے میں شرع یہ ہے۔
38 جسکا حکم خداوند نے موسی کو اس دن کوسینا پر دیا جس دن اس نے بنی اسرائیل کو فرمایا کہ سینا کے بیابان میں خداوند کے حضور اپنی قربانی گذرانیں۔


باب 8

1 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
2 ہارون اور اسکے ساتھ اسکے بیٹوں کو اور لباس کو اور مسح کرنے کے تیل کو اور خطا کی قربانی کے بچھڑے اور دونوں مینڈھوں اور بے خیمری روٹیوں کی ٹوکری کو لے۔
3 اور ساری جماعت کو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر جمع کر۔
4 چنانچہ وسی نے خداوند کے حکم کے مطابق عمل کیا اورساری جماعت خیمہ اجتماع کے دروازہ پر جمع ہوئی۔
5 تب موسی نے جماعت سے کہا یہ وہ کام ہے جسکے کرنے کا حکم خداوند نے دیا ہے۔
6 پھر موسی ہارون اور اسکے بیٹوں کو آگے لایا اور انکو پانی سے غسل دلایا۔
7 اور اسکو کرتا پہنا کر اس پر کمر بند لپیٹا اور اسکو جبہ پہنا کر اس پر افود لگایا اور افود کے کاریگری سے بنے ہوئے کمر بند کو اس پر لپیٹا اور اسی سے اسکو اوپر کس دیا۔
8 اور سینہ بند کو اسکے اوپر لگا کر سینہ بند میں اوریم اور تمیم لگادئے۔
9 اور اسکے سر پر عمامہ رکھا اور عمامہ پر سامنے سونے کے پتر یعنی مقدس تاج کو لگایا جیسا خداوند نے موسی کو حکم کیا تھا۔
10 اور موسی نے مسح کرنے کا تیل لیا اور مسکن کو جو اس میں تھا سب کو مسح کر کے مقدس کیا۔
11 اور اس میں سے تھوڑا سا لیکر مذبح پر سات بار چھڑکا اور مذبح اور اسکے سب ظروف کو اور حوض اور اسکی کرسی کو مسح کیا تاکہ انہیں مقدس کرے۔
12 اور مسح کرنے کے تیل میں سے تھوڑا سا ہارون کے سر پر ڈالا اور اسے مسح کیا تاکہ وہ مقدس ہو۔
13 پھر موسی ہارون کے بیٹوں کو آگے لایا اور انکو کرتے پہنائے اور ان پر کمر بند لپیٹے اور انکو پگڑیاں پہنائیں جیسا خداوند نے موسی کو حکم کیاتھا۔
14 اور وہ خطا کی قربانی کے بچھڑےکو آگے لایا اور ہارون اور اسکے بیٹوں نے اپنے اپنے ہاتھ خطا کی قربانی کے بچھڑے کے سر پر رکھے۔
15 پھر اس نے اسکو ذبح کیا اور موسی نے خون کو لیکرمذبح کے گردا گرد اسکے سینگوں پر اپنی انگلی سے لگایا اور مذبح کو پاک کیا اور باقی خون مذبح کے پایہ پر انڈیل کر اسکا کفارہ دیا تاکہ وہ مقدس ہو۔
16 اور موسی نے انتڑیوں کے اوپر کی ساری چربی اور جگر پر کی جھلی اوردونوں گردوں اور انکی چربی کو لیا اور نہیں مذبح پر جلایا۔
17 لیکن بچھڑے کو اسکی کھال اور گوشت اور گوبر سمیت لشکر گاہ کے باہر آگ میں جلایا جیسا خداوند نے موسی کو حکم کیا تھا۔
18 پھر اس نے سوختنی قربانی کے مینڈھے کو حاضر کیا اور ہارون اور اسکے بیٹوں نے اپنے اپنے ہاتھ اس مینڈھے کے سر پر رکھے۔
19 اور اس نےاسکوذبح کیا اور موسی نے خون کو مذبحکے اوپر گردا گرد چھڑکا۔
20 پھر اس نے مینڈھے کے عضو عضو کو کاٹ کر الگ کیا اور موسی نے سر اور اعضا اور چربی کو جلایا۔
21 اور اس نے انتڑیوں اور پایوں کو پانی سے دھویا اور موسی نے پورے مینڈھے کو مذبح پر جلایا۔یہ سوختنی قربانی راحت انگیز خوشبو کے لئے تھی۔یہ خداوند کی آتشین قربانی تھی جیسا خداوند نے موسی کو حکم کیا تھا۔
22 اور اس نے دوسرے مینڈھے کو جو تخصیصی مینڈھا تھا حاضر کیا اور ہارون اور اسکے بیٹوں نے اپنے اپنے ہاتھ اس مینڈھے کے سر پر رکھے۔
23 اور اس نے اسکو ذبح کیا اور موسی نے اسکا کچھ خون لیکر اسے ہارون کے دہنے کان کی لو پر اور دہنے ہاتھ کے انگوٹھے اور دہنے پاؤں کے انگوٹھے پر لگایا۔
24 پھر وہ ہارون کے بیٹوں کو آگے لایا اور اسی خون میں سے کچھ انکے دہنے کان کی لو پر اور دہنے ہاتھ کے انگوٹھے اور دہنے پاؤں کے انگوٹھےپر لگایا اور باقی خون کو اس نے مذبح کے اوپر گرداگرد چھڑکا۔
25 اور اس نے چربی اور موٹی دم اور انتڑیوں کے اوپر کی چربی اور جگر پر ک جھلی اور دونوں گردے اور انکی چربی اور دہنی ران ان سبھوں کو لیا۔
26 اور بے خمیر روٹیوں کی ٹوکری میں سے جو خداوند کے حضور رہتی تھی بے خمیری روٹی کا ایک گروہ اور تیل چپڑی ہوئی روٹی کا ایک گروہ اور ایک چپاتی نکالکرانہیں چربی اور دہنی ران پر رکھا۔
27 اور ان سبھوں کو ہارون اور اسکے بیٹوں کے ہوتھوں پر رکھ کر ان کو ہلانے کی قربانی کے طور پر خدوند ہلایا۔
28 پھر موسی نے ان کو انکے ہاتھوں سے لے لیا اور ان کو مذبح پر سوختنی قربانی کے اوپر جلایا یہ راحت انگیز خشبو کے لئے تخصیصی قربانی تھی۔ یہ خداوندکی آتشین قربانی تھی۔
29 پھر موسی نے سینہ کو لیا اور اسکو ہلانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور ہلایا۔اس تخصیصی مینڈھے میں سے یہی موسی کا حصہ تھا جیسا خداوند نے موسی کو حکم کیا تھا۔
30 اور موسی نے مسح کرنے کے تیل اور مذبح کے اوپر کے خون میں سے کچھ کچھ لیکر اسے ہارون اور اسکے لباس پر اور ساتھ ہی اسکے بیٹوں پر اور انکے لباس پر چھڑکا اور ہارون اور اسکے لباس کو اور اسکے بیٹوں کو اور انکے لباس کو مقدس کیا۔
31 اورموسی نے ہارون اور اسکے بیٹوں سے کہا کہ یہ گوشتخیمہ اجتماع کے دروازہ پر پکاؤ اور اسکو وہیں اس روٹی کے ساتھ جو تخصیصی ٹوکری میں ہے کھاؤ جیسا میں نے حکم کیا ہے کہ ہارون اور اسکے بیٹے کھائیں۔
32 اور اسگوشت اور روٹی میں سسے جو کچھ بچ رہے اسے آگ میں جلادینا۔
33 اور جب تک تمہاری تخصیص کے ایام پورے نہ ہوں تب تک یعنی سات دن تک وہ تمہاری تخصیص کرتا رہیگا۔
34 جیسا آج کیا گیا ہے ویسا ہی کرنے کا حکم خداوند نے دیا ہے تاکہ تمہارے لئے کفارہ ہو۔
35 سو تم خیمہ اجتماع کے دروازہ پر سات روز تک دن رات ٹھہرے رہنا اور خداوند کے حکم کو مننا تاکہ تم مر نہ جاؤ کیونکہ ایسا ہی حکم مجھ کو ملا ہے۔
36 پس ہارون اور اسکے بیٹوں نے سب کام خداوند کے حکم کے مطابق کیا جو اس نے موسی کی معرفت دیا تھا۔



باب 9

(باب9)
1 آٹھویں دن موسی نے ہارون اور اسکے بیٹوں کو اور بنی اسرائیل کے بزرگوں کو بلایا اور ہارون سے کہا کہ۔
2 خطا کی قربانی کے لئے ایک بے عیب بچھڑا اور سوختنی قربانی کے لئے ایک بے عیب مینڈھا تو اپنے واسطے لے اور انکو خداوند کے حضور گذران۔
3 اور بنی اسرائیل سے کہہ کہ تم خطا کی قربانی کے لئے ایک بکرا اور سوختنی قربانی کے لئے ایک بچھڑا اور ایک برہ جو یکسالہ اور بے عیب ہوں لو۔
4 اور سلامتی کے ذبیحہ کے لئے خداوند کے حضور چڑھانے کے واسطے ایک بیل اور ایک مینڈھا اور تیل ملی ہوئی نذر کی قربانی بھی لو کیونکہ آج خداوند تم پر ظاہر ہوگا۔
5 اور وہ جو کچھ موسی نے حکم کیا تھا سب خیمہ اجتماع کے سامنے لے آئے اور ساری جماعت نزدیک آکر خداوند کے حضور کھڑی ہوئی۔
6 موسی نے کہا یہ وہ کام ہے جسکی بابت خداوند نے حکم دیا ہے کہ تم اسے کرو اور خداوند کا جلال تم پر ظاہر ہو گا۔
7 اور موسی نے ہارون سے کہا کہ مذبح کے نزدیک جا اور اپنی خطا کی قربانی اور اپنی سوختنی قربانی گذران اور اپنے لئے اور قوم کے لئےکفارہ دے اور جماعت کے چڑھادے کو گذران اور انکے لئے کفارہ دے جیسا خداوند نے حکم کیا ہے۔
8 سو ہاروننے مذبح کے پاس جا کر اس بچھڑے کو جو اسکی خطا کی قربانی کے لئے تھاذبح کیا۔
9 اور ہارون کے بیٹے خون کو اسکے پاس لے گئے اور اس نے اپنی انگلی اس میں ڈبو ڈبو کر اسے مذبح کے سینگوں پر لگایا اور باقی خون مذبح کے پایہ پر انڈیل دیا۔
10 لیکن خطا کی قربانی کی چربی اور گردوں اور جگر پر کی جھلی کو اس نے مذبح پر جلایا جیسا خداوند نے موسی کو حکم کیا تھا۔
11 اور گوشت اور کھال کو لشکرگاہ کے باہر آگ میں جلایا۔
12 پھر اس نے سوختنی قربانی کے جانور کو ذبحکیا اور ہارون کے بیٹوں نے خون اسے دیا اور اس نے اسکومذبح کے گرداگرد چھڑکا۔
13 اور سوختنی قربانی کو ایک ایک ٹکڑا کر کے سر سمیت اسکو دیا اور اس نے انہیں مذبح پر جلایا۔
14 اور اس نے انتڑیوں اور پایوں کو دھویا اور انکو مذبح پر سوختنی قربانی کے اوپر جلایا۔
15 پھر جماعت کے چڑھاوے کو آگے لاکر اور اس بکرے کو جو جماعت کی خطا کی قربانی کے لئےتھا لیکر اسکو ذبح کیا اور پہلےکی طرح اسے بھی خطا کے لئے گذرانا۔
16 اور سوختنی قربانی کے جانور کو آگے لاکراس نے اسے حکم کے مطابق گذرانا۔
17 پھر نذر کی قربانی کو آگے لایا اور اس میں سے ایک مٹھی لیکر صبح کی سوختنی قربانی کے علاوہ اسے جلایا۔
18 اور اس نے بیل اور مینڈھے کو جو لوگوں کی طرف سے سلامتی کے ذبیحے تھے ذبح کیا اور ہارون کے بیٹوں نے خون اسے دیا اور اس نے اسکو مذبح پر گردا گرد چھڑکا۔
19 اور انہوں نے بیل کی چربی کو اور مینڈھے کی موٹی دم کو اور اس چربی کو جس سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور دونوں گردوں اور جگرد پر کی جھلی کو بھی اسے دیا۔
20 اور چربی سینوں پر دھردی۔سواس نے وہ چربی مذبح پر جلائی۔
21 اور سینہ اور دہنی ران کو ہارون نے موسی کے حکم کے مطابق ہلانتے کی قربانی کے طور پر خداوندکے حضور ہلایا۔
22 اور ہارون نے جماعت کی طرف اپنے ہاتھ بڑھا کر انکو برکت دی اور خطا کی قربانی اور سوختنی قربانی اور سلامتی کی قربانی گذران کر نیچے اترآیا۔
23 اور موسی اور ہارون خیمہ اجتماع میں داخل ہوئے اور باہر نکل کر لوگوں کو برکت دی۔تب سب لوگوں پر خداوند کا جلال نمودار ہوا۔اور خداوند کے حضور سے آگ نکلی اور سوختنی قربانی اور چربی کو مذبح کے اوپر بھسم کر دیا۔لوگوں نے یہ دیکھکر نعرے مارے اور سرنگوں ہو گئے۔
24


باب 10

1 اورندب اور ابہیو نے جو ہارون کے بیٹے تھے اپنے اپنے بخوردان کو لیکر ان میں آگ بھری اور اس پر اور اوپری آگ جسکا حکم خداوند نے انکو نہیں دیا تھا خداوند کے حضور گذرانی۔
2 اور خداوند کے حضور سے آگ نکلی اور ان دونوں کو کھاگئی اور وہ خداوند کے حضور کے حضور مرگئے۔
3 تب موسی نے ہارون سے کہا یہ وہی بات ہے جو خداوند نے کہی تھی کہ جو میرے نزدیک آئیں ضرور ہے کہ وہ مجھے مقدس جانیں اور سب لوگوں کے آگے میری تمجید کریں اور ہارون چپ رہا۔
4 پھر موسی نے میسائیل اور الصفن کو جو ہارون کے چچا عزی ایل کے بیٹے تھے بلا کر ان سے کہا نزدیک آؤ اور اپنے بھایئوں کو مقدس کے سامنے سے اٹھا کر لشکرگاہ کے باہر لے جاؤ۔
5 پس وہ نزدیک گئے اور انہیںانکے کرتوں سمیت اٹھا کرموسی کے حکم کے مطابق لشکر گاہ کے باہر لے گئے۔
6 اور موسی نے ہارون اور اسکے بیٹوں الیعزاور اتمر سے کہا کہ نہ تمہارے سر کے بال بکھرنے پائیں اور نہ تم اپنے کپڑے پھاڑنا تاکہ نہ تم ہی مرد اور نہ ساری جماععت پر اسکا غضب نازل ہو اسرائیل کے سب گھرانے کے لوگ جو تمہارے بھائی ہیں اس آگ پر جو خداوند نے لگائی ہے نوحہ کریں۔
7 اور تم خیمہ اجتماع کے دروازہ سے باہر نہ جانا تا ایسا نہ ہو کہ تم مرجاؤ کیونکہ خداوند کا مسح کرنے کا تیل تم پر لگا ہوا ہے۔ سو انہوں نے موسی کسے کہنے کےمطابق عمل کیا۔
8 اور خداوند نے ہارون سے کہا کہ ۔
9 تو یا تیرے بیٹے مے یا شراب پیکر کبھی خیمہ اجتماع کے اندر داخل نہ ہوتا تاکہ تم مر نہ جاؤ۔یہ تمہارے لئے نسل درنسل ہمیشہ تک ایک قانون رہیگا۔
10 تاکہ تم مقدس اور عام اشیا میں اور پاک اور ناپاک میں تمیز کرسکو۔
11 اور بنی اسرائیل کو وہ سب آئین سکھا سکو جو خداوند نے موسی کی معرفت انکو فرمائے ہیں۔
12 پھر موسی ہارون اور اسکے بیٹوں الیعزر اور اتمر سے جوباقی رہ گئے تھے کہا کہ خداوند کی آتشین قربانیوں میں سے جونذر کی قربانی بچ رہی ہے اسے لے لو اور بغیر خمیر کے اسکو مذبح کے پاس کھاؤ کیونکہ یہ نہایت مقدس ہے۔
13 اور تم اسے کسی پاک جگہ میں کھانا۔اسلئے کہ خداوند کی آتشین قربانیوں میں سے تیرا اور تیرے بیٹوں کا یہ حق ہے کیونکہ مجھے ایسا ہی حکم ملا ہے۔
14 اور ہلانے کی قربانی کے سینہ کو اور اٹھانے کی قربانی کی ران کو تم لوگ یعنی تہیرے ساتھ تیرے بیٹے اور بیٹیاں بھی کسی صاف جگہ میں کھانا کیونکہ بنی اسرائیل کے سلامتی کے ذبیحوں میں سے یہ تیرا اور تیرے بیٹوں کا حق ہے جو دیا گیا ہے۔
15 اور اٹھانے کی قربانی کی ران اور ہلانے کی قربانی کا سینہ جسے وہ چربی کی آتشین قربانیوں کے ساتھ لائینگے تاکہ وہ خدوند کے حضور ہلانے کی قربانی کے طور پر ہلائے جائیں۔ یہ دونوں ہمیشہ کے لئے خداوند کے حکم کے مطابق تیرا اور تیرے بیٹوں کا حق ہو گا۔
16 پھر موسی نے خطا کی قربانی کے بکرے کو جو بہت تلاش کیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ جل چکا ہے۔ تب وہ ہارون کے بیٹوں الیعزر اور اتمر پر جو بچ رہے تھے ناراض ہوا اور کہنے لگا کہ۔
17 خطا کی قربانی جو نہایت مقدس ہے اور جسے خداوند نے تم کو اسلئے دیا ہے کہ تم جماعت کے گناہ کو اپنے اوپر اٹھا کر خداوند کے حضور انکے لئے کفارہدو تم نے اسکا گوشت مقدس میں کیوں نہ کھایا؟۔
18 دیکھو!اسکا خون مقدس میں تو لایا ہی نہیں گیا تھا۔ پس تمکو لازم تھا کہ میرے حکم کے مطابق تم اسے مقدس میں کھالیتے۔
19 تب ہارون نے موسی سے کہا دیکھ! آج ہی انہوں نے اپنی خطا کی قربانی اور اپنی سوختنی قربانی خداوند کے حضور گذرانی اور مجھ پر ایسے ایسے حادثے گذر گئےپس اگر میں آج خطا کی قربانی کا گوشت کھاتا تو کیا یہ بات خداوند کی نظرمیں بھلی ہوتی۔
20 جب موسی نے یہ سنا اسے پسند آیا۔


باب 11

1 پھر خداوند نے موسی اور ہارون سے کہا۔
2 تم بنی اسرائیل سے کہو کہ زمین کے سب حیواناتمیں سے جن جانوروں کو تم کھا سکتے ہو وہ یہ ہیں۔
3 جانوروں میں جنکے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں اور وہ جگالی کرتے ہیں تم انکو کھاؤ۔
4 مگر جو جگالی کرتے ہیں یا جنکے پاؤں الگ ہیں ان میں سے تم ان جانوروں کو نہ کھانا یعنی اونٹ کو کیونکہ وہ جگالی کرتا ہے پر اسکے پاؤںالگ نہیں۔سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے۔
5 اور سافان کو کیونکہ وہ جگالی کرتا ہےپر اسکے پاؤں الگ نہیں وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔
6 اور خروگوش کو کیونکہ وہ جگالی تو کرتا ہے پر اسکے پاؤں نہیں۔وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے
7 اور سوار کو کیونکہ اسکے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا۔وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔
8 تم انکا گوشت نہ کھانا اور انکی لاشوں کو نہ چھونا۔وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں۔
9 جوجانور پانی میں رہتے ہیں ان میں سے تم انکو کھانا یعنی سمندروں اور دریاؤں وغیرہ کے جانوروں میں جنکے پر اور جھلکے ہوں تم انہیں کھاؤ۔
10 لیکن وہ سب جاندار جو پانی میں یعنی سمندروں اور دریاؤں وغیرہ میں چلتے پھرتے اور رہتے ہیں لیکن انکے پر اور چھلکے نہیں ہوتے وہ تمہارے لئے مکروہ ہیں۔
11 اور وہ تمہارے لئے مکروہ ہی رہیں۔تم انکا گوشت نہ کھانا اور انکی لاشوں سے کراہیت کرنا۔
12 پانی کے جس کسی جاندار کے نہ پرہوں اور نہ چھلکے وہ تمہارے لئے مکروہ ہے۔
13 اور پرندوں میں جو مکروہ ہونے کے سبب سے کبھی کھائےنہ جائیں اور جن سے تمہیں کراہیت کرنا ہے سو یہ ہیں۔عقاب اور استخوان خوار اور لگڑ۔
14 اور چیل اور ہر قسم کا باز۔
15 اور ہر قسم کے کوئے۔
16 اور شترمرغ اور چغد اور کوکل اور ہر قسم کے شاہین۔
17 اور بوم اور ہڑگیلا اور الو۔
18 اور قاز اور حواصل اور گدھ۔
19 اور لقلق اور سب قسم کے بگلے اور ہدہد اور چمگادڑ۔
20 اور سب پرداررینگنے والے جاندار جیتنے چار پاؤں کے بل چلتے ہیں وہ تمہارے لئے مکروہ ہیں۔
21 مگر پردار رینگنے والے جاندروں میں سے جو چار پاؤں کے بل چلتے ہیں تم ان جاندروں کو کھا سکتے ہو جنکے زمین کے اوپر کودنے بھاندنے کو پاؤں کے اوپر ٹانگین ہوتی ہیں۔
22 وہ جنہیں تم کھاسکتے ہویہ ہیں۔ہر قسم کی ٹڈی اور ہر قسم کا سلعام اور ہر قسم کا جھینگر اور ہر قسم کا ٹڈا۔
23 پر سب پردار رینگنے والے جاندار جنکے چار پاؤں ہیں وہتمہارے لئے مکروہ ہیں۔
24 اور ان سے تم ناپاک ٹھہرو گے۔جو کوئی ان میں سے کسی کی لاش کو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
25 اورجوکوئی انکی لاش میں سے کچھ بھی اٹھائے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
26 اور سب چار پائے جنکے پاؤں الگ ہیں پر وہ چرے ہوئے نہیں اور نہ وہ جگالی کرتے ہیں وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں۔جو کوئی انکو چھوئے وہ ناپاک ٹھہریگا۔
27 اور چارپاؤں پر چلنے والے جانوروں میں سے جتنے اپنے پنجوں کے بل چلتے ہیںوہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہیں۔جو کوئی انکی لاش کو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
28 اور جو کوئی انکی لاش کو اٹھائے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا یہ سب تمہارے لئے ناپاک ہیں۔
29 اور زمین پر کے رینگنے والے جانورون میں سے جو تمہارے لئے ناپاک ہیں وہ یہ ہیں یعنی نیولا چوہا اور ہر قسم کی بڑی چھپکلی۔ٍ
30 اور حرذون اور گوہ اور چھپکلی اور سانڈ اور گرگٹ۔
31 سب رینگنے والے جانداروں میں سے یہ تمہارے لئے ناپاک ہیں جو کوئیانکے مرے پیچھے انکو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
32 اور جس چیز پر وہ مرے پیچھے گریں وہ چیز ناپاک ہوگی خواہ وہ لکڑی کا برتن ہو یا کپڑا یا چمڑا یا بورا ہو۔ خواہ کسی کا کیسا ہی برتن ہو ضرور ہے کہ وہ پانی میں ڈالا جائے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا۔ اسکے بعد وہ پاک ٹھہریگا۔
33 اور اگر ان میں سے کوئی کسی مٹی کے برتن میں گر جائے تو جو کچھ اس میں ہے وہ ناپاک ہو گا اور برتن کو تم توڑڈالنا۔
34 اسکے اندر اگر کھانے کی کوئی چیز ہو جس میں پانی پڑا ہوا ہو تو وہ بھی ناپاک ٹھہریگی اور اگر ایسے برتن میں پینے کے لئے کچھ ہو تو وہ ناپاک ہوگا۔
35 اور جس چیز پر انکی لاش کا کوئی حصہ گرے خواہ وہ تنورہو یا چولھا وہ ناپاک ہوگی اور توڑ ڈالی جائے۔ایسی چیزیں ناپاک ہوتی ہیں اور وہ تمہارے لئے بھی ناپاک ہوں
36 مگر چشمہ یا تالاب جس میں بہت پانی ہو وہ پاک رہیگا پرجو کچھ انکی لاش سے چھو جائے وہ ناپاک ہوگا۔
37 اور اگر انکی لاش کا چھ حصہ کسی بونے کے بیج پر گرے تو وہ بیج پاک رہیگا۔
38 پر اگر بیج پر پانی ڈالا گیا ہو اور اسکے بعد انکی لاش میں سےکچھ اس پر گرا ہو تو وہ تمہارے لئے ناپاک ہوگا۔
39 اور جن جانوروں کو تم کھا سکتے ہہو اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو جو کوئی اسکی لاش کو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
40 اور جو کوئی انکی لاش میں سے کچھ کھائے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا اور جو کوئی انکی لاش کو اٹھائے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
41 اور اب رینگنے والے جاندار جو زمین پر رینگتے ہیں مکروہ ہیں اور کبھی کھائےنہ جائیں۔
42 اور زمین پر کے سب رینگنے والے جانداروں میں سے جتنے پیٹ یا چار پاؤں کے بل چلتے ہیں یا جنگے بہت سے پاؤں ہوتےہیں انکو تم نہ کھانا کیونکہ وہ مکروہ ہیں۔
43 اور تم کسی رینگنے والے جاندار کے سبب سے جو زمین پر رینگتا ہے اپنے آپ کو مکروہ نہ بنا لینا اور ان سے اپنے آپ کو ناپاک کرنا نجس ہو جاؤ۔
44 کیونکہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔اسلئے اپنے آپ کو مقدس کرنا اور پاک ہونا کیونکہ میں قدوس ہوں۔سو تم کسی طرح کے رینگنے والے جاندار سے جو زمین پر چلتا ہے اپنے آپ کو ناپاک نہ کرنا۔
45 کیونکہ میں خداوند ہوں اور تمکو ملکمصر اسی لئے نکال کر لایا ہوں کہ میں تمہارا خدا ٹھہرؤں۔اسلئے تم مقدس ہونا کیونکہ میں قدوس ہوں۔
46 حیونات اور پرندوں اور آبی جانوروں اور زمین پر کےسب رینگنے والے جانداروں کے بارے میں شرح یہی ہے۔
47 تاکہ پاک اور ناپاک میں اور جو جانور کھائے جا سکتے ہیں اور جو نہیں کھائے جا سکتے انکے درمیان امتیاز کیا جائے۔


باب 12

1 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
2 بنی اسرائی سے کہہ کہ اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور اسکے لڑکا ہو تو وہ سات دن ناپاک رہیگی جیسے حیض کے ایام میں رہتی ہے
3 اور آٹھویں دن لڑکے کا ختنہ کیا جائے۔
4 اسکے بعد تینتیس دن تک وہ طہارت کے خون میں رہے اور جب تن اسکی طہارت کے ایام پورے نہ ہوں تب تک نہ تو کسی مقدس چیز کو چھوئے اور مقدس میں داخل ہو۔
5 اور اگر اسکے لڑکی ہو تو وہ دو ہفتے ناپاک رہیگی جیسے حیض کے ایام میں رہتی ہے۔اسکے بعد وہ چھیاسٹھ دن تک طہارت کے خون میں رہے۔
6 اور جب اسکی طہارت کے ایام پورے ہو جائیں تو خواہ اسکے بیٹا ہوا ہو یا بیٹی وہ سوختنی قربانی کے لئے ایک یکسالہ برہ اور خطا کی قربانی کے لئے کبوتر کا ایک بچہ ایک قمری خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائے۔
7 اور کاہن اسے خداوند کے حضور گذرانے اور اسکے لئے کفارہ دے۔ تب وہ اپنے جریان خون سے پاک ٹھہریگی۔جس عورت کے لڑکا یا لڑکی ہو اسکے بارے میں شرع یہ ہے۔
8 اور اگر اسکو برہ لانے کا مقدور نہ ہو تووہ دو قمریاں یا کبوتر کے دو بچے ایک سوختنی قربانی کے لئےاور دوسرا خطا کی قربانیکے لئے لائے۔یوں کاہن اسکے لئے کفارہ دے تو وہ پاک ٹھہریگی۔


باب 13

1 پھر خداوند نے موسی اور ہارون سے کہا۔
2 اگر کسی کے جسم کی جلد میں ورم یا پپڑی یا سفید چمکتا ہوا داغ ہو اور اسکے جسم کی جلد میں کوڑھ سی بلا ہو تو اسے ہارون کاہن کے پاس یا اسکے بیٹوں میں سے جو کاہن ہیں کسی کے پاس لے جائیں۔
3 اور کاہن اسکےجسم کی جلد کی بلا کو دیکھے۔اگر اس بلا کی جگہ کے بال سفید ہو گئے ہوں اور وہ بلادیکھنے میں کھال سے گہری ہو تو وہ کوڑھ کا مرض ہے اور کاہن اس شخص کو دیکھ کر اسے ناپاک قرار دے۔
4 اور اگر اسکے جسم کی جلد کا چمکتا ہوا داغ سفید تو ہو پر کھال سے گہرا نہ دکھائی دے اور نہ اسکے اوپر کے بال سفید ہو گئے ہوں تو کاہن اس شخص کو سات دن تک بند رکھے۔
5 اور ساتویں دن کاہن اسے ملاخط کرے اور اگر وہ بلا اسے وہیںکی وہیں دکھائی دےاور جلد پر پھیل نہ گئی ہو تو کاہن اسے سات دن اور بند رکھے۔
6 اور ساتویں دن کاہن اسے پھر ملاخط کرے اور اگر دیکھے کہ اس بلا کی چمک کم ہے اور وہ جلد کے اوپر پھیلی بھی نہیں ہے تو کاہن اسے پاک قرار دے کیونکہ وہ پپڑی ہے۔سو وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور صاف ہو جائے۔
7 لیکن اگر کاہن کے اس ملاخط کے بعد جس میں وہ صاف قرار دیا گیا تھا وہ پپڑی اسکی جلد پر بہت پھیل جائے تو وہ شخص کاہن کو پھر دکھایا جائے۔
8 اور کاہن اسے ملاخطہ کرے اور اگر دیکھے کہ وہ پپڑی جلد پر پھیل گئی ہے تو وہ اسے ناپاک قرار دے کیونکہ وہ کوڑھ ہے۔
9 اگر کسی شخص کو کوڑھ کا مرض ہو تو اسے کاہن کے پاس لے جائیں۔
10 اور کاہن اسے ملاخطہ کرے اور اگر دیکھے کہ جلد پر سفید ورم ہے اور اس نے بالوں کو سفید کر دیا ہے اس ورم کی جگہ کا گوشت جیتا اور کچا ہے۔
11 تو یہ اسکے جسم کی جلد میں پرانا کوڑھ ہے۔سوکاہ اسے ناپاک قرار دے پر اسے بند نہ کرے کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
12 اور اگر کوڑھ جلد میں چاروں طرف پھوٹ آئے اور جہاں تک کاہن کو دکھائی دیتا ہے یہی معلوم ہو کہ اسکی جلد سر سے پاؤں تک کوڑھ سے ڈھک گئی ہے۔
13 تو کاہن غور سے دیکھے اور اگر اس شخص کا سارا جسم کوڑھ سے ڈھکا ہوا نکلے تو کاہن اس مریض کو پاک قرار دے کیونکہ وہ سب سفید ہو گیا ہےاور وہ پاک ہے۔
14 پر جس دن جیتا اور کچا گوشت اس پر دکھائی دے وہ ناپاک ہوگا۔
15 اور کاہن اس کچے گوشت کو دیکھ کر اس شخص کو ناپاک قرار دے۔کچا گوشت ناپاک ہوتا ہے۔وہ کوڑھ ہے۔
16 اور اگر وہ کچا گوشت پھر کر سفید ہو جائے تو وہ کاہن کے پاس جائے۔
17 اور کاہن اسے ملاخطہ کرے اور اگر دیکھے کہ مرض کی جگہ سب سفید ہو گئی ہے تو کاہن مریض کو پاک قرار دے وہ پاک ہے۔
18 اور اگر کسی کے جسم کی جلد پر پھوڑا ہو کر اچھا ہو جائے۔
19 اور پھوڑے کی جگہ سفید ورم یا سرخی مائل چمکتا ہوا سفید داغ ہو تو وہ کاہن کو دکھایا جائے۔
20 اور کاہن اسے ملاخط کرے اور اگر دیکھے کہ وہ کھال سے گہرا نظر آتااور اسپر کے بال بھی سفید ہو گئے ہیں تو کاہن اس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ وہ کوڑھ ہے جو پھوڑے میں سے پھوٹ کر نکلا ہے۔
21 پر اگر کاہن دیکھے کہ اس پر سفید بال نہیں اور وہ کھال سے گہرا بھی نہیں ہے اور اسکی چمک کم ہے تو کاہن اسے سات دن تک بند رکھے۔
22 اور اگر وہ جلد پر چاروں طرف پھیل جائے تو کاہن اسے ناپاک قرار دے کیونکہ وہ کوڑھ کی بلا ہے۔
23 پر اگر وہ چمکتا ہوا داغ اپنی جگہ پر وہیں کا وہیں رہے اور پھیل نہ جائے تو وہ پھوڑے کا داغ ہے۔پس کاہن اس شخص کو پاک قرار دے۔
24 یا اگر جسم کی کھال کہیں سے جل جائے اور اس جلی ہوئی جگہ کا جیتاگوشت ایک سرخی مائل چمکتا ہوا سفی داغ یا بالکل ہی سفید داغ بن جائے۔
25 تو کاہن اسے ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ اس چمکتے ہوئے داغ کے بال سفید ہو گئے ہیں اور وہ کھال سے گہرا دکھائی دیتا ہے تو وہ کوڑھ ہے جو اس جل جانے سے پیدا ہوا ہے اور کاہن اس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ اسے کوڑھ کی یماری ہے۔
26 لیکن اگر کاہن دیکھے کہ اس چمکتے ہوئے داغ پر سفید بال نہیں اور نہ کھال سے گہرا ہےبلکہ اسکی چمک بھی کم ہے تو وہ اسے سات دن تک بند رکھے۔
27 اور ساتویں دن کاہن اسے دیکھے۔اگر وہ جلد پر بہت پھیل گیا ہو تو کاہن اس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ اسے کوڑھ کی بیماری ہے۔
28 اور اگر وہ چمکتا ہوا داغ اپنی جگہ پر وہیں کا وہیں رہے اور جلد پر پھیلا ہو نہ ہو بلکہ اسکی چمک بھی کم ہو تو وہ فقط جل جانے کے باعث پھولا ہوا ہے اور کاہن اس شخص کو پاک قرار دے کیونکہ وہ داغ جل جانے کے سبب سے ہے۔
29 اگر کسی مرد یا عورت کے سر یا ٹھوڑی میں داغ ہو۔
30 تو کاہن اس داغ کو ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ وہ کھال سے گہرا معلوم ہوتا ہے اس پر زرد زرد باریک رونگٹے ہیں۔تو کاہن اس شخص کو ناپاک قرار دے کیونکہ وہ سعفہ ہے جو سر یا ٹھوڑی کا کوڑھ ہے۔
31 اور اگر کاہن دیکھے کہ وہ سعفہ کی بلا کھال سے گہری نہیں معلوم ہوتی اور اس پر سیاہ بال نہیں ہیں تو کاہن اس شخص کو جسے سعفہ کا مرض ہے سات دن تک بند رکھے۔
32 اور ساتویں دن کاہن اس بلا کا ملاخط کرے اور اگر دیکھے کہ سعفہ پھیلا نہیں اور اس پر کوئی زرد بال بھی نہیں اور سعفہ کھال سے گہرا نہیں معلوم ہوتا۔
33 تو اس شخص کے بال مونڈے جائیں لیکن جہاں سعفہ ہو وہ جگہ نہ مونڈی جائے اور کاہن اس شخص کو جسے سعفہ کا مرض ہے سات دن اور بند رکھے۔
34 پھر ساتویں روز کاہن سعفہ کا ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ سعفہ جلد میں پھیلا نہیں اور نہ وہ کھال سے گہرا دکھائی دیتا ہے تو کاہن اس شخص کو پاک قرار دے اور وہ اپنے کپڑے دھوئے اور صاف ہو جائے۔
35 پر اگر اسکی صفائی کے بعد سعفہ اسکی جلد پر بہت پھیل جائے تو کاہن اسے دیکھے۔
36 اور اگر سعفہ اسکی جلد پر پھیلا ہوا نظر آئے تو کاہن زرد بال کو نہ ڈھونڈے کیونکہ وہ شخص ناپاک ہے۔
37 پر اگر اسکو سعفہ اپنی جگہ پر وہیں کا وہیں دکھائی دے اور اس پر سیاہ بال نکلے ہوئے ہوں تو سعفہ اچھا ہو گیا۔وہ شخص پاک ہے اور کاہ اسے پاک قرار دے۔
38 اور اگر کسی مرد یا عورت کے جسم کی جلد میں چمکتے ہوئے داغ یا سفید چمکتے ہوئے داغ ہوں۔
39 تو کاہن دیکھے اور اگر انکے جسم کی جلد کے داغ سیاہی مائل سفید رنگ کے ہوں تو وہ چھیپ ہے جو جلد میں پھوٹ نکلی ہے۔وہ شخص پاک ہے ۔
40 اور جس شخص کے سر کے بال گر گئے ہوں وہ گنجا تو ہے مگر پاک ہے۔
41 اور جس شخص کے سر کے بال پیشانی کی طرف سے گر گئے ہوں وہ چندلا تو ہے مگر پاک ہے۔
42 لیکن اس گنجے یا چندلے سر پر سرخی مائل سفید داغ ہو تو یہ کوڑھ ہے جو اسکے گنجے یا چندلے سر پر نکلا ہے۔
43 سو کاہن اسے ملاخط کرے اور اگر وہ دیکھے کہ اسکے گنجے یا چندلے سر پر وہ داغایسا سرخی مائل سفید رنگ لئے ہوئے ہے جیسا جلد کے کوڑھ میں ہوتا ہے۔
44 تو وہ آدمی کوڑھی ہے۔وہ ناپاک ہے اور کاہن اسے ضرورہی ناپاک قرار دے کیونکہ وہ مرض اسکے سر پر ہے۔
45 اور جو کوڑھی اس بلا میں مبتلا ہو اسکے کپڑے پھٹے اور اسکے سر کے بال بکھرے رہیں اور وہ اپنے اوپر کے ہونٹ کو ڈھانکے اور چلا چلا کر کہے ناپاک ناپاک۔
46 جتنے دنوں تک وہ اس بلا میں مبتلا رہے وہ ناپاک رہیگا اور وہ ہے بھی ناپاک۔ پس وہ اسکیلا رہا کرے۔اسکا مکان لشکر گاہ کے باہر ہو۔
47 اور وہ کپڑا بھی جس میں کوڑھ کی بلا خواہ وہ اون کا ہو یاکتان کا۔
48 اور وہ بلا بھی خواہ کتان یا اون کے کپڑے کے تانے میں یا اسکے بانے میں ہو یا وہ چمڑے میں ہو یا چمڑے کی بنی ہوئی کسی چیز میں ہو۔
49 اگر وہ بلا کپڑے میں یا کپڑے میں۔کپڑے کے تانے میں یا بانے میں یاچمڑے کی کسی چیز میں سبزی مائل یا سرخی مائل رنگ کی ہو تو وہ کوڑھ کی بلا ہے اور کاہن کو دکھائی جائے۔
50 اور کاہن اس بلا کو دیکے اور اس چیز کو جس میں وہ بلا ہے سات دن تک بند رکھے
51 اور ساتویں دن اسکو دیکھے۔اگر وہ بلا کپڑے کے تانے میں یا بانے میں یا چمڑے پر یا چمڑے کی بنی ہوئی کسی چیز پر پھیل گئی تو وہ کھا جانے والا کوڑھ ہے اور ناپاک ہے۔
52 اور اس اون یاکتان کے کپڑے کو جسکے تانے میں یا بانے میں وہ بلا ہے یا چمڑے کی اس چیز کو جس میں وہ ہے جلا دے کیونکہ یہ کھا جانے والا کوڑھ ہے۔وہ آگ میں جلایا جائے۔
53 اور اگر کاہن دیکھے کہ وہ بلا کپڑے کے تانے میں یا بانے میں یا چمڑے کی کسی چیز میں پھیلی ہوئی نظر نہیں آتی۔
54 تو کاہن حکم کرے کہ اس چیز کو جس میں وہ بلا ہے دھوئیں اور وہ پھر اسے اور سات دن تک بند رکھے۔
55 اور اس بلا کے دھوئے جانے کے بعد کاہن پھر اسے ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ اس بلا کا رنگ نہیں بدلا اور وہ پھیلی بھی نہیں ہے تو وہ ناپاک ہے تو اس کپڑے کو آگ میں جلا دینا کیونکہ وہ کھا جانے والی بلا ہے خواہ اسکا فساد اندرونی ہو یا بیرونی ۔
56 اور اگر کاہن دیکھے کہ دھونے کے بعد اس بلا کی چمک کم ہو گئی ہے تو وہ اسے اس کپڑے سے یا چمڑے سے۔تانے یابانے سے پھاڑ کر نکال پھینکے۔
57 اور اگر وہ بلا پھر بھی کپڑے کے تانے یا بانے میں یا چمڑے کی چیز میں دکھائی دے تو وہ پھوٹ کر نکل رہی ہے۔پس تو اس چیز کو جس میں وہ بلا ہے آگ میں جلا دینا۔
58 اور اگر اس کپڑے کے تانے یا بانے میں سے یا چمڑے کی چیز میں سے جسے تو نے دھویا ہے وہ بلا جاتی رہے تو وہ چیز دوبارہ دھوئی جائے اور وہ پاک ٹھہریگی۔
59 اون یاکتان کے تانے یا بانے میں یا چمڑے کی کسی چیز میں اگر کوڑھ کی بلا ہو تو اسے پاک یا ناپاک قرار دینے کے لئے شرع یہی ہے۔


باب 14

1 پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
2 کہ کوڑھی کے لئے جس دن وہ پاک قرار دیا جائے یہ شرع ہے کہ اسے کاہن کے پاس لے جائیں۔
3 اور کاہن لشکر کے باہر جائے اور کاہن خود کوڑھی کو ملاخط کرے اور اگر دیکھے کہ اسکا کوڑھ اچھا ہو گیا ہے
4 تو کاہن حکم دے کہ وہ جو پاک قرار دیا جانے کو ہے اسکے لئے وہزندہ پاک پرندے اور دیودار کی لکڑی اور سرخ کپڑا اور زدفالیں۔
5 اور کاہن حکم دے کہ ان میں سے ایک پرندہ کسی مٹی کے برتن میں بہتے ہوئے پانی کے اوپر ذبح کیا جائے۔
6 پھر وہ زندہ پرندہ کو اور دیودار کی لکڑی اور سرخ کپڑے اور زوفا کو لے اور انکو اور اس زندہ پرندہ کو اس پرندے کے خون میں غوطہ دے جو بہتے پانی پر ذبح ہو چکا ہے۔
7 اور اس شخص پر جو کوڑھ سے پاک قرار دیا جانے کو ہے سات بار چھڑک کر اسے پاک قرار دے اور زندہ پرندہ کو کھلے میدان میں چھوڑ دے۔
8 اور وہ جو پاک قرار دیا جایئگا اپنے کپڑے دھوئے اور سارے بال منڈائے اور پانی میں غسل کرے۔تب وہ پاک ڑھہریگا۔اسکے بعد وہ لشکر گاہ میں آئے پر سات دن تک اپنے خیمہ کے باہر ہی رہے۔
9 اور ساتویں روز اپنے سر کے سب بال اور اپنی داڑھی اور اپنے ابرو غرض اپنے سارے بال منڈائے اور اپنے کپڑے دھوئے اور پانی میں نہائے تب وہ پاک ٹھہریگا۔
10 اور وہ آٹھویں دن دوبے عیب نر برے اور ایک بے عیب یکسالہ مادہ برہ اور نذرکی قربانی کے لئے ایفہ کے تین دہائی حصہ کے برابر تیل ملا ہوا میدہ اور لوج بھر تیل لے۔
11 تب وہ کاہن جو اسے پاک قرار دیگا اس شخص کو جو پاک قرار دیا جایئگا اور ان چیزوں کو خداوند کے حضور خیمہ اجتماع کے دروازہ پر حاضر کرے۔
12 اور کاہن نر بروں میں سے ایک کو لیکر جرم کی قربانی کے لئے اسے اور اس لوج بھر تیل کو نزدیک لائے اور انکو ہلانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور لائے۔
13 اور اس برہ کو مقدس میں اس جگہ ذبح کرے جہاں خطا کی قربانی اور سوختنی قربانی کے جانور ذبح کئے جاتے ہیں کیونکہ جرم کی قربانی خطا کی قربانی کی طرح کا حصہ ٹھہریگی۔وہ نہایت مقدس ہے۔
14 اور کاہن جرم کی قربانی کا کچھ خون لے اور جو شخص پاک قرار دیا جایئگا اسکے دہنے کان کی لو پر اور رہنے ہاتھ کے انگوٹھے پر اور دہنے پاؤں کے انگوٹھے پر اسے لگائے۔
15 اور کاہن اس لوج بھر تیل میں سے کچھ لیکر اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں ڈالے۔
16 اور کاہن اپنی دہنی انگلی کو اپنے بائیں ہاتھ کے تیل میں ڈبوئے اور خداوند کے حضور کچھ تیل سات بار اپنی انگلی سے چھڑکے۔
17 اور کاہن اپنے ہاتھ کے باقی تیل میں سے کچھ لے اور جو شخص پاک قرار دیا جائیگا اسکے دہنے کان کی لو پر اور اسکے دہنے ہاتھ کے انگوٹھے اور دہنے پاؤں کے انگوٹھے پر جرم کی قربانی کے خون کے اوپر لگائے۔
18 اور جو تیل کاہن کے ہاتھ میں باقی بچے اسے وہ اس شخص کے سر میں ڈال دے جو پاک قرار دیا جایئگا۔یوں کاہن اسکے لئے خداوند کے حضور کفارہ دے۔
19 اور کاہن خطا کی قربانی بھی گذرانے اور اسکے لئے جو اپنی ناپاکی سے پاک قرار دیا جایئگاکفارہ دے۔اسکے بعد وہ سوختنی قربانی کے جانور کو ذبح کرے۔
20 پھر کاہن سوختنی قربانی اور نذر کی قربانی کو ذبح پر چڑھائے۔یوں کاہن اسکے لئے کفارہ دے تو وہ ایک ٹھہریگا۔
21 اور اگر وہ غریب ہو اور اتنا اسے مقدورنہ ہو تو وہ ہلانے کے واسطے جرم کی قربانی کے لئے ایک نر برہ لے تاکہ اسکے لئے کفارہ دیا جائے اور نذر کی قربانی کے لئے ایفہ کے دیویں حصہ کے برابر تیل ملاہوا میدہ اور لوج بھر تیل۔
22 اور اپنے مقدور کے مطابق دو قمریاں یا کبوتر کے دو بچے بھی لے جن میں سے ایک تو خطا کی قربانی کے لئے اور دوسرا سوختنی قربانی کے لئے ہوا۔
23 انہیں وہ آٹھویں دن اپنے پاک قرار دئے جانے کے لئے کاہن کے پاس خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور لائے۔
24 اور کاہن جرم کی قربانی کے برہ کو اور اس لوج بھر تیل کو لیکر انکو خداوند کے حضور ہلانے کی قربانی کے طور ہلانے۔
25 پھر کاہن جرم کی قربانی کے برہ کو ذبح کرے اور وہ جرم کی قربانی کا کچھ خون لیکر جو شخص پاک قرار دیا جائیگا اسکے دہنے کان کی لو پر اور دہنے ہاتھ کے انگوٹھے اور دہنے پاؤں کے انگوٹھے پر اسے لگائے۔
26 پھر کاہن اس تیل میں سے کچھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں ڈالے۔
27 اور وہ اپنے بائیں ہاتھ کے تیل میں سے کچھ اپنی دہنی انگلی سے خداوند کے حضورسات بار چھڑکے۔
28 پھر کاہن کچھ اپنے ہاتھ کے تیل میں سے لے اور جو شخص پاک قرار دیا جائیگا اسکے دہنے کان کی لو پر اور اسکے دہنے ہاتھ کے انگوٹھے اور دہنے پاؤں کے انگوٹھے پر جرم کی قربانی کے خون کی جگہ اسے لگائے۔
29 اور جو تیل کاہن کے ہاتھ میں باقی بچے وہ اسے اس شخص کے سر میں ڈال دے جو پاک قرار دیا جائیگا تاکہ اسکے لئے خداوند کے حضور کفارہ دیا جائے۔
30 پھر وہ قمریوں یا کبوتر کے بچوں میں سے جنہیں وہ لا سکا ہو ایک کو چڑھائے۔
31 یعنی جو کچھ اسے میسر ہوا ہو اس میں سے ایک کو خطا کی قربانی کے طورع پر اور دوسرے کو سوختنی قربانی کے طور پر نذر کی قربانی کے ساتھ گذرانے۔یوں کاہن اس شخص کے لئے جو پاک قرار دیا جائیگا خداوند کے حضور کفارہ دے۔
32 اس کوڑھی کے لئے جو اپنے قرار دئے جانے کے سامان کو لانے کا مقدور نہ کتھا ہو شرع یہ ہے۔
33 پھر خداوند نے موسی اور ہارون سے کہا کہ۔
34 جب تم ملک کنعان میں جسے میں تمہاری ملکیت کئے دیتا ہوں داخل ہو اور میں تمہارے میراثی ملک کے کسی گھر میں کوڑھ کی بلا بھیجوں۔
35 تو اس گھر کا مالک جا کر کاہن کو خبردے کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس گھر میں کچھ بلا سی ہے۔
36 تب کاہن حکمکرے کہ اس سے پیشتر کہ اس بلا کو دیکھنے کے لئے کاہن وہاں جائے لوگ اس گھر کو خالی کریں تاکہ جو کچھ گھر میں وہ ناپاک نہ ٹھہرایا جائے۔اسکے بعد کاہن گھر دیکھنے کو اندرجائے۔
37 اور اس بلا کو ملاخط کرے اور اگر دیکھے کہ وہ بلا اس گھر کی دیوروں میں سبزی یا سرخی مائل گہری لکیروں کی صورت میں ہے اور دیوار میں سطح کے اندر نظرآتی ہے۔
38 تو کاہن گھر سے باہر نکل کر گھر کے دروازہ پر جائے اور گھر کو سات دن کے لئے بند کر دے۔
39 اور وہ ساتویں دن پھر آکر اسے دیکھے۔اگر وہ بلا گھر کی دیواروں میں پھیلی ہوئی نظر آئے۔
40 تو کاہن حکم دے کہ ان پتھروں کو جن میں وہ بلا ہے نکالکر انہیں شہر کے باہر کسی ناپاک جگہ میں پھینک دیں۔
41 پھر وہ اس گھر کو اندر ہی اندر چاروں طرف سے کھر چوائے اور اسر کھرچی ہوئی مٹی کو شہر کے باہر کسی ناپاک جگہ میں ڈالیں۔
42 اور وہ ان پتھروں کی جگہ اور پتھر لیکر لگائیں اور کاہن تازہ گارے سے اس گھر کی استرکاری کرائے۔
43 اور اگر پتھروں کے نکالے جانے اور اس گھر کے کھرچے اور استرکاری کرائے جانے کے بعد بھی وہ بلا پھر آجائے اور اس گھر میں پھوٹ نکلے۔
44 تو کاہن اندر جا کر ملا خط کرے اور اگر دیکھے کہ وہ بلا گھر میں پھیل گئی ہے تو اس گھر میں کھا جانے والا کوڑھ ہے۔وہ ناپاک ہے۔
45 تب وہ اس گھر کو اسکے پتھروں اور لکڑیوں اور اسکی ساری مٹی کو گرا دے اور وہ انکو شہر کے باہر نکالکرکسی ناپاک جگہ میں لے جائے۔
46 ماسوااسکے اگر کوئی اس گھر کے بند کر دئے جانے کے دنوں میں اسے اندرر داخل ہو تو وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
47 اور جو کوئی اس گھر میں سوئے وہ اپنے کپڑے دھوڈالے اور جو کوئی اس گھر میں کچھ کھائے وہ بھی اپنے کپڑے دھوئے۔
48 اور اگر کاہن اندر جا کر ملا خط کرے اور دیکھے کہ گھر کی استرکاری کے بعد وہ بلااس گھر میں نہیں پھیلی تو وہ اس گھر کو پاک قرار دے کیونکہ وہ بلا دور ہوگئی۔
49 اور وہ اس گھر کو پاک قرار دینے کے لئے دو پرندے اور دیوارکی لکڑی اور سرخ کپڑا اور زوفا لے۔
50 اور وہ ان پرندوں میں سے ایک کو مٹی کے کسی برتن میں بہتے ہوئے پانی پر ذبح کرے۔
51 پھر وہ دیودار کی لکڑی اور زوفا اور سرخ کپڑےاور اس زندہ پرندہ کو لیکر انکو اس ذبح کئے ہوئے پرندہ کے خون میں اور اس بہتے ہوئے پانی میں غوطہ دے اور سات بار اس گھر پر چھڑکے۔
52 اور وہ اس پرندے کے خون سے اور بہتے ہوئے پانی اور زندہ پرندہ اور دیودار کی لکڑی اور زوفا اور سرخ کپڑے سے اس گھر کو پاک کرے۔
53 اور اس زندہ پرندہ کو شہر کے باہر کھلے میدان میں چھوڑ دے۔یوں وہ گھر کے لئے کفارہ دے تو وہ پاک ٹھہریگا۔
54 کوڑھ کی ہر قسم کی بلا کے اور سعفہ کے لئے۔
55 اور کپڑے اور گھر کے کوڑھ کے لئے۔
56 اور ورم اور پپڑی اور چمکتے ہوئے داغ کے لئے شرع یہ ہے۔
57 تاکہ بتایا جائے کہ کب وہ ناپاک اور کب پاک قرار دئے جائیں۔کوڑھ کےلئے شرع یہی ہے۔


باب 15

1 اور خداوند نے موسی اور ہارون سے کہا کہ۔
2 بنی اسرائیل سے کہو کہ اگر کسی شخص کو جریان کا مرض ہو تو وہ جریان کے سبب سے ناپاک ہے۔
3 اور جریان کے سبب سے اسکی ناپاکی یوں ہوگی کہ کواہ دھات بہتی ہو یا دھات کا بہنا موقوف ہو گیا ہو وہ ناپاک ہے۔
4 جس بستر پر جریان کا مریض سوئے وہ بستر ناپاک ہو گا اور جس چیز پر وہ بیٹھے وہ چیز ناپاک ہو گی۔
5 اور جو کوئی اسکے بستر کو چھوئے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے۔
6 اور جو کوئی اس چیز پر بیٹھے جس پر جریان کا مریض بیٹھا ہو وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے۔
7 اور جوکوئی جریان کے مریض کے جسم کو چھوئے وہ بھی اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے۔
8 اور اگر جریان کا مریض کسی شخص پر جو پاک ہےتھوک دے تو وہ شخص اپنے کپڑے دھوئے اور پانے سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے۔
9 اور جس زین جریان کا مریض سوار ہو وہ این ناپاک ہو گا۔
10 اور جو کوئی کسی چیز کو جو اس مریض کے نیچے رہی ہو چھوئے وہ شام تک ناپاک رہے اور جو کوئی ان چیزوں کواٹھائے وہ اپنے کپرے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اورشام تک ناپاک رہے۔
11 اور جس شخص کو جریان کا مریض بغیر ہاتھ دھوئے چھوئے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے۔
12 اور مٹی کے جس برتن کو جریان کا مریض چھوئے وہ توڑ ڈالا جائے پر چوبی برتن پانی سے دھویا جائے۔
13 اور جب جریان کے مریض کو شفا ہو جائے تو وہ اپنے پاک ٹھہرنے کے لئے سات دن گنے۔اسکے بعد وہ اپنے کپڑے دھوئے اور بہتے ہوئے میں نہائے تب وہ پاک ہو گا۔
14 اور آٹھویں دن دو قمریاں یا کبوتر کے دو بچے لیکر وہ خداوند کے حضور خیمہ اجتماع کے دروازہ پر جائے اور انکو کاہن کے حوالے کرے۔
15 اور کاہن ایک کو خطا کی قربانی کے لئے اور دوسرے کو سوختنی قربانی کے لئے گذرانے۔یوں کاہن اسکے لئے اسکے جریان کے سبب سے خداوند کے حضور کفارہ دے۔
16 اور اگر کسی مرد کی دھات بہتی ہو تو وہ پانی میں نہائے اور شام تک ناپاک رہے۔
17 اور جس کپڑے یا مڑے پر نطفہ لگ جائے وہ کپڑا یا چمڑا پانی سے دھویا جائے اور شام تک ناپاک رہے۔اور وہ عورت بھی جسکے ساتھ مرد صحبت کرے اور منزل ہو تو وہ دونوں پانی سے غسل کریں اور شام تک ناپاک رہیں۔
18
19 اور اگر کسی عورت کو ایسا جریان ہو کہ حیض کا خون آئے تو وہ سات دن تک ناپاک رہیگی اور جو کوئی اسے چھوئے وہ شام تک ناپاک رہیگا۔
20 اور جس چیز پر بیٹھے وہ بھی ناپاک ہو جایئگی۔
21 اور جو کوئی اسکے بسترکو چھوئے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے۔
22 اورجو کوئی اس چیز کو جس پر وہ بیٹھی ہو چھوئے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے نہائے اور شام تک ناپاک رہے۔
23 اور اگر خون اسکے بستر پر یا جس چیز پر وہ بیٹھی ہو اس پر لگا ہوا ہو اور اس وقت کوئی اس چیز کو چھوئے تو وہ شام تک ناپاک رہے۔
24 اور اگر مرد اسکے ساتھ صبحت کرے اور اسکے حیض کا خون اسے لگ جائے وہ سات دن تک ناپاک رہیگا اور ہر ایک بستر جس پر وہ مرد سویئگا ناپاک ہوگا۔
25 اور اگر کسی عورت کو ایام حیض کو چھوڑ کر یوں بہت دنوں تک خون آئے یا حیض کی مدت گذرجانے پر بھی خون جاری رہے تو جب تک اسکو یہ میلا خون آتا رہیگا تب تک واپسی ہی رہیگی جیسی حیض کے دنوں میں رہتی ہے۔وہ ناپاک ہے۔
26 اور اس جریان خون کے کل ایام میں جس جس بستر پر وہ سویئگی وہ حیض کے بستر کی طرح ناپاک ہوگا اور جس جس چیز پر وہ بیٹھے گی وہ چیز حیض کی نجاست کی طرح ناپاک ہو گی۔
27 اور جو کوئی ان چیزوں کو چھوئے وہ ناپاک ہوگا۔وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے۔
28 اور جب وہ اپنے جریان سےشفا پا جائے تو سات دن گنے۔ تب اسکے بعد وہ پاک ٹھہریگی۔
29 اور آٹھویں دن وہ دو قمریاں یا کبوتر کے دو بچے لیکر انکو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائے۔
30 اور کاہن ایک کو خطا کی قربانی کے لئے اور دوسرے کو سوختنی قربانی کے لئے گذرانے۔یوں کاہن اسکے ناپاک خون کے جریان کے لئے خداوند کے حضور اسکی طرف سے کفارہ دے۔
31 ۹اس طریق سے تم بنی اسرائیل کو انکی نجاست سے الگ رکھنا تا کہ دوسرے مقدس کو جو انکے درمیان ہے ناپاک کرنے کی وجہ سے اپنی نجاست میں ہلاک نہ ہوں۔
32 اسکے لئے جسے جریان کا مرض ہو اور اسکے لئے جسکی دھات بہتی ہو اور وہ اسکے باعث ناپاک ہو جائے۔
33 اور اسکے لئے جو حیض سے ہو اور اس مرد اور عورت کے لئے جنکو جریان کا مرض ہو اور اس مرد کے لئےجو ناپاک عورت کے ساتھ صحبت کرے شرع یہی ہے۔


باب 16

1 اور ہارون کے دو بیٹوں کی وفات کے بعد وہ جب خداوند کے نزدیک آئے اور مر گئے۔
2 خداوند موسی سے ہمکلام ہوا اور خداوند نے موسی سے کہا اپنے بھائی ہارون سے کہہ کہ وہ ہر وقت پردہ کے اندر کے پاکترین مقام میں سرپوش کے پاس جو صندوق کے اوپر ہے نہ آیا کرے تاکہ وہ مر نہ جائے کیونکہ میں سرپوش پر ابر میں دکھائی دونگا۔
3 اور ہارون پاکترین مقام میں اس طرح آئے کہ خطا کی قربانی کے لئے ایک بھڑا اور سوختنی قربانی کے لئے ایک مینڈھالائے۔
4 اور وہ کتان کا مقدس کرتہ پہنے اور اسکے تن پر کتان کا پاجامہہو اور کتان کے کمر بند سے اسکی کمر کسی ہوئی ہو اور کتان ہی کا عمامہ اسکے ست پر بندھا ہو۔یہ مقدس لباس ہیں اور وہ انکو پانی سے نہاکر پہنے۔
5 اور بنی اسرائیل کی جماعت سے خطا کی قربانی کے لئے دو بکرے اور سوختنی قربانی کے لئے ایک منیڈھالے۔
6 اور ہارون خطا کی قربانی کے بھڑے کو جو اسکی طرف سے ہے گذران کر اپنے اور اپنے گھر کے لئے کفارہ دے۔
7 پھر ان دونوں بکروں کو لیکر انکو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور کھڑا کرے۔
8 اور ہارون ان دونوں بکروں پر چھٹیاں ڈالے۔ایک چھٹیخداوند کے لئے اور دوسری عزازیل کے لئے ہو۔
9 اور جس بکرے پر خداوند کے نام کی چھٹی نکلے اسے ہارون لیکر خطا کی قربانی کے لئے چڑھائے۔
10 لیکن جس بکرے پر عزازیل کے نام کی چھٹی نکلے وہ خداوند کے حضور زندہ کھڑا کیا جائے تاکہ اس سے کفارہ دیا جائے اور وہ عزازیل کے لئے بیابان میں چھوڑ دیا جائے۔
11 اور ہارون خطا کی قربانی کے بچھڑے کو جو اسکی طرف سے ہے آگے لا کر اپنے اور اپنے گھر کے لئے کفارہ دے اور اس بچھڑے کو جو اسکی طرف سے خطا کی قربانی کے لئے ہے ذبح کرے۔
12 اور وہ ایک بخور دان کو لے جس میں خداوند کے مذبح پر کی آگ کے انگارے بھرے ہوں اور اپنی مٹھیاں باریک خوشبو دار بخور سے بھر ے اور اسے پردہ کے اندر لائے۔
13 اور اس بخور کو خداوند کے حضور آگ میں ڈالے تاکہ بخور کا دھواں سرپوش کو جو شہادت کے صندوق کے اوپر ہے چھپالے کہ وہ ہلاک نہ ہو۔
14 پھر وہ اس بچھڑے کا کچھ خون لیکر اسے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف سرپوش کے اوپر چھڑکے اور سرپوش کے آگے بھی کچھ خون اپنی انگلی سےسات بار چھڑکے۔
15 پھر وہ خطا کی قربانی کے اس بکرے کو ذبح کرے جو جماعت کی طرف سے ہے اور اسکے خون کو پردہ کے اندر لاکر جو کچھ اس نے بچھڑے کے خون سے کیا تھا وہی اس سے بھی کرے اور اسے سرپوش کے اوپر اور اسکے سامنے چھڑکے۔
16 اور بنی اسرائیل کی ساری نجاستوں اور گناہوں اور خطاؤں کے سبب سے پاکترین مقام کے لئے کفارہ دے اور ایسا ہی وہ خیمہ اجتماعکے لئے بھی کرے جو انکے ساتھ انکی نجاستوں کے درمیان رہتا ہے۔
17 اور جب وہ کفارہ دینے کو پاکترین مقام کے اندر جائے تو جب تک وہ اپنے اور اپنے گھرانے اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے لئے کفارہ دیکر باہر نہآجائے اس وقت تک کوئی آدمی خیمہ اجتماع کے اندر نہ رہے۔
18 پھر وہ کلر اس ذبح کے پاس جو خداوند کے حضور ہے جائے اور اسکے لئے کفارہ دے اور اس بچھڑے اور بکرے کا تھوڑا تھوڑا سا خون لیکر ذبح کے سینگوں پر گردا گرد لگائے۔
19 اور کچھ خون اسکے اوپر سات بار اپنی انگلی سے چھڑکے اور اسے بنی اسرائیل کی نجاستوں سے پاک اور مقدس کرے۔
20 اور جب وہ پاکترین مقام اور خیمہ اجتماع اور مذبح کے لئے کفارہ دے چکے تو اس زندہ بکرے کو آگے لائے۔
21 اور ہارون اپنے دونوں ہاتھ اس زندہ بکرے کے سر پر رکھ کر اسکے اوپر بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور انکے سب گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرے اور انکو اس بکرے کے سرپر دھر کر اسے کسی شخص کے ہاتھ جو اس کام کے لئے تیار ہو بیابان میں بھجوا دے۔
22 اور وہ بکرا ان کی سب بدکاریاں اپنے اوپر لادے ہوئے کسی ویرانہ میں لے جایئگا،سووہاس بکرے کو بیابان میں چھوڑدے۔
23 پھر ہارون خیمہ اجتماع میں آکر کتان کے سارے لباس کو جسے اس نے پاکترین مقام میں جاتے وقت پہنا تھا اتارے اور اسکو وہیں رہنے دے۔
24 پھروہ کسی پاک جگہ میں پانی سے غسل کرکے اپنے کپڑے پہن لے اور باہر آکر اپنی سوختنی قربانی اور جماعت کی سوختنی قربانی گذرانے اور اپنے لئے اور جماعت کے لئے کفارہ دے۔
25 اور خطا کی قربانی کی چربی کو مذبح پر جلائے۔
26 اور جو آدمی بکرے کو عزازیل کے لئے چھوڑ کر آئےوہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے نہائے اسکے بعد وہ لشکر گاہ میں داخل ہو۔
27 ٌاور خطا کی قربانی کے بچھڑے کو اور خطا کی قربانی کے بکرے کو جنکا خون پاکترین مقام میں کفارہ کے لئے پہنچا جائے انکو وہ لشکر گاہ سے باہر لے جائیں اور انکی کھال اور گوشت اور فضلات کو آگ میں جلادیں۔
28 اور جو انکو جلائے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اسکے بعد وہ شکرگاہ میں داخل ہو۔
29 اور یہ تمہارے لئے ایک دائمی قانون ہو کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تم اپنی اپنی جان کو دکھ دینا اور اس دن کوئی فائدہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جو تمہارے بیچ بودوباش رکھتا ہو کسی طرح کا کام نہ کرے۔
30 کیونکہ اس روز تمہارے واسطے تم کو پاک کرنے کے لئے کفارہ دیا جایئگا۔سو تماپنے سب گناہوں سے خداوند کے حضور پاک ٹھہروگے۔
31 یہ تمہارے لئے خاص آرام کا سبت ہو گا۔تم اس دن اپنی اپنی جان کو دکھ دینا۔یہ دائمی قانون ہے۔
32 اور جو اپنے باپ کی جگہ کاہن ہونے کے لئے مسح اور مخصوص کیا جائے وہ کاہن کفارہ دیا کرے یعنی کتان کے مقدس لباس کو پہن کر۔
33 وہ مقدس کے لئے کفارہ دے اور خیمہ اجتماع اور مذبح کے لئے کفارہ دے اور کاہنوں اور جماعت کے سب لوگوں کے لئے کفارہ دے۔
34 سویہ تمہارے لئے ایک دائمی قانون ہو کہ تم بنی اسرائیل کے واسطے سال میں ایک دفعہ انکے سب گناہوں کا کفارہ دو اور اس نے جیسا خداوند نے موسی کو حکم دیا تھا ویسا ہی کیا۔


باب 17

1 پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
2 ہارون اور اسکے بیٹوں سے اور سب بنی اسرائیل سے کہہ کہ خداوند نے یہ حکم دیا ہے کہ۔
3 اسرائیل کے گھرانے کا جو کو۴ی شخص بیل یا برہ یا بکرے کو خواہ لشکر گاہ میں یا لشکرگاہ کے باہر ذبح کرکے۔
4 اسے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے مسکن کے آگے خداوند کے حضور چڑھانے کو نہ لے جائے اس شخص پر خون کا الزام ہوگا کہ اس نے خون کیا ہے اور وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
5 اس سے مقصود یہ ہے کہ بنی اسرائیل اپنی قربانیاں جنکو وہ کھلے میدان میں ذبح کرتے ہیں انہیں خداوند کے حضور خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائیں اور انکو خداوند کے حضور سلامتی کے ذبیحوں کے طور پر گذرانیں۔
6 اور کاہن اس خون کو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے مذبح کے اوپر چھڑکے اور چربی کو جلائے تاکہ خداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو ہو۔
7 اور آیندہ کبھی وہ ان بکروں کے لئے جنکے پیرو ہو کر وہ زنا کار ٹھہرے ہیں اپنی قربانیاں نہ گزرانیں۔انکے لئے نسل درنسل یہ دائمی قانون ہوگا۔
8 سو تو ان سے کہہ دے کہ اسرائیل کے گھرانے کا یا ان پردیسیوں میں جو ان میں بودوباش کرتے ہیں جو کوئی سوختنی قربانی یا کوئی ذبیحہ گذران کر۔
9 اسے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور چڑھانے کو نہ لائے وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
10 اور اسرائیل کے گھرانے کا یا ان پردیسیوں میں سے جو ان میں بودوباش کرتے ہیں جو کوئی کسی طرح کا خون کھائے میں اس خون کھانے والے کے خلاف ہونگا اور اسے اسکے لوگوں میں سے کاٹ ڈالونگا۔
11 کیونکہ جسم کی جان خون میں ہے اور میں نے مذبح پر تمہاری جانوں کے کفارہ کے لئے اسے تم کو دیا ہے کہ اس سے تمہاری جانوں کے کفارہ ہو کیونکہ جان رکھنے ہی کے سبب سے خون کفارہ دیتا ہے۔
12 اسی لئے میں نے بنی اسرائیل سے کہا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص خون کبھی نہ کھائے اور نہ کوئی پردیسی جو تم میں بودوباش کرتا ہو کبھی خون کو کھائے۔
13 اور بنی اسرائیل میں سے یا ان پردیسیوں میں سے جو ان میں بودباش کرتے ہیں جو کوئی شکار میں ایسے جانور یا پرندہ کو پکڑے جسکو کھانا ٹھیک ہے تو وہ اسکے خون کو نکال کر اسے ڈھانک دے۔
14 کیونکہ جسم کی جان جو ہے وہ اسکا خون ہے جو اسکی جان کے ساتھ ایک ہے۔ اسی لئے میں نے بنی اسرائیل کو حکم کیا ہے کہ تم کسی قسم کے جانور کا خون نہ کھانا کیونکہ ہر جانور کی جان اسکا خون ہی ہے۔ جو کوئی اسے کھائے وہ کاٹ ڈلا جایئگا۔
15 اور جو شخص مردار کو یا درندہ کے پھاڑے ہوئے جانور کو کھائے وہ خواہ دیسی ہو یا پردیسی اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے تب وہ پاک ہوگا۔
16 لیکن اگر وہ انکو نہ دھوئے اور نہ غسل کرے تو اسکا گناہ اسی کے سرلگیگا۔


باب 18

1 پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
3 تم ملک مصر کے سے کام جس میں تم رہتے تھے نہ کرنا اور ملک کنعان کے سے کام بھی جہاں میں تمہیں لئے جاتا ہوں نہ کرنا اور نہ انکی رسموں پر چلنا۔
4 تم میرے حکموں پر عمل کرنا اور میرے آئین کو مانکر ان پر چلنا میں خداوندتمہارا خدا ہوں
5 سو تم میرے آئین اور احکام ماننا جن پر اگر کوئی عمل کرے تو وہ ان ہی کی بدولت جیتا رہیگا۔ میں خداوند ہوں۔
6 تم میں سے کوئی اپنیکسی قریبی رشتہ دار کے پاس اسکے بدن کو بے پردہ کرنے کے لئے نہ جائے۔میں خداوند ہوں۔
7 تو اپنی ماں کے بدن کو جو تیرے باپ کا بدن ہے بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیری ماں ہے۔تو اسکے بدن کو نے پردہ نہ کرنا۔
8 تو اپنے باپ کی بیوی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے باپ کا بدن ہے۔تو اپنی بہن کے بدن کو چاہے وہ تیرے باپ کی بیٹی ہو چاہے تیری ماں کی خواہ وہ گھر میں پیدا ہوئی ہو خواہ اور کہیں بے پردہ نہ کرنا۔
9
10 تو اپنی پوتی یا نواسی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ انکا بدن تو تیرا ہی بدن ہے۔
11 باپ کی بیوی کی بیٹی جو تیرے باپ سے پیدا ہوئی ہے تیری بہن ہے۔تو اسکے بدن کو بے پردہ نہ کرنا۔
12 تو اپنی پھوپھی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے باپ کی قریبی رشتہ دار ہے۔
13 تو اپنی خالہ کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیری ماں کی قریبی رشتہ دار ہے۔
14 تو اپنے باپ کے بھائی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا یعنی اسکی بیوی کے پاس نہ جانا۔وہ تیری چچی ہے۔
15 تو اپنی بہو کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے بیٹے کی بیوی ہے۔سو تو اسکے بدن کو بے پردہ نہ کرنا۔
16 تو اپنی بھاوج کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے بھائی کا بدن ہے۔
17 تو کسی عورت اور اسکی بیٹی دونوں کے بدن کے بے پردہ نہ کرنا اور نہ تو اس عورت کی پوتی یا نواسی سے بیاہ کرکے ان میں سے کسی کے بدن کو بے پردہ کرنا کیونکہ وہ دونوں اس عورت کی قریبی رشتہ دار ہیں۔یہ بڑی خباثت ہے۔
18 تو اپنی سالی سےبیاہ کر کے اسے اپنی بیوی کی سوکن نہ بنانا کہ دوسری کے جیتے جی اسکے بدن کو بھی بے پردہ کرے۔
19 اور تو عورت کے پاس جب تک وہ حیض کے سبب سے ناپاک ہے اسکے بدن کو بے پردہ کرنے کے لئے نہ جانا۔
20 اور تو اپنے کو نجس کرنے کے لئے اپنے ہمسایہ کی بیوی سے صحبت نہ کرنا۔
21 تو اپنی اولاد میںسے کسی کو مولک کی خاطر آگ میں سے گزرانے کے لئے نہ دینا نہ اپنے خدا کے نام کو ناپاک ٹھہرانا۔میں خداوند ہو۔
22 تو مرد کے ساتھ صحبت نہ کرنا جیسے عورت سے کرتا ہے۔یہ نہایت مکروہ کام ہے۔
23 تو اپنے کو نجس کرنے کے لئے کسی جانور سے صحبت نہ کرنا اور نہ کوئی عورت کسی جانور سے ہم صحبت ہونے کے لئے اسکے آگے کھڑی ہو کیونکہ یہ اوندھی بات ہے۔
24 تم ان کلاموں میں سے کسی میں پھنسکر آلودہ نہ ہو جانا کیونکہ جن قوموں کو میں تمہارے آگے سے نکالتا ہوں وہ ان سب کاموں کے سبب سے آلودہ ہیں۔
25 اور انکا ملک بھی آلودہ ہو گیا ہے۔ اس لئے میں اسکی بدکاری کی سزا اسے دیتا ہوں ایساکہ وہ اپنے باشندوں کو اگلے دیتا ہے۔
26 لہذا تم میرے آئین اور احکام کو ماننا اور تم میں سے کوئی خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جو تم میں بودوباش رکھتا ہو ان مکروہات میں سے کسی کام کو نہ کرے۔
27 کیونکہ اس ملک کے باشندوں نے جو تم سے پہلے تھے یہ سب مکروہ کام کئے ہیںاور ملک آلودہ ہو گیا ہے۔
28 سو ایسا نہ ہو کہ جس طرح اس ملک نے اس قوم کو جو تم سے پہلے وہاں تھی اگل دیا اسی طرح تم کو بھی جب تم اسے آلودہ کرو تو اگل دے۔
29 کیونکہ جو ان مکروہ کاموںمیں سے کسی کو کریگا وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائیگا۔
30 اسلئے میری شریعت کو ماننا اور یہ مکروہ رسمیں جو تم سے پہلے ادا کی جاتی تھیں ان میں سے کسی کو عمل میں نہ لانا اور ان میں پھنسکر آلودہ نہ ہو جانا۔میںخداوند تمہارا خدا ہوں۔



باب 19

1پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
2بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہہ کہ تم پاک رہو کیونکہ میں جو خداوند تمہارا خدا ہوں پاک ہوں۔
3تم میں سے ہر ایک اپنی ماں اور اپنے باپ سے ڈرتا رہے اور تم میرے سبتوں کو ماننا۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
4تم بتوں کی طرف رجوع نہ ہونا اور نہ اپنے لئے ڈھالے ہوئے دیوتا بنانا۔میں خداوند تمہارا خفدا ہوں۔
5اور جب تم خداوند کے حضور سلامتی کے ذبیحے گذرانو تو انکو اس طرح گذراننا کہ تم مقبول ہو۔
6اور جس دن اسے گذرانو اس دن اور دوسے دن وہ کھایا جائے اور اگر تیسرے دن تک کچھ بچا رہ جائے تو وہ آگ میں جلا دیا جائے۔
7اور اگر وہ ذرا بھی تیسرے دن کھایا جائے تو مکروہ ٹھہریگا اور مقبول نہ ہوگا۔
8بلکہ جو کوئی اسے کھائے اسکا گناہ اسی کے سرلگیا کیونکہ اس نے خداوند کی پاک چیز کو نجس کیا۔سو وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جایئگا۔
9اور جب تم اپنی زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو تو اپنے کھیت کے کونے کونے تک پورا پورا نہ کاٹنا اور نہ کٹائی کی گری پڑی بالوں کو چن لینا۔
10اور تو اپنے انگورستان کا دانہ دانہ نہ توڑلینا اور نہ اپنے انگورستان کے گرے ہوئے دانوں کو جمع کرنا۔انکو غریبوں اور مسافروں کے لئے چھوڑ دینا۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
11تم چوری نہ کرنا اور نہ دغا دینا اور نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولنا۔
12اور تم میرا ناملیکر جھوٹی قسم نہ کھانا جس سے تو اپنے خدا کے نام کو ناپاک ٹھہرائے۔میں خداوند ہوں۔
13تو اپنے پڑوسی پر ظلم نہ کرنا نہ اسے لوٹنا۔مزدور کی مزدوری تیرے پاس ساری رات صبح تک رہنے نہ پائے۔
14تو بہرے کو نہ کوسنا اور نہ اندھے کے آگے ٹھوکر کھلانے کی چیز کو دھرنا بلکہ اپنے خدا سے ڈرنا۔میں خداوند ہوں۔
15تم فیصلہ میں ناراستی نہ کرنا۔نہ تو غریب کی رعایت کرنا اور نہ بڑے آدمی کا لحاظ بلکہ راستی کے ساتھ اپنے ہمسایہ کا انصاف کرنا۔
16تو اپنی قوم میں ادھر ادھر لتراپن نہ کرتے پھرنا اور نہ اپنے ہمسایہ کا خون کرنے پر آمادہ ہونا۔میں خداوند ہو۔
17تو اپنے دل میں اپنے بھائی سے بغض نہ رکھنا اور اپنے ہمسایہ کو ضرور ڈانٹتے بھی رہنا تاکہ اسکے سبب سے تیرے سر گناہ نہ لگے۔
18تو انتقام نہ لینا اور نہ اپنی قوم کی نسل سے کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔میں خداوند ہوں۔
19تم میری شریعتوں کو ماننا تو اپنے چوپایوں کو غیر جنس سے بھروانے نہ دینا اور اپنے کھیت میں دو قسم کے بیج ایک ساتھ نہ بونا اور نہ تجھ پر دو قسم کے ملے جلے تار کا کپڑا ہو۔
20اگر کوئی ایسی عورت سے صحبت کرے جو لونڈی اور کسی شخص کی منگیتر ہو اور نہ اسکا فدیہ ہی دیا گیا ہو اور نہ وہ آزاد کی گئی ہو تو ان دونوں کو سزا ملے لیکن وہ جان سے مارے نہ جائیں۔اسلئے کہ وہ عورت آزاد نہ تھی۔
21 اور وہ آدمی اپنے جرم کی قربانی کے لئے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور ایک مینڈھا لائے کہ وی اسکے جرم کی قربانی ہو۔
22اور کاہن اسکے جرم کی قربانی کے مینڈھے سے اسکے لئے خداوند کے حضور کفارہ دے۔تب جو خطا اس نے کی ہے وہ اسے معاف کی جایئگی۔
23اور جب تم اس ملک میں پہنچکر قسم قسم کے پھل کے درخت لگاؤ تو تم انکے پھل کو گویا نامختون سمجھنا۔وہ تمہارے لئے تین برس تک نا مختون کے برابر ہوں اور کھائے نہ جائیں۔
24اور چوتھے سال انکا سارا پھل خداوند کی تمجید کرنے کے لئے مقدس ہوگا۔
25تب پانچویں سارل سے انکا پھل کھانا تاکہ وہ تمہارے لئے افراط کے ساتھ پیدا ہو۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
26تم کسی چیز کو خون سمیت نہ کھانا اور نہ جادو منتر کرنا نہ شگون نکالنا۔
27تم اپنے اپنے سر کے گوشوں کو بال کاٹ کر گول نہ بنانا اور نہ تو اپنی داڑھی کے کونوں کو بگاڑنا۔
28تم مردوں کے سبب سے اپنے جسم کو زخمی نہ کرنا اور نہ اپنے اوپر کچھ گذانا۔میں خداوند ہوں۔
29تو اپنی بیٹی کو کسبی بنا کر ناپاک نہ ہونے دینا تا ایسا نہ ہو کہ ملک میں رنڈی بازیپھیل جائے اور سارا مللک بدگاری سے بھر جائے۔
30تم میرے سبتوں کو ماننا اور میرے مقدس کی تعظیم کرنا۔میں خداوند ہوں۔
31جو جنات کے یار ہیں اور جو جادو گر نجس بنادیں۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
32جنکے سر کے بال سفید ہیں تو انکے سامنے اٹھ کھڑے ہونا اور بڑے بوڑھے کا ادب کرنا اور اپنے خدا سے ڈرنا۔ میں خداوندہوں۔
33اور اگر کوئی پردیسی تیرے ساتھ تمہارے ملک میں بودوباش کرتا ہو تو تم اسے آزار نہ پہنچانا
34بلکہ جو پردیسی تمہارے ساتھ رہتا ہو اسے دیسی کی مانند سمجھنا بلکہ تو اس سے اپنی مانند محبت کرنا اسلئے کہ تم ملک مصر میں پردیسی تھے۔میں تمہارا خدا ہوں۔
35تم انصاف اور پیمائش اور وزن اور پیمانہ میں ناراستی نہ کرنا۔
36ٹھیک ترازو۔ٹھیک باٹ۔پورا ایفہ اور پورا رہین رکھنا۔جو تمکو ملک مصر سے نکالکر لایا میں ہی ہوں خداوند تمہارا خدا۔
37سو تم میرے سب آئین اور سب احکام ماننا اور ان پر عمل کرنا۔میں خداوند ہوں۔


باب 20

1 پھر خداوند نے موسی سے کہا۔
2 تو بنی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دے کہ بنی اسرائیل میں سے یا ان پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان بودوباش کرتے ہیں جو کوئی شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔اہل ملک اسے سنگسار کریں۔
3 اور میں بھی اس شخص کا مخالف ہونگا اور اسے اسکے لوگوں میں سے کاٹ ڈالونگا۔اسلئے کہ اس نے اپنی اولاد کو مولک کی نذر کر کے میرے مقدس اور میرے پاک نام کو ناپاک ٹھہرایا۔
4 اور اگر اس وقت جب وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے اہل ملک اس شخص کی طرف سے چشم پوشی کرکے اسے جان سے نہ ماریں۔
5 تو میں خود اس شخص کا اور اسکے گھرانے کا مخالف ہو کر اسکو اور ان سبھوں کو جو اسکی پیروی میں زنا کار بنیں اور مولک کے ساتھ زنا کریں انکی قوم میں سے کاٹ ڈلونگا۔
6 اور جو شخص جنات کے یاروں اور جادوگروں کے پاس جائے کہ انکی پیروی میں زنا کرے میں اسکا مخالف ہونگا اوراسے اسکی قوم میں سے کاٹ ڈالونگا۔
7 اسلئے تم اپنے آپ کو مقدس کرو اور پاک رہو۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
8 اور تم میرے آئین کو ماننا اور اس پر عمل کرنا۔ میں خداوند ہوں جو تمکو مقدس کرتا ہوں۔
9 اور جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرے وہ ضرور جان سے مارا جائے اس نے اپنے باپ یا ماں پر لعنت کی ہے۔سو اسکا خون اسی کی گردن پر ہوگا۔
10 اور جو شخص دوسرے کی بیوی سے یعنی اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے وہ زانی اور زانیہدونوں ضرور جان سے مار دئے جائیں۔
11 اور جو شخص اپنی سوتیلی ماں سے صحبت کرے اس نے اپنے باپ کے بدن کو بے پردہ کیا وہ دونوں ضرور جان سے مارے جائیں۔انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔
12 اور اگر کوئی شخص اپنی بہو سے صحبت کرے تو وہ دونوں ضرور جان سے مارے جائیں۔انہوں نے اوندھی بات کی ہے انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔
13 اور اگر کوئی مرد سے صحبت کرے جیسے عورت سے کرتے ہیں تو ان دونوں نے نہایت مکروہ کام کیا ہے۔سو وہ دونوں ضرور جان سےمارے جائیں۔انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔
14 اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی اور اپنی ساس دونوں کو رکھے تو یہ بڑی خباثت ہے۔سو وہ آدمی اور وہ عورتیں تینوں کے تینوں جلادئے جائیں تاکہ تمہارے درمیان خباثت نہ رہے۔
15 اور اگر کوئی مرد کسی جانور سے جماع کرے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے اور تم اس جانور کو بھی مار ڈالنا۔
16 اور اگر کوئی عورت کسی جانور کے پاس جائے اور اس سے ہم صحبت ہو تو تو اس عورت اور جانور دونوں کو مار ڈالنا۔وہ ضرور جان سے مارےجائیں۔انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔
17 اور اگر کوئی مرد اپنی بہن کو جو اسکے باپ کی اسکی ماں کی بیٹی ہو لیکر اسکا بدن دیکھے اور اسکی بہن اسکا بدن دیکھے تو یہ شرم کی بات ہے۔وہ دونوں اپنی قوم کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قتل کئے جائیں۔اس نے اپنی بہن کے بدن کو بے پردہ کیا۔اسکا گناہ اسی کے سرلگیگا۔
18 اور اگر مرد اس عورت سے جو کپڑوں سے ہو صحبت کرکے اسکے بدن کوبے پردہ کرے تو اس نے اسکا چشمہ کھولا اور اس عورت نے اپنے خون کا چشمہ کھلوایا۔سو وہ دونوں اپنی قوم میں سے کاٹ ڈالے جائیں۔
19 اور تو اپنی خالہ یا پھوپھی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ جو ایسا کرے اس نے اپنی قریبی رشتہ دار کو بے پردہ کیا۔ سو ان دونوں کا گناہ ان ہی کے سرلگیگا۔
20 اور اگر کوئی اپنی چچی یا تائی سے صحبت کرے تو اس نے اپنے چچا یا تاؤ کے بدن کو بے پردہ کیا۔سوانکا گناہ انکے سرلگیگا۔وہ لاولد مرنیگے۔
21 اگر کوئی شخص اپنے بھائی کی بیوی کو رکھے تو یہ نجاست ہے۔اس نے اپنے بھائی کے بدن کو بے پردہ کیا۔وہ لاولد رہینگے۔
22 سو تم میرے سب آئین اور احکام ماننا اور ان پر عمل کرنا تاکہ وہ ملک جس میں میں تمکو بسانے کو لئے جاتا ہوں تم کو اگل نہ دے۔
23 تمان قوموں کے دستوروں پر جنکو میں تمہارے آگے سے نکالتا ہوں مت چلنا کیونکہ انہوں نے یہ سب کام کئے۔اسی لئے مجھے ان سے نفرت ہوگئی۔
24 پر میں نے تم سے کہا ہے کہ تمانکے ملک کے وارث ہوگے اور میں تمکو وہ ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے تمہاری ملکیت ہونے کے لئے دونگا۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں جس نے تمکو اور قوموں سے الگ کیا ہے۔
25 سو تم پاک اور ناپاک چوپایوں میں اور پاک اور ناپاک پرندوں میں فرق کرنا اور تم کسی جانور یا پرندے یا زمین پر کے رینگنے والے جاندار سے جنکو میں نے تمہارے لئے ناپاک ٹھہرا کر الگ کیا ہے اپنے آپکو مکروہ نہ بنالینا۔
26 اور تم میرے لئے پاک بنے رہنا کیونکہ میں جو خداوند ہوں پاک ہوں اور میں نے تمکو اور قوموں سے الگ کیا ہے تاکہ تم میرے ہی رہو۔
27 اور وہ مرد یا عورت جس میں جن ہو یاوہ جادوگر ہو تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ایسوں کو الگ سنگسار کریں،انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔


باب 21

1 اور خداوند نے موسی سے کہا کہ ہارون کے بیٹوں سے جو کاہن ہیں کہہ کہ اپنے قبیلہ کے مردہ کے سبب سے کوئی اپنے آپ کو نجس نہ کرے۔
2 اپنے قریبی رشتہ داروں کے سبب سے جیسے اپنی ماں کے سبب سے اور اپنے باپ کے سبب سے اور اپنے بیٹے بیٹی کے سبب سے اور اپنے بھائی کے سبب سے۔
3 اور اپنی سگی کنواری بہن کے سبب سے جس نے شوہرنہ کیا ہو۔انکی خاطر اپنے نجس کرکتا ہے۔
4 چونکہ وہ اپنے لوگوں میں سردار ہے اسلئے وہ اپنے آپ کو ایسا آلودہ نہ کرے کہ ناپاک ہو جائے۔
5 وہ نہ اپنے سر انکی خاطر بیچ سے گھٹوائیں اور نہ اپنی داڑھی کے کو نے منڈوائیں اور نہ اپنے کو زخمی کریں۔
6 وہ اپنے خدا کے لئے پاک رہیں۔اور اپنے خدا کے نام کو بے حرمت نہ کریں کیونکہ وہ خداوند کی آتشین قربانیاں جو انکے خدا کی غذا ہیںگذرانتے ہیں۔اسلئےوہ پاک ہیں۔
7 وہ کسی فاحشہ یا ناپاک عورت سے بیاہ نہ کریں اور نہ اس عورت سے بیاہ کریں جسے اسکے شوہر نے طلاق دی ہو کیونکہ کاہن اپنے خدا کے لئے مقدس ہے۔
8 پس تو کاہن کو مقدس جاننا کیونکہ وہ تیرے خدا کی غذا گذرانتا ہے۔سو وہ تیری نظر میں مقدس ٹھہرے کیونکہ میں خداوند جو تمکو مقدس کرتا ہوں قدوس ہوں۔
9 اور اگر کاہن ککی بیٹی فاحشہ بنکر اپنے آپ کو ناپاک کرے تو وہ اپنے باپ کو ناپاک ٹھہراتی ہے۔وہ عورت آگ میں جلائی جائے۔
10 اور وہ جو اپنے بھایئوں کے درمیان سردار کاہن ہو جسکے سر پر مسح کرنے کا تیل ڈالا گیا اور جو پاک لباس پہننے کے لئے مخصوص کیا گیا وہ اپنے سر کے بال بکھرنے نہ دے اور نہ اپنے کپڑے نہ پھاڑے۔
11 وہ کسی مردہ کے پاس نہ جائے اور نہ اپنے باپ یا ماں کی خاطر اپنے آپ کو نجس کرے۔
12 اور وہ مقدس کے باہر بھی نہ نکلے اور نہ اپنے خدا کے مقدس کو بے حرمت کرے کیونکہ اسکے خدا کے مسح کرنے کے کے تیل کا تاج اس پر ہے۔میں خداوند ہوں۔
13 اور وہ کنواری عورت سے بیاہ کرے۔
14 جو بیوہ یا مطلقہ یا ناپاک عورت یا فاحشہ ہو ان سے وہ بیاہ نہ کرے بلکہ وہاپنی ہی قوم کی کنواری کو بیاہ لے۔
15 اور وہ اپنے تخم کو اپنی قوم میں ناپاک نہ ٹھہرائے کیونکہ میں خداوندہوں جو اسے مقدس کرتا ہوں۔
16 پھر خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
17 ہارون سے کہدے کہ تیری نسل میں پشت درپشت اگر کوئی کسی طرح کا عیب رکھتا ہو تو وہ اپنے خدا کی غذا گذراننے کو نزدیک نہ آئے۔
18 خواہ کوئی ہو جس میں عیب ہو وہ نزدیک نہ آئے۔خواہ وہ اندھا ہو یا لنگڑا یا نکچٹا ہو یا زائدالاعضا۔
19 یا اسکا پاؤں ٹوٹا ہو یا ہاتھ ٹوٹا ہو۔
20 یا وہ کبڑا یا بونا ہو یا اسکی آبکھ میں کچھ نقص ہو یا کھجلی بھرا ہو یا اسکے پپڑیاں ہوں یا اسکے خصے پچکے ہوں۔
21 ہارون کاہن نسل میں سے کوئی جو عیب دار ہو خداوند کی آتشین قربانیاں گذراننے کو نزدیک نہ آئے۔وہ عیب دار ہے۔وہ ہر گزاپنے خدا کی غذا گذراننے کو پاس نہ آئے۔
22 وہ اپنے خدا کی نہایت ہی مقدس اور پاک دونوں طرح کی روٹی کھائے۔
23 لیکن پردہ کے اندر داخل نہ ہو مذبح کے پاس آئے اسلئے کہ وہ عیب دار ہے تا ایسا نہ ہو کہ وہ میرے مقدس مقاموں کو بے حرمت کرے کیونکہ میں خداوند انکا مقدس کرنے والا ہوں۔
24 سو موسی نے ہارون اور اسکے بیٹوں اور سب بنی اسرائیل سے یہ باتیں کہیں۔


باب 22

1 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
2 ہارون اور اسکے بیٹوں سے کہہ کہ وہ بنی اسرائیل کی پاک چیزوں سے جنکو وہ میرے لئے مقدس کرتے ہیں اپنے آپکو بچائے رکھیں اور میرے پاک نام کو بے حرمت نہ کریں۔
3 انکو کہدے کہ تمہاری پشت درپشت کو کوئی تمہاری نسل میں سے اپنی ناپاکی کی حالت میں ان پاک چیزوں کے پاس جائے جنکو بنی اسرائیل خداوند کے لئے مقدس کرتے ہیں وہ شخص میرے حضور سے کاٹ ڈالا جایئگا۔میں خداوند ہوں۔
4 ہارون کی نسل میں جو کوڑھی یا جریان کا مریض ہو وہ جب تک پاک نہ ہو جائے پاک چیزوںمیں سے کچھ نہ کھائے اور جو کوئی ایسی چیز کو جو مردہ کے سبب سے ناپاک ہو گئی ہے یا اس شخص کو جسکی دھات بہتی ہو چھوئے۔
5 یا جو کوئی کسی رینگنے والے جاندار کو جسکے چھونے سے وہ ناپاک ہو سکتا ہے چھوئے یا کسی ایسے شخص کو چھوئے جس سے اسکی ناپاکی خواہ وہ کسی قسم کی ہو اسکو بھی لگ سکتی ہو۔
6 تو وی آدمی جو ان میں سے کسی کو چھوئے شام تک ناپاک رہیگا اور جب تک پانی سے غسل نہ کرلے پاک چیزوں میں سے کچھ نہ کھائے۔
7 اور وہ اس وقت پاک ٹھہریگا جب آفتاب غروب ہو جائے۔اسے بعد وہ پاک چیوں میں سے کھائے کیونکہ یہ اسکی خوراک ہے۔
8 اور مردار یا درندہ کے پھاڑے ہوئے جانور کو کھانے سے وہ اپنے آپکو نجس نہ کرلے۔میں خداوند ہوں۔
9 اسلئے وہ میری شرع کو مانیں تا نہ ہو کہ اسکے سبب سے انکے سر گناہ لگے اور اسکی بے حرمتی کرنے کی وجہ سے وہ مربھی جائیں۔میں خداوند انکا مقدس کرنے والا ہوں۔
10 کوئی اجنبی پاک چیز کو نہ کھانے پائے خواہ وہ کاہن ہی کے ہاں ٹھہر ہو یا اسکا نوکر ہو تو بھی وہ کوئی پاک چیز نہ کھائے۔
11 لیکن وہ جسے جکاہن نے اپنے زر سے خریدا ہو اسے کھا سکتا ہےاور وہ جو اسکے گھر میں پیدا ہوئے ہوں وہ بھی اسکے کھانے میں سے کھائیں۔
12 اگر کاہن کی بیٹی کسی اجنبی سے بیاہی گئی ہو تو وہ پاک چیزوں کی قربانی میں سے کچھ نہ کھائے۔(13پر اگر کاہن کی بیٹی بیوہ ہو جائے یا مطلقہ ہو اور بے اولاد ہو اور لڑکپن کے دنوں کی طرح اپنے باپ کے گھر میں پھر آکر رہے تو وہ اپنے باپ کے کھانے میں سے کھائے لیکن کوئی اجنبی اسے نہ کھائے۔
13
14 اور اگر کوئی نادانستہ پاک چیز کو کھا جائے تو وہ اسکے پانچویں حصہ کے برابر اپنے پاس سے اس میں ملا کر وہ پاک چیز کاہن کو دے۔
15 اور وہ بنی اسرائیل کی پاک چیزوں کو جنکو وہ خداوند کی نذر کرتے ہوں بے حرمت کرکے۔
16 انکے سر اس گناہ کا جرم نہ لادیں جو انکی پاک چیزوں کے کھانے سے ہو گا کیونکہ میںخداوند انکا مقدس کرنے والا ہوں۔
17 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
18 ہارون اور اسکے بیٹوں اور سب بنی اسرائیل سے کہہ کہ اسرائیل کے گھرانے کا یا ان پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان رہتے ہیں جو کوئی شخص اپنی نقربانی لائے خواہ وہ کوئی منت کی قربانی ہو یا رضا کیقربانی جسے وہ سوختنی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذرانا کرتے ہیں۔
19 تو اپنے مقبول ہونے کے لئے تم بیلوں یا بروں یا بکروں میں سے بے عیب نر چڑھانا۔
20 اور جس میں عیب ہو اسے نہ چڑھانا کیونکہ وہ تمہاری طرف سے مقبول نہ ہو گا۔
21 اور کو کوئی اپنی منت پوری کرنے کے لئے یا رضا کی قربانی کے طور پر گائے بیل یا بھیڑ بکری میں سے سلامتی کا ذبیحہ خداوند کے حضور گذرانے تو وہ جانور مقبول ٹھہرنے کے لئے بے عیب ہو۔اس میں کوئی نقص نہ ہو۔
22 جو اندھا یا شکستہ عضو یا لولا ہو یا جسکے رسولی یا کھجلی یا پپڑیاں ہوں ایسوں کو خداوند کے حضور چڑھانا اور نہ مذبح پر انکی آتشین قربانی خداوند کے حضور گذراننا۔
23 جس بچھڑے یا برے کا کوئی عضو زیادہ یا کم ہو اسے تو رضا کی قربانی کے طور گذران سکتا ہے پر منت پوری کرنے کے لئے وہ مقبول نہ ہوگا۔
24 جس جانور کے خصے کچلے ہوئے یا چور کئے ہوئے یا ٹوٹے یا کٹے ہوئے ہوں اسے تم خداوند کے حضور نہ چڑھانا اور نہ اپنے ملک میں ایسا کام کرنا۔
25 اور نہ ان میں سے کسی کو لیکر تم اپنے خدا کی غذا پردیسی یا اجنبی کے ہاتھ سے چڑھوانا کیونکہ انکا بگاڑ ان میں موجود ہوتا ہے۔ان میں عیب ہے۔سو وہ تمہاری طرف سے مقبول نہ ہونگے۔
26 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
27 جا وقت بچھڑا یا بھیڑ یا بکری کا بچہ پیدا ہو تو سات دن تک وہ اپنی ماں کے ساتھ رہےاور آٹھویں دن سے اسکے بعد سے وہ خداوند کی آتشین قربانی کے لئے مقبول ہو گا۔
28 اور خواہ گائے ہو یا بھیڑ بکری تم اسے اور اسکے بچے دونوں کو ایک ہی دن ذبح نہ کرنا۔
29 اور جب تم خداوند کے شکرانہ کا ذبیحہ قربانی کرو تو اسے اس طرح قربانی کرنا کہ تم مقبول ٹھہرو۔
30 اور وہ اسی دن کھا بھی لیا جائے۔تم اس میں سے کچھ بھی دوسرے دن کی صبح تک باقی نہ چھوڑنا۔میں خداوند ہوں۔
31 سو تم میرے حکموں کو ماننا اور ان پر عمل کرنا۔ میں خداوند ہوں۔
32 تم میرے پاک نام کو ناپاک نہ ٹھہرانا کیونکہ میں بنی اسرائیل کے درمیان ضرورہی پاک مانا جاؤنگا۔میں خداوند مقدس کرنے والا ہوں۔
33 جو تمکو ملک مصر سے نکال لایا ہوں تاکہ تمہارا خدا بنا رہوں۔میں خداوند ہوں۔


باب 23

1 اور خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ خداوند کی عیدیں جنکا تمکو مقدس مجعوں کے لئے اعلان دینا ہوگا میری وہ عیدیں یہ ہیں۔
3 چھ دن کام کاج کیا جائے پر ساتویں دن خاص آرام کا اور مقدس مجمع کا سبت ہے۔اس روز کسی طرح کا کام نہ کرنا۔وہ تمہاری سب سکونت گاہوں میںخداوند کا سبت ہے۔
4 خداوند کی عیدیں جنکا اعلان تمکو مقدس مجمعوں کے لئے وقت معین پر کرنا ہوگا سو یہ ہیں۔
5 پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو شام کے وقت خداوند کی فسح ہوا کرے۔
6 اور اسی مہینے کی پندرھویں تاریخ کو خداوند کے لئے عید فطر ہو۔اس میں تم سات دن تک بے خمیری روٹی کھانا۔
7 پہلے دن تمہارا مقدس مجمع ہو۔اس میں تم کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔
8 اور ساتویں دن تم خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا اور ساتویں دن پھر مقدس مجمع ہو۔اس روز تم کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔
9 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
10 بنی اسرائیل سے کہہ کہجب تم اس ملک میں جو میں تمکو دیتا ہوں داخل ہو جاؤ اور اسکی فصل کاٹو تو تم اپنی فصل کے پہلے پھلوں کا ایک پولا کاہن کے پاس لانا۔
11 اور وہ اسے خداوند کے حضور ہلائے تاکہ وہ تمہاری طرف سے قبول ہو اور کاہن اسے سبت کے دوسرے دن صبح کو ہلائے۔
12 اور جس دن تم پولے کو ہلواؤاسی دن ایک نر بے عیب یکسالہ برہ سوختنی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذراننا۔
13 اور اسکے ساتھ نذرکی قربانی کے لئے تیل ملا ہوا میدہ ایفہ کے دو دہائے حصہ کے برابر ہو تاکہ وہ آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کے لئے جلائیجائے اور اسکے ساتھ کا تپاون ہیں کے چوتھے حصہ کے برابر مے لیکر کرنا۔
14 اور جب تک تم اپنے خدا کے لئے یہ چڑھاوا نہ لے آؤ اس دن تک نئی فصل کی روٹی یا بھنا ہوا اناج یا ہری بالیں ہرگز نہ کھانا۔تمہاری سب سکونت گاہوں میں پشت در پشت ہمیشہ یہی آئین رہیگا۔
15 اور تم سبت کے دوسرے دن سے جس دن ہلانے کی قربانی کے لئے بولا لاؤ گے گننا شروع کرنا جب تک سات سبت پورے نہ ہوجائیں۔
16 اور ساتویں سبت کے دوسرے دن تک پچاس دن لینا۔تب تم خداوند کے لئے نذرکی نئی قربانی گراننا۔
17 تم اپنے گھروں میں سے ایفہ کے دو دہائی حصہ کے وزن کے میدہ کے دو گردے ہلانے کی قربانی کے لئے آنا۔وہ خمیر کے ساتھ پکائے جائیں تاکہ خداوند کے لئے پہلے پھل ٹھہریں۔
18 اور ان گردوں کے ساتھ ہی تم سات یکسالہ بے عیب برے اور ایک بچھڑا اور دو مینڈھے لونا تاکہ وہ اپنی اپنی نذر کی قربانی اور تپاون کے ساتھ خداوند کے حضور سوختنی قربانی کے طور پر گذرانے جائیں اور خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی ٹھہریں
19 اور تم خطا کی قربانی کے لئے ایک بکرا اور سلامتی کے ذبیحہ کے لئے دو یکسالہ نر برے چڑھانا۔
20 اور کاہن انکو پہلے پھل کے دونوں گردوں کے ساتھ لیکر ان دونوں بروں سمیت ہلانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور ہلائے۔وہ خداوند کے لئے مقدس اور کاہن کا حصہ ٹھہریں۔
21 اور تم عین اسی دن اعلان کردینا۔۔ اس روز تمہارا مقدس مجمع ہو۔ تم اس دن کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔تمہاری سب سکونت گاہوں میں پشت در پشت سدا یہی آئین رہیگا۔
22 اور جب تم اپنی زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو تو تو اپنے کھیت کو کونے کونے تک پورا نہ کاٹنا اور نہ اپنی فصل کی گری پڑی بالوں کو جمع کرنا بلکہ انکو غربیوں اور مسافروں کے لئے چھوڑ دینا۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
23 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
24 بنی اسرائیل سے کہہ کہ ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ تمہارے لئے خاص آرام کا دن ہو۔اس میں یادگاری کے لئے نرسنگے پھونکے جائیں۔اور مقدس مجمع ہو۔
25 تم اس روز کوئی خادمانہ کام نہ کرنا اور خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔
26 اور خداند نے موسی سے کہا۔
27 اسی ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو کفارہ کا دن ہے۔اس روز تمہارا مقدس مجمع ہو اور تم اپنی جانوں کو دکھ دینا اور خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔
28 تم اس دن کسی طرح کاکام نہ کرنا کیونکہ وہ کفارہ کا دن ہے جس میں خداوند تمہارے خدا کے حضور تمہارے لئے کفارہ فیا جایئگا۔
29 جو شخص اس دن اپنی جان کو دکھ نہ دے وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جایئگا۔
30 اور جو شخص اس دن کسی طرح کاکام کرے اسے میں اسکے لوگوں میں سے فنا کردونگا۔
31 تم کسی طرح کا کام مت کرنا۔تمہاری سب سکونت گاہوں میں پشت در پشت سدا یہی آئین رہیگا۔
32 یہ تمہارے لئے خاص آرام کا سب ہو۔اس میں تم اپنی جانوں کو دکھ دینا۔تم اس مہینے کی نویں تاریخ کی شام سے دوسری شام تک اپنا سبت ماننا۔
33 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
34 بنی اسرائیل سے کہہ کہ اسی ساتویں مہینے کی پندرھویں تاریخ سے لیکر سات دن تک خداوند کے لئے عید خیام ہوگی۔
35 پہلے دن مقدس مجمع ہو۔ تم اس دن کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔
36 تم ساتویں دن برابر خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔آٹھویں دن تمہارا مقدس مجمع ہو اور پھر خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔ وہ خاص مجمع ہے۔اس میں کوئی خادمانہ کام نہ کرنا۔
37 یہ خداوند کی مقرر عیدیں ہیں جن میں تم مقدس مجمعوں کا اعلان کرنا تاکہ خداوند کے حضور آتشین قربانی اور سوختنی قربانی خداوند کی قربانی اور ذبیحہ اور تپاون ہر ایک اپنے اپنے معین دن میں گذرانا جائے۔
38 ماسوا انکے خداوند کے سبتوں کو ماننا اور اپنے ہدیوں اور منتوں اور رضا کی قربانیوں کو جو تم خداوند کے حضور لاتے ہو گذراننا۔
39 اور ساتویں مہینے کی پندرھویں تاریخ سے جب تم زمین کی پیداوار جمع کر چکو تو سات دن تک خداوند کی عید ماننا۔پہلا دن خاص آرام کا ہو اور آتھویں دن بھی خاص آرام ہی کا ہو۔
40 سو تم پہلے دن خوشنما درختوں کے پھل اور کھجور کی ڈالیاں اور گھنے درختوں کی شاخیں اور ندیوں کی بیدمجنوں لینا اور تم خداوند اپنے خدا کے آگے سات دن تک خوشی منانا۔
41 اور تم ہر سال خداوند کے لئے سات روز تک یہ عید مانا کرنا،تمہاری نسل در نسل سدا یہی آئین رہیگا کہ تم ساتویں مہینے اس عید کو مانو۔
42 سات روز تک برابر تم سایبانوں میں رہنا۔جتنے اسرائیل کی نسل کے ہیں سب کے سب سایبانوں میں رہیں۔
43 تا کہ تمہاری نسل کو معلوم ہو کہ جب میں بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکالکر لارہا تھا تو میں نے انکو سایبانوں میں ٹکایا تھا۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
44 سو موسی نے بن اسرائیل کو خداوند کی مقرر عیدیں بتادیں۔


باب 24

1 اور خداوند نے موسی سے کہا۔
2 بنی اسرائیل کو حکم کر کہ وہ تیرے پاس زیتون کا کاٹ کر نکالا ہوا خالص تیل روشنی کےلئے لائیں تاکہ چراغ ہمیشہ جلتا رہے۔
3 ہارون اسے شہادت کے پردہ کے باہر خیمہ اجتماع میں شام سے صبح تک خداوند کے حضور قرینہ سے رکھا کرے۔تمہاری نسل در نسل سدا یہی آئین رہیگا۔
4 وہ ہمیشہ ان چراغوں کو ترتیب سے پاک شمعدان پر خداوند کے حضور رکھا کرے۔
5 اور تو میدہ لیکر بارہ گردے پکانا۔ہر ایک گردہ میں ایفہ کے دوہائی حصہ کے برابر میدہ ہو۔
6 اور تو انکو دوقطاریں کرکے ہر قطار میں چھ چھ روٹیاں پاک میز پر خداوند کے حضور رکھنا۔
7 اور تو ہر ایک قطار پر خالص لبان رکھنا تاکہ وہ روٹی پر یادگاری یعنی خداوند کے حضور آتشین قربانی کے طور پر ہو۔
8 وہ سدا ہر سبت کے روز انکو خداوند کے حضور ترتیب دیا کرے کیونکہ یہ بنی اسرائیل کی جانب سے ایک دائمی عہد ہے۔
9 اور یہ روٹیاں ہارون اور اسکے بیٹوں کی ہونگی۔وہ انکو کسی پاک جگہ میں کھائیں کیونکہ وہ ایک جاودانی آئین کے مطابق خداوند کی آئتشین قربانیوں میں سے ہارون کے لئے نہایت پاک ہیں۔
10 اور ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا جسکا باپ مصری تھا اسرائیلیوں لشکرگاہ میں آپس میں مار پیٹ کرنے لگے۔
11 اور اسرائیلی عورت کے بیٹے نے پاک نام پر کفر بکا اور لعنت کی۔تب لوگ اسے موسی کے پاس لے گئے۔اسکی ماں کا نام سلومیت تھا جو دبری کی بیٹی تھی جو دان کے قبیلہ کا تھا۔
12 اور انہوں نے اسے حوالات میں ڈال دیا تاکہ خداوند کی جانب سے اس بات کا فیصلہ ان پر ظاہر کیا جائے۔
13 تب خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
14 اس لعنت کرنے والے کو لشکر گاہ کے باہر نکالکر لے جا اور جتنوں نے اسے لعنت کرتے سنا وہ سب اپنے اپنے ہاتھ اسکے سر پر رکھیں اور ساری جماعت اسے سنگسار کرے۔
15 اور تو بنی اسرائیل سے کہہ دے کہ جو کوئی اپنے خدا پر لعنت کرے اسکا گناہ اسی کے سرلگیگا۔
16 اور وہ جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جب وہ پاک نام پر کفر بکے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔
17 اور جو کوئی کسی آدمی کو مار ڈالے وہ رور جان سے مارا جائے۔
18 اورجو کوئی کسی چوپائے کو مار ڈالے وہ اسکا معاوضہ جان کے بدلے جان دے۔
19 اور اگر کوئی شخص اپنے ہمسایہ کو عیب دار بنادے تو جیسا اس نے کیا ویسا ہی اس سے کیا جائے۔
20 یعنی عضو توڑنے کے بدلے عضو توڑنا ہو اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت جیسا عیب اس نے دوسرے آدمی میں پیدا کردیا ہے ویسا ہی اس میں بھی کردیا جائے۔
21 الغرض جو کوئی کسی چوپائے کو مارڈالے وہ اسکا معاوضہ دے پر انسان کا قاتل جان سے مارا جائے ۔
22 تم ایک ہی طرح کا قانون دیسی اور پردیسی دونوں کے لئے رکھنا کیونکہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
23 اور موسی نے یہ بن اسرائیل کو بتایا۔پس وہ اس لعنت کرنے والے کو نکالکر لشکر گاہ کے باہر لے گئے اور اسے سنگسار کر دیا۔سو بنی اسرائیل نے جیسا خداوند نے موسی کو حکم دیا تھا ویسا ہی کیا۔


باب 25

1 اور خداوند نے کوہ سینا پر موسی سے کہا کہ ۔
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب تم اس ملک میں جو میں تمکو دیتا ہوں داخل ہو جاؤ تو اسکی زمین بھی خداوند کے لئے سبت کو مانے۔
3 تو اپنے کھیت کو چھ برس بونا اور اپنے انگورستان کو چھ برس چھانٹنا اور اسکا پھل جمع کرنا۔
4 لیکن ساتویں سال زمین کے لئے خاص آرام کا سبت ہو۔یہ سبت خداوند کے لئے ہو۔اس میں تو نہ اپنے کھیت کو بونا اور نہ اپنے انگوستان کو چھانٹنا۔
5 اور نہ اپنی خودرد فصل کو کاٹنا اور نہ اپنی بے چھٹی تاکوں کے انگوروں کو توڑنا۔یہزمین کے لئے خاص آرام کا سال ہو۔
6 اور زمین کا یہ سبت تیرے اور تیرے غلاموں اور تیری لونڈیوں اور مزدوروں اور ان پردیسیوں کے لئے جو تیرے ساتھ رہتے ہیں تمہاری خوراک کا باعث ہوگا۔
7 اور اسکی ساری پیدوار تیرے چوپایوں اور تیرے ملک کے اور جانوروں کے لئے خوش ٹھہریگی۔
8 اور تو برسوں کے سات سبتوں کو یعنی سات گنا سات سال گن لینا اور تیرے حساب سے برسوں کے سات سبتوں کی مدت کل انچاس سال ہونگے۔
9 تب تو ساتویں مہینے کی دس کو بڑا نرسنگا سے پھنکوانا۔تم کفارہ کے روز اپنے سارے ملک میں یہ نرسنگا پھنکوانا۔
10 اور تم پچاسویں برس مقدس جاننا اور تمام ملک میں سے باشندوں کے لئے آزادی کی منادی کرانا۔یہ تمہارے لئے یوبلی ہو۔اس میں تم میں سے ہر ایک اپنی ملکیت کا مالک ہو اور ہرشخص اپنے خاندان میں پھر شامل ہو جائے۔
11 وہ پچاسواںبرس تمہارے لئے یوبلی ہو۔تم اس میں کچھ نہ بونا اور نہ اسے جو اپنے آپ پیدا ہو جائےکاٹنا اور نہ بے چھڑی تاکوں کا انگورجمع کرنا۔
12 کیونکہ وہ سال یوبلی ہوگا۔سو وہ تمہارے لئے مقدس ٹھہرے۔تم اسکی پیداوار کو کھیت سے لے لیکر کھانا۔
13 اس سال یوبلی میں میں تم میں سے ہر ایک اپنی ملکیت کا پھر مالک ہو جائے۔
14 اور اگر تو اپنے ہمسایہ کے ساتھ کچھ بیچے یا اپنے ہمسایہ سے کچھ خریدے تو تم ایک دوسرے پر اندھیرے نہ کرنا۔
15 یوبلی کے بعد جتنے برس گذرے ہوں انکے شمار کے موافق تو اپنے ہمسایہ سے اسے خریدنا اور وہ اسے فصل کے برسوں کے شمار کے مطابق تیرے ہاتھ بیچے۔
16 جتنے زیادہ برس ہوں اتنا ہی دام زیادہ کرنا اور جتنے کم برس ہوں اتنی ہی اسکی قیمت گھٹانا کیونکہ برسوں کے شمار کے موافق وہ انکی فصل تیرے ہاتھ بیچتا ہے۔
17 اور تم ایک دوسرے پر اندھیرنہ کرنا بلکہ تو اپنے خدا سے ڈرتے رہنا کیونکہ میں خداوند تمہارا ہوں۔
18 سو تم میری شریعت پر عمل کرنا اور میرے حکموں کو ماننا اور ان پر چلنا تو تم اس ملک میں امن کے ساتھ بسے ہوگے۔
19 اور زمین پھلیگی اور تم پیٹ بھر کر کھاؤگے اور وہاں امن کے ساتھ رہا کروگے۔
20 اور اگر تمکو خیال ہو کہ ہم ساتویں برس کیا کھائینگے؟کیونکہ دیکھو ہمکو نہ تو بونا ہے اور نہ اپنی پیداوار کو جمع کرنا ہے۔
21 تو میں چھٹے ہی برس ایسی برکت تم پر نازل کرونگا کہ تینوں سال کے لئے کافی غلہ پیدا ہو جایئگا۔
22 اور آٹھویںبرس پھر جوتنا بونا اور پچھلا غلہ کھاتے رہنا بلکہ جب تک نویں سال کے بوئے ہوئے کی فصل نہ کاٹ لو اس وقت تک وہی پچھلا غلہ کھاتے رہوگے۔
23 اور زمین ہمیشہ کے لئے بیچی نہ جائے کیونکہ زمین میری ہے اور تم میرے مسافر اور مہمان ہو۔
24 بلکہ تم اپنی ملکیت کے ملک میں ہر جگہ زمین کو چھڑا لینے دینا۔
25 اور اگر تمہارا بھائی مفلس ہو جائے اور اپنی ملکیت کا کچھ حصہ بیچ ڈالے تو جو اسکا سب سے قریبی رشتہ دار ہے وہ آکر اسکو جسے اسکے بھائی نے بیچ ڈالا ہے چھڑا لے۔
26 اور اگر اس آدمی کا کوئی نہ ہو جو اسے چھڑائے اور وہ خود مالدار ہو جائے اور اسکے چھڑانے کے لئے اسکے پاس کافی ہو۔
27 تو وہ فروخت کے بعد کے برسوں کو لنگر باقی دام اسکو جسکے ہاتھ زمین بیچی ہے پھیردے۔تب وہ پھر اپنی ملکیت کا مالک ہو جائے۔
28 لیکن اگر اس میں اتنا مقدورنہ ہو کہ اپنی زمین واپس کرالے تو جو کچھ اسس نے بیچ ڈالا ہے وہ سال یوبلی تک خریدار کے ہاتھ میں رہے اور سال یوبلی میں چھوٹ جائے۔تب یہ آدمی اپنی ملکیت کا پھر مالک ہو جائے۔
29 اور اگر کوئی شخص رہنے کے ایسے مکان کو بیچے جو کسی فصیل دار شہر میں ہو تو وہ اسکے بک جانے کے بعد سال بھر کے اندر اندر اسے چھڑا سکیگا یعنی پورے ایک سال تک وہ اسے چھڑانے کا حقدار رہیگا۔
30 اور اگر وہ پورا ایک سال کی میعاد کے اندر چھڑایا نہ جائے تو اس فصیل دار شہر کے مکان پر خریدار کا نسل در نسل دائمہ قبضہ ہو جائے اور وہ سال یوبلی میں بھی نہ چھوٹے۔
31 لیکن جن دیہات کے گرد کوئی فصیل نہیں ان کے مکانوں کا حساب ملک کے کھیتوں کی طرح ہوگا۔وہ چھڑائے بھی جا سکینگے اور سال یوبلی میں وہ چھوٹ بھی جایئنگے۔
32 تو بھی لاویوں کے جو شہر ہیں لاوی اپنی ملکیت کے شہروں کے مکانوں کو چاہے کسی وقت چھڑالیں۔
33 اور اگر کوئی دوسرا لاوی انکو چھڑا لے تو وہ مکان جو بیچا گیا اورع اسکی ملکیت کا شہر دونوں سال یوبلی میں چھوٹ جائیں کیونکہ جو مکان لاویوں کے شہروں میں ہیں وہی بنی اسرائیل کے درمیان لاویوں کی ملکیت ہیں۔
34 پر انکے شہروں کی نواحی کے کھیت نہیں بک سکتے کیونکہ وہ انکی دائمی ملکیت ہیں۔
35 اور اگر تیرا کوئی بھائی مفلس ہو جائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو تو اسے سنبھالنا۔وہ پردیسی اور مسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے۔
36 تو اس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے۔
37 تو اپنا روپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا۔
38 میں خداوند تمہارا خدا ہوں جو تمکو اسی لئے ملک مصر سے نکالکر لایا کہ ملک کنعان تمکو دوں اور تمہارا خدا ٹھہروں۔
39 اور اگر تیرا کوئی بھائی تیرے سامنے ایسا مفلس ہو جائے کہ اپنے کو تیرے ہاتھ بیچ ڈالے تو تو اس سے غلام کی مانند خدمت نہ لینا۔
40 بلکہ وہ مزدور اور مسافر کی مانند تیرے ساتھ رہے اور سال یوبلی تک تیری خدمت کرے۔
41 اسکے بعد وہبال بچوں سمیت تیرے پاسسے چلا جائے اور اپنے گھرانے کے پاس اور اپنے باپ دادا کی ملکیت کی جگہ کو لوٹ جائے۔
42 اسلئے کہ وہ میرے خادم ہیں جنکو میں ملک مصر سے نکالکر لایا ہوں۔وہ غلاموں کی طرح بیچے نہ جائیں۔
43 تو ان پر سختی سے حکمرانی نہ کرنا بلکہ اپنے خدا سے ڈرتے رہنا۔
44 اور تیرے جو غلام اور تیری جو لونڈیاں ہوں وہ ان قوموں میں سے ہوں جو تمہارے چوگرد رہتی ہیں۔ان ہی میں سے تم غلام اور لونڈیاں خریدا کرنا۔
45 ماسوا انکے ان پردیسیوں کے لڑکے بالوں میں سے بھی جو تم میں بودباش کرتے ہیں اور انکے گھرانوں میں سے جو تمہارے ملک میں پیدا ہوئے اور تمہارے ساتھ ہیں تم خریدا کرنا اور وہ تمہاری ہی ملکیت ہونگے۔
46 اور تم انکو میراث کے طور پر اپنی اولاد کے نام کردینا کہ وہ انکی موروثی ملکیت ہوں۔ان میں سے تم ہمیشہ اپنے لئے غلام لیاکرنا لیکن بنی اسائیل جو تمہارے بھائی ہیں ان میں سے کسی پر تم سختی سے حکمرانی نہ کرنا۔
47 اور اگر کوئی پردیسی یا مسافر جو تیرے ساتھ ہو دولتمند ہو جائے اور تیرا بھائی اسکے سامنے مفلس ہو کر اپنے آپ کو اس پردیسی یا مسافر یا پردیسی کے خاندان کے کسی آدمی کے ہاتھ بیچ ڈالے۔
48 تو بک جانے کے بعد وہ چھڑایا جا سکتا ہے۔اسکے بھایئوں میں سے کوئی اسے چھڑا سکتا ہے۔
49 یا اسکا چچا یا تاؤ یا اسکے چچا یا تاؤ کا بیٹا یا اسکے خاندان کا کوئی اور آدمی جو اسکا قریبی رشتہ دار ہو وہ اسکو چھڑا سکتا ہے یا اگر وہ مالدار ہو جائے تو وہ اپنا فدیہ دیکر چھوٹ سکتا ہے۔
50 وہ اپنے خریدار کے ساتھ اپنے کو فروخت کردینے کے سال سے لیکر یوبلی تک حساب کرے اور اسکا حساب مزدور کے ایام کی طرح اسکے ساتھ ہوگا۔
51 اگر یوبلی کے ابھی بہت سے برس باقی ہوں تو جتنے روپوں میں وہ خریدا گیا تھا ان میں سے اپنے چھوٹنے کی قیمت اتنے ہی برسوں کے حساب کے مطابق پھیردے۔
52 اور اگر سال یوبلی کے تھوڑے سے برس رہگئے ہوں تو اسکے ساتھ حساب کرے اور اپنے چھوٹنے کی قیمت اتنے ہی برسوں کے مطابق اسے پھیردے۔
53 اور وہ اس مزدور کی طرح اپنے آقا کے ساتھ رہے جسکی اجرت سال بسال ٹھہرائی جاتی ہو اور اسکا آقا اس پر تمہارے سامنے سختی سے حکومت نہ کرنے پائے۔
54 اور اگر وہ ان طریقوں سے چھڑایا نہ جائے تو سال یوبلی میں بال بچوں سمیت چھوٹ جائے۔
55 کیونکہ بنی اسرائیل میرے لئے خادم ہیں۔وہ میرے خادم ہیں جنکو میں ملک مصر سے نکالکر لایا ہوں ۔میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔


باب 26

1 تم اپنے لئے بت نہ بنانا اور نہ کوئی تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لئے کھڑی کرنا اور نہ اپنے ملک میں کوئی رشتہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو اسلئے کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
2 تم میرے سبتوں کو ماننا اور میرے مقدس کی تعظیم کرنا۔میں خداوند ہوں۔
3 اگر تم میری شریعت پر چلو اور میرے حکموں کو مانواور ان پر عمل کرو۔
4 تو میں تمہارے لئے بروقت مینہ برساؤنگا اور زمین سے اناج پیدا ہوگا اور میدان کے درخت پھلینگے۔
5 یہاں تک کہ انگور جمع کرنے کے وقت تک تم داوتے رہوگے اور جوتنے بونے کے وقت تک انگور جمع کرو گے اورپیٹ بھر اپنی روٹی کھایا کروگے اور چین سے اپنے ملک میں بسے رہو گے۔
6 اور میں ملک میں امن بخشونگا اور تم سوؤ گے اور تمکو کوئی نہیں ڈرائیگا اور میں برے درندوں کو ملک سے نیست کردونگا اور تلوار تمہارے ملک میں نہیں چلیگی ۔
7 اور تم اپنے دشمنوں کا چیچھا کرو گے اور وہ تمہارے آگے آگے تلوار سے مارے جائینگے۔
8 اور تمہارے پانچ آدمی سو کو رگیدینگےاور تمہارے سو آدمی دس ہزار کو کھدیڑ دینگے اور تمہارے دشمن تلوار سے تمہارے آگے آگے مارے جائینگے۔
9 اور میں تم پر نظر عنایت رکھونگا اور تمکو برومند کرونگا اور بڑھاؤنگا اور جو میرا عہد تمہارے ساتھ ہے اسے پورا کرونگا۔
10 اور تم عرصہ کا ذخیرہ کیا ہوا پرانا اناج کھاؤ گے اور نئے کے سبب سے پرانے کو نکال باہر کروگے۔
11 اور میں اپنا مسکن تمہارے درمیان قائم رکھونگا اور میری روح تم سے نفرت نہ کریگی۔
12 اور میں تمہارے درمیان چلا پھرا کرونگا اور تمہارا خدا ہونگا اور تم میری قوم ہوگے۔
13 میں خداوند تمہارا خدا ہوں جو تمکو ملک مصر سے اسی ل۴ے نکالکر لے آیا کہ تم انکے غلام نہ رہو اور میں نے تمہارے جوئے کی چوبیں توڑ ڈالی ہیں اور تمکو سیدھا کھڑا کرکے چلایا۔
14 لیکن اگر تم میری نہ سنو اور ان سب حکموں پر عمل نہ کرو۔
15 اور میری شریعت کو ترک کرو اور تمہاری روحوں کو میرے فیصلوں سے نفرت ہو اور تم میرے سب حکموں پر عمل نہ کرو بلکہ میرے عہد کو توڑو۔
16 تو میں بھی تمہارے ساتھ اس طرح پیش آؤنگا کہ دہشت اور تپ دق اور بخار کو تم پر مقرر کردونگا جو تمہاری آنکھوں کو چوپٹ کردینگے اور تمہاری جان کو گھلاڈالینگے اور تمہاری بیج بونا فضول ہوگا کیونکہ تمہارے دشمن اسکی فصل کھائینگے۔
17 اور میں خود بھی تمہارا مخالف ہو جاؤنگا اور تم اپنے دشمنوں کے آگے شکست کگھاوگے اور جنکو تم سے عداوت ہے وہی تم پر حکمرانی کرینگے اور جب کوئی تمکو رگیدتا بھی نہ ہوگا تن بھی تم بھاگو گے۔
18 اور اگر اتنی باتوں پر بھی تم میری نہ سنو تو میں تمہارے گناہوں کے باعث تمکو سات گنی سزا اور دونگا۔
19 اور میں تمہاری شہزوری کے فخر کو توڑڈالونگا اور تمہارے لئے آسمان کو لوہے کی طرح اور زمین کو پیتل کی مانند کردونگا۔
20 اور تمہاری قوت بے فائدہ صرف ہوگی کیونکہ تمہاری زمین سے کچھ پیدا نہ ہوگا اور میدان کے درخت پھلنے ہی کے نہیں۔
21 اور اگر تمہارا چلن میرے خلاف ہی رہے اور تم میرا کہا نہ مانو تو میں تمہارے گناہوں کے موافق تمہارے اوپر اور سات گنی بلائیں لاؤنگا۔
22 جنگلی درندے تمہارے درمیان چھوڑ دونگا جو تمکو بے اوکلاد کردینگے اور تمہارے چوپایوں کو نیست کرینگے اور تمہارا شمار گھٹادینگے اور تمہاری سٹکیں سونی پڑجائینگی۔
23 اور اگر ان باتوں پر بھی تم میرے لئے نہ سدھرو بکہ میرے خلاف ہی چلتے رہو۔
24 تو میں بھی تمہارے خلاف چلونگا اور میں آپ ہی تمہارے گناہوں کے لئے تمکو اور سات گنا مارونگا۔
25 اور تم پر ایک ایسی تلوار چلواؤنگا جو عہد شکنی کا پورا پورا انتقام لے لیگی اور جب تم اپنے شہروں کے اندر جا جا کر اکٹھے ہو جاؤ تو میں وبا کو تمہارے درمیان بھیجونگا اور تم غنیم کے ہاتھ میں سونپ دئے جاؤگے۔
26 اور جب میں تمہاری روٹی کا سلسلہ توڑ دونگا تو دس عورتیں ایک ہی تنور میں تمہاری روٹی پکائینگی اور تمہاری ان روٹیوں کو تول تولکر دیتی جائینگی اور تم کھاتے جاؤگے پر سیر نہ ہوگے۔
27 اور اگر تم ان سب باتوں پر بھی میری نہ سنو اور میرے خلاف ہی چلتے رہو۔
28 تو میں اپنے غضب میں تمہارے بر خلاف چلونگا اور تمہارے گناہوں کے باعث تمکو سات گنی سزا بھی دونگا۔
29 اور تمکو اپنے بیٹوں کا گوشت اور اپنی بیٹیوں کا گوشت کھانا پڑیگا۔
30 اور میں تمہاری پرستش کے بلند مقاموں کو ڈھادونگا اور تمہاری سورج کی مورتوں کا کاٹ ڈالونگا اور تمہاری لاشیں تمہارے بتوں پر ڈال دونگا اور میری روح کو تم سے نفرت ہو جائیگی۔
31 اور میں تمہارے شہروں کو ویران کر ڈالونگا اور تمہارے مقدسوں کو اجاڑ بنا دونگا اور تنمہاری خوشبوی شیرین کی لپٹ کو میں سونگھنے کا بھی نہیں۔
32 اور میں ملک کو سونا کردونگا اور تمہارے دشمن جو وہاں رہتے ہیں اس بات سے حیران ہونگے۔
33 اور میں تمکو غیر قوموں میں پراگندہ کردونگا اور تمہارے پیچھے پیچے تلوار کھینچےرہونگا اور تمہارا ملک سونا ہو جائیگا اور تمہارے شہرویرانہ بن جائینگے۔
34 اور یہ زمین جب تک ویران رہیگی اور تم دشمنوں کے ملک میں ہوگے تب تک وہ اپنے سبت منائیگی۔تب ہی اس زمین کو آرام بھی ملیگا اور وہ اپنے سب بھی منانے پائیگی۔
35 یہ جب تک ویران رہیگی تب ہی تک آرام بھی کریگی جو اسے کبھی تمہارے سبتوں میں جب تم اس میں رہتے تھے نصیب نہیں ہوا تھا۔
36 اور جو تم میں سے بچ جائینگے اور اپنے دشمنوں کے ملکوں میں ہونگے انکے دل کے اندر میں بے ہمتی پیدا کردونگا اور اڑتی ہوئی پتی کی آواز انکو کھدیڑیگی اور وہ ایسے بھاگینگے جیسے کوئی تلوار سے بھاگتا ہو اور حالانکہ کوئی پیچھا بھی نہ کرتا ہوگا تو بھی وہ گر گر پڑینگے۔
37 اور وہ تلوار کے خوف سے ایک دوسرے سے ٹکا ٹکرا جائینگے باوجودیکہ کوئی کھدیڑتا نہ ہوگا اور تمکو اپنے دشمنوں کے مقابلہ کی تاب نہ ہوگی۔
38 اور تم غیر قوموں کے درمیان پراگندہ ہو کر ہلاک ہو جاؤ گے اور تمہارے دشمنوں کی زمین تمکو کھاجائیگی۔
39 اور تم میں سے جو باقی بچینگے وہ اپنی بدکاری کے سبب سے تمہارے دشمنوں کے ملکوں میں گھلتے رہینگے اور اپنے باپ دادا کی بدکاری کے سبب سے بھی وہ ان ہی کی طرح گھلتے جائینگے۔
40 تب وہ اپنی اور اپنے باپ دادا کی اس بدکاری کا اقرار کرینگے کہ انہوں نے مجھ سے خلاف ورزی کرکے میری حکم عدولی کی اور یہ بھی مان لینگے کہ چونکہ وہ میرے خلاف چلے تھے۔
41 اسلئے میں بھی انکا مخالف ہوا اور انکو انکے دشمنوں کے ملک میں لوچھوڑا۔اگر اس وقت انکا نامختون دل عاجز بن جائے اور وہ اپنی بدکاری کی سزا کو منظور کریں۔
42 تب میں اپنا عہد جو یعقوب کے ساتھ تھا یاد کرونگا اور جو عہد میں نے اضحاق کے ساتھ اور جو عہد میں نے ابرہام کے ساتھ باندھا تھا انکو بھی یاد کرونگا اور اس ملک کو یاد کرونگا۔
43 اور وہ امین بھی ان سے چھوٹ کر جب تک انکی غیر حاضری میں سونی پڑی رہیگی تب تک اپنے سبتوں کو منائیگی اور وہ اپنی بدکاری کی سزا کومنظور کرلینگے۔اسی سبب سے کہ انہوں نے میرے حکموں کو ترک کیا تھا اور انکی روحوں کو میری شریعت سے نفرت ہوگئی تھی۔
44 اس پر بھی جب وہ اپنے دشمنوں کے ملک میں ہونگے تو میں انکو ایسا ترک نہیں کرونگا اور نہ مجھے ان سے ایسی نفرت ہوگی کہ میں انکو بالکل فنا کردوں اور میرا جو عہد انکے ساتھ ہے اسے توڑدوں کیونکہ میںخداوند انکا خدا ہوں۔
45 بلکہ میں انکی خاطر انکے باپ دادا کے عہد کو یاد کرونگا جنکو میں غیر قوموں کی آنکھوں کے سامنے ملک مصر سے نکالکر لایا تاکہ میں ابنکا خدا ٹھہروں ۔میں خداوند ہوں۔
46 یہ وہ شریعت اور احکام اور قوانین ہیں جو خداوند نے کوہ سینا پر اپنے اور بنی اسرائیل کے درمیان موسی کی معرفت مقرر کئے۔


باب 27

1 پھر خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب کوئی شخص اپنی منت پوری کرنے لگے تو منت کے آدمی تیرے قیمت ٹھہرانے کے موافق خداوند کے ہونگے۔
3 سو بیس برس کی عمر سے لیکر ساٹھ برس کی عمر تک کے مرد کے لئے تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت مقدس کی مثقال کے حساب سے چاندی کی پچاس مثقال ہوں۔
4 اور اگر وہ عورت ہو تو تیری ٹھہرائی قیمت تیس مثقال ہوں۔
5 اور اگر پانچ برس سے لیکر بیس مثقال کی عمر ہو تو تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت مرد کے لئے بیس مثقال اور عورت کے لئے دس مثقال ہوں۔
6 پر اگر عمر ایک مہینے سے لیکر پانچ برس تک کی ہو تو لڑکے کے لئے چاندی کی پانچ مثقال اور لڑکی کے لئے چاندی کی تین مثقال ٹھہرائی جائیں۔
7 اور اگر ساٹھ برس سے لیکر اوپر اوپر کی عمر ہو تو مرد کے لئے پندرہ مثقال اور عورت کے لئے دس مثقال مقرر ہوں۔
8 پر اگر کوئی تیرے اندازہ کی نسبت کم مقدار رکھتا ہو تو وہ کاہن کے سامنے حاضر کیا جائے اور کاہن اسکی قیمت ٹھہرائے یعنی جس شخص نے منت مانی ہے اسکی جیسی حیثت ہو ویسی ہی قیمت کاہن اسکے لئے ٹھہرائے۔
9 اور اگر وہ منت کسی ایسے جانور کی ہے جسکی قربانی لوگ خداوند کے حضور چڑھایا کرتے ہیں تو جو جانور کوئی خداوند کی نذر کرے وہ پاک ٹھہریگا۔
10 وہ اسے پھر کسی طرح نہ بدلے۔نہ تو اچھے کے عوض برادے اور نہ برے کے عوض اچھا دے اور اگر کسی حال میں ایک جانور کے بدلے دوسرا جانور دے تو وہ اور اسکا بدل دونوں پاک ٹھہرینگے۔
11 اور اگر وہ کوئی ناپاک جانور ہو جسکی قربانی خداوند کت حضور نہیں گذرانتے تو وہ اسے کاہن کے سامنے کھڑا کرے۔
12 اور کخواہ وہ اچھا ہو یا برا کاہن اسکی قیمت ٹھہرئے۔اور اے کاہن !جو کچھ تو اسکا دام ٹھہرائیگا وہی رہیگا۔
13 اور اگر وہ چاہے کہ اسکا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو جو قیمت تو نے ٹھہرائی ہے اس میںاسکا پانچواں حصہ وہ اور ملا کر دے۔
14 اور اگر کوئی اپنے گھر مقدس قرار دے تاکہ وہ خداوند کے لئے پاک ہو تو خواہ وہ اچھا ہو یا برا کاہن اسکی قیمت ٹھہرائے اور جو کچھ وہ ٹھہرائے وہی اسکی قیمت رہیگی۔
15 اور جس نے اس گھر کو مقدس قرار دیا ہے اگر وہ چاہے کہ گھر کا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت میں اسکا پانچواں حصہ اور ملا کر تب وہ گھر اسی کا رہیگا۔
16 اور اگر کوئی شخص اپنے موروثی کھیت کا کوئی حصہ خداوند کے لئے مقدس قرار دے تو تو قیمت کا اندازہ کرتے وقت یہدیکھنا کہ اس میں کتنا بیج بویا جائیگا۔
17 اگر کوئی سال یوبلی سے اپنا کھیت مقدس قرار دے تو اسکی قیمت جو تو ٹھہرائے وہی رہیگی۔
18 پر اگر وہ سال یوبلی کے بعد اپنے کھیت کو مودس قرار دے تو جتنے برس دوسرے سال یوبلی کے باقی ہوں ان ہی کے مطابق کاہن اسکے لئے روپے کا حساب کرے اور جتنا حساب میں آئے اتنا تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت سے کم کیا جائے۔
19 اور اگر وہ جس نے اس کھیت کو مقدس قرار دیا ہے یہ چاہے کہ اسکا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو وہ تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا پانچواں حصہ اسکے ساتھ اور ملا کر دے تو وہ کھیت اسی کا رہیگا۔
20 اور اگر وہ اس کھیت کا فدیہ دیکر اسے نہ چھڑائے یا کسی دوسرے شخص کے ہاتھ اسے بیچ دے تو پھر وہ کھیت کبھی نہ چھڑایا جائے۔
21 بلکہ وہ کھیت جب سال یوبلی میں چھوٹے تو وقف کئے ہوئے کھیت کی طرح وہ خداوند کے لئے مقدس ہوگا اور کاہن کی ملکیت ٹھہریگا۔
22 اور اگر کوئی شخص کسی خریدے ہوئے کھیت کو جو اسکا موروثی نہیں خداوند کے لئے مقدس قرار دے۔
23 تو کاہن جتنے برس دوسرے سال یوبلی کے باقی ہوں۔ انکے مطابق تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا حساب اسکے لئے کرے اور وہ اسی دن تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کو خداوند کے لئے مقدس جانکر دے دے۔
24 اور سال یوبلی میں وہ کھیت اسی کو واپس ہو جائے جس سے وہ خریدا گیا تھا اور جسکی وہ ملکیت ہے۔
25 اور تیرے سارے قیممت کے اندازے مقدس کی مثقال کے حساب سے ہوں اور ایک مثقال بیس جیراہ کا ہو۔
26 پر فقط چوپایوں کے پہلوٹھوں کو جو پہلوٹھے ہونے کی وجہ سے خداوند کے ٹھہرچکے ہیں کوئی شخص مقدس قرار نہ دے خوار وہ بیل ہو یا بھیڑ بکری۔وہ خداوند ہی کا ہے۔
27 پر اگر وہ کسی ناپاک جانور کا پہلوٹھا ہو تو وہ شخص تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا پانچواں حسہ قیمت میں اور ملا کر اسکا فدیہ دے اور اسے چھڑائے اور اگر اسکا فدیہ نہ دیا جائے تو وہ تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت پر بیچا جائے۔
28 تو بھی کوئی مخصوص کی ہوئی چیز جسے کوئی شخص اپنے سارے مال میں سے خداوند کے لئے مخصوص کرے خواہ وہ اسکا آدمی یا جانور یا موروثی زمین ہو بیچی نہ جائے اور نہ اسکا فدیہ دیا جائے،ہر ایک مخصوص کی ہوئی چیز خداوند کے لئے نہایت پاک ہے۔
29 اگر آدمیوں میں سے کوئی مخصوص کیا جائے تو اسکا فدیہ نہ دیا جائے۔وہ ضرور جان سے مارا جائے۔
30 اور زمین کی پیداوار کی ساری دہ یکی خواہ وہ زمین کے بیج کی یا درخت کے پھل کی ہو خداوند کی ہے اور خداوند کے لئے پاک ہے۔
31 اور اگر کوئی اپنی دہ یکی میں سے کچھ چھڑانا چاہے تو وہ اسکا پانچواں حصہ اس میں اور ملاکر اسے چھڑائے۔
32 اور گائے بیل اور بھیڑ بکری یا جو جانور چرواہے کی لاٹھی کے نیچے سے گذرتا ہو انکی دہیکی یعنی دس پیچھے ایک ایک جانور خداوند کے لئے پاک ٹھہرے۔
33 کوئی اسکی دیکھ بھال نہ کرے کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے اور نہ اسے بدلے اور اگر کہیں کوئی اسے بدلے تو وہ اصل اور بدل دونوں کے دونوں مقدس ٹھہریں اور اسکا فدیہ بھی نہ دیا جائے۔
34 جو احکام خداوند نے کوہ سینا پر بنی اسرائیل کے لئے موسی کو دئے وہ یہی ہیں