۔توارِیخ 2

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36


باب 1

1 اور سُلیمان بن داؤد اپنی مملکت میں مُستحکم ہوا اور خُداوند اُس کا خُدا اُس کے ساتھ رہا اور اُسے نہایت سرفراز کیا۔
2 اور سلیمان نے سارے اسرائیل یعنی ہزاروں اور سیکڑوں کے سرداروں اور قاضیوں اور سب اسرائیلیوں کے رئیسوں سے جو آبائی خاندانوں کے سردار تھے باتیں کیں۔
3 اور سلیمان ساری جماعت سمیت جِبعُون کے اُونچے مقام کو گیا کیونکہ خُدا کا خیمہ اجتماع جسے خُداوند کے بندے موسیٰ نے بیابان میں بنایا تھا وہیں تھا۔
4 لیکن خُدا نے صندُوق کو داؤد قریت یعریم سے اُس مقام میں اُٹھا لایا تھا جو اُس نے اُس کے لیئے تیار کیا تھا کیونکہ اُس نے اُس کے لیئے یروشلیم میں ایک خیمہ کھڑا کیا تھا۔
5 پر پیتل کا وہ مذبح جسے بضلی ایل بِن اوری بِن حُور نے بنایا تھا وہیں خُداوند کے مسکن کے آگے تھا ۔ پس سلیمان اُس جماعت سمیت وہیں گیا۔
6 اور سلیمان وہاں پیتل کے مذبح کے پاس جو خُداوند کے آگے خیمہ اجتماع میں تھا گیا ار اُس پر ایک ہزار سوختنی قربانیاں چڑھائیں۔
7 اُسی رات خُدا سلیمان کو دِکھائی دیا اور اُس سے کہا مانگ میں تُجھے کیا دوں؟۔
8 سلیمان نے خُدا سے کہا تُو نے میرے باپ داؤد پر بڑی مہربانی کی اور مُجھے اُس کی جگہ بادشاہ بنایا ۔
9 اب اے خُداوند خُدا جو وعدہ تُو نے میرے باپ داؤد سے کیا وہ برقرار رہے کیونکہ تُو نے مُجھے ایک ایسی قوم کا بادشاہ بنایا ہے جو کثرت میں زمین کی خاک کے ذروں کی مانند ہے ۔
10 سو مُجھے حکمت و معرفت عنایت کر تاکہ میں ان لوگوں کے آگے اندر باہر آیا جایا کرؤں کیونکہ تیری اس بڑی قوم کا انصاف کون کر سکتا ہے ۔
11 تب خُداوند نے سلیمان سے کہا چونکہ تیرے دل میں یہ بات تھی اور تُو نے نہ تو دولت نہ مال نہ عزت نہ اپنے دشمنوں کی موت مانگی اور نہ عمر کی درازی طلب کی بلکہ اپنے لیئے حکمت و معرفت کی درخواست کی تاکہ میرے لوگوں کا جن پر میں نے تُجھے بادشاہ بنایا ہے انصاف کرے۔
12 سو حکمت و معرفت تُجھے عطا ہوئی اور میں تُجھے اس قدر دولت اور مال اور عزت بخشوں گا کہ نہ تو اُن بادشاہوں میں سے جو تُجھ سے پہلے ہوئے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ کسی کو تیرے بعد نصیب ہو گی۔
13 چنانچہ سلیمان جِبعوُن کے اونچے مقام سے یعنی خیمہ اجتماع کے آگے سے یروشلیم کو لوٹ آیا اور بنی اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا۔
14 اور سلیمان نے رتھ اور سوار اکٹھے کر لیئے اور اُس کے پاس ایک ہزا ر چار سو رتھ اور بارہ ہزار سوار تھے جن کو اُس نے رتھوں کے شہروں میں اور یروشلیم میں بادشاہ کے پاس رکھا ۔
15 اور بادشاہ نے یروشلیم میں چاندی اور سونے کو کثرت کی وجہ سے پتھروں کی مانند اور دیواروں کو نشیب کی زمین کے گُولر کے درختوں کی مانند بنادیا۔
16 اور سلیمان کے گھوڑے مصر سے آتے تھیاور بادشاہ کے سوداگر اُنکے جُھنڈ کے جُھنڈ یعنی ہر جُھنڈ کا مول کر کے اُن کو لیتے تھے۔
17 اور وہ ایک رتھ چھو سو مِثقال چاندی اور ایک گھوڑا ڈیڑھ سو مِثقال میں لیتیاور مصر سے لے آتے تھے اور اسی طرح حِتیوں کے سب بادشاہوں اور ارام کے بادشاہوں لیئے اُن ہی کے وسیلے سے اُن کو لاتے تھے ۔


باب 2

1 اور سلیمان نے ارادہ کیا کہ ایک گھر خُداوند کے لیئے اور ایک گھر اپنی سلطنت کے لیئے بنائے ۔
2 اور سلیمان نے ستر ہزار بار بروار اور پہاڑ میں اَسی ہزار پتھر کاٹنے والے اور تین ہزار چھ سو آدمی اُن کی نگرانی کے لیئے گن کر ٹھہرا دیے۔
3 اور سلیمان نے صُور کے بادشاہ حُورام کے پاس کہلا بھیجا کہ جیسا تُو نے میرے باپ داؤد کے ساتھ کیا اور اُس کے پاس دیودار کی لکڑی بھیجی کہ اپنے رہنے کے لیئے ایک گھر بنائے ویسا ہی میرے ساتھ بھی کر۔
4 میں خُداوند اپنے خُدا کے نام کے لیئے ایک گھر بنانے کو ہوں کے اُس کے لیئے مُقدس کرؤں اور اُس کے آگے خوشبودار مصالج کا بخوُر جلاؤں اور وہ سبتوں اور نئے چاندوں اور خُداوند ہمارے خُدا کی مقررہ عیدوں پر دائمی نذر کی روٹی اور صبح اور شام کی سوختنی قربانیوں کے لیئے ہو کیونکہ یہ ابد تک اسرائیل پر فرض ہے۔
5 اور وہ گھر جو میں بنانے کو ہوں عظیم اُلشان ہو گا کیونکہ ہمارا خُدا سب معبودوں سے عظیم ہے ۔
6 لیکن کو ن اُس کے لیئے گھر بنانے کے قانل ہے ؟جس حال کہ آسمان میں بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی وہ سما نہیں ستکتا تو بھلا میں کون ہوں جو اُسکے حضور بخوُر جلانے کے سوا کسی اور خیال سے اُس کے لیئے گھر بناؤں۔
7 سو اب تو میرے پاس ایک ایسے شخص کو بھیج دے جو سونے اور چاندی اور لوہے کے کام میں اور ارغوانی اور قرمزی اور نیلے کپڑے کے کام میں ماہر ہو اور نقاشی بھی جانتا ہو تاکہ وہ اُن کاریگروں کے ساتھ رہے جو میرے باپ داؤد کے ٹھہرائے ہوئے یہوداہ اور یروشلیم میں میرے پاس ہیں۔
8 اور دیودار اور صنوبر اور صندل کے لٹھے لُبنان سے میرے پاس بھیجنا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تیرے نوکر لُبنان کی لکڑی کاٹنے میں ہوشیار ہیں اور میرے نوکر تیرے نوکروں کے ساتھ رہکر۔
9 میرے لیئے بُہت سی لکڑی تیار کریں گے کیونکہ وہ گھر جو میں بنانے کو ہوں نہایت عالیشان ہو گا۔
10 اور میں تیرے نوکروں کو یعنی لکڑی کاٹنے والوں کو بیس ہزار کُر صاف کیا ہوا گیہوُں اور بیس ہزار کُر جَو اور بیس ہزار بت مَے اور بیس ہزار بت تیل دونگا۔
11 تب صوُر کے بادشاہ حوُرام نے جواب لکھکر اُسے سلیمان کے پاس بھیجا کہ چونکہ خُداوند کو اپنے لوگوں سے محبت ہے اس لیئے اُس نے تُجھ کو اُن کا بادشاہ بنایا ہے ۔
12 اور حوُرام نے یہ بھی کہا خُداوند اسرائیل کا خُدا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا مُبارک ہو کہ اُس نے داؤد بادشاہ کو ایک دانا بیٹا فہم و معرفت سے معمور بخشا تاکہ وہ خُداوند کے لیئے ایک گھر اور اپنی سلطنت کے لیئے ایک گھر بنائے۔
13 سو میں نے اپنے باپ حوُرام کے ایک ہوشیار شخص کو جو دانش سے معمو ر ہے بھیج دیا ہے۔
14 وہ دان کی بیٹیوں میں سے ایک عورت کا بیٹا ہے اور اُس کا باپ صوُر کا باشندہ تھا۔ وہ سونے اور چاندی اور پیتل اور لوہے اور پتھر اور لکڑی کے کام میں اور ارغوانی اور نیلے اور قرمزی اور کتانی کپڑے کے کام میں ماہر اور ہر طرح کی نقاشی اور ہر قسم کی صنعت میں طاق ہے تاکہ تیرے ہُنر مندوں اور میرے مخدُوم تیرے باپ داؤد کے ہُنر مندوں کے ساتھ اُس کے لیئے جگہ مُقرر ہو جائے۔
15 اور اب گیہوں اور جَو اور تیل اور مے جنکا میرے مالک نے ذکر کیا ہے وہ اُنکو اپنے خادموں کے لیئے بھیجے ۔
16 اور جتنی لکڑی تُجھکو درکارہے ہم لُبنان سے کاٹینگے اور اُن کے بیڑے بنوا کر سمندر ہی سمندر تیرے پاس یافا میں پُہنچاینگے پھر تُو اُن کو یروشلیم کو لے جانا۔
17 اور سلیمان نے سرائیل کے مُلک میں کے سب پردیسیوں کو شمار کیا جیسے اُس کے باپ داؤد نے اُن کو شمار کیا تھا اور وہ ایک لاکھ ترِپن ہزار چھ سَو نکلے۔
18 اور اُس نے اُن میں سے ستر ہزار کو باربرداری پر اور اسَی ہزار کو پہاڑ پر پتھر کاٹنے کے لیئے اور تین ہزارچھ سَو کو لوگوں سے کام لینے کے لیئے ناظِر ٹھہرایا۔


باب 3

1 اور سلیمان یروشلیم میں کوہِ موریاہ پر جہاں اُس کے باپ داؤد نے رویت دیکھی اُسی جگہ جسے داؤد نے تیاری کر کے مقرر کیا یعنی اُرنان یبوُسی کے کھلیہان میں خُداوند کا گھر بنانے لگا۔
2 اور اُس نے اپنی سلطنت کے چوتھے برس کے دوسر ے مہینے کی دوسری تاریخ کو بنانا شروع کیا۔
3 اور جو بنیاد سلیمان نے خُدا کے گھر کی تعمیر کے لیئے ڈالی وہ یہ ہے۔ اُسکا طُول ہاتھوں کے حساب سے پہلے ناپ کے موافق ساٹھ ہاتھ اور عرض بیس یاتھ تھا۔
4 اور گھر کے سامنے کے اُسارے کی لمبائی گھر کی چوڑائی ے مُطابق بیس ہاتھ اور اُونچائی ایک سَو بیس ہاتھ تھی اور اُس نے اُسے اندر سے خالص سونے سے منڈھا ۔
5 اور اُس نے بڑے گھر کی چھت صنوبر کے تختوں سے پٹوائی جن پر چوکھا سونا منڈھا تھا اور اُس کے اُوپر کھجور کے درخت اور زنجیریں بنائیں۔
6 اور خوبصورتی کے لیئے اُس نے اُس گھر کو بیش قیمت جواہر سے آراستہ کیا اور سونا پروائم کا سونا تھا۔
7 اور اُس نے گھر کو یعنی اُس کے شتیروں ۔چوکھٹوں۔دیواروں اور کواڑوں کو سونے سے منڈھا اور دیواروں پر کربیوں کی صورت کندہ کی ۔
8 اور اُس نے پاک ترین مکان بنایا جس کی لمبائی گھر کی چوڑائی کے مُطابق بیس ہاتھ اور اُس کی بیس ہاتھ تھی اور اُس نے اُسے چھ سَو قنطار چوکھے سونے سے منڈھا ۔
9 اور کیلوں کا وزن پچاس مثقال سونے کا تھا اور اُس نے اُوپر کی کوٹھریاں بھی سونے سے منڈھیں۔
10 اور اُس ن پاک ترین مکان میں دو کروبیوں کو تراشکر بنایا اور اُنہوں نے اُن کو سونے سے منڈھا۔
11 اور کروبیوں کے بازو بیس ہاتھ لمبے تھے ۔ایک کروبی کا ایک بازو پانچ ہاتھ کا گھر کی دیوار تک پُہنچا ہوا اور دوسرا بازو بھی پانچ ہاتھ کا دوسرے کروبی کے بازو تک پُہنچاہوا تھا۔
12 اور دوسرے کروبی کا ایک بازو پانچ ہاتھ کا گھر کی دیوار تک پُہنچا ہوا تھا اور دوسرا بازو بھی پانچ ہاتھ کا دوسرے کروبی کے بازو سے ملا ہوا تھا ۔
13 اُن کروبیوں کے پر بیس ہاتھ تک پھیلے ہوئے تھے اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑے تھے اور اُن کے منہ اُس گھر کی طرف تھے۔
14 اور اُس نے پردہ آسمانی اور ارغوانی اور قرمزی کپڑے اور مہین کتان سے بنایا اور اُس پر کروبیوں کو کڑھوایا۔
15 اور ا‘س نے گھر کے سامنے پینتیس پینتیس ہاتھ اُونچے دو ستون بنائے اور ہر ایک کے سِرے پرپانچ ہاتھ کا تاج تھا۔
16 اور اُس نے اِلہا مگاہ میں زنجیریں بنا کر ستونوں کے سِروں پر لگائے اور ایک سَو انار بنا کر زنجیروں میں لگا دئے۔
17 اور اُس نے ہیکل کے آگے اُن ستونوں کو ایک کو دہنی اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کیا اور جو دہنے تھا اُس کا نام یاکین اور جو بائیں تھا اُس کا نام بوعز تھا۔


باب 4

1 اور اُس نے پیتل کا ایک مذبح بنایا ۔اُس کی لمبائی بیس ہاتھ اور چوڑائی بیس ہاتھ اور اُُونچائی دس ہاتھ تھی ۔
2 اور اُس نے ایک ڈھالا ہوا بڑا حَوض بنایا جو ایک کنارہ سے دورسے کنارہ تک دس ہاتھ تھا۔ وہ گول تھا اور اُس کی اُونچائی پانچ ہاتھ تھی اور اُس کا گھیر تیس ہاتھ کے ناپ کا تھا ۔
3 اور اُس کے نیچے بیلوں کی صورتیں اُسکے گردا گِرد دس دس ہاتھ تک تھیں اور اُس بڑے حَوض کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھیں۔ یہ بیل دو قطاروں میں تھے اور اُسی کے ساتھ ہی ڈھالے گئے تھے۔
4 اور وہ بارہ بیلوں پر دھرا ہوا تھا۔ تین کا رُخ شِمال کی طرف اور تین کا رُخ مغرب کی طرف اور تین کا رُخ جنوب کی طرف اور تتین کا رُخ مشرق کی طرف تھا اور و بڑا حَوض اُن کے اُوپر تھا اور اُن سب کے پچھلے اعضا اندر کے رُخ تھے۔
5 اُس کی موٹائی چار اُنگل کی تھی اور اُس کا کنارہ پیالے کے کنارہ کی طرح اور سوسن کے پھول سے مُشابہ تھا۔ اُس میں تین ہزار بت کی سمائی تھی ۔
6 اور اُس نے دس حَوض بھی بنائے اور پانچ دہنی اور پانچ بائیں طرف رکھے تاکہ اُن میں سوختنی قربانی کی چیزیں دھوئی جائیں۔اُن میں وہ اُن ہی چیزوں کو دھوتے تھے پر وہ بڑا حَوض کاہنوں کے نہانے کے لیئے تھا ۔
7 اور اُس نے سونے کے دس شمعدان اُس حُکم کے مُوافق بنائے جو اُن کے بارے میں مِلا تھا۔ اُس نے اُن کو ہیکل میں پانچ دہنی اور پانچ بائیں طرف رکھا۔
8 اور اُس نے دس میزیں بھی بنائیں اور اُن کو ہیکل میں پانچ دہنی اور پانچ بائیں طرف رکھا اور اُس نے سونے کے سَو کٹورے بنائے ۔
9 اور اُس نے کاہنوں کا صحن اور بڑا صحن اور اُس صحن کے دروازوں کو بنایا اور اُن کے کِواڑوں کو پیتل سے منڈھا ۔
10 اور اُس نے اُس بڑے حَوض کو مشرق کی طرف دہنے ہاتھ جنوبی رُخ پر رکھا۔
11 اور حُورام نے برتن اور بیلچے اور کٹورے بنائے۔سو حُورام نے اُس کام کو جسے وہ سلیمان بادشاہ کے لیئے خُدا کے گھر میں کر رہا تھا تمام کیا۔
12 یعنی دونوں ستونوں اور کُرے اور دونوں تاج جو اُن دونوں ستونوں پر تھے اور ستونوں کی چوٹی پر کے تاجوں کے دونوں کُروں کو ڈھانکنے کی دونوں جالیاں ۔
13 اور دونوں جالیوں کے لیئے چار سو انار یعنی ہر جالی کے لیئے اناروں کی دو دو قطاریں تاکہ ستونوں پر کے تاجوں کے دونوں کُرے ڈھک جائیں۔
14 اور اُس نے کُرسیاں بھی بنائیں اور اُن کُرسیوں پر حَوض لگائے۔
15 اور ایک بڑا حَوض اور اُس کے نیچے بارہ بیل۔
16 اور دیگیں بیلچے کانٹے اور اُس کے سب ظروُف اُس کے باپ حُورام نے سلیمان بادشاہ کے لیئے خُداوند کے گھر کے لیئے جھلکتے ہوئے پیتل کے بنائے ۔
17 اور بادشاہ نے اُن سب کو یردن کے میدان میں سُکات اور صریدا کے درمیان کی چکنی مٹی میں ڈھالا۔
18 اور سلیمان نے یہ سب ظروُف اس کثرت سے بنائے کے اُس پیتل کا وزن معلوم نہ ہو سکا۔
19 اور سلیمان نے اُن سب ظروُف کو جو خُدا کے گھر میں تھے بنایا یعنی سونے کی قربان گاہ اور وہ میزیں بھی جن پر نذر کی روٹیاں رکھی جاتی تھیں۔
20 اور خالص سونے کے شمعدان مع چراغوں کے تاکہ وہ ستور کے مُوافق اِلہا مگاہ کے آگے روشن رہیں۔
21 اور سونے بلکہ کُندن کے پُھول اور چراغ اور چمٹے۔
22 اور گلِگیر اور کٹورے اور چمچے اور بخُور دان خالص سونے کے اور مسکن کا مدخل یعنی اُس کے اندرونی دروازے پاکترین مکان کے لیئے اور گھر یعنی ہیکل کے دروازے سونے کے تھے۔


باب 5

1 اور اس طرح سب کام جو سلیمان نے خُداوند کے گھر کے لیئے بنوایا ختم ہوا اور سلیمان اپنے باپ داؤد کی مُقدس کی ہوئی چیزوں یعنی سونے اور چاندی اور سب ظروُف کو اندر لے آیا اور اُن کو خُدا کے گھر کے خزانہ میں رکھ دیا۔
2 تب سلیمان نے اسرائیل کے بزرگوں اور قبیلوں کے سب رئیسوں یعنی بنی اسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو یروشلیم میں اکٹھا کیا تاکہ وہ داؤد کے شہر سے جو صیون ہے خُداوند کے عہد کا صندوق لے آئیں ۔
3 اور اسرائیل کے سب لوگ ساتویں مہینے کی عید میں بادشاہ کے پاس جمع ہوئے۔
4 اور اسرائیل کے سب بزرگ آئے اور لاویوں نے صندوق اُٹھایا۔
5 اور وہ صندوق کو اور خیمہ اجتماع کو اور سب مُقدس ظروُف کو جو اُس خیمہ میں تھے لے آئے۔ انکو لاوی کاہن لائے تھے ۔
6 اور سلیمان بادشاہ اور اور اسرائیل کی ساری جماعت نے جو اُس کے پاس اکٹھی ہوئی تھی صندوق کے آگے کھڑے ہو کر بھیڑ بکریاں اور بیل ذبح کیے ایسا کہ کثرت کی وجہ سے ان کا شمار و حساب نہیں ہو سکتا تھا۔
7 اور کاہنوں نے خُداوند کے عہد کے صندوق کو اُس کی جگہ مسکن کی اِلہامگاہ میں جو پاک ترین مکان میں یعنی کروبیوں کے بازوؤں کے نیچے لا کر رکھا ۔
8 اور کروبی اپنے بازو صندوق کی جگہ کے اُوپر پھیلائے ہوئے تھے اور یوں کروبی صندوق اور اُس کی چوبوں کو اُوپر ڈھانکے ہوئے تھے۔
9 اور وہ چوبیں ایسی لمبی تھیں کہ اُن کے سرے صندوق سے نکلے ہوئے الہامگاہ کے آگے دکھائی دیتے ھے پر باہر سے نظر نہیں آتے تھے اور وہ آج کے دن تک وہیں ہیں ۔
10 اور اُس صندوق میں کُچھ نہ تھا سِوا پتھر کے اُن دو لوحوں کے جن کو موسیٰ نے حورن پر اس میں رکھا تھا جب خُداوند نے بنی اسرائیل سے جس وقت وہ مصر سے نکلے تھے عہد باندھا ۔
11 اور ایسا ہوا کے جب کاہن پاک مکان میں سے نکلے (کیونکہ سب کاہن جو حاضر تھے اپنے آپ کو پاک کر کے آئے تھے اور باری باری خدمت نہیں کرتے تھے۔
12 اور لاوی جو گاتے تھے وہ سب کے سب جیسے آسف اور بَیمان اور یدُوتُون اور اُن کے بیٹے اور اُن کے بھائی کتانی کپڑے سے مُلبس ہو کر اور جھانجھ اور سِتار اور بربط لیئے ہوئے مذبح کے مشرتی کنارے پر کھڑے تھے اور اُن کے ساتھ ایک سَو بیس کاہن تھے جو نرسنگے پھونک رہے تھے (۔
13 تو ایسا ہوا کہ جب نرسنگے پھونکنے والے اور گانے والے مِل گئے تاکہ خُداوند کی حمد اور شُکرگزاری میں اُن سب کی ایک آواز سُنائی دے اور جب نرسنگوں اور جھانجھوں اور مُوسیقی کے سب سازوں کے ساتھ اُنہوں نے اپنی آواز بُلند کر کے خُداوند کی ستائش کی کہ وہ بھلا ہے کیونکہ اُس کی رحمت ابدی ہے تو وہ گھر جو خُداوند کا مسکن ہے ابر سے بھر گیا۔
14 یہان تک کہ کاہن ابر کے سبب سے خدمت کے لئے کھڑے نہ رہ سکے اس لیئے کہ خُدا کا گھر خُداوند کے جلال سے معمور ہوگیا تھا۔


باب 6

1 تب سلیمان نے کہا خُداوند نے فرمایا ہے کہ وہ گہری تاریکی میں رہے گا ۔
2 لیکن میں نے ایک گھر تیرے رہنے کے لیئے بلکہ کہ تیری دائمی سکونت کے واسطے ایک جگہ بنائی ہے۔
3 اور بادشاہ نے اپنا منہ پھیرا اور اسرائیل کی ساری جماعت کو برکت دی اور اسرائیل کی ساری جماع کھڑے رہی۔
4 سو اُس نے کہا خُداوند اسرائیل کا خُدا مُبارک ہو جس نے اپنے منہ سے میرے باپ داؤد سے کلام کیا اور اُسے اپنے ہاتھوں سے یہ کہکر پُورا کیا ۔
5 کہ جس دن سے میں اپنی قوم کو مُلکِ مصر سے نکال لایا تب سے میں نے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے نہ تو کسی شہر کو چُنا تاکہ اُس میں گھر بنایا جائے اور وہاں میرا نام ہو اور نہ کسی مرد کو چُنا تاکہ وہ میری قوم اسرائیل کا پیشوا ہو۔
6 پر میں یروشلیم کو چُنا کہ وہاں میرا نام ہو اور داؤد کو چُنا کہ وہ میری قوم سرائیل پر حاکم ہو۔
7 اور میرے باپ داؤد کے دل میں تھا کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کے نام کے لیئے ایک گھر بنائے۔
8 پر خُداوند نے میرے باپ داؤد سے کہا چونکہ میرے نام کے لیئے گھر بنانے کا خیال تیرے دل تھا سو تُو نے اچھا کیا کہ اپنے دل میں ایسا ٹھانا۔
9 تُو بھی تُو اس گھر کو نہ بنانا بلکہ تیرا بیٹا جو تیرے صُلب سے نکلیگا وہی میرے نام کے لیئے گھر بنائے گا۔
10 اور خُداوند نے اپنی وہ بات جو اُس نے کہی تھی پُوری کی کیونکہ میں اپنے باپ داؤد کی جگہ اُٹھا ہوں اور جیسا خُدا نے وعدہ کیا تھا میں اسرائیل کے تخت پر بیٹھا ہوں اور میں نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کے نام کے لیئے اس گھر کو بنایا ۔
11 اور وہیں میں نے وہ صندوق رکھا ہے جس میں خُداوند کا وہ عہد جو اُس نے بنی اسرائیل سے کیا۔
12 اور سلیمان نے اسرائیل کی ساری جمعت کے رُوبرُو خُداوند کے مذبح کے آگے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ پھیلائے۔
13 کیونکہ سلیمان نے پانچ ہاتھ لمبا اور پانچ ہاتھ چوڑا اور تین ہاتھ اُونچا پیتل کا ایک ممبر ا کر صحن کے بیچ میں اُسے رکھا تھا۔ اُسی پر وہ کھڑا تھا۔سو اُس نے اسرائیل کی ساری جماعت کے رُوبرُو گُھٹنے ٹیکے اور آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے ۔
14 اور کہنے لگا اے خُداوند اسرائیل کے خُدا تیری مانند نہ تو آسمان میں نہ زمین پر کوئی خُدا ہے۔تُو اپنے اُن بندوں کے لیئے جو تیرے حضوراپنے سارے دل سے چلتے ہیں عہد اور رحت کی نگاہ رکھتا ہے۔
15 تُو نے اپنے بندہ میرے باپ داؤد کے حق میں وہ بات قائم رکھی جس کا تُو نے اُن سے وعدہ کیا تھا ۔تُو نے اپنے منہ سے فرمایا اور اُسے اپنے ہاتھ سے پُورا کیا جیسا آج کے دن ہے۔
16 اب اَے خُداوند اسرائیل کے خُدا اپنے بندہ میرے باپ داؤد کے ساتھ اُس قول کو بھی پُورا کر جو تُو نے اُس سے کیا تھا کہ تیر ہاں میرے حضور اسرائیل کے تخت پر بیٹھنے کے لیئے آدمی کی کمی نہ ہو گی بشرطیکہ تیری اولاد جیسے تُو میرے حضور چلتا رہا ویسے ہی میری شریعت پر عمل کرنے کے لیئے اپنی راہ کی اھتیاط رکھے۔
17 اور اب اَے خُداوند اسرائیل کے خُدا جو قول تُو نے اپنے بندہ داؤد سے کیا تھا وہ سچا ثابت کیا جائے۔
18 لیکن کیا خُدا فی الحقیقت آدمیوں کے ساتھ زمین پر سکونت کریگا؟دیکھ آسمان بلکہ آسمانوں ک آسمان میں تُو سما نہیں سکتا تو یہ گھر تو کُچھ بھی نہیں جسے میں نے بنایا۔
19 تَو بھی اَے خُداوند میرے خُدا اپنے کی دُعا اور مُناجات کا لِحاظ کر کے اُس دُعا اور فریاد کو سُن لے جو تیرا بندہ تیرے حضور کرتا ہے۔
20 تاکہ تیری اآنکھیں اس گھر کی طرف یعنی اُسی جگہ کی طرف جس کی بابت تُو نے فرمایا کہ میں اپنا نام وہاں رکھونگا دِن اور راتُ ھلی رہیں تاکہ تُو اُس دُعا کو سُنے جو تیرا بندہ اِس مقام کی طرف رُخ کر کے تُجھ سے کریگا۔
21 اور تُو اپنے بندہ اور اپنی قوم اسرائیل کی مُناجات کو جب وہ اس جگہ کی طرف رُخ کر کے کریں تو سُن لینا بلکہ تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ سُن لینا اور سُن کر معاف کر دینا ۔
22 اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کا گناہ کرے اور اُسے قسم کھلانے کے لیئے آسکو حلف دیا جائے اور وہ آکر اس گھر میں تیرے مذبح کے آگے قسم کھاے۔
23 تو تُو آسمان پر سے سُن کر عمل کرنا اور اپنے بندوں کا انصاف کر کے بدکار کو سزا دینا تاکہ اُس کے اعمال کو اُسی کے سر ڈالے اور صادق کو راست ٹھہرانا تاکہ اُس کی صداقت کے مُطابق اُسے جزا دے ۔
24 اور اگر تیری قوم اسرائیل تیرا گناہ کرنے کے باعث اپنے دشمنوں سے شکست کھائے اور پھر تیری طرف رجوع لائے اور تیرے نام کا اقرار کر کے اس گھر میں دُعا مُناجات کرے ۔
25 تو تُو آسمان پر سے سُن کر اپنی قوم اسرائیل کے گناہ کو بخش دینا اور اُن کو اس مُلک میں جو تُو نے اُن کو اور اُن کے باپ دادا کو دیا پھر لے آنا۔
26 اور جب اس سبب سے کہ انہوں نے تیرا گناہ کیا ہو آسمان بند ہو جائے اور بارش نہ ہو اور وہ اِس مقام کی طرف رُخ کرکے دُعاکریں اور تیرے نام کا اقرار کریں اور اپنے گناہ سے باز آئیں جب تُو ان کو دُکھ دے۔
27 تو تُو آسمان پر سے سُنکر اپنے بندوں اور اپنی قوم اسرائیل کا گناہ معاف کر دینا کیونکہ تُونے اُنکو اُس اچھی راہ کی تعلیم دی جس پر اُنکو چلنا فرض ہے اور اپنے مُلک پر جسے تُو نے اپنی قوم کو میراث کے لیئے دیا ہے مینہ برسانا۔
28 اگر مُلک میں کال ہو ۔اگر وبا ہو۔ اگر بادِ سمُوم یا گیروئی ۔ٹڈی یا کملا ہو۔ اگر اُن کے دشمن اُن کے شہروں کے مُلک میں اُنکو گھیر لیں۔ غرض کیسی ہی بلا یا کیسا ہی روگ ہو۔
29 تو جو دُعا یا مُناجات کسی ایک شخص یا تیری ساری قوم اسرائیل کی طرف سے ہو جن میں سے ہر شخص اپنے دُکھ اور رنج کو جان کر اپنے ہاتھ اس گھر کی طرف پھیلائے ۔
30 تو تُو آسمان پر سے جو تیر سکونت گاہ ہے سُن کر معاف کر دینا اور ہر شخص کے دل کو جسکے کو تُوجانتا ہیاُس کی سب روش کے مُطابق بدلہ دینا ( کیونکہ فقط تُو ہی بنی آدم کے دلوں کو جانتا ہے(۔
31 تاکہ جب تک وہ اس مُلک میں جسے تُو نے ہمارے باپ دادا کو دیا جیتے رہیں تیرا خوف مان کر تیری راہوں پر چلیں۔
32 اور وہ پردیسی بھی جو جو تیری قوم اسرائیل میں سے نہیں ہے جب وہ تیرے بزرگ نام اور قوی ہاتھ اور بُلند بازو کے سبب سے دور مُلک سے آئے اور آکر اس گھر کی فرط رُخ کر کے دُعا کرے۔
33 تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے سُن لینا اور جس جس بات کے لیئے وہ پردیسی تُوجھ سے فریاد کرے اُس کے مُطابق کرنا تاکہ زمین کی سب قومیں تُجھ کو پہچانیں اور تیری قوم اسرائیل کی طرح تیرا خوف مانیں اور جان لیں کہ یہ گھر جسے میں نے بنایا ہے تیرے نام کا کہلاتا ہے۔
34 اگر تیرے لوگ خواہ کسی راستے سے تُو اُنکو بھیجے اپنے دُشمن سے لڑنے کو نکلیں اور اس شہر کی طرف جسے تُو نے چُنا ہے اور اس گھر کی فرط جسے میں نے تیرے نام کے لیئے بنایا ہے رُخ کر کے تُجھ سے دُعا کریں ۔
35 تو تُو آسمان پر سے اُن کی دُعا اور مُناجات کو سُن کر اُن کی حمایت کرنا ۔
36 اگر وہ تیرا گناہ کریں (کیونکہ کوئی انسان نہیں جو گناہ نہ کرتا ہو( اور تُو اُن سے ناراض ہو کر اُن کو دشمن کے حوالہ کردے ایسا کہ وہ دشمن اُنکو اسیر کر کے دور یا نزدیک مُلک میں لے جائے۔
37 تو بھی اگر وہ اُس مُلک میں جہاں سیر ہو کر پُہنچائے گئے ہوش میں آئیں اور رجوع لائیں اور اپنی اسیر ی کے مُلک میں تُجھ سے مُناجات کریں اور کہیں کہ ہم نے گناہ کیا ۔ہم ٹیڑھی چال چلے اور ہم نے شرارت کی۔
38 سو اگر وہ اپنی اسیری کے مُلک میں جہاں اُنکو اسیر کر کے لے گئے ہوں اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے تیری طرف پھریں اور اپنے مُلک کی طرف جو تُو نے اُنکے باپ دادا کو دیا اور اُس شہر کی طرف جسے تُو نے چُنا ہے اور اِس گھر کی طرف جو میں نے تیرے نام کے لیئے بنایا ہے رُخ کر کے دُعا کریں۔
39 تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے اُنکی دُعا اور مُناجات سُن کر اُن کی حمایت کرنا اور اپنی قوم کو جس نے تیرا گناہ کیا ہ معاف کر دینا۔
40 پس اَے میرے خپدا میں تیری منت کرتا ہوں کہ اُس دُعا کی طرف جو اس مقام میں کی جائے تیری آنکھیں کُھلی اور تیری کان لگے رہیں ۔
41 سو اب اَے خُداوند خُدا تُو اپنی قوت کے صندوق کے سمیت اُٹھکر اپنی آرامگاہ میں داخل ہو ۔اَے خُداوند خُدا تیرے کاہن نجات سے مُلبس ہوں اور تیرے مُقدس نیکی میں مگن رہیں۔
42 اَے خُداوند خُدا تُو اپنے ممسُوح کی دُعا نہ منظور نہ کر ۔تُو اپنے بندہ داؤد کی رحمتیں یاد فرما۔


باب 7

1 اور جب سلیمان دُعا کر چُکا تو آسمان پر سے آگ اُتری اور سوختنی قربانی اور ذبیحوں کو بھسم کر دیا اور مسکن خُدا کے جلال سے معمور ہو گیا۔
2 اور کاہن خُداوند کے گھر میں داخل نہ ہوسکے اس لیئے کہ خُدا وند گھر خُداکے جلال سے معمور تھا۔
3 اور جب آگ نازل ہوئی اور خُداوند کا جلال اُس گھر پر چھا گیا تو سب بنی اسرائیل دیکھ رہے تھے ۔ تو انہوں نے وہیں فرش پر منہ کے بل زمین تک جُھک کر سجدہ کیا اور خُدا کا شُکر ادا کیا کہ وہ بھلا ہے کیونکہ اُس کی رحمت ابدی ہے۔
4 تب بادشاہ اور سب لوگوں نے خُداوند کے گے ذبیحے ذبح کیے۔
5 اور سلیمان بادشاہ نے بائیس ہزار بیل ور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑ بکریو ں کی قربانی چڑھائی ۔یُوں بادشاہ اور سب لوگوں نے خُدا کے گھر کو مخصُوص کیا۔
6 اور کاہن اپنے اپنے منصب کے مُطابق کھڑے تھے اور لاوی بھی خُداوند کے لیئے موسیقی کے ساز لیئے ہوئے تھے جنکو داؤد بادشاہ نے خُداوند کا شُکر بجالانے کو بنایا تھا جب اُس نے اُن کے ذریعہ سے اُس کی ستائش کی تھی کیونکہ اُس کی رحمت ابدی ہے اور کاہن اُن کے آگے نرسنگے پھونکتے رہے اور سب اسرائیلی کھڑے رہے۔
7 اور سلیمان نے اُس صحن کے بیچ کے حصہ کو جو خُداوند کے گھر کا سامنے تھا مُقدس کیا کیانکہ اُس نے وہاں سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کی چربی چڑھائی کیونکہ پیتل کے اس مذبح پر جسے سلیمان نے بنایا تھا سوختنی قربانی اور نذر کی قربانی اور چربی کے لیئے گنجائش نہ تھی۔
8 اور سلیمان اور اُس کے ساتھ حمات کے مدخل سے مصر کی ندی تک سب اسرائیلیوں کی بُہت بڑی جماعت نے اُس موقع پر سات دن تک عید منائی ۔
9 اور آٹھویں دن اُن کا مُقدس مجمع فراہم ہوا کیونکہ وہ ساتھ دن مذبح کے مخصُوص کرنے میں اور سات دن عید منانے میں لگے رہے۔
10 اور ساتویں مہینے کی تییسویں تاریخ کو اُس نے لوگوں کو رُخصت کیا تاکہ وہ اُس نیکی کے سبب سے جو خُدا نے داؤد اور سلیمان اور اپنی قوم اسرائیل سے کی تھی خوش اور شادمان ہو کر اپنے ڈیروں کو جائیں۔
11 یوں سلیمان نے خُداوند کا گھر اور بادشاہ کا گھر تمام کیااور جو کُچھ سلیمان نے خُداوند کے گھر میں اور اپنے گھر میں بنانا چاہا اُس نے اُسے بخوبی انجام تک پُہنچایا۔
12 اور خُداوند رات کو سلیمان پر ظاہر ہوا اور اُس سے کہا میں نے تیری دُعا سُنی اور اس جگہ کو اپنے واسطے چُن لیا کہ یہ قربانی کا گھر ہو۔
13 اگر میں آسمان کو بند کردوں کہ بارش نہ ہو یا ٹڈیوں کو حُکم دوں کہ مُلک کو اُجاڑ ڈالیں یا اپنے لوگوں کے درمیان وبا بھیجوں ۔
14 تب ار میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دُعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پھریں تو میں آسمان پر سے سُن کر اُن کا گناہ معاف کروں گا اور اُن کے مُلک کو بحال کروں گا۔
15 اب سے جو دُعا اس جگہ کی جائے گیا اُس پر میری آنکھیں کُھلی اور میرے کان لگے رہیں گے۔
16 کیونکہ میں نے اس گھر کو اب چُنا اور مُقدس کیا ہے کہ میرا نام یہاں سدار ہے اور میری آنکھیں اور میرادل برابر یہیں لگے رہیں گے۔
17 اور تُو اگر میرے حضور ویسے ہی چلے جیسے تیرا باپ داؤد چلتا رہا اور جو کُچھ میں نے تُجھ کو حُکم کیا اُس کے مُطابق عمل کرے اور میرے آئین اور احکام کو مانے۔
18 تو میں تیرے تختے سلطنت کو قائم رکھونگا جیسا میں نے تیرے باپ داؤد سے عہد کر کے کہا تھا کہ اسرائیل کا سردار ہونے کے لیئے تیرے ہاں مرد کی کبھی کمی نہ ہوگی ۔
19 پر اگر تُم برگشتہ ہو جاؤ اور میرے آئین و احکام کو جنکو میں نے تمہارے آگے رکھا ہے ترک کر دو اور جا کر غیر معبودوں کی عبادت کرو اور اُن کو سجدہ کرو۔
20 تو میں اُن کو اپنے اِس مُلک سے جو میں نے اُنکو دیا ہے جڑ سے اُکھاڑ ڈالوں گا اور اس گھر جسے میں نے اپنے نام کے لیئے مققر کیا ہے اپنے سامنے سے دور کردونگا اور اُسکو سب قوموں میں ضربُ المثل اور انگُشت نُما بنادونگا۔
21 اور یہ گھر جو ایسا عالیشان ہے سو ہر ایک جو اُسکے پاس سے گُزرے گا حیران ہوکر کہیگا کہ خُداوند نے اِس مُلک اور اس گھر کے ساتھ ایساکیوں کیا؟ ۔
22 تب وہ جواب دینگے اس لیئے کہ اُنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کو جو اُنکو مُلکِ مصر سے نکال لایا تھا ترک کیا اور غیر معبودوں کو اختیار کر کے اُنکو سجدہ کیا اور اُنکی عبادت کی ای لیئے خُداوند نے اُن پر یہ ساری مُصیبت نازل کی۔


باب 8

1 اور بیس برس کے آخر میں جن میں سلیمان نے خُداوند کا گھر اور اپنا ھر بنایا تھا یوں ہوا کہ۔
2 سلیمان نے اُن شہروں کو جو حُورام نے سلیمان کو دئے تھے پھر تعمیر کیا اور بنی اسرائیل کو وہاں بسایا۔
3 اور سلیمان حمات ضوباہ کو جاکر اُس پر غالب ہوا۔
4 اور اُس نے بیابان میں تدمور کو بنایا اور خزانہ ککے سب شہروں کو بھی جو اُس نے حمات میں بنائے تھے ۔
5 اور اُس نے اُوپر کے بیت حورون ر نیچے کے بیت حورون کو بنایا جو دیواروں اور پھاٹکوں اور اڑبنگوں سے مضبوط کیے ہوئے شہر تھے ۔
6 اور بعلت اور خزانہ کے سب شہر جو سلیمان کے تھے اور رتھوں کے سب شہر اور سواردوں کے شہر اور جو کُچھ سُلیمان چاہتا تھا کہ یروشلیم اور لُبنان اور اپنی مملکت کی ساری سر زمین میں بنائے وہ سب بنایا۔
7 اور وہ سب لوگ جو حِتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں میں سے باقی رہ گئے تھے ور اسرائیلی نہ تھے۔
8 اُن ہی کی اولاد جو اُن کے بعد مُلک میں باقی رہ گئی تھی جسے بنی اسرائیل نے نابود نہیں کیا اُسی میں سے سلیمان نے بیگاری مُقرر کیا جیسا آج کے دن ہے۔
9 پر سلیمان نے اپنے کام کے لیئے بنی اسرائیل میں سے کسی کو غُلام نہ بنایا بلکہ وہ جنگی مرد اور اُس کے لشکروں کے سردار اور اُس کے رتھوں اور سواروں پر حُکمران تھے ۔
10 اور سلیمان بادشاہ کے خاص منصبدار جو لوگو ں پر حکومت کرتے تھے دو سو پچا تھے۔
11 اور سلیمان فرعون کی بیٹی کو داؤد کے شہر سے اُس گھر میں جو اُس کے لیئے بنایا تھا لے آیا کیونکہ اُس نے کہا کہ میری بیوی اسرائیل کے بادشاہ داؤد کے گھر میں نہیں رہیگی کیونکہ وہ مقام مُقدس ہیں جن میں خُداوند کا صندوق آگیا ہے ۔
12 تب سُلیمان خُداوند کے لیئے خُداوند کے اُس مذبح پر جس کو اُس نے اُسارے کے سامنے بنایا تھا سوختنی قربانیاں چڑھانے لگا۔
13 وہ ہر روز کے فرض کے مُطابق جیسا موسیٰ نے حُکم دیا تھا سبتوں اور نئے چاندوں اور سال میں تین بار مُقررہ عیدوں یعنی فِطیری روٹی کی عید اور ہفتوں کی عید اور خیموں کی عید پر قربانی کرتا تھا۔
14 اور اُس نے اپنے با پ داؤد کے حُکم کے مُوافق کاہنوں کے فریقوں کو ہر روز کے فرض کے مُطابق اُن کے کام پر اور لاویوں کو اُن کی خدمت پر مُقرر کیا تاکہ وہ کاہنوں کے رُو برُو حمد اور خدمت کریں اور دربانوں کو بھی اُن کے فریقوں کے مُطابق ہر پھاٹک پر مُقرر کیا کیونکہ مردِ خُدا داؤد نے ایسا ہی حُکم دیاتھا۔
15 اور وہ بادشاہ کے حُکم سے جو اُس نے کاہنوں اور لاویوں کو کسی بات کی نسبت یا خزانوں کے حق میں دیا تھا باہر نہ آئے۔
16 اور سلیمان کا سارا کام خُداوند کے گھر کی بنیاد ڈالنے کے دن سے اُس کے تیار ہونے تک تمام ہوا اور خُداوند کا پُورا بن گیا۔
17 تب سلیمان عصیون جابر اور ایلوت کو گیا جو مُلک ادوم میں سمُندر کے کنارے ہیں۔
18 اور حُورام نے اپنے نوکروں کے ہاتھ سے جہازوں اور ملاحوں کو جو سمُندر سے واقف تھے اُس کے پاس بھیجا اور وہ سلیمان کے ملازموں کے ساتھ اوفیر میں آئے اور وہاں سے ساڑھے چارسَو قنطار سونا لے کر سلیمان بادشاہ کے پاس لائے۔


باب 9

1 جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی شہرت سُنی وہ مُشکل سوالوں سے سلیمان کو آزمانے کے لیئے بُہت بڑی جلو اور اُونٹوں کے ساتھ جن پر مصالح اور بافراط سونا اور جواہر تھے یروشلیم میں آئی اور سلیمان کے پاس آکر جو کُچھ اُس کے دل میں تھا سب کی بابت اُس سے گفتگو کی۔
2 سلیمان نے اُس کے سب سوالوں کا جواب اُسے دیا اور سلیمان سے کوئی بات پوشیدہ نہ تھی کہ وہ اُس کو بتا نہ سکا۔
3 جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی دانشمندی کو اور اُس گھر کو جو اُس نے بنایا تھا۔
4 اور اُس کے دستر خوان کی نعمت اور اُس کے خادموں کی نشست اور اُس کے ملازموں کی حاضر باشی اور اُسن کی پوشاک اور اُس کے ساقیوں اور اُن کے لباس کو اور اُس زینہ کو جس سے وہ خُداوند کے مسکن کو جاتا تھا دیکھا تو اُس کے ہوش اُڑ گئے۔
5 اور اُس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جومیں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے مُلک میں سُنی تھی۔
6 تَو بھی جب تک میں نے آ کر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا اُن کی باتوں کو باور نہ کیا اور دیکھ جتنی بڑی تیری حکمت ہے اس کا آدھا بیان بھی میرے آگے نہیں ہوا۔تو اُس شہرت سے بڑھ کر ہے جو میں نے سُنی تھی ۔
7 خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو سدا تیرے حضور کھڑے رہتے ہیں اور تیری حکمت سُنتے ہیں۔
8 خُداوند تیرا خُدا مُبارک ہے جو تُجھ سے ایسا راضی ہوا کہ تُجھ کو اپنے تخت پر بٹھایا تاکہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی طرف سے بادشاہ ہو ۔ چونکہ تیرے خُدا کو اسرائیل سے مُحبت تھی کہ اُن کو ہمیشہ کے لیئے قائم کرے اس لیئے اُس نے تُجھے اُن کا بادشاہ بنایا تاکہ تُو عدل و انصاف کرے۔
9 اور اُس نے ایک سَو بیس قنطار سونا اور مصالح کا بُہت بڑا انبار اور جواہر سلیمان کو دئے اور جو مصالح سبا کی ملکہ نے سلیمان کو دئے ویسے پھر کبھی میسر نہ آئے۔
10 اور حورام کے نوکر بھی اور سلیمان کے نوکر جو اوفیر سے سونا لاتے تھے وہ چندن کے درخت اور جواہر بھی لاتے تھے۔
11 اور بادشاہ نے چندن کی لکڑی سے خُداوند کے گھر کے لیئے اور شاہی محل کے لیئے چبوترے اور گانے والوں کے ئے بربط اورستار تیار کرائے اور ایسی چیزیں یہوداہ کے شہر میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھیں۔
12 اورسلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو جو کُچھ اُس نے چاہا اور مانگا اُس سے زیادہ جو وہ بادشاہ کے لیئے لائی تھی دیا اور وہ لوٹکر اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو چلی گئی۔
13 ور جتنا سونا سلیمان کے پاس ایک سال میںآتا تھا اُس کا وزن چھ سَو چھیاسٹھ قنطار سونے کا تھا ۔
14 یہ اُسکے علاوہ تھا جو بیوپاری اور سوداگر لاتے تھے اور عرب کے سب بادشاہ اور مُلک کے حاکم سلیمان کے پاس سونا اور چاندی لاتے تھے۔
15 اور سلیمان بادشاہ نے پیٹے ہوئے سونے کی دو سو بڑی ڈھالیں بنوائیں ۔چھ سو مثقال پیٹا ہوا سونا ایک ایک ڈھال میں لگا۔
16 اور اُس نے پیٹے ہوئے سونے کی تین سو ڈھالیں اور بنوائیں ۔ایک ایک ڈھال میں تین سو مثقال سونا لگا اور بادشاہ نے اُن کو لُبنانی بن کے گھر میں رکھا۔
17 اس کے سوا بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بنوایا اور اُس پر خالص سونا منڈھوایا۔
18 اور اُس تخت کے لیئے چھ سیڑھیاں اور سونے کا ایک پایدان تھا۔ یہ سب تخت سے جُڑے ہوئے تھے اور بیٹھنے کی جگہ کی دونوں طرف ایک ایک ٹیک تھی اور اُن ٹیکوں کے برابر شیر ببر کھڑے تھے۔
19 اور اُن چھؤں سیڑھیوں پر ادھر اور اُدھر بارہ شیر ببر کھڑے تھے ۔کسی سلطنت میں ایسا کبھی نہیں بنا تھا۔
20 اور سلیمان بادشاہ کے پینے سب برتن سونے کے تھے اور لُبنانی بن کے گھر کے سب برتن خالص سونے کے تھے۔سلیمان کے ایام میں چاندی کی کوئی قدر نہ تھی۔
21 کیونکہ بادشاہ کے پاس جہاز تھے جو حورام کے نوکروں کے ساتھ ترسیس کو جاتے تھے۔ ترسیس کے یہ جہاز تین برس میں ایک بار سونا اور چاندی اور ہاتھی دانت اور بندر اور مور لے کر آتے تھے۔
22 سو سلیمان بادشاہ دولت اور حکمت میں رویِ زمین کے سب بادشاہوں سے بڑھ گیا۔
23 اور رویِ زمین کے سب بادشاہ سلیمان کے دیدار کے مُشتاق تھے تاکہ وہ اُس کی حکمت کو جو خُدا نے اُس کے دل میں ڈالی تھی سُنیں ۔
24 اور وہ سال بسال اپنا اپنا ہدیہ یعنی چاندی کے برتن اور پوشاک اور ہتھیار اور مصالح اور گھوڑے اور خچر جتنے مُقرر تھے لاتے تھے۔
25 اور سلیمان کے پاس گھوڑوں اور رتھوں کے لیئے چار ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے جنکو اُس نے رتھوں کے شہروں اور یروشلیم میں بادشاہ کے پاس رکھا۔
26 اور وہ دریایِ فرات سے فلستیوں کے مُلک میں بلکہ مصر کی حد تک سب بادشاہوں پر حکمران تھا۔
27 اور بادشاہ نے یروشلیم میں افراط کی وجہ سے چاندی پتھروں کی مانند اور دیوار کے درختوں کو گولر کے اُن درختوں کے برابر کر دیا جو نشیب کی سر زمین میں ہیں۔
28 اور وہ مصر سے او اور سب مُلکوں سے سلیمان کے لیئے گھوڑے لایا کرتے تھے۔
29 اور سلیمان کے باقی کام شروع سے آخر تک کیا وہ ناتن نبی کی کتاب میں اور سیلانی اخیاہ کی پشینگوئی میں اور عید و غیب بین کی رویتوں کی کتاب میں جو اُس نے یربعام بن بناط کی بابت دیکھی تھیں مُندرج نہیں ہیں۔
30 اور سلیما نے یروشلیم میں سارے اسرائیل پر چالیس برس سلطنت کی۔
31 اور سلیمان اپنے باپ داؤد کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داؤد کے شہر میں دفن ہو ا اور اُس کا بیٹا رُحبعام اُس کی جگہ سلطنت کرنے لگا۔
20 اور سلیمان بادشاہ کے پینے سب برتن سونے کے تھے اور لُبنانی بن کے گھر کے سب برتن خالص سونے کے تھے۔سلیمان کے ایام میں چاندی کی کوئی قدر نہ تھی۔
21 کیونکہ بادشاہ کے پاس جہاز تھے جو حورام کے نوکروں کے ساتھ ترسیس کو جاتے تھے۔ ترسیس کے یہ جہاز تین برس میں ایک بار سونا اور چاندی اور ہاتھی دانت اور بندر اور مور لے کر آتے تھے۔
22 سو سلیمان بادشاہ دولت اور حکمت میں رویِ زمین کے سب بادشاہوں سے بڑھ گیا۔
23 اور رویِ زمین کے سب بادشاہ سلیمان کے دیدار کے مُشتاق تھے تاکہ وہ اُس کی حکمت کو جو خُدا نے اُس کے دل میں ڈالی تھی سُنیں ۔
24 اور وہ سال بسال اپنا اپنا ہدیہ یعنی چاندی کے برتن اور پوشاک اور ہتھیار اور مصالح اور گھوڑے اور خچر جتنے مُقرر تھے لاتے تھے۔
25 اور سلیمان کے پاس گھوڑوں اور رتھوں کے لیئے چار ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے جنکو اُس نے رتھوں کے شہروں اور یروشلیم میں بادشاہ کے پاس رکھا۔
26 اور وہ دریایِ فرات سے فلستیوں کے مُلک میں بلکہ مصر کی حد تک سب بادشاہوں پر حکمران تھا۔
27 اور بادشاہ نے یروشلیم میں افراط کی وجہ سے چاندی پتھروں کی مانند اور دیوار کے درختوں کو گولر کے اُن درختوں کے برابر کر دیا جو نشیب کی سر زمین میں ہیں۔
28 اور وہ مصر سے او اور سب مُلکوں سے سلیمان کے لیئے گھوڑے لایا کرتے تھے۔
29 اور سلیمان کے باقی کام شروع سے آخر تک کیا وہ ناتن نبی کی کتاب میں اور سیلانی اخیاہ کی پشینگوئی میں اور عید و غیب بین کی رویتوں کی کتاب میں جو اُس نے یربعام بن بناط کی بابت دیکھی تھیں مُندرج نہیں ہیں۔
30 اور سلیما نے یروشلیم میں سارے اسرائیل پر چالیس برس سلطنت کی۔
31 اور سلیمان اپنے باپ داؤد کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داؤد کے شہر میں دفن ہو ا اور اُس کا بیٹا رُحبعام اُس کی جگہ سلطنت کرنے لگا۔


باب 10

1 اور رحبعام سِکم کو گیا اس لیئے کہ سب اسرائیلی اُسے بادشاہ بنانے کو سِکم میں اکٹھے ہوئے تھے۔
2 جب نباط کے بیٹے یُربعام نے یہ سُنا کیونکہ وہ مصر میں تھا جہاں وہ سلیمان بادشاہ کے آگے سے بھاگ گیا تھا( تو یُربعام مصر سے لَوٹا۔
3 اور یُربعام اور سب اسرائیلی آئے اور رحبعام سے کہنے لگے۔
4 کہ تیری باپ نے ہمارا جُوا سخت کر رکھا تھا۔سو تُو اب اپنے باپ کی اُس سخت خدمت کو اور اُس بھاری جُوئے کو جو اُس نے ہم پرڈال رکھا تھا کُچھ ہلکا کر دے اور ہم تیری خدمت کرینگے۔
5 اور اُس نے اُن سے کہا تین دن کے بعد پھر میرے پاس آنا۔چنانچہ وہ لوگ چلے گئے۔
6 تب رحبعام بادشاہ نے اُن بزرگوں سے جو اُس کے باپ سلیمان کے حضور اُس کے جیتے جی کھڑے رہتے تھے مشورت کی اور کہا تمہاری کیا صلاح ہے ؟ میں ان لوگوں کو کیا جواب دوں؟۔
7 اُنہوں نے اُس سے کہا کہ اگر تُم ان لوگوں پر مہربان ہو اور اُن کو راضی کرے اور اُن سے اچھی اچھی باتیں کہے تو وہ ہمیشہ تیری خدمت کرینگے گے۔
8 لیکن اُس نے اُن بزرگوں کی صلاح کو جو اُنہوں نے اُسے دی تھی چھوڑ کر اُن جوانوں سے جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورش پائی تھی اور اُس کے آگے حاضر رہتے تھے مشورت کی۔
9 اور اُن سے کہا تُم مُجھے کیا صلاح دیتے ہو کہ ہم ان لوگوں کو کیا جواب دیں جنہوں نے مُجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ اُس جوئے کو جو تیرے باپ نے ہم پر رکھا کُچھ ہلکا کر؟
10 اُن جوانوں نے جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورش پائی تھی اُس سے کہا تُو اُن لوگوں کو جنہوں نے تُجھ سے کہا تیرے باپ نے ہمارے جُوئے کو بھاری کیا پر تُو اُس کو ہمارے لیئے کُچھ ہلکا کر دے یوں جواب دینا اور اُن سے کہنا کہ میری چھنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موتی ہے ۔
11 اور میرے باپ نو تو بھاری جوا تُم پر رکھا ہی تھا پر میں اُس جُوئے کو اور بھی بھاری کرونگا۔میرے باپ نے تُمیں کوڑوں سے ٹھیک کیا پر میں تُم کو بچھوؤں سے ٹھیک کروں گا۔
12 اور جیسا بادشاہ نے حُکم دیا تھا کہ تیسرے دن میرے پاس پھر آنا تیسرے دن یُربعام اور سب لوگ رحبعام کے پاس حاضر ہوئے۔
13 تب بادشاہ نے اُن کو سخت جواب دیا اور رحبعام بادشاہ نے بزرگوں کی صلاح کو چھوڑکر۔
14 جوانوں کی صلاح کے مُوافق اُن سے کہا کہ میرے باپ نے تُمہارا جُوا بھاری کیا پر میں اُس کو اور بھی بھاری کرونگا ۔میرے باپ نے تُم کو کوڑوں سے ٹھیک کیا پر میں تُم کو بچھوؤں سے ٹھیک کروں گا۔
15 سو بادشاہ نے لوگوں کی نہ مانیکیونکہ یہ خُدا ہی کی طرف سے تھا تاکہ خُداوند اس بات کو جو اُس نے سیلانی اخیاہ کی معرفت بناط کے بیٹے یُربعام کع فرمائی تھی پُورا کرے۔
16 جب سب اسرائیلیوں نے یہ دیکھا کہ بادشاہ نے اُن کی نہ مانی تو لوگوں نے بادشاہ کو جواب دیااور یوں کہا کہ داؤد کے ساتھ ہمارا کیا حصہ ہے ؟ یسی کے بیٹے کے ساتھ ہماری کُچھ میراث نہیں۔اَے اسرائیلیوں اپنے اپنے ڈیرے کو چلے جاؤ۔اب اَے داؤد اپنے ہی گھرانے کو سنبھال ۔پس سب اسرائیلی اپنے ڈیروں کو چلے گئے۔
17 لیکن اُن بنی اسرائیل پر جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے رحبعام سلطنت کرتا رہا۔
18 تب رحبعام بادشاہ نے ہدُورام کو جو بیگاریوں کادروغہ تھا بھیجا لیکن بنی اسرائیل نے اُس کو سنگسار کیا اور وہ مرگیا۔ تب رحبعام یروشلیم کو بھاگ جانے کے لیئے جھٹ اپنے رتھ پر سوار ہو گیا ۔
19 پس اسرائیلی آج کے دن تک داؤد کے گھرانے سے باغی ہیں ۔


باب 11

1 اور جب رحبعام یروشلیم میں آگیا تو اُس نے اسرائیل سے لڑنے کے لیئے یہوداہ اور بنیمین کے گھرانے میں سے ایک لاکھ اسَی ہزار چُنے ہوئے جوان جو جنگی مرد تھے فراہم کیے تاکہ وہ پھر مملکت کو رحبعام کے قبضہ میں کرادیں۔
2 لیکن خُداوند کا کلام مردِ خُدا سمعیاہ کو پُہنچا کہ۔
3 یہوداہ کے بادشاہ سلیمان کے بیٹے رحبعام سے اور سارے اسرائیل سے جویہوداہ اور بنیمین میں ہیں کہ ۔
4 خُداوند یُوں فرماتاہے کہ تُم چڑھائی نہ کرنا اور نہ اپنے بھائیوں سے لڑنا ۔تُم اپنے اپے گھر کو لَوٹ جاؤ کیونکہ یہ مُعاملہ میری طرف سے ہے ۔پس اُنہوں نے خُداوند کی باتیں مان لیں اور یُربعام پر چڑھائی کیے بغیر لَوٹ گئے۔
5 اور رحبعام یروشلیم میں رہنے لگا اور اُس نے یہوداہ میں حفاظت کے لیئے شہر بنائے۔
6 پس اُس نے بیت الحم اور عیطام اور تقُوع۔
7 اور بیت صور اور شوکو اور عدُلام ۔
8 اور جات اور مریسہ اورزیف۔
9 اور ادوریم اور لکیس اور عزیقہ۔
10 اور صُرعہ اور ایالون اور حُبرون کو جو یہوداہ اور بنیمین میں ہیں بنا کر قلعہ بند کر دیا۔
11 اور اُس نے قلعوں کو بُہت مضبوط کیا اور اُن میں سرداروں کو مُقرر کیا اور رسد اور تیل اور مے کے ذخیرہ کو رکھا ۔
12 اور ایک ایک شہر میں ڈھالیں اور بھالے رکھو اکر اُن کو نہایت ہی مضبوط کر دیا اور یہوداہ اور بنیمین اُسی کے رہے۔
13 اور کاہن اور لاوی جو سارے اسرائیل میں تھے اپنی اپنی سرحد سے نکل کر اُس کے پاس آگئے۔
14 کیونکہ لاوی اپنی گرِدہ نواحوں اور ملکیتوں کو چھوڑ کر یہوداہ اور یروشلیم میں آئے اس لیئے کہ یربعام اور اُسے کے بیٹوں نے اُنہیں نکال دیا تھا تاکہ وہ خُداوند کے حضور کہانت کی خدمت سر انجام نہ سینے پائیں۔
15 اور اُس نے اپنی طرف سے اُونچے مقاموں اور بکروں اور اپنے بنائے ہوئے بچھڑوں کے لیئے کاہن مُقرر کیے۔
16 اور لاویوں کے پیچھے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے ایسے لوگ جنہوں نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کی تلاش میں اپنا دل لگایا تھا یروشلیم میں آئے کہ خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے حضور قربانی چڑھائیں۔
17 سو اُنہوں نے یہوداہ کی سلطنت کو طاقتور بنا دیا اور تین برس تک سلیمان کے بیٹے رحبعام کو قوی بنا رکھا کیونکہ وہ تین برس تک داؤد اور سلیمان کی راہ پر چلتے رہے۔
18 اور رُحبعام نے محالات کو جو یریموت بن داؤد اور الیاب بن یسی کی بیٹی ابی خیل کی بیٹی تھی بیاہ لیا۔
19 اُس کے اُس سے بیٹے پیدا ہوئے یعنی یعوس اور سمریاہ اور زہم۔
20 اُس کے بعد اُس نے ابی سلوم کی بیٹی معکہ کو بیاہ لیا جس کے اُس سے ابیاہ اور عتی اور زیزا اور سلومیت پیدا ہوئے۔
21 اور رحبعام ابی سلوم کی بیٹی معکہ کو اپنی سب بیویوں اور حرموں سے زیادہ پیار کرتا تھا (کیونکہ اُس کی اٹھارہ بیویاں اور ساٹھ حرمیں تھیں اور اُس سے اٹھائیس بیٹے پیدا ہوئے اور ساٹھ بیٹیاں پیدا ہوئیں )۔
22 اور رحبعام نے ابیاہ بن معکہ کو پیشوا مُقرر کیا تاکہ اپنے بھائیوں میں سردار ہو کیونکہ اُس کا ارادہ تھا کہ اُسے بادشاہ بنائے ۔
23 اور اُس نے ہوشیاری کی اور اپنے بیٹوں کو یہوداہ اور بنیمین کی ساری مملکت کے بیچ ہر فصیل دار شہر میں الگ الگ کر دیا اور اُن کو بُہت خُورِش دی اور اُن کے لیئے بُہت سی بیویاں تلاش کیں۔


باب 12

1 اور یوں ہوا کہ جب رحبعام کی سلطنت مُستحکم ہو گئی اور وہ قوی بن گیا تو اُس نے اور اُس کے ساتھ سارے اسرائیل نے خُداوند کی شریعت کو ترک کیا۔
2 اور رحبعام بادشاہ کے پانچویں برس میں ایسا ہوا کہ مصر کا بادشاہ سیسق یروشلیم پر چڑ ھ آیا اس لیئے کہ اُنہوں نے خُداوند کی حُکم عدولی کی تھی۔
3 اور اُس کے ساتھ بارہ سَو رتھ اور ساٹھ سوار تھے اور لَوبی اور سُوکی اور کُوشی لوگو جو اُس کے ساتھ مصر سے آئے تھے بے شمار تھے۔
4 اور اُس نے یہوداہ کے فصیل دار شہر لے لیئے اور یروشلیم تک آئے۔
5 تب سمعیاہ نبی رحبعام کے اور یہوداہ کے اُمرا کے پاس جو سیسق کے ڈر کے مارے یروشلیم میں جمع ہوگئے تھے آیا اور اُن سے کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ تُم نے مُجھ کو ترک کیا اِسی لیئے میں نے بھی تُم کو سیسق کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔
6 تب اسرائیل کے اُمرا نے اور بادشاہ اپنے کو خاکسا ر بنایا اور کہا کہ خُداوند صادق ہے ۔
7 جب خُداوند نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے کو خاکسار بنایا تو خُداوند کا کلام سمعیاہ پر نازل ہوا کہ انہوں نے اپنے کو خاکسار بنایا ہے سو میں اُن کو ہلاک نہیں کرونگا بلکہ اُن کو کُچھ رہائی دونگا اور میرا غضب سیسق کے ہاتھ سے یروشلیم پر نازل نہ ہوگا ۔
8 تو بھی وہ اُس کے خادم ہونگے تاکہ وہ میری خدمت کو مُلک مُلک کی سلطنتوں کو جان لیں۔
9 سو مصر کا بادشاہ سیسق پر چڑھ آیا اور خُداوند کے گھر کے خزانے اور بادشاہ کے گھر کے خزانے لے گیا بلکہ سب کُچھ لے گیا اور سونے کی وہ ڈھالیں بھی جو سلیمان نے بنوائی تھیں لے گیا۔
10 اور رحبعام بادشاہ نے اُن کے بدلے پیتل کی ڈھالیں بنوائیں اور اُن کو محفظ سپاہیوں کے سرداروں کو جو شاہی محل کی نگہبانی کرتے تھے سونپا۔
11 اور جب بادشاہ خُداوند کے گھر میں جاتا تھا تو وہ محفظ سپاہی آتے اور اُن کو اُٹھا کر چلے جاتے تھے اور پھر اُن کو واپس لاکر سلاح خانہ میں رکھ دیتے تھے۔
12 اور جب اُس نے اپنے کو خاکسار بنایا تو خُداوند کا غضب اُس پر سے ٹل گیا اور اُس نے اُس کو پُورے طور سے تباہ نہ کیا اور نیز یہوداہ میں خوبیاں بھی تھیں ۔
13 سو رحبعام بادشاہ نے قوی ہو کر یروشلیم میں سلطنت کی۔ رحبعام جب سلطنت کرنے لگا تو اکتالیس برس کا تھا اور اُس نے یروشلیم میں یعنی اُس شہر میں جو خُداوند نے اسرائیل کی سب قبیلوں میں سے چُن لیا تھا کہ اپنا نام وہاں رکھے سترہ برس سلطنت کی اور اُس کی ماں کا نام نعمہ عمونیہ تھا۔
14 اور اُس نے بدی کی کیونکہ اُس نے خُداوند کی تلاش میں اپنا دل نہ لگایا۔
15 اور رحبعام کے کام ل سے آخر تک کیا وہ سمعیاہ نبی اور عید و غیب بین کی تواریخوں میں نسب ناموں کے مُطابق قلمبند نہیں؟ اور رحبعام اور یربعام کے درمیان ہمیشہ جنگ رہی۔
16 اور رحبعام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داؤد کے شہر میں دفن ہوا اور اُس کا بیٹا ابیاہ اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔


باب 13

1 یربعام بادشاہ کے اٹھارھویں برس سے ابیاہ یہوداہ پر سلطنت کرنے لگا۔
2 اُس نے یروشلیم میں تین برس سلطنت کی ۔اُس کی ماں کا نام میکایاہ تھا جو اوری ایل جبعی کی بیٹی تھیاور ابیاہ اور یربعام کے درمیان جنگ ہوئی۔
3 اور ابیاہ جنگی سورما ؤں کا لشکر یعنی چار لاکھ چُنے ہوئے مرد لیکر گیا اور یربعام نے اُس کے مقابلہ میں آٹھ لاکھ چُنے ہوئے مرد لے کر جو زبردست سورما تھے صف آرائی کی۔
4 اور ابیاہ صمریم کے پہاڑ پر جو افرائیم کے کوہستانی مُلک میں ہے کھڑا ہوا اور کہنے لگا اَے یربعام اور سب اسرائیلیوں میری سنو۔
5 کیا تُم کو معلوم نہیں کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا نے اسرائیل کی سلطنت داؤد ہی کو اور اُس کے بیٹوں کو نمک کے عہد سے ہمیشہ کے لیئے دی ہے؟۔
6 تو بھی نباط کا بیٹا یربعام جو سلیمان بن داؤد کا خادم تھا اُٹھ کر اپنے آقا سے باغی ہوا۔
7 اور اُس کے ہاس نکمے اور خبیث آدمی جمع ہوگئے جنہوں نے سلیمان کے بیٹے رُحبعام کے مقابلہ میں زور پکڑا جب رحبعام ہنوز جوان اور نرم دل تھا اور اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا ۔
8 اور اب تمہارا خیال ہے کہ تُم خُداوند کی بادشاہی کا جو داؤد کی اولاد کے ہاتھ میں ہے مقابلہ کرو اور تُم بھاری انبوہ و اور تمہارے ساتھ سنہلے بچھڑے ہیں جن کو یربعام نے بنایا کہ تمہارے معبود ہوں۔
9 کیا تُم نے ہارون کے بیٹوں اور لاویوں کو جو خُدا وند کے کاہن تھے خارج نہیں کیا اور اور مُلکوں کی قوموں کے طریقہ پراپنے لئے کاہن مقرر نہیں کیے ؟ ایسا کہ جو کوئی ایک بچھڑا اور سات مینڈھے لے کر اپنی تقدیس کرنے آئے وہ اُنکا جو حقیقت میں خُدا نہیں ہیں کاہن ہو سکے۔
10 لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ خُداوند ہمارا خُدا ہے اور ہم نے اُسے ترک نہیں کیا ہے اور ہمارے ہاں ہارون کے بیٹے کاہن ہیں جو خُداوند کی خدمت کرتے ہیں اور لاوی اپنے اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔
11 اور وہ ہر صبح اور ہر شام کو خُداوند کے حضور سوختنی قربانیاں اور خشبودار بخور جلاتے ہیں اور پاک میز پر نذر کی روٹیاں قاعدہ کے مُطابق رکھتے اور سُنہلے شمعدان اور اُس کے چراغوں ہر شام کو روشن کرتے ہیں کیونکہ ہم خُداوند اپنے خُدا کے حُکم کو مانتے ہیں پر تُم نے اُس کو ترک کردیا ہے۔
12 اور دیکھو خُدا ہمارے ساتھ ہمارا پیشوا ہے اور اُس کے قاہن تُمہارے خلاف سانس باندھ کر زور سے پھونکنے کو نرسنگے لیئے ہوئے ہیں۔ اَے بنی اسرائیل! خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا سے مت لڑو کیونکہ تُم کامیاب نہ ہوگے۔
13 پر یربعام نے اُن کے پیچھے کمین لگوادی ۔سو وہ بنی یہوداہ کے آگے رہے اور کمین پیچھے تھی۔
14 جب بنی یہوداہ نے پیچھے نظر کی تو کیا دیکھا کہ لڑائی اُن کے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے ہے اور اُنہوں نے خُدا سے فریاد کی اور کاہنوں نے نرسنگے پھونکے ۔
15 تب یہوداہ کے لوگوں نے للکارا اور جب اُنہوں نے للکارا تو ایسا ہوا کہ خُداوند نے ابیاہ اور یہوداہ کے آگے یربعام کو اور سارے اسرائیل کو مارا۔
16 اور بنی اسرائیل یہوداہ کے آگے سے بھاگے اور خُداوند نے اُن کو اُن کے ہاتھ میں کر دیا۔
17 اور ابیاہ نے اور اُس کے لوگوں نے اُن کو بڑی خون ریزی کے ساتھ قتل کیا سو اسرائیل کے پانچ لاکھ چُنے ہوئے مرد کھیت آئے۔
18 یوں بنی اسرائیل اُس وقت مغلوب ہوئے اور بنی یہوداہ غالب آئے اس لیئے کہ اُنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا پر بھروسہ کیا۔
19 اور ابیاہ نے یربعام کا پیچھا کیا اور اُن شہروں کو اُس سے لے لیا یعنی بیت ایل اور اُس کے دیہات ۔ یسانہ اور اُس کے دیہات ۔عفرون اور اُس کے دیہات۔
20 اور ابیاہ کے دنوں میں یربعام نے پھر زور نہ پکڑا اور خُداوند نے اُسے مارا اور وہ مرگیا۔
21 لیکن ابیاہ قوی ہوگیا اور اُس نے چودہ بیویاں بیاہیں اور اُس سے بائیس بیٹے اور سولہ بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔
22 اور ابیاہ کے باقی کام اور اُس کے حالات اور اُس کی کہادتیں عید و نبی ی تفسیر میں مندرج ہیں۔


باب 14

1 اور ابیاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور انہوں نے اُسے داؤد کے شہر میں دفن کیا اور اُس کا بیٹا آسا اُس کی جگہ بادشاہ ہوا ۔اُس کے دنوں میں دس برس تک مُلک میں امن رہا ۔
2 اور آسا نے وہی کیا جو خُداوند اُس کے خُدا کے حضور بھلا اور ٹھیک تھا۔
3 کیونکہ اُس نے اجنبی مذبحوں اور اُونچے مقاموں کو دور کیا اور لاٹوں کو گرا دیا اور یسیرتوں کو کاٹ ڈالا۔
4 اور یہوداہ کو حُکم کیا کہ خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے طالب ہوں اور شریعت اور فرمان پر عمل کریں۔
5 اور اُس نے یہوداہ کے سب شہروں میں سے اُونچے مقاموں اور سورج کی مورتوں کو دور کر دیا اور اُس کے سامنے سلطنت میں امن رہا ۔
6 اور اُس نے یہوداہ میں فصیل دار شہر بنائے کیونکہ مُلک میں امن تھا اور اُن برسوں میں اُسے جنگ نہ کرنا پڑا کیونکہ خُداوند نے اُسے امان بخشی تھی۔
7 اس لیئے اُس نے یہوداہ سے کہا کہ ہم یہ شہر تعمیر کریں اور اُن کے گرد دیوار اور بُرج بنائیں اور پھاٹک اور اڑبنگے لگائیں یہ مُلک ابھی ہمارے قابو میں ہے کیونکہ ہم خُداوند اپنے خُدا کے طالب ہوئے ہیں ۔ہم اُس کے طالب ہوئے اور اُس نے ہم کو چاروں طرف سے امان بخشی ہے۔سو انہوں نے اُس کو تعمیر کیا اور کامیاب ہوئے ۔
8 اور آسا کے پاس بنی یہوداہ کے تین لاکھ آدمیوں کا لشکر تھا جو ڈھال اور بھالا اُٹھاتے تھے اور بنیمین کے دو لاکھ اَسی ہزار تھے جو ڈھال اُٹھاتے اور تیر چلاتے تھے ۔یہ سب زبردست سورما تھے ۔
9 اور اُن کے مقابلہ میں زارح کُوشی دس لاکھ کی فوج اور تین سو رتھوں کو لے کر نکلا اور مریسہ میں آیا۔
10 اور آسا اُس کے مقابلہ کو گیا اور انہوں نے مریسہ کے بیچ صفاتہ کی وادی میں جنگ کے لیئے صف باندھی۔
11 اور آسا نے خُداوند اپنے خُدا سے فریاد کی اور کہا اے خُداوند زور آور اور کمزور کے مقابلہ میں مدد کرنے کو تیرے سِوا اور کوئی نہیں ۔اے خُداوند ہمارے خُدا تو ہماری مدد کر کیونکہ ہم تُجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور تیرے نام سے اس انبوہ کا سامنا کرنے آئے ہیں ۔تو اَے خُداوند ہمارا خُدا ہے ۔انسان تیرے مُقابلہ میں غالب ہونے نہ پائے۔
12 پس خُداوند نے آسا اور یہواہ کے آگے کُوشیوں کو مارا اور کُوشی بھاگے۔
13 اور آسا اور اُس کے لوگوں نے اُن کو جرار تک رگیدا اور کُوشیوں میں سے اتنے قتل ہوئے کہ وہ پھر سنبھل نہ سکے کیونکہ وہ خُداوند اور اُس کے لشکر کے آگے ہلاک ہوئے اور وہ بُہت سی لُوٹ لے آئے۔
14 اور انہوں نے جرار کے پاس کے سب شہروں کو مارا کیونکہ خپدا کا خوف اُن پر چھا گیا تھا اور انہوں نے سب شہروں کو لُوٹ لیا کیونکہ اُن میں بڑی لُوٹ تھی۔
15 اور اُنہوں نے مواشی کے ڈیروں پر بھی حملہ کیا اور کثرت سے بھیڑیں اور اونٹ لے کر یروشلیم کو لَوٹے۔


باب 15

1 اور خُدا کی روح عزریاہ بن عودِد پر نازل ہوئی ۔
2 اور وہ آسا سے ملنے کو گیا اور اُس سے کہا اَے آسا اور سارے یہوداہ اور بنیمین میری سنو۔خُداوند تُمہارے ساتھ ہے جب تک تُم اُس کے ساتھ ہو اور اگر تُم اُس کے طالب ہو تو وہ تُم کو ملیگا پر اگر تُم اُسے ترک کرو تو وہ تُم کو ترک کریگا۔
3 اب بڑی مُدت سے اسرائیل بغیر سچے خُدا اور بغیر سکھانے والے کاہن اور بغیر شریعت کے رہے ہیں۔
4 پر جب وہ اپنے دُکھ میں خُداوند اسرائیل کے خُدا کی طرف پھر کر اُس کے طالب ہوئے تو وہ اُن کو مل گیا۔
5 اور اُن دنوں میں اُسے جو باہر جاتا تھا اور اُسے جو اندر آتا تھا مُطلق چین نہ تھا بلکہ مُمالک کے سب باشندوں پر بڑی اذیتیں تھیں۔
6 قوم قوم کے مقابلہ میں اور شہر شہر کے مقابلہ میں پس گئے کیونکہ خُدا نے اُن کو ہر طرح مُصیبت سے تنگ کیا۔
7 لیکن تُم مضبوط بنواور تُمہارے ہاتھ ڈھیلے نہ ہونے پائیں کیونکہ تُمہارے کام کا اجر ملیگا ۔
8 جب آسا نے ان باتوں اور عودِد نبی کی نبوت کو سُنا تو اُس نے ہمت باندھ کر یہوداہ اور بنیمین کے سارے مُلک سے اور اُن شہروں سے جو اُس نے افرائیم کے کوہستانیُ لک میں سے لے لیئے تھے مکرُوہ چیزوں کو دور کر دیا اور خُداوند کے مذبح کو جو خُداوند کے اُسارے کے سامنے تھا پھر بنایا۔
9 اور اُس نے سارے یہوداہ اور بنیمین کو اور اُن لوگوں جو افرائیم اور منسی اور شمعون میں سے اُن کے درمیان بُودوباش کرتے تھے اکٹھا کیا کیونکہ جب اُنہوں نے دیکھا کہ خُداوند اُسکا خُدا اُس کے ساتھ ہے تو وہ اسرائیل میں سے بہ کثرت اُسکے پاس چلے آئے۔
10 وہ آسا کی سلطنت کے پندرھویں برس کے تیسرے مہینے میں یروشلیم میں جمع ہوئے۔
11 اور اُنہوں نے اُسی وقت اُس لوٹ میں سے جو وہ لائے تھے خُداوند کے حضور سات سَو بیل اور سات ہزار بھیڑیں قربانکیں۔
12 اور وہ اُس عہد میں شامل ہوگئے تاکہ اپنے سارے دل اپنی ساری جان سے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے طالب ہوں ۔
13 اور جو کوئی کیا چھوٹا کیا بڑا کیا مر د کیا عورت خُداوند اسرائیل کے خُدا کا طالب نہ ہو وہ قتل کیا جائے ۔
14 اور اُنہوں نے بڑی آواز سے للکار کر تُرہیوں اور نرسنگوں کے ساتھ خُداوند کیک حضور قسم کھائی۔
15 اور سارا یہوداہ اُس قسم سے باغ باغ ہو گیا کیونکہ اُنہوں نے اپنے سارے دل سے قسم کھائی تھی اور کمال آرزو سے خُداوند کے طالب ہوئے تھے اور وہ اُنکو ملااور خُداوند نے اُن کو چاروں طرف امان بخشی۔
16 اور آسا بادشاہ کی ماں معکہ کوبھی اُس نے ملکہ کے منصب سے اُتار دیا کیونکہ اُس نے یسیرت کے لیئے ایک مکرُوہ بُت بنایا تھا ۔سو آسا نے اُس کے بُت کو کاٹ کر چُور چُور کیا اور وادی قدرُون میں اُس کو جلا دیا۔
17 لیکن اُونچے مقام اسرائیل میں سے دور نہ کیے گئے تو بھی آسا کا دل عُمر بھر کامل رہا۔
18 اور اُس نے خپدا کے گھر میں وہ چیزیں جو اُص کے باپ نے مُقدس کی تھیں اور جو کُچھ اُس نے خود مُقدس کیا تھاداخل کر دیا یعنی چاندی اور سونا اور ظرُوف۔
19 اور آسا کی سلطنت کے پینتیسویں سال تک کوئی جنگ نہ ہوئی۔


باب 16

1 آسا کی سلطنت کے چھتیسویں برس اسرائیل کا بادشاہ بعشا یہوداہ پر چڑھ آیا اور رامہ کو تعمیرکیا تا کہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کے ہاں کسی کو آنے جانے نہ دے۔
2 تب آسا نے خُداوند کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں میں سے چاندی اور سونا نکال کر ارام کے بادشاہ بن ہدد کے پاس جو دمشق میں رہتا تھاروانہ کیا اور کہلا بھیجا کہ۔
3 میرے اور تیرے درمیان اور میرے باپ اور تیرے باپ کے درمیان عہد و پیمان ہے۔دیکھ میں نے تیرے لیئے چاندی اور سونا بھیجا ہے۔ سو تُو جا کر شاہ اسرائیل بعشا سے عہد شکنی کر تاکہ وہ میرے پاس سے چلا جائے۔
4 اور بن ہدد نے آسا بادشاہ کی بات مانی اور اپنے لشکروں کے سرداروں کو اسرائیلی شہروں پر چڑھائی کرنے کو بھیجا۔سو انہوں نے عیون اور دان اور ابیل مائم اور نفتالی کے ذخیرہ کے سب شہروں کو غارت کیا۔
5 جب بعشا نے یہ سُنا تو رامہ کا بنانا چھوڑا اور اپنا کام بند کر دیا۔
6 تب آسا بادشاہ نے سارے یہوداہ کو ساتھ لیا اور وہ رامہ کی پتھروں اور لکڑیوں کو جن سے بعشا تعمیر کر رہا تھا اُٹھا لے گئے اور اُس نے اُن سے جبعہ اور مِصفاہ کر تعمیر کیا۔
7 اُس وقت حنانی غیب بین یہوداہ کے بادشاہ آسا کے پاس آکر کہنے لگا چونکہ تُو نے ارام کے بادشاہ پر بھروسہ کیا اور خُداوند اپنے خُدا پر بھروسہ نہ رکھا اِسی سبب سے ارام کیبادشاہ کا لشکر تیرے ہاتھ سے بچ نکلا ہے ۔
8 کیا کَوشی اور لَوبی انبوہِ کثیر نہ تھے جن کے ساتھ گاڑیاں اور سوار بڑی کثرت سے تھے ؟ تَو بھی چونکہ تُو نے خُداوند پر بھروسہ رکھا اُس نے اُنکو تیرے ہاتھ میں کر دیا۔
9 کیونکہ خُداوند کی آنکھیں ساری زمین پر پھرتی ہیں تاکہ وہ اُن کی امداد میں جن کا دل اُس کی طرف کامل ہے اپنے تئیں قوی دکھائے۔ اس بات میں تُو نے بیوقوفی کی کیونکہ اب سے تیرے لیئے جنگ ہی جنگ ہے۔
10 تب آسا نے اُس غیب بین سے خفا ہو کر اُسے قید خانے میں ڈال دیا کیونکہ وہ اس کلام کے سبب سے نہایت غضبناک ہوا اور آسا نے اُس وقت لوگوں میں سے بعض اوروں پر بھی ظُلم کیا۔
11 اور دیکھو آسا کے کام شروع سے آخر تک یہوداہ اور اسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں۔
12 اور آسا کی سلطنت کے اُنتالیسویں برس اُس کے پاؤں میں ایک روگ لگا اور وہ روگ بُہت بڑھ گیا تو بھی وہ اپنی بیماری میں خُداوند کا طاپب نہیں بلکہ طبیبوں کا خواہاں ہوا۔
13 اور آسا اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا ۔اُس نے اپنی سلطنت کے اکتالیسویں بر میں وفات پائی۔
14 اور انہوں نے اُسے اُن قبروں میں جو اُس نے اپنے لیئے داؤد کے شہر میں کھدوائی تھیں دفن کیا اور اُسے اُس تابوت میں لٹا دیا جو عِطروں اور قسم قسم کے مصالج سے بھرا تھا جنکو عطاروں کی حکمت کے مُطابق تیار کیا تھا اور اُنہوں نے اُس کے لیئے اُن کو خُوب جلایا۔


باب 17

1 اور اُس کا بیٹا یہوسفط اُس کی جگہ بادشاہ ہوا اور اُس نے اسرائیل کے مُقابل اپنے آپ کو قوی کیا۔
2 اور اُس نے یہوداہ کے سب فصیل دار شہر وں میں فوجیں رکھیں اور یہوداہ کے مُلک میں اور افرائیم کے اُن شہروں میں جن کو اُس کے باپ آسا نے لے لیا تھاچوکیاں بٹھائیں۔
3 اور خُداوند یہوسفط کے ساتھ تھا کیونکہ اُس کی روِش اُس کے باپ داؤد کے پہلے طریقوں پر تھی اور وہ بعلیم کا طالب نہ ہوا۔
4 بلکہ اپنے باپ دادا کے خُدا کا طالب ہوا اور اُس کے حُکموں پر چلتا رہا اور اسرائیل کے سے کام نہ کیے۔
5 اس لیئے خُداوند نے اُس کے ہاتھ میں سلطنت کو مُستحکم کیا اور سارا یہوداہ یہوسفط کے پاس ہدئے لایا اور اُس کی دولت اور عزت بُہت فراوان ہوئی۔
6 اور اُس کا دل خُداوند کی راہوں میں بُہت مسرور تھا اور اُس نے اُونچے مقاموں اور یسیرتوں کو یہوداہ میں سے دور کیا۔
7 اور اپنی سلطنت کے تیسرے برس اُس نے بن خیل اور عبدیاہ اور زکریاہ کو اور نتنیل اور میکایاہ کو جو اُس کے اُمرا تھے یہوداہ کے شہروں میں تعلیم دینے کو بھیجا۔
8 اور اُن کے ساتھ یہ لاوی تھے یعنی سمعیاہ اور نتنیاہ اور زبدیلو اور عساہیل اور سمیرا موت اور یہونتن اور ادونیاہ اور طوبیاہ اور طوب ادونیاہ لاویوں میں سے اور اُن کے ساتھ الیسمع اور یہورام کاہنوں میں سے تھے۔
9 سو اُنہوں نے خُداوند کی شریعت کی کتاب ساتھ رکھ کر یہوداہ کو تعلیم دی اور وہ یہوداہ کے سب شہروں میں گئے اور لوگوں کو تعلیم دی۔
10 اور خُداوند کا خوف یہوداہ کے گرداگرد کے ممالک کی سب سلطنتوں میں چھاگیا یہوں تک کہ اُنہوں نے یہوسفط سے کبھی جنگ نہ کی۔
11 اور بعض فلستی یہو سفط کے پاس ہدئے اور خراج میں چاندی لائے اور عرب کے لوگ بھی اُس کے پاس ریوڑ لائے یعنی سات ہزار سات سو مینڈھے اور سات ہزار سات سو بکرے۔
12 اور یہوسفط بُہت ہی بڑھا اور اُس نے یہوداہ میں قلعے اور ذخیرہ کے شہر بنائے۔
13 اور یہوداہ کے شہروں میں اُس کے بُہت سے کاروبار اور یروشلیم میں اُس کے جنگی مرد یعنی زبردست سورما تھے۔
14 اور اُن کا شمار اپنے آبائی خاندان کے مُوافق یہ تھا۔یہوداہ میں سے ہزاروں کے سردار یہ تھے۔ سردار عدنہ اور اُس کے ساتھ تین لاکھ زبردست سورما۔
15 اور اُس سے دوسرے درجہ پر سردار یہو حنان اور اُس کے ساتھ دو لاکھ اسَی ہزار ۔
16 اور اُس سے نیچے عمسیاہ بن زکری تھا جس نے اپنے کو بخوشی خُداوند کے لیئے پیش کیا تھا اور اُس کے ساتھ دو لاکھ زبردست سورما تھے۔
17 اور بنیمین میں سے الیدع ایک زبردست سورما تھیاور اُس کے ساتھ کمان اور سپر سے مُسلح دو لاکھ تھے۔
18 اور اُس سے نیچے یہو زبد تھا اور اُس کے ساتھ ایک لاکھ اسَی ہزار تھے جو جنگ کے لیئے تیار رہتے تھے۔
19 یہ بادشاہ کے خدمت گزار تھے اور اُن سے الگ تھے جنکو بادشاہ نے تمام یہوداہ کے فصیل دار شہروں میں رکھا تھا۔


باب 18

1 اور یہو سفط کی دولت اور عزت فراوان تھی اور اُس نے اخی اب کے ساتھ ناتا جوڑا۔
2 اور چند برسوں کے بعد وہ اخی اب کے پاس سامریہ کو گیا اور اخی اب نے اُس کے اور اُس کے ساتھیوں کے لیئے بھیڑ بکریاں اور بیل کثرت سے ذبح کیے اور اُسے اپنے ساتھ رامات جلعاد پر چڑھائی کرنے کی ترغیب دی۔
3 اور اسرائیل کے بادشاہ اخی اب نے یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط سے کہا کیا تُو میرے ساتھ رامات جلعاد کو چلیگا؟اُس نے جواب دیا میں ویسا ہی ہوں جیسا تُو ہے اور میرے لوگ ایسے ہیں جیسے تیرے لوگ سو ہم لڑائی میں تیرے ساتھ ہونگے۔
4 اور یہو سفط نے شاہِ اسرائیل سے کہا آج ذرا خُداوند کی بات درہافت کرے۔
5 تب اسرائیل نے نبیوں کو جو چار سو مرد تھے اکٹھا کیا اور اُن سے پُوچھا ہم رامات جلعاد کو جائیں یا میں بعض رہوں؟اُنہوں نے کہا چڑھائی کر کیونکہ خُدا اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دیگا۔
6 پر یہو سفط نے اُن سے کہا کیا یہاں اِنکے سوا خُداوند کاکوئی نبی نہیں تاکہ ہم اُس سے پُوچھیں؟۔
7 شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا ایک شخص ہے تو سہی جس کے ذریعہ سے ہم خُدا وند سے پُوچھ سکتے ہیں لیکن مُجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے حق میں کبھی نیکی کی نہیں بلکہ ہمیشہ بدی کی پشیینگوئی کرتا ہے۔وہ شخص میکا یاہ بن اِملہ ہے یہوسفط نے کہا بادشاہ ایسا نہ کہے۔
8 تب شاہِاسرائیل نے ایک عُہدہ دار کو بُلا کر حُکم کیا کہ میکا یاہ بن اِملہ کو جلد لے آ۔
9 اور شاہِ اسرائیل اور شاہِ یہوداہ یہوسفط اپنے اپنے تخت پر اپنا اپنا لباس پہنے بیٹھے تھے اور سب انبیا اُنکے حضور نبوت کر رہے تھے۔
10 اور صدقیاہ بن کنعنہ مے اپنے لیئے لوہے کے سینگ بنائے اور کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ تُو ان سے دھکیلیگا جب تک کہ وہ فنا نہ ہوجائیں۔
11 اور سب نبیوں نے ایسی ہی نبوت کی اور کہتے رہے کہ رامات جلعاد کو جا اور کامیاب ہو کیونکہ خُداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دیگا ۔
12 اور اُس قاصد نے کو میکایاہ کو بُلانے گیا تھا اُس سے یہ کہا دیکھ سب انبیا ایک زُبان ہو کر بادشاہ کو وشخبری دے رہے ہیں ۔سو تیری بات بھی ذرا اُن کی بات کی طرح ہوااور تُو خوشخبری ہی دینا۔
13 میکایاہ نے کہا خُداوندکی حیات کی قسم جو کُچھ میرا خُدا فرمائیگا میں وہی کہونگا۔
14 جب وہ بادشاہ ے پاس پُہنچا تو بادشا نے اُس سے کہا میکایاہ ہم رامات جلعاد کو جنگ کے لیئے جائیں یا میں بعض رہوں؟ اُس نے کہا تُم چڑھائی کرو اور کامیاب ہو اور وہ تمہارے ہاتھ میں کردئے جائینگے۔
15 بادشاہ نے اُس سے کہا میں تُجھے کتنی بار قسم دیکر کہوں کہ تُو مُجھے خُداوندکے نام سے حق کے سوا اور کُچھ نہ بتائے۔
16 اُس نے کہا میں نے سب بنی اسرائیل کو پہاڑوں پر اُن بھیڑوں کی مانند پراگندہ دیکھا جنکا کوئی چرواہا نہ ہو اور خُدا نے کہا ان کا کوئی مالک نہیں۔سو ان میں سے ہر شخص اپنے گھر سلامت لوٹ جائے۔
17 تب شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا کیا میں نے تُجھ سے کہا نہ تھا کہ وہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پشینگوئی کرے گا؟۔
18 تب وہ بول اُٹھا اچھا تُم خُداوند کے سخن کو سنو ۔میں نے دیکھا کہ خُداوند اپنے تخت پر بیٹھا ہے اور سارا آسمانی لشکر اُس کے داہنے اور بائیں ہاتھ کھڑا ہے۔
19 اور خُداوند نے فرمایا کہ شاہِ اسرائیل اخی اب کو کون بہکایگا تاکہ وہ چڑھائی کرے اور رامات جلعاد میں مقتول ہو ؟اور کسی نے کُچھ اور کسی نے کُچھ کہا۔
20 تب ایک روح نکل کر خُداوند کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہنے لگی میں اُسے بہکاؤنگی۔خُداوند نے اُس سے پُوچھا کس طرح؟۔
21 خُداوند نے اُس سے پُوچھا کس طرح اُس نے کہا میں جاؤنگی اور اُس کے نبیوں کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح بن جاؤنگی ۔خُدانو نے اُسے کہا تُو اُسے بہکائے گی اور غالب بھی ہو گی۔جا اور ایسا ہی کر۔
22 سو دیکھ خُداوند نے تیرے ان سب نبیوں کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح ڈالی ہے اور خُداوند نے تیرے حق میں بدی کا حُکم دیا ہے۔
23 تب صدقیاہ بن کنعنہ نے پاس آ کر میکایاہ کے گال پر مارا اور کہنے لگا خُداوند کی روح تُجھ سے کلام کرنے کو کس راستے میرے پاس سے نکل کر گئی؟۔
24 میکایاہ نے کہا اُس دن دیکھا لے گا جب تُو اندر کی کوٹھری میں چھُپنے کو گُھسیگا۔
25 اور شاہِ اسرائیل نے کہا میکایاہ کو پکڑ کر اُسے شہر کے ناظم امون اور یوآس شہزادہ کے پاس لوٹا لے جاؤ۔
26 اور کہنا کہ بادشاہ یوں فرماتا ہے کہ جب تک میں سلامت واپس نہ آجاؤں اس آدمی کو قید خانہ میں رکھو اور اُسے مصیبت کی روٹی کھلانا اور مُصیبت کا پانی پلانا۔
27 میکایاہ نے کہا اگر تُو کبھی سلامت واپسآئے تو خُداوند نے میری معرفت کلام ہی نہیں کیا اور اُس نے کہا اَے لوگو تُم سے کے سب سُن لو۔
28 سو شاہِ اسرائیل اور شاۃ، یہوداہ یہوسفط نے رامات جلعاد پر چڑھائی کی۔
29 اور شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا پنا بھیس بدل کر لڑائی میں جاؤنگا پر تُو اپنا لباس پہنے رہ۔سو شاہِ اسرائیل نے بھی بدل لیا اور لڑائی میں گئے ۔
30 ادھر شاہِ ارام نے اپنے رتھوں کے سرداروں کو حُکم دیا تھا کہ اسرائیل کہ سوا کسی چھوٹے یا بڑے سے جنگ نہ کرنا۔
31 اور ایسا ہوا کہ جب رتھوں کے سرداروں نے یہوسفط کو دیکھا تو کہنے لگے شاہِ اسرائیل یہی ۔سو وہ اُس سے لڑے کو مُڑے لیکن یہوسفط چلا اُٹھا اور خُداوند نے اُس کی مدد کی اور خُدا نے اُن کو اُس کے پاس سے لوٹا دیا۔
32 جب رتھوں کے سرداروں نے دیکھا کہ شاہِ اسرائیل نہیں ہے تو اُس کا پیچھا چھوڑ کر لوٹ گئے۔
33 اور کسی شخص نے یوں ہی کمان کھینچی اور شاہِ اسرائیل کو جوشن کے بندوں کے بیچ مارا۔تب اُس نے اپنے ساتھی سے کہا باگ موڑ اور مُجھے لشکر سے نکال لے چل کیونکہ میں بُہت زخمی ہوگیا ہوں۔
34 اور اُس دن جنگ خوب ہی ہوئی تھی تو بھی شاہِ اسرائیل ارامیوں کے مقابل اپنے کو اپنے رتھ پر سنبھالے رہا اور سورج ڈوبنے کے قریب مر گیا۔


باب 19

1 اور شاہ یہوداہ یہو سفط یروشلیم کو اپنے محل میں سلامت لوٹا۔
2 تب حنانی غیب بین کا بیٹا یا ہو اُس کے استقبال کو نکلا اور یہوسفط بادشاہ سے کہنے لگا کیا مناسب ہے کہ تُو شریروں کی مدد کرے اور خُداوند کے دشمنوں سے محبت رکھے؟ اس بات کے سبب سے خُداوند کی طرف سے تُجھ پر غضب ہے۔
3 تو بھ تُجھ میں خوبیاں ہیں کیونکہ تُو نے یسیرتوں کو مُلک میں سے دفع کیا اور خُدا کی تلاش میں اپنا دل لگایا ہے۔
4 اور یہوسفط یروشلیم میں رہتا تھا اور اُس نے پھر بیر سبع سے افرائیم کے کوہستان تک لوگوں کے درمیان دورہ کر کے اُنکو خُداوند اُنکے باپ دادا کے خُدا کی طرف پھر رجوع کیا۔
5 اور اُس نے یہوداہ کے سب فصیل دار شہروں میں شہر بہ شہر قاضی مُقرر کیے۔
6 اور قاضیوں سے کہا کہ جو کُچھ کرو سوچ سمجھ کر کرو کیونکہ تُم آدمیوں کی طرف سے نہیں بلکہ خُداوند کی طرف سے عدالت کرتے ہو اور وہ فیصلہ میں تُمہارے ساتھ ہیں۔
7 پس خُداوند کا خوف تُم میں رہے ۔سو خبرداری سے کام کرنا کیونکہ خُداوند ہمارے خُدا میں بے انصافی نہیں ہے نہ کسی کی روداری نہ رشوت خوری ہے۔
8 اور یروشلیم میں بھی یہوسفط نے لاویوں اور کاہنوں اور اسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں میں سے لوگوں کو خُداوند کی عدالت اور مُقدموں کے لیئے مُقرر کیا اور وہ یروشلیم کو لوٹے۔
9 اور اُس نے اُن کو تاکید کی اور کہا کہ تُم خُداوند کے خوف سے دیانتداری اور کامل دل سے ایسا کرنا۔
10 اور جب کبھی تُمہارے بھائیوں کی طرف سے جو اپنے شہروں میں رہتے ہیں کوئی مقدمہ تمہارے سامنے آئے جو آپس کے خون سے یا شریعت اور فرمان یا آئین اور عدالت سے علاقہ رکھتا ہو تو تُم اُن کو آگاہ کر دینا کہ وہ خُداوند کا گناہ نہ کریں جس سے تُم پر تمہارے بھائیوں پر غضب نازل ہو۔ یہ کرو تو تُم سے خطا نہ ہوگی۔
11 اور دیکھو خُداوند کے سب مُعاملوں میں امریاہ کاہن تُمہارا سردار ہے اور بادشاہ کے سب مُعاملوں میں زبدیاہ بن اسمعٰیل ہے جو یہوداہ کے خاندان کا پیشوا ہے اور لاوی بھی تمہارے آگے سردار ہونگے ۔حوصلہ کے ساتھ کام کرنا اور خُداوند نیکون کے ساتھ ہو۔


باب 20

1 اُسکے بعد ایسا ہوا کہ بنی موآب اور بنی عمون اور اُن کے ساتھ بعض عمونیوں نے یہوسفط سے لڑنے کو چڑھائی کی۔
2 تب چند لوگوں نے آکر یہوسفط کو خبر دی کہ دریا کے پار ارام کی طرف سے ایک بڑا انبوہ تیرے مقابلہ کو آرہا ہے اور دیکھ وہ حصاصُون تمر میں ہیں جو عین جدی ہے۔
3 اور یہوسفط ڈر کر دل سے خُداوند کا طالب ہوا اور سارے یہوداہ میں روزہ کی منادی کرائی ۔
4 اور بنی یہوداہ خُداوند سے مدد مانگنے کو اکٹھے ہوئے بلکہ یہوداہ کے سب شہروں میں سے خُداوند سے مدد مانگنے کو آئے۔
5 اور یہوسفط یہوداہ اور یروشلیم کی جماعت کے درمیان خُداوند کے گھر میں نئے صحن کے آگے کھڑا ہوا ۔
6 اور کہا اَے خُداوند ہمارے باپ دادا کے خُدا کیا تُو ہی آسمان میں خُدا نہیں؟اور کیا قوموں کی سب مملکتوں پر حُکومت کرنے والا تُو ہی نہیں؟زور اور قُدرت تیرے ہاتھ میں ہے ایسا کہ کوئی تیرا سامنا نہیں کر سکتا۔
7 اے ہمارے خُدا ! کیا تُو ہی نے اس سر زمین کے باشندوں کو اپنی قوم اسرائیل کے آگے سے نکال کر اسے اپنے دوست ابرہام کی نسل کو ہمیشہ کے لیئے نہیں دیا؟۔
8 چُنانچہ وہ اس میں بس گئے اور اُنہوں نے تیرے نام کے لیئے اُس میں ایک مقدس بنایا ہے اور کہتے ہیں کہ۔
9 اگر کوئی بلا ہم پر آپڑے جیسے تلوار یا آفت یا دبا یا کال تو ہم اس گھر کے آگے اور تیرے حضور کھڑے ہونگے (کیونکہ تیرا نام اس گھر میں ہے(اور ہم اپنی مُصیبت میں تُجھ سے فریاد کرئینگے اور تُو سُنیگا اور بچا لیگا۔
10 سو اب دیکھ امون اور موآب اور کوہِ شعیر کے لوگ جن پر تُو نے بنی اسرائیل کو جب وہ مُلک مصر سے نکل کر آ رہے تھے حملہ کرنے نہ دیا بلکہ وہ اُن کی طرف سے مُڑ گئے اور اُن کو ہلاک نہ کیا۔
11 دیکھ ہم کو کیسا بدلہ دیتے ہیں کہ ہم کو تیری میراث سے جس کا تو نے ہم کو مالک بنایا ہے نکالنے کو آرہے ہیں۔
12 اے ہمارے خُدا کیا تُو اُن کی عدالت نہیں کریگا ؟کیونکہ اس بڑے انبوہ کے مقابل جو ہم پر چڑھا آتا ہے ہم کُچھ طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ کیا کریں بلکہ ہماری آنکھیں تُجھ پر لگی ہیں۔
13 اور سارا یہودا ہ اپنے بچوں اور بیویوں اور لڑکوں سمیت خُداوند کے حضور کھڑا رہا۔
14 تب جماعت کے بیچ یحزی ایل بن زکریاہ بن بنایاہ بن یعی ایل بن متنیاہ ایک لاوی پر جو بنی آسف میں سے تھا خُداوند کی روح نازل ہوئی۔
15 اور کہنے لگا اَے تمام یہوداہ اور یروشلیم کے باشندو اور اے بادشاہ یہوسفط تُم سب سُنو۔خُداوند تُم کو یوں فرماتا کہ تُم اس بڑے انبوہ کی وجہ سے نہ تو ڈرو نہ گھبراؤ کیونکہ یہ جنگ تمہاری نہیں بلکہ خُدا کی ہے۔
16 تُم کل اُن کا سامنا کرنے کو جانا۔ دیکھو وہ صیص کی چڑھائی سے آرہے ہیں اور دشت یروئیل کے سامنے وادی کے سرے پر تُم کو ملینگے۔
17 تُم کو اس جگہ میں لڑنا نہیں پڑیگا ۔اے یہوداہ اور یروشلیم! تُم قطار باندھکر چُپ چاپ کھڑے رہنا اور خُداوند کی نجات جو تمہارے ساتھ ہے دیکھنا۔خوف نہ کرو اور ہراسان نہ ہو۔کل اُن کے مقابلہ کو نکلنا کیونکہ خُداوند تمہارے ساتھ ہے۔
18 اور یہوسفط سر نگُون ہو کر زمین تک جھُکا اور تمام یہوداہ اور یروشلیم کے رہنے والوں نے خُدا کے آگے گھر کر اُس کو سجدہ کیا۔
19 اور بنی قہات اور بنی قورح کے لاوی بُلند آواز خُدا وند اسرائیل کے خُدا کی حمد کرنے کو کھڑے ہوگئے۔
20 اور وہ سُبح سویرے اُٹھکر دشت تقوع میں نکل گئے اور اُن کے چلتے وقت یہوسفط نے کھڑے ہو کر کہا اے یہوداہ اور یروشلیم کے باشندو !میری سُنو۔خُداوند اپنے خُدا پر ایمان رکھو تو تُم قائیم کیے جاؤ گے ۔اُس کے نبیوں کا یقین کرو تو تُم کامیاب ہو گے۔
21 اور جب اُس نے قوم سے مشورہ کر لیا تو اُن لوگوں کو مُقرر کیا جو لشکر کے آگے آگے چلتے ہوئے خُداوند کے لیئے گائیں اور حُسن تقدس کے ساتھ اُسکی حمد کریں اور کہیں کہ خُداوند کی شُُکر گزاری کرو کیونکہ اُس کی رحمت ابد تک ہے ۔
22 جب وہ گانے اور حمد کرنے لگے تو خُداوند نے بنی عمون اور موآب اور کوہِ شعیر کے باشندوں پر جو یہوداہ پر چڑھے آرہے تھے کمین والوں کو بیٹھا دیا۔سو وہ مارے گئے۔
23 کیونکہ بنی عمون اور موآب اور کوہِ شعیر کے باشندوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو ئے کہ اُن کو بالکل تہِ تیغ اور ہلاک کریں اور جب وہ شعیر کے باشندوں کا خاتمہ کر چُکے تو آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرنے لگے۔
24 اور جب یہواہ نے دید بانوں کے بُرج پر جو بیابان میں تھا پُہنچکر اُس انبوہ پر نظر کی تو کیا دیکھا کہ اُن کی لاشیں زمین پر پڑی ہیں اور کوئی نہ بچا۔
25 جب یہوسفط اور اُس کے لوگ اُن کا مال لوٹنے آئے تو اُنکو اس کثرت سے دولت اور لاشیں اور قیمتی جواہر جنکو اُنہوں نے اپنے لیئے اُتار لیا ملے کہ وہ اُنکو لے جا بھی نہ سکے اور مال غنیمت اتنا تھا کہ وہ تین دن تک اس کے بٹورنے میں لگے رہے۔
26 اور چوتھے دن وہ براکاہ کی وادی میں اکٹھے ہوئے کیونکہ اُنہوں نے وہاں خُداوند کو مُبارک کہا اس لیئے کہ اُس مقام کا نام آج تک براکاہ کی وادی ہے۔
27 تب وہ لوٹے یعنی یہوداہ اور یروشلیم کا ہر شخص اور اُن کے آگے آگے یہوسفط تاکہ وہ خوشی خوشی یروشلیم کو واپس جائیں کیونکہ خُداوند نے اُن کو اُن کے دشمنوں پر شادمان کیاتھا۔
28 سو وہ ستار اور بربط اور نرسنگے لیئے یروشلیم میں خُداوند کے گھر میں آئے۔
29 اور خُدا کا خوف اُن مُلکوں کی سب سلطنتوں پر چھاگیا جب اُنہوں نے سُنو کہ اسرائیل کے دشمنوں سے خُداوند کی لڑائی ہے۔
30 سو یہوسفط کی سلطنت میں امن رہا کیونکہ اُس کے خُدا نے اپسے کو چاروں طرف سے امان بخشی ۔
31 یہوسفط یہوداہ پر سلطنت کرتا رہا ۔جب وہ سلطنت کرنے لگا تو پینییس برس کا تھا اور اُس نے یروشلیم میں پچیس برس سلطنت کی اور اُس کی ماں کا نام عُزبہ تھا جو سلحی کی بیٹی تھی۔
32 اور وہ اپنے باپ آسا کی راہ پر چلا اور اُس سے نہ مُڑا یعنی وہی کیا جو خُدا کی نظر میں ٹھیک ہے ۔
33 تو بھی اُونچے مقام دور نہ کیے گئے تھے اور اب تک لوگوں نے اپنے باپ دادا کے خُدا سے دل نہیں لگایا تھا ۔
34 اور یہوسفط کے باقی کام شروع سے آخر تک یا ہو بن حنانی کی تاریخ میں درج ہیں جو اسرائیل کے سلاطین کی کتاب میں شامل ہے۔
35 اس کے بعد یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط نے اسرائیل کے بادشاہ اخزیاہ سے جو بڑابدکار تھا۔اتحاد کیا۔
36 اور اس لیئے اُس سے اتحاد کیا کہ ترسیس جانے کو جہاز بنائے اور اُنہوں نے عصیون جابر میں جہاز بنائے۔
37 تب الیعزر بن داؤد واہو نے جو مریسہ کا تھا یہوسفط کے برخلاف نبوت کی اور کہا اس لیئے کہ تُو نے اخزیاہ سے اتحاد کر لیا ہے خُداوند نے تیرے بنائے کو توڑ دیا۔ پس وہ جہاز ایسے ٹوٹے کہ ترسیس کو نہ جا سکے۔


باب 21

1 اور یہوسفط اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داؤد کے شہر میں اپنے باپ دادا کیساتھ دفن ہوا۔اور اُس کا بیٹا یہورام اُس کی جگہ سلطنت کرنے لگا۔
2 اور اُس کے بھائی جو یہوسفط کے بیٹے تھے یعنی عزریاہ اور ریحی ایل اور زکریاہ اور عزریاہ اور میکائیل اور سفطیاہ۔یہ سب شاہ اسرائیل یہوسفط کے بیٹے تھے۔
3 اور اُن کے باپ نے اُن کو چاندی اور سوے اور پیش قیمت چیزوں کے بڑے انعام اور فصیل دار شہر یہوداہ میں عطا کیے لیکن سلطنت یہورام کو دی کیونکہ وہ پہلوٹھا تھا۔
4 جب یہورام اپنے باپ کی سلطنت پر قائم ہو گیا اور اپنے کو قوی کر لیا تو اُس نے اپنے سب بھائیوں کو اور اسرائیل کے بعض سرداروں کو بھی تلوار سے قتل کیا۔
5 یہورام جب سلطنت کرنے لگا تو بتیس برس کا تھا اور اُس نے آٹھ برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔
6 اور وہ اخی اب کے گھرانے کی مانند اسرائیل کے بادشاہوں کی راہ پر چلا کیونکہ اخی اب کی بیٹی اُس کی بیوی تھی اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند کی نظر میں بُرا ہے۔
7 تو بھی خُداوند نے داؤد کے خاندان کو ہلاک کرنا نہ چاہا۔اُس عہد کے سبب سے جو اُس نے داؤد سے باندھا تھا اور جیسا اُس نے اُسے اور اُس کی نسل کو ہمیشہ کے لیئے ایک چراغ دینے کا وعدہ کیا تھا۔
8 اُسی کے دنوں میں ادوم یہوداہ کی حُکومت سے مُنحرف ہو گیا اور اپنے اُوپر ایک بادشاہ بنا لیا۔
9 تب یہورام اپنے امیروں اور اپنے سب رتھوں کو ساتھ لے کرعبور کر گیا اور رات کو اُٹھکر ادومیوں کو جو اُسے اور رتھوں کو گھیرے ہوئے تھے مارا۔
10 سو ادومی یہوداہ سے آج تک مُنحرف ہیں اور اُس ہی وقت لُبناہ بھی اُس کے ہاتھ سے نکل گیا کیونکہ اُس نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کو ترک کیا تھا۔
11 اور اُس کے علاوہ اُس نے یہوداہ کے پہاڑوں میں اُنچے مقا م بنائے اور یروشلیم کے باشندو ں کو زنا کار بنایا اور یہوداہ کو گُمراہ کیا۔
12 اور ایلیاہ نبی سے اُسے اِس مضمون کا خط ملا کہ خُداوند تیرے باپ داؤد کا خُدا یوں فرماتا ہے اس لیئے کہ تُو نہ اپنے باپ یہوسفط کی راہوں پر اور نہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کی راہوں پر چلا ۔
13 بلکہ اسرائیل کے بادشاہوں کی راہ پر چلا ہے اور یہوداہ اور یروشلیم کے باشندوں کو زنا کار بنایا جیسا اخی اب کے خاندان نے کیا تھا اور اپنے باپ کے گھرانے میں سے اپنے بھائیوں کو جو تُجھ سے اچھے تھے قتل بھی کیا۔
14 سو دیکھ خُداوند تیرے لوگوں کو اور تیرے بیٹوں اور تیری بیویوں کو اور تیرے سارے مال کو بڑی آفتوں سے ماریگا ۔
15 اور تُو انتڑیوں کے مرض کے سبب سے سخت بیمار ہو جائیگا یہاں تک کہ تیری انتڑیاں اپس مرض کے سبب سے روز بروز نکلتی جائینگی۔
16 اور خُداوند نے یہورام کے خلاف فلستیوں اور اُن عربوں کا جو کُوشیوں کی سمت میں رہتے ہیں دل اُبھارا۔
17 سو وہ یہوداہ پر چڑھائی کر کے اُس میں گُھس آئے اور سارے مال کو جو بادشاہ کے گھر میں ملا اور اُس کے بیٹوں اور اُس کی بیویوں کو بھی لے گئے ایسا ہو کہ یہوآخز کے سوا جو اُس کے بیٹوں میں سے سب سے چھوٹا تھا اُس کا کوئی بیٹا باقی نہ رہا۔
18 اور اس سب کے بعد خُداوند نے ایک لا علاج مرض اُسکی انتڑیوں میں لگادیا۔
19 اور کُچھ مُدت کے بعد دو برس کے آخر میں ایسا ہوا کہ اُس کے روگ کے مارے اُس کی انتڑیاں نکل پڑیں اور وہ بُری بیماریوں سے مرگیا اور اُس کے لوگوں نے اُس کے لیئے آگ نہ جلائی جیسا اُس کے باپ داؤد کے لیئے جلاتے تھے ۔
20 وہ بتیس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا اور اُس نے آٹھ برس یرشلیم میں سلطنت کی اور وہ بغیر ماتم کے رُخصت ہوا اور اُنہوں نے اُسے داؤد کے شہر میں دفن کیا پر شاہی قبروں میں نہیں۔


باب 22

1 اور یروشلیم کے باشندوں نے اُس کے سب سے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اُسکی جگہ بادشاہ بنایا کیونکہ لوگوں کے اُس جتھے نے جو عربوں کے ساتھ چھاونی میں آیا تھا سب بڑے بیٹوں کو قتل کر دیا تھا ۔سو شاہ یہوداہ یہورام کا بیٹا اخزیاہ بادشاہ ہوا۔
2 اخزیاہ بیالیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلیم میں ایک برس سلطنت کی ۔اُس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو عُمری کی بیٹی تھی۔
3 وہ بھی اخی اب کے خاندان کی راہ پر چلا کیونکہ اُس کی ماں اُس کو بدی کی مشورت دیتی تھی۔
4 اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی جیسا اخی اب کے خاندان نے کیا تھا کیونکہ اُس کے باپ کے مرنے کے بعد وہی اُس کے مُشیر تھے جس سے اُس کی بربادی ہوئی۔
5 اور اُس نے اُن کے مشرہ پر عمل بھی کیا اور شاہ اسرائیل اخی اب کے بیٹے یہورام کے ساتھ شاہ ارام حزائیل سے رامات جلعاد میں لڑنے کو گیا اور اموریوں نے یہورام کو زخمی کیا۔
6 اور وہ یزرعیل کو اُن زخموں کے علاج کے لیئے لَوٹا جو اُسے رامہ میں شاہ اِرام حزائیل کے ساتھ لڑتے وقت اُن لوگوں کے ہاتھ سے لگے تھے اور شاہ یہوداہ یہورام کا بیٹا عزریاہ یہورام بن اخی اب کو یزرعیل میں دیکھنے گیا کیونکہ وہ بیمار تھا۔
7 اور اخزیاہ کی ہلاکت خُدا کی طرف سے یوں ہوئی کہ وہ یہورام کے پاس گیا کیونکہ جب وہ پُہنچا تو یہورام کے ساتھ یاہوبن نمسی سے لڑنے کو گیا جسے خُداوند نے اخی اب کے خاندان کو کاٹ ڈالنے کے لیئے مسح کیا تھا۔
8 اور جب یا ہو اخی اب کے خاندان کو سزا دے رہا تھا تو اُس نے یہواہ کے سردار وں اور اخزیاہ کے بھائیوں کے بیٹوں کو اخزیاہ کی خدمت کرتے پایا اور اُن کو قتل کیا ۔
9 اور اُس نے اخزیاہ کو ڈھونڈا (وہ سامریہ میں چھُپا تھا ( سو وہ اُسے پکڑ کر یاہو کے پاس لائے اور اُسے قتل کیا اور اُنہوں نے اُسے دفن کیا کیونکہ وہ کہنے لگے کہ وہ یہو سفط کا بیٹا ہے جو اپنے سارے دل سے خُداوند کا طالب رہا اور اخزیاہ کے گھرانے میں سلطنت سنبھالنے کی طاقت کسی میں نہ رہی۔
10 جب اخزیاہ کی ماں عتلیاہ نے دیکھا کہ اُس کا بیٹا مر گیا تو اُس نے اُٹھ کر یہوداہ کے گھرانے کی ساری شاہی نسل کو نابود کر دیا۔
11 لیکن بادشاہ کی بیٹی یہو سبعت اخزیاہ کے بیٹے یو اس کو بادشاہ کے بیٹوں کے بیچ سے جو قتل کیے گئے چُرا لے گئی اور اُسے اور اُس کی دایہ کو بستروں کی کوٹھری میں رکھا۔سو یہورام بادشاہ کی بیٹی یہویدع کا ہن کی بیوی یہوسبعت نے (چونکہ وہ اخزیاہ کی بہن تھی( اُسے عتلیاہ سے ایسا چھُپایا کہ وہ اُسے قتل کرنے نہ پائی ۔
12 اور وہ اُن کے پاس خُدا کی ہیکل میں چھ برس تک چھُپا رہا عتلیاہ مُلک پر حکومت کرتی رہی۔


باب 23

1 اور ساتویں برس یہویدع نے زور پکڑا اور سینکٹروں کے سرداروں یعنی عزریاہ بن یہورام اور اسمٰعیل بن یہوحنان اور عزریاہ بن عوبید اور معسیاہ بن عدایاہ اور الیسا فط بن زکری سے عہد باندھا۔
2 وہ یہوداہ میں پھرے اور یہوداہ کے سب شہروں میں سے لاویوں کو اوراسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سرداروں کو اکٹھا کیا اور وہ یروشلیم میں آئے۔
3 اور ساری جماعت نے خُدا کے گھر میں بادشاہ کے ساتھ عہد باندھا اور یہویدع نے اُن سے کہا دیکھو یہ شاہزادہ جیسا خُداوند نے بنی داؤد کے حق میں فرمایا ہے سلطنت کریگا۔
4 جو کام تُم کو کرنا ہے وہ یہ ہے کہ تُم کاہنوں اور لاویوں میں سے جو سبت کو آتے ہو ایک تہائی دربان ہوں۔
5 اور ایک تہائی شاہی محل پر اور ایک تہائی بنیاد کے پھاٹک پر اور سب لوگ خُداوند کے گھر کے صحنوں میں ہوں۔
6 پر خُداوند کے گھر میں سوا کا ہنوں کے اور اُنکے جو لاویوں میں سے خدمت کرتے ہیں اور کوئی نہ آنے پائے۔ وہی اندر آئیں کیونکہ وہ مُقدس ہیں ۔لیکن سب لوگ خُداوند کا پہرہ دیتے ہیں ۔
7 اور لاوی اپنے اپنے ہاتھ میں اپے ہتھیار لیئے ہوئے بادشاہ کو چاروں طرف سے گھیرے رہیں اور جو کوئی ہیکل میں آئے قتل کیا جائے اور بادشاہ جب اندر آئے اور باہر نکلے تو تُم اُس کے ساتھ رہنا۔
8 سو لاویوں اور سارے یہوداہ نے یہودع کاہن کے ھُکم کے مُطابق سب کُچھ کیا اور اُن میں سے ہر شخص نے اپنے لوگوں کو لیا یعنی اُنکو جو سبت کو اندر آتے تھے اور اُن کو جو سبت کو باہر چلے جاتے تھے کیونکہ یہویدع کاہن نے باری والوں کو رُخصت نہیں کیاتھا۔
9 اور یہویدع کاہن نے داؤد بادشاہ کی برچھیاں اور ڈھالیں اور پھریاں جو خُداکے گھر میں تھیں سینکڑوں کے سرداروں کو دیں۔
10 اور اُس نے اپن سب لوگوں کو جو اپنا اپنا ہتھیار ہاتھ میں لیئے ہوئے تھے ہیکل کی دہنی طرف سے اُس کی بائیں طرف تک مذبح اور ہیکل کے پاس بادشاہ کے گرداگرد کھڑا کر دیا۔
11 پھر وہ شاہزادہ کو باہر لائے اور اُس کے سر پر تاج رکھ کر شہادت نام دیا اور اُسے بادشاہ بنایا اور یہویدع اور اُس کے بیٹوں نے اُسے مسح کیا اور وہ بو ل اُٹھے بادشاہ سلامت رہے!۔
12 جب عتلیاہ نے لوگوں کا شور سُنا جو دوڑ دوڑ کر بادشاہ کی تعریف کر رہے تھے تو وہ خُداوند کے گھر میں لوگوں کے پاس آئی۔
13 اور اُس نے نگاہ کی اور کیا دیکھا کہ بادشاہ پھاٹک میں اپنے ستون کے پاس کھڑاہے اور بادشاہ کے نزدیک اُمرا اور نرسنگے ہیں اور ساری مملکت کے لوگ خوش ہیں اور نرسنگے پھونک رہے ہیں اور گانے والے باجون کے لیے ہوئے مدح سرائی کرنے میں پیشوائی کر رہے ہیں ۔تب عتلیاہ نے اپنے کپڑے پھاڑے اور کہا غدر ہے غدر!۔
14 تب یہویدع کاہن سینکڑوں کے سرداروں کو جو لشکر پر مُقرر تھے باہر لے آیا اور اُن سے کہا کہ اُس کو صفوں کے بیچ کر کے نکال لے جاؤاور جو کوئی اُس کے پیچھے چلے وہ تلوار سے مارا جائے کیونکہ کاہن کہنے لگا کہ خُداوند کے گھر میں اُس قتل نہ کرؤ۔
15 سو اُنہوں نے اُس کے لیئے راستہ چھوڑ دیا اور وہ شاہی محل کے گھوڑا پھاٹک کے مدخل کو گئی اور وہاں اُنہوں نے اُسے قتل کر دیا۔
16 پھر یہویدع نے اپنے اور سب لوگوں اور بادشاہ کے درمیان عہد باندھا کہ وہُ داوند کے لوگ ہوں۔
17 تب سب لوگ بعل کے مندر کو گئیاور اُُسے ڈھایا اور اُنہوں نے اُس کے مذبحوں اور اُسکی مُورتوں کو چکنا چُور کیا اور بعل کے پُجاری متان کو مذبحوں کے سامنے قتل کیا ۔
18 اور یہویدع نے خُداوند کی ہیکل کی خدمت لاوی کاہنوں کے ہاتھوں میں سُونپی جنکو داؤد نے خُداوند کی ہیکل میں الگ الگ ٹھہرایا تھا کہ خُداوند کی سوختی قربانیاں جیسا موسیٰ کی توریت میں لکھا ہے خوشی مناتے ہوئے اور گاتے ہوئے داؤد کے دستور کے مُطابق گُزرانیں ۔
19 اور اُس نے خُداوند کی ہیکل کے پھاٹکوں پر دربانوں کو بیٹھایا تاکہ جو کوئی کسی طرح سے ناپاک ہو اندر آنے نہ پائے۔
20 اور اُس نے سینکڑوں کے سرداروں اور اُمرا اورقوم کے حاکموں .اور ملک کے سب لوگوں کو ساتھ لیا اور بادشاہ کو خُداوند کی ہیکل سے لے آیا اور وہ اُوپر کے پھاٹک سے شاہی محل میں آئے اور بادشاہ کو تختِ سلطنت پر بیٹھایا ۔
21 سو مُلک کے سب لوگوں نے خوشی منائی اور شہر میں امن ہوا اور اُنہوں نے عتلیاہ کو تلوار سے قتل کردیا۔


باب 24

1 یُوآس سات برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگااور اُس نے چالیس برس یروشلیم میں سلطنت کی اُس کی ماں کا نام ضبیاہ تھا جو بیر سبع کی تھی۔
2 اور یوآس یہویدع کاہن کے جیتے جی وہی جو خُداوند کی نظر میں ٹھیک ہے کرتا رہا۔
3 اور یہویدع نے اُسے دو بیویاں بیاہ دیں اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔
4 اُس کے بعد یوں ہوا کہ یوآس نے خُداوند کے گھر کی مرمت کا ارادہ کیا ۔
5 سو اُس نے کاہنوں اور لاویوں کو اکٹھا کیا اور اُن سے کہا کہ یہوداہ کے شہروں میں جاجا کر سارے اسرائیل سے سال بہ سال اپنے خُداوند کے گھر کی مرمت کے لیے روپیہ جمع کیا کرو اور اس کام میں تُم جلدی کرنا تو بھی لاویوں نے کُچھ جلدی نہ کی۔
6 تب بادشاہ نے یہویدع سردار کو بُلا کر اُس سے کہا کہ تُو نے لاویوں سے کیوں تقاضا نہیں کیا کہ وہ شہادت کے خیمہ کے لیئے یہوداہ اور یروشلیم سے خُداوند کے بندہ اور اسرائیل کی جماعت کے خادم موسیٰ کا محصول لایا کریں؟۔
7 کیونکہ اُس شریر عورت عتلیاہ کے بیٹوں نے خُدا کے گھر میں رخنے کر دئے تھے اور خُداوند کیگھر کی سب مُقدس کی ہوئی چیزیں بھی اُنہوں نے بعلیم کو دے دی تھیں۔
8 پس بادشاہ نے حُکم دیا اور اُنہوں نے ایک صندوق بنا کر اُسے خُداوند کے گھر کے دروازہ پر باہر رکھا۔
9 اور یہوداہ اور یروشلیم میں منادی کی کہ لوگ وہ محصول جسے بندہِ خُدا موسیٰ نے بیابان میں اسرائیل پر لگایا تھا خُداوند کے لیئے لائیں۔
10 اور سب سردار اور سب لوگ خوش ہوئے اور لا کر اُس صندوق میں ڈالتے رہے جب تک پُورا نہ کر دیا۔
11 جب صندوق لاویوں کے ہاتھ سے بادشاہ کے مُختاروں کے پاس پُہنچا اور اُنہوں نے دیکھا کہ اُس میں بُہت نقدی ہے تو بادشاہ کے مُنشی اور سردار کاہن کے نائب نے آکر صندوق کو خالی کیا اور اُسے لے کر پھر اُس کی جگہ پُہنچا دیااور روز ایسا ہی کر کے اُنہوں نے بُۃت سی نقدی جمع کر لی۔
12 پھر بادشاہ اور یہویدع نے اُسے اُن کو دے دیا جو خُداوند کے گھر کی عبادت کے کام پر مُقرر تھے اور اُنہوں نے سنگ تراشوں اور بڑھیؤں کو خُداوند کے ھر کو بحال کرنے کے لیئے اور لوہاروں اور ٹھٹھیروں کو بھی خُداوند کے گھر می مرمت کے لیئے مُزدوری پر رکھا۔
13 سو کاریگر لگ گئے اور کام اُن کے ہاتھ سے پُورا ہوتا گیا اور اُنہوں نے خُدا کے گھر کو اُس کی پہلی حالت پر کر کے اُسے مضبوط کر دیا۔
14 اور جب اُسے تمام کر چُکے تو باقی روپیہ بادشاہ اور یہویدع کے پاس لے آئے جس سے خُدانو کے گھر کے لیئے ظرُوف یعنی خدمت کے اور قربانی چڑھانے کے برتن اور چمچے اور سونے اور چاندی کے برتن بنے اور وہ یہویدع کے جیتے جی خُداوند کے گھر میں ہمیشہ سوختنی قربانیاں چڑھاتے رہے۔
15 لیکن یہوداہ نے بُڈھا اور عُمر رسیدہ ہو کر وفات پائی اور جب وہ مرا تو ایک سو تیس برس کا تھا ۔
16 اور اُنہوں نے اُسے داؤد کے شہر میں بادشاہوں کے ساتھ دفن کیا کیونکہ اُس نے اسرائیل میں اور خُدا اور اُس کے گھر کی خاطر نیکی کی تھی۔
17 اور یہویدع کے مرنے کے بعد یہوداہ کے سردار آ کر بادشاہ کے حضور کورنش بجالائے۔ تب بادشاہ نے اُن کی سُنی ۔
18 اور وہ خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے گھر کو چھوڑ کر یسیرتوں اور بُتوں کی پرستش کرنے لگے اور اُن کی اس خطا کے باعث یہوداہ اور یروشلیم پر غضب نازل ہوا۔
19 تو بھی خُداوند نبیوں کو اُنکے پاس بھیجا تاکہ اُن کو اُس کی طرف پھر لائیں اور وہ اُن کو الزام دیتے رہے پر اُنہوں نے کان نہ لگائے۔
20 تب خُدا کی روح یہویدع کاہن کے بئٹے زکریاہ پر نازل ہوئی ۔سو وہ لوگوں سے بُلند جگہ پر کھڑا ہو کر کہنے لگا خُدا یوں فرماتا کہ تُم کیوں خُداوند کے حُکموں سے باہر جاتے ہوکہ یوں خوش حال نہیں رہے سکتے؟چونکہ تُم نے خُداوند کو چھوڑا ہے۔اُس نے بھی تُم کو چھوڑ دیا۔
21 تب اُنہوں نے اُس کے خلاف سازش کی اور بادشاہ کے حُکم سے خُداوند کے گھر کے صحن میں اُسے سنگسار کر دیا۔
22 یوں یوآس بادشاہ نے اُس کے باپ یہوید ع کے احسان کو جو اُس نے اُن پر کیا تھا یاد نہ رکھا بلکہ اُس کے بیٹے کو قتل کیا اور مرت وقت اُس نے کہا خُداوند اس کو دیکھ اور انتقام لے۔
23 اور اُسی سال کے آخر میں ایسا ہوا کی ارامیوں کی فوج نے اُس پر چڑھائی کی اور یہوداہ اور یروشلیم میں آکر لوگوں میں سے قوم کے سب سرداروں کو ہلاک کیا اور اُنکا سارا مال لُوٹ کر دمشق کے بادشاہ کے پاس بھیج دیا۔
24 اگر چہ ارامیوں کے لشکر سے آدمیوں کا چھوٹا ہی جتھا آیا تو بھی خُداوند نے ایک نہایت بڑا لشکر اُن کے ہاتھ میں کر دیا اس لیئے کہ اُنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کو چھوڑ دیا تھا ۔سو اُنہوں نے یوآس کو اُس کے کیے کا بدلہ دیا۔
25 اور جب وہ اُس کے پاس سے لوٹ گئے (اُنہوں نے اُسے بڑی بیماریوں میں مُبتلا چھوڑا(تو اُسی کے ملازموں نے یہویدع کاہن کے بیٹوں کے خُون کے سبب سے اُس کے خلاف سازش کی اور اُسے اُس کے بستر پر قتل کیا اور وہ مرگیا اور اُنہوں نے اُسے داؤد کے شہر میں دفن تو کیا پر اُسے بادشاہوں کی قبروں میں دفن نہ کیا۔
26 اور اُس کے خلاف سازش کرنے والے یہ ہیں ۔عمونیہ سماعت کا بیٹا زبد اور موآبیہ سمرتیت کا بیٹا یہوزبد۔
27 اب رہے اُس کے بیٹے اور وہ بڑے بوجھ جو ااُس پر رکھے گئے اور خُداوند کے گھر کا دوبارہ بنانا۔سو دیکھ یہ سب کُچھ بادشاہوں کی کتاب کی تفسیر میں لکھا ہے اور اُس کا بیٹا امصیاہ اُسکی جگہ باشا ہ ہوا۔


باب 25

1 امصیاہ پچیس برس تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اُنتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی اُس کی ماں کا نام یہوعدان تھاجو یروشلیم کی تھی۔
2 اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند کی نظر میں ٹھیک ہے پر کامل دل سے نہیں۔
3 اور جب وہ سلطنت پر جم گیا تو اُس نے اپنے اُن ملازموں کو جنہوں نے اُس کے باپ بادشاہ ن کو مار ڈالا تھا قتل کیا ۔
4 پر اُن کی اولاد کو جان سے نہیں مارا بلکہ اُسی کے مُطابق کیا جو موسیٰ کی کتاب توریت میں لکھا ہے جیساخُداوند نے فرمایا کہ بیٹوں کے بدلے باپ دادا نے مارے جائیں بلکہ ہر آدمی اپنے ہی گناہ کے لیئے مارا جائے۔
5 اس کے سوا امصیاہ نے یہوداہ کو اکٹھا کیا اور اُن کو اُن کے آبائی خاندانوں کے مُوافق تمام مُلک یہوداہ اور بنیمین میں ہزار ہزار کے سرداروں اور سَو سَو کے سرداروں کے نیچے ٹھہرایا اور اُن میں سے جن کی عُمر بیس برس یا اُس سے اُوپر تھی اُنکو شمار کیا او ر اُن کو تین لاکھ چُنے ہوئے مرد پایا جو جنگ میں جانے کے قابل اور برچھی اور ڈھال سے کام لے سکتے تھے۔
6 اور اُس نے سَو قنطار چاندی دے کر اسرائیل میں سے ایک لاکھ زبردست سُورما نوکر رکھے۔
7 لیکن ایک مردِ خُدا نے اُس کے پاس آ کر کہا اَے بادشاہ اسرائیل کی فوج تیرے ساتھ جانے نہ پائے کیونکہ خُداوند اسرائیل یعنی سب بنی افرائیم کے ساتھ نہیں ہے۔
8 پر اگر تُو جانا ہی چاہتا ہے تو جا اور لڑائی کے لیئیمضبوط ہو۔خُدا تُجھے دشمنوں کے آگے گرائیگا کیونکہ خُدا میں سنبھالنے اور گرانے کی طاقت ہے۔
9 امصیاہ نے اُس مردِ خُدا سے کہا لیکن سَو قنطاروں کے لیئے جو میں نے اسرائیل لشکر کو دئے ہم کیا کریں؟اُس مردِ خُدا نے جواب دیا خُداوند تُجھے اس سے بُۃت زیادہ دے سکتا ہے۔
10 تب امصیاہ نے اُس لشکر کو جو افرائیم میں سے اُسکے پاس آیا تھا جُدا کیا تاکہ وہ پھر اپنے گھر جائیں۔اس سبب سے اُن کا غصہ یہوداہ پر بُہت بھڑکا اور وہ نہایت غصہ میں گھر کو لوٹے۔
11 اور امصیاہ نے حوصلہ باندھا اور اپنے لوگوں کو لے کر وادی شور کو گیا اور بنی شعیر میں سے دس ہزار کو ماردیا۔
12 اور دس ہزار کو بند یہوداہ جیتا پکڑ کر لے گئے اور اُن کو ایک چٹان کی چوٹی پر پُہنچایا اور اُس چٹان کی چوٹی پر سے اپن کو نیچے گرادیا ایسا کے سب کے سب ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
13 پر اُس لشکر کے لوگ جن کو امصیاہ نے لوٹا دیا تھا کہ اُس کے ساتھ جنگ میں نہ جائیں سامریہ سے بیت حورُون تک یہوداہ کے شہر پر ٹوٹ پڑے اور اُن میں سے تین ہزار جوانوں کو مار ڈالا اور بُہت سی لوٹ لے گئے۔
14 جب امصیاہ ادومیوں کے قتال سے لوٹا تو بنی شعیر کے دیوتاؤں کو لیتا آیااور اُن کو نصب کیا تا کہ وہ اُس کے معبود ہوں اور اُن کے آگے سجدہ کیا اور اُن کے آگے بخور جلائے۔
15 اس لیئے خُداوند کا غضب امصیاہ پر بھڑکا اور اُس نے ایک نبی کو اُس کے پاس بھیجا جس نے اُس سے کہا تُواُن لوگوں کے دیوتاؤں کا طالب کیوں ہوا جنہوں نے اپنے ہی لوگوں کو تیرے ہاتھ سے نہ چھُڑایا؟۔
16 وہ اُن سے باتیں کر ہی رہا تھا کہ اپس نے اُس سے کہا کہ کیا ہم نے تُجھے بادشاہ کا مُشِربنایا ہے ؟چُپ تُو کیوں مار کھائے؟ تب وہ نبی یہ کہہ کر چُپ ہو گیا کہ میں جانتا ہوں کہ خُدا کا ارادہ یہ ہے کہ تُجھے ہلاک کرے اس لیئے کہ تُو نے یہ کیا ہے اور میری مشورت نہیں مانی۔
17 تب یہوداہ کے بادشاہ امصیاہ نے مشورہ کر کے اسرائیل کے بادشاہ یوآس بن یہو آخز بن یا ہو کے پس کہلا بھیجا کہ ذرا آ تو ہم ایک دوسرے کا مُقابلہ کریں۔
18 سو اسرائیل کے بادشاہ یوآس نے یہوداہ کے بادشاہ امصیاہ کو کہلا بھیجا کہ لُبنان کے اُونٹکٹارے نے لُبنان کے دیوار کو پیغام بھیجا کہ اپنی بیٹی میرے بیٹے کو بیاہ دے ۔اتنے میں ایک جنگلی درندہ جو لُبنان میں رہتا تھا گُزرا اور اُس نے اُونٹکٹارے کو روند ڈالا۔
19 تو کہتا ہے دیکھ میں نے ادومیون کو مارا سو تیرے دل میں گھمنڈ سما یا ہے کہ فخر کرے۔گھر ہی میں بیٹھا رہ تُو کیوں اپنے نقصان کے لیئے سدت اندازی کرتا ہے کہ تُو بھی گرے اور تیرے ساتھ یہوداہ بھی؟۔
20 لیکن امصیاہ نے نہ مانا کیونکہ یہ خُدا کی طرف سے تھا کہ وہ اُن کو اُن کے دشمن کے ہاتھ میں کردے اس لیئے کہ ادومیوں کے معبودوں کے طالب ہوئے تھے۔
21 سو اسرائیل کا بادشاہ یوآس چڑھ آیا اور وہ اور شاہِ یہوداہ امصیا ہ یہوداہ کے بیت شمس میں ایک دوسرے کے مقابل ہوئے۔
22 اور یہوداہ نے اسرائیل کے مُقابلہ میں شکست کھائی اور اُن میں سے ہر ایک اپنے ڈیرے کو بھاگا۔
23 اور شاہِ اسرائیل یوآس نے شاہِ یہوداہ امصیاہ بن یوآس بن یہو آخز کو بیت شمس میں پکڑ لیا اور اُسے یروشلیم میں لایا اور یروشلیم کی دیوار افرائیم کے پھاٹک سے کونے کے پھاٹک تک چار سو ہاتھ ڈھادی۔
24 اور سارے سونے اور چاندی اور سب برتنوں کو جو عوبیدادوم کے پاس خُدا کے گھر میں ملے اور شاہی محل کے خزانوں کو اور کفیلوں کو بھی لے کر سامریہ کو لوٹا۔
25 اور شاہِ یہوداہ امصیاہ بن یوآس شاہِ اسرائیل یوآس بن یہو آخز کے مرنے کے بعد پندرہ برس جیتا رہا۔
26 اور امصیاہ کے باقی کام شروع سے آخر تک یا وہ یہوداہ اور اسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند نہیں ہیں؟۔
27 اور جب سے امصیاہ خُداوند کی پیروی سے پھر اتب ہی ے یرولیم کے لوگوں نے اُس کیخلاف سازش کی ۔سو وہ لکیس کو بھاگ گیا پر اُنہوں نے لکیس میں اُسکے پیچھے لوگ بھیجکر اُسے وہاں قتل کیا۔
28 اور وہ اُسے گھوڑوں پر لے آئے اور یہوداہ کے شہر میں اُس کے باپ دادا کے ساتھ اپسے دفن کیا۔


باب 26

1 تب یہوداہ کے سب لوگوں نے عُزریاہ کو جو سولہ برس کاتھا لے کر اُسے اُس کے باپ امصیاہ کی جگہ بادشاہ بنایا۔
2 اُس نے بادشاہ کے اپنے باپ دادا ے ساتھ سو جانے کے بعد ایلوُت کو تعمیر کیا اور اُسے پھر یہوداہ میں شامل کر دیا۔
3 عُزریاہ سولہ برس کاتھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلیم میں باون برس سلطنت کی ۔اُس کی ماں کا نام یکولیاہ تھا جو یروشلیم کی تھی۔
4 اُس نے وہی جو خُداوند کی نظر میں درست ہے ٹھیک اُسی کے مُطابق کیا جو اُس کے باپ امصیاہ نے کیا تھا۔
5 اور وہ زکریاہ کے دنوں میں جو خُدا کی رویتوں میں ماہر تھا خُدا کا طالب رہا اور جب تک وہ خُداوند کا طالب رہا خُدا نے اُس کو کامیاب رکھا ۔
6 اور وہ نکلا اور فلستیوں سے لڑا اور جات کی دیوار کو اور یبنہ کی دیوار کو اور اشدُود کی دیوار کو ڈھا دیا اور اشدُود کے مُلک میں اور فلستیوں کے درمیان شہر تعمیر کیے۔
7 اور خُدا نے فلستیوں اور جُور بعل کے رہنے والے عربوں اور معونیوں کے مُقابلہ میں اُسکی مدد کی۔
8 اور عمونی عُزریاہ کو نذرانے دینے لگے اور اُس کا نام مصر کی سرحد تک پھیل گیا کیونکہ وہ نہایت زور آور ہوگیا تھا۔
9 اور عُزریاہ نے یروشلیم میں کونے کے پھاٹک اور وادی کے پھاٹک اور دیوار کے موٹر پر بُرج بنوائے اوراُنکو مُحکم کیا۔
10 اُس نے بیابان میں بُرج بنوائے اور بُہت سے حوض کھدوائے کیونکہ نشیب کی زمین میں بھی اور میدان میں اُس کے بُہت چوپائے تھے اور پہاڑوں اور ذرخیز کھیتوں میں اُس کے کسان اور تاکستانوں کے مالی تھے کیونکہ کاشتکاری اُسے بُہت پسند تھی۔
11 اُس کے سوا عُزریاہ کے پاس جنگی مردوں کو لشکر تھا جو یعیئیل مُنشی اور معسیاہ ناظم کے شمار کے مُطابق غول غول ہو کر باشاہ کے ایک سردار حنانیاہ کے کے ماتحت لڑائی پر جاتا تھا۔
12 اور آبائی خاندانوں کے سرداروں یعنی زبردست سورماؤں کا کُل شمار دو ہزار چھ سو تھا۔
13 اور اُن کے ماتحت تین لاکھ ساڑھے سات ہزار کا زبردست لشکر تھا جو دشمن کے مُقابلہ میں بادشاہ کی مدد کرنے کو بڑے زور سے لڑتا تھا۔
14 اورعُزریاہ نے اُن کے لیئے یعنی سارے لشکر کے لیئے ڈھالیں اور برچھے اور خود اور بکتر اور کمانیں اور فلاخن کے لیے پتھر تیار کیے۔
15 اور اُس نے یروشلیم میں ہُنر مند لوگوں کو ایجاد کی ہوئی کلیں بنوائیں تاکہ وہ تیر چلانے اور بڑے بڑے پتھر پھینکنے کے لیئے بُرجوں اور فصیلوں پر ہوں ۔سو اُس کا نام دور تک پھیل گیا کیونکہ اُس کی مدد ایسی عجیب طرح سے ہوئی کہ وہ زور آور ہوگیا۔
16 لیکن جب وہ زور آور ہو گیا تو اُس کا دل اس قدر پُھول گیا کہ وہ خراب ہو گیا اور خُداوند اپنے کی نافرمانی کرنے لگا چُنانچہ وہ خُداوند کی ہیکل میں گیا تاکہ بخور کی قربان گاہ پر بخور جلائے۔
17 تب عُزریاہ کاہن اُس کے پیچھے پیچھے گیا اور اُس کے ساتھ خُداوند کے اسی کاہن اور تھے جو بہادر آدمی تھے۔
18 او ر اُنہوں نے عُزریاہ بادشاہ کا سامنا کیا اور اُس سے کہنے لگے اے عُزریاہ خُداوند کے لیئے بخور جلانا تیرا کام نہیں بلکہ کاہنوں یعنی ہارون کے بیٹوں کا کام ہے جو بخور جلانے کے لیئے مُقدس کیے گئے ہیں۔ سو مقدس سے باہر جا کیونکہ تُو نے خطا کی ہے اور خُداوند خُدا کی طرف سے یہ تیر ی عزت کا باعث نہ ہو گا۔
19 تب عُزریاہ غُصہ ہوا اور خوشبو جلانے کو بخور دان اپنے ہاتھ میں لیئے ہوا تھا اور جب وہ کاہنوں پر جُھنجھلا رہا تھاتو کاہنوں کے سامنے ہی خُداوند کے گھر کے امذر بخور کی قربانگاہ کے پاس اُس کی پیشانی پر کوڑھ پُھوٹ نکلا۔
20 اور سردار کاہنوں عُزریاہ اور سب کاہنوں نے اُس پر نظر کی اور کیا دیکھا کہ اُس کی پیشانی پر کوڑھ نکلا ہے۔سو اُنہوں نے اُسے جلد وہاں سے نکالا بلکہ اُس نے خود بھی باہر جانے کی جلدی کی کیونکہ خُداوند کی ماراُس پر پڑی تھی ۔
21 چُنانچہ عُزریاہ بادشاہ اپنے مرنے کے دن تک کوڑھی رہا اور کوڑھی ہونے کی وہجہ سے ایک الگ گھر میں رہتا تھا کیونکہ وہ خُداوند کے گھر سے کاٹ ڈالا گیا تھا اور اُس کا بیٹا یوتام بادشاہ کے گھر کا مُختار تھا اور مُلک کے لوگوں کا انصاف کرتا تھا۔
22 اور عُزریاہ کے باقی کام شروع سے آخر تک آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی نے لکھے ۔
23 سو عُزریاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے قبرستان کے میدان میں جو بادشاہوں کا تھا اُسکے باپ دادا کے ساتھ اُس کو دفن کیا کیونکہ وہ کہنے لگے کہ وہ کوڑھی ہے اور اُس کا بیٹا یوتام اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔


باب 27

1 یُوتام پچیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے سولہ برس یروشلیم میں سلطنت کی۔اُس کی ماں کا نام یرُوسہ تھاجو صدُدق کی بیٹی تھی۔
2 اور اُس نے وہی جو خُداوند کی نظر میں درست ہے ٹھیک ایسا ہی کیا جیسا اُس کے باپ عُزیاہ نے کیا تھا مگر وہ خُداوند کی ہیکل میں نہ گُھسا پر لوگ گناہ کرتے ہی رہے ۔
3 اور اُس نے خُداوند کے گھر کا بالائی دروازہ بنایا او ر عوفل کی دیوار پر اُس بُہت کُچھ تعمیر کیا۔
4 اور یہوداہ کے کوہستانی مُلک میں اُس نے شہر تعمیر کیے اور جنگلوں میں قلعے اور بُرج بنوائے۔
5 وہ بنی عمون کے بادشاہ سے بھی لڑا اور اُن پر غالب ہوا اور اُسی سال بنی عمون نے ایک سَو قنطار چاندی اور دس ہزار کُر گیہوں اور دس ہزار کُر جَو اُسے دئے اور اُتنا ہی بنی عمون نے دوسرے اور تیسرے برس بھی اُسے دیا۔
6 سو یُوتام زبردست ہوگیا کیونکہ اُس نے خُداوند اپنے خُدا کے آگے اپنی راہیں درست کی تھیں۔
7 اور یُوتام کے باقی کام اور اُس کی سب لڑائیاں اور اُس کے طور طریقے اسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں۔
8 وہ پچیس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا اور اُس نے سولہ برس یروشلیم میں سلطنت کی۔
9 اور یُوتام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے داؤد کے شہر میں دفن کیا اور اُس کا بیٹا آخز اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔


باب 28

1 آخز بیس برس کاتھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے سولہ برس یروشلیم میں سلطنت کی اور اُس نے وہ نہ کیا جو خُداوند کی نظر میں درست ہے جیسا اُس کے باپ داؤد نے کیا تھا۔
2 بلکہ اسرائیل کے بادشاہوں کی راہوں پر چلا اور بعلیم کی ڈھالیں ہوئی مُورتیں بھی بنوائیں۔
3 اس کے سوا اُس نے ہنوم کے بیٹے کی وادی میں بخور جلایا اور اُن قوموں کے نفرتی دستوروں کے مُطابق جن کو خُدا نے بنی اسرائیل کے سامنے سے خارج کیا تھا اپنے ہی بیٹون کو آگ میں جھونکا۔
4 اُس نے اُونچے مقاموں اور پہاڑوں پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے قربانیاں کیں اور بخور جلایا۔
5 اس لیئے خُداوند اُس کے خُدا نے اُس کو شاہِ ارام کے ہاتھ میں کر دیا۔سو اُنہوں نے اُسے مارا اور اُس کے لوگوں میں سے اسیروں کی بھیڑ کی بھیڑ لے گئے اور اُن کو دمشق میں لائے اور وہ شاہِ اسرائیل کے ہاتھ میں بھی کر دیا گیا جس نے اُسے مارا اور بڑی خون ریزی کی۔
6 اور فقح بن رملیاہ نے ایک ہی دن میں یہوداہ میں سے ایک لاکھ بیس ہزار کو جو سب کے سب سورما تھے قتل کیا کیونکہ اُنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کو چھوڑ دیا تھا۔
7 اور زکری نے جو افرائیم کا ایک پہلوان تھا معسیاہ شہزادہ کو اور محل کے ناظم عز ریقام کو اور بادشاہ کے وزیر القانہ کو مارڈالا۔
8 اور بنی اسرائیل اپنے بھائیوں میں سے دو لاکھ عورتوں اور بیٹے بیٹیوں کو اسیر کر کے لے گئے اور اُن کا بُہت سا مال لوٹ لیا اور لوٹ کر سامریہ میں لائے۔
9 لیکن وہاں خُداوند کا ایک نبی تھا جس کا نام عودِد تھا۔ وہ اُس لشکر کے استقبال کو گیا جو سامریہ کو آرہا تھا اور اُن سے کہنے لگا دیکھو اس لیئے کہ خُداوند تمہارے باپ دادا کا خُدا یہوداہ سے ناراض تھا اُس نے اُن کو تمہارے ہاتھ کر دیا اور تُم نے اُن کو ایسے طیش میں قتل کیا ہے جو آسمان تک پُہنچا۔
10 اور اب تمہارا ارادہ ہے کہ بنی یہوداہ اور یروشلیم کو اپنے گلام اور لونڈیا بنا کر اُن کو دبائے رکھو لیکن کیا تمہارے ہی گناہ جو تُم نے خُداوند اپنے خُدا کے خلاف کیے ہیں تمہارے سر نہیں ہیں؟۔
11 سو تُم اب میری سُنو اور اُن اسیروں کو جن کو تُم نے اپنے بھائیوں میں سے اسیر کر لیا ہے آزاد کر کے لَوٹا دو کیونکہ خُداوند کا قہر شدید تُم پر ہے۔
12 تب بنی افرائیم کے سرداروں میں سیعزریاہ بن یہوحنان اور برکیاہ بن مسلیموت اور یحزقیاہ بن سلوم اور عماسا بن خدلی اُن کے سامنے جو جنگ سے آ رہے تھے کھڑے ہوگئے۔
13 اور اُن سے کہاکہ تُم اسیروں کو یہاں نہیں لانے پاؤگے کیونکہ جو تُم نے ٹھانا اُس سے ہم خُداوند کے گناہ گار بنینگے اور ہمارے گناہ خطائیں بڑھ جائینگی کیونکہ ہماری خطا بڑی ہے اور اسرائیل پر قہر شدید ہے۔
14
15
16 اُس وقت آخز بادشاہ نے اسور کے بادشاہوں کے پاس کہلا بھیجا کہ اُسکی مدد کریں ۔
17 اس لیئے کہ ادومیوں نے پھر چڑھائی کر کے یہوداہ کو مار لیا اور اسیروں کو لے گئے تھے۔
18 اور فلستیوں نے بھی نشیب کی زمین کے اور یہوداہ کے جنوب کے شہروں پر حملہ کر کے بیت شمس اور ایالون اور جدیروت کو اور شو کو اور اُس کے دیہات کو اور تمنہ اور اُس کے دیہات کو اور جمسُو اور اُس کے دیہات کو بھی لے لیا تھا اور اُن میں بس گئے تھے۔
19 کیونکہ خُدا نے شاہِ اسرائیل آخز کے سبب سے یہوداہ کو پست کیا اس لیئے کہ اُس نے یہوداہ میں بے حیائی کی چال چل کر خُداوند کا بڑا گناہ کیا تھا۔
20 اور شاہِ اسور تگلت پلنا سر اُسکے پاس آیا پر اُس نے اُس کو تنگ کیا اور اُس کی کمک نہ کی۔
21 کیونکہ آخز نے خُداوند کے گھر اور بادشاہ اور سرداروں کے محلوں سے ما ل لے کر شاہِ اسور کو دیا تو بھی اُس کی کُچھ مدد نہ ہوئی۔
22 اور اپنی تنگی کے وقت میں بھی اُس نے یعنی اِسی آخز بادشاہ نے خُداوند کا اور بھی زیادہ گناہ کیا۔
23 کیونکہ اُس نے دمشق کے دیوتاؤں کے لیئے جنہوں نے اُسے مارا تھا قربانیاں کیں اور کہا چونکہ ارام کے بادشاہوں کے معبودوں نے اُن کی مدد کی ہے سو میں اُن کے لیئے قربانی کروں گا تاکہ وہ میری مدد کریں لیکن وہ اُس کی اور سارے اسرائیل کی تباہی کا باعث ہوئے۔
24 اور آخز نے خُدا کے گھر کے برتنوں کو جمع یا اور خُدا کے گھر کے برتنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور خُداوند کے گھر ککے دروازوں کو بند کیا اور اپنے لیے یروشلیم کے ہر کونے میں مذبحے بنائے۔
25 اور یہوداہ کے ایک ایک شہر میں غیر معبودوں کے آگے بخور جلانے کے لیئے اُونچے مقام بنائے اور خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کو غُصہ دلایا ۔
26 اور اُس کے باقی کام اور اُس کے سب طور طریقے شروع سے آخر تک یہوداہ اور اسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں۔
27 اور آخز اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے شہر میں یعنی یروشلیم میں دفن کیا کیونکہ وہ اُسے اسرائیل کے بادشاہوں کی قبروں میں نہ لائے اور اُس کا بیٹا حزقیاہ اُس کی جگہ باشاہ ہوا۔


باب 29

1 حزقیاہ پچیس پرس کا تھاجب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اُنتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی۔اُس کی ماں کا نام ابیاہ تھا جو زکریاہ کئی بیٹی تھی۔
2 اُس نے وہ کام جو خُداوند کی نظر میں درست ہے ٹھیک اُسی کے مُطابق جو اُس کے باپ دادا نے کیا ۔
3 اُس نے اپنی سلطنت کے پہلے برس کے پہلے مہینے میں خُداوند کے دروازوں کو کھولا اور اُن کی مرمت کی اور وہ کاہنوں اور لاویوں کو لے آیا اور اُن کو مشرق کی طرف میدان میں اکٹھا کیا اور اُن سے کہا اے لاویو میری سُنو تُم اب اپنے آپ کو پاک کر اور خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے گھر کو پاک کرو اور پاک مقام میں سے ساری نجاست کو نکال دو ۔
4
5
6 کیونکہ ہمارے باپ دادا نے گناہ کیا اور جو خُداوند ہمارے خُدا کی نظر میں بُرا ہے وہی کیا اور خُدا کو چھوڑ دیا اور خُداوند کے مسکن سے منہ پیرلیا اور اپنی پیٹھ اُس کی طرف کر دی۔
7 اور اوسارے کے دروازے کو بند کر دیا اور چراغ بُجھا دئے اور اسرائیل کے خُدا کے مقدس میں نہ تو بخور جلایا اور نہ ختنی قربانیاں چڑھائیں اس سبب سے خُداوند کا قہر یہوداہ اور یروشلیم پر نازل ہوا اور اُس نے اُن کو ایسا حوالہ کیا کہ مارے مارے پھریں اور حیرت اور سسکار کا باعث ہوں جیسا تُم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔
8
9 دیکھو اسی سبب سے ہمارے باپ دادا تلوار سے مارے گئے اور ہمارے بیٹے بیٹیاں اور بیویاں اسیری میں ہیں۔
10 اب میرے دل میں ہے کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کے ساتھ عہد باندھوں تاکہ اُس کا قہر شدید ہم پر سے ٹل جائے۔
11 اے میرے فرزندوں تُم اب غافل نہ رہو کیونکہ خُداوند نے تُم کو چُن لیا ہے کہ اُس کے حضور کھڑے ہو اور اُسکی خدمت کرو اور اُس کے خادم بنو اور بخور جلاؤ۔
12 تب یہ لاوی اُٹھے یعنی بنی قہات میں سے محت بن عماسی اور یوایل بن عُزریاہ اور بنی مراری میں سے قیس بن عبدی اور عُزریاہ بن یہللئیل اور جیرسونیوں میں سے یوآخ بن زمہ اور عدن بن یوآخ۔
13 اور بنی الیصفن میں سے سمری اور یعوایل اور بنی آسف میں سے زکریاہ اور متنیاہ۔
14 اور بنی ہیمان میں سے یحی ایل اور سمعی اور بنی یدوتون میں سے سمعیاہ اور عُزی ایل۔
15 اور اُنہوں نے پنے بھائیوں کو اکٹھا کر کے اپنے آپ کو پاک کیا اور بادشا کے حُکم کے مُوافق جو خُداوند کے کلام کے مُطابق تھا خُداوند کے گھر کو پاک کرنے کے لیئے اندرگئے ۔
16 اور کاہن خُداوند کے گھر کے ندرونی حصہ میں اُسے پاک صاف کرنے کو داخل ہوئے اور ساری نجاست کو جو خُداوند کی ہیکل میں اُن کو ملی نکال کر باہر خُداوند کے گھرکے صحن میں لے آئے اور لاویوں نے اُسے اٹھا لیا کہ اُسے باہر قدرون کے نال میں پُہنچا دیں۔
17 اور پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو اُنہوں نے تقدیس کا کام شوع کیا اور اُس مہینے کی اٹھارھویں تاریخ کو اوسارے تک پُہنچے اور اُنہوں نے آٹھ دن میں خُداوند کے گھر کا پاک کیا سو پہلے مہینے کی سولھویں تاریخ کو اُسے تمام کیا تب اُنہوں نے محل کے انر حزقیاہ بادشاہ کے پاس جا کر کہا کہ ہم خُداوند کے سارے گھر کو اور وختنی قربانی کے مذبح کو اور اُس کے سب ظروف کو اور نظر کی روٹیوں کی میز کو اور اُس کے سب ظروف کو پاک صاف کردیا۔
18
19 اس کے سوا ہم نے اُن سب طروفوں کو جن کوآخز بادشاہ نے اپنے دورِ سلطنت میں خطا کر کے رد کر دیا تھا پھر تیار کر کے اُن کو مُقدس کیا ہے اور دیکھ وہ خُداوند کے مذبح کے سامنے ہیں۔
20 تب حزقیاہ سویرے اُٹھ کر اور شہر کے رئیسوں کو فراہم کر کے خُداوند کے گھر کو گیا ۔
21 اور وہ سات بیل اور سات مینڈھے اور سات برے اور سات بکرے ملکیت کے لیئے اور مُقدس کے لیئے اور یہوداہ کے لیئے خطا کی قربانی کے واسطے لے آئے اور اُس نے کاہنوں یعنی بنی ہاروں کو حُکم کیا کہ اُن خُداوند کے مذبح پر چڑھائیں ۔
22 سو اُنہوں نے بیلوں کو ذبح کیا اور کاہنوں نے خون کو لے کر اُسے مذبح پر چھڑکا پھر اُنہوں نے مینڈھوں کو ذبح کی اور خون کو مذبح پر چھڑکا اور بروں کو بھی ذبح کی اور خون مذبح پر چھڑکا۔
23 اور وہ خطا کی قربانی کے بکروں کو بادشاہ اور جماعت کے نزدیک لے آئے اور اُنہوں نے اپنے ہاتھ اُن پر رکھے۔
24 پھر کاہنوں نے اپں کو ذبح کی اور اُنکے خُون کو مذبح پر چھڑ کر خطا کی قربانی کی تاکہ سارے اسرائیل کے لیئے کفارہ ہو کیونکہ بادشاہ نے فرمایا تھا کہ سوختنی قربانی اور خطا کی قربانی سار اسرائیل کے لیئے چڑھائی جائے ۔
25 اور اُس نے داؤد اور بادشاہ کی غیب بین جاد اور ناتن نبی کے حُکم کے مُطابق خُدا کے گھر میں لاویوں کو جھانج اور ستار اور بربط کے ساتھ مقرر کیا کیونکہ یہ نبیوں کی معرفت خُداوند کا حُکم تھا۔
26 اور لاوی داؤدکے باجوں کو اور کاہن نرسنگوں کو لے کر کھڑے ہوئے ۔
27 اور حزقیاہ نے مذبح پر سوختنی قربانی چڑھانے کا حُکم دیا اور جب سوختنی قربانی شروع ہوئی تو خُداوند کا گیت بھی نرسنگوں اور شاہِ اسرائیل داؤد کے باجوں کے ساتھ شروع ہوا ۔
28 اور ساری جماعت نے سجدہ کیا اور گانے والے گانے اور نرسنگے والے نرسنگے پھونکنے لگیجب تک سوں تی قربانی جل نہ چُکی یہ سب ہوتا رہا۔
29 اور جب وہ قربانی چڑھا چُُکے تو بادشاہ اور اُس کے سب حاضرین نے جُھک کر سجدہ کیا۔
30 پھر حزقیاہ بادشاہ اور رئیسوں نے لاویوں کو حُکم کیا کہ داؤد اور آسف غیب بین کے گیت گا کر خُداوند کی حمد کریں اور اُنہوں نے خوشی سے مدح سرائی کی اور سر جھُکائے اور سجدہ کیا۔
31 اور حزقیاہ کہنے لگا کے اب تُن نے اپنے آپ کو خُداوند کے لیئے پاک کر لیا ہے سو نزدیک آؤ اور خُداوند کے گھر میں ذبیحے اور شُکرگزاری کی قربانیاں لاؤ تب جماعت ذبیحے اور شُکرگزاری کی قربانیاں لائی اور جتنے دل سر راضی تھے سوختنی قربانیاں لائے ۔
32 اور سوختنی قربانیوں کا شمار یہ تھا جو جماعت لائی یہ تھا ستر بیل سو مینڈے دو سو برے یہ سب خُداوند کی سوختنی قربانی کے لیئے تھے اور مُقدس کیئے ہوئے جانوار یہ تھے چھ سو بیل تین ہزار بھیڑ بکریاں۔
33
34 مگر کاہن ایسے تھوڑے تھے کہ وہ ساری سوختنی قربانی کے جانوروں کی کھالیں اُتار نہ سکے اس لیئے اُن کے بھائی لاویوں نے اُن کی مدد کی جب تک کام تمام نہ ہوگیا اور کاہنون نے اپنے کو پاک نہ کر لیا کیونکہ لاوی اپنے آپ کو پاک کرنے میں کاہنوں سے زیادہ راست دل تھے۔
35 اور سوں تنی قربانیاں بھی کثرت سے تھیں اور اُن کے ساتھ سلامتی کی قربانیوں کی چربی اور سوختنی قربانیوں کے تپاون یوں خُداوند کے گھر کی خدمت کی ترتیب درسُت ہوئی ۔
36 اور حزقیاہ اور سب لوگ اُس کام کے سبب سے جو خُدا نے لوگوں کے لیئے تیار کیا تھا باغ باغ ہوئے کیونکہ وہ کا یکبار گی کیا گیا تھا۔


باب 30

1 اور حزقیاہ نے سارے اسرائیل کو اور یہوداہ کو کہلا بھیجا اور افرائیم اور منسی کے پاس بھی خط لکھ بھیجے کہ وہ خُداوند کے گھر میں یروشلیم کو خُداوند اسرائیل خُدا کے لیئے عید فسح کرنے کو آئیں۔
2 کیونکہ بادشاہو اور سرداروں اور یروشلیم کی ساری جماعت نے دوسرے مہینے میں عید فسح منانے کو مشورہ کر لیا تھا۔
3 کیونکہ وہ اُس وقت اُسے اس لیئے نہیں منا سکے کہ کاہنوں نے کافی تعداد میں اپنے آپ کو پاک نہیں کیا تھا اور لوگ بھی یروشلیم میں اکٹھے نہیں ہوئے تھے ۔
4 اور یہ بات بادشاہ اور ساری جماعت کی نظر میں اچھی تھی ۔
5 سو اُنہوں نے حُکم جاری کیا کہ بیرسبع سے دان تک سارے اسرائیل میں منادی کی جائے کہ لوگ یروشلیم میں آکر خُداوند اسرائیل کہ خُدا کے لیئے عید فسح کریں کیونکہ اُنہوں نے ایسی بڑی تعداد میں اُس کو نہیں منایا تھا جیسے لکھا ہے۔
6 سو ہر کارے بادشاہ اور اُس کے سرداروں سے خط لے کر بادشاہ کے حُکم کے مُوافق سارے اسرائیل اور یہوداہ میں پھرے اور کہتے گئے اَے بنی اسرائیل ابرہام اور اضحاق اور اسرائیل کے خُداوند خُدا کی طرف رجوع لاؤ تاکہ وہ تمہارے باقی لوگوں کی طرف جو اسور کے بادشاہوں کے ہاتھ سے بچ رہے ہیں پھر متوجہ ہو۔
7 اور تُم اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کی مانند مت ہو جنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کی نا فرمانی کی یہاں تک کہ اُس نے اُن کو چھوڑ دیا کہ برباد ہوجائیں جیسا تُم دیکھتے ہو۔
8 پس تُم اپنے باپ دادا کی مانندگردن کش نہ بنو بلکہ خُداوند کے بابع ہو جاؤ اور اُس کے مقدس میں آؤ جسے اُس نے ہمیشہ کے لیئے مقدس کیا ہے اور خُداوند اپنے خُدا کی عبادت کرؤ تاکہ اُس کا قہر شدید تُم پر ٹل جائے۔
9 کیونکہ اگر تُم خُداوند کی طرف پھر رجوع لاؤ تو تمہارے بھائی اور تمہارے بیٹے اپنے اسیر کرنے والوں کی نظر میں قابل رحم ٹھہرینگے اور اس مُلک میں پھر آینگے کیونکہ خُداوند تمہارا خُدا غفور و رحیم ہے اور اگر تُم اُس کی طرف پھرو تو وہ تُم سے اپنا مُنہ پھیر نہ لیگا۔
10 سو ہر کارے افرائیم اور منسی کے مُلک میں شہر بہ شہر ہوتے ہوئے زبولون تک گئے پر اُنہوں نے اُن کا تمسخر کیا اور اُن کو ٹھٹھوں میں اُڑایا ۔
11 پھر بھی آشر اور منسی اور زبولون میں سے بعض لوگوں نے فروتنی کی اور یروشلیم کو آئے۔
12 اور یہوداہ پر بھی خُداوند کا ہاتھ کہ اُن کو یکدل بنادے تاکہ وہ خُداوند کے کلام کے مُطابق بادشاہ اور سرداروں کے حُکم پر اعمل کریں۔
13 سو بُہت سے لوگ یروشلیم میں جمع ہوئے کہ دوسرے مہینے میں فطیری روٹی کی عید کریں۔یوں بُہت بڑی جماعت ہو گئی۔
14 اور وہ اُٹھے اور اُن مذبحوں کو جو یروشلیم میں تھے اور بخور کی سب قربان گاہوں کو دُور کیا اور اُن کو قدرُون کے نالے میں ڈال دیا ۔
15 پھر دوسرے مہینے کی چودھویں تاریخ کو اُنہوں نے فسح کو ذبح کیا اور کاہنوں اور لاویوں نے شرمندہ ہو کر اپنے آپ کو پاک کیا او خُداوند کے گھر میں سوختنی قربانیاں لائے۔
16 اور وہ اپنے دستور پر مردِ خُدا موسیٰ کی شریعت کے مُطابق اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوئیاور کاہنوں نے لاویوں کے ہاتھ سے خون لے کر چھڑکا۔
17 جماعت میں بُہتیرے ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو پاک نہیں کیا تھا اس لیئے یہ کام لاویوں کے سپُرد ہوا کہ وہ سب ناپاک شخصوں کے لئے فسح کے بروں کو ذبح کریں تا کہ وہ خُداوند کے لیئے مُقدس ہوں۔
18 کیونکہ افرائیم اور منسی اور اشکور اور زبولون میں بُہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو پاک نہیں کیا تھا تو بھی اُنہوں نے فسح کو جس طرح لکھا ہے اُس طرح سے نہ کھایا کیونکہ حزقیاہ نے اُن کے لیئے یہ دُعا کی تھی کہ خُداوند جو نیک ہے ہر ایک کو۔
19 جس نے خُداوند خُدا اپنے باپ دادا کے خُدا کی طلب میں دل لگایا ہے مُعاف کرے گو وہ مُقدس کی طہارت کے مُطابق پاک نہ ہوا ہو۔
20 اور خُداوند نے حزقیاہ کی سُنی اور لوگوں کو شفا دی۔
21 اور جو بنی اسرائیل یروشلیم میں حاضر تھیاُنہوں نے بڑی خوشی سے سات دن تک عید فطیر منائی اور لاوی اور کاہن بُلند آواز کے باجوں کے ساتھ خُداوند کے حضور گا گا کر ہر روز خُدا کی حمد کرتے رہے۔
22 اور حزقیاہ نے سب لاویوں سے جو خُداوند کی خدمت میں ماہر تھے تسلی بخش باتیں کیں سو وہ عید کے ساتوں دن تک کھاتے اور سلامتی کے ذبیحوں کی قربانیاں چڑھاتے اور خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے حضور اقرار کرتے رہے۔
23 پھر ساری جماعت نے اور سات دن ماننے کا مشورہ کیا اور خوشی سے اور سات دن مانے۔
24 کیونکہ شاہِ یہوداہ حزقیاہ نے جماعت کو قربانیوں کے لیئے ایک ہزار بچھڑے اور سات ہزار بھیڑیں عنایت کیں اور سرداروں نے جماعت کو ایک ہزار بچھڑے اور دس ہزار بھیڑیں دیں اور بُہت سے کاہنوں نے اپنے آپ کو پاک کیا۔
25 اور یہوداہ کی ساری جماعت نے کاہنوں اور لاویوں سمیت اور اُس ساری جماعت نے جو اسرائیل میں سے آئی تھی اور اُن پردیسیوں نے جو اسرائیل کے مُلک سے آئے تھے اور جو یہوداہ میں رہتے تھے خوشی منائی۔
26 سو یروشلیم میں بڑی خوشی ہوئی کیونکہ شاہِ اسرائیل سلیمان بن داؤد کے زمانہ سے یروشلیم میں ایسا نہیں ہوا تھا۔
27 تب لاوی کاہنوں نے اُٹھ کر لوگوں کو برکت دی اور اُنکی سُنی گئی اور اُس کی دُعا اُس کے مُقدس مکان آسمان تک پُہنچی۔


باب 31

1 جب یہ ہو چُکا تو سب اسرائیلی جو حاضر تھے یہوداہ کے شہروں میں گئے اور سارے یہوداہ اور بنیمین کے بلکہ افرائیم اور منسی کے بھی ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور یسیرتوں کو کاٹ ڈالا اور اُنچے مقاموں اور مذبحوں کو ڈھا دیا یہاں تک کہ اُن سبھوں کو نابود کر دیا ۔تب سب بنی اسرائیل اپنے اپنے شہر میں اپنی اپنی ملکیت کو لَوٹ گئے۔
2 اور حزقیاہ نے کاہنوں کے فریقوں کو اور لاویوں کو اُنکے فریقوں کے مُوافق یعنی کاہنوں اور لاویوں دونوں کے ہر شخص کو اُسکی خدمت کے مُطابق خُداوند کی خیمہ گاہ کے پھاٹکوں کے اندر سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کے لیئے اور عبادت اور شُکر گزاری اور ستایش کرنے کے لیئے مقرر کیا ۔
3 اور اُس نے اپنے مال میں سے بادشاہی حصہ سوختنی قربانیوں کے لیئے اور سبتوں اور نئے چاندوں اور مُقررہ عیدوں کی سوختنی قربانیوں کے لیئے ٹھہرایا جیسا خُداوند کی شریعت میں لکھا ہے۔
4 اور اُس نے اُن لوگوں کو جو یروشلیم میں رہتے تھے حُکم کیا کہ کاہنوں اور لاویوں کا حصہ دیں تاکہ وہ خُداوند کی شریعت میں لگے رہیں۔
5 اس فرمان کے جاری ہوتے ہی بنی اسرائیل اناج اور مے اور تیل اور شہد اور کھیت کی سب پیداوار کے پہلے پھل بہتات سے دینے اور سب چیزوں کا دسواں حصہ کثرت سے لانے لگے۔
6 اور بنی اسرائیل اور یہوداہ جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے وہ بھی بیلوں اور بھیڑ بکریوں کا دسواں حصہ اور اُن مُقدس چیزوں کا دسواں حصہ جو خُداوند اُن کے خُدا کے لیئے مُقدس کی گئی تھیں لائے اور اُنکو ڈھیر ڈھیر کر کے لگ دیا۔
7 اُنہوں نے تیسرے مہینے میں ڈھیر لگانا شروع کیا اور ساتویں مہینے میں تمام کیا ۔
8 جب حزقیاہ اور سرداروں نے آ کر ڈھیروں کو دیکھا تو خُداوند کو اور اُس کی قوم اسرائیل کو مُبارک کہا ۔
9 اور حزقیاہ نے کاہنوں اور اور لاویوں سے اُن ڈھیروں کے بارے میں پوچھا۔
10 تب سردار کاہن عزریاہ نے جو صدُدق کے خاندان کا تھا اُسے جواب دیا کہ جب سے لوگوں نے خُداوند کے گھر میں ہدئے لانا شروع کیا تب سے ہم کھاتے رہیاور ہم کو کافی ملا اور بُہت بچ رہا ہے کیونکہ خُداوند نے اپنے لوگوں کو برکت بخشی ہے اور وہی بچا ہوا یہ بڑا انبار ہے۔
11 تب حزقیاہ نے حُکم کیا کہ خُداوند کے گھر میں کوٹھریاں تیار کریں ۔سو اُنہوں نے اُن کو تیار کیا ۔
12 اور وہ ہدئے اور وہ دہ یکیاں اور مُقدس کی ہوئی چیزیں دیانت داری سے لاتے رہے اور اُن پر کصنیاہ لاوی ۔مُختار تھا اور اُس کا بھائی سمِعی نائب تھا۔
13 اور یمیئیل اور عزریاہ اور نحات اور عساہیل اور یریموت اوریُوزبد اور ایی ایل اور اسماکیاہ اور محت اور بنایاہ حزقیاہ بادشاہ اور خُدا کے گھر کے سردار عزریاہ کے حُُکم سے کنعنیاہ اور اُس کے بھائی سمعی کے ماتحت پیشکار تھے۔
14 مشرتی پھاٹک کا دربان یمنہ لاوی کا بیٹا قورے خُدا کی رضا کی قربانیوں پر مُقرر تھا تاکہ خُداوند کیک ہدیوں اور پاکترین چیزوں کو بانٹ دیا کرے۔
15 اور اُس کے ماتحت عدن اور بنیمین یور یشوع اور سمعیاہ اور امریاہ اور سکنیاہ کاہنوں ے شہروں میں اس عُہد ہ پر مُقرر تھے کہ اپنے بھائیوں کو کیا بڑے کیا چھوٹے اُنکے فریقوں کے مُوافق حصہ دیا کریں۔
16 اور اُن کے علاوہ اُن کو بھی دیں جو تین برس کی عُمر سے اور اُس سے اُوپر اُوپر مردوں کے نسب نامہ میں شمار کیے گئے یعنی اُن کو جو اپنے اپنے فریق کی باریوں پر اپنے اپنے ذمہ کی خدمت کر ہر روز کے فرض کے مُطابق انجام دینے کو خُداوند کے گھر میں جاتے تھے۔
17 اور اُن کو بھی جو اپنے اپنے آبائی خاندان کے مُوافق کاہنوں کے نسب نامہ میں شمار کیے گئے اور اُن لاویوں کو جو بیس برس کے اور اُس سے اُوپر تھے اور اپنے اپنے فریق کی باری پر خدمت کرتے تھے۔
18 اور اُن کو جو ساری جماعت میں سے اپنے اپنے بال بچوں اور بیویوں اور بیٹوں اور بیٹیوں کے نسب نامہ کے مُطابق مار کیے گئے کیونکہ اپنے اپنے مُقررہ کام پر وہ اپنے آپ کو تقدس کے لیئے پاک کرتے تھے۔
19 اور بنی ہارون کے کاہنوں کے لیئے بھی جو شہر بہ شہر اپنے شہروں کے گرد و نواح کے کھیتوں میں تھے کئی مرد جن کے نام بتا دئے گئے تھے مُقرر ہوئے کہ کاہنوں کے سب مردوں کو اور اُن سبھوں کو جو لاویوں کے درمیان نسب نامہ کے مُطابق شمار کیے گئے تھے حصہ دیں۔
20 سو حزقیاہ نے سارے یہوداہ میں ایسا ہی کیا اور جو کُچھ خُداوند اُس کے خُدا کی نظر میں بھلا اور درست اور حق تھا وہی کیا۔
21 اور خُدا کے گھر کی خدمت اور شریعت اور احکام کے اعتبار سے جس جس کام کو اُس نے اپنے خُدا کا طلب ہونے کے لیئے کیا اُسے اپنے سارے دل سے کیا اور کامیاب ہوا۔


باب 32

1 ان باتوں اور اس ایمانداری کے بعد شاہِ اسور سخیرب چڑھ آیا اور یہوداہ میں داخل ہوا اور فصیل دار شہروں کے مقابل خیمہ زن ہوا اور اُن کو اپنے قبضہ میں لانا چاہا۔
2 جب حزقیاہ نے دیکھا کہ سخیرب آیا ہے اور اُس کا ارادہ ہے کہ یروشلیم سے لڑے۔
3 تو اُس نے اپنے سرداروں اور بھادروں کے ساتھ مشورت کی اور اُن چشموں کے پانی کو جو شہر سے باہر تھے بند کر دے اور اُنہوں نے اُس کی مدد کی۔
4 اور بُہت لوگ جمع ہوئے اور سب چشموں کو اور اُس ندی کو جو اُس سر زمین کے بیچ بہتی تھی بند کرد یا کہ اسور کے بادشاہ آکر بُہت سا پانی کیوں پائیں؟۔
5 اور اُس نے ہمت باندھی اور ساری دیوار کو جو ٹُوٹی تھی بنایا اور اُسے بُرجوں کے برابر اُونچا کیا اور باہر سے ایک دوسری دیوار اُٹھائی اور داؤد کے شہر میں ملو کو مضبوط کیا اور بُہت سے ہتھیار اور ڈھالیں بنائیں۔
6 اور اُس نے لوگوں پر سر لشکر ٹھہرائے اور شہر کے پھاٹک کے پاس کے میدان میں اُن کواپنے پاس اکٹھا کیا اور اُن سے ہمت افزائی کی باتیں کیں اور کہا۔
7 ہمت باندھو اور حوصلہ رکھو اور اسور ککے بادشاہ اور اُس کے ساتھ کے سارے انبوہ کے سبب سے نہ ڈرو نہ ہراسان ہو کیونکہ وہ جو ہمارے ساتھ ہے اُس سے بڑا ہے جو اُس کے ساتھ ہے۔
8 اُس کے ساتھ بشر کا ہاتھ ہے لیکن ہمارے ساتھ خُداوند ہمارا خُدا ہے کہ ہماری مدد کرے اور ہماری لڑائیاں لڑے۔سو لوگوں نے شاہِ یہوداہ حزقیاہ کی باتوں پر تکیہ کیا۔
9 اُس کے بعد شاہِ اسور سخیرب نے جو اپنے سارے لشکر کے ساتھ لکیس کے مقابل پڑا تھا اپنے نوکر یروشلیم کو شاہِ یہوداہ حزقیاہ کے پاس اور تمام یہوداہ کے پاس جو یروشلیم میں تھے یہ کہنے کو بھیجے کہ۔
10 شاہِ سخیرب یوں فرماتا ہے کہ تمہارا کس پر بھروسہ ہے کہ تُم یروشلیم میں مُحارصرہ کو جھیل رہے ہو؟۔
11 کیا حزقیاہ تُم کو قحط اور پیاس کی موت کے حوالہ کرنے کو تُم کو نہیں بہکارہا ہے کہ خُداوند ہمارا خُدا ہم کو شاہِ اسور کے ہاتھ سے بچالیگا؟۔
12 کیا اسی حزقیاہ نے اُس کے اُونچے مقاموں اور مذبحوں کو دور کر کے یہوداہ اور یروشلیم کو حُکم نہیں دیا کہ تُم ایک ہی مذبح کے آگے سجدہ کرنا اور اُسی پر بخور جلانا ؟۔
13 کیا تُم نہیں جانتے کہ میں نے اور میرے باپ دادا نے اور مُلکوں کے سب لوگوں سے کیا کیا کیا ہے ؟کیا اُن مُمالک کی قوموں کے معبود اپنے مُلک کو کسی طرح سے میرے ہاتھ سے بچا سکے؟۔
14 جن قوموں کو میرے باپ دادا نے بالکل ہلاک کر ڈالا اُن کے معبودوں میں کون ایسا نکلا جو اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے بچا سکا کہ تمہارا معبود تُم کو میرے ہاتھ سے بچا سکے گا؟۔
15 پس حزقیاہ تُم کو فریب نہ دینے پائے اور نہ اس طور پر بہکائے اور نہ تُم اس کا یقین کرو کیونکہ کسی قوم یا مملکت کا دیوتا اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے بچا نہیں سکا تو کتنا کم تمہارا معبود تُم کو میرے ہاتھ سے بچا سے گا۔
16 اور اُس کے نوکروں نے خُداوند خُدا کے خلاف اور اُس کے بندہ حزقیاہ کے خلاف بُہت سی اور باتیں کہیں۔
17 اور اُس نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کی اہانت کرنے اور اُس کے حق میں کُفر بکنے کے لیئے اس مضمون کے خط بھی لکھے کہ جیسے اور مُلکوں کی قوموں کے معبودوں نے اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچایا ہے ویسے ہی حزقیاہ کا معبود بھی اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکیگا۔
18 اور اُنہوں نے بڑی آواز سے پُکار کر یہودیوں کی زُبان میںیروشلیم کے لوگوں کو جو دیوار پر تھے یہ باتیں کہہ سُنائیں تاکہ اُن کو ڈرائیں اور پریشان کریں اور شہر کو لے لیں ۔
19 اور اُنہوں نے یروشلیم کے خُداکا ذکر زمین کی قوموں کے معبودوں کی طرح کیا جو آدیوں کے ہاتھ کی صنعت ہیں۔
20 اُسی سبب سے حزقیاہ بادشاہ اور آمُوص کے بیٹے یسعیاہ نبی نے دُعا کی اور آسمان کی طرف چلائے۔
21 اور خُداوند نے ایک فرشتہ کو بھیجا جس نے شاہِ اسور کے لشکر میں سب زبردست سُورماؤں اور پیشواؤں اور سرداروں کو ہلاک کر ڈالا ۔پس وہ شرمندہ ہو کر اپنے شہر کو لوٹا اور جب وہ اپنے دیوتا کے مندر میں گیا تو اُن ہی نے و اُس کے صُلب میں سے نکلے تھے اُس وہیں تلوار سے قتل کیا۔
22 یوں خُداوند نے حزقیاہ اور یروشلیم کے باشندوں کو شاہِ اسور سخیرب کے ہاتھ سے اور اور سبھوں کے ہاتھ سے بچا یا اور ہر طرف اُن کی راہنمائی کی ۔
23 اوربُہت لوگ یروشلیم میں خُداوند کے لیئے ہدیے اور شاہِ یہوداہ حزقیاہ کے لیئے قیمتی چیزیں لائے یہاں تک کہ وہ اُس وقت سے سب قوموں کی نظر میں ممتاز ہوگیا۔
24 اُن دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ مرنے کے قریب ہو گیا اور اُس نے خُداوند سے دُعا کی تب اُس نے اُس سے باتیں کیں اور اُسے ایک نشان دیا۔
25 لیکن حزقیاہ نے اُس احسان کے لائق جو اُس پر کیا گیا عمل نہ کیا کیونکہ اُس کے دل میں گھمنڈ سما گیااس لیئے اُس پر اور یہوداہ پر اور یروشلیم پر غضب بھڑکا۔
26 تب حزقیاہ اور یروشلیم کے باشندوں نے اپنے دل کے غرور کے بدلے خاکساری اختیار کی۔سو حزقیاہ کے دنوں میں خُداوند کا غضب اُن پر نازل نہ ہوا ۔
27 اور حزقیاہ کی دولت اور عزت نہایت فراوان تھی اور اُس نے چاندی اور سونے ار جواہر اور مصالح اور ڈھالوں اور سب طرح کی قیمتی چیزوں کے لیئے خزانے۔
28 اور مے اور تیل کے لیئے انبار خانے اور سب قسم کے جانوروں کے لیئے اور بھیڑ بکریوں کے لیئے باڑے بنائے۔
29 اُس کے علاوہ اُس نے اپنے لیئے شہر بسائے اور بھیڑ بکریوں اور گائے بیلوں کو کثرت سے مہیا کیاکیونکہ خُدا نے اُسے بُہت مال بخشا تھا ۔
30 اسی حزقیاہ نے جیحون اور پانی کے اُوپر کے سوتے کو بند کردیا اور اُسے داؤد کے شہر کے مغرب کی طرف سیدھا پُہنچایا حزقیاہ اپنے سارے کام میں کامیاب ہوا ۔
31 تو بھی بابل کے امیروں کے مُعاملہ میں جنہوں نے اپنی ایلچی اُس کے پاس بھیجے تاکہ اُس مُعجزہ کا حال جو اُس مُلک میں کیا گیا تھا دریافت کریں خُدا نے اُسے آزمانے کے لیے چھوڑ دیا تاکہ معلوم کرے کہ اُس کے دل میں کیا ہے۔
32 اور حزقیاہ کے باقی کام اُس کے نیک اعمال آمُوص کے بیٹے یسعیاہ نبی کی رویا میں اور یہوداہ اور اسرائیل کی کتاب میں قلمبند ہیں۔
33 اور حزقیاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے بنی داؤد کی قبروں کی چڑھائی پر دفن کیا اور سارے یہوداہ اور یروشلیم کے ساب باشندوں نے اُس کی موت پر اُس کی تعظیم کی اور اُس کا بیٹا منسی اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔


باب 33

1 منسی بارہ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس ن یروشلیم میں پچپن برس تک سلطنت کی ۔
2 اور اُس نے اُن قوموں کے نفرت انگیز کاموں کے مُطابق جن کو خُدا نے بنی اسرائیل کے آگے سے دفع کیا تھا وہی کیا جو خُداوند کی نظر میں بُرا تھا ۔
3 کیونکہ اُس نے اُن اُونچے مقاموں کو جن کو اُس کے باپ حزویاہ نے ڈھایا تھ پھر بنایا اور بعلیم کے لیئے مذبحے بنائے اور یسیرتیں تیار کیں اور سارے آسمانی لشکر کو سجدہ کیا اور اُن کی پرستش کی۔
4 اور اُس نے خُداوند کے گھر میں جس کی بابت خُدا نے فرمایا تھا کہ میرا نام یروشلیم میں ہمیشہ رہے گا مذبحے بنائے۔
5 اور اُس نے خُداوند کے گھر کے دونوں صحنوں میں سارے آسمانی لشکر کے لیئے مذبحے بنائے ۔
6 اور اُس نے بن ہنوم کی وادی میں اپنے فرزندوں کو بھی آگ میں چلوایا اور وہ شگُون مانتا اور جادؤ اور افسون کرتا اور بد روحوں کے آشناؤں اور جادوگروں سے تعلق رکھتا تھا اُس نے خُدانو کی نظر میں بُہت بد کاری کی جس سے اُسے غصہ دلایا ۔
7 اوع جو کھودی ہوئی مُورت اُس نے بنوائی تھی اُس کو خُدا کے گھر میں نصب کیا جس کی بابت خُدا نے داؤد اور اُس کے بیٹے سلیمان سے کہا تھا کہ میں اس گھر میں یروشلیم میں جسے میں نے بنی اسرائیل کی سب قبیلوں میں سے چُن لیا ہے اپنا نام ابد تک رکھونگا۔
8 اور میں بنی اسرائیل کے پاؤں کو اُس سرزمین سے جو میں نے اُن کے باپ دادا کوعنایت کی ہے پھر کبھی نہیں ہٹاؤنگا بشرطیکہ وہ اُن سب باتوں کو جو میں نے اُن کو فرمائیں یعنی اُس ساری شریعت اور آئین اور حُکموں کو جو موسیٰ کی معرفت نلے ماننے کی احتیاط رکھیں۔
9 اور منسی نے یہوداہ اور یروشلیم کے باشندوں کو یہاں تک گُمراہ کیا کہ اُنہوں نے اُن قوموں سے بھی زیادہ بدی کی جن کو خُدا نے بنی اسرائیل کے سامنے سے ہلاک کیا تھا۔
10 اور خُدا نے منسی اور اُس کے لوگوں سے باتیں کیں پر اُنہوں نے کُچھ دھیان نہ دیا۔
11 اس لیئے خُداوند اُس پر شاۃ، اسور کے سپہ سالاروں کوچڑھالایا جو منسی اور زنجیروں سے جکڑکر اور بیڑیاں ڈال کر بابل کو لے گئے۔
12 جب وہ مُصیبت میں پڑا تو اُس نے خُداوند اپنے خُدا سے منت کی اور اپنے باپ دادا کے خُدا کے حضور نہایت خاکسار بنا۔
13 اور اُس نے اُس سے دُعا کی ۔تب اُس نے اُس کی دُعا قبول کر کے اُس کی فریاد سُنی اور اُسے اُس کی مملکت میں یروشلیم میں واپس لایا۔تب منسی نے جان لیا کے خُداوند ہی خُدا ہے۔
14 اُس کے بعد اُس نے داؤد کے شہر کے لیئے جیحون کے مغرب کی طرف وادی میں مچھلی پھاٹک کے مدخل تک یک باہر کی دیوار اُٹھائیاور عوفل کو گھیرا اور اُسے بُہت اُونچا کیا اور یہوداہ کے سب فصیل دارشہروں میں بہادر جنگی سردار رکھے۔
15 اور اُس نے اجنبی معبودوں کو اور خُداوند کے گھر سے اُس مُورت کو اور سب مذبحوں کو جو اُس نے خُداوند کے گھر کے پہاڑ پر اور یروشلیم میں بنوائے تھے دُور کیا اور اُن کو شہر کے باہر پھینک دیا۔
16 اور اُس نے خُداوند کے مذبح کی مرمت کی اور اُس پر سلامتی کے ذبیحوں کی اور شُکرگزاری کی قربانیاں چڑھائیں اور یہوداہ کو خُداوند اپنے خُدا کی پرستش کا حُکم دیا۔
17 تو بھی لوگ اُونچے مقاموں میں قربانی کرتے رہے پر فقط خُداوند اپنے خُدا کے لیئے۔
18 اور منسی کے باقی کام اور اپنے خُدا سے اُس کی دُعا اور اُن غیب بینوں کی باتیں جنہوں نے خُداوند اسرائیل خُدا کے نام سے اُس کے ساتھ کلام کیا۔
19 اُس کی دُعا اور اُس کا قبول ہونا اور اُس کی خاکساری سے پہلے کی سب خطائیں اور اُس کی بے ایمانی اور وہ جگہیں جہاں اُس نے اُنچے مقام بنوائے اور یسیرتیں اور کھودی ہوئی مُورتیں کھڑی یہ سب باتیں حُوزی کی تاریخ میں قلمبند ہیں۔
20 اور منسی اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نےُ سے اُس ہی کے گھر میں دفن کیا اور اُس کا بیٹا امُون اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔
21 امون بائیس برس کاتھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے دو برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔
22 اور جو خُداوند کی نظر میں بُرا تھا وہی اُس نے کیا جیسا اُس کے باپ منسی نے کیا تھا اور امُون نے اُن سب کھودی ہوئی مُورتوں کے آگے جو اُس کیک بان منسی نے بنوائیں تھیں قربانیاں کیں اور اُن کی پرستش کی۔
23 اور وہ خُداوند کے حضور خاکسار نہ بنا جیسا اُس کا باپ منسی خاکسار بنا تھابلکہ اُمون نے گناہ پر گناہ کیا۔
24 سو اُس کے خادموں نے اُس کے خلاف سازش کی اور اُسی کے گھر میں اُسے مار ڈالا۔
25 پر اہل مُلک نے اُن سب کو قتل کیا جنہوں نے امُون بادشاہ کے خلاف سازش کی تھی اور اہل مُلک نے اُسکے بیٹے یوسیاہ کی اُسکی جگہ بادشاہ بنایا۔


باب 34

1 یوسیاہ آٹھ برس کا تھا ب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اکتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی۔
2 اُس نے وہ کام کیا جو خُداوندکی نظر میں ٹھیک تھا اور اپنے باپ داؤد کی راہوں پر چلا اور داہنے یا بائیں ہاتھ کو نہ مُڑا۔
3 کیونکہ اپنی سلطنت کے آٹھویں برس وہ لڑکا ہی تھا اور باپ داؤد کے خُدا کا طالب ہوا اور بارھویں برس میں یہوداہ اور یروشلیم کو اُونچے مقاموں اور یسیرتوں اور کھودے ہوئے بُتوں اور ڈھالی ہوئی مُورتوں سے پاک کرنے لگا۔
4 اور لوگوں نے اُسے سامنے بعلیم کے مذبحوں کو ڈھا دیا ورج کی مُورتوں کو جو اُن کے اُونچے پر تھیں اُس نے لاٹ ڈالا اور یسیرتوں اور کھودی ہوئی مُورتوں اور ڈھالی ہوء مُورتوں کو اُس نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُن کو دُھول بنادیا او ر اُس کو اُن کی قبروں پر بتھرایا یا جنہوں نے اُن کے لیئے قربانیاں چڑھائی تھیں۔
5 اور اُس نے اُن نوں کی ڈیاں اُن ہی کے مذبحوں پر جلائیں اور یہوداہ اور یروشلیم کو پاک کیا ۔
6 ور منسی اور افرائیم اور شمعون کے شہروں میں بلکہ نفتالی تک اُن کے گرد کھنڈروں میں اُس نے ایسا ہی کیا ۔
7 اور مذبحوں کو ڈھا دیا اور یسیرتوں اور کھُدی ہوئی مُورتوں کو توڑ کر دُھول کر دیا اور اسرائیل کیے تمام مُلک میں سورج کی سب مُورتوں کو کاٹ ڈالا تب یروشلیم کو لوٹا۔
8 اور اپنی سلطنت کے آٹھارھویں برس جب وہ مُلک اور ہیکل کو پاک کر چُکا تو اُس نے اصلیاہ کے بیٹے سافن کو اور شہر کے حاکم معسیاہ یوآخز کے بیٹے یوآخ مُورخ کو بھیجا کہ خُداوند اپنے خُدا کے گھر کی مرمت کرے۔
9 وہ خلقیاہ سردار کاہن کے پاس آیا اور وہ نقدی جو خُدا کے گھر میں لائی گئی تھی جیسے دربان اور لاویوں نے منسی اور افرائیم اور اسرائیل کے سب باقی لوگوں سے اور بنیمین اور یروشلیم کے باشندوں سے لے کر جمع کیاتھا اُس کے سُپرد کی ۔
10 اور اُنہوں نے اُسے اُن کارندوں کے ہاتھ میں سونپا جو خُداوندکے گھر کی نگرانی کرتے تھے اور اُن کارندوں نے جو خُداوند کے گھر میں کام کرتے تھے اُسے اُس گھر کی مرمت اور درست کرنے میں لگایا۔
11 یعنی اُسے بڑھئیوں اور مماروں کو دیا کہ گھڑے ہوئے پتھر اور جوڑوں کے لیئے لکڑی خریدیں اور اُن گھروں کے لیے جن کو یہوداہ کے بادشاہوں نے اُجاڑ دیا تھا شہتر بنائے ۔
12 اور وہ مرد دیانت سے کام کرتے تھے اور یحت اور عبدیاہ لاوی جو بنی عُمری میں سے تھے اُن کی نگرانی کرتے تھے اور بنی قہات ں سے زکریاہ اور مُسلام کراتے تھے اور لاویوں میں سے وہ لوگ تھے جو باجوں ماہر تھے ۔
13 اور وہ بار برداروں کے بھی دروغہ تھے اور سب قسم قسم کے کام کنے والوں سے کام کراتے تھے اور مُنشی اور مُہتمم اور دربان لاویوں میں سے تھے۔
14 اور جب وہ اُس نقدی کو جو خُداوندکے گھر میں لائی گئی تھے نکال رہے تھے تو خلقیاہ کاہن کو خُداوند کی توریت کی کتاب جو موسیٰ کی معرفت دی گئی تھی ملی۔
15 تب خلقیاہ نے سافن مُنشی سے کہا کہ میں نے خُداوند کے گھر میں توریت کی کتاب پائی ہے اور خلقیاہ نے وہ کتاب سافن کو دی ۔
16 اور سافن وہ کتاب بادشاہ کے پاس لے گیا اور پھر اُس نے بادشاہ کو یہ بتایا کہ سب کُچھ جو تُو نے اپنے نوکروں کے سپُر د کیا تھا اُسے وہ کر رہے ہیں۔
17 اور وہ نقدی جو خُداوند کے گھر میں موجود تھی اُنہوں نے لے کر ظروں اور کارندوں کے ہاتھ میں سونپی ہے ۔
18 پھر سافن مُنشی نے بادشاہ سے کہا کہ خلقیاہ کاہن نے مُجھے یہ کتاب دی ہے اور سافن نے اُس میں سے بادشاہ کے حضور پڑھا۔
19 اور ایسا ہوا کہ جب بادشاہ نے توریت کی باتیں سُنی تو اپنے کپڑے پھاڑے۔
20 ر بادشاہ نے خلقیاہ اور اخی قام سافن اور عبدون بن میکاہ او سافن مُنشی اور بادشاہ اور بادشاہ کے نوکر عسایاہ کو یہ حُکم دیا۔
21 کہ جاوؤ اور میری طرف سے اور اُن لوگوں کی طرف سے جو اسرائیل اور یہوداہ میں باقی رہ گئے ہیں اس کتاب کی باتوں کے حق میں جو مل ہے داوند سے پوچھو کیونکہ خُداوند قہر جو ہم پر نازل ہوا بڑا ہے ا س لیئے کہ ہمارے باپ دادا نے خُداون دکے کلام کو نہیں مانا ہے کہ سب کُچھ جو اس کتاب میں لکھا ہے اُس کے مُطابق کرتے ۔
22 تب خلقیاہ اور جن کو بادشاہ نے حُکم کیا تھا خلدہ نبیہ کے پاس جو توشہ خانہ ے داروغہ سلوم بن توقہت بن خسرہ کی بیوی تھی گئے۔وہ یروشلیم میں مشنہ نامی محلہ میں رہتی تھی۔سو اُنہوں نے اُس سے وہ باتیں کہیں۔
23 سو اُس نے اُن سے کہا کہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے کہ تُم اس شخص سے جس نے تُم کو میرے پاس بھیجا ہے کہو کہ۔
24 خُداوند یوں فرماتا ہے دیکھ میں اس جگہ پر اور اس کے باشندوں پر آفت لاؤں گایعنی سب لعنتیں جو اُس کتاب میں لکھی ہیں جو اُنہوں نے شاہِ یہوداہ کے آگے پڑھی ہے۔
25 کیونکہ اُنہوں نے مُجھے ترک کیا اور غیرمعبودوں کے آگے بخور جلایا اور ہاتھوں کے سب کاموں سے مُجھے غصہ دلایا سو میرا قہر اُس مقام پر نازل ہوا ہے اور دھیما نہ ہوگا۔
26 رہا شاہِ یہوداہ جس نے تُم کوخُداوند سے دریافت کرنے کو بھیجا ہے سو تُم اُس سے یوں کہنا کہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے کہ اُن باتوں کے بارے میں جو تُم نے سُنی ہیں ۔
27 چونکہ تیرا دل موم ہوگا اور تُو نے خُداوند کے حضور عاجزی کی جب تُونے اُس کی وہ باتیں سُنیں اور اُس نے اس مقام اور اس کے باشندوں کے خلاف کہی ہیں اور اپنے کو میرے حضور خاکسار بنایا اور اپنے کپڑے پھاڑ کر میرے آگے رویا اس لیئے میں نے بھی تیری سُن لی ہے۔
28 دیکھ میں تُجھے تیرے باپ دادا کے ساتھ ملاؤں گا اور تُو اپنی گور میں سلامتی سے پُہنچایا جائے گا اور ساری آفت کو جو میں اس مقام اور اس باشندوں پر لاؤں گا تیری آنکھیں نہیں دیکھیں گی سو اُنہوں نے یہ جواب بادشاہ کو پُہنچا دیا۔
29 تب بادشاہ نے یہوداہ اور یروشلیم کے سب بزرگوں کو بُلوا کر اکٹھا کیا ۔
30 اور بادشاہ اور سب اہلِ یہوداہ اور یروشلیم کے باشندے کاہن اور لاوی اور سب لوگ کیا چھوٹے کیا بڑے خُداوند کے گھر کو گئیور اُس نے جو عہد کی کتاب خُداوند کے گھر میں ملی تھی اُس کی سب باتیں اُن کو پڑھ سُنائیں ۔
31 اور بادشاہ اپنی جگہ کھڑا ہوا اور خُداوند کے آگے عہد کیا کہ وہ خُداوندکی پیروی کر گا اور اُس کے حُکموں اور اُس کے شہادتوں اور آئین کو اپنے سار ے دل اور اپنی ساری جان سے مانے گا تا کہ اُس عہد کی اُن باتوں کو جو اُس کتاب میں لکھی تھی پُورا کرے۔
32 س نے اُن سب کو جو یروشلیم اور بنیمین میں موجود تھے اُس عہد میں شریک کیا اور یروشلیم کے باشندوں نے خُدااپنے دادا کے خُدا کے عہد کے مُطابق عمل کیا۔
33 ور یوسیاہ نے بنی اسرائیل کے سب علاقوں میں سے سب مکرُوہات کو دفع کیا اور جتنے اسرائیل میں ملے اُن سبھوں سے عبادت یعنی خُداوند اُن کے خُدا کی عبادت کرائی اور وہ اُس کے جیتے جی خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کی پیروی سے نہ ہٹے۔


باب 35

1 اور یوسیاہ نے یروشلیم میں خُداوند کے لیئے عید فسح کی اور اُنہوں نے فسح کو پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو ذبح کیا۔
2 اور اُس نے کاہنوں کو اُن کی خدمت پر مُقرر کیا اور اُن کو خُداوند کے گھر کی خدمت کی ترغیب دی۔
3 اور اُن لاویوں سے جو خُداوند کے لیئے مُقدس ہو کر تمام اسرائیل کو تعلیم دیتے تھے کہا کہ پاک صندوق کو اُس گھر میں جسے شاہ اسرائیل سلیمان بن د اؤد نے بنایا تھا رکھو۔آگے کو تمہارے کندھوں پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔سو اب تُم خُداوند اپنے خُدا کی اور اُس کی قوم اسرائیل کی خدمت کرؤ۔
4 اور اپنے آبائی خاندانوں اور فریقوں کے مُطابق جیسا شاہِ اسرائیل داؤد نے لکھا اور جیسا اُس کے بیٹے سلیمان نے لکھا ہے اپنے آپ کو تیار کر لو۔
5 اور تُم مقدس میں اپنے بھائیوں یعنی قوم کے فرزندوں کے آبائی خاندانوں کی تقسیم کے مُطاق کھڑے ہو تاکہ اُن میں سے ہر ایک کے لیئے لاویوں کے کسی نہ کسی آبائی خاندان کی کوئی شاخ ہو۔
6 اور فسح کو ذبح کرو اور خُداون کے کلام کے مُطابق جو موسیٰ کی معرفت ملا عمل کرنے کے لیئے اپنے آپ کو پاک کرے اپنے بھائیوں کے لیئے تیار ہو۔
7 اور یوسیاہ نے لوگوں کے لیئے جتنے وہاں موجود تھے ریوڑوں میں سے برے اور حلوان سن کے سب فسح کی قربانیوں کے لیئے دئے جو گنتی میں تیس ہزار تھے اور تین ہزار بچھڑے تھے ۔یہ سب بادشاہی مال مین سے دئے گئے۔
8 اور اُس کے سرداروں نے رضا کی قربانی کے طور پر لوگوں کو اور کاہنوں کو اور لاویوں کو دیا۔ خلقیاہ اور زکریا ہ یحیٹیل نے جو خُدا کے گھر کے ناظم تھے کاہنوں کو فسح کی قربانی کے لیئے دو ہزار چھ سو بھیڑ بکری اور تیس سو بیل دئے۔
9 اور کنعنیاہ نے اور اُس کے بھائیوں سمعیاہ اور نتنیئیل نے اور یعی ایل اور یوزبد نے جو لاویوں کے سردار تھے لویوں کو فسح کی قربانی کے لیئے پانچ ہزار بھیڑ بکری اور پانچ سو بیل دئے ۔
10 یوں عبادت کی تیاری ہوئی اور بادشاہ کے حُکم کے مُطابق کاہن اپنی اپنی جگہ پر اور لاوی اپنے اپنے فریقے کے مُطابق کھڑے ہوئے۔
11 انہوں نے فسح کو ذبح کیا اور کاہنوں نے اُن کے ہاتھ سے خون لے کر چھڑکا اور لاوی کھال کھینچتے گئے۔
12 پھر اُنہوں نے سوختنی قربانیاں الگ کیں تاکہ وہ لوگوں کے آبائی خاندانوں کی تقسیم کے مُطابق خُداوند کے حضور چڑھانے کو اُن کو دیں جیسا موسیٰ کی کتاب میں لکھا ہے اور بیلوں سے بھی اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔
13 اور اُنہوں نے دستور کے مُوافق فسح کو آگ پر بھونا اور پاک ہڈیوں کو دیگوں اور ہنڈوں اور کڑاہیوں میں پکایا اور اُن کو جلد لوگوں کو پُہنچادیا۔
14 اُس نے بعد اُنہوں نے اپنے لیئے اور کاہنوں کے لیئے تیار کیا کیونکہ کاہن یعنی بنی ہارون سوختنی قربانیوں اور چربی کے چڑھانے میں رات تک مشغول رہے۔ سو لاویوں نے اپنے لیئے اور کاہنوں کے لیئے جو بنی ہارون تھے تیار کیا۔
15 اور گانے والے جو بنی آسف تھے داؤد اور آسف اور ہیمان اور بادشاہ کے غیب بین یدُوتون کے حُکم کے مُوافق اپنی اپنی جگہ میں تھے اور ہر دروازہ پر دربان تھے ۔اُن کو اپنا اپنا کام چھوڑنا نہ پڑا کیونکہ اُن کے بھائی لاویوں نے اُن کے لیئے تیار کیا ۔
16 سو اُسی دن یوسیاہ بادشاہ کے حُکم کے مُوافق فسح ماننے اور خُداوند کے مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھانے کے لیئے خُداوند کی پُوری عبادت کی تیاری کی گئی۔
17 بنی اسرائیل نے جو حاضر تھے فسح کو اُس وقت اور فطیری روٹی کی عید کو سات دن تک منایا۔
18 اُس کی مانند کوئی فسح سموئیل نبی کے دنوں سے اسرائیل میں نہیں منایا گیا تھا اور نہ شاہان اسرائیل میں سے کسی نے ایسی عید فسح کی جیسی یوسیاہ اور کاہنوں اور لاویوں اور سارے یہوداہ اور اسرائیل نے جو حاضر تھے اور یروشلیم کے باشندوں نے کی۔
19 فسح یوسیاہ کے سلطنت کے اٹھارھویں میں منایا گیا ۔
20 اس سب کے بعد جب یوسیاہ ہیکل کو تیار کر چُکا تو شاہِ مصر نکوہ نے کر کمیس سے جو فرات کے کنارے ہے لڑنے کے لیئے چڑھائی کی اور یوسیاہ اُس کے مقابلہ کو نکلا۔
21 لیکن اُس نے اُس کے پاس ایلچیوں سے کہلا بھیجا کہ اَے یہوداہ کے بادشاہ تُجھ سے میرا کیا کام؟ میں آج دب تُجھ پر نہیں بلکہ اُس خاندان پر چڑھائی کر رہا ہوں جس سے میری جنگ ہے اور خُدا نے مُجھ کو جلدی کرنے کا حُکم دیا ہے سو تُو خُدا سے جو میرے ساتھ ہے مزاحم نہ ہوا ۔ایسا نہ ہو کہ وہ تُجھے ہلاک کر دے۔
22 لیکن یوسیاہ نے اُس نے منہ نہ موڑا بلکہ اُس سے لڑنے کے لیئے اپنا بھیس بدلا ر نکوہ کی بات جو خُدا کے مُنہ سے نکلی تھی نہ مانی اور مجدو کی وادی میں لڑنے کو گیا ۔
23 اور تیر اندازوں نے یوسیاہ بادشاہ کو تیر مارا اور بادشاہ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ مُجھے لے چلو کیونکہ میں بُہت زخمی ہوگیا ہوں۔
24 سو اُس کے نوکروں نے اُسے اُس رتھ پر سے اُتار کر اُس کے دوسرے رتھ پر چڑھایا اور اُسے یرشلیم کو لے گئے اور وہ مرگیا اور اپنے باپ دادا کی قبروں میں دفن ہوا اور سارے یہوداہ اور یروشلیم نے یوسیاہ کے لیئے ماتم کیا۔
25 اور یرمیاہ نے یوسیاہ پر نوحہ کیا اور گانے والے اور گانے والیاں سب اپنے مرثیوں میں آج کے دن تک یوسیاہ کا ذخر کرتے ہیں۔ یہ اُنہوں نے اسرائیل میں ایک دستور بنا دیااور دیکھو وہ باتیں نوحوں میں لکھی ہیں ۔
26 اور یوسیا ہ کے باقی کام اور جیساُ داوند کی شریعت میں لکھا ہے اُس کے مُطابق اُسے نیک اعمال۔
27 اور اُس کے کام شروع سے آخر تک اسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں۔


باب 36

1 اور مُلک کے لوگوں نے یوسیاہ کے بیٹے یہو آخز کو اُس کے باپ کی جگہ یروشلیم میں بادشاہ بنایا۔
2 یہو آخز تیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا ۔اُس نے تین مہینے یروشلیم میں سلطنت کی۔
3 اور شاہِ مصر نے اُسے یروشلیم میں تخت سے اُتار دیا اور مُلک پر سَو قنطار چاندی اور ایک قنطار سونا جرمانہ کیا۔
4 اور شاہِ مصر نے اُس کے بھائی الیاقیم کو یہوداہ اور یروشلیم کا بادشاہ بنایا اور اُس کا نام بدل کر یہو یقیم رکھا اور نکوہ اُس کے بھائی یہو آخز کو پکڑکر مصر لے گئے۔
5 یہو یقیم پچیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے گیارہ برس یروشلیم میں سلطنت کی اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند اُس کے خُدا کی نظر میں بُرا تھا۔
6 اُس پر شاہِ بابل بنوکد نظر نے چڑھائی کی اور اُسے بابل لے جانے کے لیے اُس کے بیڑیاں ڈالیں۔
7 اور نبوکد نضر خُداوند کے گھر کے کُچھ ظرُوف بھی بابل کو لے گیا اور اُن کو بابل میں اپنے مندر میں رکھا ۔
8 اور یہو یقیم کے باقی کام اور اُس کے نفرت انگیز اعمال اور جو کُچھ اُس میں پایا گیا وہ اسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں اور اُس کا بیٹا یہویاکین اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔
9 یہویاکین آٹھ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے تین مہینے دس دن یروشلیم میں سلطنت کی اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند کی نظر میں بُرا تھا۔
10 اور نئے سال کے شروع ہوتے ہی نبوکد نظر بادشاہ نے اُسے خُداوند کے گھر کے نفیس برتنوں کے ساتھ بابل کو بلوالیا اور اُس کے بھائی صدقیاہ کو یہوداہ اور یروشلیم کا بادشاہ بنایا ۔
11 صدقیاہ اکیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے گیارہ برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔
12 اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند اُس کے خُدا کی نظر میں بُرا تھا اور اُس نے یرمیاہ نبی کے حضور جس نے خُداوند کے منہ کی باتیں اُس سے کہیں عاجزی نہ کی۔
13 اور اُس نے نبوکد نضر بادشاہ سے بھی جس نے اُسے خُدا کی قسم کھلائی تھی بغاوت کی بلکہ وہ گردن کش ہو گیا اور اُس نے اپنا دل ایسا سخت کر لیا کہ خُداوند اسرائیل کہ خُدا کی طرف رجوع نہ لایا۔
14 اُس کے سوا کاہنوں کے سب سرداروں اور لوگوں نے اور قوموں کے سب نفرتی کاموں کے مُطابق بڑی بدکاریاں کیں اور اُنہوں نے خُداوند کے گھر کو جسے اُس نے یروشلیم میں مُقدس ٹھہرایا تھا نا پا ک کیا ۔
15 اور خُداوند اُن کے باپ دادا کے خُدا نے اپنے پیغمبروں کو اُن کے پاس بر وقت بھیج بھیج کر پیغام بھیجا کیونکہ اُسے اپنے لوگوں اور اپنے مسکن پر تر آتاتھا۔
16 لیکن اُنہوں نے خُدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھوں میں اُڑایا اور اُس کی باتوں کو نا چیز جانا اور اُس کے نبیوں کی ہنسی اُڑائی یہاں تک کہ خُداوند کا غضب اپنے لوگوں پر ایسا بھڑکا کہ کوئی چارہ نہ رہا۔
17 چنانچہ وہ کسدیوں کے بادشاہ کو اُن پر چڑھا لایا جس نے اُن کے مُقدس کے گھر میں اُن کے جوانوں کو تلوار سے قتل کیا اور اُس نے کیا جوان کیا کنواری کیا بُڈھا کیا عُمر رسیدہ کسی پر ترس نہ کھایا ۔اُس نے سب کو اُس کے ہاتھ میں دے دیا۔
18 اور خُدا کے گھر کے سب ظرُوف کیا بڑے کیا چھوٹے ار خُداوند کے گھر کے خزانے اور بادشاہ اور اُس کے سرداروں کے خزانے یہ سب وہ بابل کو لے گیا۔
19 اور اُنہوں نے خُدا کے گھر کو جلادیا اور یروشلیم کی فصیل ڈھادی اور اُس کے تمام محل آگ سے جلا دئے اور اُس کے سب قیمتی طرُوف کو برباد کیا ۔
20 اور جو تلوار سے بچے وہ اُن کو بابل لے گیا اور وہاں وہ اُس کے اور اُس کے بیٹوں کے غلام رہے جب تک فارس کی سلطنت شروع نہ ہوئی۔
21 تاکہ خُداوند کا وہ کلام جو یرمیاہ کی زبانی آیا تھا پُورا ہو کہ مُلک اپنے سبتوں کا آرام پا لے کیونکہ جب تک وہ سُنسان پڑا رہا تب تک یعنی ستر برس تک اُسے سبت کا آرام ملا۔
22 اور شاہ فارس خورس کی سلطنت کے پہلے سال اس لیئے کہ خُداوند کا کلام جویرمیاہ کی زُبانی آیا تھا پُورا ہو خُداوند نے شاہ فارس خورس کا دل اُبھارا سو اُس نے اپنی ساری مملکت میں منادی کروائی اور اُس مضمون کا فرمان بھی لکھا کہ۔
23 شاہ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خُداوند آسمان کے خُدا نے زمین کی سب مملکتیں مُجھے بخشی ہیں اور اُس نے مُجھ کو تاکید کی ہے کہ میں یروشلیم میں جو یہوداہ میں ہے اُس کے لیئے یک مسکن بناؤں پس تُمہارے درمیان جو کوئی اُس کی ساری قوم میں سے ہو خُداوند اُس کا خُدا اُس کے ساتھ ہو اور وہ دانہ ہو جائے۔