استثنا

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34


باب 1

1 یہ وہی باتیں ہیں جو موسیٰ نے یردن کے اُس پار بیابان میں یعنی اُس میدان میں جو سوف کے مقابل اور فاران اور طوفل اور لابن اور حصیرات اور دیذہب کے درمیان ہے سب اسرائیلیوں سے کہیں ۔
2 کوہِ شعیر کی راہ سے حورب سے قادس برنیع تک گیارہ دن کی منزل ہے ۔
3 اور چالیسیویں برس کے گیارھویں مہینے کی پہلی تاریخ کو موسیٰ نے اُن سب احکام کے مطابق جو خداوند نے اُسے بنی اسرائیل کے لیے دیے تھے اُن سے یہ باتیں کیں ۔
4 یعنی جب اُس نے اموریں کے بادشاہ سیحون کو جو حسبون میں رہا تھا مارا اور بسن کے بادشاہ عوج کو جو عستارات میں رہتا تھا اور عی میں قتل کیا۔
5 تو اِس کے بعد یردن کے پار موآب کے میدان میں موسیٰ اِس شریعت کو یُوں بیان کنے لگا کہ ۔
6 خُداوند ہمارے خدا کے حورب میں ہم سے یہ کہا تھا کہ تُم اِس پہاڑ پر بہت رہ چُکے ہو ۔
7 سو اب پھر و اور کُوچ کرو اور اموریوں کے کوہستانی مُلک اور اُس کے آس پاس کے میدان اور پہاڑی قطعہ اور نشیب کی زمین اور جنوبی اطراف میں سمندر کے ساحل تک جو کعنانیوں کا مُلک ہے بلکہ کوہِ لُبنان اور دریای فرات تک جو ایک بڑا دریا ہے چلے جاو۔
8 دیکھو میں نے اِس مُلک کو تمہارے سامنے کر دیا ہے پس جاو اور اُس مُلک کو اپنے قبضہ میں کر لو جس کی باب نمبرت خداوند تمہارے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ وہ اُسے اُنکو اور اُنکے بعد اُنکی نسل کو دے گا ۔
9 اُس وقت میں نے تُم سے کہا تھا کہ میں اکیلا تمہارا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا ۔
10 خداوند تمہارے خُدا نے تُمکو بڑھایا ہے اور آج کے دن آسمان کے تاروں کی مانند تمہاری کثرت ہے ۔
11 خداوند تمہارے خدا نے تُمکو اِس سے بھی ہزار چند بڑھائے اور جو وعدہ اُس نے تُم سے کیا ہے اُسکے مطابق تُمکو برکت بخشے ۔
12 میں اکیلا تمہارے جنجال اور بوجھ اور جھنجٹ کا کیسے متحمل ہو سکتا ہوں؟
13 سو تُم اپنے اپنے قبیلہ سے ایسے آدمیوں کو چُنو جو دانشور اور عقلمند اور مشہور ہوں اور میں اُنکو تُم پر سردار بنا دونگا ۔
14 اِس کے جواب میں تُم سے مجھ سے کہا تھا کہ جو کچھ تُو نے فرمایا ہے اُسکا کرنا بہتر ہے ۔
15 سو میں نے تمہارے قبیلوں کے سرداروں کو جو دانشور اور مشہور تھے لیکر اُنکو تُم پر مقرر کیا تاکہ وہ تمہارے قبیلوں کے مطابق ہزاروں کے سردار اور سینکڑوں کے سردار اور پچاس پچاس کے سردار اور دس دس کے سردار حاکم ہوں ۔
16 اور اُسی موقع پر میں نے تمہارے قاضیوں سے تاکید اً یہ کہا کہ تُم اپنے بھائیوں کے مقدسوں کو سُننا پر خواہ بھائی بھائی کا معاملہ ہو یا پردیسی کا تُم اُنکا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا ۔
17 تمہارے فیصلہ میں کسی کی رو رعایت نہ ہو ۔ جیسے بڑےے آدمی کی بات سُنو گے ویسے ہی چھوٹے کی سُننا اور کسی آدمی کا منہ دیکھ کر ڈر نہ جانا کیونکہ یہ عدالت خدا کی ہے جو مقدمہ تمہارے لیے مُشکل ہو اُسے میرے پاس لے آنا ۔ میں اُسے سُنوں گا ۔
18 اور مَیں نے اُسی وقت سب کچھ جو تُم کو کرنا ہے بتا دیا ۔
19 اور ہم خداوند اپنے خدا کے حکم کے مطابق حورب سے کُوچ کر کے اُس بڑے اور ہولناک بیابان میں سے ہو کر گزرے جسے تُم نے اموریوں کے کوہستانی مُلک کے راستہ میں دیکھا ۔پھر ہم قادس برنیع میں پہنچے ۔
20 وہاں میں نے تُم کو کہا کہ تُم اموریوں کے کوہستانی مُلک تک آگئے ہو جسے خداوند ہمارا خدا ہمکو دیتا ہے ۔
21 دیکھ اُس مُلک کو خداوند تیرے خدا نے تیرے سامنے کر دیا ہے ۔ سو تُو جا اور جیسا خداوند تیرے باپ دادا کے خدا نے تُجھ سے کہا ہے تُو اُس پر قبضہ کر اور نہ خوف کھا نہ ہراساں ہو۔
22 تب تُم سب نیرے پاس آکر مجھ سے کہنے لگے کہ ہم اپنے جانے سے پہلے وہاں آدمی بھیجیں جو جا کر ہماری خاطر اُس مُلک کا حال دریافت کریں اور آکر ہمکو بتائیں کہ ہمکو کس راہ سے وہاں سے جانا ہو گا اور کون کون سے شہر ہمارے راستہ میں پڑیں گے ۔
23 یہ بات مجھے بہت پسند آئی ۔ چنانچہ میں نے قبیلہ پیچھے ایک ایک آدمی کے حساب سے بارہ آدمی چُنے۔
24 اور وہ روانہ ہووئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے اور وادیِ اِسکال میں پہنچ کر اُس مُلک کا حال دریافت کیا ۔
25 اور اُس مُلک کا کچھ پھل ہاتھ میں لیکر اُسے ہمارے پاس لائے اور ہمکو یہ خبر دی کہ جو مُلک خداوند ہمارا خدا ہمکو دیتا ہے وہ اچھا ہے ۔
26 تو بھی تُم وہاں جانے پر راضی نہ ہوئے بلکہ تُم نے خداوند اپنے خدا کے حکم سے سرکشی کی ۔
27 اور اپنے خیموں میں کُڑکُڑانے اور کہنے لگے کہ خداوند کو ہم سے نفرت ہے اِسی لیے وہ ہمکو مُلکِ مصر سے نکال لایا تاکہ وہ ہمکو اموریوں کے ہاتھ میں گرفتار کرا دے اور وہ ہمکو ہلاک کر ڈالیں ۔
28 ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ ہمارے بھائیوں نے تو یہ بتا کر ہمارا حوصلہ توڑ دیا ہے کہ وہاں کے لوگ ہم سے بڑے بڑے اور لمبے ہیں اور یہ اُنکے شہر بڑے بڑے اور اُنکی فصلیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں ، ماسوائے اِس کے ہم نے وہاں عناقیم کی اولاد کو بھی دیکھا ۔
29 تب میں نے تُمکو کہا کہ خوفزدہ مت ہو اور نہ اُن سے ڈرو ۔
30 خداوند تمہارا خدا جو تمہارے آگے آگے چلتا ہے وہی تمہاری طرف سےجنگ کرے گا جیسے اُس نے تمہاری خاطر مصر میں تمہاری آنکھوں کے سامنے سب کچھ کیا ۔
31 اور بیابان میں بھی تُو نے یہی دیکھا کہ جس طرح انسان اپنے بیٹے کو اُٹحائے ہوئے چلتا ہے اُسی طرح خداوند تیرا خدا تیرے اِس جگہ پہنچنے تک سارے راستے جہاں جہاں تُم گئے تمکو اُٹھائے رہا ۔
32 تو بھی اِس بات میں تُم نے خداوند اپنے خدا کا یقین نہ کیا ۔
33 جو راہ میں تُم سے آگے آگے تمہارے واسطے ڈیرے ڈالنے کی جگہ تلاش کرنے کے لیے رات کو آگ میں اور دن کو ابر میں ہو کر چلا تاکہ تُم کو وہ راستہ دکھائے جس سے تُم چلو ۔
34 اور خداوند تمہاری باتیں سُنکر غضبناک ہوا اور اُس نے قسم کھا کر کہا کہ ۔
35 اِس بڑی پُشت کے لوگوں میں سے ایک بھی اُس اچھے مُلک کو دیکھنے نہیں پائے گا جسے اُنکے باپ دادا کو دینے کی قسم مَیں نے کھائی ہے ۔
36 سو ایفنہ کے بیٹے کالب کے ۔ وہ اُسے دیکھے گا اور جس زمین پر اُس نے قدم مارا ہے اُسے مَیں اُسکو اور اُسکی نسل کو دونگا اِس لیے کہ اُس نے خداوند کی پیروی پورے طور پر کی ۔
37 اور تمہارے ہی سبب سے خداوند مجھ پر بھی غصہ ہوا اور یہ کہا کہ تُو بھی وہاں جانے نہ پائے گا ۔
38 نون کا بیٹا یشوع جو تیرے سامنے کھڑا رہتا ہے وہاں جائے گا ۔ سو تُو اُسکی حوصلہ افزائی کر کیونکہ وہی بنی اسرائیل کو اُس مُلک کا مالک بنائے گا ۔
39 اور تمہارے بال بچے جنکےبارے میں تُم نے کہا تھا کہ لُوٹ میں جائیں گے اور تمہارے لڑکے بالے جنکو آج بھلے اور بُرے کی بھی تمیز نہیں ۔ یہ وہاں جائیں گے اور یہ مُلک میں اِن ہی کو دونگا اور یہ اُس پر قبضہ کریں گے ۔
40 پر تمہارے لیے یہ ہے کہ تُم لوٹو اور بحرِ قُلزم کی راہ سے بیابان میں جاو۔
41 تب تُم نے مجھے جواب دیا کہ ہم نے خداوند کا گناہ کیا ہے اور اب جو کچھ خداوند ہمارے خدا نے ہمکو حک دیا ہے اُس کے مطابق ہم جائیں گے اور جنگ کریں گے ۔ سو تُم سب اپنے اپنے جنگی ہتھیار باندھ کر پہاڑ پر چڑھ جانے کو ا ٓمادہ ہو گئے ۔
42 تب خداوند نے مجھ سے کہا کہ اُن سے کہہ دے کہ اوپر مت چڑھو اور نہ جنگ کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان نہیں ہوں تا ایسا نہ ہو کہ تُم اپنے دُشمنوں سے شکست کھاو۔
43 اور میں نے تُم سے کہہ بھی دیا پر تُم نے میری نہ سُنی بلکہ تُم نے خداوند کے حکم کی سرکشی کی اور شوخی سے پہاڑ پر چڑھ گئے۔
44 تب اموری جو اُس پہاڑ پر رہتے تھے تمہارے مقابلہ کو نکلے اور اُنہوں نے شہد کی مکھیوں کی مانند تمہارا پیچھا کیا اور شعیر میں مارتے مارتے تُمکو حُرمہ تک پہنچا دیا ۔
45 تب تُم لوٹ کر خداوند کے آگے رونے لگے پر خداوند نے تمہاری فریاد نہ سُنی اور نہ تمہاری باتوں پر کان لگایا ۔
46 سو تُم قادس میں بہت دنوں تک پڑے رہے یہاں تک کہ ایک مُدت ہو گئی ۔


باب 2

1 اور جیسا خداوند نے مجھے حکم دیا تھا اُسکے مطابق ہم لَوٹے اور بحرِ قُلزم کی راہ سے بیابان میں آئے اور بہت دنوں تک کوہِ شعیر کے باہر باہر چلتے رہے ۔
2 تب خُداوند نے مجھ سے کہا کہ ۔
3 تُم اِس پہاڑ کے باہر باہر بہت چل چُکے ۔ شمال کی طرف مُڑ جاو ۔
4 اور تُو اِن لوگوں کو تاکید کر دے کہ تُمکو بنی عیسو تمہارے بھائی جو شعیر میں رہتے ہیں اُنکی سرحد کے پاس سے ہو کر جانا ہے اور وہ تُم سے ہراسان ہو نگے سو تُم خُوب احتیاط رکھنا ۔
5 او ر اُن کو مت چھیڑنا کیونکہ میں اُنکی زمین میں سے پاوں دھرنے تک کی جگہ بھی تُمو نہیں دونگا ۔ اِس لیے کہ میں نے کوہِ شعیر عیسو کو میراث میں دیا ہے ۔
6 تُم روپے دیکر اپنے کھانے کے لیے اُن سے خورش خریدنا اور پینے کے لیے پانی بھی روپے دیکر اُن سے مول لینا ۔
7 کیونکہ خداوند تیرا خُدا تیرے ہاتھ کی کمائی میں برکت دیتا رہا ہے اور اِس بڑے بیابان میں جو تیرا چلنا پھرنا ہے وہ اُسے جانتا ہے ۔ اِن چالیس برسوں میں خداوند تیرا خدا برابر تیرے ساتھ رہا اور تُجھ کو کسی چیز کی کمی نہیں ہوئی ۔
8 سو ہم اپنے بھائیوں بنی عیسو کے پاس سے جو شعیر میں رہتے ہیں کترا کر میدان کی راہ سے ایلاتؔ اور عصیون جابر ہوتے ہوئے گزرے ۔ پھر ہم مُڑے اور موآب کے بیابان کے راستہ سے چلے ۔
9 پھر خداوند نے مجھ سے کہا کہ موآبیوں کو نہ تو ستانا اور نہ اُن سے جنگ کرنا اِس لیے کہ میں تُجھ کو اُنکی زمین کا کوئی حصہ ملکیت کے طور پر نہیں دونگا کیونکہ میں نے عارؔ کو بنی لوط کی میراث کر دیا ہے ۔
10 ( وہاں پہلے ایمیم بس ہوئے تھے جو عناقیم کی مانند بڑے بڑے اور لمبے لمبے او ر شمار میں بہت تھے ۔
11 اور عناقیم ہی کی طرح وہ بھی رفائم میں گنے جاتے تھے لیکن موآبی اُنکو ایمیم کہتے ہیں ۔
12 اور پہلے شعیر میں حوری قوم کے لوگ بسے ہوئے تھے لیکن بنی عیسو نے اُنکو نکال دیا اور اُنکو اپنے سامنے سے نیست و نابود کر کے آپ اُنکی جگہ بس گئے جیسے اسرائیل نے اپنی میراث کے مُلک میں کِیا جسے خداوند نے اُنکو دیا )
13 اب اُٹھو اور وادیِ زرد کے پار جاو ۔ چنانچہ ہم وادیِ زرد سے پار ہوئے ۔
14 اور ہمارے قادس ؔ برنیع سے روانہ ہونے سے لیکر وادیِ زرد کے پار ہونے تک اڑتیس برس کا عرصہ گذرا۔ اِس اثنا میں خداوند کی قسم کے مطابق اُس پُشت کے سب جنگی مرد لشکر میں سے مر کھپ گئے ۔
15 اور جب تک وہ نابود نہ ہوئے تب تک خداوند کا ہاتھ اُنکو لشکر میں سے ہلاک کرنے کو اُنکے خلاف بڑھا ہی رہا ۔
16 جب سب جنگی مرد مر گئے اور قوم میں سے فنا ہو گئے ۔
17 تو خداوند نے مجھ سے کہا ۔
18 آج تجھے عارؔ شہرسے ہو کر موآب کی سرحد سے گذرنا ہے ۔
19 اور جب تُو بنی عمون کے قریب جا پہنچے تو اُنکو مست ستانا اور نہ اُنکو چھیڑنا کیونکہ میں بنی عمون کی زمین کا کوئی حصہ تجھے میراث کے طور پر نہیں دونگا اِس لیے کہ اُسے میں نے بنی لوط کو میراث میں دیا ہے ۔
20 ( وہ مُلک بھی رفائیم کا گِنا جاتا تھا کیونکہ پہلے رفائیم جنکو عمونی لوگ زمزمیمؔ کہتے تھے وہاں بسے ہوئے تھے ۔
21 یہ لوگ بھی عناقیم کی طرح بڑے بڑے اور لمبے لمبے اور شمار میں بہت تھے لیکن خداوند نے اُنکو عمونیوں کے سامنے سے ہلاک کیا اور وہ اُنکو نکالکر اُنکی جگہ آپ بس گئے ۔
22 ٹھیک ویسے ہی جیسے اُس نے بنی عیسو کے سامنے سے جو شعیر میں رہتے تھے حوریوں کو ہلاک کیا اور وہ اُنکو نکالکر آج تک اُن ہی کی جگہ بسے ہوئے ہیں ۔
23 ایسے ہی عویوں کو جو اپنی بستیوں میں غزہ تک بسے ہوئے تھے کفتوریوں ؔنے جو کفتورہ سے نکلے تھے ہلاک کیا اور اُنکی جگہ آپ بس گئے ۔
24 سو اُٹھو اور وادیِ ارنون کے پار جاو ۔ دیکھو میں نے حسبون کے بادشاہ سیحون کو جو اموری ہے اُسکے مُلک سمیت تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔ سو اُس پر قبضہ کرنا شروع کرو اور اُسے جنگ چھیڑ دو۔
25 میں آج ہی سے تیرا خوف اوررعب اُن قوموں کے دل میں ڈالنا شروع کر دونگا جو رویِ زمیں پر رہتی ہیں ۔ وہ تیری سُنے گیں اور کانپیں گیں اور تیرے سبب سے بیتاب ہو جائیں گی ۔
26 اور میں نے دشتِ قدیمات سے حسبون کے بادشاہ سیحون کے پاس صلح کے پیغام کے ساتھ ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ ۔
27 مجھے اپنے مُلک سے گذر جانے دے ۔ میں شاہراہ سے ہو کر چلونگا اور دہنے اور بائیں ہاتھ نہیں مُڑونگا ۔
28 تُو روپے لیکر میرے ہاتھ میرے کھانے کے لیے خورش بیچنا اور میرے پینے کے لیے پانی بھی مجھے رو لیکر دینا ۔ فقط مجھے پاوں پاوں نکل جانے دے ۔
29 جیسے بنی عیسو نے جو شعیر میں رہتے ہیں اور موآبیوں نے جو عار شہر میں بستے ہیں میرے ساتھ کیا ۔ جب تک کہ میں یردن کو عبور کر کے اُس مُلک میں پہنچ نہ جاوں جو خداوند ہمارا خُدا ہم کو دیتا ہے ۔
30 لیکن حسبون کے بادشاہ سیحون نے ہمکو اپنے ہاں سے گذرنے نہ دیا کیونکہ خداوند تیرے خدا نے اُسکا مزاج کڑا اور اُسکا دل سخت کر دیا تاکہ اُسے تیرے ہاتھ میں حوالہ کر دے جیسا آج ظاہر ہے ۔
31 اور خداوند نے مجھ سے کہا دیکھ میں سیحون اور اُس کے مُلک کو تیرے ہاتھ میں حوالہ کرنے کو ہوں سو تُو اُس پر قبضہ کرنا شروع کر تاکہ وہ تیری میراث ٹھہرے ۔
32 تب سیحون اپنے سب آدمیوں کو لیکر ہمارے مقابلہ میں نکلا اور جنگ کرنے کے لیے یہض میں آیا ۔
33 اور خداوند ہمارے خدا نے اُسے ہمارے حوالہ کر دیا اور ہم نے اُسے اُس کے بیٹوں کو اور اُس کے سب آدمیوں کو مار لیا ۔
34 اور ہم نے اُسی وقت اُسکے سب شہروں کو لے لیا اور ہر آباد شہر کو عورتوں اور بچوں سمیت بالکل نابو د کر دیا اور کسی کو باقی نہ چھوڑا ۔
35 لیکن چوپایوں کو اور شہروں کے مال کو جو ہمارے ہاتھ لگا لُوٹ کر ہم نے اپنے لیے رکھ لیا ۔
36 اور عروعیر سے جو وادی ارنون کے کنارے ہے اور اُس شہر سے جو وادی میں ہے جلعاد تک ایسا کوئی شہر نہ تھا جسکو سر کرنا ہمارے لیے مُشکل ہوا ۔ خداوند ہمارے خدا نے سب کو ہمارے قبضہ میں کر دیا ۔
37 لیکن بنی عمون کے مُلک کے نزدیک اور دریایِ یبوق کی نواحی اور کوہستان کے شہروں میں اور جہاں جہاں خداوند ہمارے خدا نے ہمو منع کیا تھا تُو نہیں گیا ۔


باب 3

1 پھر ہم نے مُڑ کر بسن ؔ کا راستہ لیا اور بسن کا بادشاہ عوج ادرعی ؔ میں اپنے سب آدمیوں کو لیکر ہمارے مقابلہ میں جنگ کرنے کو آیا ۔
2 اور خداوند نے مجھ سے کہا اُس نے مت ڈرو کیونکہ میں نے اُسکو اور اُسکے سب آدمیوں اور مُلک کو تیرے قبضہ میں کر دیا ہے ، جیسا تُو نے اموریوں کے بادشاہ سیحون سے جو حسبون میں رہتا تھا کیا ویسا ہی تُو اِس سے بھی کرے گا ۔
3 چنانچہ خداوند ہمار ے خدا نے بسن کے بادشاہ عوج کو بھی اُسکے سب آدمیوں سمیت ہمارے قابو میں کر دیا اور ہم نے اُنکو یہاں تک مارا کہ اُن میں سے جوئی باقی نہ رہا ۔
4 اور ہم نے اُسی وقت اُسکے سب شہر لے لئے اور ایک شہر بھی ایسا نہ رہا جو ہم نے اُن سے نہ لیا ہو ۔ یوں ارجوب ؔ کا سارا مُلک جو بسن میں عوجؔ کی سلطنت میں شامل تھا اور اُس میں ساٹھ شہر تھے ہمارے قبضہ میں آیا ۔
5 یہ سب شہر فصیلدار تھے اور اِنکی اونچی اونچی دیواریں اور پھاٹک اور بینڈے تھے ۔ اِنکے علاوہ بہت سے ایسے قصبے بھی ہم نے لے لیے جو فصیلدار نہ تھے ۔
6 اور جیسا ہم نے حسبون کے بادشاہ سیحون کے ہاں کیا ویسا ہی اِن سب آباد شہروں کو مع عورتوں اور بچوں کے بالکل نابود کر ڈالا ۔
7 لیکن سب چوپایوں اور شہروں کے مال کو لُوٹ کر ہم نے اپنے لیے رکھ لیا ۔
8 یوں ہم نے اُس وقت اموریوں کے دونوں بادشاہوں کے ہاتھ سے جو یردن پار رہتے تھے اُنکا مُلک وادیِ ارنون سے کوہِ حرمون تک لے لیا ۔
9 ( اِس حرمون کو صیدانی سریون اور اموری سنیر کہتے ہیں)
10 اور سلکہ اور ادرعیؔ تک میدان کے سب شہر اور سارا جلعاد اور سارا بسن یعنی عوج کی سلطنت کے سب شہر جو بسن میں شامل تھے ہم نے لے لئے ۔
11 ( کیونکہ رفائیم کی نسل میں سے فقط بسن کا بادشاہ عوج باقی رہا تھا ۔ اُسکا پلنگ لوہے کا بنا ہوا تھا اور وہ بنی عمون کے شہر ربہؔ میں موجود ہے اور آدمی ک ہاتھ کے ناپ کے مطابق نَو ہاتھ لمبا اور چار ہاتھ چوڑا ہے )
12 سو اِس مُلک پر ہم نے اُس وقت قبضہ کر لیا اور عرو عیر جو وادیِ ارنون کے کنارے ہے اور جلعاد کے کوہستانی ملک کا آدھا حصہ اور اُسکے شہر میں نے روبینیوں اور جدیوں کو دیے ۔
13 اور جلعاد کا باقی حصہ اور سارا بسن یعنی ارجوب کا سارا مُلک جو عوج کی قلمرو میں تھا مَیں نے منسیؔ کے آدھے قبیلہ کو دیا ( بسن رفائیم کا مُلک کہلاتا تھا ۔
14 اور منسی کے بیٹے یائیر کا نام دیا جو آج تک چلا آتا ہے )۔
15 اور جلعاد مَیں نے مکیرؔ کو دیا
16 ۔ اور روبینیوں اور جدیوں کو مَیں نے جلعادؔ سے وادیِ ارنون تک کا مُلک یعنی اُس وادی کے بیچ کے حصہ کو اُنکی ایک حد ٹھہرا کر دریایِیبوق ؔ تک جو عمونیوں کی سرحد ہے اُنکو دیا ۔
17 اور میدان کو اور کنرتؔ سے لیکر میدان کے دریا یعنی دریایِ شور تک جو مشرق میں پسگہ کے ڈھال تک پھیلا ہوا ہے اور یردن اور اُسکی ساری نواحی کو بھی میں نے اِن ہی کو دے دیا ۔
18 اور میں نے اُس وقت تُمکو حکم دیا کہ خداوند تمہارے خدا نے تُمکو یہ مُلک دیا ہے کہ تُم اُس پر قبضہ کرو ۔ سو تُم سب جنگی مرد مسلح ہو کر اپنے بھائیوں بنی اسرائیل کے آگے آگے پار چلو ۔
19 مگر تمہاری بیویاں اور تمہارے بال بچے اور چوپائے ( کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ تمہارے پاس چوپائے بہت ہیں) سو یہ سب تمہارے اُن ہی شہروں میں رہ جائیں جو میں نے تمکو دیئے ہیں ۔
20 تا وقت کہ خداوند تمہارے بھائیوں کو چین نہ بخشے جیسے تُمکو بخشا اور وہ بھی اُس مُلک پر جو خداوند تمہارا خدا یردن کے اُس پار تُمکو دیتا ہے قبضہ نہ کر لیں ۔ تب تُم سب اپنی ملکیت میں جو میں نے تُمکو دی ہے لَوٹ کر آنے پاو گے ۔
21 اور اُسی موقع پر میں نے یشوعؔ کو حکم دیا کہ جو کچھ خداوند تمہارے خدا نے اِن بادشاہوں سے کیا وہ سب تُو نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ خداوند ایسا ہی اُس پار اُن سب سلطنتوں کا حال کرے گا جہاں تُو جا رہا ہے ۔
22 تُم اُن سے نہ ڈرنا کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمہاری طرف سے آپ جنگ کر رہا ہے ۔
23 اُس وقت میں نے خداوند سے عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ ۔
24 اے خداوند خدا تُو نے اپنے بندہ کو اپنی عظمت اور اپنا زور آور ہاتھ دکھانا شروع کیا ہے کیونکہ آسما ن میں یا زمین پر ایسا کون معبود ہے جو تیرے سے کام یا کرامات کر سکے ۔
25 سو میں تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے پار جانے دے کہ میں بھی اُس اچھے مُلک کو جو یردنؔ کے پار ہے اور اُس خوشنما پہاڑ اور لُبنان کو دیکھو ں۔
26 لیکن خداوند تمہارے سبب سے مجھ سے ناراض تھا اور اُس نے میری نہ سُنی بلکہ خداوند نے مجھ سے کہا کہ بس کر ۔ اِس مضمون پر مجھ سے پھر کبھی کچھ نہ کہنا ۔
27 تُو کوہِ پسگہ کی چوٹی پر چڑھ جا اور مغرب اور شمال اور جنوب اور مشرق کی طرف نظر دوڑا کر اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کیونکہ تپو ا،س یردنؔ کے پار نہیں جانے پائے گا ۔
28 پر یشوعؔ کو وصیت کر اور اُسکی حوصلہ افزائی کر کے اُسے مضبوط کر کیونکہ وہ اَن لوگوں کے آگے پار جائے گا اور وہی اُن کو اُس ملک کا جسے تُو دیکھ لے گا بنائے گا ۔
29 چنانچہ ہم اُس وادی میں جو بیت فغورؔ ہے ٹھہرے رہے ۔


باب 4

1 اور اب اے اسرائیلیو ! جو آئین اور احکام میں تمکو سکھاتا ہوں تُم اُن پر عمل کر نے کے لیے اُنکو سُن ل تاکہ تُم زندہ رہو اور اُس ملک میں جسے خداوند تمہارے باپ دادا کا خدا تُمکو دیتا ہے داخل ہو کر اُس پر قبضہ کر لو ۔
2 جس بات کا میں تُمکو حکم دیتا ہوں اُس میں نہ تو کچھ بڑھانا اور نہ کچھ گھٹانا تاکہ تُم خداوند اپنے خدا کے احکام کو جو میں تُمکو بتاتا ہوں مان سکو ۔
3 جو کچھ خداوند نے بعلؔ فغور کے سبب سے کیا وہ تُم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے یونکہ اُن سب آدمیوں کو جنہوں نے بعل فغور کی پیروی کی خداوند تیرے خدا نے تیرے بیچ سے نابود کر دیا ۔
4 پر تُم جو خداوند اپنے خدا سے لپٹے رہے ہو سب کے سب آج تک زندہ ہو ۔
5 دیکھو ! جیسا خداوند میرے خدا نے مجھے حکم دیا اُس کے مطابق میں نے تُمکو آئین اور احکامسکھا دئے ہیں تاکہ اُس مُلک میں اُن پر عمل کرو جس پر قبضہ کرنے کے لیے جا رہے ہو۔
6 سو تُم اِنکو ماننا اور عمل میں لانا کیونکہ اور قوموں کے سامنے یہی تمہاری عقل اور دانش ٹھہریں گے ۔ وہ اِن تمام آئین کو سُنکر کہیں گی کہ یقینا یہ بزرگ قوم نہایت عقلمند اور دانشور ہے ۔
7 کیونکہ ایسی بڑی قوم کون ہے جسکا معبود اِس قدر اُسکے نزدیک ہو جیسا خداوند ہمارا خدا کہ جب کبھی ہم اُس سے دعا کریں ہمار ے نزدیک ہو ۔
8 اور کون ایسی بزرگ قوم ہے جسے آئین اور احکام ایسے راست ہیں جیسی یہ ساری شریعت ہے جسے میں آج تمہارے سامنے رکھتا ہوں ۔
9 سو تُو ضرور ہی اپنی احتیاط رکھنا اور بڑی حفاظت کرنا تا نہ ہو کہ تُو وہ باتیں جو تُو نے اپنی آنکھ سے دیکھی ہیں بھُول جائے اور وہ زندگی بھر کے لیے تیرے دل سے جاتی رہیں بلکہ تُو اُنکو اپنے بیٹوں اور پوتوں کو سکھانا ۔
10 خصوصاً اُس دن کی باتیں جب تُو خداوند اپنے خدا کے حضور حوربؔ میں کھڑا ہوا کیونکہ خداوند نے مجھ سے کہا تھا کہ قوم کو میرے حضور جمع کر اور میں اُنکو اپنی باتیں سُناونگا تاکہ میرا خوف مانیں او ر اپنے بال بچوں کو بھی یہی سکھائیں ۔
11 چنانچہ تُم نزدیک جا کر اُس پہاڑ کے نیچے کھڑے ہوئے اور وہ پہاڑ آگ سے دہک رہا تھا اور اُسکی لَو آسمان تک پہنچتی تھی اور گِردا گرد تاریکی اور گھٹا اور ظپلمت تھی ۔
12 اور خداوند نے اُس سٓگ میں سے ہو کر تُم سے کلام کیا ۔ تُم نے باتیں تو سُنیں لیکن کوئی صورت نہ دیکھی ۔ فقط آواز ہی آواز سُنی ۔
13 اور اُس نے تُمکو اپنے عہد کے دسں احکام بتا کر اُنکے ماننے کا حکم دیا اور اُنکو پتھر کی دو لوحوں پر لکھ بھی دیا ۔
14 اُس وقت خداوند نے مجھے حکم دیا کہ تُمکو یہ آئین اور احکام سکھاوں تاکہ تُم اُس مُلک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے جا رہے ہو اُن پر عمل کرو ۔
15 سو تُم اپنی خوب ہی احتیاط رکھنا کیونکہ تُم نے اُس دن جب خداوند نے آگ میں سے ہو کر حورب میں تُم سے کلام کیا کسی طرح کی کوئی صورت نہیں دیکھی ۔
16 تا نہ ہو کہ تُم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لئے بنا لو جسکی شبیہ کسی مرد یا عورت ۔
17 یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اُڑنے والے پرندے ۔
18 یا زمین کے رینگنے والے جاندار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہے ملتی ہو ۔
19 یا جب تُو آسمان کی طرف نظر کرے اور تمام اجرامِ فلک یعنی سورج اور چاند اور تاروں کو دیکھے تو گمراہ ہو کر اُن ہی کو سجدہ اور اُنکی عبادت کرنے لگے جنکو خداوند تیرے خدا نے رویِ زمین کی سب قوموں کے لیے رکھا ہے ۔
20 لیکن خداوند نے تُمکو چُنا اور تُمکو گویا لوہے کی بھٹی یعنی مصر سے نکال لے آیا ہے تاکہ تُم اُسکی میراث کے لوگ ٹھہرو جیسا آ ج ظاہر ہے ۔
21 اور تمہارے ہی سبب سے خداوند نے مجھ سے ناراض ہو کر قسم کھائی کہ میں یردن پار نہ جاوں اور نہ اُس اچھے مُلک میں پہنچنے پاوں جسے خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے ۔
22 بلکہ مجھے اِسی مُلک میں مرنا ہے ۔ میں یردن پار نہیں جا سکتا ۔ لیکن تُم پار جا کر اُس اچھے مُلک پر قبضہ کرو گے ۔
23 سو تُم احتیاط رکھو تا نہ ہو کہ تُم خداوند اپنے خدا کے اُس عہد کو جو اُس نے تُم سے باندھا ہے بھول جاو اور اپنے لیے کسی چیز کی شبیہ کی کھودی ہوئی مورت بنا لو جس سے خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو منع کیا ہے ۔
24 کیونکہ خداوند تیرا خدا بھسم کرنے والی آگ ہے ۔ وہ غیور خدا اے ۔
25 اور جب تجھ سے بیٹے اور پوتے پیدا ہوں اور تُمکو اُس مُلک میں رہتے ہوئے ایک مدت ہو جائے اور تُم بگڑ کر کسی چیز کی شبیہ کی کھودی ہوئی مورت بنا لو اور خداوند اپنے خدا کے حضور شرارت کر کے اُسے غصہ دلاو ۔
26 تو میں آج کے دن تمہارے بر خلاف آسمان اور زمین کو گواہ بناتا ہوں کہ تُم اُس مُلک سےجس پر قبضہ کرنے کو یردن پار جانے پر جلد بالکل فنا ہو جاو گے ۔ تُم وہاں بہت دن رہنے نہ پاو گے بلکہ بالکل نابود کر دئے جاو گے ۔
27 اور خداوند تُمکو قوموں میں تتر بتر کرے گا اور جن قوموں کے درمیان خداوند تُم کو پہنچائے گا اُن میں تم تھوڑے سے رہ جاو گے ۔
28 اور وہاں تُم آدمیوں کے ہاتھ سے بنے ہوئے لکڑی اور پتھر کے دیوتاوں کی عبادت کرو گے جو نہ دیکھتے نہ سُنتے نہ کھاتے نہ سونگھتے ہیں ۔
29 لیکن وہاں بی اگر تُم خداوند اپنے خدا کے طالب ہو تو وہ تجھ کو مل جائے گا بشرطیکہ تُو اپنے پورے دل سے اور اپنی ساری جان سے اُسے ڈھونڈے۔
30 جب تُو مصیبت میں پڑے گا اور یہ سب باتیں تجھ پر گذریں گی تو آخری دنوں میں تو خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے گا اور اُسکی مانے گا ۔
31 کیونکہ خداوند تیرا خدا رحیم خدا ہے ۔ وہ تجھ کو نہ چھوڑے گا اور نہ ہلاک کرے گا اور نہ اُس عہد کو بھُولے گا جسکی قسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی ۔
32 اور جب سے انسان کو زمین پر پیدا کیا تب سے شروع کر کے تُو اُن گذرے ایام کا حال جو تجھ سے پہلے ہو چُکے پوچھ اور آسمان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دریافت کر کہ اتنی بڑی واردار کی طرح کبھی کوئی بات ہوئی یا سُننے میں بھی آئی ۔
33 کیا کبھی کوئی قوم خدا کی آواز جیسے تُو نے سُنی آگ میں سے آتی ہوئی سُنکر زندہ بچی ہے؟
34 یا کبھی خدا نے ایک قوم کو کسی دوسری قوم کے بیچ سے نکالنے کا ارادہ کر کے امتحانوں اور نشانوں اور معجزوں اور جنگ اور زور آور ہاتھ اوربُلند باز اور ہولناک ماجروں کے وسیلہ سے اُنکو اپنی خار بر ھزیدہ کرنے کے لیے وہ کام کیے جو خداوند تمہارے خدا نے تمہاری آنکھوں کے سامنے مصر میں تمہارے لیے کئے ؟
35 یہ سب کچھ تُجھ کو دکھایا گیا تا کہ تُو جانے کہ خداوند ہی خدا ہے اور اُس کے سِوا اور کوئی ہے ہی نہیں ۔
36 اُس نے اپنی آواز آسمان میں سے تجھ کو سُنائی تاکہ تجھ کو تربیت کرے اور زمین پر اُس نے تجھ کو اپنی بڑی ااگ دکھائی اور تُو نے اُسکی باتیں آگ کے بیچ میں سے آتی ہوئی سُنیں ۔
37 اور چونکہ اُسے تیرے باپ دادا سے محبت تھی اِسی لیے اُس نے اُنکے بعد اُنکی نسل کو چُن لیا اور تیرے ساتھ ہو کر اپنی بڑی قدرت سے تُجھ کو مصر سے نکال لایا ۔
38 تاکہ تیرےسامنے سے اُن قوموں کو جو تُجھ سے بڑی اور زور آور ہیں دفع کرے اور تُجھ کو اُنکے مُلک میں پہنچائے اور اُسے تُجھکو میراث کے طورپردے جیسا آج کے دن ظاہر ہے ۔
39 پس آج کے دن تُو جان لے اور اِس بات کو اپنے دل میں جما لے کہ اوپر آسمان میں اور نیچے زمین پر خداوند ہی خدا ہے اور کوئی دوسرا نہیں ۔
40 سو تُو اُس کے آئین اور احکام کو جو میں تجھ کو آج بتاتا ہوں ماننا تاکہ تیرا اور تیرے بعد تیری اولاد کا بھلا ہو اور ہمیشہ اُس مُلک میں جو خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے تیری عمر دراز ہو ۔
41 پھر موسیٰ نے یردن کے پار مشرق کی طرف تین شہر الگ کئے ۔
42 تاکہ ایسا خونی جو انجانے بغیر قدیمی عداوت کے اپنے پڑوسی کو مار ڈالے وہ وہاں بھاگ جائے اور اِن شہروں میں سے کسی میں جا کر جیتا بچ رہے ۔
43 یعنی روبینیوں کے لیے تو شہر بصر ہو جو ترائی میں بیابان کے بیچ واقع ہے اور جدیوں کے لیے شہر رامات جو جلعاد میں ہے اور منسیوں کے لیے بسن کا شہر جولان ۔
44 یہ وہ شریعت ہے جو موسیٰ نے بنی اسرائیل کے آگے پیش کی ۔
45 یہی وہ شہادتیں اور آئین اور احکام ہیں جنکو موسیٰ نے بنی اسرائیل کو اُنکے مصر سے نکنے کے بعد
46 یردن کے پار اُس وادی میں جو بیت فغور کے مقابل ہے کہہ سُنا یا یعنی اموریوں کے بادشاہ سیحون کے مُلک میں جو حسبون میں رہتا تھا جسے موسیٰ اور بنی اسرائیل نے مُلک مصر سے نکلنے کے بعد مارا ۔
47 اور پھر اُس کے مُلک کو اور بسن کے بادشاہ عوج کے مُلک کو اپنے قبضہ میں کر لیا ۔ اموریوں کے اِن دونوں بادشاہوں کا یہ مُلک یردن پار مشرق کی طرف ۔
48 عروعیر ؔ سے جو وادری ارنون کے کنارے واقع ہے کوہِ سیون تک جسے حرمون بھی کہتے ہیں پھیلا ہوا ہے ۔
49 اِسی میں یردن پار مشرق کی طر ف میدان کے دریا تک جو پسگہ کے ڈھال کے نیچے بہتا ہے وہاں کا سارا میدان شامل ہے ۔


باب 5

1 پھر موسیٰ نے سب اسرائیلیوں کو بُلوا کر اُنکو کہا اے اسرائیلیو! تُم اُن آئین اور احکام کو سُن لو جنکو میں آج تمکو سُناتا ہوں تاکہ تُم سُنکو سیکھ کر اُن پر عمل کرو ۔
2 خداوند ہمارے خدا نے حورب میں ہم س ایک عہد باندھا ۔
3 خداوند نے یہ عہد ہمارے باپ دادا سے نہیں بلکہ خود ہم سے جو یہاں آج کے دن جیتے ہیں باندھا ۔
4 خداوند نے تُم سے اُس پہاڑ پر روبرو آگ کے بیچ میں سے باتیں کیں ۔
5 ( اُس وقت میں تمہارے اور خداوند کے درمیان کھڑا ہوا تاکہ خداوند کا کلام تُم پر ظاہر کروں کیونکہ تُم آگ کے سبب سے ڈرے ہوئے تھے اور پہاڑ پر نہ چڑھے )۔
6 تب اُس نے کہا خداوند تیرا خدا جو تجھ کو مُلک مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہوں ۔
7 میرے آگے تُو اور معبودوں کو نہ ماننا ۔
8 تُو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے ۔
9 تُو اُنکے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ اُنکی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں اُنکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پُشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔
10 اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔
11 تُو خداوند اپنے خدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ خداوند اُسکو جو اُسکا نام بے فائدہ لیتا ہے بے گناہ نہ ٹھہرے گا ۔
12 تُو خداوند اپنے خدا کے حکم کے مطابق سبت کے دن کو یاد کر کے پاک ماننا ۔
13 چھ دن تک تُو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔
14 لیکن ساتواں دن خداوند تیرے خدا کا سبت ہے ۔ اُس میں نہ تُو کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غُلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا بیل نہ تیرا گدھا نہ تیرا اور کوئی جانور اور نہ کوئی مُسافر جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو تاکہ تیرا غُلام اور تیری لونڈی بھی تیری طرح آرام کریں ۔
15 اور یاد رکھنا کہ تُو ملکِ مصر میں غلام تھا اور وہاں سے خداوند تیرا خدا اپنے زور آور ہاتھ اور بُلند بازو سے تُجھ کو نکال لایا ۔ اِس لیے خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو سبت کے دن کو ماننے کا حکم دیا ۔
16 اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھے حکم دیا ہے تاکہ تیری عمر دراز ہو اور جو مُلک خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے اُس مں تیرا بھلا ہو ۔
17 تُو خون نہ کرنا ۔
18 تُو زنا نہ کرنا ۔
19 تُو چوری نہ کرنا
20 تُو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا ۔
21 تُو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اپنے پڑوسی کے گھر یا اُسکے کھیت یا غُلام یا لونڈی یا بیل یا گدھے یا ُسکی کسی اور چیز کا خواہاں ہونا ۔
22 یہیں باتیں خداوند نے اُس پہاڑ پر آگ اور گھٹا اور ظُلمت میں سے تمہاری ساری جماعت کو بُلند آواز سے کہیں اور اِس سے زیادہ اور کچھ نہ کہا اور اِن ہی کو اُس نے پتھر کی دو لوحوں پر لکھا اور اُنکو میرے سپرد کیا ۔
23 اور جب وہ پہاڑ آگ سے دہک رہا تھا اور تُم نے وہ آواز اندھیرے میں سے آتی سُنی تو تُم اور تمہارے قبیلوں کے سردار اور بزرگ میرے پاس آئے ۔
24 اور تُم کہنے لگے کہ خداوند ہمار ے خدا نے اپنی شوکت اور عظمت ہمکو دکھائی اور ہم نے اُسکی آواز آگ میں سے آتی سُنی ۔ آج ہم نے دیکھ لیا کہ خداوند انسان سے باتیں کرتا ہے تو بھی انسان زندہ رہتا ہے ۔
25 سو اب ہم کیوں اپنی جان دیں کیونکی ایسی بڑی آگ ہمکو بھسم کر دے گی ۔ اگر ہم خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سُنیں تو مر ہی جائیں گے ۔
26 کیونکہ ایسا کون سا بشر ہے جس نے زندہ خدا کی آواز ہماری طرح آگ میں سے آتی سُنی ہو اور پھر بھی جیتا رہا ؟
27 سو تُو ہی نزدیک جا کر جو کچھ خداوند ہمارا خدا کہے اُسے سُن لے اور تُو ہی وہ باتیں جو خداوند ہمارا خدا تُجھ سے کہے ہم کو بتانا اور ہم اُسے سُنیں گے اور اُس پر عمل کریں گے ۔
28 اور جب تُم مجھ سے گفتگو کر رہے تھے تو خداوند نے تمہاری باتیں سُنیں ۔ تب خداوند نے مجھ سے کہا کہ میں اِن لوگوں کی باتیں جو اُنہوں نے تُجھ سے کہیں سُنی ہیں ۔ جو کچھ اُنہوں نے کہا ٹھیک کہا ۔
29 کاش اُن میں ایسا ہی دل ہو تاکہ وہ میرا خوف مانکر ہمیشہ میرے سب حکموں پر عمل کرتے تاکہ سدا اُنکا اور اُنکی اولاد کا بھلا ہوتا ۔
30 سو تُو جا کر اُن سے کہہ دے کہ تُم اپنے ڈیروں کو لوٹ جاو۔
31 پر تُو یہیں میرے پاس کھڑا رہ اور میں وہ سب فرمان اور سب آئین اور احکام جو تجھے اُنکو سکھانے ہیں تجھ کو بتاونگا تاکہ وہ اُن پر اُس مُلک میں جو میں اُنکو قبضہ کرنے کے لیے دیتا ہوں عمل کریں ۔
32 سو تُم احتیاط رکھنا اور جیسا خداوند تمہارے خدا نے تُمکو حکم دیا ہے ویسا ہی کرنا اور دہنے یا بائیں ہاتھ کو نہ مُڑنا ۔
33 تُم اُس سارے طریق پر جسکا حکم خداوند تمہارے خدانے تُمکو دیا ہے چلنا تاکہ تُم جیتے رہو اور تمہارا بھلا ہو اور تمہاری عمر اُس ملک میں جس پر تہم قبضہ کرو گے دراز ہو ۔


باب 6

1 یہ وہ فرماناور آئین اور احکام ہیں جنکو خداوند تمہارے خدا نے تُمکو سکھانے کا حکم دیا ہے تاکہ تُم اُن پر اُس مُلک میں عمل کرو جس پر قبضہ کرنے کے لیے پار جانے کو ہو ۔
2 اور تُو اپنے بیٹوں اور پوتوں سمیت خداوند اپنے خدا کا خوف مانکر اُسکے تمام آئین اور احکام پر جو میں تُجھ کو بتاتا ہوں زندگی بھر عمل کرنا تاکہ تیری عمر دراز ہو ۔
3 اِس لیے اے اسرائیل ! سُن اور احتیاط کر کے اُن پر عمل کر تاکہ تیرا بھلا ہو اور تُم خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے وعدہ کے مطابق اُس مُلک میں جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے نہایت بڑھ جاو۔
4 سُن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے ۔
5 تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ ۔
6 اور یہ باتیں جنکا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں ۔
7 اور تُو اِنکو اپنی اولاد کے ذہن نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِنکا ذکر کیا کرنا ۔
8 اور تُو نشان کے طور پر اِنکو اپنے ہاتھ پر باندھنا اوروہ تیری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں ۔
9 اور تُو اُنکو اپنے گھر کی چوکھٹوں اور اپنے پھاٹکوں پر لکھنا ۔
10 اور جب خداوند تیرا خدا تجھ کو اُس ملک میں پہنچائے جسے تجھ کو دینے کی قسم اُس نے تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعوعب سے کھائی اور جب وہ تُجھ کو بڑے بڑے اور اچھے شہر جنکو تُو نے نہیں بنایا ۔
11 اور اچھی اچھی چیزوں سے بھرے ہوئے گھر جنکو تُو نے نہیں بھرا اور کھودے کھُدائے حوض جو تُو نے نہیں کھودے اور انگو ر کے باغ اور زیتون کے درخت جو تُو نے نہیں لگائے عنایت کرے اور تُو کھائے اور سیر ہو ۔
12 تو تُو ہوشیار رہنا یا ایسا نہ ہو کہ تُو خداوند کو جو تجھ کو ملک ِ مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا بھول جائے ۔
13 تو خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا اور اُسی کی عبادت کرنا اور اُسکے نام کی قسم کھانا ۔
14 تُم اور معبودوں کی یعنی اُن قوموں کے معبودوں کی جو تمہارے آس پاس رہتی ہیں پیروی نہ کرنا ۔
15 کیونکہ خداوند تیرا خدا جو تیرے درمیان ہے غیور خدا ہے ۔ سو ایسا نہ ہو کہ خداوند تیرے خدا کا غضب تجھ پر بھڑکے اور وہ تُجھ کو رویِ زمین پر سے فنا ک دے ۔
16 تُم خداوند اپنے خدا کو مت آزمانا جیسا تُم نے اُسے مسہ میں آزمایا تھا ۔ (17 تُم جانفشانی سے خداوند اپنے خدا کے حکموں اور شہادتوں اور آئین کو جو اُس نے تُجھ کو فرمائے ہیں ماننا ۔
17
18 اور تُو سہی کرنا جو خداوند کی نظر میں درست اور اچھا ہے تاکہ تیرا بھلا ہو اور جس اچھے مُلک کی باب نمبرت خداوند نے تیرے باپ دادا سے قسم کھائی تُو اُس میں داخل ہو کر اُس پر قبضہ کر سکے ۔
19 اور خداوند تیرے سب دُشمنوں کو تیرے آگے سے دفع کرے جیسا اُس نے کہا ہے ۔
20 اور جب آءندہ زمانہ میں تیرے بیٹے تُجھ سے سوال کریں کہ جن شہادتوں اور آئین اور فرمان کے ماننے کا حکم خداوند ہمارے خدا نے تُمکو دیا ہے اُنکا مطلب کیا ہے ؟
21 تو تُو اپنے بیٹوں کو یہ جواب دینا کہ جب ہم مصر میں فرعون کے غلام تھے تو خداوند اپنے زور آور ہاتھ سے ہمکو مصر سے نکال لایا ۔
22 اور خداوند نے بڑے بڑے اور ہولناک عجائب و نشان ہمارے سامنے اہلِ مصر اور فرعون اور اُس کے سب گھرانے پر کر کے دکھائے ۔
23 اور ہمکو وہاں سے نکال لایا تاکہ ہم کو اِس ملک میں جسے ہمکو دینے کی قسم اُس نے ہمارے باپ دادا سے کھائی پہنچائے ۔
24 سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25 اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔


باب 7

1 جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تُو جا رہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے اُن بہت سی قوموں کو یعنی حتیوں اور جرجاسیوں اور کعنانیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کو جو ساتوں قومیں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے ۔
2 اور جب خداوند تیرا خدا اُنکو تیرے آگے شکست دلائے اور تُو اُنکو مار لے تو تُو اُنکو بالکل نابود کر ڈالنا ۔ تُو اُن سے کوئی عہد نہ باندھنا اور نہ اُن پر رحم کرنا ۔
3 تُو اُن سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا ۔ نہ اُنکے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لیے اُن کی بیٹیاں لینا ۔
4 کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں ۔ یوں خداوند کا غضب تُم پر بھڑکے گا اور وہ تُجھ کو جلد ہلاک کر دے گا ۔
5 بلکہ تُم اُن سے یہ سلوک کرنا کہ اُنکے مزبحوں کو ڈھا دینا ۔ اُنکے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا اور اُنکی یسیرتوں کو کاٹ ڈالنا اور اُنکی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلا دینا ۔
6 کیونکہ تُو خداوند اپنے خدا کے لیے ایک مقدس قوم ہے ۔ خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو روی زمین کی اور سب قوموں میں سے چُن لیا ہے تاکہ اُسکی خاص اُمت ٹھہرے ۔
7 خداوند نے جو تُم سے محبت کی اور تمکو چُن لیا تو اِسکا سبب یہ نہ تھا کہ تُم شمار میں اور قوموں سے زیادہ تھے کیونکہ تُم سب قوموں سے شمار میں کم تھے
8 بلکہ چونکہ خداوند کو تُم سے محبت ہے اور وہ اُس قسم کو جو اُس نے تمہارے باپ دادا سے کھائی پورا کرنا چاہتا تھا اِس لیے خداوند تُمکو اپنے زور آور ہاتھ سے نکال لایا اور غُلامی کے گھر یعنی مصر کے بادشاہ فرعون کے ہاتھ سے تمکو مخلصی بخشی ۔
9 سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا وہی خدا ہے ۔ وہ وفادار خدا ہے اور جو اُس سے محبت رکھتے اور اُسکے حکموں کو مانتے ہیں اُنکے ساتھ ہزار پُشت تک وہ اپنے عہد کو قائم رکھتا اور اُن پر رحم کرتا ہے ۔
10 اور جو اُس سے عداوت رکھتے ہیں اُنکو اُنکے دیکھتے ہی دیکھتے بدلہ دے گا ۔
11 اِس لیے جو فرمان اور آئین اور احکام مَیں آج کے دن تجھ کو بتاتا ہوں تُو اُنکو ماننا اور اُن پر عمل کرنا ۔
12 اور تمہارے اِن حکموں کو سُننے اور ماننے اور اُن پر عمل کرنے کے سبب سے خداوند تیرا خدا بھی تیرے ساتھ اُس عہد اور رحمت کو قائم رکھے گا جنکی قسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی
13 اور تُجھ سے محبت رکھے گا اور تجھ کو برکت دے گا اور بڑھائے گا اور اُس ملک میں جسے تُجھ کو دینے کی قسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی وہ تیری اولاد پر اور تیری زمین کی پیداوار یعنی تیرے غلہ اور مے اور تیل پر اور تیرے گائے بیل کے اور بھیڑ بکریوں کے بچوں پر برکت نازل کرے گا ۔
14 تجھ کو سب قوموں ے زیادہ برکت دی جائے گی اور تُم میں یا تمہارے چوپایوں میں نہ تو کوئی عقیم ہو گا نہ بانجھ ۔
15 اور خداوند ہر قسم کی بیماری تجھ سے دور کر ے گا اور مصر کے اُن بُرے لوگوں کو جن سے تُو واقف ہے تجھ کو لگنے نہ دے گا بلکہ اُنکو اُن پر جو تجھ سے عداوت رکھتے ہیں نازل کرے گا ۔
16 اور تُو اُن سب قوموں کو جنکو خداوند تیرا خدا تیرے قابو میں کر دے گا نا بود کر ڈالنا ۔ تُو اُن پر ترس نہ کھانا اور نہ اُنکے دیوتاوں کی عبادت کرنا اور نہ یہ تیرے لیے ایک جال ہو گا ۔
17 اور اگر تیرا دل بھی یہ کہے کہ یہ قومیں تو مجھ سے زیادہ ہیں ۔ میں اُنکو کیونکر نکال لُوں؟
18 تو بھی تُو اُن سے نہ ڈرنا بلکہ جو کچھ خداوند تیرے خدا نے فرعون اور سارے مصر سے کیا اُسے خوب یاد رکھنا ۔
19 یعنی اُن بڑے بڑے تجربوں کو جنکو تیری آنکھوں نے دیکھا اور اُن نشانوں اور معجزوں اور زور آور ہاتھ اور بُلند بازو کو جن سے خداوند تیرا خدا تُجھ کو نکال لایا کیونکہ خداوند تیرا خدا ایسا ہی اُن سب قوموں سے کرے گا جن سے تُو درتا ہے ۔
20 بلکہ خداوند تیرا خدا اُن میں زنبوروں کو بھیج دے گا یہاں تک کہ جو اُن میں سے باقی بچ کر چھپ جائیں گے وہ بھی تیرے آگے سے ہلاک ہو جائیں گے ۔
21 سو تُو اُن سے دہشت نہ کھانا کیونکہ خداوند تیرا خدا تیرے بیچ میں ہے اور وہ خدای عظیم اور مہیب ہے ۔
22 اور خداوند تیرا خُدا اُن قوموں کو تیرے آگے سے تھوڑا تھوڑا کر کے دفع کرے گا۔ تُو ایک ہی دم اُنکو ہلاک نہ کرنا ۔ ایسا نہ ہو کہ جنگی درندے بڑھ کر تُجھ پر حملہ کرنے لگیں ۔
23 بلکہ خداوند تیرا خدا اُنکو تیرے حوالہ کرے گا اور اُنکو ایسی شکست فاش دے گا کہ وہ نابود ہو جائیں گے ۔
24 اور وہ اُنکے بادشاہوں کو تیرے قابو میں کر دے گ اور تُو اُنکا نام صفحہ روز گار سے مٹا ڈالے گا اور کوئی مرد تیرا سامنا نہ کر سکے گا یہاں تک کہ تُو اُنکو نابود کردے گا ۔
25 تُم اُنکے دیوتاوں کی تراشی ہوئی مورتوں کو آگ سے جلا دینا اور جو چاندی یا سونا اُن پر ہو اُسکا تُو لالچ نہ کرنا اور نہ اُسے لینا تا نہ ہو کہ تُو اُس کے پھندے میں پھنس جائے کیونکہ ایسی بات خداوند تیرے خدا کے آگے مکروہ ہے ۔
26 سو تُو ایسی مکروہ چیز اپنے گھر میں میں لا کر اُسکی طرح نیست کر دیا جانے کے لائق نہ بن جانا بلکہ تو اُس سے ازحد گھن کھانا اور اُس سے بالکل نفرت رکھنا کیونکہ وہ ملعون چیز ہے۔


باب 8

1 سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں تم احتیاط کر کے عمل کرنا تاکہ تُم جیتے اور بڑھتے رہو اور جس ملک کی باب نمبرت خداوند نے تمہارے باپ دادا سے قسم کھائی ہے تُم اُس میں جا کر اُس پر قبضہ کرو۔
2 اور تُو اُس سارے طریق کو یاد رکھنا جس پراِن چالیس برسوں میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو اِس بیابان میں چلایا تاکہ وہ تجھ کو عاجز کر کے آزمائے اور تیر دل کی بات دریافت کرے کہ تُو اُسکے حکموں کو مانے گا یا نہیں ۔
3 اور اُس نے تجھ کو عاجز کیا بھی اور تجھ کو بھُوکا ہونے دیا اور وہ من جسے نہ تُو نہ تیرے باپ دادا جانتے تھے تجھ کو کھلایا تاکہ تُجھ کو سکھائے کہ انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جو خداوند کے منہ سے نکلتی ہے وہ جیتا رہتا ہے ۔
4 اَن چالیس برسوں میں نہ تو تیرے تن پر تیر ے کپڑے پُرانے ہوئے اور نہ تیرے پاوں سوجے ۔
5 اور تُو اپنے دل میں خیال رکھنا کہ جس طرح آدمی اپنے بیٹے کو تنبیہ کرتا ہے ویسے ہی خداوند تیرا خدا تجھ کو تنبیہ کرتا ہے ۔
6 سو تُو خداوند اپنے خدا کی راہوں پر چلنے اور اُسکا خوف ماننے کے لیے اُس کے حکموں پر عمل کرنا ۔
7 کیونکہ خداوند تیرا خدا تُجھ کو ایک اچھے ملک میں لیے جاتا ہے ۔ وہ پانی کی ندیوں اور ایسے چشموں اور سوتوں کا مُلک ہے جو وادیوں اور پہاڑوں سے پھوٹ کر نکلتے ہیں ۔
8 وہ ایسا ملک ہے جہاں گیہوں اور جَو اور انگور اور انجیر کے درخت اور انار ہوتے ہیں ۔ وہ ایسا مُلک ہے جہاں روغن دار زیتون اور شہد بھی ہے ۔
9 اُس ملک میں تجھ کو روٹی با فراط ملے گی اور تجھ کو کسی چیز کی کمی نہ ہو گی کیونکہ اُس ملک کے پتھر بھی لوہا ہیں اور وہاں کے پہاڑوں سے تُو تانبا کھو د کر نکال سکے گا ۔
10 اور تُو کھائے گا اور سیر ہو گا اور اُس اچھے ملک کے لیے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے اُسکا شُکر بچا لائے گا ۔
11 سو خبردار رہنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تو خداوند اپنے خدا کو بھول کر اُسکے فرمانوں اور حکموں اور آئین کو جنکو آج میں تجھ کو سُناتا ہوں ماننا چھوڑ دے ۔
12 ایسا نہ ہو کہ جب تو کھا کر سیر ہو اور خوشنما گھر بنا کر اُن میں رہنے لگے ۔
13 اور تیرے گائے بیل کے گلے اور بھیڑ بکریاں بڑھ جائیں اور تیرے پاس چاندی اور سونا اور مال بکثرت ہو جائے ۔
14 تو تیر ے دل میں غرور سمائے اور تُو خداوند اپنے خدا کو بھول جائے جو تجھ کو ملکِ مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا ہے ۔
15 اور ایسے وسیع اور ہولناک بیابان میں تیرا رہنا ہوا جہاں جلانے والے سانپ اور بچھو تھے اور جہاں کی زمین بغیر پانی کے سوکھی پڑی تھی ۔ وہاں اُس نے تیرے لیے چقمق کی چٹان سے پانی نکالا ۔
16 اور تجھ کو بیابان میں وہ من کھلایا جسے تیرے باپ دادا جانتے بھی نہ تھے تاکہ تجھ کو عاجز کرے اور تیری آزمائش کر کے آخر میں تیرا بھلا کرے ۔
17 اور ایسا نہ ہو کہ تُو اپنے دل میں کہنے لگے کہ میری ہی طاقت اور ہاتھ کے زور سے مجھ کو یہ دولت نصیب ہوئی ہے ۔
18 بلکہ تو خداوند اپنے خدا کو یاد رکھنا کیونکہ وہی تجھ کو دولت حاصل کرنے کی قوت اِس لیے دیتا ہے کہ اپنے اُس عہد کو جسکی قسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی تھی قائم رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے ۔
19 اور اگر تُو کبھی خداوند اپنے خدا کو بھولے اور اَور معبودوں کا پیرو بن کر اُنکی عبادت اور پرستش کرے تو میں آج کے دن تُمکو آگاہ کئے دیتا ہوں کہ تُم ضرور ہی نیست ہو جاو گے ۔
20 جن قوموں کو خداوند تمہارے سامنے ہلاک کرنے کو ہے اُن ہی کی طرح تُم بھی خداوند اپنے خدا کی بات نہ ماننے کے سبب سے ہلاک ہو جاو گے ۔



باب 9

1 باب نمبر 9 سُن لے اے اسرائیل آج تجھے یردن پار اِس لیے جانا ہے کہ تُو ایسی قوموں پر جو تُجھ سے بڑی اور زور آور ہیں اور ایسے بڑے شہروں پر جنکی فصلیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں قبضہ کرے ۔
2 وہاں عناقیم کی اولاد ہیں جو بڑے بڑے اور قد آور لوگ ہیں ۔ تجھے اُنکا حال معلوم ہے اور تُو نے اُنکی باب نمبرت یہ کہتے سُنا ہے کہ بنی عناق کا مقابلہ کون کر سکتا ہے ؟
3 پس تو آج کے دن جان لے کہ خداوند تیرا خدا تیرے آگے آگے بھسم کرنے والی آگ کی طرح پا جا رہا ہے ۔ وہ اُنکو فنا کے گا اور وہ اُنکو تیرے آگے پست کرے گا ایسا کہ تُو اُنکو نکال کر جلد ہلاک کر ڈالے گا جیسا خداوند نے تجھ سے کہا ہے ۔
4 اور جب خداوند تیرا خدا اُنکو تیرے آگے سے نکال چُکے تو تُو اپنے دل میں یہ نہ کہنا کہ میری صداقت کے سبب سے خداوند مجھے اِس ملک پر قبضہ کرنے کو یہاں لایا کیونکہ فی الواقع اِنکی شرارت کے سبب سے خداوند اِن قوموں کو تیرے آگے سے نکالتا ہے ۔
5 تُو اپنی صداقت یا اپنے دل کی راستی کے سبب سے اُس ملک پر قبضہ کرنے کو نہیں جا رہا ہے بلکہ خداوند تیرا خدا اِن قوموں کی شرارت کے باعث اِنکو تیرے آگے سے خارج کرتا ہے تاکہ یوں وہ اُس وعدہ کو جسکی قسم اُس نے تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے کھائی پورا کرے ۔
6 غرض تُو سمجھ لے کہ خداوند تیرا خدا تیری صداقت کے سبب سے یہ اچھا ملک تجھے قبضہ کرنے کے لیے نہیں دے رہا ہے کیونکہ تُو ایک گردن کش قوم ہے ۔
7 اِس با ت کو یاد رکھ اور کبھی نہ بھول کہ تُو نے خداوند اپنے خدا کو بیابان میں کس کس طرح غصہ دلایا بلکہ جب سے تُم ملک مصر سے نکلے ہو تب سے اِس جگہ پہنچنے تک تُم برابر خداوند سے بغاوت ہی کرتے رہے ۔
8 اور حورب میں بھی تم نے خداوند کو غصہ دلایا چنانچہ خداوند ناراض ہو کر تمکو نیست و نابود کرنا چاہتا تھا ۔
9 جب میں پتھر کی دونوں لوحوں کو یعنی اُس عہد کی لوحوں کو جو خداوند نے تُم سے باندھا لینے کو پہاڑ پر چڑھ رہا اور نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا۔
10 اور خداوند نے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی پتھر کی دونوں لوحیں میرے سپرد کیں اور اُن پر وہی باتیں لکھی تھیں جو خداوند نے پہاڑ پر آگ کے بیچ میں سے مجمع کے دن تُم سے کہی تھیں ۔
11 اور چالیس دن اور چالیس رات کے بعد خداوند نے پتھر کی وہ دونوں لوحیں یعنی عہد کی لوحیں مجھ کو دیں ۔
12 اور خداوند نے مجھ سے کہا اُٹھ کر جلد یہاں سے نیچے جا کیونکہ تیرے لوگ جنکو تو مصر سے نکال لایا ہے بگڑ گئے ہیں ۔ وہ اُس راہ سے جسکا میں نے اُنکو حکم دیا جلد برگشتہ ہو گئے اور اپنے لیے ایک مورت ڈھا ل کر بنا لی ہے ۔
13 اور خداوند نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ میں نے اِن لوگوں کو دیکھ لیا ۔ یہ گردن کش لوگ ہیں ۔
14 سو اب تُو مجھے اِنکو ہلاک کرنے دے تاکہ میں اِنکا نام صفحہ روز گار سے مٹا ڈالوں اور میں تجھ سے ایک قوم جو اِن زور آور اور بڑی ہو بناونگا ۔
15 تب میں اُلٹا پھرا اور پہاڑ کے نیچے اُترا اور پہاڑ آگ سے دہک رہا تھا اور عہد کی وہ دونوں لوحیں میرے دونوں ہاتھوں میں تھیں ۔
16 اور میں نے دیکھا کہ تُم نے خداوند اپنے خدا کا گناہ کیا اور اپنے لیے ایک بچھڑا ڈھالکر بنا لیا ہے اور بہت جلد اُس راہ سے جسکا خداوند نے تمکو حکم دیا تھا برگشتہ ہو گئے ۔
17 تب میں نے اُن دونوں لوحوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے لیکر پھینک دیا اور تمہاری آنکھوں کے سامنے اُنکو توڑ ڈالا ۔
18 اور میں پہلے کی طرح چالیس دن اور چالیس رات خداوند کے آگے اوندھا پڑا رہا ۔ میں نے نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا کیونکہ تُم سے بڑا گناہ سرزد ہوا تھا اور خداوند کو غصہ دلانے کے لیے تُم نے وہ کام کیا جو اُس کی نظ میں بُرا تھا ۔
19 اور میں خداوند کے قہر اور غضب سے ڈر رہا تھا کیونکہ وہ تُم سے سخت ناراض ہو کر تمکو نیست و نابود کرنے کو تھا لیکن خداوند نے اُس بار بھی میری سُن لی ۔
20 اور خداوند ہارون سے ایسا غصہ تھا کہ اُسے ہلاک کرنا چاہا پر میں نے اُس وقت ہارون کے لیے بھی دعا کی ۔
21 اور میں نے تمہارے گناہ کو یعنی اُس بچھڑے کو جو تُم نے بنایا تھا لیکر آگ میں جلایا ۔ پھر اُسے کُوٹ کُوٹ کر ایسا پیسا کہ وہ گرد کی مانند باریک ہو گیا اور اُسکی اُس راکھ کو اُس ندی میں جو پہاڑ سے نکل کر نیچے بہتی تھی ڈال دیا ۔
22 اور تبعیرہ اور مسہ اور قبروت ہتا وہ میں بھی تُم نے خداوند کو غصہ دلایا ۔
23 اور جب خداوند نے تمکوقادس برنیع سے یہ کہہ کر روانہ کیا کہ جاو اور اُس مُلک پر جو میں نے تُمکو دیا ہے قبضہ کرو تو اُس وقت بھی تُم نے خداوند اپنے خدا کے حکم کو عدول کیا اور اُس پر ایمان نہ ائے اور اُس کی بات نہ مانی ۔
24 جس دن سے میری تُم سے واقفیت ہوئی ہے تُم برابر خداوند سے سر کشی کرتے رہے ہو ۔
25 سو وہ چالیس دن اور چالیس رات جو میں خداوند کے آگے اوندھا پڑا رہا اِسی لیے پڑا رہا کیونکہ خداوند نے کہہ دیا تھا کہ وہ تمکو ہلاک کرے گا ۔
26 اور میں نے خداوند سے یہ دعا کی کہ اے خداوند خدا ! تُو اپنی قوم اور اپنی میراث کے لوگوں کو جنکو تُو نے اپنی قدرت سے نجات بخشی اور جنکو تُو اپنے زور آور ہاتھ سے مصر سے نکال لایا ہلاک نہ کر ۔
27 تا ایسا نہ ہو کہ جس ملک سے تُو ہمکو نکال لایا ہے وہاں کے لوگ کہنے لگیں کہ چونکہ خداوند اُس ملک میں جسکا وعدہ اُس نے اُن سے کیا تھا پہنچا نہ سکا اور چونکہ اُسے اُن سے نفرت بھی تھی اِس لیے وہ اُن کو نکال لے گیا تاکہ اُنکو بیابان میں ہلاک کر دے ۔
28
29 آخر یہ لوگ تیری قو م اور تیری میراث ہیں جنکو تُو اپنے بڑے زور اور بلند بازو سے نکال لایا ہے ۔



باب 10

1 باب نمبر 10 اُس وقت خداوند نے مجھ سے کہا کہ پہلی لوحوں کی مانند پتھر کی دو اور لوحیں تراش لے اور میرے پاس پہاڑ پر آ جا اور ایک چوبی صندوق بھی بنا لے ۔
2 اور جو باتیں پہلی لوحوں پر جنکو تُو نے توڑ دالا لکھی تھیں وہی میں اِن لوحوں پر بھی لکھ دونگا ۔ پھر تُو اِنکو اُس صندوق میں دھر دینا ۔
3 سو میں نے کیکر کی لکڑی کا ایک صندوق بنایا اور پہلی لوحوں کی مانند پتھر کی دو لوحیں تراش لیں اور اُن دونوں لوحوں کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گیا ۔
4 او ر جو دس حکم خداوند نے مجمع کے دن پہاڑ پر آگ کے بیچ میں دے تمکو دئے تھے اُن ہی کو پہلی تحریر کے مطابق اُس نے اِن لوحوں پر لکھ دیا ۔ پھر اِن کو خداوند نے میرے سپرد کیا ۔
5 تب میں پہاڑ سے لوٹ کر نیچے آیا اور اِن لوحوں کو اُس صندوق میں جو میں نے بنایا تھا دھر دیا اور خداوند کے حکم کے مطابق جو اُس نے مجھے دیا تھا وہ وہیں رکھی ہوئی ہیں ۔
6 ( پھر بنی اسرائیل بیروت بنی یعقان سے روانہ ہو کر موسیرہ میں آئے ۔ وہیں ہارون نے رحلت کی اور دفن بھی ہوا اور اُسکا بیٹا الیعزر کہانت ک منصب پر مقرر ہو کر اُس کی جگہ خدمت کرنے لگا ۔
7 وہاں سے وہ جد جودہ کو اور جد جودہ سے یوطبات کو چلے ۔ اِس ملک میں پانی کی ندیاں ہیں ۔
8 اُسی موقع پر خداوند نے لاوی کے قبیلہ کو اِس غرض سے الگ کیا کہ وہ خداوند کے عہد کے صندوق کو اُٹھایا کرے اور خداوند کے حضور کھڑا ہو کر اُس کی خدمت کو انجام دے اور اُس کے نام سے برکت دیا کرے جیسا آج تک ہوتا ہے ۔
9 اِسی لیے لاوی کو کوئی حصہ یا میراث اُسکے بھائیوں کے ساتھ نہیں ملی کیونکہ خداوند اُس کی میراث جیسا خود خداوند تیرے خدا نے اُس سے کہا ہے )
10 اور میں پہلے کی طرح چالیس دن اور چالیس رات پہاڑ پر ٹھہرا رہا اور اِس دفعہ بھی خداوند نے میری سُنی اور نہ چاہا کہ تجھ کو ہلاک کرے ۔
11 پھر خداوند نے مجھ سے کہا اُٹھ اور اِن لوگوں کے آگے روانہ ہو تاکہ یہ اُس مُلک پر جا کر قبضہ کر لیں جسے اُنکو دینے کی قسم میں نے اُنکے باپ دادا سے کھائی تھی ۔
12 پس اے اسرائیل ! خداوند تیرا خدا تجھ سے اِس کے سِوا اور کیا چاہتا ہے کہ تُو خداوند اپنے خدا کا خوف مانے اور اُسکی سب راہوں پر چلے اور اُسے محبت رکھے اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی بندگی کرے ۔
13 اور خداوند کے جو احکام اور آئین میں تجھ کو آج بتاتا ہوں اُن پر عمل کرے تاکہ تیری خیر ہو ؟
14 دیکھ آسمان اور آسمانوں کا آسمان اور زمین اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب خداوند تیرے خدا ہی کا ہے ۔
15 تو بھی خداوند نے تیرے باپ دادا سے خوش ہو کر اُن سے محبت کی اور اُنکے بعد اُنکی اولادکو یعنی تمکو سب قوموں میں سے برگزیدہ کیا جیسا آج کے دن ظاہر ہے ۔
16 اِس لیے اپنے دلوں کا ختنہ کرو اور آگے کو گردن کش نہ رہو ۔
17 کیونکہ خداوند تمہارا خدا الہوں کا الہٰ خداوندوں کا خدا ہے ۔ وہ بزرگوار اور قادر اور مہیب خدا ہے جو رورعایت نہیں کرتا اور نہ رشوت لیتا ہے ۔
18 وہ یتیموں اور بیوواں کا انصاف کرتا ہے اور پردیسی سے ایسی محبت رکھتاہے کہ اُسے کھانا اور کپڑا دیتا ہے ۔
19 سو تُم پردیسیوں سے محبت رکھنا کیونکہ تُم بھی ملک ِ مصر میں پردیسی تھے ۔
20 تُو خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا ۔ اُسکی بندگی کرنا اور اُس سے لپٹے رہنا اور اُس کے نام کی قسم کھانا ۔
21 وہی تیر ی حمد کا سزاوار ہے اور وہی تیرا خدا ہے جس نے تیرے لیے وہ بڑے اور ہولناک کام کئے جنکو تُو نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔
22 تیرے باپ دادا جب مصر میں گئے تو ستر آدمی تھے پر اب خداوند تیرے خدا نے تجھ کو بڑھا کر آسمان کے ستاروں کی مانند کر دیا ہے ۔


باب 11

1 سو تُو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھنا اور اُسکی شرع اور آئین اور احکام اور فرمانوں پر سدا عمل کرنا ۔
2 اور تُم آج کے ن خوب سمجھ لو کیونکہ میں تمہارے بال بچوں سے کلام نہیں کر رہا ہوں جنکو نہ تو معلوم ہے اور نہ اُنہوں نے دیکھا کہ خداوند تمہارے خدا کی تنبیہ اور اُسکی عظمت اور زور آور ہاتھ اور بلند بازو سے کیا کیا ہوا۔
3 اور مصر کے بیچ مصر کے بادشاہ فرعون اور اُس کے مُلک کے لوگوں کو کیسے کیسے نشان اور کیسی کرامات دکھائیں ۔
4 اور اُس نے مصر کے لشکر اور اُنکے گھوڑوں اور رتھوں کا کیا حال کیا اور کیسے ُس نے بحرِ قُلزم کے پانی میں اُنکو غرق کیا جب وہ تمہارا پیچھا کر رہے تھے اور خداوند نے اُنکو کیسا ہلاک کیا کہ آ ج کے دن تک وہ نابود ہیں ۔
5 اور تمہارے اِس جگہ پہنچنے تک اُس نے بیابان میں تُم سے کیا کیا کِیا ۔
6 اور داتن اور ابیرام کا جو الیات بن روبن کے بیٹے تھے کیا حال بنایا کہ سب اسرائیلیوں کے سامنے زمین نے اپنا منہ پسار کر اُنکو اور اُنکے گھرانوں اور خیموں اور ہر ذی نفس کو جو اُنکے ساتھ تھا نگل لیا ۔
7 پر خداوند کے اِن سب بڑے بڑے کاموں کو تُم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
8 اِس لیے اِن حکموں کو جو آج میں تجھ کو دیتا یوں تُم ماننا تاکہ تُم مضبوط ہو کر اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تُم پار جا رہے ہو پہنچ جاو اور اُس پر قبضہ بھی کر لو۔
9 اور اُس ملک میں تمہاری عمر دراز ہو جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے اور جسے تمہارے باپ دادا اور اُنکی اولاد کو دینے کی قسم خداوند نے اُن سے کھائی تھی ۔
10 کیونکہ جس ملک پر تُو قبضہ کرنے کو جا رہا ہے وہ ملک مصر کی مانند نہیں ہے جہاں سے تم نکل آئے ہو ۔ وہاں تو تُو بیج بو کر اُسے سبزی کے باغ کی طرح پاوں سے نالیاں بنا کر سینچتا تھا ۔
11 لیکن جس ملک پر قبضہ کرنے کے لیے تم پار جانے کو ہو وہ پہاڑوں اور وادیوں کا ملک ہے اور بارش کے پانی سے سیراب ہوا کرتا ہے ۔
12 اُس ملک پر خداوند تیرے خدا کی توجہ رہی ہے اور سال کے شروع سے سال کے آخر تک خداوند تیرے خدا کی آنکھیں اُس پر لگی رہتی ہیں ،
13 او ر اگر تُم میرے حکموں کو جو آج میں تُم کو دیتا ہوں اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے اُسکی بندگی کرو۔
14 تو میں تمہارے ملک میں عین وقت پر پہلا اور پچھلا مینہ برساونگا تاکہ تُو اپنا غلہ اور مَے ار تیل جمع کر سکے ۔
15 اور میں تیرےچوپایوں کے لیے میدان میں گھاس پیدا کرونگا اور تُو کھائے گا اور سیر ہو گا ۔
16 سو تُم خبردار رہنا تا ایسا نہ ہو کہ تمہار ے دل دھوکا کھائں اور تُم بہک کر اور معبودوں کی عبادت اور پرستش کرنے لگو ۔
17 اور خداوند کا غضب تُم پر بھڑکے اور وہ آسمان کو بند کر دے تاکہ مینہ نہ برسے اور زمین میں کچھ پیداوار نہ ہو اور تُم اِس اچھے ملک سے جو خداوند تُم کو دیتا ہے جلد فنا ہو جاو۔
18 اِس لیے میری اِن باتوں کو تُم اپنے دل اور اپنی جان میں محفوظ رکھنا اور نشان کے طور پر اِنکو اپنے ہاتھوں پر باندھنا اور وہ تمہاری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں ۔
19 اور تُم اِنکو اپنے لڑکوں کو سکھانا اور تُو گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِن ہی کا ذکر کیا کرنا ۔
20 اور تُو اِنکو اپنے گھر کی چوکٹھوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر لکھاکرنا ۔
21 تاکہ جب تک زمین پر آسمان کا سایہ ہے تنہاری اور تمہاری اولاد کی عمر اُس ملک میں دراز ہو جسکو خداوند نے تمہارے باپ دادا کو دینے کی قسم اُن سے کھائی تھی ۔
22 کیونکہ اگر تُم اُن سب حکموں کو جو میں تُم کو دیتا ہوں جانفشانی سے مانو اور اُن ر عمل کرو اور خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو اور اُسکی سب راہوں پر چلو اور اُس سے لپٹے رہو ۔
23 تو خداوند اِن سب قوموں کو تمہارے آگے سے نکال ڈالے گا اور تُم اُن قوموں پر جو تُم سے بڑی اور زور آور ہیں قابض رہو گے ۔
24 جہاں جہاں تمہارے پاوں کا تلوا اٹکے وہ جگہ تمہاری ہو جائے گی یعنی بیابان اور لُبنان سے دریای فرات سے مغرب کے سمندر تک تمہاری سر حد ہو گی ۔
25 اور کوئی شخص وہاں تمہارا مقابلہ نہ کر سکے گا کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمہارا رعب اور خوف اُس تمام ملک میں جہاں کہیں تمہارے قدم پڑیں پیدا کر دے گا جیسا اُس نے تُم سے کہا ہے ۔
26 دیکھو میں آج کے دن تمہارے آگے برکت اور لعنت دونوں رکھے دیتا ہوں ۔
27 برکت اُس حال میں جب تُم خداوند اپنے خدا کے حکموں کو جو آج میں تُم کو دیتا ہوں مانو۔
28 اور لعنت اُس وقت جب تُم خداوند اپنے خدا کی فرمانبرداری نہ کرو اور اُس راہ کو جسکی باب نمبرت میں آج تُم کو حکم دیتا ہوں چھوڑ کر اور معبودوں کی پیروی کرو جن سے تُم اب تک واقف نہیں ۔
29 اور جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کو تُو جا رہا ہے پہنچا دے تو کوہِ گرزیم سے برکت اور کوہِ عیباں پر سے لعنت سُنانا۔
30 وہ دونوں پہاڑ یردن پار مغرب کی طرف اُن کعنانیوں کے مُلک میں واقع ہیں جو جلجال کے مقابل مورہ کے بلوطوں کے قریب میدان میں رہتے ہیں ۔
31 اور تُم یردن پار اِسی لیے جانے کو ہو کہ اُس ملک پر جو خداوند تمہارا خدا تُم کو دیتا ہے قبضہ کرو اور تُم اُس پر قبضہ کرو گے بھی اور اُسی میں بسو گے ۔
32 سو تُم احتیاط کر کے اُن سب آئین اور احکام پر عمل کرنا جنکو میں آج تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں ۔


باب 12

1 جب تک تُم دُنیا میں زندہ رہو تُم احتیاط کر کے اِن ہی آئین اور احکام پر اُس ملک میں عمل کرنا جسے خدوند تیرے باپ دادا کے خدا نے تُجھ کو دیا ہے تاکہ تُو اُس پر قبضہ کرے ۔
2 وہاں تُم ضرور اُن سب جگہوں و نیست و نابود کر دینا جہاں جہاں وہ قومیں جنکے تُم وارث ہو گے اونچے اونچے پہاڑوں پر اور ٹیلوں پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے اپنے دیوتاوں کی پوجا کرتی تھیں ۔
3 تُم اُنکے مذبحوں کو ڈھا دینا اور اُنکے ستونوں کو توڑ ڈالنا اور اُنکی یسیرتوں کو آگ لگا دینا اور اُنکے دیوتاوں کی کھُدی ہوئی مورتوں کو کاٹ کر گِرا دینا اور اُس جگہ سے اُنکے نام تک کو مٹا ڈالنا ۔
4 پر خداوند اپنے خدا سے ایسا نہ کرنا ۔
5 بلکہ جس جگہ کو خداوند تمہارا خدا تمہارے سب قبیلوں میں سے چُن لے تاکہ وہاں اپنا نام قائم کرے تُم اُسکے اُسی مسکن کے طالب ہو کر وہاں جایا کرنا ۔
6 اور وہیں تُم اپنی سوختنی قُربانیوں اور ذبیحوں اور دہ یکیوں اور اُٹھانےکی قُربانیوں اور اپنی منتوں کی چیزوں اور اپنی رضا کی قُربانیوں اور گائے بیلوں اور بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھوں کو گذراننا ۔
7 اور وہیں خداوند اپنے خدا کے حضور کھانا اور اپنے گھرانوں سمیت اپنے ہاتھ کی کمائی کی خوشی بھی کرنا جس میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو برکت بخشی ہو ۔
8 اور جیسے ہم یہاں جو کام جسکو ٹھیک دکھائی دیتا ہے وہی کرتے ہیں ایسے تُم وہاں نہ کرنا ۔
9 کیونکہ تُم اب تک اُس آرام گاہ اور میراث کی جگہ تک جو خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے نہیں پہنچے ہو ۔
10 لیکن جب تُم یردن پار جا کر اُس ملک میں جسکا مالک خداوند تمہارا خدا تُم کو بناتا ہے بس جاو اور وہ تمہارے سب دشمنوں کی طرف سے جو گردا گِرد ہیں تُُم کو راحت دے اور تُم امن سے رہنے لگو ۔
11 تو وہاں جس جگہ کو خداوند تمہارا خدا اپنے نام کے مسکن کے لیے چُن لے وہیں تُم یہ سب کچھ جسکا میں تُم کو حکم دیتا ہوں لے جایا کرنا یعنی اپنی سوختنی قُربانیاں اور اپنے ذبیحے اور اپنی دہ یکیاں اور اپنے ہاتھ کے اُٹھائے ہوئے ہدیے اور اپنی خاص نذر کی چیزیں جنکی منت تُم نے خداوند کے لیے مانی ہو ۔
12 اور وہیں تُم اور تمہارے بیٹے بیٹیاں اور تمہارے نوکر چاکر اور لونڈیاں اور وہ لاوی بھی جو تمہارے پھاٹکوں کے اندر رہتا ہو اور جسکا کوئی حصہ یا میراث تمہارے ساتھ نہیں سب کے سب ملکر خداوند اپنے خدا کے حضور خوشی منانا ۔
13 اور تُو خبردار رہنا تا ایسا نہ ہو کہ جس جگہ کو دیکھ لے وہیں اپنی سوختنی قُربانی چڑھائے ۔
14 بلکہ فقط اُسی جگہ جسے خداوند تیرے کسی قبیلہ میں چُن لے تُو اپنی سوختنی قُربانیاں گذراننا اور وہیں سب کچھ جسکا میں تُجھ کو حکم دیتا ہوں کرنا ۔
15 پر گوشت کو تُو اپنے سب پھاٹکوں کے اندر اپنے دل کی رغبت اور خداوند اپنے خدا کی دی ہوئی برکت کے موافق ذبح کر کے کھا سکے گا ۔ پاک اور ناپاک دونوں طرح کے آدمی اُسے کھاسکیں گے جیسے چکارے اور ہرن کو کھاتے ہیں ۔
16 لیکن تُم خون کو بالکل نہ کھانا بلکہ اُسے پانی کی طرح زمین پر انڈیل دینا۔
17 اور تُو اپنے پھاٹکوں کے اندر اپنے غلہ اور مَے اور تیل کی دہ یکیاں اور گائے بیلوں اور بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھے اور اپنی منت مانی ہوئی چیزیں اور رضا کی قُربانیاں اور اپنے ہاتھ کی اُٹھائی ہوئی قُربانیاں کبھی نہ کھانا ۔
18 بلکہ تُو اور تیرے بیٹے بیٹیاں اور تیرے نوکر چاکر اور لونڈیاں اور وہ لاوی بھی جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو اُن چیزوں کو خداوند اپنے خدا کے حضور اُس جگہ کھانا جسے خداوند تیرا خدا چُن لے اور تُو خداوند اپنے خدا کے حضور اپنے ہاتھ کی کمائی کی خوشی منانا ۔
19 اور خبردار جب تک تُو اپنے مُلک میں جیتا رہے لاویوں کو چھوڑ نہ دینا ۔
20 جب خداوند تیرا خدا اُس وعدہ کے مطابق جو اُس نے تجھ سے کیا ہے تیری سرحد کو بڑھائے اور تیرا جی گوشت کھانے کو کرے اور تُو کہنے لگے کہ میں تو گوشت کھانونگا تو تُو جیسا تیرا جی چاہے گوشت کھا سکتا ہے ۔
21 اور اگر وہ جگہ جسے خداوند تیرے خدا نے اپنے نام کو وہاں قائم کرنے کے لیے چُنا ہو تیرے مکان سے بہت دور ہو تو تُو اپنے گائے بیل اور بھیڑ بکری میں سے جنکو خداوند نے تجھ کو دیا ہے کسی کو ذبح کر لینا اور جیسا میں نے تجھ کو حکم دیا ہے تُو اُسکے گوشت کو اپنے دل کی رغبت کے مطابق اپنے پھاٹکوں کے اندر کھانا ۔
22 جیسے چکارے اور ہرن کو کھاتے ہیں ویسے ہی تُو اُسے کھانا ۔ پاک اور ناپاک دونوں طرح کے آدمی اُسے یکساں کھا سکیں گے ۔
23 فقط اِتنی احتیاط ضرور رکھنا کہ تُو خون کو نہ کھانا کیونکہ خون ہی تو جان ہے ۔ سو تُو گوشت کے ساتھ جان کو ہرگز نہ کھانا ۔
24 تُو اُسکو کھانا مت بلکہ اُسے پانی کی طرح زمین پر انڈیل دینا ۔
25 تُو اُسے نہ کھانا تاکہ تیرے اُس کام کے کرنے سے جو خداوند کی نظر میں ٹھیک ہے تیرا اور تیرے ساتھ تیری اولاد کو بھی بھلا ہو ۔
26 پر اپنی مُقدس اشیا کو جو تیرے پاس ہوں اور اپنی مَنتوں کی چیزوں کو اُسی جگہ لے جانا جسے خداوند چُن لے ۔
27 اور وہیں اپنی سوختنی قُربانیوں کا گوشت اور خون دونوں خداوند اپنے خدا کے مذبح پر چڑھانا اور خداوند تیرے خدا ہی کے مذبح پر تیرے ذبیحوں کا خون انڈیلا جائے مگر اُنکا گوشت تُو کھانا ۔
28 اِن سب باتوں کو جنکا میں تجھ کو حکم دیتا ہوں غور سے سُن لے تاکہ تیرے اُس کام کے کرنے سے جو خداوند تیرے خدا کی نظر میں اچھا اور ٹھیک ہے تیرا اور تیر ے بعد تیری اولاد کا بھلا ہو ۔
29 جب خداوند تیرا خدا تیرے سامنے سے اُن قوموں کو اُس جگہ جہاں تُو اُنکا وارث ہونے کو جا رہا ہے کاٹ ڈالے اور تُو اُنکا وارث ہو کر اُنکے مُلک میں بس جائے ۔
30 تو تُو خبردار رہنا تا ایسا نہ ہو کہ جب وہ تیرے آگے سے نابود ہو جائیں تو تُو اِس پھندے میں پھنس جائے کہ اُنکی پیروی کرے اور اُنکے دیوتاوں کے بارے میں یہ دریافت کرے کہ یہ قومیں کس طرح سے اپنے دیوتاوں کی پوجا کرتی ہیں ؟ میں بھی ویسا ہی کرونگا ۔
31 تُو خداوند اپنے خدا کے لیے ایسا نہ کرنا کیونکہ جن جن کاموں سے خداوند کو نفرت اور عداوت ہے وہ سب اُنہوں نے اپنے دیوتاوں کے لیے کئے ہیں بلکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو بھی وہ اپنے دیوتاوں کے نام پر آگ میں ڈالکر جلا دیتے ہیں ۔
32 جس جس بات کا میں حکم کرتا ہوں تُم احتیاط کر کے اُس پر عمل کرنا اور تُو اُس میں نہ تو کچھ بڑھانا اور نہ اُس میں سے کچھ گھٹانا ۔


باب 13

1 اگر تیرے درمیان کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا ظاہر ہو اور تجھ کو کسی نشان یا جیب بات کی خبر دے ۔
2 اور وہ نشان یا عجیب بات جسکی اُس نے تجھ کو خبر دی وقوع میں آئے اور وہ تجھ سے کہے کہ آ ہم اور معبودوں کی جن سے تُو واقف نہیں پیروی کر کے اُنکی پوجا کرےں ۔
3 تو تُو ہر گز اُس نبی یا خواب دیکھنے والے کی بات کو نہ سُننا کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمکو آزمائے گا تاکہ جان لے کہ تُم خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے محبت رکھتے ہو یا نہیں ۔
4 تُم خداوند اپنے خدا کی پیروی کرنا اور اُسکا خوف ماننا اور اُسکے حکموں پر چلنا اور اُسکی بات سُننا ۔ تُم اُسی کی بندگی کرنا اور اُسی سے لپٹے رہنا۔
5 وہ نبی یا خواب دیکھنے والا قتل کیا جا ئے کیونکہ اُس نے تُم کو خداوند تمہارے خدا سے ( جس نے تُم کو ملک مصر سے نکالا اور تُجھ کو غلامی کے گھر سے رہائی بخشی ) بغاوت کرنے کی ترغیب دی تاکہ تُجھ کو اُس راہ سے جس پر خداوند تیرے خدا نے تجھ کو چلنے کا حکم دیا ہے بہکائے ۔ یوں تُو اپنے بیچ میں سے ایسی بدی کو دور کر دینا ۔
6 اگر تیرا بھائی یا تیری ماں کا بیٹا یا تیرا بیٹا یا بیٹی یا تیری ہم آغوش بیوی یا تیرا دوست جسکو تُو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا ہے تجھ کو چپکے چپکے پھُسلا کر کہے کہ چلو ہم اور دیوتاوں کی پوجا کریں جن سے تُو اور تیرے باپ دادا واقف بھی نہیں ۔
7 یعنی اُن لوگوں کے دیوتا جو تمہارے گردا گرد تیرے نزدیک رہتے ہیں یا تجھ س دور زمین کے اِس سرے سے اُس سِرے تک بسے ہوئے ہیں ۔
8 تو تُو اِس پر اُس کے ساتھ رضا مند نہ ہونا اور نہ اُسکی بات سُننا ۔ تُو اُس پر ترس بھی نہ کھانا اور نہ اُسکی رعایت کرنا اور نہ اُسے چھپانا ۔
9 بلکہ تُو اُسکو ضرور قتل کرنا اور اُسکو قتل کرتے وقت پہلے تیرا ہاتھ اُس پر پڑے ۔ اُسکے بعد سب قوم کا ہاتھ ۔
10 اور تُو اُسے سنگسار کرنا تاکہ وہ مر جائے کیونکہ اُس نے تُجھ کو خداوند تیرے خدا سے جو تُجھ کو ملکِ مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا برگشتہ کرنا چاہا ۔
11 تب سب اسرائیل سُنکر ڈریں گے اور تیرے درمیان پھر ایسی شرارت نہیں کریں گے ۔
12 اور جو شہر خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو رہنے کو دیے ہیں اگر اُن میں سے کسی کے بارے میں تُو یہ افواہ سُنے کہ ۔
13 چند خبیث آدمیوں نے تیرے ہی بیچ میں سے نکلر اپنے شہر کے لوگوں کو یہ کہ کر گمراہ کر دیا ہے کہ چلو ! ہم اور معبودوں کی جن سے تُم واقف نہیں پوجا کریں ۔
14 تو تُو دریافت اور خوب تفتیش کر کے پتا لگانا اور دیکھ اھر یہ سچ ہو اور قطعی یہی بات نکلے کہ ایسا مکروہ کام تیرے درمیان کِیا گیا ۔
15 تو تُو اُس شہر کے باشندوں کو تلوار سے ضرور قتل کر ڈالنا اور وہاں کا سب کچھ اور چوپائے وغیرہ تلوار ہی سے نیست و نابود کر دینا ۔
16 اور وہاں کی ساری لُوٹ کو چوک کے بیچ جمع کر کے اُس شہر کو اور وہاں کی لُوٹ کو تنکا تِنکا خداوند اپنے خدا کے حضور آگ سے جلا دینا اور وہ ہمیشہ کو ایک ڈھیر سا پرا رہے اور پھر کبھی بنایا نہ جائے ۔
17 اور اُن مخصوص کی ہوئی چیزوں میں سے کچھ بھی تیرے ہاتھ میں نہ رہے تاکہ خداوند اپنے قہرِ شدید سے باز آئے اور جیسا اُس نے تیرے باپ دادا سے قسم کھائی ہے اُسکے مطابق تجھ پر رحم کرے اور تر س کھائے اور تُجھ کو بڑھائے ۔
18 یہ تب ہی ہو گا جب تو خداوند اپنے خدا کی بات مانکر اُس کے حکموں پر جو آج میں تجھ کو دیتا ہوں چلے اور جو کچھ خداوند تیرے خدا کی نظر میں ٹھیک ہے اُسی کو کرے ۔


باب 14

1 تُم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو ۔ تُم مُردوں کے سبب سے اپنے آپ کو زخمی نہ کرنا اور نہ اپنے ابرو کے بال منڈوانا ۔
2 کیونکہ تُو خداوند اپنے خدا کی مُقدس قوم ہے اور خداوند نے تجھ کو روی زمین کی اور سب قوموں میں سے چُن لیا ہے تاکہ تُو اُسکی خاص قوم ٹھہرے ۔
3 تو کسی گھنونی چیز کو مت کھانا
4 جن چوپایوں کو تُم کھا سکتے ہو وہ یہ ہیں یعنی گا۴ے بیل اور بھیڑ بکری۔
5 اور ہرن اور چکارا اور چھوٹا ہرن اور بُز کوہی اور سابرادر نیل گائے اور جنگلی بھیڑ ۔
6 اور چوپایوں میں سے جس جس کے پاوں الگ اور چرے ہوئے ہیں اور وہ جگالی بھی کرتا ہو تُم اُسے کھا سکتے ہو ۔
7 لیکن اُن میں سے جو جگالی کرتے ہیں یا اُنکے پاوں چرے ہوئے ہیں تُم اُنکو یعنی اونٹ اور خرگوش اور سافان کو نہ کھانا کیونکہ یہ جُگالی کرتے ہیں لیکن اِنکے پاوں چرے ہوئے نہیں ہیں سو یہ تمہارے لیے ناپاک ہیں ۔
8 اور سوار تمہارے لیے اِس سبب سے ناپاک ہے کہ اُسکے پاوں تو چِرے ہوئے ہیں پر و ہ جگالی نہیں کرتا ۔ تُم نہ تو اُنکا گوشت کھانا اور نہ اُنکی لاش کو ہاتھ لگانا ۔
9 آبی جانوروں میں سے تُم اُن ہی کو کھانا جنکے پر اور چھلکے ہوں ۔
10 لیکن جس کے پر اور چھلکے نہ ہوں تُم اُسے مت کھانا ۔ وہ تمہارے لیے ناپاک ہے ۔
11 پاک پرندوں میں سے تُم جسے چاہو کھا سکتے ہو ۔
12 لیکن اِن میں سے تُم کسی کو نہ کھانا یعنی عقاب اور استخوان خوار اور بحری عقاب ۔ اور چیل اور باز اور گدھ اور اُنکی اقسام ۔
13 ہر قسم کا کوا۔
14 اور شُتر مرغ اور چغد اور کوکل اور قسم قسم کے شاہین ۔
15
16 اور بُوم اور اُلو اور قاز۔
17 اور حواصل اور خم اور ہڑگیلا ۔
18 اور لقلق اور ہر قسم کا بگلا اور ہُد ہد اور چمگادڑ۔
19 اور سب پردار رینگنے والے جاندار تمہارے لیے ناپاک ہیں ۔ وہ کھائے نہ جائیں ۔
20 اور پاک پرندوں میں سے تُم جسے چاہو کھاو۔
21 جو جانور آپ ہی مر جائے تُم اُسے کھانا ۔ تُو اُسے کسی پردیسی کو جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو کھانے کو دے سکتا ہے یا اُسے کسی اجنبی آدمی کے ہاتھ بیچ سکتا ہے کیونکہ تُو خداوند اپنے خدا کی مُقدس قوم ہے ۔ تُو حلوان کو اُسی کی ماں کے دودھ میں نہ اُبالنا ۔
22 تُو اپنے غلہ میں سے جو سا ل بسال تیرے کھتیوں میں پیدا ہو دہ یکی دینا ۔
23 اور تُو خداوند اپنے خدا کے حضور اُسی مقام میں جسے وہ اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے اپنے غلہ اور مَے اور تیل کی دہ یکی کو اور اپنے گائے بیل اور بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھوں کو کھانا تاکہ تُو ہمیشہ خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا سیکھے ۔
24 اور اگر وہ جگہ جسکو خداوند تیرا خدا اپنے نام کو وہاں قائم کرنے کے لیے چُنے تیرے گھر سے بہت دور ہو اور راستہ بھی اِس قدر لمبا ہو کہ تُو اپنی دہ یکی کو اُس حال میں جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو برکت بخشے وہا ں تک نہ لیجا سکے ۔
25 تو تُو اُسے بیچ کر روپے کو باندھ ہاتھ میں لیے وئے اُس جگہ چلے جانا جسے خداوند تیرا خدا چُنے ۔
26 اور اِس روپے سے جو کچھ تیرا جی چاہے خواہ گائے بیل یا بھیڑ بکری یا مَے یا شراب مول لیکر اُسے اپنے گھرانے سمیت وہاں خداوند اپنے خدا کے حضور کھانا اور خوشی منانا ۔
27 اور لاوی کو جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہے چھوڑ نہ دینا کیونکہ اُسکا تیرے ساتھ کوئی حصہ یا میراث نہیں ہے ۔
28 تین تین بر س کے بعد تُو تیسرے برس کے مال کی ساری دہ یکی نکالکر اُسے اپنے پھاٹکوں کے اندر اکٹھا کرنا ۔
29 تب لاوی جسکا تیرے ساتھ کوئٰ حصہ یا میراث نہیں اور پردیسی اور یتیم اور بیوہ عورتیں جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہوں آئیں اور کھا کر سیر ہوں تاکہ خداوند تیا خدا تیرے سب کاموں میں جنکو تُو ہاتھ لگائے تُجھ کو برکت بخشے ۔


باب 15

1 ہر سات سال کے بعد تُو چھٹکارادیا کرنا ۔
2 اور چھٹکارادینے کا طریقہ یہ ہو کہ اگر کسی نے اپنے پروسی کو کچھ قرض دیا ہو تو وہ اُسے چھوڑ دے اور اپنے پڑوسی سے یا بھائی سے اُسکا مطالبہ نہ کرے کیونکہ خداوند کے نام سے اِس چھٹکارے کا علان ہو ا ہے ۔
3 پردیسی سے تُو اُسکا مطالبہ کر سکتا ہے پر جو کچھ تیرا تیرے بھائی پر آتا ہو اُسکی طرف سے دست بردار ہو جانا ۔
4 تیرے درمیان کوئی کنگال نہ رہے کیونکہ خداوند تجھ کو اِس ملک میں ضرور برکت بخشے گا جسے خود خداوند تیرا خدا میراث کے طور ر تُجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے ۔
5 بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات مانکر اِن سب احکام پر چلنے کی احتیاط رکھے جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں ۔
6 کیونکہ خداوند تیرا خدا جیسا اُس نے تُجھ سے وعدہ کیاہے تُجھ کو برکت بخشے گا اور تُو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر تُجھ کو اُن سے قرض لینا نہ پڑے گا اور تُو بہت سی قوموں پر حکمرانی کرے گا پر وہ تُجھ پر حکمرانی کرنے نہ پائیں گی ۔
7 جو ملک خداوند تیرا خدا تُجھ کو دیتا ہے اگر اُس میں کہیں تیرے پھاٹکوں کے اندر تیرے بھائیوں میں سے کوئی مفلس ہو تو تُو اپنے اُس مفلس بھائی کی طرف سے نہ اپنا دل سخت کرنا اور نہ ہی اپنی مٹھی بند کر لینا ۔
8 بلکہ اُسکی احتیاج رفع کرنے کو جو چیز اُسے درکار ہو اُسکے لیے تُو ضرور فراخ دستی سے اُسے قرض دینا ۔
9 خبردار رہنا کہ تیرے دل میں یہ بُرا خیال نہ گذرنے پائے کہ ساتواں سال جو چھٹکارے کا سال ہے نزدیک ہے اور تیرے مفلس بھائی کی طرف سے تیری نظر بد ہو جائے اور تُو اُسے کچھ نہ دے اور وہ تیرے خلاف خداوند سے فریا د کرے اور یہ تیرے لیے گناہ ٹھہرے ۔
10 بلکہ تُجھ کو اُسے ضرور دینا ہو گا اور اُسکو دیتے وقت تیرے دل کو بُرا بھی نہ لگے اِس لیے کہ ایسی بات کے سبب سے خداوند تیرا خدا تیرے سب کاموں میں اور سب معاملوں میں جنکو تُو اپنے ہاتھ میں لیگا تُجھ کو برکت بخشے گا ۔
11 اور چونکہ مُلک میں کنگال سدا پائے جائیں گے اِس لیے میں تُجھ کو حکم کرتا ہوں کہ تُو اپنے مُلک میں اپنے بھائی یعنی کنگالوں اور محتاجوں کے لیے اپنی مٹھی کھلی رکھنا ۔
12 اگر تیر ا کوئی بھائی خواہ وہ عبرانی مرد ہو یا عبرانی عورت تیرے ہاتھ بِکے اور وہ چھ برس تک تیری خدمت کرے تو تُو ساتویں سا ل اُسکو آزاد ہو کر جانے دینا ۔
13 اور جب تُو اُسے آزاد کر کے اپنے پاس سے رخصت کر ے تو اُسے خالی ہاتھ نہ جانے دینا ۔
14 بلکہ تُو اپنی بھیڑ بکری اور کتھے اور کولھہو میں سے دل کھول کر اُسے دینا یعنی خداوند تیرے خدا نے جیسی برکت تجھ کو دی ہو اُس کے مطابق اُسے دینا ۔
15 اور یاد رکھنا کہ ملک مصر میں تُو بھی غلام تھا اور خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو چھڑایا اِسی لیے میں تجھ کو اِس بات کا حکم آج دیتا ہوں ۔
16 اور اگر وہ اِس سبب سے کہ اُسے تجھ سے اور تیرے گھرانے سے محبت ہو اور وہ تیرے ساتھ خوشحا ل ہو تجھ سے کہنے لگے کہ میں تیرے پاس سے نہیں جاتا ۔
17 تو تُو ایک ستاری لیکر اُسکا کان دروازہ سے لگا کر چھید دینا تو وہ سدا تیرا غُلام بنا رہے گا اور اپی لونڈی سے بھی ایسا ہی کرنا ۔
18 اور اگر تُو اُسے آزاد کر کے اپنے پاس سے رخصت کرے تو اُسے مُشکل نہ گرداننا کیونکہ اُس نے دو مزدوروں کے برابر چھ برس تک تیری خدمت کی اور خداوند تیرا خدا تیرے سب کاروبار میں تجھ کو برکت بخشے گا ۔
19 تیرے گائے بیل اور بھیڑ بکریوں میں جتنے پہلوٹھے نر پیدا ہوں اُن سب کو خداوند اپنے خدا کے لیے مقدس کرنا ۔ اپنے گائے بیل کے پہلوٹھے سے کچھ کام نہ لینا اور نہ اپنی بھیڑ بکری کے پہلوٹھے کے بال کترنا ۔
20 تُو اُسے اپنے گھرانے سمیت خداوند اپنے خدا کے حضور اُسی جگہ جسے خداوند چُن لے سال بسال کھایا کرنا ۔
21 اور اگر اُس میں کوئی نقص ہو مثلا وہ لنگڑا یا اندھا ہو یا اُس میں اور کوئی بُرا عیب ہو تو خداوند اپنے خدا کے لیے اُسکی قُربانی نہ گذراننا ۔
22 تو اُسے اپنے پھاٹکوں کے اندر کھانا ۔ پاک اور ناپاک دونوں طرح کے آدمی جیسے چکارے اور ہرن کو کھاتے ہیں ویسے ہی اُسے کھائیں ۔
23 پر اُسکے خون کو ہرگز نہ کھانا بلکہ اُسکو پانی کی طرح زمین پر انڈیل دینا ۔


باب 16

1 تو ابیب کے مہینے کو یاد رکھنا اور اُس میں خداوند اپنے خدا کی فسح کرنا کیونکہ خداوند تیرا خدا ابیب کے مہینے میں رات کے وقت تجھ کو مصر سے نکال لایا ۔
2 اور جس جگہ کو خداوند اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے وہیں تُو خداوند اپنے خدا کے لیے اپنے گائے بیل اور بھیڑ بکری میں سے فسح کی قُربانی چڑھانا ۔
3 تو اُسکے ساتھ خمیری روٹی نہ کھانا بلکہ سات دن تک اُسکے ساتھ بے خمیری روٹی جو دُکھ کی روٹی ہے کھانا کیونکہ تُو ملک مصر سے ہڑبڑی میں نکلا تھا ۔ یوں تو عمر بھر اُس دن کو جب تو ملک مصر سے نکلا یا د رکھ سکے گا ۔
4 اور تیری حدود کے اندر سات دن تک کہیں خمیر نظر نہ آئے اور اُس قُربانی میں سے جسکو تُو پہلے دن کی شام کو چڑھائے کچھ گوشت صبح تک باقی نہ رہنے پائے ۔
5 تُو سفح کی قُربانی کو اپنے پھاٹکوں کے اندر جنکو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دیا ہو کہیں نہ چڑھانا ۔
6 بلکہ جس جگہ کو خداوند تیرا خدا اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے گا وہاں تُو فسح کی قُربانی کو اُس وقت جب تُو مصر سے نکلا تھا یعنی شام کو سورج ڈوبتے وقت گذراننا ۔
7 اور جس جگہ کو خداوند تیرا خدا چُنے وہیں اُسے بھون کر کھانا اور پھر صبح کو اپنے اپنے ڈیرے کو لَوٹ جانا ۔
8 چھ دن تک بے خمیری روٹی کھانا اور ساتویں دن خداوند تیرے خدا کی خاطر مقدس مجمع ہو ۔ اُس میں تُو کوئی کام نہ کرنا ۔
9 پھر تُو سات ہفتے یوں گننا کہ جب ہنسوا لیکر فصل کاٹنی شروع کرے تب سے سات ہفتے گِن لینا ۔
10 تب جیسی برکت خداوند تیرے خدا نے دی ہو اُسکے مطابق اپنے ہاتھ کی رضا کی قُربانی کا ہدیہ لا کر خداوند اپنے خدا کے لیے ہفتوں کی عید منانا ۔
11 اور اُسی جگہ جسے خداوند تیرا خدا اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے گا تُو اور تیرے بیٹے بیٹیاں اور تیرے غُلام اور لونڈیاں اور وہ لاوی جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو اور مسافر اور یتیم اور بیوہ جو تیرے درمیان ہوں سب ملکر خداوند اپنے خدا کے حضور خوشی منانا ۔
12 اور یاد رکھنا کہ تُو مصر میں غلام تھا اور اِن حکموں پر احتیاط کر کے عمل کرنا۔
13 جب تُو کھلہیان اور کولھوکا مال جمع کر چُکے تو سات دن تک عید خیام کرنا ۔
14 اور تُو اور تیرے بیٹے بیٹیاں اور غلام اور لونڈیاں اور لاوی اور مسافر اور یتیم اور بیوہ جو تیرے پھاٹکوں کے اند ر ہوں سب تیری اِس عید میں خوشی منائیں ۔
15 سات دن تک تُو خداوند اپنے خدا کے لیے اُسی جگہ جسے خداوند چُنے عید کرنا اِس لیے کہ خداوند تیرا خدا تیرے سارے مال میں اور سب کاموں میں جنکو تُو ہاتھ لگائے تجھ کو برکت بخشے گا ۔ سو تُو پوری پوری خوشی کرنا ۔
16 اور سال میں تین بار یعنی بے خمیری روٹی کی عہد اور ہفتوں کی عید اور عید خیام کے موقع پر تیرے ہاں کے سب مرد خداوند اپنے خدا کے آگے اُسی جگہ حاضر ہوا کریںجسے وہ چُنے گا اور جب آئیں تو خداوند کے حضور خالی ہاتھ نہ آئیں ۔
17 بلکہ ہر مرد جیسی برکت خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو بخشی ہو اپنی توفیق کے مطابق دے ۔
18 تو اپنے قبیلوں کی سب بستیوں میں جنکو خداوند تیرا خُدا تُجھ کو دے قاضی اور حاکم مقرر کرنا جو صداقت سے لوگوں کی عدالت کریں ۔
19 تُو انصاف کا خون نہ کرنا ۔ تُو نہ تو کسی کی رو رعایت کرنا اور نہ رشوت لینا کیونکہ رشوت دانشمند کی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادق کی باتوں کو پلٹ دتی ہے ۔
20 جو کچھ بالکل حق ہے تُو اُسی کی پیروی کرنا تاکہ تُو جیتا رہے اور اُس ملک کا مالک بن جائے جو خداوند تیرا خدا تُجھ کو دیتا ہے ۔
21 جو مذبح تُو خداوند اپنے خدا کے لیے بنائے اُسکے قریب کسی قسم کے درخت کی یسیرت نہ لگانا ۔
22 اور نہ کوئی ستون اپنے لیے کھڑا کر لینا جس سے خداوند تیرے خدا کو نفرت ہے ۔


باب 17

1 تُو خداوند اپنے خدا کے لیے کوئی بیل یا بھیڑ بکری جس میں کوئی عیب یا بُرائی ہو ذبح مت کرنا کیونکہ یہ خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہے ۔
2 اگر تیرے درمیان تیری بستیوں میں جنکو خداوند تیرا خدا تجھ کو دے کہیں کوئی مرد یا عورت ملے جس نے خداوند تیرے خدا کے حضور یہ بدکاری کی ہو کہ اُکے عہد کو توڑا ہو ۔
3 اور جا کر اور معبودوں کی یا سورج یا چاند یا اجرامِ فلک میں سے کسی کی جسکا حکم میں نے تجھ کو نہیں دیا پوجا اور پرستش کی ہو ۔
4 اور یہ بات تجھ کو بتائی جائے اور تیرے سُننے میں آئے تو تُو جانفشانی سے تحقیقات کرنا اور اگر یہ ٹھیک ہو اور قطعی طور پر ثابت ہو جائے کہ اسرائیل میں ایسا مکروہ کام ہوا ۔
5 تو تُو اُس مرد یا اُس عورت کو جس نے یہ بُرا کام کیا ہو باہر اپنے پھاٹکوں پر نکال لے جانا اور اُنکو ایسا سنگسار کرنا کہ وہ مر جائیں ۔
6 جو واجب القتل ٹھہرے وہ دو یا تین آدمیوں کی گواہی سے مارا نہ جائے ۔
7 اُسکو قتل کرتے وقت گواہوں کے ہاتھ پہلے اُس پر اُٹھیں اُسکے بعد باقی سب لوگوں کے ۔ یوں تُو اپنے درمیان سے شرارت کو دور کیا کرنا ۔
8 اگر تیری بستیوں میں کہیں آپس کے خون یا آپس کے دعویٰ کی مار پیٹ کی باب نمبرت کوئی جھگڑے کی بات اُٹھے اور اُسکا فیصلہ کرنا تیرے لیے نہایت ہی مُشکل ہو تو تُو اُٹھ کر اُس جگہ جسے خداوند تیرا خپدا چُنے گا جانا ۔
9 اور لاوی کاہنوں اور اُن دنوں کے قاضیوں کے پاس پہنچ کر اُن سے دریافت کرنا اور وہ تجھ کو فیصلہ کی بات بتائیں گے ۔
10 اور تُو اُسی فیصلہ کے مطابق جو وہ تجھ کو اُس جگہ سے جسے خداوند چُنے گا بتائیں عمل کرنا ۔ جیسا وہ تجھ کوسکھائیں اپسی کے مطابق سب کچھ احتیاط کر کے ماننا ۔
11 شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھا۴یں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتائیں اُسی کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتویٰ وہ دیں اُس سے دہنے یا بائیں نہ مڑنا ۔
12 اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اُس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اُس قاضی کا کہا نہ سُنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تُو اسرائیل میں سے ایسی بُرائی کو دور کر دینا ۔
13 اور سب لو گ سُن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے ۔
14 جب تُو اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تُجھ کو دیتا ہے پہنچ جائے اور اُس پر قبضہ کر کے وہاں رہنے اور کہنے لگے کہ اُن قوموں کی طرح جو میرے گردا ھرد ہیں میں بھی کسی کو اپنا بادشاہ بناوں ۔
15 تو تُو بہر حال فقط اُسی کو اپنا بادشاہ بنانا جسکو خداوند تہرا خدا چُن لے ۔ تُو اپنے بھائیوں میں سے ہی کسی کو اپنا بادشاہ بنانا اور پردیسی کو جو تیرا بھائی نہیں اپنے اوپر حاکم نہ کر لینا ۔
16 اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنے لیے بہت گھوڑے نہ بڑھائے اور نہ لوگوں کو مصر میں بھیجے تاکہ اُس کے پاس بہت سے گھوڑے ہو جائیں اِس لیے کہ خداوند نے تُم سے کہا ہے کہ تُم اُس را ہ سے پھر کبھی اُودھر نہ لَوٹنا۔
17 اور وہ بہت سی بیویاں بھی نہ رکھے تا نہ ہو کہ اُسکا دل پھر جائے اور نہ وہ اپنے لیے سونا چاندی ذخیرہ کرے ۔
18 اور جب وہ تختِ سلطنت پر جلوس کرے تو اُس شریعت کی جو لاوی کاہنوں کے پاس رہے گی ایک نقل اپنے لیے ایک کتاب میں اُتار لے ۔
19 اور وہ اُسے اپنے پاس رکھے اور اپنی ساری عمر اُسکو پڑھا کرے تاکہ وہ خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا اور اُس شریعت اور آئین کی سب باتوں پر عمل کرنا سیکھے ۔
20 جس سے اُسکے دل میں غرور نہ ہو کہ وہ اپنے بھائیوں کو حقیر جانے اور اِن احکام سے نہ تو دہنے نہ بائیں مُڑے تاکہ اسرائیلیوں کے درمیان اُسکی اور اُسکی اولاد کی سلطنت مدت تک رہے ۔


باب 18

1 لاوی کاہنوں یعنی لاوی کے قبیلہ کا کوئی حصہ اور میراث اسرائیل کے ساتھ نہ ہو ۔ وہ خداوند کی آتشین قُربانیاں اور اُسکی کی میراث کھایا کریں ۔
2 اِس لیے اُنکے بھائیوں کے ساتھ اُنکو میراث نہ مِلے۔ خداوند اُنکی میراث جیسا اُس نے خو د اُن سے کہا ہے ۔
3 اور جو لوگ گائے بیل یا بھیڑ یا بکری کی قُربانی گذرانتے ہیں اُنکی طرف سے کاہنوں کا یہ حق ہو گا کہ وہ کاہن کو شانہ اور کنپٹیاں اور جھوجھ دیں ۔
4 اور تُو اپنے اناج اور مَے اور تیل کے پہلے پھل میں سے اور اپنی بھیڑوں کے بال میں سے جو پہلی دفعہ کترے جائیں اُسے دینا ۔
5 کیونکہ خداوند تیرے خدا نے اُسکو تیرے سب قبیلوں میں سے چُن لیا ہے تاکہ وہ اور اُسکی اولاد ہمیشہ خداوند کے نام سے خدمت کے لیے حاضر رہیں ۔
6 او ر تیری جو بستیاں سب اسرائیلوں میں ہیں اُن میں سے اگر کوئی لاوی کسی بستی سے جہاں وہ بود و باش کرتا تھا آئے اور اپنے دل کی پوری رغبت سے اُس جگہ حاضر ہو جسکو خداوند چُنے گا ۔
7 تو اپنے سب لاوی بھائیوں کی طرح جو وہاں خداوند کے حضور کھڑے رہتے ہیں وہ بھی خداوند اپنے خدا کے نام سے خدمت کرے ۔
8 اور اُن سب کو کھانے کو برابر حصہ مِلے ۔ سوا اُس دام کے جو اُسکے باپ دادا کی میراث بیچنے سے اُسے حاصل ہو ۔
9 جب تُو اُس ملک میں جو خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے پہنچ جائے تو وہاں کی قوموں کی طرح مکروہ کام کرنے نہ سیکھنا ۔
10 تجھ میں ہر گز کوئی ایسا نہ ہو جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ میں چلوائے یا فالگیر یا شگون نکالنے والا یا افسون گر یا جادو گر ۔
11 یا منتری یا جنات کا آشنا یا رمال یا ساحر ہو ۔
12 کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں خداوند کے نزدیک مکروہ ہیں اور اِن ہی مکروہات کے سبب سے خداوند تیرا خدا اُنکو تیرے سامنے سے نکالنے پر ہے ۔
13 تو خداوند اپنے خدا کے حضور کامل رہنا ۔
14 کیونکہ وہ قومیں جنکا تُو وارث ہو گا شگون نکالنے والوں اور فالگیروں کی سُنتی ہیں پر تُجھ کو خداوند تیرے خدا نے ایسا کرنے نہ دیا ۔
15 خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا ۔ تُم اُسکی سُننا ۔
16 یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہو گا جو تُو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سُننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مر نہ جاوں ۔
17 اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں ۔
18 میں اُنکے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُسکے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اُسے حکم دونگا وہی وہ اُن سے کہے گا ۔
19 اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرا نام لیکر کہے گا نہ سُنے تو میں اُنکا حساب اُس سے لونگا ۔
20 لیکن جو نبی گستا خ بنکر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جسکے کہنے کا میں نے اُسکو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے ۔
21 اور اگر تُو اپنے دل میں کہے کہ جو بات خداوند نے نہیں کہی ہے اُسے ہم کیونکر پہنچانیں ؟
22 تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اُسکے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اُس نبی نے وہ بات خود گستاخ بنکر کہی ہے تُو اُسے خوف نہ کرنا ۔


باب 19

1 جب خداوند تیرا خدا اُن قوموں کو جنکا ملک خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے کاٹ ڈاے اور تُو اُنکی جگہ اُنکے شہروں اور گھروں میں رہنے لگے ۔
2 تو تُو اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے تین شہر اپنے لیے الگ کر لینا ۔
3 اور تُو ایک راستہ بھی اپنے لیے تیار کرنا اور اپنے اُس ملک کی زمین کو جس پر خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ دلاتا ہے تین حصے کرنا تاکہ ہر ایک خونی وہیں بھاگ جائے ۔
4 اور اپس خونی کا جو وہاں بھاگ کر اپنی جان بچائے حال یہ ہو کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کو نادانستہ اور بغیر اُس سے قدیمی عداوت رکھے مار ڈالا ہو ۔
5 مثلا کوئی شخص اپنے ہمسایہ کے ساتھ لکڑیاں کاٹنے کو جنگل میں جائے اور کُلہاڑا ہاتھ میں اُٹھائے تاکہ درخت کاٹے اور کُلہاڑا دستے سے نکل کر اُس کے ہمسایہ کے جا لگے اور وہ مر جائے تو وہ اِن شہروں میں سے کسی میں بھاگ کر جیتا بچے ۔
6 تا ایسا نہ ہو کہ راستہ کی لمبائی کے سبب سے خون کا انتقام لینے والا اپنے جوش غضب میں خونی کا پیچھا کر کے اُسکو جا پکڑے اور اُسے قتل کرے حالانکہ وہ واجب القتل نہیں کیونکہ اُسے مقتول سے قدیمی عداوت نہ تھی ۔
7 اِس لیے میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ تُو اپنے لیے تین شہر الگ کر دینا ۔
8 اور اگر خداوند تیرا خدا اُس قسم کے مطابق جو اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی تیری سر حد کو بڑھا کر وہ سب ملک جسکے دینے کا وعدہ اُس نے تیرے باپ دادا سے کیا تھا تجھ کو دے ۔
9 اور تُو اِن سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں دھیان کر کے عمل کرے اور خداوند اپنے خدا سے محبت رکھے اور ہمیشہ اُسکی راہوں پر چلے تو اِن تین شہروں کے علاوہ تین شہر اور اپنے لیے الگ کر دینا ۔
10 تاکہ تیرے مُلک ک بیچ جسے خداوند تیرا خدا تُجھ کو میراث میں دیتا ہے بے گناہ کا خون بہایا نہ جائے اور وہ خون یوں تیری گردن پر ہو۔
11 لیکن اگر کوئی شخس اپنے ہمسایہ سے عداوت رکھتا ہوا اُسکی گھات میں لگے اور اُس پر حملہ کر کے اُسے ایسا مرے کہ وہ مر جائے اور وہ خود اُن شہروں میں سے کسی میں بھاگ جائے ۔
12 تو اُسکے شہر کے بزرگ لوگوں کو بھیج کر اُسے وہاں سے پکڑوا منگوائیں اور اُسکو خدن کے انتقام لینے والے کے ہاتھ میں حوالہ کیں تاکہ وہ قتل ہو ۔
13 تجھ کو اُس پر ذرا ترس نہ آئے بلکہ تُو اِس طرح بے گناہ کے خون کو اسرائیل سے دفع کرنا تاکہ تیرا بھلا ہو۔
14 تو اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے اپنے ہمسایہ کی خد کا نشان جسکو اگلے لوگوں نے تیری میراث کے حصہ میں ٹھہرایا ہو مت ہٹانا ۔
15 کسی شخس کے خلاف اُسکی کسی بدکاری یا گناہ کے بارے میں جو اُس سے سرزد ہو ایک ہی گواہ بس نہیں بلکہ دو گواہوں یا تین گواہوں کے کہنے سے با ت پکی سمجھی جائے ۔
16 اگر کوئی جھوٹا گواہ اُتھ کر کسی آدمی کی بدی کی نسبت گواہی دے ۔
17 تو وہ دونوں آدمی جنکے بیچ یہ جھگڑا ہو خداوند کے حضور کاہنوں اور اُن دنوں کے قاضیوں کے آگے کھڑے ہوں ۔
18 اور قاضی خوب تحقیقات کریں اور اگر وہ گواہ جھوٹا نکلے اور اُس نے اپنے بھائی کے خلاف جھوٹی گواہی دی ہو ۔
19 تو جو حال اُس نے اپنے بھائی کا کرنا چاہا تھا وہی تُم اُسکا کرنا اور یوں تُو ایسی بُرائی کو اہنے درمیان سے دفع کر دینا ۔
20 اور دوسرے لوگ سُنکر ڈریں گے اور تیرے بیچ پھر ایسی بُرائی نہیں کریں گے ۔
21 اور تجھ کو ذرا ترس نہ آئے ۔ جان کا بدلہ جان ۔ آنکھ کا بدلہ آنکھ ۔ دانت کا بدلہ دانت ۔ ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاوں کا بدلہ پاوں ہو۔


باب 20

1 جب تُو اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے کو جائے اور گھوڑوں اور رتھوں اور اپنے سے بڑی فوج کو دیکھے تو اُن سے ڈر نہ جانا کیونکہ خداوند تیرا خدا جو تجھ کو ملک مصر سے نکال لایا تیرے ساتھ ہے ۔
2 اور جب معرکہ جنگ میں تمہاری مُٹھ بھیڑ ہونے کو ہو تو کاہن فوج کے آدمیوں کے پاس جا کر اپنکی طرف مخاطب ہو ۔
3 اور اُن سے کہے سُنو اے اسرائیلیو! تُم آج کے دن اپنے دُشمنوں کے مقابلہ کے لیے معرکہ جنگ میں آئے ہو سو تمہارا دل ہراسان نہ ہو ۔ تُم نہ خوف کرنو نہ کانپو ۔ نہ اُن سے دہشت کھاو۔
4 کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمہارے ساتھ ساتھ چلتا ہے تاکہ تُم کو بچانے کو تمہاری طرف سے تمہارے دُشمنوں سے جنگ کرے ۔
5 پھر فوجی حکام لوگوں سے یوں کہیں کہ تُم میں سے جس کسی نے نیا گھر بنایا ہو اور اُسے مخصوص نہ کیا ہو وہ اپنے گھر کو لوٹ جائے تا نہ ہو کہ وہ جنگ میں قتل ہو اور دوسرا شخص اُسے مخصوص کرے ۔
6 اور جس کسی نے تاکستان لگایا ہو پر اب تک اُسکا پھل استعمال نہ کیا ہو وہ بھی اپنے گھر کو لوٹ جائے تا نہ ہو کہ وہ جنگ میں مارا جائے اور دوسرا آدمی اُسکا پھل کھائے ۔
7 اور جس نے کسی عورت سے اپنی منگنی تو کر لی ہو پر اُسے بیاہ کر نہیں لایا ہے وہ بھی اپنے گھر لو لوٹ جائے تا نہ ہو کہ وہ لڑائی میں مارا جائے اور دوسرا مرد اُسے بیاہ کر لے ۔
8 اور جوفی حکام لوگوں کی طرف سے مخاطب ہو کر اُن سے یہ بھی کہیں کہ جو شخص ڈرپوک اور کچے دل کا ہو وہ بھی اپنے گھر کو لوٹ جائے تا نہ ہو کہ اُسکی طرح اُسکے بھائیوں کا حوصلہ بھی ٹوٹ جا۴ے ۔
9 اور جب فوجی حکام یہ سب کچھ لوگوں سے کہہ چُکیں تو لشکر کے سرداروں کو اُن پر مقرر کر دیں ۔
10 جب تُو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اُسکے نزدیک پہنچے تو پہلے اُسے صلح کا پیغام دینا ۔
11 اور اگر وہ تُجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باجگذار بنکر تیری خدمت کریں ۔
12 اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تُو اُسکا محاصرہ کرنا ۔
13 اور جب خداوند تیرا خدا اُسے تیر قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا ۔
14 لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور اُس شہر کے سب مال اور لُوٹ کو اپنے لیے رکھ لینا اور تُو اپنے دشمنوں کی اُس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھ کع دی ہو کھانا ۔
15 اُن سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے بہت دور ہیں اور اِن قوموں کے شہر نہیں ہیں ۔
16 پر اِن قوموں کے شہروں میں جنکو خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا ۔
17 بلکہ تُو اِنکو حتی اور اموری اور کعنانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں کو جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا ہے بالکل نیست کر دینا ۔
18 تاکہ وہ تُم کو اپنے سے مکروہ کام کرنے نہ سکھا۴یں جو اُنہوں نے اپنے دیوتاوں کے لیے کئے ہیں اور یوں تُم خداوند اپنے خدا کے خلاف گناہ کرنے لگو ۔
19 جب تُو کسی شہر کو فتح کرنے کے لیے اُس سے جنگ کرے اور مدت تک اُسکا محاصرہ کیے رہے تو اُسکے درختوں کو کلہاڑی سے نہ کاٹ ڈالنا کیونکہ اُنکا پھل تیرے کھانے کے کام میں آئے گا سو تُو اُنکو مت کاٹنا کیونکہ کیا میدان کا درخت انسان ہے کہ تُو اُسکا محاصرہ کرے ؟
20 سو فقط اُن ہی درختوں کو کاٹ کر اُرا دینا جو تیری دانست میں کھانے کے مطلب کے نہ ہوں اور تُو اُس شہر کے مقابل جو تجھ سے جنگ کرتا ہو برجوں کو بنا لینا جب تک وہ سر نہ ہو جائے۔


باب 21

1 اگر اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے کسی مقتول کی لاش میدان میں پڑی ہوئی ملے اور یہ معلوم نہ ہو کہ اُسکا قاتل کون ہے ۔
2 تو تیرے بزرگ اور قاضی نکل کر اپس مقتول کے گردا گرد کے شہروں کے فاصلہ کو ناپیں ۔
3 اور جو شہر اُس مقتول کے سب نزدیک ہو اُس شہر کے بزرگ ایک بچھیا لیں جس سے کبھی کوئی کام نہ لیا گیا ہو اور نہ وہ جو۴ے میں جوتی گئی ہو ۔
4 اور اُس شہر کے بزرگ اُس بچھیا کو بہتے پانی کی وادی میں جس میں نہ ہل چلا ہو اور نہ اُس میں کچھ بویا گیا ہو لے جائیں اور وہاں اپس وادی میں اُس بچھیا کی گردن توڑ دیں ۔
5 تب بنی لاوی جو کاہن ہیں نزدیک آئں کیونکہ خداوند تیرے خدا نے اُنکو چُن لیا ہے کہ خداوند کی خدمت کریں اور اُسکے نام سے برکت دیا کریں اور اُن ہی کے کہنے کے مطابق ہر جھگڑے اور مار پیٹ کے مقدمہ کا فیصلہ ہوا کرے ۔
6 پھر اِس شہر کے سب بزرگ جو اُس مقتول کے سب سے نزدیک رہنے والے ہوں اُس بچھیا کے اوپر جسکی گردن اُس وادی میں توڑی گئی اپنے اپنے ہاتھ دھوئیں ۔
7 اور یوں کہیں کہ ہمارے ہاتھ سے یہ خون نہیں ہوا اور نہ یہ ہماری آنکھوں کا دیکھا ہوا ہے ۔
8 سو اے خداوند اپنی قوم اسرائیل کو جسے تُو نے چھڑایا ہے معاف کر اور بے گناہ کے خون کو اپنی قوم اسرائیل کے ذمہ نہ لگا ۔ تب وہ خون اُنکو معاف کر دیا جا۴ے گا ۔
9 یوں تُو اُس کام کو کر کے جو خداوند کے نزدیک درست ہے بے گناہ کے خون کی جواب دہی کو اپنے اوپر سے دور و دفع کرنا ۔
10 جب تُو اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے کو نکلے اور خداوند تیر خدا اُنکو تیرے ہاتھ میں کر دے اور تُو اُنکو اسیر کر لائے۔
11 اور اُن اسیروں میں سے کسی خوبصورت عورت کو دیکھ کر تُو اُس پر فریفتہ ہو جائے اور اُسکو بیاہ لینا چاہیے ۔
12 تو تُو اُسے اپنے گھر لے آنا اور وہ اپنا سر منڈوائے اور اپنے ناخن ترشوائے۔
13 اور اپنی اسیری کا لباس اُتار کر تیرے گھر میں رہے اور ایک مہینہ تک اپنے ماں باپ کے لیے ماتم کرے ۔ اِسکے بعد تُو اُسکے پاس جا کر اُسکا شوہر ہونا اور وہ تیری بیوی بنے ۔
14 اور اگر وہ تجھ کو نہ بھائے تو جہاں وہ چاہے اُسکو جانے دینا لیکن روپے کی خاطر اُسکو ہر گز نہ بیچنا اور اُس سے لونڈی کا سا سلوک نہ کرنا اِس لیے کہ تُو نے اُسکی حرمت لےلی ہے ۔
15 اگر کسی مرد کی دو بیویاں ہوں اور ایک محبوبہ اور دوسری غیر محبوبہ ہو اور محبوبہ اور غیر محبوبہ دونوں سے لڑکے ہوں اور پہلوٹھا بیٹا غیر محبوبہ سے ہو ۔
16 تو جب وہ اپنے بیٹوں کو اپنے مال کا وارث کرے تو وہ محبوبہ کے بیٹے کو غیر محبوبہ کے بیٹے پر جو فی الحقیقت پہلوٹھا ہے فوقیت دےکر پہلوٹھا نہ ٹھہرائے ۔
17 بلکہ وہ غیر محبوبہ کے بیٹے کو اپنے سب مال کا دُونا حصہ دیکر اُسے پہلوٹھا مانے کیونکہ وہ اُسکی قوت کی ابتدا ہے اور پہلوٹھے کا حق اُسی کا ہے ۔
18 اگر کسی آدمی کا ضدی اور گردن کش بیٹا ہو جو اپنے باپ یا ماں کی بات نہ مانتا ہو اور اُنکے تنبیہ کرنے پر بھی اُنکی نہ سُنتا ہو ۔
19 تو اُسکے ماں باپ اُسے پکڑ کر اور نکالکر اُس شہر کے بزرگوں کے پاس اُس جگہ پر پھاٹک پر ل جائیں ۔
20 اور وہ اُسکے شہر کے بزرگوں سے عرض کریں کہ یہ ہمارا بیٹا ضدی اور گردن کش ہے ۔ یہ ہماری بات نہیں مانتا اور اڑاو اور شرابی ہے ۔
21 تب اُسکے شہر کے سب لوگ اُسے سنگسار کریں کہ وہ مر جائے ۔ یوں تُو ایسی برائی کر اپنے درمیان سے دور کرنا ۔ تب سب اسرائیلی سُن کر ڈر جائیں گے ۔
22 اور اگر کسی نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جس سے اُسکا قتل واجب ہو اور تُو اُسے مار کر درخت سے ٹانگ دے ۔
23 تو اُسکی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تُو اُسی دن اُسے دفن کر دینا کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے تا نہ ہو کہ تُو اُس ملک کو ناپاک کر دے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو میراث کے طور پر دیتا ہے ۔


باب 22

1 تُو اپنے بھائی کے بیل یا بھیڑ کو بھٹکتی دیکھ کر اُس سے رو پوشی نہ کرنا بلکہ ضرور تُو اُسکو اپنے بھائی کے پاس پہنچا دینا ۔
2 اور اگر تیرا بھائی تیرے نزدیک نہ رہتا ہو یا تُو اُس سے واقف نہ ہو تو تُو اُس جانور کو اپنے گھر لے آنا اور وہ تیرے پاس رہے جب تک تیرا بھائی اُسکی تلاش نہ کرے۔ تب تُو اُسے اُسکو دے دینا ۔
3 تُو اُسکے گدھے اور اُسکے کپڑے سے بھی ایسا ہی کرنا ۔ غرض جو کچھ تیرے بھائی سے کھویا جائے اور تُجھ کو ملے تُو اُس سے ایسا ہی کرنا اور روپوشی نہ کرنا ۔
4 تُو اپنے بھائی کا گدھا یا بیل راستہ میں گِرا ہوا دیکھ کر اُس سے روپوشی نہ کرنا بلکہ ضرور اُسکے اُٹھانے میں اُسکی مدد کرنا ۔
5 عورت مرد کا لباس نہ پہنے اور نہ مرد عورت کی پوشاک پہنے کیونکہ جو ایسے کام کرتا ہے وہ خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہے ۔
6 اگر راہ چلتے اتفاقاً کسی پرندہ کا گھونسلا درخت یا زمین پر بچوں یا انڈوں سمیت تجھ کو مل جائے اور ماں بچوں یا انڈوں پر بیٹھی ہوئی ہو تو تُو بچوں کی ماں سمیت نہ پکڑ لینا ۔
7 بچوں کو تُو لے تو لے پر ماں کو ضرور چھوڑ دینا ےا کہ تیرا بھلا ہو اور تیری عمر دراز ہو ۔
8 جب تُو کوئی نیا گھر بنائے تو اپنی چھت پر منڈیر ضرور لگانا تا نہ ہو کہ کوئی آدمی وہاں سے گِرے اور تیرے سبب سے وہ خون تیرے ہی گھر والوں پر ہو ۔
9 تُو اپنے تاکستان میں دو قسم کے بیج نہ بونا تا نہ ہو کہ سارا پھل یعنی بیج تُو نے بویا اور تاکستان کی پیداوار دونوں ضبظ کر لیے جائیں ۔
10 تُو بیل اور گھدے دونوں کو ایک ساتھ جوت کر ہل نہ چلانا۔
11 تُو اُون اور سن دونوں کی ملاوٹ کا بُنا ہوا کپڑا نہ پہننا۔
12 تُو اپنے اوڑھنے کی چادر کے چاروں کناروں پر جھالر لگایا کرنا ۔
13 اگر کوئی مرد کسی عورت کو بہایے اور اُسکے پاس جائے اور بعد اُسکے اُس سے نفرت کر کے
14 شرمناک باتیں اُسکے حق میں کہے اور اُسے بدنام کرنے کے لیے یہ دعویٰ کرے کہ میں نے اِس عورت سے بیاہ کیا اور جب میں اُسکے پاس گیا تو میں نے کنوارے پن کے نشان اُس میں نہیں پائے
15 تب اُس لڑکی کا باپ اور اُسکی ماں اُس لڑکی کے کنوارے پن کے نشانوں کو اُس شہر کے پھاٹک پر بزرگوں کے پاس لے جائیں ۔
16 اور اُس لڑکی کا باپ بزرگوں سے کہے کہ میں نے اپنی بیٹی اِس شخص کو بیاہ دی پر یہ اُس سے نفرت رکھتا ہے ۔
17 اور شرمناک باتیں اُس کے حق میں کہتا اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے تیری بیٹی میں کنوارے پن کے نشان نہیں پائے حالانکہ میری بیٹی کے کنوارے پن کے نشان یہ موجود ہیں ۔ پھر وہ اُس چادر کو شہر کے بزرگوں کے آگے پھیلا دیں ۔
18 تب شہر کے بزرگ اُس شخس کو پکڑ کر اُس کو کوڑے لگائیں ۔
19 اور اُس سے چاندی کی سو مثقال جُرمانہ لیکر اُس لڑکی کے باپ کو دیں اِس لیے کہ اُس نے ایک اسرائیلی کنواری کو بدنام کیا اور وہ اُسکی بیوی بنی رہے اور وہ زندگی بھر اُسکو طلاق نہ دینے پائے ۔
20 پر اگر یہ بات سچ ہو کہ لڑکی نے کنوارے پن کے نشان نہیں پائے گئے ۔
21 تو وہ اُس لڑکی کو اُس کے باپ کے گھر کے دروازہ پر نکال لائیں اور اُس کے شہر کے لوگ اُسے سنگسار کریں کہ وہ مر جائے کیونکہ اُس نے اسرائیل کے درمیان شرارت کی کہ اپنے باپ کے گھر میں فاحشہ پن کیا یوں تُو ایسی بُرائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا ۔
22 اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے تو وہ دونوں مار ڈاے جائیں یعنی وہ مرد بھی جس نے اُس عورت سے صحبت کی اور وہ عورت بھی ۔ یوں تُو اسرائیل میں سے ایسی بُرائی کو دفع کرنا ۔
23 اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہو گئی اور کوئی دوسرا آدمی اُسے شہر میں پا کر اُس سے صحبت کرے ۔
24 تو تُم اُن دونوں کو اُس شہر کے پھاٹک پر نکال لانا اور اُن کو تُم سنگسار کر دینا کہ وہ مر جائیں لڑکی کو اِس لیے کہ وہ شہر میں ہوتے ہوئے نہ چِلائی اور مرد کو اِس لیے کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کی بیوی کو بے حُرمت کیا ۔ یوں تُو ایسی بُرائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا ۔
25 پر اگر اُس آدمی کو وہی لڑکی جس کی نسبت ہو چُکی ہو کسی میدان یا کھیت میں مِل جائے اور وہ آدمی جبرا! اُس سے صحبت کرے تو فقط وہ آدمی ہی جس نے صحبت کی مار دالا جائے ۔
26 پر اُس لڑکی سے کچھ نہ کرنا کیونکہ لڑکی کاایسا گناہ نہیں جس سے وہ قتل کے لائق ٹھہرے اِس لیے کہ یہ بات ایسی ہے جیسے کوئی اپنے ہمسایہ پر حملہ کرے اور اُسے مار ڈالے ۔
27 کیونکہ وہ لڑکی اُسے میدان میں مِلی اور وہ منسوبہ لڑکی چِلائی بھی پر وہاں کوئی ایسا نہ تھا جو اُسے چھُراتا ۔
28 اگر کسی آدمی کو کوئی کنواری لڑکی مل جائے جس کی نسبت نہ ہوئی ہو اور وہ اُسے پکڑ کر اُسے صحبت کرے اور وہ دونوں پکڑے جائیں ۔
29 تو وہ مرد جس نے اُس سے صحبت کی ہو لڑکی کے باپ کو چاندی کی پچاس مثقال دے او ر وہ لڑکی اُس کی بیوی بنے کیونکہ اُس نے اُسے بے حُرمت کیا او ر وہ اُسے اپنی زندگی بھر طلاق نہ دینے پائے ۔
30 کوئی شخص اپنے باپ کی بیوی سے بیاہ نہ کرے اور اپنے باپ کے دامن کو نہ کھولے ۔


باب 23

1 جس کے خُصے کچلے گئے ہوں یا آلت کاٹ ڈالی گئی ہو وہ خداوند کی جماعت میں آنے نہ پائے ۔
2 کوئی حرامزادہ خداوند کی جماعت میں داخل نہ ہو دسویں پُشت تک اُس نسل میں سے کوئی خداوند کی جماعت میں آنے نہ پائے۔
3 کوئی عمونی یا موآبی خداوند کی جماعت میں داخل نہ ہو دسویں پُشت تک اُن کی نسل میں سے کوئی خداوند کی جماعت میں کبھی آنے نہ پائے۔
4 اِس لیے کہ جب تُم مصر سے نکل کر آ رہے تھے تو اُنہوں نے روٹی اور پانی لے کر راستہ میں تمہارا استقبال نہیں کیا بلکہ بعور کے بیٹے بلعام کو میسوپوتامیہ کے فتور سے اُجرت پر بُلوایا تاکہ وہ تُجھ پر لعنت کرے ۔
5 لیکن خداوند تیرے خدا نے بلعام کی نہ سُنی بلکہ خداوند تیرے خدا نے تیرے لیے اُس لعنت کو برکت سے بدل دیا اِس لیے کہ خداوند تیرے خدا کو تجھ سے محبت تھی ۔
6 تُو اپنی زندگی بھر کبھی اُن کی سلامتی یا سعادت کا خواہاں نہ ہونا ۔
7 تُو کسی ادومی سے نفرت نہ رکھنا کیونکہ وہ تیرا بھائی ہے تُو کسی مصری سے بھ نفرت نہ رکھنا کیونکہ تُو اُس کے ملک میں پردیسی ہو کر رہا تھا ۔
8 اُن کی تیسری پُشت کے جو لڑکے پیدا ہوں وہ خداوند کی جماعت میں آنے پائیں ۔
9 جب تُو اپنے دُشمنوں سے لڑنے کے لیے دل باندھ کر نکلے تو اپنے کو ہر بُری چیز سے بچائے رکھنا ۔
10 اگر تمہارے درمیان کوئی ایسا آدمی ہو جو رات کو احتلام کے سبب سے ناپاک ہو گیا ہو تو وہ خیمی گاپ سے باہر نکل جائے اور خیمہ گاہ کے اندر نہ آئے
11 لیکن جب شام ہونے لگے تو وہ پانی سے غُسل کرے اور جب آفتاب غروب ہو جائے تو خیمہ گاہ میں آئے۔
12 اور خیمہ گاہ کے باہر تُو پھر کوئی جگہ ایسی ٹھہرا دینا جہاں تُو اپنی حاجت کے لیے جا سکے ۔
13 اور اپنے ساتھ اپنے ہتھیاروں میں ایک میخ بھی رکھنا تاکہ جب باہر تُجھے حاجت کے لیے بیٹھنا ہو تو اُس سے جگہ کھود لیا کرو اور لوٹتے وقت اپنے فضلہ کو ڈھانک دیا کرو۔
14 اَس لیے کہ خداوند تیرا خدا تیرے خیمہ گاہ میں پھرا کرتا ہے تاکہ تجھ کو بچائے اور تیرے دُشمنوں کو تیرے ہاتھ میں کر دے سو تیری خیمہ گاہ پاک رہے تا نہ ہو کہ وہ تجھ میں نجاست کو دیکھ کر تجھ سے پھر جائے۔
15 اگر کسی کا غلام اپنے آقا کے پاسچ سے بھاگ کر تیرے پاس پناہ لے تو تُو اُسے اُس کے آقا کے حوالہ نہ کردینا ۔
16 بلکہ وہ تیرے ساتھ تیرے ہی درمیان تیری بستیوں میں سے جو اُسے اچھی لگے اُسے چُن کر اُسی جگہ رہے سو تُو اُسے ہرگز نہ ستانا ۔
17 اسرائیلی لڑکیوں میں کوئی فاحشہ نہ ہو اور نہ اسرائیلی لڑکوں میں لوئی لوطی ہو ۔
18 تُو کسی فاحشہ کی خرچی یا کُتے کی اُجرت کسی منت کے لیے خداوند اپنے خدا کے گھر میں نہ لانا کیونکہ یہ دونوں خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہیں ۔
19 تُو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا سود یا کسی ایسی چیز کا سود ہو جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے ۔
20 تُو پردیسی کو سود پر قرضہ دے تو دیکھ پر اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا تاکہ خداوند تیرا خدا اُس ملک میں جس پر تو قبضہ کرنے جا رہا ہے تیرے سب کاموں میں جن کو ہاتھ لگائے تجھ کو برکت دے ۔
21 جب تُو خداوند اپنے خدا کی خاطر منت مانے تواُس کے پورا کرنے میں دیر نہ کرنا اِس لیے کہ خداوند تیرا خدا ضرور اُس کو تجھ سے طلب کرے گا تب تو گنہگار ٹھہرے گا ۔
22 لیکن اگر تُو منت نہ مانے تو تیرا کوئی گناہ نہیں ۔
23 جو کچھ تیرے منہ سے نکلے اُسے دھیان کر کے پورا کرنا اور جیسی منت تُو نے خداوند اپنے خدا کے لیے مانی ہو اُس کے مطابق رضا کی قُربانی جس کا وعدہ تیری زبان سے ہوا گذراننا ۔
24 جب تُو اپنے ہمسایہ کےتاکستان میں جائے تو جتنے انگور چاہے پیٹ بھر کر کھانا پر کچھ اپنے برتن میں نہ رکھ لینا ۔
25 جب تُو اپنے ہمسایہ کے کھڑے کھیت میں جائے تو اپنے ہاتھ سے بالیں توڑ سکتا ہے پر اپنے ہمسایہ کے کھڑے کھیت کو ہنسوا نہ لگانا ۔


باب 24

1 اگر کوئی مرد کسی عورت سے بیاہ کرے اور پیچھے اُس میں کوئی ایسی بیہودہ بات پائے جس سے اُس عورت کی طرف اُسکی التفات نہ رہے تو وہ اُس کا طلاق نامہ لکھ کر اُس کے حوالہ کرے اور اُسے اپنے گھر سے نکال دے ۔
2 اور جب وہ اُس کے گھر سے نکل جائے تو وہ دوسرے مرد کی ہو سکتی ہے ۔
3 پر اگر دوسرا شوہر بھی اُس سے نا خوش رہے اور اُس کا طلاق نامہ لکھ کر اُس کے حوالہ کرے اور اُسے اپنے گھر سے نکال دے یا وہ دوسرا شوہر جس نے اُس سے بیاہ کیا ہو مر جائے۔
4 تو اُس کا پہلا شوہر جس نے اُسے نکال دیا تھا اُس عورت کے ناپاک ہو جانے کے بعد پھر اُس سے بیاہ نہ کرنے پائے کیونکہ ایسا کام خداوندکے نزدیک مکروہ سو تُو اُس ملک کو جسے خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے گنہگار نہ بنانا ۔
5 جب کسی نے کوئی نئی عورت بیاہی ہو تو وی جنگ کے لیے نہ جائے اور نہ کوئی کام اُس کے سپرد ہو وہ سال بھر تک اپنے ہی گھر میں آزاد رہ کر اپنی بیاہی ہوئی بیوی کو خوش رکھے ۔
6 کوئی شخص چکی کو یا اُس کے اوپر کے پاٹ کو گرو نہ رکھے کیونکہ یہ تو گویا آدمی کی جان کو گرو رکھنا ہے ۔
7 اگر کوئی شخص اپنے اسرائلی بھائیوں میں سے کسی کو غلام بنائے یا بیچنے کی نیت سے چُراتا ہو ا پکڑا جائے تو وہ چور مار ڈالا جائے یوں تُو ایسی بُرائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا ۔
8 تو کوڑھ کی بیماری کی طرف سے ہوشیا ر رہنا اور لاوی کاہنوں کی سب باتوں کو جو وہ تُم کو بتائیں جانفشانی سے ماننا اور اُنکے مطابق عمل کرنا جیسا میں نے اُنکو حکم کیا ہے ویسا ہی دھیان دیکر کرنا ۔
9 تُو یاد رکھنا کہ خداوند تیرے خدا نے جب تُم مصر سے نکل کر آرہے تھے تو راستہ میں مریم سے کیا کِیا ۔
10 جب تُو اپنے بھائی کو کچھ قرض دے تو گِرو کی چیز لینے کو اُسکے گھر میں نہ گھُسنا ۔
11 تُو باہر ہی کھڑے رہنا اور وہ شخص جسے تُو قرض دے خود گِرو کی چیز باہر تیرے پاس لائے ۔
12 اور اگر وہ شخس مسکین ہو تو اُسکی گِروو کی چیز کو پاس رکھ کر سو نہ جانا ۔
13 بلکہ جب آفتاب غروب ہونے لگے تو اُسکی چیز اُسے پھیر دینا تاکہ وہ اپنا اوڑھنا اوڑھکر سوئے اور تجھ کو دعا دے اور یہ بات تیرے لیے خداوند تیرے خدا کے حضور راستبازی ٹھہرے گی ۔
14 تو اپنے غریب اور محتاج خادم پر ظُلم نہ کرنا خواہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہو خوا ہ اُن پردیسیوں میں سے جو تیرے مُلک کے اندر تیری بستیوں میں رہتے ہوں ۔
15 تُو اُسی دن اِس سے پہلے کہ آفتاب غروب ہو اُس کی مزدوری اُسے دینا کیونکہ وہ غریب ہے اور اُس کا دل مزدوری میں لگا رہتا ہے ۔ تا نہ ہو کہ وہ خداوند سے تیرے خلاف فریاد کرے اور یہ تیرے حق میں گناہ ٹھہرے ۔
16 بیٹوں کے بدلے باپ مارے نہ جائیں نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں ہر ایک اپنے ہی گناہ سے سبب سے مارا جائے ۔
17 تو پردیسی یا یتیم کے مقدمہ کو نہ بگاڑنا اور نہ بیوہ کے کپڑے کو گرو رکھنا ۔
18 بلکہ یاد رکھنا کہ تُو مصر میں غلام تھا اور خداوند تیرے خدا نے تجھ کو وہاں دے چھڑایا اِسی لیے میں تجھ کو اِس کام کے کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔
19 جب تُو اپنے کھیت کی فصل کاٹے اور کوئی پولا بھول سے کھیت میں رہ جائے تو اُس کے لینے کو واپس نہ جانا وہ پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے لیے رہے تاکہ خداوند تیرا خدا تیرے سب کاموں میں جن کو تُو ہاتھ لگائے تجھ کو برکت بخشے ۔
20 جب تُو اپنے زیتون کے درخت کو جھاڑے اُس کے بعد اُس کی شاخوں کو دوبارہ نہ جھاڑنا بلکہ وہ پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے لیے رہے ۔
21 جب تُو اپنے تاکستان کے انگوروں کو جمع کرے تو اُس کے بعد اُس کا دانہ دانہ نہ توڑ لینا وہ پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے لیے رہے ۔
22 اور یاد رکھنا کہ تُو ملک مصر میں غلام تھا اِسی لیے میں تجھ کو اِس کام کے کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔


باب 25

1 اگر لوگوں میں کسی طرح کا جھگڑا ہو اور وہ عدالت میں آئیں تاکہ قاضی اُن کا انصاف کریں تو وہ صادق کو بے گناہ ٹھہرائیں اور شریر پر فتویٰ دیں ۔
2 اور اگر وہ شریر پٹنے کے لائق نکلے تو قاضی اُسے زمین پر لٹوا کر اپنی آنکھوں کے سامنے اُس کی شرارت کے مطابق اُسے گِن گِن کر کوڑے لگوائے
3 وہ اُسے چالیس کوڑے لگائے اِس سے زیادہ نہ مارے تا نہ ہو اِس سے زیادہ کوڑے لگانے سے تیرا بھائی تجھ کو حقیر معلوم دینے لگے ۔
4 تُو دائیں میں چلتے ہوئے بیل کا منہ نہ باندھنا
5 اگر کئی بھائی مل کر ساتھ رہتے ہوں اور ایک اُن میں سے بے اولاد مر جائے تو اُس محروم کی بیوی کسی اجنبی سے بیاہ نہ کرے بلکہ اُس کے شوہر کا بھائی اُس کے پاس جا کر اُسے اپنی بیوی بنا لے اور شوہر کے بھائی کا جو حق ہے وہ اُس کے ساتھ ادا کرے ۔
6 اور اُس عورت کے جو پہلا بچہ ہو وہ اِس آدمی کے محروم بھائی کے نام کا کہلائے تاکہ اُس کا نام اسرائیل میں مٹ نہ جائے ۔
7 اور اگر وہ آدمی اپنی بھاوج سے بیاہ کرنا نہ چاہے تو اُس کی بھاوج پھاٹک پر بزرگوں کے پاس جائے اور کہے میرا دیور اسرائیل میں اپنے بھائی کا نام بحال رکھنے سے انکار کرتا ہے اور میرے ساتھ دیور کا حق ادا کرنا نہیں چاہتا ۔
8 تب اُسکے شہر کے بزرگ اُس آد می کو بُلوا کر اُسے سمجھائیں اور اگر وہ اپنی بات پر قائم رہے اور کہے کہ مجھ کو اُس سے بیاہ کرنا منظور نہیں ۔
9 تو اُسکی بھاوج بزرگوں کے سامنے اُس کے پاس جا کر اُس کے پاوں کی جُوتی اُتارے اور اُس کے منہ پر تھوک دے اور یہ کہے کہ جو آدمی اپنے بھائی کا گھر آباد نہ کرے اُس سے ایسا ہی کیا جائے گا ۔
10 تب اسرائیلیوں میں اُسکا نام یہ پڑ جائے گا کہ یہ اُس شخص کا گھر ہے جسکی جوتی اُتاری گئی تھی ۔
11 جب دو شخص آپس میں لڑتے ہوں اور ایک کی بیوی کے پاس جا کر اپنے شوہر کو اُس آدمی کے ہاتھ سے چھڑانے کے لیے جو اُسے مارتا ہو اپنا ہاتھ بڑھائے اور اُسکی شرمگاہ کو پکڑ لے ۔
12 تو تُو اُسکا ہاتھ کاٹ ڈالنا او ر ذرا ترس نہ کھانا ۔
13 تُو اپنے تھیلے میں طرح طرح کے چھوٹے اور بڑے باٹ نہ رکھنا ۔
14 تیرا باٹ پورا اور ٹھیک اور تیرا پیمانہ بھی پورا اور ٹھیک ہو تاکہ اُس ملک میں جسے کداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے تیری عمر دراز ہو ۔
15
16 اِس لیے کہ وہ سب جو ایسے ایسے فریب کے کام کرتے ہیں خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہیں ۔
17 یاد رکھنا کہ جب تُم مصر سے نکل کر آ رہے تھے تو راستہ میں عمالیقیوں نے تیرے ساتھ کیا کِیا ۔
18 کیونکہ وہ راستہ میں تیرے مقابل آئے اور گو تُو تھکا ماندہ تھا تو بھی اُنہوں نے اُنکو جو کمزور اور سب سے پیچھے تھے مارا اور اُنکو خدا کا خوف نہ آیا ۔
19 اِس لیے جب خداوند تیرا خدا اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے تیرے سب دشمنوں سے جو آس پاس ہیں تجھ کو راحت بخشے تو تو عمالیقیوں کے نام و نشان کو صفحہ روز گار سے مٹا دینا ۔ تو اِس بات کو نہ بھولنا۔


باب 26

1 اور جب تُو اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تُجھ کو میراث کے طور پر دیتا ہے پہنچے اور اُس پر قبضہ کر کے اُس میں جس بائے ۔
2 تب جو مُلک خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے اُسکی زمین میں جو قسم قسم کی چیزیں تُو لگائے اُن سب کے پہلے پھل کو ایک ٹوکرے میں رکھ کر اُس جگہ لے جانا جسے خداوند تیرا خدا اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے ۔
3 اور اُن دنوں کے کاہن کے پاس جا کر اُس سے کہنا کہ آج کے دن میں خداوند تیرے خدا کے حضور اقرار کرتا ہوں کہ میں اُس ملک میں جسے ہم کو دینے کی قسم خداوند ہمارے باپ دادا سے کھائی تھی آگیا ہوں ۔
4 تب کاہن تیرے ہاتھ سے اُس ٹوکرے کو لیکر خداوند تیرے خدا کے مذبح کے آگے رکھے
5 پھر تُو خداوند اپنے خدا کے حضور یوں کہنا کہ میرا باپ ایک ارامی تھا جو مرنے پر تھا ۔ وہ مصر میں جا کر وہاں رہا اور اُسکے لوگ تھوڑے سے تھے اور وہیں وہ ایک بڑی اور زور آور اور کثیر التعداد قوم بن گیا ۔
6 پھر مصریوں نے ہم سے بُرا سلوک کیا اور ہم کو دکھ دیا اور ہم سے سخت خدمت لی ۔
7 اور ہم نے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے حضور فریاد کی تو خداوند نے ہماری فریاد سُنی اور ہماری مصیبت اور محنت اور مظلومی دیکھی ۔
8 اور خداوند قوی ہاتھ اور بُلند بازو سے بڑی ہیبت اور نشانوں اور معجزوں کے ساتھ ہمکو مصر سے نکال لایا ۔
9 اور ہمکو اِس جگہ لاکر اُس نے یہ ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ہمکو دیا ہے ۔
10 سو اب اے خداوند ! دیکھ جو زمین تُو نے مجھ کو دی ہے اُسکا پہلا پھل میں تیرے پاس لے آیاں نوں ۔ پھر تُو اُسے خداوند اپنے خدا کے آگے رکھ دینا اور خداوند اپنے خدا کو سجدہ کرنا ۔
11 اور تُو اور لاوی اور جو مسافر تیرے درمیان رہتے ہوں سب کے سب مل کر اُن سب نعمتوں کے لیے جنکو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو اور تیرے گھرانے کو بخشا ہو خوشی کرنا ۔
12 اور جب تُو تیسرے سال جو دہ یکی کا سال ہے اپنے سارے مال کی دہ یکی نکال چُکے تو اُسے لاوی اور مسافر اور یتیم اور بیوہ کو دینا تاکہ وہ اُسے تیری بستیوں میں کھائیں اور سیر ہوں ۔
13 پھر تُو خداوند اپنے خدا کے آگے یوں کہنا کہ میں نے تیرے احکام کے مطابق جو تُو نے مجھے دیے مقدس چیزوں کو اپنے گھر سے نکالا اور اُنکو لاویوں اور مسافروں اور یتینوں اور بیوواں کو دے بھی دیا اور میں نے تیرے کسی حکم کو نہیں ٹالا اور نہ اُنکو بھُولا۔
14 اور میں نے اپنے ماتم کے وقت اُن چیزوں میں سے کچھ نہیں کھایا اور ناپاک حالت میں اُنکو الگ نہیں کیا اور نہ اُن میں سے کچھ مُردوں کے لیے دیا ۔ میں نے خداوند اپنے خدا کی بات مانی ہے اور جو کچھ تُو نے حکم دیا اُسی کے مطابق عمل کیا ۔
15 آسمان پر سے جو تیرا مُقدس مسکن ہے نظر کر اور اپنی قوم اسرائیل کو اور اُس ملک کو برکت دے جس ملک میں دودھ اور شہر بہتا ہے اور جسکو تُو نے اُس قسم کے مطابق جو تُو نے ہمارے باپ دادا سے کھائی ہمکو عطا کیا ہے ۔
16 خداوند تیرا خدا آج تجھ کو اِن آئیں اور احکام کے ماننے کا حکم دیتا ہے ۔ سو تُو اپنے سارے دل اور ساری جان سے اِنکو ماننا اور اِن پر عمل کرنا ۔
17 تُو نے آج کے دن اقرار کیا ہے کہ خداوند تیرا خدا ہے اور تُو اُسکی راہوں پر چلے گا اور اُس کے آٓئین اور فرمان اور احکام مانے گا اور اُس کی بات سُنے گا ۔
18 اور خداوند نے بھی آج کے دن تجھ کو جیسا اُس نے وعدہ کیا تھا اپنی خاص قوم قرار دیا ہے تاکہ تُو اُس کے سب حکموں کو مانے ۔
19 اور وہ سب قوموں سے جنکو اُس نے پیدا کیا ہے تعریف اور نام اور عزت میں تجھ کو ممتاز کرے اور تُو اُسکے کہنے کے مطابق خداوند اپنے خدا کی مقدس قوم بن جائے ۔


باب 27

1 پھر موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بزرگوں کے ساتھ ہو کر لوگوں سے کہا کہ جتنے حکم آج کے دن میں تُم کو دیتا ہوں اُن سب کو ماننا ۔
2 اور جس دن تُم یردن پار ہو کر اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے پہنچو تو تُو بڑے بڑے پتھر کھڑے کر کے اُن پر چُونے کی استرکاری کرنا ۔
3 اور پار ہو جانے کے بعد اِس شریعت کی سب باتیں اُن پر لکھنا تاکہ اُس وعدہ کے مطابق جو خداوند تیرے باپ دادا کے خدا نے تجھ سے کیا اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا یعنی اُس ملک میں جہاں دودھ اور شہد بہتا ہے تو پہنچ جائے ۔
4 سو تُم یردن کے پار ہو کر اُن پتھروں کو جنکی باب نمبرت میں تُم کو آج کے دن حکم دیتا ہوں کوہِ عیبال پر نصب کر کے اُن پر چونے کی استرکاری کرنا ۔
5 اور وہیں تُو خداوند اپنے خدا کے لیے پتھروں کا ایک مذبح بنانا اور لوہے کا کوئی اوزار اُن پر نہ لگانا ۔
6 اور تُو خداوند اپنے خدا کے لیے سوختنی قُربانیاں گذراننا ۔
7 اور وہیں سلامتی کی قُربانیاں چڑھانا اور اُنکو کھانا اور خداوند اپنے خدا کے حضور خوشی منانا ۔
8 اور اُن پتھروں پر اِس شریعت کی سب باتیں صاف صاف لکھنا ۔
9 پھر موسیٰ اور لاوی کاہنوں نے سب بنی اسرائیل سے کہا اے اسرائیل ! خاموش ہو جا اور سُن ۔ تُو آج کے دن خداوند اپنے خدا کی قوم بن گیا ۔
10 سو تُو خداوند اپنے خدا کی بات سُننا اور اُسکے سب آئین اور احکام پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں عمل کرنا ۔
11 اور موسیٰ نے اُسی دن لوگوں سے تاکید کر کے کہا کہ ۔
12 جب تُم یردن پار ہو جاو تو کوہ کرزیم پر شعمون اور لاوی اور یہوداہ اور اِشکار اور یوسف اور بنیمین کھڑے ہوں اور لوگوں کو برکت سُنائیں ۔
13 اور روبن اور جد اور آشر اور زبولون اور دان اور نفتالی کوہِ عیبال پر کھڑے ہو کر لعنت سُنائیں ۔
14 اور لاوی بُلند آواز سے سب اسرائیلی آدمیوں سے کہیں کہ ۔
15 لعنت اُس آدمی پر جو کاریگری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اُسکو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے اور سب لوگ جواب دیں اور کہیں آمین ۔
16 لعنت اُس پر جو اپنے باپ یاں ماں کو حقیر جانے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
17 لعنت اُس پر جو اپنے پڑوسی کی حد کے نشان کو ہٹائے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
18 لعنت اُس پر جو اندھے کو راستہ سے گمراہ کرے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
19 لعنت اُس پر جو پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے مقدمہ کو بگاڑے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
20 لعنت اُس پر جو اپنے باپ کی بیوی سے مباشرت کرے کیونکہ وپ اپنے باپ کے دامن کو بے پردہ کرتا ہے اور سب لوگ کہیں آمین
21 لعنت اُس پر جو کسی چوپائے کے ساتھ جماع کرے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
22 لعنت اُس پر جو اپنی بہن سے مباشرت کرے خواہ وہ اُسکے باپ کی بیٹی ہو خواہ ماں کی اور سب لوگ کہیں آمین ۔
23 لعنت اُس پر جو اپنی ساس سے مباشرت کرے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
24 لعنت اُس پر جو اپنے ہمسایہ کو پوشیدگی میں مارے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
25 لعنت اُس پر جو بے گناہ کو قتل کرنے کے لیے انعام لے اور سب لوگ کہیں آمین ۔
26 لعنت اُس پر جو اِس شریعت کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے اُن پر قائم نہ رہے اور سب لوگ کہیں آمین ۔


باب 28

1 اور اگر تُو خداوند اپنے خدا کی بات کو جانفشانی سے مان کر اُسکے سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دُنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا ۔
2 اور اگر تُو خداوند اپنے خدا کی بات سُنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہونگی اور تجھ کو ملے گیں ۔
3 شہر میں بھی تُو مبارک ہو گا اور کھیت میں بھی مبارک ہو گا ۔
4 تیری اولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے چوپایوں کے بچے یعنی گائے بیل کی بڑھتی اور تیری بھیڑ بکریوں کے بچے مبارک ہونگے ۔
5 تیرا ٹوکرا اور تیری کٹھوتی دونوں مبارک ہونگے ۔
6 اور تُو اندر آتے وقت مبارک ہو گا اور باہر جاتے وقت بھی مبارک ہو گا ۔
7 خداوند تیرے دُشمنوں کو جو تجھ پر حملہ کریں تیرے روبروشکست دلائے گا ۔ وہ تیرے مقابلہ کو تو ایک ہی راستہ سے آئیں گے پر سات سات راستوں سے ہو کر تیرے آگے سے بھاگیں گے ۔
8 خداوند تیرے انبار خانوں میں اور سب کاموں میں جن میں تُو ہاتھ لگائے برکت کا حکم دے گا اور خداوند تیرا خدا اُس ملک میں جسے وہ تجھ کو دیتا ہے تجھ کو برکت بخشے گا ۔
9 اگر تُو خداوند اپنے خدا کے حکموں کو مانے اور اُسکی راہوں پر چلے تو خداوند اپنی اُس قسم کے مطابق جو اُس نے تجھ سے کھائی تجھ کو اپنی پاک قوم بنا کر قائم رکھے گا ۔
10 اور دُنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تُو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی ۔
11 اور جس ملک کو تجھ کو دینے کی قسم خداوند نے تیرے باپ دادا سے کھائی تھی اُس میں خداوند تیری اولاد کو اور تیرے چوپایوں کے بچوں کو اور تیری زمین کی پیداوار کو خوب بڑھا کر تجھ کو برومند کرے گا ۔
12 خداوند آسمان کو جو اُسکا اچھا خزانہ ہے تیرے لیے کھول دے گا کہ تیرے مُلک میں وقت پر مینہ برسائے اور وہ تیر ے سب کاموں میں جن میں تۃو ہاتھ لگائے برکت دے گا اور تُو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر خود قرض نہیں لے گا ۔
13 اور خداوند تجھ کو دُم نہیں بلکہ سر ٹھہرائے گا اور تُو پشت نہیں بلکہ سر فراز ہی رہے گا بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کے حکموں کو جو میں تجھ کو آج کے دن دیتا ہوںسُنے اور احتیاط سے اُن پر عمل کرے ۔
14 اور جن باتوں کا میں آج کے دن تجھ کو حکم دیتا ہوں اُن میں سے کسی سے دہنے یا بائیں ہاتھ مُڑ کر اور معبودوں کی پیروی اور عبادت نہ کر ے ۔
15 لیکن اگر تُو ایسا کرے کہ خداوند اپنے خدا کی بات سُنکر اُسکے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعتیں تجھ پر نازل ہونگی اور تجھ کو لگیں گی ۔
16 شہر میں بھی تُو لعنتی ہو گا اور کھیت بھی لعنتی ہو گا ۔
17 تیرا ٹوکرا اور تیری کٹھوتی دونوں لعنتی ٹھہریں گے ۔
18 تیری اولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے گائے بیل کی بڑھتی اور تیری بھیڑ بکریوں کے بچے لعنتی ہو نگے ۔
19 تُو اندر آتے لعنتی ٹھہرے گا اور باہر جاتے بھی لعنتی ٹھہرے گا ۔
20 خداوند اُن سب کاموں میں جنکو تُو ہاتھ لگائے لعنت اور اِضطراب اور پھٹکار کو تجھ پر نازل کرے گا جب تک کہ تُو ہلاک ہو کر جلد نیست و نابود نہ ہو جائے ۔ یہ تیری اُن بد اعمالیوں کے سبب سے ہو گا جنکو کرنے کی وجہ سے تُو مجھ کو چھوڑ دے گا ۔
21 خداوند ایسا کرے گا کہ وبا تجھ سے لپٹی رہے گی جب تک کہ وہ تجھ کو اُس ملک سے جس پر قبضہ کرنے کو تُو وہاںجا رہا ہے فنا نہ کر دے ۔
22 خداوند تجھ کو تپ دق اور بخار اور سوزش اور شدید حرارت اور تلوار اور بادِ سموم اور گیروئی سے مارے گا اور یہ تیرے پیچھے پرے رہیں گے جب تک کہ تُو فنا نہ ہو جائے ۔
23 اور آسمان کو تیرے سر پر ہے پیتل کا اور زمین جو تیرے نیچے ہے لوہے کی ہو جائے گی ۔
24 خداوند مینہ کے بدلے تیری زمین پر خاک اور دھول برسائے گا ۔ یہ آسمان سے تجھ پر پرتی ہی رہے گی جب تک کہ تُو ہلاک نہ ہو جائے ۔
25 خداوند تجھ کو تیرے دُشمنوں کے آگے شکست دلائے گا ۔ تُو اُنکے مقابلہ کے لیے تو ایک راستہ سے جائے گا اور اُنکے سامنے سے سات سات راستوں سے ہو کر بھاگے گا اور سُنیا کی تمام سطنتوں میں تُو مارا مارا ا پھرے گا ۔
26 اور تیری لاش ہوا کے پرندوں اور زمین کے درندوں کی خوراک ہو گی اور کوئی اُنکو ہکا کر بھگانے کو بھی نہیں ہو گا ۔
27 خداوند تجھ کو مصر کے پھوڑوں اور بواسیر اور کھجلی اور خارش میں ایسا مبتلا کرے گا کہ تُو کبھی اچھا بھی نہیں ہونے کا ۔
28 خداوند تجھ کو جنون اور نابینائی اور دل کی گھبراہٹ میں بھی مبتلا کردے گا ۔
29 اور جیسے اندھا اندھیرے میں ٹٹولتا ہے ویسے ہی تُو دو پہر دن کو ٹٹولتا پھرے گا اور تُو اپنے سب دھندوں میں ناکام رہے گا اور تجھ پر ہمیشہ ظُلم ہی ہو گا اور تپو لُٹتا ہی رہے گا اور کوئی نہ ہو گا جو تجھ کو بچائے ۔
30 عورت سے منگنی تو تُو کرے گا لیکن دوسرا اُس سے مباشرت کرے گا ۔ تُو گھر بنائے گا پر اُس میں بسنے نہ پائے گا ۔ تُو تاکستان لگائے گا پر اُس کا پھل استعمال نہ کرے گا ۔
31 تیرا بیل تیری آنکھوں کے سامنے ذبح کیا جائے گا پر تُو اُسکا گوشت کھانے نہ پائے گا ۔ تیرا گدھا تجھ سے جبراً چھین لیا جائے گا اور تجھ کو پھر نہ ملے گا ۔ تیری بھیڑیں تیر ے دُشمنوں کے ہاتھ لگینگی اور کوئی نہ ہو گا جو تجھ کو بچائے ،
32 تیرے بیٹے اور بیٹیاں دوسری قوم کو دی جائیں گی اور تیری آنکھیں دیکھینگی اور سارے دن اُنکے لیے ترستے ترستے رہ جائیں گی اور تیرا کچھ بس نہیں چلے گا ۔
33 تیری زمین کی پیداوار اور تیری ساری کمائی کو ایک ایسی قوم کھائے گی جس سے تُو واقف نہیں اور تُو سدا مظلوم اور دبا ہی رہے گا ۔
34 یہاں تک کہ اِن باتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر دیوانہ ہو جائے گا ،
35 خداوند تیرے گھٹنوں اور ٹانگوں میں ایسے بُرے پھوڑے پیدا کرے گا کہ اُن سے تو پاوں کے تلوے سے لیکر سر کی چاندی تک شفا نہ پا سکے گا ۔
36 خداوند تجھ کو اور تیرے بادشاہ کو جسے تُو اور تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں اور وہاں تُو اور معبودوں کی جو محض لکڑی اور پتھر ہیں عبادت کرے گا ۔
37 اور اُن سب قوموں میں جہاں جہاں خدوند تجھ کو پہنچائے گا تُو باعث حیرت اور ضرب المثل اور انگشت نما بنے گا ۔
38 تو کھیت میں بہت سا بیج لے جائے گا الیکن تھوڑا سا جمع کرے گا کیونکہ ٹڈی اُسے چاٹ لیگی ۔
39 تُو تاکستان لگائے گا اور اُن پر محنت کرے گا لیکن نہ تو مَے پینے اور نہ انگور جمع کرنے پائے گا کیونکہ اُنکو کیڑے کھا جائیں گے ۔
40 تیری سب حدود میں زیتون کے درخت لگے ہونگے پر تُو اُنکا تیل نہیں لگانے پائے گا کیونکہ تیرے زیتون کے درختوں کا پھل جھڑ جایا کرے گا ۔
41 تیرے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہونگی پر وہ سب تیرے نہ رہیں گے کیونکہ وہ اسیر ہو کر چلے جائیں گے ۔
42 تیرے سب درختوں اور تیری زمین کی پیداوار پر ٹڈیاں قبضہ کر لیں گی ۔
43 پردیسی جو تیر ے درمیان ہو گا وہ تجھ سے بڑھتا اور سرفراز ہوتا جائے گا پر تُو پست ہی پست ہوتا جائے گا ۔
44 وہ تجھ کو قرض دے گا پر تُو اُسے قرض نہ دے سکے گا ۔ وہ سر ہو گا اور تُو دُم ٹھہرے گا ۔
45 اور چونکہ تُو خداوند اپنے خدا کے اُن حکموں اور آئین پر جنکو اُس نے تجھ کو دیا ہے عمل کرنے کے لیے اُسکی بات نہیں سُنے گا اِس لیے یہ سب لعنتیں تجھ پر آئیں گی اور تیرے پیچھے پڑی رہیں گی اور تجھ کو لگینگی جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے ۔
46 اور وہ تجھ پر اور تیری اولاد پر سد ا نشان اور اچنبھے کے طورپر رہیں گء ۔
47 اور چونکہ تُو باوجود سب چیزوں کی فراوانی کے فرحت اور خوشدلی سے خداوند اپنے خدا کی عبادت نہیں کرے گا ۔
48 اِس لیے بھُکا اور پیاسا اور ننگا ار سب چیزوں کا محتاج ہو کر تُو اپنے اُن دشمنوں کی خدمت کرے گا جنکو خداوند تیرے بر خلاف بھیجے گا اور غنیم تیری گردن پر لوہے کا جوا رکھے رہے گا جب تک وہ تیرا ناس نہ کر دے ۔
49 خداوند دُور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھالائے گا جیسے عقاب ٹوٹ کر آتا ہے ۔ اُس قوم کی زبان کو تُو نہ سمجھے گا ۔
50 اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہونگے جو نہ بڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر تر س کھائیں گے ۔
51 اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لیے اناج یا مَے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں ۔
52 اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کیے رہیں گے جب تک تیری اونچی اونچی فصلیں جن پر تیرا بھروسا ہو گا گِر نہ جائیں ۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے ۔
53 تب اُس محاصرہ کے موقع پر اور اُس آڑے وقت میں تُو اپنے دشمنوں سے تنگ آکر اپنے ہی جسم کے پھل کو یعنی اپنے ہی بیٹوں اور بیٹیوں کا گوشت جنکو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو عطا کیا ہو گا کھائے گا ۔
54 وہ شخص جو تُم میں ناز پروردہ اور نازک بندن ہو گا اُسکی بھی اپنے بھائی اور اپنی ہم آغوش بیوی اور اپنے باقی ماندہ بچوں کی طرف بُری نظر ہو گی ۔
55 یہاں تک کہ وہ اِن میں سے کسی کو بھی اپنے ہی بچوں کے گوشت میں سے جنکو وہ خود کھائے گا کچھ نہیں دے گا کیونکہ اُس محاصرہ کے موقع پر اور اُس آڑے وقت میں جب تیرے دشمن تجھ کو تیری ہی بستیوں میں تنگ کر مایں گے تو اُس کے پاس اور کچھ باقی نہ رہے گا ۔
56 وہ عورت بھی جو تمہارے درمیان ایسی ناز پروردہ اور نازک بدن ہو گی کہ نرمی و نزاکت کے سبب سے اپنے پاوں کا تلوا بھی زمین سے لھانے کی جرات نہ کرتی ہو اُسکی بھی اپنے پہلو کے شوہر اور اپنے ہی بیٹے اور بیٹی ۔
57 اور اپنے ہی نوازد بچے کی طرف سے جو اُسکی رانوں کے بیچ سے نکلا ہو بلکہ اپنے سب لڑکے بالوں کی طرف جنکو وہ جنے گی بُری نظر ہو گی کیونکہ وہ تمام چیزوں کی قلت کے سبب سے اُن ہی کو چھپ چھپ کر کھائے گی جب اُس محاصرہ کے موقع پر اور اُس آڑے وقت میں تیرے دشمن تیری ہی بستیوں میں تجھ کو تنگ کر مایں گے ۔
58 اگر تُو اُس شریعت کی اُن سب باتوں پر جو اِس کتاب میں لکھی ہیں احتیاط رکھ کر اِس طرح عمل نہ کرے کہ تجھ کو خداوند اپنے خدا کے جلالی اور مہین ناک کا خوف ہو ۔
59 تو خداوند تجھ پرعجیب آفتیں نازل کرے گا اور تیری اولاد کی آفتوں کو بڑھا کر بڑی اور دیر پا آتیں اور سخت اور دیر پا بیماریاں کر دے گا ۔
60 اور مصر کے سب روگ جن سے تُو ڈرتا تھا تجھ کو لگائے گا اور وہ تجھ کو لگے رہیں گے ۔
61 اور اُن سب بیماریوں اور آفتوں کو بھی جو اِس شریعت کی کتاب میں مذکور نہیں ہیں خداوند تجھ کو لگائے گا جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے ۔
62 اور چونکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات نہیں سُنے گا ااِس لیے کہاں تو تُم کثرت میں آسمان کے تاروں کی مانند ہو اور کہاں شمار میں تھوڑے ہی رہ جاو گے ۔
63 تب یہ ہو گا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تُم کو بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے یء تمکو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہو گا اور تُم اُس ملک سے اُکھاڑ دئے جاو گے جہاں تُو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے ۔
64 اور خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرےتک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا ۔ وہاں تُو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جنکو تُو ہا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا ۔
65 اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام مِلے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا ۔
66 اور تیری جان دبدھے میں اٹکی رہے گی اور تُو رات دن ڈرتا رہے گا اور تیری زندگی کا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا ۔
67 اور تُو اپنے دلی خوف کے اور اُن نظاروں کے سبب سے جنکو تُو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا صنح کو کہے گا کہ اے کاش کہ شام ہوتی اور شام کو کہے گا اے کاش کہ صبح ہوتی ۔
68 اور خداوند تجھ کو کشتیوں میں چڑھا کر اُس راستہ سے مصر میں لوٹا لے جائے گا جسکی باب نمبرت میں نے تجھ سے کہا تُو اُسے پھر کبھی نہ دیکھنا اور وہاں تُم اپنے دشمنوں کے غلام اور لونڈی ہونے کے لیے اپنے بیچو گے پر کوئی خریدار نہ ہو گا ۔


باب 29

1 اسرائیلیوں کے ساتھ جس عہد کے باندھنے کا حکم خداوند نے موسیٰ کو آمواب کے ملک میں دیا اُسی کی یہ باتیں ہیں ۔ یہ اُس عہد سے الگ ہے جو اُس نے اُنکے ساتھ ھورب میں باندھا تھا ۔
2 سو موسیٰ نے سب سرائیلیوں کو بُلوا کر اُن سے کہا تُم نے سب کچھ جو خداوند نے تمہاری آنکھوں کے سامنے مُلک مصر میں فرعون اور اُسکے سب خادموں اور اُسکے سارے ملک سے کیا دیکھا ہے ۔
3 امتحان کے وہ بڑے بڑے کام او ر نشان اور بڑے بڑے کرشمے تُو نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔
4 لیکن خداوند نے تُمکو آج تک نہ تو ایسا دل دیا جو سمجھے اور نہ دیکھنے کی آنکھیں اور سُننے کے کان دیے ۔
5 اور میں چالیس برس بیابان میں تمکو لیے پھرا اور نہ تمہارے تن کے کپڑے پُرانے ہوئے اور نہ تیرے پاوں کی جوتی پُرانی ہوئی ۔
6 اور تُم اِسی لیے روٹی کھانے اور مَے یا شراب پینے نہیں پائے تاکہ تُم جان لو کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں ۔
7 اور جب تُم اِسن جگہ آئے تو حسبون کا بادشاہ سیحون اور بسن کا بادشاہ عوج ہمارا مقابلہ کرنے کو نکلے اور ہم نے اُنکو مار کر ۔
8 اُنکا ملک لے لیا اور اُسے روبینیوں کو اور جدیوں کو اور منسیوں کے آدھے قبیلہ کو میراث کے طور پر دے دیا ۔
9 پس تُم اِس عہد کی باتوں کو ماننا اور اُن پر عمل کرنا تاکہ جو کچھ تُم کرو اُس میں کامیاب ہو ۔
10 آج کے دن تُم اور تمہارے سردار تمہارے قبیلے اور تمہارے بزرگ اور تمہارے منصبدار اور سب اسرائیلی مرد۔
11 اور تمہارے بچے اور تمہاری بیویاں اور وہ پردیسی بھی جو تیری خیمہ گاہ میں رہتا ہے خواہ وہ تیرا لکڑا ہارا ہو خواہ سقا سب کے سب خداوند اپنے خدا کے سامنے کھڑے ہو ۔
12 تاکہ تُو خداوند اپنے خدا کے عہد میں جسے وہ تیرے ساتھ آج باندھتا اور اُسکی قسم میں جسے وہ آج تجھ سے کھاتا ہے شامل ہو ۔
13 اور وہ تجھ کو آج کے دن اپنی قوم قرار دے اور وہ تیرا خدا ہو جیسا اُس نے تجھ سے کہا ۔ جیسی اُس نے تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھائی ۔
14 اور میں اِس عہد اور قسم میں فقط تُم ہی کو نہیں ۔
15 پر ُکو بھی جو آج کے دن خداوند ہمارے خدا کے حضور یہاں ہمارے ساتھ کھڑا ہے اور اُسکو بھی جو آج کے دن یہاں ہمارے ساتھ نہں اُن میں شامل کرتا ہوں ۔
16 ( تُم خود جانتے ہو کہ ملک مصر میں ہم کیسے رہے اور کیونکر اُن قوموں کے بیچ سے ہو کر آئے جنکے درمیان سے تُم گذر ے ۔
17 اور تُم نے خود اُنکی مکروہ چیزیں اور لکڑی اور پتھر اور چاندی اور سونے کی مورتیں دیکھیں جو اُنکے ہاں تھیں )
18 سو ایسا نہ ہو کہ تُم میں کوئی مرد یا عورت یا خاندا ن یا قبیلہ ایسا ہو جسکا دل آج کے دن خداوند ہمارے خدا سے برگشتہ ہو اور وہ جا کر اُن قوموں کے دیوتاوں کی پرستش کرے یا ایسا نہ ہو کہ تُم میں کوئی ایسی جڑ ہو جو اندراین اور ناگدونا پیدا کرے ۔
19 اور ایسا آدمی لعنت کی یہ باتیں سُنکر دل ہی دل میں اپنے کو مبارکباد دے اور کہے کہ خواہ میں کیسا ہی ہٹی ہو کر تر ے ساتھ خُشک کو فنا کر ڈالونگا تو بھی میرے لیے سلامتی ہے ۔
20 پر خداوند اُسے معا ف نہیں کرے گا بلکہ اُس وقت خداوند کا قہر اور اُسکی غیرت اُس آدمی پر بر انگیختہ ہو گی اور سب لعنتیں جو اِس کتاب میں لکھی ہیں اُس پر پڑیں گی اور خداوند اُنکے نام کو صفحہ روز گار سے مٹا دے گا ۔
21 اور خداوند اِس عہد کی اُن سب لعنتوں کے مطابق جو اِس شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں اُسے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے بُری سزا کے لیے جُدا کرے گا ۔
22 اور آنے والی پُشتوں میں تمہاری نسل کے لوگ جو تمہارے بعد پیدا ہونگے اور پردیسی بھی جو دور کے مُلک سے آئیں گے جب وہ اِس ملک کی بلاوں اور خداوند کی لگائی ہوئی بیماریوں کو دیکھیں گے ۔
23 اور یہ بھی دیکھیں گے کہ سارا مُلک گویا گندھک اور نمک بنا پڑا ہے اور ایسا جل گیا ہے کہ اِس میں نہ تو کچھ بویا جاتا نہ پیدا ہوتا اور نہ کسی قسم کی گھاس اُگتی ہے اور وہ سدوم اور عمورہ اور ادمہ اور ضبوئیم کی طرح اُجڑ گا جنہو خداوند نے اپنے غضب اور قہر میں تباہ کر ڈالا ۔
24 تب وہ بلکہ سب قومیں پوچھیں گی کہ خداوند نے اِس ملک سے ایس کیوں کیا ؟ اور ایسے بڑ ے قہر کے بھڑکنے کا سبب کیا ہے ؟
25 اُس وقت لوگ جو اب دیں گے کہ خداوند اںکے باپ دادا کے خدا نے جو عہد اِن کے ساتھ انکو ملک مصر سے نکالتے وقت باندھا تھا اُسے اِن لوگوں نے چھوڑ دیا ۔
26 اور جا کر اور معبودوں کی عبادت اور پرستش کی جن سے وہ واقف نہ تھے اور جنکو خداوند نے اِنکو دیا بھی نہ تھا ۔
27 اِسی لیے اِس کتاب کی لکھی ہوئی سب لعنتوں کو اِس ملک پر نازل کرنے کے لیے خداوند کا غضب اِس پر بھڑکا ۔
28 اور خداوند نے قہر اور غصہ اور بڑے غضب میں اِنکو اِنکے ملک سے اُکھاڑ کر دوسرے ملک میں پھینکا جیسا آج کے د ن ظاہر ہے ۔
29 غیب کا مالک تو خداوند ہمارا خدا ہی ہے پر جو باتیں ظاہر کی گئی ہیں و ہ ہمیشہ تک ہمارے اور ہماری اولاد کے لیے ہیں تاکہ ہم اِس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں ۔


باب 30

1 اور جب یہ سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جنکو میں نے آج تیرے آگے رکھا ہے تجھ پر آئیں اور تُو اُن قوموں کے بیچ جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو ہنکا کر پہنچا دیا ہو اُنکو یاد کرے ۔
2 اور تُو اور تیری اولاد دونوں خداوند اپنے خدا کی طرف پھریں اور اُسکی بات اِن سب احکام کے مطابق جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے مانیں ۔
3 تو خداوند تیرا خدا تیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اورپھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو جمع کرے گا ۔
4 اگر تیرے آوارہ گرد دُنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کر کے لے آئے گا ۔
5 اور خداوند تیرا خدا اُسی ملک میں تجھ کو لائے گا جس پر تیرے باپ دادا نے قبضہ کیا تھا اور تُو اُسکو اپنے قبضہ میں لائے گا ۔ پھر وہ تجھ سے بھلائی کرے گا اور تیرے باپ دادا سے زیادہ تجھ کو بڑھائے گا ۔
6 اور خداوند تیرا خدا تیرے اور تیری اولاد کے دل کا ختنہ کرے گا تاکہ تُو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے محبت رکھے اور جیتا رہے ۔
7 اور خداوند تیرا خدا یہ سب لعنتیں تیرے دشمنوں اور کینہ رکھنے والوں پر جنہوں نے تجھ کو ستایا نازل کرے گا ۔
8 اور تُو لوٹیگا اور خداوند کی بات سُنے گا اور اُسکے سب حکموں پر جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں عمل کرے گا ۔
9 اور خداوند تیرا خدا تجھ کو تیرے کاروبار اور آس اولاد اور چوپایوں کے بچوں اور زمین کی پیداوار کے لحاظ سے تیری بھلائی کی خاطر پھر تجھ کو برومند کرے گا کیونکہ خداوند تیری ہی بھلائی کی خاطر تجھ سے خوش ہو گا جیسے وہ تیرے باپ دادا سے خوش تھا ۔
10 بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات کو سُنکر اُسکے احکام اور آئین کو مانے جو شریعت کی اِس کتاب میں لکھے ہیں اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے ۔
11 کیونکہ وہ حکم جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں تیرے لیے بہت مُشکل نہیں اور نہ وہ دور ہے ۔
12 وہ آسمان پر تو ہے نہیں کہ تُو کہے کہ آسمان پر کون ہماری خاطر چڑھے اور اُسکو ہمارے پاس لا کر سُنائے تاکہ ہم اُس پر عمل کریں ؟
13 اور نہ وہ سمندر پار ہے کہ تُو کہے کہ سمندر پار کون ہماری خاطر جائے اور اُسکو ہمارے پاس لا کر سُنائے تاکہ ہم اُس پر عمل کریں ؟
14 بلکہ وہ کلام تیرے بہت نزدیک ہے ۔ وہ تیرے منہ میں اور تیرے دل میں ہے اکہ تُو اُس پر عمل کرے ۔
15 دیکھ میں نے آج کے دن زندگی اور بھلائی اور موت اور بُرائی کو تیرے آگے رکھا ہے
16 کیونکہ میں آج کے دن تجھ کو حککم کرتا ہوں کہ تُو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھے اور اُسکی راہوں پر چلے اور اُسکے فرمان اور آئین اور احکام کو مانے تاکہ تُو جیتا رہے اور بڑھے اور خداوند تیرا خدا اُس ملک میں تجھ کو برکت بخشے جس پر قبضہ کرنے کو تُو وہاں جا رہا ہے ۔
17 پر اگر تیر ا دل برگشتہ ہو جائے اور تپو نہ اپسنے بلکہ گمراہ ہو کر اور معبودوں کی پرستش اور عبادت کرنے لگے ۔
18 تو آ ج کے دن میں تُم کو جتا دیتا ہوں کہ تُم ضرور فنا ہو جاو گے اور اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کو تُو یردن پار جا رہا ہے تمہاری عمر دراز نہ ہوگی ۔
19 میں آج کے دن آسمان اور زمین کو تمہارے بر خلاف گواہ بناتا ہوں کہ میں نے زندگی اور موت کو اور برکت اور لعنت کو تیرے آگے رکھا ہے پس تُو زندگی کو اختیار کر کہ تُو بھی جیتا رہے او ر تیری اولاد بھی ۔
20 تاکہ تو خداوند اپنے خدا ے محبت رکھے اور اُسکی بات سُنے اور اُسی سے لپٹا رہے کیونکہ وہی تیری زندگی اور تیری عمر کی درازی ہے تاکہ تپو اُس ملک میں بسا رہے جسکو تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب کو دینے کی قسم خدوند نے اُن سے کھائی تھی ۔


باب 31

1 اور موسیٰ نے جا کر یہ باتیں سب اسرائیلیوں کو سُنائیں ۔
2 اور اُنکو کہا کہ میں تو آج کے دن ایک سو بیس برس کا ہوں ۔ میں اب چل پھر نہیں سکتا اور خداوند نے مجھ سے کہا ہے کہ تُو اِس یردن پار نہیں جائے گا ۔
3 سو خداوند تیرا خدا ہی تیرے آگے آگے پار جا۴ے گا اور وہی اُن قوموں کو تیرے آگے سے فنا کرے گا اور تُو اُنکا وارث ہو گا اور جیسا خداوند نے کہا ہے کہ یشوع تیرے آگے آگے پار جائے گا ۔
4 اور خداوند اُن سے وہی کرے گا جو اُس نے اموریوں کے بادشاہ سیحون اور عوج اور اُنکے ملک سے کیا کہ اُنکو فنا کر ڈالا ۔
5 اور خداوند اُنکو تُم سے شکست دلا۴ے گا اور تُم اُن سے اُن کے سب حکموں کے مطابق پیش آناجو میں نے تُم کو دیے ہیں ۔
6 تو مضبو ط ہو جا اور حوصلہ رکھ ۔ مت ڈر اور نہ اُن سے خوف کھاکیونکہ خداوند تیرا خدا خود ہی تیرے ساتھ جاتا ہے ۔ وہ تجھ سے دست بردار نہیں ہو گا اور نہ تجھ کو چھوڑے گا ۔
7 پھر موسیٰ نے یشوع کو بُلا کر سب اسرائیلیوں کے سامنے اُس سے کہا کہ تُو مضبوط ہو جا اور حو صلہ رکھ کیونکہ تُو اِس قوم کے ساتھ اُس ملک میں جا۴ے گا جسکو خداوند نے اُنکے باپ دادا سے قسم کھا کر دینے کو کہا تھا اور تُو اُنکو اُسکا وارث بنائے گا ۔
8 اور خداوند ہی تیرے آگے آگے چلے گا ۔ وہ تیرے ساتھ رہے گا ۔ وہ تجھ سے دستبردار نہ ہو گا نہ تجھے چھوڑے گا سو تُو خوف نہ کر اور بے دل نہ ہو ۔
9 اور موسیٰ نے اِس شریعت کو لکھ کر اُسے کاہنوں کے جو بنی لاوی اور خداوند کے رہد کے صندوق کے اُٹھانے والے تھے اور اسرائیل کے سب بزرگوں کے سپرد کیا ۔
10 پھر موسیٰ نے اُنکو یہ حکم دیا کہ ہر سات برس کے آخر میں چھٹکارے کے سال کے معین وقت پر عید خیام میں ۔
11 جب سب اسرائیلی خداوند تیرے خدا کے حضور اُس جگہ آکر حاضر ہوں جسے وہ خود چُنے گا تو تُو اِس شریعت کو پڑھ کر سب اسرائیلیوں کو سُنانا ۔
12 تو سب لوگوں کو یعنی مردوں اور عورتوں اور بچوں اور اپنی بستیوں کے مسافروں کو جمع کرنا تاکہ وہ سُنں اور سیکھیں اور خداوند تمہارے خد ا کا خوف مانیں اور ا،س شریعت کی سب باتوں پر احتیاط رکھ کر عمل کریں ۔
13 اور اُنکے لڑکے جنکو کچھ معلوم نہیں وہ بھی سُنیں اور جب تک تُم اُس ملک میں جیتے رہو جس پر قبضہ کرنے کو تُم یردن پار جاتے ہو تب تک وہ برابر خداوند تمہارے خدا کا خوف ماننا سیکھیں ۔
14 پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ دیکھ تیرے مرنے کے دن آ پہنچے ۔ سو تُو یشو ع کو بُلا کے اور تُم دونوں خیمہ اجتماع میں حاضر ہو جاو تاکہ میں اُسے ہدایت کروں ۔ چنانچہ موسیٰ اور یشوع روانہ ہو کر خیمہ اجتماع میں حاضر ہوئے ۔
15 اور خداوند ابر کے ستون میں ہو کر خیمہ میں نمودار ہوا اور ابر کا ستون خیمہ کے دروازہ پر ٹھہر گیا ۔
16 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا دیکھ تُو اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جائے گا اور یہ لوگ اُٹھ کر اُس ملک کے اجنبی دیوتاوں کی پیروی میں جنکے بیچ وہ جا کر رہیں گے زنا کار اہو جائیں گے اور مجھ کو چھوڑ دیں گے اور اُس عہد کو جو میں نے اُنکے ساتھ باندھا ہے توڑ ڈالیں گے ۔
17 تب اُس وقت میرا قہر اُن پر بھڑکے گا اور میں اُنکو چھوڑ دونگا اور اُن سے اپنا منہ چھپا لونگا اور وہ نگل لیے جائیں گے اور بہت سی بلائیں اور مصیبتیں اُن پر آئیں گی چنانچہ وہ اُس دن کہیں گے کیا ہم پر یہ بلائیں اِسی سبب سے نہیں آئیں کہ ہمارا خدا ہمارے درمیان نہیں ؟
18 اُس وقت اُن سب بدیوں کے سبب سے جو اور معبودوں کی طرف مائل ہو کر اُنہوں نے کی ہونگی میں ضرور اپنا منہ چھپا لونگا ۔
19 سو تُم یہ گیت اپنے لیے لکھ لو اور تُو اُسے بنی اسرائیل کو سکھانا اور اُنکو حفظ کرا دینا تاکہ یہ گیت بنی اسرائیل کے خلاف میرا گواہ رہے ۔
20 اِس لیے کہ جب میں اُنکو اُس ملک میں جسکی قسم میں نے اُنکے باپ دادا سے کھا۴ی اور جہاں دودھ اور شہد بہتا ہے پہنچا دونگا اور وہ خوب کھا کھا کر موٹے ہو جائیں گے تب وہ اور معبودوں کی طرف پھر جائیں گے اور اُنکی عبادت کریں گے اور مجھے حقیر جانیں گے اور میرے عہد کو توڑ ڈالیں گے ۔
21 اور یوں ہو گا کہ جب بہت سی بلائیں اور مصیبتیں اُن پر آئیں گی تو یہ گیت گواہ کی طرح اُن پر شہادت دے گا اِس لیے کہ اِسے اِنکی اولاد کبھی نہیں بھولیگی کیونکہ اِس وقت بھی اُنکو اُس ملک میں پہنچانے سے پیشتر جسکی قسم میں نے کھائی ہے میں اُنکے خیال کو جس میں رہ ہیں جانتا ہوں ۔
22 سو موسیٰ نے اُسی دن اِس گیت کو لکھ لیا اور اُسے بنی اسرائیل کو سکھایا ۔
23 اور اُس نے نون کے بیٹے یشوع کو ہدایت کی اور کہا مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ کیونکہ تُو بنی اسرائیل کو اُس ملک میں لے جائے گا جس کی قسم میں نے اُن سے کھائی تھی اور میں تیرے ساتھ رہونگا ۔
24 اور ایسا ہوا کہ جب موسیٰ اِس شریعت کی باتوں کو ایک کتاب میں لکھ چُکا اور وہ ختم ہو گئیں ۔
25 تو موسیٰ نے لاویوں سے جو خداوند کے عہد کے صندوق کو اُٹھایا کرتے تھے کہا کہ ۔
26 اِس شریعت کی کتاب کو لیکر خداوند اپنے خدا کے عہد کے صندوق کے پاس رکھ دو تاکہ وہ تیرے بر خلاف گواہ رہے ۔
27 کیونکہ میں تیری بغاوت اور گردن کشی کو جانتا ہوں ۔ دیکھو ابھی تو میرے جیتے جی تُم خداوند سے بغاوت کرتے رہے ہو تو میرے مرنے کے بعد کتنا زیادہ نہ کرو گے ؟
28 تُم اپنے قبیلوں کے سب بزرگوں اور منصبداروں کو میرے پاس جمع کرو تاکہ میں یہ باتیں اُنکے کانوں میں ڈال دوں اور آسمان اور زمین کو اُنکے بر خلاف گواہ بناوں ۔
29 کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد تُم اپنے آپ بگاڑ لو گے اور اپس طریقی سے جسکا میں نے تُم کو حکم دیا ہے پھر جاو گے ۔ تب آخری ایام میں تُم پر آفت ٹوٹے گی کیونکہ تُم اپنی کرنیوں سے خداوند کو غصہ دلانے کے لیے وہ کام کرو گے جو اُسکی نظر میں بُرا ہے ۔
30 سو موسیٰ نےاِس گیت کی باتیں اسرائیل کی ساری جماعت کو آخر تک کہہ سُنا ئیں ۔


باب 32

1 کان لگاواے آسمانو ! اور میں بولونگا اور زمی میرے منہ کی باتیں سُنے ۔
2 میری تعلیم مینہ کی طرح برسے گی ۔ میری تقریری شبنم کی مانند ٹپکے گی جیسے نرم گھاس پر پھوآر پڑتی ہو اور سبزی پر جھڑیاں ۔
3 کیونکہ میں خداوند کے نام کا اشتہار دونگا۔ تُم ہمارے خدا کی تعظیم کرو ۔
4 وہ وہی چٹان ہے ۔ اُسکی صنعت کامل ہے کیونکہ اُسکی سب راہیں انصا ف کی ہیں وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے ۔ وہ منصف اور بر حق ہے ۔
5 یہ لوگ اُسکے ساتھ بُری طرح پیش آئے ۔ یہ اُسکے فرزند نہیں ۔ یہ اُنکا عیب ہے ۔ یہ سب کجرو اور ٹیڑھی نسل ہیں ۔
6 کیا تُم اے بے وقوف اور کم عقل لوگو ! اِس طرح خداوند کو بدلہ دو گے ؟ کیا وہ تمہارا باپ نہیں جس نے تُم کو خریدا ہے ؟ اُس ہی نے تُم کو بنایا اور قیام بخشا ۔
7 قدیم ایام کو یاد کرو ۔ نسل در نسل کے برسوں پر غور کرو ۔ اپنے باپ سے پوچھو ۔ وہ تمکو بتائے گا ۔ بزرگوں سے سوال کرو ۔ وہ تُم کو بیان کریں گے ۔
8 جب حق تعالیٰ نے قوموں کو میراث بانٹی اور بنی آدم کو جُدا جُدا کیا تو اُس نے قوموں کی سرحدیں بنی اسرائیل کے شمار کے مطابق ٹھہرائیں ۔
9 کیونکہ خدوند کا حصہ اُسی کے لوگ ہیں ۔ یعقوب اُسکی میراث کا قرعہ ہے ۔
10 وہ خداوند کو ویرانے اور سونے ہولناک بیابان میں ملا ۔ خداوند اُکے چوگرد رہا ۔ اُس نے اُسکی خبر لی اور اُسے اپنی اانکھ کی پُتلی کی طرح رکھا ۔
11 جیسے عقاب اپنے گھونسلے کو ہلا ہلا کر اپنے بچوں کو منڈلاتا ہے ویسے ہی اُس نے اپنے بازووں کو پھیلایا اور اُنکو لیکر اپنے پروں پر اُٹھا لیا ۔
12 قفط خداوند ہی نے اُنکی راہبری کی اور اُسکے ساتھ کوئی اجنبی معبود نہ تھا ۔
13 اُس نے اُسے زمین کی اونچی اونچی جگہوں پر سوار کرایا اور اُس نے کھیت کی پیداوار دکھائی ۔ اُس نے اُسے چٹان میں سے شہر اور سنگ خارا میں سے تیل چُسایا۔
14 اور گایوں کا مکھن اور بھیڑ بکریوں کا دودھ اور بروں کی چربی اور بسنی نسل کے مینڈھے اور بکرے اور خالص گیہوں کا آٹا بھی ۔ اور تُو انگور کے خالص رس کی مَے پیا کرتا تھا ۔
15 لیکن یسورن موٹا ہو کر لاتیں مارنے لگا تُو موٹا ہو کر لدھڑ ہو گیا ہے اور تجھ پر چربی چھا گئی ہے تب اُس نے خداوند کو جس نے اُسے بنایا چھوڑ دی اور اپنی نجات کی چٹان کی حقارت کی۔
16 اُنہوں نے اجنبی معبودوں کے باعث اُسے غیرت اور مکروہات سے اُسے غصہ دلایا ۔
17 اُنہوں نے جناب کے لیے جو خدا نہ تھے بلکہ ایسے دیوتاوں کے لیے جن سے وہ واقف نہ تھے یعنی نئے نئے دیوتاوں کے لیے جو حال ہی میں ظاہر ہوئے تھے جن سے اُنکے باپ دادا کبھی ڈر ے نہیں قُربانی کی ۔
18 تُو اپس چٹان سے غافل ہو گیا جس نے تجھے پیدا کیا تھا تُو خدا کو بھول گیا جس نے تجھے خلق کیا ۔
19 خداوند نے یہ دیکھ کر اُن سے نفرت کی کیونکہ اُس کے بیٹوں اور بیٹیوں نے اُسے غصہ دلایا ۔
20 تب اُس نے کہا میں اپنا منہ اُن سے چھپا لونگا اور دیکھونگا کہ اُن کا انجا م کیسا ہو گا کیونکہ وہ گردن کش نسل اور بے وفا اولا د ہیں ۔
21 اُنہوں نے اُس چیز کے باعث جو خدا نہیں مجھے غیرت اور اپنی باطل باتوں سے مجھے غصہ دلایا ۔ سو میں بھی اُنکے ذریعہ سے جو کوئی امت نہیں اُنکو غیرت اور ایک نادان قوم کے ذریعہ سے اُنکو غصہ دلاونگا ۔
22 اِس لیے کہ میرے غصہ کے مارے آگ بھڑک اُٹھی ہے جو پاتال کی تہ تک جلتی جائے گی اور زمین کو اُسکی پیداوار سمیت بھسم کر دے گی او ر پہاڑوں کی بنیادوں میں آگ لگا دے گی ۔
23 میں اُن پر آفتوں کا ڈھیر لگاونگا اور اپنے تیروں کو ان پر ختم کرونگا ۔
24 وہ بھوک کے مارے گھُل جائیں گے اور شدید حرارت اور سخت ہلاکت کا لقمہ ہو جائیں گے اور میں اُن پر درندوں کے دانت اور زمین پر کے سرکنے والے کیڑوں کا زہر چھوڑ دونگا ۔
25 باہر وہ تلوار سے مریں گے اور کوٹھڑیوں کے اندر خوف سے جوان مرد اور کنواریاں دودھ پیتے بچے اور پکے بال والے سب یوں ہی ہلاک ہونگے ۔
26 میں نے ہا میں اُنکو دور دور پراگندہ کر دونگا اور اپنکا تذکرہ نوع بشر میں سے مٹا ڈالونگا ۔
27 پر مجھے دُشمن کی چھیڑ چھاڑ کا اندیشہ تھا کہ کہیں مخالف اُلٹا سمجھ کر یوں نہ کہنے لگیں کہ ہمارے ہی ہاتھ بالا ہیں اور یہ سب خداوند سے نہیں ہوا
28 وہ ایک ایسی قوم ہیں جو مصلحت سے خالی ہو اُن میں کچھ سمجھ نہیں ۔
29 کاش وہ عقلمند ہو تے کہ اِسکو سمجھے اور اپنی عاقبت پر غور کرتے !
30 کیونکہ ایک آدمی ہزار کا پیچھا کرتا اور دو آدمی دس ہزار کو بھگا دیتے اگر اُنکی چٹان ہی اُن کو بیچ نہ دیتی اور خداوند ہی اُنکو حوالہ نہ کرتا ؟
31 کیونکہ اُنکی چٹان ایسی نہیں جیسی ہماری چٹان ہے ۔ خواہ ہمارے دشمن ہی کیوں نہ منصف ہوں ۔
32 کیونکہ اُنکی تاک سدوم کی تاکوں میں سے اور عمورہ کے کھیتوں کی ہے اُنکے انگور ہلاہل کے بنے ہوئے ہیں اور اُنکے گچھے کڑوے ہیں ۔
33 اُنکی مَے اژدہاوں کا بس اور کالے ناگوں کا زہر قاتل ہے ۔
34 کیا یہ میرے خزانوں میں سر بہ مہر ہو کر بھرا نہیں پڑا ہے ؟
35 اُس وقت جب اُن کے پاوں پھسلیں تو انتقام لینا اور بدلہ دینا میرا کام ہو گا کیونکہ اُنکی آفت کا دن نزدیک ہے اور جو حادثے اُن پر گذرے ہیں وہ جلد آئیں گے ۔
36 کیونکہ خداوند اپنے لوگوں کا انصاف کرے گا اور اپنے بندوں پر ترس کھائے گا جب وہ دیکھے گا کہ اُنکی قوت جاتی رہی اور کوئی بھی ۔ نہ قیدی اور نہ آزاد ۔ باقی بچا۔
37 اور وہ کہے گا اُنکے دیوتا کہاں ہیں ؟ وہ چٹان کہاں جس پر اُنکا بھروسا تھا ۔
38 جو اُنکے ذبیحوں کی چربی کھاتے اور اُنکے تپاون کی مَے پیتے تھے ؟ وہی اُٹھ کر تمہاری مدد کریں ۔ وہی تمہاری پناہ ہوں ۔
39 سو اب تُم دیکھ لو کہ میں ہی وہ ہوں اور میرے ساتھ کوئی دیوتا نہیں ۔ میں ہی مار ڈالتا اور میں ہی جلاتا ہوں ۔ میں ہی زخمی کرتا اور میں ہی چنگا کرتا ہوں اور کوئی نہیں جو میرے ہاتھ سے چھڑائے۔
40 کیونکہ میں اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر کہتا ہوں کہ چونکہ میں ابدلآباد زندہ ہوں ۔
41 اِس لیے اگر میں اپنی جھلکتی تلوار کو تیز کروں اور عدالت کو اپنے ہاتھ میں لے لوں تو اپنے مخالفوں سے انتقام لونگا ۔ اور اپنے کینہ رکھنے والوں کو بدلہ دونگا ۔
42 میں اپنے تیروں کو خون پلا پلا کر مست کر دونگا اور میری تلوار گوشت کھائے گی ۔ وہ خون مقتولوں اور اسیروں کا اور وہ گوشت دشمنوں کے سردارو کے سر کا ہو گا ۔
43 اے قومو ! اُسکے لوگوں کے ساتھ خوشی مناو کیونکہ وہ اپنے بندوں کے خون کا انتقام لے گا اور اپنے مخالفوں کو بدلہ دے گا اور اپنے ملک اور لوگوں کے لیے کفارہ دے گا ۔
44 تب موسیٰ او ر نون کے بیٹے ہوسیع نے آکر اِس گیت کی سب باتیں لوگوں کو کہہ سُنائیں ۔
45 اور جب موسیٰ یہ سب باتیں سب اسرائیلیوں کو سُنا چُکا ۔
46 تو اُس نے اُن سے کہا کہ جو باتیں میں نے تم سے آج کے دن بیان کی ہیں اُن سب سے تُم دل لگا نا اور اپنے لڑکو کو حکم دینا کہ وہ احتیاط رکھ کر اِس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں ۔
47 کیونکہ یہ تمہارے لیے کوئی بے سود بات نہیں بلکہ یہ تمہاری زندگانی ہے اور اِسی سے اُس ملک میں جہاں تُم یردن پار جا رہے ہو کہ اُس پر قبضہ کرو تمہاری عمر دراز ہو گی ۔
48 اور اُسی دن خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
49 تُو اِس کوہ عباریم پر چڑھ کر نبو کی چوٹی کو جا ھو یرحیو کے مقابل مُلک موآب میں ہے اور کعنا ن کے ملک کو جسے میں میراث کے طور پر بنی اسرائیل کو دیتا ہوں دیکھ لے ۔
50 اور اُسی پہاڑ پر جہاں تُو جائے وفات پا کر اپنے لوگوں میں شامل ہو جیسے تیرا بھائی ہارون ہور کے پہاڑ پر مرا او ر اپنے لوگوں میں جا مِلا ۔
51 اِس لیے کہ تُم دونوں نے بنی اسرائیل کے درمیان دشت صین کے قادس میں مریبہ کے چشمہ پر میرا گناہ کیا کیونکہ تُم نے بنی اسرائیل کے درمیان میری تقدیس نہ کی ۔
52 سو تُو اُس ملک کو اپنے آگے دیکھ لے گا لیکن تُو وہاں اُس ملک میں جو مں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں جانے نہ پائے گا ۔


باب 33

1 پھر مردِ خدا موسیٰ نے جو دعای خیر دیکر اپنی وفات سے پہلے بنی اسرائیل کو برکت دی وہ یہ ہے ۔
2 اور اُس نے کہا خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر آشکارا ہوا ، وہ کوہِ فاران سے جلوہ گر ہوا اور لاکھوں قدسیوں میں سے آیا اُسکے دہنے ہاتھ پر اُنکے لیے آتشی شریعت تھی ۔
3 وہ بے شک قوموں سے محبت رکھتا ہے اُسکے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں اور وہ تیرے قدموں میں بیٹھے ایک ایک تیری باتوں سے مستفیض ہو گا ۔
4 موسیٰ نے ہمکو شریعت اور یعقوب کی جماعت کے لیے میراث دی ۔
5 اور وہ اُس وقت یسرون میں بادشاہ تھا جب قوم کے سردار اکٹھے اور اسرائیل کے قبیلے جمع ہوئے ۔
6 روبن جیتا رہے اور مر نہ جائے تو بھی اُسکے آدمی تھوڑے ہی ہوں ۔
7 اور یہوداہ کے لیے یہ ہے جو موسیٰ نے کہا : ا ے خداوند ! تو یہوداہ کی سُن اور اپسے اُس کے لوگوں کے پاس پہنچا ۔ وہ اپنے لکیے آپ اپنے ہاتھوں سے لڑا اور تُو ہی اُسکے دشمنوں کے مقابلہ میں اُسکا مدد گار ہو گا ۔
8 اور لاوی کے حق میں اُس نے کہا : تیرے تمیم اور اوریم اُس مردِ خدا کے پاس ہیں جسے تُو نے مسہ پر آزما لیا اور جسکے ساتھ مریبہ کے چشمہ پر تیرا تنازع ہوا ۔
9 جس نے اپنے ماں باپ کے بارے میں کہا کہ میں نے اِنکو دیکھا نہیں اور نہ اُس نے اپنے بھائیوں کو اپنا مانا اور نہ اپنے بیٹوں کو پہچانا کیونکہ اُنہوں نے تیرے کلام کی احتیاط کی اور وہ تیرے عہد کو مانتے ہیں
10 وہ یعقوب کو تیرے احکام اور اسرائیل کو تیری شریعت سکھائیں گے وہ تیر ے آگے بخور اور یرے مذبح پر پوری سوختنی قپربانی رکھیں گے ۔
11 اے خداوند ! تُو اُسکے مال میں برکت دے اور اُسکے ہاتھوں کی خدمت کو قبول کر ۔ جو اُسکے خلاف اُٹھیں اُنکی کمر توڑ د ۔ اور اُنکی کمر بھی جنکو اُس سے عداوت ہے تا کہ وہ پھر نہ اُٹھیں ۔
12 اور بنیمین کے حق میں اُس نےکہا :۔ خداوند کا پیارا سلامتی کے ساتھ اُس کے پاس رہے گا وہ سارے دن اُسے ڈھانکے رہتا ہے اور وہ اُسکے کندھوں کے بیچ سکونت کرتا ہے ۔
13 اور یوسف کے حق میں اُس نے کیا :۔ اُسکی زمین خداوند کی طرف سے مبارک ہ ! آسمان کی بیش قیمت اشیا اور شبنم اور وہ گہرا پانی جو نیچے ہے ۔
14 اور سورج کے پکائے ہوئے بیش بہا پھل اور چاند ک اُگائی ہوئی بیش قیمت چیزیں ۔
15 اور قدیم پہاڑوں کی بیش قیمت چیزیں ۔
16 اور زمین اور ُسکی معموری کی بیش قیمت چیزیں اور اُسکی خوشنودی جو جھاڑی میں رہتا تھا ۔ اَن سب کے اعتبار سے یوسف کے سر پر یعنی اُسی کے سر کے چاند پر جو اپنے بھائیوں سے جُدا رہا برکت نازل ہو ۔
17 اُسکے بیل کے پہلوٹھے کی سی اُسکی شوکت ہے اور اُسکے سینگ جنگلی سانڈ کے سے ہیں اُن ہی سے وہ سب قوموں کو بلکہ زمین کی انتہا کے لوگوں کو دھکیلے گا ۔ وہ افرائیم کے لاکھوں لاکھ اور منسی کے ہزاروں ہزار ہیں ۔
18 اور زبولون کے بارے میں اُس نے کہا :۔ اے ابولون ! تُو اپنے باہر جاتے وقت اور اے اِشکار ! تُو اپنے خیموں میں خوش رہ ۔
19 وہ لوگوں کو پہاڑوں پر بُلائیں گے اور وہاں صداقت کی قُربانیاں گذراننے گے کیونکہ وہ سمندروں کے فیص اور ریت کے چھپے ہوئے خزانوں سے بہرہ ور ہونگے ۔
20 اور جد کے حق میں اُس نے کہا : ۔ جو کوئی جد کو بڑھائے وہ مبارک ہو وہ شیربی کی طرح رہتا ہے اور بازو بلکہ سر کے چاند تک کو پھاڑ ڈالتا ہے ۔
21 اور اُس نے پہلے حصہ کو اپنے لیے چُن لیا کیونکہ شرع دینے والے کا بخرہ وہاں الگ کیا ہوا تھا اور اُس نے لوگوں کے سرداروں کے ساتھ آکر خداوند کے انصاف کو اور اُسکے احکام کو جو اسرائیل کے لیے تھے پورا کیا ۔
22 اور دان کے حق میں اُس نے کہا :۔ دان اُس شیر ببر کا بچہ ہے جو بسن سے کود کر آتا ہے ۔
23 اور نفتالی کے حق میں اُس نے کہا : ۔ اے نفتالی ! جو لطف و کرن سے آسودہ اور خداوند کی برکت سے معمور ہے تُو مغرب اور جنوب کا مالک ہو !
24 اور آشر کے حق میں اُس نے کہا : ۔ آشر آس اولاد سے مالا مال ہو ۔ وہ اپنے بھائیوں کا مقبول ہو اور اپنا پاوں تیل میں ڈبوئے ۔
25 تیرے بینڈے لوہے اور پیتل کے ہونگے اور جیسے تیرے دن ویسی ہی تیری قوت ہو ۔
26 اے یسورون ! خداوند کی مانند اور کوئی نہیں جو تیری مدد کے لیے آسمان پر اور پنے جاہ و جلال میں افلاک پر سوار ہے ۔
27 ابدی خدا تیری سکونت گاہ ہے ۔ اور نیچے دائمی بازو ہیں ۔ اُس نے غنیم کو تیرے سامنے سے نکال دیا اور کہا اُنکو ہلاک کر دے ۔
28 او ر اسرائیل سلامتی کے ساتھ یعقوب کا سوتا اکیلا ۔ اناج اور مَے میں بسا ہوا ہے بلکہ آسمان سے اُس پر اوس پڑتی رہتی ہے ۔ بلکہ آسمان سے اُس پر اوس پڑتی رہتی ہے۔
29 مبارک ہے تو اے اسرائیل ! تُو خداوند کی بچائی ہوئی قوم ہے سو کون تیری مانند ہے ؟ وہی تیری مدد کی سپر اور تیرے جاہ و جلال کی تلوار ہے تیرے دُشمن تیرے مطیع ہو نگے اور تُو اُنکے اونچے مقاموں کو پامال کرے گا ۔


باب 34

1 اور موسیٰ موآب کے میدانوں سے کوہِ نبو کے اوپر پسگہ کی چوٹی پر جو یریحو کے مقابل ہے چڑھ گیا اور خداوند نے جلعاد کا سارا مُلک دان تک اور نفتالی کا سارا مُلک ۔
2 اور افرائیم اور منسی کا مُلک پچھلے سمندر تک ۔
3 اور جنوب کا ملک اور وادی یریحو جو خرموں کا شہر ہے اُسکی وادی کا میدان ضغر تک اُسکو دکھایا ۔
4 اور خداوند نے اُس سے کہا یہی وہ ملک ہے جسکی باب نمبرت میں نے ابراہام او ر اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر کہا تھا کہ اِسے میں تمہاری نسل کو دونگا ۔ سو میں نے ایسا کیا کہ تُو اِسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے پر تُو اُس پار وہاں جانے نہ پائے گا ۔
5 پس خداوند کے بندہ موسیٰ نے خداوند کے کہے کے موافق وہیں موٓب کے ملک میں وفات پائی۔
6 اور اُس نے اُسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل دفن کیا پر آج تک کسی آدمی کو اُسکی قبر معلوم نہیں ۔
7 اور موسیٰ اپنی وفات کے وقت ایک سو بیس برس کا تھا اور نہ تو اُسکی آنکھ دھندلانے پائی اور نہ اُسکی طبعی قوت کم ہوئی ۔
8 اور بنی اسرائیل موسیٰ کے لیے مو آب کے میدانوں میں تیس دن تک روتے رہے ۔ پھر موسیٰ کے لیے ماتم کرنے اور رونے پیٹنے کے دن ختم ہوئے ۔
9 اور نون کا بیٹا یشو ع دانائی کی روح سے معمور تھا کیونکہ موسیٰ نے اپنے ہاتھ اُس پر رکھے تھے اور بنی اسرائیل کو اُسکی بات مانتے رہے اور جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا اُنہوں نے ویسا ہی کیا ۔
10 اور اُس وقت سے اب تک بنی اسرائیل میں کوئی بنی موسیٰ کی مانند جس نے خداوند کے روبرو باتیں کیں نہیں اُٹھا۔
11 اور اُسکو خداوند نے ملک مصر میں فرعون اور اُسکے سب خادموں اور اُسکے سارے ملک کے سامنے سب نشانوں اور عجیب کاموں کے دکھانے کو بھیجا تھا ۔
12 یوں موسیٰ نے سب اسرائیلیوں کے سامنے زور آور ہاتھ اور بڑی ہیبت کے کام کر دکھائے ۔