گنتی

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36


باب 1

1 بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نکل آنے کے دوسرے برس کے دوسرے مہینے کی پہلی تاریخ کو کوہ سینا کے بیابا ن میں خداوند نے خیمہ اجتماع میں موسی ٰ سے کہا کہ
2 تم ایک ایک مرد کا نام لے لے کر گنو اور انکے ناموں کی تعداد سے بنی اسرائیل کی ساری جماعت کی مردم شماری کا حساب انکے قبیلوں اور آبائی خاندانوں کے مطابق کرو
3 بیس برس اوراس سے اوپر اوپر کی عمر کے جنتے اسرائیلی جنگ کرنے کے قابل ہوں ان سبھوں کو الگ الگ دَلوں کو توڑ کر تو اور ہارون دونوں مل کر گن ڈالو
4 اور ہر قبیلہ سے ایک ایک آدمی جو اپنے آبائی خاندان کا سردار ہے تمہارے ساتھ ہو
5 اور جو آسمی تمہارے ساتھ ہوں گے ان کے نام یہ ہیں روبن کے قبیلہ سے الیصور بن شدیور
6 شمعون کے قبیلہ سے سلومی ایل بن صوری شدی
7 یہوداہ کے قبیلہ سے نحسون بن عمینداب
8 شکار کے قبیلہ سے نتنی ایل بن صغر
9 زبولون کے قبیلہ سے الیاب بن حیلون
10 یوسف کی نسل سے افرائیم کا بیٹا الیسع بن عمیہود اور منسی کے قبیلہ کا جملی ایل بن فدا ہصور
11 بنیمین کے قبیلہ سے ابدان بن جدعونی
12 دان کے قبیلہ سے اخیعزر بن عیشدی
13 آشر کے قبیلہ سے فجعی ایل بن عکران
14 جد کے قبیلہ سے الیاسف دعوایل
15 نفتالی کے قبیلہ سے سے اخیرع بن عینان
16 یہی اشخاص جو اپنے آبائی خاندانوں کے رئیس اور بنی اسرائیل میں ہزاروں کے سردار تھے جماعت میں سے بلائے گئے
17 اور موسیٰ اور ہارون نے جن کے نام مذکور ہیں اپنے ساتھ لیا
18 اور دوسرے مہینے کی پہلی تاریخ کو ساری جماعت کو جمع کیا اور انہوں نے بیس برسا اور اس سے اوپر اوپر کی عمر کے سب آدمیوں کا شمار کرواکے اپنے اپنے قبیلہ اور آبائی خاندان کے مطابق اپنا اپنا حسب و نسب لکھوایا
19 سو جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی اس نے انکو دشت سینا میں گنا
20 اور اسرائیل کے پہلوٹھے روبن کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
21 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ چھیالس ہزار پانچ سو تھے
22 سو شمعون کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
23 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ انسٹھ ہزارتین سو تھے
24 اور جد کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
25 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ پنتالیس ہزار چھ سو پچاس تھے
26 اور یہوداہ کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
27 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ چوہتر ہزار چھ سو تھے
28 اور اشکار کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
29 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ چون ہزار چار سو تھے۔
30 اور زبولون کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
31 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ ستاون ہزار چار سو تھے
32 اور یوسف کی اولاد یعنی افرائیم کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
33 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ چالیس ہزار پانچ سو تھے
34 اورمنسی کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
35 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وبتیس ہزاردو سو تھے
36 اور بنیمین کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
37 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ پنتیس ہزار چارسو تھے
38 اور دان کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
39 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ باسٹھ ہزار سات سو تھے
40 اورآشر کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
41 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ اکتالیس ہزار پانچ سو تھے
42 اورنفتالی کی نسل میں سے ایک ایک مرد جو بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھا وہ اپن ےگھرانے اور آبائی خاندان کے مطابق اپنے نام سے گنا گیا
43 سو روبن کے قبیلہ کے جو آدمی شمار کیے گئے وہ ترپن ہزار چارسو تھے
44 یہی وہ لوگ ہیں جو گنے گئے اور ان ہی کو موسیٰ اور ہارون اور بنی اسرائیل کے بارہ رئیسوں نے جو اپنے اپنے اؤبائی خاندان کے سردار تھے گنا
45 سو بنی اسرائیل میں سے جتنے آدمی بیس برس یا اس سے اوپر اوپر کی عمرکا اور جنگ کرنے کے قابل تھے وہ سب گنے گئے
46 اور ان سبھوں کاشمار چھ لاکھ تین ہزار پانچسو پچاس تھا
47 پر لاوی آبائی قبیلہ کے مطابق ان کے ساتھ نہیں گنے گئے
48 کیونکہ خداوند نے موسیٰ سے کہا تھا کہ
49 تو لاویوں کے قبیلہ کو نہ گننا اور نہ بنی اسرائیل کے شمار میں ان کا شمار داخل کرنا
50 بلکہ تو لاویوں کو شہادت کے مسکن اور اس کے سب ظروف اور اسکے کے سب لوازم کے متولی مقرر کرنا وہی مسکن اور اس کے سب ظروف کا اٹھایا کریں اور وہی اس میں خدمت بھی کریں اور وہی اس کے آس پاس ڈیرے بھی لگا یا کریں
51 اور جب مسکن کو آگے روانہ کرنے کا وقت ہو تو لاوی اسے اتاریں اور مسکن کو لگانے کا وقت ہو تو لاوی اسے کھڑا کریں اور اگر کوئی اجنبی شخص اس کے نزدیک آئے تو وہ جان سے مارا جائے
52 اور بنی اسرائٰیل نے اپنے اپنے دَل اور اپنی اپنی چھاؤنی اوراپنے اپنے جھنڈے کے پاس اپنے اپنے ڈیرے لگائے تاکہ بنی اسرائیل کی جماعت پر غضب نہ ہو اور لاوی ہی شہادت کے مسکن کی نگہبانی کریں
53
54 چنانچہ بنی اسرائیل نے جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی کیا ۔



باب 2

1 اور خداود نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل اپنے اپنے ڈیرے اپنے اپنے جھنڈے کے پاس اور اپنے اپنے آبائی خاندان کے علم کے ساتھ خیمہ اجتماع کے مقابل اور اس کے گردا گرد لگائیں
3 اور جو مشرق کی طرف جدھر سے سورج نکلتا ہے اپنے ڈیرے اپنے دَلوں کے مطابق لگائیں وہ یہوداہ کے جھنڈے کی چھاؤنی کے لوگ ہوں اور عمینداب کا بیٹا نحسون بنی یہوداہ کا سردار ہو
4 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ سب چوہتر ہزار تھے
5 اور ان کے قریب اشکار کے قبیلہ کے لوگ ڈیرے ڈالیں اور صغر کا بیٹا نتنی ایل بنی اشکار کا سردار ہو
6 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے چون ہزار چار سو تھے
7 پھر زبولون کا قبیلہ ہو اور حیلون کا بیٹا الیاب بنی زبولون کا سردار ہو
8 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ ستاون ہزار تھے
9 سو جتنے یہوداہ کی چھاؤنی میں اپنے اپنے دَل کے مطابق گنے گئے وہ ایک لاکھ چھیاسی ہزار چار سو تھے پہلے یہی کوچ کیا کریں
10 اور جنوب کی طرف اپنے دَلوں کے مطابق روبن کی چھاؤنی کے جھنڈے کے لوگ ہوں اور شدیور کا بیٹا الیصور بنی روبن کا سردار ہو
11 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ چھیالیس ہزار پانچ سو تھے
12 اور ان کے قریب شمعون کے قبیلہ کے لوگ ڈیرے ڈالیں اور صوری شدی کا بیٹا سلومی ایل بنی شمعون کا سردار ہو
13 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے انسٹھ ہزار تین سو تھے
14 پھر جد کا قبیلہ ہو عوایل کا بیٹا الیاسف بنی جد کا سردار ہو
15 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ پنتالیس ہزار چھ سو پچاس تھے
16سو سو جتنے یہوداہ کی چھاؤنی میں اپنے اپنے دَل کے مطابق گنے گئے وہ ایک لاکھ اکاون ہزار چار سو پچاس تھے کوچ کے وقت دوسری نوبت ان لوگوں کی ہو پھر خیمہ اجتماع مع لاویوں کی چھاؤنی کے جو اور چھاؤنیوں کے بیچ ہو گی آگے جائے اور جس طرح سے لاوی ڈیرے لگائیں اسی طر ح سے وہ اپنی اپنی جگہ اور اپنےا پنے جھنڈے کے پاس چلیں
18 اور مغرب کی طرف اپنے دَلوں کے مطابق افرائیم کی چھاؤنی کے جھنڈے کے لوگ ہوں اور عمیہود کا بیٹا الیسع بنی افرائیم کا سردار ہو
19 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ چالیس ہزار پانچ سو تھے
20 ان کے قریب منسی کا قبیلہ ہو اور فد اہصور کا بیٹا جملی ایل بنی منسی کا سردار ہو
21 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے بتیس ہزار دو سو تھے
22 پھر بنیمین کا قبیلہ ہو اور جدعونی کا بیٹا ابدان بنی بنیمین کا سردار ہو
23 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ پنتیس ہزار چار سو تھے
24 سو جتنے افرائیم کی چھاؤنی میں اپنے دَل کے مطابق گنے گئے وہ ایک لاکھ آٹھ ہزار ایک سو تھے کوچ کے وقت تیسری نوبت ان کی ہو
25 اور شمال کی طر ف اپنے دَلوں کے مطابق دان کی چھاؤنی کے جھنڈے کے لوگ ہوں اور عمیشدی کا بیٹا اخیعزر بنی دان کا سردار ہو
26 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ باسٹھ ہزار سات سو تھے
27 ان کے قریب آشر کے قبیلہ کے لوگ اپنے ڈیرے لگائیں اور عکران کا بیٹٓ فجعی ایل بن آشر کا سردار ہو
28 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ اکتالیس ہزار پانچ سو تھے
29 پھر نفتالہ کا قبیلہ ہو اور دینان کا بیٹا اخیرع بنی نفتالی کا سردار ہو
30 اور اس کے دَل کے لوگ جو شمار کیے گئے تھے وہ ترپن ہزار چار سو تھے
31 سو جتنے دان کی چھاؤنی میں گنے گئے وہ ایک لاکھ ستاون ہزار چھ سو تھے یہ لوگ اپنے اپنے جھنڈے کے پاس پاس ہو کر سب سے پیچھے کوچ کیا کریں
32 بنی اسرائیل میں سے جو لوگ اپنے آبائی خاندانوں کے مطابق گنے گئے وہ سب یہی ہیں اور سب چھاؤنیوں کے جتنے لو گ اپنے اپنے دَل کے مطابق گنے گئے وہ چھ لاکھ ترپن ہزار پانچ سو پچاس تھے ۔
33 لیکن لاوی جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا بنی اسرائیل کے ساتھ نہیں گنے گئے
34 اور بنی اسرائیل نے ایسا ہی کیا اور جو جو خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا اسی کے مطابق وہ اپنے جھنڈے کے پاس اور اپنے آبائی خاندانوں کے مطابق ا پنے گھرانے کے ساتھ ڈیرے لگاتے اور کوچ کرتے تھے۔


باب 3

1 اور جس روز خداوند نے کوہ سینا پر موسیٰ سے باتیں کیں تب ہارون اور موسیٰ کے پاس یہ اولاد تھی
2 اور ہارون کے بیٹوں کے نام یہ ہیں ند ب جو پہلوٹھا تھا اور ابیہوع اور الیعزر اور اتمر
3 ہاورن کے بیٹے کو کہانت کے لیے ممسوح ہوئے اور جنکو اس نے کہانت کی خدمت کے لیے مخصوص کیا انکے نام یہ ہیں
4 ند ب اور ابیہود تو جب انہوں نے دشت سینا میں خداوند کے حضور اوپری آگ گذرانی تب ہی خداوند کے سامنے مر گئے اور وہ بے اولاد بھی تھےاور الیعزر اورا تمر اپنے باپ ہارون کے سامنے کہانت کی خدمت کو انجام دیتے تھے
5 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
6 لاوی کے قبیلہ کو نزدیک لا کر ہارون کاہن کے آگے حاضرکر تاکہ وہ اسکی خدمت کریں
7 اور جو کچھ اس کی طرف سےاور جماعت کی طرف سے انکو سونپا جائے وہ سب کی خیمہ اجتماع کے آگے نگہبانی کریں تاکہ مسکن کی خدمت بجا لائیں
8 اور خیمہ اجتماع کے سب سامان کی اور بنی اسرائیل کی ساری امانت کی حفاظت کریں تاکہ مسکن کی خدمت بجا لائیں
9 اور تو لاویوں کو ہارون اور اسکے بیٹوں کے ہاتھ میں سپردکر بنی اسرائیل کی طرف سے وہ بالکل اسے دی دئیے گئے ہیں
10 اور ہارون اور اسکےبیٹوں کو مقرر کر اور وہ اپنی کہانت کو محفوظ رکھیں اور اگر کوئی اجنبی نزدیک آئے تو وہ جان سے مارا جائے
11 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
12 کہ دیکھ میں نے بنی اسرائیل میں سے لاویوں کو اس سبھوں کے بدلے لے لیا ہے جوا سرائیلیوں میں پہلوٹھی کے بچے تھے سو لاوی میرے ہوں
13 کیونکہ سب پہلوٹھے میرے ہیں کہ جس دن میں نے ملک مصر میں سب پہلوٹھوں کو مارا اسی دن میں نے بنی اسرائیل کے سب پہلوٹھوں کو کیا انسان کیا حیوان اپنے لیے مقدس کیا سو وہ ضرور میرے ہوں میں خداوند ہوں
14 پھر خداوند نے دشت سینا میں موسیٰ سے کہا
15 بنی لاوی کو انکے آبائی خاندانوں اور گھرانوں کے مطابق شمار کر یعنی ایک مہینے اور اس سے اوپر اوپر کے ہر لڑکے کو گننا
16 چنانچہ موسیٰ نے خداوند کے حکم کے مطابق جو اس نے اس کو دیا تھا انکو گنا
17 جیرسون اور قہات اور مراری
18 جیرسون کے بیٹوں کے نام جن سے ان کے خاندان چلے یہ ہیں لبنی اور سمعی
19 اور قہاتکے بیٹوں کے نام جن سے ان کے خاندان چلے عمرام اور اضہار اور حبرون اور عزی ایل اور موشی ہیں لاویوں کے گھرانے ان کے آبائی خاندانوں کے مطابق یہی ہیں
20
21 اور جیرسونیوں سے لبنیوں اور سمعیوں کے خاندان چلے اور یہ جیسونیوں کے خاندان ہیں
22 ان میں جتنے فرزند نرینہ ایک مہینہ اور اس سے اوپر اوپر کے تھے وہ سب گنے گئےاور ان کا شمار سات ہزار پانچ سو تھا
23 جیرسونیوں کے خاندانوں کے آدمی مسکن کے پیچھے مغرب کی طرف اپنے ڈیرے ڈالا کریں
24 اور لا ایل کا بیٹا لیاسف جیرسونیوں کے آبائی خاندانوں کا سردار ہو
25 اور خیمہ اجتماع کے جو سامان بنی جیرسون کی حفاظت میں سونپے جائیں وہ یہ ہیں مسکن اور خیمہ اور اس کا غلا ف اور خیمہ اجتماع کے دروازہ کا پردہ ۔
26 مسکن اور مذبح کے گر د کے پردے اورصحن کے دروازہ کا پردہ اوروہ سب رسیاں جو اس میں کام آتی ہیں
27 اور قہات سے عمرامیوں اور اضہاریوں اور حبرونیوں اور عزی ایلیوں کے خاندان چلے یہ قہاتیوں کے خاندان ہیں
28 انکے فرزند نرینہ ایک مہینہ اور اس کے اوپر اوپر کے آٹھ ہزار چھ سو تھے مقدِ س کی نگہبانی انکے ذمہ تھی
29 بنی قہات کے خاندانوں کے آدمی مسکن کی جنوبی سمت میں اپنے ڈیرے ڈالا کریں
30 اور عزی ایل کا بیٹا الیصفن قہاتیوں کے گھرانے کے آبائی خاندان کا سردار ہو
31 اور صندوق اور میز اور شمعدان اور دونوں مذبحے اور مقدس کے ظروط جو عبادت کے کام میں آتے ہیں اورپردے اور مقدس میں پرتنے کا سامان یہ سب ان کے ذمہ ہو
32 اور ہارون کاہن کا بیٹا الیعزر لاویوں کے سرداروں کا سردار اور مقدس کے متولیوں کا ناظر ہو۔
33 مراری سے محلیوں اور موشیوں کے خاندان چلے یہ مراریوں کے خاندان ہیں
34 ان میں جتنے فرزند نرینہ اور ایک ایک مہینہ سے اوپر اوپر کے تھے وہ چھ ہزار دو سو تھے
35 اور ابی خیل کا بیٹا صوری ایل مراریوں کے خاندان کا سردار ہو یہ لوگ مسکن کی شمالی سمت میں پنے ڈیرے ڈالا کریں
36 اور مسکن کے تختوں او ربینڈوں اور ستونوں اور خانوں اور اسکے سب آلات اور اسکی خدمت کے سب لوازم کی محافظت
37 اور صحن کے گردا گرد کے ستونوں اور اس کے خانوں اور میخوں اور رسیوں کی نگرانی بنی مراری کےذمہ ہو
38 اور مسکن کے آگے مشرق کی طرف جدھر سے سورج نکلتا ہے یعنی خیمہ اجتماع کے آگے موسیٰ اور ہارون اور اسکے بیٹے اپنے ڈیرے ڈالا کریں اور بنی اسرائیل کے بدلے مقدس کی حفاظت کیا کریں اورجو اجنبی شخص نزدیک آئے وہ جان سے مارا جائے
39 سو لاویوں میں سے جنتے ایک مہینے اورا س سے اوپر اوپر کی عمر کے تھے انکو موسیٰ اور ہارون نے خداوند نے حکم کے موافق انکے گھرانوں کے مطابق گنا گیا وہ شمار میں بائیس ہزار تھے
40 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل کے سب نرینہ پہلوٹھے ایک مہینے اور اس سے اوپر اوپر کے گن لے اور انکےناموںکا شمار لگا
41 اور بنی اسرائیل کے سب پہلوٹھوں کے عوض لاویوں اور اور بنی اسرائیل کے سب چوپایوں کے سب پہلوٹھوں کے عوض لاویوں کے چاپویوں کے پہلوٹھوں کو میرےلیےلے میں خداوند ہوں
42 چنانچہ خداوند کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کے سب پہلوٹھوں کو گنا
43 سو جتنے نرینہ پہلوٹھے ایک مہینہ اور اس سے اوپراوپر کی عمر کے گنے گئے وہ ناموں کے شمار کے مطابق بائیس ہزار دو سو تہتر تھے
44 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
45 بنی اسرائیل کے سب پہلوٹھوں کے بدلےلاویوں کو اور انکے چوپایوں کے بدلے لاویوں کے چوپایوں کو لے اور لاوی میرے ہوں میں خداوند ہوں
46 اور بنی اسرائیل کے پہلوٹھوں میں جو دو سو تہتر لاویوں کے شمار سے زیادہ ہیں انکے فدیے کے لیے
47 سو مقدس کی مثقال کے حساب سے فی کس پانچ مثقال لینا ( ایک مثقال بیس جیرا کا ہوتا ہے )
48 اور انکے فدیے کا روپیہ جو شمار میں زیادہ ہے تو ہارون اور اسکےبیٹوں کو دینا
49 سو جو ان سے جنکو لاویوں سے چھڑایا تھا شمار میں زیادہ نکلے انکے فدیہ کا روپیہ موسیٰ نے ان سے لیا
50 یہ روپیہ اس نے بنی اسرائیل کے پہلوٹھوں سے لیا سو مقدس کی مثقال کے حساب سے ایک ہزار تین سو پینسٹھ مثقالیں وصول ہوئیں
51 اور موسیٰ نے خداوند کے حکم کے مطا بق فدیہ کا روپیہ جیسا خداوند نے موسیٰ کو فرمایا تھا ہارون اور اسکے بیٹوں کودیا۔


باب 4

1 اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہاکہ
2 بنی لاوی میں سے قہاتیوں کو ان کے گھرانوں اور آبائی خاندانوں کے مطابق۔
3 تیس برس سے لے کر پچاس برس کی عمر کے جتنے خیمہ اجتماع میں کام کرنے کے لیے مقدس کی خدمت میں شامل ہیں ان سبھوں کو گنو
4 اور خیمہ اجتماع میں پاک ترین چیزوں کی نسبت بنی قہات کا یہ کام ہو گا
5 کہ جب لشکر کوچ کرے تو ہارون اور اسکے بیٹے آئیں اور بیچ کے پردہ کو اتاریں اور اس سے شہادت کے صندوق کو ڈھانکیں
6 اور اس پر تخس کی کھالوں کا ایک غلاف ڈالیں اور اوپر بالکل آسمانی رنگ کا کپڑا بچھائیں اور اس میں ا س کی چوبیں لگائیں
7 اور نذر کی روٹی کی میز پر آسمانی رنگ کا کپڑا بچھا کر اسکے اوپر طباق اور چمچے اور انڈیلنے کے کٹورے اور پیالے رکھیں اور دائمی روٹی بھی اس پر ہو
8 پھر وہ ان پر سرخ رنگ کا کپڑا بچھائیں تخس کی کھالوں کے ایک غلاف سے ڈھانکیں اور میز میں اسکی چوبیں لگا دیں
9 پھر آسمانی رنگ کا کپڑا لے کر اس سے روشنی دینے والے شمعدان کو اور اس کے چراغوں اور گلکیروں اور گلدستوں اور تیل کے سب ظروف کو جو شمعدان کے لیے کام میں آتے ہیں ڈھانکیں
10 اور اسکو اور اسکے سب ظروف کو تخس کی کھالوں کے ایک غلاف کے اندر رکھ کر اس غلاف کو چوکھٹے پر دھر دیں
11 اور زریں مذبح پر آسمانی رنگ کا کپڑا بچھائیں اور اسے تخس کی کھالوں کے ایک غلاف اے ڈھانکیں اور اسکی چوبیں اس میں لگا ئیں
12 اور سب ظرو ف کو جو مقدس کی خدمت کے کام آتے ہیں لیکر انکو آسمانی رنگ کے کپڑے میں لپیٹیں اور انکو تخس کی کھالوں کے ایک غلاف سے ڈھانک کر چوکھٹے پر دھر دیں
13 پھر وہ مذبح پر سے سب راکھ کو اٹھا کر اسکے اوپر ارغوانی رنگ کا کپڑا بچھائیں
14 اس کے سب برتن جس سے اسکی خدمت کرتے ہیں جیسے انگیٹھیاں اور سیخیں اور بیلچے اور کٹورے غرض مذبح کے سب برتن اس پر رکھیں اور اس پر تخس کی کھالوں کے ایک غلاف بچھائیں اور مذبح میں چوبیں لگائیں
15 اور جب ہارون اور اسکے بیٹے مقدس اور مقدس کی سب چیزوں کو ڈھانک چکیں تب خیمہ گاہ کے کوچ کے وقت بن قہات اس کے اٹھانے کے لیے آئیں لیکن وہ مقدس کو نہ چھوئیں تا نہ ہو کہ وہ مر جائیں خیمہ اجتماع کی یہی چیزیں بنی قہات کے اٹھا نے کی ہیں
16 اور روشنی کے تیل اور خوشبو دار بخور اور دائمی نذر کی قربانی اور مسح کرنے کے تیل اور سارے مسکن اور اسکے لوازم کی اور مقدس اور اسکے سامان کی نگہبانی ہارون کاہن کے بیٹے الیعزر کے ذمہ ہو
17 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
18 تم لاویوں میں سی قہاتیوں کے قبیلہ کے خاندانوں کو منقطع ہونے نہ دینا
19 بلکہ اس مقصود سے کہ جب وہ پاک ترین چیزوں کے پاس آئیں تو جیتے رہیں اور مر نہ جائیں تم اسن کے لیے ایسا کرنا کہ ہارون اور اس کے بیٹے اندر آ کر ان میں سے ایک ایک کا کا م اور بوجھ مقرر کردیں
20 لیکن مقدس کو دیکھنے کی خاطر دم بھر کے لیے بھی اندر نہ آنے پائیں تا نہ ہو کہ وہ مر جائیں
21 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا
22 بنی جیرسون میں سے بھی ان کے آّبائی خاندانوں اور گھرانوں کے مطابق
23 تیس بر س کی عمر سے پچاس بر س کی عمر کے جتنے خیمہ اجتماع میں کام کرنے کےلیے مقدس کی خدمت کے وقت حاضر رہتے ہیں ان سبھوں کو گن
24 جیرسونیوں کے خاندان کا کام خدمت اور بوجھ اٹھانے کا ہے
25 وہ مسکن کے پردوں کو خیمہ اجتماع اور اس کے غلاف کو اور اس کے اوپر کے غلاف کو جو تخس کی کھالوں کا ہے اور خیمہ اجتماع کے دروازہ کےپردہ کو
26 اور مسکن کے مذبح کے گردا گرد کے صحن کے پردوں کو اور صحن کے دروازہ کے پردہ کو اور انکی رسیوں کو اور خدمت کے سب ظروف کا اٹھا یا کریں اور ان چیزوں سے جو جو کام لیا جاتا ہے وہ بھی یہی لوگ کیا کریں
27 جیرسونیوں کی اولاد کا خدمت کرنے اور بوجھ اٹھانے کا سارا کا م ہارون اور اسکے بیٹوں کے حکم کے مطابق ہو اور تم ان میں سے ہر ایک کا بوجھ مقرر کر کے ان کے سپر د کرنا
28 خیمہ اجتماع میں سے بنی جیرسون کے خاندانوں کا یہی کام رہے اور وہ ہارون کاہن کے بیٹے اتمر کے ماتحت رہ کر خدمت کریں
29 اور بنی مراری میں سے ان کے آبائی خاندانوں اور گھرانوں میں کے مطابق
30 تیس برس سے لے کر پچاس برس کی عمر تک کے جتنے خیمہ اجتماع میں کام کرنے کےلیے مقدس کی خدمت کے وقت حاضر ہیں ان سبھوں کو گن
31 اور خیمہ اجتماع میں جن چیزوں کے اٹھانے کی خدمت ان کے ذمہ ہو وہ یہ ہیں مسکن کے تختے اور بینڈے اور ستون اور ستونوں کے خانے
32 اور گردا گرد صحن کے ستون اور اس کے خانے اور اسکی میخیں اور رسیاں اور ان کے سب آلات اور سارے سامان اور جو چیزیں ان کے اٹھانے کےلیے تم مقرر کرو ان میں سے ایک ایک کا نام لے کر ان کے سپرد کرو
33 بنی مراری کے خاندانوں کو جو کچھ خیمہ اجتماع میں ہارون کاہن کے بیٹے اتمر کے ماتحت کرنا ہے یہی ہے
34 چنانچہ موسیٰ اور ہارون اور جماعت کے سرداروں نے قہاتیوں کی اولاد میں سے ان کے گھرانوں اور آبائی خاندانوں کے مطابق
35 تیس برس سے لے کر پچاس برس کی عمر تک کے جتنے خیمہ اجتماع میں کام کرنے کےلیے مقدس کی خدمت کے وقت حاضر ہیں ان سبھوں کو گن لیا
36 اور ان میں سے جتنے اپنے گھرانوں کے مطابق گنے گئے وہ دو ہزار سات سو پچاس تھے
37 قہاتیوں کے خاندان میں سے جتنے خیمہ اجتماع میں خدمت کرتے تھے ان سبھوں کا شمار اتنا ہی تھا جو حکم خداوند نے موسیٰ کی معرفت دیا تھا اسکے مطابق موسیٰ اور ہارون نے ان کو گنا۔
38 اور بنی جیرسون میں سے اپنے گھرانوں اور آبائی خاندانوں کے مطابق
39 تیس برس سے لے کر پچاس برس کی عمر تک کے جتنے خیمہ اجتماع میں کام کرنے کےلیے مقدس کی خدمت میں شامل تھے وہ سب گنے گئے
40 اور ے جتنے اپنے گھرانوں کے مطابق گنے گئے وہ دو ہزار چھ سو تیس تھے
41 سو بنی جیرسون کے خاندانوں میں سے جتنے خیمہ اجتماع میں خدمت کرتے تھے اور جنکو موسیٰ اور ہارون نے خداوند کے حکم کے مطابق شمار کیا وہ اتنے ہی تھے ۔
42 اور بنی مراری میں سے اپنے گھرانوں اور آبائی خاندانوں کے مطابق
43 تیس برس سے لے کر پچاس برس کی عمر تک کے جتنے خیمہ اجتماع میں کام کرنے کےلیے مقدس کی خدمت میں شامل تھے
44 وہ سب گنے گئے جتنے ان میں سے اپنے گھرانوں کےموافق گنے گئے وہ تین ہزار دو سو تھے
45 سو خداوند کے اس حکم کے مطابق جو اس نے موسیٰ کی معرفت دیا تھا جتنوں کو موسیٰ اور ہارون نے بنی مراری کے خاندان میں سے گنا وہ یہی ہیں
46 الغرض لاویوں میں سے جنکو موسیٰ اور ہارون اور اسرائیل کے سرداروں نے ان کے گھرانوں اور آبائی خاندانوں کے مطابق گنا
47 ) تیس برس سے لے کر پچاس برس کی عمر تک کے جتنے خیمہ اجتماع میں کام کرنے اور بوجھ اٹھانے کے کام کے لیے حاضر ہوتے تھے
48 ان سبھوں کا شمار آٹح ہزار پانچ سو اسی تھا
49 وہ خداوند کے حکم کے مطابق موسیٰ کی معرفت اپنی اپنی خدمت اور بوجھ اٹھانے کے کام کے مطابق گنے گئے یوں وہ موسیٰ کی معرفت جیسا خداوند نے اس کو حکم دیا تھا گنے گئے ۔


باب 5

1 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل کو حکم دے کہ وہ ہر کوڑھی کو اور جریان کے مریض کو اور اور جو مردہ کے سبب سے ناپاک ہو اسکو لشکر گاہ سے باہر کردیں
3 ایسوں کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت تم انکو نکال کر لشکر گاہ کے باہر رکھو تاکہ وہ انکی لشکر گاہ کو جس کے درمیان میں رہتا ہوں ناپاک نہ کریں
4 چنانچہ بنی اسرائیل نے ایسا ہی کیا اور انکو نکال کر لشکر گاہ کے باہر رکھا جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی بنی اسرائیل نے کیا
5 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
6 بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی مرد یا عورت خداوند کی حکم عدولی کر کے کوئی ایسا گناہ کرے جو آدمی کرتے ہیں اور قصور وار ہوجائے
7 تو جو گناہ اس نے کیا وہ اسکا اقرار کرے اور اپنی تفصیر کے معاوضہ میں پورا دام اور اس میں اس کا پانچوں حصہ اور ملاکر اس شخص کو دے جس کا اس نے قصور کیا ہے
8 لیکن اگر اس شخص کا رشتہ دار نہ ہو جس کو تفصیر کا معاوضہ دیا جائے تو تفصیر کا جو معاوضہ خداوند کو دیا جائے وہ کاہن کا ہو علاہ کفارہ کے اس مینڈھا کے جس سے اس کا کفارہ دیا جائے
9 اورجتنی مقدس چیزیں اسرائیل اٹھا نے کی قربانی کے طور پر کاہن کے پاس لا ئیں وہ اسی کی ہوں
10 اور ہر شخص کی مقدس کی ہوئی چیزیں اسی کی ہوں اور جو چیزیں کو ئی شخص کاہن کو دے وہ بھی اسی کی ہوں
11 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل سےکہہ کہ
12 اگر کسی کی بیوی گمراہ ہو کر اس سے بے وفائی کرے
13 اور کوئی دوسرا آدمی اس عور ت کے ساتھ مباشرت کرے اور اس کے شوہر کو معلوم نہ ہو بلکہ یہ اس سے پوشیدہ رہے اور وہ ناپاک ہو گئی ہو پر نہ کوئی شاہد ہو اور نہ وہ عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہو
14 اور اسکے شوہر کے دل میں غیر ت آئے اور وہ اپنی بیوی سے غیرت کھانے لگے حالانکہ وہ ناپاک ہوئی ہو یا اسکے شوہر کے دل میں غیرت آئے اور وہ اپنی بیوی سے غیرت کھانے لگے حالانکہ وہ ناپاک نہیں ہوئی
15 تو وہ شخص اپنی بیوی کو کاہن کے پاس حاضر کرے اور اس عورت کوچڑھاوے کے لیے ایفہ دسویں حصہ کے برابر جو کا آٹا لائے پر اس پر نہ تیل ڈالے نہ لبان رکھے کیونکہ یہ نذر کی قربانی غیرت کی ہے یعنی یہ یادگاری نذر کی قربانی ہے جس سے گناہ یاد دلایا جاتا ہے
16 تب کاہن اس عورت کو نزدیک لا کر خداوند کے حضور کھڑی کرے
17 اور کاہن مٹی کے ایک باسن میں مقدس پانی لے اور مسکن کے فرش کی گرد لے کر اس پانی میں ڈالے
18 پھر کاہن عورت کو خداوند کے حضور کھڑی کرکے اس کے سر کے بال کھلوا دے اور یادگاری کی نذر کی قربانی جو غیرت کی نذرکی قربانی ہے اس کے ہاتھوں پر دھرے اور کاہن اپنے ہاتھ میں اس کڑوے پانی کو لے جو لعنت کو لاتا ہے
19 پھر کاہن اس عورت کو قسم کھلا کر کہے کہ اگر کسی شخص نے تجھ سے صحبت نہیں کی ہے تو پنے شوہر کے ہوتی ہوئی ناپاکی کی طرف مائل نہیں ہوئی تو اس کڑوے پانی کی تاثیر سے جو لعنت لا تا ہے بچی رہ
20 لیکن اگر شوہر کی ہوتی ہوئی گمراہ ہو کر ناپاک ہوگئی ہے اور تیرے شوہر کے سو ا کسی دوسرے شخص نے تجھ سے صحبت کی ہے
21 تو کاہن اس عورت کو لعنت کی قسم کھلا کر اس سے کہے کہ خداوند تجھےتیری قوم میں تیری ران کو سڑا کر اور تیرے پیٹ کو پھلا کر لعنت ار پھٹکار کا نشانہ بنائے
22 اور یہ پانی جو لعنت لاتا ہے تیری انتڑیوں میں جا کر تیرے پیٹ کو پھلائے اور تیری ران کو سڑائے اور عورت آمین آمین کہے
23 پھر کاہن ان لعنتوں کو کسی کتاب میں لکھکر ان کو اسی کڑوے پانی میں دھو ڈالے
24 اور وہ کڑوا پانی جو لعنت لاتا ہے اس عورت کو پلائے اور وہ پانی جو لعنت لاتا ہے اس عورت کے پیٹ میںجا کر کڑوا ہوجائے گا
25 اور کاہن اس عورت کے ہاتھ سے غیرت کی نذر کی قربانی کو لے کر خداوند کے حضور اسے ہلائے اور اسے مذبح کے پاس لائے ۔
26 پھر کاہن اس نذر کی قربانی میں سے یادگاری کے طور پر ایک مٹھی لے کر اسے مذبح کر جلائے بعد اس کے وہ پانی اس عورت کو پلائے
27 اور جب وہ اسے وہ پانی پلا چکے گا توایسا ہو گا کہ وہ اگر ناپاک ہوئی اور اس نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی تو وہ پانی جو لعنت کو لاتا ہے اسکے پیٹ میں جا کر کڑوا ہو جائے گا اوراس کا پیٹ پھول جائے گا اور اس کی ران سڑ جائے گی اور وہ عورت اپنی قوم میں لعنت کا نشانہ بنے گی
28 پر اگر وہ ناپاک نہیں ہوئے بلکہ پاک ہے تو وہ بے الزام ٹھہرے گی اور اس سے اولاد ہوگی
29 غیرت کے بارے یہی شرع ہے خواہ عورت اپنے شوہر کی ہوتی ہوئی گمراہ ہو کر ناپاک ہو جائے یا مرد پر غیرت سوار ہو
30 اور وہ اپنی بیوی سے غیرت کھانے لگے ایسے حال میں وہ اس عورت کو خداوند کے آگے کھڑی کرے اور کاہن اس پر یہ ساری شریعت عمل میں لائے
31 تب مرد گناہ سے بر ے ٹھہرے گا اور اس عورت کا گناہ اسی کے سر لگیگا۔


باب 6

1 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب کوئی مرد یا عورت نذیر کی منت یعنی اپنے آپ کو خداوند کے لیے الگ رکنھنے کی خاص منت مانے
3 تو وہ مے اور شراب سے پر ہیز کرے اور مے کا یا شراب کا سرکہ نہ پئے اور نہ انگور کا رس پئے اور نہ تازہ یا خشک انگو ر کھائے
4 اوراپنی نذرات کے تما م ایام میں بیج سے لے کر چھلکے تک جو کچھ انگور کے درخت میں پیدا ہو اسے نہ کھائے
5 اور اسکی نذرات کی منت کےدنوں میں اس کے سر پر استرا نہ پھیرا جائے جب تک وہ مدت جس کے لیے وہ خداوند کا نذیر بنا ہے پوری نہ ہو تب تک وہ مقدس رہے اور اپنے سر کی بالوں کو بڑھنے دے
6 ان تمام ایام میں جب وہ خداوند کا نذیر ہو وہ کسی لاش کے پاس نہ جائے
7 وہ اپنے ماں یا باپ یا بھائی یا بہن کی خاطر بھی جب وہ مریں اپنے آپ کو نجس نہ کرے کیونکہ اس کی نذرات جوخدا کے لیے اسکے سر پر ہے
8 وہ اپنی نذرات کی مدت تک خداوند کے لیے مقدس ہے
9 اور اگر کوئی آدمی ناگہان اسے پاس ہی مر جائے اور اسکی نذرات کے سر کو ناپاک کردے تو وہ اپنے پاک ہونے کے د ن اپنا سر منڈوائے یعنی ساتوں دن سر منڈوائے
10 اور آٹھویں روز دو قمریا ں یا کبوتر کے دو بچے خیمہ اجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائے
11 اور کاہن ایک خطا کی قربانی کے لیے اور دوسرے کو سوختنی قربانی کے لیے گذرانے اور اسکے لیے کفارہ دے کیونکہ وہ مردہ کے سبب سے گنہگار ٹھہرا ہے اور اس کے سر کو اسی دن مقدس کرے
12 پھر وہ اپنی نذرات کی مدت کو خداوند کے لیے مقدس کرے اور ایک یکسالہ نر برہ جرم کی قربانی کے لیے لائے لیکن جو دن گذر گئے وہ گنے نہیں جائیں گے کیونکہ اس کی نذرات ناپاک ہوگئی
13 اور نزیر کے لیے شرع یہ ہے کہ جب اسکی نذرات کے د ن پورے ہو جائیں تو وہ خیمہ اجتماع کے دروازہ پر حاضر کیا جا ئے
14 اور خداوند کے حضور اپنا چڑھاوا چڑھائے یعنی سوختنی قربانی کے لیے ایک بے عیب یکسالہ نر برہ اور خطا کی قربانی کے لیے ایک بے عیب ماد ہ برہ اور سلامتی کی قربانی کے لیے ایک بے عیب مینڈھا
15 اور بے خمیری روٹیوں کی ایک ٹوکری اور تیل ملے ہوئے میدے کے کلچے اور تیل چپڑی ہوئی بے خمیری روٹیاں اور انکی نذر کی قربانیاں اور تپاون لائے
16 اور کاہن ان کو خداوند کے حضور لا کر اس کی طرف سے خطا کی قربانی اور سوختنی قربانی گذرانے
17 اور اس مینڈھ کو بے خمیری روٹیوں کی ٹوکری کے ساتھ خداوند کے حضور سلامتی کی قربانی کے طور پر گذرانے اور کاہن اسکی نذرکی قربانی اور تپاون بھی چڑھائے ۔
18 پھر وہ نذیر خیمہ اجتماع کے دروازہ پر اپنی نذرات کے بال منڈوائے اور نذرات کے بالوں کواس آگ میں ڈال دے جو سلامتی کی قربانی کے نیچے ہو
19 اور جب نذیر اپنی نذرات کے بال منڈوا چکے تو کاہن اس کے مینڈھے کا ابالا ہوا شانہ اورا یک بے خمیری روٹی میں سے اور ایک بے خمیری کلچہ لے کر اس نذیرکے ہاتھوں پر ان کو دھرے
20 پھر خداوند ان کو ہلانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور ہلائے۔ ہلانے کی قربانی کے سینہ اور اٹھانے کی قربانی کے شانہ کے ساتھ یہ بھی کاہن کے لیے مقدس ہیں اس کے بعد نذیر مے پی سکے گا
21 نذیر جو منت مانے اور جو چڑھاوا اپنی نذرات کے لیے خداوند کے حضور لائے علاوہ اس کے جسکا اسے مقدور ہو ان سبھوں کے بارے میں شرع یہ ہے جیسی منت اس نے مانی ہو ویسا ہی اسکو نذرات کی شرع کے مطابق عمل کرنا پڑیگا
22 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
23 ہارو ن اور اس کے بیٹوں سے کہہ کہ وہ بنی اسرائیل کو اس طرح دعا دیا کرنا۔ تم ان سے کہنا
24 خداوند تجھے برکت دے اور محفوظ رکھے
25 خداوند اپنا چہرہ تجھ پر جلوہ گر فرمائے اور تجھ پر مہربان رہے
26 خداوند اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کرے اور تجھے سلامتی بخشے
27 اس طرح وہ میرے نام کو بنی اسرائیل پر رکھیں گے اور میں انکو برکت بخشوں گا۔


باب 7

1 اور جس دن موسیٰ مسکن کھڑا کر کے فارغ ہوا اور اسکو اور اس کے سب سامان کو مسح کیا اور مقدس کیا اور مذبح اور اسکے کے سب ظروف کو بھی مسح کیا اور مقدس کیا
2 تو اسرائیلی رئیس جو اپنے آبائی خاندانوں کے سردار اور اور قبیلوں کے رئیس اور شمار کئے ہوؤں کےاوپر مقرر تھے نذرانہ لائے
3 وہ اپنا ہدیہ چھ پردہ دار گاڑیاں اور بارہ بیل خداوند کے حضور لائے دو دو رئیسوں کی طرف سے ایک ایک گاڑی اور ہر رئیس کی طر ف سے ایک بیل تھا انکو انہوں نے مسکن کے سامنے حاضر کیا
4 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
5 تو ان سے لے تاکہ وہ خیمہ اجتماع کے کام آئیں اور تو لاویوں میں ہر شخص کی خدمت کے مطابق ان میں تقسیم کردے
6 سو موسی ٰ نے وہ گاڑیاں اور بیل لے کر لاویوں کو دے دیا
7 بنی جیرسون کو اس نے انکی خدمت کے لحاظ سے دو گاڑیاں اور چار بیل دئیے
8 اور چار گاڑیاں اور آٹھ بیل اس نے بنی مراری کو ان کی خدمت کے لحاظ سے ہاورن کاہن کے بیٹے اتمر کے ماتحت کر دیے
9 لیکن بنی قہات کو اس نے کوئی گاڑی نہیں دی کیونکہ ان کے ذمے مقدس کی خدمت تھی وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھاتے تھے
10 اور جس دن وہ مذبح مسح کیا گیا اس دن وہ رئیس اس کی تقدیس کے لیے ہدیے لائے اور اپنے ہدیوں کو وہ رئیس مذبح کے آگےلے جانے لگے
11 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ مذبح کی تقدیس کے لیے ایک ایک رئیس ایک ایک دن اپنا ہدیہ گذرانے
12 سو پہلے یہوداہ کے قبیلے میں سے عمینداب کے بیٹے نحسون نے اپنا ہدیہ گذرانا
13 اور اسکا ہدیہ یہ تھا مقدس کی مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نظر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہوا میدہ بھرا تھا
14 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
15 سو ختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا اور ایک نر یکسالہ برہ
16 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
17 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ نر یکسالہ برے۔ یہ عمینداب کے بیٹے نحسون کا ہدیہ تھا ) سو پہلے یہوداہ کے قبیلے میں سے عمینداب کے بیٹے نحسون نے اپنا ہدیہ گذرانا
18 دوسرے دن صغر کے بیٹے نتنی ایل نےجو اشکار کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
19 اور اسکا ہدیہ یہ تھا مقدس کی مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نظر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہوا میدہ بھرا تھا
20 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
21 سو ختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا اور ایک نر یکسالہ برہ
22 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
23 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ نر یکسالہ برے۔ دن صغر کے بیٹے نتنی ایل کا ہدیہ تھا۔
24 اور تیسرے دن حیلون کے بیٹے الیاب نے جو زبولون کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
25 اور اسکا ہدیہ یہ تھا مقدس کی مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نظر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہوا میدہ بھرا تھا
26 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا ۔
27 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا اور ایک نر یکسالہ برہ
28 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
29 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ نر یکسالہ برے یہ حیلون کے بیٹے الیاب کا ہدیہ تھا ۔
30 چوتھے دن شدیور کے بیٹے الیصور نے ھو روبن کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
31 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
32 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
33 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ
34 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
35 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ شدیور کے بیٹے الیصور کا ہدیہ تھا
36 اور پانچویں دن صوری شدی کے بیٹے لومی ایل نے جو شمعون کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
37 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
38 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
39 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ
40 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
41 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ شدیور کے بیٹے الیصور کا ہدیہ تھا یہ صوری شدی سلومی ایل کا ہدیہ تھا
42 اور چھٹے دن دعوایل کے بیٹے الیاسف نے جو جد کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
43 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
44 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
45 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ
46 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
47 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ دعوایل کے بیٹے الیاسف کا ہدیہ تھا۔
48 اور ساتویں دن عمیہود کے بیٹے الیسع نے افرائیم کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
49 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
50 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
51 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ ۔
52 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
53 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ عمیہود کے بیٹے الیسع کا ہدیہ تھا
54 اور آٹھویں دن فدا ہصور کے بیٹے جملی ایل نے جو منسی کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
55 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
56 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
57 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ
58 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
59 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ فدا ہصور کے بیٹے جملی ایل کا ہدیہ تھا
60 اور نویں دن جدعونی کے بیٹے ابدان نے جو بنیمین کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
61 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
62 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا ۔
63 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ
64 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
65 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے دن جدعونی کے بیٹے ابدان کا ہدیہ تھا
66 اور دسویں دن عمیشدی کے بیٹے اخیغرر نے جو دان کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
67 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
68 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
69 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ
70 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا۔
71 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے دن دن عمیشدی کے بیٹے اخیغرر کا ہدیہ تھا
72 اور گیارہویں دن عکران کے بیٹے فجعی ایل نے جو آشر کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا
73 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
74 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
75 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ
76 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
77 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے دن عکران کے بیٹے فجعی ایل کا ہدیہ تھا
78 اور بارہویں دن عینان کے بیٹے اخیرع نے جو بنی نفتالی کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا۔
79 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا
80 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا
81 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ
82 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا
83 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے دن عینان کے بیٹے اخیرع کا ہدیہ تھا۔
84 مذبح کے ممسوح ہونے کے دن جو ہدیے اسرائیلی رئیسوں کی طرف سے گذرانے گئے وہ یہی تھے یعنی چاندی کے بارہ طباق چاندی کے بارہ کٹورے سونے کے بارہ چمچ
85 چاندی کا ہر طباق وزن میں ایک سو تیس مثقال اور ہر ایک کٹورا ستر مثقال تھا ان برتنوں کی ساری چاندی مقدس کی مثقال کے حساب سے دو ہزار چار سو مثقال تھی
86 بخور سے بھر ے ہوئے سونے کے بارہ چمچ جو مقدس کی مثقال کی تول کے مطابق وزن میں دس دس مثقال کے تھے ان چمچوں کا سارا سونا ایک سو دس مثقال تھا۔
87 سوختنی قربانی کے لیے کل بارہ بچھڑے بارہ مینڈھے بارہ نر یکسالہ برے اپنی اپنی نذر کی قربانی سمیت تھےا ور خطا کی قربانی کے لیے بارہ بکرے تھے
88 اور سلامتی کی قربانی کے لیے کل چوبیس بیل ساٹھ مینڈھے ساٹھ بکرے ساٹھ نر یکسالہ برے تھے مذبح کی تقدیس کے لیے جب وہ ممسوح ہو ا اتنا ہدیہ گذرانا گیا
89 اور جب موسیٰ خداوند سے باتیں کرنے کو خیمہ اجتماع میں گیا تواس نے سرپوش پر سے جو شہادت کے صندوق کے اوپر تھا دونو ں کربیوںکے درمیان سے وہ آواز سنی جو اس سے مخاطب تھی اور اس نے اس سے باتیں کیں ۔


باب 8

1 اور خدواند نے موسیٰ سے کہا کہ
2 جب تو چراغوں کو روشن کرے تو ساتویں چراغ کی روشنی شمعدان کےسامنے ہو
3 چنانچہ ہارون نے ایسا ہی کیا اس نے چراغوں کو ایسے جلایا کہ شمعدان کے سامنے روشنی پڑے جیسا خدواند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا
4 اور شمعدان کی بناوٹ ایسی تھی کہ وہ پایہ سے لے کر پھولو ں تک گھڑے ہوئے سونے کا بنا ہو ا تھا جو نمونہ خداوند نے موسیٰ کو دکھایا اسی کے موافق اس نے شمعدان کو بنایا
5 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
6 لاویوں کو بنی اسرائیل سے الگ کر کے ان کو پاک کر
7 اور انکو پاک کرنے کے لیے ان کے ساتھ یہ کرنا کہ خطا کا پانی لے کر ان پر چھڑکنا پھر وہ سارے جسم پر استرا پھروائیں اور اپنے کپڑے دھویں اور اپنے آپ کو صاف کریں
8 اور تب وہ ایک بچھڑ ا اور نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہو ا میدہ لیں اور تو خطا کی قربانی کے لیے ایک دوسرا بچھڑا بھی لینا
9 اور تو لاویوں کو خیمہ اجتماع کے سامنے حاضر کرنااور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کو جمع کرنا
10 پھر لا ویوں کو خداوند کے آگے لانا تب بنی اسرائیل اپنے اپنے ہاتھ لاویوں پر رکھیں
11 اور ہارون لاویوں کو بنی اسرائیل کی طرف سے ہلانے کی قربانی کے لیے خداوند کے حضور گذرانے تاکہ وہ خداوند کی خدمت کرنے پر رہیں
12 پھر لاوی اپنے اپنے ہاتھ بچھڑوں کے سروں پر رکھیں اور تو ایک کو خطا کی قربانی اور دوسرے کو سوختنی قربانی کے لیے خداوند کے حضور گذراننا تاکہ لاویوں کے واسطے کفارہ دیا جائے
13 پھر تو لاویوں کو ہارون اور اس کے بیٹوں کے سامنے کھڑا کرنا اور انکو ہلانے کی قربانی کے لیے خداوند کے حضور گذراننا
14 یوں تو لاویوں کو بنی اسرائیل سے الگ کرنا اور لاوی میر ے ہی ٹھہریں گے
15 اس کے بعد لاوی خیم اجتماع کی خدمت کے لیے اندر آیا کریں سو تو انکو پاک کر اور ہلانے کی قربانی کے لیے انکو گذران
16 اس لیے کہ وہ سب کے سب بنی اسرائیل میں سے مجھے بالکل دے دیئے گئے کیونکہ میں نے ان ہی کو اُن سبھوں کے بدلے جو اسرائیلیوں میں پہلوٹھی کے بچے ہیں اپنے واسطے لے لیا
17 اس لیے بنی اسرائیل کے سب پہلوٹھے کیا انسان کیا حیوان سب میرے ہیں میں نے جس دن ملک مصر کے پہلوٹھوں کو مارا اسی دن ان کو اپنے لیے مقدس کیا
18 اور بنی اسرائیل کے سب پہلوٹھوں کے بدلے میں نے لاویوں لے لیا
19 اور میں نے بنی اسرائیل میں سے لاویوں کو لے کر اسے ہارون اور اسکے بیٹوں کو عطا کیا تاکہ وہ خیمہ اجتماع میں بنی اسرائیل کی جگہ خدمت کریں اور بنی اسرائیل کے لیے کفارہ دیا کریں تاکہ جب بنی اسرائیل مقدِس کے نزدیک آئیں تو ان میں کو ئی وبا نہ پھیلے
20 چنانچہ موسیٰ اور ہارون اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت نے لاویوں کے ساتھ ایسا ہی کیا جو کچھ خداوند نے لاویوں کے بارے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ کیا ۔
21 اور لاویوں نے اپنے آپ کو گناہ سے پاک کر کے اپنے کپڑے دھوئے اور اور ہارون نے انکو ہلانے کی قربانی کے لیے خداوند کے حضور گذرانا اور ہارون نے انکی طرف سے کفارہ دیا تاکہ وہ پاک ہو جائیں
22 اس کے بعد لاوی اپنی خدمت بجا لانے کو ہارو ن اور اسکے بیٹوں کے سامنے خیمہ اجتماع میں جانے لگے سو جیسا خداوند نے لاویوں کی بابت موسیٰ کو احکم دیا تھا انہوں نے ویسا ہی ان کے ساتھ کیا
23 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا
24 اور لاویوں کے متعلق جو بات ہے وہ یہ ہے کہ پچیس برس سے لیکر اس سے اوپر اوپر کی عمر میں وہ خیمہ اجتماع کی خدمت کے لیے وہ کام کےلیے اندر حاضر ہوا کریں
25 اور جب پچاس برس کے ہوں تو پھر اس کام کے لیے نہ آئیں اور خدمت نہ کریں ۔
26 بلکہ خیمہ اجتماع میں اپنے بھائیوں کے ساتھ نگہبانی کے کام میں مشغول ہوں اور کوئی خدمت نہ کریں لاویوں کو جو کام سونپے جائیں انکے متعلق تو ان سے ایسا ہی کرنا ۔


باب 9

1 بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نکلنے کے دوسرے برس کے پہلے مہینے میں خداوند نے دشت سینا میں موسیٰ سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل عید فسح اس کے میعن وقت پر منائیں
3 اسی مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام کو تم معین وقت پر عید منانا اور جتنےاس کے آئین اور رسوم ہیں ان سبھو ں کے مطابق اسے منانا
4 سو موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم کیا کہ عید فسح کریں
5 اور انہوں نے پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام کو دشت سینا میں عید فسح کی اور بنی اسرائیل نے سب پر جو خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا عمل کیا
6 اور کئی آدمی ایسے تھے جو کسی لاش کے سبب سے ناپاک ہو گئے تھے وہ اس روز فسح نہ کر سکے سو وہ اسی دن مو سیٰ اور ہارون کے پاس آئے
7 اور موسیٰ سے کہنے لگے کہ ہم ایک لاش کے سبب سے ناپاک ہو رہے ہیں پھر بھی ہم اور اسرائیلیوں کے ساتھ وقتِ معین پر خداوند کی قربانی گذراننے سے کیوں روکے جائیں؟
8 موسیٰ نے ان سے کہا کہ ٹھہر جاؤ میں ذرا سن لوں کہ خداوند تہارے حق میں کی حکم کرتا ہے اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
9
10 بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی تم میں سے یا تمہاری نسل میں سے کسی لاش کے سبب سے ناپاک ہو جائے یا وہ کہیں دور سفر میں ہو تو بھی خداوند کے لیے عید فسح کرے
11 اور دوسرے مہینے کی چودھویں تاریخ کی شام کو یہ عید منائیں اور قربانی کے گوشت کو نے خمیری روٹیوں اور کڑوی ترکاریوں کے ساتھ کھایں
12 اور وہ اس میں سے کچھ بھی صبح کے لیے باقی نہ چھوڑیں اور نہ اسکی کوئی ہڈی توڑیں اور فسح کو اس کے سارے آئین کے مطابق مانیں
13 لیکن جو آدمی پاک ہو اور سفر میں بھی نہ ہو اگر وہ فسح کرنے سے باز رہے تو وہ آدمی اپنی قوم سے کاٹ ڈالا جائیگا کیونکہ اس نے معین وقت پر خداوند کی قربانی نہیں گذرانی سو اس آدمی کا گناہ اسی کے سر لگے گا
14 اور اگر کوئی پردیسی تم میں بودوباش کرتاہو اور خداوند کے لیے فسح کرنا چاہے تو وہ فسح کے آئین اور رسوم کے مطابق اسے مانے تم دیسی اور پردیسی دونوں کے لیے ایک ہی آئین رکھنا اور جس دن مسکن یعنی خیمہ شہادت نصب ہوا اسی دن ابر اس پر چھا گیا اور شام کو مسکن پر آگ دکھائی دیتی تھی
15
16
17 اور جب مسکن سے وہ ابر اٹھ جاتا تو بنی اسرائیل کوچ کرتے تھے اور جس جگہ وہ ابر جا کع ٹھہر جاتا وہیں بنی اسرائیل خیمے لگاتے تھے
18 خداوند کے حکم سے بنی اسرائیل کوچ کرتے اور خداوند ہی کے حکم سے وہ خیمے لگاتے تھے اور جب تک ابر مسکن ٹھہرا رہتا وہ اپنے ڈیرے ڈالے پڑے رہتے تھے
19 اور جب ابر مکسن پر بہت دنوں تک ٹھہرا رہتا تو بنی اسرائیل خداوند کے حکم کو مانتے اور کوچ نہیں کرتے تھے۔
20 اور کبھی کبھی وہ ابر چند دنوں تک مسکن پر رہتا اور تب بھی وہ خداوند کے حکم سے ڈیرے ڈالے رہتے اور خداوند ہی کے حکم سے وہ کوچ کرتے تھے
21 پھر کبھی کبھی وہ ابر صبح سے شام تک ہی رہتا تو جب وہ صبح کو اٹھ جا تا تب وہ کوچ کرتے تھے
22 اور جب تک وہ ابر ٹھہرا رہتا خواہ وہ دو دن یا ایک مہینہ یا ایک برس ہو تب تک بنی اسرائیل اپنے خیموں میں تقسیم رہتے اور کوچ نہیں کرتے تھے پر جب وہ اٹھ جاتا تو وہ کوچ کرتے تھے
23 غرض خداوند کے حکم سے مقام کرتے اور خداوند ہی کے حکم سے کوچ کرتے تھے اور جو حکم خداوند کی معرفت موسیٰ دیتا وہ خداوند کے اس حکم کو مانا کرتے تھے۔


باب 10

1 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
2 اپنے لیے دو نرسنگے بنوا وہ دونوں گھڑ کر بنائے جائیں تو انکو جماعت کے بلانے اور لشکروں کے کوچ کے لیے کام میں لانا
3 اور جب وہ دونوں نرسنگے پھونکیں تو ساری جماعت خیمہ اجتماع کے دروازہ کے پاس تیرے پاس اکٹھی ہو جائے
4 اور اگر ایک ہی پھونکیں تو وہ رئیس جو ہزاروں اسرائیلیوں کے سردار ہیں تیرے پاس جمع ہوں
5 اور جب تم سانس باندھ کر زور سے پھونکو تو وہ لشکر جو مشرق کی طرف ہیں کوچ کریں
6 اور جب تم دوبارہ سانس باندھ کر زور سے پھونکو تو ان لشکروں کا جا جنوب کی طرف ہیں کوچ ہو سو کوچ کے لیے سانس باندھ کر زور سے نرسنگا پھونکا کریں
7 لیکن جب جماعت کو جمع کرنا ہو تب بھی پھونکنا پر سانس باندھ کر زور سے نہ پھونکنا
8 اور ہارون کے بیٹے جو کاہن ہیں وہ نرسنگے پھونکا کریں یہی آئین سدا تمہاری نسل نسل رہے
9 اور جب تم اپنے ملک میں ایسے دشمن سے جو تمہیں ستاتا ہو لڑنےکو نکلو تو تم نرسنگوں کو سانس باندھ کر زور سے پھونکنا اس حال میں خداوند نمہارے خدا کے حضور تمہاری یاد ہوگی اور تم اپنے دشمنوں سے نجات پاؤ گے
10 اور تم اپنی خوشی کے دن اور اپنی مقرر عیدو ں کے د ن اور اپنے مہینوں کے شروع میں اپنی سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کے وقت نرسنگے پھونکنا تاکہ ان سے تمہارے خدا کے حضور تمہاری یادگاری ہو میں خداوند تمہارا خدا ہوں
11 اور دوسرے سال کے دوسرے مہینے کی بیسویں تاریخ کو وہ ابر شہادت کے مسکن پر سے اٹھ گیا
12 تب بنی اسرائیل دشت سینا سے کوچ کر کے نکلے اور وہ ابر دشت فاران میں ٹھہر گیا
13 سو خداوند کے اس حکم کے مطابق جو اس نے موسیٰ کی معرفت دیا تھا انکا پہلا کوچ ہوا
14 اور سب سے پہلے بنی یہوداہ کے لشکر کا جھنڈ روانہ ہوا اور وہ اپنے دَلوں کے مطابق چلے انکے لشکر کا سردار عمینداب کا بیٹا نحسون تھا
15 اور اشکار کے قبیلہ کا سردار ضغر کا بیٹا نتنی ایل تھا
16 اور زبولون کے قبیلہ کے لشکر کا سردار حیلون کا بیٹا الیاب تھا
17 پھر مسکن اتارا گیا اور بنی جیرسون اور بنی مراری جو مسکن اٹھاتے تھے روانہ ہوئے
18 پھر روبن کے لشکر کا جھنڈ آگے بڑھا اور وہ اپنے دَلوں کے مطابق چلے شدیور کا بیٹا الیصور انکے لشکر کا سردار تھا
19 اور شمعون کے قبیلہ کا لشکر کا سردار صوری شدی کا بیٹا سلومی ایل تھا
20 اور جد کے قبیلہ کا لشکر کا سردار دعوایل کا بیٹا الیاسف تھا
21 پھر قہاتیوں نے جو مقدس کو اٹھائے تھے کوچ کیا اور انکے پہنچنے تک مسکن کھڑا کر دیا جاتا تھا
22 پھر بنی افرائیم کا لشکر کا جھنڈ نکلا اور وہ اپنے دَلوں کے مطابق چلے انکے لشکر کا سردار عمیہود کا بیٹا الیسع تھا
23 اور منسی کے قبیلہ کے لشکر کا سردار فدا ہصور کا بیٹا جملی ایل تھا
24 اور بنیمین کے قبیلہ کے لشکر کا سردار جدعونی کا بیٹا ابدان تھا
25 اور بنی دا ن کے لشکر کا جھنڈ انکے اور سب لشکروں کے پیچھے پیچھے روانہ ہوا اور اپنے اپنے دَلوں کے مطابق چلے انکے لشکر کا سردار عمیشدی کا بیٹا اخیغرر تھا۔
26 اور آشر کے قبیلہ کے لشکر کا سردار عکران کا بیٹا فجعی ایل تھا۔
27 اور نفتالی کے قبیلہ کے لشکر کا سردارعینان کا بیٹا اخیرع تھا
28 سو بنی اسرائیل اسی طرح اپنے دَلوں کے مطابق کوچ کرتے اور آگے روانہ ہوتے رہے۔
29 سو موسیٰ نے اپنے خسر رعوایل مدیانی کے بیٹے حوباب سے کہا کہ ہم اس جگہ جا رہے ہیں جس کی بابت خداوند نے کہا ہے کہ میں اسے تم کو دونگا سو تو بھی سا تھ چل اور ہم تیرے ساتھ نیکی کریں گے کیونکہ خداوند نے بنی اسرائیل سے نیکی کا وعدہ کیا ہے
30 اس نے جواب دیا کہ میں نہیں چلتا بلکہ میں اپنے وطن اور رشتہ داروں میں لوٹ کر جاؤں گا۔
31 تب موسیٰ نے کہا کہ ہم کو چھوڑ مت کیونکہ یہ تجھ کو معلوم ہے کہ ہم کو بیابان میں کس طرح خیمہ زن ہو نا چاہیے سو تو ہمارے آنکھوں کا کام دے گا
32 اور اگر تو ہمارے ساتھ چلے تو اتنی بات ضرور ہوگی کہ جو نیکی خداوند ہم سے کرے وہی ہم تجھ سے کریں گے
33 پھر وہ خداوند کے پہاڑ سے سفر کرکے تین دن کی راہ چلے اور تینوں دن خداوند کے عہد کا صندوق ان کے لیے آرامگاہ تلاش کرتا ہوا ان کے آگے آگے چلتا رہا
34 اور جب وہ لشکر گاہ سے کوچ کرتے تو خداوند کا ابر دن بھران پر چھایا رہتا تھا
35 اور صندوق کے کوچ کے وقت موسیٰ یہ کہا کرتا تھا اٹھ اے خداوند تیرے دشمن پراگندہ ہو جائیں اور جو تجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ تیرے آگے سے بھاگیں۔
36 اور جب وہ ٹھہر جاتا تو وہ یہ کہتا کہ اے خداوند ہزاروں ہزار اسرائیلیوں میں لوٹ کر جا۔


باب 11

1 پھر لوگ کڑکڑانے اور خداوند کے سنتے برا کہنے لگے چنانچہ خداوند نے سنا اور اسکا غضب بھڑکا اور خداوند کی آگ انکے درمیان جل اٹھی اور لشکر گاہ کو ایک کنارےسے بھسم کرنے لگی
2 تب لوگوں نے موسیٰ سے فریاد کی اور موسیٰ نے خداوند سے دعا کی تو آگ بجھ گئی
3 اور اس جگہ کا نا بیعرہ پڑا کیونکہ خداوند کی آگ ان میں جل اٹھی تھی اور جو ملی جلی بھیڑ ان لوگوں میں تھی وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی اور بنی اسرائیل بھی پھر رونے اور کہنے لگے کہ ہم کو کو ن گوشت کھانے کو دے گا؟
4
5 ہم کو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مصر میں کھاتے تھے اور ہائے وہ کھیرے اور وہ خربوزے اور وہ گندنے اور پیاز او ر لہسن
6 لیکن اب تو ہماری جان خشک ہو گئی ہے یہاں کو ئی چیز میسر نہیں اور من کے سوا ہم کو اور کچھ دھائی نہیں دیتا
7 اور من دھنٹے کی مانند تھا اور ایسا نظر آتا تھا جیسے موتی
8 لوگ ادھر ادھر جا کر اسے جمع کرتے اور اسے پیستے یا اکھلی میں کوٹ لیتے تھے پھر اسے ہانڈیوں میں ابال کر روٹیاں بناتے تھے اسکا مزہ تازہ تیل کا سا تھا
9 اور رات کو جب لشکر گاہ پر اوس پڑتی تھی تو اس کے ساتھ من بھی گرتا تھا
10 اور موسیٰ نے سب گھرانوں کے آدمیوں کو اپنے اپنے ڈیرے کے دروازہ پر روتے سنا اور خداوند کا قہر نہایت بھڑکا اور موسیٰ نے بھی برا مانا
11 تب موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ تو نے اپنے خادم سے یہ سخت پرتاؤ کیوں کیا؟ اور مجھ پر تیرے کرم کی نظر کیوں نہیں ہوئی جو تو ان سب لوگو ں کا بوجھ مجھ پر ڈالتا ہے؟
12 کیا یہ سب لوگ میرے پیٹ میں پڑے تھے؟ کیا یہ سب مجھ ہی سے پیدا ہوئے جو تو کجھے کہتا ہے کہ جس طرح باپ دودھ پیتے بچہ کو اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے اسی طرح میں ان لوگوں کو اٹھا کر اس ملک میں لے جاؤں جس کے دینے کی قسم تو نے ان کے باپ دادا سے کھا ئی ہے
13 میں ان سب لوگوںکو کہا ں سے گوشت لا کر دوں کیونکہ وہ یہ کہہ کر میرے سامنے روتے ہیںکہ ہمیں گوشت کھانے کو دے
14 میں اکیلا ان سب لوگوں کو نہیں سنبھا ل سکتا کیونکہ یہ میری طاقت سے باہر ہے۔
15 اور جو تجھے میرے ساتھ یہی برتاؤ کرنا ہے تو میرے اوپر اگر تیرے کرم کی نظر ہوئی تو مجھے یک لخت جان سے کار ڈال تاکہ میں اپنی بری گت دیکھنے نہ پاؤں
16 خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے ستر مرد جنکو تو جانتا ہے کہ قوم کے بزرگ اور ان کے سردار ہیں میرے حضور جمع کراور ان کو خیمہ اجتماع کے پاس لے آ تاکہ وہ میرے ساتھ وہاں کھڑے ہوں
17 اور میں اتر کر تیرے ساتھ وہاں باتیں کروں گا اور میں اس روح میں سے جو تجھ میں ہے لے کر ان میں ڈال دونگا کہ وہ تیرے سا تھ قوم کا بوجھ اٹھائیں تا کہ تو اکیلا نہ اٹھائے۔
18 اور لوگوں سے کہہ کہ کل کے لیے اپنے آپ کو پاک رکھو تو تم گوشت کھاؤ گے کیونکہ تم خداوند کے سنتے ہوئے یہ کہہ کہہ کر روتے ہو کہ ہم کو کون گوشت کھانے کو دے گا ؟ ہم تو مصر ہی میں موج سے تھےسو خداوند تم کو گوشت دیگا اور تم کھانا
19 اور تم ایک یا دو دن نہیں اور نہ پانچ یا دس یا بیس دن
20 بلکہ ایک مہینہ کامل اسے کھاتے رہو جب تک وہ تمہارے نتھنوں سے نکلنے نہ لگے اور اس سے تم گھن نہ کھانے لگو کیونکہ تم نے خداوندکو جو تمہارے درمیان ہے ترک کیا اور اس کے سامنے یہ کہہ کہہ کر روئے کہ ہم مصر سے کیوں نکل آئے
21 پھر موسیٰ کہنے لگا کہ جن لوگوں میں میں ہوں ان میں چھ لاکھ تو پیادے ہی ہیںاور تو نے کہا ہے کہ میں ان کو اتنا گوشت دوں گا کہ مہینہ بھر اسے کھاتے رہیں گے
22 تو کیا یہ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور گائے بیلوں کے جھنڈ ان کی خاطر ذبح ہوں کہ ان کے لیے بس ہو؟ یا سمندر کی مچھلیاں انکی خاطر اکٹھی کی جائیں کہ ان کے لیے کافی ہوں۔
23 خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ کیا خداوند کا ہاتھ چھوٹا ہو گیا؟ ابن تو دیکھ لیا گا کہ جو کچھ میں نے تجھ سے کہا وہ پورا ہوتا ہے یا نہیں
24 تب موسیٰ نے باہر جا کر خداوندکی باتیں ان لوگوں کو جا سنائیں اور قوم کے بزرگوں میں سے ستر آدمی اکٹھے کر کے انکو خیمہ اجتماع کے گردا گرد کھڑا کر دیا
25 تب خداوند ابر میں ہو کر نکلا اور اس نے موسیٰ سے باتیں کیں اور اس روح میں سے جو اس میں تھی لے کر ان ستر بزرگوں میں ڈالا چنانچہ جب روح ان میں آئی تو وہ نبوت کرنے لگے لیکن پھر بعد میں کبھی نہیں کی
26 پر ان میںسے دوشخص لشکر گاہ میں ہی رہ گئےایک کا نام الداد اور دوسرے کا نام میداد تھا ان میں بھی روح آئی یہ بھی ان ہی میںسے تھے جن کے نام لکھ لیے گئے تھے پر یہ خیمہ کے پاس نہ گئے اور لشکر گاہ ہی میں نبوت کرنے لگے
27 تب کسی جوان نے دوڑ کر موسیٰ کو خبر کی کہ الداد اور میداد لشکر گاہ میں نبوت کر رہے ہیں
28 سو نون کے بیٹے یشوع نے جو اس کے چنے ہوئے نوجوانوں میں سے تھا موسیٰ سے کہا کہ اے میرے مالک موسیٰ توان کو روک دے
29 موسیٰ نے اس سے کہا تجھے میری خاطر رشک آتا ہے؟ کاش خداوند کے سب لوگ نبی ہوتے اور خداوند اپنی روح ان سب میں ڈالتا
30 پھر موسیٰ اور وہ اسرائیلی بزرگ لشکر گاہ میں گئے
31 اور خداوند کی طرف سے ایک آندھی چلی اور سمندر کی طرف سے بٹیریں اڑا لائی اور ان کو لشکر گا ہ کے برابر اور اس کے گردا گرد ایک دن کی راہ تک اس طرف اور ایک ہی دن کی راہ تک دوسری طرف زمین سے قریباً دو ہاتھ اوپر ڈال دیا
32 اور لوگو ں نے اٹھ کر اس سارے دن اور ساری رات اور اسکے دوسرے دن بھی بٹیریں جمع کیں اور جس کے پاس کم سے کم جمع تھیں اس کے پاس بھی دس خومر کے برابر جمع ہوگئیں اور انہوں نے اپنے لیے لشکر گاہ کے چاروں طرف اسے پھیلادیا
33 اور انکا گوشت انہوں نے دانتوں سے کاٹا ہی تھا اور اسے چبانے بھی نہیں پائے تھے کہ خداوند کا قہر ان لوگوں پر بھڑک اٹھا اور خداوند نے ان لوگوں کو بڑی سخت وبا سے مارا
34 سو اس مقام کا نام قبروت ہتاوہ رکھا گیا کیونکہ انہوں نے ان لوگوں کو جنہوں نے حرص کی تھی وہیں دفن کیا
35 اور وہ لوگ قبروت ہتاوہ سے سفر کر کے حصیرات کو گئے اور وہیں حصیرات میں رہنے لگے۔



باب 12

1 باب نمبر 12 اور موسیٰ نے ایک کوشی عورت سے بیاہ کر لیاسو اس کوشی عورت کے سبب سے جسے موسیٰ نے بیاہ لیا تھا مریم اور ہارون اس کی بدگوئی کرنے لگے
2 وہ کہنے لگے کہ کیا فقط خداوند نے صرف موسیٰ ہی سے باتیں کیں ہیں؟ کیا اس نے ہم سے باتیں نہیں کیں؟ اور خداوند نے یہ سنا۔
3 اور موسیٰ تو روئے زمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا
4 سو خداوند نے ناگہان موسیٰ اور ہارون اور مریم سے کہا کہ تم تینوں نکل کر خیمہ اجتماع کے پاس حاضر ہو سو وہ تینوں وہاں آئے
5 اور خدواند ابر کے ستون میں ہو کر اترا اور خیمہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر ہارون اور مریم کو بلایا وہ دونوں پاس گئے
6 تب اس نے کہا میری باتیں سنو اگر تم میں سے کوئی نبی ہو تو میں جو خداوند ہو ں اسے رویا میں دکھائی دونگا اور خواب میں اس سے باتیں کرونگا
7 پر میرا خادم موسیٰ ایسا نہیں ہے وہ میرے سارے خاندان میں امانت دار ہے
8 میں اس سے معموں میں نہیں بلکہ رو برو اور صریح طور پر باتیں کرتا ہوں اور اسے خداوند کا دیدار بھی نصیب ہوتا ہے سو تم کو میرے خادم موسیٰ کی بدگوئی کرتے ہوئے خوف کیوں نہ آیا
9 اور خداوند کا غضب ان پر بھڑکا اور و ہ چلا گیا
10 اور ابر خیمہ کے اوپر سے ہٹ گیا اور مریم کوڑھ سے برف کی مانند سفید ہوگئی اور ہارون نے جب مریم کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ وہ کوڑھی ہوگئی ہے
11 تب ہارون موسیٰ کو کہنے لگا کہ ہائے میرے مالک اس گناہ کو ہمارے سر نہ لگا کیونکہ ہم سے نادانی ہوئی اور ہم نے خطا کی
12 اور مریم کو اس مرے ہوئے کی طرح نہ رہنے دے جسکا جسم اسکی پیدائش کے وقت ہی آدھا گلا ہو ہوتا ہے
13 تب موسیٰ خداوند سے فریاد کرنے لگا کہ اے خدا میں تیری منت کرتا ہوں اسے شفا دے
14 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اگر اسکے باپ نے اس کے منہ پر فقط تھوکا ہی ہوتا تو کیا سات دن تک وہ شرمندہ نہ رہتی؟ سو وہ سات دن تک لشکر گاہ کے باہر بند رہے اس کے بعد وہ پھر اندر آنے پائے
15 چنانچہ مریم ساتھ دن تک لشکر گاہ کے باہر بند رہی اور لوگوں نے جب تک وہ اندر آنے نہ پائی کوچ نہ کیا
16 اس کے بعد وہ لوگ حصیرات سے روانہ ہوئے اور دشت فاران میں پہنچ کر انہوں نے ڈیرے ڈالے۔


باب 13

1 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
2 تو آدمیوں کو بھیج کر وہ ملک کنعان کا جو میں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں حال دریافت کریں ان کے باپ دادا کے ہر قبیلہ سے ایک آدمی بھیجنا جو ان کے ہاں کا رئیس ہو
3 چناچنہ موسیٰ نے خداوند کے ارشاد کے موافق دشت فاران سے ایسے آدمی روانہ کیے جو بنی اسرائیل کے سردار تھے
4 انکے نام یہ تھے روبن کے قبیلہ سے زکور کا بیٹا سموع
5 اور شمعون کے قبیلہ سے حوری کا بیٹا سافط
6 اور یہوداہ کے قبیلہ سے یفنہ کا بیٹا لب
7 اور اشکار کے قبیلہ سے یوسف کا بیٹا اجال
8 اور افرائیم کے قبیلہ سے نون کا بیٹا ہوسیع
9 اور بنیمین کے قبیلہ سے رفو کا بیٹا فلتی
10 اور زبولون کے قبیلہ سے سودی کا بیٹا جدی ایل
11 اور یوسف کے قبیلہ یعنی منسی کے قبیلہ سے سوسی کا بیٹا جدی
12 اور دان کے قبیلہ سے جملی ایل کا بیٹا عملی ایل
13 اور آشر کے قبیلہ سے میکا ایل کا بیٹا ستور
14 اور نفتالی کے قبیلہ سے دفسی کا بیٹا نخنی
15 اور جد کے قبیلہ سے ماکی کا بیٹا جیوایل
16 یہی ان لوگو ں کے نام ہیں جن کو موسیٰ نے ملک کا حال دریافت کرنے کو بھیجا تھا اور نون کے بیٹے ہوسیع کا نام موسیٰ نے یشوع رکھا۔
17 اور موسیٰ نے انکو روانہ کیا تاکہ ملک کنعان کا حال دریافت کریں اور ان سے کہا کہ تم ادھر جنوب کی طرف سے جا کر پہاڑوں میں چلے جانا
18 اور دیکھنا کہ وہ ملک کیسا ہے اور جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیںوہ کیسےہیں زور آور ہیں یا کمزور تھوڑے ہیں یا بہت
19 اور جس ملک میں وہ آباد ہیں وہ کیسا ہے اچھا ہے یا برا اور جن شہروں میں وہ رہتےہیں وہ کیسے ہیں آیا وہ خیموں میں رہتےہیں یا قلعوں میں۔
20 اور وہاں کی زمین کیسی ہے زرخیز ہے یا بنجر اور اس میں درخت ہیں یا نہیں تمہاری ہم تبندھی رہے اور اس ملک کا پھل لیتے آنا اور و ہ موسم انگور کی پہلی فصل کا تھا
21 سو وہ روانہ ہوئے اور دشت صین سے سے رحوب تک جو حمات کے راستے میں ہے ملک کو خوب دیکھا بھالا
22 اور جنوب کی طرف وے ہوتے ہوئے جبرون تک گئے جہا ں عناق کے بیٹے اخیمان اور سیسی اور تلمی رہتے تھے ( اور جبرون ضعن سے جو مصر میں سے ہے ساتھ برس آگے بسا تھا)
23 اور وہ وادیِ اسکال میں پہنچے وہاں انہوں نے انگور کی ایک ڈالی کاٹ لی جس میں ایک ہی گچھا تھا اور جسےدو آدمی ایک لاٹھی پر لٹکائے لے کر گئے اور وہ کچھ انار اور انجیر بھی لائے
24 اسی گچھے کے سبب سے جسے اسرائیلیوں نے وہاں کاٹا تھااس جگہ کا نام وادی اسکال پڑ گیا
25 اور چالیس دن کے بعد وہ اس ملک کا حال دریافت کر کے لوٹے
26 اور وہ چلے اور موسیٰ اور ہارون اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے پاس دشت فاران کے قادس میں آئے اور انکو اور ساری جماعت کو ساری کیفیت سنائی اور اس ملک کا پھل انکو دکھایا
27 اور موسیٰ سے کہنے لگے کہ جس ملک میں تو نے ہم کو بھیجا تھا ہم وہاں گئے اور واقعی دودھ اور شہد اس میں بہتا ہے اور یہ وہاں کا پھل ہے
28 لیکن وہ لوگ جو وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں اور ان کے شہر بڑے بڑ ے اور فصیل دار ہیں اور ہم نے بنی عناق کو بھی وہاں دیکھا
29 اس ملک کے جنوبی حصہ میں تو عمالیقی آباد ہیں اور حتی اور یبوسی اور اموری پہاڑوں پر رہتے ہیں اور سمندر کے ساحل پر اوریردن کے کنارے کنارے کنعانی بسے ہوئے ہیں
30 تب کالب نے موسیٰ کے سامنے لوگوں کو چپ کرایا اور کہا کہ چلو ہم ایک دم جا کر اس پر قبضہ کریں کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کر لیں
31 لیکن جو اور آدمی اس کے ساتھ گئے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں کیونکہ وہ ہم سے زیادہ طاقت ور ہیں
32 ان آدمیوں نے بنی اسرائیل کو جسے وہ دیکھنے گئے تھے بری خبر دیا اور یہ کہا کہ وہ ملک جسکا حال دریافت کرنے کے لیے ہم اس میں سے گزرے ایک ایسا ملک ہے جو اپنے باشندوں کو کھا جاتا ہے اور وہاں جتنے آدمی ہم نے دکیھے وہ بڑے قد آور ہیں
33 اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہیں ان کی نگاہ میں تھے۔ وَقَدْ رَأَيْنَا هُنَاكَ الجَبَابِرَةَ (بَنِي عَنَاقٍ مِنَ الجَبَابِرَةِ). فَكُنَّا فِي أَعْيُنِنَا كَالجَرَادِ وَهَكَذَا كُنَّا فِي أَعْيُنِهِمْ».


باب 14

1 تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس را ت روتے ہی رہے
2 اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی ہائے کاش! ہم مصر ہی میں مر جاتے ! یا کاش اس بیابا ن ہی میں مر جاتے
3 خداوند کیوں ہمیں ااس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کروانا چاہتا ہے پھر تو ہماری بیویاں اور بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہو گا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں
4 پھر وہ آپس میں کہنے لگے آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر کو لوٹ چلیں
5 تب موسیٰ اور ہارون بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے اوندھے منہ ہو گئے
6 اور نون کا بیٹا یشوع اور ینفنہ کا بیٹا لب جو اس ملک کا حال دریافت کرنے والوں میں سے تھے اپنے اپنے کپڑے پھا ڑ کر
7 بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہنے لگے کہ وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اس میں سے گذرے نہایت اچھا ملک ہے۔
8 اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچائے گا اور وہی ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ہمکو دیگا
9 فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اس ملک کے لوگوں سے ڈرو وہ تو ہماری خوراک ہیں ان کی پناہ ان کے سر پر سے جاتی رہی ہے اور ہمارے ساتھ خدا ہے سو انکا خوف نہ کرو
10 تب ساری جماعت بول اٹھی کہ ان کو سنگسار کرو اس وقت خیمہ اجتماع میں سب بنی اسرائیل کے سامنے خدا کا جلال نمایاں ہوا
11 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ لو گ کب تک میری توہین کرتے رہیں گے؟ اور باوجودان سب معجزوں کے جو میں نے ان کے درمیان کیے ہیں کب تک مجھ پر ایمان نہیں لائیں گے ؟
12 میں انکو وبا سے ماروں گا اور میراث سے خارج کروں گا اور اور تجھے ایک ایسی قوم بناؤں گا جو ان سے کہیں بڑی اور زور آور ہو
13 موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ تب تو مصری جن کے بیچ سے تو ان لوگوں اپنے زور بازو سے نکال لے آیا یہ سنیگے
14 اور اسے اس ملک کے باشندوں کو بتائیں گے انہوں نے سنا ہے کہ تو جو خداوند ہے ان لوگوں کے درمیان رہتا ہے کیونکہ تو اے خدا ! صریح طور پر دکھائی دیتا ہے اور تیرا ابر ان پر سایہ کیے رہتا ہے اور تتو دن کو ابر کے ستون میں اور رات کو آگ کے ستون میں ہو کر ان کے آگے آگے چلتا ہے
15 پس اگر تو اس قوم کو ایک اکیلے آدمی کی طرح جان سے مار ڈالے تو وہ قومیں جنہوں نے تیری شہادت سنی ہے کہینگی
16 کہ چونکہ خداوند اس قوم کو اس ملک میں جسے اس نے ان کو دینے کی قسم کھائی تھی پہنچا نہ سکا اس لیے اس نے ان کو بیابا ن میں ہلاک کر دیا
17 سو خداوند کی قدرت کی عظمت تیرے ہی قول کے مطابق ظاہرہو
18 کہ خداوند قہر کرنے میں دھیما اور شفقت کرنے میں غنی ہے وہ گناہ اور خطا کو بخش دیتا ہے لیکن مجرم کو بری نہیں کرے گا کیونکہ باپ داؤد کے گناہ کی سزا ان کی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک دے گا
19 سو تو اپنی رحمت کی فراوانی سے اس امت کا گناہ جیسے تو ملک مصر سے لے کر یہا ں تک ان کو معاف کرتا رہا ہے اب بھی معاف کردے
20 خداوند نے کہا کہ میں تیری درخواست کے مطابق معاف کیا
21 لیکن مجھے اپنی حیات کی قسم اور خدا کے جلال کی قسم جس ساری زمین معمور ہوگی
22 کیونکہ ان سب لوگو ں نے باوجود میرے جلال دیکھنے کے اور باوجود ان معجزوں کے جو میں نے مصر اور اس بیابان میں دکھائے پھر بھی دس با ر مجھے آزمایا اور میری بات نہیں مانی
23 اس لیے وہ اس ملک کو جسے دینے کی قسم میں نے ان کے باپ دادا سے کھائی تھی دیکھنے بھی نہ پائیں گے اور جنہوں نے میری توہیں کی ہے ان میں سے بھی کوئی اسے دیکھنے نہیں پائے گا
24 پر اس لیے کہ میرے بندہ کالب کی کچھ اور ہی طبیعت تھی اور اس نے میری پوری پیروی کی ہے میں اس کو اس ملک میں جہاں وہ ہو آیا ہے پہنچاؤں گا اور اسکی اولاد اس کی وارث ہوگی
25 اور وادی میں تو عمالیقی اور کنعانی بسے ہوئے ہیں سو کل تم گھوم کر اس راستہ سے جو بحر قلزم کو جاتا ہے بیابان میں داخل ہو جاؤ
26 اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا
27 میں کب تک اس خبیث گروہ کی جو میری شکایت کرتی ہے برداشت کروں؟ بنی اسرائیل جو میرے برخلاف شکایتیں کرتے رہتےہیں میں نے وہ سب شکایتیں سنی ہیں
28 سو تم ان سے کہہ دو کہ خداوند کہتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم ہے کہ جیسا تم نے میرے سنتے کہا ہے میں تم سے ضرور ویسا ہی کروں گا
29 تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی اور تمہاری ساری تعداد یعنی بیس برس سے لے کر اس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے ۔
30 ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بساؤں گا جانے نہ پائے گا سوا یفنہ کے بیٹے کالب اور نون کے بیٹے یشوع کے
31 اور تمہارے بال بچے جنکی بابت تم نے یہ کہا کہ وہ تو لوٹ کا مال ٹھہریں گے ان کو میں وہاں پہنچاؤں گا اور جس ملک کو تم نے حقیر جانا ہے وہ اسکی حقیقت پہچانیں گے۔
32 اور تمہار ا حال یہ ہو گا کہ تمہاری لاشیں اسی بیابا ن میں پڑی رہیں گی
33 اور تمہارے لڑکے بالے چالیس برس تک بیابان میں آوارہ پھرتے اور تمہاری زنا کاریوں کا پھل پاتے رہیں گے جب تک کہ تمہاری لاشیں بیابان میں گل نہ جائیں
34 ان چالیس دنوں کے حساب سے جن میں تم اس ملک کا حال دریافت کرتے رہے تھے اب دن پیچھے ایک ایک برس یعنی چالیس برس تک تم اپنے گناہوں کا پھل پاتے رہو گے تب تم میرے مخالف ہو جانے کو سمجھو گے
35 میں خداوند یہ کہہ چکا ہوں کہ میں اس پوری خبیث گروہ سے جو میری مخالفت پر متفق ہے قطعی ایسا ہی کروں گا ان کا خاتمہ اسی بیابا ن میں ہوگا اور وہ یہیں مریں گے
36 اور جن آدمیوں کو موسیٰ نے ملک کا حال دریافت کرنے کو بھیجا تھا جنہوں نے لوٹ کر اس ملک کی ایسی بر ی خبر سنائی جس سے ساری جماعت موسیٰ پر کڑکڑانے لگی
37 سو وہ آدمی جنہوں نے ملک کی بری خبر دی تھی خداوند کے سامنے وبا سے مر گئے
38 پر جو آدمی اس ملک کا حال دریافت کرنے گئے تھے ان میں سے نون کا بیٹا یشوع اور یفنہ کا بیٹا کالب دونوں جیتے بچے رہے
39 اور موسیٰ نے یہ باتیں سب بنی اسرائیل سے کہیں اور وہ لوگ زار زار روئے
40 اور دوسرے دن صبح سویرے یہ کہتے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر چرھنے لگے کہ ہم حاضر ہیں اور جس جگہ کا وعدہ خداوند نے کیا ہے وہاں جائیں گے کیونکہ ہم سے خطا ہوئی ہے
41 موسیٰ نے کہا تم کیوں اب خداوند کی حکم عدولی کرتے ہو ؟ اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا
42 اوپر مت چڑھو کیونکہ خداوند تمارے درمیان نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کھاؤ
43 کیونکہ وہاں تم سے آگے عمالیقی اور کنعانی لوگ ہیں سو تم رتلوار سے مارے جاؤ گے کیونکہ خداوند سے تم برگشتہ ہو گئے ہو اس لیے خداوند تمہارے ساتھ نہیں رہے گا
44 لیکن وہ شوخی کر کے پہاڑ کی چوٹی تک چڑھتے چلے گئے پر خداوند کے عہد کا صندوق اور موسیٰ لشکر گاہ سے باہر نہ نکلے
45 تب عمالیقی اور کنعانی جو اس پہاڑ پر رہتے تھے ان پر آ پڑے اور انکو قتل کیا اور حرمہ تک انکو مارتے چلے آئے۔



باب 15

1 باب نمبر 15 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب تم اپنے رہنے کے ملک میں جو میں تم کو دیتا ہوں پہنچو
3 اور خداوند کے حضور آتشیں قربانی یعنی سوختنی قربانی یا خاص منت کا ذبیحہ یا رضا کی قربانی گذرانو یا اپنی میعن عیدوں میں راحت انگیز خوشبو کے طور پر خداوند کے حضور گائے بیل یا بھیڑ بکری چڑھاؤ
4 تو جو شخص اپنا چڑھاوا لائے وہ خداوند کے حضور نذر کی قربانی کے طور پر ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ جس میں چوتھائی ہین کے برابر تیل ملا ہوا ہو
5 اور تپاون کے طور پر چوتھائی ہین کے برابر مے بھی لائے تو اپنی سوختنی قربانی یا ذبیحہ کے ہر برہ کے ساتھ اتنا ہی تیا ر کیا کرنا
6 اور ہر مینڈھے کے ساتھ ایفہ کے پانچویں حصہ کے برابر میدہ جس میں تہائی ہین کے برابر تیل ملا ہو نذر کی قربانی کے طور پر لانا
7 اور تپاون کے طور پر تہائی ہین کے برابر مے دینا تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ٹھہرے
8 اور جب تو خداوند کے حضور سوختنی قربانی یا خاص منت کے ذبیحہ یا سلامتی کے ذبیحہ کت طور پر بچھڑا گذرانے
9 تو وہ اس بچھڑے کے ساتھ نذر کی قربانی کے طور پر ایفہ کے تین تہائی حصہ کے برابر میدہ جس میں نصف ہین کے برابر تیل ملا ہوا ہو چڑھائے
10 اور تو تپاون کے طور پر نصف ہین کے برابر ہین گذراننا تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشیں قربانی ٹھہرے۔
11 ہر بچھڑے اور ہر مینڈھے اور ہر نر برہ یا بکری کے بچہ کے لیے ایسا ہی کیا جائے ۔
12 تم جتنے جانور لاؤ انکے شمار کے مطابق ایک ایک کے ساتھ ایسا ہی کرنا
13 جتنے دیسی خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی گذرانیں وہ اس وقت یہ سب کا م اسی طریقہ سے کریں
14 اور اگر کوئی پردیسی تمہارے ساتھ بودو باش کرتاہو یا جو کوئی پشتوں سے تمہارے ساتھ رہتا آیا ہو اور وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خشبو کی آتشین قربانی گذراننا چاہے تو جیسا تم کرتے ہو وہ بھی ویسا ہی کرے
15 مجع کے لیے یعنی تمہارے لیے اور اس پردیسی کے لیے جو تم میں رہتا ہو رنسل در نسل دا ایک ہی آئین رہے گا ۔ خداوند کے آگے پردیسی بھی ویسے ہی ہو ں جیسے تم ہو
16 تمہارے لیے پردیسیوں کے لیے جو تمہارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانون ہو
17 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
18 بنی اسرائیل سے کہہ جب تم اس ملک میں پہنچو جہاں میں تم کو لیے جاتا ہوں
19 اور اس ملک میں روٹی کھاؤ تو خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی گذراننا
20 تم اپنے پہلے گوندھے ہوئے آٹے کا ایک گردہ اٹھانے کی قربانی کے طور پر چڑھانا جیسے کھلیہان کی اٹھانے کی قربانی کو لےکر اٹھاتے ہو ویسے ہی اسے بھی اٹھانا
21 تم اپنی پشت در پشت اپنے پہلے ہی گوندھے ہو ئے آٹے میں سےکچھ لے کر اسے خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی کے طور پر گذراننا۔
22 اور اگر تم سے بھول ہو جائےاور تم نے ان سب حکموں پر جو خداوند نے موسیٰ کو دیے عمل نہ کیا ہو
23 یعنی جس دن دے خداوند نے حکم دینا شروع کیا اس دن سے لے کر آگے آگے جو کچھ حکم خداوند نے تمہاری نسل در نسل موسیٰ کی معرفت تم کو دیا ہے
24 اس میں اگر سہواً کوئی خطا ہوگئی ہو اور جماعت اس سے واقف نہ ہو تو ساری جماعت ایک بچھڑا سوختنی قربانی کے لیے گذرانے تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ہو اور اس کے ساتھ شرع کے مطابق اس کی نذر کی قربانی اور اسکا تپاون بھی چڑھائے اور خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا گذرانے
25 یوں کاہن بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے لیے کفارہ دے تو انکو معافی ملے گی کیونکہ یہ محض بھول تھی اور انہوں نے اس بھول کے بدلے وہ قربانی بھی چڑھائی جو خداوند نے حضور آتشین قربانی ٹھہرتی ہے اور خطا کی قربانی بھی خداوند کے حضور گذرانی
26 تب بنی اسرائیل کی ساری جماعت کو ان پردیسیو ں کو بھی جو ان میں رہتےہیں معافی ملیگی کیونکہ جماعت کو اعتبار سے یہ سہواً ہوا
27 اور اگر ایک ہی شخص سہواً خطا کرے تو وہ یکسالہ بکری خطا کی قربانی کے لیے چڑھائے
28 یوں کاہن اس کی طرف سے جس نے سہواً خطا کی اسکی خطا کے لیے خداوند کے حضور کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی
29 جس شخص نے سہواً ز خطا کی ہو تم اس کے لیے ایک ہی شرع رکھنا خواہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہو یا پردیسی جو ان میں رہتا ہے
30 لیکن جو شخص بے باک ہو کر گناہ کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خدواند کی اہانت کرتا ہے وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا
31 کیونکہ اس نے خداوند کے کلام کی حقارت کی اور اس کے حکم کو توڑ ڈالا وہ شخص بالکل کاٹ ڈالا جائے گا اس کا گناہ اسی کے سر لگیگا
32 اور جب بنی اسرائیل بیابا ن میں رہتے تھے تو ان دنوں ایک آدمی سبت کے دن ان کو لکڑیاں اکٹھی کرتاہوا ملا
33 اور جن کو وہ لکڑیاں اکٹھی کرتا ہوا ملا وہ اسے موسیٰ اور ہارون اور ساری جماعت کے پاس لے گئے
34 انہوں نے اسے حوالات میں رکھا کیونکہ ان کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے
35 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ شخص ضرور جان سے مارا جا ئے ساری جماعت لشکر گاہ کے باہر اسے سنگسار کرے
36 چنانچہ جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا اسکے مطابق ساری جماعت نے اسے لشکر گاہ سے باہر لے جا کر سنگسار کیا اور وہ مر گیا
37 اور خدواند نے موسیٰ سے کہا
38 بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ وہ نسل در نسل اپنے پیراہنوں کے کنارے پر جھالر لگائیں اور ہر جھالر کے کنارے کر اوپر آسمانی رنگ کا ڈورا ٹانکیں۔
39 یہ جھالر تمہارے لیے ایسی ہو کہ جب تم اسے دیکھو تو خداوند کے سب حکموںکو یاد کرکے ان پر عمل کرو اور اپنی آنکھوں کی خواہشوں کی پیروی میں زنا کاری نہ کرتے پھرو جیسا کرتے آئے ہو
40 بلکہ میرے سب حکموںکو یاد کرکے انکو عمل میں لاؤ اور پنے خدا کے لیے مقدس ہو
41 میں خداوند رتمہارا خدا ہو ں جو تم کو ملک مصر سے نکا ل کر لایا تاکہ تمہارا خدا ٹھہروں میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔


باب 16

1 اور قورح بن اضہار بن قہات بن لاوی نے بنی روبن میں سے الیاب کے بیٹوں داتن اور ابیرام اور پلت کے بیٹے اون کےساتھ مل کر اور آدمیوں کو ساتھ لیا
2 اور وہ بنی اسرائیل میں سے اڑھائی سو اور اشخاص جو جماعت کے سردار اور چیدہ اور مشہور آدمی تھے موسیٰ کے مقابلہ میں اٹھے
3 اور موسیٰ اور ہارون کے خلاف اکٹھے ہوکر ان سے کہنے لگے تمہارے تو بڑے دعوے ہو چلے کیونکہ جماعت کا ایک ایک آدمی مقدس ہے سو تم اپنے آ پ کو خداوند کی جماعت سے بڑا کیوں ٹھہراتے ہو ؟
4 موسیٰ یہ سنکر منہ کے بل گرا
5 پھر اس نے قورح اور اس کے کل فریق سے کہا کہ کل صبح خداوند دکھا دے گا کہ کو ن اس کا ہے اور کو ن مقدس ہے اور وہ اسی کو اپنے نزدیک آنے دیگا کیونکہ جسے وہ خود چنے گا اسے وہ اپنی قربت بھی دے گا
6 سو اے قورح اور اسکے فریق کے لوگو ! تم یوں کرو کہ اپنا اپنا بخور دان لو
7 اور ان میں آگ بھر و اور خداوند کے حضور کل ان میں آگ جلاؤ تب جس شخص کو خداوند چن لے گا وہی مقدس ٹھہرے گا اے لاوی کے بیٹوں ! بڑے بڑے دعوے تو تمہارے ہیں
8 پھر موسیٰ نے قورح کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ اے بنی لاوی سنو
9 کیا یہ تم کو چھوٹی بات دکھائی دیتی ہے کہ اسرائیل کے خدا نے تم کو بنی اسرائیل کی جماعت میں سے چن کر الگ کیا تاکہ وہ تم اپنی قربت بخشے اور تم خداوند کے مسکن کی خدمت کرو اور جماعت کے آگے کھڑے ہو کر اس کی بھی خدمت بجا لاؤ
10 اور تجھے اور تیرے بھائیوں کو جو بنی لاوی ہیں نزدیک آنے دیا ؟ سو کیا تم اب کہانت کو بھی چاہتے ہو ؟
11 اسی لیے تو اور تیرے فریق کے لوگ اور یہ سب کے سب خداوند کے خلاف اکٹھے ہوئے اور ہارون کون ہے جو تم اس کی شکایت کرتےہو؟
12 پھر موسیٰٰ نے داتن اور ابیرام کو جو الیاب کے بیٹے تھے بلوا بھیجا انہوں نے کہا ہم نہیں آتے
13 کیا یہ ایک چھوٹی بات ہےکہ تو ہم کو ایک ایسے ملک سے جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے نکال لایا ہے کہ ہم کو بیابا ن میں ہلاک کرے اور اس پر بھی یہ طرہ ہے کہ اب تو سردار بن کر ہم پر حکومت جتاتا ہے ؟
14 ماسوا اسکے تو نے ہم کو اس ملک میں بھی نہیں پہنچایا جہا ں دودھ اور شہد بہتا ہے اور نہ ہم کو کھیتوں اور تاکستانو ں کا وارث بنایا کیا تو ان لوگوں کی آنکھیں نکال ڈالے گا ؟ ہم تو نہیں آنے کے
15 تب خداوند موسیٰ طیش میں آ کر خداوند سے کہنے لگا تو ان کے ہدیہ کی طرف توجہ مت کر میں نے ان سے ایک گدھا بھی نہیں لیا نہ ان میں سے کسی کو کوئی نقصان پہنچایا ہے
16 پھر موسیٰ نے قورح سے کہا کل تو اپنے سارے فریق کے لوگوں کو لے کر خداوند کے آگے حاضر ہو تو بھی ہو اور وہ بھی ہو ں اور ہارون بھی ہو
17 اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنا بخور دان لے کر اس میں بخور ڈالے اور تم اپنے اپنے بخور دان کو جو شمار میں ڈھائی سو ہونگے خداوند کے حضور لاؤ تو بھی اپنا بخور لانا اور ہارون بھی لائے
18 سو انہوں نے اپنا اپنا بخور دان لیکر ان میں بخور ڈالا اور آگ رکھ کر اس پر بخور ڈالا ور خیمہ اجتماع کے دروازہ پر موسیٰ اور ہارون آ کر کھڑے ہوئے
19 اور قورح نے ساری جماعت کو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ان کے خلاف جمع کر لیا تھا تب خداوند کا جلال ساری جماعت کے سامنے نمایاں ہوا ۔
20 اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا
21 کہ تم اپنے آپ کو اس جماعت سے بالکل الگ کر لو تاکہ میں ان کو ایک پل میں بھسم کروں
22 تب وہ منہ کے بل گر کر کہنے لگے اے خدا ! سب بشر کی روحوں کے خدا ! کیا ایک آدمی کے گناہ کے سبب سے تیرا قہر ساری جماعت پر ہوگا ؟
23 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا
24 تو جماعت سے کہہ کہ وہ قورح اور داتن اور ابیرام کے خیموں کے آس پاس سے دور ہٹ جاؤ
25 اور موسیٰ اٹھ کر داتن اور ابیرام کی طرف گیا اور بنی اسرائیل کے بزرگ اس کے پیچھے پیچھے گئے
26 اور اس نے جماعت سے کہا کہ ان شریر آدمیوں کے خیمہ سے نکل جاؤ تا نہ ہو کہ تم بھی ان کے سب گناہوں کے سبب سے نیست ہو جاؤ
27 سو وہ لوگ قورح داتن اور ابیرام کے خیموں کے آس پاس سے دور ہٹ گئے اور داتن اور ابیرام اپنی بیوی اور بیٹو ں اور بال بچوں سمیت نکل کر اپنے خیموںکے دروازوں پر کھٹرے ہوئے
28 تب موسیٰ نے کہا کہ اس سے تم جان لو گے کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ یہ سب کام کروں کیونکہ میں نے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کیا
29 اگر یہ آدمی ویسی ہی موت سے مریں جو سب لوگوں کو آتی ہے یا ان پر ایسے ہی حادثے گذریں جو سب پر گذرتے ہیں تو میں خداوند کا بھیجا ہوا نہیں ہو ں
30 پر اگر خداوند اپنا نیا کرشمہ دکھائے اور زمین اپنا منہ کھول دے اور انکو انکے گھر بار سمیت نگل جائے اور یہ جیتے جی پاتال میں سما جائیں تو تم جاننا کہ انہوں نے خداوند کی تحقیر کی ہے
31 اس نے یہ باتیں ختم ہی کیں تھیں کہ زمین ان کے پاؤں تلے پھٹ گئی
32 اور زمین نے اپنا منہ کھول دیا اور انکو انکے گھر بار کو اور قورح کے ہاں سب آدمیوں کو اور ان کے سب مال و اسباب کو نگل گئی
33 سو وہ اور انکا سارا گھر بار جیتے جی پاتال میں سما گئے اور زمین ان کے اوپر برابر ہو گئی اور وہ جماعت میں سے نابود ہوگئے
34 اور سب اسرائیلی جو ان کے آس پاس تھے ان کا چلانا سن کر یہ کہتے ہو ئے بھاگے کہ کہیں زمین ہم کو بھی نہ نگل نہ لے
35 اور خداوند کے حضور سے آّگ نکلی اور ان ڈھائی سو آدمیوں کو جنہوں نے بخور گذرانا تھا بھسم کر ڈالا
36 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
37 ہارو ن کاہن کے بیٹے الیعزرسے کہہ کہ وہ بخور کو دانوں کے شعلوں میں سے اٹھا لے اور آگ کے انگاروں کو ادھر ہی بکھیر دے کیونکہ وہ پاک ہیں
38 جو خطا کار اپنی ہی جان کے دشمن ہو ئے ان کے بخور دانوں کے پیٹ پیٹ کر پتر بنائے جائیں تاکہ وہ مذبح پر منڈھ جائیں کیونکہ انہوں نے اسے خداوند کے حضور رکھا تھا اس لیے وہ پاک ہیں اور بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان بھی ٹھہریں گے
39 تب الیعزر کاہن نے پیتل کے ان بخور دانوںکو اٹھا لیا جن میں انہوں نے جو بھسم کردیے گئے تھے بخور گذرانا تھا اور مذبح پر منڈھنے کے لیے انکے پتر بنوائے
40 تاکہ بنی اسرائیل کے لیے ایک یاد گار ہو کہ کوئی غیر شخص جو ہارون کی نسل سے نہیں خداوند کے حضور بخور جلانے کو نہ جائے تا نہ ہو کہ وہ قورح اور اسکے فریق کی طرح ہلاک ہو جیسا خداوند نے اس کو موسیٰ کی معرفت بتا دیا تھا
41 لیکن دوسر ے دن بنی اسرائیل کی ساری جماعت نے موسیٰ اور ہارون کی شکایت کی اور کہنے لگے کہ تم نے خداوند کے لوگوں کو مار ڈالا ہے
42 اور جب وہ جماعت موسیٰ اور ہارون کے خلاف اکٹھی ہو رہی تھی تو انہوں نے خیمہ اجتماع کی طرف نظر کی اور دیکھا کہ اس پر ابر چھایا ہوا ہے اور خداوند کا جلال نمایاں ہے
43 تب موسیٰ اور ہارون خیمہ اجتماع کے سامنے آئے
44 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ۔
45 تم اس جماعت کے بیچ سے ہٹ جاؤ تو میں ایک پل میں ان کو بھسم کر ڈالوں تب وہ منہ کے بل گرے۔
46 اور موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ اپنا بخور دان لے اور مذبح پر سے آگ لے کر اس میں ڈال اور اس پر بخور جلا اور جلد جماعت کے پاس جا کر ان کے لیے کفارہ دے کیونکہ خداوند کا قہر نازل ہوا ہے اور وبا شروع ہوگئی ۔
47 موسیٰ کے کہنے کے مطابق ہارون بخور دان لے کر جماعت کے بیچ دوڑتا ہوا گیا اور دیکھا کہ وبا لوگوں میں پھیلنے لگی ہے سو اس نے بخور جلایا اور ان لوگوں کے لیے کفارہ دیا
48 اور وہ مردوں اور زندوں کے بیچ میں کھڑا ہوا تب وبا موقوف ہوئی
49 سو علاوہ ان کے جو قورح کے معاملہ کے سبب سے ہلاک ہوئے تھے چودہ ہزار سات سو آدمی وبا سے چھیج گئے
50 پھر ہارون لوٹ کر خیمہ اجتماع کے دروازہ پر موسیٰ کے پاس آیا اور وبا موقوف ہوگئی ۔



باب 17

1 باب نمبر 17 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل سے گفتگو کرکے انکے سب سرداروں سے ان کے آبائی خاندانوں کے مطابق فی خاندان کے حساب سے بارہ لاٹھیا ں لے اور ہر سردار کا نام اسی لاٹھی پر لکھ
3 اور لاوی کی لاٹھی پر ہارون کا نام لکھنا کیونکہ ان کے آبائی خاندانوں کے ہر سردار کے لیے ایک لاٹھی ہوگی
4 اور انکو لے کر خیمہ اجتماع میں شہادت کے صندوق کے سامنے جہاں میں تم سے ملاقات کرتا ہوں رکھ دینا
5 اور جس شخص کو میں چنوں گا اس کی لاٹھی سے کلیاں پھوٹ نکلیں گی اور بنی اسرائیل جو تم پر کڑکڑاتے رہتےہیں وہ کڑکڑانامیں اپنے پاس سے دفع کرونگا
6 سو موسیٰ نے بنی اسرائیل سے گفتگو کی اور ان کے ہر سردار نے اپنے آبائی خاندانوں کے مطابق فی سردار کے حساب سے بارہ لاٹھیاں اسکو دیں اور ہارون کی لاٹھی بھی ان کی لاٹھیوں میں تھی
7 اور موسیٰ نے ان لاٹھیوں کو شہادت کے خیمہ میں خداوند کے حضور رکھ دیا
8 اور دوسرے دن جب موسی ٰ شہادت کے خیمہ میں گیا تو دیکھا کہ ہارون کی لاٹھی میںجو لاوی خاندان کے نام تھی کلیاں پھوٹی ہوئی اور شگوفے کھلے ہو ئے اور پکے بادام لگے تھے
9 اور موسیٰ ان سب لاٹھیوں کو خداوند کے حضور سے نکالکر سب بنی اسرائیل کے پاس لے گیا اور انہوں نے دیکھا اور پر شخص نے اپنی لاٹھی لے لی
10 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ ہارون کی لاٹھی شہادت کے صندوق کے آگے دھر دے تاکہ وہ فتنہ انگیزوں کے لیے ایک نشان کے طور پر رکھی رہے اور اس طرح تو انکی شکایتیں جو میرے خلاف ہوتی ہیں بند کر دے تاکہ وہ ہلاک نہ ہو ں
11 اور موسیٰ نے جیسا خداوند نے اسے حکم دیا تھا ویسا ہی کیا۔
12 بنی اسرائیلیوں نے موسیٰ سے کہا ،" ہم جانتے ہیں کہ ہم مریں گے ہمیں تباہ ہونا ہی ہے ۔
13 نزدیک جاتا ہے ضرور مر جاتا ہے ۔ کیا ہم سب لوگ فنا ہوجائیں گے ۔"



باب 18

1 باب نمبر 18 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا مقدس کا گناہ تجھ پر اور تیرے بیٹوں پر اور تیرے آبائی خاندان پر ہوگا
2 اور تو لاوی کے قبیلہ یعنی اپنے باپ دادا کے قبیلہ کے لوگوں کو جوتیرے بھائی ہیں اپنے ساتھ لے آیا کر تاکہ وہ تیر ے ساتھ رہ کر تیری خدمت کریں اور شہادت کے خیمہ کے آگے تو اور تیرے بیٹے ہی آیا کریں
3 وہ تیری خدمت اور مذبح کی محافظت کریں فقط وہ مقدس اور کے ظروف اور مذبح کے نزیک نہ جایا کریں تا نہ ہو کہ وہ بھی اور تم بھی ہلاک ہو جاؤ
4 سو وہ تیرے ساتھ ہو کر خیمہ اور خٰیمہ کی سب چیزوں کی محافظت کریں اور کوئی غیر شخص تمہارے نزدیک نہ آنے پائے
5 اور تم مقدس اور مذبح کی حفاظت کرو تاکہ آگے کو بنی اسرائیل پر قہر نازل نہ ہو
6 اور دیکھو میں نے بنی لاوی کو جو تمہارے بھا ئی ہیں بنی اسرائیل سے الگ کر کے تمہاری خاطر بخشش کے طور پر تم کو سپرد کیا تاکہ وہ خیمہ اجتماع کی خدمت کریں
7 پر مذبح کی اور اور پردہ کے اندر کی خدمت تیرے اور تیرے بیٹوں کے ذمہ ہے سو اس کے لیے تم اپنی کہانت کی حفاظت کرنا کہانت کی خدمت کا شرف میں تم کو بخشتا ہوں اور جو غیر شخص نزدیک آئے وہ جان سے مارا جائے۔
8 پھر خداوند نے ہارون سے کہا کہ دیکھ میں نے بنی اسرائیل کی سب پاک چیزوں میں سے اٹھانے کی قربانیاں تجھے دے دی ہیں میں نے انکو تیرے ممسوح ہونے کا حق ٹھہرا کر تجھےا ور تیرے بیٹوں کو ہمیشہ کے لیے دے دیا ہے
9 سب سے پاک چیزوں میں سے جو کچھ آگ سے بچایا جائے گا وہ تیرا ہوگاانکے سب چڑھاوے یعنی نذر کی قر بانی خطا کی قربانی اور جرم کی قربانی جنکو وہ میرے حضور گذرانیں وہ تیرے اور تیرے بیٹو ں کے لیے بہت مقدس ٹھہریں
10 اور تو ان کو نہایت مقدس جان کر کھانا مرد ہی مرد ان کو کھائیں وہ تیرے لیے پاک ہیں
11 اور اپنے ہدیہ کے طور پر جو کچھ بنی اسرائیل اٹھانے کی قربانی اور ہلان ےکی قربانی کے طور پر گذرانیں وہ بھی تیرا ہو ان کو میں تجھ کو اور تیرے بیٹوں کو ہمیشہ کے حق کے طور پر دیتا ہوں تیرے گھرانے میں جتنے پاک ہیں وہ انکو کھائیں
12 اچھے سے اچھا تیل اور اچھی سے اچھی مے اور اچھے سے اچھا گیہوں یعنی ان چیزوں میں سے وہ جو کچھ پہلے پھل کے طور پر خداوند کے حضور گذرانیں وہ سن میں نے تجھے دیا
13 انکے ملک کی پہلی پیداوار کے پہلے پکے پھل جنکو وہ خداوند کے حضور لائیں تیرے ہونگےتیرے گھرانے میں جتنے پاک ہیں وہ انکو کھائیں
14 بنی اسرائیل کی ہر مخصوص کی ہوئی چیز تیری ہے
15 ان جانداروں میں سے جنکو وہ خداوند کے حضور گذرانتے ہیں جتنے پہلو ٹھی کے بچے ہیں خواہ وہ انسان کے ہوں خواہ حیون کےوہ سب تیرے ہوں گے پر انسان پہلوٹھوں کا فدیہ لے کر انکو ضرور چھوڑ دینا اور ناپاک جانوروں کے پہلوٹھے بھی فدیہ سے چھوڑ دیے جائیں
16 اور جنکا فدیہ دیا جائے وہ ایک مہینے کے ہوں تو ان کو اپنی ٹھہرائی ہوئی قیمت کے مطابق مقدِس کی مثقال کے مطابق جو بیس جبرے کی ہوتی ہے چاندی کی پانچ مثقال لے کر چھوڑ دینا
17 لیکن گائے اور بھیر بکری کے پہلوٹھوں کا فدیہ نہ لیا جائے وہ مقدس ہیں تو ان کا خون لے کر مذبح پر چھڑکنا اور انکی چربی آتشین قربانی کے طور پر جلا دینا تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ٹھہرے
18 اور ان کا گوشت تیرا ہو گا جس طرح ہلائی ہو ئی قربانی کا سینہ اور دہنی ران تیرے ہیں
19 اور جتنی بھی چیزیں بنی اسرائیل اٹھانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذرانیں ان سبھو ں کو میں نے تجھے اور تیرے بیٹوں کو ہمیشہ کے حق کے طور پر دے دیا ہے یہ خداوند کے حضور تیرےا ور تیری نسل کے لیے نمک کا دائمی عہد ہے
20 اور خداوند نے ہارون سے کہا کہ ان کے ملک میں تجھے کوئی میراث نہیں ملے گی اور نہ ان کے درمیان تیرا کوئی حصہ ہو گا کیونکہ بنی اسرائی میں تیرا حصہ اور تیری میراث میں ہوں ۔
21 اور بنی لاوی کو اس خدمت کے معاوضہ میں جو خیمہ اجتماع میں کرتے ہیں میں نے بنی اسرائیل کی ساری دہ یکی موروثی حصہ کے طورپر دے دی ہے
22 اور آگے کو بنی اسرائیل خیمہ اجتماع کے نزدیک ہرگز نہ آئیں تا نہ ہو کہ گناہ ان کے سر لگے اور وہ مر جائیں
23 بلکہ بنی لاوی خیمہ اجتماع کی خدمت کریں اور وہی ان کا بارِ گناہ اٹھائیں تمہاری پشت در پشت یہ ایک دائمی آئین ہو اور بنی اسرائیل کے درمیان ان کو کوئی میراث نہ ملے
24 بنی اسرائیل کی ٹھانے کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذرانیں گے ان کا موروثی حصہ کردیا ہے اسی سبب سے میں نے ان کے حق میں کہا ہے کہ بنی اسرائیل کے درمیان انکو کوئی میراث نہ ملے ۔
25 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
26 تو لاویو ں کو اتنا کہہ دینا کہ جب تم بنی اسرائیل سے اس دہ یکی کو لو جسے میں ان کی طرف سے تمہارا موروثی حق کر دیا ہے تو تم اس دہ یکی کی دہ یکی خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی کے طور پر گذراننا ۔
27 اور تمہاری اٹھائی ہو ئی قربانی تمہاری طرف سے ایسی ہی سمھجی جائے گی جیسے کھلیہان سے اٹھا یا ہوا غلہ اور کولھو کی مے سمھجی جاتی ہے ۔
28 اس طریقہ سے تم بھی اپنی سب دہ یکیوں میں سے جو تم کو بنی اسرائیل کی طرف سے ملینگی خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی گذراننا اور خداوند کی یہ اٹھائی ہو ئی قربانی ہارون کاہن کو دینا
29 جتنے نذرانے تمکو ملیں ان میں سے اچھے سے اچھا حصہ جو مقدس کیا گیا ہے اور خداوند کا ہے تم اٹھانے کی قربانی کے طور پر گذراننا
30 سو تو ان سے کہہ دینا کہ جب تم ان میں سے ان کا اچھےسے اچھا حصہ اٹھانے کی قربانی کے طور پر گذرانو تو لاویوں کے حق میں کھلیہا ن کے بھر غلہ اور کولھو کی بھری مے کے برابر محسوب ہوگا
31 اور ان کو تم اپنے گھرانوں سمیت ہر جگہ کھا سکتے ہو کیونکہ یہ اس خدمت کے بدلے تمہارا اجر ہے جو تم خیمہ اجتماع میں کرو گے
32 اور جب تم اس میں سے اچھے سے اچھا حصہ اٹھانے کی قربانی کے طورپر گذرانو تو تم اس کے سبب سے گناہ گا ر نہ ٹھہرو اور خبر دار بنی اسرائیل کی مقدس چیزوں کو ناپاک نہ کرناتاکہ تم ہلاک نہ ہو ۔


باب 19

1 اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ
2 شرع کے جس آئین کا حکم خداوند نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ تو بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ تیرے پاس ایک بے داغ اور بے عیب سرخ رنگ کی بچھیا لائیں جس پر کبھی جوا نہ رکھا گیا ہو
3 اور تم اسے لے کر الیعزر کاہن کو دینا اور وہ اسے لے کر لشکر گاہ کےباہر لے جائے اور کوئی اسے اس کے سامنے ذبح کردے
4
5 اورا لیعزر کاہن اپنی انگلی سے اس کا کچھ خون لے کر اسے خیمہ اجتماع کے آگے کی طرف سات بار چھڑکے پھر کوئی اس کی آنکھوں کے سامنے اس گائے کو جلا دے یعنی اس چمڑا اور گوشت اور خون اور گوبر اس سب کو جلا ئے
6 پھر کاہن دیودار کی لکڑی اور زوفا اور سرخ کپڑا لے کر اس آگ میں جس میں گائے جلتی ہو ڈال دے
7 تب کاہن اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اس کے بعد وہ لشکر گاہ کے اندر آئے پھر بھی کاہن شام تک ناپاک رہےگا
8 اور جو اس گائے کو جلائے وہ بھی اپنے کپڑے پانی سے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا
9 اور کوئی پاک شخص اس گائے کی راکھ کو بٹورے اور اسے لشکر گاہ کے باہر کسی پاک جگہ میں دھر دے یہ بنی اسرائیل کے لیے ناپاکی دور کرنے کے لیے رکھی ہے کیونکہ یہ خطا کی قربانی ہے
10 اور جو اس گائے کی راکھ کو بٹورے وہ شخص بھی اپنے کپڑے دھوئے اور وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا اور یہ بنی اسرائیل کے لیے اور ان پردیسیوں کے جو ان میں بودوباش کرتے ہیں ایک دائمی آئین ہوگا
11 جو کو ئی کسی آدمی کی لاش کو چھوئے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا
12 ایسا آدمی تیسرے دن اپنے آپ کو اس راکھ سے پاک کرے تو وہ ساتویں دن پاک ٹھہرے گا پر اگر وہ تیسرے دن اپنے آپ کو صاف نہ کرے تو وہ ساتویں دن پاک نہیں ٹھہرے گا
13 جو کو ئی آدمی لاش کو چھو کر اپنے کو صاف نہ کرے وہ خداوند کے مسکن کو ناپاک کرتا ہے وہ شخص اسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ ناپاکی دور کرنے کا پانی اس پر چھڑکا نہیں گیا اس لیے وہ ناپاک ہے اسکی ناپاکی اب تک اس پر ہے
14 اگر کوئی آدمی کسی ڈیرے میں مر جائے تو اس کے بارے میں شرع یہ ہے کہ جتنے اس ڈیرے میں آئیں اور جنتے اس ڈیرے میں رہتے ہوں وہ سات دن تک ناپاک رہیں گے
15 اور ہر ایک برتن جسکا ڈھکنا اس پر بندھا نہ وہ ناپاک ٹھہرے گا ۔
16 اور جو کو ئی میدان میں تلوار کے مقتول کو یا مردہ کو یا آدمی کی ہڈی کو یا کسی قبر کو چھوئے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا۔
17 اور ناپاک آدمی کے لیے اس جلی ہوئی خطا کی قربانی کی راکھ کو برتن میں لے کر اس پر بہتا پانی ڈالیں
18 پھر کو ئی پاک آدمی زوفا لے کر اور اسے پانی میں ڈبو ڈبو کر اس ڈیرے پر اور جتنے برتن اور آدمی وہاں ہو ں ان پر اور جس شخص نے ہڈی کو یا مقتول کو یا مردہ کو یا قبر کو چھوا ہے اس پر چھڑکے
19 وہ پاک آدمی تیسرے دن اور ساتویں دس اس ناپاک آدمی پر پانی کو چھڑکے اور ساتویں دن اسے صاف کرے پھر اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے نہائے تو وہ شام کو پاک ہوگا
20 لیکن جو ناپاک ہو اور اپنی صفائی نہ کرے وہ شخص جماعت میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ اس نے خداوند کے مقدس کو ناپاک کیا ناپاکی دور کرنے کا پانی اس پر چھڑکا نہیں گیا اس لیے وہ ناپاک ہے
21 اور یہ ان کے لیے ایک دائمی آئین ہو جو ناپاکی دور کرنے کے پانی کو لے کر چھڑکے وہ اپنے کپڑے دھوئے اور جو کوئی ناپاکی دور کرنے کے پانی کو چھوئے وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا
22 اور جس کسی چیز کو وہ ناپاک آدمی چھوئے وہ ناپاک ٹھہرے گی اور جو کوئی اس چیز کو چھو لے وہ بھی شام تک ناپاک ہے گا۔


باب 20

1 اور پہلے مہینے میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشت صین میں آگئی اور لوگ قادس میں رہنے لگے اور مریم نے وہاں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئی
2 اور جماعت ک ے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا سو وہ موسیٰ اور ہارون کے خلاف اکٹھےہوئے
3 اور لوگ موسیٰ سے جھگڑے اور کہنے لگےہائے کاش ہم بھی اسی وقت مر جاتے جب ہمارے بھائی خداوند کےحضور مرے
4 تم خداوند کی جماعت کو یہا ں دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہا ں مریں؟
5 اور تم نے ہم کو کیوں مصر سے نکال کر اس بری جگہ پہنچایا ہے؟ یہ تو بونے کی اور انجیروں کی اور اناروں کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہاں تو پینے کےلیے پانی تک میسر نہیں ہے
6 اور موسیٰ اور ہارون جماعت کے پاس سے جا کر خٰیمہ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے تب خداوند کا جلال ان پر ظاہر ہوا
7 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
8 اس لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارون دونوں جماعت کو اکٹھا کرواور ان کی آنکھوں کے سامنے اس چٹان سے کہو کہ وہ پانی دے اور ان کے لیے چٹان ہی سے پانی نکلنا یوں جماعت کو اور انکے چوپایوں کو پلانا
9 چنانچہ موسیٰ نے خداوند کےحضور سے حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی
10 اور موسیٰ اور ہارون نے اس جماعت کو چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اس نے ان سے کہا کہ سنو اے باغیو ! کیا ہم تمہارے لیے اس چٹان سے پانی نکالیں؟
11 تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور چٹان پر دوبارہ لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہہ نکلا اور جماعت نے اور انکے چوپایوں نے پیا
12 پر موسیٰ اور ہارون نے خداوند سے کہا کہ چونکہ تم نے میرا یقین نہیں کیا کہ بنی اسرائیل کے سامنے میری تقدیس کرتےاس لیے تم اس جماعت کو اس ملک میں جو میں نے انکو دیا ہے نہیں پہنچانے پاؤ گے
13 مریبہ کا چشمہ یہی ہے کیونکہ بنی اسرائیل نے خداوند سے جھگڑا کیا اور وہ ان کے درمیان قدوس ثابت ہو ا
14 اور موسیٰ نے قادس سے ادوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ تیرا بھائی اسرائیل یہ عرض کرتا ہے کہ تو ہماری سب مصیبتوں سے جو ہم پر آئیں واقف ہے ۔
15 ہمارے باپ دادا مصر میں گئے اور ہم بہت مدت تک مصر میں رہے اور مصریوں نے ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے برا برتاؤ کیا
16 اور جب ہم نے خداوند سے فریاد کی تو اس نے ہماری سنی اور ایک فرشتہ بھیج کر ہم کو مصر سے نکال لے آیا اور ہم قادس شہر میں ہیں جو تیری سرحد کے آخر میں واقع ہے
17 سو ہم کو اپنے ملک میں سے ہو کر جانے کی اجازت دے ہم کھیتوں اور تاکستانو ںمیں سے ہو کر نہیں گذریں گے اور نہ کوؤں کا پانی پیئیں گے ہم شاہراہ پر چلیں گے اور دہنے یا بائیں نہیں مڑیں گے جب تک تیری سرحد سے باہر نہ نکل جائیں
18 پر شاہ ادوم نے کہلا بھیجا کہ تو میرے ملک سے ہو کر جانے نہیں پائے گا اور نہ میں تلوار لے کر تیرا مقابلی کروں گا
19 بنی اسرائیل نے اسے پھر کہلا بھیجا کہ ہم سڑک سڑک ہی جائیں گے اور اگر ہم یا ہمارے چوپائے تیرا پانی بھی پیئیں تو اس کا دام دیں گے ہم کو کچھ نہیں چاہیےسوائے اس کے کہ تو ہمکو پاؤں پاؤں چل کر جانے دے
20 پر اس نے کہا کہ تو ہرگز نکلنے نہیں پائے گا اور ادوم اسکےمقابلہ کے لیے بہت سے آدمی اور ہتھیار لے کر نکل آیا
21 یوں ادوم نے اسرائیل کو اپنی حدود سے گذرنے کا راستہ دینے سے انکار کیا اس لیے اسرائیل اسکی طرف سے مڑ گیا
22 اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت قادس سے روانہ ہو کر کوہ ہور پہنچی
23 اور خداوند نے کوہ ہور پر جو ادوم کی سرحد سے ملا ہوا تھا موسیٰ اور ہارون سے کہا
24 ہارون اپنے لوگوں میں جا ملے گا کیونکہ وہ اس ملک میں جو میں نے اسرائیل کو دیا ہے جانے نہیں پائے گا اس لیے کہ مریبیہ کے چشمہ پر تم نے میرے کلام کے خلاف عمل کیا
25 سو تو ہارون اور اس کے بیٹے الیعزر کو اپنے ساتھ لے کر کوہ ہور کے اوپر آ جا
26 اور ہارون کے لباس کو اتار کر اس کے بیٹے الیعزر کو پہنا دیا کیونکہ ہارون وہیں وفات پا کر اپنے لوگوں میں جا ملا
27 اور موسیٰ نے خداوند کے حکم کے مطابق عمل کیا اور وہ ساری جماعت کی آنکھوں کے سامنے کوہ ہور پر چڑھ گئے
28 اور موسیٰ نے ہارون کے لباس کو اتار کر اسکے بیٹے الیعزر کو پہنا دیا اور ہارون نے وہیں پہاڑ کی چوٹی پر رحلت کی ۔تب موسیٰ اور الیعزر پہاڑ پر سے اتر آئے
29 جب جماعت نے دیکھا کہ ہارون نے وفات پائی تو اسرائیل کے سارے گھرانے کے لوگ ہارون پر تیس دن تک ماتم کرتے رہے۔



باب 21

1 باب نمبر 21 جب عراد کے کنعانی بادشاہ نے جو جنو ب کی طرف رہتا تھا سنا کہ اسرائیلی اتھارم کی راہ سے آ رہے ہیں تو وہ اسرائیلیوں سے لڑا اور ان میں سے کئی کو اسیر کر لیا
2 تب اسرائیلیوں نے خداوند کے حضور منت مانی اور کہا کہ اگر تو سچ مچ ان لوگوں کو ہمارے حوالہ کردے تو ہم ان کے شہروں کو نیست کردیں گے
3 اور خداوند نے ان کی فریاد سنی اور کنعانیوں کو انکے حوالہ کردیا اور انہوں نے انکو اور انکے شہروں کو نیست کر دیا چنانچہ اس جگہ کا نام بھی حرمہ پڑ گیا
4 پھر انہوں نے کوہ ہور سے ہو کر بحر قلزم کا راستہ لیا تاکہ ملک ادوم کے باہر باہر گھوم کر جائیں لیکن ان لوگوں کی جان اس راستہ سے عاجز آ گئی
5 اور لوگ خدا کی اور موسیٰ کی شکایت کر کے کہنے لگے کہ تم کیوں ہمیں مصر سے بیابان میں مرنے کےلیے لے آئے؟ یہاں تو نہ روٹی ہےنہ پانی اور ہمارا جی اس نکمی خوراک سے کراہیت کرتا ہے
6 تب خداوند نے ان لوگوں میں جلانے والے سانپ بھیجے انہوں نے لوگوں کو کاٹا اور بہت سے اسرائیلی مر گئے
7 تب وہ لوگ موسیٰ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ ہم نے گناہ کیا کیونکہ ہم نے خداوند کی اور تیری شکا یت کی سو تو خداوند سے دعا کر کہ ان سانپوں کو ہم سے دور کرے چنانچہ موسیٰ نے لوگوں کے لیے دعا کی
8 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ ایک جلانے والا سانپ بنا لے اور اسے ایک بَلی پر لٹکا دے اور جو سانپ کا ڈسا ہو اس پر نظر کرے گا وہ جیتا بچے گا۔
9 چنانچہ موسیٰ نے پیتل کا ایک سانپ بنا کر اسے بَلی پر لٹکا دیا اور ایسا ہوا کہ جس جس سانپ کے ڈسے ہو ئے آدمی نے اس پیتل کے سانپ پر نگاہ کی وہ جیتا بچ گیا
10 اور بنی اسرائیل نے وہاں سے کوچ کیا اور اوبوت میں آ کر ڈیرے ڈالے
11 پھر اوبوت سے کوچ کیا عیے عباریم میں جو مشرق کی طرف موآب کے سامنے کے بیابان میں واقع ہے ڈیرے ڈالے
12 وہاں سے کوچ کر کے وادی زرد میں ڈیرے ڈالے
13 جب وہاں سے طلے تو ارنون سے پار ہو کر جو اموریوں کی سرحد سے نکل کر بیابان میں بہتی ہے ڈیرے ڈالے کیونکہ موآب اور اموریوں کے درمیان ارنون موآب کی سرحد ہے
14 اسی سبب سے خداوند کے جنگ نامہ میں یہ لکھا ہےواہیب جو سوفہ میں ہے اور ارنون کے نالے۔
15 اور ان نالوں کا ڈھلان جو عار شہر تک جاتا ہے اور موآب کی سرحد سے متصل ہے۔
16 پھر اس جگہ سے وہ بیر کو گئے یہ وہی کوآں ہے جس کے بار ے خداوند نے موسیٰ سے کہا تھا کہ ان لوگوں کو ایک جگہ جمع کر اور میں انکو پانی دونگا۔
17 تب اسرائیل نے یہ گیت گایا اے کوئیں تو ابل آ ۔ تم اس کوئیں کی تعریف گاؤ۔
18 یہ وہی کاآں ہے جسے رئیسوں نے بنایا اور قوم کے اسیروں نے اپنے عصا اور لاٹھیوں سے کھوداتب وہ اس دشت سے متنہ کو گئے
19 اور متنہ سے نحلی ایل اور نحلی ایل سے بامات کو
20 اور بامات سے اس وادی میں پہنچ کر جو موآب کے میدان میں ہے پسگہ کی اس چوٹی تک نکل گئے جہاں سے یشیمون نظرآتا ہے
21 اور اسرائیلیوں نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کے پاس ایلچی روانہ کیے اور یہ کہلا بھیجا کہ
22 ہم کو اپنے ملک سے گذر جانے دے ہم کھیتوں اور انگور کے باغوں میں نہیں گھسینگے اور نہ کوؤں کا پانی پیئیں گے بلکہ شاہراہ سے سیدھے چلےجائیں گے جب تک تیری سرحد سے باہر نہ ہو جائیں
23 پر سیحون نے اسرائیلیوں کو اپنی سرحد سے گزرنے نہ دیابلکہ سیحون اپنے لو گوں کو اکٹھا کر کے اسرائیلیوں کے مقابلہ کے لیے بیابان میں پہنچا اور اس نے یہض میں آ کر اسرائیلیوں سے جنگ کی
24 اور اسرائیل سے اسے تلوار کی دھار سے مارا اور اسکے ملک پر ارنون سے لے کر یبوق تک جہاں بنی عمون کی سرحد ہے قبضہ کر لیا کیونکہ بنی عمون کی سرحد مضبوط تھی
25 سو بنی اسرائیل نے یہاں کے سب شہروں کو لے لیا اور اور سب شہروں میں یعنی حسبون اور اس کے آس پاس کے قصبوں میں بنی اسرائیل بس گئے
26 حسبون اموریوں کے بادشاہ سیحون کا شہر تھا اس نے موّب کے اگلے بادشاہ سے لڑ کر اس کے سارے ملک کو ارنون تک اس سے چھین لیا تھا
27 اسی سبب سے مثل کہنے والوں کی یہ کہاوت ہےکہ حسبون میں آؤتاکہ حسبون کا شہر بنایا اور مضبوط کیا جائے
28 کیونکہ حسبون سےآگ نکلی سیحون کے شہر سے شعلہ برآمد ہوااس نے موآب کے عات شہر کو اور ارنون کے اونچے مقامات کے سرداروں کو بھسم کیا
29 اے موآب ! تجھ پر نوحہاے کموس کے ماننے والوں ! تم ہلاک ہوئے اس نے اپنے بیٹوں کو جو بھاگتے تھے اور اپنی بیٹیوں کو اسیروں کی مانند اموریوں کے بادشاہ سیحون کے حوالہ کیا
30 ہم نے ان پر تیر چلائے سو حسبون دیبون تک تباہ ہو گیا بلکہ ہم نے نفح تک سب کچھ اجاڑ دیا وہ نفح جو میدبا سے متصل ہے
31 بنی اسرائیل اموریوں کے ملک میں رہنے لگے
32 اور موسیٰ نے عزیر کی جاسوسی کرائی پھر انہوں نے اس کے گاؤں لے لیے اور اموریں کو جو وہاں تھے نکال دیا
33 اور وہ گھوم کر بسن کے راستہ سے آگے کو بڑھے اور بسن کا بادشاہ عوج اپنے لشکر کر لے کر نکلا تاکہ ادرعی میں ان سے جنگ کرے
34 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اس سے مت ڈر کیونکہ میں نے اس کو اور اسکے سارے لشکر کو اور اس کے سارے ملک کو تیرے حوالہ کر دیا ہے سو جیسا تو نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کے ساتھ جو حسبون میں رہتا تھا کیا ویسا ہی اس کے ساتھ بھی کرنا ۔
35 چنانچہ انہوں نے اسکو اور اسکے بیٹو ں اور اسب لوگوں کو یہاں تک مارا کہ اسکا کوئی باقی نہ رہا اور اس کے ملک کو اپنے قبضہ میں کر لیا۔



باب 22

1 باب نمبر 22 پھر بنی اسرائیل نے کوچ کیا اور دریائے یردن کے پار موآب کے میدانوں میں یریحو کے مقابل خیمے کھڑے کیے
2 اور جو کچھ بنی اسرائیل نے اموریوں کے ساتھ کیا تھا وہ سب لقن بن صفور نے دیکھا اس لیے موآبیوں کو ان لوگوں سے بڑا خوف آیاکیونکہ وہ بہت سے تھے غرض موآبی بنی اسرائیل کے سبب سے پریشان ہوئے سو موآبیوں نے مدیانی بزرگوں سے کہا کہ جو کچھ ہمارے آس پاس ہے اسے اننوہ ایسا چٹ کر جائے گا جیسے بیل میدان کی گھا س کو چٹ کر جاتا ہے اس وقت بلق بن صفور موآبیوں کا بادشاہ تھا
3
4
5 سو اس نے بعور کے بیٹے بلعام کے پاس فتور کو جو بڑے دریا کے پاس کے کنار ے اس کی قوم کے لوگوں کا ملک تھا قاصد روانہ کیے کہ اسے بلا لائیں اور یہ کہلا بھیجا کہ دیکھ ایک قوم مصر سے نکل کر آئی ہے ان سے زمین کی سطح چھپ گئی ہے اب وہ میرے مقابل ہی آ کر جم گئے ہیں
6 سو تو اب آ کر ان لوگوں پر لعنت کر کیونکہ یہ مجھ سے بہت قوی ہیں پھر ممکن ہے کہ میں غالب آؤں اور ہم ان کو مار کر اس ملک سے نکال دیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جسے تو برکت دیتا ہے اسے برکت ملتی ہے اور جس پر تو لعنت کرتا ہے وہ ملعون ہو تا ہے
7 سو موآب کے بزرگ اور مدیان کے بزرگ فال کھو،نے کا انعام لے کر ساتھ روانہ ہوئے اور بلعام کے پاس پہنچے اور بلق کا پیغام اسے دیا
8 اس نے ان سے کہا کہ آج رات تم یہیں ٹھہرو اور جو کچھ خداوند مجھ سے کہے گا اس کے مطابق میں تم کو جواب دونگا چنانچہ موآب کے امرا بلعام سے ساتھ ٹھہرگئے
9 اور خداوند نے بلعام کے پاس آ کر کہا کہ تیرے پاس یہ آدمی کون ہیں ؟
10 بلعام نے خدا سے کہا کہ موآب کے بادشاہ بلق بن صفور نے میرے پاس کہلا بھیجا ہے کہ
11 جو قوم مصر سے نکل کر آئی ہے اس سے زمین چھپ گئی ہے سو تو اب آ کر میری خاطر ان پر لعنت کر پھر ممکن ہےکہ میں ان سے لڑ سکوں اور ان کو نکال دوں
12 خدا نے بلعام سے کہا تو ان کے ساتھ مت جانا تو ان لوگوں پر لعنت نہ کرنا کیونکہ وہ مبارک ہیں
13 بلعام نے صبح اٹھ کر بلق کے امرا سے کہا تم اپنے ملک کو لوٹ جاؤ کیونکہ خداوند مجھے تمہارے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دیتا
14 اور موآب کے امرا چلے گئے اور واپس جا کر کہا کہ بلعام ہمارے ساتھ آنے سے انکار کرتا ہے تب دوسری دفعہ بلق نے اور امرا کو بھیجا جو پہلو ں سے بڑھکر معزز اور شمار میں زیادہ تھے
15
16 انہوں نے بلعام کے پاس جا کر کہا کہ بلق صفو ر نے یہ کہا ہے کہ میرے پاس آنے میں تیرے لیے کو ئی رکاوٹ نہ ہو
17 کیونکہ میں نہایت عالیٰ منصب پر تجھے ممتاز کروں گا اور جو کچھ تو مجھ سے کہے وہی کروں گا سو تو آ جا اور میری خاطر ان لوگوں پر لعنت کر
18 بلعام نے بلق کے خادموں کو جواب دیا اگر بلق اپنا گھر بھی چاندی اور سونے سے بھر کر مجھے دے تو بھی میں خداوند اپنے خدا کے حکم سے تجاوز نہیں کر سکتا کہ اے گھٹا کر یا بڑھا کر مانوں
19 سو تم بھی آج رات یہیں ٹھہرو تاکہ میں دیکھوں کہ خداوند مجھے اور کیا کہتا ہے
20 اور خدا نے رات کو بلعام کے پاس آ کر کہا کہ اگر یہ آدمی تجھے بلانے کے لیے آئے ہوئے ہیں تو تو اٹھکر ان کے ساتھ جا مگر جو بات میں تجھ سے کہوں اسی پہ عمل کرنا
21 سو بلعام اٹھا اور اپنی گدھی پر زین کس کر موآب کے امرا کے ہمراہ چلا
22 اور اسکے جانے کے سبب سے خدا کا غضب اس پر بھڑکا اور خداوند کا فرشتہ اس سے مزاہمت کرنے کے لیے راستہ روک کر کھڑا ہو گیا وہ تو اپنی گدھی پر سوار تھا اور اس کے ساتھ دو ملازم تھے
23 اور اس گدھی نے خداوند کے فرشتہ کو دیکھا وہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لیے کھڑا ہے تب گدھی راستہ چھوڑ کر ایک طرف ہو گئی اور کھیت میں چلی گئی سو بلعام نے گدھی کو مارا تاکہ اسے راستہ پر لائے۔
24 تب خداوند کا فرشتہ ایک نیچی راہ میں جا کھڑا ہو جو کہ تاکستانوں میں بیچ سے ہو کر نکلتی تھی اور اس کی دونوں طرف دیواریںٰ تھیں
25 گدھی خداوند کے فرشتہ کو دیکھ کر دیوار سے جا لگی اور بلعام کے پاؤں کو دیوار کے ساتھ پچا دیا سو اس نے پھر اسے مارا
26 تب خداوند کا فرشتہ آگے بڑھ کر ایک ایسے تنگ مقام میں کھڑا ہو گیا جہاں دہنی یا بائیں طرف مڑنے کی جگہ نہ تھی
27 پھر جو گدھی نے خداوند کے فرشتہ کو دیکھا تو بلعام کو لیے ہوئے بیٹھ گئی پھر تو بلعام جھلا اٹھا اور اس نے اپنی گدھی کولاٹھی سے مارا
28 تب خداوند نے گدھی کی زبان کھول دی اور اس نے بلعام سے کہا کہ میں نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے کہ تو مجھے تین بار مارا؟
29 بلعام بے گدھی سے کہا اس لیے کہ تو نے مجھے چڑایا کاش ! میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو میں تجھے ابھی مار ڈالتا
30 گدھی نے بلعام سے کہا کیا میں تیری وہی گدھی نہیں ہو ں جس پر تو اپنی ساری عمر آ ج تک سوار ہوتا آیا ہے؟ کیا میں تیرے ساتھ پہلے کبھی ایسا کرتی تھی ؟ اس نے کہا نہیں
31 تب خداوند نے بلعام کی آنکھیں کھولیں اور اس نے خداوند کے فرشتہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لیے ہوئے کھڑا ہے سو اس نے اپنا سر جھکا لیا اور اوندھا ہو گیا
32 خداوند کے فرشتہ نے اسے کہا کہ تو نے اپنی گدھی کو تین بار کیوں مارا؟ دیکھ میں تجھ سے مزاحمت کرنے کو آیا ہو ں اس لیے کہ تیری چال میری نظر میں ٹیڑھی ہے
33 اور گدھی نے مجھکو دیکھا اور تین بار میرے سامنےسے مڑ گئی اگر وہ میرے سامنے سے نہ ہٹتی تو میں ضرور تجھے مار ہی ڈالتا اور اسکو جیتی چھوڑ دیتا
34 بلعام نے خداوند کے فرشتہ سے کہا کہ مجھ سے خطا ہوئی ہے کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ تو میرا راستہ روک ےکھڑا ہے سو اگرا ب تجھے برا لگتا ہے تو میں لوٹ جاتا ہوں
35 خداوند کے فرشتہ نے بلعام سے کہا تو ان آدمیوں کے ساتھ ہی چلا جا لیکن فقط وہی بات کہنا جو میں تجھ سے کہوں سو بلعام بلق کے امرا کے ساتھ گیا
36 بج بلق نے سنا بلعام آ رہا ہے تو اس کے استقبا ل کے لیے موآب کے اس ہر تک گیا جو ارنون کی سرحد پر اس کی حدود کے انتہائی حصہ پر واقعہ تھا
37 تب بلق نے بلعام سے کہا کیا میں نے بڑی امید کے ساتھ تجھے نہیں بلوا بھیجا تھا ؟ پھر تو میرے پاس کیوں نہ چلا آیا کیا میں اس قابل نہیں کہ تجھے عالیٰ منصب پر ممتاز کروں ؟
38 بلعام نے بلق کو جواب دیا دیکھ میں تیرے پاس آ تو گیا ہو ں پر کیا میری اتنی مجال ہے کہ میں کچھ بولوں؟ جو بات خدا میرے منہ میں ڈالے گا وہی میں کہو ں گا
39 اور بلعام بلق کے ساتھ چلا گیا اور وہ قریت حصات میں پہنچے
40 بلق نے بیل اور بھیڑوں کی قربانی گذرانی اور بلعام اور ان امرا کے پاس جو اس کے ساتھ تھے قربانی کا گوشت بھیجا
41 دوسرے دن صبح بلق بلعام کو ساتھ لے کر اسے بعل کے بلند مقاموں پر لے گیا وہاں سے اس نے دور دور کے اسرائیلیوں کو دیکھا۔


باب 23

1 اور بلعام نے بلق سے کہا کہ میرے لیے یہا ں سات مذبحے بنوا دے اور سات بچھڑےاور سات منیڈھے میرے لیے یہا ں تیار کر کے رکھ
2 بلق نے بلعام کے کہنے کے مطابق کیا اور بلق اور بلعام نے ہر مذبح پر ایک بچھڑا اور ایک مینڈھا چڑھایا
3 پھر بلعام نے بلق سے کہا کہ تو اپنی سوختنی قربانی کے پاس کھڑ ا رہ اور میں جاتا ہوں اور ممکن ہے کہ خداوند مجھ سے ملا قات کرنے کو آئے سو جو کچھ وہ مجھ پر ظاہر کرے گا میں تجھے بتاؤں گا او روہ ایک برہنہ پہاڑی پر چلا گیا اور خداوند بلعام سے ملا اس نے اس سے کہا کہ میں سات مذبحے تیار کیے ہیں اور ان پر ایک ایک بچھڑا اور ایک ایک مینڈھا چڑھا یا ہے
4
5 تب خداوند نے ایک بات بلعام کے منہ میں ڈالی اور کہا بلق کے پاس لوٹ جا اور یوں کہنا
6 سو وہ اس کے پاس لوٹ کر آیا اور کیا دیکھتا ہے کہ وہ اپنی سوختنی قربانی کے پاس موآب کے سب امرا سمیت کھڑا ہے۔
7 تب اس نے اپنی مثل شروع کی اور کہنے لگا بلق نے مجھے ارام سےیعنی شاہ موآب نے مشرق کے پہاڑوں سے بلوایاکہ آ جا اور میری خاطر یعقوب پر لعنت کر آ اسرائیل کو پھٹکار
8 میں اس پر لعنت کیسے کروں ج پر خدا نے لعنت نہیں کی؟میں اسے کیسے پھٹکاروں جسے خدا نے نہیں پھٹکارا؟
9 چٹانوں کی چوٹی پر سے وہ مجھے نظر آتے ہیں اور پہاڑوں پر سے میں ان کو دیکھتا ہوں دیکھ ! یہ وہ قوم ہے جو اکیلی بسی رہے گی اور دوسری قوموں کے ساتھ مل کر اسکا شمار نہ ہوگا
10 یعقوب کی گرد کے ذروں کو کون گن سکتا ہے؟کاش ! میں صادقوں کی موت مروں !اور میری عاقبت بھی ان ہی کی مانند ہو !
11 تب بلق نے بلعام سے کہا کہ یہ تو نے مجھ سے کیا کیا ؟ میں نے تجھے بلوایا تاکہ تو میرے دشمنوں پر لعنت کرے اور تو نے انکو برکت ہی برکت دی
12 اس نے جواب دیا اور کہا کیا میں اسی بات کا خیال نہ کروں جو خداوند میرے منہ میں ڈالے؟
13 پھر بلق نے اس سے کہا کہ اب میرے ساتھ دوسری جگہ چل جہاں سے تو ان کو دیکھ بھی سکے گا وہ سب کے سب تو تجھے نہیں دکھائی دیں گے پر جو دور دور پڑے ہیں ان کو دیکھ لے گا پھر تو وہاں سے میری خاطر ان پر لعنت کرنا
14 سو وہ اسے پسکہ کی چوٹی پر جہا ں ضوفیم کا میدان ہے لے گیا وہیں اس نے سات مذبحے بنائے اور ہر مذبح پر ایک بچھڑا اور ایک مینڈھا چڑھایا
15 تب اس نے بلق سے کہا کہ تو یہاں اپنی سوختنی قربانی کے پاس ٹھہرا رہ جب کہ میں ادھر جا کر خداوند نے مل کر آؤں
16 اور بلعام خداوند سے ملا اور اس نے اس کے منہ میں ایک بات ڈالی اور کہا بلق کے پاس لوٹ جا اور یوں کہنا
17 اور جب وہ اس کے پا س لوٹا تو کیا دیکھتا ہےکہ وہ اپنی سوختنی قربانی کے پاس موآب کے امرا سمیت کھڑا ہے تب بلق نے اس سے پوچھا خداوند نے کیا کہا ہے؟
18 تب اس نے اپنی مثل شروع کی اور کہنے لگا اٹھ اے بلق اور سناے صفور کے بیٹے میری باتوں پر کان لگا
19 خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے اور نہ آدم زاد ہے کہ اپنا ارادہ بدلےکیا جو کچھ اس نے کہا اسے نہ کرے؟یا جو کچھ اس نے فرمایا اسےپورا نہ کرے؟
20 دیکھ ! مجھے تو برکت دینے کا حکم ملا ہے اس ن ےبرکت دی اور میں اسے پلٹ نہیں سکتا
21 وہ یعقوب میں کو ئی بدی نہیں پاتا اور نہ اسرائیل میں کوئی خرابی دیکھتا ہےخداوند اسکا خدا اس کے ساتھ ہے اور بادشاہ کی سی للکا ر ان لوگوں کے بیچ ہے
22 خدا ان کو مصر سے نکال کر لیے آ رہا ہےان میں جنگلی سانڈھ کی سے طاقت ہے
23 یعقوب پر کوئی افسون نہیں چلتا اور نہ اسرائیل کے خلاف فال کوئی چیز ہے بلکہ یعقوب اور اسرائیل کے حق میں اب یہ کہا جائے گا کہ خدا نے کیسے کیسے کام کیے
24 دیکھ یہ گروہ شیرنی کی طرح اٹھتی ہے وہ اب نہیں لیٹنے کی جب تک شکار نہ کھا لے اور مقتولوں کا خون نہ پی لے
25 تب بلق نے بلعام سے کہا نہ تو تُو ان پر لعنت ہی کر اور نہ ان کو برکت ہی دے
26 بلعام نے جواب دیا اور بلق سے کہا کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا کہ جو کچھ خداوند کہے وہی مھجے کرنا پڑے گا؟
27 تب بلق نے بلعام سے کہا کہ اچھا آ میں تجھ کو ایک اور جگہ لے جاؤں شاید خدا کو پسند آئے کہ تو میری خاطر وہاں سے ان پر لعنت کرے
28 تب بلق بلعام کو فغور کی چوٹی پر جہاں سے یشمون نظر آتا ہے لے گیا
29 اور بلعام نے بلق سے کہا کہ میرے لیے یہا ں سات مذبح بنوا اور سات بیل اور سات ہی مینڈھے میرے لیے تیار کررکھ
30 چنانچہ بلق نے جیسا بلعام نے کہا ویسا ہی کیا اور ہر مذبح پر ایک بیل اور ایک مینڈھا چڑھایا۔


باب 24

1 جب بلعام نے دیکھا کہ خدا کو یہی منظو ر ہے کہ وہ اسرائیل کو برکت دے تو پہلے کی طرح شگون دیکھنے کو ادھر اُدھر نہ گیا بلکہ بیابان کی طرف اپنا منہ کر لیا
2 اور بلعام نے نگاہ کی اور دیکھا کہ بنی اسرائیل اپنے اپنے قبیلے کی ترتیب سے مقیم ہیں اور خداوندکی روح اس پر نازل ہوئی
3 اور اس نے اپنی مثل شروع کی اور کہنے لگا بعور کا بیٹا بلعام کہتا ہےیعنی وہی شخص جس کی آنکھیں بند تھیں یہ کہتا ہے ۔
4 بلکہ یہ اسی کا کہنا ہے جو خداوندکی باتیں سنتا ہے اور سجدہ میں پڑا ہوا کھلی آنکھوں سےقادر مطلق کی رویا دیکھتا ہے
5 اے یعقوب تیرے ڈیرے اے اسرائیل تیرے خیمے کتنے خوشنما ہیں
6 وہ ایسے پھیلے ہوئے ہیں جیسے وادیاں اور دریا کے کنارے باغ اور خداوندکے لگائے ہوئے عود کے درخت اور ندیوں کے کنارے دیودار کے درخت
7 اسکے کے چرسوں سے پانی بہے گا اور سیراب کھیتوں سے اسکا بیج پڑیگااسکا بادشاہ اجاج سے بڑھ کر ہوگااور اسکی سلطنت کو عروج حاصل ہوگا
8 خدا اسے مصر سے نکال کر لے آ رہا ہے اس میں جنگلی سانڈھ کی سی طاقت ہےو ہ ان قوموں کو جو اس کی دشمن ہیں چٹ کر جائیگا اور انکی ہڈیوں کو توڑ ڈالیگا اور ان کو تیروں سے چھید چھید کر مارے گا
9 وہ دبک کر بیٹھا ہے وہ شیر کی طرحبلکہ شیرنی کی مانند لیٹ گیا ہے اب کو ن اسے چھیڑے؟جو تجھے برکت دے وہ مبارک اور جو تجھ پر لعنت کرے وہ ملعون ہو
10 بت بلق کو بلعام پر طیش آیا اور وہ اپنے ہاتھ پیٹنے لگا پھر اس نے بلعام سے کہا کہ میں نے تجھے بلایا کہ تو میرے دشمنوں پر لعنت کرے لیکن تو نے تینوں بار ان کو برکت ہی برکت دی
11 سو اب تو اپنے ملک کو بھا گ جا میں نے تو سوچا تھا کہ تجھے عالی منصب پر ممتا ز کروں گا لیکن خداوند نے تجھے ایسے اعزاز سے محروم رکھا
12 بلعام نے بلق کو جواب دیا کیا میں نے تیرے ان ایلچیوں کو بھی جن کو تو نے میرے پاس بھیجا تھا یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ
13 اگر بلق اپنا گھر سونے اور چاندی سے بھر کر دے تو بھی میں اپنی مرضی سے بھلا یا برا کرنے کی خاطر خداوند کے حکم سے تجا وز نہیں کر سکتا بلکہ جو خداوند کہےگا میں وہی کہوں گا؟
14 اور اب اپنی قوم کے پاس لوٹ کر جاتا ہوں سو تو آ میں تجھے آگاہ کردوں کہ یہ لوگ آخری دنوں میں کیا کیا کریں گے
15 چنانچہ اس نے اپنی مثل شروع کی اور کہنے لگابعور کا بیٹا بلعام یہ کہتا ہےیعنی وہی شخص جسکی آنکھیں بند تھیں یہ کہتا ہے
16 بلکہ یہ اسی کا کہنا ہے جو خداوند کی باتیں سنتا ہے اور حق تعالیٰ کا عرفان رکھتا ہے اور سجدہ میں پڑا ہوا کھلی آنکھوں سے قادر مطلق کی رویا دیکھتا ہے
17 میں اسے دیکھوں گا تو سہی پر ابھی نہیں وہ مجھے نظر آئے گا پر نزدیک سے نہیں یعقوب میں سے ایک ستارہ نکلے گااور اسرائیل میں سے ایک عصا اٹھے گا اور موآب کی نواحی کو مار مار کر صاف کرے گا اور سب ہنگامہ کرنے والوں کو ہلاک کرے ڈالیگا
18 اور اس کے دشمن ادوم کی اور شعیر اور اسرائیل دلاوری کرے گا
19 اور یعقوب ہی کی نسل سے وہ فرمانروا اٹھے گا جو شہر کے باقی ماندہ لوگوں کو نابود کرڈالے گا
20 پھر اس نے عمالیق پر نظر کرکے اپنی یہ مثل شروع کی اور کہنے لگا قوموں میں پہلی قوم عمالیق تھی پر اسکا انجام ہلاکت ہے
21 اور قینیوں کی طرف نگاہ کر کے یہ مثل شروع کی اور کہنے لگا تیرا مسکن مضبوط ہے اورتیرا آشیانہ بھی چٹان پر بنا ہوا ہے
22 تو بھی قین خانہ خراب ہو گا یہاں تک کہ امور تجھے اسیر کر کے لے جائے گا
23 اور اس نے یہ مثل بھی شروع کی اور کہنے لگا ہائے افسوس ! جب خدا یہ کرے گا تو کون جیتا بچے گا
24 پر کتیم کے ساحل سے جہاز آئیں گے اور وہ اسور اور عبر دونوں کو دکھ دیں گےپھر وہ بھی ہلا ک ہو جائیگا
25 اسکے بعد بلعام اٹھ کر اپنے ملک کو روانہ ہوا اور اپنے ملک کو لوٹا اور بلق نےبھی اپنی راہ لی ۔


باب 25

1 اور اسرائیلی شطیم میں رہتے تھے اور لوگوں نے موآبی عورتو ں کے ساتھ حرام کاری شروع کر دی
2 کیونکہ وہ عورتیں ان لوگوں کو اپنے دیوتاؤں کی قربانیوں میں آنےکی دعوت دیتی تھیں اور یہ لوگ کھاتے اور ان کے دیوتاؤں کو سجدہ کرتے تھے
3 یوں اسرائیلی بعل فغور کو پوجنے لگے تب خداوند کا قہر بنی اسرائیل پر بھڑکا
4 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ قوم کے سب سرداروں کو پکڑ کر خداوند کے حضور دھوپ میں ٹانگ دے تاکہ خداوند کا شدید قہر اسرائیل پر سے ٹل جائے
5 سو موسیٰ نے بنی اسرائیل کے حاکموں سے کہا کہ تمہارے جو جو آدمی بعل فغور کی پوجا کرنےلگے ان کو قتل کر ڈالو
6 اور جب بنی اسرائیل کی جماعت خیمہ اجتماع کے دروازے پر رو رہی تھی تو ایک اسرائیل موسیٰ اور تمام لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ایک مدیانی عورت کو اپنے ساتھ اپنے بھائیوں کے پاس لے آیا
7 جب فنینحاس بن الیعزر بن ہارون کاہن نے یہ دیکھا تو ان نے جماعت میں سے اٹھ کر ہاتھ میں ایک برچھی لی
8 اور اس مرد کے پیچھے جا کر خیمہ کے اندر گھسا اور اس اسرائیلی مرد اور عورت کا پیٹ چھید دیا تب بنی اسرائیل میں سے وبا جاتی رہی
9 اور جتنے اس وبا سے مرے ان کا شمار چوبیس ہزار تھا۔
10 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
11 فینحاس بنی الیعزر بن ہارون کاہن نے میرے قہر کو بنی اسرائیل پر سے ہٹایاکیونکہ ان کے بیچ اسےمیرے لیے غیرت آئی اس لیے میں نے بنی اسرائیل کو اپنی غیرت کے جوش میں نابود نہیں کیا
12 سو تو کہہ دے کہ میں نے اس سے اپنا صلح کا عہد باندھا ۔
13 اور وہ اس کے لیے اور اس کے بعد اس کی نسل کے لیے کہانت کا دائمی عہد ہوگا کیونکہ وہ اپنے خدا کے لیے غیرت مند ہو ا اور اس نے بنی اسرائیل کے لیے کفارہ دیا
14 اس اسرائیلی مرد کا نام جو اس مدیانی عورت کے ساتھ مارا گیا تھا زمری تھا جو سلو کا بیٹا اور شمعون کے قبیلہ کے ایک آبائی خاندان کا سردار تھا
15 اور جو مدیانی عورت ماری گئی اس کا نام کزبی تھا وہ صور کی بیٹی تھی جو مدیان میں ایک آبائی خاندان کے لوگوں کا سردار تھا
16 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
17 مدیانیوں کو ستا نا اور انکو مارنا کیونکہ وہ تم کو اپنے مکر کے دام میں پھنسا کر ستاتےہیں جیسا فغور کے معاملہ میں ہوا اور کزبی کے معاملہ میں بھی ہوا جو مدیان کے سردار کی بیٹی اور مدیانیوں کی بہن تھی اور فغور ہی کے معاملہ میں وبا کے دن ماری گئی۔
18


باب 26

1 اور وبا کے بعد خداوند نے موسیٰ اور ہارون کاہن کے بیٹے الیعزر سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل کی جماعت مین بیس برس اور اس سے اوپر اوپر کی عمر کے جتنے اسرائیلی جنگ کرنے کے قابل ہیں ان سبھو ں کو انکے آبائی خاندانوں کے مطابق گنو
3 چنانچہ موسیٰ اور الیعزر کاہن نے موآب کے میدانوں میں جو یردن کے کنارے کنارے یریحو کے مقابل ہیں ان لوگوں سے کہا
4 کہ بیس برس اور اس سے اوپر اوپر کی عمر کے آدمیوں کو ویسے ہی گن لو جیسے خداوند نے موسیٰ او ربنی اسرائیل کو جب وہ ملک مصر میں سے نکل اّئے تھے حکم کیا تھا
5 روبن جو اسرائیل کا پہلوٹھا تھا اس کے بیٹے یہ ہیں یعنی حنوک جس سے حنوکیوں کا خاندان چلا اور فلو جس سے فلویوں کا خاندان چلا
6 حصر جس سے حصرنیوں کا خاندان چلا اور کرمی جس سے کرمیوں کا خاندان چلا
7 یہ بن روبن کے خاندان ہیں اور ان میں سے جو گنے گئے اور تنتالیس ہزار سا ت سو بیس تھے
8 اور فلو کا بیٹا الیاب تھا
9 اور الیا ب کے بیٹے نموایل اور داتن اور ابیرام تھے اور یہ وہی داتن اور ابیرام ہیں جو جماعت کے چنے ہوئے تھے اور جب قورح کے فریق نے خداوند سے جھگڑا کیا تو یہ تو یہ بھی اس فریق کےساتھ مل کر موسیٰ اور ہارون کے ساتھ جھگڑے
10 اور جب ان ڈھائی سو آدمیوں کے آگ میں بھسم ہو جانے سے وہ فریق نابود ہو گیا تو اسی موقع پر زمین نے منہ کھول کر قورح سمیت ان کو بھی نگل لیا تھا اور وہ سب عبرت کا نشانہ ٹھہرے
11 لیکن قورح کے بیٹے نہیں مرے تھے
12 اور شمعون کے بیٹے جن سے ان کے خاندان چلے یہ ہیں یعنی نموایل جس سے نموایلیوں کا خاندان چلا اور یمن جس سے یمنیوں کا خاندان چلا اور یکین جس سے یکنیوں کا خاندان چلا
13 اور زاراح جس سے زارحیوں کا خاندان چلا اور ساؤل جس سے ساؤلیوں کا خاندان چلا
14 سو بنی شمعون کے خاندانوں میں سے بائیس ہزار دو سو آدمی گنے گئے
15 اور جد کے بیٹے جس سے اس کے بیٹوں کے خاندان چلے یہ ہیں یعنی صفون جس سے صفونیوں کا خاندان چلا اور حجی جس سے حجیوں کا خاندان چلا اور سونی جس سے سونیوں کا خاندان چلا
16 اور اُزنی جس سے ازنیوں کا خاندان چلا اور عیری جس سے عیریوں کا خاندان چلا
17 اور ارود جس سے ارودیوں کا خاندان چلا اور اریلی جس سے اریلیوں کا خاندان چلا ۔
18 بنی جد یہی گھرانے ہیں ان میں سے جو گنے گئے وہ چالیس ہزار پانچ سو تھے
19 یہوداہ کے بیٹوں میں سے عیر اور اونا ن تو ملک کنعان میں ہی مر گئے
20 اور یہوداہ کے بیٹے جن سے ان کے خاندان چلے وہ یہ ہیں یعنی سیلا جس سے سیلانیوں کا خاندان چلا اور فارص جس سے فارصیوں کا خاندان چلا
21 فارص کے بیٹے یہ ہیں یعنی حصرون جس سے حصرونیوں کا خاندان چلا اور حمول جس سے حمولیوں کا خاندان چلا
22 یہ بنی یہوداہ کے گھرانے ہیں ان میں سے چھہتر ہزار پانچ سو آدمی گنے گئے
23 اور اشکار کے بیٹے جس سے انکے خاندان چلے یہ ہیں یعنی تولع جس سے تولعیوں کا خاندان چلا اور فوہ جس سے فویوں کا خاندان چلا
24 یسوب جس سے یسوبیوں کاخاندان چلا سمران جس سے سمرونیوں کا خاندان چلا
25 یہ بنی اشکار کے گھرانے ہیں ان میں سے جو گنے گئے اوہ چونسٹھ ہزار تین سو تھے
26 اور زبولون کے بیٹے جن سے ان کے خاندان چلے یہ ہیں یعنی سرد جس سے سردیوں کا خاندان چلا ایلون جس سے ایلونیوں کا خاندان چلا یہلی ایل جس سے یہلی ایلیوں کا خاندان چلا
27 یہ بنی زبولون کے گھرانے ہیں ان میں سے ساٹھ ہزار پانچ سو آدمی گنے گئے
28 اور یوسف کے بیٹے جن سے ان کے خاندان چلے یہ ہیں یعنی منسی اور افرائیم
29 اور منسی کا بیٹا مکیر تھا جس سےمکیروں کا خاندان چلا اور مکیر سے جلعاد پیدا ہوا جس سے جلعادیوں کا خاندان چلا
30 اور جلعاد کے بیٹے یہ ہیں یعنی ایعزر جس سے ایعزریوں کا خاندان چلا ااور خلق جس سے خلقیوں کا خاندان چلا
31 اور اسری ایل جس سے اسری ایلیوں کا خاندان چلا اور سکم جس سے سکمیوں کا خاندان چلا
32 اور سمیدع جس سے سمیدعیوں کا خاندان چلا اور حفر جس سے حفریوں کا خاندان چلا
33 اور حفر کے بیٹے صلا فحاد کے ہاں کوئی بیٹا نہیں بلکہ بیٹیاں ہی ہوئی اور صلافحاد کی بیٹیوں کے نام یہ ہیں محلاہ نوعاہ اورحجلا ہ اور ملکا ہ اور ترضاہ
34 یہ بنی منسی کے گھرانے ہیں ان میں سے جو گنے گئے وہ باون ہزار سات سو تھے
35 اور افرائیم جن سے ان کے خاندان کے نام چلے یہ ہیں سو تلح جس سے سوتلحیوں کا خاندان چلا اور بکر جس سے بکریوں کا خاندان چلا اور تحن جس سے تحنیوں کا خاندان چلا
36 سو تلح کا بیٹا عیران تھا جس سے عیرانیوں کا خاندان چلا
37 یہ بنی افرائیم کے گھرانے ہیں ان میں سے جو گنے گئے وہ بتیس ہزار پانچ سو تھے یوسف کے بیٹوں کے خاندان یہی ہیں ۔
38 اور بنیمین کے بیٹے جن سے ان کے خاندان کے نام چلے یہ ہیں یعنی بلع جس سے بلعیوں کا خاندان چلا اور اشبیل جس سے اشبیلیوں کا خاندان چلا اور ا خیرام جس سے اخیرامیوں کا خاندان چلا
39 اور سوفام جس سے سوفامیوں کا خاندان چلا اور حوفام جس سے حوفامیوں کا خاندان چلا
40 بلع کے دو بیٹے جس سے ایک ارد جس سے اردیوں کا خاندان چلا اور دوسرا نعمان جس سے نعمانیوں کا خاندان چلا۔
41 یہ بنی بنیمین کے گھرانے ہیں ان میں سے جو گنے گئے وہ پنتالیس ہزار چھے سو تھے
42 اور دان کا بیٹا جس سے اس کا خاندان چلا سوعام تھا اس سے سوعامیوں کا خاندان چلا دانیوں کا خاندان یہی
43 تھا سوعامیوں کے خاندان کے جو آدمی گنے گئے وہ چونسٹھ ہزار چار سو تھے
44 اور آشر کے بیٹے جن سے ان کے خاندان چلے یہ ہیں یعنی یمنہ جس یمنیوں کا خاندان چلا اور اسوی جس سے اسویوں کا خاندا ن چلا اور بر یعاہ جس سے بریعاہیوں کا خاندان چلا
45 بنی بریعاہ یہ ہیں جبر جس سے جبریوں کا خاندان چلا اور ملکی ایل جس سے ملکی ایلیوں کا خاندان چلا
46 اور آشر کی بیٹی کا نام سارہ تھا
47 یہ بنی آشتر کے گھرانے ہیں اور جو ان میں سے گنے گئے وہ ترپن ہزار چار سو تھے
48 اور نفتالی کے بیٹے جن سے ان کے خاندان چلے یہ ہیں یحصی ایل جس سے یحصی ایلیوں کا خاندان چلا اور جونی جس سے جونیوں کا خاندان چلا
49 اور یصر جس سے یصریوں کا خاندان چلا اور سلیم جس سے سلیمیوں کا خاندان چلا ۔
50 یہ بنی نفتالی کے گھرانے ہیں اور جتنے ان میں سے گنے گئے وہ پنتالیس ہزار چار سو تھے
51 سو بنی اسرائیل میں سے جتنے گنے گئے وہ سب ملاکر چھ لاکھ ایک ہزار سات سو تیس تھے
52 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا
53 ان ہی کو ان کے ناموں کے شمار کے موافق وہ زمین میراث کے طور پر بانٹ دی جائے
54 جس قبیلہ میں زیادہ آدمی ہوں اسے زیادہ حصہ ملے اور جس میں کم ہوں اسے کم حصہ ملے ہر قبیلہ کی میراث اسکے گنے ہوئے آدمیوں کے شمار پر موقوف ہو
55 لیکن زمین قرعہ سے تقسیم کی جائے وہ اپنے آبائی قبیلوں کے ناموں کے مطابق میراث پائیں ۔
56 اور خواہ زیادہ آدمیوں کا قبیلہ ہو یا تھوڑوں کا قرعہ ان کی میراث تقسیم کی جائے
57 اور جو لاویوں میں سے اپنے اپنے خاندان کے مطابق گنے گئے وہ یہ ہیں یعنی جیرسونیوں سے جیرسونیوں کا گھرانا قہات سے قہاتیوں کا گھرانا مراری سے مراریوں کا گھرانا
58 اور یہ یہ بھی لاویوں کے گھرانے ہیں لبنی کا گھرانا جرون کا گھرانا محلی کا گھرانا اور موشی کا گھرانا اور قورح کا گھرانا اور قہات سے عمرام پیدا ہوا
59 اور عمرام کی بیوی کا نام یوکبد تھا جو لاوی کی بیٹی تھی اور مصر میں لاوی کے ہاں پیدا ہوئی تھی اسی کے ہارون اور موسیٰ اور انکی بہن مریم عمرام سے پیدا ہوئے
60 اور ہارون کے بیٹے یہ تھے ندب اور ابیہو اور الیعزر اور اتمر
61 اور ندب اور ابیہو تو اسی وقت مر گئے جب انہوں نے خداوند کے حضور اوپری آگ گذرانی تھی
62 سو ان میں سے ایک مہینہ اور ااس کے اوپر اوپر کے نرینہ فرزند گنے گئے وہ تئیس ہزار تھے یہ بنی اسرائیل کے ساتھ نہیں گنے گئے کیونکہ ان کو بنی اسرائیل کے ساتھ میراث نہیں ملی
63 سو موسیٰ اور الیعزر کاہن نے جن بنی اسرائیل کو موآب میدانوں میں جو یردن کے کنارے کنارے یریحو کے مقابل میں شمار کیا گیا وہ یہی ہیں
64 پر جن اسرائیلیوں کو موسیٰ اور ہارون نے دشت سینا میں گنا تھا ان میں سے ایک شخص بھی ان میں سے نہ تھا
65 کیونکہ خداوند نے ان کے حق میں کہہ دیا تھا کہ وہ یقیناً بیانان میں مر جائیں گے چنانچہ ان میں سے سوا یفنہ کے بیٹے کالب اور نون کے بیٹے یشوع کے ایک بھی باقی نہیں بچا تھا۔


باب 27

1 تب یوسف کے بیٹے منسی کی اولاد کے گھرانوں میں سے صلادحفحاد بن جعفر بن جلعاد بن مکیر بن منسی کی بیٹیاں جن کے نام محالاہ اور نوعاہ اور حجلاہ اور ملکا ہ اور تر ضاہ ہیں پاس آ کر
2 خیمہ اجتماع کے دروازہ پر موسیٰ اور الیعزر اور سب امیروں اور سب جماعت کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہنے لگیں کہ
3 ہمار ا باپ بیابان میں مرا پر وہ ان لوگوں میں شامل نہ تھا جنہوں نے قورح کے فریق کے ساتھ مل کر خداوند کے خلاف سر اٹھایا تھا نلکہ وہ اپنے گناہ میں مرا اور اسکے کوئی بیٹا نہ تھا
4 سو بیٹا نہ ہونے کے سبب سے ہمارے باپ کا نام اس گھرانے سے کیوں مٹنے پائے اس لیے ہم کو بھی ہمارے باپ بھائیوں کے ساتھ حصہ دو
5 موسیٰ ان کے معاملہ کو خداوند کے حضور لے گیا
6 خداوند نے موسیٰ سے کہا
7 صلافحاد کی بیٹیاں ٹھیک کہتی ہیں تو انکو ان کے باپ کے بھائیوں کے ساتھ ضرور ہی میراث میں حصہ دینا یعنی انکو انکے باپ کی میراث ملے
8 اور بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس ک ےکوئی بیٹا نہ ہو تو اس کی میراث اسکی بیٹی کو دینا
9 اور اگر اس کی بیٹی بھی نہ ہو تو اس کےبھائیوں کو اس کی میراث دینا۔
10 اور اگر اسکے بھائی بھی نہ ہوں تو اس کی میراث اس کے با پ کے بھائیوں کا دینا ۔
11 اور اگر اس کے باپ کا بھی کوئی بھائی نہ ہو تو جو شخص اسکے گھرانے میں اسکا سب قریبی رشتہ دار ہو اسے اسکی میراث دینا وہ اسکا وارث ہوگا اور حکم بنی اسرائیل نے جیسا موسیٰ کو فرمایا واجبی فرض ہوگا۔
12 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ تو عباریم کے اس پہاڑ پر چڑھ کر اس ملک کو جو میں نے بنی اسرائیل کو عنایت کیا ہے دیکھ لے
13 اور جب تو اسے دیکھ لے گا تو تُو بھی اپنے لوگوں میں اپنے بھائی ہارون کی طرح جاملیگا
14 کیونکہ جب دشت صین میں جب جماعت نے مجھ سے جھگڑا کیا تو برعکس اس کے کہ وہاں پانی کے چشمہ پر تم دونوں انکی آنکھوں کے سامنے میری تقدیس کرتے تم نے میرے حکم سے سر کشی کی یہ وہی مریبہ کا چشمہ ہے جو دشت صین کے قادس میں ہے
15 موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ
16 خداوند سارے بشر کی روحوں کا خدا کسی آدمی کو اس جماعت پر مقرر کرے
17 جسکی آمدورفت ان کے روبرو ہو اور انکو باہر لے جانے اور اند ر لے آنے میں ان کا راہبر ہو تاکہ خداوند کی جماعت ان بھیڑوں کی مانند نہ رہے جن کا کوئی چرواہا نہیں
18 خداوند نے موسیٰ سے کہا تو نون کے بیٹے یشوع کو لے کر اس پر اپنا ہاتھ رکھ کیونکہ اس شخص میں روح ہے
19 اور اسے الیعزر کاہن اور ساری جماعت کے سامنے کھڑا کر کے انکی آنکھوں کے سامنے ان کو وصیت کر
20 اور اپنے رعب داب سے اسے بہرہ ور کر دے تاکہ بنی اسرائیل کی ساری جماعت اسکی فرمانبرداری کرے
21 وہ الیعزر کاہن کے آگے کھڑا ہوا کرے جو اسکی جانب سے خداوند کے حضور اوریم کا حکم دریافت کیا کریگا اسی کے کہنے سے وہ اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت نکلا کریں اور اسی کے کہنے سے لوٹا بھی کریں
22 سو موسیٰ سے خداوند کے حکم کے مطابق عمل کیا اور اس نے یشوع کو لے کر اسے الیعزر کاہن اور ساری جماعت کے سامنے کھڑا کیا
23 اور اس نے اپنے ہاتھ اس پر رکھے اور جیسا خداوند نے اسکو حکم دیا تھا اسے وصیت کی۔


باب 28

1 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ میراچڑھاوا یعنی میری وہ غذا جو راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی ہے تم یاد کرکے میرے حضور معین وقت پر گذرانا کرنا
3 تو ان سے کہہ دے کہ جو آتشین قربانی تم کو خداوند کے حضور گذراننا ہے وہ یہ ہے کہ دو بے عیب یکسالہ نر برے ہر روز دائمی سوختنی قربانی کے لیے چڑھایا کرو
4 ایک برہ صبح اور ایک شام کو چڑھانا
5 اور ساتھ ہی ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ جس میں کوٹکر نکالا ہوا تیل چوتھائی ہین کے برابر ملا ہو نذر کی قربانی کے طور پر گذراننا
6 یہ وہی دائمی سوختنی قربانی ہے جو کوہ سینا پر مقرر کی گئی تھی تاکہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی ٹھہرے
7 اور ہین کی چوتھائی براب مے فی برہ تپاون کے لانا ۔ مقدِس ہی میں خداوند کا یہ تپاون چڑھانا
8 اور دوسرے برہ کو شام کے وقت چڑھانا اور اسکے ساتھ بھی صبح کی طرح ویسی ہی نذر کی قربانی اور تپاون ہو تاکہ یہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبوکی آتشین قرنانی ٹھہرے
9 اور سبت کے روز دو یکسالہ بے عیب نر برے اور نذر کی قربانی کے طور پر ایفہ کے پانچویں حصہ کے برابر میدہ جس میں تیل ملا ہو تپاون کے ساتھ گذراننا
10 دائمی سوختنی قربانی اور اسکے تپاون کے علاوہ یہ ہر سبت کی سوختنی قربانی ہے
11 اور اپنے مہینوں کے شروع میں ہر ماہ دوبچھڑے اور ایک مینڈھا اور سات بے عیب یکسالہ نر برے سوختنی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور چڑھایا کرنا
12 اور ایفہ کے تین دہائی کے برابر میدہ جس میں تیل ملا ہو ہر بچھڑے کے ساتھ اور ایفہ کے پانچویں حصہ کے برابر میدہ جس میں تیل ملا ہو ہر مینڈھے کے ساتھ اور ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ جس میں تیل ملا ہو۔
13 ہر برہ کے ساتھ نذر کی قربانی کے طور پر لانا تاکہ یہ راحت انگیز خوشبو کی سوختنی قربانی یعنی خداوند کے حضور آتشین قربانی ٹھہرے
14 اور ان کے ساتھ تپاون لیے مے فی بچھڑا نصف ہین کے برابر اور فی مینڈھا تہائی ہین کے برابر اور فی برہ چوتھائی ہین کے برابر ہو یہ سال بھر کے ہر مہینے کی سوختنی قربانی ہے
15 اور اس دائمی سوختنی قربانی اور اس کے تپاون کے علاوہ ایک بکرا خطا کی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گذرانا جائے
16 اور پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو خداوند کی فسح ہوا کرے ۔
17 اور اسی مہینے کی پندرھویں تاریخ کو عید ہو اور سات دن تک بے خمیری روٹی کھائی جائے
18 پہلے روز مقدس لوگوں کا مجمع ہو تم اس دن کو ئی خادمانہ کا م نہ کرنا
19 بلکہ تم آتشین قربانی یعنی خداوند کے حضور سوختنی قربانی کے طور پر دو بچھڑےاور ایک مینڈھا اور سات یکسالہ نر برے چڑھانا اور یہ سب بے عیب ہوں
20 اور ان کے ساتھ نذر کی قربانی کے طور پر تیل ملا ہوا میدہ فی بچھڑا ایفہ کے تین دہائی حصہ کے برابر اور فی مینڈھا پانچویں حصہ کے برابر
21 اور ساتوں بروں میں سے ہر برہ پیچھے ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر گذرانا کرنا
22 اور خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا ہو تاکہ اس سے تمہارے لیے کفارہ دیا جائے
23 تم صبح کی سوختنی قربانی کے علاوہ جو دائمی سوختنی قربانی ہے انکو بھی گذراننا
24 اسی طرح تم سات دن تک آتشین قربانی کی یہ غذا چڑھانا تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ٹھہرے روز مرہ کی دائمی سوختنی قربانی اور تپاون کے علاوہ یہ بھی گذرانا جائے
25 اور ساتویں دن پھر تمہارا مقدس مجمع ہو اس میں تم کوئی خادمانہ کا م نہ کرنا
26 اور پہلے پھلوں کے دن جب تم نئی نذر کی قربانی ہفتوں کی عید میں خداوند کے حضور گذرانو تب بھی تمہارا مقدس مجمع ہو اس روز کوئی خادمانہ کا م نہ کرنا
27 بلکہ تم سوختنی قربانی کے طور پر دو بچھڑےاور ایک مینڈھا اور سات یکسالہ نر برے گذراننا تاکہ یہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ہو
28 اور انکے ساتھ نذر کی قربانی کے طورپر تیل ملا ہوا میدہ فی بچھڑا ایفہ کے تین دہائی حصہ کے برابر اور فی مینڈھا پانچویں حصہ کے برابر
29 ) اور ساتوں بروں میں سے ہر برہ پیچھے ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر ہو
30 اور ایک بکرا ہو تاکہ اس سے تمہارے لیے کفارہ دیا جائے ۔
31 دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی کے علاوہ تم انکو بھی گذراننا ۔ یہ سب بے عیب ہوں اور انکے تپاون ساتھ ہوں ۔


باب 29

1 اور ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ کو تمہارا مقدس مجمع ہو اس میں کو ئی خادمانہ کا م نہ کرنا یہ تمہارے نرسنگے پھونکنے کا دن ہے
2 کہ تم سوختنی قربانی کے طور پر دو بچھڑےاور ایک مینڈھا اور سات یکسالہ نر برے گذراننا تاکہ یہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ٹھہرے
3 اور انکے ساتھ نذر کی قربانی کے طورپر تیل ملا ہوا میدہ فی بچھڑا ایفہ کے تین دہائی حصہ کے برابر اور فی مینڈھا پانچویں حصہ کے برابر
4 ) اور ساتوں بروں میں سے ہر برہ پیچھے ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر ہو
5 اور ایک بکرا ہو تاکہ اس سے تمہارے لیے کفارہ دیا جائے
6 نئے چاند کی سوختنی قربانی اور نذر کی قربانی اور دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ جو اپنے اپنے آئین کے مطابق گذرانے جائیں گے یہ بھی راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی کے طورپر خداوند کے حضور چڑھائے جائیں ۔
7 پھر اسی ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تمہارا مقدس مجمع جمع ہو تم اپنی اپنی جان کو دکھ دینا اور کسی طرح کا کام نہ کرنا ۔
8 بلکہ تم سوختنی قربانی کے طور پر دو بچھڑےاور ایک مینڈھا اور سات یکسالہ نر برے خداوند کے حضور چڑھانا تاکہ یہ راحت انگیز خوشبو ٹھہرے اور یہ سب کے سب بے عیب ہوں
9 ) اور انکے ساتھ نذر کی قربانی کے طورپر تیل ملا ہوا میدہ فی بچھڑا ایفہ کے تین دہائی حصہ کے برابر اور فی مینڈھا پانچویں حصہ کے برابر
10 ) اور ساتوں بروں میں سے ہر برہ پیچھے ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر ہو۔
11 اور خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا ہو یہ بھی اس خطا کی قربانی کے علاوہ جو کفارہ کے لیے ہے اور دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ چڑھائے جائیں
12 اور ساتویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کو پھر تمہارا مقدس مجمع جمع ہو اس دن تم کو ئی خادمانہ کا م نہ کرنا اور سات دن تک خداوند کے لیے عید منانا
13 اور تم سوختنی قربانی کے طور پر تیرہ بچھڑے دومینڈھے اور چودہ یکسالہ نر برے چڑھانا تاکہ یہ راحت انگیز خوشبو ٹھہرے یہ سب کے سب بے عیب ہوں
14 اور انکے ساتھ نذر کی قربانی کے طور پر تیرہ بچھڑوں میں سے ہر بچھڑے پیچھے تیل ملا ہو میدہ ایفہ کے تین دہائی حصہ کے برابر اور دونوں مینڈھوں میں سے ہر مینڈھے پیچھے پانچویں حصہ کے برابر
15 اور چودہ بروں پیچھے ہر برہ پیچھے ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر ہو
16 اور ایک بکرا خطا کی قربانی کے لیے ہو یہ سب دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور تپاون کے علاوہ چڑھائے جائیں ۔
17 اور دوسر ے دن بارہ بچھڑے دو مینڈھے اور چودہ بے عیب یکسالہ نر برے چڑھانا
18 اور بچھڑوں اور مینڈھو ں اور بروں کے ساتھ ان کے شمار اور آئین کے مطابق ان کی نذر کی قربانی اور تپاون ہو
19 اور ایک بکرا خطا کی قربانی کے لیے ہو یہ سب دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ چڑھائے جائیں
20 اور تیسرے دن گیارہ بچھڑے دو مینڈھے اور چودہ بے عیب یکسالہ نر برے چڑھانا
21 اور بچھڑوں اور مینڈھو ں اور بروں کے ساتھ ان کے شمار اور آئین کے مطابق ان کی نذر کی قربانی اور تپاون ہو
22 اور ایک بکرا خطا کی قربانی کے لیے ہو یہ سب دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ چڑھائے جائیں۔
23 اور چوتھے دن دس بچھڑے دو مینڈھے اور چودہ بے عیب یکسالہ نر برے چڑھانا
24 اور بچھڑوں اور مینڈھو ں اور بروں کے ساتھ ان کے شمار اور آئین کے مطابق ان کی نذر کی قربانی اور تپاون ہو
25 اور ایک بکرا خطا کی قربانی کے لیے ہو یہ سب دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ چڑھائے جائیں۔
26 اور پانچویں دن نو بچھڑے دو مینڈھے اور چودہ بے عیب یکسالہ نر برے چڑھانا
27 اور بچھڑوں اور مینڈھو ں اور بروں کے ساتھ ان کے شمار اور آئین کے مطابق ان کی نذر کی قربانی اور تپاون ہو
28 اور ایک بکرا خطا کی قربانی کے لیے ہو یہ سب دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ چڑھائے جائیں
29 اور چھٹے دن آٹھ بچھڑے دو مینڈھے اور چودہ بے عیب یکسالہ نر برے چڑھانا
30 اور بچھڑوں اور مینڈھو ں اور بروں کے ساتھ ان کے شمار اور آئین کے مطابق ان کی نذر کی قربانی اور تپاون ہو
31 اور ایک بکرا خطا کی قربانی کے لیے ہو یہ سب دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ چڑھائے جائیں
32 ) اورساتویں دن سات بچھڑے دو مینڈھے اور چودہ بے عیب یکسالہ نر برے چڑھانا
33 اور بچھڑوں اور مینڈھو ں اور بروں کے ساتھ ان کے شمار اور آئین کے مطابق ان کی نذر کی قربانی اور تپاون ہو
34 اور ایک بکرا خطا کی قربانی کے لیے ہو یہ سب دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ چڑھائے جائیں
35 اور آٹھویں دن تمہارا مقدس مجمع اکٹھا ہو اور اس دن تم کوئی خادمانہ کام نہ کرنا ۔
36 بلکہ تم ایک بچھڑا ایک مینڈھا اور سات یکسالہ بے عیب نر برے سوختنی قربانی کے لیے چڑھا نا تاہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی ٹھہرے
37 ) اور بچھڑے اور مینڈھے اور برے کے ساتھ ان کے شمار اور آئین کے مطابق ان کی نذر کی قربانی اور تپاون ہو
38 اور ایک بکرا خطا کی قربانی کے لیے ہو یہ سب دائمی سوختنی قربانی اور اسکی نذر کی قربانی اور انکے تپاونوں کے علاوہ چڑھائے جائیں
39 تم اپنی مقرر عیدوں میں اپنی منتوں اور رضا کی قربانیوں کے علاوہ سوخنتی قربانیاں اور نذر کی قربانیاں اور تپاون اور سلامتی کی قربانیاں گذراننا
40 اور جو کچھ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا وہ سب موسیٰ نے بنی اسرائیل کو بتا دیا۔


باب 30

1 اور موسیٰ نے بنی اسرائیل کے سرداروں سے کہا کہ جس بات کا خداوند نے حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ
2 جب کوئی مرد خداوند کی منت مانے یا قسم کھا کر اپنے اوپر کوئی خاص فرض ٹھہرائے تو وہ اپنے عہد کو نہ توڑے بلکہ جو کچھ اس کے منہ سے نکلا ہے اسے پورا کرے
3 اور اگر کوئی عورت خداوند کی منت مانے اور اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے باپ کے گھر ہوتے ہوئے اپنے اوپر کوئی فرض ٹھہرائے
4 اور اسکا باپ اسکی منت اور اسکے فرض کا حال جو اس نے اپنے اوپر ٹھہرایا ہے سن کر چپ ہو رہے تو وہ سب منتیں اور سب فرض جو اس عورت نے اپنے اوپر ٹھہرائے ہیں قائم رہیں گے
5 لیکن اگر اس کا باپ جس دن یہ سنے اسی دن اسے منع کرے تو اس کی منت یا کوئی فرض جو اس نے اپنے اوپر ٹھہرایا قائم نہیں رہےگا اور خداوند اس عورت کو معذور رکھے گا کیونکہ اسکے باپ نے اسے اجازت نہیں دی
6 اور اگر کسی آدمی سے اس کی نسبت ہوجائے حالانکہ اس کی منیتیں یا منہ کی نکلی ہوئی بات جو اس نے اپنے اوپر فرض ٹھہرائی ہے اب تک پوری نہ ہوئی ہو
7 اور اس کا آدمی یہ حال سن کر اس دن اس سے کچھ نہ کہے تو اس کی منیتں قائم رہیں گی اور جو باتیں اس نے اپنے اوپر فرض ٹھہرائی ہیں وہ بھی قائم رہیں گی
8 لیکن اگر اسکا آدمی جس دن یہ سب سنے اور اسی دن اسے منع کرے تو اس نے گویا اس عورت کی منت کو اور اس کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو جو اس نے اپنے اوپر فرض ٹھہرائی توڑ دیا اور خداوند اس عورت کو معذور رکھے گا
9 پر بیوہ اور مطقہ کی منیتیں اور فرض ٹھہرائی ہوئی باتیں قائم رہیں گی
10 اور اگر اس نے اپنے شوہر کے گھر ہوتے ہوئے کوئی منت مانی یا قسم کھا کر اپنے اوپر کوئی فرض ٹھہرایا ہو ۔
11 اور اس کا شوہر یہ حال سن کر خاموش رہا اور اس نے اسے منع نہ کیا ہو تو اس کی منیتیں اور اس کے سب فرض جو اس نے اپنے اوپر ٹھہرائے قائم رہیں گے
12 پر اگر اس کے شوہر نے جس دن یہ حال سنا اسی دن اسے باطل ٹھہرا یا ہو تو جو کچھ اس عورت کے منہ سے اسکی منتوں اور اسکے ٹھہرائے ہوئے فرض کے بارے نکلا ہے وہ قائم نہیں رہے گا اسکے شوہر نے اس کو توڑ ڈالا اور ہے اور خداوند اس عورت کو معذور رکھے گا
13 اسکی ہر منت کو اور پنی جان کو دکھ دینے کی ہر قسم کو اسکا شوہر چاہے تو قائم رکھے یا اگر چاہے تو باطل ٹھہرائے
14 پر اگر اسکا شوہر روز بروز خاموش ہی رہے تو وہ گویا اس کی سب منتوں اور ٹھہرائے ہوئے فرضوں کو قائم کردیتا ہے اس نے انکو قائم یوں کیا کہ جس دن سے سب سنا وہ خاموش ہی رہا
15 پر اگر وہ ان کو سن کر بعد میں ان کو باطل ٹھہرائے تو وہ اس عورت کا گناہ اٹھائے گا
16 شوہر اور بیوی کے درمیان اور باپ اور بیٹی کے درمیان جب بیٹی نوجوانی کے ایام میں باپ کے گھر ہو ان ہی آئین کا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا۔


باب 31

1 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا
2 مدیانیوں سے بنی اسرائیل کا انتقام لے اسکے بعد تو اپنے لوگوں میں جا ملے گا
3 تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ اپنے میں سے جنگ کے لیے آدمیوں کو مسلح کرو تاکہ وہ مدیانیوں پر حملہ کریں اور مدیانیوں سے خداوند کا انتقام لیں ۔
4 اور اسرائیل کے سب قبیلوں میںسےفی قبیلہ ایک ہزار آدمی لے جنگ کے لیے بھیجنا
5 سو ہزاروں ہزار بنی اسرائیل میں سے فی قبیلہ ایک ہزار کے حساب سے بارہ ہزار آدمی جنگ کے لیے چنے گئے
6 یوں موسیٰ نے ہر قبیلہ ایک ہزار آدمیوں کو جنگ کے لیے بھیجا اورا لیعزر کاہن کے بیٹے فنیحاس کو بھی جنگ پر روانہ کیا اور مقدس کے ظروف بلند آواز کے نرسنگے اسکے ساتھ کردئیے
7 اور جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی انہوں نے مدیانیوں کے ساتھ جنگ کی اور سب مردوں کو قتل کیا
8 اور انہوں نے ان کے مقتولوں کے سوا عوی اور رقم اور صور اور حور اور ربع کو بھی جو مدیان کے پانچ بادشاہ تھے جان سے مارا اور بعور کے بیٹے بلعام کو بھی تلوار سے قتل کیا
9 اور بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کیا اور ان کے چوپائے اور بھیڑ بکریاں اور مال و اسباب سب کچھ لوٹ لیا
10 اور ان کی سکونت گاہ کے سب شہروں کو جن میں وہ رہتے تھے اور ان کی سب چھاؤنیوں کو آگ سے پھونک دیا
11 اور انہوں نے سار امال غنیمت اور سب اسیر کیا ہو انسان اور کیا حیوان ساتھ لے گئے
12 اور ان اسیروں کو موسی ٰ اور الیعزر کاہن اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے پاس اس لشکر گاہ میں لے آئے جو یریحو کے مقابل یردن کے کنارے کنارے موآب کے میدانوں میں تھی ۔
13 تب موسیٰ ااور الیعزر کاہن اور جماعت کے سب سردار انکے استقبال کے لیے لشکر گاہ کے باہر گئے
14 اور موسیٰ ان فوجی سرداروں جو ہزاروں اور سینکڑوں کے سردار تھےاور جنگ سے لوٹے تھے جھلایا
15 اور ان سے کہنے لگا کیا تم نے سب عورتیں جیتی بچا رکھی ہیں؟
16 دیکھو ان ہی نے بلعام کی صلاح سے فغور کے معاملہ میں بنی اسرائیل سے خداوند کی حکم عدولی کرائی اوریوں خداوند کی جماعت میں وبا پھیلی
17 اس لیے ان بچوں میں سے جنتے لڑکے ہیں ان کو مار ڈالو اور جتنی عورتیں مرد کا منہ دیکھ چکی ہیں ان کو قتل کر ڈالو
18 لیکن ان لڑکیوں کو جو مرد سے واقف نہیں اور اچھوتی ہیں اپنے لیے زندہ رکھو
19 اور تم سات دن لشکر گاہ کے باہر ہی ڈیرے ڈالے پڑے رہو اور تم میں سے جتنوں نے بھی کسی آدمی کو جان سے مارا ہو اور جتنوں نے کسی مقتول کا چھوا ہو وہ سب اپنے آپ کو اور اپنے قیدیوں کو تیسرے دن اور ساتویں دن پاک کریں
20 اور تم اپنے کپڑے اور چمڑے اور بکری کے بالوں کی بنی ہوئی سب چیزوں کو اور لکڑی کے سب برتنوں کو پاک کرنا
21 اور الیعزر کاہن نے ان سپاہیوں سے جو جنگ پر گئے تھے کہ شریعت کا وہ آئیں جسکا حکم خداوند نے موسیٰ کو دیا وہ یہی ہے کہ
22 سونا چاندی اور پیتل اور لوہا اور رانگا اور سیسا
23 غرض جو کچھ آگ میں ٹھہر سکے وہ سب کچھ تم آگ میں ڈالنا تب وہ صا ف ہوگا اور تو بھی ناپاکی دور کرنے کےلیے اسکے پانی سے پاک کرنا پڑے گا اور جو کچھ آگ میں نہ ٹھہر سکے اسے تم پانی میں ڈالنا
24 اور تم ساتویں دن اپنے کپڑے دھونا تب تم پاک ٹھہرو گے اس کے بعد لشکر گاہ میں داخل ہونا ۔
25 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
26 الیعزر کاہن اور جماعت کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو ساتھ لے کر تو ان آدمیوں اور جانوروں کو شمارکر جو لوٹ میں آئے ہیں
27 اور لوٹ کے اس مال کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ ان مردوں کو دے جو لڑائی میں گئے تھےاور دوسرا حصہ جماعت کو دے ۔
28 اور ان جنگی مردوں کے لیے خواہ آدمی ہو یا گائے بیل یا گدھے یا بھیڑ بکریاں ہر پانچسو پیچھے ایک کو حصہ کے طور پر لے
29 ان ہی کےنصف میں سے اس حصہ کو لے کر الیعزر کاہن کو دینا تاکہ یہ خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی ٹھہرے
30 اور بنی اسرائیل کے نصف میں سے خواہ آدمی ہو یا گائے بیل یا گدھے یا بھیڑ بکریاں یعنی سب قسم کے چوپایوں میں سے پچاس پچاس پیچھے ایک ایک لے کر لاویوں کو دینا جو خداوند کے مسکن کی محافظت کرتے ہیں
31 چنانچہ موسیٰ اور الیعزر کاہن نے جیسا خداوند نے موسیٰ سے کہا تھا ویسا ہی کیا
32 اور جو کچھ مال غنیمت جنگی مردوں کے ہاتھ آیا تھا اسے چھو ڑ کر لوٹ کے مال میں سے چھ لاکھ پچھتر ہزار بکریاں تھیں
33 اور بہتر ہزار گائے بیل
34 اور اکسٹھ ہزار گدھے
35 اور نفوس انسانی میں سے بتیس ہزار ایسی عورتیں جو مرد سے ناواقف اور اچھوتی تھیں
36 اور لوٹ کے مال کے اس نصف میں سے جو جنگی مردوں کا حصہ تھا تین لاکھ سنتیس ہزار پانچ سو بھیڑ بکریاں تھیں
37 جن میں سے چھ سے پچھتر بھیڑ بکریا ں خداوند کے حصہ کے لیے تھیں
38 اور چھتیس گائے بیل تھے جن میں سے بہتر خداوند کے حصہ کے تھے
39 اور تین ہزار پانچ سو گدھے تھے جن میں سے اکسٹھ گدھے خداوند کے تھے
40 اور نفوس انسانی کا شمار سولہ ہزار تھا جن میں سے بتیس جانیں خداوند کے حصہ کی تھیں
41 سو موسیٰ نے خداوند کے حکم کے مطابق اس حصہ کو جو خداوند کے اٹھانے کی قربانی تھی الیعزر کاہن کو دیا
42 اب رہا بنی اسرائیل کا نصف حصہ جسے موسیٰ نے جنگی مردوں کے حصہ سے الگ رکھا تھا
43 سو اس نصف میں سے جو جماعت کو دیا گیا تین لاکھ سینتیس ہزار پانچ سو بھیڑ بکریاں تھیں
44 اور چھتیس ہزار گائے بیل
45 اور تیس ہزار پانچ سو گدھے
46 اور سولہ ہزار نفوس انسانی
47 اور بنی اسرائیل کے اس نصف میٰں سے خداوند کے حکم کے موافق کیا انسا ن کیا حیوان ہر پچاس پیچھے ایک کو لے کر لاویوں کو دیا جو خداوند کے مسکن کی محافظت کرتے تھے
48 تب وہ فوجی سردار جو ہزاروں اور سینکڑوں سپاہیوں کے سردار تھے موسیٰ کے پاس آ کر
49 کہ تیرے خادم نے ان سب جگنی مردوں کو ہمار ے ماتحت ہیں گنا اور ان میں سے ایک جوان بی کم نہ ہوا
50 سو ہم میں سے جو کچھ جس کے ہاتھ لگا یعنی سونے کے زیور اور پازیب اور کنگن اور انگوٹھیا ں اور مندرے اور بازو بند اور یہ سب ہم خداوند کے ہدیہ کے طور پر لے آئے ہیں تاکہ ہماری جانوں کے لیے خداوند کے حضور کفارہ دیا جائے
51 چنانچہ موسیٰ اور الیعزر کاہن نے ان یہ سب سونے کے گھڑے ہوئے زیور لیے
52 اور اس ہدیہ کا سارا سونا جو ہزاروں اور سینکڑوں کے سرداروں نے خداوند کے حضور گذرانا وہ سولہ ہزار سات سو پچاس مثقال تھا۔
53 کیونکہ جنگی مردوں میں سے ہر ایک کچھ نہ کچھ لوٹ کر لے آیا تھا
54 سو موسیٰ اور الیعزر کاہن نے اس سونے کو جو انہوں نے ہزاروں سینکڑوں کے سرداروں سے لیا تھا خیمہ اجتماع میں لائے تاکہ وہ خداوند کے حضور بنی اسرائیل کی یاد گا ر ٹھہرے ۔


باب 32

1 اور بنی روبن اور بنی جد کے پاس چوپایوں کے بہت بڑے غول تھے ۔ سو جب انہوں نے یعزیر اور جلعاد کے ملکوں کو دیکھا کہ یہ مقام چوپایوں کے لیے نہایت اچھے ہیں
2 تو انہوں نے موسیٰ اور الیعزر کاہن اور جماعت کے سرداروان سے کہا کہ
3 عطارات اور دیبون اور یعزیر اور نمرہ اور حسبون اور الیعالی اور شبام اور نبو اور بعون
4 یعنی وہ ملک جس پر خداوند نے اسرائیل کی جماعت کو فتح دلائی ہے چوپایوں کے لیے بہت اچھا ہے اور تیرے خادموں کے پاس چاپائے ہیں ۔
5 سو اگر ہم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو اسی ملک کو اپنے خادموں کی میراث کردے اورہم یردن پار نہ لے جا
6 موسیٰ نے بنی روبن اور بنی جد دے کہا کہ کیا تمہارے بھائی لڑائی میں جائیں اور تم یہیں بیٹھے رہو؟
7 تم کیوں بنی اسرائیل کو پار اتر کر اس ملک میں جانے سے جو خداوند نے انکو دیا ہے بے دل کرتے ہو؟
8 تمہارے باپ دادا نے بھی جب میں نے ان کو قادس برنیع سے بھیجا کہ ملک کا حال دریافت کریں تو ایسا ہی کیا تھا
9 کیونکہ اور وادی اسکا ل میں پہنچے اور اس ملک کو دیکھا تو انہوں نے بنی اسرائیل کو بے دل کر دیا تاکہ وہ اس ملک میں جو خداوند نے انکو عنایت کیا نہ جائیں
10 اور اسی دن خداوند کا غضب بھڑکا اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ
11 ان لوگوں میں سے جو مصر سے نکل کر آئے بیس برس اور اس کی اوپر اوپر کی عمر کا کوئی شخص اس ملک کو نہیں دیکنھے پائے گا جسے دینے کی قسم میں نے ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے کھائی کیونکہ انہوں نے میری پوری پیروی نہیں کی
12 مگر یفنہ قنزی کا بیٹا کالب اور نون کا بیٹا یشوع اسے دیکھیں گے کیونکہ انہوں نے خداوند کی پوری پیروی کی ہے
13 سو خداوند کا قہر اسرائیل پر بھڑکا اورا س نے ان کو چالیس برس تک آوارہ پھرایا جب تک کہ اس پشت کے سب لوگ جنہوں نے خداوند کے روبرو گناہ کیا نابود نہ ہو گئے
14 اور دیکھو تم جو گناہ گاروں کی نسل ہو اب اپنے باپ دادا کی جگہ اٹھے ہو تاکہ خداوند کے قہر شدید کو اسرائیل پر زیادہ کراؤ
15 کیونکہ اگر تم اس کی پیروی سے پھر جاؤ تو وہ انکو بیانان میں چھوڑ دے گا اور تم ان لوگوں کو ہلاک کراؤ گے
16 تب وہ اس کے نزدیک آ کر کہنے لگے کہ ہم اپنے چوپایوں کےلیے یہا ں بھیڑ سالےا ور اپنے بال بچوں کے لیے شہر بنایں گے
17 پر ہم خود ہتھیار باندھے ہوئے تیار رہیں گے کہ بنی اسرائیل کے آگے آگے چلیں جب تک انکو انکی جگہ نہ پینچا دیں اور ہمارے بال بچے اس ملک کے باشندوں کے سبب سے فصیل دار شہروں میں رہیں گے
18 اور ہم اپنے گھروں کو تب تک واپس نہیں آئیں گے جب تک اسرائیل کا ایک ایک آدمی اپنی میراث کا مالک نہ ہو جائے
19 اور ہم ان میں شامل ہو کر یردن کے اس پار یا اس سے آگے میراث نہ لیں گے کیونکہ ہماری میراث یردن کے اس پار مشرق کی طرف ہم کو مل گئی
20 موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر تم یہ کام کرو اور خداوند کے حضور مسلح ہوکر لڑنے جاؤ
21 اورتمہارے ہتھیار بند جوان یردن پار جائیں جب تک کہ خداوند اپنے دشمنوں کو اپنے سامنے سے دفع نہ کرے
22 اور وہ ملک خداوند کے حضور قبضہ میں نہ آ جائے تو اس کے بعد تم واپس آؤ ۔ پھر تم خداوند کے حضور اور اسرائیل کے آگے بے گناہ ٹھہرو گے اوریہ ملک خداوند کے حضور تہماری ملکیت ہو جائے گا۔
23 لیکن اگر تم ایسا نہ کرو تو تم خداوند کے گناہ گا ٹھہرو گے اور یہ جان لو کہ تمہارا گناہ تم کو پکڑے گا
24 سو تم اپنے بال بچوں کے لیے شہر اور اپنی بھیڑ بکریوں کے لیے بھیڑ سالے بناؤ ۔ جو تمہارے منہ سے نکلا ہے وہی کرو
25 تب بنی جد اور بنی روبن نے موسیٰ سے کہا کہ تیرے خادم جیسا ہمارے مالک کا حکم ہے ویسا ہی کریں گے
26 ہمارے بال بچے ہماری بیویاں ہماری بھیڑ بکریاں اور ہمارے سب چوپائے جلعاد کے شہروں میں رہیں گے
27 پر ہم جو تیرے خادم ہیں ہمارا یک ایک مسلح جوان خداوند کے حضور لڑنے کو پار جائے گا جیسا ہمارا مالک کہتا ہے
28 تب موسیٰ نے ان کے بار ے الیعزر کاہن اور نون کے بیٹے یشوع اور اسرائیلی قبائل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو وصیت کی
29 اور ان سے یہ کہا کہ اگر بنی جد اور بنی روبن کا ایک ایک مرد خداوند کے حضور مسلح ہو کر لڑائی میں تہمارے ساتھ جائے اور اس ملک پر تہمارا قبضہ ہو جائے تو تم جلعاد کا ملک ان کی میراث کر دینا
30 پر اگر وہ ہتھیا ر باندھ کر رتمہارے ساتھ پار نہ جائیں تو ان کو بھی ملک کنعان ہی میں تمہارے بیچ میراث ملے
31 تب بنی جد اور بنی روبن نے جواب دیا جیسا خداوند نے تیرے خادموں کو حکم کیا ہے ہم ویسا ہی کریں گے ۔
32 ہم ہتھیار باندھ کر اس پار ملک کنعان کو جائیں گے پر یردن کے اس پار ہماری میراث رہے
33 تب موسیٰ نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کی مملکت اور بسن کے بادشاہ عوج کی مملکت کو یعنی انکے ملکوں اور شہروںکو جو ان کے اطراف میں تھے اور اس ساری نواحی شہروں کو بنی جد اور بنی روبن اور منسی بن یوسف کے آدھے قبیلہ کو دے دیا
34 تب بنی جد نے دیبون اور عطارات اور عروعیر
35 اور عطرات شوفان اور یعزیر اور یگبہا
36 اور بیت نمرہ اور بیت ہارن فصیلدار شہر اور بھیڑ سالے بنائے
37 اور بنی روبن نے حسبون اور الیعالی اور قریتائم
38 اور نبو اور بعل اور معون کے نام بدلکر انکو اور شماہ کو بنایا اور انہوں نے اپنے ہوئے شہروں کے دوسرے نام رکھے
39 اور منسی کے بیٹے مکیر کی نسل کے لوگوں نے جا جلعاد کو دے دیا اور اموریو ں کو جو وہاں بسے ہوئے تھے نکال دیا
40 تب موسیٰ نے جلعاد بن منسی کو دے دیا سو اسکی نسل کے لو گ وہاں سکونت کرنےلگے
41 اور منسی کے بیٹے یائیر نے اس نواحی کی بستیوں کو جا کر لے لیا اور انکا نام حووت یائیر رکھا
42 اور نوبح نے قنات اور اسکے دیہات کو اپنے تصرف میں کر لیا اور پنے ہی نام پر اسکا بھی نام نوبح رکھا۔


باب 33

1 جب بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کے ماتحت دَل باندھے ہوئے ملک مصر سے نکل کر چلے تو ذیل کی منزلوں پر انہوں نے قیام کیا
2 اور موسیٰ نے ان کے سفر کا حال انکی منزلوں کے مطابق خداوند کے حکم سے قلم بند کیا سو ان کے سفر کی منزلیں یہ ییں
3 پہلے مہینے کی پندرھویں تاریخ کو انہوں نے رعمیسس سے کوچ کیا فسح کے دوسرے دن بنی اسرائیل کے لوگ سب مصریوں کی آنکھوں کے سامنے بڑے فخر سے روانہ ہوئے
4 اس وقت مصری اپنے پہلوٹھوں کو جنکو خداوند نے مارا تھا دفن کر رہےتھے خداوند نے ان کے دیوتاؤں کو بھی سزا دی تھی
5 سو بنی اسرائیل نے رعمیسس سے کوچ کر کے سکات میں ڈیرے ڈالے
6 اور سکات سے کوچ کرکے ایتام میں جو بیابان سے ملا ہوا ہے مقیم ہوئے
7 پھر ایتام سے کوچ کر کے فی ہیخروت کو جو بعل صفون کے مقابل ہے مڑ گئے اور مجدال کے سامنے ڈیرے ڈالے
8 پھر انہوں نے فی ہیخروت کے سامنے سے کوچ کیا اور سمندر کے بیچ سے گذر کر بیابان میں داخل ہوئے اور دشت ایتام میں تین دن کی راہ چل کر مارہ میں پڑاؤ کیا ۔
9 اور مارہ سے کوچ کرکے ایلیم میں آئے اور ایلیم میں پانی کے بارہ اچشمے اور کجھور کے ستر درخت تھے سو انہوں نے یہیں ڈیرے ڈال لیے
10 اور ایلیم سے کوچ کر کے انہوں نے بحر قلزم میں ڈیرے کھڑے کیے
11 اور بحر قلزم سے چل کر دشت صین میں خیمہ زن ہوئے
12 اور دشت صین سے کوچ کر کے دفقہ میں ٹھہرے
13 اور دفقہ سے روانہ ہو کر الوس میں مقیم ہوئے
14 اور الوس سے چل کر رفیدیم میں ڈیرے ڈالے یہاں ان لوگوں کو پینےکے لیے پانی نہ ملا
15 اور رفیدیم سے کوچ کر کے دشت سینا میں ٹھہرے
16 اور دشت سیناہ سے چل کر قبروت ہتاوہ میں خیمے کھڑے کیے
17 اور قبروت ہتاوہ سے کوچ کر کے حصیرات میں ڈیرے ڈالے
18 حصیرات سے کوچ کر کے رتمہ میں ڈیرے ڈالے
19 رتمہ سے روانہ ہو کر رمون فارص میں خیمے کھڑے کیے
20 رمون فارص سے جو چلے تو لبناہ میں جا کے مقیم ہوئے
21 اور لبناہ سے کوچ کر کے ریسہ میں ڈیرے ڈالے
22 اور ریسہ سے چل کر قہیلاتہ میں ڈیرے کھڑے کیے
23 اور قہیلاتہ سے چل کر کوہ سافر میں ڈیرا کیا۔
24 کوہ سافت سے کوچ کر کے حرادہ میں میں خیمہ زن ہوئے۔
25 اور حرادا سے سفر کر کے مقہیلوت میں قیام کیا
26 مقہیلوت سے روانہ ہو کر تخت میں خیمے کھڑے کیے
27 تخت سے جو چلے تو تارح میں آ کر ڈیرے ڈالے
28 اور تارح سے کوچ کر کے متقہ میں قیام کیا
29 اورمتقہ سے روانہ ہو کر حشمونہ میں ڈیرے ڈالے
30 اور حشمونہ سے چل کر موسیروت میں ڈیرے کھڑے کیے
31 اور موسیروت سے روانہ ہوکر بنی یعقان میں ڈیرے ڈالے
32 اور بنی یعقان سے چل کر حور ہجدجاد میں خیمہ زن ہوئے
33 اور حور ہجدجاد سے روانہ ہو کر یوطباتہ میں خیمے کھڑے کیے
34 اور یوطباتہ سے چل کر عبرونہ میں ڈیرے ڈالے
35 اور عبرونہ سے چل کر عیصون جابر میں ڈیرا کیا
36 اور عیصون جابر سے روانہ ہو کر دشت صین جو قادس ہے قیام کیا
37 اور قادس سے چل کر کو ہور کے پاس جو ملک ادوم کی سرحد ہے خیمہ زن ہوئے
38 یہاں ہارون کاہن خداوند کے حکم سے کوہ ہو ر پر چڑھ گیا اور اس نے بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نلکنے کے چالیسویں بر س کے پانچویں مہینےکی پہلی تاریخ کو وہیں وفات پائی
39 اور جب ہارون نے کوہ ہور پر وفات پائی تو وہ ایک سو تیئس برس کا تھا
40 اور عراد کے کنعانی بادشاہ کوجو ملک کنعان کے جنوب میں رہتا تھا بنی اسرائیل کی آمد کی خبر ملی
41 اور اسرائیل کو کوہ ہور سے کوچ کرکے ضلومونہ میں ٹھہرے
42 ضلمونہ سے کوچ کر کے فونون میں ڈیرے ڈالے
43 اور فونون سے کوچ کر کے ابوت میں قیام کیا
44 اور ابوت سے کوچ کرکے عی عباریم میں جو ملک موآب کی سرحد اپر ہے ڈیرےڈالے
45 اور عییم سے کوچ کرکے دیبون جد میں خیمہ زن ہوئے
46 اور دیبون سے کوچ کر کے عملون دبلہ تایم میں خیمے کھڑے کیے
47 اور عملون دبلہ تایم سے کوچ کر کے عباریم کے کوہستا ن میں جو نبو کے مقابل ہے ڈیرا ڈالا
48 اور عباریم کے کوہستان سے چل کر موآب کے میدانوں میں جو یریحو کے مقابل یردن کے کنارے واقع ہیں خیمہ زن ہوئے
49 اور یردن کے کنارے بیت یسیموت سے لیکر ابیل سطیم تک موآب کے میدانوں میں انہوں نے ڈیرے ڈالے
50 اورخداوند نے موآب کے میدانوں جو یریحو کے مقابل یردن کے کنارے واقع ہیں موسیٰ سے کہا کہ
51 بنی اسرائیل سے یہ کہہ دے کہ جب تم یردن کو عبور کرکے ملک کنعان میں داخل ہو
52 تو تم اس ملک کے سب باشندوں کو وہاں سے نکال دینا اور انکے شبیہ دار پتھروں کو اور ان کے ڈھالے ہوئے بتوں کو توڑ ڈالنا اور ان کے سب اونچے مقاموں کو مسمار کر دینا
53 اور تم اس ملک پر قبضہ کر کے اس میں بسنا کیونکہ میں نے وہ ملک تم کو دیا ہے کہ تم اس کے مالک بنو
54 اور تم قرعہ ڈال کر اس ملک کو اپنے گھرانوں میں میراث کے طور پر بانٹ لینا جس خاندان میں زیادہ آدمی ہوں اس کو زیادہ اور جس میں تھوڑے ہوں اس کو کم میراث دینا اور جس آدمی کا قرعہ جس جگہ کے لیے نکلے وہی اس کو حصہ میں ملے تم اپنے آبائی قبائل کے مطابق اپنی میراث لینا
55 لیکن اگر تم اس ملک کے باشندوں کو اپنے آگےسے دور نہ کرو تو جنکو تم باقی رہنے دو گے وہ تمہاری آنکھوں میں خار اور تمہارے پہلوؤں میں کانٹے ہونگے اور اس ملک میں جہاں تم بسو گے تمکو دق کریں گے
56 اور آخر کو یوں ہو گا کہ جیسا میں نے ان کے ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ویسا ہی تم سے کروں گا۔


باب 34

1 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل کو حکم کر اور ان سے کہہ دے کہ جب تم ملک کنعان میں داخل ہو ( یہ وہی ملک جو تمہاری میراث ہوگا یعنی کنعان کا ملک مع اپنی حدود اربعہ کے)
3 تو تمہاری جنوبی سمت دشت صین سے لے کر مک ادوم کے کنارے کنارے ہو اور تمہاری جنوبی سرحد دریای شور کے آخر سے شروع ہو کر مشرق کو جائے
4 وہاں سے تمہاری سرحد عقربیم کی چڑھائی تک پہنچ کر مڑے اور صین سے ہوتی ہو ئی قادس برنیع کے جنوب میں جا کر نکلے اور حصر ادار سے ہو کر عضمون تک پہنچے
5 پھر یہی سرحد عضمون سے ہو کر گھومتی ہوئی مصر کی نہر تک جائے اور سمندر کے ساحل پر ختم ہو
6 اور مغربی سمت میں بڑا سمندر اور اسکا ساحل ہو سو یہ تمہاری مغربی سرحد ٹھہرے
7 اور شمالی میں تم بڑے سمندر سے کوہ ہور تک اپنی سرحد رکھنا
8 پھر کوہ ہو سے حمات کے مدخل تک تم اس طرح اپنی حد مقرر کرنا کہ وہ صداد سے جا ملے
9 اور وہاں سے ہوتی ہوئی زفرون کو نکل جائے اور حصر عینان پر جاکر ختم ہو یہ تمہاری شمالی سرحد ہو
10 ااور تم اپنی مشرقی سرحد حصر عینان سے لے کر سفام تک باندھنا
11 اور یہ سرحد سفام سے ربلہ تک جو عین کے مشرق میں ہے جائے اور وہاں سے نیچھ کو اترتی ہوئی کنرت تک کی جھیل کے مشرقی کنارے تک پہنچے
12 پھر یردن کے کنارے کنار ے نیچے کو جا کر دریای شور پر ختم ہو ان حدود کے اندر کا ملک تمہارا ہوگا
13 سو موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ یہی وہ زمین ہے جسے تم قرعہ ڈال کر میراث میں لوگے اور اسی کی بابت خداوند نے حکم دیا تھا وہ ساڑھے نو قبیلوں کو دی جائے
14 کیونکہ بنی روبن کے قبیلوں نے اپنے آبائی خاندانوں کے موافق اور بنی جد کے قبیلہ نے بھی اپنے آبائی خاندانوں کے مطابق میراث پائی اور بنی منسی کے آدھے قبیلہ نے بھی اپنے میراث پا لی
15 یعنی ان اڑھائی قبیلوں کو یردن کے اسی پار یریحو کے مقابل مشرق کی طرف جدھر سے سورج نکلتا ہے میراث مل چکی ہے
16 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
17 جو اشخاص اس ملک کو میراث کے طور پر تم کو بانٹ دیں گے انکے نام یہ ہیں یعنی الیعزر کاہن اور نون کا بیٹا یشوع
18 اور تم زمین کو میراث کے طور پر بانٹنے کےلیے ہر قبیلہ سے ایک سردارکو لینا
19 اور ان آدمیوں کے نام یہ ہیں یہوداہ کے قبیلے سے یفنہ کا بیٹا کالب
20 اور بنی شمعون کے قبیلہ سے عمیہود کا بیٹا سموئیل
21 اور بنیمین کے قبیلہ سے کسلون کا بیٹا الیداد
22 اور بنی دان کے قبیلہ سے ایک سردار بقی بن یگلی
23 اور بنی یوسف سے یعنی بنی منسی کے قبیلہ سے ایک سردار حنی ایل بن افود
24 اور بنی افرائیم کے قبیلہ سے ایک سردار قموایل بن سفتان
25 اور بنی زبولون کے قبیلہ سے ایک سردار الیصفن بن فرناک
26 اور بنی اشکار کے قبیلہ سے ایک سردار فتی ایل بن عزان
27 اور بنی آشر کے قبیلہ سے ایک سردار اخیہود بن شلومی
28 اور بنی نفتالی کے قبیلہ سے ایک سردار فدا اہیل بن عمیہود
29 یہ وہ لوگ ہیں جنکو خداوند نے حکم دیا کہ ملک کنعان میں بنی اسرائیل کو میراث تقسیم کریں۔



باب 35

1 باب نمبر 35 پھر خداوند نے موآب کے میدانوں میں جو یردن کے کنارے واقع ہیں موسیٰ سے کہا کہ
2 بنی اسرائیل کو حکم کر کے انکی میراث میں سے جو ان کے تصرف میں آئے لاویوں کو رہنے کے لیے شہر دیں اور ان شہروں کو نواحی بھی تم لاویوں کو دے دینا
3 یہ شہر ان کے رہنے کے لیے ہوں اور ان کی نواحی ان کے چوپایوں اور مال اور سب جانوروں کے لیے ہوں
4 اور شہروں کی نواحی جو تم لاویوں کو دو وہ شہر کی دیوار سے شروع کر کے باہر چاروں طرف ہزار ہزار ہاتھ کے پھیر میں ہوں
5 اور تم شہر کے باہر مشرق کی طر ف دو ہزار ہاتھ اور جنوب کی طرف دو ہزار ہاتھ اور مغرب کی طرف دو ہزار ہاتھ اور شمال کی طرف دو ہزار ہاتھ اس طرح پیمائش کرنا کہ شہر ان کے بیچ میں آ جائے انکے کے شہر کی اتنی ہی نواحی ہوں
6 اور لاویوں کے ان شہروں میں سے جو تم انکو دو چھ پناہ کے شہر ٹھہرا دینا جن میں خونی بھا گ جائیں اور ان شہروں کے علاوہ بیالیس اور شہر ان کو دینا
7 یعنی ملا کر اڑتالیس شہر لاویوں کو دینا اور ان شہروں کے ساتھ ان کی نواحی بھی ہوں
8 اور وہ شہر بنی اسرائٰیل کی میراث میٰں سے یوں دیئے جائیں جنکے قبضہ میں بہت سے شہر ہوں ان سے بہت جن کے پاس تھوڑے ہوں ان سے تھوڑے شہر لینا ۔ ہرقبیلہ اپنی میراث کے مطابق جسکا وہ وارث ہو لاویوں کے لیے شہر دے۔
9 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
10 بنی اسرائیل سے کہدے کہ جب تم یردن کو عبور کرکے ملک کنعا ن میں پہنچ جاؤ
11 تو تم کئی ایسے شہر مقرر کر نا جو تمہارے لیے پناہ کے شہر ہوں تاکہ وہ خونی جس سے سہواً خون ہو جائے وہاں بھا گ جا سکے
12 ان شہروں میں تمکو انتقام لینے والے سے پناہ ملے گی تاکہ خونی جب تک وہ فیصلہ کے لیے جماعت کے سامنے حاضر نہ ہو تب تک مارا نہ جائے
13 اور پناہ کے جو شہر تم دو گے وہ چھ ہوں
14 تین شہر تو یردن کے پار اور تین شہر ملک کنعان میں دینا یہ پناہ کے شہر ہوں گے
15 ان چھئوں شہروں میں بنی اسرائیل کو اور ان مسافروں کو اور ان پردیسیوں کو جا تم میں بودوباش کرتے ہیں پناہ ملے گی تاکہ جس کسی سے سہواً خون ہو جائے وہ وہا ں بھاگ جا سکے
16 اور اگر کوئی کسی کو لوہے کے ہتھیار سے ایسا مارے کہ وہ مر جائے تو وہ خونی ٹھہرے گا اور وہ خونی ضرور مارا جائے گا
17 یا کوئی ایسا پتھر ہاتھ میں لے کر جس سے آدمی مر سکتا ہوں کسی کو مارے اور وہ مر جائے تو وہ خونی ٹھہرے گا اور وہ خونی ضرور مارا جائے
18 یا اگر کوئی چوبی آلہ ہاتھ میں لے کر جس سے آدمی مر سکتا ہوں کسی کو مارے اور وہ مر جائے تو وہ خونی ٹھہرے گا اور وہ خونی ضرور مارا جائے
19 خون کا اتنقام لینے والا خونی کو آپ ہی قتل کرے جب وہ اسے ملے تب ہی اسے مار ڈالے
20 اور اگر کوئی کسی کو عداوت سے دھکیل دے یا گھات لگا کر کر کچھ اس پر پھینک دے اور وہ مر جائے
21 یا دشمنی سے اسے اپنے ہاتھ سے ایسا مارے کہ وہ مر جائے تو وہ جس نے مارا ہو قتل کیا جائے گا کیونکہ وہ خونی ہے خون کا انتقام لینے والا خونی کو جب وہ اسے ملے مارڈالے
22 اور اگر کوئی کسی کو بغیر عداوت کے باگہان دھکیلے یا بغیر گھات لگائے اس پر کوئی چیز ڈالدے
23 یا اسے بغیر دیکھے کوئی ایسا پتھر اس پر پھینکے جس سے آدمی مر سکتا ہو اور وہ مر جائے پر یہ نہ تو اس کا دشمن اور نا اس کے نقصان کا خواہاں تھا
24 تو جماعت ایسے قاتل اور خون کا انتقام لینے والے کے درمیا ن ان ہی احکام کے موافق فیصلہ کرے
25 اور جماعت اس قاتل کو اس انتقام لینے والے کے ہاتھ سے چھڑائے اور جماعت ہی اسے پناہ کے اس شہر میں جہاں وہ بھاگ گیا تھا واپس پہنچوا دےا ور جب تک سردار کاہن جو مقدس تیل سے ممسوح ہوا تھا مر نہ جائے تب تک وہ وہیں رہے
26 لیکن اگر وہ خونی پناہ کی سرحد جہاں وہ بھاگ کر گیا ہو کسی وقت باہر نکلے ۔
27 اور خون کا انتقام لینے والے کو وہ پناہ کے شہر کی سرحد کے باہر مل جائے اور انتقام لینے والا قاتل کو قتل کر ڈالے تو وہ خون کرنے کا مضرم نہ ہوگا
28 کیونکہ خونی کو لازم تھا کہ سردار کاہن کی وفات تک وہ اسی پناہ کے شہر میں رہتا پر سردار کاہن کے مرنے کے بعد خونی اپنی موروثی جگہ کولوٹ جائے
29 سو تمہاری سکونت گاہ میں یہ باتیں نسل در نسل فیصلہ کے لیے قانون ٹھہریں گی
30 اگر کوئی کسی کو مار ڈالےتو قاتل گواہوں کی شہادت پر قتل کیا جائے پر ایک گواہ کی شہادت سے کوئی نہ مارا جائے
31 اور تم اس قاتل سے جو واجبُ القتل ہو دِیت نہ لینا بلکہ وہ ضرور ہی مارا جائے
32 اور تم اس سے بھی جو پناہ کے شہر سے بھاگ گیا ہو اس غرض سے دِیت نہ لینا کہ وہ سردار کاہن کی موت سے پہلے پھر ملک میں رہنے کو لوٹنے پائے
33 سو تم اس ملک کو جہاں تم رہوگے ناپاک نہ کرنا کیونکہ خون ملک کو ناپاک کر دیتا ہے اور اس ملک کے لیے جس میں خون بہایا جائے سوا قاتل کے خون کے اور کسی چیز کا کفارہ نہیں لیا جا سکتا
34 اور تم اپنی بودوباش کے ملک کو جسکے اندر میں رہونگا گندہ بھی نہ کر نا کیونکہ میں خداوند ہو ں سو بنی اسرائیل کے درمیان رہتا ہوں ۔


باب 36

1 اور بنی یوسف کے گھرانوں میں سے بنی جلعاد بن مکیرین منسی کے آبائی خاندانوں کے سردار جو بنی اسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سردار تھے کہنے لگے کہ
2 خداوند نے ہمارے مالک کو حکم دیا تھا کہ قرعہ ڈال کر یہ ملک میراث کے طورپر بنی اسرائیل کو دینا اور ہمارے مالک کو خداوند کی طرف سے حکم ملا تھا کہ ہمارے بھائی صلافحاد کی میراث اسکی بیٹیوں کو دی جائے
3 لیکن اگ روہ بنی اسرائیل کے اور قبلیوں کے آدمیوں سے بیاہی جائیں تو ان کی میراث ہمارے باپ دادا کی میراث سے نکل کر اس قبیلہ کی میراث میں شامل کی جائے گی جس میں وہ بیاہی جائیں گی یوں وہ ہمارے قرعہ کی میراث سو الگ ہو جائیگی
4 اور جب بنی اسرائیل کا سال یوبلی آئے گا تو ان کی میراث اسی قبیلہ کی میراث سے ملحق کی جائے گی جس سے وہ بیاہی جائیں گی یوں ہمارے باپ دادا کے قبیلہ کی میراث سے ان کا حصہ نکل جائے گا
5 تب موسیٰ نے خداوند کے کلام کے مطابق بنی اسرائیل کو حکم دیا اور کہا کہ بنی اسرائیل یوسف کے قبیلہ کے لوگ ٹھیک کہتے ہیں
6 سو صلافحاد کی بیٹیوں کے حق میں خداوند کا یہ حکم ہے کہ وہ جنکو پسند کریں ان ہی سے بیاہ کریں لیکن اپنے باپ دادا کے قبیلہ کے خاندان میں ہی بیاہی جائیں
7 یوں بنی اسرائیل کی میراث ایک قبیلہ سے دوسر ے قبیلہ میں جانے نہیں پائے گی کیونکہ ہر اسرائیلی کو اپنے باپ دادا کے قبیلہ کی میراث کو اپنے قبضہ میںرکھنا ہو گا
8 اور اگر بنی اسرائیل کے کسی قبیلہ میں جو لڑکی ہو جو کسی میراث کی مالک ہو تو وہ اپنے باپ کے قبیلہ کے کسی خاندان میں بیاہ کرے تاکہ ہر اسرائیلی اپنے باپ دادا کی میراث پر قائم رہے
9 یوں کسی کی میراث ایک قبیلہ سے دوسرے قبیلہ میں نہیں جانے پائے گی کیونکہ بنی اسرائیل کے قبیلوں کو لازم ہے کہ اپنی میراث اپنے قبجہ میں رکھیں
10 اور صلا فحاد کی بیٹیوں نے جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی کیا
11 کیونکہ محلاہ اور ترضاہ اور حجلاہ اور ملکاہ اور نوعاہ جو صلافحاد کی بیٹیاں بیٹیاں تھیں وہ اپنے چچیرے بھائیوں کے ساتھ بیاہی گئیں
12 یعنی وہ یوسف کے بیٹے منسی کے خاندانوں میں بیاہی گئیں اور انکی میراث انکے آبائی خاندان کے قبیلہ میں قائم رہی ۔
13 جو احکام اور فیصلے خداوند نے موسیٰ کی معرفت موآب کے میدانوں میں جو یریحو کے مقابل یردن کے کنارے واقع ہیں بنی اسرائیل کو دئے وہ یہی ہیں ۔