قضاة

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21


باب 1

1 اور یشوع کی موت کے بعد یوں ہوا کہ بنی اسرائیل نت خداوند سے پوچھا کہ ہمای طرف سے کنعا نیوں سے جنگ کرنے کو پہلے کون چڑھائی کرے ؟
2 خداوند نے کہا کہ یہوداہ چڑھائی کرے اور دیکھو میں نے یہ ملک اس کے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔
3 تب یہوداہ نے اپنے بھائی شمعون سے کہا کہ تو مےرے ساتھ مےرے قرعہ کے حصہ میں چل تا کہ ہم کنعانیوں سے لڑےں اور اسی طرح میں بھی تےرے قرعہ کے حصہ میں تےرے ساتھ چلونگا ۔سو شمعون اس کے ساتھ گےا ۔
4 اور یہوداہ نے چڑھائی کی اور خداوند نے کنعانیوں اور فرزیوں کو ان کے ہاتھ میں کر دیا اور انہوں نے بزق میں ان میں سے دس ہزار مرد قتل کئے۔
5 اور ادونی بزق کو بزق میں پا کر وہ اس سے لڑے اور کنعانیوں اور فرزےوں کو مار ا ۔
6 پر ادونی بزق بھاگا اور انہوں نے اسکا پیچھا کرکے اسے پکڑ لیا اور اسکے ہاتھ اور پاﺅں کے انگوٹھے کا ٹ ڈالے ۔
7 تب ادونی بزق نے کہا کہ ہاتھ اور پاﺅں کے انگوٹھے کٹے ہو ئے ستر بادشاہ میری مےز کے نےچے رےزہ چینی کرتے تھے سو جیسا میں نے کیا ویسا ہی خدا نے مجھے بدلہ دیا ۔پھر وہ اسے یروشلیم میں لائے اور وہ وہاں مر گےا ۔
8 اور بنی یہوداہ نے یروشلیم سے لڑ کر اسے لے لیا اور اسے تہ تےغ کر کے شہر کو آگ سے پھونک دیا ۔
9 اس کے بعد بنی یہوداہ ان کنعانیوں سے جو کوہستانی ملک اور جنوبی حصہ اور نشیب کی زمین میں رہتے تھے لڑنے کو گئے ۔
10 اور یہوداہ نے ان کنعانیوں پر جو حبرون میں رہتے تھے چڑھائی کی اور حبرون کا نام پہلے قےت اربع تھا ۔وہاں انہوں نے سیسی اور اخیمان اور تلمی کو مارا ۔
11 وہاں سے وہ دبےر کے باشندوں پر چڑھائی کرنے کو گیا ۔(دبےر کا نام پہلے قرےت سفر تھا )۔
12 تب کالب نے کہا جو کو ئی قرےت سفر کو مار کر اسے لے لے میں اسے اپنی بیٹی عکسہ بیاہ دونگا ۔
13 اور کالب کے چھوٹے بھائی قنز کے بےٹے غتنی ایل نے اسے لے لیا ۔پس اس نے اپنی بیٹی عکسہ اسے بیاہ دی ۔
14 اور جب وہ اس کے پاس گئی تو اس نے اسے ترغےب دی کہ وہ اس کے باپ سے ایک کھےت مانگے ۔پھروہ اپنے گدھے پر سے اتر پڑی ۔ تب کالب نے اس سے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟
15 اس نے اس سے کہا مجھے برکت دے ۔چونکہ تو نے مجھے جنوب کے ملک میں رکھا ہے اسلئے پا نی کے چشمے بھی مجھے دے ۔تب کالب نے اوپر کے چشمے او ر نےچے کے چشمے اسے دئے ۔
16 اور موسیٰ کے سالے قینی کی اولاد کھجوروں کے شہر سے بنی یہوداہ کے ساتھ یہوداہ کے بےابان کو جو عراد کے جنوب میں ہے چلی گئی اور جا کر لوگوں کے ساتھ رہنے لگی ۔
17 اور یہوداہ اپنے بھائی شمعون کے ساتھ گےا اور انہوں نے ان کنعانیوں کو جو صفت میں رہتے تھے مارا اور شہر کو نیست و نابود کردیا ۔
18 سو اس شہر کا نام حُرمہ کہلایا ۔اور یہوداہ نے غزہ اور اس کی نواحی اور اسقلون اور اسکی نواحی اور عقرون اور اس کی نواحی کو بھی لے لیا ۔
19 اور خداوند یہوداہ کے ساتھ تھا ۔سو اس نے کوہستانیوں کو نکال دیا پر وای کے باشندوں کو نکال نہ سکا کیو نکہ ان کے پاس لوہے کے رتھ تھے ۔
20 تب انہوں نے موسیٰ کے کہنے کے مطابق حبرون کالب کو دیا اور اس نے وہاں سے عناق کے تےنوں بےٹوں کو نکال دیا ۔
21 اور بنی بینمین نے ان یبوسیوں کو جو یروشلیم میں رہتے تھے نہ نکالا ۔سو ےبوسی بنی بینمین کے ساتھ آج تک یروشلیم میں رہتے ہیں ۔
22 اور یوسف کے گھرانے نے بھی بےت ایل پر چڑھائی کی اور خداندان کے ساتھ تھا ۔
23 اور یوسف کے گھرانے نے بےت ایل کا حال دریافت کرنے کو جاسوس بھےجے اور اس شہر کا نام پہلے لُوز تھا ۔
24 اور جاسوسوں نے ایک شخص کو اس شہر سے نکلتے دیکھااور اس سے کہا کہ شہر میں داخل ہو نے کی راہ ہمکو دکھا دے تو ہم تجھ سے مہربانی سے پیش آئیں گے ۔
25 سو ا س نے شہر میں داخل ہو نے کی راہ انکو دکھا دی ۔انہوں نے شہر کو تہ تےغ کیا پر اس شخص اوراس کے سارے گھرانے کو چھوڑ دےا ۔
26 اور وہ شخص حقیوں کے ملک میں گےا اور اس نے وہاں ایک شہر بنایا اور اس کا نام لُو ز رکھا چنانچہ آج تک اس کا نام یہی ہے ۔
27 اور منسی نے بھی بےت شان اور اس کے قصبوں اور تعناک اور اس اس کے قصبوں اور دور اس کے قصبوں کے باشندوں ابلیعام اور اس کے قصبوں کے باشندوں اورمجدو اور اس کے قصبوں کے باشندوںکو نہ نکالا بلکہ کنعانی اس ملک میں بسے ہی رہے ۔
28 پر جب اسرائیلیوں نے زور پکڑا تو کنعانیوں سے بیگار کاکام لےنے لگے پر انکو بلکل نکال نہ دےا۔
29 اور افرائیم نے ان کنعانیوں کو جو جزر میں رہتے تھے نہ نکالا سو کنعانی ان کے درمیان جزر میں بسے رہے ۔
30 اور زبولون نے قطرون اور نہلال کے لوگوں کو نہ نکالا سو کنعانی ان میں بودوباش کرتے رہے اور ان کے مطیع ہو گئے ۔اور آشر نے عکو اور صےدا اور احلاب اوراکزیب اور حلبہ اور افےق اور رحوب کے باشندوں کو نہ نکالا۔
31 بلکہ آشری ان کنعانیوں کے درمیان جو اس ملک کے باشندے تھے بس گئے کیو نکہ انہوں نے انکو نکالانہ تھا ۔
32
33 اور نفتالی نے بےت شمس اور بےت عنات کے باشندوں کو نہ نکالا بلکہ وہ ان کنعانیوں میں جو وہاں رہتے تھے بس گےا تو بھی بےت سمش اور بےت عنات کے باشندے ان کے مطےع ہو گئے ۔
34 اور اموریوں نے بنی دان کو کوہستانی ملک میں بھگا دےا کیو نکہ انہوں نے ان کو وادی میں آنے نہ دیا ۔
35 بلکہ اموری کوہِ حرس پر اور ایالون اور سعلبیم میں بسے ہی رہے تو بھی بنی یوسف ک ہاتھ غالب ہو اایسا کہ یہ مطیع ہو گئے ۔
36 اور اموریوں کی سرحد عقربیم کی چڑھائی سے ےعنی چٹان سے شروع کر کے اوپر اوپر تھی ۔


باب 2

1 اور خداوند کا فرشتہ جلجال سے بو کیم کو آیا اور کنے لگا میں تم کو مصر سے نکال کر اس ملک میں جس کی بابت میں نے تمہارے باپ دادا سے قسم کھائی تھی لے آےا اور میں نے کہا کہ ہر گز تم سے عہد شکنی نہیں کرونگا ۔
2 اور تم اس ملک کے باشندوں کے ساتھ عہد باندھنا بلکہ انکے مذبحوں کو ڈھا دینا پر تم نے میری بات نہیں مانی ۔تم نے کیوں ایسا کیا ؟
3 اسی لئے میں نے بھی کہا کہ میں انکو تمہارے آگے سے دفع نہ کرونگا بلکہ وہ تمہارے پہلوﺅں کے کانٹے ان کے دیوتا تمہارے لئے پھندے ہو نگے ۔
4 جب خداوند کے فرشتہ نے سب بنی اسر ائیل سے یہ باتیں کہیں تو وہ چلا چلا کر رونے لگے ۔
5 اور انہوں نے اس جگہ کا نام بوکیم رکھا اور وہاں انہوں نے خداوند کے لئے قربانی چڑھائی ۔
6 اور جس وقت یشوع نے جماعت کو رخصت کیا تھا تب بنی اسر ئیل میں سے ہر ایک اپنی میراث کو لوٹ گےا تھا تا کہ اس ملک پر قبضہ کرے ۔
7 اور وہ لوگ خداوند کی پرستش یشوع کے جیتے جی اور ان بزرگوں کے جیتے جی کرتے رہے جو یشوع کے بعد زندہ رہے اور جنہوں نے خداوند کے سب بڑے کام جو اس نے اسرائیل کے لئے دیکھے تھے ۔
8 اور نُون کا بےٹا یشوع خداوند کا بندہ ایک سو دس برس کا ہو کر رحلت کر گےا ۔
9 اور انہوں نے اسی کی میراث کی حد پر تمنت حرس میں افرائیم کے کوہستانی ملک میں جو کوہ جعس کے شمال کی طرف ہے اسکو دفن کیا ۔
10 اور وہ ساری پشت بھی اپنے باپ دادا سے جا ملی اور ان کے بعد ایک اور پشت پیدا ہوئی جو نہ خداوند کو اور انہ اس کام کو جو اس نے اسرائیل کے لئے کیا جانتی تھی ۔
11 اور بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے ۔
12 اور انہوں نے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کو جو انکو ملک مصر سے نکال لایا تھا چھوڑ دےا اور دوسرے معبودوں کی جو انکے چوگرد کی قوموں کے دیوتاﺅں میں سے تھے پیروی کرنے اور ان کو سجدہ کرنے لگے اور خداوند کو غصہ دلایا ۔
13 اور وہ خداوند کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے ۔
14 اور خداوند کا قہر اسرائیل پر بھڑکا اوراس نے ان کو غارتگروں کے ہاتھ میں کر دےا جو ان کو لوٹنے لگے اور ا س نے ان کو ان کے دشمنوں کے ہاتھ جو آس پاس تھے بےچا۔سو وہ پھر اپنے دشمنوں کے سامنے کھڑے نہ ہو سکے ۔
15 اور وہ جہاں کہیں جاتے خداوند کا ہتھ ان کی اذےت ہی پر تلا رہتا تھا جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اور ان سے قسم کھائی تھی ۔سو وہ نہوےت تنگ آگئے ۔
16 پھر خداوند نے ان کے لئے اےسے قاضی برپا کئے جنہوں نے ان کو ان کے غارتگروں کے پاتھ سے چھڑایا ۔
17 لیکن انہوں نے اپنے قاضیوں کی بھی نہ سنی بلکہ اور معبودوں کی پیروی میں زنا کرتے اور ان کو سجدہ کرتے تھے اور وہ اس راہ سے جس پر ان کے باپ دادا چلتے اور خداوند کی فرمانبرداری کرتے تھے بہت جلد پھر گئے اور انہوں نے ان کے سے کام نہ کئے ۔
18 اور جب خداوند ان کے لئے قاضیوں کو برپا کرتا تو خداوند اس قاضی کے ساتھ ہو تا اور اس قاضی کے جیتے جی ان کو انکے دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑایا کرتا تھا ۔اس لئے کہ جب وہ اپنے ستانے والوں اور دکھ دےنے والوں کے باعث کڑھتے تھے تو خداوند ملُول ہوتا تھا ۔
19 لیکن جب وہ قاضی مر جاتا تو وہ برگشتہ ہو کر اور معبودوں کی پیروی میں اپنے باپ داداسے بھی ذیادہ بگڑ جاتے اور ان کی پرستش کرتے اور انکو سجدہ کرتے تھے ۔وہ نہ تو اپنے کاموں سے اور نہ اپنی خود سری کی روش سے باز آئے ۔
20 سو خداوند کا غضب اسرائیل پر بھڑکا اور اس نے کہا چونکہ ان لوگوں نے مےرے اس عہد کا جسکا حکم میں نے ان کے باپ دادا کو دیا تھا توڑ ڈالا اور میری بات نہیں سنی ۔
21 اسلئے میں بھی اب ان قوموں میں سے جنکو یشوع چھوڑ کر مرا ہے کسی کو بھی ان کے آگے سے دفع نہیں کرونگا ۔
22 تا کہ میں اسرائیل کو انہیں کے ذرےعہ سے آزماﺅں کہ وہ خداوند کی راہ پر چلنے کے لئے اپنے باپ دادا کی طرح قائم رہینگے یا نہیں ۔
23 سو خداوند نے ان قوموں کو رہنے دیا اور ان کو جلد نہ نکال دیا اور یشوع کے ہاتھ میں بھی ان کو حوالہ نہ کیا ۔


باب 3

1 اور یہ وہ قومیں ہیں جنکو خداوند نے رہنے دےا تا کہ ان کے وسیلہ سے اسرائیلیوں میں سے ان سب کو جو کنعان کی سب لڑائیوں سے واقف نہ تھے آزمائے ۔
2 فقط مقصود یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی نسل کے خاص کر ان لوگوں کو جو پہلے لڑنا نہیں جانتے تھے لڑائی سکھائی جائے تا کہ وہ واقف ہو جائیں ۔
3 یعنی فلستےوں کے پانچویں سردار اور سب کعنانی اور صےدانی اور کو ہ بعل حرمون سے حمات کے مدخل تک کے سب حوی جو کوہ لبنان میں بستے تھے ۔
4 یہ اسلئے تھے کہ ان کے وسیلہ سے اسرائیلی آزمائے جائیں تا کہ معلوم ہو جائے کہ وہ خداوند کے حکموں کو جو اس نے موسیٰ کی معرفت ان کے باپ داد کو دئے تھے سنینگے یا نہیں ۔
5 سو بنی اسرائیل کنعانیوں اور حتےوں اور امورےوں اور فرزےوں اور حویوں اور یبوسیوں کے درمیان بس گئے ۔
6 اور ان کی بیٹےوں سے آپ نکاح کرنے اور اور اپنی بیٹےاں ان کے بےٹوں کو دےنے اور ان کے یوتاﺅں کی پرستش کرنے لگے ۔
7 اور بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے بدی کی اور خداونداپنے خدا کو بھولکر بعلیم اور یسےرتوںکی پرستش کرنے لگے ۔
8 اسلئے خداوند کا قہر اسرائیلیوں پر بھڑکا اور اس نے ان کو مسوپتامیہ کے بادشاہ کو شن رسعتےم کے ہاتھ بےچ ڈالا۔سو وہ آٹھ برس تک کوشن رسعتےم کے مطےع رہے ۔
9 اور جب بنی اسرائیل نے خداوند سے فرےاد کی تو خداوند نے بنی اسرائیل کے لئے ایک رہائی دےنے والے کو برپا کیا اور کالب کے چھوٹے بھائی قنز کے بےٹے غتنی ایلنے ان کو چھڑاےا ۔
10 اور خداوند کی روح اس پر اتری اور وہ اسرائیل کا قاضی ہوا اور جنگ کے لئے نکلا ۔تب خداوند نے مسوپتامیہ کے بادشاہ کوشن رسعتےم کو اس کے ہاتھ میں کر دےا ۔سو اس کا ہاتھ کوشن رسعتےم پر غالب ہوا ۔
11 اور اس ملک میں چالیس بس تک چین رہا اور قنز کے بےٹے غتنی ایلنے وفات پائی ۔
12 اور بنی اسرائیل نے پھر خداوند کے آگے بدی کی ۔تب خداوند نے موآب کے بادشاہ عجلون کو اسرائیلیوں کے خلاف زور بخشا اسلئے کہ انہوں نے خداوند کے آگے بدی کی تھی ۔
13 اور اس نے بنی عمون اور بنی عمالیق کو اپنے ہاں جمع کیا اور جا کر اسرائیل کو مارا اور انہوں نے کھجوروں کا شہر لے لیا ۔
14 سو بنی اسرائیل اٹھارہ برس تک موآب کے بادشاہ عجلون کے مطےع رہے ۔
15 لیکن جب بنی اسرائیل نے خداوند سے فرےاد کی تو خداوند نے بنیمینی جیرا کے بےٹے اہود کو جو نیں ہتھا تھا انکا چھڑانے والا مقرر کیا اور بنی اسرائیل نے اسکی معرفت موآب کے بادشاہ عجلون کے لئے ہدیہ بھیجا ۔
16 اور اہود نے اپنے لئے ایک دو دھاری تلوار ایک ہاتھ لمبی بنوائی اور اسے اپنے جامے کے نےچے دہنی ران پر باندھ لیا ۔
17 پھر اس نے موآب کے بادشاہ عجلون کے حضور وہ ہدیہ پیش کیا اور عجلون بڑا موٹا آدمی تھا ۔
18 اور جب وہ ہدیہ پیش کر چکا تو ان لوگوں کو جو ہدیہ لائے تھے رخصت کیا۔
19 اور وہ آپ اس پتھر کی کان کے پاس جو جلجال میں ہے لوٹ کر کہنے لگا کہ اے بادشاہ مےرے پاس تےرے لئے ایک خفیہ پیغام ہے ۔اس نے کہا خاموش رہ ۔ تب وہ سب جو اس کے گرد کھڑے تھے اس کے پاس سے باہر چلے گئے ۔
20 پھر اہود اس کے پاس آیا ۔اس وقت وہ اپنے ہوادار بالاخانہ میں اکیلا بےٹھا تھا ۔تب اہودنے کہا تےرے لئے مےرے پاس خدا کی طرف سے ایک پیگام ہے ۔تب وہ کرسی پر سے اٹھ کھڑ ا ہوا ۔
21 اور اہود نے اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر اپنی دہنی ران پر سے وہ تلوار لی اور اس کی توند میں گھسےڑ دی ۔
22 اور پھل قبضہ سمیت داخل ہو گےا اور چربی پھل کے اوپر لپٹ گئی کیونکہ اس نے تلوار کو اس کی توند سے نہ نکالا بلکہ وہ پار ہو گئی ۔
23 تب اہود نے برآمدہ میں آکر اور بالا خانہ کے دروازوں کے اندر اسے بند کرکے قفل لگا دےا۔
24 اور جب وہ چلتا بنا تو اس کے خادم آئے اور انہوں نے دیکھا کہ بالا خانہ کے دروازو میں قفل لگا ہے ۔وہ کہنے لگے کہ وہ ضرور ہوادار کمرے میں فراغت کر رہا ہے ۔
25 اور وہ ٹھہرے ٹھہرے شرما بھی گئے اور جب دیکھا کہ وہ بالا خانہ کے دروازے نہیں کھولتا تو انہوں نے کنجی لی اور دروازے کھولے اور دیکھا کہ ان کا آقا زمین پر مرا پڑاہے ۔
26 اور وہ ٹھہرے ہی ہوئے تھے کہ اہو اتنے میں بھاگ نکلا اور پتھر کی کان سے آگے بڑھکر سعےرت میں جا پناہ لی ۔
27 اور وہاں پہنچ کو اس نے افرائےم کے کوہستانی ملک میں نرسنگا پھونکا ۔تب بنی اسرائیل ا س کے ساتھ کوہستانی ملک سے اترے اور وہ ان کے آگے آگے ہو لیا ۔
28 ا س نے ان کو کہا مےرے پیچھے پیچھے چلے چلو کیونکہ خداوند نے تمہارے دشمنوں یعنی موآبیوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دےا ہے ۔سو انہوں نے اس کے پیچھے پیچھے جا کر یردنکے گھاٹوں کو جو موآب کی طرف تھے اپنے قبضہ میں کر لیا اور ایک کو پار اترنے نہ دیا ۔
29 اس وقت انہوں نے موآب کے دس ہزار مرد قےرب جو سب کے سب موٹے تازہ اور بہادر تھے قتل کئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا ۔
30 سو موآب اس دن اسرائیلیوں کے ہاتھ کے نےچے دب گےا اور اس ملک میں اسی برس چین رہا ۔
31 اس کے بعد عنات کا بےٹاشمجر کھڑا ہوا اور اس نے فلستےوں میں سے چھ سو مرد بیل کے پینے سے مار ے اور اس نے بھی اسرائیل کو رہائی دی ۔


باب 4

1 اور اہود کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے پھر خدا وند کے حضور بدی کی ۔
2 سو خدا وند نے انکو کنعان کے بادشاہ یابین کے ہاتھ جو حصور میں سلطنت کرتا تھا بیچا اور اس کے لشکر کے سردار کا نام سیسرا تھا ۔وہ اقوام کے شہر حروست میں رہتا تھا ۔
3 تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فرےاد کی کیو نکہ اس کے پاس لوہے کے نو سو رتھ تھے اور اس نے بیس برس تک بنی اسرائیل کو شدتسے ستاےا ۔
4 اس وقت لفےدوت کی بیوی دبوہ نبیہ بنی اسرائیل کا انصاف کرتی تھی ۔
5 اور وہ افرائیم کے کوہستانی ملک میں رامہ اور بےت ایلکے درمیان دبورہ کے کھجور کے درخت کے نیچے رہتی تھی اور بنی اسرائیل اس کے پاس انصاف کے لئے آتے تھے ۔
6 اور اس نے قادس نفتالی سے ابی نوعم کے بےٹے برق کو بلا بھیجا اور اس سے کہا کہ کیا خداوند اسرائیل کے خدانے حکم نہیں کیا کہ تو تبور کے پہاڑ پر چڑھ جا اور بنی نفتالی اور ببنی زبولون میں سے دس ہزار آدمی اپنے ساتھ لے لے ؟
7 اور میں نہر قیسون پر یابین کے لشکر کے سردار سیسرا کو او ر اس کے رتھوں اور فوج کو تےرے پاس کھینچ لاﺅنگا اور اسے تےرے ہاتھ میں کردونگا ۔
8 اور برق نے اس سے کہا اگر تو مےرے ساتھ چلیگی تو میںجاﺅنگا پر اگر تو مےرے ساتھ نہیں چلیگی تو نہیں جاﺅنگا ۔
9 اس نے کہا میں ضرور تےرے ساتھ چلونگی لیکن اس سفر سے جو تو کرتا ہے تجھے کچھ عزت حاصل نہ ہو گی کیونکہ خداوند سیسرا کو ایک عورت کے ہاتھ بیچ ڈالیگا اور دبورہ اٹھکر برق کے ساتھ قادس کو گئی ۔
10 اور برق نے زبولون اور نفتالی کو قادس میں بلایا اور دس ہزار مرد اپنے ہمرا لے کر چڑھا اور دبورہ بھی اس کے ساتھ چڑھی ۔
11 اور حبر قینی نے جو موسیٰ کے سالے حباب کی نسل سے تھا قینیوں سے الگ ہو کر قادس کے قرےب ضعننیم میں بلوط کے درخت کے پاس اپنا ڈےرا دال لیا تھا ۔
12 تب انہوں نے سیسرا کو خبر پہنچائی کہ برق بن ابنیوعم کوہ تبور پر چڑھ گےا ہے ۔
13 اور سےسرا نے اپنے سب رتھوں کو یعنی لوہے کے نو سو رتھوں اور اپنے سب لوگوں کو دیگر اقوام کے شہر حروست سے قیسون کی ندی پر جمع کیا ۔
14 تب دبورہ نے برق سے کہا کہ اٹھ کیونکہ یہی وہ دن ہے جس میں خداوند نے سےسرا کو تےرے ہاتھ میں کر دےا ہے ۔کیا خداوند تےرے آگے نہیں گےا ہے ؟تب برق اور وہ دس ہزار مرد اس پیچھے پیچھے کوہ تبور سے اترے ۔
15 اور خداوند نے سےسرا کواور اس کے سب رتھوں اور سب لشکر کو تلوار کی دھار سے برق کے سامنے شکست دی اور سےسرا رتھ پر سے اتر کر پیدل بھاگا ۔
16 اور برق رتھوں ار لشکر کو دیگر اقوام کے حروست شہر تک رگےدتا گےا چنانچہ سےسرا کا سارا لشکر تلوار سے نابود ہوا اور ایک بھی نہ بچا ۔
17 پر سےسرا حبرقینی کی بیوی یاعیل کے ڈےرے کو پیدل اسلئے کہ حصور کے بادشاہ ےابین اور حبرقینی کے گھرانے میں صلح تھی ۔
18 تب ےاعےل سےسرا سے ملنے کو نکلی اور ا س سے کہنے لگی اے مےرے خداوند آ۔مےرے پاس آاور ہراساں نہ ہو ۔سو وہ اس کے پاس ڈےرے میں چلا گےا اور اس نے اس کو کمبل اڑھا دےا ۔
19 تب سےسرا نے اس سے کہا کہ ذرا مجھے تھوڑا سا پانی پینے کو دے کیو نکہ میں پیاسا ہوں ۔سو اس نے دودھ کا مشکیزہ کھولکر اسے پلایا اور پھر اسے اڑھا دےا ۔
20 تب اس نے اس سے کہا کہ تو ڈےرے کے دروازہ پر کھڑی رہنا اور اگر کوئی شخص آکر تجھ سے پوچھے کہ یہاں کو ئی مرد ہے ؟ تو تو کہہ دےنا کہ نہیں ۔
21 تب حبر کی بیوی یاعیل ڈےرے کی ایک میخ اور ایک مینحچو کو ہاتھ میں لے دبے پاﺅں اس کے پاس گئی اور میخ اس کی کنپٹیوں پر رکھ کر ایسی ٹھونکی کہ وہ پار ہو کر زمین میں جا دھسی کیونکہ وہ گہری نیند میں تھا ۔پس وہ بے ہوش ہو کر مر گےا ۔
22 اور جب برق سےسرا کو رگےدتا آےاتو ےاعیل اس سے ملنے کو نکلی اور اس سے کہا جا اور میں تجھے وہی شخص جسے تو ڈھونڈتا ہے دکھادونگی ۔پس ا س نے اس کے پاس آکر دیکھا کہ سےسرا مرا پڑا ہے اور میخ اس کی کنپٹےوں میں ہے ۔
23 سو خدا نے اس دن کنعان کے بادشاہ ےابین کو بنی اسرائیل کے سامنے نیچا دکھاےا ۔
24 اور بنی اسرائیل کا ہاتھ کنعان کے بادشاہ یابین پر زیادہ غالب ہی ہوتا گےا یہاں تک کہ انہوں نے شاہ کنعان یابین کو نیست کر ڈالا ۔


باب 5

1 اسی دن دبورہ اور ابی نوعم کے بیٹے برق نے یہ گیت گایا کہ۔
2 پیشواﺅں نے جو اسرائیل کی پیشوائی کی اور لوگ خوشی خوشی بھرتی ہوئے اس کےلئے خداوند کو مبارک کہو۔
3 اے بادشاہو! سنو۔ اے شاہزادو! کان لگاﺅ۔ میں خود خداوند کی ستائش کروں گی میں خداوند اسرائیل کے خدا کی مدح گاﺅں گی۔
4 اے خداوند! جب تو شعیر سے چلا۔ جب تو ادوم سے باہر نکلا۔ تو زمین کانپ اٹھی اور آسمان ٹوٹ پڑا۔ ہاں بادل برسے۔
5 پہاڑ خداوند کی حضوری کے سبب سے اور وہ سیناہ بھی خداوند اسرائیل کے خدا کی حضوری کے سبب سے کانپ گئے۔
6 عنات کے بیٹے شجر کے دنوں میں اور یاعیل کے ایام میں شاہراہیں سونی پڑی تھیں اور مسافر پگ ڈنڈیوں سے آتے جاتے تھے۔
7 اسرائیل میں حاکم موقوف رہے۔ وہ موقوف رہے جب تک کہ مَیں دبورہ برپا نہ ہوئی۔ جب تک کہ مَیں اسرائیل میں ماں ہو کر نہ اٹھی۔
8 انہوں نے نئے نئے دیوتا چن لئے۔ تب جنگ پھاٹکوں ہی پر ہونے لگی۔ کیا چالیس ہزار اسرائیلیوں میں بھی کوئی ڈھال یا برچھی دکھائی دیتی تھی؟
9 میرا دل اسرائیل کے حاکموں ی طرف لگا ہے، جو لوگوں کے بیچ خوشی خوشی بھرتی ہوئے۔تم خداوند کو مبارک کہو۔
10 اے تم سب جو سفید گدھوں پر سوارہواکرتے ہو اور تم جو نفیس غالیچوں پر بیٹھتے ہو اور تم لوگ جو راستہ چلتے ہو۔ سب اس کا چرچا کرو۔
11 تیر اندازوں کے شور سے دور پنگھٹوں میں وہ خڈاوند کے صادق کاموں کا یعنی اس کی حکومت کے ان صادق کاموں کا جو اسرائیل میں ہوئے ذکر یں گے۔اس وقت خداوند کے لوگ اتر اتر کر پھاٹکوں پر گئے۔
12 جاگ جاگ اے دبورہ! جاگ جاگ اور گیت گا! اٹھ اے برق اور اپنے اسیروں کو باندھ لے جا۔ اے ابی نوعم کے بیٹے!
13 اس وقت تھوڑے سے رئیس اور لوگ اتر آئے۔ خداوند میری طرف سے زبردستوں کے مقابلہ کےلئے آیا۔
14 افرائیم میں سے وہ لوگ آئے جن کی جڑ عمالیق میں ہے۔ تیرے پیچھے اے بنیمین! تیرے لوگوں کے درمیان مکیر میں سے حاکم اتر آئے۔اور زبولون میں سے وہ لوگ آئے جو سپہ سالار کا عصا لئے رہتے ہیں ۔
15 اور اشکار کے سردار دبورہ کے ساتھ ساتھ تھے۔ جیسا اشکار ویسا ہی بر ق تھا۔ وہ لوگ اس ے ہمراہ جھپٹ کر وادی میں گئے۔روبن کی ندیوں کے پاس بڑے بڑے ارادے دل میںٹھانے گئے۔
16 تو ان سیٹیوں کو سننے کےلئے جو بھیڑ بکریوں کے لئے بجاتے ہیںبھیڑ سالوں کے بیچ کیوں بیٹھا رہا؟ روبن کی ندیوں کے پاس۔ دلوں میں بڑا تردد تھا۔
17 جلعاد یردن کے پار رہا اور دان کشتیوں میں کیوں رہ گیا؟ آشر سمند ر کے بندر کے پاس بیٹا ہی رہا۔ اور اپنی کھاڑیوں کے آس پاس جم گیا۔
18 زبولون اپنی جان پر کھیلنے والے لوگ تھے۔ اور نفتالی بھی ملک کے اونچے اونچے مقاموں پر ایسا ہی نکلا۔
19 بادشاہ آکر لڑے۔ تب کعنا ن کے بادشاہ تعناک میں مجدد کے چشموں کے پاس لڑے۔پر ان کو کچھ روپے حاصل نہ ہوئے۔
20 آسمان کی طرف سے بھی لڑائی ہوئی بلکہ ستارے بھی اپنی اپنی منزل میں سیسرا سے لڑے۔
21 قیسون ندی ان کو بہا لے گئی۔ یعنی وہی پرنی ندی جو قیسون ندی ہے۔ اے میری جان! تو زوروں میں چل۔
22 ا ن کو د نے ۔ا ن زبردست گھو ڑوں کے کود نے کے سبب سے سموں کی ٹاپ کی آواز ہونے لگی۔
23 خداوند کے فرشتہ نے کہاتم مےر وزپر لعنت کرو۔ا سکے باشندوں پر سخت لعنت کرو۔کیوں کے وہ خداوندکی ک ±مک کو زور آورں کے مقابل خداوند کی کمک کونہ آئے۔
24 حبرقےنی کی بےوی یاعیل سب عورتوں سے مبارک ٹھہرےگی۔جو عورتےںڈےروں میں ہیں ان سے وہ مبارک ہوگی۔
25 سےسرا نے پانی مانگا۔اس نے اسے دودھ دےا۔امےروں کی قاب میں وہ اس کے لئے مکھن لائی
26 اس نے اپنا ہاتھ میخ کواور اپنا دھنا ہاتھ بڑھےوں کے مینچو کو لگا ےا اورمینچو سے اس نے سےسرا کو مارا۔اس نے اس کے سر کوپھوڑ ڈالا اور اس کی کنپٹیوں کو وار پا ر چھےد دےا۔
27 اس کے پاﺅں پر وہ جھکا ۔وہ گرا اورپڑا رہا ۔ا س کے پاﺅں پر وہ جھکا اور گرا۔جہاں وہ جھکا تھا وہیں وہ مر کر گرا۔
28 سےسرا کی ماں کھڑکی سے جھانکی اور چلائی۔اس نے جھلملی کی ا وٹ سے پکارا کہ اس کے رتھ کے آنے میں اتنی دےر کیوں لگی ؟اس کے رتھوں کے پہئے کیوں اٹک گئے ؟
29 اس کی دانشمند عورتنے جواب دےا بلکہ اس نے اپنے آپ کو آپ ہی جواب دےا
30 کیا انہوں نے لوٹ کو پا کر اسے بانٹ نہےں لیا ہے؟کیا ہر مرد کو اےک اےک بلکہ دودو کنوارےاں اور سےسرا کورنگا رنگ کو کپڑوں کی لوٹ بلکہ بیل بوٹے کڑھے ہوئے رنگا رنگ کپڑوں کی لوٹ اور دونوں طرف بیل بوٹے کڑھے ہوئے رنگا رنگ کپڑوں کی لوٹ جو اسےروں کی گردنوں پر لدی ہوئی نہیں ملی؟
31 اے خداوند ۔تےرے سب دشمن اےسے ہی ہلاک ہو جائیں ۔لیکن اس کے پیارکرنے والے آفتاب کی مانند ہوں جب وہ آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے ۔اور ملک میں چالیس برس امن رہا۔


باب 6

1 اور بنی سرائیل نے خدا وند کے آگے بدی کی اور خداوند نے ان کو سات برس تک مدےانےوں کے ہاتھ میں رکھا۔
2 اور مدےانےوں کا ہاتھ اسرائیلےوں پر غالب ہو ااور مدےانےوں کے سبب سے بنی سرائےل نے اپنے لئے پہا ڑوں میں کھوہ اور غار اور قلعے بنالئے۔
3 اور اےسا ہوتا تھا کہ جب بنی اسرائیل کچھ بوتے تھے تو مدےانی اور عمالیقی اور اہل مشرق ا ±ن پر چڑھ آتے ۔
4 اورا ±ن نے مقابل ڈےرے لگا کرغزہ تک کھیتوں کی پیداوار کو برباد کر ڈالتے اور بنی اسرائیل کےلئے نہ تو کچھ معاش نہ بھیڑ بکری نہ گائے بیل نہ گدھا چھوڑتے تھے۔
5 کیونکہ وہ اپنے چوپاﺅں اور ڈیروں کو ساتھ لے کر آتے اور ٹڈیوں کے دل کی مانند آتے اور وہ اور ان کے اونٹ بے شمار ہوتے تھے۔ یہ لوگ ملک کو تباہ کرنے کےلئے آ جاتے تھے۔
6 سو اسرائیلی مدیانیوں کے سبب سے نہایت خسہ حال ہوگئے اور بنی اسرائیل خداوند سے فریاد کرنے لگے۔
7 اور جب بنی سرائیل مدیانیوں کے سبب سے خداوند سے فریاد کرنے لگے ۔
8 تو خداوند نے بنی اسرائیل کے پاس ایک نبی کو بھیجا۔ اس نے ان سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں تم کو مصر سے لایا اور میں نے تم کوغلامی کے گھر سے باہر نکالا۔
9 میں نے مصریوں کے ہاتھ سے ان سبھوں کے ہاتھ سے جو تم کو ستاتے تھے تم کو چھڑایا اور تمہارے سامنے سے ان کو دفعہ کیا اور ان کا ملک تم کو دیا۔
10 اور میں نے تم سے کہا تھا کہ خداوند تمہارا خدا مَیں ہوں۔ سو تم ان اموریوں اور دیوتاﺅں سے جن کے ملک میں بستے ہو مت ڈرنا پر تم نے میری بات نہ مانی۔
11 پھر خداوند کا فرشتہ آکر عفرہ میں بلوط کے ایک درخت کے نیچے جو یوآس ابیعزی کا تھا بیٹھا اور اس کا بیٹا جدعون مے لے کر ایک کولھو میں گیہوں جھاڑ رہا تھا تاکہ اس کو مدیانیوں سے چھپا رکھے۔
12 اور خداوند کا فرشتہ اسے دکھائی دے کر اس سے کہنے لگا کہ اے زبردست سورما خداوند تیرے ساتھ ہے۔
13 جدعون نے اس سے کہا اے میرے مالک اگر خداوند ہی ہمارے ساتھ ہے تو ہم پر یہ سب حادثے کیوں گزرے اور اس کے وہ سب عجیب کام کہاں گئے جن کا ذکر ہمارے باپ دادا ہم سے یوں کرتے تھے کہ کیا خداوند ہی ہم کو مصر سے نہیں نکال لایا؟ پر اب تو خداوند نے ہم کو چھوڑ دیا اور ہم کو مدیانیوں کے ہاتھ میں کر دیا۔
14 تب خداوند نے اس پر نگاہ کی اور کہا کہ تو اپنے اسی زور میں جا اور بنی اسرائیل کو مدیانیوں کے ہاتھ سے چھڑا۔ کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا؟
15 اس نے اس سے کہا اے مالک ۔ میں کس طرح بنی اسرائیل کو بچاﺅں میرا گھرانہ منسی میں سب سے غریب ہے اور مَیں اپنے باپ کے گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔
16 خداوند نے اس سے کہا مَیں ضرور تیرے ساتھ ہوں گا اور تو مدیانیوں کو ایسا مار لے گا جیسے ایک آدمی کو۔
17 تب اس نے اس سے کہا کہ اب اگر مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہوئی ہے تو اس کا مجھے کوئی نشان دکھا کر مجھ سے تو ہی باتیں کرتا ہے۔
18 اور میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو یہاں سے نہ جا جب تک میں تیرے پاس پھر نہ آﺅں اور اپنا ہدیہ نکال کر تیرے آگے نہ رکھوں۔ اس نے کہا کہ جب تک تو پھر نہ آجائے میں ٹھہرا رہوں گا ۔
19 تب جدعون نے جا کر بکری کا ایک بچہ اور ایک ایفہ آٹے کی فطیری روٹیاں تیار کیں اور گوشت کو ایک ٹوکری میںاور شوربا ایک ہانڈی میں ڈال کر اس کے پاس بلوط کے درخت کے نیچے لا کر گذرانا۔
20 تب خدا کے فرشتے نے اس سے کہا اس گوشت اور فطیری روٹیون کو لے جا کر اس چٹان پر رکھ اور شوربا کو انڈیل دے۔ اس نے ویسا ہی کیا۔
21 تب خداوند کے فرشتے نے اعصا کی نوک سے جو اس کے ہاتھ میں تھا گوشت اور فطیری روٹیوں کو چھوا اور اس پتھر سے آگ نکلی اور اس نے گوشت اور فطیری روٹیوں کو بھسم کر دیا۔ تب خداوند کا فرشتہ اس کی نظر سے غائب ہو گیا۔ اور جدعون نے جان لیا کہ وہ خداوند کا فرشتہ تھا۔
22 سو جدعون کہنے لگا افسوس ہے اے مالک خداوند کہ میں نے خداوند کے فرشتہ کو روبرو دیکھا۔
23 خداوند نے اس سے کہا تیری سلامتی ہو۔خوف نہ کر۔ تو مرے گا نہیں ۔
24 تب جدعون نے وہاں خداوند کے لئے مذبح بنایااور اس کا نام یہواہ سلوم رکھا اور ابیعزریوں کے عفرہ میں آج تک موجود ہے۔
25 اور اسی رات خداوند نے اس سے کہا اپنے باپ کا جوان بیل یعنی وہ دوسرابیل جو سات برس کا ہے لے بعل کے مذبح کو جو تیرے باپ کا ہے ڈھادے اور اس کے پاس کی یسیرت کو کاٹ ڈال۔
26 اور خداوند اپنے خدا کے لئے اس گڑھی کی چوٹی پر قاعدہ کے مطابق ایک مذبح بنا اور اس دوسرے بیل کو لیکر اس یسیرت کی لکڑی سے جسے تو کاٹ ڈالے گا سوختنی قربانی گذران ۔
27 تب جدون نے اپنے جوکروں میں سے دس آدمیوں کو ساتھ لیکر جیسا خداوند نے اسے فرمایا تھا کیا اور چونکہ وہ یہ کام اپنے باپ کے خاندان اور اس شہر کے باشندوں کے ڈر سے دن کو نہ کر سکا اسلئے اسے رات کو کیا ۔
28 جب اس شہر کے لوگ صبح سوویرے اٹھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بعل کا مذبح ڈھاےا ہوا اور اس کے پاس کی یسیرت کٹی ہو ئی اور اس مذبح پر جو بنایا گےا تھا وہ دوسرا بیل چڑھاےا ہوا ہے ۔
29 اور وہ آپس میں کہنے لگے کس نے یہ کام کیا ؟اور جب انہوں نے تحقیقات اور پرسِش کی تو لوگوں نے کہا کہ یوآس کے بیٹے جدون نے یہ کام کیا ہے ۔
30 تب اس شہر کے لوگوں نے یوآس سے کہا کہ اپنے بیٹے کو نکال لال تاکہ قتل کیا جائے اسلئے کہ اس نے بعل کا مذبح ڈھادیا اور اس کے پاس کی یسرت کاٹ ڈالی ہے ۔
31 یوآس نے ان سبھوں کو جو اس کے سامنے کھڑے تھے کہا کیا تم بعل کے واسطے جھگڑا کرو گے یا تم اسے بچا لو گے ؟جو کوئی اس کی طرف سے جھگڑا کرے وہ اسی صبح مارا جائے ۔اگر وہ خدا ہے تو آپ ہی اپنے لئے جھگڑے کیونکہ کسی نے اسکا مذبح ڈھا دیا ۔
32 اس لئے اس نے اس دن جدون کا نام یہ کہہ کر یرُبعل رکھا کہ بعل آپ ا س سے جھگڑلے اس کہ اس نے اس کا مذبح ڈھا دیا ہے ۔
33 تب سب مدیانی اور عمالیقی اور اہل مشرق اکٹھے ہو ئے اور پار ہو کر یزرعیل کی وادی میں انہوں نے ڈیرا کیا ۔
34 تب خداوند کی روح جدون پر نازل ہو ئی سو اس نے نر سنگا پھونکا اور ابےعزر کے لوگ اس کی پیروی میں اکٹھے ہوئے ۔پھر اس نے سارے منی کے پاس قاصد بھیجے ۔
35 سو وہ اس کی پیروی میں فراہم ہوئے اور اس نے آشر اور زبولون اور نفتالی کے پاس بھی قاصد روانہ کئے ۔سو وہ ان کے استقبال کو آئے ۔
36 تب جدون نے خدا سے کہا کہ اگر تو اپنے قول کے مطابق میرے ہاتھ کے وسیلہ سے بنی اسرائیل کو رہائی دینی چاہتا ہے ۔
37 تو دیکھ میں بھیڑ کی اون کھلیہان میں رکھ دونگا سو اگر اوس فقط اون ہی پر پڑے اور آس پاس کی زمین سب سوکھی رہے تو میں جان لو نگا کہ تو اپنے قول کے مطابق بنی اسرائیل کو میرے ہاتھوں مے وسیلہ سے رہائی بخشے گا ۔
38 اور ایسا ہی ہوا کیو نکہ وہ صبح کو جو سویرے اٹھا اور اس اون کو دبایا اور اون میں سے اوس نچوڑی تو پیالہ بھر پانی نکلا ۔
39 تب جدون نے خدا سے کہا کہ تیرا غصہ مجھ پر نہ بھڑکے ۔میں فقط ایک بار اور عرض کرتا ہوں ۔میں تیری منت کرتا ہوں کہ فقط ایک بار اور اس اون سے آزمائش کر لوں ۔اب صرف اون ہی اون خشک رہے اور آس پاس کی سب مین پر اوس پڑے ۔
40 سو خدانے اس رات ایسا ہی کیا کیو نکہ فقط اون ہی خشک رہی اور ساری زمین پر اوس پڑی ۔


باب 7

1 تب یرُبعل یعنی جدون اور سب لوگ جو اسکے ساتھ تھے سویرے ہی اٹھے اور حرود کے چشمہ کے پاس ڈیرا کیا اور مدیانیوں کی لشکر گاہ انکے شمال کی طرف کوہ مورہ کے متصل وادی میں تھی ۔
2 تب خداوند نے جدون سے کہا تیرے ساتھ کے لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ مدیانیوں کو ان کے ہاتھ میں نہیں کر سکتا۔ایسا نہ ہو کہ اسرائیلی میرے سامنے اپنے اوپر فخر کر کے کہنے لگیں کہ ہمارے ہاتھ نے ہم کو بچایا ۔
3 سو تو اب لوگوں میں سنا سنا کر منادی کردے کہ جو کو ئی ترسان اور ہراسان ہو وہ لوٹ کر کوہ جلعاد سے چلا جائے چنانچہ ان لوگوں میں سے بائیس ہزار تو لوٹ گئے اور دس ہزار باقی رہ گئے ۔
4 تب خداوند نے جدون سے کہا کہ لوگ اب بھی زیادہ ہیں سو تو ان کو چشمہ کے پا س نیچے لے آاور وہاں میں تیری خاطران کو آزماﺅ نگا اور ایسا ہو گا کہ جس کی بابت میں تجھ سے کہو ں کہ یہ تیرے ساتھ وہی تیرے ساتھ جا ئے اور جس کے حق میں میں کہوں کہ یہ تیرے ساتھ نہ جائے وہ نہ جائے ۔
5 سو وہ ان لوگوں کو چشمہ کے پاس نیچے لے گیااور خداوند نے جدون سے کہا کہ جو جو اپنی زبان سے پانی چپڑ چپڑ کر کے کتے کی طرح پئے اس کو الگ رکھ اور ویسے ہی ہر ایسے شخص کو جو گھٹنے ٹیک کر پئے ۔
6 سو جنہوں نے اپنا ہاتھ اپنے منہ سے لگا کر چپڑ چپڑ کر کے پیا وہ گنتی میں تین سو مرد تھے اور باقی سب مردوں نے گھٹنے ٹیک کر پانی پیا ۔
7 تب خداوند نے جدون سے کہا کہ میں ان تین سو آدمیوں کے وسیلہ سے جنہوں نے چپڑ چپڑ کر کے پیا تم کو بچاﺅنگا اور مدیونیوں کو تیرے ہاتھ میں کر دونگا او باقی سب لوگ اپنی اپنی جگہ کو لوٹ جائیں ۔
8 تب ان لوگوں نے اپنا انپا توشہ اوت نرسنگا اپنے اپنے ہاتھ میں لیا اور اس نے سب اسرائیلی مردوں کو ان کے دیروں کی طرف روانہ کر دیا پر ان تین سو مردوں کو رکھ لیا اور مدیونیوں کی لشکر گاہ اسکے نیچے وادی میں تھی ۔
9 اور اسی رات خداوند نے اس سے کہا کہ اٹھ اور نیچے لشکر گاہ میں اتر جا کیونکہ میں نے اسے تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔
10 لیکن اگر تو نیچے جاتے ڈرتا ہے تو تُو اپنے نوکر فوراہ کے ساتھ لشکر گاہ میں اتر جا ۔
11 اور تو سن لے گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔اس کے بعد تجھ کو ہمت ہو گی کہ تو اس لشکر گاہ میں اتر جائے ۔چنانچہ وہ اپنے نوکر فوراہ کوساتھ لیکران سپاہیوں کے پاس جو ا س لشکر گاہ کے کنارے تھے گےا ۔
12 اور مدیانی اور عمالیقی اور اہل مشرق کثرت سے وادی کے بیچ ٹڈیوں کی مانند پھیلے پڑے تھے اور ان کے اونٹ کثرت کے سبب سے سمنر کے کنارے کہ ریت کی مانند بے شمار تھے ۔
13 اور جب جدون پہنچا تو دیکھو وہاں ایک شخص اپنا خواب اپنے ساتھی سے بیان کرتا ہوا کہہ رہا تھا دیکھ میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ جو کی ایک روٹی مدیانی لشکر گاہ میں گری اور لڑھکتی ہو ئی ڈیر ے کے پاس پہنچی اور اس سے ایسی ٹکرائی کہ وہ گر گیا او اس کو ایسا الٹ دیا کہ وہ ڈیرا فراموش ہو گیا ۔
14 تب اس کے ساتھی نے جواب دیا کہ یہ یوآس کے بیٹے جدون اسرائیلی مرد کی تلوار کے سوا اور کچھ نہیں ۔خدا نے مدیان کو اور سارے لشکر کو اس کے ہاتھ میں کر دیا ہے۔
15 جب جدون نے خواب کا مضمون اور اس کی تعبیر سنی تو سجدہ کیا اور اسرائیلی لشکر میں لوٹ کر کہنے لگا اٹھو کیونکہ خداوند نے مدیانی لشکر کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔
16 او ر اس نے تین سو آدمیوں کے تین غول کئے اور ان سبھوں کے ہاتھ میں ایک ایک نرسنگا اور اس کے ساتھ ایک ایک خالی گھڑا دیا اور ہر گھڑے کے اندر ایک ایک مشعل تھی ۔
17 اور اس نے ان سے کہا کہ مجھے دیکھتے رہنا اور ویسا ہی کرنااور دیکھو جب میں لشکر گاہ کے کنارے جا پہنچوں تو جو کچھ میں کروں تم بھی ویسا ہی کرنا ۔
18 جب میں اور وہ سب جو میرے ساتھ ہیں نرسنگا پھونکیں تو تم بھی لشکر گاہ کی ہر طرف نرسنگے پھونکنا اور للکارنا کہ یہوواہ کی اور جدون کی تلوار ۔
19 سو بیچ کے پہر کے شروع میں جب نئے پہرے والے بدلے گئے تو جدون اور وہ سو آدمی جو اس کے ساتھ تھے لشکر گاہ کے کنارے آئے اور انہوں نے نرسنگے پھونکے اور گھڑوں کو جو ان کے ہاتھ میں تھے توڑا۔
20 اور ان تینوں غولوں نے نرسنگے پھونکے اور گھڑے توڑے اور مشعلوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں اور نرسنگوں کو پھونکنے کے لئے اپنے دہنے ہاتھ میں لے لیا اور چلا اٹھے کہ یہواہ کی اور جدون کی تلوار !۔
21 اور یہ سب کے سب لشکر گاہ کے چوگرد اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو گئے ۔تب سارا لشکر دوڑنے لگا اور انہوں نے چلا چلا کر انکو بھگایا ۔
22 اور انہوں نے تین سو نرسنگوں کو پھونکا اور خداوند نے ہر شخص کی تلوار اس کے ساتھی اور سب لشکر پر چلوائی اور ساری لشکر صریرات کی طرف بیتِ سطہ تک طبات کے قریب ابیل محُولہ کی سرحد تک بھاگا ۔
23 تب اسرائیلی مر نفتالی اور آشر اور منسی کی حدود سے جمع ہو کر نکلے اور مدیانیوں کا پیچھا کیا ۔
24 اور جدون کے افرائیم کے تمام کوہستانی ملک میںقاصد روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ مدیونیوں کے مقابلہ کو اتر آﺅ اور ان سے پہلے پہلے دریایِ یردن ے گھاٹوں پر بیتِ برہ تک قابض ہو گئے ۔
25 اور انہوں نے مدیان کے دو سرداروں عوریب اور زئیب کو پکڑ لیا اور عوریب کو عوریب کی چٹان پر اور زئیب کو زئیب کے کو لھُو کے پاس قتل کیا اور مدیانیوں کو رگیدا اور عوریب اور زئیب کے سر یردن کے پار جدون کے پاس لے آئے ۔


باب 8

1 اور افرائیم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ جب تو مدیانیوں سے لڑنے کو چلا تو ہم کو نہ بلایا؟سو انہوں نے اس کے ساتھ بڑا جھگڑا کیا ۔
2 اس نے ان سے کہا میں نے تمہاری طرح بھلا کیا ہی کیا ہے ؟کیا افرائیم کے چھوڑے ہوئے انگور بھی ابیعزر کی فصل سے بہتر نہیں ہیں ؟
3 خدا نے مدیان کے سردار عوریب اور زئیب کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا ۔پس تمہاری طرح میں کر ہی کیا سکا ہوں ؟جب اس نے یہ کہا تو ان کا غصہ اس کی طرف سے دھیما ہو گیا ۔
4 تب جدون اور اس کے ساتھ کے تین سو آدمی جو باوجود تھکے ماندے ہو نے کے پھر بھی پیچھا کرتے ہی رہے تھے یردن پر آکر پار اترے ۔
5 تب ا س نے سکات کے باشندوں سے کہا کہ ان لوگوں کو جو مےرے پیرو ہیں روٹی کے گردے دو کیونکہ یہ تھک گئے ہیں اور مدیان کے دونو ں بادشاہوں زبحاور ضلنع کا پیچھا کر رہا ہوں ۔
6 سکات کے سرداروں نے کہا کیا زبحاور ضلمنع کے ہاتھ اب تیرے قبضہ میں آگئے ہیں جو ہم تیرے لشکر کو روٹیاں دیں ؟
7 جدون نے کہا جب خداوند زبحاور ضلنعکو میرے ہاتھ میں کردیگا تو میں تمہارے گوشت کو ببول اور سداگلاب کے کانٹوں ست نچوڑونگا ۔
8 پھر وہاں سے وہ فنوایل کو گیا اور وہاں کے لوگوں سے بھی ایسی ہی بات کہی اور فنوایل کے لوگوں نے بھی اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا سکاتیوں نے دیا تھا ۔
9 سو ا س نے فنوایل کے باشندوں سے بھی کہا کہ جب میں سلامت لوٹونگا تو اس برج کو ڈھا دونگا ۔
10 ور زبح اور ضلمنع نے تقریباََپندرہ ہزار آدمیوں کے لشکر سمیت قرقور میں تھے کیونکہ فقط اتنے ہی اہل مشرق کے لشکر میں سے بچ رہے تھے اسلئے کہ ایک لاکھ بیس ہزار شمشیر زن کے مرد قتل ہو گئے تھے ۔
11 سو جدون ان لوگوں کے راستہ سے جو نبح اور یگبہاہ کے مشرق کی طرف ڈیروں میں رہتے تھے گیا اور اس لشکر کو مارا کیو نکہ وہ لشکر بے فکر پڑا تھا ۔
12 اور زبح اور ضلمنع بھاگے اور اس نے ان کا پیچھا کر کے ان دونوں مدیانی بادشاہوں زبح اور ضلمنع کو پکڑ لیا اور سارے لشکر کو بھگا دیا ۔
13 اور یوآس کا بیٹا جدون حرس کی چڑھائی کے پاس ست جنگ سے لوٹا ۔
14 اور اس نے سکاتیوں میں سے ایک جوان کو پکڑ کر اس سے دریافت کیا ۔سو اس نے اسے سکات کے سرداروں اور بزرگوں کا حال بتادیا جو شمال میں ستتر تھے ۔
15 تب وہ سکاتیوں کے پاس آکر کہنے لگا کہ زبح اور ضلمنع کو دیکھ لو جنکی بابت تم نے طنزََ مجھ سے کہا تھا کیا زبح اور ضلمنع کے ہاتھ تیرے قبضہ میںآگئے ہیں کہ ہم تیرے آدمیوں کو جو تھک گئے ہیں روٹیاں دیں ؟
16 تب ا س نے شہر کے بزرگوں کو پکڑ ا اور ببول اور سدا گلاب کے کانٹے لیکر ان سے سکاتیوں کی تادیب کی ۔
17 اور اس نے نوایل کا برج ڈھا کر اس شہر کے لوگوں کو قتل کیا ۔
18 پھر اس نے زبح اور ضلمنع سے کہا کہ وہ لوگ جنکو تم نے تبور میںقتل کیا کیسے تھے ؟انہوں نے جواب دیا جیسا تو ہے ویسے ہی وہ تھے ۔ان میں سے ہر ایک شہزادوں کی مانند تھا ۔
19 تب اس نے کہا کہ وہ میرے بھائی میری ماں کے بیٹے تھے۔سو خداوند کی حیات کی قسم اگر تم ان کو جیتا چھوڑتے تو میں بھی تم کو نہ مارتا ۔
20 پھر اس نے اپنے بڑے بیٹے یتر کو حکم کیا کہ اٹھ ان کو قتل کر پر اس لڑکے نے اپنی تلوار نہ کھینچی کیونکہ اسے ڈر لگا اسلئے کہ وہ بھی لڑکا ہی تھا ۔
21 تب زبح اور ضلمنع نے کہا تو آپ اٹھ کر ہم پر وار کر کیونکہ جیسا آدمی ہوتا ہے ویسی ہی اس کی طاقت ہو تی ہے ۔و جدون نے اٹھ کر زبح اور ضلمنع کو قتل کیا اور ان کے اونٹوں کے گلے کے چندن ہار لے لئے ۔
22 تب بنی اسرائیل نے جدون سے کہا کہ تو ہم پر حکومت کر ۔تو اور تیرا بیٹاا ور تیرا پوتا بھی کیونکہ تو نے ہم کو مدیانیوں کے ہاتھ سے چھڑایا ۔
23 تب جدون نے ان سے کہا کہ نہ میں تم پر حکومت کروں اور نہ میرا بیٹا بلکہ خدا ہی تم پر ھکومت کریگا ۔
24 اور جدون نے ان سے کہا کہ میں تم سے یہ عر ض کرتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص اپنی لوٹ کی بالیاں مجھے دے دے (یہ لوگ اسمعیٰلی تھے اسلئے ان کے پاس سونے کی بالیاں تھیں)۔
25 انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کو بڑی خوشی سے دینگے ۔پس انہوں نے ایک چادر بچھائی اور ہر ایک نے اپنی لوٹ کی بالیا ں اس پر ڈال دیں ۔
26 سو وہ سونے کی بالیاں جو اس نے مانگی تھیں وزن میں ایک ہزار سات سو مثقال تھیں علاوہ ان چندن ہاروں اور جھمکوں اور مدیانی بادشاہوں کی ارغوانی پوشاک کے جو وہ پہنے تھے اور ان زنجیروں کے جو ان کے اونٹ کے گلے میں پڑی تھیں ۔
27 اور جدون نے ان سے ایک افود بنوایا اور اسے اپنے شہر عفرہ میں رکھا اور وہا ں سب اسرائیلی اس کی پیروی میں زناکاری کرنے لگے اور وہ جدون اور اس کے گھرانے کے لئے پھندا ٹھہرا ۔
28 یوں مدیانی بنی اسرائیل کے آگے مغلوب ہو ئے اور انہوں نے پھر کبھی سر نہ اٹھایا اور جدون کے دنوں میں چالیس برس تک اس ملک میں امن رہا ۔
29 اور یوآس کا بیٹا یرُبعل جا کر اپنے گھر میں رہنے لگا ۔
30 اور جدون کے ستر بیٹے تھے جو اس ہی کے صلب سے پیدا ہو ئے تھے کیونکہ اس کی بہت سی بیویاں تھیں ۔
31 اور اس کی ایک حرم کے بھی جو سکم میں تھی اس سے ایک بیٹا ہوا اور اس نے اس کا نام ابی ملک رکھا ۔
32 اور یوآس کے بیٹے جدون نے خوب عمر رسیدہ ہو کر وفات پائی اور ابیعزریوںکے عفرہ میں اپنے باپ یوآس کی قبر میں دفن ہوا ۔
33 اور جدون کے مرتے ہی بنی اسرائیل برگشتہ ہو کر بعلیم کی پیروی میں زنا کاری کرنے لگے اور بعل بریت کو اپنا معبود بنا لیا ۔
34 اور بنی اسرائیل نے خداوند اپنے خدا کو جس نے انکو ہر طرف ان کے دشمنو ں کے ہاتھ سے رہائی دی تھی یاد نہ رکھا ۔
35 اور نہ وہ یرُبعل یعنی جدون کے خاندان کے ساتھ ان سب نیکیوں کے عوض میں جو اس نے بنی اسرائیل سے کی تھیں مہر سے پیش آئے ۔


باب 9

1 تب یرُبعل کا بیٹا ابی ملک سکم میں اپنے ماموﺅں کے پاس گیا اور ان سے اور اپنے سب ننہال کے لوگوں سے کہا کہ ۔
2 سکم کے سب آدمیوں سے پوچھ دیکھو کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے ۔یہ کہ یرُبعل کے سب بیٹے جو ستر آدمی ہیں وہ تم پر سلطنت کریںیا یہ کہ یک ہی کی تم پر حکومت ہو ؟اور یہ بھی یاد رکھو کہ میں تمہوری ہی ہڈی اور تمہاراہی گوشت ہوں۔
3 اور اس کے ماموﺅں نے اس کے بارے میں سکم کے سب لوگوں کے کانوں میں یہ باتیں ڈالیں اور ان کے دل ابی ملک کی پیروی پر مائل ہو ئے کیو نکہ وہ کہنے لگے کہ یہ ہمارا بھائی ہے ۔
4 اور انہوں نے بعل بریت کے گھر میں سے چاندی کے ستر سکے اس کو دئے جن کے وسیلہ سے ابی ملک نے شہر کے شہدے اوربدمعاش لوگوں کو اپنے ہاں لگا لیا جو اس کی پیروی کرنے لگے ۔
5 اور وہ عفرہ میں اپنے باپ کے گھر گیا اور اس نے اپنے بھائیوں یرُبعل کے بیٹوں کو جو ستر آدمی تھے ایک ہی پتھر پر قتل کیا پر یرُبعل کا چھوٹا بیٹا یو تام بچا رہا کیونکہ وہ چھپ گیا تھا ۔
6 تب سکم کے سب آدمی اور سب اہل ملو جمع ہو ئے اور جا کر اس ستون کے بلوط کے پاس جو سکم میں تھا ابی ملک کو بادشاہ بنایا ۔
7 جب یوتام کو اس کی خبر ہو ئی تو وہ جا کر کوہ گرزم کی چوٹی پر کھڑا ہوا اور اپنی آواز بلند کی اور پکار پکار کر ان سے کہنے لگا اے سکم کے لوگومیری سنو ! تا کہ خدا تمہاری سنے ۔
8 ایک زمانہ میں درخت چلے تاکہ کسی کو مسح کرکے اپنا بادشاہ بنائیں سو انہوں نے زیتون کے درخت سے کہا کہ تو ہم پر سلطنت کر ۔
9 تب زیتون کے درخت نے ان سے کہا کیا میں اپنی چکناہٹ کو جس کے باعث میرے وسیلہ سے لوگ خدا اور انسان کی تعظیم کرتے ہیں چھوڑ کر درختوں پر حکمرانی کرنے جاﺅں ؟
10 تب درختوں نے انجیر کے درخت سے کہا کہ تو آاور ہم پر سلطنت کر ۔
11 پر انجیر کے درخت نے ان سے کہا کیا میں اپنی مٹھاس اور اچھے اچھے پھلوں کو چھوڑ کر درختوں پر حکمرانی کرنے جاﺅں ؟
12 تب درختوں نے انگور کی بیل سے کہا کہ تو آ اور ہم پر سلطنت کر ۔
13 انگور کی بیل نے ان سے کہا کیا میں اپنی مے کو جو خدا اور انسان دونوں کو خوش کرتی ہے چھوڑ کر درختوں پر حکمرانی کرنے جاﺅں ؟
14 تب ان سب درختوں نے اونٹکٹاروں سے کہا چل تو ہی ہم پر سلطنت کر ۔
15 اونٹکٹارے نے درختوں سے کہا اگر تم سچ مچ مجھے اپنا بادشاہ مسح کرکے بناﺅ تو آﺅ میرے سایہ میں پناہ لو اور اگر نہیں تو اونٹکٹارے سے آگ نکل کر لبنان کے دیوداروں کو کھا جائے۔
16 سو بات یہ کہ تم نے جوابیِ ملک کو بادشاہ بنایا ہے اس میں اگر تم نے راستی و صداقت برتی ہے اور یرُبعل اور اس کے گھرانے سے اچھا سلوک کیا اور اس کے ساتھ اس کے احسان کے حق کے مطابق برتاﺅ کیا ۔
17 (کیو نکہ میرا باپ تمہاری خاطر لڑا اور اس نے اپنی جان جو کھوں میں ڈالی اورتم کو مدیان کے ہاتھ سے چھڑاےا ۔
18 اور تم نے آج مےرے باپ کے گھرانے سے بغاوت کی اور اس کے ستر بیٹے ایک ہی پتھر پر قتل کئے اورا س کی لونڈی کے بیٹے ابی ملک کو سکم کے لوگوں کا بادشاہ بنایا اس لئے کہ وہ تمہارا بھائی ہے ۔
19 سو اگر تم نے یرةبعل اور اس کے گھرانے کے ساتھ آج کے دن راستی اور صداقت برتی ہے تو تم ابی ملک سے خوش رہو اور وہ تم سے خوش رہے ۔
20 اور اگر نہیں تو ابی ملک سے آگ نکل کر سکم کے لوگوں کو اور اہل مِلو کو کھا جائے اور سکم کے لوگوں اور اہل مِلو کے بیچ سے آگ نکل کر ابی ملک کو کھا جائے ۔
21 پھر یو تام دوڑتا ہو ابھاگا اور بیر کو چلتا بنا اور اپنے بھائی ابی ملک کے خو ف سے وہیںرہنے لگا ۔
22 اورابی ملک اسرائیلیوں پر تین برس حاکم رہا ۔
23 تب خدا نے ابی ملک اور سکم کے لوگوں کے درمیان ایک بری روح بھیجی اور اہل سکم ابی ملک سے دغا بازی کرنے لگے ۔
24 تاکہ جو ظلم انہوں نے یرُبعل کے ستر بیٹوں پر کیا تھا وہ ان ہی پر آئے اور ان کا خون انکے بھائی ابی ملک کے سر پر جس نے ان کو قت کیا اور سکم کے لوگوں کے سر پر ہو جنہوں نے اس کے بھائیوں کے قتل میں اس کی مددکی تھی ۔
25 تب سکم کے لوگوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس کی گھات میں لوگ بٹھائے اور وہ ان کو جو اس راستہ پاس سے گذرتے لوٹ لےتے تھے اورابی ملک کو اس کی خبر ہو ئی ۔
26 تب جعل بن عبد اپنے بھائیوں سمیت سکم میں آیا اور اہل سکم نے اس پر اعتماد کیا ۔
27 اور وہ کھیتوں میں گئے اور اپنے اپنے تا کستان کا پھل توڑا اور انگوروں کا رس نکالا اور خوب خوشی منائی اور اپنے دیوتاﺅں کے مندر میں جا کر کھایا پیا اور ابی ملک پر لعنتیں برسائیں ۔
28 اور جعل بن عبد کہنے لگا ابی ملک کون ہے اور سکم کون ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں ؟کیا وہ یرُبعل کا بیٹا نہیں اور کیا زبول اس کا منصبدار نہیں ؟تم ہی سکم کے باپ حمور کے لوگوں کی اطاعت کرو ۔ہم ا س کی اطاعت کیوں کریں ؟
29 کاش کہ یہ لوگ میرے ہاتھ کے نیچے ہو تے تو میں ابی ملک کو کنارے کر دیتا !اور اس نے ابی ملک سے کہا کہ تو اپنے لشکر کو بڑھا اور نکل آ۔
30 جب اس شہر کے حاکم زبول نے جعل بن عبد کی یہ باتیں سنیں تو اس کا قہر بھڑکا ۔
31 اور اس نے چالاکی سے ابی ملک کے پا س قاصد روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ دیکھ جعل بن عبد اور اس کے بھائی سکم میں آئے ہیں اور شہر کو تجھ سے بغاوت کرنے کی تحریک کر رہے ہیں ۔
32 پس تو اپنے ساتھ کے لوگوں کو لے کر رات کو اٹھ اور میدان میں گھات لگا کر بیٹھ جا ۔
33 اور صبح کو سورج نکلتے ہی سویرے اٹھ کر شہر پر حملہ کر اور جب وہ اور اس کے ساتھ کے لوگ تیرا سامنا کرنے کو نکلیں تو جو کچھ تجھ سے بن آئے تو ان سے کر ۔
34 سو ابی ملک اور اس کے ساتھ کے لوگ رات ہی کو اٹھ کر چار غول ہو سکم کے مقابل گھات میں بےٹھ گئے ۔
35 اور جعل بن عبد باہر نکل کر اس شہر کے پھاٹک کے پا س جا کھڑا ہوا ۔تب ابی ملک اور اس کے ساتھ کے آدمی کمین گاہ سے اٹھے ۔
36 اور جب جعل نے فوج کو دیکھا تو وہ زبول سے کہنے لگا دیکھ پہاڑوں کی چوٹیوں سے لوگ اتر رہے ہیں ۔زبول نے اس سے کہا کہ تجھے پہاڑوں کا سایہ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے آدمی ۔
37 جعل پھر کہنے لگا دیکھ میدان کے بیچوں بیچ سے لوگ اترے آتے ہیں اور ایک غول معونینم بلوط کے راستہ آرہا ہے ۔
38 تب زبول نے اسے کہا اب تیرا وہ منہ کہاں ہے جو تو کہا کرتا تھا کہ ابی ملک کون ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں ؟کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جن کی تو نے حقارت کی ہے ؟سو اب ذرا نکل کر ان سے لڑتو سہی ۔
39 تب جعل سکم کے لوگوں کے سامنے باہر نکلا اور ابی ملک سے لڑا ۔
40 اور ابی ملک نے اس کو رگیدا اور وہ اس کے سامنے سے بھاگا اور شہر کے پھاٹک تک بہتیرے زخمی ہو ہو کر گرے ۔
41 اور ابی ملک نے ارومہ میں قیام کیا اور زبول نے جعل اور اس کے بھائیوں کو نکال دیا تا کہ وہ سکم میں رپنے نہ پائیں ۔
42 اور دوسرے دن صبح کو ایسا ہوا کہ لوگ نکل کر میدان کو جانے لگے ۔اور ابی ملک کو خبر ہو ئی ۔
43 سو ابی ملک نے فوج لیکر ا کے تین غول کئے اور میدان میں گھات لگائی اور جب دیکھا کہ لوگ شہر سے نکلے آتے ہیں تو وہ ان کا سامنا کرنے کو اٹھا اور ان کو مارلیا ۔
44 اور ابی ملک اس غول سمیت جو اس کے ساتھ تھا آگے لپکا اور شہر کے پھاٹک کے پاس آکر کھڑا ہو گیا اور وہ دو غول ان سبھوں پر جو میدان میں تھے جھپٹے اور ان کو کاٹ ڈالا ۔
45 اور ابی ملک اس دن شام تک شہر سے لڑتا رہا اور شہر کو سر کر کے ان لوگوں کو جو وہاں تھے قتل کیا اور شہر کو مسمار کر کے اس میں نمک چھڑکوا دیا ۔
46 اور جب سکم کے برج کے سب لوگوں نے یہ سناتو وہ البیرت کے مندر کے قلعہ میں جا گھسے ۔
47 اور ابی ملک یہ خبر ہو ئی کہ سکم کے برج کے سب لوگ اکٹھے ہیں ۔
48 تب ابی ملک اپنی فوج سمیت ضلمون کے پہاڑ پر چڑھا اور ابی ملک نے کلہاڑا اپنے ہاتھ میں لے درختوں میں سے ایک ڈالی کاٹی اور اسے اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا جو تم نے مجھے کرتے دیکھا ہے تم بھی جلد ویسا ہی کرو ۔
49 تب ان سب لوگوں میں سے ہر ایک اسی طرح ایک ڈالی جاٹ لی اور وہ ابی ملک کے پیچھے ہو لئے اور انکو قلعہ پر ڈال کر قلعہ میں آگ لگا دی چنانچہ سکم کے برج کے سب آدمی بھی جو مرد اور عورت ملا کر قریباََایک ہزار تھے مر گئے ۔
50 پھرابی ملک تیبض کو جا تیبض کے مقابل خیمہ زن ہوا اور اسے لے لیا ۔
51 لیکن وہاں شہر کے اندر ایک بڑا محکم برج تھا سو سب مرد اور عورتیں اور شہر کے سبب باشندے بھاگ کر اس میں جا گھسے اور دروازہ بند کر لیا اور برج کی چھت پر چڑھ گئے ۔
52 اور ابی ملک برج کے پاس آکر اس کے مقابل لڑتا رہا اور برج کے دروازہ کے نزدیک گیا تا کہ اسے جلا دے ۔
53 تب کسی عورت نے چکی کا اوپر کا پاٹ ابی ملک کے سر پر پھینکا اورا س کی کھوپڑی کو توڑ ڈالا ۔
54 تب ابی ملک نے فوراََ ایک جوان کو جو اس کا سلاح بردار تھا بلا کر اس سے کہا کہ اپنی تلوار کھینچ کر مجھے قتل کر ڈال تا کہ میرے حق میں لوگ یہ نہ کہنے پائیں کہ ایک عورت نے اسے مار ڈالا سو اس جوان نے اسے چھید دیا اور وہ مر گیا ۔
55 جب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ ابی ملک مر گیا تو ہر شخص اپنی جگہ چلا گیا ۔
56 یوں خد ا نے ابی ملک کی اس شرارت کا بدلہ جو اس نے اپنے ستر بھائیوں کو مارکر اپنے باپ سے کی تھی اسکو دیا ۔
57 اور سکم کے لوگوں کی ساری شرارت خدا نے ان ہی کے سر پر ڈالی اور یرُبعل کے بیٹے یوتام کی لعنت انکو لگی ۔


باب 10

1 اور ابی ملک کے بعد تولع بن فوہ دودو جو اشکار کے قبیلہ کا تھا اسرائیلیوں کی حمایت کرنے کو اٹھا ۔وہ افرائیم کے کوہستانی ملک میں سمیر میں رہتاتھا ۔
2 وہ تیئیس برس اسرائیلیوں کا قاضی رہا اور مر گیا اور سمیر میں دفن ہوا ۔
3 اس کے بعد جلعادی یائیر اٹھا اور وہ بائیس برس اسرائیلیوں کا قاضی رہا ۔
4 اسکے تیس بیٹے تھے جو تیس جوان گدھوں پر سوار ہوا کر تے تھے اور انکے تیس شہر تھے جو آج تک حووت یائیر کہلاتے ہیں اور جلعاد کے ملک میں ہیں ۔
5 اور یائئیر مر گیا اور قامون میں دفن ہوا ۔
6 اور بنی اسرائیل خداند کے حضور پھر بدی کرنے اور بعلیم اور عستارات اور ارام کے دیوتاﺅں اور صیدا کے دیوتاﺅں اور موآب کے دیوتاﺅں اور بنی عمون کے دیوتاﺅں اور فلستیوں کے دیوتاﺅں کی پرستش کرنے لگے اور خداوند کو چھوڑ دیا ۔اور اس کی پرستش نہ کی ۔
7 تب خداوند کا قہر اسرائیل پر بھڑکا اور اس نے ان کو فلستیوں کے ہاتھ اور بنی عمون کے ہاتھ بیچ ڈالا۔
8 اور انہوں نے اس سال بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور ستایا بلکہ اٹھارہ برس تک وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرتے رہے جو یردن پار اموریوں کے ملک میں جو جلعاد میں ہے رہتے تھے ۔
9 اور بنی عمون یردن پار ہو کر یہوداہ اور بنیمین اور افرائیم کے خاندان سے لرنے کو بھی آجاتے تھے۔پس اسرائیلی بہت تنگ آگئے ۔
10 اور بنی اسرائیل خداوند سے فریاد کر کے کہنے لگے ہم نے تیرا گناہ کیا کہ اپنے خدا کو چھوڑا اور بعلیم کی پرستش کی ۔
11 اور خداوند نے بنی اسرائیل سے کہا کیا میں نے تم کو مصریوں اور اموریوں اور بنی عمون اور فلستیوں کے ہاتھ سے رہائی نہیں دی ۔
12 اور صیدانیوں اور عمالیقیوں اور ماعونیوں نے بھی تم کو ستایا اور تم نے مجھ سے فریاد کی اور میں نے تم کو ان کے ہاتھ سے چھڑایا ۔
13 تو بھی تم مجھے چھوڑ کر اور معبودوں کی پرستش کی ۔سو اب میں تم کو رہائی نہیں دونگا ۔
14 تم جا کر ان دیوتاﺅں سے جن کو تم نے اختیار کیا ہے فریاد کرو ۔وہی تمہاری مصیبت کے وقت تم کو چھڑائیں ۔
15 بنی اسرائیل نے خداوند سے کہا ہم نے تو گناہ کیا سو جو کچھ تیری نظر میں اچھا ہو ہم سے کر پر آج ہم کو چھڑا ہی لے ۔
16 اور وہ اجنبی معبودوں کو اپنے بیچ سے دور کر کے خداوند کی پرستش کرنے لگے ۔تب اس کا جی اسرائیل کی پریشانی سے غمگین ہوا ۔
17 پھر بنی عمون اکٹھے ہو کر جلعاد میں خیمہ زن ہو ئے اور بنی اسرائیل بھی فراہم ہو کر مصفاہ میں خیمہ زن ہو ئے ۔
18 تب جلعا د کے لوگ اورسردار ایک دوسرے سے کہنے لگے وہ کون شخص ہے جو بنی عمون سے لڑنا شروع کریگا ؟وہی جلعا د کے سب باشندوں کا حاکم ہو گا ۔


باب 11

1 اور جلعادی افتاح بڑا زبردست سورما اور کسبی کا بیٹا تھا اور جلعاد سے افتاح پیدا ہوا تھا ۔
2 اور جلعاد کی بیوی کے بھی اس سے بیٹے ہوئے اور جب اسکی بیوی کے بیٹے بڑے ہو ئے تو انہوں نے افتاح کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ ہمارے باپ کے گھر میں تجھے کو ئی میراث نہیں ملیگی کیو نکہ تو غیر عورت ک بیٹا ہے ۔
3 تب افتاح اپنے بھائیوں کے پاس سے بھاگ کر طوب کے ملک میں رہنے لگا اور افتاح کے پاس شہدے جمع ہو گئے اور اس کے ساتھ پھرنے لگے ۔
4 اور کچھ عرصہ کے بعد بنی عمون نے بنی اسرائیل سے جنگ چھیڑ دی ۔
5 اور جب بنی عمون بنی اسرائیل سے لڑنے لگے تو جلعادی بزگ چلے کہ افتاح کو طوب کے ملک سے لے آئیں ۔
6 سو وہ افتاح سے کہنے لگے کہ تو چل کر ہمارا سردار ہو تا کہ ہم بنی عمون سے لڑیں ۔
7 اور افتاح نے جلعادی بزرگوں سے کہا کیا تم نے مجھ سے عداوت کرکے مجھے میرے باپ کے گھر سے نکال نہیں دیا ؟سو اب جو تم مصیبت میں پڑ گئے ہو تو میرے پاس کیوں آئے ؟
8 جلعادی بزرگوں نے افتاح سے کہا کہ اب ہم نے پھر اس لئے تیری طرف رخ کیا ہے کہ تو ہمارے ساتھ چل کے بنی عمون کے ساتھ جنگ کرے اور تو ہی جلعاد کے سب باشندوں پر ہمارا حاکم ہو گا ۔
9 اور افتاح نے جلعادی بزرگوں سے کہا اگر تم مجھے بنی عمون سے لڑنے کو میرے گھر لے چلو اور خداوند ان کو میرے حوالہ کر دے تو کیا میں تمہارا حاکم ہو نگا؟
10 جلعادی بزرگوں نے افتاح کو جواب دیا کہ خداوند ہمارے درمیان گواہ ہو ۔ یقینا جیسا تو نے کہا ہے ہم ویسا ہی کرینگے ۔
11 تب افتاح جلعادی بزرگوں کے ساتھ روانہ ہوا اور لوگوں نے اسے اپنا حاکم اور سردار بنایااور افتاح نے مصفاہ میں خداوند کے آگے اپنی سب باتیں کہہ سنائیں ۔
12 اور افتاح نے بنی عمون کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ تجھے مجھ سے کیا کام جو تو میری ملک میں لڑنے کو میری طرف آیا ؟
13 بنی عمون کے بادشاہ نے افتاح کے ایلچیوں کو جواب دیا اسلئے کہ جب اسرائیلی مصر سے نکل کر آئے تو ارنون سے یبوق اور یردن تک جو میرا ملک تھا اسے انہوں نے چھین لیا ۔سو اب تو ان علاقوں کو صلح و سلامتی سے مجھے پھیر دے ۔
14 تب افتاح نے پھر ایلچیوں کو بنی عمون کے بادشاہ کے پاس روانہ کیا ۔
15 اور یہ کہلا بھیجا کہ افتاح یوں کہتا ہے کہ اسرائیلیوں نے نہ تو موآب کا ملک اور نہ بنی عمون کا ملک چھینا ۔
16 بلکہ اسرائیلی جب مصر سے نکلے اور بیابان چھانتے ہوئے بح قلزم تک آئے اور قادس میں پہنچے ۔
17 تو اسرائیلیوں نے ادوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ ہم کو ذرا اپنے ملک سے ہو کر گذر جانے دے لیکن ادوم کا بادشاہ نہ مانا ۔اسی طرح انہوں نے موآب کے بادشاہ کا کہلا بھیجا اور وہ بھی راضی نہ ہوا چنانچہ اسرائیلی قادس میں رہے۔
18 تب وہ بیابان میں ہو کر چلے اور ادوم کے ملک اور موآب کے ملک کے باہر چکر کاٹ کر موآب کے ملک کے مشرق کی طرف آئےاور ارنون کے اس پار ڈیرے ڈالے پر موآب کی سرحد میں داخل نہ ہو ئے اسلئے کہ موآب کی سرحد ارنون تھا ۔
19 پھر اسرائیلیوں نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کے پاس جو حسبون کا کا بادشاہ تھا ایلچی روانی کئے اور اسرائیلیوں نے اسے کہلا بھیجا کہ ہم کو ذرا اجازت دے دے کہ تیرے ملک میں سے ہو کر اپنی جگہ کو چلے جائیں ۔
20 پر سیحون نے اسرائیلیوں کا اتنا اعتبار نہ کیا کہ انکو اپنی سرحد سے گذرنے دے بلکہ سیحون اسرائیلیوں سے لڑا ۔
21 اور خداوند اسرائیل کے خدا نے سیحون اور اس کے سارے لشکر کو اسرائیلیوں کے ہاتھ میں کر دیا اور انہوں نے ان کو مار لیا ۔سو اسرائیلیوں نے اموریوں کے جو وہاں کے باشندے تھے سارے ملک پر قبضہ کر لیا ۔
22 اور وہ ارنون سے یبوق تک اور بیابان سے اردن تک اموریوں کی سب سرحدوں پر قابض ہو گئے ۔
23 پس خداوند اسرائیل کے خدا نے اموریوں کو اس کے ملک سے اپنی قوم اسرائیل کے سامنے سے خارج کیا ۔سو کیا تو اب اس پر قبضہ پا ئیگا ؟
24 کیا جو کچھ تیرا دیوتا کموس تجھے قبضہ کرنے کو دے تو اس پر قبضہ نہ کریگا ؟پس جس جس کو خداوند ہمارے خدا نے ہمارے سامنے سے خارج کر دیا ہم بھی ان کے ملک پر قبضہ کرینگے ۔
25 اور کیا تو صفور کے بیٹے بلق سے جو موآب کا بادشاہ تھا کچھ بہتر ہے ؟کیا اس نے اسرائیلیوں سے کبھی جھگڑا کیا یا کبھی ان سے لڑا ؟
26 جب اسرائیلی حسبون اور اس کے قصبوں اور عروعیر اور اس کے قصبوں اور ان سب شہروں میں جو ارنون کے کنارے کنارے ہیں تین سو برس سے بسے ہیں تو اس عرصے میں تم نے ان کو کیونکہ نہ چھڑا لیا ؟
27 غرض میں نے تیری خطا نہیں کی بلکہ تیرا مجھ سے لڑنا تیری طرف سے مجھ پر ظلم ہے ۔پس خداوند ہی منصف ہے بنی اسرائیل اور بنی عمون کے درمیان آج انصاف کرے ۔
28 لیکن بنی عمون کے بادشاہ نے افتاح کی یہ باتیں جو اس نے اسے کہلا بھیجی تھیں نہ مانیں ۔
29 تب خداوند کی روح افتاح پر نازل ہو ئی اور وہ جلعاد اور منسی سے گذر کر جلعاد کے مصفاہ میں آیا اور جلعا د کے مصفاہ سے بنی عمون کی طرف چلا ۔
30 اور افتاح نے خداوند کی منت مانی اور کہا کہ اگر تو یقینا بنی عمون کو میرے ہاتھ میں کر دے ۔
31 تو جب میں بنی عمون کی طرف سے سلامت لوٹونگا اس وقت جو کوئی پہلے میرے گھر کے دروازے سے نکل کر میرے استقبال کو آئے وہ خداوند کا ہو گا اور میں ا سکو سوختنی قربانی کے طور پر گذرانونگا ۔
32 تب افتاح بنی عمون کی طرف ان سے لڑنے کو گیا اور خداوند نے ان کو اس کے ہاتھ میں کر دیا ۔
33 اور اس نے عروعیر سے منیت تک جو بیس شہر ہیں اور ابیل کرامیم تک بڑی خونریزی کے ساتھ انکو مارا ۔اس طرح بنی عمون بنی اسرائیل سے مغلوب ہوئے ۔
34 اور افتاح مصفاہ کو اپنے گھر آیا اور اس کی طبلے بجاتی اور ناچتی ہو ئی اس کے استقبال کو نکل کر آئی اور وہی ایک اس کی اولاد تھی۔ اس کے سوا اس کے کوئی بیٹی بیٹا نہ تھا ۔
35 جب اس نے اسکو دیکھا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا ہائے میری بیٹی تو نے مجھے پست کر دیا اور جو مجھے دکھ دیتے ہیں ان میں سے ایک تو ہے کیونکہ میں نے خداوند کو زبان دی ہے اور میں پلٹ نہیں سکتا ۔
36 اس نے اس سے کہا اے میرے باپ تو نے خدا وند کو زبان دی ہے سو جو کچھ تیرے منہ سے نکلا ہے وہی میرے ساتھ کر اسلئے کہ خداوند تیرے دشمنوں بنی عمون سے تیرا انتقام لیا ۔
37 پھر اس نے اپنے باپ سے کہا میرے لئے اتنا کر دیا جائے کہ دو مہینے کہ مہلت مجھے ملے تا کہ میں جا کر پہاڑو ں پر اپنی ہمجولیوں کے ساتھ اپنے کنور پن پر ماتم کرتی پھروں ۔
38 اس نے کہا جا اور اس نے اسے دو مہینے کہ رخصت دی اور وہ اپنی ہمجولیوں کو لیکر گئی اور پہاڑوں پر ماتم کرتی پھری ۔
39 اور دو مہینے کے بعد وہ اپنے باپ کے پاس لوٹ آئی اور وہ اس کے ساتھ ویسا ہی پیش آیا جیسی منت اس نے مانی تھی ۔اس لڑکی نے باپ کا منہ نہ دیکھا تھا ۔سو بنی اسرائیل میں یہ دستور چلا ۔
40 کہ سال بسال اسرائیلی عورتیں جا کر برس میں چار دن تک افتاح جلعادی کی بیٹی کی یاد گاری کرتی تھیں ۔


باب 12

1 تب افرائیم کے لوگ جمع ہو کر شمال کی طرف گئے اور افتاح سے کہنے لگے کہ جب تو بنی عمون سے جنگ کرنے کو گیا توہم کو ساتھ چلنے کیوں نہ بلوایا ؟سو ہم تیرے گھر کو تجھ سمیت جلائیں گے ۔
2 افتاح نے ا ن کو جواب دیا کہ میرا اور میرے لوگوں کا بڑا جھگڑا بنی عمون کے ساتھ ہو رہا تھا اور جب میں نے تم کو بلوایا تو تم نے ان کے ہاتھ سے مجھے نہ بچایا۔
3 اور جب میں نے یہ دیکھا کہ تم مجھے نہیں بچاتے تو نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھی اور بنی عمون کے مقابلہ کو چلا اور خداوند نے ان کو میرے ہاتھ میں کر دیا ۔پس تم آج کے دن مجھ سے لڑنے کو میرے پا س کیوں چلے آئے ؟
4 تب افتاح سب جلعادیوں کو جمع کرکے افرائیمیوں سے لڑا ۔اور جلعادیوں نے افرائیمیوں کو مار لیا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ تم جلعادی افرائیم ہی کے بھگوڑے ہو جو افرائیمیوں اور منسیوں کے درمیان رہتے ہو ۔
5 اور جلعادیوں نے افرائیمیوں کا راستی روکنے کے لئے یردن کے گھاٹوں کو اپنے قبضہ میں کر لیا اور جو بھاگا ہو ئے افرائیمی کہتا کہ مجھے پار جانے دو تو جلعادی اس سے کہتے کہ کیا تو افرائیمی ہے ؟اگر وہ جواب دیتا نہیں ۔
6 تو وہ اس سے کہتے کہ شبُلت تو بول تو وہ سبُلت کہتا کیونکہ اس سے اس کا صحیح تلفظ نہیں ہو سکتا تھا ۔تب وہ اسے پکڑ کر یردن کے گھاٹوں پر قتل کر دیتے تھے ۔سو اس وقت بیالیس ہزار افرائیمی قتل ہوئے ۔
7 اور افتاح چھ برس تک ببنی اسرائیل کا قاضی رہا ۔پھر جلعادی افتاح نے وفات پائی اور جلعاد کے شہرں میں سے ایک میں دفن ہو ا ۔
8 اس کے بعد بیت لحمی ابصان اسرائیلیوں کا قاضی ہوا ۔
9 اس کے تیس بیٹے تھے اور تیس بیٹیا ں اس نے باہر بیاہ دیں اور باہر سے اپنے بیٹوں کے لئے تیس بیٹیاں لے آیا ۔وہ سات برس تک اسرائیلیوں کا قاضی رہا ۔
10 اور ابصان مر گےا اور بیت لحم میں دفن ہوا ۔
11 اور اس کے بعد زبولون ایلون اسرائیل کا قاضی ہوا اور وہ دس برس اسرائیل کا قاضی رہا ۔
12 اور زبولونی ایلون مر گیا اور ایالون میں جو زبولون کے ملک میں ہے دفن ہوا ۔
13 اس کے بعد فرعا تونی ہلیل کا بیٹا عبدون اسرائیل کا قاضی ہوا ۔
14 اور اس کے چالیس بیٹے اور تیس پوتے تھے جو ستر جوان گدھوں پر سوار ہوتے تھےاور وہ آٹھ برس اسرائیلیوں کا قاضی رہا ۔
15 اور فرعاتونی ہلیل کا بیٹا عبدونی مر گیا اور عمالیقیوں کے کوہستانی علاقہ میں فرعاتون میں جو افرائیم کے ملک میں ہے دفن ہوا ۔


باب 13

1 اور بنی اسرائیل نے پھر خداوند کے آگے بدی کی اور خداوند نے ان کو چالیس برس تک فلستیوں کے ہاتھ میں رکھا ۔
2 اور دانیوں کے گھرانے میں صرعہ کا ایک شخص تھا جس کا نام منوحہ تھا ۔اس کی بیوی بانجھ تھی ۔سوا س کے کوئی بچہ نہ ہوا۔
3 اور خداوند کے فرشتہ نے اس عورت کو دکھائی دے کر اس سے کہا دیکھ تو بانجھ ہے اور تیرے بچہ نہیں ہوتا پر تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا ۔
4 سو خبر دار مے یا نشہ کی چیز نہ پینا اور نہ کوئی ناپاک چیز کھانا۔
5 کیونکہ دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا ۔اس کے سر پر کبھی استرہ نہ پھرے اسلئے کہ وہ لڑکا پیٹ ہی سے خدا کا نذیر ہو گا اور وہ اسرائیلیوں کو فلستیوں کے ہاتھ سے رہائی دینا شروع کریگا ۔
6 اس عورت نے جا کر اپنے شوہر سے کہا کہ ایک مرد خدا میرے پاس آیا ۔اس کی صورت خدا کے فرشتی کی سی صورت کی طرح نہایت مہیب تھی اور میں نے اس سے نہیں پوچھا کہ تو کہاں کا ہے ؟اور نہ اس نے مجھے اپنا نام بتایا ۔
7 پر اس نے مجھ سے کہا دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹاہو گا ۔سو تو مے یا نشہ کی چیز نہ پینا اور نہ کوئی ناپاک چیز کھانا کیونکہ وہ لڑکا پیٹ ہی سے اپنے مرنے کے دن تک خدا کا نذیر رہیگا ۔
8 تب منوحہ نے خدا وند سے درخواست کی اور کہا اے میرے مالک میں تیری منت کرتا ہوں کہ وہ مرد جسے تو نے بھیجا تھا ہمارے پاس پھر آئے اور ہم کو سکھائے کہ ہم اس لڑکے سے جو پیدا ہو نے کو ہے کیا کریں ۔
9 اور خدا نے منوحہ کی عرض سنی اور خدا کا فرشتہ اس عورت کے پا س جب وہ کھیت میں بیٹھی تھی پھر آیا پر اس کا شوہر منوحہ اس کے ساتھ نہیں تھا۔
10 سو اس عورت نے جلدی کی اور دوڑ کر اپنے شوہر کو خبر دی اور اس سے کہا کہ دیکھ وہی مرد جو ا س دن میرے پاس آیا تھا اب پھر مجھے دکھائی دیا ۔
11 تب منوحہ اٹھ کر اپنی بیوی کے پیچھے پیچھے چلا اوراس مرد کے پاس آکر اس سے کہا کیا تو وہی مرد ہے جس نے اس عورت سے باتیں کی تھیں ؟اس نے کہا میں وہی ہوں ۔
12 تب منوحہ نے کہا تیری باتیں پوری ہوں !پر اس لڑکے کا کیا طور و طریق اور کیا کام ہو گا ؟
13 خداوند کے فرشتہ نے منوحہ سے ان سب چیزوں سے جنکاذکر میں نے اس عورت سے کیا یہ پر ہیز کرے ۔
14 وہ ایسی چیز جو تاک سے پید اہو تی ہے نہ کھائے اور مے یا نشہ کی چیز نہ پئے اور نہ کوئی ناپاک چیز کھائے اور جو کچھ میں نے اسے حکم دیا یہ اسے مانے ۔
15 منوحہ نے خداوند کے فرشتہ سے کہا کہ اجازت ہو تو ہم تجھ کو روک لیں اور بکری کا ایک بچہ تیرے لئے تیار کریں ۔
16 تب خداوند کے فرشتہ نے منوحہ کو جواب دیا اگر تو مجھے روک بھی لے تو بھی میں تیری روٹی نہیں کھانے کا پر اگر تو سوختنی قربانی تیار کرنا چاہے تو تجھے لازم ہے کہ اسے خداوند کے لئے گذرانے کیونکہ منوحہ نہیں جانتا تھا کہ وہ خداوند کا فرشہ ہے ۔
17 پھر منوحہ نے خداوند کے فرشتہ سے کہا کہ تیرا نام کیا ہے تا کہ جب تیری باتیں پوری ہوں تو ہم تیرا اکرام کر سکیں ؟
18 خداوند کے فرشتہ نے ا س سے کہا تو کیوں میرا نام پوچھتا ہے کیونکہ وہ تو عجیب ہے ؟
19 تب منوحہ نے بکری کا وہ بچہ مع اسکی نذر کی قربانی کے لیکر ایک چٹان پر خداوند کے لئے ان کو گذرانا اور فرشتہ نے منوحہ اور اس کی بیوی کے دیکھتے دیکھتے عجیب کام کیا ۔
20 کیونکہ ایسا ہوا کہ جب شعلہ مذبح پر سے آسمان کی طرف اٹھا تو خداوند کا فرشتہ مذبح کے شعلہ میں ہو کر اوپر چلا گیا اور منوحہ اور اس کی بیوی دیکھ کر اوندھے منہ زمین پر گرے ۔
21 پر پر خداوند کا فرشتہ نپ پھر منوحہ کو دکھائی دیا نہ ا کی بیوی کو ۔تب منوحہ نے جانا کہ وہ خداوند کا فرشتہ تھا ۔
22 اور منوحہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ ہم ضرور مر جائیں گے کیونکہ ہم نے خدا کو دیکھا ۔
23 اس کی بیوی نے اس سے کہا اگر خدا یہی چاہتا کہ ہم کو مار دے تو سوختنی اور نذر کی قربانی ہمارے ہاتھ سے قبول نہ کرتا اور نہ ہم کو یہ واقعات دکھاتا اور نہ ہم سے ایسی باتیں کہتا ۔
24 اوراس عورت کے ایک بیٹا ہوا ور اس نے اس کا نام سمسون رکھا اور وہ لڑکا بڑھا اور خداوند نے اسے برکت دی ۔
25 اور خداوند کی روح اسے محنے دان میں جو صرعہ اور استال کے درمیان ہے تحریک دینے لگی ۔


باب 14

1 اور سمسون تمنت کو گیا ور تمنت میں اس نے فلستیوں کی بیٹیوں میں سے ایک عورت دیکھی ۔
2 اور اس نے آکر اپنے ماں باپ سے کہا میں نے فلستیوں کی بیٹیوں میں سے تمنت میں ایک عورت دیکھی ہے سو تم اس سے میرا بیاہ کرادو ۔
3 اس کے ماں باپ نے اس سے کہا کیا تیرے بھائیوں کی بیٹیوں میں یا میری ساری قوم میں کوئی عورت نہیں ہے جو تو جامختون فلستیوں میں بیاہ کرنے جاتا ہے ؟سمسون نے اپنے باپ سے کہا اسی سے میرا بیاہ کرا دے کیونکہ وہ مجھے بہت پسند آتی ہے ۔
4 پراس کے ماں باپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ خدا وند کی طرف سے ہے کیونکہ وہ فلستیوں کے خلاف بہانہ ڈھونڈتا تھا ۔اس وقت فلستی اسرائیلیوں پر حکمران تھے ۔
5 پھر سمسون اور اس کے ماں باپ تمنت کو چلے اور تمنت کے تاکستانوں میں پہنچے اور دیکھو ایک جوان شیر سمسون کے آگے آکر گرجنے لگا۔
6 تب خداوند کی روح اس پر زور سے نازل ہو ئی اور اس نے اسے بکری کے بچے کی طرح چیڑ دالا گو اس کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا لیکن جو اس نے کیا اسے اپنے باپ یا ماں کو نہ بتایا ۔
7 اور اس نے جا کر اس عورت سے باتیں کیں اور وہ سمسون کو بہت پسند آئی ۔
8 اور کچھ عرصہ کے بعد وہ اسے لینے کو لوٹا اور شیر کی لاش دیکھنے کو کترا گیا اور دیکھا کہ شیر کے پنجر میں شہد کی مکھیوں ک ہجوم اور شہد ہے ۔
9 اس نے اسے ہاتھ میں لے لیا اور کھاتا ہوا چلا اور اپنے ماں باپ کے پاس آکر انکو بھی دیا اور انہوں نے بھی کھایا پر ا نے ان کو نہ بتایا کہ یہ شہد اس نے شیر کے پنجر میں سے نکالا تھا ۔
10 پھر اس کا باپ اس عورت کے ہاں گیا ۔وہاں سمسون نے بڑی ضیافت کی کیونکہ جوان ایسا ہی کرتے تھے۔
11 وہ اسے دیکھ کر اس کے لئے تیس رفیقوں کو لے آئے کہ اس کے ساتھ رہیں ۔
12 سمسون نے ان سے کہا میںتم سے ایک پہیلی پوچھتا ہوں سو اگر تم ضیافت کے سات دن کے اندر اندر اسے بوجھ کر مجھے اسکا مطلب بتا دو میں تیس کتانی کرتے اور تیس جوڑے کپڑے تم کو دونگا ۔
13 اور اگر تم بتا نہ سکو تو تم تیس کتانی کرتے اور تیس جوڑے کپڑے مجھ کو دینا ۔انہوں نے اس سے کہا کہ تو اپنی پہیلی بیان کر تا کہ ہم اسے سنیں ۔
14 اس نے ان سے کہا ”کھانے والے میں سے تو کھانا نکلا اور زبرست میں سے مٹھاس نکلی “ اور وہ تین دن تک اس پہیلی کو حل نہ کر سکے ۔
15 اورساتویں دن انہوں نے سمسون کی بیوی سے کہا کہ اپنے شوہر کو پھسلا تا کہ اس پہیلی کا مطلب وہ ہم کوبتا دے نہیں تو ہم تجھ کو اور تیرے باپ کے گھر کو آگ سے جلا دیں گے ۔کیا تم نے ہم کو اسی لئے بلایا ہے کہ ہم کو فقیر کردو ؟کیا بات بھی یوں ہی نہیں ؟
16 اور سمسون کی بیوی اس کے آگے رو کر کہنے لگی تجھے تو مجھ سے نفرت ہے ۔تو مجھ کو پیار نہیں کرتا۔تو نے میری قوم کے لوگوں سے پہیلی پوچھی پر وہ مجھے نہ بتائی ۔اس نے اس سے کہا خوب!میں نے اسے اپنے ماں باپ کو تو بتایا نہیں اور تجھے بتا دوں ؟
17 سو وہ اس کے آگے جب تک ضیافت رہی سات دن روتی رہی اور ساتویں دن ایسا ہوا کہ اس نے اسے بتا ہی دیا کیو نکہ اس نے اسے نہایت تنگ کیا تھا اور اس عورت نے وہ پہیلی اپنی قوم کے لوگوں کو بتا دی ۔
18 اور اس شہر کے لوگوں نے ساتویں دن سورج ڈوبنے سے پہلے اس سے کہا ”شہد سے میٹھا اور کیا ہو تا ہے ؟اور شیر سے زور آور اور کون ہے “؟اس نے ان سے کہا ”اگر تم میری بچھیا کو ہل میں نہ جوتے تو میر ی پہیلی کبھی نہ بوجھتے “۔
19 پھر خداوند کی روح اس پر زور سے نازل ہو ئی اور وہ اسقلون کو گیا ۔وہاں اس نے ان کے تیس آدمی مارے ان کو لوت کر کپڑوں کے جوڑے پہیلی بوجھنے والوں کو دئے اور اس کا قہر بھڑک اٹھا اور وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلا گیا ۔
20 پر سمسون کی بیوی اس کے ایک رفیق کو جسے سمسو ن نے دوست بنایا تھا دے دی گئی ۔


باب 15

1 لیکن کچھ عرصہ کے بعد گیہوں کی فصل کے موسم میں سمسون بکری کا ایک بچہ لے کر اپنی بیوی کے ہاں گیا اور کہنے لگا میں اپنی بیوی کے پاس کوٹھری میں جاﺅں گا پر اس کے باپ نے اسے اندر جانے نہ دیا۔
2 اور اسکے باپ نے کہا مجھ کو یقیناً یہ خیال ہوا کہ تجھے اس سے سخت نفرت ہو گئی ہے اس لئے میں نے اسے تیرے رفیق کو دے دیا۔ کیا اس کی چھوٹی بہن اس سے کہیں خوبصورت نہیں ہے؟ سو اس کے عوض تو اسی کو لے لے۔
3 سمسون نے ان سے کہا اس بار میں فلستیوں کی طرف سے جب میں ان سے برائی کروں بے قصور ٹھہروں گا۔
4 اور سمسون نے جا کر تین سو لومڑیاں پکڑیں اور مشعلیں لیں اور دم سے دم ملائی اور دو دو دموں کے بیچ میں ایک ایک مشعل باندھ دی۔
5 اور مشعلوں میں آگ لگا کر اس نے لومڑیوں کو فلستیوں کے کھڑے کھیتوں میں چھوڑ دیا اور پولیوں اور کھڑے کھیتوں دونوں کو بلکہ زیتوں کے باغوں کوبھی جلا دیا۔
6 تب فلستیوں نے کہا کس نے یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ تمنتی کے داماد سمسون نے۔ اس لئے کہ اس نے اس کی بیوی چھین کر اس کے رفیق کو دے دی۔ تب فلستیوں نے آکر اس عورت کو اور اس کے باپ کو آگ میں جلا دیا۔
7 سمسون نے ان سے کہا کہ تم جو ایسا کام کرتے ہو تو ضرور ہی میں تم سے بدلہ لوں گا اور اس کے بعد باز آﺅں گا۔
8 اور اس نے ان کو بڑی خونریزی کے ساتھ مار مار کر ان کا کچومر کر ڈالا اور وہاں سے جاکر ایتام کی چٹان کی دراڑ میں رہنے لگا۔
9 تب فلستی جا کر یہوداہ میں خیمہ زن ہوئے اور لحی میں پھیل گئے۔
10 اور یہوداہ کے لوگوں کے ان سے کہا تم ہم پر کیوں چڑھ آئے ہو؟ انہوں نے کہا ہم سمسون کو باندھنے آئے ہیں تاکہ جیسا اس نے ہم سے کیا ہم بھی اس سے ویسا ہی کریں۔
11 تب یہوداہ کے تین ہزار مرد ایتام کی چٹان کی دراڑ میں اتر گئے اور سمسون سے کہنے لگے کیا تو نہیں جانتا کہ فلستی ہم پر حکمران ہیں؟ سو تو نے ہم سے یہ کیا کیا ہے؟ اس نے ان سے کہا جیسا انہوں نے مجھ سے کیا میں نے بھی ان سے ویسا ہی کیا۔
12 انہوںنے اس سے کہا اب ہم آئے ہیں کہ تجھے باندھ کر فلستیوں کے حوالہ کر دیں۔سمسون نے ان سے کہا مجھ سے قسم کھاﺅ کہ تم خود مجھ پر حملہ نہ کرو گے۔
13 انہوں نے اسے جواب دیا نہیں بلکہ ہم تجھے کس کر باندھیں گے اور ان کے حوالہ کر دیں گے پر ہم ہرگز تجھے جان سے نہ ماریں گے۔ پھر انہوں نے اسے دو نئی رسیوں سے باندھا اور چٹان سے اسے اوپر لائے۔
14 جب وہ لحی میں پہنچا تو فلستی اسے دیکھ کر للکارنے لگے۔تب خداوند کی روح اس پر زور سے نازل ہوئی اور اس کے بازوﺅں پر کی رسیوں آگ سے جلے ہوئے سن کی مانند ہوگئیں اور اس کے بندھن اس کے ہاتھوں پر سے اتر گئے۔
15 اور اسے ایک گدھے کے جبڑے کی نئی ہڈی مل گئی سو اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیا اور اس سے اس نے ایک ہزار آدمیوں کو مار ڈالا۔
16 پھر سمسون نے کہا ”گدھے کے جبڑے کی ہڈی سے ڈھیر کے ڈھیر لگ گئے۔گدھے کے جبڑے کی ہڈی سے میں نے ایک ہزار آدمیوں کو مارا۔“
17 اور جب وہ اپنی بات ختم کر چکا تو اس نے جبڑا اپنے ہاتھ میں سے پھینک دیا اور اس جگہ کا نام رامت لحی پڑ گیا۔اور اس کو بڑی پیاس لگی ۔
18 تب اس نے خداوند کو پکارہ اور کہا تو نے اپنے بندہ کے ہاتھ سے ایسی بڑی رہائی بخشی۔ اب کیا میں پیاس سے مروں اور نا مختونوں کے ہاتھ میں پڑوں؟
19 پر خدانے اس گڑھے کو جو لحی میں ہے چاک کر دیا اور اس میں سے پانی نکلا اور جب اس نے اسے پی لیا تو اس کی جان میں جان آئی اور وہ تازہ دم ہوا اس لئے اس جگہ کا نام عین ہقورے رکھا گیا۔ وہ لحی میں آج تک ہے۔
20 اور وہ فلستیوں کے ایام میں بیس برس تک اسرائیلیوں کا قاضی رہا۔


باب 16

1 پھر سمسون غزہ کو گیا۔ وہاں اس نے ایک کسبی دیکھی اور اس کے پاس گیا۔
2 اور غزہ کے لوگوں کو خبر ہوئی کہ سمسون یہاں آیا ہے۔ انہوں نے اسے گھیر لیا اور ساری رات شہر کے پھاٹک پر اس کی گھات میں بیٹھے رہے پر رات بھر چپ چاپ رہے اور کہا کہ صبح کوروشنی ہوتے ہی ہم اسے مار ڈالیں گے۔
3 اور سمسون آدھی رات تک لیٹا رہا اور آدھی رات کو اٹھ کر شہر کے پھاٹک کے دونوں پلوں اور دونوں بازوﺅں کو پکڑ کر بینڈے سمیت اکھاڑ لیا اور ان کو اپنے کندھوں پر رکھ کر اس پہاڑ کی چوٹی پر جو حبرون کے سامنے ہے لے گیا۔
4 اس کے بعد سورق کی وادی میں ایک عورت سے جس کا نام دلیلہ تھا اسے عشق ہو گیا۔
5 اور فلستیوں کے سرداروں نے اس عورت کے پاس جا کر اس سے کہا کہ تو اسے پھسلا کر دریافت کر لے کہ اس کی شہزوری کا بھید کیا ہے اور ہم کیونکر اس پر غالب آئیں تاکہ ہم اسے باندھ کر اس کو اذیت پہنچائیں اور ہم میں سے ہر ایک گیارہ سو چاندی کے سکے تجھے دے گا۔
6 تب دلیلہ نے سمسون سے کہا کہ مجھے تو بتا دے کہ تیری شہزوری کا بھید کیا ہے اور تجھے اذیت پہنچانے کےلئے کس چیز سے تجھے باندھنا چاہئے؟
7 سمسون نے اسے کہا کہ اگر وہ مجھ کو سات ہری ہری بیدوں سے جو سکھائی نہ گئی ہوں باندھیں تو میں کمزور ہو کر اور آدمیوں کی طرح ہو جاﺅں گا۔
8 تب فلستیوں کے سردار سات ہری ہر ی بیدیں جو سکھائی نہ گئی تھیں اس عورت کے پاس لے آئے اور اس نے سمسون کو ان سے باندھا ۔
9 اور اس عورت نے کچھ آدمی اندر کوٹھری میں گھات میں بٹھا لئے تھے سو اس نے سمسون سے کہا کہ اے سمسون فسلتی تجھ پر چڑھ آئے ! تب اس نے ان بیدوں کو ایسا توڑا جیسے سن کا سوت آگ پاتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ سو اس کی طاقت کا بھید نہ کھلا۔
10 تب دلیلہ نے سمسون سے کہا دیکھ تو نے مجھے دھوکہ دیا اور مجھ سے جھوٹ بولا۔
11 اس نے اس سے کہا اگر وہ مجھے نئی نئی رسیوں سے جو کبھی کام میں نہ آئی ہوں باندھیں تو میں کمزور ہو کر اور آدمیوں کی طرح ہو جاﺅں گا۔
12 تب دلیلہ نے نئی رسیاں لے کر اس کو ان سے باندھا اور اس سے کہا اے سمسون فلستی تجھ پر چڑھ آئے! اور گھات والے اندر کی کوٹھری میں ٹھہرے ہی ہوئے تھے۔ تب اس نے اپنے بازوﺅں پر سے دھاگے کی طرح ن کو توڑ ڈالا۔
13 سو دلیلہ سمسون سے کہنے لگی اب تک تو نے مجھے دھوکہ ہی دیا اور مجھ سے جھوٹ بولا ۔ اب تو بتا دے کہ تو کس چیز سے بندھ سکتا ہے؟ اس نے اس سے کہا اگر تو میرے سر کی ساتوں لٹیں تانے کے ساتھ بن دے۔
14 تب اس نے کھونٹے سے اسے کس کر باندھ دیا اور اسے کہا اے سمسون فلستی تجھ ہر چڑھ آئے! تب وہ نیند سے جاگ اٹھا اور بلی کے کھونٹے کو تانے کے ساتھ اکھاڑ ڈالا۔
15 پھر وہ اس سے کہنے لگی تو کیونکر کہہ سکتا ہے کہ میں تجھے چاہتا ہوں جبکہ تیرا دل مجھ سے لگا نہیں؟ تو نے تینوں بار مجھے دھوکہ ہی دیا اور نہ بتایا کہ تیری شہزوری کا بھید کیا ہے۔
16 جب وہ اسے روز اپنی باتوں سے تنگ اور مجبور کرنے لگی یہاں تک کہ اس کا دم ناک میں آگیا ۔
17 تو اس نے اپنا دل کھول کر اسے بتا دیاکہ میرے سر پر استرہ نہیں پھرا ہے۔ اس لئے کہ میں اپنی ماں کے پیٹ ہی سے خدا کا نذیر ہوں۔ سو اگر میرا سر مونڈا جائے تو میرا زور مجھ سے جاتا رہے گا اور میں کمزور ہو کر اور آدمیوں کی طرح ہوجاﺅں گا۔
18 جب دلیلہ نے دیکھا کہ اس نے دل کھول کر سب کچھ بتا دیا تو اس نے فلستیوں کے سرداروں کو کہلا بھیجا کہ اس بار اور آﺅ کیونکہ اس نے دل کھول کرمجھے سب کچھ بتا دیا ہے۔ تب فلستیوں کے سردار اس کے پاس آئے اور روپے اپنے ہاتھ میں لیتے آئے۔
19 تب اس نے اسے اپنے زانوﺅں پر سلا لیا اور ایک آدمی کو بلا ساتوں لٹیں جو اس کے سر پر تھیں مونڈوا ڈالیں اور اسے اذیت دینے لگی اور اس کا زور اس سے جاتا رہا۔
20 پھر اس نے کہا اے سمسون فلستی تجھ پر چڑھ آئے! اور وہ نیند سے جاگا اور کہنے لگا میں اور دفعہ کی طرح باہر جا کر اپنے کو جھٹکوں گا لیکن اسے خبر نہ تھی کہ خداوند اس سے الگ ہو گیا ہے۔
21 تب فلستیوں نے اسے پکڑ کر اس کی آنکھیں نکال ڈالیں اور اسے غزہ میں لے آئے اور پیتل کی بیڑیوں سے اسے جکڑا اور وہ قید خانہ میں چکی پیسا کرتا تھا۔
22 تو بھی اس کے سر کے بال منڈائے جانے کے بعد پھر بڑھنے لگے۔
23 اور فلستیوں کے سردار فراہم ہوئے تاکہ اپنے دیوتا دجون کےلئے بڑی قربانی گذرانیں اور خوشی کریں کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہمارے دیوتا نے ہمارے دشمن سمسون کو ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔
24 اور جب لوگ اسکو دیکھتے تو اپنے دیوتا کی تعریف کرتے اور کہتے تھے کہ ہمارے دیوتا نے ہمارے دشمن اور ہمارے ملک کو اجاڑنے والے کو جس نے ہم میں سے بہتوں کو ہلاک کیا ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔
25 اور ایسا ہوا کہ جب ان کے دل نہایت شاد ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ سمسون کو بلاﺅ کہ ہمارے لئے کوئی کھیل کرے۔ سو انہوں نے سمسون کو قید خانہ سے بلایا اور وہ ان کےلئے کھیل کرنے لگا اور انہوں نے اس کو دو ستونوں کے بیچ کھڑا کیا۔
26 تب سمسون نے اس لڑکے سے جو اس کا ہاتھ پکڑے تھا کہا مجھے ان ستونوں کو جن پر یہ گھر قائم ہے تھامنے دے تاکہ میں ان پر ٹیک لگاﺅں ۔
27 اور وہ گھر مردوں اور عورتوں سے بھرا تھا اور فلستیوں کے سب سردار وہیں تھے اور چھت پر قریباً تین ہزار مرد و زن تھے جو سمسون کے کھیل دیکھ رہے تھے۔
28 تب سمسون نے خداوند سے فریاد کی اور کہا اے مالک خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے یاد کر اور میں تیری منت کرتا ہوں اے خدا فقط اس دفعہ اور تو مجھے زور بخش تاکہ میں یک بارگی فلستیوں سے اپنی دونوں آنکھوں کا بدلہ لوں۔
29 اور سمسون نے دونوں درمیانی ستونوں کو جن پر گھر قائم تھا پکڑ کر ایک پر دہنے ہاتھ سے اور دوسرے پر بائیں سے زور لگایا ۔
30 اور سمسون کہنے لگا کہ فلستیوں کے ساتھ مجھے بھی مرنا ہی ہے۔ سو وہ اپنے سارے زور سے جھکا اور وہ گھر ان سرداروں اور سب لوگوں پر جو اس میں تھے گر پڑا۔ پس وہ مردے جن کو اس نے اپنے مرتے دم مارا ان سے بھی زیادہ تھے جن کو اس نے جیتے جی قتل کیا۔
31 تب اس کے بھائی اور اس کے باپ کا سارا گھرانہ آیا اور وہ اسے اٹھا کر لے گئے اور صرعہ اور استال کے درمیان اس کے باپ منوحہ کے قبرستان میں اسے دفن کیا۔ وہ بیس برس تک اسرائیلیوں کا قاضی رہا۔


باب 17

1 اور افرائیم کے کوہستانی ملک کاایک شخص تھا جسکا نام میکاہ تھا ۔
2 اس نے اپنی ماں سے کہا چاندی کے وہ گیارہ سو سکے جو تےرے پاس سے لئے گئے تھے اور جنکی بابت تو نے لعنت بھیجی اور مجھے بھی یہی سنا کر کہا سو دیکھ وہ چاندی میرے پاس ہے۔ میں نے اس کو لے لیا تھا۔ اس کی ماں نے کہا میرے بیٹے کو خداوند کی طرف سے برکت ملے۔
3 اور اس نے چاندی کے وہ گیارہ سو سکے اپنی ماں کو پھیر دیے ۔ تب اس کی ماں نے کہا میں اس چاندی کو اپنے بیٹے کی خاطر اپنے ہاتھ سے خداوند کےلئے مقدس کئے دیتی ہوں تاکہ وہ ایک بت کھدا ہوا اور ایک ڈھالا ہوا بنائے۔ سو اب میں اس کو تجھے پھیر دیتی ہوں۔
4 پر جب اس نے وہ نقدی اپنی ماں کو پھیر دی تو اس کی ماں نے چاندی کے دو سو سکے لے کر ان کو ڈھالنے والے کو دیا جس نے اس سے ایک کھدا ہوا اور ایک ڈھالا ہوا بت بنایا اور وہ میکاہ کے گھر میں رہے۔
5 اور اس شخص میکاہ کے ہاں ایک بت خانہ تھا اور اس نے ایک افود اور ترافیم کو بنوایا اور اپنے بیٹوں میں سے ایک کو مخصوص کیا جو اس کا کاہن ہوا۔
6 ان دنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا اور ہر شخص جو اس کی نظر میں اچھا معلوم ہوتا وہی کرتا تھا۔
7 اور بیت الحم یہوداہ میں یہوداہ کے گھرانے کا ایک جوان تھا جو لاوی تھا۔ یہی وہی ٹکا ہوا تھا۔
8 یہ شخص اس شہر یعنی بیت الحم یہوداہ سے نکلا کہ اور کہیں جہاں جگہ ملے جا ٹکے۔ سو وہ سفر کرتا ہوا افرائیم کے کوہستانی ملک میں میکاہ کے گھر آنکلا۔
9 اور میکاہ نے اس سے کہا تو کہاں سے آتا ہے؟ اس نے اس سے کہا میں بیت الحم یہوداہ کا ایک لاوی ہوں اور نکلا ہوں کہ جہاں کہیں جگہ ملے وہیں رہوں۔
10 میکاہ نے اس سے کہا میرے ساتھ رہ جا اور میرا باپ اور میرا کاہن ہو۔ میں تجھے چاندی کے دس سکے سالانہ اور ایک جوڑا کپڑا اور کھانا دوں گا۔ سو وہ لاوی اندر چلا گیا۔
11 اور وہ اس مرد کے ساتھ رہنے پر راضی ہوا اور وہ جوان اس کےلئے ایسا ہی تھا جیسا اس کے اپنے بیٹوں میں سے ایک بیٹا۔
12 اور میکاہ نے اس لاوی کو مخصوص کیا اور وہ جوان اس کا کاہن بنا اور میکاہ کے گھر میں رہنے لگا۔
13 تب میکاہ نے کہا اب میں جانتا ہوں کہ خداوند میرا بھلا کرے گا کیونکہ ایک لاوی میرا کاہن ہے۔


باب 18

1 ان دنوں اسرائیل میںن کوئی بادشاہ نہ تھا اور انہی دنوں میں دان کا قبیلہ اپنے رہنے کے لئے میراث ڈھونڈتا تھاکیونکہ ان کو اس دن تک اسرائیل کے قبیلوں میں میراث نہیں ملی تھی۔
2 سو بنی دان نے اپنے سارے شمار میں سے پانچ سورماﺅں کو صرعہ اور استال سے روانہ کیا تا کہ ملک کا حال دریافت کریں اور اسے دیکھیں بھالیں اور ان سے کہہ دیا کہ جا کر اس ملک کو دیکھو بھالو ۔سو وہ افرائیم کے کوہستانی ملک میں میکاہ کے گھر آئے اور وہیں اترے ۔
3 جب وہ میکاہ کے گھر کے پاس پہنچے تو اس لاوی جوان کی آواز پہچانی ۔پس وہ ادھر کو مڑ گئے اور اس سے کہنے لگے تجھ کو یہاں کو ن لایا؟تو یہاں کیا کرتا ہے اور یہاں تیرا کیا ہے ؟
4 اس نے ان سے کہا میکا ہ نے مجھ سے ایسا ایسا سلوک کیا اور مجھے نوکر رکھ لیا ہے اور میں اس کا کاہن بنا ہوں ۔
5 انہوں نے اس سے کہا کہ خدا سے ذرا صلاح لے تا کہ ہم کو معلوم ہو جائے کہ ہمارا یہ سفر مبارک ہو گا یا نہیں ۔
6 اس کاہن نے ان سے کہا سلامتی سے چلے جاﺅ کیونکہ تمہارا یہ سفر خداوند کے حضور ہے۔
7 سو وہ پانچوں شخص چل نکلے اور لیس میں آئے ۔انہوں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ صیدانیوں کی طرح کیسے اطمعینان اور امن اور چین سے رہتے ہیں کیونکہ اس ملک میں کوئی حاکم نہیں تھا جو ان کو کسی بات میں ذلیل کرتا ۔وہ صیدانیوں سے بہت دور تھے اور کسی سے ان کو کوئی کچھ سرو کار نہ تھا ۔
8 سو وہ صرعہ اور استال کو اپنے بھائیوں کے پاس لو ٹے اور ان کے بھائیوں نے ان سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو ؟
9 انہوں نے کہا چلو ہم ان پر چڑھ جائیں کیونکہ ہم نے اس ملک کو دیکھا کہ وہ بہت اچھا ہے اور تم کیا چپ چاپ ہی رہے ؟اب چل کر اس ملک پر قابض ہو نے میں سستی نہ کرو ۔
10 اگر تم چلے تو ایک مطمین قوم کے پا س پہنچو گے اور وہ ملک وسیع ہے کیونکہ خدا نے اسے تمہورے ہاتھ میں کر دیا ۔وہ ایسی جگہ ہے جس مین دنیا کی کسی چیز کی کمی نہیں ۔
11 تب بنی دان کے گھرانے کے چھ سو مر د جنگ کے ہتھیار باندھے ہوئے صرہ اور استال سے روانہ ہوئے ۔
12 اور جا کر یہوداہ کے قریت یعریم میں خیمہ زن ہوئے ۔اسی لئے آج کے دن تک اس جگہ کو محنے دان کہتے ہیں اور یہ قریت یعریم کے پیچھے ہے ۔
13 اور وہاں سے چل کر افرائیم کے کوہستانی ملک میں پہنچے اور میکاہ کے گھر آئے ۔
14 تب وہ پانچوں مرد جو لیس کے ملک کا حال دریافت کرنے گئے تھے اپنے بھائیوں سے کہنے لگے کیا تم کو خبر ہے کہ ان گھروں میں ایک افود اور ترافیم اور ایک کھدا ہوا بت اور ایک ڈھالا ہوا بت ہے ؟سو اب سوچ لو کہ تم کو کیا کرنا ہے ۔
15 تب وہ اس طرف مڑ گئے اور اس لاوی جوان کے مکان میں یعنی میکاہ کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے خیرو عافیت پوچھی۔
16 اور وہ چھ سو مرد جو بنی دان میں سے تھے جنگ کے ہتھار باندھے پھاٹک پر کھڑے رہے ۔
17 اور ان پانچوں شخصوں نے جو زمین کا حال دریافت کرنے کو نکلے تھے وہاں آکر کھدا ہوا بت اور افور اور ترافیم اور ڈھالا ہوا بت سب کچھ لے لیا اور وہ کاہن پھاٹک پر ان چھ سو مردوں کے ساتھ جو جنگ کے ہتھیار باندھے تھے کھڑا تھا ۔
18 جب وہ میکاہ کے گھر میںگھس کر کھدا ہو ابت اور افود اور ترافیم اور ڈھالا ہوا بت لے آئے تو اس کاہن نے ان سے کہا تم یہ کیا کرتے ہو؟
19 تب انہوں نے اس سے کہا چپ ر ہ۔منہ پر ہاتھ رکھ لے اور ہمارے ساتھ چل اور ہمارا باپ اور کاہن بن ۔کیا تیرے لئے ایک شخص کے گھر کا کاہن ہو نا اچھا ہے یا یہ کہ تو بنی اسرائیل کے ایک قبیلہ اور گھرانے کا کاہن ہو؟
20 تب کاہن کا دل خوش ہو گیا اور وہ افود اور ترافیم اور کھدے ہوئے بت کو لے کر لوگوں کے بیچ چلا گےا ۔
21 پھر وہ مڑے اور روانہ ہوئے اور بال بچوں اور چوپاﺅں اور اسباب کو اپنے آگے کر لیا ۔
22 جب وہ میکاہ کے گھر سے دور نکل گئے تو جو لوگ میکال کے گھر کے پاس کے مکانوں میں رہتے تھے وہ فراہم ہوئے اور چل کر بنی دان کو جالیا ۔
23 اور انہوں نے بنی دان کو پکارہ تبب انہوں نے ادھر منہ کرکے میکاہ سے کہا تجھ کو کیا ہو ا جو تو اتنے لوگوں کی جمعیت کو ساتھ لے آرہا ہے ؟
24 اس نے کہا تم میرے دیوتاﺅں کو جن کو میں ے بناوایا اور میرے کاہن کو کو ساتھ لے کر چلے آئے ۔اب میرے پاس اور کیا باقی رہا؟سوتم مجھ سے یہ کیوں کر کہتے ہو کہ کیا ہوا ؟
25 بنی دان نے اس سے کہا تیری آواز ہم لوگوں میں سنائی نہ دے تا نہ وہ کہ جھلے مزاج کے آدمی تجھ پر حملہ کر بےٹھیں اور تو اپنی جان اپنے گھر کے لوگوں کی جان کے ساتھ کھو بیٹھے ۔
26 سو بنی دان تو اپنا راستہ ہی چلتے گئے اور جب میکاہ نے دیکھا کہ وہ اس کے مقابلہ میں بڑے زبردست ہیں تو وہ مڑا اور اپنے گھر کو لوٹا ۔
27 یوں وہ میکاہ کی بنوائی ہوءچیزوںکو اور اس کاہن کو جو اس کے ہاں تھا لے کر لیس میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو امن اور چین سے رہتے تھے اور ان کو تہ تیغ کیا اور شہر جلا دیا۔
28 اور بچانے والا کوئی نہ تھا کیونکہ وہ صیدا سے دور تھا اور یہ لوگ کسی آدمی سے سرو کار نہیں رکھتے تھے اور شہر بیت رحوب کے پا س کی وادی میں تھا ۔پھر انہوں نے وہ شہر بنایا اور اس میں رہنے لگے ۔
29 اور اس شہر کا نام اپنے باپ دان کے نام پر جو اسرائیل کی اولا تھا دن ہی رکھا لیکن پہلے اس شہر کا نام لیس تھا ۔
30 اور بنی دان نے وہ کھدا ہو ابت اپنے لئے نصب کر لیا اور یونتن بن جیر سوم بن موسیٰ اور اس کے بےٹے اس ملک کی اسیری کے دن تک بنی دان کے قبیلہ کے کاہن بنے رہے ۔
31 اور سارے وقت جب تک خدا کا گھر سیلا میں رہا وہ میکاہ کے تراشے ہوئے بت کو جو اس بنوایا تھا اپنے لئے نصب کئے رہے ۔


باب 19

1 اور ان دنوں میں جب اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا ایسا ہوا کہ ایک شخص نے جو لاوی تھا اور افرائیم کے کوہستانی ملک کے پر لے سرے پر رہتا تھا بیت لحم یہوداہ سے ایک حرم اپنے لئے کر لی ۔
2 اسکی حرم نے اس سے بیوفائی کی اوراس کے پاس سے بیت لحم یہوداہ میں اپنے باپ کے گھر چلی گئی اور چار مہینے وہیں رہی ۔
3 اور اس کا شوہر اٹھ کر اور ایک نوکر اور دو گدھے اتھ لیکر اس کے پیچھے روانہ ہوا کہ اسے منا پھسلا کر واپس لے آئے ۔سو وہ اسے اپنے باپ کے گھر میں لے گئی اور اس جوان عورت کا باپ اسے دیکھ کر اس کی ملاقات سے خوش ہوا۔ اور اس کے خسر یعنی اس جوان عورت کے باپ نے اسے روک لیا اور وہ اس کے ساتھ تین دن تک رہا اور انہوں نے کھانا کھایا پیا اور وہاں ٹکے رہے ۔
4 چوتھے روز جب وہ صبح سویرے اٹھے اور وہ چلنے کو کھڑا ہوا تو ا س جوان عورت کے باپ نے اپنے داماد سے کہا ایک ٹکڑا روٹی کھا کر تازہ دم ہو جا ۔اس کے بعد تم اپنی راہ لینا ۔
5
6 سو وہ دونوں بیٹھ گئے اور مل کر کھایا پیا ۔پھر اس جوان عورت کے باپ نے اس شخص سے کہا کہ رات پھر اور ٹکنے کو راضی ہو جا اور اپنے دل کو خوش کر ۔
7 پر وہ مرد چلنے کو کھڑا ہو گیا لیکن اس کا خسر اس سے بجد ہوا سو پھر ا س نے وہیں رات کاٹی ۔
8 اور پانچویں روز وہ صبح سویرے اٹھا تا کہ روانہ وہ اوراس جوان عورت کے باپ نے ا س سے کہا ذرا خاطر جمع رکھ اور دن ڈھلنے تک یہاں ٹھہرے رہو ۔سو دونوں نے روٹی کھائی ۔
9 اور جب وہ شخص اور اس کی حرم اور اسکا نوکر چلنے کو کھڑے ہوئے تو اس کے خسر یعنی اس جوان عورت کے باپ نے کہا دیکھ اب تو دن ڈھلا اوت شام ہو چلی سو میں تم سے منت کرتا ہوں کہ تم رات بھر ٹھہر جاﺅ ۔ دیکھ دن تو خاتمہ پر ہے سو یہیں ٹک جا ۔تیرا دل خوش ہو اور کل صبح ہی صبح تم اپنی راہ لگنا کہ تو اپنے گھر کو جائے ۔
10 پر وہ شخص اس رات رہنے پر راضی نہ ہوا بلکہ اٹھ کر روانہ ہوا اور یبوس کے سامنے پہنچا ۔(یروشلیم یہی ہے)اور دو گدھے زین کسے اس کے ساتھ تھے اور اس کی حرم بھی ساتھ تھی ۔
11 جب وہ یبوس کے برابر پہنچے تو دن بہت ڈھل گیا تھا اور نوکر نے اپنے آقا سے کہا آہم یبوسیوں کے اس شہر میں مڑ جائیں اور یہیں ٹکیں ۔
12 اس کے آقا نے اس سے کہا ہم کسی اجنبی کے شہر میں جو بنی اسرائیل میں سے نہیں داخل نہ ہونگے بلکہ ہم جبعہ کو جائینگے ۔
13 پھر اس نے اپنے نوکر سے کہا کہ آہم ان جگہوں میں سے کسی میں چلے چلیں اور جبعہ یا رامہ میں رات کاٹیں ۔
14 سو وہ آگے بڑھے اور راستہ چلتے ہی رہے اور بنیمین کے جبعہ کے نزدیک پہنچتے پہنچتے سوج ڈوب گےا ۔
15 سو وہ ادھر کو مڑے تا کہ جبعہ میں داخل ہو کر وہاںٹکیں اور وہداخل ہو کر شہر کے چوک میں بیٹھ گیا کیونکہ وہاں کو ئی آدمی اس کو ٹکانے کو اپنے گھر نہ لے گیا۔
16 اور شام کو ایک پیر مرد اپنا کام کر کے وہاں آیا ۔یہ آدمی افرائیم کے کوہستانی ملک کا تھا اور جبعہ میں آبسا تھا پر اس مقام کے باشندے بینمینی تھے ۔
17 اس نے جو آنکھیں اٹھائیں تو اس مسافر کو اس شہر کے چو ک میں دیکھا ۔تب اس پیر مرد نے کہاتو کدھر کو جاتا ہے اور کہاں سے آیا ہے ؟
18 اس نے اس سے کہا ہم یہوداہ کے بیت الحم سے افرائیم کے کوہستانی ملک کے پرلے سرے کو جاتے ہیں ۔میں وہیں کا ہوں اور یہوداہ کے بیت الحم کو گیا ہوا تھا اور اب خداوند کے گھر کو جاتا ہوں ۔یہاں کوئی مجھے اپنے گھر میں نہیں اتارتا۔
19 حالانکہ ہمارے ساتھ ہمارے گدھوں کے لئے بھوسا اور چارا ہے اور میرے اور تیری لونڈی کے واسطے اور اس جوان کے لئے جو تیرے بندوں کے ساتھ ہے روٹی اور مے بھی ہے اور کسی چیز کی کمی نہیں ۔
20 اس پیر مرد نے کہا تیری سلامتی ہو ۔تیری سب ضرورتیں بہر صورت میرے ذمہ ہوں لیکن اس چوک میں ہر گز نہ ٹک ۔
21 وہ اسے اپنے گھر لے گیا اور اس کے گدھوں کو چارا دیا اور وہ اپنے پاﺅں دھو کر کھانے پینے لگے ۔
22 اور جب وہ اپنے دلوں کو خوش کرنے لگے تو اس شہر کے لوگوں میں سے بعض خبیثوں نے اس گھر کو گھیر لیا اور دروازہ پیٹنے لگے اور صاحبِ خانہ یعنی پیر مرد سے کہا اس شخص کو جو تیرے گھر میں آیا ہے باہر لے آتا کہ ہم اس کے ساتھ صحبت کر یں ۔
23 وہ آدمی جو صاحب خانہ تھا با ہر ان کے پاس جا کر ان سے کہنے لگا نہیں میرے بھائیو ایسی شرارت نہ کرو ۔چونکہ یہ شخص میرے گھر میںآیا ہے اس لئے یہ حماقت نہ کرو ۔
24 دیکھو میری کنواری بیٹی اوراس شخص کی حرم یہاں ہیں ۔میں ابھی ان کو باہر لائے دیتا ہوں ۔تم ان کی حرمت لو اور جو کچھ تم کو بھلا دکھائی دے ان سے کرو پر ا س شخص سے ایسا مکرو کام نہ کرو ۔پر وہ لوگ س کی سنتے ہی نہ تھے۔
25 پس وہ مرد اپنی حرم کو پکڑ کر ان کے پاس باہر لے آیا ۔انہوں نے اس سے صحبت کی اور ساری رات صبح تک اس کے ساتھ بدذاتی کرتے رہے اور جب دن نکلنے لگا تو اس کو چھوڑ دیا ۔
26 وہ عورت پو پھٹتے ہوئے آئی اور اس مرد کے دروازہ پر جہاں اس کا خاوند تھا گری اور روشنی ہو نے تک پڑی رہی ۔
27 اور اس کا خاوند صبح کو اٹھا اور گھر کے دروازے کھولے اور باہر نکلا کہ روانہ ہو اور دیکھو وہ عورت جو اسکی حرم تھی گھر کے دروازہ پر اپنے ہاتھ آستا نہ پر پھیلائے پڑی تھی ۔
28 اس نے اس سے کہا اٹھ ہم چلیں پر کسی نے جواب نہ دیا ۔تب اس شخص نے اسے اپنے گدھے پر لاد لیا اور وہ مرد اٹھا اور اپنے مکان کو چلا گیا۔
29 اور اس نے گھر پہنچ کر چھری لی اور اپنی حرم کو لے کر اس کے عضا کاٹے اوراس کے بارہ ٹکڑے کر کے اسرائیل کی سب سرحدوں میں بھیج دئے۔
30 اور جتنوں نے یہ دیکھا وہ کہنے لگے کہ جب سے بنی اسرائیل ملک مصر سے نکل آئے اس دن سے آج تک ایسا فعل نہ کبھی ہوا اور نہ دیکھنے میں آیا ۔سو اس پر غور کرو اور صلاح کر کے بتاﺅ ۔


باب 20

1 تب سب بنی اسرائیل نکلے اور ساری جماعت جلعاد کے ملک سمیت دان ست بیر سبع تک ایک تن ہو کر خداوند کے حضور مصفاہ میں اکٹھی ہو ئی ۔
2 اور تمام قوم کے سردار بلکہ بنی اسرائیل کے سب قبیلوں کے لوگ جو چار لاکھ شمشیر زب پیادے تھے خدا کے لوگوں کے مجمع میں حاضر ہو ئے ۔
3 (اور بنی بنیمین نے سنا کہ بنی اسرائیل مصفاہ میں آئے ہیں )اور بنی اسرائیل پوچھنے لگے کہ بتاﺅ تو سہی یہ شرارت کیونکر ہوئی ؟
4 تب اس لاوی نے جو اس مقتول کا شوہر تھا جواب دیا کہ میں اپنی حرم کو ساتھ لیکر بینیمن کے جبعہ میں ٹکنے کو گیا تھا ۔
5 اور جبعہ کے لوگ مجھ پر چڑھ آئے اور رات وقت اس گھر کو جسکے اندر میں تھا چاروں طرف سے گھیر لیا اور مجھے تو وہ مار ڈالنا چاہتے تھے اور میری حرم کو جبراََایسا بے حرمت کیا کہ وہ مر گئی ۔
6 سو میں نے اپنی حرم کو لیکر اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا او ر ان کو اسرائیل کی میراث کے سارے ملک میں بھیجا کیونکہ اسرائیل کے درمیان انہوں نے شہدا پن اورمکرو کام کیاہے ۔
7 اے بنی اسرائیل تم سب کے سب دیکھو اور یہیں اپنی صلاح اور مشورت دو ۔
8 اور سب لوگ یک تن ہو کر اکٹھے اور کہنے لگے ہم میں سے کوئی پانے ڈیرے کو نہیں جائیگا اور نہ ہم سے کوئی اپنے گھر کی طرف رخ کر یگا ۔
9 بلکہ ہم جبعہ سے یہ کریں گے کہ قرعہ ڈال کر اس پر چڑھائی کریں گے ۔
10 اور ہم اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے سو پیچھے دس اور ہزار پیچھے سو اور دس ہزار پیچھے ایک ہزار مرد لوگوں کے لئے رسد لانے کو جدا کریں تاکہ وہ لوگ جب بینیمین کے جبعہ میں پہنچیں تو جیسا مکرو کام انہوں نے اسرائیل میں کیا اس کے مطابق اس سے کاروائی کر سکیں ۔
11 سو سب بنی اسرائیل اس شہر کے مقابل گٹھے ہو ئے یک تن ہو کو جمع ہوئے ۔
12 اور بنی اسرائیل کے قبیلوں نے بینیمین کے سارے قبیلہ میں لوگ روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ یہ کیا شرارت ہے جو تمہارے درمیان ہوئی ؟
13 اس لئے اب ان مردوں یعنی ان خبیثوں کو جو جبعہ میں ہیں ہمارے حوالہ کرو کہ ہم ان کو قتل کریں اور اسرائیل میں ست بدی کو دور کر ڈالیں لیکن بنی بینمین نے اپنے بھائیوں بنی اسرائیل کا کہا نہ مانا۔
14 بلکہ بنیمین شہروں میں سے جبعہ میں جمع تاکہ بنی اسرائیل کو لڑنے کو جائیں ۔
15 اور بنی بینمین جو شہروں میںسے اس وقت جمع ہوئے وہ شمار میں چھبیس ہزار شمشیر زن مرد تھے ۔سوا جبعہ کے باشندوں کے جو شمار میں سات سو چنے ہوئے جوان تھے ۔
16 ان سب لوگوں میں سے سات سو چنے ہوئے ہیں ہتھے جوان تھے جن میں سے ہر ایک فلاخن سے بال کے نشانہ پر بغیر خطا کئے پتھر مار سکتا تھا۔
17 اور اسرائیل کے لوگ بینمین کے علاوہ چار لاکھ شمشیر زن مرد تھے ۔یہ سب صاحب جنگ تھے ۔
18 اور بنی اسرائیل اٹھ کر بیت ایل کو گئے اور خدا سے مشورت چاہی اور کہنے لگے کہ ہم سے کون بنی بینمین سے لڑنے کو پہلے جائے ؟خدا وند نے فرمایا پہلے یہوداہ جائے۔
19 سو بنی اسرائیل صبح سویرے اٹھے اور جبعہ کے سامنے ڈیرے کھڑے کئے ۔
20 اور اسرائیل کے لوگ بینمین سے لڑنے کو نکلے اور اسرائیل کے لوگوں نے جبعہ میں ان کے مقابل صف آرائی کی ۔
21 تب بنی بینمین نے جبعہ سے نکل کر اس دن بائیس ہزاراسرائیلیوں کو قتل کر کے خا ک میں ملادیا ۔
22 پر بنی اسرائیل کے لوگ حوصلہ کرکے دوسرے دن اسی مقام پر جہاں پہلے دن صف باندھی تھی پھر صف آراہو ئے ۔
23 (اور بنی اسرائیل جا کر شام تک خداوند کے آگے روتے رہے اور انہوں نے خداون سے پوچھا کہ ہم اپنے بھائی بینمین کی اولاد سے لڑنے کے لئے پھر بڑھیں یا نہیں ؟خداوند نے فرمایا اس پر چڑھائی کرو )۔
24 سو بنی اسرائیل دوسرے دن بنی بینمین کے مقابلہ کےلئے نزدیک آئے ۔
25 اور اس دوسرے دن بنی بنیمین ان کے مقابل جبعہ سے نکلے اور اٹھارا ہزار اسرائیلیوں کو قتل کر کے خاک میں ملا دیا۔ یہ سب شمشیر زن تھے ۔
26 تب سب بنی اسرائیل اور سب لوگ اٹھے اور بیت ایل میں آئے اور وہاں خداوند کے حضور بیٹھے رو تے رہے اور اس دن شام تک روزہ رکھا اور سوختنی قربانیا ں اور سلامتی کی قربانیاں خداوند کے آگے گذرانیں ۔
27 اور بنی اسرائیل نے اس سبب سے کہ خدا کے عہد کا صندوق ان دنوں وہیں تھا ۔
28 اور ہارون کے بیٹے الیعزر کا بیٹا فینحاس ان دنوں اس کے آگے کھڑا رہتا تھا خداوند سے پوچھا کہ میں اپنے بھائی بینمین کی اولاد سے ایک دفعہ اور لڑنے کو جاﺅں یا رہنے دوں ؟خداوند نے فرمایا کہ جائیں کل اس کوتیرے ہاتھ میں کر دونگا ۔
29 سو بنی اسرائیل نے جبعہ کے گردا گرد لوگوں کو گھات میں بٹھا دیا ۔
30 ور بنی اسرائیل تیسرے دن بنی بینمین کے مقابلہ کو چڑ ھ گئے اور پہلے کی طرح جبعہ کے مقابل پھر صف آرا ہوئے ۔
31 اور بنی بینمین اس لوگوں کا سامنا کرنے کو نکلے اور شہر سے دور کھینچے چلے گئے اور ان شاہ راہوں پر جن میں سے ایک بیت ایل کو اور دوسری میدان میں سے جبعہ کو جاتی تھی پہلے کی طرح لوگوں کو مارنا اور قتل کرنا شروع کیا اور اسرائیل کے تیس آدمی کے قریب مار ڈالے ۔
32 اور بنی بینمین کہنے لگے کہ وہ پہلے کی طرح ہم سے مغلوب ہوئے لین بنی اسرائیل نے کہا اور آﺅ بھاگیں اور انکو شہر سے دور شاہ راہوں پر کھینچ لائیں ۔
33 µ تب سب اسرائیلی مرد اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بعل تمر میں صف آرا ہوئے ۔اس وقت وہ اسرائیلی جو کمین میں بیٹھے تھے معرے جبعہ سے جو ان کی جگہ تھی نکلے ۔
34 اور سارے اسرائیل میں سے دس ہزار چیدہ مرد جبعہ کے سامنے آئے اور لڑائی سخت ہونے لگی پر انہوں نے نہ جانا کہ کہ ن پر آفت آنے والی ہے ۔
35 اور خداوند نے بینمین کو اسرائیل کے آگے مارا اور بنی اسرائیل نے اس دن پچیس ہزار ایک سو بینمینوں کو قتل کیا ۔یہ سب شمشیر زن تھے ۔
36 پس بنی بنیمین نے دیھا کہ وہ مغلوب ہوئے کیونکہ اسرائیلی مرد ان لوگوں کا بھروسا کر کے جن کو انہوں نے جبعہ کے خلاف گھات میں بٹھا یا تھا بینمین کے سامنے سے ہٹ گئے۔
37 تب کمین والوں نے جلدی کی اور جبعہ پر جھپٹے اور ان کمین والوں نے آگے بڑھ کر سارے شہر کو تہ تیغ کیا ۔
38 اور اسرائیلی مردوں اور ان کمین والوں میں یہ نشان مقرر ہوا تھا کہ وہ ایسا کریں کہ دھوئیں کا بہت بڑا بادل شہر سے اٹھائیں۔
39 سو اسرائیلی مردلڑائی میں ہٹنے لگے اور بینمین نے ان میں سے قریب تیس کے آدمی قتل کر دئے کیونکہ انہوں نے کہا کہ وہ یقینا ہمارے سامنے مغلوب ہوئے جیسے پہلی لڑائی میں ۔
40 پر جب دھوئیں کے ستون میں بادل سا اس شہر سے اٹھا توبنی بینمین نے اپنے پیچھے نگاہ کی اور کیا دیکھا کہ شہر کا شہر دھوئیں میں آسمان کو اڑا جاتاہے ۔
41 پھر تو اسرئیلی مرد پلٹے اور بینمین کے لوگ ہکا بکا ہو گئے کیو نکہ ں نے دیکھا کہ ن پر آفت آپڑی ۔
42 سو انہوں نے اسرائیلی مردوں کے آگے پیٹھ پھیر کر بیابان کی راہ لی پر لڑائی نے انکا پیچھا نہ چھوڑا اور ان لوگوں نے جو اور شہروں سے آئے تھے ان کو ان کے بیچ میں فنا کردیا ۔
43 یوں انہوں نے بینمینوں کو گھیر لیا اور ان کو رگید ا اور مشرق میں جبعہ کے مقابل انکی آرمگاہوں میں انکو لتاڑا۔
44 سو اٹھارہ ہزاربینمینی کھیت آئے ۔یہ سب سورما تھے ۔
45 اور وہ پھر کر زیتون کی چٹان کی طرف بیابان میں بھاگ گئے پر انہوں نے شاہ راہوں میںچن چن کر ان کے پانچ ہزار اور مارے اور جدوم تک ان کو خوب رگید کر ان میں سے دو ہزار مرد اور مار ڈالے ۔
46 سو سب بنی بینمین جو اس دن کھیت آئے پچیس ہزار شمشیر زن مرد تھے اور یہ سب کے سب سورما تھے ۔
47 پر چھ سو آدمی پھر کر اوربیابان کی طرف بھاگ کر زیتون کی چٹان کو چل دئے اور زیتون کی چٹان میں چار مہینے رہے ۔
48 اور اسرائیلی مرد لوٹ کر پھر بنی بینمین پر ٹوٹ پڑے اور ان کوتہ تیغ کیا یعنی سارے شہر اور چوپایوں اور ان سب کو جو ان کے ہاتھ آئے اور جوجو شہر ان کو ملے انہوں نے ان سب کو پھونک دیا ۔


باب 21

1 اور اسرائیل کے لوگوں نے مصفاہ میں قسم کھاکر کہا تھا کہ ہم میں سے کوئی اپنی بیٹی کسی بینمین کو نہ دیگا ۔
2 اور لوگ بیت ایل میں آئے اور شام تک وہاں خدا کے آگے بلند آواز سے زار زار روتے رہے ۔
3 اور انہوں نے کہا اے خداوند اسرائیل کے خدا !اسرائیل میں ایسا کیوں ہوا کہ اسرائیل میں سے آج کے دن ایک قبیلہ کم ہو گیا ؟
4 اور دوسرے دن وہ لوگ صبح سویرے اٹھے اور اس جگہ ایک مذبح بنا کر سوختنی قربانیاں گذرانیں ۔
5 اور بنی اسرائیل کہنے لگے کہ اسرائیل کے سب قبیلوں میں ایسا کون ہے جو خدا وند کے حضور جماعت کے ساتھ نہیں آیا ؟کیونکہ انہوں نے سخت قسم کھائی تھی کہ جو خداوند کے حضور مصفاہ میں حاضر نہ ہوگا وہ ضرور قتل کیا جائیگا ۔
6 سو بنی اسرائیل اپنے بھائی بنیمن کی وجہ سے پچھتائے اور کہنے لگے کہ آج کے دن بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ کٹ گیا ۔
7 اور وہ جو باقی رہے ہیں ہم ان کے لئے بیویوں کی نسبت کیا کریں ؟کیونکہ ہم نے تو خداوند کی قسم کھائی ہے کہ ہم اپنی بیٹیاں ان کو نہیں بیاہیں گے ۔
8 سو وہ کہنے لگے کہ بنی اسرائیل میں وہ کون سا قبیلہ جو مصفاہ میں خداوند کے حضور نہیں آیا ؟اور دیکھو لشکر گاہ میں جماعت میں شامل ہو نے کے لئے یبیس جلعاد سے کوئی نہیں آیا تھا ۔
9 کیونکہ جب لوگوں کا شمار کیا گےا تو یبیس جلعاد کے باشندوں میں سے وہاں کوئی نہ ملا۔
10 تب جماعت نے بارہ ہزار سورما روانہ کئے اور ان کو حکم دیا کہ جا کر یبیس جلعاد کے باشندوں کو عورتوں اور بچوں سمیت قتل کرو ۔
11 اور جو تم کو کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ سب مردوں اور ایسی عورتوں کو جو مرد سے واقف ہو چکی ہوں ہلاک کر دینا ۔
12 اور ان کو یبیس جلعاد کے باشندوں میں چار سو کنواری عورتیں ملیں جو مر سے ناواقف اور اچھوتی تھیں اور وہ ان کو ملک کنعان میں سیلا کی لشکر گاہ میں لے آئے ۔
13 تب ساری جماعت نے بنی بینمین کو جو رمون کی چٹان میں تھے کہلا بھیجا کہ اور سلامتی کا پیغام انکو دیا ۔
14 تب بینمینی لوٹے اور انہوں نے وہ عورتیں انکو دیدیں جنکو انہوں نے یبیس جلعاد کی عورتوں میں سے زندہ بچایا تھا پر وہ انکے لئے بس نہ ہو ئیں ۔
15 اور لوگ بینمین کی وجہ سے پچھتائے اسلئے کہ خداوند نے اسرائیل کے قبیلوں میں رخنہ ڈال دیا تھا ۔
16 تب جماعت کے بزرگ کہنے لگے کہ ان کے لئے جو بچ رہے ہیں بیویوں کی نسبت ہم کیا کریں کیو نکہ بنی بینمین کی سب عورتیں نابود ہو گئیں ؟
17 سو انہوں نے کہا کہ بنی بینمین کے باقی ماندہ لوگوں کے لئے میراث ضروری ہے تا کہ اسرائیل میں سے ایک قبیلہ ہٹ نہ جائے ۔
18 تو بھی ہم تو اپنی بیٹیاں ان کو بیاہ نہیں سکتے کیونکہ بنی اسرائیل نے یہ کہہ کر قسم کھائی تھی کہ جو کسی بینمین کو بیٹی دی وہ ملعون ہو ۔
19 پھروہ کہنے لگے دیکھو سیلا میں جو بیت ایل کے شمال میں اور اس شاہراہ کی مشرقی سمت میں جو بیت ایل سے سکم کو جاتی ہے اور لبونہ کے جنوب میں ہے سال بسال خداوند کی ایک عید ہوتی ہے ۔
20 تب انہوں نے بنی بینمین کو حکم دیا کہ جاﺅ اور تاکستانوں میں گھات لگائے بیٹھے رہو ۔
21 اور دیکھتے رہنا کہ اگر سیلا کی لڑکیاں ناچ ناچنے کو نکلیں تو تم تاکستانوں میں سے نکل کر سیلا کی لڑکیوںمیں سے ایک ایک بیوی اپنے اپنے پکڑ لینا اور بینمین کے ملک کو چل دینا ۔
22 اور جب ان کے باپ یا بھائی ہم سے شکایت کرنے کو آئیں گے تو ہم ان سے کہہ دینگے کہ انکو مہربانی سے ہمیں عنایت کرو کیونکہ اس لرائی میں ہم ان میں سے ہر ایک کے لئے بیوی نہیں لائے اور تم نے ان کو اپنے آپ نہیں دیا ورنہ تم گناہ گار ہوتے ۔
23 غرض بنی بنیمن نے ایسا ہی کیا اور اپنے شمار کے موافق ان میں سے جو ناچ رہی تھیں جن کو پکڑ کر لے بھاگے انکو بیاہ لیا اور اپنی میراث کو لوٹ گئے اور ان شہروں کو بنا کر ان میں رہنے لگے ۔
24 تب بنی اسرائیل وہاں سے اپنے اپنے قبیلہ اور گھرانے کو چلے گئے اور اپنی میراث کو لوٹے ۔
25 اور ان دنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا ۔ہر ایک شخص جو کچھ اسکی نظر میں اچھا معلوم ہوتا تھا وہی کرتا تھا ۔