سلاطِین 1

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22


باب 1

1 اور داُود بادشاہ بُڈھا اور کُہن سال ہُوا اور وہ اُسے کپڑے اُڑھا تے پر وہ گرم نہ ہوتا تھا ۔
2 سو اُس کے خادموں نے اُس سے کہا کہ ہمارے مالک بادشاہ کے لیے ایک جوان کنواری ڈھونڈی جائے جو بادشاہ کے حضور کھڑی رہے اور اُسکی خبرگیِری کیا کرے اور تیرے پہلو میں لِیٹ رہا کرے تاکہ ہمارے مالِک بادشاہ کو گرمی پہنچے۔
3 چُنانچہ اُنہوں نے اسرائیل کی ساری مملکت میں ایک خوبصورت لڑکی تلاش کرتے کرتے شُونمیت ابی شاگ کو ہایا اور اُسے بادشاہ کے پاس لائے ۔
4 اور وہ لڑکی بہت شِکیل تھی۔ سو وہ بادشاہ کی خبر گیری اور اُس کی خدمت کرنے لگی لیکن بادشاہ اُس سے واقف نہ ہُوا۔
5 تب حجیت کے بیٹے ادونیاہ نے سر اُٹھایا اور کہنے لگا میں بادشاہ ہونگا اور اپنے لیے رتھ اور سوار اور پچاس آدمی جو اُس کے آگے آگے دوڑیں تیار کیے ۔
6 اور اُس کے باپ نے اُسکو کبھی اتنا بھی کہہ کر آزردہ نہیں کِیا کہ تُو نے یہ کیوں کیا ہے؟ اور وہ بہت خوبصورت بھی تھا اور ابی سلوم کے بعد پیدا ہُوا تھا ۔
7 اور اُس نے ضرویاہ کے بیٹے یوآب اور ابی یاتر کاہن سے گفتگو کی اور یہ دونوں ادونیاہ کے پیرو ہو کر اُس کی مدد کرنے لگے ۔
8 لیکن صدوق کاہن اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ او ر ناتن نبی اور سمعی اور ریعی اور داود کے بہادر لوگوں نے ادونیاہ کا ساتھ نہ دیا ۔
9 اور ادونیاہ نے بھیڑیں اور بیل اور موٹے موٹے جانور زحلت کے پتھر کے پاس جو عین راجل کے برابر ہے ذبح کئے اور اپنے سب بھائیوں یعنی جو بادشاہ کے مُلازم تھے دعوت کی ۔
10 پر ناتن نبی اور بنایاہ اور بہادر لوگوں اور اپنے بھائی سلیمان کو نہ بُلایا ۔
11 تب ناتن نے سلیمان کی ماں بت سبع سے کہا کیا تُو نے نہیں سُنا کہ حجیت کا بیٹا ادونیاہ بادشاہ بن بیٹھا ہے اور ہمارے مالک داود کو یہ معلوم نہیں ؟
12 اب تُو آکہ میں تُجھے صلاح دوں تاکہ تُو اپنی اور اپنے بیٹے سلیمان کی جان بچا سکے۔
13 تُو داود بادشاہ کے حضور جا کر اُس سے کہہ اے میرے مالک ! اے بادشاہ ! کیا تُو نے اپنی لونڈی سے قسم کھا کر نہیں کہا کہ یقینا تیرا بیٹا سلیمان میرے بعد سلطنت کرے گا اور وہی میرے تخت پر بیٹھےگا ؟ پس ادونیاہ کیوں بادشاہی کرتا ہے؟
14 اور دیکھ تُو بادشاہ سے بات کرتی ہی ہو گی کہ مَیں بھی تیرے بعد آ پہنچونگا اور تیری باتوں کی تصدیق کرونگا۔
15 سو بت سبع اندر کوٹھری میں بادشاہ کے پاس گئی اور بادشاہ بہت بُڈھا تھا اور شونمیت ابی شاگ بادشاہ کی خدمت کرتی تھی۔
16 اور بت سبع نے جھُک کر بادشاہ کو سجدہ کیا ۔ بادشاہ نے کہا تُو کیا چاہتی ہے؟
17 اُس نے اُس سے کہا اے میرے مالک ! تُو نے خداوند اپنے خدا کی قسم کھا کر اپنی لونڈی سے کہا تھا کہ یقینا تیرا بیٹا سلیمان میرے بعد سلطنت کرے گا اور وہی میرے تخت پر بیٹھے گا ۔
18 پر دیکھ اب تو ادونیاہ بادشاہ بن بیٹھا ہے اور اے میرے مالک بادشاہ تُجھکو اِسکی خبر نہیں ۔
19 اور اُس نے بہت سے بیل اور موٹے موٹے جانور اور بھیڑیں ذبح کی ہیں اور بادشاہ کے سب بیٹوں اور ابیاتر کاہن اور لشکر کے سردار ایوب کی دعوت کی ہے پر تیرے بندہ سلیمان کو اُس نے نہیں بُلایا ۔
20 لیکن اے میرے مالک سارے اسرائیل کی نگاہ تُجھ پر ہے تاکہ تُو اُنکو بتائے کہ میر ے مالک بادشاہ کے تخت پر کون اُس کے بعد بیٹھے گا ۔
21 ورنہ یہ ہو گا کہ جب میرا مالک بادشاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جائے گا تو میں اور میرا بیٹا سلیمان دونوں قصوروار ٹھہریںگے۔
22 وہ ہنوز بادشاہ سے بات کر ہی رہی تھی کہ ناتن نبی آگیا ۔
23 اور اُنہوں نے بادشاہ کو خبر دی کہ دیکھ ناتن نبی حاضر ہے اور جب وہ بادشاہ کے حضور آیا تو اُس نے منہ کے بل گِر کر بادشاہ کو سجدہ کیا۔
24 اور ناتن کہنے لگا اے میرے مالک بادشاہ ! کیا تُو نے فرمایا ہے کہ میرے بعد ادونیاہ بادشاہ ہو اور وہی میرے تخت پر بیٹھے؟
25 کیونکہ اُس نے آج جا کر بیل اور موٹے موٹے جانور اور بھیڑیں کثرت سے ذبح کی ہیں اور بادشاہ کے سب بیٹوں اور لشکر کے سرداروں اور ابیاتر کاہن کی دعوت کی ہے اور دیکھ وہ اُس کے حضور کھا پی رہے ہیں اور کہتے ہیں ادونیاہ بادشاہ جیتا رہے !۔
26 پر مجھ تیرے خادم کو اور صدوق کاہن اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ اور تیرے خادم سلیمان کو اُس نے نہیں بُلایا ۔
27 کیا یہ بات میرے مالک بادشاہ کی طرف سے ہے ؟ اور تُو نے اپنے خادموں کو بتایا بھی نہیں کہ میرے مالک بادشاہ کے بعد اُس کے تخت پر کون بیٹھےگا۔
28 تب داود بادشاہ نے جواب دیا اور فرمایا کہ بت سبع کو میرے پاس لاو۔ سو وہ بادشاہ کے حضور آئی اور بادشاہ کے سامنے کھڑی ہوئی۔
29 بادشاہ نے قسم کھا کر کہا خداوند کی حیات کی قسم جس نے میری جان کو ہر طرح کی آفت سے رہائی دی۔
30 کہ سچ مُچ جیسی میں نے خداوند اسرائیل کے خدا کی قسم تُجھ سے کھائی اور کہا کہ یقینا تیرا بیٹا سلیمان میرے بعد بادشاہ ہو گا اور وہی میری جگہ میرے تخت پر بیٹھےگا سو سچ مُچ میں آج کے دن ویسا ہی کرونگا۔
31 تب بت سبع زمین پر منہ کے بل گِری اور بادشاہ کو سجدہ کر کے کہا کہ میرا مالک داود بادشاہ ہمیشہ جیتا رہے۔
32 اور داود بادشاہ نے فرمایا کہ صدوق کاہن اور ناتن نبی اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو میرے پاس لاو ۔ سو وہ بادشاہ کے حضور آئے۔
33 بادشاہ نے اُسکو فرمایا کہ تُم اپنے مالک کے مُلازموں کو اپنے ساتھ لو اور میرے بیٹے سلیمان کو میرے ہی خچر پر سوار کر او اور اُسے حجیون کو لے جاو ۔
34 اور وہاں صدوق کاہن اور ناتن نبی اُسے مسح کریں کہ وہ اسرائیل کا بادشاہ کو اور تُم نرسنگا پھُونکنا اور کہنا سلیمان بادشاہ جیتا رہے ۔
35 پھر تُم اُس کے پیچھے پیچھے چلے آنا اور وہ آکر میرے تخت پر بیٹھے کیونکہ وہی میری جگہ بادشاہ ہو گا اور میں نے اُسے مقرر کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور یہودہ کا حاکم ہو ۔
36 ےب یہویدع کے بیٹے بنایاہ نے بادشاہ کے جواب میں کہا آمین ۔ خداوند میرے مالک بادشاہ کا خُدا بھی ایسا ہی کہے ۔
37 جیسے خُداوند میرے مالک بادشاہ کے ساتھ رہا ویسے ہی وہ سلیمان کے ساتھ رہے اور اُس کے ٹکے کو میرے مالک داود بادشاہ سے بڑا بنائے۔
38 پس صدوق کاہن اور ناتن نبی اور یہویدع کا بیٹا بنایاہ اور کریتی اور فلیتی گئے اور سلیمان کو داود بادشاہ کے خچر پر سوار کرایا اور اُسے حجیون پر لائے۔
39 اور صدوق کاہن نے خیمہ سے تیل کا سینگ لیا اور سلیمان کو مسح کیا اور اُنہوں نے نرسنگا پھُونکا اور سب لوگوں نے اُسے کہا سلیمان بادشاہ جیتا رہے ۔
40 اور سب لوگ اُس کے پیچھے پیچھے آئے اور اُنہوں نے بانسلیاں بجائیں اور بڑی خُوشی منائی ایسا کہ زمین اُنکے شور و غُل سے گونج اُٹھی ۔
41 اور ادونیاہ اور اُس کے سب مہمان جو اُس کے ساتھ تھے کھا چُکے تھے کہ اُنہوں نے یہ سُنا اور جب یوآب کو نرسنگے کی آواز سُنائی دی تو اُس نے کہا کہ شہر میں یہ ہنگامہ اور شور کیوں مچ رہا ہے ؟
42 وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ابیاتر کاہن کا بیٹا یونتن آیا اور ادونیاہ نے اُس نے کہا بھیتر آ کیونکہ تُو لائق شخص ہے اور اچھی خبر لایا ہو گا ۔
43 یونتن نے ادونیاہ کو جواب دیا کہ واقعی ہمارے مالک داود بادشاہ نے سلیمان کو بادشاہ بنا دیا ہے ۔
44 اور بادشاہ نے صدوق کاہن اور ناتن نبی اور یہویدع کے بیٹے بنایاہ اور کریتیوں اور فلیتیوں کو اُس کے ساتھ بھیجا سو اُنہو ں نے بادشاہ کے خچر پر اُسے سوار کرایا۔
45 اور صدوق کاہن اور ناتن نبی نے حجیون پر اُس کو مسح کر کے بادشاہ بنایا ہے ۔ وہ وہ وہیں سے خوشی کرتے آئے ہیں ایسا کہ شہر گونج گیا۔ وہ شور جو تُم نے سُنا یہی ہے ۔
46 اور سلیمان تخت سلطنت پر بیٹھ بھی گیا ہے ۔
47 ماسِوا اِسکے بادشاہ کے مُلازم ہمارے مالک داود بادشاہ کو مبارکباد دینےآئے اور کہنے لگے کہ تیرا خدا سلیمان کے نام کو تیرے نام سے زیادہ ممتاز کرے اور اُس کے تخت کو تیرے تخت سے بڑا بنائے اور بادشاہ اپنے بستر پر سرنگون ہو گیا ۔
48 اور بادشاہ نے بھی یوں فرمایا کہ خداوند اسرائیل کا خُدا مُبارک ہو جس نے ایک وارث بخشا کہ وہ میری ہی آنکھوں کے دیکھتے ہوئے آج میرے تخت پر بیٹھے۔
49 پھر تو ادونیاہ کے سب مہمان ڈر گئے اور اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہر ایک نے اپنا راستہ لیا۔
50 اور ادونیاہ سلیمان کے سبب سے ڈر کے مارے اُٹھا اور جا کر مذبح کے سینگ پکڑ لیے ۔
51 اور سلیمان کو یہ بتایا گیا کہ دیکھ ادونیاہ سلیمان بادشاہ سے ڈرتا ہے کیونکہ اُس نے مذبح کے سینگ پکڑ رکھے ہیں اور کہتا ہے کہ سلیمان بادشاہ آج کے دن مجھ سے قسم کھائے کہ وہ اپنے خادم کو تلوار سے قتل نہیں کرےگا۔
52 سلیمان نے کہا اگر وہ اپنے لائق ثابت کرے تو اُسکا ایک بال بھی زمین پر نہیں گِریگا پر اگر اُس میں شرارت پائی جائیگی تو وہ مارا جائےگا۔
53 سو سلیمان بادشاہ نے لوگ بھیجے اور وہ اُس ے مذبح پر سے اُتار لائے۔ اُس نے آکر سلیمان بادشاہ کو سجدہ کیا اور سلیمان نے اُس سے کہا اپنے گھر جا ۔



باب 2

1 اور داود کے مرنے کے دن نزدیک آئے ۔ سو اُس نے اپنے بیٹے سلیمان کو وصیت کی اور کہا کہ۔
2 میں اُسی راستہ جانے والا ہوں جو سارے جہان کا ہے ۔ اِس لیے تُو مضبوط ہو اور مردانگی دکھا۔
3 اور جو موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے اُسکے مطابق خداوند اپنے خُدا کی ہدایت کو مانکر اُسکی راہوں پر چل اور اُسکے آئین پر اور اُس کے فرمانوں اور حُکموں اور شہادتوں پر عمل کر تاکہ جو کچھ تُو کرے اور جہاں کہیں تُو جائے سب میں تُجھے کامیابی ہو۔
4 اور خُداوند اپنی اُس بات کو قائم رکھے جو اُس نے میرے حق میں کہی کہ اگر تیری اولاد اپنے طریق کی حفاظت کر کے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے میرے حضور راستی سے چلے تو اسرائیل کے تخت پر تیرے ہاں آدمی کی کمی نہ ہو گی۔
5 اور تُو آپ کانتا ہے کہ ضرویاہ کے بیٹے یوآب نے مجھ سے کیا کیا کِیا یعنی اُس نے اسرائیلی لشکر کے دو سرداروں نیر کے بیٹے ابنیر اور یتر کے بیٹے عماسا سے کیا کِیا جنکو اُس نے قتل کِیا اور صلح کے وقت خون ِ جنگ بہایا اور خُونِ جنگ کو اپنے پٹکے پر جو اُسکی کمر میں بندھا تھا اور اپنی جُوتیوں پر جو اُسکے پاوں میں تھیں لگایا۔
6 سو تُواپنی حکمت سے کام لینا اور اُسکے سفید سر کو قبر میں سلامت اُترنے نہ دینا ۔7 پر برزلی جلعادی کے بیٹوں پر مہربانی کرنا اور وہ اُن میں شامل ہوں جو تیرے درسترخوان پر کھانا کھایا کریں گے کیونکہ وہ ایسا ہی کرنے کو میرے پاس آئے جب میں تیرے بھائی ابی سلوم کے سبب سے بھاگا تھا ۔
7
8 اور دیکھ بینمینی جیرا کا بیٹا بحوریمی سمعی تیرے ساتھ ہے جس نے اُس دن جب کہ میں محنایم کو جاتا تھا بہت بُری طرح مجھ پر لعنت کی پر وہ یردن پر مجھ سے مِلنے کو آیا اور میں نے خُداوند کی قسم کھا کر اُس سے کہا کہ میں تُجھے تلوار سے قتل نہیں کرونگا۔
9 سو تُو اُسکو بے گناہ نہ ٹھہرانا کیونکہ تُو عاقل مرد ہے اور تُو جانتا ہے کہ تُجھے اُس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے ۔ پس تُو اُسکا سفید سر لہولہان کر کے قبر میں اُتارنا۔
10 اور داود اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داود کے شہر میں دفن ہوا ۔
11 اور کُل مدت جس میں داود نے اسرائیل پر سلطنت کی چالیس برس کی تھی ۔ سات برس تو اُس نے حبرون میں سلطنت کی اور تینتیس برس یروشیلم میں ۔
12 اور سلیمان اپنے باپ داود کے تخت پر بیٹھا اور اُسکی سلطنت نہایت مستحکم ہوئی۔
13 تب حجیت کا بیٹا ادونیاہ سلیمان کی ماں بت سبع کے پاس آیا ۔ اُس نے پُوچھا تُو صلح کے خیال سے آیا ہے؟ اُس نے کہا صلح کے خیال سے ۔
14 پھر اُس نے کہا مجھے تُجھ سے کچھ کہنا ہے ۔ اُس نے کہا کہہ ۔
15 اُس نے کہا تُو جانتی ہے کہ سلطنت میری تھی اور سب اسرائیلی میری طرف متوجہ تھے کہ میں سلطنت کروں لیکن سلطنت پلٹ گئی اور میرے بھائی کی ہو گئی کیونکہ خُداوند کی طرف سے یہ اُسی کی تھی ۔
16 سو میری تُجھ سے ایک درخواست ہے ۔ نا منظور نہ کر ۔ اُس نے کہا بیان کر ۔
17 اُس نے کہا ذرا سلیمان بادشاہ سے کہہ کیونکہ وہ تیری بات کو نہیں ٹلیگا کہ ابی شاگ شونمیت کو مجھے بیاہ دے ۔
18 بت سبع نے کہا اچھا میں تیرے لیے بادشاہ سے عرض کرونگی ۔
19 پس بت سبع سلیمان بادشاہ کے پاس گئی تاکہ اُس سے ادونیاہ کے لیے عرض کرے۔ بادشاہ اُسکے استقبال کے واسطے اُٹھا اور اُس کے سامنے جھُکا ۔ پِھر اپنے تخت پر بیٹھا اور اُس نے بادشاہ کی ماں کے لیے ایک تخت لگوایا۔ سو وہ اُسکے دہنے ہاتھ بیٹھی ۔
20 اور کہنے لگی میری تُجھ سے ایک چھوٹی سی درخواست ہے ۔ تُو مجھ سے اِنکار نہ کرنا ۔ بادشاہ نے اُس سے کہا اے میری ماں ! اِرشاد فرما مجھے تُجھ سے اِنکار نہ ہو گا ۔
21 اُس نے کہا ابی شاگ شونمیت تیرے بھائی ادونیاہ کو بیاہ دی جائے۔
22 سلیمان بادشاہ نے اپنی ماں کو جواب دیا کہ تُو ابی شاگ شونمیت ہی کو ادونیاہ کے لیے کیوں مانگتی ہے؟ اُس کے لیے سلطنت بھی مانگ کیونکہ وہ تو میرا بڑا بھائی ہے بلکہ اُسی کے لیے کیا ابیاتر کاہن اور ضرویاہ کے بیٹے یوآب کے لیے بھی مانگ۔
23 تب سلیمان بادشاہ نے خُداوندکی قسم کھائی اور کہا کہ اگر ادونیاہ نے یہ بات اپنی ہی جان کے خلاف نہیں کہی تو خُدا مجھ سے ایسا ہی بلکہ اِس سے بھی زیادہ کرے۔
24 سو اب خداوند کی حیات کی قسم جس نے مجھ کو قیا م بخشا اور مجھ کو میرے باپ داود کے تخت پر بٹھایا اور میرے لیے اپنے وعدہ کے مطابق ایک گھر بنایا یقینا ادونیاہ آج ہی قتل کیا جائے گا ۔
25 اور سلیمان بادشاہ نے یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو بھیجا ۔ اُس نے اُس پر ایسا وار کیا کہ وہ مرگیا۔
26 پھر بادشاہ نے ابیاتر کاہن سے کہا تُو عنتوت کو اپنے کھیتوں میں چلا جا کیونکہ تُو واجب القتل ہے پر میں اِس وقت تُجھ کو قتل نہیں کرتا کیونکہ تُو میرے باپ داود کے سامنے خداوند یہوواہ کا صندوق اُٹھایا کرتا تھا اور جو جو مصیبت میرے باپ پر آئی وہ تُجھ پر بھی آئی۔
27 سو سلیمان نے ابیاتر کو خُداوند کے کاہن کے عہدہ سے برطرف کیا تاکہ وہ خُداوند کے اُس قول کوپُورا کرے جو اُس نے سَیلا میں عیلی کے گھرانے کے حق میں کہا تھا ۔
28 اور یہ خبر یوآب تک پہنچی کیونکہ یوآب ادونیاہ کا تو پیرو ہو گیا تھا گو وہ ابی سلوم کا پیرو نہیں ہُوا تھا ۔ سو یوآب خُداوند کے خیمہ کو بھاگ گیا اور مذبح کے سینگ پکڑ لیے۔
29 اور سلیمان بادشاہ کو خبر ہوئی کہ یوآب خُداوند کے خیمہ کو بھاگ گیا ہے او ر دیکھ وہ مذبح کے پاس ہے ۔ تب سلیمان نے یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جا کر اُس پر وار کر۔
30 سو بنایاہ خُداوند کے خیمہ کو گیا اور اُس نے اُس سے کہا بادشاہ یوں فرماتا ہے کہ تُو باہر نکل آ۔ اُس نے کہا نہیں بلکہ میں یہیں مرونگا۔ تب بنایاہ نے لَوٹ کر بادشاہ کو خبر دی کہ یوآب نے یوں کہا ہے او ر اُس نے مجھے یوں جواب دیا۔
31 تب بادشاہ نے اُس سے کہا جیسا اُس نے کہا ویسا ہی کر اور اُس پر وار کر اور اُسے دفن کر دے تاکہ تُو اُس خون کو جو یوآب نے بے سبب بہایا مُجھ پر سے اور میرے باپ کے گھر پر سے دُور کر دے ۔
32 اور خُداوند اُسکا خُون اُلٹا اُسی کے سر پر لائیگا کیونکہ اُس نے دو شخصوں پر جو اُس سے زیادہ راستباز اور اچھے تھے یعنی نیر کے بیٹے ابنیر پر جو اسرائیلی لشکر کا سردار تھا اور یتر کے بیٹے عماسا پر کو یہوداہ کی فوج کا سردار تھا وار کیا اور اُنکو تلوار سے قتل کیا اور میرے باپ دادا کو معلوم نہ تھا ۔
33 سو اُنکا خُون یوآب کے سر پر اور اُسکی نسل کے سر پر ابد تک رہےگا لیکن داود پر اور اُسکی نسل کے سر پر اور اُسکے گھرپر اور اُس کے تخت پر ابد تک خُداوند کی طرف سے سلامتی ہوگی ۔
34 تب یہویدع کا بیٹا بنایاہ گیا اور اپس نے اُس پر وار کر کے اُسے قتل کیا اور وہ بیابان کے بیچ اپنے ہی گھر میں دفن ہُوا۔
35 اور بادشاہ نے یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو اُسکی جگہ لشکر پر مقرر کیا اور صدوق کاہن کو بادشاہ نے ابیاتر کی جگہ رکھا۔
36 پھر بادشاہ نے سمعی کو بُلا بھیجا اور اُس سے کہا کہ یروشلیم میں اپنے لیے ایک گھر بنا لے اور وہیں رہ اور وہاں سے کہیں نہ جانا ۔
37 کیونکہ جس دن تُو باہر نکلےگا اور نہرِ قدرون کے پار جائےگا تو یقینا جان لے کہ تُو ضرور مارا جائےگا اور تیرا خُون تیرے ہی سر پر ہو گا ۔
38 اور سمعی نے بادشاہ سے کہا یہ بات اچھی ہے ۔ جیسا میرے مالک بادشاہ نے کہا ہے تیرا خادم ویسا ہی کرے گا۔ سو سمعی بہت دنوں تک یروشلیم میں رہا ۔
39 اور تین برس کے آخر میں ایسا ہُوا کہ سمعی کے نوکروں میں سے دو آدمی جات کے بادشاہ اکیس بن معکاہ کے ہاں بگا گئے اور اُنہوں نے سمعی کو بتایا کہ دیکھ تیرے نوکر جات میں ہیں ۔
40 سو سمعی نے اُٹھ کر اپنے گدھے پر زین کسا اور اپنے نوکروں کی تلاش میں جات کو اکِیس کے پاس گیا اور سمعی جا کر اپنے نوکروں کو جات سے لے آیا ۔
41 اور یہ خبر سلیمان کو مِلی کہ سمعی یروشلیم سے جات کو گیا تھا اورواپس آ گیا ہے ۔
42 تب بادشاہ نے سمعی کو بُلا بھیجا اور اُس سے کہا کیا میں نے تُجھے خُداوند کی قسم نہ کھلائی اور تُجھ کو بتا دیا کہ یقین جان لے کہ جس دن تُو باہر نکلا اور اِدھر اُدھر کہیں گیا تو ضرور مارا جائےگا ؟ اور تُو نے مجھ سے یہ کہا کہ جو بات مَیں نے سُنی وہ اچھی ہے ۔
43 پس تُو نے خُداوند کی قسم کو اور اُس حکم کو جسکی مَیں نے تُجھے تاکید کی کیوں نہ مانا ؟
44 اور بادشاہ نے سِمعی سے یہ بھی کہا تُو اُس ساری شرارت کو جو تُو نے میرے باپ داود سے کی جس سے تیرا دل واقف ہے جانتا ہے ۔ سو خُداوند تیری شرارت کو اُلٹا تیرے ہی سر پا لائے گا ۔
45 لیکن سلیمان بادشاہ مبارک ہو گا اور داود کا تخت خُداوند کے حضور ہمیشہ قائم رہےگا ۔
46 اور بادشاہ نے یہویدع کے بیٹے بنایاہ کو حُکم دیا ۔ سو اُس نے باہر جا کر اُس پر ایسا وار کیا کہ وہ مر گیا اور سلطنت سلیمان کے ہاتھ میں مُستحکم ہو گئی ۔



باب 3

1 1۔ اور سلیمان نے مصر کے بادشاہ فرعون سے رشتہ داری کی اور فرعون کی بیٹی بیاہ لی اور جب تک اپنا محل اور خُداوند کا گھر اور یروشلیم کے چوگرد دیوار نہ بنا چُکا اُسے داود کے شہر میں لا کر رکھا ۔
2 لیکن لوگ اُونچی جگہوں میں قُربانی کرتے تھے کیونکہ اُن دنوں تک کوئی گھر خُداوند کے نام کے لیے نہیں بنا تھا ۔
3 اور سلیمان خُداوند سے محبت رکھتا اور اپنے باپ داود کے آئین پر چلتا تھا ۔ اِتنا ضُرور ہے کہ وہ اُونچی جگہوں میں قُربانی کرتا اور بخُور جلاتا تھا ۔
4 اور بادشاہ جبعون کو گیا تاکہ قُربانی کرے کیونکہ وہ خاص اُونچی جگہ تھی اور سلیمان نے اُس مذبح پر ایک ہزار سوختنی قُربانیاں گذرانیں ۔
5 جبعون میں خُداوند رات کے وقت سلیمان کو خواب میں دکھائی دیا اور خُدا نے کہا مانگ مَیں تُجھے کیا دُوں ۔
6 سلیمان نے کہا تُو نے اپنے خادم میرے باپ داود پر بڑا احسان کیا اِسلیے کہ وہ تیرے حضور راستی اور صداقت اور تیرے ساتھ سیدھے دل سے چلتا رہا اور تُو نے اُسکے واسطے یہ بڑا احسان رکھ چھوڑا تھا کہ تُو نے اُسے ایک بیٹا عنایت کِیا جو اُس کے تخت پر بیٹھے جیسا آج کے دن ہے ۔
7 اور اب اے خُداوند میرے خُدا تُو نے اپنے خادم کو میرے باپ داود کی جگہ بادشاہ بنایا ہے اور مَیں چھوٹا لڑکا ہی ہوں اور مُجھے باہر جانے اور بِھیتر آنے کا شعور نہیں ۔
8 اور تیرا خادم تیری قوم کے بیچ میں ہے جِسے تُو نے چُن لیا ہے ۔ وہ ایسی قوم ہے جو کثرت کے باعث نہ گِنی جا سکتی ہے نہ شمار ہو سکتی ہے ۔
9 سو تُو اپنے خادم کو اپنی قوم کا انِصاف کرنے کے لیے سمجھنے والا دل عنایت کر تاکہ مَیں بُرےاور بھلے میں اِمتیاز کر سکوں کیونکہ تیری اِس بڑی قوم کا اِنصاف کون کر سکتا ہے ؟ ۔
10 اور یہ بات خُداوند کو پسند آئی کہ سلیمان نے یہ چیز مانگی ۔
11 اور خُدا نے اُس سے کہا چونکہ تُو نے یہ چیز مانگی اوراپنے لیے عُمر کی درازی کی درخواست نہ کی اور نہ اپنے لیے دولت کا سوال کیا اور نہ اپنے دُشمنوں کی جان مانگی بلکہ انصاف پسندی کے لیے تُو نے اپنے واسطے عقلمندی کی درخواست کی ہے ۔
12 سو دیکھ مَیں نے تیری درخواست کے مطابق کیا ۔ میں نے ایک عاقل اور سمجھنے والا دل تُجھ کو بخشا ایسا کہ تیری مانند نہ تو کوئی تُجھ سے پہلے ہُوا اور نہ کوئی تیرے بعد تُجھ سا برپا ہو گا۔
13 اور مَیں نے تُجھ کو کچھ اور بھی دیا جو تُو نے نہیں مانگا یعنی دولت اور عزت ایسا کہ بادشاہوں میں تیری عمر بھر کوئی تیری مانند نہ ہو گا ۔
14 اور اگر تُو میری راہوں پر چلے اور میرے آئین اور احکام کو مانے جیسے تیرا باپ داود چلتا رہا تو مَیں تیری عمر دراز کرونگا ۔
15 پھر سلیمان جاگ گیا اور دیکھا کہ خواب تھا اور یروشلیم میں آیا اور خُداوند کے عہد کے صندوق کے آگے کھڑا ہُوا اور سوختنی قُربانیاں گُزرانیں اور سلامتی کی قُربانیاں چڑھائیں اور اپنے سب مُلازموں کی ضیافت کی ۔
16 اُس وقت دو عورتیں جو کسبیاں تھیں بادشاہ کے پاس آئیں اور اُس کے آگے کھڑی ہوئیں ۔
17 اور ایک عورت کہنے لگی اے میرے مالک ! مَیں اور یہ عورت دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور اِس کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے میرے ایک بچہ ہوا ۔
18 اور میرے زچہ ہو جانے کے بعد تیسرے دن ایسا ہوا کہ یہ عورت بھی زچہ ہو گئی اور ہم ایک ساتھ ہی تھیں ۔ کوئی غیر شخص اُس گھر میں نہ تھا ۔ سِوا ہم دونوں کے جو گھر ہی میں تِھیں ۔
19 اور اَس عورت کو بچہ رات کو مر گیا کیونکہ یہ اُس کے اُوپر ہی لیٹ گئی تھی ۔
20 سو یہ آدھی رات کو اُٹھی اور جس وقت تیری لونڈی سوتی تھی میرے بیٹے کو میری بغل سے لیکر اپنی گود میں لٹا لیا اور اپنے مرے ہوئے بچے کو میری گود میں ڈال دیا ۔
21 صبح کو غور کیا تو دیکھا کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے جو میرے ہُوا تھا ۔
22 پھر وہ دوسری عورت کہنے لگی نہیں یہ جو جیتا ہے میرا بیٹا ہے اور مرا ہُوا تیرا بیٹا ہے ۔ اِس نے جواب دیا نہیں مرا ہُوا تیرا بیٹا ہے اور جیتا میرا بیٹا ہے ۔ سو وہ بادشاہ کے حضور اِسی طرح کہتی رہیں ۔
23 تب بادشاہ نے کہا ایک کہتی یہ جو جیتا ہے میرا بیٹا ہے اور جو مر گیا ہے وہ تیرا بیٹا ہے اور دوسری کہتی ہے کہ نہیں بلکہ جو مر گیا ہے وہ تیرا بیٹا ہے اور جو جیتا ہے وہ میرا بیٹا ہے ۔
24 سو بادشاہ نے کہا مُجھے ایک تلوار لا دو ۔ ےب وہ بادشاہ کے پاس تلوار لے آئے ۔
25 پھر بادشاہ نے فرمایا کہ اِس جیتے بچے کو چِیر کر دو ٹُکڑے کر ڈالو اور آدھا ایک کو اور آدھا دوسری کو دے دو ۔
26 تب اُس عورت نے جِسکا وہ جیتا بچہ تھا بادشاہ سے عرض کی کیونکہ اُس کے دل میں اپنے بیٹے کی مامتا تھی سو وہ کہنے لگی اے میرے مالک ! یہ جیتا بچہ اُسی کو دیدے پر اُسے جان سے نہ مروا لیکن دوسری نے کہا یہ نہ میرا ہو نہ تیرا اُسے چِیر ڈالو ۔
27 تب بادشاہ نے حُکم کیا کہ جیتا بچہ اُسی کو دو اور اُسے جان سے نہ مارو کیونکہ وہی اُس کی ماں ہے ۔
28 اور سارے اسرائیل نے یہ اِنصاف جو بادشاہ نے کِیا سُنا اور وہ بادشاہ سے ڈرنے لگے کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ عدالت کرنے کے لیے خُدا کی حکمت اُس کے دل میں ہے ۔



باب 4

1 اور سُلیمان بادشاہ تمام اسرائیل کا بادشاہ تھا ۔
2 اور جو سردار اُس کے پاس تھے سو یہ تھے ۔ صدوق کا بیٹا عزریاہ کاہن ۔
3 اورسیسہ کے بیٹے الیحورف اور اخیاہ مُنشی تھے اور اخِیلُود کا بیٹا یہوُسفط مُورخ تھا۔
4 اور یہویدع کا بیٹا بنایاہ لشکر کا سردار اور صدوق اور ابیاتر کاہن تھے ۔
5 اور ناتن کا بیٹا عزریاہ منصبداروں کا دروغہ تھا اور ناتن کا بیٹا زبور کاہن اور بادشاہ کا دوست تھا ۔
6 اور اِخیسر محل کا دیوان اور عبدا کا بیٹا ادونرام بیگار کا مۃنصرم تھا
7 اور سلیمان نے سب اسرائیل پر بارہ منصبدار مُقرر کیے جو بادشاہ اور اُس کے گھرانے کے لیے رسد پہنچاتے تھے ۔ ہر ایک کو سال میں مہینہ بھر رسد پُہنچانی پڑتی تھی۔
8 اُنکے نام یہ ہیں ۔ افرائیم کے کوہستانی مُلک میں بنِ حُور۔
9 اور مُقص اور سعلبیم اور بیت شمس اور الیون بیت حنان میں بِن دِقر۔
10 قور اربوت میں بنِ حصد تھا اور شو کہ اور حفر کی ساری سرزمین اُس کے علاقہ میں تھی ۔
11 اور دور کے سارے مُرتفو علاقہ میں بن ابینداب تھا اور سلیمان کی بیٹی طافت اُسکی بیوی تھی۔
12 اور اخیلود کا بیٹا بعنہ تھا جسکے سُپرد تعناک اور مُجدو اور سارا بیت شان تھا جو ضرتان سے مُتصل اور یزرعیل کے نیچے بیت شان سے ابیل محولپ تک یعنی یُقمعام سے اُدھر تک تھا ۔
13 اور بنِ جبررامات جلعاد میں تھا اور منسی کے بیٹے یایرّ کی بستیاں جو جلعاد میں ہیں اُسکے سپرد تھیں اور بسن میں ارجوب کا علاقہ بھی اِسی کے سپرد تھا جس میں ساتھ بڑے شہر تھے جنکی شہر پناہیں اور پیتل کے بینڈے تھے۔
14 اور عِدُو کا بیٹا اخِینداب مُحنایم میں تھا ۔
15 اور اِخیمعض نفتالی میں تھا اُس نے بھی سُلیمان کی بیٹی بسِمت کو بیاہ لیا تھا۔
16 اور حُوسی کا بیٹا بعنہ آژر اور علوت میں تھا
17 اور فُروع کا بیٹا یہوسفط اِشکار میں تھا۔
18 اور ایلہ کا بیٹا سِمعی بِنیمین میں تھا ۔
19 اور اُوری کا بیٹا جبر جلعاد کےعلاقہ میں تھا جو اموریوں کے بادشاہ سیحون اور بسن کے بادشاہ عوج کا مُلک تھا ۔ اُس مُلک کا وہی اکیلا منصبدار تھا ۔
20 اور یہوداہ اور اسرائیل کے لوگ کثرت میں سُمندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھے اور کھاتے پیتے اور خُوش رہتے تھے۔
21 اور سلیمان دریایِ فرات سے فلستیوں کے مُلک تک اور مصر کی سرحد تک سب مملکتوں پر حُکمران تھا ۔ وہ اُس کے لیے لدئے لاتی تھیں اور سُلیمان کی عمر بھر اُسکی مُطیع رہیں ۔
22 اور سُلیمان کی ایک دن کی رسد یہ تھی تیِس کور میدہ اور ساٹھ کور آٹا ۔
23 اور دس موٹے موٹے بیل اور چرائی پو کے بیس بیل ۔ ایک سو بھیڑیں اور اِنکے علاوہ چکارے اور ہرن اور چھوٹے ہرن اور موٹے تازہ مُرغ۔
24 کیونکہ وہ دریایِ فرات کی اِس طرف کے سب مُلک پر تفسح سے غزہ تک یعنی سب بادشاہوں پر جو دریایِ فرات کی اِس طرف تھے فرمانروا تھا اور اُس کے چوگرد سب اطراف میں سب سے اُسکی صلح تھی ۔
25 اور سلیمان کی عمر بھر یہوُداہ اور اسرائیل کا ایک ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے دان سے بیر سبع تک امن سے رہتا تھا ۔
26 اور سُلیمان کے ہاں اُسکے رتھوں کے لیے چالیس ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے۔
27 اور اُن منصبداروں میں سے ہر ایک اپنے مہینہ میں سُلیمان بادشاہ کے لیے اور اُن سب کے لیے جو سُلیمان بادشاپ کے دسترخوان پر آتے تھے رسد پُہنچاتا تھا ۔ وہ کسی چیز کی کمی نہ ہونے دیتے تھے ۔
28 اور لوگ اپنے اپنے فرض کے مُطابق گھوڑوں اور تیز رفتار سمندروں کے لیے جَو اور بھُوسا اُسی جگہ لے آتے تھے جہاں وہ منصبدار ہوتے تھے۔
29 اور خُدا نے سلیمان کو حکمت اور سمجھ بہت ہی زیاد ہ اور دل کی وسعت بھی عنایت کی جیسی سُمندر کے کنارے کی ریت ہوتی ہے ۔
30 اور سُلیمان کی حکمت سب اہلِ مشرق کی حکمت اور مصر کی ساری حکمت پر فوقیت رکھتی تھی ۔
31 اِسلیے کہ وہ سب آدمیوں سے بلکہ ازراخی ایتان اور ہیمان اور کل کُول اور دردع سے جو بنی مُحول تھے زیادہ دانشمند تھا اور چوگرد کی سب قوموں میں اُس کی شہرت تھی ۔
32 اور اُس نے تین ہزار مثِلیں کہیں اور اُسکے ایک ہزار پانچ گیت تھے ۔
33 اور اُس نے درختوں کا یعنی لُبنان کے دیودار سے لیکر زُوفا تک کا جو دیوراروں پراُگتا ہے بیان کیا اور چوپایوں اور پرندوں اور رینگنے والے جانداروں اور مچھلیوں کا بھی بیان کیا ۔
34 اور سب قوموں میں سے زمین کے سب بادشاہوں کی طرف سے جنہوں نے اُسکی حکمت سُنی تھی لوگ سلیمان کی حکمت سُننے کو آتے تھے ۔



باب 5

1 1۔ اور صُور کے بادشاہ حیرام نے اپنے خادموں کو سُلیمان کے پاس بھیجا کیونکہ اُس نے سُنا تھا کہ اُنہوں نے اُسے اُسکے باپ کی جگہ مسح کر کے بادشاہ بنایا ہے اِس لیے حِیرام ہمیشہ داود کا دوست رہا تھا ۔
2 اور سُلیمان نے حیرام کو کہلا بھیجا کہ ۔
3 تُو جانتا ہے کہ میرا باپ داود خُداوند اپنے خُدا کے نام کے لیے گھر نہ بنا سکا کیونکہ اُسکے چوگرد ہر طرف لڑائیاں ہوتی رہیں جب تک کہ خُداوند نے اُن سب کو اُس کے پاوں کے تلوں کے نیچے نہ کر دیا ۔
4 اور اب خُداوند میرے خُدا نے مُجھ کو ہر طرف امن دیا ہے نہ تو کوئی مُخالف ہے نہ آفت کی مار۔
5 سو دیکھ ! خُداوند اپنے خُدا کے نام کے لیے ایک گھر بنانے کا میرا اِرادہ ہے جیسا خُداوند نے میرے باپ داود سے کہا تھا کہ تیرا بیٹا جسکو میں تیری جگہ تیرے تخت پر بٹھاونگا وہی میرے نام کے لیے گھر بنائےگا ۔
6 سو اب تُو حُکم کر کہ وہ میرے لیے لُبننان سے دیودار کے درختوں کو کاٹیں اور میرے مُلازم تیرے مُلازموں کے ساتھ رہیں گے اور مَیں تیرے مُلازموں کے لیے جتنی اُجرت تُو کہے گا دونگا کیونکہ تُو جانتا ہے کہ ہم میں ایسا کوئی نہیں جو صیدانیوں کی طرح لکڑی کاٹنا جانتا ہو ۔
7 جب حیرام نے سُلیمان کی باتیں سُنیں تو نہایت خُوش ہُوا اور کہنے لگا کہ آج کے دن خُداوند مُبارک ہو جس نے داود کو اِس بڑی قوم کے لیے ایک عقلمند بیٹا بخشا۔
8 اور حیرام نے سُلیمان کو کہلا بھیجا کہ جو پیغام تُو نے مُجھے بھیجا میں نے اُسکو سُن لیا ہے اور مَیں دیودار کی لکڑی اور صنوبر کی لکڑی کے بارہ میں تیری مرضی پُوری کرونگا ۔
9 مرے مُلازم اُنکو لُبنان سے اُتار کر سُمندر تک لائیں گے اور میں اُنکے بڑے بندھو ا دونگا تاکہ سُمندر ہی سُمندر اُس جگہ جائیں جسے تُو ٹھیرائے اور وہاں اُنکو کھُلوا دونگا۔ پھِر تُو اُنکو لے لینا اور تُو میرے گھرانے کے لیے رسد دیکر میری مرضی پُوری کرنا ۔
10 پس حیرام نے سُلیمان کو اُسک مرضی کے مطابق دیودار کی لکڑی اور صنوبر کی لکڑی دی ۔
11 اور سُلیمان نے حیرام کو اُسکے گھرانے کے کھانے کے لیے بیس ہزار کو گیہوں اور بیس کور خالص تیل دیا۔ اِسی طرح سُلیمان حیرام کو سال بسال دیتا رہا ۔
12 اور خُداوند نے سُلیمان کو جیسا اُس نے اُس سے وعدہ کیا تھا حکمت بخشی اور حیرام اور سُلیمان کے درمیان صُلح تھی اور اُن دونوں نے باہم عہد باندھ لیا۔
13 اور سُلیمان بادشاہ نے سارے اسرائیل میں سے بیگاری لگائے ۔ وہ بیگاری تیس ہزار آدمی تھے ۔
14 اور وہ ہرمہینہ اُن میں سے دس دس ہزار کو باری باری سے لُبنان بھیجتا تھا ۔ سو وہ ایک مہینہ لُبنان پر اور دو مہینے اپنے گھر رہتے اور ادونرام اُن بیگاریوں کے اوپر تھا ۔
15 اور سُلیمان کے ستر ہزار بوجھ اُٹھانے والے اور اَسی ہزار درخت کاٹنے والے پہاڑوں میں تھے ۔
16 اِنکے علاوہ سُلیمان کے تین ہزار تین سو خاص منصبدار تھے جو اِس کام پر مُختار تھے اور اُن لوگوں پر جو کام کرتے تھے سردار تھے ۔
17 اور بادشاہ کے حُکم سے وہ بڑے بڑے بیش قیمت پتھر نکالکر لائے تاکہ گھر کی بُنیاد گھڑے ہوئے پتھروں کی ڈالی جائے۔
18 اور سُلیمان کے معماروں اور حیرام کے معماروں اور جبلیوں نے اُنکو تراشا اور گھر کی تعمیر کے لیے لکڑی اور پتھروں کو تیار کیا ۔



باب 6

1 ۔ اور بنی اسرائیل کے مُلک مصر سے نکل آنے کے بعد چار سو اسیویں سال اسرائیل پر سُلیمان کی سلطنت کے چوتھے برس زیو کے مہینہ میں جو دُوسرا مہینہ ہے ایسا ہُوا کہ اُس نے خُداوندکا گھر بنانا شروع کیا۔
2 اور جو گھر سُلیما بادشاہ نے خُداوند کے لیے بنایا اُسکی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی بیس ہاتھ اور اُونچائی تیس ہاتھ تھی۔
3 ۔ اور اُس گھر کی ہیکل کے سامنے ایک برآمدہ اُس گھر کی چوڑائی کے مطابق بیس ہاتھ لمبا تھا او ر اُس کے سامنے اُسکی چوڑائی دس ہاتھ تھی ۔
4 اور اُس نے اُس گھر کے لیے جھرو کے بنائے جن میں جالی جڑی ہوئی تھی۔
5 اور اُس نے گِردا گِرد کی دیوار سے لگی ہوئی یعنی ہیکل اور اِلہام گا کی دیواروں سے لگی ہوئی گِردا گِرد منزلیں بنائیں اور حُجرے بھی گِردا گِرد بنائے۔
6 سب سے نچلی منزل پانچ ہاتھ چوڑی اور تیرسی ساتھ ہاتھ چوڑی تھی کیونکہ اُس نے گھر کی دیوار کے گِردا گِرد باہر باہر کے رُخ پُشتے بنائے تھے تاکہ کڑیاں گھر کی دیواروں کو پکڑے ہوئے نہ ہوں۔
7 اور وہ گھر جب تعمیر ہو رہا تھا تو ایسے پتھروں کا بنایا گیا جو کان پر تیار کیے جاتے تھے ۔ سو اُسکی تعمیر کے وقت نہ مار تول نہ کُلہاڑی نہ لوہے کے کسی اوزار کی آواز اُس گھر میں سُنائی دی ۔
8 اور بیچ کے حجروں کا دروازہ اُس گھر کی دہنی طرف تھا اور چکر دار سیڑھیوں سے بیچ کی منزل کے حجروں میں اور بیچ کی منزل سے تیسری منزل کو جایا کرتے تھے۔
9 سو اُس نے وہ گھر بنا کر اُسے تمام کیا اور اُس گھر کو دیودار کے شہتہروں اور تختوں سے پاٹا۔
10 اور اُس نے اُس پورے گھر سے لگی ہوئی پانچ پانچ ہاتھ اوُنچی منزلیں بنائیں اور وہ دیوار کی لکڑیوں کے سہارے اُس گھر پر ٹِکی ہوئی تھیں ۔
11 اور خُداوند کا کلام سُلیامن پر نازل ہوا کہ ۔
12 یہ گھر جو تُو بناتا ہے سو اگر تُو میرے آئین پر چلے اور میرے حُکموں کو پورا اور میرے فرمانوں کو مانکر اُن پر عمل کرے تو مَیں اپنا وہ قول جو مَیں نے تیرے باپ داود سے کِیا تیرے ساتھ قائم رکھونگا۔
13 اور مَیں بنی اسرائیل کے درمیان رہونگا اور اپنی قوم اسرائیل کو ترک نہ کرونگا ۔
14 پس سُلیمان نے وہ گھر بنا کر اُسے تمام کیا۔
15 اور اُس نے اندر گھر کی دیواروں پر دیودار کے تختے لگائے ۔ اِس گھرکے فرش سے چھت کی دیواروں تک اُس نے اُن پر لکڑی لگائی اور اُس نے اُس گھر کے فرش کو صنوبر کے تختوں سے پاٹ دیا ۔
16 اور اُس نے اُس گھر کے پچھلے حصہ میں بیس ہاتھ تک فرش سے دیواروں تک دیودار کے تختے لگائے۔ اُس نے اِسے اُسکے اندر بنایا تاکہ وہ الہام گاہ یعنی پاکترین مکان ہو ۔
17 ور وہ گھر یعنی اِلہام گاہ کے سامنے کی ہیکل چالیس ہاتھ لمبی تھی ۔
18 اور اُس گھر کے اندر اندر دیودار تھا جس پر لٹو اور کِھلے ہوئے پھُول کندہ ئے گئے تھے ۔ سب دیودار ہی تھا اور پتھر مُطلق نظر نہیں آتا تھا ۔
19 اور اُس نے اُس گھر کے اندر بیچ میں اِلہام گاہ تیار کی تاکہ خُداوند کے عہد کا صندوق وہاں رکھا جائے۔
20 اور اِلہام گاہ اندر ہی اندر بیس ہاتھ لمبی اور بیس ہاتھ چوڑی اور بیس ہاتھ اونچی تھی اور اُس نے اُس پر خالص سونا منڈھا اور مذبح کو دیودار سے پاٹا۔
21 اور سُلیمان نے اُس گھر کو اندر اندر خالص سونے سے منڈھا اور اِلہام گاہ کے سامنے اُس نے سونے کی زنجیریں تان دیں اور اُس پر بھی سونا منڈھا۔
22 اور اُس پورے گھر کو جب تک کہ وہ سارا گھر تمام نہ ہو گیا اُس نے سونے سے منڈھا اور اَلہام گاہ کے پُورے مذبح پر بھی اُس نے سونا منڈھا ۔
23 اور اِلہام گاہ میں اُس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی دس دس ہاتھ اونچے بنائے۔
24 اور کروبی کا ایک بازو پانچ ہاتھ کا اور اُسکا دُوسرا بازو بھی پانچ ہی ہاتھ کا تھا ۔ ایک بازو کے سِرے سے دوسرے بازو کے سِرے تک دس ہاتھ کا فاصلہ تھا ۔
25 اور دس ہی ہاتھ کا دوُسرا کروبی تھا ۔ دونوں کروبی ایک ہی ناپ اور ایک ہی صورت کے تھے۔
26 ایک کروبی کی اُونچائی دس ہاتھ تھی اور اِتنی ہی دوسرے کروبی کی تھی ۔
27 اور اُس نے دونوں کروبیوں کو بھیتر کے مکان کے اندر رکھا او ر کروبیوں کے بازو پھیلے ہوئے تھے ایسا کہ ایک کا بازو ایک دیوار سے اور دوسرے کا بازو دوسری دیوار سے لگا ہُوا تھا اور اِنکے بازو گھر کے بیچ میں ایک دوسرے سے مِلے ہوئے تھے۔
28 اور اُس نے کروبیوں پر سونا منڈھا ۔
29 اور اُس نے اُس گھر کی سب دیواروں پر گِردا گِرد اندر اور باہر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھِلے ہوئے پھُلوں کی کھُدی ہوئی صورتیں کندہ کیں ۔
30 اور اُس گھر کے فرش پر اُس نے اندر اور باہر سونا منڈھا ۔
31 اور اِلہام گاہ میں داخل ہونے کے لیے اُس نے زیتون کی لکڑی کے دروازے بنائے ۔ اوپر کی چوکھٹ اور بازووں کا عرض دیوار کا پانچواں حصہ تھا ۔
32 دونوں دروازے زیتون کی لکڑی کے تھے اور اُس نے اُن پر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھِلے ہوئے پھُلوں کی کھُدی ہوئی صُورتیں کندہ کیں اور اُن پر سونا منڈھا اور اِس سونے کو کروبیوں پر اور کھجور کے درختوں پر پھیلا دیا۔
33 ایسے ہی ہیکل میں داخل ہونے کے لیے اُس نے زیتون کی لکڑی کی چوکھٹ بنائی جو دیوار کا چوتھا حصہ تھی
34 اور صنوبر کی لکڑی کے دو دروازے تھے ۔ ایک دروازہ کے دونوں پٹ دُہرے ہو جاتے تھے۔
35 اور اِن پر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھِلے ہوئے پھُلوں کو اُس نے کندہ کیا اور کھُدے ہوئے کام پر سونا منڈھا ۔
36 اور اندر کے صحن کی تین صفیں تراشے ہوئے پتھر کی بنائیں اور ایک صف دیودار کے شہتیروں کی ۔
37 چوتھے سال زیو کے مہینہ میں خُداوند کے گھر کی بُنیاد ڈالی گئی ۔
38 اور گیارھویں سال بول کے مہینہ میں جو آٹھواں مہینہ ہے وہ گھر اپنے سب حصوں سمیت اپنے نقشہ کے مُطابق بن کر تیار ہُوا۔ یوں اُسکے بنانے میں اُسے سات سال لگے۔



باب 7

1 ۔ اور سُلیمان تیرہ برس اپنے محل کی تعمیرمیں لگا رہا اور اپنے محل کو ختم کیا ۔
2 کیونکہ اُس نے اپنا محل لُبنان کے بن کی لکڑی کا بنایا ۔ اُسکی لمبائی سَو ہاتھ اور چوڑائی پچاس ہاتھ اور اُونچائی تیس ہاتھ تھی اور وہ دیودار کے سُتونوں کی چار قطاروں پر بنا تھا اور سُتونوں پر دیوار کے شہتیر تھے۔
3 اور وہ پینتالیس شہتیروں کے اوپر جو سُتونوں پر ٹِکے تھے پاٹ دیا گیا تھا ۔ ہر قطار میں پندرہ شہتیر تھے۔
4 اور کِھڑکیوں کی تین قطاریں تھیں اور تینوں قطاروں میں ہر ایک روزن دُوسرے روزن کے مقابل تھا ۔
5 اور سب دروازے اور چوکھٹیں مُربع شکل کی تھیں اور تینوں قطاروں میں ہر ایک روزن دُوسرے کے مقابل تھا ۔
6 اور اُس نے سُتونوں کا برآمدہ بنایا ۔ اُسکی لمبائی پچاس ہاتھ اور چوڑائی تیس ہاتھ اوراِنکے سامنے ایک ڈیوڑھی تھی اور اِنکے آگے سُتون اور موٹے موٹے شہتیر تھے۔
7 اور اُس نے تخت کے لیے ایک برآمدہ یعنی عدالت کا برآمدہ بنایا جہاں وہ عدالت کر سکے اور فرش سے فرش تک اُسے دیودار سے پاٹ دیا ۔
8 اور اُسکے رہنے کا محل جو اُسی برآمدہ کے اندر دوسرے صحن میں تھا ایسے ہی کام کا بنا ہُوا تھا اور سُلیمان نے فرعون کی بیٹی کے لیے جسے اُس نے بیاہا تھا اُسی برآمدہ کے ڈھب کا ایک محل بنایا ۔
9 یہ سب اندر اور باہر بُنیاد سے مُنڈیر تک بیش قیمت پتھروں یعنی تراشے ہوئے پتھروں کے بنے وئے تھے جو ناپ کے مطابق اروں سے چیرے گئے تھے اور ایسا ہی باہر باہر بڑے صحن تک تھا ۔
10 اور بُنیاد بیش قیمت پتھروں یعنی بڑے بڑے پتھروں کی تھی ۔ یہ پتھر دس دس ہاتھ اور آٹھ آٹھ ہاتھ کے تھے ۔
11 اور اوپر ناپ کے مطابق بیش قیمت پتھر یعنی گھڑے ہوئے پتھر اور دیودار کی لکڑی لگی ہوئی تھی ۔
12 اور بڑے صحن میں گِردا گِرد گھڑے ہوئے پتھروں کی تین قطاریں اور دیودار کے شہتیروں کی ایک قطار ویسی ہی تھی جیسی خُداوند کے گھر کے اندرونی صحن اور اُس گھر کے برآمدہ میں تھی۔
13 پھر سُلیمان بادشاہ نے صور سے حیران کو بُلوا لیا۔
14 وہ نفتالی کے قبیلہ کی ایک بیوہ کا بیٹا تھا اور اُس کا باپ صور کا باشندہ تھا اور ٹھٹھیرا تھا اور وہ پیتل کے سب کام کی کاریگری میں حکمت اور سمجھ اور مہارت رکھتا تھا ۔ سو اُس نے سُلیمان بادشاہ کے پاس آکر اُسکا سب کام بنایا۔
15 کیونکہ اُس نے اٹھارہ اٹھارہ ہاتھ اونچے پیتل کے دو سُتون بنائے اور ایک ایک کا گھیر بارہ ہاتھ کے سُوت کے برابر تھا ۔
16 اور اُس نے سُتونوں کی چوٹیوں پر رکھنے کے لیے پیتل ڈھال کر دو تاج بنائے۔ ایک تاج کی اُونچائی پانچ ہاتھ اور دوسرے تاج کی اُونچائی بھی پانچ ہاتھ تھی ۔
17 اور اُن تاجوں کے لیے جو سُتونوں کی چوٹیوں پر تھے چار خانے کی جالیاں اور زنجیر نُما ہار تھے ۔ سات ایک تاج کے لیے اور سات دوسرے تاج کے لیے ۔
18 سو اُس نے وہ سُتون بنائے اور سُتونوں کی چوٹی کے اوپر کے تاجوں کو ڈھانکنے کے لیے ایک جالی کے کام پر گِردا گِرد دو قطاریں تھیں اور دوسرے تاج کے لیے بھی اُس نے ایسا ہی کیا ۔
19 اور اُن چار چار ہاتھ کے تاجوں پر جو برآمدہ کے سُتونوں کی چوٹی پر تھے سوسن کا کام تھا ۔
20 اور اُن دونوں سُتونوں پر اوپر کی طرف بھی جالی کے برابر کی گولائی کے پاس تاج بنے تھے اور اُس دوسرے تاج پر قطار در قطار گِردا گِرد دو سو انار تھے ۔
21 اور اُس نے ہیکل کے برآمدہ میں وہ سُتون کھڑے کئے اور اُس نے دہنے سُتون کو کھڑا کر کے اُُسکا نام یاکن رکھا اور بائیں سُتون کو کھڑا کر کے اُسکا نام بوعز رکھا۔
22 اور سُتونوں کی چوٹی پر سوسن کا کام تھا ۔ یون سُتونوں کا کام ختم ہُوا۔
23 پھر اُس نے ڈھالا ہُوا ایک بڑا حوض بنایا ۔ وہ ایک کنارے سے دُوسرے کنارے تک دس ہاتھ تھا ۔ وہ گول تھا اور بُلندی اُسکی پانچ ہاتھ تھی اور اُسکا گھیر گِردا گِرد تیس ہاتھ کے سُوت کے برابر تھا ۔
24 اور اُس کے کنارے کے نیچے گِردا گِرد دسوں ہاتھ لُٹو تھے جو اُسے یعنی بڑے حوض کو گھیرے ہوئے تھے ۔ یہ لٹو دو قطاروں میں تھے اور جب وہ ڈھالا گیا تب ہی یہ بھی ڈھالے گئے تھے۔
25 اور وہ بارہ بیلوں پر رکھا گیا ۔ تین کے منہ شمال کی طرف اور تین کے منہ مغرب کی طرف اور تین کے مُنہ جنوب کی طرف اور تین کے منہ مشرق کی طرف تھے اور وہ بڑا حوض اُن ہی پر اوپر کی طرف تھا اور اُن سبھوں کا پچھلا دھڑ اندر کے رُخ تھا۔
26 اور دل اُسکا چار اُنگل تھااور اُسکا کنارہ پیالہ کے کنارہ کی طرح گُل سوسن کی مانند تھا اور اُس میں دو ہزا ر بُت کی سمائی تھی ۔
27 اور اُس نے پیتل کی دس کُرسیاں بنائیں ۔ ایک ایک کُرسی کی لمبائی چار ہاتھ اور چوڑائی چار ہاتھ اور اونچائی تین ہاتھ تھی۔
28 اور اُن کرسیوں کی کاریگری اِس طرح کی تھی۔ اِنکے حاشئے تھے اور پڑوں کے درمیان بھی حاشئے تھے۔
29 اور اُن حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے شیر اور بیل اور کروبی بنے تھے اور اُن پڑوں پر بھی ایک کُرسی اوپر کی طرف تھی اور شیروں اور بیلوں کے نیچے لٹکتے کا م کے ہار تھے۔
30 اور ہر کُرسی کے لیے چار چار پیتل کے پہئے اور پیتل ہی کے دُھرے تھے اور اُسکے چارو ں پایوں میں ٹیکیں لگی تھیں ۔ یہ ڈھلی ہوئی ٹیکیں حوض کے نیچے تھیں اور ہر ایک کے پہلو میں ہار بنے تھے۔
31 اور اُسکا مُنہ تاج کے اندر اور باہر ایک ہاتھ تھا اور وہ مُنہ ڈیڑھ ہاتھ تھا اور اُسکا کام کُرسی کے کام کی طرح گول تھا اور اُسی مُنہ پر نقاشی کا کام تھا اور اُنکے حاشئے گول نہیں بلکہ چوکور تھے۔
32 اور وہ چاروں پہیے حاشیوں کے نیچے تھے اور پہیوں کے دُھرے کُرسی میں لگے تھے اور ہر پہیے کی اونچائی ڈیڑھ ہاتھ تھی۔
33 اور پہیوں کا کام رتھ کے پہئے کا سا تھا اور اُنکے دُھرے اور اُنکی پُٹھیاں اور اُنکے آرے اور اُنکی نابھیں سب کے سب ڈھالے ہوئے تھے۔
34 اور ہر کُرسی کے چاروں کونوں پر چار ٹیکیں تھیں اور ٹیکیں اور کُرسی ایک ہی ٹکڑے کی تھیں ۔
35 اور ہر کُرسی کے سِرے پر آدھ ہاتھ اونچی چاروں طرف گولائی تھی اور کُرسی کے سِرے کی کنگیاں اور حاشئے اُسی کے ٹکڑے کے تھے۔
36 اور اُسکی کنگیوں کے پاٹوں پر اور اُسکے حاشیوں پر اُس نے کروبیوں اور شیروں اور کھجور کے درختوں کو ہر ایک کی جگہ کے مطابق کندہ کیا اور گِردا گِرد ہار تھے۔
37 دسوں کُرسیوں کو اُس نے اِس طرح بنایا اور اُن سب کا ایک ہی سانچا اور ایک ہی ناپ اور ایک ہی صور تھی ۔
38 اور اُس نے پیتل کے دس حوض بنائے ۔ ہر ایک حوض میں چالیس بت کی سمائی تھی اور ہر ایک حوض چار ہاتھ کا تھا اور اُن دسوں کپرسیوں میں سے ایک پر ایک حوض تھا ۔
39 اُس نے پانچ کُرسیاں گھر کی دہنی طرف اور پانچ گھر کی بائیں طرف رکھیں اور بڑے حوض کو گھر کے دہنے مشرق کی طرف جنوب کے رُخ پر رکھا۔
40 اور حیرام نے حوضوں اور بیلچوں اور کٹوروں کو بھی بنایا ۔ پس حیرام نے وہ سب کام جسے وہ سُلیمان بادشاہ کی خاطر خُداوند کے گھر میں بنا رہا تھا تمام کیا ۔
41 یعنی دونوں سُتون اور سُتونوں کی چوٹی پر کے تاجوں کے دونوں پیالے اور سُتونوں کی چوٹی پر کے تاجوں کے دونوں پیالوں کو ڈھانکنے کی دونوں جالیاں۔
42 اور دونوں جالیوں کے لیے چار سَو انار یعنی سُتونوں پر کے تاجوں کے دونوں پیالوں کے ڈھانکنے کی ہر جالی کے لیے اناروں کی دو دو قطاریں ۔
43 اور دسوں کُرسیاں اور دسوں کُرسیوں پر کے دسوں حوض۔
44 اور وہ بڑا حوض اور بڑے حوض کے نیچے کے بارہ بیل ۔
45 اور وہ دیگیں اور بیلچے اور کٹورے ۔ یہ سب ظروف جو حیرام نے سُلیمان بادشاہ کی خاطر خُداوند کے گھر میں بنائے جھلکتے ہوئے پیتل کے تھے۔
46 بادشاہ نے اُن سب کو یردن کے میدان میں سُکات اور ضرتان کے بیچ کی چکنی مٹی والی زمین میں ڈھالا۔
47 اور سُلیمان نے اُن سب ظروف کو بغیر تولے چھوڑ دیا کیونکہ وہ بہت سے تھے۔ سو اُس پیتل کا وزن معلوم نہ ہو سکا ۔
48 اور سُلیمان نے وہ سب ضروف بنائے جو خُداوند کے گھر میں تھے یعنی وہ سونے کا مذبح اور سونے کی میز جس پر نذر کی روٹی رہتی تھی ۔
49 اور خالص سونے کے وہ شعمدان جو اِلہام گاہ ک آگے پانچ دہنے اور پانچ بائیں تھے اور سونے کے پھُول اور چراغ اور چِمٹے ۔
50 اور خالص سونے کے پیالے اور گُل تراش اور کٹورے اور چمچے اور عود سوز اور اندرونی گھر یعنی ہیکل کے دروازہ کے لیے سونے کے قبضے۔
51 یوں وہ سب کام جو سُلیمان اپنے باپ داود کی مخصوص کی ہوئی چیزوں یعنی سونے اور چاندی اور ظروف کو اندر لایا اور اُنکو خُداوند کے گھر کے خزانوں میں رکھا۔



باب 8

1 تب سُلیمان نے اسرائیل کے بزرگوں اور قبیلوں کے سب سرداروں کو جو بنی اسرائیل کے آبائی خاندانوں کے رئیس تھے اپنے پاس یروشلیم میں جمع کیا تاکہ وہ داود کے شہر سے جو صیون ہے خُداوند کے عہد کے صندوق کو لے آئیں۔
2 سو اُس عید میں اسرائیل کے سب لوگ ماہِ ایتانیم میں جو ساتواں مہینہ ہے سُلیمان بادشاہ کے پاس جمع ہوئے۔
3 اور اسرائیل کے سن بزرگ آئے اور کاہنوں نے صندوق اُٹھایا ۔
4 اور وہ خُداوند کے صندوق کو اور خیمہ اجتماع کو اور اُن سب مُقدس ظروف کو جو خیمہ کے اندر تھے لے آئے۔ اُنکو کاہن اور لاوی لائے تھے ۔
5 اور سُلیمان بادشاہ نے اور اُسکے ساتھ اسرائیل کی ساری جماعت نے جو اُسکے پاس جمع تھی صندوق کے سامنے کھڑے ہو کر اِتنی بھیڑ بکریاں اور بیل ذبح کیے کہ اُنکی کثرت کے سبب سے اُنکا شمار یا حساب نہ ہو سکا۔
6 اور کاہن خُداوند کے عہد کے صندوق کو اُسکی جگہ پر اُس گھر کی الہام گاہ میں یعنی پاکترین مکان میں عین کروبیوں کے بازووں کے نیچے لے آئے ۔
7 کیونکہ کروبی اپنے بازووں کو صندوق کی جگہ کے اوپر پھیلائے ہوئے تھے اور وہ کروبی صندوق کو اور اُسکی چوبوں کو اوپر سے ڈھانکے ہوئے تھے۔
8 اور وہ چوبیں ایسی لمبی تھیں کہ اُن چوبوں کے سِرے پاک مکان سے الہام گاہ کے سامنے دکھائی دیتے تھے لیکن باہر سے نہیں دکھائی دیتے تھے اور وہ آج تک وہیں ہیں ۔
9 اور اُس صندوق میں کچھ نہ تھا سِوا پتھر کی اُن دو لوحوں کے جنکو وہاں موسیٰ نے حورب میں رکھ دیا تھا جس وقت کہ خُداوند نے بنی اسرائیل سے جب وہ مُلکِ مصر سے نکل آئے عہد باندھا تھا ۔
10 پھر ایسا ہُوا کہ جب کاہن پاک مکان سے باہر نکل آئے تو خُداوند کا گھر ابر سے بھر گیا۔
11 سو کاہن اُس ابر کے سبب سے خدمت کے لیے کھڑے نہ ہو سکے اِس لیے کہ خُداوند کا گھر اُس کے جلال سے بھر گیا تھا ۔
12 تب سُلیمان نے کہا کہ خُداوند نے فرمایا تھا کہ وہ گہری تاریکی میں رہےگا ۔
13 میں نے فی الحقیقت ایک گھر تیرے رہنے کے لیے بلکہ تیری دائمی سکونت کے واسطے ایک جگہ بنائی ہے ۔
14 اور بادشاہ نے اپنا منہ پھیر ا اور اسرائیل کی ساری جماعت کو برکت دی اور اسرائیل کی ساری جماعت کھڑی رہی ۔
15 اور اُس نے کہا کہ خُداوند اسرائیل کا خُدا مبارک ہو جس نے اپنےمنہ سے میرے باپ داود سے کلام کیا اور اُسے اپنے ہاتھ سے یہ کہکر پورا کیاکہ ۔
16 جس دن سے مَیں اپنی قوم اسرائیل کو مصر سے نکال لایا مَیں نے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے بھی کسی شہر کو نہیں چُنا کہ ایک گھر بنایا جائے تاکہ میرا نام وہاں ہو پر مَیں نے داود کو چُن لیا کہ وہ میری قوم اسرائیل پر حاکم ہو ۔
17 اور میرے باپ داود کے دل میں تھا کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کے نام کے لیے ایک گھر بنائے۔
18 لیکن خُداوند نے میرے باپ داود سے کہا چونکہ میرے نام کے لیے ایک گھر بنانے کا خیال تیرے دل میں تھا سو تُو نے اچھا کِیا کہ اپنے دل میں ایسا ٹھانا۔
19 تَو بھی تُو اُس گھر کو نہ بنانا بلکہ تیرا بیٹا جو تیرے صُلب سے نکلےگا وہ میرے نام کے لیے گھر بنائے گا ۔
20 او ر خُداوند نے اپنی با ت جو اُس نے کہی تھی قائم کی ہے کیونکہ میں اپنے باپ داود کی جگہ اُٹھا ہوں اور جیسا خُداوند نے وعدہ کیا تھا مَیں اسرائیل کے تخت پر بیٹھا ہوں اور مَیں نے خُداوند اسرائیل کے خُُدا کے نام کے لیے اُس جگہ گھر کو بنایا تھا ۔
21 اور مَیں نے وہاں ایک جگہ اُس صندوق کے لیے مقرر کر دی ہے کس میں خداوند کا وہ عہد ہے جو اُس نے ہمار ے باپ دادا سے جب وہ اُنکو مُلکِ مصر سے نکال لایا باندھا تھا ۔
22 اور سُلیمان نے اسرائیل کی ساری جماعت کے روبرو خُداوند کے مذبح کے آگے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے۔
23 اور کہا اے خُداوند اسرائیل کے خُدا تیری مانند نہ تو اُوپر آسمان میں نہ نیچے زمین پر کوئی خُُدا ہے ۔ تُو اپنے اُن بدنوں کے لیے جو تیرے حضور اپنے سار ے دل سے چلتے ہیں عہد اور رحمت کو نگاہ رکھتا ہے ۔
24 تُو نے اپنے بندہ میرے باپ دادا کے حق میں وہ بات رکھی جسکا تُو نے اُس سے وعدہ کیا تھا ۔ تُو نے اپنے منہ سے فرمایا اور اپنے ہاتھ سے اُسے پورا کیا جیسا آج کے دن ہے ۔
25 سو اب اَے خُداوند اسرائیل کے خُدا تُو اپنے بندہ میرے باپ داود کے ساتھ اُس قول کو بھی پُورا کر جو تُو نے اُس سے کِیا تھا کہ تیرے آدمیوں سے میرے حضوراسرائیل کے تخت پر بیٹھنے والے کی کمی نہ ہو گی بشرطیکہ تیری اولاد جیسے تُو میرے حضور چلتا رہا ویسے ہی میرے حضور چلنے کے لیے اپنی راہ کی احتیاط رکھے۔
26 سو اب اے اسرائیل کے خُدا تیرہ وہ قول سچا ثابت کیا جائے جو تُو نے اپنے بندہ میرے باپ داود سے کیا۔
27 لیکن کیا خُدا فی الحقیقت زمین پر سکونت کرے گا ؟ دیکھ آسمان بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی تُو سما نہیں تو یہ گھر تو کچھ بھی نہیںجسے مَیں نے بنایا ۔
28 تَو بھی اے خُداوند میرے خُدا اپنے بندہ کی دعا کو سُن لے جو تہرا بندہ آج کے دن تیرے حضور کرتا ہے ۔
29 تاکہ تیری آنکھیں اِس گھر کی طرف یعنی اُسی جگہ کی طر جسکی بابت تُو نے فرمایا کہ میں اپنا نام وہاں رکھونگا دن اور را کھُلی رہیں تاکہ تُو اُس دعا کو سُنے جو تیرا بندہ اِس مقام کی طرف رُخ کر کے تُجھ سے کرے گا ۔
30 اور تُو اپنے بندہ اور اپنی قوم اسرائیل کی مُناجات کو جب وہ اِس جگہ کی طرف رُخ کر کے کریں سُن لینا بلکہ تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے سُن لینا اور سُن کر معاف کر دینا ۔
31 اگر کوئی شخس اپنے پڑوسی کا گناہ کرے اور اُسے قسم کھلانے کے لیے اُسکو حلف دیا جائے اور وہ آخر اِس گھر میں تیرے مذبح کے آگے قسم کھائے ۔
32 تو تُو آسمان پر سے سُن کر عمل کرنا اور اپنے بندوں کا انصاف کرنا اور بدکار پر فتوی لگا کر اُسکے اعمال کو اُسی کے سر ڈالنا اور صادق کو راست ٹھہرا کر اُسکی صداقت کے مطابق جزا دینا ۔
33 جب تیری قوم اسرائیل تیرا گناہ کرنے کے باعث اپنے دُشمنوں سے شکسٹ کھائے اورپھر تیری طرف رجوع لائے اور تیرے نام کا اِقرار کر کے اِس گھر میں تُجھ سے دعا اور مُناجات کرے ۔
34 تو تُو آسمان پر سے سُن کر اپنی قوم اسرائیل کا گناہ مُعاف کرنا اور اُنکو اِس مُلک میں جو تُو نے اُنکے باپ دادا کو دیا پھر لے آنا۔
35 جب اِس سبب سے کہ اُنہوں نے تیرا گناہ کیا ہو آسمان بند ہو جائے اور بارش نہ ہو اور وہ اِس مقام کی طرف رُخ کر کے دعا کریں اور تیرے نام کا اقرار کریں اور اپنے گناہ سے باز آئیں جب تُو اُنکو دُکھ دے ۔
36 تو تُو آسمان پر سے سُن کر اپنے بندوں اور اپنی قوم اسرائیل کا گناہ معاف کر دینا کیونکہ تُو اُنکو اُس اچھی راہ کی تعلیم دیتا ہے جس پر اُنکو چلنا فرض ہے اور اپنے مُلک پر جسے تُو نے اپنی قوم کو میراث کے لیے دیا ہے مینہ برسانا۔
37 اگر مُلک میں کال ہو ۔ اگر وبا ہو ۔ اگر بادِ سموم یا گیروٹی یا ٹڈی یا کما ہو ۔ اگر اُنکے دُشمن اُنکے شہروں کے مُلک میں اُنکو گھیر لیں غرض کیسی ہی بلا۔ کیسا ہی روگ ہو۔
38 تو جو دُعا اور مُناجات کسی ایک شخص یا تیری قوم اسرائیل کی طرف سے ہو جن میں سے ہر شخص اپنے دل کا دُکھ جانکر اپنے ہاتھ اِس گھر کی طرف پھیلائے۔
39 تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے سُنکر معاف کر دینا اور ایسا کرنا کہ ہر آدمی کو جس کے دل کو تُو جانتا ہے اُسی کی ساری روش کے مطابق بدلہ دینا کیونکہ فقط تُو ہی سب بنی آدم کے دلوں کو جانتا ہے ۔
40 تاکہ جتنی مُدت تک وہ اُس مُلک میں جسے تُو نے ہمارے باپ دادا کو دیا جیتے رہیں تیرا خوف مانیں ۔
41 اب رہا وہ پردیسی جو تیری قوم اسرائیل میں سے نہیں ہے ۔ وہ جب دُور مُلک سے تیرے نام کی خاطر آئے۔
42 ( کیونکہ وہ تیرے بزرگ نام اور قوی ہاتھ اور بُلند بازو کا حال سُنینگے) سو جب وہ آئے اور اِس گھر کی طرف رُخ کر کے دعا کرے ۔
43 تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے سُن لینا اور جس جس بات کے لیے وہ پردیسی تُجھ سے فریاد کرے تو اُسکے مطابق کرنا تاکہ زمین کی سب قومیں تیرے نال کو پہچانیں اور تیری قوم اسرائیل کی طرح تیرا خوف مانیں اور جان لیں کہ یہ گھر جسے میں نے بنایا ہے تیرے نام کا کہلاتا ہے ۔
44 اگر تیرے لوگ خواہ کسی راستہ سے تُو اُنکو بھیجے اپنے دُشمن سے لڑنے کو نکلیں اور وہ خُداوند سے اُس شہر کی طرف جسے تُو نے چُنا ہے اور اُس گھر کی طرف جسے مَیں نے تیرے نام کے لیے بنایا رُخ کر کے دعا کریں ۔
45 تو تُو آسمان پر سے اُُنکی دعا اور مُناجات سُنکر اُنکی حمایت کرنا ۔
46 اگر وہ تیرا گناہ کریں ( کیونکہ کوئی ایسا آدمی نہیں جو گناہ نہ کرتا ہو ) اور تُو اُن سے ناراض ہو کر اُنکو دُشمن کے حوالہ کر دے ایسا کہ وہ دُشمن اُنکو اسیر کر کے اپنے مُلک میں لے جائے خواہ وہ دُور ہو یا نزدیک ۔
47 تو بھی اگر وہ اُس مُلک میں جہاں وہ اسیر ہو کر پہنچائے گئے ہوش میں آئیں اور رجوع لائیں اور اپنے اسیر کرنے والوں کے مُلک میں تُجھ سے مُناجات کریں اور کہیں کہ ہم نے گناہ کیا ۔ ہم ٹیڑھی چال چلے اور ہم نے شرارت کی ۔
48 سو اگر وہ اپنمے دُشمنوں کے مُلک میں جو اُنکو اسیر کر کے لے گئے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے تیری طر ف پھریں اور اپنے مُلک کی طرف جسے تُو نے اُن کے باپ دادا کو دیا اور اِس شہر کی طرف جسے تُو نے چُن لیا اور اِس گھر کی طرف جو مَیں نے تیرے نام کے لیے بنایا ہے رُخ کر کے تُجھ سے دعا کریں ۔
49 تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے اُنکی دعا اور مُناجات سُنکر اُنکی حمایت کرنا ۔
50 اور اپنی قوم کو جس نے تیرا گناہ کیا اور اُنکی سب خطاوں کو جو اُن سے تیرے خلاف سرزد ہوں معاف کر دینا اور اُنکے اسیر کرنے والوں کے آگے اُن پر رحم کرنا تاکہ وہ اُن پر رحم کریں ۔
51 کیونکہ وہ تیری قوم اور تیری میراث ہیں جسے تُو مصر سے لوہے کی بھٹے کی بیچ میں سے نکال لایا ۔
52 سو تیری آنکھیں تیرے بندہ کی مُناجات اور تیری قوم اسرائیل کی مُناجات کی طرف کھُلی رہیں تاکہ جب کبھی وہ تُجھ سے فریاد کریں توُ اُنکی سُنے ۔
53 کیونکہ تُو نے زمین کی سب قوموں میں سے اُنکو الگ کیا کہ وہ تیری میراث ہوں جیسا اے مالک ِ خُداوند تُو نے اپنے بندہ موسیٰ کی معرفت فرمایا جس وقت تُو ہمارے باپ دادا کو مصر سے نکال لایا۔
54 اور ایسا ہُوا کہ جب سُلیمان خُداوند سے یہ سب مُناجات کر چُکا تو وہ خُداوند کے مذبح کے سامنے سے جہاں وہ اپن ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے ہوئے گھُٹنے ٹیک تھا اُٹحا۔
55 اور کھڑے ہو کر اسرائیل کی ساری جماعت کو بُلند آواز سے برکت دی اور کہا ۔
56 خُداوند جس نے اپنے سب وعدوں کے موافق اپنی قوم اسرائیل کو آرام بخشا مُبارک ہو کیونکہ جو سارا اچھا وعہ اُس نے اپنے بندہ موسی کی معرفت کِیا اُس میں سے ایک بات بھی خالی نہ گئی۔
57 خُداوند ہمارا خُدا ہمارے ساتھ رہے جیسے وہ ہمارے باپ دادا کے ساتھ رہا اور نہ ہمکو ترک کر نہ چھوڑے۔
58 تاکہ وہ ہمارے دلوں کو اپنی طرف مائل کرے کہ ہم اُسکی سب راہوں پر چلیں اور اُسکے فرمانوں اور آئین اور احکام کو جو اُس نے ہمارے باپ دادا کو دئیے مانیں ۔
59 اور یہ میری باتیں جنکو میں نے خُداوند کے حضور مُناجات میں پیش کیا ہے دن اور رات خُداوند ہمارے خدا کے نزدیک رہیں تاکہ وہ اپنے بندہ کی داد اور اپنی قوم اسرائیل کی داد ہر روز کی ضرورت کے مطابق دے ۔
60 جس سے زمین کی سب قومیں جان لیں کہ خُداوند ہی خُدا ہے اور اُس کے سِوا اور کوئی نہیں ۔
61 سو تُمہارا دل آج کی طرح خُداوند ہمارے خُدا کے ساتھ اُسکے آئین پرچلنے اور اُسکے حکموں کو ماننے کے لیے کامل رہے ۔
62 اور بادشاہ نے اور اُس کے ساتھ سارے اسرائیل نے خُداوند کے حضور قُربانی خُداوند کے حضور گذرانی۔
63 اور سُلیمان نے جو سلامتی کے ذبیحیوں کی قُربانی خُداوند کے حضور گذرانی اُس میں اُس نے بائیس ہزار بیل اور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑیں چڑھائیں ۔ یُوں بادشاہ نے اور سب بنی اسرائیل نے خُداوند کا گھر مخصوص کیا ۔
64 اُسی دن بادشاہ نے صحن کے درمیانی حصہ کو جو خُداوند کے گھر کے سامنے تھا مُقدس کیا کیونکہ اُس نے وہیں سو ختنی قُربانی اور نذر کی قُربانی اور سلامتی کے ذبیحوں کی چربی گذرانی اِس لیے کہ پیتل کا مذبح جو خُداوند کے سامنے تھا اَتنا چھوٹا تھا کہ اُس پر سوختنی قُربانی اور نذر کی قُربانی اور سلامتی کے ذبیحیوں کی چربی کے لیے گُنجائش نہ تھی۔
65 سو سُلیمان نے اور اُسکے ساتھ سارے اسرائیل یعنی ایک بڑی جماعت نے جو حمات کے مدخل سے لیکر مصر کی نہر تک کی حدود سے آئی تھی خُداوند ہمارے خُدا کے حضور سات روز اور پھر سات روز اور یعنی چودہ روز عہد منائی۔
66 اور آٹھویں روز اُس نے اُن لوگوں کو رخصت کر دیا ۔ سو اُنہوں نے بادشا ہ کو مبارکباد دی اور اُس ساری نیکی کے باعث جو خُداوند نے اپنے بندہ داود اور اپنی قوم اسرائیل سے کی تھی اپنے ڈیروں کو دل میں خوُش اور مسرور ہو کر لوٹ گئے۔



باب 9

1 اور ایسا ہوا کہ جب سُلیامن خُداوند کا گھر اور شاہی محل بنا چُکا اور جو کچھ سُلیمان کرنا چاہتا تھا وہ سب ختم ہو گیا ۔
2 تو خُداوند سُلیمان کو دوسری باز دکھائی دیا جیسے وہ جبعون میں دکھائی دیا تھا ۔
3 اور خُداوند نے اُس سے کہا مَیں نے تیری دعا اور مُناجات جو تُو نے میرے حضور کی ہے سُن لی اور اِس گھر میں جسے تُو نے بنایا ہے اپنا نام ہمیشہ تک رکھنے کے لیے میں نے اُسے مقدس کِیا اور میری آنکھیں اور میرا دل سدا وہاں لگے رہیں گے ۔
4 اب رہا تُو ۔ سو اگر تُو جیسے تیرا باپ داود چلا ویسے ہی میرے حضور خلوصِ دل اور راستی سے چلکر اُس سب کے مطابق جو میں نے تُجھے فرمایا عمل کرے اور میرے آئین اور احکام کو مانے ۔
5 تو مَیں تیری سلطنت کا تخت اسرائیل کے اوپر ہمیشہ قائم رکھونگا جیسا میں نے تیرے باپ دادا سے وعدہ کیا اور کہا کہ تیری نسل میں اسرائیل کے تخت پر بیٹھنے کے لیے آدمی کی کمی نہ ہو گی ۔
6 لیکن تُم ہو یا تمہاری اولاد ۔ اگر تُم میری پیروی سے برگشتہ ہو جاو اور میرے احکام اور آئین کو جو میں نے تمہارے آگے رکھے ہیں نہ مانو بلکہ جا کر اور معبودوں کی عبادت کرنے اور اُنکو سجدہ کرنے لگو ۔
7 تو میں اسرائیل کو اُس مُلک سے جو میں نے اُنکو دیا ہے کاٹ ڈالونگا اور اُس گھر کو جسے میں نے اپنے نام کے لیے مُقدس کِیا ہے اپنی نظر سے دُور کر دوُنگا اور اسرائیل سب قوموں میں ضرب المثل اور انگشت نُما ہوگا۔
8 اور اگرچہ یہ گھر ایسا ممتاز ہے تو بھی ہر یک جو اِسکے پاس سے گذریگا حیران ہو گا اور سُسکاریگا اور وہ کہیں گے کہ خُداوند نے اِس مُلک اور اِس گھر سے ایسا کیوں کیا ؟
9 تب وہ جواب دیں گے اِس لیے کہ اُنہوں نے خُداوند اپنے خُدا کو جو اُنکے باپ دادا کو مُلکِ مصر سے نکال لایا ترک کیا اور غیر معبودوں کو تھام کر اُنکو سجدہ کرنے اور اُنکی پرستش کرنے لگے۔ اِسی لیے خُداوند نے اُن پر یہ ساری مصیبت نازل کی ۔
10 اور بیس برس کے بعد جن میں سُلیمان نے وہ دونوں گھر یعنی خُداوند کا گھر اور شاہی محل بنائے ایسا ہوا کہ ۔
11 چونکہ صور کے بادشاہ حیرام نے سُلیمان کے لیے دیودار کی اور صنوبر کی لکڑی اور سونا اُسکی مرضی کے مطابق مہیا کیا تھا اِس لیے سُلیمان بادشاہ نے گلیل کے مُلک میں بیس شیر حیرام کو دئیے ۔
12 اور حیرام اُن شہروں کو جو سُلیمان نے اُسے دیے تھے دیکھنے کے لیے صور سے نِکلا پر وہ اُسے پسند نہ آئے۔
13 سو اُس نے کہا اے میرے بھائی یہ کیا شہر ہیں جو تُو نے مجھے دیے ؟ اور اُس نے اُنکا نام کُبول کا مُلک رکھا جو آج تک چلا آتا ہے ۔
14 اور حیرام نے بادشاہ کے پاس ایک سو بیس قنطار سونا بھیجا۔
15 اور سُلیمان نے جو بیگاری لگائے تو اِسی لیے کہ وہ خُداوند کے گھر اور اپنے محل کو اور مِلو اور یروشلیم کی شہر پناہ اور حصور اور مجدو اور جزر کو بنائے ۔
16 اور مصر کے بادشاہ فرعون نے چڑھائی کر کے جزر کو سر کر کے اُسے آگ سے پھونک دیا تھا اور اُن کنعانیوں کو جو اُس شہر میں بسے ہوئے تھے قتل کر کے اُسے اپنی بیٹی کو جو سُلیمان کی بیوی تھی جہیز میں دے دیا تھا ۔
17 سو سُلیمان نے جزر اور بیت حورون اسفل کو ۔
18 اور بعلات اور بیابان کے تمر کو بنایا جو مُلک کے اندر ہیں ۔
19 اور ذخیروں کے سب شہروں کو جو سُلیمان کے پاس تھے اور اپنے رتھوں کے لیے شہروں کو اور جو کچھ سُلیمان نے اپنی مرضی سے یروشلیم میں اور لُبنان میں اور اپنی مملکت کی ساری زمین میں بنانا چاہا بنایا ۔
20 اور وہ سب لوگ جو اموریوں اور حتیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں میں سے باقی رہے گئے تھے اور بنی اسرائیل میں سے نہ تھے ۔
21 سو اُنکی اولاد کو جو انکے بعد مُلک میں باقی رہی جنکو بنی اسرائیل پورے طور پر نابود نہ کر سکے سُلیمان نے غُلام بنا کر بیگار میں لگایا جیسا آج تک ہے ۔
22 لیکن سُلیمان نے بنی اسرائیل میں سے کسی کو غُلام نہ بنایا بلکہ وہ اُس کے جنگی مرد اور مُلازم اور اُمرا اور فوجی سردار اور اُسکے رتھوں اور سواروں کے حاکم تھے ۔
23 اور وہ خاص منصبدار جو سُلیان کے کام پر مقرر تھے پانچ سو پچاس تھے ۔ یہ اُن لوگوں پر جو کام بنا رہے تھے سردار تھے ۔
24 اور فرعون کی بیٹی داود کے شہر سے اپنے اُس محل میں جو سُلیمان نے اُس کے لیے بنیا تھا آئی تب سُلیمان نے مِلوّ کو تعمیر کیا ۔
25 اور سُلیمان سال میں تین بار اُس مذبح ہر جو اُس نے خُداوند کے لیے بنایا تھا سوختنی قُربانیاں اور سلامتی کے ذبیحے گُزرانتا تھا اور اُنکے ساتھ اُس مذبح پر جو خُداوند کے آگے تھا بخور جلاتا تھا ۔ اِس طرح اُس نے اُس گھر کو تمام کیا ۔
26 پھر سُلیمان بادشاہ نے عصیون جابر میں جو ادوم کے مُلک میں بحرِ قُلزم کے کنارےے ایلوت کے پاس ہے جہازوں کا بیڑا بنایا ۔
27 اور حیرام نے اپنے مُلازم سُلیمان کے مُلازموں کے ساتھ اُس بیڑے میں بھیجے۔ وہ ملاح تھے جو سُمندر سے واقف تھے ۔
28 اور وہ اوفیرر کو گئے اور وہاں سے چار سو بیس قنطار سونا لیکر اُسے سُلیمان بادشاہ کے پاس لائے۔



باب 10

1 اور جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بات سُلیمان کی شہرت سُنی تو وہ آئی تاکہ مُشکل سوالوں سے اُسے آزمائے۔
2 اور وہ بہت بڑی جلو کے ساتھ یروشلیم میں آئی اور اُس کے ساتھ اونٹ تھے جن پر مصالح اور بہت سا سونا اور بیش بہا جواہر لدے تھے اور جب وہ سُلیمان کے پاس پہنچی تو اُس نے اُن سب باتوں کے بارے میں جو اُس کے دل تھیں اُس سے گفتگو کی ۔
3 سُلیمان نے اُس کے سب سوالوں کا جواب دیا ۔ بادشاہ سے کوئی بات ایسی پوشیدہ نہ تھی جو اُسے نہ بتائی۔
4 اور جب سبا کی ملکہ نے سُلیمان کی ساری حکمت اور اُس محل کو جو اُس نے بنایا تھا ۔
5 اور اُس کے دسترخوان کی نعمتوں اور اُسکے ملازموں کی نشست اور اُس کے خادموں کی حاضر باشی اور اُنکی پوشاک اور اُسکے ساقیوں اور اُس سیڑھی کو جس سے وہ خداوند کے گھر کو جاتا تھا دیکھا تو اُسکے ہوش اُڑ گئے ۔
6 اور اُس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے مُلک میں سُنی تھی ۔
7 تو بھی میں نے و ہ باتیں باور نہ کیں جب تک خُود آخر اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ نہ لیا اور مُجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبالمندی اُس شہرت سے جو میں نے سُنی بہت زیادہ ہے ۔
8 خوش نصیبت ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیبت ہیں تیرے یہ مُلازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے اور تیری حکمت سُنتے ہیں ۔
9 خُداوند تیرا خُدا مبارک ہو جو تُجھ سے ایسا خوشنود ہوا کہ تُجھے اسرائیل کے تخت پر بیٹھایا ہے ۔ چونکہ خُداوند نے اسرائیل سے سدا محبت رکھی ہے اِس لیے اُس نے تُجھے عدل اور انصاف کرنے کو بادشاہ بنایا ۔
10 اور اُس نے بادشاہ کو ایک سو بیس قنطار سونا اور مصالح کا بہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہر دیے اور جیسے مصالح سبا کی ملکی نے سُلیمان بادشاہ کو دیے ویسے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے ۔
11 اور حیرام کا بیڑا بھی اوفیر سے سونا لاتا تھا بڑی کثرت سے چند ن کے درخت اور بیش بہا جواہر اوفیر سے لایا ۔
12 سو بادشاہ نے خُداوند کے گھر اور شاہی محل کے لیے چندن کی لکڑی کے سُتون اور بربط اور گانے والوں کے لیے ستار بنائے ۔ چندن کے ایسے درخت نہ کبھی آئے تھے اور نہ کبھی آج کے دن تک دکھائی دیے۔
13 اور سُلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جسکی وہ مُشتاق ہوئی اور جو کچھ اُس نے مانگا دیا ۔ علاوہ اِس کے سُلیمان نے اُسکو اپنی شاہانہ سخاوت سے بھی عنایت کیا ۔ پھر وہ اپنے مُلازموں سمیت اپنی مملکت کو لَوٹ گئی۔
14 اور جتنا سونا ایک برس میں سُلیمان کے پاس آتا تھا اُسکا وزن سونے کا چھ سو چھیاسٹھ قنطار تھا ۔
15 علاوہ اِس کے بیو پاریوں اور سوداگروں کی تجارت اور مِلی جُلی قوموں کے سب سلاطین اور مُلک کے صوبہ داروں کی طرف سے بھی سونا آتا تھا ۔
16 اور سُلیمان بادشاہ نے سونا گھڑ کر دو سو ڈھالیں بنائیں ۔ چھ سو مثقال سونا ایک ایک ڈھال میں لگا۔
17 اور اُس نے گھڑے ہوئے سونے کی تین سو سپریں بنائیں ۔ ایک ایک سِپر میں ڈیڑھ سیر سونا لگا اور بادشاہ نے اُنکو لُبنانی بن کے گھر میں رکھا ۔
18 ماسوا اِنکے بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بنایا اور اُس پر سب سے چوکھا سونا منڈھا ۔
19 اُس تخت میں چھ سیڑھیاں تھیں اور تخت کے اوپر کا حصہ پیچھے سے گول تھا اور بیٹھنے کی جگہ دونوں طرف ٹیکیںتھیں اور ٹیکوں کے پاس دو شیر کھڑے تھے۔
20 اور اُن چھ سیڑھیوں کے اِدھر اور اُدھر بارہ شیر کھڑے تھے ۔ کسی سلطنت میں ایسا کبھی نہیں بنا ۔
21 اور سُلیمان بادشاہ کے پینے کے سب برتن سونے کے تھے اور لُبنانی بن کے گھر کے بھی سب برتن خالص سونے کے تھے ۔ چاندی کا ایک بھی نہ تھا کیونکہ سُلیمان کے ایام میں اِسکی کچھ قدر نہ تھی ۔
22 کیونکہ بادشاہ کے پاس سُمندر میں حیرام کے بیڑے کے ساتھ ایک ترسیسی بیڑا بھی تھا ۔ یہ ترسیسی بیڑا تین برس میں ایک بار آتا تھا اور سونا اور چاندی اور ہاتھی دانت اور بندر اور مور لاتا تھا ۔
23 سو سُلیمان بادشاہ دولت اور حکمت میں زمین کے سب بادشاہوں پر سبقت لے گیا۔
24 اور سارا جہان سُلیمان کے دیدار کا طالب تھا تاکہ اُسکی حکمت کو جو خُدا نے اُس کے دل میں ڈالی تھی سُنے ۔
25 اور اُن میں سے ہر ایک آدمی چاندی کے برتن اور سونے کے برتن اور کپڑے اور ہتھیار اور مصالح اور گھوڑے اور خچر ہدیہ کے طور پر اپنے حصہ کے موافق لاتا تھا ۔
26 اور سُلیمان نے رتھ اور سوار اکٹھے کر لیے ۔ اُس کے پاس ایک ہزار چار سو رتھ اور بارہ ہزار سوار تھے جنکو اُس نے رتھوں کے شہروں میں اور بادشاہ کے ساتھ یروشلیم میں رکھا ۔
27 اور بادشاہ نے یروشلیم میں اِفراط کی وجہ سے چاندی کو تو ایسا کر دیا جیسے پتھر اور دیوداروں کو ایسا جیسے نشیب کے مُلک کے گولر کے درخت ہوتے ہیں ۔
28 اور گھوڑ ے سُلیمان کے پاس تھے وہ مصر سے منگائے گئے تھے اور بادشاہ کے سوداگر ایک ایک جھُنڈ کی قیمت لگا کر اُنکے جھُنڈ کے جھُنڈلیا کرتے تھے ۔
29 اور ایک رتھ چاندی کی چھ سو مثقال میں آتا اور مصر سے روانہ ہوتا اور گھوڑا ڈیڑھ سو مثقال میں آتا تھا اور ایسے ہی حتیوں کے سب بادشاہوں اور ارامی بادشاہوں کے لیے وہ اِنکو اُن ہی کے ذریعہ سے منگاتے تھے۔



باب 11

1 اور سُلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے یعنی موآبی ۔ عمونی ۔ ادومی ۔ صیدانی اور حتی عورتوں سے محبت کرنے لگا۔
2 یہ اُن قوموں کی تھیں جنکی بابت خُداوند نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ تُم اُنکے بیچ نہ جانا اور نہ وہ تُمہارے بیچ آئیں کیونکہ وہ ضرور تُمہارے دلوں کو اپنے دیوتاوں کی طر مائل کر لینگی۔ سُلیمان اِن ہی کے عشق کا دم بھرنے لگا ۔
3 اور اُسکے پاس سات سو شہزادیاں اُسکی بیویاں اور تین سو حرمیں تھیں اور اُسکی بیویوں نے اُسکے دل کو پھیر دیا ۔
4 کیونکہ جب سپلیمان بُڈھا ہو گیا تو اُسکی بیویوں نے اُسکے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اُسکا دل خُداوند اپنے خُدا کے ساتھ کامل نہ رہا جیسا اُسکے باپ داود کا دل تھا ۔
5 کیونکہ سُلیمان صیدانیوں کی دیوی عستارات اور عنمونیوں کے نفرتی مِلکول کی پیروی کرنے لگا ۔
6 اور سُلیمان نے خُداوند کے آگے بدی کی اور اُس نے خُداوند کی پوری پیروی نہ کی جیسی اُس کے باپ داود نے کی تھی۔
7 پھر سُلیمان نے موآبیوں کے نفرتی کموس کے لیے اُس پہاڑ پر جو یروشلیم کے سامنے ہے اور بنی عمون کے نفرتی مولک کے لیے بُلند مقام بنا دیا ۔
8 اُس نے ایسا ہی اپنی سب اجنبی بیویوں کی خاطر کیا جو اپنے دیوتاوں کے حضور بخُور جلاتی اور قُربانی گذرانتی تھیں ۔
9 اور خُداوند سُلیمان سے ناراض ہوا کیونکہ اُسکا دل خُداوند اسرائیل کے خُدا سے پھر گیا تھا جس نے اُسے دوبارہ دکھائی دیکر ۔
10 اُسکو اِس بات کا حکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے پر اُس نے وہ بات نہ مانی جسکا حکم خُداوند نے دیا تھا ۔
11 اِس سبب سے خُداوند نے سُلیمان کو کہا چونکہ تُجھ سے یہ فعل ہوا اور تُو نے میرے عہد اور میرے آئین کو جنکا میں نے تُجھے حکم دیا نہیں مانا اِس لیے مَیں سلطنت کو ضرور تُجھ سے چھینکر تیرے خادم کو دونگا۔
12 تَو بھی تیرے باپ داود کی خاطر تیرے ایام میں یہ نہیں کرونگا بلکہ اپنے بندہ داود کی خاطر اور یروشلیم کی خاطر جسے مَیں نے چُن لیا ہے ایک قبیلہ تیرے بیٹے کو دونگا۔
13
14 سو خُداوند نے ادومی ہدد کو سُلیمان کا مُخالف بنا کر کھڑا کیا ۔ یہ ادوم کی شاہی نسل سے تھا ۔
15 کیونکہ جن داود ادوم میں تھا تو لشکر کا سردار یوآب ادوم میں ہر ایک مرد کو قتل کر کے اُن مقتولوں کو دفن کرنے گیا ۔
16 ( کیونکہ یوآب اور سب اسرائیلی چھ مہینے تک وہیں رہے جب تک کہ اُس نے ادوم میں ہر ایک مرد کو قتل نہ کر ڈالا)۔
17 تو ہدد کئی ایک ادومیوں کے ساتھ جو اُس کے باپ کے مُلازم تھے مصر جانے کو بھاگ نکلا ۔ اُس وقت ہدد چھوٹا لڑکا ہی تھا ۔
18 اور وہ مدیان سے نکل کر فاران میں آئے اور فاران سے لوگ ساتھ لیکر شاہِ مصر فرعون کے پاس مصر میں گئے ۔ اُس نے اُسکو ایک گھر دیا اور اُسکے لیے رسد مُقرر کی اور اُسے جاگیر دی۔
19 اور ہدد کو فرعون کے حضور اِتنا رسوخ حاصل ہُوا کہ اُس نے اپنی سالی یعنی ملکہ تحفنیس کی بہن اُسی کو بیاہ دی ۔
20 اور تحفنیس کی بہن کے اُس سے اُسکا بیٹا جنوبت پیدا ہُدا جسکا دودھ تحفنس نے فرعون کے محل میں چھُڑایا اور جنوبت فرعون کے بیٹوں کے ساتھ فرعون کے محل میں رہا ۔
21 سو جب ہدد نے مصر میں سُنا کہ داود اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور لشکر کا سردار یوآب بھی مر گیا ہے تو ہدد نے فرعون سے کہا مجھے رخصت کر دے تاکہ میں اپنے مُلک کو چلا جاوں۔
22 تب فرعون نے اُس سے کہا بھلا تُجھے میرے پاس کس چیز کی کمی ہوئی کہ تُو اپنے مُلک کو جانے کے در پے ہے؟ اُس نے کہا کچھ نہیںپھر بھی تُو مجھے جس طرح ہو رخصت ہی کر دے ۔
23 اور خُدا نے اُس کے لیے ایک اور مُخالف الیدع کے بیٹے روزن کو کھڑا کیا جو اپنے آقا ضوباہ کے بادشاہ ہدد عزر کے پاس سے بھاگ گیا تھا ۔
24 اور اُس نے اپنے پاس لوگ جمع کر لیے اور جب داود نے ضوباہ والوں کو قتل کیا تو وہ ایک فوج کا سردار ہو گیا اور وہ دمشق کو جاکر رہیں رہنے اور دمشق میں سلطنت کرنے لگے ۔
25 سو ہدد کی شرارت کے علاوہ یہ بھی سُلیمان کی ساری عُمر اسرائیل کا دُشمن رہا اور اُس نے اسرائیل س نفرت رکھی اور ارام پر حکومت کرتا رہا ۔
26 اور صریدہ کے افرائمی نباط کا بیٹا یربعام جو سُلیمان کا مُلازم تھا اور جسکی ماں کا نام جو بیوہ تھی صروعہ تھا اُس نے بھی بادشاہ کے خلاف اپنا ہاتھ اُٹھایا ۔
27 اور بادشاہ کے خلاف اُسکے ہاتھ اُٹھانے کا یہ سبب ہُوا کہ بادشاہ مِلو کو بناتا تھا اور اپنے باپ داود کے شہر رخنہ کی مرمت کرتا تھا ۔
28 اور وہ شخص یربعام ایک زبردست سُورما تھا اور سُلیمان نے اُس جوانکو دیکھا کہ محنتی ہے ۔ سو اُس نے اُسے بنی یوسف کے سارے کام پر مُختار بنا دیا ۔
29 اُس وقت یُربعام یروشلیم سے نکلر جا رہا تھا تو سیلانی اخیاہ نبی اُسے راہ میں مِلا اور اخیاہ ایک نئی چادر اوڑھے ہوئے تھا ۔ یہ دونوں میدان میں اکیلے تھے۔
30 سو اخیاہ نے اُس نئی چادر کو جو اُس پر تھی لیکر اُسکے بارہ ٹکڑے پھاڑے ۔
31 اور اُس نے یُربعام سے کہا کہ تُو اپنے لیے دس ٹکڑے لے لے کیونکہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں کہتا ہے کہ دیکھ میں سُلیمان کے ہاتھ سے سلطنت چھین لونگا اور دس قبیلے تُجھے دونگا۔
32 ( لیکن میرے بندہ داود کی خاطر اور یروشلیم یعنی اُس شہر کی خاطر جسے میں نے بنی اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے چُن لیا ہے ایک قبیلہ اُسکے پاس رہےگا)۔
33 کیونکہ اُنہوں نے مُجھے ترک کیا اور صیدانیوں کی دیوی عستارات اور موآبیوں کے دیوتا کموس اور بنی عمون کے دیوتا مِلکول کی پرستش کی ہے اور میری راہوں پر نہ چلے کہ وہ کام کرتے جو میری نظر میں بھلا تھا اور میرے آئین اور احکام کو مانتے جیسا اُس کے باپ داود نے کیا ۔
34 پھر بھی مَیں ساری مملکت اُسکے ہاتھ سے نہیں لونگا بلکہ اپنے بندہ داود کی خاطر جسے میں نے اِس لیے چُن لیا کہ اُس نے میرے احکام اور آئین مانے ۔ مَیں اُس کے بیٹے کے ہاتھ سے سلطنت یعنی دس قبیلوں کو لیکر اُنکو تُجھے دونگا۔
35
36 اور اُسکے بیٹے کو ایک قبیلہ دونگا تاکہ میرے بندہ داود کا چراغ یروشلیم یعنی اُس شہر میں جسے میں نے اپنا نام رکھنے کے لیے چُن لیا ہے ہمیشہ میرے آگے رہے۔
37 اور مَیں تُجھے لونگا اور تُو اپنے دل کی پُوری خواہش کے موافق سلطنت کریگا اور اسرائیل کا بادشاہ ہو گا ۔
38 اور ایسا ہو گا کہ اگر تُو اُن سب باتوں کوجنکا میں تُجھے حکم دوں سُنے اور میری روہوں پر چلے اور جو کام میری نظر میں بھلا ہے اُسکو کرے اور میرے آئین اور احکام مانے جیسا میرے بندہ داود نے کِیا تو مَیں تیرے ے ساتھ رہونگا اور تیرے لئے ایک پایدار گھر بناونگا جیسا میں نے داود کے لیے بنایا اور اسرائیل کو تُجھے دونگا ۔
39 اور میں اِسی سبب سے داود کی نسل کو دُکھ دونگا پر ہمیشہ تک نہیں ۔
40 اِسی لیے سُلیمان یُربعام کے قتل کے در پے ہُوا پر یُربعام اُٹھکر مصر کو شاہِ مصر سیساق کے پاس بھاگ گیا اور سُلیمان کی وفات تک مصر میں رہا۔
41 اور سُلیمان کا باقی حال اور سب کچھ جو اُس نے کیا اور اُسکی حکمت سو کیا وہ سُلیمان کے احوال کی کتاب میں درج نہیں ؟
42 اور وہ مُدت جس میں سُلیمان نے یروشلیم میں سب اسرائیل پر سلطنت کی چالیس برس کی تھی ۔
43 اور سُلیمان اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داود کے شہر میں دفن ہُوا اور اُسکا بیٹا رجعام اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا۔



باب 12

1 اور رجعام سِکم کو گیا کیونکہ سارا اسرائیل اُسے بادشاہ بنانے کو سِکم کو گیا تھا ۔
2 اور جب نباط کے بیٹے یُربعام نے جو ہنوز مصر میں تھا یہ سُنا ( کیونکہ یُربعام سُلیمان بادشاہ کے حضور سے بھاگ گیا تھا اور وہ مصر میں رہتا تھا۔
3 سو اُنہوں نے لوگ بھیجکر اُسے بُلوایا)۔ تو یُربعام اور اسرائیل کی ساری جماعت آکر رحبعام سے یوں کہنے لگی۔
4 کہ تیرے باپ نے ہمارا جُوا سخت کر دیا تھا سو تُو اب اپنے باپ کی اُس سخت خدمت کو اور اُس بھاری جُوئے کو جو اُس نے ہم پر رکھا ہلکا کر دے اور ہم تیری خدمت کرینگے۔
5 تب اُس نے اُن سے کہا ابھی تُم تین روز کے لیے چلے جاو تب پھر میرے پاس آنا ۔ سو وہ لوگ چلے گئے۔
6 اور رحبعام بادشاہ نے اُن عُمر رسیدہ لوگوں سے جو اُسکے باپ سُلیمان کے جیتے جی اُسکے حضور کھڑے رہتے تھے مشورت لی اور کہا کہ اِن لوگوں کو جواب دینے کے لیے تُم مجھے کیا صلاح دیتے ہو؟
7 اُنہوں نے اُس سے یہ کہا کہ اگر تُو آج کے دن اِس قوم کا خادم بن جائے اور اُنکی خدمت کرے اور اُنکو جواب دے اور اُن سے میٹھی باتیں کرے تو وہ سدا تیرے خادم بنے رہیں گے۔
8 پر اُس نے اُن عمر رسیدہ لوگوں کی مشورت جو اُنہوں نے اُسے دی چھوڑ کر اُن جوانوں سے جو اُسکے ساتھ بڑے ہوئے تھے اور اُسکے حضور کھڑے تھے مشورت لی۔
9 اور اُن سے پُوچھا کہ تُم کیا صلاح دیتے ہو تاکہ ہم اِن لوگوں کو جواب دے سکیں جنہوں نے مجھ سے یوں کہا ہے کہ اُس جوئے کو جو تیرے باپ نے ہم پر رکھا ہلکا کردے ؟
10 اِن جوانوں نے جو اُسکے ساتھ بڑے ہوئے تھے اُس نے کہا تُو اُن لوگوں کو یوں جواب دینا جنہوں نے تُجھ سے کہا ہے کہ تیرے باپ نے ہمارے جوئے کو بھاری کیا تُو اُسکو ہمارے لیے ہلکا کر دے ۔ سو تُو اُن سے یوں کہنا کہ میری چھنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موٹی ہے ۔
11 اور اب گو میرے باپ نے بھاری جُوا تُم پر رکھا ہے تو بھی مَیں تمہارے جوئے کو اور زیادہ بھاری کر دونگا ۔ میرے باپ نے تُم کو کوڑوں سے ٹھیک کیا میں تُم کو بچھووں سے ٹھیک بناونگا۔
12 سو یُربعام اور سب لوگ تیسرے دن رحبعام کے پاس حاضر ہوئے جیسا بادشاہ نے اُنکو حکم دیا تھا کہ تیسرے دن میرے پاس پھر آنا۔
13 اور بادشاہ نے اُن لوگوں کو سخت جواب دیا اور عمر رسیدہ لوگوں کی اُس مشورت کو جو اُنہوں نے اُسے دی تھی ترک کیا ۔
14 اور جوانوں کی صلاح کے موافق اُن سے یہ کہا کہ میرے باپ نے تُم پر بھاری جُوا رکھا لیکن میں تُمہارے جوئے کو زیادہ بھاری کرونگا ۔ میرے باپ نےے تُمکو کوڑوں سے ٹھیک کیا پر مَیں تُم کو بچھووں سے ٹھیک بناونگا ۔
15 سو بادشاہ نے لوگوں کی نہ سُنی کیونکہ یہ مُعاملہ خُداوند کی طرف سے تھا تاکہ خُداوند اپنی بات کو جو اُس نے سیلانی اخیاہ کی معرفت نباط کے بیٹے یُربعام سے کہی تھی پورا کرے ۔
16 اور جب اسرائیل نے دیکھا کہ بادشاہ نے اُنکی نہ سُنی تو اُنہوں نے بادشاہ کو یوں جواب دیا کہ داود میں ہمارا کیا حصہ ہے ؟ یسی کے بیٹے میں ہماری میراث نہیں ۔ اے اسرائیل اپنے ڈیروں کو چلے جاو اور اب اے داود تُو اپنے گھر کو سنبھال ۔ سو اسرائیلی اپنے ڈیروں کو چل دیے ۔
17 لیکن جتنے اسرائیلی یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے اُن پر رحبعام سلطنت کرتا رہا ۔
18 پھر رحبعام بادشاہ نے ادورام کو بھیجا جو بیگاریوں کے اوپر تھا اور سارے اسرائیل نے اُسے سنگسار کیا اور وہ مر گیا ۔ تب رحبعام بادشاہ نے اپنے رتھ پر سوار ہونے میں جلدی کی تاکہ یروشلیم کو بھاگ جائے ۔
19 یُوں اسرائیل داود کے گھرانے سے باغٰ ہُوا اور آج تک ہے۔
20 اور جب سارے اسرائیل نے سُنا کہ یُربعام لَوٹ آیا ہے اُنہوں نے لوگ بھیج کر اُسے جماعت میں بُلوایا اور اُسے سارے اسرائیل کا بادشاہ بنایا اور یہوداہ کے قبیلہ کے سِوا کسی نے داود کے گھرانے کی پیروی نہ کی ۔
21 اور جب رحبعام یروشلیم میں پہنچا تو اُس نے یہوداہ کے سارے گھرانے اور بنیمین کے قبیلہ کو جو سب ایک لاکھ اَسی ہزار چُنے ہوئے جنگی مرد تھے اکٹھا کیا تاکہ وہ اسرائیل کے گھرانے سے لڑ کر سلطنت کو پھر سُلیمان کے بیٹے رحبعام کے قبضہ میں کرا دیں ۔
22 لیکن سمعیاہ کو جع مردِ خُدا کا یہ پیغام آیا ۔
23 کہ یہوداہ کے بادشاہ سُلیمان کے بیٹے رحبعام اور یہوداہ اور بنیمین کے سارے گھرانے اور قوم کے باقی لوگوں سے کہہ کہ ۔
24 خُداوند یوں فرماتا ہے کہ تُم چڑھائی نہ کرو اور نہ اپنے بھائیوں بنی اسرائیل سے لڑو بلکہ ہر شخس اپنے گھر کو لَوٹے کیونکہ یہ بات میری طرف سے ہے ۔ سو اُنہوں نے خُداوند کی بات مانی اور خُداوند کے حکم کے مطابق لَوٹے اور اپنا راستہ لیا۔
25 تب یُربعام نے افرائیم کے کوہستانی مُلک میں سِکم کو تعمیر کیا اور اُس میں رہنے لگا اور وہاں سء نکل کر اُس نے قنو ایل کو تعمیر کیا ۔
26 اور یُربعام نے اپنے دل میں کہا کہ اب سلطنت داود کے گھرانے میں پھر چلی جائے گی ۔
27 اگر یہ لوگ یروشلیم میں خُداوند کے گھر میں قُربانی گذراننے کو جایا کریں تو اِنکے دل اپنے مالک یعنی یہوداہ کے بادشاہ رحبعام کی طرف مائل ہونگے اور وہ مُجھ کو قتل کر کے شاہِ یہوداہ رحبعام کی طرف پھر جائیں گے ۔
28 اِس لیے اُس بادشاہ نے مشورت لیکر سوانے کے دو بچھڑے بنائے اور لوگوں سے کہا یروشلیم کو جانا تُمہاری طاقت سے باہر ہے ۔ اے اسرائیل اپنے دیوتاوں کو دیکھھ جو تُجھے مُلکِ مصر سے نکال لائے۔
29 اور اُس نے ایک کو بیت ایل میں قائم کیا اور دوسرے کو دان میں رکھا ۔
30 اور یہ گناہ کا باعث ٹھہرا کیونکہ لوگ اُس ایک پرستش کرنے کے لیے دان تک جانے لگے ۔
31 اور اُس نے اونچی جگہوں کے گھر بنائے اور عوام میں سے جو بنی لاوی نہ تھے کاہن بنائے ۔
32 اور یُربعام نے آٹھویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کے لیے اُس عید کی طرح جو یہوداہ میں ہوتی ہے ایک عید ٹھہرائی اور اُس مذبح کے پاس گیا ۔ ایسا ہی اُس نے بیت ایل میں کِیا اور اُن بچھڑوں کے لیے جو اُس نے بنائے تھے قُربانی گذرانی اور اُس نے بیت ایل میں اپنے بنائے ہوئے اونچے مقاموں کے لیے کاہنوں کو رکھا ۔
33 اور آٹھویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کو یعنی اُس مہینے میں جسے اُس نے اپنے ہی دل سے ٹھہرایا تھا وہ اُس مذبح کے پاس جو اُس نے بیت ایل میں بنایا تھا گیا اور بنی اسرائیل کے لیے عید ٹھہرائی اور بخور جلانے کو مذبح کے پاس گیا ۔



باب 13

1 اور دیکھو خُداوند کے حُکم سے ایک مردِ خُدا یہوداہ سے بیت ایل میں آیا اور یُربعام بخور جلانے کو مذبح کے پاس کھڑا تھا ۔
2 اور وہ خُداوند کے حُکم سے مذبح کے خلاف چلا کر کہنے لگا اے مذبح ! اے مذبح ! خُداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ داود کے گھرانے سے ایک لڑکا بنام یوسیاہ پیدا ہو گا ۔ سو وہ اوُنچے مقاموں کے کاہنوں کی جو تُجھ پر بخور جلاتے ہیں تُجھ پر قُربانی کریگا اور وہ آدمیوں کی ہڈیاں تُجھ پر جلائیں گے۔
3 اور اُس نے اُسی دن ایک نشان دیا اور کہا وہ نشان جو خُداوند نے بتایا ہے یہ ہے کہ دیکھو مذبح پھٹ جائے گا اور وہ راکھ جو اُس پر ہے گِر جائے گی۔
4 اور ایسا ہُوا کہ جب بادشاہ نے اُس مردِ خُدا کا کلام جو اُس نے بیت ایل میں مذبح کے خلاف چِلا کر کہا تھا سُنا تو یُربعام نے مذبح پر سے اپنا ہاتھ لمبا کیا اور کہا کہ اُسے پکڑ لو اور اُسکا وہ ہاتھ جو اُس نے اُسکی طرف بڑھایا تھا خپشک ہو گیا ایسا کہ وہ اُسے پھر اپنی طرف کھینچ نہ سکا۔
5 اور اُس نشان کے مُطابق جو اُس مردِ خُدا نے خُداوند کے حکم سے دیا تھا وہ مذبح بھی پھٹ گیا اور راکھ مذبح پر سے گِر گئی۔
6 تب بادشاہ نے اُس مردِ خُدا سے کہا کہ اب خُداند اپنے خُدا سے التجا کر اور میرے لیے دعا کر تاکہ میرا ہاتھ میرے لیے پھر بحال ہو جائے ۔ تب اُس مردِ خُدا نے خُداوند سے التجا کی اور بادشاہ کا ہاتھ اُس کے لیے بحا ل ہوا جیسا پہلے تھا ویسا ہی ہو گیا ۔
7 اور بادشاہ نے اُس مردِ خُدا سے کہا کہ میرے ساتھ گھر چل اور تازہ دم ہو اور میں تُجھے انعام دونگا ۔
8 اُس مردِ خُدا نے بادشاہ کو جواب دیا کہ اگر تُو اپنا آدھا گھر بھی مُجھے دے تو بھی میں تیرے ساتھ جانے کا نہیں اور نہ مَیں اِس جگہ کی روٹی کھاوں اور نہ پانی پیوں ۔
9 کیونکہ خُداوند کا حکم مجھے تاکید کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ تُو نہ روٹی کھانا نہ پانی پینا نہ اُس راہ سے لَوٹنا جس سے تُو جائے ۔
10 سو وہ دوسرے راستہ سے گیا اور جس راہ سے بیت ایل میں آیا تھا اُس نے نہ لوٹا۔
11 اور بیت ایل میں ایک بُڈھا نبی رہتا تھا ۔ سو اُسکے بیٹوں میں سے ایک نے آکر وہ سب کام جو اُس مردِ خُدا نے اُس روز بیت ایل میں کیے اُسے بتائے اور جو باتیں اُس نے بادشاہ سے کہی تھیں اُنکو بھی اپنے باپ ے بیان کیا ۔
12 اور اُنکے باپ نے اُن سے کہا وہ کس راہ سے گیا ؟ اُس کے بیٹوں نے دیکھ لیا تھا کہ وہ مردِ خُدا جو یہوداہ سے آیا تھا کس راہ سے گیا ہے ۔
13 سو اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا میرے لیے گدھے پر زین کس دو ۔ پس اُنہوں نے اُس کے لیے گدھے پر زین کد دیا او وہ اُس پر سوار ہُوا۔
14 اور اُس مردِ خُدا کے پیچھے چلا اور اُسے بلوط کے ایک درخت کے نیچے بیٹھے پایا ۔ تب اُس نے اُس سے کہا کیا تُو وہی مردِ خُدا ہے جو یہوداہ سے آیا تھا ؟ اُس نے کہا ہاں ۔
15 تب اُس نے اُس سے کہا میرے ساتھ گھر چل اور روٹی کھا ۔
16 اُس نے کہا میں تیر ے ساتھ لَوٹ نہیں سکتا اور نہ تیرے گھر جا سکتا ہوں اور میں تیرے ساتھ اِس جگہ نہ روٹی کھاوں نہ پانی پیوں ۔
17 کیونکہ خُداوند کا مُجھ کو یوں حُکم ہُوا ہے کہ تُو وہاں نہ روٹی کھانا نہ پانی پینا اور نہ اُس راستہ سے ہو کر لَوٹنا جس سے تُو جائے۔
18 تب اُس نے اُس سے کہا مَیں بھی تیری طرح نبی ہوں اور خُداوند کے حکم سے ایک فرشتہ نے مُجھ سے کہا کہ اُسے اپنے ساتھ اپنے گھر میں لَوٹا کر لے آ تاکہ وہ روٹی کھائے اور پانی پیے لیکن اُس نے اُس سے جھوٹ کہا ۔
19 سو وہ اُسکے ساتھ لَوٹ گیا اور ُس کے گھر میں روٹی کھائی اور پانی پیا ۔
20 اور جب وہ دسترخوان پر بیٹھے تھے تو خُداوند کا کلام اُس نبی پر جو اُسے لَوٹا لایا تھا نازل ہوا ۔
21 اور اُس نے اُس مردِ خُدا سے جو یہوداہ سے آیا تھا چلا کر کہا خُداوند یوں فرماتا ہے اِس لیے کہ تُو نے خُداوند کے کلام سے نافرمانی کی اور اُس حکم کو نہیں مانا جو خُداوند تیرے خُدا نے تُجھے دیا تھا ۔
22 بلکہ تُو لَوٹ آیا اور تُو نے اُسی جگہ جسکی بابت خُداوند نے تُجھے فرمایا تھا کہ نہ روٹی کھانا ن پانی پینا روٹی بھی کھائی اور پانی بھی پیا سو تیری لاش تیرے باپ دادا کی قبر تک نہیں پہنچے گی ۔
23 اور جب وہ روٹی کھا چُکا اور پانی پی چُکا تو اُس نے اُس کے لیے یعنی اُس نبی کے لیے جسے وہ لَوٹا لایا تھا گدھے پر زین کس دیا ۔
24 اور جب وہ روانہ ہُوا تو راہ میں اُسے ایک شیر مِلا جس نے اُسے مار ڈالا سو اُس کی لاش راہ میں پڑی رہی اور گدھا اُس کے پس کھڑا رہا اور شیر بھی اُس کی لاش کے پاس کھڑا رہا ۔
25 اور لوگ اُدھر سے گذرے اور دیکھا کہ لاش راہ میں پڑی ہے تو شیر لاش کے پاس کھڑا ہے ۔ سو اُنہوں نے اُس شہر میں جہاں وہ بُڈھا نبی رہتا تھا یہ بتایا ۔
26 اور جب اُس نبی نے جو اُسے راہ سے لَوٹا لایا تھا یہ سُنا تو کہا یہ وہی مردِ خُدا ہے جس نے خداوند کے کلام کی نافرمانی کی اِسی لیے خُداوند نے اُسکو شیر کے حوالہ کر دیا اور اُس نے خُداوند کے اُس سُخن کے مطابق جو اُس نے اُس سے کہا تھا اُسے پھاڑا اور مار ڈالا ۔
27 پھر اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے گدھے پر زین کس دو ۔ سو اُنہوں نے زین کس دیا ۔
28 تب وہ گیا اور اُس نے اُس کی لاش راہ میں پڑی ہوئی اور گدھے اور شیر کو لاچ کے پاس کھڑے پایا کیونکہ شیر نہ لاش کو کھایا اور نہ گدھے کو پھاڑا تھا ۔
29 سو اُس نبی نے اُس مدرِ خُدا کی لاش اُٹھا کر اُسے گدھے پر رکھا اور لے آیا اور وہ بُڈھا نبی اُس پر ماتم کرنے اور اُسے دفن کرنے کو اپنے شہر میں آیا ۔
30 اور اُس نے اُسکی لاش کو اپنی قبر میں رکھا اور اُنہوں نے اُس پر ماتم کیا اور کہا ہائے میرے بھائی !۔
31 اور جب وہ اُسے دفن کر چُکا تو اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جب میں مر جاوں تو مُجھ کو اُسی قبر میں دفن کرنا جس میں یہ مردِ خُدا دفن ہوا ہے ۔ میری ہڈیاں اُسکی ہڈیوں کے برابر رکھنا ۔
32 اِس لیے کہ وہ بات جو اُس نے خُداوند کے حکم سے بیت ایل کے مذبح کے خلاف اور اُن سب اونچے مقاموں کے گھروں کے خلاف جو سامریہ کے قصبوں میں ہیں کہی ہے ضرور پوری ہو گی ۔
33 اِس ماجرا کے بعد یُربعام اپنی بُری راہ سے باز نہ آیا بلکہ اُس نے عوام میں سے اونچے مقاموں کے کاہن ٹھہرائے ۔ جس کسی نے چاہا اُسے اُس نے مخصوص کیا تاکہ اونچے مقاموں کے لیے کاہن ہوں ۔
34 اور یہ فعل یُربعام کے گھرانے کے لیے اُسے کاٹ ڈالنے اور اُسے روی زمین پر سے نیست و نابود کرنے کے لیے گناہ ٹھہرا۔



باب 14

1 اُس وقت یُربعام کا بیٹا ابیاہ بیمار پڑا ۔
2 اور یُربعام نے اپنی بیوی سے کہا ذرا اُٹھ کر اپنا بھیس بدل ڈال تاکہ پہچان نہ ہو سکے کہ تُو یُربعام کی بیوی ہے اور سیلا کو چلی جا ۔ دیکھ اخیاہ نبی وہاں ہے جس نے میری بات کہا تھا کہ مَیں اِس قوم کا بادشاہ ہو نگا ۔
3 اور دس روٹیاں اور پیڑیاں اور شہد کا ایک مرتبان اپنے ساتھ لے اور اُس کے پاس جا ۔ وہ تُجھے بتائے گا کہ لڑکے کا کیا حال ہو گا ۔
4 سو یر ُبعام ک بیوی نے ایسا ہی کیا اور اُٹھ کر سیلا کو گئی اور اخیاہ کے گھر پہنچی پر اخیاہ کو کچھ نظر نہیں آتا تھا کیونکہ بُڑھاپے کے سبب سے اُسکی آنکھیں رہ گئی تھیں ۔
5 اور خُداوند نے اخیاہ سے کہا دیکھ یُربعام کی بیوی تُجھ سے اپنے بیٹے کی بابت پوچھنے آ رہی ہے کیونکہ وہ بیمار ہے ۔ سو تُو اُس سے یوں یوں کہنا کیونکہ جب وہ اندر آئے گی تو اپنے آپ کو دوسری عورت بائے گی ۔
6 اور جیسے ہی وہ دروازہ سے اندر آئی اور اخیاہ نے اُس کے پاوں کی آہٹ سُنی تو اُس نے اُس سے کہا اے یُربعام کی بیوی اندر آ! تُو کیوں اپنے کو دوسری بناتی ہے ؟ کیونکہ میں تو تیرے ہی پاس سخت پیغام کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ۔
7 سو جا کر یُربعام سے کہہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے حالانکہ میں نے تُجھے لوگوں میں سے لیکر سرفراز کیا اور اپنی قوم اسرائیل پر تُجھے بادشاہ بنایا ۔
8 اور داود کے گھرانے سے سلطنت چھین لی اور تُجھے دی تو بھی تُو میرے بند ہ داود کی مانند نہ ہو ا جس نے میرے حکم مانے اور اپنے سارے دل سے میری پیروی کی تاکہ قفط وہی کرے جو میری نظر میں ٹھیک تھا۔
9 پر تُو نے اُن سبھوں سے جو تُجھ سے پہلے ہوئے زیادہ بدی کی اور جا کر اپنے لیے اور اور معبود اور ڈھالے ہوئے بُت بنائے تاکہ مجھے غصہ دلائے بلکہ تُو نے مُجھے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینکا ۔
10 اِس لیے دیکھ یُربعام کے گھرانے پر بلا نازل کرونگا اور یُربعام کی نسل کے ہر ایک لڑکے کو یعنی ہر ایک کو جو اسرائیل میں بند ہے اور اُسکو جو آزاد چھُوٹا ہوا ہے کاٹ ڈالونگا اور یُربعام کے گھرانے کی صفائی کردونگا جیسے کوئی گوبر کی صفائی کرتا ہو جب تک وہ سب دور نہ ہو جائے ۔
11 یُربعام کا جو کوئی شہر میں مرے گا اُسے کُتے کھائیں گے اور جو میدان میں مرے گا اُسے ہوا کے پرندے چٹ کر جائیں گے کیونکہ خداوند نے یہ فرمایا ہے ۔
12 سو تُو اُٹھ اور اپنے گھر جا اور جیسے ہی تیرا قدم شہر میں پڑےگا وہ لڑکا مر جائے گا ۔
13 اور سارا اسرائیل اُسکے لیے روئے گا اور اُسے دفن کریگا کیونکہ یُربعام کی اولاد میں سے فقط اُسی کو قبر نصیب ہو گی اِس لیے کہ یُربعام کے گھرانے میں سے اِسی میں کچھ پایا گیا جو خُداوند اسرائیل کے خُدا کے نزدیک بھلا ہے ۔
14 علاوہ اِس کے خُداوند اپنی طرف سے اسرائیل کے لیے ایک ایسا بادشاہ برپا کرے گا جو اُسی دن یُربعام کے گھرانے کو کاٹ ڈالے گا ۔ لیکن کب ؟ یہ ابھی ہو گا ۔
15 کیونکہ خُداوند اسرائیل کو ایسا مارےگا جیسے سرکنڈا پانی میں ہلایا جاتا ہے اور وہ اسرائیل کو اِس اچھے مُلک سے جو اُس نے اُنکے باپ دادا کو دیا تھا اُکھاڑ پھینکے گا اور اُنکو دریای ِ فرات کے پار پراگندہ کریگا کیونکہ اُنہوں نے اپنے لیے یسیرتیں بنائیں اور خُداوند کو غصہ دلایا ہے ۔
16 اور وہ اسرائیل کو یُربعام کے اُن گناہوں کے سبب سے چھوڑ دے گا جو اُس نے خود کیے اور جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا ۔
17 اور یُربعام کی بیوی اُٹھ کر روانہ ہوئی اور ترضہ میں آئی اور جیسے ہی وہ گھر کے آستانہ پر پہنچی وہ لڑکا مر گیا ۔
18 اور سارے اسرائیل نے جیسا خُداوند نے اپنے بندہ اخیاہ نبی کی معرفت فرمایا تھا اُسے دفن کر کے اُس پر نوحہ کیا۔
19 اور یُربعام کا باقی حال کہ وہ کس کس طرح لڑا اور اس نے کیونکر سطنت کی و ہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتا ب میں لکھا ہے ۔
20 اور جتنی مُدت تک یُربعام نے سلطنت کی وہ بائیس برس کی تھی اور وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُس کا بیٹا ندب اُسکی جگہ بادشاہ ہوا ۔
21 اور سُلیمان کا بیٹا رحبعام یہوداہ میں بادشاہ تھا ۔ رحبعام اکتالیس برس کا تھا جب وہ بادشاہی کرنے لگا اور اُس نے یوشلیم یعنی اُس شہر میں جسے خُداوند نے بنی اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے چُنا تھا تاکہ اپنا نام وہاں رکھے سترہ برس سلطنت کی اور اُس کی ماں کا نام نعمہ تھا جو عمونی عورت تھی ۔
22 اور یہوداہ نے خُداوند کے حضور بدی کی اور جو گناہ اُنکے باپ دادا نے کیے تھے اُن سے بھی زیادہ اُنہوں نے اپنے گناہوں سے جو اُن سے سرزد ہوئے اُسکی غیرت کو بر انگخیتہ کیا۔
23 کیونکہ اُنہوں نے اپنے لیے ہر ایک اونچے ٹیلے پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے اونچے مقام او ر سُتون اور یسیرتیں بنائیں ۔
24 اور اُس مُلک میں لوطی بھی تھے ۔ وہ اُن قوموں کے سب مکروہ کام کرتے تھے جنو خُداوند نے بنی اسرائیل کے سامنے سے نکال دیا تھا ۔
25 اور رحبعام بادشاہ کے پانچویں برس میں شاہِ مصر سیسق نے یروشلیم پر چڑھائی کی ۔
26 اور اُس نے خُداوند کے گھر کے خزانوں اور شاہی محل کے خزانوں کو لے لیا بلکہ اُس نے سب کچھ لے لیا اور سونے کی وہ سب ڈھالیں بھی لے گیا جو سُلیمان نے بنائی تھیں ۔
27 اور رحبعام بادشاہ نے اُنکے بدلے پیتل کی ڈھالیں بنائیں اور اُنکو محافظ سپاہیوں کے سرداروں کے سپرد کیا جو شاہی محل کے دروازہ پر پہرہ دیتے تھے ۔
28 اور جب بادشاہ خُداوند کے گھر میں جاتا تو وہ سپاہی اُنکو لیکر چلتے اور پھر اُنکو واپس لا کر سپاہیوں کی کوٹھری میں رکھ دیتے تھے ۔
29 اور رحبعام کا باقی حال اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں لکھا نہیں ہے ؟
30 اور رحبعام اور یُربعام میں برابر جنگ رہی ۔
31 اور رحبعام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داود کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہو ا ۔ اُس کی ماں کا نام نعمہ تھا جو عمونی عورت تھی اور اُس کا بیٹا ابیام اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا۔



باب 15

1 اور نباط کے بیٹے یُربعام کی سلطنت کے اٹھارویں سال سے ابیام یہوداہ پر سلطنت کرنے لگا ۔
2 اُس نے یروشلیم میں تین سال بادشاہی کی ۔ اُس کی ماں کا نام معکہ تھا جو ابی سلوم کی بیٹی تھی ۔
3 اُس نے اپنے باپ کے سب گناہوں میں جو اُس نے اُس سے پہلے کیے تھے اُس کی روش اختیار کی اور اُس کا دل خُداوند اپنے خُدا کے ساتھ کامل نہ تھا جیسا اُس کے باپ داود کا دل تھا ۔
4 باوجود اِسکے خُداوند اُس کے خُدا نے داود کی خاطر یروشیم میں اُسے ایک چراغ دیا یعنی اُسکے بیٹے کو اُس کے بعد ٹھہرایا اور یروشلیم کو برقرار رکھا ۔
5 اِس لیے کہ داود نے وہ کام کیا جو خُداوند کی نظر میں ٹھیک تھا اور اپنی ساری عمر خُداوند کے کسی حکم سے باہر نہ ہوا سِوا حتی اوریاہ کے معاملہ کے ۔
6 اور رحبعام اور یُربعام کے درمیان اُسکی ساری عمر جنگ رہی ۔
7 اور ابیام کا باقی حال اور سب کچھ جو اُس نے کِیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں لکھا نہیں ہے ؟ اور ابیام اور یُربعام میں جنگ ہوتی رہی ۔
8 اور ابیام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے داو د کے شہر میں دفن کیا اور اُسکا بیٹا آسا اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا۔
9 اور شاہِ اسرائیل یُربعام کے بیسویں سال سے آسا یہوداہ پر سلطنت کرنے لگا ۔
10 اُس نے اکتالیس برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔ اُسکی ماں کا نام معکہ تھا جو ابی سلوم کی بیٹی تھی ۔
11 اور آساّ نے اپنے باپ داود کی طرح وہ کام کیا جو خُداوند کی نظر میں ٹھیک تھا ۔
12 اُس نے لُوطیوں کو مُلک سے نکال دیا اور اُن سب بُتوں کو جنکو اُسکے باپ دادا نے بنیا تھا دُور کر دیا ۔
13 اور اُس نے اپنی ماں معکہ کو بھی ملکہ کے رُتبہ سے اُتار دیا کیونکہ اُس نے ایک یسیرت کے لیے ایک نفرت انگی بُت بنایا تھا ۔ سو آسا نے اُس کے بُت کو کاٹ ڈالا اور وادیِ قدرون میں اُسے جلا دیا ۔
14 لیکن اونچے مقام ڈھائے نہ گئے تو بھی آسا کا دل عمر بھر خُداوند کے ساتھ کامل رہا ۔
15 اور اُس نے وہ چیزیں جو اُسکے باپ نے نذر کی تھیں اور وہ چیزیں جو اُس نے آپ نذر کی تھیں یعنی چاندی اور سونا اور ظُروف سب کو خُداوند کے گھر میں داخل کیا ۔
16 اور آسا اور شاہِ اسرائیل بعشا میں اُنکی عمر بھر جنگ رہی ۔
17 اور شاہِ اسرائی بعشا نے یہوداہ پر چڑھائی کی اور رامہ کو بنایا تاکہ شاہِ یہوداہ آسا کے پاس کسی کی آمد و رفت نہ ہو سکے ۔
18 تب آسا نے سب چاندی اور سونے کو جو خُداوند کے گھر کے خزانوں میں باقی رہا تھا اور شاہی محل کے خزانوں کو لیکر اُنکو اپنے خادموں کے سپرد کیا اور آسا بادشاہ نے اُنکو اپنے خادموں کے سپرد کیا اور آسا بادشاہ نے اُنکو شاہِ ارام بن ہدد کے پاس جو حزیون کے بیٹے طا برمون کا بیٹا تھا اور دمشق میں رہتا تھا روانہ کیا اور کہلا بھیجا ۔
19 کہ میرے او ر تیرے درمیان اور میرے باپ اور تیرے باپ کے درمیان عہد و پیمان ہے ۔ دیکھ میں نے تیرے لیے چاندی اور سونے کا ہدیہ بھیجا ہے سو تُو آکر شاہِ اسرائیل بعشا سے عہد شکنی کر تاکہ وہ میرے پاس سے چلا جائے ۔
20 اور بن ہدد نے آسا بادشاہ کی بات مانی اور اپنے لشکر کے سرداروں کو اسرائیلی شہروں پر چڑھائی کرنےکو بھیجا اور عیون اور دان اور ابیل بیت معکہ اور سارے کنرت اور نفتالی کے سارے مُلک کو مارا ۔
21 جب بعشا نے یہ سُنا تو رامہ کے بنانے سے ہاتھ کھینچا اور ترضہ میں رہنے لگا
22 تب آسا بادشاہ نے سارے یہوداہ میں منادی کرائی او ر کوئی معذور نہ رکھا گیا ۔ سو وہ رامی کے پتھر کو اور اُسکی کڑیوں کو جن سے بعشا اُسے تعمیر کر رہا تھا اُٹھا لے گئے اور آسا بادشاہ نے اُن سے بنیمین کے جبع اور مصافہ کو بنایا ۔
23 اور آسا کا باقی سب حال اور اُسکی ساری قوت اور سب کچھ جو اُس نے کیا اور جو شہر اُس نے بنائے سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ ک کتاب میں قلمبند نہیں ہیں ؟ لیکن اُس کے بڑھاپے کے وقت میں اُسے پاوں کا روگ لگ گیا ۔
24 اور آسا اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ دادا کے ساتھ اپنے باپ داود کے شہر میںدفن ہوا اور اُس کا بیٹا یہوسفط اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
25 اور یہوداہ آسا کی سلطنت کے دوسرے سال سے یُربعام کا بیٹا ندب اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اسرائیل پ دو برس سلطنت کی ۔
26 اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور اپنے باپ کی راہ اور اُسکے گناہ کی روش اختیار کی جس سے اُس ے اسرائیل سے گناہ کرایا تھا ۔
27 اور اخیاہ کے بیٹے بعشا نے جو اِشکار کے گھرانے کا تھا اُسکے خلاف سازش کی اور بعشا نے جبون میں جو فلستیوں کا تھا اُسے قتل کیا کیونکہ ندب اور سارے اسرائیل نے جبون کا محاصہ کر رکھا تھا ۔
28 شاہِ یہوداہ آسا کے تیسرے ہی سال بعشا نے اسے قتل کیا اور اُسکی جگہ سلطنت کرنے لگا ۔
29 اور جوں ہی وہ بادشاہ ہوا اُس نے یُربعام کے سارے گھرانے کو قتل کیا اور جیسا خُداوند نے اپنے خادم اخیاہ سیلانی کی معرفت فرمایا تھا اُس نے یُربعام کے لیے کسی سانس لینے والے کو بھی جب تک اُسے ہلاک نہ کر ڈالا نہ چھوڑا ۔
30 یُربعام کے اُن گناہوں کے سبب سے جو اُس نے آپ کیے اور جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا اور اُسکے اُس غصہ دلانے کے سبب سے جس سے اُس نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کے غضب کو بھڑکایا ۔
31 اورندب کا باقی حال اور سب چھ جو اُس نے کیا س کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
32 اور آسا اور شاہِ اسرائیل بعشا کے درمیان اُنکی عمر بھر جنگ رہی ۔
33 اور شاہِ یہوداہ آسا کے تیسرے سال سے اخیاہ کا بیٹا بعشا ترضہ میں سارے اسرائیل پر بادشاہی کرنے لگا اور اُس نے چوبیس برس سلطنت کی ۔
34 اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور یُربعام کی راہ اور اُسکے گناہ کی روش اختیار کی جس سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا ۔



باب 16

1 اور حنانی کے بیٹے یا ہو پر خُداوند کا یہ کلام بعشا کے خلاف نازل ہوا۔
2 اِس لیے کہ میں نے تُجھے خاک پر سے اُٹھایا اور اپنی قوم اسرائیل کا پیشیوا بنایا اور تُو یُربعام کی راہ پر چلا اور تُو نے میری قوم اسرائیل سے گناہ کرا کے اُنکے گناہوں سے مجھے غصہ دلایا ۔
3 سو دیکھ میں بعشا اور اُس کے گھرانے کی پوری صفائی کر دونگا اور تیرے گھرانے کو نباط کے بیٹے یُربعام کے گھرانے کی مانند بنادونگا ۔
4 بعشا کا جو کوئی شہر میں مریگا اُسے کُتے کھائیں گے اور جو میدان میں مریگا اُسے ہوا کے پرندے چٹ کر جائیں ۔
5 اور بعشا کا باقی حال اور جو کچھ اُس نے کِیا اور اُسکی قوت سو کیا وہ اسرائیل کے باہدانوں کی تواریخ کی کتاب میں لکھا نہیں ہے؟
6 اور بعشا اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور ترضہ میں دفن ہوا اور اُسکا بیٹا ایلہ اُسکی جگہ بادشاہ ہوا ۔
7 اور حنانی کے بیٹے ہایو کی معرفت خُداوند کا کلام بعشا اور اُسکے گھرانے کے خلاف اُس ساری بدی کے سبب سے بھی نازل ہُوا جو اُس نے خُداوند کی نظر میں کی اور اپنے ہاتھوں کے کام سے اُسے غصہ دلایا اور یُربعام کے گھرانے کی مانند بنا اور اِس سبب سے بھی کہ اُس نے اُسے قتل کیا ۔
8 اور شاہِ یہوداہ آسا کے چھبیسویں سال سے بعشا کا بیٹا ایلہ ترضہ میں بنی اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس ے دو برس سلطنت کی ۔
9 اور اُسکے خادم زمری نے جو اُسکے آدھے رتھوں کا داروغہ تھا اُسکے خلاف سازش ک ۔ اُس وقت وہ ترضہ میں تھا اور ارضہ کے گھر میں جو ترضہ میں اُسکے گھر کا دیوان تھا شراب پی پی کر متوالا ہوتا جاتا تھا ۔
10 سو زمری نے آسا شاہِ یہوداہ کے ستائسویں سال اندر جا کر اُس پر وار کیا اور اُسے قتل کر دیا اور اُسکی جگہ سلطنت کرنے لگا ۔ اور جب وہ بادشاہی کرنے لگا تو تخت پر بیٹھے ہی اُس نے بعشا کے سارے گھرانے کو قتل کیا او ر نہ تو اُسکے رشتہ داروں کا اور نہ اُس کے دوستوں کا کوئی لڑکا باقی چھوڑا ۔
11
12 یوں زمری نے خُداوند کے اُس سخن کے مطابق جو اُس نے بعشا کے خلاف یا ہو نبی کی معرفت فرمایا تھا بعشا کے سارے گھرانے کو نابود کیا ۔
13 بعشا کے سب گناہوں اور اُسکے بیٹے ایلہ کے گناہوں کے سبب سے جو اُنہوں نے کئے اور جن سے اُنہوں نے اسرائیل سے گناہ کرایا تاکہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کو اپنے باطل کاموں سے غصہ دلائیں ۔
14 اور ایلہ کا باقی حال اور سب کچھ جو اُس نے کِیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟۔
15 اور شاہِ یہوداہ آسا کے ستائیسویں برس میں زمری نے ترضہ میں سات دن بادشاہی کی ۔ اُس وقت لوگ جبتون کے مقابل جو فلستیوں کا تھا خیمہ زن تھے ۔
16 اور اُن لوگوں نے جو خیمہ زن تھے یہ چرچا سُنا کہ زمری نے سازش کی اور بادشاہ کو مار بھی ڈالا ہے اِسلیے سارے اسرائیل نے عمری کو جو لشکر کا سردار تھا اُس دن لشکر گاہ میں اسرائیل کا بادشاہ بنایا ۔
17 تب عمری اور اُسکے ساتھ اسرائیل جبتون سے روانہ ہوا اور اُنہوں نے ترضہ کا محاصرہ کر لیا ۔
18 اور ایسا ہُوا کہ جب زمری نے دیکھا کہ شہر سر پر ہو گیا تو شاہی محل کے محکم حصہ میں جا کر شاہی محل میں آگ لگا دی اور جل مرا ۔
19 اپنے اُن گناہوں کے سبب سے جو اُس نے کئے کہ خُداوند کی نظر میں بدی کی اور یُربعام کی راہ اور اُسکے گناہ کی روش اختیار کی جو اُس نے کیا تاکہ اسرائیل سے گناہ کرائے ۔
20 اور زمری کا باقی حال اور جو بغاوت اُس نے کی سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟
21 اُس وقت اسرائیلی دو فریق ہو گئے آدھے آدمی جینیت کے بیٹے تبنی کے پیرو ہو گئے تاکہ اُسے بادشاہ بنائیں اورآدھے عمری کے پیرو تھے ۔
22 پر جو عمری کے پیرو تھے اُن پر جو جینت کے بیٹے تبنی کے پیرو تھے غالب آئے ۔ سو تبنی مر گیا اور عمری بادشاہ ہوا۔
23 شاہِ یہوداہ آسا کے اکتیسویں سال سے عمری اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا ۔ اُس نے بارہ برس سلطنت کی۔ ترضہ میں چھ برس اُسکی سلطنت رہی ۔
24 اور اُس نے سامریہ کا پہاڑ سمر سے دو قنطار چاندی میں خریدا اور اُس پہاڑ پر ایک شہر بنایا اور اُس شہر کا نام جو اُس نے بنایا تھا پہاڑ کے مالک سمر کے نام پر سامریہ رکھا ۔
25 اور عمری نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور اُن سب سے جو اُس سے پہلے ہوئے بد تر کام کیے ۔
26 کیونکہ اُس نے نباط کے بیٹے یُربعام کی سب راہیں اور اُسکے گناہوں کی روش اختیار کی جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا تاکہ وہ خداوند اسرائیل کے خُدا کو اپنے باطل کاموں سے غصہ دلائیں ۔
27 اور عمری کے باقی کام جو اُس نے کئے اور اُسکا زور جو اُس نے دکھایا سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
28 سو عمری اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور سامریہ میں دفن ہوا اور اُسکا بیٹا اخی اب اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
29 اور شاہِ یہوداہ آسا کے اڑتیسویں سال سے عمری کا بیٹا اخی اب اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور عمری کے بیٹے اخی اب نے سامریہ میں اسرائیل پر بائیس برس سلطنت کی ۔
30 اور عمری کے بیٹے اخی اب نے جتنے اُس سے پہلے ہوئے تھے اُن سبھوں سے زیادہ خُداوند کی نظر میں بدی کی ۔
31 اور گویا نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں کی روش اختیار کرنا اُس کے لیے ایک ہلکی سی بات تھی ۔ سو اُس نے صدانیوں کے بادشاہ اتبعل کی بیٹی ایزبل سے بیاہ کیا اور جا کر بعل کی پرستش کرنے اور اُسے سجدہ کرنے لگا ۔
32 اور بعل کے مندر میں جسے اُس نے سامریہ میں بنایا تھا بعل کے لیے ایک مذبح تیار کیا ۔
33 اور اخی اب نے یسیرت بنائی اور اخی اب نے اسرائیل کے سب بادشاہوں سے زیادہ جو اُس سے پہلے ہوئے تھے خُداوند اسرائیل کے خُدا کو غصہ دلانے کے کام کیے ۔
34 اُسکے ایام میں بیت ایلی نے یریحو کو تعمیر کیا ۔جب اُس نے اُسکی بنیاد ڈالی تو اُسکا پہلوٹھا بیٹا ابراہام مرا اور جب اُسکے پھاٹک لگائے تو اُسکا سب سے چھوٹا بیٹا سُجوب مر گیا ۔ یہ خُداوند کے کلام کے مطابق ہُوا جو اُس نے نون کے بیٹے یشوع کی معرفت فرمایا تھا ۔



باب 17

1 1۔ اور ایلیاہ تشبی جو جلعاد کے پردیسیوں میں سے تھا اخی اب سے کہا کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کی حیات کی قسم جسکے سامنے میں کھڑا ہوں اِن برسوں میں نہ اوس پڑے گی نہ مینہ برسیگا جب تک میں نہ کہوں ۔
2 اور خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا کہ ۔
3 یہاں سے چلدے اور مشرق کی طرف اپنا رُخ کر اور کریت کے نالہ کے پاس جو یردن کے سامنے ہے جا چھپ۔
4 اور تُو اُسی نالہ میں سے پینا اور مَیں نے کووں کو حکم کیا ہے کہ وہ تیری پرورش کریں ۔
5 سو اُس نے جا کر خُداوند کے کلام کے مطابق کیا کیونکہ وہ گیا اور کریت کے نالہ کے پاس جو یردن کے سامنے ہے رہنے لگا ۔
6 اور کوے اُسکے لیے صبح کو روٹی اور گوشت اور شام کو بھی روٹی اور گوشت لاتے تھے اور وہ اُس نال میں سے پیا کرتا تھا ۔
7 اور کچھ عرصہ کے بعد وہ نالہ سوکھ گیا اِس لیے کہ اُس مُلک میں بارش نہیں ہوئی تھی۔
8 تب خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا ۔
9 کہ اُٹھ اور صیدا کے صارپت کو جا اور وہیں رہ ۔ دیکھ میں نے ایک بیوہ کو وہاں حکم دیا ہے کہ تیری پرورش کرے ۔
10 سو وہ اُٹھ کر صارپت کو گیا اور جب وہ شہر کے پھاٹک پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک بیوہ وہاں لکڑیاں چُن رہی ہے ۔ سو اُس نے اُسے پُکار کر کہا ذرا مُجھے تھوڑا سا پانی کسی برتن میں لادے کہ میں پیوں۔
11 اور جب وہ لینے چلی تو اُس نے پُکار کر کہا ذرا اپنے ہاتھ میں ایک ٹکڑا روٹی میرے واسطے لیتی آنا ۔
12 اُس نے کہا خُداوند تیرے خُدا کی حیات کی قسم میر ے ہاں روٹی نہیں ۔ صرف مُٹھی بھر آٹا ایک مٹکے میں اور تھوڑا سا تیل ایک کُپی میں ہے اور دیکھ میں دو ایک لکڑیاں چُن رہی ہوں تاکہ گھر جا کر اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے اُسے پُکاوں اور ہم اُسے کھائیں ۔ اور پھر مر جائیں ۔
13 اور ایلیاہ نے اُس سے کہا مت ڈر ۔ جا اور جیسا کہتی ہے کر پر پہلے میرے لیے ایک ٹکیا اُس میں سے بنا کر میرے پاس لے آ۔ اُسکے بعد اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے بنا لینا ۔
14 کیونکہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے کہ اُس دن تک جب تک خُداوند زمین پر مینہ نہ برسائ نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہو گا اور نہ تیل کی کُپی میں کمی ہو گی ۔
15 سو اُس نے جا کر ایلیاہ کے کہنے کے مطابق کیا اور یہ اور وہ اور اُسکا کنبہ بہت دنوں تک کھاتے رہے ۔
16 اور خُداوند کے کلام کے مطابق جو اُس نے ایلیاہ کی معرفت فرمایا تھا نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہُوا اور نہ تیل کی کُپی میں کمی ہوئی ۔
17 اَن باتوں کے بعد اُس عورت کا بیٹا جو اُس گھر کی مالک تھی بیمار پڑا اور اُسکی بیماری ایسی سخت ہو گئی کہ اُس میں دم باقی نہ رہا ۔
18 سو وہ ایلیاہ سے کہنے لگی اے مردِ خُدا مُجھے تُجھ سے کیا کام ؟ تُو میرے بیٹے کو مار دے ! ۔
19 اُس نے اُس سے کہا اپنا بیٹا مجھ کو دے اور وہ اُسے اُسکی گود سے لیکر اُسکو بالا خانہ پر جہاں وہ رہتا تھا لے گیا اور اُسے اپنے پلنگ پر لٹایا ۔
20 اور اُس نے خُداوند سے فریا د کی اور کہا اے خُداوند میرے خُدا کیا تُو نے اِس بیوہ پر بھی جسکے ہاں میں ٹکِا ہوا ہوں اُسکے بیٹے کو مار ڈالنے سے بلا نازل کی ؟
21 اور اُس نے اپنے آپ کو تین بار اُس لڑکے پر پسار کر خُداوند سے فریاد کی اور کہا اے خُداوند میرے خُدا میں تیری منت کرتا ہوں کہ اِس لڑکے کی جان اِس میںپھر آجائے ۔
22 اور خُداوند نے ایلیاہ کی فریاد سُنی اور لڑکے کی جان اُس میں پھر آگئی اور وہ جی اُٹھا ۔
23 تب ایلیاہ اُس لڑکے کو اُٹھا کر بالا خانہ پر ے نیچے گھر کے اندر لے گیا اور اُسے اُسکی ماں کے سپرد کیا اور ایلیاہ نے کہا دیکھ تیرا بیٹا جیتا ہے ۔
24 تب اُس عورت نے ایلیاہ سے کہا اب میں جان گئی کہ تُو مردِ خُدا ہے اور خُداوند کا جو کلام تیرے منہ میں ہے وہ حق ہے ۔



باب 18

1 اور بہت دنوں کے بعد ایسا ہُوا کہ خُداوند کا یہ کلام تیسرے سال ایلیاہ پر نازل ہوا کہ جا کر اخی اب سے مِل اور مَیں زمین پر مینہ برساونگا ۔
2 سو ایلیاہ اخی اب سے ملنے کو چلا اور سامریہ میں سخت کال تھا ۔
3 اور اخی اب نے عبدیاہ کو جو اُس کے گھر کا دیوان تھا طلب کیا اور عبدیاہ خُداوند سے بہت ڈرتا تھا۔
4 کیونکہ جب ایزبل نے خداوند کے نبیوں کو قتل کیا تو عبدیاہ نے سو نبیوں کو لیکر پچاس پچاس کر کے اُنکو ایک غار میں چھپا دیا اور روٹی اور پانی سے اُنکو پالتا رہا ۔
5 سو اخی اب نے عبدیاہ سے کہا مُلک میں گشت کرتا ہوا پانی کے سب چشموں اور سب نالوں پر جا شاید ہم کو کہیں گھاس مِل جائے جس سے ہم گھوڑوں اور خچروں کو جیتا بچا لیں تاکہ ہمارے سب چوپائے ضائع نہ ہوں ۔
6 سو اُنہوں نے اُس پورے مُلک میں گشت کرنے کے لیے اُسے آپس میں تقسیم کر لیا ۔ اخی اب اکیلا ایک طرف چلا اور عبدیاہ اکیلا دوسری طرف گیا ۔
7 اور عبدیاہ راستہ ہی میں تھا کہ ایلیاہ اُسے مِلا ۔ وہ اُسے پہچان کر منہ کے بل گِرا اور کہنے لگا اے میرے مالک ایلیاہ کیا تُو ہے؟
8 اُس نے اُسے جواب دیا میں ہی ہوں ۔ جا اپنے مالک کو بتا دے کہ ایلیاہ حاضر ہے ۔
9 اُس نے کہا مُجھ سے کیا گناہ ہوا ہے جو تُو اپنے خاد م کو اخی اب کے ہاتھ میں حوالہ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ مجھے قتل کرے ؟
10 خداوند تیرے خُدا کی حیات کی قسم کہ ایسی کوئی قوم یا سلطنت نہیں جہاں میرے مالک نے تیری تلاش کے لیے نہ بھیجا ہو اور جب اُنہوں نے کہا کہ وہ یہاں نہیں تو اُس نے اُس سلطنت اور قوم سے قسم لی کہ تُو اُنکو نہیں مِلا ہے۔
11 اور اب تُو کہتا ہے کہ جا کر اپنے مالک کو خبر کر دے کہ ایلیاہ حاضر ہے۔
12 اور ایسا ہو گا کہ جب میں تیرے پاس سے چلا جاوں گا تو خُداوند کی روح تُجھ کو نہ جانے کہاں لے جائے اور میں جا کر اخی اب کو خبر دوں اور تُو اُسکو کہیں مِل نہ سکے تو وہ مجھ کو قتل کر دے گا لیکن َیں تیرا خادم لڑکپن سے خداوند سے ڈرتا رہا ہوں ۔
13 کیا میرے مالک کو جو کچھ میں نے کیا ہے نہیں بتایا گیا کہ جب ایزبل نے خُداوند کے نبیوں کو قتل کیا تو میں نے خُداوند کے نبیوں میں سے سو آدمیوں کو لیکر پچاس پچاس کر کے اُنکو ایک غار میں چھپایا او ر اُنکو روٹی اور پانی سے پالتا رہا ؟
14 اور اب تُو کہتا ہے کہ جا کر اپنے مالک کو خبر دے کہ ایلیاہ حاضر ہے ۔ سو وہ تو مجھے مار ڈالے گا ۔
15 تب ایلیاہ نے کہا رب الافواج کی حیات کی قسم جس کے سامنے میں کھڑا ہوں ۔ میں آج اُس سے ضرور مِلونگا ۔
16 سو عبدیاہ اخی اب سے ملنے کو گیا اور اُسے خبر دی اور اخی اب ایلیاہ کی مُلاقات کو چلا ۔
17 اور جب اخی اب نے ایلیاہ کو دیکھا تو اُس نے اُس سے کہا اے اسرائیل کے ستانے والے کیا تُو ہی ہے ؟
18 اُس نے جواب دیا میں نے اسرائیل کو نہیں ستایا بلکہ تُو اور تیرے باپ کے گھرانے نے کیونکہ تُم نے خُداوند کے حکموں کو ترک کیا اور تُو بعلیم کا پرو ہو گیا ۔
19 اِس لیے اب تُو قاصد بھیج اور سارے اسرائیل کو اور بعل کے ساڑھے چار سو نبیوں کو اور یسیرت کے چار سو نبیوں کو جو ایزبل کے دسترخوان پر کھاتے ہیں کوہِ کرمل پر میرے پاس اکٹھا کر دے ۔
20 سو اخی اب نے سب بنی اسرائیل کو بُلا بھیجا اور نبیوں کو کوہِ کرمل پر اکٹھا کیا ۔
21 اور ایلیاہ سب لوگوں کے نزدیک آکر کہنے لگا تُم کب تک دو خیالوں میں ڈانواڈول رہو گے ؟ اگر خُداوند ہی خُدا ہے تو اُسکے پیرو ہو جاو اور اگر بعل ہے تو اُسکی پیروی کرو ۔ پر اُن لوگوں نے اُسے ایک حرف جواب نہ دیا ۔
22 تب ایلیاہ نے اُن لوگوں سے کہا ایک میں ہی اکیلا خُداون کا نبی بچ رہا ہوں ہر بعل کے نبی چار سو پچاس آدمی ہیں ۔
23 سو ہم کو دو بیل دیے جائیں اور وہ اپنے لیے ایک بیل چُن لیں اور اُسے ٹکڑے ٹکڑے کاٹکر لکڑیوں پر دھریں اور نیچے آگ نہ دیں اور میں دوسرا بیل تیار کر کے اُسے لکڑیوں پر دھرونگا اور نیچے آگ نہیں دونگا ۔
24 تب تُم اپنے دیوتا سے دعا کرنا اور میں خداوند سے دعا کرونگا اور وہ خدا جو آگ سے جواب دے رہی خدا ٹھہرے اور سب لوگ بول اُٹھے خوب کہا !۔
25 سو ایلیاہ نے بعل کے نبیوں سے کہا کہ تُم اپنے لیے ایک بیل چُن لو اور پہلے اُسے تار کرو کیونکہ تُم بہت سے ہو اور اپنے دیوتا سے دعا کرو لیکن نیچے آگ نہ دینا ۔
26 سو اُنہوں نے اُس بیل کو لیکر جو اُنکو دیا گیا اُسے تیار کیا اور صبح سے دوپہر تک بعل سے دعا کرتے اور کہتے رہے اے بعل ہماری سُن پر نہ کچھ آواز ہوئی اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا اور وہ اُس مذبح کے گرد جو بنایا گیا تھا کُودتے رہے ۔
27 اور دوپہر کو ایسا ہوا کہ ایلیاہ نے اُنکو چڑا کر کہا بُلند آواز سے پُکارو کیونکہ وہ تو دیوتا ہے ۔ وہ کسی سوچ میں ہو گا یا وہ خلوت میں ہے یا کہیں سفر میں ہو گا یا شاید وہ سوتا ہے ۔ سو ضرور ہے کہ وہ جگایا جائے۔
28 تب وہ بُلند آواز سے پُکارنے لگے اور اپنے دستور کے مطابق اپنے آپ کو چھُریوں اور نشتروں سے گھایل کر لیا یہاں تک کہ لہو لہان ہو گئے ۔
29 وہ دوپہر ڈھلے پر بھی شام کی قُربانی چڑھا کر نبوت کرتے رہے پر نہ کچھ آٓواز ہوئی نہ کوئی جواب دینے والا نہ توجہ کرنے والا تھا ۔
30 تب ایلیاہ نے سب لوگوں سے کہا کہ میرے نزدک آجاو چنانچہ سب لوگ اُس کے نزدیک آ گئے ۔ تب اُس نے خُداوند کے اُس مذبح کو جو ڈھا دیا گیا تھا مرمت کیا ۔
31 اور ایلیاہ نے یعقوب کے بیٹوں کے قبیلوں کے شمار کے مطابق جس پر خُداوند کا یہ کلام نازل ہوا تھا کہ تیرا نام اسرائیل ہو گا بارہ پتھر لیے ۔
32 اور اُس نے اُن پتھروں سے خُداوند کے نام کا ایک مذبح بنایا اور مذبح کے اردگرد اُس نے ایسی بڑی کھائی کھودی جس میں دو پیمانے بیج کی سمائی تھی ۔
33 اور لکڑیوں کو قرینہ سے چُنا اور بیل کے ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر لکڑیوں پر دھر دیا اور کہا چار مٹکے پانی ے بھر کر اُس سوختنی قُربانی پر اور لکڑیوں پر انڈیل دو۔
34 پھر اُس نے کہا دوبارہ کرو ۔ اُنہوں نے دوبارہ کیا ۔ پھر اُس نے کا سہ بارہ کرو۔ سو اُنہوں نے سہ بارہ بھی کیا ۔
35 اور پانی مذبح کے گردا گرد بہنے لگا اور اُس نے کھائی بھی پانی سے بھروا دی ۔
36 اور شام کی قُربانی چڑھانے کے وقت ایلیاہ نبی نزدیک آیا اور اُس نے کہا اے خداوند ابراہام اور اضحاق اور اسرائیل کے خُدا ! آج معلوم ہو جائے کہ اسرائیل میں تُو ہی خُدا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اِن سب باتوں کو تیرے ہی حکم سے کیا ہے۔
37 میری سُن اے خُداوند میری سُن تاکہ یہ لوگ جان جائیں کہ اے خُداوند تُو ہی خدا ہے اور تُو نے پھر اُنکے دلوں کو پھیر دیا ہے ۔
38 تب خُداوند کی آگ نازل ہوئی اور اُس نے اُس سوختنی قُربانی کو لکڑیوں اور پتھروں اور مٹی سمیت بھسم کر دیا اور اُس پانی کو جو کھائی میں تھا چاٹ لیا ۔
39 جب سب لوگوں نے یہ دیکھا تو منہ کے بل گرے اور کہنے لگے خُداوند وہی خدا ہے ! خُداوند وہی خُدا ہے !۔
40 ایلیاہ نے اُن سے کہا بعل کے نبیوں کو پکڑ لو۔ اُن میں سے ایک بھی جانے نہ پائے ۔ سو اُنہوں نے اُنکو پکڑ لیا اور ایلیاہ اُنکو نیچے قسیون کے نالہ پر لے آیا اور وہاں اُنکو قتل کر دیا ۔
41 پھر ایلیاہ نے اخی اب سے کہا اوپر چڑھ جا ۔ کھا اور پی کیونکہ کثرت کی بارش کی آواز ہے ۔
42 سو اخی اب کھانے پینے کو اوپر چلا گیا اور ایلیاہ کرمل کی چوٹی پر چڑھ گیا اور زمین پر سرنگون ہو کر اپنا منہ اپنے گھٹنوں کے بیچ کر لیا ۔
43 اور اپنے خادم سے کہا ذرا اوپر جا کر سمندر کی طرف تو نظر کر ۔ سو اُس نے اوپر جا کر نظر کی اور کہاں وہاں کچھ بھی نہیں ہے ۔ اُس نے کہا پھر سات بار جا ۔
44 اور ساتویں مرتبہ اُس نے کہا دیکھ ایک چھوٹا سا بادل آدمی کے ہاتھ کے برابر سمندر میں سے اُٹھا ہے ۔ تب اُس نے کہا جا اور اخی اب سے کہہ کہ اپنا رتھ تیار کرا کے نیچے اُتر جا تاکہ بارش تُجھے روک نہ لے۔
45 اور تھوڑی ہی دیر میں آسمان گھٹا اور آندھی سے سیاہ ہو گیا اور بڑی بارش ہوئی اور اخی اب سوار ہو کر یزرعیل کو چلا ۔
46 اور خُداوند کا ہاتھ ایلیاہ پر تھا اور اُس نے اپنی کمر کس لی اور اخی اب کے آگے آگے یزرعیل کے مدخل تک دوڑا چلا گیا ۔



باب 19

1 اور اخی اب نے سب کچھ جو ایلیاہ نے کیا تھا اور یہ بھی کہ اُس نے سب نبوں کو تلوار سے قتل کر دیا ایزبل کو بتایا۔
2 سو ایزبل نے ایلیاہ کے پاس ایک قاصد روانہ کیا اور کہلا بھیجا کہ اگر میں کل اِس وقت تک تیری جان اُنکی جان کی طرح نہ بنا ڈالوں تو دیوتا مُجھ سے ایسا ہی بلکہ اِ سے زیادہ کریں ۔
3 جب اُس نے یہ دیکھا تو اُٹھ کر اپنی جان بچانے کو بھاگا اور بیر سبع میں جو یہوداہ کا ہے آیا اور اپنے خادم کو وہیں چھوڑا ۔
4 اور خُود ایک دن کی منزل دشت میں نکل گیا اور جھاو کے ایک پیڑ کے نیچے آکر بیٹھا اور اپنے لیے موت مانگی اور کہا بس ہے ۔ اب تو اے خُداوند میری جان کو لے لے کیونکہ مَیں اپنے باپ دادا سے بہتر نہیں ہوں ۔
5 اور وہ جھاو کے ایک پیڑ کے نیچے لیٹا اور سو گیا اورد یکھو ! ایک فرشتہ نے اُسے چھوا اور اُس سے کہا اُٹھ اور کھا ۔
6 اُس نے جو نگاہ کی تو کیا دیکھا کہ اُس کے سرہانے انگاروں پر پکی ہوئی ایک روٹی اور پانی کی ایک صراحی دھری ہے ۔ سو وہ کھا پی کر پھر لیٹ گیا ۔
7 اور خُداوند کے فرشتہ دوبارل پھر آیا اور اُسے چھوا اور کہا اُٹھ اور کھا کہ یہ سفر تیرے لیے بہت بڑا ہے ۔
8 سو اُس نے اُتھ کر کھایا پیا اور اُس کھانے کی قوت سے چالیس دن اور چالیس رات چل کر خُدا کے پہاڑ حورب تک گیا ۔
9 اور وہاں ایک غار میں جا کر ٹک گیا اور دیکھو خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا کہ اے ایلیاہ ! تُو یہاں کیا کرتا ہے ؟
10 اُس نے کہا خُداوند لشکروں کے خُدا کے لیے مجھے بڑی غیرت آئی کیونکہ بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو کرت کیا اور تیرت مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں ۔ سو وہ میری جان لینے کے در پے ہیں ۔
11 اُس نے کہا باہر نکل اور پہاڑ پر خُداوند کے حضور کھڑا ہو اور دیکھو خُداوند گذرا اور ایک بڑی تُند آندھی نے خُداوند کے آگے پہاڑوں کو چیر ڈالا اور چٹانوں کے ٹکڑے کر دیے پر خُداوند آندھی میں نہیں تھا اور آندھی کے بعد زلزلہ آیا پر خداوند زلزلہ میں نہیں تھا ۔
12 اور زلزلہ کے بعد آ گ آئی پر خُداوند آگ میں بھی نہیں تھا اور آگ کے بعد ایک دبی ہوئی ہلکی آواز آئی۔
13 اُسکو سُن کر سیلیاہ نے اپنا منہ اپنی چادر سے لپیٹ لیا اور باہر نکل کر اُس غار کے منہ پر کھڑا ہوا اور دیکھو اُسے یہ آواز آئی کہ اے ایلیاہ تُو یہاں کیا کرتا ہے ؟
14 اُس نے کہا مُجھے خُداوند لشکروں کے خُدا کے لیے بڑی غیرت آئی کیونکہ بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا ۔ ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں ۔ سو وہ میری جان لینے کے در پے ہیں ۔
15 خُداوند نے اُسے فرمایا تُو اپنے راستہ لَوٹ کر دمشق کے بیابان کو جا اور جب تُو وہاں پہنچے تو تُو حزائیل کو مسح کر کہ ارام کا بادشاہ ہو ۔
16 اور نمسی کے بیٹے یا ہو کو مسح کر کہ اسرائیل کا بادشاہ ہو اور ابیل محولہ کے الیشع قتل کر ڈالے گا ۔
17
18 تو بھی میں اسرائیل میں سات ہزار اپنے لیے رکھ چھوڑونگا یعنی وہ سب گھُٹنے جو بعل کے آگے نہیں جھُکے اور ہر ایک منہ جس نے اُسے نہیں چُوما۔
19 سو وہ وہاں سے روانہ ہوا اور سافط کا بیٹا الیشع اُسے مِلا جو بارہ جوڑی بیل اپنے آگے لیے ہوئے رہا تھا اور وہ خود بارھویں کے ساتھ تھا اور ایلیاہ اُسکے برابر سے گذرا اور اپنی چادر اُس پر ڈال دی ۔
20 سو وہ بیلوں کو چھوڑ کر ایلیاہ کے پیچھے دوڑا اور کہنے لگا مُجھے اپنے باپ اور اپنی ماں کو چوم لینے دے پھر میں تیرے پیچھے ہو لونگا ۔ اُس نے اُس سے کہا کہ لوٹ جا ۔ میں نے تُجھ سے کیاکِیا ہے ؟
21 تب وہ اُسکے پیچھے سے لوٹ گیا اور اُس نے اُس جوڑی بیل کو لیکر ذبح کیا اور اُن ہی بیلوں کے سامان سے اُنکا گوشت اُبالا اور لوگوں کو دیا اور اُنہوں نے کھایا ۔ تب وہ اُٹھا اور ایلیاہ کے پیچھے روانہ ہوا اور اُسکی خدمت کرنے لگا ۔



باب 20

1 1۔ اور ارام کے بادشاہ بن ہدد نے اپنے سارے لشکر کو اکٹھا کیا اور اُسکے ساتھ بقیس بادشاہ اور گھوڑے اور رتھ تھے اور اُس نے سامریہ پر چڑھائی کر کے اُسکا محاصرہ کیا اور اُس سے لڑا۔
2 اور اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کے پاس شہر میں قاصد روانہ کیے اور اُسے کہلا بھیجا کہ بن ہدد یوں فرماتا ہے کہ ۔
3 تیری چاندی اور تیرا سونا میرا ہے ۔ تیری بیویوں اور تیرے لڑکوں میں جو سب سے خوبصورت ہیں وہ میرے ہیں ۔
4 اسرائیل کے بادشاہ نے جواب دیا اے میرے مالک بادشاہ ! تیرے کہنے کے مطابق میں اور جو کچھ میرے پاس ہے سب تیرا ہی ہے ۔
5 پھراُن قاصدوں نے دوبارہ آکر کہا کہ بن ہدد یوں فرماتا ہے کہ میں نے تُجھے کہلا بھیجا تھا کہ تُو اپنی چاندی اور سونا اور اپنی بیویاں اور اپنے لڑکے میرے حوالے کر دے ۔
6 لیکن اب میں کل اِسی وقت اپنے خادموں کو تیرے پاس بھیجوں گا ۔ سو وہ تیرے گھر اور تیرے خادموں کے گھروں کی تلاشی لیں گے اور جو کچھ تیری نگاہ میں نفیس ہو گا وہ اُسے اپنے قبضہ میں کر لے آئیں گے ۔
7 تب اسرائیل کے بادشاہ نے مُلک کے سب بزرگوں کو بُلا کر کہا ذرا غور کرو اور دیکھو کہ یہ شخص کس طرح شرارت کے در پے ہے کیونکہ اُس نے میری بیویاں اور میرے لڑکے اور میری چاندی اور میرا سونا مجھ سے منگا بھیجا اور میںنے اُس سے انکار نہیں کیا ۔
8 تب سب بزرگوں اور سب لوگوں نے اُس سے کہا تُو مت سُن اور مت مان ۔
9 پس اُس نے بن ہدد کے قاصدوں سے کہا میرے مالک بادشاہ سے کہنا ھو کچھ تُو نے اپنے خادم سے پہلے طلب کیا وہ تو میں کرونگا پر یہ بات مُجھ سے نہیں ہو سکتی ۔ سو قاصد روانہ ہوئے اور اُسے یہ جواب سُنا دیا ۔
10 تب بن ہدد نے اُسکو کہلا بھیجا کہ اگر سامریہ کی مٹی اُن سب لوگوں کے لیے جو میرے پیرو ہیں مُٹھیاں بھرنے کو بھی کافی ہو تو دیوتا مجھ سے ایسا ہی بلکہ اِس سے بھی زیادہ کریں !۔
11 شاہِ اسرائیل نے جواب دیا تُم اُس سے کہناکہ جو ہتھیار باندھتا ہے وہ اُسکی مانند فخر نہ کرے جو اُسے اُتارتا ہے ۔
12 جب بن ہدد نے جو بادشاہوں کے ساتھ سایبانوں میں مَے نوشی کر رہا تھا یہ پیغام سُنا تو اپنے مُلازموں کو حکم کیا کہ صف باندھ لو۔ سو اُنہوں نے شہر پر چڑھائی کرنے کے لیے صف آرائی کی ۔
13 اور دیکھو ایک نبی نے شاہِ اسرائیل اخی اب کے پاس آکر کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ کیا تُو نے اِس بڑے ہجوم کو دیکھ لیا ؟ میں آج ہی اُسے تیرے ہاتھ میں کر دونگا اور تُو جان لے گا کہ خُداوند میں ہی ہوں ۔
14 اُس نے کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ صوبوں کے سرداروں کے جوانوں کے وسیلہ سے ۔ پھر اُس نے پوچھا کہ لڑائی کون شروع کرے ؟ اُس نے جواب دیا کہ تُو ۔
15 تب اُس نے صوبوں کے سرداروں کے جوانوں کوشمار کیا اور وہ دو سو بتیس نکلے ۔ اُنکے بعد اُس نے سب لوگوں یعنی سب بنی اسرائیل کی موجودات لی اور وہ سات ہزار تھے۔
16 یہ سب دوپہر کو نکلے اور بن ہدد اور بتیس باداہ جو اُسکے مددگار تھے سایبانوں میں پی پی کر مست ہوتے جاتے تھے ۔
17 سو صوبوں کے سرداروں کے جوا ن پہلے نکلے اور بن ہدد نے آدمی بھیجے اور اُنہوں نے اُسے خبر دی کہ سامریہ سے لوگ نکلے ہیں۔
18 اُس نے کہااگر وہ صلح کے لیے نکلے ہوں تو اُن کو جیتا پکڑ لو اور اگر وہ جنگ کو نکلے ہوں تو بھی اُنکو جیتا پکڑو ۔
19 تب صوبوں کے سرداروں کے جوان اور وہ لشکر جو اُنکے پیچھے ہو لیا تھا شہر سے باہر نکلے ۔
20 اور اُن میں سے ایک ایک نے اپنے مُخالف کو قتل کیا ۔ سو ارامی بھاگے اور اسرائیل نے اُنکا پیچھا کیا اور شاہِ اِرام بن ہدد ایک گھوڑے پر سوار ہو کر سواروں کے ساتھ بھاگ کر بچ گیا ۔
21 اور شاہِ اسرائیل نے نکل کر گھوڑوں اور رتھوں کو مارا اور ارامیوں کو بڑی خونریزی کے ساتھ قتل کیا ۔
22 اور وہ نبی شاہِ اسرائیل کے پاس آیا اور اُس سے کہا جا اپنے کو مضبوط کر اور جو کچھ تو کرے اُسے غورسے دیکھ لینا کیونکہ اگلے سال شاہِ ارام پھر تُجھ پر چڑھائی کرے گا۔
23 اور شاہِ ارا م کے خادموں نے اُس سے کہا اُنکا خُدا پہاڑی خُدا ہے اِس لیے وہ ہم پر غالب آئے لیکن ہم کو اُنکے ساتھ میدان میں لڑنے دے تو ضرور ہم اُن پر غالب ہونگے ۔
24 اور ایک کام یہ کر کہ بادشاہوں کو ہٹا دے یعنی ہر ایک کو اُسکے عہدہ سے معزول کر دے اور اُنکی جگہ سرداروں کو مقرر کر ۔
25 اور اپنے لیے ایک لشکر اپنی اُس فوج کی طرح جو تباہ ہو گئی گھوڑے کی جگہ گھوڑا اور رتھ کی جگہ رتھ گِن گِن کر تیار کر لے اور ہم میدان میں اُن سے لڑیںگے اور ضرور اُن پر غالب ہونگے۔ سو اُس نے اُنکا کہا مانا اور ایسا ہی کیا ۔
26 اور اگلے سال بن ہدد نے ارامیوں کی موجودات لی اور اسرائیل سے لڑنے کے لیے افیق کو گیا ۔
27 اور بنی اسرائیل کی موجودات بھی لی گئی اور اُنکی رسد کا انتظام کیا گیا اور یہ اُن سے لڑنے کو گئے اور بنی اسرائیل اُنکے برابر خیمہ زن ہو کر ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے حلوانوں کے دو چھوٹے دیوڑ پر ارامیوں سے وہ مُلک بھر گیا تھا ۔
28 تب ایک مردِ خدا اسرائیل کے بادشاہ کے پاس آیا اور اُس سے کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ چونکہ ارامیوں نے یوں کہا ہے کہ خداوند پہاڑی خُدا ہے اور وادیوں کا خُدا نہیں اِس لیے میں اِس سارے بڑے ہجوم کو تیرے ہاتھ میں کر دونگا اور تُم جان لو گے کہ میں خداوند ہوں ۔
29 اور وہ ایک دوسرے کے مقابل سات دن تک خیمہ زن رہے اور ساتویں دن جنگ چھڑ گئی اور بنی اسرائیل نے ایک دن میں ارامیوں کے ایک لاکھ پیادے قتل کر دیے ۔
30 اور باقی افیق کو شہر کے اندر بھاگ گئے اور وہاں ایک دیوار ستائیس ہزار پر جو باقی رہے تھے گِری اور بن ہدد بھاگ کر شہر کے اندر ایک اندرونی کوٹھری میں گھُس گیا ۔
31 اور اُسکے خادموں نے اُس سے کہا دیکھ ہم نے سُنا ہے کہ اسرائیل ے گھرانے کے بادشاہ رحیم ہوتے ہیں ۔ سو ہم کو ذرا اپنی کمروں پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسیاں باندھ کر شاہِ اسرائیل کے حضور جانے دے ۔ شاید وہ تیری جان بخشی کرے۔
32 سو اُنہوں نے اپنی کمروں پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسیاں باندھیں اور شاہِ اسرائیل کے حضور آکر کہا کہ تیرا خادم بن ہدد یوں عرض کرتا ہے کہ مہربانی کر کے مجھے جینے دے ۔ اُس نے کہا کیا وہ اب تک جیتا ہے ؟ وہ میرا بھائی ہے ۔
33 وہ لوگ بڑی توجہ سے سُن رہے تھے ۔ سو اُنہوں نے اُسکا دلی منشا دریافت کرنے کے لیے جھٹ اُس سے کہا کہ تبھائی بن ہدد ۔ تب اُس نے فرمایا کہ جاو اُسے لے آو ۔ تب بن ہدد اُس سے ملنے کو نکلا اور اُس نے اُسے اپنے رتھ پر چڑھا لیا ۔
34 اور بن ہدد نے اُس سے کہا جن شہروں کو میرے باپ نے تیرے باپ سے لے لیا تھا میں اُنکو پھیر دونگا اور تُو اپنے لیے دمشق میں سڑکیں بنوا لینا جیسے میرے باپ نے سامریہ میں بنوائیں ۔ اخی اب نے کہا میں اِسی عہد پر تُجھے چھوڑ دونگا ۔ سو اُس نے اُس سے عہد باندھا اور اُسے چھوڑ دیا ۔
35 سو انبیا زادوں میں سے ایک نے خُداوند کے حکم سے اپنے ساتھی سے کہا مُجھے مار پر اُس نے اُسے مارنے سے انکار کیا ۔
36 تب اُس نے اُس سے کہا اِس لیے کہ تُو نے خداوند کی بات نہیں مانی سو دیکھ جیسے ہی تو میرے پاس سے روانہ ہو گا ایک شیر تُجھے مار ڈالے گا ۔ سو جیسے ہی وہ اُس کے پاس سے روانہ ہوا اُسے ایک شیر مِلا اور اُسے مار ڈالا ۔
37 پھر اُسے ایک اور شخص مِلا ۔ اُس نے اُس سے کہا مجھے مار ۔ اُس نے اُسے مارا اور مار کر زخمی کر دیا ۔
38 تب وہ نبی چلا گیا اور بادشاہ کے انتظار میں راستہ پر ٹھہرا رہا اور اپنی آنکھوں پر اپنی پگڑی لپیٹ لی اور اپنا بھیس بدل ڈالا۔
39 جیسے ہی بادشاہ اُدھر سے گُذرا اُس نے بادشاہ سے دُہائی دی اور کہا کہ تیرا خادم جنگ ہوتے میں وہاں چلا گیا تھا اور دیکھ ایک شخص اُدھر مُڑ کر ایک آدمی کو میرے پاس لے آیا اور کہا کہ اِ س آدمی کی حفاظت کر ۔ اگر یہ کسی طرح غائب ہو جائے تو اُسکی جان کے بدلے تیری جان جائے گی اور نہیں تو تُجھے ایک قنطا ر چاندی دینی پڑے گی۔
40 جب تیرا خادم اِدھر اُدھر مصروف تھا وہ چلتا بنا شاہِ اسرائیل نے اُس سے کہا تُجھ پر ویسا ہی فتویٰ ہو گا تُو نے آپ اِس کا فیصلہ کیا ۔
41 تب اُس نے جھٹ اپنی آنکھوں پر سے پگڑی ہٹا دی اور شاہِ اسرائیل نے اُسے پہچانا کہ وہ نبیوں میں سے ہے۔
42 اور اُس نے اُس سے کہا خداوند یوں فرماتا ہے اِس لیے کہ تُو نے اپنے ہاتھ سے ایک ایسے شخص کو نکل جانے دیا جسے میں نے واجب القتل ٹھہرایا تھا ، سو تُجھے اُس کی جان کے بدلے اپنی جان اور اُس کے لوگوں کے بدلے اپنے لوگ دینے پڑیں گے ۔
43 سو شاہِ اسرائیل اُداس اور نا خوش ہو کر اپنے گھر کو چلا اور سامریہ میں آٰیا ۔


باب 21

1 ۔ اِن باتوں کے بعد ایسا ہوا کہ یزرعیلی نبوت کے پاس یزرعیل میں ایک تاکستان تھا جو سامریہ کے بادشاہ اخی اب کے محل سے لگا ہوا تھا ۔
2 سو اخی اب نے نبوت سے کہا کہ اپنا تاکستان مجھ کو دے دے تاکہ میں اُسے ترکاری کا باغ بناوں کیونکہ وہ میرے گھر سے لگا ہوا ہے اور میں اُس کے بدلے تُجھ کو اُس سے بہتر تاکستان دونگا یا اگر تُجھے مناسب معلوم ہو تو میں تُجھ کو اُس کی قیمت نقد دے دونگا ۔
3 نبوت نے اخی اب سے کہا خداوند مجھ سے ایسا نہ کرایے کہ میں تُجھ کو اپنے باپ دادا کی میراث دے دوں ۔
4 او ر اخی اب اُس بات کے سبب سے جو یزرعیلی نبوت نے اُس سے کہی اداس اور ناخوش ہو کر اپنے گھر میں آیا کیونکہ اُس نے کہا تھا میں تُجھ کو اپنے باپ دادا کی میراث نہیں دونگا سو اُس نے اپنے بستر پر لیٹ کر اپنا منہ پھیر لیا اور کھانا چھوڑ دیا ۔
5 تب اُس کی بیوی ایزبل اُس کے پاس آکر اُس سے کہنے لگی تیرا جی ایسا کیوں اداس ہے کہ تُو روٹی نہیں کھاتا ۔
6 اُس نے اُس سے کہا اِس لیے کہ میں نے یزرعیلی نبوت سے بات چیت کی اور اُس سے کہا کہ تُو اپنا تاکستان قیمت لے کر مجھے دے دے یا اگر تو چاہے تو میں اُس کےبدلے دوسرا تاکستان تُجھے دے دونگا ، لیکن اُس نے جواب دیا میں تُجھ کو اپنا تاکستان نہیں دونگا۔
7 اُس کی بیوی ایزبل نے اُس سے کہا اسرائیل کی بادشاہی پر یہی تیری حکومت ہے ؟ اُٹھ روٹی کھا اور اپنا دل بہلا یزرعیلی نبوت کا تاکستان میں تُجھ کو دونگی ۔
8 سو اُس نے اخی اب کے نام سے خط لکھے اور اُن پر اُس کی مہر لگائی اور اُن کو اُن بزرگوں اور امیروں کے پاس جو نبوت کے شہر میں تھے اور اُسی کے پڑوس میں رہتے تھے بھیج دیا ۔
9 اُس نے اُن خطوں میں یہ لکھا کہ روزہ کی منادی کرا کے نبوت کو لوگوں میں اونچی جگہ پر بیٹھا ۔
10 "> اور دو آدمیوں کو جو شریر ہوں اُس کے سامنے کر دو کہ وہ اُس کے خلاف یہ گواہی دیں کہ تُو نے خدا پر اور بادشاہ پر لعنت کی پھر اُسے باہر لیجا کر سنگسار کرے تاکہ وہ مر جائے ۔
11 "> چنانچہ اُس کے شہر کے لوگوں یعنی بزرگوں اور امیروں نے جو اُس ک شہر میں رہتے تھے جیسا ایزبل نے اُن کو کہلا بھیجا ویسا ہی اُن خطوط کے مضمون کے مطابق جو اُس نے اُن کو بھیجے تھے کیا۔
12 اُنہوں نے روزہ کی منادی کرا کے نبوت کو لوگوں کے بیچ اونچی جگہ پر بٹھایا ۔
13 اور وہ دونوں آدمی جو شریر تھے آکر اُس کے آگے بیٹھ گئے اور اُن شریروں نے لوگوں کے سامنے اُس کے یعنی نبوت کے خلاف یہ گواہی دی کہ نبوت نےخدا پر اور بادشاہ پر لعنت کی ہے ۔ تب وہ اُسے شہر سے باہر نکال لے گئے اور اُس کو ایسا سنگسار کیا کہ وہ مر گیا ۔
14 پھر اُنہوں نے ایزبل کو کہلا بھیجا کہ نبوت سنگسار کر دیا گیا اور مر گیا ۔
15 جب ایزبل نے سُنا کہ نبوت سنگسار کر دیا گیااور مر گیا تو اُس نے اخی اب سے کہا اُٹھ اور یزرعیلی نبوت کے تاکستان پر قبضہ کر جسے اُس نے قیمت پر بھی تُجھے دینے سے انکار کیا ۔ کیونکہ نبوت جیتا نہیں بلکہ مر گیا ہے ۔
16 جب اخی اب نے سنا کہ نبوت مر گیا ہے تو اخی اب اُٹھا تاکہ یزرعیلی نبوت کے تاکستان کو جا کر اُس پر قبضہ کرے ۔
17 اور خُداوند کا یہ کلام ایلیاہ تشبی پر نازل ہوا کہ ۔
18 اُٹھ اور شاہِ اسرائیل اخی اب سے جو سامریہ میں رہتا ہے مِلنے کو جا ۔ دیکھ وہ نبوت کے تاکستان میں ہے اور اُس پر قبضہ کرنے کو وہاں گیا ہے ۔
19 سو تُو اُس سے یہ کہنا کہ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ کیا تُو نے جان بھی لی اور قبضہ بھی کر لیا ؟ سو تُو اُس سے یہ کہنا کہ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ اُسی جگہ کُتوں نے نبوت کا لہو چاٹا کُتے تیرے لہو کو بھی چاٹیں گے ۔
20 اور اخی اب نے ایلیاہ سے کہا اے میرے دُشمن کیا میں تُجھے مِل گیا ؟ اُس نے جواب دیا کہ تُو مُجھے مِل گیا اِس لیے کہ تُو نے خُداوند کے حضور بدی کرنے کے لیے اپنے آپ کو بیچ ڈالا ہے !۔
21 دیکھ میں تُجھ پر بلا نازل کرونگا اور تیری پوری صفائی کر دونگا اور اخی اب کی نسل کے ہر ایک لڑکے کو یعنی ہر ایک جو اسرائیل میں بند ہے اور اُسے جو آزادچھُوٹا ہوا ہے کاٹ ڈالونگا ۔
22 اور تیرے گھر کو نباط کے بیٹے یُربعام کے گھر اور اخیاہ کے بیٹے بعشا کے گھر کی مانند بنا دونگا اُس غصہ دلانے کے سبب سے جس سے تُو نے میرے غضب کو بھڑکایا اور اسرائیل سے گُناہ کرایا ۔
23 اور خُداوند نے ایزبل کے حق میں بھی یہ فرمایا کہ یزرعیل کی فصیل کے پاس کُتے ایزبل کو کھائیں گے ۔
24 اخی اب کا جو کوئی شہر میں مرے گا اُسے کُتے کھائیں گے اور جو میدان میں مرے گا اُسے ہوا کے پرندے چٹ کر جائیںگے ۔
25 ( کیونکہ اخی اب کی مانند کوئی نہیں ہوا تھا جس نے خداوند کے حضور بدی کرنے کے لیے اپنے آپ کو بیچ ڈالا تھا اور جسے اُس کی بیوی ایزبل اُبھارا کرتی تھی ۔
26 اور اُس نے نہایت نفرت انگیز کام یہ کیا کہ اموریوں کی طرح جس کو خداوند نے بنی اسرائیل کے ااگے سے نکال دیا تھا ) بُتوں کی ۔
27 جب اخی اب نے یہ باتیں سُنیں تو اپنے کپڑے پھاڑے اور اپنے تن پر ٹاٹ ڈالا اور روزہ رکھا اور ٹاٹ ہی میں لیٹے اور دبے پاوں چلنے لگا ۔
28 تب خُداوند کا یہ کلام ایلیاہ تشبی پر نازل ہوا کہ
29 تُو دیکھتا ہے کہ اخی اب میرے حجور کیسا خاکسار بن گیا ہے ؟ پس چونکہ وہ میرے حضور خاکسار بن گیا ہے اِس لیے میں اُس کے ایام میں یہ بلا نازل نہیں کرونگا بلکہ اُس کے بیٹے کے ایام میں اُس کے گھرانے پر یہ بلا نازل کر دونگا ۔



باب 22

1 اور تین برس وہ ایسے ہی رہے اور اسرائیل اور ارام کے درمیان لڑائی نہ ہوئی ۔
2 اور تیسرے سال یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط شاہِ اسرائیل کے ہاں آیا ۔
3 اور شاہِ اسرائیل نے اپنے مُلازموں سے کہا کیا تُم کو معلوم ہے کہ رامات جلعاد ہمارا ہے پر ہم خاموش ہیں ۔ اور شاہِ ارام کے ہاتھ سے اُسے چھین نہیں لیتے ۔
4 پھر اُس نے یہوسفط سے کہا ، کیا تُو میرے ساتھ رامات جلعاد سے لڑنے چلے گا ؟ یہوسفط نے شاہِ اسرائیل کو جواب دیا میں ایسا ہوں جیسا تُو ۔ میرے لوگ ایسے ہیں جیسے تیرے لوگ اور میرے گھوڑے ایسے ہیں جیسے تیرے گھوڑے ۔
5 اور یہوسفط نے شاہِ اسرائیل سے کہا ذرا آج خداوند کی مرضی بھی تو دریافت کر لے ۔
6 تب شاہِ اسرائیل نے نبیوں کو جو قریب چار سو آدمی تھے اکٹھا کیا اور اُن سے پوچھا میں رامات جلعاد سے لڑنے جاوں یا باز رہوں ۔ اُنہوں نے کہا جا کیونکہ خداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا ۔
7 لیکن یہوسفط نے کہا کیا اِن کو چھوڑ کر یہاں خداوند کا کوئی نبی نہیں ہے تاکہ ہم اُس سے پوچھیں ۔
8 شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا کہ ایک شخص املہ کا بیٹا میکایا ہ ہے تو صیح جس کے ذریعہ سے ہم خداوند سے پوچھ سکتے ہیں لیکن مجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیشن گوئی کرتا ہے ، یہوسفط نے کہا بادشاہ ایسا نہ کہے۔
9 تب شاہِ اسرائیل نے ایک سردار کو بُلا کر کہا کہ اِملہ کے بیٹے میکایاہ کو جلد لے آ ۔
10 اُس وقت شاہِ اسرائیل اور شاہِ یہواہ یہوسفط سامریہ کے پھاٹک کے سامنے ایک کھُلی جگہ میں اپنے تخت پر شاہانہ لباس پہنے ہوئے بیٹے تھے اور سب نبی اُن کے حضور پیشن گوئی کر رہیے تھے ۔
11 اور کنعانہ کے بیٹے صدقیاہ نے اپنے لیے لوہے کے سینگ بنائے اور کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ تُو اِن سے ارامیوں کو مارے گا جب تک وہ نابود نہ ہو جائیں ۔
12 اور سب نبیوں نے یہی پیشن گوئی کی اور کہا کہ رامات جلعاد پر چڑھائی کر اور کامیاب ہو کیونکہ خداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا۔
13 اور اُس قاصد نے جو میکایاہ کو بُلانے گیا تھا اُس سے کہا دیکھ ! سب نبی ایک زبان ہو کر بادشاہ کو خوشخبری دے رے ہیں ، سو ذرا تیری بات بھی اُن کی بات کی طرح ہو اور تُو خوشخبری ہی دینا ۔
14 میکایاہ نے کہا خداوند کی حیات کی قسم جو کچھ خداوند مجھے فرمائے میں وہی کہوں گا ۔
15 سو جب وہ بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ نے اُس سے کہا میکایاہ ہم رامات جلعاد سے لڑنے جائیں یا رہنے دیں ؟ اُس نے جواب دیا جا اور کامیاب ہو کیونکہ خداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دے گا ۔
16 بادشاہ نے اُسے کہا میں کتنہ مرتبہ تُجھے قسم دے کر کہوں کے تُو خداوند کے نام سے حق کے سوا اور کچھ مجھ کو نہ بتائے ۔
17 تب اُس نے کہا میں نے سارے اسرائیل کو اُن بھیڑوں کی مانند جن کا چوپان نہ ہو پہاڑوں پر پراگندہ دیکھا اور خداوند نے فرمایا کہ اِن کا کوئی مالک نہیں سو وہ اپنے اپنے گھر سلامت لوٹ جائے۔
18 تب شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا کیا میں نے تُجھ کو بتایا نہیں تھا کہ یہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیشن گوئی کرے گا ۔
19 تب اُس سے نے کہا اچھا تُو خداوند کے سُخن کو سُن لے میں نے دیکھا کہ خداوند اپنے تخت پر بیٹھا ہے اور سارا آسمانی لشکر اُس کے دہنے اور بائیں کھڑا ہے ۔
20 اور خداوند نے فرمایا کہ کون اخی اب کو بہکائے گا تاکہ وہ چڑھائی کرے اور رامات جلعاد میں کھیت آئے ؟ تب کسی نے کچھ کہا اور کسی نے کچھ ۔
21 لیکن ایک روح نکل کر خداوند کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہا میں اُسے بہکاوں گی ۔
22 خداوند نے اُس سے پوچھا کس طرح؟ اُس نے کہا میں جا کر اُس کے سب نبیوں کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح بن جاوں گی ۔ اُس نے کہا تُو اُسے بہکا دے گی اور غالب بھی ہو گی ، روانہ ہو جا اور ایسا ہی کر۔
23 سو دیکھ خداوند نے تیرے اِن سب نبیوں کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح ڈالی ہے اور خداوند نے تیرے حق میں بدی کا حکم دیا ہے ۔
24 تب کعنانہ کا بیٹا صدقیاہ نزدیک آیا اور اُس نے میکایاہ کے گال پر مار کر کہا خداوند کی روح تُجھ سے بات کرنے کو کس راہ سے ہو کر مجھ میں سے گئی ؟
25 میکایاہ نے کہا یہ تو اُسی دن دیکھ لے گا جب تُو اندر کی ایک کوٹھری میں گھُسے گا تاکہ چھپ جائے ۔
26 اور شاہِ اسرائیل نے کہا میکایاہ کو لے کر اُسے شہر کے نازک عمون اور یوآس شہزاہ کے پاس لوٹا لے جاو۔
27 اور کہنا بادشاہ یوں فرماتا ہے کہ اِس شخص کو قید خانہ میں ڈال دو اور اِسے مصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا جب تک میں سلامت نہ آوں ۔
28 تب میکایاہ نے کہا اگر تُو سلامت واپس آ جائے تو خداوند نے میری معرفت کلام ہی نہیں کیا ۔ پھر اُس نے کہا اے لوگو ں تم سب کے سب سُن لو ۔
29 سو شاہِ اسرائیل اور شاہ یہوداہ یہوسفط نے رامات جلعاد پر چڑھائی کی۔
30 اور شاہ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا میں اپنا بھیس بدل کر لڑائی میں جاوں گا پھر تُو اپنا لباس پہنے رہ سو شاہِ اسرائیل نے اپنا بھیس بدل کر لڑائی میں گیا ۔
31 اُدھر شاہِ ارام نے اپنے رتھوں کے بتیسیوں کو سرداروں کو حکم دیا تھا کہ کسی چھوٹے یا بڑے سے نہ لڑنا سِوا شاہِ اسرائیل کے ۔
32 سو جب رتھوں کے سرداروں نے یہوسفط کو دیکھا تو کہا کہ ضرور شاہِ اسرائیل یہی ہے اور وہ اُس سے لڑنے کو مُڑے ، تب یہوسفط چِلا اُٹھا ۔
33 جب رتھوں کے سرداروں نے دیکھا کہ وہ شاہِ اسرائیل نہیں تو وہ اُس کا پیچھا کرنے سے لوٹ گئے
34 اور کسی شخص نے یوں ہی اپنی کمان کھیچنی اور شاہ اسرائیل کو جوشن کے بندوں کے درمیان مارا ۔ تب اُس نے اپنے سارتھی سے کہا کہ باگ پھیر کر مجھے لشکر سے باہر نکال لے چل کیونکہ میں زخمی ہو گیا ہوں ۔
35 اور اُس دن بڑے گھمسان کا رن پڑا اور اُنہوں نے بادشاہ کو اُس کے رتھ ہی میں ارامیوں کے مقابل سنبھالے رکھا ۔ اور وہ شام کو مر گیا اور خون اُس کے زخم سے بہہ کر رتھ کے پایدان میں بھر گیا ۔
36 اور آفتاب غروب ہوتے ہوئے لشکر میں یہ پکار ہو گئی کہ ہر ایک آدمی اپنے شہر اور ہر ایک آدمی اپنے مُلک کو جائے ۔
37 سو بادشاہ مر گیا اور وہ سامریہ میں پہنچایا گیا اور اُنہوں نے بادشاہ کو سامریہ میں دفن کیا ۔
38 اور اُس رتھ کو سارمریہ کے تالاب میں دھویا ۔ ( کسبیاں یہیں غُسل کرتی تھیں ) اور خداوند کے کلام کے مطابق جو اُس نے فرمایا تھا کتوں نے اُس کا خون چاٹا ۔
39 اور اخی اب کی باقی باتیں اور سب کچھ جو اُس نے کیا تھا اور ہاتھی دانت کا گھر جو اُس نے بنایا تھا اور اُن سب شہروں کا حال جو اُس نے تعمیر کیے سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
40 اور اخی اب اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُس کا بیٹا اخزیاہ اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔
41 اور آسا کا بیٹا یہوسفط شاہِ اسرائیل اخی اب کے چوتھے سال سے یہوداہ پر سلطنت کرنے لگا ۔
42 اور یہوسفط سلطنت کرنے لگا تو پینتس برس کا تھا اور اُس نے یروشلیم میں پچس برس سلطنت کی اُس کی ماں کا نام عزوبہ تھا جو سلحی کی بیٹی تھی ۔
43 وہ اپن باپ آسا کے نقشِ قدم پر چلا اُس سے مُڑا نہیں اور جو خداوند کی نگاہ میں ٹھیک تھا اُسے کرتا رہا تو بھی اونچے مقام ڈھائے نہ گئے لوگ اُن اونچے مقاموں پر ہنوز قُربانی کرتے اور بخور جلاتے تھے ۔
44 اور یہوسفط نے شاہِ اسرائیل سے صلح کی ۔
45 اور یہوسفط کی باقی باتیں اور اُس کی قوت جو اُس نے دکھائی اور اُس کے جنگ کرنے کی کیفیت سو کیا وہ یہودا ہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتا ب میں قلمبند نہیں ؟
46 اور اُس نے باقی لوطیوں کو جو اُس کے باپ آسا کے عہد میں رہ گئے تھے مُلک سے خارج کر دیا۔
47 اور ادوم میں کوئی بادشا ہ نہ تھا بلکہ ایک نائب حکومت کرتا تھا ۔
48 اور یہوسفط نے ترسیس کے جہاز بنائے تاکہ اوفیر کو سونے کے لیے جائیں پر وہ گئے نہیں کیونکہ وہ عصیون جابر ہی میں ٹوٹ گئے ۔
49 تب اخی اب کے بیٹے اخزیاہ نے یہوسفط سے کہا اپنے خادموں کے ساتھ میرے خادموں کو بھی جہازوں میں جانے دے پر یہوسفط راضی نہ ہوا ۔
50 اور یہوسفط اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داود کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہوا اور اُس کا بیٹا یہورام اُس کی جگہ بادشاہ ہوا ۔
51 اور اخی اب کا بیٹا اخزیاہ شاہِ یہوداہ یہوسفط کے سترویں سال سے سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اسرائیل پر دو برس سلطنت کی ۔
52 اور اُس نے خداوند کی نظر میں بدی کی اور اپنے باپ کی راہ اور اپنی ماں کی راہ اور نباط کے بیٹے یُربعام کی راہ پر چلا جس سے اُس نے بنی اسرائیل سے گناہ کرایا ۔
53 اور اپنے باپ کے سب کاموں کے موافق بعل کی پرستش کرتا اور اُس کو سجدہ کرتا رہا اور خداوند اسرائیل کے خدا کو غصہ دلایا۔