رُوت

1 2 3 4


باب 1

1 اور ان ہی ایّام میں جب قاضی انصاف کیا کرتےتھے ایسا ہوا کہ اس سر زمین میں کال پڑا اور یہوادہ کے بیت لحم کا ایک مرد اپنی بیوی اور دو بیٹوںکو لیکر چلا کہ موآب کے ملک میں جا کر بسے۔
2 اس مرد کا نام الیملک اور اسکی بیوی کا نام نعومی تھا اور اسکے دونوں بیٹوں کےنام محلون اور کلیون تھے ۔ یہ یہوداہ کے بیت لحم کے افراتی تھے ۔ سو وہ موآب کے ملک میں آ کر رہنے لگے ۔
3 اورنعومی کا شوہر الیملک مر گیا ۔ پس وہ اور اسکے دونوں بیٹے باقی رہ گئے۔
4 ان دونوں نے ایک ایک موآبی عورت بیاہ لی ۔ ان میں سے ایک کا نام عرفہ اوردوسری کا نام روت تھا۔ اور وہ دس برس کے قریب وہاں رہے۔
5 اورمحلون اور کلیون دونوں مر گئے۔ سو وہ عورت اپنے دونوں بیٹوں اور خاوند سے چھوٹ گئی۔
6 تب وہ اپنی دونوں بہووں کو لیکر اٹھی کہ موآب کے ملک سے لوٹ جائے اس لیے کہ اس نے موآب کے ملک میں یہ حال سنا کہ خداوند نے اپنے لوگوں کو روٹی دی اور یوں انکی خبر لی۔
7 سو وہ اس جگہ سے جہاں وہ تھی دونوں بہووں کو ساتھ لیکر چل نکلی اور وہ سب یہوداہ کی سر زمین کو لوٹنے کے لئے راستہ پر ہو لیں۔
8 اور نعومی نے اپنی دونوں بہووں سے کہا کہ تم دونوں اپنے اپنے اپنے میکے کو جاؤ جیسا تم نے مرحوموں کے ساتھ اور جیسا میرے ساتھ کیا ویسا ہی خداوند تمہارے ساتھ مہر سے پیش آئے۔
9 خداوند یہ کرے کہ تم کو اپنے اپنے شوہر کے گھر میں آرام ملے ۔ تب اس نے انکو چوما اور وہ چلا چلا کر رونے لگیں۔
10 پھر ان دونوں نے اس سے کہا کہ نہیں بلکہ ہم تیرے ساتھ لوٹ کر تیرے لوگوں میں جائینگی۔
11 نعومی نے کہا اے میری بیٹیو لوٹ جاؤ تم میرے ساتھ کیوں چلو؟ کیا میرے رَحِم میں اور بیٹے ہیں جو تمہارے شوہر ہوں ؟۔
12 اے میری بیٹیو لوٹ جاؤ اور اپنا راستہ لو کیونکہ میں زیادہ بڑھیا ہوں اور شوہر کرنے کے لائق نہیں ۔ اگر میں کہتی کہ مجھے اُمید ہے بلکہ اگر آج کی رات میرے پاس شوہر بھی ہوتا اور میرے لڑکے پیدا ہوتے۔
13 تو بھی کیا تم انکے بڑے ہونے تک انتظار کر تیں اورشوہر کر لینے سے باز رہیتیں ؟ نہیں میری بیٹیو میں تمہارے سبب سے زیادہ دلگیر ہوں اس لیے کہ خداوند کا ہاتھ میرے خلاف بڑھا ہوا ہے۔
14 تب وہ پھر چلا چلا کر روئیں اورعرفہ نے اپنی ساس ہو چوما پر روت اس سے لپٹی رہی۔
15 تب اس نے کہا کہ دیکھ تیری جٹھانی اپنے کنبے اور اپنے دیوتا کے پاس لوٹ گئی ۔ تو بھی اپنی جٹھانی کے پیچھے چلی جا۔
16 روت نے کہا تو منت نہ کر کہ میں تجھے چھوڑوں اورتیرے پیچھے سے لوٹ جاؤں کیونکہ جہاں تو جائیگی میں جاؤنگی اور جہاں تو رہیگی میں رہونگی تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا۔
17 جہاں تو مریگی میں مرونگی اور وہیں دفن بھی ہونگی خداوند مجھ سے ایسا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ کرے اگر موت کے سوا کوئی چیز مجھ کو تجھ سے جدا کر دے ۔
18 جب اس نے دیکھا کہ اس نے اسکے ساتھ چلنے کی ٹھان لی ہے تو اس سے اور کچھ نہ کہا ۔
19 سو وہ دونوں چلتے چلتےبیت لحم میں آئیں۔ جب وہ بیت لحم میں آئیں تو سارے شہر میں دھوم مچی اور عورتیں کہنے لگی کی کیا یہ نعومی ہے؟ ۔
20 اس نے ان سے کہا کہ مجھ کو نعومی نہیں بلکہ ماراہ کہا اس لیے کہ قادر مطلق میرے ساتھ نہایت تلخی سے پیش آیا ہے۔
21 میں بھری پوری گئی تھی اور خداوند مجھ کو خالی پھیر لایا ہے۔ پس تم کیوں مجھے نعومی کہتی ہو حالانکہ خداوند میرے خلاف مدعی ہوا اورقادر مطلق نے مجھے دکھ دیا ؟ ۔
22 غرض نعومی لوٹی اور اس کے ساتھ اس کی بہو موآبی روت تھی جو موآب کے ملک سے یہاں آئی اور وہ دونوں جَو کاٹنے کے موسم میں بیت لحم میں داخل ہوئیں۔


باب 2

1 اورنعومی کے شوہر کا ایک رشتہ دارتھا جو الیملک کے گھرانے کا اور بڑا مالدارتھا اس کا نام بوعز تھا ۔
2 سو موآبی روت نے نعومی سے کہا مجھے اجازت دے تو میں کھیت میں جاؤں اور جو کوئی کرم کی نظر مجھ پر کرے اسکے پیچھے پیچھے بالیں چنوں اس نے اس سے کہا جا میری بیٹی۔
3 سو وہ گئی اور کھیت میں جا کر کاٹنے والوں کے پیچھے بالیں چننے لگی اوراتفاق سے وہ بوعز ہی کے کھیت کے حصہ میں جا پہنچی جو الیملک کے خاندان کا تھا ۔
4 اور بوعز نے آ کر بیت لحم سے کاٹنے والوں سے کہا خداوند تمہارے ساتھ ہو ۔ انہوں نے اسے جواب دیا خداوند تجھے برکت دے۔
5 پھر بوعز نے اپنے اس نوکر سے جو کاٹنے والوں پر مقرر تھا پوچھا یہ کس کی لڑکی ہے؟ ۔
6 اس نوکر نے جو کاٹنے والوں پر مقرر تھا جواب دیا یہ وہ موآبی لڑکی ہے جو نعومی کے ساتھ موآب کے ملک سے آئی ہے ۔
7 اس نے مجھ سے کہا کہ مجھ کو ذرا کاٹنے والوں کے پیچھے پولیوں کے بیچ بالیں چنکر جمع کرنے دے۔سو یہ آکر صبح سے اب تک یہیں رہی ۔ قفط ذرا سی دیر گھر میں ٹھہری تھی۔
8 تب بوعز نے روت سے کہا اے میری بیٹی! کیا تجھے سنائی نہیں دیتا؟ تو دوسرے کھیت میں بالیں چننے کو نہ جانا اور نہ یہاں سے نکلنا بلکہ میری چھوکریوں کے ساتھ ساتھ رہنا۔ ۔
9 اس کھیت پر جسے وہ کاٹتے ہیں تیری آنکھیں جمی رہیں اورتو ان ہی کے پیچھے پیچھے چلنا ۔ کیا میں نے ان جوانوں کو حکم نہیں دیا کہ وہ تجھے نہ چھوئیں؟ اورجب تو پیاسی ہو تو برتنوں کے پاس جا کر اسی پانی میں سے پینا جو میرے جوانوں نے بھرا ہے۔
10 تب وہ اوندھے منہ گری اورزمین پر سر نگوں ہر کر اس سے کہا کیا باعث ہے کہ تو مجھ پر کرم کی نظر کر کے میری خبر لیتا ہے حالانکہ میں پردیسن ہوں؟ ۔
11 بوعز نے اس سے کہا کہ جو کچھ تو نے اپنے خاوند کےمرنے کے بعد اپنی ساس کے ساتھ کیا وہ سب مجھے پورے طور پر بتایا گیا ہے کہ تو نے کیسے اپنے ماں باپ اورزاد بوم کو چھوڑا اور ان لوگوں میں جنکو تو اس سے پیشتر نہ جانتی تھی آئی۔
12 خداوند تیرے کام کا بدلہ دے بلکہ خداوند اسرائیل کے خدا کی طرف سے جسکے پروں میں تو پناہ کے لیے آئی ہے تجھ کو پورا اجر ملے۔
13 تب اس نے کہا اے میرے مالک تیرے کرم کی نظر مجھ پر رہے کیونکہ تو نے مجھے دلاسا دیا اور مہر کے ساتھ اپنی لونڈی سے باتیں کیں اگرچہ میں تیری لونڈیوں میں سے ایک کے بھی برابر نہیں ۔
14 پھر بوعز نے اس سے کھانے کے وقت کہا کہ یہاں آ اور روٹی کھا اور اپنا نوالہ سرکہ میں بھگو۔ تب وہ کاٹنے والوں کے پاس بیٹھ گئی اور انہوں نے بھنا ہوا اناج اسکے پاس کر دیا ۔ سو اس نے کھایا اور سیر ہوئی اور کچھ رکھ چھوڑا۔
15 اور جب وہ بالیں چنے اٹھی تو بوعز نے اپنے جوانوں سے کہا کہ اسے پولیوں کے بیچ میں بھی چننے دینا اور اسے ملامت نہ کرنا۔
16 اور اسکے لیے گھڑیوں میں سے تھوڑا نکال کر چھوڑ دینا اور اسے چننے دینا اورجھڑکنا مت۔
17 سو وہ شام تک کھیت میں چنتی رہی اور جو کچھ اس نے چنا تھا اُسے پھٹکا اوروہ قریب ایک ایفہ جَو نکلا۔
18 اور وہ اسے اٹھا کر شہر میں گئی اورجو کچھ اس نے چناتھا اسے اسکی سا س نے دیکھا اور اس نے وہ بھی جو اس نے سیر ہونے کے بعد رکھ چھوڑا تھا نکالکر اپنی ساس کو دیا ۔
19 اس کی ساس نے اس سے پوچھا تو نے آج کہاں بالیں چُنیں اورکہاں کام کیا؟ مبارک ہو وہ جس نے تیری خبر لی ۔ تب اس نے اپنی ساس کو بتایا کہ اس نے کس کے پاس کام کیا تھا اور کہا کہ اس شخص کا نام جسکے ہاں آج میں نے کام کیا بوعز ہے۔
20 نعومی نے اپنی بہو سے کہا وہ خداوند کی طرف سے برکت پائے جس نے زندوں اور مردوں سےاپنی مہربانی باز نہ رکھی اور نعومی نے اس سے کہا کہ یہ شخص ہمارے قریبی رشتہ کا ہے اور ہمارے نزدیک کے قرابتیوں میں سے ایک ہے ۔
21 موآبی روت نے کہا اس نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ تو میرے جوانوں کے ساتھ رہنا جب تک وہ میری ساری فصل کاٹ نہ چکیں ۔
22 نعومی نے اپنی بہو روت سے کہا میری بیٹی یہ اچھا ہے کہ تو اسکی چھوکریوں کے ساتھ جایا کرے اور وہ تجھے کسی اور کھیت میں نہ پائیں ۔
23 سو وہ بالیں چننے کے لیے جو اور گیہوں کی فصل کے خاتمے تک بوعز کی چھوکریوں کے ساتھ ساتھ لگی رہی اور وہ اپنی ساس کے ساتھ رہتی تھی۔


باب 3

1 پھر اسکی ساس نعومی نے اس سے کہا میری بیٹی کیا میں تیرے آرام کی طالب نہ بنوں جس سے تیری بھلائی ہو ؟ ۔
2 اور کیا بوعز ہمارا رشتہ دار نہیں جسکی چھوکریوں کے ساتھ تو تھی ؟ دیکھ وہ آج کی رات کھلیہان میں جو پھٹکیگا ۔
3 سو تو نہا دھو کر خوشبو لگا اور اپنی پوشاک پہن اور کھلیہان کو جا اور جب تک وہ مرد کھا پی نہ چکے تب تک تو اپنی تئیں اس پر ظاہر نہ کرنا۔
4 جب وہ لیٹ جائے تو اسکے لیٹنے کی جگہ کو دیکھ لینا تب تو اندر جا کر اسکے پاؤں کھول کر لیٹ جانا اور جو کچھ تجھ کو کرنا مناسب ہے وہ تجھ کو بتائیگا۔
5 اس نے اپنی ساس سے کہا جو کچھ تو مجھ سے کہتی ہے میں کرونگی ۔
6 سو وہ کھلیہان کو گئی اور جو کچھ اسکی ساس نے حکم دیا تھا وہ سب کیا۔
7 اور جب بوعز کھا پی چکا اور اسکا دل خوش ہوا تو وہ غلے کے ڈھیر کے ایک طرف جا کر لیٹ گیا۔ تب وہ چپکے چپکے آئی اور اسکے پاؤں کھولکر لیٹ گئی ۔
8 اور آدھی رات کو ایسا ہوا کہ وہ مرد ڈر گیا اور اس نے کروٹ لی اور دیکھا کہ ایک عورت اسکے پاؤں کے پاس پڑی ہے۔
9 تب اس نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں تیری لونڈی روت ہوں ۔ سو تو اپنی لونڈی پر اپنا دامن پھیلا دے کیونکہ تو نزدیک کا قرابتی ہے۔
10 اس نے کہا تو خداوند کی طرف سے مبارک ہو اے میری بیٹی تو نے شروع کی نسبت آخر میں زیادہ مہربانی کر دکھائی اس لیے کہ تو نے جوانوں کا خواہ امیر ہوں یا غریب پیچھا نہ کیا۔
11 اب اے میری بیٹی مت ڈر ۔ میں سب کچھ جو تو کہتی ہے تجھ سے کرونگا کیونکہ میری قوم کا تمام شہر جانتا ہے کہ تو پاک دامن عورت ہے۔
12 اور یہ سچ ہے کہ میں نزدیک کا قرابتی ہوں لیکن ایک اور بھی ہے جو قرابت میں مجھ سے زیادہ نزدیک ہے ۔
13 اس رات تو ٹھہری رہ اور صبح کو اگر وہ قرابت کا حق ادا کرنا چاہے تو خیر وہ قرابت کا حق ادا کرے اور اگر وہ تیرے ساتھ قرابت کا حق ادا کرنا نہ چاہے تو زندہ خدا کی قسم میں تیرے ساتھ قرابت کا حق ادا کرونگا ۔ صبح تک تو تو لیٹی رہ۔
14 سو وہ صبح تک اسکے پاؤں کے پاس لیٹی رہی اور پیشتر اس سے کہ کوئی ایک دوسرے کو پہچان سکے اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ اس نے کہہ دیا تھا کہ یہ ظاہر نہ ہونے پائے کہ کھلیہان میں یہ عورت آئی تھی۔
15 پھر اس نے کہا اس چادر کو جو تیرے اوپر ہے لا اور تھامے رہ ۔ جب اس نے تھاما تو اس نے جو کے چھ پیمانہ ناپ کر اس پر لاد دئیے پھر وہ شہر کو چلا گیا۔
16 جب وہ اپنی ساس کے پاس آئی تو اس نے کہا اے میری بیٹی تو کون ہے ؟ تب اس نے سب کچھ جو اس مرد نے اس کے ساتھ کیا تھا اسے بتایا ۔
17 اور کہنے لگی کہ مجھ کو اس نے یہ چھ پیمانہ جو کے دئیے کیونکہ اس نے کہا کہ تو اپنی ساس کے پاس خالی ہاتھ نہ جا۔
18 تب اس نے کہا اے میری بیٹی جب تک اس بات کے انجام کا تجھے پتا نہ لگے تو چپ چاپ بیٹھی رہ اس لیے کہ اس شخص کو چین نہ ملے گا جب تک وہ اس کام کو آج ہی تمام نہ کر لے۔


باب 4

1 تب بوعز پھاٹک کے پاس جا کر وہاں بیٹھ گیا اور دیکھو جس نزدیک کے قرابتی کا ذکر بوعز نے کیا تھا وہ آ نکلا ۔ اس نے اس سے کہا ارے بھائی! ادھر آ اور ذرا یہاں بیٹھ جا۔ سو وہ ادھر آ کر بیٹھ گیا۔
2 پھر اس نے شہر کے بزرگوں میں سے دس آدمیوں کو بلا کر کہا یہاں بیٹھ جاؤ سو وہ بیٹھ گئے۔
3 تب اس نے اس نزدیک کے قرابتی سے کہا نعومی جو موآب کے ملک سے لوٹ آئی ہے زمین کے اس ٹکڑے کو جو ہمارے بھائی الیملک کا مال تھا بیچتی ہے ۔
4 سو میں نے سوچا کہ تجھ پر اس بات کو ظاہر کر کے کہونگا کہ تو ان لوگوں کے سامنے جو بیٹھے ہیں اور میری قوم کے لوگوں کے سامنے اسے مول لے ۔ اگر تو اسے چھڑاتا ہے تو چھڑا اگر نہیں چھڑاتا تو مجھے بتا دے تاکہ مجھ کو معلوم ہو جائے کیونکہ تیرے سوا اور کوئی نہیں جو اسے چھڑائے اور تیرے بعد میں ہوں اس نے کہا میں چھڑاونگا۔
5 تب بوعز نے کہا جس دن تو وہ زمین نعومی کے ہاتھ سے مول لے تو تجھے موآبی روت کے ہاتھ سے بھی جو مردہ کی بیوی ہے مول لینا ہو گا تاکہ اس مردہ کا نام اسکی میراث پر قائم کرے۔
6 تب اسکے نزدیک کے قرابتی نے کہا کہ میں اپنے لئے اسے چھڑا نہیں سکتا تا نہ ہو کہ میں اپنی مراث خراب کر دوں۔ اسکے چھڑانے کا جو میرا حق ہے اسے تو لے لے کیونکہ میں اسے چھڑا نہیں سکتا۔
7 اور اگلے زمانہ میں اسرائیل میں معاملہ پکا کرنے کے لیے چھڑانے اور بدلنے کے بارے میں یہ معمول تھا کہ مرد اپنی جوتی اتار کر اپنے پڑوسی کو دے دیتا تھا اسرائیل میں تصدیق کرنے کا یہی طریقہ تھا۔
8 سو اس نزدیک کے قرابتی نے بوعز سے کہا کہ تو آپ ہی اسے مول لے لے۔ پھر اس نے اپنی جوتی اتار ڈالی۔
9 اور بوعز نے بزرگوں اور سب لوگوں سے کہا تم آج کے دن گواہ ہو کہ میں نے الیملک اور کلیون اور محلون کا سب کچھ نعومی کے ہاتھ سے مول لے لیا ہے۔
10 ماسوا اسکے میں محلون کی بیوی موآبی روت کو بھی اپنی بیوی بنانے کے لیے خرید لیا ہے تاکہ اس مردہ کے نام کو اسکی میراث میں قائم کروں اور اس مردہ کا نام اسکے بھائیوں اور اس کے مکان کے دروازے سے مٹ نہ جائے۔ تم آج کے دن گواہ ہو۔
11 تب سب لوگوں نے جو پھاٹک پر تھے اور ان بزرگوں نے کہا کہ ہم گواہ ہیں۔ خداوند اس عورت کو جو تیرے گھر میں آئی ہے راخل اور لیاہ کی مانند کرے جن دونوں نے اسرائیل کا گھر آباد کیا اور تو افراتہ میں تحسین و آفرین کا کام کرے اور بیت لحم میں تیرا نام ہو۔
12 اور تیرا گھر اس نسل سے جو خداوند تجھے اس عورت سے دے فارص کے گھر کی طرح ہو جو یہوداہ سے تمر کے ہوا۔
13 سو بوعز نے روت کو لیا اور وہ اسکی بیوی بنی اور اس نے اس سے خلوت کی اور خداوند کے فضل سے وہ حاملہ ہوئے اور اسکے بیٹا ہوا۔
14 اور عورتوں نے نعومی سے کہا کہ خداوند مبارک ہو جس نے آج کے دن تجھے نزدیک کے قرابتی کے بغیر نہیں چھوڑا اور اس کا نام اسرائیل میں مشہور ہو۔
15 اور وہ تیرے لئے تیری جان کا بحال کرنے والا اور تیرے بڑھاپے کا پالنے والا ہو گا کیونکہ تیری بہو جو تجھ سے محبت رکھتی ہے اور تیرے لئے ساتھ بیٹوں سے بھی بڑھ کر ہے وہ اسکی ماں ہے۔
16 اور نعومی نے اس لڑکے کو لیکر اپنی چھاتی سے لگایا اور اسکی دایہ بنی۔
17 اور اسکی پڑوسنوں نے اس بچے کو ایک نام دیا اور کہنے لگی کہ نعومی کے لیے ایک بیٹا پیدا ہوا سو انہوں نے اس کا نام عوبید رکھا وہ یسی کا باپ تھا جو داؤد کا باپ ہے۔
18 اور فارص کا نسب نامہ یہ ہے فارص سے حصرون پیدا ہوا۔
19 اور حصرون سے رام پیدا ہوا اور رام سے عمینداب پیدا ہوا۔
20 اور عمینداب سے نحسون پیدا ہوا اور نحسون سے سلمون پیدا ہوا۔
21 اور سلمون سے بوعز پیدا ہوا اور بوعز سے عوبید پیدا ہوا۔
22 اور عوبید سے یسی پیدا ہوا اور یسی سے داؤد پیدا ہوا۔