عزرا

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10


باب 1

1 اور شاہ فارس خورس کی سلطنت کے پہلے سال میں اسلئے کہ خداوند کا کلام جو یرمیا کی زبانی آیا تھا پورا ہو خداوند نے شاہ فارس خورس کا دل ابھارا۔سو اس نے اپنی تمام مملکت میں منادی کرائی اور اس مضمون کا فرمان بھی لکھا کہ۔
2 شاہ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خداوند آسمان کے خدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشی ہیں۔اور مجھے تاکید کی ہے کہ میں یروشلم میں جو یہوداہ میں ہے اسکے لئے ایک مسکن بناؤں۔
3 پس تمہارے درمیان جو کوئی اسکی ساری قوم میں سے ہواسکا خدا اسکے ساتھ ہو اور وہ یروشلم کو جو یہوداہ میں ہے جائے اور خداوند اسرائیل کے خدا کا گھرجو یروشلم میں ہے بنائے(خدا وہی ہے)۔
4 اور جو کوئی کسی جگہ جہاں اس نے قیام کیا باقی رہا ہو تو اسی جگہ کے لوگ چاندی اور سونے اور مال اور مواشی سے اسکی مدد کریں اور علاوہ اسکے وہ خدا کے گھر کے لئے جو یروشلم میں ہے رضا کے ہدئے دیں۔
5 تب یہوداہ اور بنیمین کے آبائی خاندانوں کے سرداراور کاہن اور لاوی اور وہ سب جنکے دل کو خدا نے ابھارا اٹھے کہ جاکر خداوند کا گھر جو یروشلم میں ہے بنائیں۔
6 اور ان سبھوں نے جو انکے پڑوس میں تھے علاوہ ان سب چیزوں کے جو خوشی سے دی گئیں چاندی کے برتنوں اور سونے اور اسباب اور مواشی اور قیمتی اشیا سے انکی مددکی۔
7 اور خورس بادشاہ نے بھی خداوند کے گھر کے ان برتنوں کو نکوایا جنکو بنوکد نضر یروشلم سے لے آیا تھا اور اپنے دیوتاؤں کے مندر میں رکھا تھا۔
8 ان ہی کو شاہ فارس خورس نے خزانچی متردات کے ہاتھ سے نکوایا اور انکو گن کر یہوداہ کے امیر شیس بضر کو دیا۔
9 اور انکی گنتی یہ ہے۔سونے کی تیس تھالیاں اور چاندی کی ہزار تھالیاں اور انتیس چھریاں۔
10 اور سونے کے تیس پیالے اور چاندی کے دوسری قسم کے چارسودس پیالے اور اور قسم کے برتن ایک ہزار۔
11 سونے اور چاندی کے کل ظروف پانچ ہزار چار سو تھے۔شیس بضر ان سبھوں کو جب اسیری کے لوگ بابل سے یروشلم کو پہنچائے گئے لے آیا۔


باب 2

1 ملک کے جن لوگوں کو شاہ بابل بنوکد نضر بابل کو لے گیا تھا ان اسیروں کی ایری میں سے وہ جو نکل آئے اور یروشلم اور یہوداہ میں اپنے اپنے شہر کو واپس آئے یہ ہیں۔
2 وہ زر بابل۔یشوع۔نحمیاہ۔سرایا۔رعلایاہ مردکی۔بلشان۔مسفار۔بگوی۔رحوم اور بعنہ کے ساتھ آئے۔
3 اسرائیلی قوم کے مردوں کا یہ شمار ہے۔بنی پرعوس دو ہزار ایک سو بہتر۔
4 بنی سفطیاہ تین سو بہتر۔
5 بنی ارخ سات سو پچھتر۔
6 بنی پخت موآب جو یشو اور کی اولاد میں سے تھے دوہزار آٹھ سوبار۔
7 بنی عیلام ایک ہزار دو سو چون۔
8 بنی زتو نو سو پینتالیس۔
9 بنی زکی کی سات سو ساٹھ۔
10 بن بانی چھ سو بیالیس۔
11 بنی ببی چھ سو تیئیس۔۔
12 بنی عزگاد ایک ہزار دو سو بائیس۔
13 بنی ادونقام چھ سو چھیاسٹھ۔
14 بنی بگوی دو ہزار چھپن۔
15 بنی عدبن چار سو چون۔
16 بنی اط حزقیاہ کے گھرانے کے اٹھانوے۔
17 بنی بضی تین سو تیئیس۔
18 بنی یورہ ایک سو بارہ۔
19 بنی حااشوم دو سو تیئیس۔
20 بنی جبار پچانوے۔
21 بیت لحم ایک سو تیئیس۔
22 اہل نطوفہ چھپن۔
23 اہل عنتوت ایک سو اٹھائیس۔
24 بنی عزماوت بیالیس۔
25 قریت عریم اور کفرہ اور بیروت کے لوگ سات سو تینتالیس۔
26 رامہ اور جبع کے لوگ چھ سواکیس۔
27 اہل مکماس ایک سو بائیس۔
28 بیت ایل اورعی کے لوگ دو سو تیئیس۔
29 بنی بنو باون۔
30 بنی مجبیں ایک سو چھپن۔
31 دوسرے عیلام کی اولاد ایک ہزار دو سوچون۔
32 بنی حارم تین سو بیس۔
33 لود اور حادید اور اونو کی اولاد سات سو پچیس۔
34 یریحو کے لوگ تین سو پنتالیس۔
35 سناآہ کے لوگ تین ہزار چھ سو تیس۔
36 پھر کاہنوں یعنی یشوع کے خاندان میں سے یدعیاہ کی اولاد نو سو تہتر۔
37 بنی امیر ایک ہزار باون۔
38 بنی فشحور ایک ہزار دو سو سینتالیس۔
39 بنی حارم ایک ہزار سترہ۔
40 اور لاویوں یعنی ہودا ویاہ کی نسل میں سے یشوع اور قدی ایل کی اولاد چوہتر۔(41۔(گانے والوں میں سے بنی آسف ایک سواٹھائیس۔
41
42 اور بانوں کی نسل میں سے بنی سلوم بنی اطیر۔بنی طلمون۔بنی عقوب۔بنی خطیطا۔بنی سوبی سب ملکر ایک سو انتالیس۔
43 اور نتےنیم میں سے بنی ضیحا۔بنی حسوفا۔بنی طبعوت۔
44 بنی قروس بنیسیعا۔بنی فدون
45 بنی لبانہ،بنی حجابہ۔بنی عقوب۔
46 بنی حجاب۔بنی شملی۔بنی حنان۔
47 بنی جدیل۔بنی حجر بنی رآیاہ۔
48 بنی صین۔بنی نقودا۔بنی جزام۔
49 بنی عا۔بنی فاسیخ۔بنی بسی۔
50 بنی اسناہ۔ بنی معونیم۔بنی نفی سیم۔
51 بنی بقبوق ۔بنی حقوفا۔بنی حرحور۔
52 بنی بضلوت۔بنی محیدا یبنی حرشا۔
53 بنی برقوس۔بنی سیسرا۔بنی تامح۔
54 بنی نضیاح۔بنی خطیفا۔
55 سلیمان کے خادموں کی اولاد بنی سوطی۔بنی حسوفرت بنی فرودا۔
56 بنی یعلہ۔بنی درقون۔بنی جدیل۔
57 بنی سفطیاہ۔بنی خطیل۔بنی فوکرت ضبائم۔بنی امی۔
58 سب نتنیم اور سلیمان کے خادموں کی اولاد تین سو بانوے۔
59 اور جو لوگ تل ملح اور تل حرسا اور کروب اور ازان اور امیر سے گئے تھے سو یہ ہیں پر یہ لوگ اپنے اپنے آبائی خاندان اور نسل کا پتا نہیں دے سکے کہ اسرائیل کے ہیں یا نہیں۔
60 یعنی بنی دلایاہ۔بنی طوبیاہ۔بنی نقادا چھ سو باون۔
61 اور کاہنوں کی اولاد میں سے بنی حبایاہ۔ بنی بقوص۔بنی برزلی جس نے جلعادی بزدلی کی بیٹوں میں سے ایک کو بیاہ لیا اور انکے نام سے کہلایا۔
62 انہوں نے اپنی پسند انکے درمیان جوندبناموں کے مطابق گنے گئےتھے ڈھونڈی پر نہ پائی۔اسلئے وہ ناپاک سمجھے گئے اور کہانت سے خارج ہوئے۔
63 اور حاکم نے ان سے کہا کہ جب تک کوئی کاہن اوریم وتمیم لئے ہوئے نہ اٹھے تب تک وہ پاکترین چیزوں میں سے نہ کھائیں۔
64 ساری جماعت مل کر بیالیس ہزار تین سو ساٹھ کی تھی
65 ان کے علاوہ ان کے غلاموں اور لونڈیوں کا شمار سات ہزار تین سو سینتیس تھا اور ان کے ساتھ دو سو گانے والے اور گانے والیاں تھیں۔
66 ان کے گھوڑے سات سو چھتیں ان کے خچر دو سو پینتالیس۔
67 ان کے اونٹ چار سو پینتیس اور ان کے گدھے چھ ہزار سات سو بیس تھے
68 اور آبائی خاندانوں کے بعض سراداروں نے جب وہ خداوند کے گھر میں جو یروشلم میں ہے آئے تو خوشی سے خدا کے مسکن کے لئے ہدئے د۴ے تاکہ وہ پھر اپنی جگہ پر تعمیر کیا جائے۔
69 انہوں نے اپنے مقدور کے موافق کام کے خزانہ میں سونے کے اکسٹھ ہزار درہم اور چاندی کے پانچ ہزار منہ اور کاہنوں کے ایک سو پیراہن دئے۔
70 سو کاہن اور لاوی اور بعض لوگ اور گانے ولے اور دربان اور نتنیم اپنے اپنے شہر میں اور سب اسرائیلی اپنے اپنے شہر میں جس گئے


باب 3

1 جب ساتواں مہینہ آیا اور اپنی بنی اسرائیل اپنے شہر میں جس گئے تو لوگ یک تن ہو کر یروشلم میں اکٹھے ہوئے۔
2 تب یشوع بن یوصدق اور اس کے بھائی جو کاہن تھے اور زربابل بن سالتی ایل اور اس کے بھائی اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اسرائیل کے خدا کا مذبح بنایا تاکہ اس پر سوختنی قربانییاں چڑھائیں جیسا مرد خدا موسی کی شریعت میں لکھا ہے۔
3 اور انہوں نے مذبح کو اس کی جگہ پر رکھا کیونکہ ان اطراف کی قوموں کےسبب سے ان کو خوف رہا اور وہ اس پر خداوند کے لئے سوختنی قربانیاں یعنی صبح وشام کی سوختنی قربانیوں چڑھانے لگے۔
4 اور انہوں نے نوشتہ کے مطابق خیموں کی عید منائی اور روز کی سوختنی قربانیاں گن گن کر جیسا جس دن کا فرض تھا دستور کے موافق چڑھائیں۔
5 اس کے بعد دائمی سوختنی قربانی اور نئے چاند کی اور خداوند کی ان سب مقرر عیدوں کی جو مقدس ٹھہرائی گئی تھیں اور ہر شخص کی طرف سے ایسی قربانیاں چڑھائیں جو رضا کی قربانی خوشی سے خداوند کے لئے گذرانتا تھا۔
6 ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ سے وہ خداوند کے لئے سوختنی قربانیاں چڑھانے لگے پر خداوند کی ہیکل کی بنیاد ہنوز ڈالی نہ گئی تھی۔
7 اور انہوں نے معاروں اور بڑھیوں کی نقدی وی اور صیدانیوں اور صوریوں کو کھانا پینا اور تیل دیا تاکہ وہ دیودار کے لٹھے لبنان سے یافا کو سمند کی راہ سے لائیں جیسا ان کو شاہ فارس خورس سے پروانہ ملا تھا۔
8 پھر ان کے خدا کے گھر میں جو یروشلم میں ہے آپہنچنے کے بعد دوسرے برس کے دوسرے مہینے میں زربابل بن سالتی اور یشوع بن یوصدق نے اور ان کے باقی بھائی کاہنوں اور لاویوں اور سبھوں نے جو اسیری سے لوٹ کر یروشلم کو آئے تھے کام شروع کیا اور لاویوں کو جو بیس برس کے اور اس سے اوپر تھے مقرر کیا کہ خداوند کے گھر کے کام کی نگرانی کریں۔
9 تب یشوع اور اس کے بیٹے اور بھائی اور قدی ایل اور اس کے بیٹے جو یہوداہ کی نسل سے تھے مل کر اٹھے کہ خدا کے گھر میں کاریگروں کی نگرانی کریں اور بنی حنداد بھی اور ان کے بیٹے اور بھائی جو لاوی تھے ان کے ساتھ تھے۔
10 سو جب معار خداوند کی ہیکل کی بنیاد ڈالنے لگے تو انہوں نے کاہنوں کو اپنے اپنے پیراہن پہنے اور نرسنگے لئے ہوئے اور آسف کی نسل کے لاویوں کو جھانجھ لئے ہوئے کھڑا کیا کہ شاہ اسرائیل داود کی ترتیب کے مطابق خداوند کی حمد کریں۔
11 سووہ باہم نوبت بہ نوبت خداوند کی ستایش اور شکر گذاری میں گاگا کر کہنے لگے کہ وہ بھلا ہے کیونکہ اس کی رحمت ہمیشہ اسرائیل پر ہے۔جب وہ خداوند کی سترایش کر رہے تھے تو سب لوگوں نے بلند آواز سے نعرہ مارا اس لئے کہ خداوند کے گھر کی بنیاد پڑی تھی ۔
12 لیکن کاہنوں اور لاویوں اور آبائی خاندانوں کے رداروں میں سے بہت سے عمر رسیدہ لوگ جنہوں نے پہلے گھر کو دیکھا تھا اس وقت جب اس گھر کی بنیاد ان کی آنکھوں کے سامنے ڈالی گئی تو بڑی آواز سے چلا کر رونے لگے اور بہترے خوشی کے مارے زور زور سے للکارے۔
13 سو لوگ خوشی کی آواز کے شور اور لوگوں کے رونے کی صدا میں امتیاز نہ کرسکے کیونکہ لوگ بلند آواز سے نعرے مار رہے تھے اور آواز دور تک سنائی دیتی تھی۔


باب 4

1 جب یہوداہ بنیمین کے دشمنوں نے سنا کہ وہ جو اسیر ہوئے تھے خداوند اسرائیل کے خدا کے لئے ہیکل کو بنا رہے ہیں۔
2 تو وہ زربابل اور آبائی خاندانوں کے سرداروں کے پاس آکر ان سے کہنے لگے کہ ہم کو بھی اپنے ساتھ بنانے دو کیونکہ ہم بھی تہمارے خدا کے طالب ہیں جیسے تم ہو اور ہم شاہ اسور اسرحدون کے دنوں سے جو ہک کو یہوں لایا اس کے لئے قربانی چڑھاتے ہیں۔
3 لیکن زربابل اور یشوع اور اسرائیل کے آبائی خاندانوں کے باقی سرداروں نے ان سے کہا کہ تمہارا کام نہیں کہ ہمارے ساتھ خدا کے لئے گھر بناؤ بلکہ ہم آپ ہی مل کر خداوند اسرائیل کے خدا کےلئے اسے بنائیں گے جیسا شاہ فارس خورس نے ہم کو حکم کیا ہے۔(تب ملک کے لوگ یہوداہ کے لوگوں کی مخالفت کرنے اور بناتے وقت ان کو تکلیف دینے لگے۔
4
5 اور شاہ فارس خورس کے جیتے جی بلکہ شاہ فارس خورس دارا کی سلطنت تک ان کے مقڈود کو باطل رکھنے کے لئے ان کے خلاف مشیروں کو اجرت دیتے رہے۔
6 اور اخسویرس کے عہد سلطنت یعنی اس کی سلطنت کے شروع میں انہوں نے یہوداہ اور یروشلم کے باشندوں کی شکایت لکھ بھیجی ۔
7 پھر ارتخششتا کے دنوں میں بشلام اور متردات اور طابیل اور اس کے باقی رفیقوں نے شاہ فارس ارتخششتا کو لکھا۔ ان کا خط ارامی حروف اور ارامی زبان میں لکھا تھا۔
8 رحوم دیوان اور شمسی منشی نے ارتخششتا بادشاہ کو یروشلم کے خلاف یوں خط لکھا۔
9 سورحوم دیوان اور شمسی منشی اوران کے باقی رفیقوں نے جو دینہ اور افارستکہ اور طرفیلہ اور فارس اور ارک اور بابل اور سوسن اور دہ اور عیلام کے تھے۔
10 اور باقی ان قوموں نے جن کو اس بزرگ و شریف اسنفر نے پار لا کر شہر سامریہ اور دریاکے اس پار کے باقی علاقہ میں بسایا تھا وغیرہ وغیرہ اس کو لکھا۔
11 اس خط کی نقل جو انہوں نے ارخششتا بادشاہ کے پاس بھیجا یہ ہے۔ آپ کے غلام یعنی وہ لوگ جو دریا پار رہتے ہی وغیرہ
12 بادشاہ پر روشن ہو کہ یہودی لوگ جو حضور کے پاس سے ہمارے درمیان یروشلم میں آئے ہیں وہ اس باغی اور فسادی شہر کو بنارہے ہیں۔ چنانچہ دیواروں کو ختم اور بنیادوں کی مرمت کر چکے ہیں۔
13 سو بادشاہ پر روشن ہو جائے کہ اگر یہ شہر بن جائے اور فصیل تیار ہو جائے تو وہ خراج چنگی یا محصول نہیں دیں گے اور آخر بادشاہوں کو نقصان ہو گا۔
14 سو چونکہ ہم حضور کے دولت خانہ کا نمک کھاتے ہیں اور مناسب نہیں کہ ہمارے سامنے بادشاہ کی تحقیر ہو اس لئے ہم نے لکھ کر بادشاہ کو اطلاع دی ہے۔
15 تاکہ حضور کے باپ دادا کے دفتر کی کتاب میں تفتیش کی جائے تو اس دفتر کی کتاب سے حضور کو معلوم ہوگا اور یقین ہو جائیگا کہ یہ شہر فتنہ انگیز شہر ہے جو بادشاہوں اور صوبوں کو نقصان پہنچاتا رہا ہے اور قدیم زمانہ سے اس میں فساد برپا کرتے رہے ہیں۔ اسی سبب سے یہ شہر اجاڑ دیا گیا تھا۔
16 اور ہم بادشاہ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ شہر تعمیر ہو اور اس دریا پار کچھ نہ رہے گا۔
17 تب بادشاہ نے رحوم دیوان اور شمسی منشی اور ان کے باقی رفیقوں کو جو سامریہ اور دیرا پار کے باقی ملک میں رہتے ہیں یہ جب بھیجا کہ سلام وغیرہ۔
18 جو خط تم نے ہمارے پپاس بھیجا وہ میرے حضور صاف صاف پڑھا گیا۔
19 اور میں نے حکم دیا اور تفتیش ہوئی اور معلوم ہوا کہ اس شہر نے قدیم زمانہ سے بادشاہوں سے بغاوت کی ہے اور فتنہ اور فساد اس میں ہوتا رہا ہے۔
20 اور یروشلم میں زور آور بادشاہ بھی ہوئے ہیں جنہوں نے دریا پار کے سارے ملک پر حکومت کی ہے اور خراج چنگی اور محصول ان کو دیا جاتا تھا۔
21 سو تم حکم جاری کرو کہ یہ لوگ کام بند کریں اور یہ شہر نہ بنے جب تک میری طرف سے فرمان جاری نہ ہو۔
22 خبرادار اس میں سستی نہ کرنا۔بادشاہوں کے نقصان ک لئے خرابی کیوں بڑھنے پائے؟۔
23 سو جب ارتخششتا بادشاہ کے خط کی نقل رحوم اور شمسی منشی اور ان کے رفیقوں کے سامنے پڑھی گئی تو وہ جلد یہودیوں کے پاس یروشلم کو گئے اور جبراور زور سے ان کو روک دیا۔
24 تب خدا کے گھر کا جو یروشلم میں ہے کام موقوف ہوا اور شاہ فارس دارا کی سلطنت کے دوسرے برس تک بند رہا۔


باب 5

1 پھر بنی ححجی بنی اور زکریاہ بن عدو ان یہودیوں کے سامنے جو یہوداہ اور یروشلم میں تھے نبوت کرنے لگے انہوں نے اسرائیل کے خدا کے نام سے ان کے سامنےنبوت کی۔
2 تب زربابل بن سالتی ایل اور یشوع بن یوصدق اٹھے اور خدا کے گھر کو جو یروشلم میں ہے بنانے لگے اور خدا کے وہ بنی ان کے ساتھ ہو کر ان کی مدد کرتے تھے۔
3 ان ہی دنوں دریا پار کا حاکم تتنی اور شتر بوزلی اور ان کے ساتھی ان کے پاس آکر ان سے کہنے لگے کہ کس کے فرمان سے غم اس گھر کو بناتے اور اس فصیل کرتے ہو؟۔
4 تب ہم نے ان سے اس طرح کہا کہ ان لوگوں کے کیا نام ہیں جو اس عمارت کو بنارہے ہیں؟۔
5 پر یہودیوں کے بزرگوں پر ان کے خدا کی نظر تھی۔سو انہوں نے ان کو نہ روکا جب تک کہ وہ معاملہ دار تک نہ پہنچا اور پھر اس کے بارے میں خط کے ذریعہ سے جواب نہ آیا۔
6 اس خط کی نقل جو دریا پار کے تتنی اور شتر بوزنی اور اس کے افارسکی رفیقوں نے جو دریا پار تھے دارا بادشاہ کو بھیجا۔
7 انہوں نے اس کے پاس ایک خط بھیجا جس میں یوں لکھا تھا دارا بادشاہ کی ہر طرح سلامتی ہو!۔
8 بادشاہ کو معلوم ہو کہ ہم یہوداہ کے صوبہ میں خدای تعالی کے گھر کو گئے۔وہ بڑے بڑے پتھروں سے بنرہا اور دیواروں پر کڑیاں دھری جارہی ہیں اور کام خوب کوشش سے ہورہا ہے اور ان کے ہاتھوں ترقی پارہا ہے۔
9 تب ہم نے ان بزرگوں سے سوال کیا اور ان سے یوں کہا کہ تم کس کے فرمان سے اس گھر کو بناتے اور اس دیوار کو تمام کرتے ہو؟۔
10 اور ہم نے ان کے نام بھی پوچھے تاکہ ہم ان لوگوں کے نام لکھ کر حضور کو خبر یں کہ ان کے سردار کون ہیں۔
11 اور انہوں نے ہم کو یوں جواب دیا کہ ہم زمین وآسمان کے خدا کے بندے ہیں اور جسے اسرائیل کے ایل بڑے بادشاہ نے بنا کر تیار کیا تھا۔
12 لیکن جب ہمارے باپ دادا نے آسمان کے خدا کو غصہ دلایا تو اس نے ان کو شاہ بابل بنوکدنضر کسدی کے ہاتھ میں کردیا جس نے اس گھر کو اجاڑ دیا اور لوگوں کو بابل کو لے گیا۔
13 لیکن شاہ بابل خورس کے پہلے سال خورس بادشاہ نے حکم دیا کہ خدا کا یہ گھر بنایا جائے۔
14 اور خدا کے گھر کے سونے اور چاندی کے ظروف کو بھی جن کو بنوکدنضر یروشلم کی ہیکل سے نکال کر بابل کے مندر میں لے آیا تھا ان کو خورس بادشاہ نے بابل کے مندر سے نکالا اور ان کو شیبضر نامی ایک شخص کو جسے اس نے حاکم بنایا تھا سونپ دیا۔
15 اور اس سے کہا کہ ان برتنوں کو لے اور جااور ان کو یروشلم کی ہیکل میں رکھ اور خدا کا مسکن اپنی جگہ پر بنایا جائے۔
16 تب اسی شیبضر نے آکر خدا کے گھر کی جو یروشلم میں ہے بنیاد ڈالی اور اس وقت سے اب تک یہ بن رہا ہے پر ابھی تیار نہیں ہوا۔
17 سو اب اگر بادشاہ مناسب جانے تو بادشاہ کے دولت خانہ میں جو بابل میں ہے تفتیش کی جائے کہ خورس بادشاہ نے خدا کے اس گھر کو یروشلم میں بنانے کا حکم دیا تھا یا نہیں اور اس معاملہ میں بادشاہ اپنی مرضی ہم پر ظاہر کرے۔


باب 6

1 تب دارا بادشاہ کے حکم سے بابل کے اس تواریخی کتب خاانہ میں جس میں خزانے دھرے تھے تفتیش کی گئی
2 چنانچہ اخمتا کے محل میں جو مادے کے صوبہ میں واقع ہے ایک طومار ملا جس میں یہ حکم لکھا ہوا تھا۔
3 خورس بادشاہ کے پہلے سال خورس بادشاہ نے خدا کے گھر کی بات جو یروشلم میں ہے حکم کیا کہ وہ گھر یعنی وہ مقام جہاں قربانیاں کرتے ہیں بنایا جائے اور اس کی بنیادیں مضبوطی سے ڈالی جائیں اس کی اونچائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی ساٹھ ہاتھ ہو۔
4 تین ردے بھاری پتھروں کے اور ایک ردہ نئی لکڑی کا ہو اور خرچ شاہی محل سے دیا جائے ۔
5 اور خدا کے گھر کے سونے اور چاندی کے برتن بھی جن کو بنوکدنضر اس ہیکل سے جو یروشلم میں ہے نکال کر بابل کو لایا واپس دئے جائیں اور یروشلم کی ہیکل میں اپنی اپنی جگہ پہنچائے جائیں اور تو ان کو خدا کے گھر میں رکھ دینا۔
6 سو تو اے دریا پار کے حاکم تتنی اور شتر بوزنی اور تمہارے افارسکی رفیق جو دریا پار ہیں تم وہاں سے دور رہو۔
7 خدا کے اس گھر کے کام میں دست اندازی نہ کرو۔یہودیوں کا حاکم اور یہودیوں کے بزرگ خدا کے گھر کو اس کی جگہ پر تعمیر کریں۔
8 علاوہ اس کے خدا کے اس گھر کے بنانے میں یہودیوں کے بزرگوں کے ساتھ تم کو کیا کرنا ہے۔سو اس کی بابت میرا یہ حکم ہے کہ شاہی مال میں سے یعنی دریا پار کے خراج میں سے ان لوگوں کو بلاتوقف خرچ دیاجائےتاکہ ان کو ان کو رکنا نہ پڑے۔
9 اور آسمان کے خدا کی سوختنی قربانیوں کے لئے جس جس چیز کی ان کو ضرورت ہو یعنی بچھڑے اور مینڈھے اور حلوان اور جتنا گہیوں اور نمک اور مے اور تیل وہ کاہن جو یروشلم میں ہیں بتائیں وہ سب بلاناغہ روز بروز ان کو دیا جائے۔(تاکہ وہ آسمان کے خدا کے حضور راحت انگیز قربانیاں چڑھائیں اور بادشاہ اور شاہزادوں کی عمر درازی کے لئے دعا کریں۔
10
11 میں نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ جو شخص اس فرمان کو دل دے اس کے گھر میں سے کڑی نکالی جائے اور اسے اسی پر چڑھا کر سولی دی جائے اور اس بات کے سبب سے اس کا گھر کوڑا خانہ بنا دیا جائے۔
12 اور وہ خدا جس نے اپنا نام وہاں رکھنا ہے سب بادشاہوں اور لوگوں کو جوخدا کے اس گھر کو جو یروشلم میں ہے ڈھانے کی غرض سے اس حکم کو بدلنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھائیں غارت کرے۔ مجھ دارا نے حکم دے دیا اس پر بڑی کوشش سے عمل ہو۔
13 تب دریا پار کے حاکم تتنی اور شتر بوزنی اور ان کے رفیقوں نے دارا بادشاہ کے فرمان بھیجنے کے بب سے بلا توقف اس کے مطابق عمل کیا۔
14 سو یہودیوں کے بزرگ حجی بنی اور زکریا بن عدو کی بنوت کے سبب سے تعمیر کرتے اور کامیاب ہوتے رہے اور انہوں نے اسرائیل کے خدا کے حکم اور خورس اور دارا اور شاہ فارس ارتخششتا کے حکم کے مطابق اسے بنایا اور تمام کیا۔
15 سو یہ مسکن ادار کے مہینے کی تیسری تاریخ میں دارا بادشاہ کی سلطنت کے چھٹے برس تما ہوا۔
16 اور بنی اسرائیل اور کاہنوں اور لاویوں اور اسیری کے باقی لوگوں نے خوشی کے ساتھ خدا کے اس گھر کی تقدیس کی۔
17 اور انہوں نے خدا کے اس گھر کی تقدیس کے موقع پر سو بیل اور دو سو مینڈھے اور چار سو برے اور سارے اسرائیل کی خطا کی اربانی کے لئے اسرائیل کے قبیلوں کے شمار کے مطابق بارہ بکرے چڑھائے۔
18 اور جیسا موسی کی کتاب میں لکھا ہے انہوں نےکاہنوں کو ان کی تقسیم اور لاویوں کو ان کے فریقوں کے مطابق خدا کی عبادت کے لئے جو یروشلم میں ہوتی ہے مقرر کیا۔
19 اور پہلے مہینے کی چودھعیں تاریخ کو ان لوگوں نے جو اسیری سے آئے تھے عید فسح منائی۔
20 کیونکہ کاہنوں اور لاویوں نے ایک تن ہو کر اپنے آپ کو پاک کیا تھا۔وہ سب کے سب پاک تھے اور انہوں نے ان سب لوگوں کے لئے جو اسیری سے آئے تھے اور اپنے بھائی کاہنوں کے لئے اور اپنے واسطے کوذبح کیا۔
21 اور بنی اسرائیل نے جو اسیری سے لوٹے تھے اور ان سبھوں نے جو خداوند اسرائیل کے خدا کے طالب ہونے کے لئے اس سرزمین کی اجنبی قوموں کی نجاستوں سے الگ ہو گئے تھے فسح کھایا۔
22 اور خوشی کے ساتھ سات دن تک فطیری روٹی کی عید منائی کیونکہ خداوند نے ان کو شادمان کیا تھا اور بادشاہ کے دل کو ان کی طرف مائل کیا تھا تاکہ وہ خدا یعنی اسرائیل کے خدا کے مسکن کے بنانے میں ان کی مدد کرے۔


باب 7

1 ان باتوں کے بعد شاہ فارس ارتخششتا کے دور سلطنت میں عزرا بن سرایاہ بن عزریاہ بن خلقیاہ
2 بن سلوم ببن صدوق بن اخیطوب۔
3 بن امریاہ بن عزریاہ بن مرایوت۔
4 بن زراخیاہ بن عزی بن بفی۔
5 بن ابیسوع بن فینحاس بن الیعزر بن ہارون سردار کاہن۔
6 یہی عزرابابل سے گیا اور وہ موسی کی شریعت میں جست خداوند اسرائیل کے خدا نے دیا تھا ماہر فقیہہ تھا اور چونکہ خداوند اس کےخدا کا ہاتھ اس پر تھا بادشاہ نے اس کی سب درخواستیں منظور کیں۔
7 اور بنی اسرائیل اور کاہنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اور نتنیم میں سے کچھ لوگ ارتخششتا بادشاہ کے ساتویں سال ریوشلم میں آئے۔
8 اور وہ بادشاہ کی سلطنت کے ساتویں برس کے پانچویں مہینے یروشلم میں پہنچا۔
9 کیونکہ پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو تو وہ بابل سے چلا اور پانچویں مہینے کی پہلی تاریخ کو یروشلم میں آپہنچا کیونکہ اس کے خدا کی شفقت کا ہاتھ اس پر تھا۔
10 اس لئے کہ عزرا آمادہ ہو گیا تھا کہ خداوند کی شریعت کا طالب ہو اور اس پر عمل کرے اور اسرائیل میں آئین اور احکام کی تعلیم دے۔
11 اور عزرا کاہن اور فقیہہ یعنی خداوند کے اسرائیل کو دے ہوئے احکام اور آئین کی باتوں کے فقیہہ کو جو خط ارتخششتا بادشاہ نے عنایت کیا اس کی نقل یہ ہے۔
12 ارتخششتا شاہنشاہ کے طرف سے عزرا کاہن یعنی آسمان کے خدا کی شریعت کے فقیہہ کامل وغیرہ وغیرہ کو۔
13 میں یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ اسرائیل کے جو لوگ اور ان کے کاہن اور لاوی میری مملکت میںہیں ان میں ہے جتنے اپنی خوشی سے یروشلم کو جانا چاہتے ہیں تیرے ساتھ جائیں۔
14 کیونکہ تو بادشاہ اور اس کے ساتویں مشیروں کی طرف سے بھیجا جاتا ہے تاکہ اپنے خدا کی شریعت کے مطابق جو تیرے ہاتھ میں ہے یہوداہ اور یروشلم کا حال دریافت کرے۔
15 اور جو چاندی اور سونا بادشاہ اور اس کے مشیروں نے اسرائیل کے خدا کو جس کا مسکن یروشلم میں ہے اپنی خوشی سے نذر کیا ہے لے جائے۔
16 اور جس قدر چاندی سونا بابل کے سارے صوبہ سے تجھے ملے گا اور جو خوشی کے ہدئے لوگ اور کاہن اپنے خدا کے گھر کے لئے جویروشلم میں ہے اپنی خوشی سے دیں ان کو لے جائے۔
17 اس لئے اس روپے سے بیل اور مینڈھے اور حلوان اور ان کی نذر کی قربانیاں اور ان کے تپاون کی چیزیں تو بڑی سے خریدنا اور ان کو اپنے خدا کے گھر کے مذبح پر جو یروشلم میں ہے چڑھانا۔
18 اور تجھے اور تیرے بھایئوں کو باقی چاندی سونے کے ساتھ جو کچھ کرنا مناسب معلوم ہو وہی اپنے خدا کی مرضی کے مطابق کرنا۔
19 اور جو برتن تجھے تیرے خدا کے گھر کی جماعت کے لئے سونپے جاتے ہیں ان کو یروشلم کے خدا کے حضور دے دینا۔
20 اور جو کچھ اور تیرے خدا کے گھر کے لئے ضروری ہو جو تجھے دینا پڑے اسے شاہی خزانہ سے دینا۔
21 اور میں ارتخسستا بادشاہ خود دریا پار کے سب خزانچیوں کو حکم کرتا ہوں کہ جو کچھ عزرا کاہن آسمان کے خدا کی شریعت کا فقیہہ تم سے چاہے وہ بلا توقف کیا جائے۔
22 یعنی سو قنطار چاندی اور سو کر گیہوں اور سو بت مے اور سوبت تیل تک اور نمک بے اندازہ ۔
23 جو کچھ آسمان کے خدا نے حکم کیا ہے سو ٹھیک ویسا ہی آسمان کے خدا کے گھر کے لئے کیا جائے کیونکہ بادشاہ اور شاہزادوں کی مملکت پر غضب کیوں بھڑکے؟۔
24 اور تم کو ہم آگاہ کرتے ہیں کہ کاہنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اور نتنیم اور خدا کے اس گھر کے خادموں می سے کسی پر خراج چنگی یا محصول لگانا جائز نہ ہاگا۔
25 اور اے عزرا تو اپنے خدا کی اس دانش کے مطابق جو تجھ کو عنایت ہوئی حاکموں اور قاضیوں کو مقرر کرتا کہدریا پار کے سب لوگوں کا جو تیرے خدا کی شریعت کو جانتے ہیں انصاف کریں اور تم اس کو جو نہ جانتا ہو سکھاؤ۔
26 اور جو کوئی تیرے خدا کی شریعت پر اور بادشاہ کے فرمان پر عمل نہ کرے اس کو بلا توقف قانونی سزا دی جائ۔خواہ موت یا جلاوطنی یا مال کی ضبطی یا قید کی
27 خداوند ہمارے باپ دادا کا خدا مبارک ہو جس نے یہ بات بادشاہ کے دل میں ڈالی کہ خداوند کے گھر کو جو یروشلم میں ہے آراستہ کرے۔
28 اور بادشاہ اور اس کے مشیروں کے حضور اور بادشاہ کےسب عالی قدر سرداروں کے آگے اپنی رحمت مجھ پر کی اور میں نے خداوند اپنے خدا کے ہاتھ سے جو مجھ پر تھا تقویت پائی اور میں نے اسرائیل میں سے خاص لوگوں کو اکٹھا کیا کہ وہ میرے ہمراہ چلیں۔


باب 8

1 ارتخششتا بادشاہ کے دور سلطنت میں جو لوگ میرے ساتھ بابل سے نکلے ان کے آبائی خاندانوں کے سردار یہ ہیں اور ان کا نسب نامہ یہ ہے
2 اپنی فینحاس میں سے جیرسوم بنی اتمر میں سے دانی ایل بنی داؤد میں سے حطوش۔
3 بنی سکنیاہ کی نسل کے بنی پر عوص میں سے زکریاہ اور اس کے ساتھ ڈیڑھ سو مرد نسب نامہ کی رو سے گنے گئے تھے۔
4 بنی پخت موآب میں سے الیہوعینی بن زراخیاہ اور اس کے ساتھ دو سو مرد۔
5 اور بنی سکنیاہ میں سے یحزی ایل کا بیٹا اور اس کے ساتھ تین سو مرد۔
6 اور بنی عدین میں سے عہد بن یونتن اور اس کے ساتھ پچاس مرد۔
7 اور بنی عیلام میں سے یسعیاہ بن عتلیاہ اور اس کے ساتھ مرد۔
8 اور بنی سفطیاہ میں سے زبدیاہ بن میکاایل اور اس کے ساتھ اسی مرد۔
9 اور بنی یوآب میں سے عبدیاہ بن یحی ایل اور اس کے ساتھ دو سو اٹھارہ مرد۔
10 اور بی سلومیت میں سے یوسفیاہ کا بیٹا اور اس کے ساتھ ایک سو ساٹھ مرد۔
11 اور بنی ببی میں سے زکریا بن ببی اور اس کے ساتھ اٹھائیس مرد۔
12 اور بنی عزجاد میں سے یوحنان بن ہقاطان اور اس کے ساتھ ایک سو دا مرد۔
13 اور بنی ادونقام میں سے جو سب سے پیچھے گئے ان کے نام یہ ہیں الیفلط اور یعنی ایل اور سمعیاہ اور ان کے ساتھ ساٹھ مرد۔
14 اور بنی بگوی میں سے عوطی اور زبود اور ان کے ساتھ ستر مرد۔
15 پھر میں نے ان کو اس دریا کے پاس جو اہاوا کی سمت کو بہتا ہے اکٹھا کیا اور وہاں ہم تین دن خیموں میں رہے اور میں نے لوگوں اور کاہنوں کا ملا خطہ کیا پر بنی لاوی میں سے کسی نہ پایا۔
16 تب میں نے الیعزر اور ارییل اور سمعیاہ اور الناتن اور یریب اور الناتن اور الناتن اور زکریاہ اور مسلام کو جوریئس تھے اور یویریب اور الناتن کو جو معلم تھے بلوایا۔
17 اور میں نے ان کو کسیفیا نام ایک مقام میں اؤد سردار کے پاس بھیجا اور جو کچھ ان کو ادو اور اس کے بھایئوں نتنیم سے کسیفیا میں کہنا تھا بتایا کہ وہ ہمارے خدا کے گھر کے لئے خدمت کرنے والے ہمارے پاس لے آئیں۔
18 اور چونکی ہمارے خدا کی شفقت کا ہاتھ ہم پر تھا اس لئے وہ محلی بن لاوی بن اسرائیل کی اولاد میں سے ایک دانش اٹھارہ آدمیوں کو۔
19 اور حسبیاہ کو اور اس کے ساتھ بنی مراری میں سے یسعیاہ کو اور اس کے بھائیوں اور ان کے بیٹوں یعنی بیس آدمیوں کو۔
20 اور نتنیم میں سے جن کو داؤد اور امیروں نے لاویوں کی خدمت کے لئے مقرر کیا تھا دو سو بیس نتنیم کو لے آئے۔ان سبھوں کے نام بنادئے گئے تھے۔
21 تب میں نے اہاوا کے دریا پر روزہ کی منادی کرائی تاکہ ہم اپنے خدا کے حضور اس اپنے اور اپنے بال بچوں اور اپنے مال کے لئے سیدھی راہ طلب کرنے کو فروتن بنیں۔
22 کیونکہ میں نے شرم کے باعث بادشاہ سے سپاہیوں کے جتھے اور سواروں کے لئے درخواست نہ کی تھی تاکہ وہ راہ می دشمن کے مقابلہ میں ہماری مدد کریں کیونکہ ہم نے بادشاہ سے کہاتھا کہ ہمارے خدا کا ہاتھ بھلائی کے لئے ان سب کے ساتھ ہے جو اس کے طالب ہیں اور اس کا زور اور قہران اب کے خلاف ہے جو اسے ترک کرتے ہیں۔
23 سو ہم نے روزہ رکھ کر اس بات کے لئے اپنے خدا سے منت کی اور اس نے ہماری سنی۔
24 تب میں نے سردار کاہنوں میں سے بارہ کو یعنی سربیاہ اور حسبیاہ اور ان کے ساتھ ان کے بھویئوں میں سے دس کو الگ کیا۔
25 اور ان کو وہ چاندی سونا اور ظروف یعنی وہ ہدیہ جو ہمارے خدا کے گھر کے لئے بادشاہ اور اس کے وزیروں اور امیروں اور تمام اسرائیل نے جو وہاں حاضر تھے نذر کیا تھا تول دیا۔
26 میں ہی نے ان کے ہاتھ میں ساڑھے چھ سو قنطار چاندی کے برتن اور قنطار سونا۔
27 اور سونے کے بیس پیالے جو ہزار درہم کے تھے اور چوکھے چمکتے ہوئے پیتل کے دو برتن جو سونے کی طرح قیمتی تھے تول کر دئے۔
28 اور میں نے ان سے کہا کہ تم خداوند کے لئے مقدس ہو اور یہ برتن بھی مقدس ہیں اور یہ چاندی اور سونا خداوند تمہارے باپ دادا کے لئے رضا کی قربانی ہے۔
29 سو ہوشیار رہنا جب تک یروشلم میں خداوند کے گھر کی کوٹھریوں میں سردار کاہنوں اور لاویوں اور سرائیل کے آبائی خاندانوں کے امیروں کے سامنے ان کو تول نہ دا ان کی حفاظت کرنا۔
30 سو کاہنوں اور لاویوں نے سونے اور چاندی اور برتنوں کو تول کر لیا تاکہ ان کو یروشلم میں ہمارے خدا کے گھر میں ہینائیں۔
31 پھر ہم پہلے مہینے کی بارھویں تاریخ کو اہاوا کے دریا سے روانہ ہوئے کہ یروشلم کو جائیں اور ہمارے خدا کا ہاتھ ہمارے ساتھ تھا اور اس نے ہم کو دشمنوں اور راستہ میں گھات لگانے والوں کے ہاتھ سے بایا۔
32 اور ہم یروشلم پہنچ کر تین دن تک ٹھہرے رہے۔
33 اور چوتھے دن وہ چاندی اور سونا اور برتن ہمارے خدا کے گھر میں تول کر کاہن مریموت بن اوریاہ کے ہاتھ میں دئے گئے اور اس کے ساتھ الیعزر بن فینحاس تھا اور ان کے ساتھ یہ لاوی تھے یعنی یوزابا د بن یشوع اور نوعیدیاہ بن بنوی۔
34 سب چیزوں کو گن کر اور تول کر پورا وزن اسی وقت لکھ لیاگیا۔
35 اور اسیری میں سے ان لوگوں نے جو جلا وطنی سے لوٹ آئے تھے اسرائیل کے خدا کے لئے سوختنی قربانیاں چڑھائیں یعنی سارے اسرائیل کے لئے بارہ بچھڑے اور چھیانوے مینڈھے اور ستتر برے اور خطا کی قربانی کے لئے بارہ بکرے۔ یہ سب خداوند کے لئے سوختنی قربانی تھی۔
36 اور انہوں نے باشاہ کے فرمانوں کوبادشاہ کے نائبوں اور دریا پار کے حاکموں کے حوالہ کیا اور انہوں نے لوگوں کلی اور خدا کے گھر کی حمایت کی۔ (


باب 9

1 جب یہ سب کام ہو چکے تو سرداروں نے میرے پاس آکر کہا کہ اسرائیل کے لوگ اور کاہن اور لاوی ان اطراف کی قوموں سے الگ نہیں رہے کہونکہ کنعانیوں اور حتیوں اور فرزیوں اوریبوسیوں اور عمونیوں اور موآبیوں اور مصریوں اور اموریوں کے سے نفرتی کام کرتے ہیں۔
2 چنانچہ انہوں نے اپنے اور اپنے بیٹوں کے لئے ان کی بیٹیاںلی ہیں۔سو مقدس نسل ان اطراف کی قوموں کے ساتھ خلط ملط ہو گئی اور سرداروں اور حاکموں کا ہاتھ اس بدکاری میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔
3 جب میں نے یہ بات سنی تو اپنے پیراہن اور اپنی چادر کو چاک کیا اور سراور داڑھی کے بال نوچے اور حیرا ہو بیٹھا۔
4 تب وہ سب جو اسرائیل کے خدا کی باتوں سے کانپتے تھے اسیروں کی اس بدکاری کے باعث میرے پاس جمع ہوئے اور میں شام کی قربانی تک حیران بیٹھا رہا۔
5 اور شام کی قربانی کے وقت میں اپنا پھٹا پیراہن پہنے اور اپنی پھٹی چادر اوڑھے ہوئے اپنی شرمندگی کی حالت سے اٹھا اور اپنے گھٹنوں پر گر کر خداوند اپنے خدا کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے۔
6 اور کہا اے میرے خدا میں شرمندہ ہوں اور تیری طرف اے میرے خدا اپنا منہ اٹھاتے مجھے لاج آتی ہے کیونکہ ہمارے گناہ بڑھتے بڑھتے ہمارے سر اسے بلند ہو گئے اور ہماری خطا کاری آسمان تک پہنچ گئی ہے۔
7 اپنے باپ دادا کے وقت سے آج تک ہم بڑے خطا کارہے اور اپنی بدکاری کے باعث ہم اور ہمارے بادشاہ اور ہمارے کاہن اور ملکوں کے بادشاہوں اور تلوار اور اسیری اور غارت اور شرمندگی کے حوالہ ہوئے ہیں جیسا آج کے دن ہے۔
8 اب تھوڑے دنوں سے خداوند ہمارے خدا کی طرف سے ہم پر فضل ہوا ہے تاکہ ہمارا کچھ بقیہ بچ نکلنے کو چھوٹے اور اس کے مکان مقدس میں ہم کو ایک گھونٹی ملے اور ہمارا خدا ہماری آنکھیں روشن کرے اور ہماری غلامی میں ہم کو کچھ تازگی بخشے۔
9 کیونکہ ہم تو غلام ہیں پر ہمارے خدا نے ہماری غلامی میں ہم کو چھوڑا نہیں بلکہ ہم کو تازگی بخشنے اور اپنے خدا کے گھر کو بنانے اور اس کے کھنڈروں کی مرمت کرنے اور یہوداہ اور یروشلم میں ہم کو شہر بناہ دینے کو فارس کے بادشاہوں کے سامنے ہم رحمت کی۔
10 اور اب اے ہمارے خدا ہم اس کے بعد کیا کہیں؟ کیونکہ ہم نے تیرے ان حکموں کو ترک کردیا ہے۔
11 جو تو نے اپنے خادموں یعنی نبیوں کی معرفت فرمائے کہ وہ ملک جسے تم میراث میں لینے کو جاتے ہو اور ملکوں کی قوموں کی نجاست اور نفرتی کاموں کے سبب سے ناپاک ملک ہے کیونکہ انہوں نے اپنی ناپاکی سے اس کو اس سرے سے اس سرے تک بھر دیا ہے۔
12 سو تم اپنی بیٹیاں ان کے بیٹوں کو نہ دینا اور ان کی بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لئے نہ لینا اور نہ کبھی ان کی سلامتی یا اقبال مندی چاہتا تاکہ تم مضبوط بنو اور اس ملک کی اچھی اچھی چیزیں کھاؤ اور اپنی اولاد کے واسچے ہمیشہ کی میراث کے لئے اسے چھوڑ جاؤ۔
13 اور ہمارے برے کاموں اور بڑے گناہ کے باعث جو کچھ ہم پر گذرا اس کے بعد اے ہمارے خدا اور حالیکہ تو نے ہمارے گناہوں کے اندازہ سے ہم کو کم سزادی اور ہم میں سے ایسا بقیہ چھوڑا۔
14 کیا ہم پھر تیرے حکموں کو توڑیں اور ان قوموں سے ناتا جوڑیں جو ان نفرتی کاموں کو کرتی ہیں؟کیا تو ہم سے ایسا غصے نہ ہو گا کہ ہم کو نیست ونابود کردے یہاں تک کہ نہ کوئی بقیہ رہے اور نہ کوئی بچے؟۔
15 اے خداوند اسرائیل کے خدا تو صادق ہے کیونکہ ہم ایک بقیہ ہیں جو بچ نکلا ہے جیسا آج کے دن ہے ۔دیکھ ہم اپنی خطا کاری میں تیرے حضور حاضر ہیں کیونکہ اسی سبب سے کوئے تیرے حضور کھڑا رہ نہیں سکتا۔


باب 10

1 جب عزرا خدا کے گھر کے رو رو کر اور اوندھے منہ گر کر دعا اور اقرار ر رہا تھا تو اسرائیل میں سے مردوں اور عورتوں اور بچوں کی ایک بہت بڑی جماعت اس کے پاس فراہم ہوگئی اور لوگ پھوٹ پھوٹ کر رورہے تھے۔
2 تب سکنیاہ بن یحی ایل جو بنی عیلام میں سے تھا عزرا سے کہنے لگا ہم اپنے خدا کے گنہگار تو ہوئے ہیں اور اس سرزمین کی قوموں میں اجنبی عورتیں بیاہ لی ہیں تو بھی اس معاملہ میں اب بی ارائیل کے لئے امید ہے۔
3 سو اب ہم اپنے مخدوم کی اور ان کی صلاح کے مطابق جو ہمارے خدا کے حکم سے کاپنتے ہیں سے بیویوں اور ان کی اولاد کو دور کرنے کے لئے اپنے خدا سے عہد باندھیں اور یہ شریعتے کے مطابق کیا جائے۔
4 پس اٹھ کیونکہ یہ تیرا ہی کام ہے اور ہم تیرے ساتھ ہیں،ہمت باندھ کر کام میں لگ جا۔
5 تب عزرا نے اٹھ کر سردار کاہنوں اور لاویوں اور سارے اسرائیل سے قسم لی کہ اس اقرار کے مطابق عمل کریں گے اور انہوں نے قسم کھائی۔
6 تب عزرا خدا کے گھر کے سامنے سے اٹھا اور یہوحانان بن الیاسب کی کوٹھری میں گیا اور وہاں جا کر نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا کیونکہ وہ اسیری کے لوگوں کی خطا کے سبب سے نماتم کرتا رہا۔
7 پھر انہوں نے یہوداہ اور یروشلم میں اسیری کے سب لوگوں کے درمیان منادی ک کہ وہ یروشلم میں اکٹھے ہو جائیں۔
8 اور جو کوئی سرداروں اور بزرگوں کی صلاح کے مطابق تین دن کے اندر نہ آئے اس کا سارا مال ضبط ہو اور وہ خود اسیروں کی جماعت سے الگ کیا جائے۔
9 تب یہوداہ اور بنیمین کے سب مرد ان تین دنوں کے اندر یروشلم میں اکٹھے ہوئے۔مہینہ نواں تھا اور اس کی بیسویں تاریخ تھی اور سب لوگ اس معاملہ اور بڑی بارش کے سبب سے خدا کے گھر کے سامنے کے میدان میں بیٹھے کانپ رہے تھے۔
10 تب عزرا کاہن کھڑا ہو کر ان سے کہنے لگا کہ تم نے خطا کی ہے اور اسرائیل کا گناہ بڑھانے کو اجنبی عورتیں بیاہ لی ہیں۔
11 پس خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے آگے اقرار کرو اور اس کی مرضی پر عمل کرو اور اس سرزمین کے لوگوں اور اجنبی عورتوں سے الگ ہو جاؤ۔
12 تب ساری جماعت نے جواب دیا اور بلند آواز سے ہکہا کہ جیسا تو نے کہا ویسا ہی ہم کو کرنا لازم ہے۔
13 لیکن لوگو بہت ہیں اور اس وقت شدت کی بارش ہورہی ہے اور ہم باہر کھڑے نہیں رہ سکتے اور نہ یہ ایک دو دن کاکام ہے کیونکہ ہم نے اس معاملہ میں بڑا گناہ کیا ہے۔
14 اب ساری جماعت کے لئے ہمارے سردار مقرر ہوں اور ہمارے شہروں میں جہنوں نے اجنبی عورتیں بیاہ لی ہیں وہ سب مقررہ وقتوں پر آئیں اور ان کے ساتھ ہر شہر کے بزرگ اور قاضی ہوں جب تک کہ ہمارے خدا کا قہر شدید ہم پر سے ٹل نہ جائے اور اس معاملہ کا تصفیہ نہ ہو جائے۔
15 فقط یونتن بن عساہیل اور یحازیاہ بن تقوہ اس بات کے خلاف کھڑے ہوئے اور سلام اور سبتی لاوی نے ان کی مدد کی ۔
16 پر اسیری کے لوگوں نے ویسا ہی کیا اور عزرا کاہن اور آبائی خاندانوں کے سرداروں میں سے بعض اپنے اپنے آبائی خاندان کی طف سے سب نام بہ نام الگ کئے گئے اور وہ سدویں مہینے کی پہلی تاریخ کو اس بات کی تحقیقات کے لئے بیٹھے۔
17 اور مہینے کے پہلے دن تک ان سب مردوں کے معاملہ کا فیصلہ کیا جہنوں نے اجبنی عورتیں بیاہ لی تھیں۔
18 اور کاہنوں کی اولاد میں یہ لوگ ملے جہنوں نے اجنبی عورتیں بیاہ لی تھیں یعنی بنی یشوع میں سے یوصدق کا بیٹا اور اس کے بھائیمعیاہ اور الیعزر اور یارب اور جدلیاہ۔
19 انہوں نے اپنی بہویوں کو دور کرنے کا وعدہ کیا اور گنہگار ہونے کے سبب سے انہوں نے اپنے گناہ کے لئے اپنے اپنے ریوڑ میں سے ایک ایک مینڈھا قربان کیا۔
20 اور بنی امیر میں سے حنانی اور زبدیاہ۔
21 اور بنی حارم میں سے معیاہ اور الیاہ اور سمعیاہ اور یحی ایل اور عزیاہ ۔
22 اور بنی فشحور میں سےالیوعینی اور معیاہ اور اسمعیل اور نتنی ایل اور یوزباد اورالعسہ۔
23 یوزباد اور سمعی اور فلایاہ (جو قلیتا بھی کہلاتا ہے) فتحیاہ اور یہوداہ اور الیعزر۔
24 اور گانے والوں میں سے الیاسب اور بانوں میں سے سلوم اور طلم اور اوری۔
25 اور اسرائیل میں سے بنی پرغوس میں سے رمیاہ اور یزیاہ اور ملکیاہ اور میامین اور الیعزر اور ملکیاہ اور بنایاہ۔
26 اور بنی عیلام میں سے متنیاہ اور زکریا اور یحی ایل اور عبدی اور یریموت اور الیاہ۔
27 اور بنی زتو میں سے الیوعینی اور الیاسب اور متنیاہ اور یریموت اور زاباد اور عزیزا۔
28 اور بنی ببی میں سے یہوحانان اور حننیاہ اور زبی اور عطلی۔
29 اور بنی بانی میں سے۔ مسلام اور ملوک اور عدایاہ اور یاسوب اور سیال اور یراموت۔
30 اور بنی پخت موآب میں سے عدنا اور کلالی اور بنایاہ اور معیاہ اور منیاہ اور بضلی ایل اور بنوی اور منسی۔
31 اور بنی حارم میں سے الیعزر اور یشیاہ اور ملکیاہ اور سمعیاہ اور شمعون۔
32 بنیمین اور ملوک اور سمریاہ۔
33 اور بنی حاشوم میں سے متنی اور متتاہ اور زایاد اور الیفلط اور یریمی اور منسی اور سمعی۔
34 اور بنی بانی میں سے معدی اور عمرام اور اوایل۔
35 بنایاہ اور بدیاہ اور کلوہ۔
36 اور ونیاہ اور مریموت اور الیاسب۔
37 اور مننیاہ اور متنی اور یعسو۔
38 اور بانی اور بنوی اور سمعی۔
39 اور سلمیاہ اور ناتن اور عدایاہ۔
40 مکندب ساسی ساری۔
41 عزریئلاور سلیمیاہ سمریاہ۔
42 سلوم امریاہ یوسف۔
43 بنی بنو میں سے یعی ایل متتیاہ زاباد زبینایدد اور یوایل بنایاہ۔
44 یہ سب اجنبی عورتوں کو بیاہ لائے تھے اور بعضوں کی بیویاں ایسی تھیں جن سے ان کے اولاد تھی۔