یشوؔع

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24


باب 1

1 اور خُداوند کے بندہ موسیٰ کی وفات کے بعد ایسا ہوا کہ خُداوند اُس کے خادم نون کے بیٹے یشوع سے کہا۔
2 میرا بندہ موسیٰ مر گیا ہے سو اب تُو اُٹھ اور اُن سب لوگوں کو ساتھ لے کر اس یردن کے پاراُس ملک میں جا جسے میں اُن کو یعنی بنی اسرائیل کو دیتا ہوں
3 جس جس جگہ تمہارے پاؤں کا تلوا ٹکےاُسکو جیسا میں نے موسیٰ سے کہا میں نے تمکو دیا ہے۔
4 بیابان اور اُس لبنان سے لے کر بڑےدریا یعنی دریای فرات تک حتیوں کا سارا ملک اور مغرب کی طرف بڑے سمندر تمہاری حد ہو گی۔
5 بیابان اور اُس لبنان سے لے کر بڑےدریا یعنی دریای فرات تک حتیوں کا سارا ملک اور مغرب کی طرف بڑے سمندر تمہاری حد ہو گی۔
6 سو مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ کیونکہ تو اس قوم کو اُس ملک کا وارث کرائیگا جسے میں نے اُنکو دینے کی قسم اُنکے باپ دادا سے کھائی۔
7 تو فقط مضبوط اور نہایت دلیر ہوجا کہ احتیاط رکھ کر اُس ساری شریعت پر عمل کرے جسکا حُکم میرے بندہ موسیٰ نے تجھ کو دیا۔ اُس سے نہ دہنے مڑنا اور نہ بائیں تاکہ جہاں کہیں تو جائے تجھے خُوب کامیابی حاصل ہو۔
8 شریعت کی یہ کتاب تیرے منہ سے نہ ہٹے بلکہ تجھے دن اور رات اسی کا دھیان ہو تاکہ جو کچھ اس میں لکھا ہے اُس سب پر تو احتیاط کر کے عمل کرسکےکیونکہ تب ہی تجھے اقبالمندی کی راہ نصیب ہوگی اور تُو خُوب کامیاب ہو گا۔
9 کیا میں نے تجھ کو حُکم نہیں دیا؟ سو مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ ۔ خُوف نہ کھا اور بیدل نہ ہو کیونکہ خُداوند تیرا خُدا جہاں جہاں تو جائے تیرے سااتھ رہیگا۔
10 تب یشوع نے لوگوں کے منصبداروں کو حُکم دیا کہ
11 تم لشکر کے بیچ سے ہو کر گذرو اور لوگوں کو یہ حُکم دو کہ تم اپنے اپنے لئےزادراہ تیار کر لو کیونکہ تین دن کے اندر تم کو اس یردن کےپار ہوکر اُس ملک پر قبضہ کرنے کو جانا ہے جسے خُاوند تمہارا خُدا تمکو دیتا ہے تاکہ تم اُسکے مالک ہو جاؤ۔
12 اور بنی رُوبن اور بنی جد اور منسّی کے نصف قبیلہ سے یشوع نے کہا کہ
13 اُس بات کو جسکا حکم خُاوند کے بندہ موسیٰ نے تمکو دیا یاد رکھنا کہ خُداوند تمہارا خُدا تُمکو آرام بخشتا ہے اور وہ ملک تمکو دیگا۔
14 تمہاری بیویاں اور تمہارے بال بچّے اور چوپائے اسی ملک میں جسے موسیٰ نے یردن کے پار تمکو دیا ہے رہیں پر تم سب جتنے بہادر اور سُورما ہو مُسلح ہوکر اپنے بھائیوں کے آگے آگے پار جاؤ اور اُنکی مدد کرو۔
15 جب تک خُاوند تمہارے بھائیوں کو تمہاری طرح آرام نہ بخشے اور وہ اُس مُلک پر جسے خُداوند تمہارا خُدا اُنکو دیتا ہےقبضہ نہ کر لیں۔ بعد میں تم اپنی ملکیت کے مُلک میں لوٹنا جسے خُداوند کے بندہ موسیٰ نے یردن کے اس پار مشرق کی طرف تم کو دیا ہے اور اُسکے مالک ہونا۔
16 اور اُنہوں نے یشوع کو جواب دیا کہ جس جسبات کا تُو نے ہم کو حُکم دیا ہے ہم وہ سب کرینگے اور جہاں جہاں تُو ہم کو بھیجے وہاں ہم جائینگے۔
17 جیسے ہم سب اُمُور میں موسیٰ کی بات سنتے تھے ویسے ہی تیری سُنینگے۔ فقط اتنا ہو کہ خُداوند تیرا خُدا جس طرح موسیٰ کے ساتھ رہتا تھا تیرے ساتھ بھی رہے۔
18 جو کوئی تیرے حُکم کی مخالفت کرے اور سب معاملوں میں جنکی تُو تاکید کرے تیری بات نہ مانے وہ جان سے مارا جائے۔ تُو فقط مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ۔ ۔


باب 2

1 تب نُون کے بیٹےیشوع نے شطیم سے دو مردوں کو چُپکے سے جاسوس کے طور پر بھیجا اور اُن سے کہا کہ جا اُس ملک کو اور یریحوُ کو دیکھو بھالو۔چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور ایک کسبی کے گھر میں جسکا نام راحب تھا آئے اور وہیں سوئے۔
2 اور یریحو کے بادشاہ کو خبر ملی کہ دیکھ آج کی رات بنی اسرائیل میں سے چند آدمی اس ملک کی جاسوسی کرنے کو یہاں آئے ہیں۔
3 اور یریحو کے بادشاہ نے راحب کو کہلا بھیجا کہ اُن لوگوں کو جو تیرے پاس آئے اور تیرے گھر میں داخل ہوئے نکال لا اسلئے کہ وہ اس سارے ملک کی جاسوسی کرنے کو آئے ہیں
4 تب اُس عورت نے اُن دونوں مردوں کو لیکر اور اُنکو چھپا کر یُوں کہہ دیا کہ وہ مرد میرے پاس آئے تُو تھے پر مجھے معلوم نہ ہوا کہ وہ کہاں کے تھے۔
5 اور پھاٹک بند ہونے کے وقت کے قریب جب اندھیرا ہو گیا وہ مرد چل دئے اور میں نہیں جانتی ہوں کہ وہ کہاں گئے۔ سو جلد اُنکا پیچھا کرو کیونکہ تم ضرور اُنکو جا لو گے۔
6 لیکن اُس نے اُنکو اپنی چھت پر چڑھا کر سن کی لکڑیوں کے نیچے جو چھت پر ترتیب سے دھری تھیں چھپا دیا تھا۔
7 اور یہ لوگ یردن کے راستہ پر پایابوں تک انکے پیچھے گئے اور جُوں ہی اُنکا پیچھا کرنے والے پھاٹک سے نکلے اُنہوں نے پھاٹک بند کر لیا۔
8 تب راحب چھت پر اُن مردوں کے لیٹ جانے سے پہلے اُنکے پاس گئی۔
9 اور اُن سے یُوں کہنے لگی کہ مجھے یقین ہے کہ خداوند نے یہ ملک تمکو دیا ہے اور تمہارا رُعب ہم لوگوں پر چھاگیا ہے اور اس ملک کے سب باشیندے تمہارے آگے گُھلے جا رہے ہیں۔
10 کیونکہ ہم نے سن لیا ہے کہ جب تم مصر سے نکلے تُو خُداوند نے تمہارے آگے بحرقلزم کے پانی کو سُکھا دیا اور تم نے اموریوں کے دونوں بادشاہوں سیحوں اور عوج سے جو یردن کے اُس پار تھے اور جنکو تم نے باکل ہلاک کر ڈالا کیا کیا کیا ۔
11 یہ سب کچھ سنتے ہی ہمارے دل پگھل گئے اور تمہارے باعثپھر کسی شخص میں جان باقی نہ رہی کیونکہ خُداوند تمہارا خُدا ہی اُوپر آسمان کا اور نیچے زمین کا خُدا ہے۔
12 سو اب میں تمہاری منت کرتی ہوں کہ مجھ سے خُداوند کی قسم کھاؤ کہ چونکہ میں نے تم ہر مہربانی کی ہے تم بھی میرے باپ کے گھرانے پر مہربانی کروگے اور مجھے کوئی سچّا نشان دو۔
13 کہ تم میرے باپ اور ماں اور بھائیوں اور بہنوں کو اور جو کچھ اُنکا ہے سب کو سلامت بچا لو گے اور ہماری جانوں کو موت سے محفوظ رکھّو گے۔
14 اُن مردو ں نے اُس سے کہا کہ ہماری جان تمہاری جان کی کفیل ہوگی بشرطیکہ تم ہمارے اس کام کا ذکر نہ کر دو اور ایسا ہوگا کہ جب خُداوند اس ملک کو ہمارے قبضہ میں کردیگا تو ہم تیرے ساتھ مہربانی اور وفاداری سے پیش آئینگے۔
15 تب اُس عورت نے اُنکو کھڑکی کے راستہ رسّی سے نیچے اُتار دیا کیونکہ اُسکاگھر شہر کی دیوار پر بنا تھا اور وہ دیوار پر رہتی تھی۔
16 اور اُس نے اُن سے کہا کہ پہاڑ کو چل دو تا نہ ہو کہ پیچھا کرنے والے تم کو مل جائیں اور تین دن تک وہیں چھپے رہنا جب تک پیچھا کرنے والے لوٹ نہ آئیں۔ اسکے بعد اپنا راستہ لینا۔
17 تب اُن مردوں نے اس سے کہا کہ ہم تو اُس قسم کی طرف سے جو تُو نے ہم کو کھلائی ہے بے الزام رہینگے۔
18 سو دیکھ! جب ہم اس میں آئیں تو تُو سُرخ رنگ کے سُوت کی اس ڈوری کو اُس کھڑکی میں جس سے تُو نے ہمکو نیچے اُتارا ہے باندھ دینا اور اپنے باپ اور ماں اور بھائیوں بلکہ اپنے باپ کے سارے گھرانے کو اپنے پاس گھر میں جمع کر رکھنا۔
19 پھر جو کوئی تیرے گھر دروازوں سے نکلکر گلی میں جائے اُسکا خُون اُسی کے سر پر ہو گا اور ہم بے گُناہ ٹھہرینگے اور جو کوئی تیرے ساتھ گھر میں ہوگااُس پر اگر کسی کا ہاتھ چلے تو اُسکا خُون ہمارے سر پر ہوگا۔
20 اور اگر تو ہمارے اس کام کا ذکر کر دے تو ہم اُس قسم سے جو تُوںے ہم کو کھلائی ہے بےالزام ہو جائینگے۔
21 اُس نے کہا جیسا تم کہتے ہو ویسا ہی ہو۔ سو اُس نے اُنکو روانہ کیا اور وہ چل دئے۔ تب اُس نے سُرخ رنگ کی وہ ڈوری کھڑکی میں باندھ دی۔
22 اور وہ جا کر پہاڑ پر پہنچے اور تین دن تک وہیں ٹھہرے رہے جب تک اُنکا پیچھا کرنے والے لوٹ نہ آئے اور اُنکا پیچھا کرنے والوں نے اُنکو سارے راستے ڈھونڈا پر کہیں نہ پایا۔
23 ۔ پھر یہ دونوں مرد لوٹے اور پہاڑ سےاتر کر پار گءے اور نون کے بیٹے یشوع کے پاس جا کر سب کچھ جو ان پر گزرا تھا اسے بتایا۔ اور انہوں نے یشوع سے کہا کہ یقیناً خداوند نے وہ سارا ملک ہمارے قبضہ میں کر دیا ہے کیونکہ اس ملک کے سب باشندے ہمارے آگے گھلے جا رہے ہیں۔
24


باب 3

1 تب یشوع سبح سویرے اٹھا اور وہ اور سب بنی اسراءیل شطیم سے کوچ کر کے یردن پر آءے اور پر اترنے سے پہلے وہیں ٹکے۔
2 اور تین دن کے بعد منصب دار لشکر کے بیچ سے ہو کر گزرے۔
3 اور انہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ جب تم خداوند اپنے خدا کے عہد کے صندوق کو دیکھو اور کاہن اور لاوی اسے اٹھاءے ہوءے ہوں تو تم اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پیچھے پیچھے چلنا۔
4 لیکن تمہارے اور اس کے درمیان پیماءش کر کے قریب دو ہزار کا فاصلہ رہے اس کے نزدیک نہ جانا تاکہ تم کو معلوم ہو کہ کس راستے تم کو چلنا ہےکیونکہ تم اب تک اس راہ سے کبھی نہیں گزرے۔
5 اور یشوع نے لوگوں سے کہا کہ تم اپنے آپ کو مقدس کرو کیونکہ کلکے دن خداوند تمہارے درمیان عجیب وغریب کام کرے گا۔
6 پھر یشوع نے کاہنوںسے کہا کہ تم عہد کے صندوق کو لیکر لوگوں کے آگے آگے پاراُترو۔چنانچہ وہ عہد کے صندوق کو لیکر لوگوں کے آگے آگے چلے۔
7 اور خداوند نے یشوع سے کہا آج کے دن سے میں تجھے سب اسرائیلیوں کے سامنے سرفراز کرنا شروع کرونگا تاکہ وہ جان لیں کہ جیسے میں موسیٰ کے ساتھ رہا ویسے ہی تیرے ساتھ رہونگا ۔
8 اور تُو ان کاہنوں کو جو عہد کے صندوق کو اُٹھائیں یہ حکم دینا کہ جب تم یردنکے پانی کے کنارے پہنچو تو یردنمیں کھڑے رہنا۔
9 اور یشوع نے بنی اسرائیل سے کہا کہ پاس آ کر خداوند اپنے خدا کی باتیں سُنو۔
10 اور یشوع کہنے لگا کہ اس سے تم جان لو گے کہ زندہ خُدا تمہارےدرمیان ہے اور وہی ضرور کنعانیوں اور حتّیوں اور حویّوں اور فرزّیوں اور جرجاسیوں اور اموریوںاور یبوسیوںکو تمہارے آگے سے دفع کرونگا ۔
11 دیکھو ساری زمین کے مالک کے عہد کا صندوق تمہارے آگے آگے یردنمیں جانے کو ہے۔
12 سو اب تم ہر قبیلہ پیچھے ایک آدمی کے حساب سے بارہ آدمی اسرائیل کے قبیلوں میں سے چُن لو۔
13 اور جب یردنکے پانی میں ان کاہنوں کے پاوںکے تلوے ٹِک جائےنگے جو خداوند یعنی ساری دنیا کے مالک کے عہد کا صندوق اُٹھاتے ہیںتو یردنکا پانی یعنی وہ پانی جو اُوپرسے بہتا ہوا نیچے آتاہے تھم جائیگا اور اُسکا ڈھیر لگ جائیگا۔
14 اور جب لوگوں نے یردنسے پار جانے کو اپنے ڈھیروں سے کوچ کیا اور وہ کاہن جو عہد کا صندوق اُٹھائے ہوئے تھے لوگوں کے آگے آگے ہو لئے۔
15 اور جب عہد کے صندوق کے اُٹھانے والے یردنپر پہنچے اور ان کاہنوں کے پاوںجو صندوق کو اٹھائے ہوئے تھے کنارے کے پانی میں ڈوب گئے (کیونکہ فصل کے تمام ایام میں یردنکا پانی چاروںطرف اپنے کناروں سے اوپر چڑھ کر بہا کرتا ہے)۔
16 تو جو پانی اُوپر سے آتا تھا وہ خوب دور اُدم کے پاس جو ضرتانکے برابر ایک شہر ہے رُک کر ایک ڈھیر ہوگیا اور وہ پانی میدان کے دریا یعنی دریایِ شور کی طرف بہکر گیا تھا بلکہ الگ ہو گیا اور لوگ عین یریحو کے مُقابِل پار اُترے۔
17 اور وہ کاہن جو خداوند کے عہد کا صندوق اُٹھائے ہوئے تھے یردنکے بیچ میں سوکھی زمین پر کھڑے رہے اور سب اسرائیلی خشک زمین پر ہو کر گذرے۔ یہاں تک کہ ساری قوم صاف یردن کے پار ہوگئی۔


باب 4

1 اور جب ساری قوم یردن کے پار ہو گئی تو خداوند نے یشوع سے کہا کہ۔
2 قبیلہ پیچھے ایک آدمی کے حساب سے بارو آدمی لوگوں میں سے چن لو۔
3 اور اُن کو حکم دو کہ تم یردن کے بیچ میں سے جہاں کاہنوں کے پاوں جمے ہوئے تھے بارہ پتھر لو اور اُنکواپنے ساتھ لے جا کر اُس منزل پر جہاں تُم آج کی رات ٹِکوگے رکھ دینا ۔
4 تب یشوع نے اُن بارہ آدمیوں کو جِنکو اس نے بنی اسرائیل میں سے قبِیلہ پیچھے ایک آدمی کے حساب سے تیاکر رکھا تھا بُلایا ۔
5 اور یشوع نے اُن سے کہا تم خداوند اپنے خدا کے عہد کے صندوق کے آگے آگے یردن کے بیچ میں جاو اور تم میں سے ہر شخص بنی اسرائیل کے قبیلوں کے شمار کے مطابق ایک ایک پتھر اپنے اپنے کندھے پر اُٹھا لے۔
6 تاکہ یہ تمہارے درمیان ایک نِشان ہو اور جب تمہاری اُولاد آیندہ زمانہ میں تُم سے پُوچھے کہ ان پتھروں سے تُمہارا مطلب کیا ہے؟ ۔
7 تو تم ان کو جواب دینا کہ یردنکا پانی خداوند کے عہد کے صندوق کے آگے دو حصّے ہو گیا تھاکیونکہ جب وہ یردن پار آرہا تھا تب یردنکا پانی دو حصّے ہو گیا ۔ یُوں یہ پتھر ہمیشہ کے لئے بنی اسرائیل کے واسطے یاد گار ٹھہرےنگے ۔
8 چُنانچہ بنی اسرائیل نے یشوع کے حکم کے مطابق کیا اور جیسا خداوند نے یشوع سے کہا تھا اُنہوں نے بنی اسرائیل کے قبیلوں کے شمار کے مطابق یردن کے بیچ میں سے بارہ پتھر اُٹھا لئے اور اُنکو اُٹھاکر اپنے ساتھ اس جگہ لے گئے جہاں وہ ٹکے اور وہیں ان کو رکھ دیا ۔
9 اور یشوع نے یردن کے بیچ میں اس جگہ جہاں عہد کے صندوق کے اُٹھانے والے کاہنوں نے پاوں جمائے تھے بارہ پتھر نصب کئے چنانچہ وہ آج کے دن تک وہیں ہیں۔
10 کیونکہ وہ کاہن جو صندوق کو اُٹھائے ہوئے تھے یردن کے بیچ ہی میں کھڑے رہے جب تک ان سب باتوں کے مطابق جن کا حکم موسیٰ نے یشوع کو دیا تھا ہر ایک بات پوری نہ ہو چکی جسے لوگوں کو بتانے کا حکم خداوند نے یشوع کو کیا تھا اور لوگوں نے جلدی کی اور پار اُترے ۔
11 اور ایسا ہوا کہ جب سب لو گ صاف پار ہو گئے تو خداوند کا صندوق اور کاہن بھی لوگوں کے روبرو پار ہوئے ۔
12 اور بنی روبن اور بنی جد اور منّسی کے آدھے قبیلہ کے لوگ موسیٰ کے کہنے کے مطابق ہتھیار باندھے ہوئے بنی اسرائیل کے آگے پار گئے ۔
13 یعنی قریب چایس ہزار آدمی لڑائی کے لئے تیار اور مسلّح خداوند کے حضور پار ہو کر یریحو کے میدانوں میں پہنچے تاکہ جنگ کریں۔
14 اس دن خداوند نے سب اسرائیلیوں کے سامنے یشوع کو سرفراز کیا اور جیسے وہ موسیٰ سے ڈرتے تھے ویسے ہی اس سے اس کی زندگی بھر ڈرتے رہے۔
15 اور خداوند نے یشوع سے کہا کہ ۔
16 اِن کاہنوں کو جو عہد کا صندوق اُٹھائے ہوئے ہیں حکم کر یردن میں سے نکل آئیں۔
17 چنانچہ یشوع نے کاہنوں کو حکم دیا کہ یردن میں سے نکل آو۔
18 اور جب وہ کاہن جو خداوند کے عہد کا صندوق اُٹھائے ہوئے تھے یردن کے بیچ میں سے نکل آئے اور ان کے پاوں کے تلوے خُشکی پر آٹِکے تو یردن کا پانی پھر اپنی جگہ پر آگیا اور پہلے کی طرح اپنے سب کناروں پر بہنے لگا۔
19 اور لوگ پہلے مہینے کی دسویں تاریخ کو یردن میں سے نکل کر یریحو کی مشرقی سرحد پر جلجال میں خیمہ زن ہوئے۔
20 اور یشوع نے اُن بارہ پتھروں کو جنکو انہوں نے یردنمیں سے لیا تھا جلجال میں نصب کیا ۔
21 اور اس نے بنی اسرائیل سے کہاکہ جب تمہارے لڑکے آیندہ زمانہ میں اپنے اپنے باپ دادا سے پوچھےں کہ اِن پتھروں کا مطلب کیا ہے ؟ ۔
22 تو تم اپنے لڑکوں کو یہی بتانا کہ اسرائیلی خشکی خشکی ہو کراس یردن کے پار آئے تھے۔
23 کیونکہ خداوند تمہارے خدا نے جب تک تم پار نہ ہو گئے یردن کے پانی کو تمہارے سامنے سے ہٹا کر سُکھا دیا جب تک ہم پار نہ ہوگئے۔
24 تاکہ زمین کی سب قومیں جان لیں کہ خداوند کا ہاتھ قوی ہے اور وہ خداوند تمہارے خدا سے ہمیشہ ڈرتی رہیں۔


باب 5

1 اور جب اُن اموریوں کے سب بادشاہوں نے جو یردن کے پار مغرب کی طرف تھے اور اُن کنعانیوں کے تمام بادشاہوں نے جو سُمندر کے نزدیک تھے سُنا کہ خداوند بنی اسرائیل کے سامنے سے یردن کے پانی کو ہٹا کرسُکھادیا جب تک ہم پار نہ آ گئے تو اُنکے دِل پِگھل گئے اور اُن میں بنی اسرائیل کے سبب سے جان باقی نہ رہی۔
2 اس وقت خداوند نے یشوع سے کہا کہ چقمق کی چھریاں بنا کر بنی اسرائیل کا ختنہ پھر دوسری بار کر دے۔
3 اور یشوع نے چقمق کی چھریاں بنائیں اور کھلڑیوں کی پہاڑی پر بنی اسرائیل کا ختنہ کیا ۔
4 اور یشوع نے جو ختنہ کیا اُسکا سبب یہ ہے کہ لوگ جو مصر سے نکلے اُن میں جتنے جنگی مرد تھے وہ سب بیابان میں مِصر سے نکلنے کے بعد راستہ ہی میں مر گئے ۔
5 پس وہ سب لوگ جو نکلے تھے اُنکا ختنہ ہو چکا تھا پر وہ سب لوگ جو بیابان میں مِصر سے نکلنے کے بعد راستہ ہی میں پیدا ہوئے تھے اُنکا ختنہ نہیں ہوا تھا ۔
6 کیونکہ بنی اسرائیل چالیس برس تک بیابان میں پھرتے رہے جب تک ساری قوم یعنی سب جنگی مرد جو مصر سے نکلے تھے فنا نہ گئے ۔ اِسلئے کہ انہوں خداوند کی بات نہیں مانی تھی ۔ اُن ہی سے خداوند نے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ اُنکو اُس مُلک کو دیکھنے بھی نہ دے گا جِسے ہم کو دینے کی قسم اُس نے اُن کے باب دادا سے کھائی اور جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے۔
7 سو ان ہی کے لڑکوں کا جن کو اس نے ان کی جگہ برپا کیا تھا یشوع نے ختنہ کیا کیونکہ وہ نا مختون تھے اس لئے کہ راستہ میں ان کا ختنہ نہیں ہوا تھا ۔
8 اور جب سب لوگوں کا ختنہ کر چکے تُو یہ لوگ خیمہ گاہ میں اپنی اپنی جگہ رہے جب تک اچھے نہ ہو گئے۔
9 پھر خداوند نے یشوع سے کہا کہ آج کے دن میں نے مصر کی ملامت کوتم پر سے ڈھلکا دیا ۔اِسی سبب سے آج کے دن تک اُس جگہ کا نام جلجال ہے۔
10 اور بنی اسرائیل نے جلجالمیں ڈیرے ڈال لئے اور انہوں نے یریحو کے میدان میں اُسی مہینے کی چودھویں تاریخ کو شام کے وقت عید ِ فسح منائی۔
11 اور عیدِ فسح کے دوسرے دن اس ملک کے پرانے اناج کی بے خمیری روٹیاں اور اسی روز بھُنی ہوئی بالیں بھی کھائیں۔
12 اور دوسرے ہی دن سے اُنکے اُس ملک کے پرانے اناج کے کھانے کے بعدمن موقُوف ہوگیا اور آگے پھر بنی اسرائیل کو من کبھی نہ مِلا لیکن اس سال انہوں نے ملکِ کنعان کی پیداوار کھائی۔
13 اور جب یشوع یریحو کے نزدیک تھا تو اُس نے اپنی آنکھیں اٹھائیں اور کیا دیکھا کہ اسکے مقابل ایک شخص ہاتھ میں ننگی تلوار لئے کھڑا ہے اور یشوع نے اس کے پاس جاکر اس سے کہا تُو ہماری طرف ہے یا ہمارے دُشمنوں کی طرف ؟ ۔
14 اس نے کہا نہیں میں اس وقت خداوند کے لشکر کا سردار ہو کر آیا ہُوں ۔ تب یشوع نے زمین پر سرنِگوں ہو کر سجدہ کیا اور اُس سے کہا کہ میرے مالک کا اپنے خادم سے کیا ارشاد ہے؟ ۔
15 اور خداوند کے لشکر کے سردار نے یشوع سے کہا کہ تواپنے پاوں سے اپنی جُوتی اُتار دے کیونکہ یہ جگہ جہاں توکھڑا ہے مُقدّس ہے۔ سو یشوع نے ایسا ہی کیا ۔


باب 6

1 اور یریحوبنی اسرائیل کے سبب سے نہایت مضبوطی سے بند تھا اور نہ تو کوئی باہر جاتا اور نہ کوئی اندر آتا تھا )۔
2 اور خداوند نے یشوع سے کہا کہ دیکھ میں نے یریحو کو اور اس کے بادشاہ اور اس کے سورماوں کو تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے۔
3 سو تم سب جنگی مرد شہر کو گھیر لو اور ایک دفعہ اُس کے چوگرد گشت کرو۔ چھ دن تک تم ایسا ہی کرنا۔
4 اور سات کاہن صندوق کے آگے آگے مینڈھوں کے سینگوں کے سات نرسنگے لئے ہوئے چلیں اور ساتویں دن تم شہر کی چاروں طرف سات بار گھومنا اور کاہن نرسنگے پھونکیں ۔
5 اور یوں ہو گا کہ جب وہ مینڈھے کے سینگ کو زور سے پھونکےں اور تم نرسنگے کی آواز سُنو تو سب لوگ نہایت زور سے للکاریں ۔ تب شہر کی دیوار بِالکل گر جائیگی اور لوگ اپنے اپنے سامنے سِیدھے چڑھ جائیں ۔
6 اور نُون کے بیٹے یشوع نے کاہنوں بُلا کر اُن سے کہا کہ عہد کے صندوق کو اُٹھاو اور سات کاہن مینڈھوں کے سِینگوں کے سات نرسنگے لئے ہوئے خداوند کے صندوق کے آگے آگے چلیں ۔
7 اور انہوں نے لوگوں سے کہا بڑھ کر شہر کو گھیر لو اور جو آدمی مسلّح ہیں وہ خداوند کے صندوق کے آگے آگے چلیں ۔
8 اور جب یشوع لوگوں سے یہ باتیں کہہ چکا تو سات کاہن مینڈھوں کے سینگوں کے سات نرسنگے لئے ہوئے خداوند کے آگے آگے چلے اور وہ نرسنگے پھونکتے گئے اور خداوند کے عہد کا صندوق اُن کے پیچھے پیچھے چلا۔
9 اور وہ مسلّح آدمی اُن کاہنوں کے آگے آ گے چلے جو نرسنگے پھونک رہے تھے اور دُنبالہ صندوق کے پیچھے پیچھے چلا اور کاہن چلتے چلتے نرسنگے پھونکتے جاتے تھے۔
10 اور یشوع نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ نہ تو تم للکارنا اور نہ تمہاری آواز سُنائی دے اور نہ تمہارے منہ سے کوئی آواز نکلے۔ جب میں تم کو للکارنے کو کہوُں تب تم للکارنا ۔
11 سو اس نے خداوند کے صندوق کو شہر کے گرد پھروایا ۔ تب وہ خیمہ گاہ میں آئے اور وہیں رات کاٹی ۔
12 اور یشوع صبح سویرے اُٹھا اور کاہنوں نے خداوند کا صندوق اٹھا لیا ۔
13 اور وہ سات کاہن مینڈھوں کے نرسنگوں کے سات نرسنگے لئے ہوئے خداوند کے صندوق کے آگے آگے برابر چلتے اور نرسنگے پھونکتے جاتے تھے اور وہ مسلّح آدمی آگے آگے ہو لئے اور دُنبالہ خداوند کے صندوق کے پیچھے پیچھے چلا اور کاہن چلتے چلتے نرسنگے پھونکتے جاتے تھے ۔
14 اور دوسرے دن بھی وہ ایک بار شہر کے گرد گھوم کر خیمہ گاہ میں پھر آئے ۔ انہوں نے چھ دن تک ایسا ہی کیا ۔
15 اور ساتویں دن ایسا ہوا کہ وہ صبح کو پو پھٹنے کے وقت اُٹھے اور اسی طرح شہر کے گرد سات بار پھرے ۔ سات بار شہر کے گرد فقط اسی دن پھرے۔
16 اور ساتویں بار ایسا ہوا کہ جب کاہنوں نے نرسنگے پھونکے تو یشوع نے لوگوں سے کہا للکارو!کیونکہ خداوند نے یہ شہر تم کو دے دیا ہے۔
17 اور وہ شہر اور جو کچھ اس میں ہے سب خداوند کی خاطر نست ہوگا ۔ فقط راحب کسبی اور جتنے اس کے ساتھ اس کے گھر میں ہوں وہ سب جیتے بچےنگے۔ اسلئے کہ اس نے ان قاصدوں کو جن کو ہم نے بھیجا چِھپا رکھّا تھا ۔
18 اور تم بہر حال اپنے آپ کو مخصوص کی ہوئی چیز وںسے بچائے رکھنا ۔ ایسا نہ ہو کہ ان کو مخصوص کرنے کے بعد تم کسی مخصوص کی ہوئی چیز کو لواور یوں اسرائیل کی خیمہ گاہ کو لعنتی کرڈالو اور سے دکھ دو ۔
19 لیکن سب چاندی اور سونا اور وہ برتن جو پیتل اور لوہے کے ہوں خداوند کے لئے مُقدّس ہیں۔ سو وہ خداوند کے خزانہ میں داخل کئے جائیں ۔
20 پس لوگوں نے للکارا اور کاہنوں نے نرسنگے پھونکے اور ایسا ہوا کہ جب لوگوں نے نرسنگے کی آوا ز سنی تو انہوں نے بلند آواز سے للکارا اور دیوار بِالکل گرپڑی اور لوگوںسے ہر ایک آدمی اپنے سامنے سے چڑھ کر شہر میں گھُسا اور انہوں نے اس کو لے لیا ۔
21 اور انہوں نے ان سب کو جو میں تھے کیا مرد کیا عورت کیا جوان کیا بُڈھے کیا بیل کیا بھیڑکیا گدھے سب کو تلوار کی دھار سے بِالکل نیست کردیا ۔
22 اور یشوعنے اُن دونوں آدمیوں سے جنہوں نے اس ملک کی جاسوسی کی تھی کہا کہ اس کسبی کے گھر جاو اور وہاں سے جیسی تم نے اس سے قسم کھائی ہے اسکے مطابق اس عورت کو اور جو کچھ اسکے پاس ہے سب کچھ نکال لاو۔
23 تب وہ دونوں جوان جاسُوس اندر گئے اور راحب کو اور اس کے باپ اور اس کی ماں اور اس کے بھائیوں کو اور اس کے اسباب بلکہ اس کے سارے خاندان کو نِکال لائے اور اُنکو بنی اسرائیل کی خیمہ گاہ کے باہر بٹھا دیا ۔
24 پھر انہوں نے اس شہر کو اور جو کچھ اس میں تھا سب کو آگ سے پھونک دیا اور فقط چاندی اور سونے کو اور پیتل اور لوہے کے برتنوں کو خداوند کے خزانہ میں داخل کیا ۔
25 لیکن یشوع نے راحب کسبی اور اس کے باپ کے گھرانے کو اور جو کچھ اس کا تھا سب کو سلامت بچا لیا ۔ اس کی بُودوباش آج کے دن تک اسرائیل میں ہے کیونکہ اس نے ان قاصدوں کو جنکو یشوع نے یریحومیں جاسُوسی کےلئے بھیجا تھا چِھپا رکھّاتھا ۔
26 اور یشوع نے اس وقت ان کو قسم دےکر تاکید کی اور کہاکہ جو شخص اُٹھ کر اس یریحوشہر کو پھر بنائے وہ خُداوند کے حضور ملعُون ہو وہ اپنے پہلوٹھے کو اس کی نیو ڈالتے وقت اور اپنے سب سے چھوٹے بیٹھے کو اس کے پھاٹک لگواتے وقت کھو بیٹھے گا ۔
27 سو خداوند یشوع کے ساتھ تھا اور اس سارے ملک میں اس کی شہرت پھیل گئی۔


باب 7

1 لیکن بنی اسرائیل نے مخصوص کی ہوئی چیز میں خیانت کی کیونکہ عکن بن کرمیبن زبدیبن زارحنے جو یہوداہکے قبیلہ کا تھا ان مخصوص کی ہوئی چیزوں میں سے کچھ لے لیا ۔ سو خداوند کا قہر بنی اسرائیل پر بھڑکا ۔
2 اور یشوع نے یریحو سے عیکو جو بیت ایل کی مشرقی سمت میں بیت آون کے قریب واقع ہے کچھ لوگ یہ کہہ کر بھیجے کہ جاکرملک کا حال دریافت کرو اور ان لوگوں نے جا کر عی کا حال دریافت کیا ۔
3 اور وہ یشوع کے پاس لوٹے اور اس سے کہا سب لوگ نہ جائیں ۔ فقط دو تین ہزار مرد چڑھ جائیں اور عی کو مار لیں۔ سب لوگوں کو وہاں جانے کی تکلیف نہ دے کیونکہ وہ تھوڑے سے ہیں ۔
4 چنانچہ لوگوں میں سے تین ہزار مرد کے قریب وہاں چڑھ گئے اور عی کے لوگوں کےسامنے سے بھاگ آئے ۔
5 اور عی کے لوگوں نے ان میں سے کوئی چھتِّیس آدمی مار لئے اور پھاٹک کے سامنے سے لے کر شبریم تک ان کو کھد یڑتے آئے اور اُتار پر ان کو مارا۔ سو ان لوگوں کے دل پگھل کر پانی کی طرح ہو گئے ۔
6 تب یشوع اور سب اسرائیلی بزرگوں نے اپنے اپنے کپڑے پھاڑے اور خداوند کے عہد کے صندوق کے آگے شام تک زمین پر اُوندھے پڑے رہے اور اپنے اپنے سر پر خاک ڈالی ۔
7 اور یشوع نے کہا ہائے لے مالک خداوند ! توہم کو اموریوں کے ہاتھ میں حوالہ کرکے ہمارا ناس کرانے کی خاطر اس قوم کو یردن کے پار کیوں لایا ؟کاش کہ ہم قناعت کرتے اور یردن کے اس پار ہی بُودوباش کرتے۔
8 اے مالک اسرائیلیوں کے اپنے دشمنوں کے آگے پیٹھ پھیر دینے کے بعد میں کیا کہوں ! ۔
9 کیونکہ کنعانی اور اس ملک کے سب باشندے یہ سن کر ہم کو گھیر لینگے اور ہمارا نام زمین پر سے مٹا ڈالےنگے۔ پھر تو اپنے بزرگ نام کے لئے کیا کریگا ؟ ۔
10 اور خداوند نے یشوع سے کہا اُٹھ کھڑا ہو ۔ تو کیوں اس طرح اوندھا پڑا ہے ؟ ۔
11 اسرائیلیوں نے گناہ کیا اور انہوں نے اس عہد کو جس کا میں نے ان کو حکم دیا توڑا ہے۔ انہوں نے مخصوص کی چیزوں میں سے کچھ لے بھی لیا اور چوری بھی کی اور ریاکاری بھی کی اور اپنے اسباب میں اسے مِلا بھی لیا ہے۔
12 اس لئے بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کے آگے ٹھہر نہیں سکتے ۔ وہ اپنے دشمنوںکے آگے پیٹھ پھیرتے ہیں کیونکہ وہ ملعون ہو گئے ۔ میںآ گے کو تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا جب تک تم مخصوصکی چیز کو اپنے درمیان سے نیست نہ کر دو۔
13 اُٹھ لوگوں کو پاک کر اور کہہ کہ تم اپنے آپ کو کل کے لئے پاک کرو کیو نکہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ اَے اسرائیلیو! تمہارے درمیان مخصوص کی ہوئی چیز موجود ہے ۔ تم اپنے دشمنوں کے آگے ٹھہر نہیں سکتے جب تک تم اس مخصوص کی ہوئی چیز کو اپنے درمیان سے دور نہ کر دو۔
14 سو تم کل صبح کو اپنے اپنے قبیلہ کے مطابق حاضر کئے جاو گے اور جس قبیلہ کو خداوند پکڑے وہ ایک ایک خاندان کر کے پاس آئے اور جس خاندان کو خداوند پکڑے وہ ایک ایک گھر کر کے پاس آئے اور جس گھر کو خداوند پکڑے وہ ایک ایک آدمی کر کے پاس آئے۔
15 تب جو کوئی مخصوص کی ہوئی چیز رکھتا ہوا پکڑا جائے وہ اور جو کچھ اس کا ہو سب آگ سے جلا دیا جائے۔ اسلئے کہ اس نے خداوند کے عہد کو توڑ ڈالا اور بنی اسرائیل کے درمیان شرارت کا کام کیا ۔
16 پس یشوع نے صبح سویرے اُٹھ کر اسرائیلیوں کو قبیلہ بہ قبیلہ حاضر کیا اور یہوداہ کا قبیلہ پکڑا گیا ۔
17 پھر وہ یہوداہ کے خاندانوں کو نزدیک لایا اور زارح کا خاندان پکڑاگیا ۔ پھر وہ زارح کے خاندان کے ایک ایک آدمی کو نزدیک لایااور زبدی پکڑا گیا ۔
18 پھر وہ اس کے گھرانے کے ایک ایک مرد کو قریب لایا اور عکن بن کرمی بن زبدی بن زارح جو یہوداہ کے قبیلہ کا تھا پکڑا گیا ۔
19 تب یشوع نے عکن سے کہا ۔اَے میرے فرزند میں تیری مِنت کرتا ہُوںکہ خداوند اسرائیل کے خدا کی تمجید کر اور اس کے آگے اقرار کر ۔ اب تُو مجھے بتا دے کہ تُونے کیا کیا ہے اور مجھ سے مت چِھپا۔
20 اور عکن نے یشوع کو جواب دیا فی الحقیقت میں نے خداوند اسرائیل کے خداگناہ کیا ہے اور یہ یہ مجھ سے سرزد ہوا ہے۔
21 کہ جب میں نے لوٹ کے مال میں بابلکی ایک نفیس چادر اور دو سو مِثقال چاندی اور پچاس مِثقال سونے کی ایک اینٹ دیکھی تومیں نے للچا کر ان کو لے لیا اور دیکھ وہ میرے ڈیرے میں زمین میں چھپائی ہوئی ہیں اور چاندی ان کے نیچے ہے۔
22 پس یشوع نے قاصد بھیجے ۔ وہ اس ڈیرے کو دُوڑے گئے اور کیا دیکھا کہ وہ اس کے ڈیرے میں چِھپائی ہوئی ہیں اور چاندی ان کے نیچے ہے۔
23 وہ ان کو ڈیرے میں سے نکال کر یشوع اور سب بنی اسرائیل کے پاس لائے اور اُن کو خداوند کے حضور رکھ دیا ۔
24 تب یشوع اورسب اسرائیلیوں نے زارح کے بیٹے عکن کو اور اس چاندی اور چادر اور سونے کی اینٹ کو اور اُسکے بیٹوں اور بیٹیو ں کو اور اُسکے بیلوں اور گدھوں اور بھیڑبکریوں اور ڈیرے کو اور جو کچھ اسکا تھا سب کو لیا اور وادی عکور میں اُنکو لے گئے۔
25 اور یشوع نے کہا کہ تُو نے ہم کو کیوں دُکھ دیا؟ خداوند آج کے دِن تجھے دُکھ دیگا! تب سب اِسرائیلیوں نے اُسے سنگسار کیا اور انہوں نے اُنکو آگ میں جلایا اور اُنکو پتھروں سے مارا۔
26 اور اُنہوں نے اُسکے اُوپر پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگا دِیا جو آج تک ہے تب خُداوند انپے قہر شدید سے باز آیا ۔اِسلئے اُس جگہ کا نام آج تک وادی عکور ہے۔


باب 8

1 اور خداوند نے یشوع سے کہا خوف نہ کھا اور نہ ہراسان ہو۔ سب جنگی مردوں کو ساتھ لے اور اُٹھ کر عیپر چڑھائی کر۔ دیکھ میں نے عی کے بادشاہ اور اس کی رعیّت اور اس کے شہر اور اس کے علاقہ کو تیرے قبضہ میں کر دیا ہے۔
2 اور تُو عی اور اس کے بادشاہ سے وہی کرنا جو تو نے یریحو اور اس کے بادشاہ سے کیا ۔فقط وہاں کے مالِ غنیمت اور چوپایوں کو تُم اپنے لئے لُوٹ کے طور پر لینا ۔ سو تُو اس شہر کے لئے اسی کے پیچھے اپنے آدمی گھات میں لگا دے۔
3 پس یشوع اور سب جنگی مرد عی پر چڑھائی کرنے کو اُٹھے اور یشوعنے تِیس ہزار مردجو زبردست سُورما تھے چُن کر رات ہی کو اُن کو روانہ کیا۔
4 اور ان کو یہ حکم دیا کہ دیکھو! تم اس شہر کے مقابل شہر ہی کے پیچھے گھات میں بیٹھنا۔ شہر سے بہت دورنہ جانا بلکہ تم سب تیار رہنا۔
5 اور میں ان سب آدمیوں کو لے کر جو میرے ساتھ ہیںشہر کے نزدیک آونگااور ایسا ہو گا کہ جب وہ ہمارا سامنا کرنے کو پہلے کی طرح نکل آئینگے تو ہم ان کے سامنے سے باگینگے۔
6 اور وہ ہمارے پیچھے پیچھے نکلے چلے آئینگے یہاں تک کہ ہم ان کو شہر سے دور نکال لے جائےنگے کیونکہ وہ کہینگے کہ یہ تو پہلے کی طرح ہمارے سامنے سے بھاگے جاتے ہیں ۔ سو ہم اُن کے آگے سے بھاگینگے۔
7 اور تم گھات میں سے اُٹھ کر شہر پر قبضہ کر لینا کیونکہ خداوندتمہارا خدا اسے تمہارے قبضہ میں کر دے گا۔
8 اور جب تم اس شہر کو لے لو تواسے آگ لگا دینا ۔ خداوند کے کہنے کے مطابق کام کرنا ۔ دیکھو میں نے تم کو حکم کر دیا۔
9 اور یشوع نے ان کو روانہ کیااور وہ کمِین گاہ میں گئے اور بیتایل اور عی کے درمیان عی کے مغرب کی طرف جا بیٹھے لیکن یشوع اس رات کو لوگوں کے بیچ ٹِکا رہا۔
10 اور یشوع نے صبح سویرے اُٹھ کر لوگوں موجودات لی اور وہ بنی اسرائیل کے بزرگوں کو ساتھ لے کر لوگوں کے آگے آگے عی کی طرف چلا۔
11 اور سب جنگی مرد جو اس کے ساتھ تھے چلے اور نزدیک پہنچ کر شہر کے سامنے آئے اور عی کے شمال میں ڈیرے ڈالے اور یشوع اور عی کی بیچ ایک وادی تھی ۔
12 تب اس نے کوئی پانچ ہزار مردوں کو لے کر بیت ایل اور عی کے درمیان شہر کے مغرب کی طرف اُنکو کمین گاہ میں بٹھایا۔
13 سو اُنہوں نے لوگوں کو یعنی ساری فوج کو جو شہر کے شمال میں تھی اور اُن کو جو شہر کی مغربی طرف گھات میں تھے ٹھکانے پر کردیا اوریشوع اُسی رات اُس وادی میں گیا۔
14 اور جب عی کے بادشاہ نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے جلدی کی اور سویرے اُٹھے اور شہر کے آدمی یعنی وہ اور اُس کے سب لوگ نکل کر مُعین وقت پر لڑائی کے لئے بنی اِسرائیل کے مقابل میدان کے سامنے آئے اور اُسے خبر نہ تھی کہ شہر کے پیچھے اُس کی گھات میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ۔
15 تب یشوع اور سب اسرائیلیوں نے ایسا دکھایا گویا اُنہوں نے ان سے شِکست کھائی اور بیابان کے راستے ہوکر بھاگے۔
16 اور جتنے لوگ شہر میں تھے وہ ان کا پیچھاکرنے کے لئے بُلائے گئے اور اُنہوں نے یشوعکا پیچھا کیا اور شہر سے دور نکلے چلے گئے۔
17 اور عی اور بیتایل میں کوئی مرد باقی نہ رہا جو اسرئیلیوں کے پیچھے نہ گیا ہواور انہوں نے شہر کو کھُلا چھوڑ کر اسرائیلیوں کا پیچھا کیا ۔
18 تب خداوند نے یشوع سے کہا جو برچھا تیرے ہاتھ میں ہے اسے عی کی طرف بڑھا دے کیونکہ میں اسے تیرے قبضہ میں کر دوں گا اور یشوع نے اس برچھے کو جو اس کے ہاتھ میں تھا شہر کی طرف بڑھایا ۔
19 تب اس کے ہاتھ بڑھاتے ہی جو گھات میں تھے اپنی جگہ سے نکلے اور دَوڑ کر شہر میں داخل ہوئے اور اسے سر کر لیا اور جلد شہر میں آگ لگا دی۔
20 اور جب عی کے لوگوں نے پیچھے مُڑ کر نظر کی تو دیکھا کہ شہر کا دُھواں آسمان کی طرف اُٹھ رہا ہے اور ان کا بس نہ چلاکہ اِدھر یا اُدھر بھاگیں اور جو لوگ بیابان کی طرف بھاگے تھے وہ پیچھا کرنے والوں پر اُلٹ پڑے۔
21 اور جب یشوع اور سب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ گھات والوں نے شہر لے لیا اور شہر کا دھواں اُٹھ رہا ہے اور انہوں نے پلٹ کر عی کو لوگوں کو قتل کیا۔
22 اور وہ دوسرے بھی ان کے مقابلہ کو شہر سے نکلے۔ سو وہ سب کے سب اسرائیلیوں کے بیچ میں جو کچھ تواِدھر اور اُدھر تھے پڑگئے اور اُنہوں نے اُن کو مارا یہاں تک کہ کسی کو نہ باقی چھوڑا نہ بھاگنے دیا۔
23 اور وہ عی کے بادشاہ کو زندہ گرفتار کر کے یشوع کے پاس لائے ۔
24 اور جب اسرائیلی عی کے سب باشندوں کو میدان میں اس بیابان کے درمیان جہاں انہوں نے ان کا پیچھا کیا تھا قتل کر چکے اور وہ سب تلوار سے مارے گئے یہاں تک کہ بالکل فنا ہو گئے توسب اسرائیلی عی کو پھرے اور اسے تہ تیغ کردیا۔
25 چنانچہ وہ جو اس دن مارے گئے مرد اور عورت ملا کر بارہ ہزار یعنی عیکے سب لوگ تھے۔
26 کیونکہ یشوع نے اپنا ہاتھ جس سے وہ برچھے کو بڑھائے ہوئے تھا نہیں کھینچا جب تک کہ اس نے عی کے سب رہنے والے کو بالکل ہلاک نہ کر ڈالا۔
27 اور اسرائیلیوں نے خداوند کے حکم کے مطابق جو اس نے یشوع کو دیا تھا اپنے لئے فقط شہر کے چوپایوں اور مالِ غنیمت کو لُوٹ میں لیا ۔
28 پس یشوع نے عی کو جلا کرہمیشہ کے لئے اُسے ایک ڈھیر اور ویرانہ بنا دیا جو آج کے دن تک ہے۔
29 اور اس نے عی کے بادشاہ کوشام تک درخت پر ٹانگ کر رکھا اور جوں ہی سورج ڈوبنے لگا انہوں نے یشوع کے حکم سے اس کی لاش کو درخت سے اُتار کر شہر کے پھاٹک کے سامنے ڈال دیا اور اس پر پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگا دیا جو آج کے دن تک ہے۔
30 تب یشوع نے کوہِ عیبالپر خداوند اسرائیل کے خدا کے لئے ایک مذبح بنایا ۔
31 جیسا خداوند کے بندہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا اور جیسا موسیٰ کی شریعت کی کتاب میں لکھا ہے یہ مذبح بے گھڑے پتھروں کا تھا جس پرکسی نے لوہا نہیں لگایا تھا اور انہوں نے سا پر خداوند کے حضور سوختنی قربانیاں اور سامتی کے ذبِیحے گذرانے۔
32 اور اس نے وہاں ان پتھروںپر موسیٰ کی شریعت کی جو اس نے لکھی تھی سب بنی اسرائیل کے سامنے ایک نقل کندہ کی۔
33 اور سب بنی اسرئیلی اور ان کے بزرگ اور منصب دار اور قاضی یعنی دیسی اور پردیسی دونوں لاوی کاہنوں کے آگے جو خداوند کے عہد کے صندوق کے اُٹھانے والے تھے صندوق کے اِدھر اور اُدھر کھڑے ہوئے۔ ان میں سے آدھے تو کوہِ گرزیم کے مُقابل اور آدھے کوہ ِ عیبال کے مُقابل تھے جیسا خداوند کے بندہ موسیٰ نے پہلے حکم دیا تھا کہ وہ اسرئیلی لوگوں کو برکت دیں۔
34 اس کے بعد اس نے شریعت کی سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جَیسی وہ شریعت کی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں پڑھ کر سنائیں۔ چنانچہ جو کچھ موسیٰ نے حکم دیا تھا اس میں سے ایک بات بھی ایسی نہ تھی جسے یشوع نے بنی اسرئیل کی ساری جماعت اور عورتوں اور بال بچوں اور ان مسافروں کے سامنے جو اُن کے ساتھ مل کر رہتے تھے نہ پڑھا ہو۔
35


باب 9

1 اور جب ان سب حِتّی ۔ اموری ۔ کنعانی۔ فرزّی ۔ حوّی اور یبوسی بادشاہوں نے جو یردن کے اس پار کوہستانی ملک اور نشیب کی زمین اوربڑے سمندر کے اس ساحل پر جو لُبنان کے سامنے ہے رہتے تھے یہ سُنا ۔
2 تو وہ سب کے سب فراہم ہوئے تاکہ مُتفِق ہو کر یشوع اور بنی اسرائیل سے جنگ کریں۔
3 اور جب جبعون کے باشندوں نے سُنا کہ یشوع نے یریحو اور عی سے کیا کیا کِیا ہے ۔
4 تو انہوں بھی حِیلہ بازی کی اور جا کر سفِیروں کا بھیس بھرا اور پرانے بورے اور پرانے پھٹے ہوئے اور مرمّت کئے ہوئے شراب کے مشکیزے اپنے گدھوں پر لادے۔
5 اور پاوں میں پُرانے پیوند لگے ہوئے جوتے اور تن پر پرانے کپڑے ڈالے اور ان کے سفر کا توشہ سو کھی پھپھوندی لگی ہوئی روٹیاں تھیں۔
6 اور وہ جلجال میں خیمہ گاہ کو یشوع کے پاس جا کر اس سے اور اسرائیلیوں مردوں سے کہنے لگے ہم ایک دُور ملک سے آئے ہیں سو اب تم ہم سے عہد باندھو۔
7 تب اسرئیلی مردوں نے اُن حویّوں سے کہا کہ شاید تم ہمارے درمیان ہی رہتے ہو ۔ پس ہم تم سے کیونکر عہد باندھیں ؟ ۔
8 انہوں نے یشوع سے کہا ہم تیرے خادم ہیں۔ تب یشوع نے ان سے پوچھا تم کون ہو اور کہا سے آئے ہو؟ ۔
9 انہوں نے اس سے کہا تیرے خادم ایک دُور کے ملک سے خداوند تیرے خدا کے نام کے باعث آئے ہیں کیونکہ ہم نے اس کی شہرت اور جو کچھ اس نے مصر میں کیا ۔
10 اور جو کچھ اس نے امورویوں کے دونوں بادشاہوں سے جو یردن کے اس پار تھے یعنی حسبونکے بادشاہ سیحون اور بسن کے بادشاہ عوج سے جو عستاراتمیں تھا کِیا سب سُنا ہے۔
11 سو ہمارے بزرگوں اور ملک کے سب باشندوں نے ہم سے یہ کہا کہ تم سفر کے لئے اپنے ہاتھ میں توشہ لے لو اور ان سے ملنے کو جاو اور ان سے کہو کہ ہم تمہارے خادم ہیں سوتم اب ہمارے ساتھعہد باندھو۔
12 جس دن ہم تمہارے پاس آنے کو نکلے ہم نے اپنے اپنے گھر سے اپنے توشہ کی روٹی گرم گرم لی اور اب دیکھو وہ سُوکھی ہے اور اسے پھپھوندی لگ گئی ۔
13 اور مے کے یہ مشکیزے جو ہم نے بھر لئے تھے نئے تھے اور دیکھو ی تو پھٹ گئے اور یہ ہمارے کپڑے اور وجوتے دُور دراز سفر کی وجہ سے پرانے ہو گئے۔
14 تب ان لوگوں نے ان کے توشہ میں سے کچھ لیا اور خداوند سے مشورت نہ کی ۔
15 اور یشوع نے ان سے صلح کی اور ان کی جان بخشی کرنے کے لئے ان سے عہد باندھا اور جماعت کے اسیروں نے ان سے قسم کھائی ۔
16 اور ان کے ساتھ عہد باندھنے سے تین دن کے بعداُن کے سننے میں آیا کہ یہ اُن کے پڑوسی ہیں اور اُن کے دریان ہی رہتے ہیں ۔
17 اور بنی اسرائیل کوچ کر کے تیسرے دن اُن کے شہروں میں پہنچے۔ جبعون اور کفیرہ اور بیروت قریت یعرِیم اُن کے شہر تھے۔
18 اور بنی اسرائیل نے اُن کو قتل نہ کیا اِس لئے کہ جماعت کے امیروں نے اُن سے خداوند اسرائیل کے خدا کی قسم کھائی تھی اور ساری جماعت ان امیروں پر کُڑکُڑانے لگی ۔
19 پر اُن سب امیروں نے ساری جماعت سے کہا کہ ہم اُن سے خداوند اسرائیل کے خدا کی قسم کھائی ہے اس لئے ہم اُنہیں چھو نہیں سکتے ۔
20 ہم اُن سے یہی کرینگے اور اُن کو جیتا چھوڑےنگے تا نہ ہو کہ اُس قسم کے باعث جو ہم نے اُن سے کھائی ہے ہم پر غضب ٹوٹے۔
21 سو امیروں نے اُن سے یہی کہا کہ اُن کو جیتا چھوڑو۔ پس وہ ساری جماعت کے لئے لکڑہارے اور پانی بھرنے والے بنے جیسا امیروں نے اُن سے کہا تھا ۔
22 تب یشوع نے اُن کو بلوا کر ان سے کہا جس حال کہ تم ہمارے درمیان رہتے ہو تم نے یہ کہہ کر ہم کو کیوںفریب دیاکہ ہم تم سے بہت دور رہتے ہیں ۔
23 اس لئے اب تم لعنتی ٹھہرے اور میں سے کوئی ایسا نہ رہے گا جو غلام یعنی میرے خدا کے گھر کے لئے لکڑہارا اور پانی بھرنے والا نہ ہو۔
24 انہوں نے یشوع کو جواب دیا کہ تیرے خادموں کو تحقیق یہ خبر ملی تھی کہ خداوند تیرے خدا نے اپنے بندہ موسیٰ کو فرمایا کہ سارا ملک تم کو دے اور اس ملک کے سب باشندوں کو تمہارے سامنے سے نیست و نابُود کرے۔ سو ہم کو تمہارے سبب سے اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اس لئے ہم نے یہ کام کیا ۔
25 اور اب دیکھ ہم تیرے ہاتھ میں ہیں ۔ جو کچھ تو ہم سے کرنا بھلا اور ٹھیک جانے سو کر۔
26 پس اس نے ان سے ویسا ہی کیا اور بنی اسرائیل کے ہاتھ سے ان کو ایسا بچایا کہ انہوں نے ان کو قتل نہ کیا ۔
27 اور یشوع نے اُسی دن ان کو جماعت کے لئے اور اس مقام پر جسے خداوند خود چُنے اس کے مذبح کے لئے لکڑہارے اور پانی بھرنے والے مقرّر کِیا جیسا آج تک ہے۔


باب 10

1 اور یروشلِیم کے بادشاہ اُدونی صدق نے سنا کہ یشوع نے عی کو سر کر کے اسے نیست و نابُودکر دیا اور جیسا اس نے یریحو اور وہاں کے بادشاہ سے کیا ویسا ہی عیاور اس کے بادشا ہ سے کیا اور جبعون کے باشندوں نے بنی اسرائیل سے صلح کر لی اور ان کے درمیان رہنے لگے ہیں۔
2 تو وہ سب بہت ہی ڈرے کیونکہ جبعون ایک بڑا شہر بلکہ شہروں میں سے ایک کی مانند اور عی سے بڑا تھا اور اس کے سب مرد بڑے بہادر تھے۔
3 اس لئے یروشلِیم کے بادشاہ اُدونی صدق نے حبرون کے بادشاہ ہُوہام اور یرموت کے بادشاہ پِیرام اور لکِیس کے بادشاہ یافیع اور عجلون کے بادشاہ دبِیرکو یوں کہلا بھیجا کہ۔
4 میرے پاس آو اور میری کُمک کرو اور چلو ہم جبعون کو ماریں کیونکہ اُس نے یشوع اور بنی اسرائیل سے صلح کر لی ہے۔
5 اس لئے اموریوں کے پانچ بادشاہ یعنی یروشلِیم کا بادشاہ اور حبرون کا بادشاہ اور یرموت کا بادشاہ اور لکِیس کا بادشاہ اور عجلونکا بادشاہ اِکٹھے ہوئے اور انہوں نے اپنی سب فوجوں کے ساتھ چڑھائی کی اور جبعون کے مُقابل ڈیرے ڈال کر اس سے جنگ شروع کی۔
6 تب جبعون کے لوگوں نے یشوع کو جو جلجال میں خیمہ زن تھا کہلا بھیجا کہ اپنے خادموں کی طرف سے اپنا ہاتھ مت کھینچ ۔جلد ہمارے پاس پہنچ کر ہم کو بچا اور ہماری مدد کر اسلئے کہ سب اموری بادشاہ جو کوہستانی ملک میں رہتے ہیں ہمارے خلاف اکھٹا ہو ئے ہیں ۔
7 تب یشوع سب جنگی مردوں اور سب زبردست سورماﺅں کو ہمرا لیکر جلجال سے چل پڑا ۔
8 اور خداوند نے یشوع سے کہا ان سے نہ ڈر ۔اس لئے کہ میںنے ان کوتیرے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔ان میں سے ایک مرد بھی تیرے ساتھ کھڑا نہ رہ سکے گا ۔
9 پس یشوع راتوں رات جلجال سے چل کر ناگہان ان پر آن پڑا ۔
10 اور خداوند نے ان کو بنی اسرائیل کے سامنے شکست دی اور اس نے ان کو جبعون میں بڑی خونریزی کے ساتھ قتل کیا اور بیت خورون کی چڑھائی کے راستہ پر انکو رگیدا اور عزیقاہ اور مقیدہ تک انکو مارتا گیا ۔
11 اور جب وہ اسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگے اور بیت خورون کے اتار پر تھے توخداوند نے عزیقاہ تک آسمان سے ان پر بڑے بڑے پتھر برسائے اور وہ مر گئے اور جو اولوں سے مرے وہ ان سے جنکو بنی اسرائیل میں تہ تیغ کیا کہیں زیادہ تھے ۔
12 اور اس دن جب خداوند نے اموریوں کو بنی اسرائیل کے قابو میں کر دیا یشوع نے خداوند کے حضور بنی اسرائیل کے سامنے یہ کہا ۔ اے سورج !تو جبعون پر اور اے چاند!تو وادی ایالون میں ٹھہرا رہ۔
13 اور سورج ٹھہر گیا اور چاند تھما رہا جب تک قوم نے اپنے دشمنوں سے اپنا انتقام لے لیا ۔کیا یہ آشر کی کتاب میں نہیں لکھا ہے ؟اور سورج آسمان کے بیچوں بیچ ٹھہر ا رہا اور تقریباََ سارے دن ڈوبنے میں جلدی نہ کی ۔
14 اور ایسا دن نہ کبھی اس سے پہلے ہوا اور نہ اسکے بعد جس میں خداوند نے کسی آدمی کی بات سنی ہو کیونکہ خداوند اسرائیلیوں کی خاطر لڑا ۔
15 پھر یشوع اور اسکے ساتھ سب اسرائیلی جلجال کو خیمہ گاہ میں لوٹے ۔
16 اور وہ پانچوں بادشاہ بھاگ کر مقیدہ کے غار میںجا چھپے ۔
17 اور یشوع کو یہ خبر ملی کہ وہ پانچوں بادشاہ مقیدہ کے غار میں چھپے ہو ئے ملے ہیں۔
18 یشوع نے حکم کیا کہ بڑے بڑے پتھر ا س غار کے منہ پر لڑھکا دو اور آدمیوں کو اسکے پاس ان کی نگہبانی کے لئے بٹھا دو ۔
19 پر تم نہ رکو ۔تم اپنے دشمنوں کا پیچھا کر و اور ان میں کے جو جو بچھڑ گئے ہیں ان کو مار ڈالو ۔ان کو مہلت نہ دو کہ اوہ اپنے اپنے شہر میں داخل ہوں ۔اس لئے خداوندتمہارے خدا نے ان کو تمہارے قبضہ میں کر دیا ہے ۔
20 اور جب یشوع اور بنی اسرائیل بڑی خونریزی کے ساتھ ان کو قتل کر چکے یہاں تک کہ وہ نیست ونابود ہو گئے اور وہ جو ان میں سے باقی بچے فیصل دار شہر وں میں داخل ہو گئے ۔
21 تو سب لوگ مقیدہ میں یشوع کے پاس لشکر گاہ کو سلامت لوٹے اورکسی نے بنی اسرائیل میں سے کسی کے بر خلاف زبان نہ ہلائی ۔
22 پھر یشوع نے حکم دیا کہ غار کا منہ کھولو اورو ان پانچوں بادشاہوں کو غار سے باہر نکال کر میرے پاس لا ؤ۔
23 انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ ان پانچوں بادشاہوں کو یعنی شاہ یروشلیم اور شاہ حبرون اور شاہ یرموت اور شاہ لکیس اور شاہ عجلون کو غار سے نکال کر ا س کے پاس لائے ۔
24 اور جب وہ ان کو یشوع کے سامنے لائے تو یشوع نے سب اسرائیلیوں کو بلوایا اور ان جنگی مردوں کے سرداروں سے جو اس کے ساتھ گئے تھے یہ کہا کہ نزدیک آکر اپنے اپنے پاﺅں ان بادشاہوں کی گردنوں پر رکھو ۔ا نہوں نے نزدیک آکر انکی گردنوں پر اپنے اپنے پاؤں رکھے ۔
25 اور یشوع نے ا ن سے کہا خوف نہ کرو اور ہراساں مت ہو ۔مضبوط ہو جاﺅ اور حوصلہ رکھو اس لئے کہ خداوند تمہارے سب دشمنوں سے جن کا مقابلہ تم کرو گے ایسا ہی کریگا ۔
26 اس کے بعد یشوع نے ان کو مارا اور قتل کیا اور پانچ درختوں پر ان کو ٹانگ دیا ۔سو وہ شام تک درختوں پر ٹنگے رہے ۔
27 اور سورج ڈوبتے وقت انہوں نے یشوع کے حکم سے انکو درختوں پر سے اتار کر اسی غار میں جس میں وہ جا چھپے تھے ڈال دیا اور غار کے منہ پر بڑے بڑے پتھر دھر دئے جو آج تک ہیں ۔
28 اور اسی دن یشوع نے مقیدہ کو سر کر کے اسے تہ تیغ کیا اور اس کے بادشاہ کو اور اس کے سب لوگوں کو بالکل ہلاک کر ڈالا اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا اور مقیدہ کے بادشاہ سے اس نے وہی کیا جو یریحو کے بادشاہ سے کیا تھا ۔
29 پھر یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی مقیدہ سے لبناہ کو گئے اور وہ لبناہ سے لڑا۔
30 اور خداوند نے اس کو بھی بنی اسرائیل کے ہاتھ میں کر دیا اور اس نے اسے اور اس کے سب لوگوں کو تہ تیغ کیا اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا اور وہاں کے بادشاہ سے ویسا ہی کیا جو یریحو کے بادشاہ سے کیا تھا ۔
31 پھر لبناہ سے یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی لکیس کو گئے اور اسکے مقابل ڈیرے ڈال لئے اور وہ اس سے لڑا ۔
32 اور خداوند نے لکیس کو اسرائیل کے قبضہ میں کر دیا ۔اس نے دوسرے دن اس پر فتح پائی اور اسے تہ تیغ کیا اور سب لوگوں کو جو اس میں تھے قتل کیا جس طرح اس نے لبناہ سے کیا تھا ۔
33 اس وقت جزر کا بادشاہ ہورم لکیس کی کمک کو چڑھ آیا ۔سو یشوع نے اس کو اور اس کے آدمیوں کو مارا یہاں تک کہ اس کا ایک بھی جیتا نہ چھوڑا۔
34 اور یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی لکیس عجلون کو گئے اورا س کے مقابل ڈیرے ڈال کر اس سے جنگ شروع کی۔
35 اور اسی دن اسے سر کر لیا اور اسے تہ تیغ کیا اور ان سب لوگوں کو جو اس میں تھے اس نے اسی دن بالکل ہلاک کر ڈالا جیسا اس نے لکیس سے کیا تھا۔
36 پھر عجلون سے یشوع اور اسکے ساتھ سب اسرائیلی حبرون کو گئے اور اس سے لڑے ۔
37 اور انہوں نے اسے سر کر کے اسے اور اس کے بادشاہ اور اس کی سب بستیوں اور وہاں کے سب لوگوں کو تہ تیغ کیا اور جیسا اس نے عجلون سے کیا تھا ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑا بلکہ اسے وہاں کے سب لوگوں کو بالکل ہلاک کر ڈالا ۔
38 پھر یشوع اور اس کے ساتھ سب اسرائیلی دبیر کو لوٹے اور اس سے لڑے ۔
39 اور اس نے اسے اور اسکے بادشاہ اور اس کی سب بستیوں کو فتح کر لیا اور انہوں نے ان کو تہ تیغ کیا اور سب لوگوں کو جو اس میں تھے بالکل ہلاک کر دیا ۔اس نے ایک بھی باقی نہ چھوڑا جیسا اس نے حبرون اور اس کے بادشاہ سے کیا تھا ویسا ہی دبیر اور اس کے بادشاہ سے کیا ۔ایسا ہی اس نے لبناہ اور اس کے بادشاہ سے بھی کیا تھا ۔
40 سو یشوع نے سارے ملک کو یعنی کوہستانی ملک اور جنوبی قطعہ اور نشیب کی زمین اور دھلانوں اور وہاں کے سب بادشاہوں کو مارا ۔اس نے ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑا بلکہ وہاں کے ہر متقس کو جیسا خداوند اسرائیل کے خدا نے حکم کیا تھا بالکل ہلاک کر ڈالا ۔
41 اور یشوع نے ان کو قادس پر نیع سے لے کر غزہ تک اور جشن کے سارے ملک کے لوگوں کو جبعون تک مارا ۔
42 اور یشوع نے ان بادشاہوں پر ان کے ملک پر ایک ہی وقت میں تسلط حاصل کیا اس لئے کہ خداوند اسرائیل کا خدااسرائیل کی خاطر لڑا ۔
43 پھر یشوع اور سب اسرائیلی ا س کے ساتھ جلجال کو خیمہ گاہ میں لوٹے ۔


باب 11

1 جب حصُورکے بادشاہ یابین یہ سنا تو اس نے مدون کے بادشاہ یواب اور سمرون کے باشاہ اور اکشاف کے بادشاہ کو ۔
2 اور ان بادشاہوں کو جو شمال کی طرف کوہستانی ملک اور کِنرت کے جنوب کے میدان اور نشیب کی زمین اور مغرب کی طرف دور کی مُرتفع زمین میں رہتے تھے۔
3 اور مشرق اور مغرف کے کنعانیوں اوراموریوں اور حِتیوں اور جو حرمون کے نیچے مِصفاہ کے ملک میں رہتے تھے بلُوا بھیجا ۔
4 تب وہ اور ان کے ساتھ ان کے لشکر یعنی ایک انبوةکِثیرجو تعداد میں سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھا بہت سے گھوڑوں اور رتھوں کو ساتھ لیکر نکلے ۔
5 اور یہ سب بادشاہ مل کر آئے اور انہوں نے میرُوم کی جھیل پر اکٹھے ڈیرے ڈالے تاکہ اسرائیلیوں سے لڑے۔
6 تب خداوند نے یشوع سے کہا کہ ان سے نہ ڈر کیونکہ کل اس وقت میں ان سب کو اسرائیلیوں کے سامنے مار کر ڈال دونگا تُوان کے گھوڑوں کی کُونچیں کاٹ ڈالنا اور ان کے رتھ آگ سے جلا دینا۔
7 چنانچہ یشوع اور سب جنگی مرد اس کے ساتھ میرُوم کی جھیل پر ناگہانان کے مقابلہ کو آئے اور ان پر ٹوٹ پڑے۔
8 اور خداوند نے ان کو اسرائیلیوں کے قبضہ میں کر دیا سو انہوں نے ان کو مارا اور بڑے صیدا اور مِسرفات المائم اور مشرق میںمِصفاہ کی وادی تک ان کو رگیدا اورقتل کیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہ چھوڑا۔
9 اور یشوع نے خداوند کے حکم کے موافق ان سے کیا کہ ان کے گھوڑوں کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور ان کے رتھ آگ سے جلا دئے۔
10 پھر یشوع اسی وقت لوٹا اور اس نے حصُورکو سر کر کے اسکے بادشاہ کو تلوار سے مارا کیونکہ اگلے وقت میں حصُور ان سب سلطنتوں کا سردار تھا ۔
11 اور انہوں نے ان سب لوگوں کو جو وہاں تھے تِہ تیغ کرکے انکو بالکل ہلاک کردیا۔وہاں کوئی متنفس باقی نہ رہا۔پھر اس نے حُصور کو آگ سے جلادیا۔
12 اور یشوع نے ان بادشاہوں کے سب شہروں کو اور ان شہروں کے سب بادشاہوں کو لیکر اور انکو تہ تیغ کرکے بالکل ہلاک کردیا جیسا خداوند کے بندہ موسی نے حکم کیا تھا۔
13 لیکن جو شہر اپنے ٹیلوں پر نبے ہوئے تھے ان میں کسی کو اسرئیلیوں نے نہیں جلایا سوا حصُور کے جسے یشوع نے پھونک دیا تھا۔
14 اور ان شہر وں کے تمام مال غنیمت اور چوپایوں کو نبی اسرائیل نے اپنے واسطے لوٹ میں لے لیا لیکن ہر ایک آدمی کو تلوار کی دھار سے قتل کیا یہاں تک کہ انکو نابود کردیا اور ایک متنفس کو بھی باقی نہ چھوڑا۔
15 جیسا خداوند نے اپنے بندہ موسی کو حکم دیا تھا ویسا ہی موسی نے یشوع کو حکم دیا اور یشوع نے ویسا ہی کیا اور جو جو حکم خداوند نے موسی کو دیا تھا ان میں سے کسی کو اس نے بغیر پورا کئے نہ چھوڑا۔
16 سو یشوع نے اس سارے ملک کو یعنی کوہستانی ملک اور سارے جنوبی قطعہ اور جشن کے سارے ملک اور نشیب کی زمین اور میدان اور اسرائیلیوں کے کوہستانی ملک اور اسی کے نشیب کی زمین ۔
17 کوہِ خلق سے لیکر جو سعیر کی طرف جاتا ہے بعل جد تک جو وادی لبنان میں کوہ ِحرمون کے نیچے ہے سب کو لے لیا اور انکے سب بادشاہوں پر فتح حاصل کرکے اس نے انکو مارا اور قتل کیا۔
18 اور یشوع مدت تک ان سب بادشاہوں سے لڑتا رہا۔
19 سوا حویوں کے جو جبعون کے باشندے تھے اور کسی شہر نے نبی اسرائیل سے صلح نہیں کی بلکہ سب کو انہوں نے لڑکر فتح کیا۔
20 کیونکہ یہ خداوند ہی کی طرف سے تھا کہ انکے دلوں کو ایسا سخت کردے کہ وہ جنگ میں اسرائیل کا مقابلہ کریں تاکہ وہ انکو بالکل ہلاک کر ڈالے اور ان پر کچھ مہربانی نہ ہو بلکہ وہ انکو نیست ونابُود کردے جیسا خداوند نے موسی کو حکم دیا تھا۔
21 پھر اس وقت یشوع نے آکر عناقیم کو کوہستانی ملک یعنی جرون اور دبیر اور عناب سے بلکہ یہواد ہ کے سارے کوہستانی ملک اور اسرائیل کے سارے کوہستانی ملک سے کاٹ ڈالا ۔یشوع نے انکو انکے شہروں سمیت بالکل ہلاک کردیا۔
22 سو عناقیم میں کوئی بنی اسرائیل کے ملک میں باقی نہ رہا۔فقط غزہ اور جات اور شدوُد میں تھوڑے سے باقی رہے۔
23 پس جیسا خداوند نے موسی سے کہا تھا اُسکے مطابق یشوع نے سارے ملک کو لے لیا اور یشوع نے اُسے اسرائیلیوں کو انکے قبیلوں کی تقسیم کے موافق میراث کے طور پر دے دیا اور ملک کو جنگ سے فراغت ملی۔


باب 12

1 اس ملک کے بادشاہ جنکو بنی اسرائیل نے قتل کرکے انکے ملک پر یرون کے اس پار مشرق کی طرف ارنون کی وادی سے لیکر کوہِ حرمُون تک اور تمام مشرقی میدان پر قبضہ کر لیا یہ ہیں۔
2 اموریوں کابا دشاہ سیحون جو جسون میں رہتا تھا اور عروعیر سے لیکر جو وادی ارنون کے کنارے ہے اور اُس وادی کے نیچ کے شہر سے وادی یبوق تک جو بنی عمُون کی سرحد ہے آدھے جلعادپر۔
3 اور میدان سے بحرکنرت تک جو مشرق کی طرف ہے بلکہ مشرق ہی کی طرف بیت یسیموت سے ہو کر میدان کے دریا تک جو دریایِ شور ہے اور جنوب میں پسگہ کے دامن کے نیچے نیچے حکومت کرتا تھا۔
4 اور بسن کے بادشاہ عوج کی سرحد جو رفائیم کی بقیہ نسل سے تھا اور عسارات اور ادرعی میں رہتا تھا۔
5 اور وہ کوہِ حرمون اور سلکہ اور سارے بسن میں جسوریوں اور معکاتیوں کی سرحد تک اور آدھے جلعاد میں جو حسبون کے بادشاہ سیحون کی سرحد تھی حکومت کرتا تھا۔
6 انکو خداوند کے بندہ موسی اور بنی اسرائیل نے مارا اور خداوند کے بندہ موسی نے بنی رُوبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ کو انکا ملک میراث کے طور پر دے دیا۔
7 اور یردن کے اس پار مغرب کی طرف بعل جد سے جو وادیِ لبنان میں ہے کوہِ خلق تک جو سعیر کو نکل گیا ہے جن بادشاہوں کو یشوع اور بنی اسرائیل نے مارا اور جنکے ملک کو یشوع نے اسرائیلیوں کے قبیلوں کو انکی تقسیم کے مطابق میراث کے طور پر دے دیا وہ یہ ہیں۔
8 کوہستانی ملک اور نشیب کی زمین اور میدان اور ڈھلانوں میں اور بیابان اور جنوبی قطعہ میں حتی اور اموری اور کنعانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں میں سے۔
9 ایک یریحو کا بادشاہ ایک عی کا بادشاہ جو بیت ایل کے نزدیک واقع ہے۔
10 ایک یروشلیم کا بادشاہ۔ایک جرون کا بادشاہ ۔
11 ایک یرموت کا بادشاہ ایک لکیس کا بادشاہ۔
12 ایک عجلون کا بادشاہ ایک جزر کا بادشاہ ۔
13 ایک دبیر کا بادشاہ۔ایک کا جدر کا بادشاہ۔
14 ایک حُرمہ کا بادشاہ۔ایک عراد کا بادشاہ۔
15 ایک لِبناہ کا بادشاہ ۔ ایک عدُلا م کا بادشاہ ۔
16 ایک مقیدہ کا بادشاہ۔ایک بیت ایل کا بادشاہ ۔
17 ایک تفُوح کا بادشاہ ۔ایک حضرکا بادشاہ۔
18 ایک افیِق کا بادشاہ ۔ایک لشرون کا بادشاہ۔
19 ایک مدون کا بادشاہ ۔ایک حصُور کا بادشاہ۔
20 ایک سِمرون مرون کا بادشاہ۔ایک اِکشاف کا بادشاہ۔
21 ایک تعنک کا بادشاہ۔ایک مجِدد کا بادشاہ۔
22 ایک قادس کا بادشاہ۔ایک کرمل کے یقنِعام کا بادشاہ۔
23 ایک دور کی مرتفع زمین کے دور کا بادشاہ ۔ایک گوئیِم کا بادشاہ جو جلجال میں تھا۔
24 ایک تِرضہ کا بادشاہ۔یہ سب اِکتیس بادشاہ تھے۔


باب 13

1 اور یشوع بڈھا اور عمر رسیدہ ہوا اور خداوند نے اُس سے کہا کہ بڈھا اور عمر رسیدہ ہے اور قبضہ کرنے کو ابھی بہت سا ملک باقی ہے۔
2 اور وہ ملک جو باقی ہے سو یہ ہے ۔ فِلستیوں کی سب اِقلیم اور سب جسوُری۔
3 سیحُور سے جو مصر کے سامنے ہے شمال کی طرف عقروُنکی حد تک جو کنعانیوں کا گِنا جاتا ہے ۔ فِلستیوں کے پانچ سردار یعنی غزی اور اشدوُدی اور اسقلونی اور جاتی اور عقرونی اور عویم بھی۔
4 جو جنوب کی طرف ہے اور کنعانیوں کا سارا ملک مغارا جو صیدانیوں کا ہے ۔ اِفیق یعنی اموریوں کی سرحد تک ۔
5 اور جبلیوں کا ملک اور مشرق کی طرف بعل جد سے جو کوہ حرمون کے نیچے ہے حمات کے مدخل تک سارا لُبنان ۔
6 پھر لُبنان سے مسِرفات المائم تک کوہستانی ملک کے سب باشندے یعنی سب صَیدانی ۔ان کو میں بنی اسرائیل کے سامنے سے نکال ڈالونگا سو فقط جیسا میں نے تجھے حکم دیا ہے میراث کے طورپر اسے اسرائیلیوں کو تقسیم کر دے
7 سو تو اس ملک کو ان نو قبیلوں اور منسی کے آدھے قبیلہ کو میراث کے طور پر بانٹ دے ۔
8 منسی کے ساتھ بنی روبن اور بنی جد نے اپنی اپنی میراث پالی تھی جسے موسیٰ نے یردن کے اس پار مشرق کی طرف ان کو دیا تھا کیونکہ خداوند کے بندہ موسیٰ نے اسے ان ہی کو دیا تھا یعنی ۔
9 عروعیر سے جو وادیِ ارنون کے کنارے واقع ہے شروع کر کہ وہ شہر جو وادی کے بیچ میں ہے مِیدباکا سارا میدان دِیبون تک ۔
10 اور اموریوں کے بادشاہ سیِحون کے سب شہر جو حسبون میں سلطنت کرتا تھا بنی عمون کی سرحد تک۔
11 اور جلعاد اور جسوریوں اور معکاتیوں کی نواحی اور سارا کوہِ حرمون اور سارا بسن سلکہ تک ۔
12 اور عوج جو رفائیم کی بقیہ نسل سے تھا اور عستارات اور ادرعی میں حکمران تھا اسکا سارا علاقہ جو بسن میں تھا کیونکہ موسی نے انکو مار کر خارج کردیا تھا۔
13 تو بھی بنی اسرائیل نے جسوریوںاور معکاتیوں کو نہیں نکالا چُنانچہ جسورِی اور معکاتی آج تک اسرائیلیوں کے درمیان بسے ہوئے ہیں۔
14 فقط لاوی کے قبیلہ کو اس نے میراث نہیں دی کیونکہ خداوند اسرائیل کے خدا کی آتشِین قربانیاں اسکی میراث ہیں جیسا اس نے اس سے کہا تھا۔
15 اور موسی نے بنی رُوبن کے قبیلہ کو انکے گھرانوں کے مطابق میراث دی۔
16 اور انکی سرحد یہ تھی عروعیر سے جو وادی ارنوں کے کنارے واقع ہے اور وہ شہر جو وادی کے بیچ میں ہے اور میِدبا کے پاس کا سارا میدان ۔
17 حسبون اور اسکے سب شہر جو میدان میں ہیں۔دیبون اور بامات بعل اور بیت بعل معون۔
18 اور یہصاہ اور قدیمات اور مفعت ۔
19 اور قریتائم اورر سِبماہ اور ضرة السحرجو وادی کے کوہ میں ہے۔
20 اور بیت فغور اور پِسگہ کے دامن کی زمین اور بیت یسیموت۔
21 اور میدان کے سب شہر اور اموریوں کے بادشاہ سیحون کا سارا ملک جو حسبون میں سلطنت کرتا تھا جسے موسی نے مدیان کے رئیِسون اوی اور رقم اور صُور اور حوُر اورر ربع سیِحون کے ریئسوں سمیت جو اس ملک بستے تھے قتل کیا تھا۔
22 اور بعور کے بیٹے بلعام کو بھی جو بخومی تھا بنی اسرائیل نے تلوار سے قتل کرکے انکے مقتوُلوں کے ساتھ ملاِدیا تھا۔
23 اور یردن اور اسکی نواحی بنی رُوبن کی سرحد تھی ۔یہی شہر اور انکے گاﺅں بنی رُوبن کے گھرانوں کے مطابق انکی میراث ٹھہرے۔
24 اور موسی نے جد کے قبیلہ یعنی بنی جد کو انکے گھرانوں کے مطابق میراث دی۔
25 اور انکی سرحد یہ تھی ۔یعزیر اور جلعاد کے سب شہر اور بنی عمون کا آدھا ملک عروعیر تک جو ربہ کے سامنے ہے۔
26 اور حسبون سے رامت المصفاہ اور بطُونیم تک اور محنایم سے دبِیر کی سرحد تک۔
27 اور وادی میں بیت ہارم اور بیت نِمرہ اور سُکات اور صفون یعنی حسبون کے بادشاہ سیحون کی اقلیم کا باقی حصہ اور یردن کے پار مشرق کے طرف کِنرت کی جھیل کے اس سِرے تک یردن اور اسکی ساری نواحی ۔
28 یہی شہر اور انکے گاﺅں بنی جد کے گھرانوں کے مطابق انکی میراث ٹھہرے۔
29 اور موسی نے منسی کے آدھے قبیلہ کو بھی میراث دی ۔یہبنی منسی کے گھرانوں کے مطابق انکے آدھے قبیلہ کے لئے تھی۔
30 اورانکی سرحد یہ تھی ۔محنایم سے لیکر سارا بسن اور بسن کے بادشاہ عوج کی تمام اقلیم اور یا یئِر کے سب قصبے جو بسن میں ہیں وہ ساٹھ شہر ہیں۔
31 اور آدھا جلعاد اور عستارات اور ادرعی جو بسن کے بادشاہ عوج کے شہر تھے یہ منسی کے بیٹے مکیر کی اولاد کو ملے یعنی مکیر کی اولاد کے آدھے آدمیوں کو انکے گھرانوں کے مطابق یہ ملے۔
32 یہ وہ حصے ہیں جن کو مو سیٰ نے یریحو کے پاس موآب کے میدانوں میں یردن کے اُس پار مشرق کی طرف میراث کے طور پر تقسیم کیا۔
33 لیکن لاوی کے قبیلہ کو موسیٰ نے کوئی میراث نہیں دی کیونکہ خُداوند اسرائیل کا خُدا اُن کی میراث ہے جیسا اُس نے اُن سے خود کہا۔


باب 14

1 اور وہ حصے جن کو کنعان کے ملک میں بنی اسرائیل نے میراث کے طور پر پایا اور جن کو العزر کاہن اور نون کے بیٹے یشوع اور بنی اسرائیل کے قبیلوں کے آبائی خاندانوں کے سرداروں نے ان کو تقسیم کیا یہ ہیں۔
2 ان کی میراث قرعہ سے دی گئی جیسا خداوند نے ساڑھے نو قبیلوں کے حق میں موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔
3 کیونکہ موسیٰ نے یرون کے اس پار ڈھائی قبیلوں میراث ان کو دے دی تھی پر اس نے لاویوں کو ان کے درمیان کچھ میراث نہیں دی ۔
4 کیونکہ بنی یوسف کے دو قبیلے تھے منسی اور افرائیم ۔سو لاویوں کو اس ملک میں کچھ حصہ نہ ملا سوا شہروں کے جو ان کے رہنے کے لئے تھے اور ان کی نواحی کے جو ان کے چوپایوں اور مال کے لئے تھی ۔
5 جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا ویسا ہی بنی اسرائیل نے کیا اور ملک کو بانٹ لیا ۔
6 تب بنی یہوداہ جلجال میں یشوع کے پاس آئے اور قنزی یفنہ کے بےٹے کالب نے اس سے کہا تجھے معلوم ہے کہ خدا وند نے مرد خدا موسیٰ سے میری اور تیری بابت قادس برنیع میں کیا کہا تھا ۔
7 جب خداوند کے بندہ موسیٰ نے قادس برنیع سے مجھ کو اس ملک کا حال دریافت کرنے کو بھیجا اس وقت میں چالیس برس کا تھا اور میں نے اس کو وہی خبر لا دی جو میرے دل میں تھی۔
8 تو بھی میرے بھائیوں نے جو میرے ساتھ گئے تھے لوگوں کے دلوں کو پگھلا دیا لیکن میں نے خداوند اپنے خدا کی پوری پیروی کی ۔
9 تب موسیٰ نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ جس زمین پر تیرا قدم پڑا ہے وہ ہمیشہ کے لئے تیری اور تیرے بیٹوں کی میراث ٹھہریگی کیونکہ تو خداوند میرے خدا کی پوری پیروی کی ہے ۔
10 اور اب دیکھ جب سے خداوند نے یہ بات موسیٰ سے کہی تب سے ان پینتالیس برسوں تک جن میں بنی اسرائیل بیابان میں آوارہ پھرتے رہے خداوند نے مجھے اپنے قول کے مطابق جیتا رکھا اور اب دیکھ میں آج کے دن پچاسی برس کا ہوں ۔
11 اور آج کے دن بھی میں ویسا ہی ہوں جیسا اس دن تھا جب موسیٰ نے مجھے بھیجا تھا اور جنگ کے لئے اور باہر جانے اور لوٹنے کے لئے جیسی قوت مجھ میں اس وقت تھی ویسی ہی اب بھی ہے ۔
12 سو یہ پہاڑی جس کا ذکر خداوند نے اس روز کیا تھا مجھ کو دے دے کیونکہ تو نے اس دن سن لیا تھا کہ عناقیم وہاں بستے ہیں اور وہاں کے شہر بڑے او ر فصیل دار ہیں ۔یہ ممکن ہے کہ خداوند مےرے ساتھ ہو اور میں ان کو خدداوند کے قول کے مطابق نکال دوں ۔
13 تب یشوع نے یفنہ کے بیٹے کالب کو دعا دی اور اس کو حبرون میراث کے طور پر دے دیا۔
14 سو حبرون اس وقت سے آج تک قنزی یفنہ کے بیٹے کالب کی میراث ہے اس لئے اس نے خداوند اسرائیل کے خدا کی پوری پیروی کی ۔
15 اور اگلے وقت میں حبرون کا نام قریت اربع تھا اور وہ اربع عناقیم میں سب سے بڑا آدمی تھا اور اس ملک کو جنگ سے فراغت ملی ۔


باب 15

1 اور بنی یہوداہ کے قبیلہ کا حصہ ان کے گھرانوں کے مطابق قرعہ ڈال کر ادوم کی سرحد تک اور جنوب میں دشت صین تک جو جنوب کے انتہائی حصہ میں واقع ہے ٹھہرا۔
2 اور ان کی جنوبی حد دریای شور کے انتہائی حصہ کی اس کھاڑی سے جسکا رخ جنوب کی طرف ہے شروع ہوئی ۔
3 اور وہ عقربیم کی چڑھائی کی جنوبی سمت سے نکل صین ہوتی ہوئی قادس برنیع کے جنوب کو گئی ۔پھر حصرون کے پاس سے ادار کو جا کر قرقع کو مڑی ۔
4 اور وہاں سے عضمون ہوتی ہوئی مصر کے نالے کو جا نکلی اور اس حد کا خاتمہ سمندر پر ہوا ۔یہی تمہاری جنوبی سرحد ہوگی۔
5 اور مشرقی سرحد یردن کے دہانہ ک دریا ی شور ہی ٹھہرا اور اس کی شمالی حد اس دریا کی اس کھاڑی سے جو یردن کے دہانہ پر ہے شروع ہوئی۔
6 اور یہ حد بیت حجلہ کو جا کر اور بیت العرابہ کے شمال سے گذر کر روبن کے بیٹے بوہن کے پتھر کو پہنچی ۔
7 پھر وہاں سے وہ حد عکور کی وادی ہوتی ہوئی دبیر کو گئی اور وہاں سے شمال کی سمت چل کر جلجال کے سامنے جو ادمیم کی چڑھائی کے مقابل ہے جا نکلی ۔یہ چڑھائی ندی کے جنوب میں ہے۔ پھر وہ حد عین شمس کے چشموں کے پا س ہو کر عین راجل پہنچی ۔
8 پھر وہی حد ہنوم کے بیٹے کی وادی میں سے ہو کر یبوسیوں کی بستی کے جنوب کو گئی۔یروشلیم وہی ہے اور وہاں سے اس پہاڑ کی چوٹی کو جا نکلی جو وادی ہنوم کے مقابل مغرب کی طرف اور رفائیم کی وادی کے شمالی انتہائی حصہ میں واقع ہے ۔
9 پھر وہی حد پہاڑ کی چوٹی سے آب نفتوح کے چشمہ کو گئی اور وہاں سے کوہ عفرون کے شہر وں کے پاس جانکلی اور ادھر سے بعلہ تک جو قریت یعریم ہے پہنچی ۔
10 اور بعلہ سے ہو کر مغرب کی سمت کوہ شعیر کو پھری اور کوہ یعریم کے جو کسلون بھی کہلاتا ہے شمالی دامن کے پاس سے گذر کر بیت شمس کی طرف اترتی ہوئی تمنہ کو گئی ۔
11 اور وہاں سے وہ حد عقرون کے شمال کو جا نکلی ۔پھر وہ سکرون سے ہو کر کوہ بعلہ کے پاس سے گذرتی ہوئی یبنی ایل پر جا نکلی اور اس حد کا خاتمہ سمندر پر ہوا ۔
12 اورمغربی سرحد بڑا سمندر اور اسکا ساحل تھا ۔بنی یہوداہ کی چاروں طرف کی حد انکے گھرانوں کے مطابق یہی ہے ۔
13 اور یشوع نے اس حکم کے مطابق جو خداوند نے اسے دیا تھا یفنہ کے بیٹے کالب کو بنی یہوداہ کے درمیان عناق کے باپ اربع کا شہرقریت اربع جو حبرون ہے حصہ دیا ۔
14 سو کالب نے وہاں سے عناق کے تینوں بیٹوں یعنی سیسی اور اخیمان اور تلمی کو جو بنی عناق ہیں نکال دیا۔
15 اور وہ وہاں سے دبیر کے باشندوں پر چڑھ گیا ۔دبیر کا قدیمی نام قریت سفر تھا ۔
16 اور کالب نے کہا جو کوئی قریت سفر کو مار کر اس کو سر کر لے اسے میں اپنی بیٹی عکسہ بیاہ دونگا ۔
17 تب کالب کے بھائی قنز کے بیٹے غتنی ایل نے اس کو سر کر لیا ۔سو اس نے اپنی بیٹی عکسہ اسے بیاہ دی۔
18 جب وہ اس کے پاس آئی تو اس نے اس آدمی کو ابھارا کہ وہ اسکے باپ سے ایک کھیت مانگے ۔سو وہ اپنے گدھے پر سے اتر پڑی۔ تب کالب نے اس سے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟
19 اس نے کہا مجھے برکت دے کیونکہ تو نے جنوب کے ملک میں کچھ زمین مجھے عنایت کی ہے ۔سو مجھے پانی کے چشمے بھی دے ۔تب اس نے اسے اوپر کے چشمے اور نیچے کے چشمے عنایت کئے ۔
20 بنی یہوداہ کے قبیلہ کی میراث انکے گھرانوں کے مطابق یہ ہے ۔
21 اور ادوم کی سرحد کی طرف جنوب میں بنی یہوداہ کے انتہائی شہر یہ ہیں ۔قبضی ایل اور عیدر اور یجور ۔
22 اور قینہ اور دیمونہ اور عدعدہ ۔
23 اور قادس اور حصور اتنان ۔
24 زیف اور تلم اور بعلوت ۔
25 اور حصور اور حدتہ اور قریت حصرون جو حصور ہے۔
26 اور امام اور سمع اور مولادہ ۔
27 اور حصار جدہ اور حشمون اور بیت فلط ۔
28 اور حصر سوعال اور بیرسبع اور بزیوتیاہ ۔
29 بعلہ اور عییم اور عضم ۔
30 اور التولد اور کسیل اور حرمہ ۔
31 اور صقلاح اور مدمنہ اور سنسناہ۔
32 اور لباﺅت اور سلحیم اور عین اور رمون ۔یہ سب انتیس شہر ہیں اور انکے گاﺅں بھی ہیں ۔
33 اور نشیب کی زمین میں استال اور صرعا ہ اور اسناہ ۔
34 اور نوح اور عین جنیم ۔نفوح اور عینام ۔
35 یرموت اور عدلام ۔شوکہ اور عزیقہ ۔
36 اور شعریم ور عدییم اور جدیرہ ور جدیرتیم ۔یہ چودہ شہر ہیں اور انکے گاﺅں بھی ہیں ۔
37 ضنان اور حداشہ اور مجدل جد ۔
38 اور دلعان اور مصفاہ او ر یقتی ایل۔
39 لکیس اور بصقت اور عجلون ۔
40 اور کبون اور لحمام اور کتلیس ۔
41 ساور جدیر وت اور بیت دجون اور نعمہ اور مقیدہ۔ یہ سولہ شہر ہیں اور ان کے گاﺅں بھی ہیں ۔
42 لبناہ اور عتر اور عسن ۔
43 اور یفتاح اور اسنہ اور نصیب ۔
44 اور قعیلہ اور اکزیت اور مرسیہ ۔یہ نو شہر ہیں اور انکے گاﺅں بھی ہیں۔
45 عقرون اور اسکے قصبے اور گاﺅں ۔
46 عقرون سے سمندر تک اشدود کے پاس کے سب شہر اور ان کے گاﺅں ۔
47 اشدود اپنے شہروں اور گاﺅں سمیت اور غزہ اپنے شہروں اور گاﺅں سمیت مصر کی ندی اور بڑے سمندر اور اسکے ساحل تک ۔
48 اور کوہستانی ملک میں سیر اور یتیرا ور شوکہ ۔
49 اور دناہ اور قریت سنہ جو دبیر ہے ۔
50 اور عناب اور استموہ اور عنیم ۔
51 اور جشن اور حولون اور جلوہ یہ گیارہ شہر ہیں اور ان کے گاﺅں بھی ہیں ۔
52 اراب اور دوماہ اور اشعان۔
53 اور ینیم اور بیت تفوح اور افیقہ ۔
54 اور حمطہ اور قریت اربع جو حبرون ہے اور صیعور ۔یہ نو شہر ہیں اور انکے گاﺅں بھی ہیں۔
55 معون کرمل اور زیف اور یوطہ ۔
56 اور یزعیل اور یقدعام اور ز نوح ۔
57 قین جبعہ اور تمنہ ۔یہ دس شہر ہیں اور ان کے گاﺅں بھی ہیں ۔
58 حلحول اور بیت صور اور جدور ۔
59 اور معرات اور بیت عنوت اور التقون ۔یہ چھ شہر ہیں اور انکے گاﺅں بھی ہیں۔
60 قریت بعل جو قریت یعریم ہے اور ربہ یہ دو شہر ہیں اور ان کے گاﺅں بھی ہیں ۔
61 اور بیابان میں بیت عرابہ اور مدین اور سکاکہ ۔
62 اور نبسان اور نمک کا شہر اور عین جدی ۔یہ چھ شہر ہیں اور انکے گاﺅں بھی ہیں ۔
63 اور یبوسیوں کو جو یروشلیم کے باشندے تھے بنی یہوداہ نکال نہ سکے ۔سو یبوسی بنی یہوداہ کے ساتھ آج کے دن تک یروشلیم میں بسے ہوئے ہیں ۔


باب 16

1 اور بنی یوسف کا حصہ قرعہ ڈالکر یریحو کے پاس کے یردن سے شروع ہوا یعنی مشرق کی طرف یریحو کے چشمے بلکہ بیابان پڑا ۔پھر اس کی حد یر یحو سے کوہستانی ملک ہوتی ہوئی بیت ایل کو گئی۔
2 پھر بیت ایل سے نکل کر لوز کو گئی اور ارکیوں کی سرحد کے پاس سے گذرتی ہوئی عطارات پہنچی۔
3 اور وہاں سے مغرب کی طرف یفلیطیوں کی سرحد سے ہو تی ہوئی نیچے کے بیت حورون بلکہ جزر کو نکل گئی اور اس کا خاتمہ سمندر پر ہوا ۔
4 پس بنی یوسف یعنی منسی اور افرائیم نے اپنی اپنی میراث پر قبضہ کیا ۔
5 اور بنی افرائیم کی سرحد انکے گھرانوں کے مطابق یہ تھی ۔مشرق کی طرف اوپر کے بیت حورون تک عطارات ادار انکی حد ٹھہری ۔
6 اور شمال کی طرف وہ حد مغرب کے مکمتاہ ہوتی ہوئی مشرق کی طرف تانت سیلا کو مڑی اور وہاں سے ینوحا ہ کے مشرق کو گئی ۔
7 اور ینوحاہ سے عطارات اور نعراتہ ہوتی ہوئی یریحو پہنچی اور پھر یردن کو جا نکلی ۔
8 اور وہ حد تفوح سے نکل کر مغرب کی طرف قاناہ کے نالے کو گئی اور اس کا خاتمہ سمندر پر ہو ا۔ بنی افرائیم کے قبیلہ کی میراث انکے گھرانوں کے مطابق یہی ہے ۔
9 اور اس کے ساتھ بنی افرائیم کے لئے بنی منسی کی میراث میںبھی شہر الگ کئے گئے اور ان سب شہروں کے ساتھ ان کے گاﺅں بھی تھے ۔
10 اور انہوں نے کنعانیوں کو جوجزر میں رہتے تھے نہ نکالا بلکہ وہ کنعانی آج کے دن تک افرائیمیوں میں بسے ہوئے ہیں اور خادم بن کر بیگار کا کام کرتے ہیں ۔


باب 17

1 اور منسی کے قبیلہ کا حصہ قرعہ ڈال کر یہ ٹھہرا کیونکہ وہ یوسف کا پہلوٹھا تھا اور چونکہ منسی کا پہلوٹھا بیٹا مکیر جو جلعاد کا باپ تھا جنگی مرد تھا اسلئے اسکو جلعاد اور بسن ملے ۔
2 سو یہ حصہ بنی منسی کے باقی لوگوں کے لئے ان کے گھرانوں کے مطابق تھا یعنی بنی ابیعزر اور بنی خلق اور بنی اسری ایل اور بنی سکم اور بنی حضر اور بنی سمید ع کے لئے ۔یوسف کے بیٹے منسی کے فرزند نرینہ اپنے اپنے گھرانے کے مطابق یہی تھے۔
3 اور صلافحادبن جلعاد بن مکیر بن منسی کے بیٹے نہیں بلکہ بیٹیاں تھیں اور اس کی بیٹیوں کے نام یہ ہیں محلاہ اور نوعاہ اور حجلا ہ اور ہلکاہ اور ترضاہ ۔
4 سو الیعزر کاہن اور نون کے بیٹے یشوع اور سرداروں کے آگے آکر کہنے لگیں کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ وہ ہم کو ہمارے بھائیوں کے درمیان میراث دے چنانچہ خداوند کے حکم کے مطابق اس نے ان کے باپ کے بھائیوں کے درمیان ان کو میراث دی۔
5 سو منسی کو جلعاد اور بسن کے ملک کو چھوڑ کر جو یردن کے اس پار ہے دس حصے اور ملے ۔
6 کیونکہ منسی کی بیٹیوں نے بھی بیٹوں کے ساتھ میراث پائی اور ممنسی کے باقی بیٹوں کو جلعاد کاملک ملا ۔
7 او ر آشر سے لے کر مکمتاہ تک جو سکم کے مقابل ہے منسی کی حد تھی اور وہی حد دہنے ہاتھ پر عین تفوح کے باشندوں تک چلی گئی ۔
8 یوں تفوح کی زمین تو منسی کی ہوئی پر تفوح شہر جو منسی کی سرحد پر تھا بنی افرائیم کا حصہ ٹھہرا ۔
9 پھر وہاں سے وہ حد قاناہ کے نالے کو اتر کر اس کے جنوب کی طرف پہنچی ۔یہ شہر جو منسی کے شہروں کے درمیان ہیں افرائیم کے ٹھہرے اور منسی کی حد اس نالے کے شمال کی طرف سے ہو کر سمندر پر ختم ہوئی ۔
10 سو جنوب کی طرف افرائیم کی اور شمال کی طرف منسی کی میراث پڑی اور اس کی سرحد سمندر تھی۔یوں وہ دونوں شمال کی طرف آشر سے مشرق کی طرف اشکار سے جا ملیں ۔
11 اور اشکار اور آشر کی حد میں بیت شان اور اس کے قصبے اور ابلیعام اور اس کے قصبے اور اہل دور اور اس کے قصبے اور اہل عین دور اور اس کے قصبے اور اہل تعناک اور اس کے قصبے اور اہل مجدو اور اس کے قصبے بلکہ تینوں مرتفع مقامات منسی کو ملے ۔
12 تو بھی بنی منسی ان شہروں کے رہنے والوں کو نکال نہ سکے بلکہ اس ملک میں کنعانی بسے ہی رہے۔
13 اور جب بنی اسرائیل زور آور ہو گئے تو انہوں نے کنعانیوں سے بیگار کا کام لیا اور ان کو بالکل نکال باہر نہ کیا ۔
14 اور بنی یوسف نے یشوع سے کہا کہ تو نے کیوں قرعہ ڈال کر ہم فقط ایک ہی حصہ میراث کے لئے دیا اگرچہ ہم بڑی قوم ہیں کیونکہ خداوند نے ہم کو برکت دی ہے؟
15 یشوع نے ان کو جواب دیا کہ اگر تم بڑی قوم ہو تو جنگل میں جاﺅ اور وہاں فرزیوں اور رفائیم کے ملک کو اپنے لئے کاٹ کر صاف کر لو کیونکہ افرئیم کا کوہستانی ملک تمہارے لئے بہت تنگ ہے ۔
16 بنی یوسف نے کہا کہ یہ کوہستانی ملک ہمارے لئے کافی نہیں ہے اور سب کنعانیوں کے پاس جو نشیب کے ملک میں رہتے ہیں یعنی وہ جو بیت شان اور اس کے قصبوں میں اور جو یزرعیل کی وادی میں رہتے ہیں دونوں کے پاس لوہے کے رتھ ہیں ۔
17 یشوع نے بنی یوسف یعنی افرائیم اور منسی سے کہا کہ تم بڑی قوم ہو او ر بڑا زور رکھتے ہو ۔سو تمہارے لئے فقط ایک ہی حصہ نہ ہوگا ۔
18 بلکہ یہ کوہستانی ملک بھی تمہارا ہو گا کیونکہ اگرچہ وہ جنگل ہے تم اسے کاٹ کر صاف کر ڈالنا اور اس کے مخارج بھی تمہارے ہی ٹھہریں گے کیونکہ تم کنعانیوںکو نکال دو گے اگرچہ ان کے پاس لوہے کے رتھ ہیں اور وہ زور آور بھی ہیں ۔


باب 18

1 اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت نے سیلا میں جمع ہو کر خیمئہ اجتماع کو وہاں کھڑا کیا اور وہ ملک انکے آگے مغلوب ہو چکا تھا ۔
2 اور بنی اسرائیل میں سات قبیلے ایسے رہ گئے تھے جنکی میراث انکو تقسیم ہونے نہ پائی تھی ۔
3 اور یشوع نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم کب تک اس ملک پر قبضہ کرنے میں جو خداوند تمہارے باپ داد کے خدا نے تم کو دیا ہے سستی کرو گے ؟
4 سو تم اپنے لئے ہر قبیلہ میں سے تین شخص چن لو ۔میں انکو بھیجو نگا اور وہ جا کر اس ملک میں سیر کریں گے اور اپنی اپنی میراث کے موافق اسکا حال لکھ کر میرے پاس آئینگے ۔
5 وہ اس کے سات حصے کرینگے۔ یہوداہ اپنی سرحد میں جنوب کی طرف اور یوسف کا خاندان اپنی سرحد میں شمال کی طرف رہیگا۔
6 سو تم اس ملک کے سات حصے لکھ کر میرے پاس یہاں لاﺅ تا کہ میں خداوند کے آگے جو ہماراخدا ہے تمہارے لئے قرعہ ڈالوں ۔
7 کیونکہ تمہارے درمیا ن لاویوں کا کوئی حصہ نہیں اسلئے کہ خداوند کی کہانت ان کی میراث ہے اور جد اور روبن اور منسی کے آدھے قبیلہ کو یردن کے اس پار مشرق کی طرف میراث مل چکی ہے جسے خداوند کے بندہ موسیٰ نے ان کو دیا ۔
8 پس وہ مرد اٹھ کر روانہ ہوئے اور یشوع نے ان کو جو اس ملک کا حال لکھنے کے لئے گئے تاکید کی کہ تم جا کر اس ملک میں سیر کرو اور اس کا حال لکھ کر میرے پاس آﺅ اور میں سیلا میں خداوند کے آگے تمہارے لئے قرعہ ڈالونگا ۔
9 چنانچہ انہوں نے جا کر اس ملک میں سیر کی اور شہروں کے سات حصے کر کے ان کا حال کتاب میں لکھا اور سیلا کی خیمہ گاہ میں یشوع کے پا س لوٹے ۔
10 تب یشوع نے سیلا میں ان کے لئے خداوند کءحضور قرعہ ڈالا اور وہیں یشوع نے اس ملک کو بنی اسرائیل کی تقسیموں کے مطابق ان کو بانٹ دیا ۔
11 اور بنی بینمین کے قبیلہ کا قرعہ انکے گھرانوں کے مطابق نکلا اور انکے حصہ کی حد بنی یہوداہ اور بنی یوسف کے درمیان پڑی ۔
12 سو انکی شمالی حد یردن سے شروع ہو ئی اور یہ حد یریحو کے پاس سے شمال کی طرف گذر کر کوہستانی ملک سے ہوتی ہوئی مغرب کی طرف بیت آون کے بیابان تک پہنچی ۔
13 اور وہ حد وہاں سے لوز کو جو بیت ایل ہے گئی اور لوز کے جنوب سے اس پہاڑ کے برابر ہو تی ہوئی نیچے کے بیت حورون کے جنوب میں ہے عطارات ادار کو جا نکلی ۔
14 اور وہ مغرب کی طرف سے مڑ کر جنوب کو جھکی اور بیت حورون کو سامنے کے پہاڑ سے ہوتی ہوئی جنوب کی طرف بنی یہوداہ کے ایک شہر قریت بعل تک جو قریت یعریم ہے چلی گئی ۔یہ مغربی حصہ تھا ۔
15 اور جنوبی حد قریت یعریم کی انتہا سے شروع ہو ئی اور وہ حد مغرب کی طرف آب نفتوح کے چشمہ تک چلی گئی ۔
16 اور وہاں سے وہ حد اس پہاڑ کے سرے تک جو ہنوم کے بیٹے کی وادی کے سامنے ہے گئی ۔یہ رفائیم کی وادی کے شمال میں ہے اور پھر وہاں سے جنوب کی طرف ہنوم کی وادی اور یبوسیوں کے برابر سے گذرتی ہوئی عین راجل پہنچی ۔
17 وہاں سے وہ شمال کی طرف مڑ کر اور عین شمس سے گذر تی ہو ئی جلیلوت کو گئی جو ادمیم کی چڑھائی کے مقابل ہے اور وہاں سے روبن کے بیٹے بوہن کے پتھر تک پہنچی ۔
18 اورپھر شمال کو جا کر میدان کے مقابل رخ سے نکلتی ہوئی میدان ہی میں جا اتری ۔
19 پھر وہ حد وہاںسے بیت حجلہ کے شمالی پہلو تک پہنچی اور اس حد کا خاتمہ دریا ی شور کی شمالی کھاڑی پر ہوا جو یردن کے جنوبی سرے پر ہے ۔یہ جنوب کی حد تھی ۔
20 اور اس کی مشرقی سمت کی حد یردن ٹھہرا ۔بنی بنیمین کی میراث انکی چوگرد کی حدوں کے اعتبار سے اور انکے گھرانوں کے موافق یہ تھی۔
21 اور بنی بنیمین کے قبیلہ کے شہر انکے گھرانوں کے موافق یہ تھے ۔یریحو اور بیت حجلہ اور عیمق قصیص ۔
22 اور بیت عرابہ اور صمریم اور بیت ایل۔
23 اور عویم اور فارہ اور عفرہ ۔
24 اور کفر العمونی اور غفنی اور جبع ۔یہ بارہ شہر تھے اور ان کے گاﺅں بھی تھے ۔
25 اور جبعون اور رامہ اور بیروت۔
26 مصفاہ اور کفیرہ اور موضہ ۔
27 اور رقم اور ارفیل اور ترالہ ۔
28 اور ضلع الف اورر یبوسیوں کاشہر جو یروشلیم ہے اور جبعت اور قریت ۔یہ چودہ شہر ہیں اور ان کے گاﺅں بھی ہیں ۔بنی بینمین کی میراث انکے گھرانوں کے موافق یہ ہے ۔


باب 19

1 اور دورسرا قرعہ شمعون کے نام پر بنی شمعون کے قبیلہ کے واسطے انکے گھرانوں کے موافق نکلا اور انکی میراث بنی یہوداہ کی میراث کے درمیان تھی ۔
2 اور انکی میراث بیرسبع یا سبع تھا اور مولا دہ۔
3 اور حصار سعول اور بالاہ اور عضم ۔
4 اور التولد اور بتول اور حرمہ۔
5 اور صقلاح اور بیت مرکبوت اور حصار سوسہ ۔
6 اور بیت لباﺅت اور ساروحن ۔یہ تیرہ شہر تھے اور ان کے گاﺅں بھی تھے۔
7 عین اور رمون اور عتر اورعسن ۔یہ چار شہر تھے اور ان کے گاﺅں بھی تھے ۔
8 اور وہ سب گاﺅں بھی ان کے تھے جو ان شہروں کے آس پاس بعلات بیر یعنی جنوب کے رامہ تک ہیں ۔بنی شمعون کے قبیلہ کی میراث ان کے گھرانوں کے موافق یہ ٹھہری ۔
9 بنی یہوداہ کی ملکیت میں سے بنی شمعون کی میراث لی گئی کیونکہ بنی یہوداہ کا حصہ ان کے واسطے بہت زیادہ تھا ۔اس لئے بنی شمعون کو ان کی میراث کے درمیان میراث ملی ۔
10 اور تیسرا قرعہ بنی زبولون کا ان کے گھرانے کے موافق نکلا اور ان کی میراث کی حد سارید تک تھی ۔
11 اور ان کی حد مغرب کی طرف مرعلہ ہوتی ہوئی دباست تک گئی اور اس ندی سے جو یقعنام کے آگے ہے جا ملی ۔
12 اور سارید سے مشرق کی طرف مڑ کر وہ کسلوت تبور کی سرحد کو گئی اور وہاں سے دبرت ہوتی ہوئی یفیع کو جا نکلی ۔
13 اور وہاں سے مشرق کی طرف جتہ حیفر اورعتہ قاضین سے گذرتی ہوئی رمون کو گئی جو نیعہ ک پھیلا ہو ا ہے ۔
14 اور وہ حد اس کے شمال سے مڑ کر حناتون کو گئی اور اور اس کا خاتمہ افتاح ایل کی وادی پر ہوا ۔
15 اور قطات اور نحلال اور سمرون اور ادالہ اور بیت لحم ۔یہ بارہ شہر اور انکے گاﺅں ان لوگوں کے ٹھہرے ۔
16 یہ سب شہر اور ان کے گاﺅں بنی زبولون کے گھرانوں کے موافق انکی میراث ہے ۔
17 اور چوتھا قرعہ اشکار کے نام پر بنی اشکار کے لئے انکے گھرانوں کے موافق نکلا ۔
18 اور ان کی حد یزرعیل اور کسولوت اور شونیم ۔
19 اور حفاریم اور شیون اور اناخرات ۔
20 اور ربیت اور قسیون اور ابض ۔
21 اور ریمت اور عین جنیم اور عین حدہ اور بیت فصیص تک تھی ۔
22 اور وہ حد تبور اور شخصیماہ اور بیت شمس سے جاملی اور ان کی حد کا خاتمہ یردن پر ہوا۔ یہ سولہ شہر تھے اور ان کے گاﺅں بھی تھے ۔
23 یہ شہر اور انکے گاﺅں بنی اشکار کے گھرانوں کے موافق انکی میراث ہے ۔
24 اور پانچواں قرعہ بنی آشر کے قبیلہ کے لئے انکے گھرانوں کے موافق نکلا ۔
25 اور خلقت اور خلی اور بطن اور اکشاف ۔
26 اور الملک اور عماد اور مسال انکی حد ٹھہرے اور مغرب کی طرف کرمل اور سیحور لبنات تک پہنچی ۔
27 اور وہ مشرق کی طرف مڑ کر بیت دجون کو گئی اور پھر زبولون تک اور وادی افتاح ایل کے شمال سے ہوکر بیت العمق اور نفی ایل تک پہنچی اور پھر کبول کے بائیں کو گئی ۔
28 اور عبرون اور رحوب اور حمون اور قاناہ بلکہ بڑے صیدا تک پہنچی ۔
29 پھر وہ حد رامہ ضور کے فصیل دار شہر کی طرف کو جھکی اور وہاں سے مڑ کر حوسہ تک گئی اور اس کا خاتمہ اکزیب کی نواحی کے سمندر پر ہوا ۔
30 اور عمہ اور افیق اور رحوب بھی انکو ملے ۔یہ بائیس شہر تھے اور انکے گاﺅں بھی تھے ۔
31 بنی آشر کے قبیلہ کی میراث انکے گھرانوں کے موافق یہ شہر او ان کے گاﺅں تھے ۔
32 چھٹا قرعہ بنی نفتالی کے نام پر بنی نفتالی کے قبیلہ کے لئے ان کے گھرانوں کے موافق نکلا۔
33 اور ن کی سرحد حلف سے ضعننیم کے بلوط سے ادامی نقب اور یبنی ایل ہوتی ہوئی لقوم تک تھی اور اسکا خاتمہ یردن پر ہوا ۔
34 اور وہ حد مغرب کی طرف مڑ کر ازنوت تبور سے گذرتی ہوئی حقوق کو گئی اور جنوب میں زبولون تک اور مغرب میں آشر تک اور مشرق میں یہوداہ کے حصہ کے یردن تک پہنچی ۔
35 اور فصیل دار شہر یہ ہیں یعنی صدیم اور صیر اور حمات اور رقت اورر کنرت ۔
36 اور ادامہ اور رامہ اور حصور ۔
37 اور قادس اور ادرعی اور عین حصور۔
38 اور اردن اور مجدال ایل اور حریم اور بیت عنات اور بیت شمس ۔
39 یہ انیس شہر تھے اور انکے گاﺅں بھی تھے ۔یہ شہر اور انکے گاﺅں بنی نفتالی کے قبیلہ کے گھرانوں کے موافق انکی میراث ہے ۔
40 اور ساتواں قرعہ بنی دان کے قبیلہ کے لئے انکے گھرانوں کے موافق نکلا۔ ا
41 ور انکی میراث کی حد یہ ہے ۔صرعاہ اور استال اور عیر شمس ۔
42 اور شعلبین اور ایالون اور اتلاہ۔
43 اور ایلون اور تمناتہ اور عقرون ۔
44 اور التقیہ اور جنتتون اور بعلات ۔
45 اور یہوداور بنی برق اور جات رمون ۔
46 اور مے یرقون اور رقون مع اس سرحد کے جو یافہ کے مقابل ہے۔
47 اور بنی دان کی حد انکی اس حد کے علاوہ بھی تھی کیونکہ بنی دان نے جاکر لشم سے جنگ کی اور اسے سر کر کے اس کو تلوار کی دھار سے مارا اوت اس پر قبضہ کر کے وہاں بسے اور اپنے باپ دان کے نام پر لشم کا نام دان رکھا۔
48 یہ سب شہر اور ان کے گاﺅں بنی دان کے قبیلہ کے گھرانوں کے موافق ان کی میراث ہے ۔
49 پس وہ اس ملک کومیراث کے لئے اکی سرحدوں کے مطابق تقسیم کرنے سے فارغ ہوئے اور بنی اسرائیل نے نون کے بیٹے یشوع کو اپنے درمیان میراث دی۔
50 انہوں نے خداوند کے حکم کے مطابق وہی شہر جسے اس نے مانگا تھا یعنی افرائیم کے کوہستانی ملک کا تمنت سرح اسے دیا اور وہ اس شہر کو تعمیر کر کے اس میں بس گیا ۔
51 یہ وہ میراثی حصے ہیں جن کو الیعز ر کاہن اور نون کے بیٹے یشوع اور بنی اسرائیل کے قبیلوں کے آبائی خاندانوں کے سرداروں نے سیلا میں خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور قرعہ ڈالکر میراث کے لئے تقسیم کیا ۔ یوں وہ اس ملک کی تقسیم سے فارغ ہوئے۔


باب 20

1 اورداوند نے یشوع سے کہا کہ ۔
2 بنی اسرائیل سے کہہ کہ اپنے لئے پناہ کے شہر جنکی بابت میں نے موسیٰ کی معرفت تم کو حکم کیا مقرر کرو۔
3 تا کہ وہ خونی جو بھول سے اور نادانستہ کسی کو مارڈالے وہاں بھاگ جائے اور وہ خون کے انتقا م لینے والے سے تمہاری پناہ ٹھہریں ۔
4 وہ ان شہروں میں سے کسی میں بھاگ جائے اور اس شہر کے دروازہ پر کھڑا ہو کر اس شہر کے بزرگوں کو اپنا حال کہہ سنائے۔ تب وہ اسے شہر میں اپنے ہاں لے جا کر کوئی جگہ دیں تاکہ وہ ان کے درمیان رہے ۔
5 اور اگر خون کا انتقام لینے والا اس کا پیچھا کرے تو وہ اس خونی کو اس کے حوالہ نہ کریں کیونکہ اس نے اپنے پروسی کو نادانستہ مارا اور پہلے سے اس کی اس سے عداوت نہ تھی ۔
6 اور وہ جب تک فیصلہ کے لئے جماعت کے آگے کھڑا نہ ہو اور ان دونوں کا سردار کاہن مر نہ جائے تب تک اسی شہر میں رہے ۔اس کے بعد وہ خونی لوٹ کر اپنے شہر اور اپنے گھر میں یعنی اسی شہر میں آئے جہاں سے وہ بھاگا تھا ۔
7 پس انہوں نے نفتالی کے کوہستانی ملک میں جلیل کے قادس کو اور افرائیم کے کوہستانی ملک میں سکم کو اور یہوداہ کے کوہستانی ملک میں قریت اربع کو جو حبرون ہے الگ کیا ۔
8 اور یریحو کے پاس کے یردن کے مشرق کی طرف روبن کے قبیلہ کے میدان میں بصر کو جو بیابان میں ہے اور جد کے قبیلہ کے حصہ میں رامہ کو جو جلعاد میں ہے اور منسی کے قبیلہ کے حصہ میں جولان کو جو بسن میں ہے مقرر کیا۔
9 یہی وہ شہر ہیں جو سب بنی اسرائیل اور ان مسافروں کے لئے جو ان کے درمیان بستے ہیں اسلئے ٹھہرائے گئے کہ جو کوئی نادانستہ کسی کو قتل کرے وہ وہاں بھاگ جائے اور جب تک وہ جماعت کے آگے کھڑا نہ ہو تب تک خون کے انتقام لینے والے کے ہاتھ سے مارا نہ جائے ۔


باب 21

1 تب لاویوں کے آبائی خاندانوں کے سردار الیعزر کاہن اور نون کے بیٹے یشوع اور بنی اسرائیل کے قبیلوں کے آبائی خاندان کے سرداروں کے پاس آئے ۔
2 اورر ملک کنعان کے سیلا میں اس سے کہنے لگے کہ خداوند نے موسیٰ کی معرفت ہمارے رہنے کےلئے شہر اور ہمارے چوپایوں کے لئے ان کی نواحی کے دینے کا حکم دیا تھا ۔
3 سو بنی اسرائیل نے اپنی اپنی میراث میں سے خداوند کے حکم کے مطابق یہ شہر اور ان کی نواحی لاویوں کو دی ۔
4 اور قرعہ قہاتیوں کے گھرانوں کے نام نکلا اور ہارون کاہن کی اولاد کو جو لاویوں میں سے تھی قرعہ سے یہوداہ کے قبیلہ اور شمعون کے قبیلہ اور بنیمین کے قبیلہ میں سے تیرہ شہر ملے ۔
5 اور باقی بنی قہات کو افرائیم کے قبیلہ کے گھرانوں اور دان کے قبیلہ اور منسی کے آدھے قبیلہ میں سے دس شہر قرعہ سے ملے ۔
6 اور بنی جیرسون کو اشکار کے قبیلہ کے گھرانوں اور آشر کے قبیلہ اور نفتالی کے قبیلہ اور منسی کے آدھے قبیلہ میں سے جو بسن میں ہے تیرہ شہر قرعہ سے ملے۔
7 اور بنی مراری کو ان کے گھرانوں کے مطابق روبن کے قبیلہ اور جد کے قبیلہ اور زبولون کے قبیلہ میں سے بارہ شہر ملے ۔
8 اور بنی اسرائیل نے قرعہ ڈال کر ان شہروں اور انکی نواحی کو جیسا خداوند نے موسیٰ کی معرفت فرمایا تھا لاویوں کو دیا ۔
9 انہوں نے بنی یہوداہ کے قبیلہ اور بنی شمعون کے قبیلہ میں سے یہ شہر دئے جن کے نام یہاں مذکور ہیں ۔
10 اور یہ قہاتیوں کے خاندانو ں میں سے جو لاوی کی نسل میں سے تھے بنی ہارون کو ملے کیونکہ پہلا قرعہ ان کے نام کا تھا ۔
11 سو انہوں نے یہوداہ کے کوہستانی ملک میں عناق کے باپ اربع کے شہر قریت اربع جو حبرون کہلاتا ہے مع اس کی نواحی کے ان کو دیا۔
12 لیکن اس شہر کے کھیتوں اور گاﺅں کو انہوں نے یفنہ کے بیٹے کالب کو میراث کے طور پر دیا ۔
13 سو انہوں نے ہارون کاہن کی اولاد کو حبرون جو خونی کی پناہ کا شہر تھا اور اس کی نواحی اور لبناہ اور اسکی نواحی ۔
14 اور یتیر اور اسکی نواحی اقر استموع اور اس کی نواحی ۔
15 اور حولون اور اس کی نواحی اور دبیر اور اس کی نواحی ۔
16 اور عین اور اس کی نواحی اور یوطہ اور اس کی نواحی اور بیت شمس اور اس کی نواحی یعنی یہ نو شہر ان دونوں قبیلوں سے لے کر دئے ۔
17 اور بینمین کے قبیلہ سے جبعون اور اس کی نواحی اور جبع اور اس کی نواحی ۔
18 اور عنوت اور اس کی نواحی اور علمون اور اس کی نواحی ۔یہ چار شہر دئے گئے ۔
19 سو بنی ہارون کے جو کاہن ہیں سب شہر تیرہ تھے جن کے ساتھ ان کی نواحی بھی تھی۔
20 اور بنی قہات کے گھرانوں کو جو لاوی تھے یعنی باقی بنی قہات کو افرائیم کے قبیلہ سے یہ شہر قرعہ سے ملے ۔
21 اور انہوں نے افرائیم کے کوہستانی ملک میں ان کو سکم شہر اور اس کی نواحی تو خونی کی پناہ کے لئے اور جزر اور اس کی نواحی ۔
22 اور قبضیم اور اس کی نواحی اور بیت حورون اور اس کی نواحی یہ چار شہر دئے ۔
23 اور دان کے قبیلہ سے التقیہ اور اس کی نواحی اور جبتون اور اس کی نواحی۔
24 اور ایالون اور اسکی نواحی اور جات رمون اور اس کی نواحی ۔یہ چار شہر دئے ۔
25 اور منسی کے آدھے قبیلہ سے تعناک اور اس کی نواحی اور جات رمون اور اس کی نواحی ۔یہ دو شہر دئے ۔
26 باقی بنی قہات کے گھرانوں کے سب شہر اپنی اپنی نواحی سمیت دس تھے ۔
27 اور بنی جیرسون کو جو لاویوں کے گھرانوں میں سے ہیں منسی کے دوسرے آدھے قبیلہ میں سے انہوں نے بسن میں جولان اور اس کی جواحی تو خونی کی پناہ کے لئے اور بعستراہ اور اس کی نواحی یہ دو شہر دئے ۔
28 اور اشکار کے قبیلہ سے قسیون اور اس کی نواحی اوردبرت اور اس کی نواحی ۔
29 یرموت اور اس کی نواحی اور عین جنیم اور اس کی نواحی ۔یہ چار شہر دئے۔
30 اور آشر کے قبیلہ سے مسال اوراس کی نواحی اور عبدون اورا سکی نواحی۔
31 خلقت اور اس کی نواحی اور رحوب اور اس کی نواحی۔ یہ چار شہر دئے ۔
32 اور نفتالی کے قبیلہ سے جلیل میں قادس اور اس کی نواحی تو خونی کی پناہ کے لئے اور حمات دور اور اسکی نواحی اور قرتان اور اس کی نواحی ۔یہ تین شہر دئے ۔
33 سو جیرسونیوں کے گھرانوں کے مطابق ان کے سب شہر اپنی اپنی نواحی کے سمیت تیرہ تھے۔
34 اور بنی مراری کے گھرانوں کو جو باقی لاوی تھے زبولون کے قبیلہ سے یقنعام اورا سکی نواحی ۔قرتاہ اور اس کی نواحی۔
35 دمنہ اور اس کی نواحی نہلال اور اس کی نواحی ۔یہ چار شہر دئے ۔
36 اور روبن کے قبیلہ سے بصر اور اس کی نواحی ۔یصہ اور اس کی نواحی۔
37 قدیمات اور اس کی نواحی اور مفعت اور ا سکی نواحی ۔یہ چار شہر دئے ۔
38 اور جد کے قبیلہ سے جلعادمیں رامہ اور اس کی نواحی تو خونی کی پناہ کے لئے اور محنایم اورا س کی نواحی ۔
39 حسبون اور اس کی نواحی ۔یعزیر اوراس کی نواحی ۔کل چار شہر دئے ۔
40 سو یہ سب شہر ان کے گھرانوں کے مطابق بنی مراری کے تھے ۔جو لاویوں کے گھرانوں کے باقی لوگ تھے ان کو قرعہ سے بارہ شہر ملے۔
41 پس بنی اسرائیل کی ملکیت کے درمیان لاویوں کے سب شہر اپنی اپنی نواحی سمیت اڑتالیس تھے ۔
42 ان شہروں میں سے ہر ایک شہر اپنے گرد کی نواحی سمیت تھا ۔سب شہر ایسے ہی تھے ۔
43 یو ں خداوند نے اسرائیلیوں کا وہ سارا ملک دیا جسے ان کے باپ داد ا کو دینے کی قسم اس نے کھائی تھی اور وہ اس پر قابض ہو کر اس میں بس گئے ۔
44 اور خداوند نے ان سب باتوں کے مطابق جن کی قسم اس نے ان کے باپ دادا سے کھائی تھی چاروں طرف سے انکو آرام دیا اور ان کے سب دشمنو ں میں سے ایک آدمی بھی ان کے سامنے کھڑا نہ رہا۔ خداوند نے ان کے سب دشمنوں کو ان کے قبضہ میں کر دیا ۔
45 اور جتنی اچھی باتیں خداوند نے اسرائیل کے گھرانے سے کہی تھیں ان میں سے ایک بھی نی چھوٹی ۔سب کی سب پوری ہوئیں ۔


باب 22

1 اس وقت روبینیوں اور جدیوں اور منسی کے آدھے قبیلہ کو بلا کر ۔
2 ان سے کہا کہ سب کچھ جو خداوند کے بندہ موسیٰ نے تم کو فرمایا تم نے مانا اور جو کچھ میں نے تم کو حکم دیا اس میں تم نے میری بات مانی ۔
3 تم نے اپنے بھائیوں کو اس مدت میں آج کے دن تک نہیں چھوڑا بلکہ خداوند اپنے خدا کے حکم کی تاکید پر عمل کیا ۔
4 اور اب خداوند تمہارے خدا نے تمہارے بھائیوں کو جیسا اس نے ان سے کہا تھا آرام بخشا ہے سو تم اب لوٹ کر اپنے اپنے ڈیرے کواپنی میراثی سر زمین میں جو خدا وند کے بندہ موسیٰ نے یردن کے اس پار تم کو دی ہے چلے کاﺅ ۔
5 فقط اس فرمان اور شرع پر عمل کرنے کی نہایت احتیاط رکھنا جسکا حکم خداوند کے بندہ موسیٰ نے تم کو دیا کہ تم خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو اور اس کی سب راہوں پر چلو اور اس کے حکموں کو مانو اور اس سے لپٹے رہو اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے اس کی بندگی کرو ۔
6 اور یشوع نے برکت دے کر ان کو رخصت کیا اور وہ اپنے اپنے ڈیرے کو چلے ۔
7 منسی کے آدھے قبیلہ کو تو موسیٰ نے بسن میں میراث دی تھی لیکن اس کے دوسرے آدھے کو یشوع نے ان کے بھائیوں کے درمیان یردن کے اس پار مغرب کی طرف حصہ دیا اور جب یشوع نے انکو بھی برکت دے کر ۔
8 ان سے کہا کہ بڑی دولت اور بہت سے چوپائے اور چاندی اور سونا اور پیتل اور لوہا اور بہت سی پوشاک لیکر تم اپنے اپنے ڈیرے کو لوٹو اور اپنے دشمنوں کے مال غنیمت کو اپنے بھائیوں کے ساتھ بانٹ لو۔
9 تب بنی روبن اور بنی جد اور منسی کا آدھا قبیلہ لوٹے اور وہ بنی اسرائیل کے پاس سے سیلا سے جو ملک کنعان میں ہے روانہ ہوئے تا کہ وہ اپنے میراثی ملک جلعاد کو لوٹ جائیں جس کے مالک وہ خداوند کے اس حکم کے مطابق ہو ئے تھے جو اس نے موسیٰ کی معرفت دیا تھا ۔
10 اور جب وہ یردن کے پاس کے اس مقام میں پہنچے جو ملک کعنان میں ہے تو بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ نے وہاں یردن کے پاس ایک مذبح جو دیکھنے میں بڑا مذبح تھا بنایا ۔
11 اور بنی اسرائیل کے سننے میں آیا کہ دیکھو بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ نے ملک کنعان کے سامنے یردن کے گرد کے مقام میں اس رخ پر جو بنی اسرائیل کا ہے ایک مذبح بنایا ہے۔
12 جب بنی اسرائیل نے یہ سنا تو بنی اسرائیل کی ساری جماعت سیلا میں فراہم ہوئی تا کہ ان پر چڑھ جائے اور لڑے ۔
13 اور بنی اسرائیل نے الیعزر کاہن کےے بیٹے فینحاس کو بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ کے پاس جو ملک جلعاد میں تھے بھیجا ۔
14 اور بنی اسرائیل کے قبیلہ سے ہر ایک کے آبائی خاندان سے ایک امیر کے حساب سے دس امیر اس کے ساتھ کئے ۔ان میں سے ہر ایک ہزار د رہزار اسرائیلیوں میں سے آبائی خاندان کا سردار تھا ۔
15 سووہ بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ کے پاس ملک جلعاد میں آئے اور ان سے کہاکہ ۔
16 خداوند کی ساری جماعت یہ کہتی ہے کہ تم نے اسرائیل کے خدا سے یہ کیا سر کشی کی کہ آج کے دن خداوند کی پیروی سے برگشتہ ہو کر اپنے لئے ایک مذبح بنایا ور آج کے دن تم خداوند باغی ہو گئے ؟
17 کیا ہمارے لئے فغوز کی بد کاری کچھ کم تھی جس سے ہم آج کے دن تک پاک نہیں ہوئے ۔ اگرچہ خداوند کی جماعت میں وبا بھی آئی کہ۔
18 تم آج کے دن خداوند کی پروی سے برگشتہ ہوتے ہو؟اور چونکہ تم آج خداوند سے باغی ہوتے ہو اس لئے کل یہ ہو گا کہ اسرائیل کی ساری جماعت پر اس کا قہر نازل ہو گا ۔
19 اور اگر تمہارا میراثی ملک ناپاک ہے تو تم خداوند کے میراثی ملک میں پار آجاﺅ جہاں خداوند کا مسکن ہے اور ہمارے درمیان میراث لو لیکن خداوند ہمارے خدا کے مذبح کے سوا پنے لئے کوئی اور مذبح بنا کر نہ تو خداوند سے باغی ہو اور نہ ہم سے بغاوت کرو ۔
20 کیا زارح کے بیٹے عکن کی خیانت کے سبب سے جو ا س نے مخصوص کی ہوئی چیز میں کی اسرائیل کی ساری جماعت پر غضب نازل نہ ہو؟وہ شخص اکیلا ہی اپنی بدکاری میں ہلاک نہیں ہوا ۔
21 تب بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ نے ہزار درہزار اسرائیلیوں کے سرداروں کو جواب دیا کہ ۔
22 خداوند خداﺅں کا خدا خداوند خداﺅں کا خدا جانتا ہے اور اسرائیلی بھی جان لیں گے ۔اگر اس میں بغاوت یا خداوند کی مخالفت ہے (تو تو ہم کو آج جیتا نہ چھوڑ)۔
23 اگر ہم نے آج کے دن اس لئے یہ مذبح بنایا ہو کہ خداوند سے برگشتہ ہو جائیں یا ا س پر سوختنی قربانی یا نذر کی قربانی یا سلامتی کے زبیحے چڑھائیں تو خداوند ہی اسکا حساب لے ۔
24 بلکہ ہم نے اس خیال اور غرض سے یہ کیا کہ کہیں آیندہ زمانہ میں تمہاری اولاد ہماری اولاد سے یہ نہ کہنے لگے کہ تم کو خداوند اسرائیل کے خدا سے کیا لینا ہے ؟
25 کیونکہ خداوند نے تو ہمارے اور تمہارے درمیان اے بنی روبن اور بنی جد یردن کو حد ٹھہرایا ہے ۔سو خداوند میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے ۔یوں تمہاری اولا د ہماری اولاد سے خداوند کا خوف چھڑا دے گی ۔
26 اس لئے ہم نے کہا کہ آﺅ ہم اپنے لئے ایک مذبح بنانا شروع کریں جو نہ سوختنی قربانی کے لئے ہو اور نہ ذبیحہ کے لئے ۔
27 بلکہ وہ ہمارے اور تمہارے اور ہمارے بعد ہماری نسلوں کے درمیان گواہ ٹھہرے تا کہ ہم خداوند کے حضور ا س کی عبادت اپنی سوختنی قربانیوں اور اپنے ذبیحوں اور سلامتی کے ہدیوں سے کریں اور آیندہ زمانہ میں تمہاری اولاد ہماری اولاد سے کہنے نہ پائے کہ خداوند میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ۔
28 اس لئے ہم نے کہا کہ جب وہ ہم سے یا ہماری اولاد سے آیندہ زمانہ میں یوں کہینگے تو ہم ان کو جواب دینگے کہ دیکھو خداوند کے مذبح کا نمونہ جسے ہمارے باپ دادا نے بنایا ۔یہ نہ سوختنی قربانی کے لئے ہے اور نہ ذبیحہ کے لئے بلکہ یہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ ہے ۔
29 خدا نہ کرے کہ ہم خداوند سے باغی ہو ں اور آج خداوند کی پیروی سے برگشتہ وہ کر خداوند اپنے خدا کے مذبح کے سوا جو اس کے خیمہ کے سامنے ہے سوختنی قربانی اور نذر کی قربانی اور ذبیحہ کے لئے کوئی مذبح بنائیں ۔
30 جب فینحاس کاہن اور جماعت کے امیروں یعنی ہزار در ہزار اسرائیلیوں کے سرداروں نے جو اس کے ساتھ آئے تھے یہ باتیں سنیں جو بنی روبن اور بنی جد او ر بنی منسی نے کہیں تو وہ بہت خوش ہوئے ۔
31 تب الیعزر کے بیٹے فینحاس کاہن نے بنی روبن اور بنی جد اور بنی منسی سے کہا آج ہم نے جان لیا کہ خداوند ہمارے دمیان ہے کیونکہ تم سے خداوند کی یہ خطا نہیں ہوئی ۔سو تم نے بنی اسرائیل کو خداوند کے ہاتھ سے چھڑا لیا ۔
32 اور الیعزر کاہن کا بیٹا فینحاس اور وہ سردار جلعاد سے بنی روبن اور بنی جد کے پاس سے ملک کنعان میں بنی اسرائیل کے پاس لوٹ آئے اور ان کو یہ ماجرا سنایا ۔
33 تب بنی اسرائیل اس بات سے خوش ہوئے اور بنی اسرائیل کی خدا کی حمد کی اور پھر جنگ کے لئے ان پر چڑھائی کرنے اور اس ملک کو تباہ کرنے کا نام نہ لیا جس میں بنی روبن اور بنی جد رہتے تھے ۔
34 تب بنی روبن اور بنی جد نے اس مذبح کا نام عید یہ کہہ کر رکھا کہ وہ ہمارے درمیان گواہ ہے کہ یہواہ خدا ہے ۔


باب 23

1 اس کے بہت دنوں بعد جب خداوند نے بنی اسرائیل کو ان کے سب گردا گرد کے دشمنوں سے آرام دیا اور یشوع بڈھا اور عم رسیدہ ہوا ۔
2 تو یشوع نے سب اسرائیلیوں اور ان کے بزرگوں اور سرداروں اور قاضیوں اور منصبداروں اور بلواکر ان سے کہا کہ میں بڈھا اور عمر رسیدہ ہوں ۔
3 اور جو کچھ خداوند تمہارے خدا نے تمہارے سبب سے ان سب قوموں کے ساتھ کیا وہ سب تم دیکھ چکے ہو کیونکہ خداند تمہارے خدا نے آپ تمہارے لئے جنگ کی ۔
4 دیکھو میں نے قرعہ ڈال کر ان باقی قوموں سمیت جنکو میں نے کاٹ ڈالا یردن سے لیکر مغرب کی طرف بڑے سمندر تک تمہارے قبیلوں کی میراث ٹھہریں ۔
5 اور خداوند تمہارا خدا ہی انکو تمہارے سامنے سے نکالے گا اور تمہاری نظر سے انکو دور کردیگا اور تم ان کے ملک پر قابض ہو گے جیساخداوند تمہارے خدا نے تم سے کہا ہے ۔
6 سو تم خوب ہمت باندھ کر جو کچھ موسیٰ کی شریعت کی کتاب میں لکھا ہے اس پر چلنا اور عمل کرنا تاکہ تم اس سے دہنے یا بائیں ہاتھ کونہ مڑ و۔
7 اور ان قوموں میں جو تمہارے درمیان ہنوز باقی ہیں نہ جاﺅ اور نہ انکے دیوتاﺅں کے نام کا ذکر کرو اور نہ ان کی قسم کھلاﺅ اور نہ ان کی پرستش کرو اور نہ انکو سجدہ کرو ۔
8 بلکہ خداوند اپنے خدا سے لپٹے رہو جیسا تم نے آج تک کیا ہے ۔
9 کیونکہ خداوند نے بڑی بڑی اور زور آور قوموں کو تمہارے سامنے سے دفع کیا بلکہ تمہارا یہ حال رہا کہ آج تک کوئی آدمی تمہارے سامنے ٹھہر نہ سکا ۔
10 تمہارا ایک ایک مرد ایک ایک ہزار کو رگیدے گا کیونکہ خداوند تمہارا خدا ہی تمہارے لئے لڑتا ہے جیسا اس نے تم سے کہا ۔
11 پس تم خوب چوکسی کرو کہ خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو ۔
12 ورنہ اگر تم کسی طرح برگشتہ ہو کر ان قوموں کے بقیہ سے یعنی ان سے جو تمہارے درمیان باقی ہیں شیرو شکر ہو جاﺅ اور ان کے ساتھ بیاہ شادی کرو اور ان سے ملو اور وہ تم سے ملیں ۔
13 تو یقین جانو کہ خداوند تمہارا خدا پھر ان قوموں کو تمہارے سامنے سے دفع نہیں کریگا بلکہ یہ تمہارے لئے جال اور پھندا اور تمہارے پہلوﺅں کے لئے کوڑے اورر تمہاری آنکھوں میں کانٹوں کی طرح ہونگی ۔یہاں تک کہ تم اس اچھے ملک سے جسے خداوند تمہارے خدا نے تمکو دیا ہے نابود ہو جاﺅگے۔
14 اور دیکھو میں آج اسی راستے جانے والا ہوں جو سارے جہان کا ہے اور تم خوب جانتے ہو کہ ان سب اچھی باتوں میں سے جو خداوند تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی ان میں سے رہ نہ گئی ۔
15 سو ایساہوگا کہ وہ سب بھلائیاں جن کا خداوند تمہارے خدا نے ذکر کیا تھا تمہارے آگے آئیں اسی طرح خداوند سب برائیاں تم پر لائے گا جب تک کہ اس اچھے ملک سے جو خداوند تمہارے خدا نے تم کو دیا ہے وہ تم کو نیست نابود نہ کر ڈالے۔
16 جب تم خداوند اپنے خدا کے اس عہد کو جس کا حکم اس نے تمکو دیا توڑ ڈالو اور جا کر اور معبودوں کی پرستش اور ان کے آگے سجدہ کرنے لگو تو خداوند کا قہر تم پر بھڑکے گا اور تم اس اچھے ملک سے جواس نے تم کو دیا ہے جلد ہلاک ہو جاﺅ گے۔


باب 24

1 اس کے بعد یشوع نے اسرائیل کے سب قبیلوں کو سکم میں جمع کیا اور اسرائیل کے بزرگوں اور سرداروں اور قاضیوں اور منصبداروں کو بلوایا اور وہ خدا کے حضور حاضر ہوئے۔
2 تب یشوع نے ان سے لوگوں سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تمہارے ابا یعنی ابراہام اور بحور کا باپ تارح وغیرہ قدیم زمانہ میں بڑے دریا کے پار رہتے اور دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے تھے۔
3 اور میں نے تمہارے باپ ابراہا م کو بڑے دریا سے لے کر کعنان کے سارے ملک میں اسکی رہبری کی اور اسکی نسل کو بڑھایا اور اسکو اضحاق عنایت کیا۔
4 اور میں نے اضحاق کو عیسو اور یعقوب بخشے اور عیسو کو کوہ شعیر دیا کہ وہ اس کا مالک ہو اور یعقوب اپنی اولاد سمیت مصر میں گیا۔
5 اور میں نے موسیٰ اور ہارون کو بھیجا اور مصر پر جو جو میں نے اس میں کیا اس کے مطابق میری مار پڑی اور اس کے بعد میں تم کو نکال لایا۔
6 تمہارے باپ دادا کو میں نے مصر سے نکالا اور تم سمندر پر آئے۔ تب مصریوں نے رتھوں اور سواروں کو لے کر بحر قلزم تک تمہارے باپ دادا کا پیچھا کیا۔
7 اور جب انہوں نے خداوند سے فریاد کی تو اس نے تمہارے اور مصریوں کے درمیان اندھیرا کر دیااور سمندر کو ان پر چڑھا لایا اور ان کو چھپا دیا اور تم نے جو کچھ میں نے مصر میں کیا اپنی آنکھوں سے دیکھا اور تم بہت دنوں تک بیابان میں رہے۔
8 پھر میں تم کو اموریوں کے ملک میں جو یردن کے اس پار رہتے تھے لے آیا۔ وہ تم سے لڑے اور میں نے تم ان کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا اور تم نے ان کے ملک میں قبضہ کر لیا اور میں نے ان کو تمہارے آگے سے ہلاک کیا۔
9 پھر صفور کا بیٹا بلق موآب بادشاہ اٹھ کر اسرائیلیوں سے لڑا اور تم پر لعنت کرنے کو بعور کے بیٹے بلعام کو بلوا بھیجا۔
10 پر میں نے نہ چاہا کہ بلعام کی سنوں۔ اس لئے وہ تم کو برکت ہی دیتا گیا۔ سو میں نے تم کو اس کے ہاتھ سے چھڑایا۔
11 پھر تم یردن پار ہو کر یریحو کو آئے اور یریحو کے لوگ یعنی اموری اور فرزی اور کعنانی اور حتی اور جرجاسی اور حوی اور یبوسی تم سے لڑے اور میں نے ان کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔
12 اور میں نے تمہارے آگے زنبوروں کو بھیجا جنہوںنے دونوں اموری بادشاہوں کو تمہارے سامنے سے بھگا دیا۔ یہ نہ تمہاری تلوار اور نہ تمہاری کمان سے ہوا۔
13 اور میں نے تم کو وہ ملک جس پر تم نے محنت نہ کی اور وہ شہر جن کو تم نے بنایا نہ تھا عنائت کئے اور تم ان میں بسے ہو اور تم ایسے تاکستانوں اور ایسوں زیتون کے باغوں کا پھل کھاتے ہو جن کو تم نے نہیں لگایا۔
14 پس تم خداوند کا خوف رکھو اور نیک نیتی اور صداقت سے اسکی پرستش کرو اور ان دیوتاﺅں کو دور کر دو جن کی پرستش تمہارے باپ دادا دریا کے پار اور مصر میں کرتے تھے اور خداوند کی پرستش کرو۔
15 اور اگر خداوند کی پرستش تمہیں بری معلوم ہوتی ہے تو آج ہی اسے جس کی تم پرستش کرو گے چن لو۔ خواہ وہ وہی دیوتا ہوں جن کی پرستش تمہارے باپ دادا بڑے دریا کے اس پار کرتے تھے یا اموریوں کے دیوتا ہوں جن کے ملک میں تم بسے ہو۔ اب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سو ہم تو خداوند کی پرستش کریں گے۔
16 تب لوگوں نے جواب دیا کہ خدا نہ کرے کہ ہم خداوند کو چھوڑ کر اور معبودوں کی پرستش کریں۔
17 کیونکہ خداوند ہمارا خدا وہی ہے جس نے ہم کو اور ہمارے باپ دادا کو ملک مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکالا اور وہ بڑے بڑے نشان ہمارے سامنے دکھائے اور سارے راستہ جس میں ہم چلے اور ان سب قوموں کے درمیان جن میں سے ہم گزرے ہم کو محفوظ رکھا۔
18 اور خداوند نے سب قوموں یعنی اموریوں کو جو اس ملک میں بستے تھے ہمارے سامنے سے نکال دیا۔ سو ہم بھی خداوند کی پرستش کریں گے کیونکہ وہ ہمارا خدا ہے۔ یشوع نے لوگوں سے کہا تم خداوند کی پرستش نہیں کر سکتے کیونکہ وہ پاک خدا ہے۔ وہ غیور خدا ہے۔ وہ تمہاری خطائیں اور تمہارے گناہ نہیں بخشے گا۔
19 اگر تم خداوند کو چھوڑ کر اجنبی معبودوں کی پرستش کرو تو اگرچہ وہ تم سے نیکی کرتا رہا ہے تو بھی وہ پھر کر تم سے برائی کرے گا اور تم کو فنا کر ڈالے گا۔
20
21 لوگوں نے یشوع سے کہا نہیں ہم پھر بھی خداوند ہی کی پرستش کریں گے۔
22 یشوع نے لوگوں سے کہا تم آپ ہی اپنے گواہ ہو کہ تم نے خداوند کو چنا ہے کہ اس کی پرستش کرو۔ انہوں نے کہا ہم گواہ ہیں۔
23 تب اس نے کہا پس اب تم اجنبی معبودوں کو جو تمہارے درمیان ہیں دور کر دو اور اپنے دلوں کو خداوند اپنے خدا کی طرف مائل کرو۔
24 لوگوں نے یشوع سے کہا ہم خداوند اپنے خدا کی پرستش کریں گے اور اسی کی بات مانیں گے۔
25 سو یشوع نے اسی روز لوگوں کے ساتھ عہد باندھا اور ان کےلئے سکم میں آئیں اور قانون ٹھہرایا۔
26 اور یشوع نے یہ باتیں خدا کی شریعت کی کتا ب میں لکھ دیں اور ایک بڑا پتھر لے کر اسے وہیں اس بلوط کے درخت کے نیچے جو خداوند کے مقدس کے پاس تھا نصب کیا۔
27 اور یشوع نے سب لوگوں سے کہا کہ دیکھو یہ پتھر ہمارا گواہ رہے کیونکہ اس نے خداوند کی سب باتیں جو اس نے ہم سے کہیں سنی ہیں اس لئے یہی تم پر گواہ رہے تا نہ ہو کہ تم اپنے خداوند کا انکار کر جاﺅ۔
28 پھر یشوع نے لوگوں کو ان کی اپنی اپنی میراث کی طرف رخصت کر دیا۔
29 اور ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ نون کا بیٹ یشوع خڈاوند کا بندہ ایک سو دس برس کا ہو کر رحلت کر گیا۔
30 اور انہوں نے اسی کی میراث کی حد پر تمنت سرح میں جو افرائیم کے کوہستانی ملک میں کوہ جعس کے شمال کی طرف کو ہے اسے دفن کیا۔
31 اور اسرائیلی خدا کی پرستش یشوع کے جیتے جی اور ان بزرگوں کے جیتے جی کرتے رہے جو یشوع کے بعد زندہ رہے اور خداوند کے سب کاموں سے جو اس نے اسرائیلیوں کے لئے کئے واقف تھے۔
32 اور انہوں نے یوسف کی ہڈیوں کو جن بنی اسرائیل مصر سے لے آئے تھے سکم میں اس زمین کے قطعہ میں دفن کیا جسے یعقوب نے سکم کے باپ حمور کے بیٹوں سے چاندی کے سو سکوں میں خریدا تھا اور وہ زمین بنی یوسف کی میراث ٹھہری۔
33 اور ہارون کے بیٹے الیعرز نے رحلت کی اور انہوں نے اسے اس کے بیٹے فنحاس کی پہاڑی پر دفن کیا جو افرائیم کے کوہستانی ملک میں اسے دی گئی تھی۔