نحمیاہ

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13


باب 1

1 نحمیاہ بن حکلیاہ کا کلام ۔بیسویں برس کسلیو کے مہینے میں جب میں قصر
2 سوسن میں تھا تو اَیسا ہوا۔کہ حنائی جع میرے بھائیوں میں سے ایک ہے اور چند آدمی یہوادہ سے آئے اور میں نے اُن سے اُن یہودیوں کے بارے میں جو بچ نکلے تھے اور اسیروں میں سے باقی رہے تھے اوریروشلیم کے بارے میں پوچھا۔
3 اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ باقی لوگ جو اسیری سے چھوٹ کر اُس صوبہ میں رہتے ہیں نہایت مُصیبت اور ذلت میں پڑے ہیں اور یروشلیم کی فصل ٹوٹی ہوئی اور اُسکے چھاٹک
4 آگ سے جلے ہوئے ہیں۔جب میں نے یہ باتیں سُنیں تو بیٹھکر رونے لگااور کئی دِنوں تک ماتم کرتا رہا اور روزہ رکھا اور آسمان کے خدا کے حضور دُعا کی۔
5 اور کہا اَے خداوند آسمان کے خداخدایِ عظیم ومہیب جو اُنکے ساتھ جو تجھ سے محبت رکھتے اور تیرے حکُموں کو مانتے ہیں عہد وفضل کو قائم رکھتا ہے میں تیری منت کرتا ہوں۔
6 کہ تو کان لگا اور اپنی آنکھیں کُھلی رکھ تاکہ تو اپنے بندہ کی اُس دُعا کو سُنے جو میں اب رات دِن تیرے حُضور تیرے بندوں بنی اِسرائیل کے لئے کرتا ہوں اور بنی اِسرائیل کی خطاؤں کو جو ہم نے تیرے برخلاف کیں مان لیتا ہوں اور میں اور میرے آبائی خاندان دونوں نے گناہ کیا ہے ۔
7 ہم نے تیرے خلاف بڑی بدی کی ہے اور اُن حکموں اور آئین اور فرمانوں کو جو تو نے اپنے بندہ موسیٰ کو دئے نہیں مانا۔
8 میں تیری منت کرتا ہوں کہ اپنے اُس قول کو یاد کر جو تو نے اپنے بندہ موسیٰ کو فرمایا کہ اگر تم نافرمانی کرو تو میں تم کو قوموں میں تتر بتر کرونگا ۔
9 پر اگر تم میری طرف پھر کر میرے حُکموں کو مانو اور اُن پر عمل کرو تو گو تمہارے آوارہ گرد آسمان کے کناروں پر بھی ہوں میں اُن کو وہاں سے اِکٹھا کرکے اُس مقا م میں پہنچا ونگا جِسے میں نے چُن لیا ہے تاکہ اپنا نام وہاں رکُھوں۔
10 وہ تو تیرے بندے اور تیرے لوگ ہیں جنکوتو نے اپنی بڑی قدرت اور قوی ہاتھ سے چھڑایا ہے۔
11 اَے خداوند !میں تیری منت کرتا ہوں کہ اپنے بندہ کی دُعا پر اور اپنے بندوں کی دُعا پر جو تیرے نام سے ڈرنا پسند کرتے ہیں کان لگا اور آج میں تیری منت کرتا ہوں اپنے بندہ کو کامیاب کر اور اِس شخص کے سامنے اُس پر فضل کر (میں تو بادشاہ کا ساقی تھا)۔


باب 2

1 ارتخششتابادشاہ کے بیسویں برس نیسان کے مہینے میں جب مے اُسکے آگے تھی تو میں نے مے اُٹھا کر بادشاہ کو دی اور اِس سے پہلے میں کبھی اُسکے حضور اُداس نہیں ہوا تھا۔
2 سو بادشاہ نے مجھ سے کہا تیرا چہرہ کیوں اُداس ہے باوجودیکہ تو بیمار نہیں ہے؟پس یہ دِل کے غم کے سوا اور کُچھ نہ ہوگا ۔تب میں بہت ڈر گیا ۔
3 اور میں نے بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ ہمیشہ جیتا رہے !میرا چہرہ اُداس کیوں نہ ہو جبکہ وہ شہر جہاں میرے باپ دادا کی قبریں ہیں اُجاڑ پڑا ہے اور اُسکے پھاٹک آگ سے جلے ہُوئے ہیں؟۔
4 بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کِس بات کے لئے تیری درخواست ہے ؟تب میں نے آسمان کے خدا سے دُعا کی ۔
5 پھِر میں نے بادشاہ سے کہا کہ اگر بادشاہ کی مرضی ہو اور اگر تیرے خادم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو تومجھے یہوداہ میں میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر کو بھیج دے تاکہ میں اُسے تعمیر کروُ ں ۔
6 تب بادشاہ نے (ملکہ بھی اُسکے پاس بیٹھی تھی)مجھ سے کہا تیرا سفر کتنی مُدت کا ہوگا اور تو کب لوٹیگا؟غرض بادشاہ کی مرضی ہوئی کہ مجھے بھیجے اور میں نے وقت مُقرر کرکے اُسے بتایا۔
7 اور میں نے بادشاہ سے یہ بھی کہا اگر بادشاہ کی مرضی ہو تو در یا پار کے حاکموں کے لئے مجھے پروانے عنایت ہوں کہ وہ مجھے یہوداہ تک پہنچنے کے لئے گذر جانے دیں۔
8 اور آسف کے لئے جو شاہی جنگل کا نگہبان ہے ایک شاہی خط ملے کہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں کے لئے اور شہر پناہ اور اُس گھر کے لئے جس میں میں رہونگا کڑیا ں بنانے کومجھے لکڑی دے اور چونکہ میرے خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر تھا بادشاہ نے میری عرض قبول کی۔
9 تب میں نے دریا پار کے حاکموں کے پاس پہنچا کر بادشاہ کے پروانے اُنکو دِئے اور بادشاہ نے فوجی سرداروں اور سواروں کو میرے ساتھ کردیا تھا۔
10 اور جب سنبلط حورونی اور عمونی غلام طُوبیاہ نے یہ سُنا کہ ایک شخص بنی اِسرائیل کی بہبودی کا خواہان آیا ہے تو وہ نہایت رنجیدہ ہُوئے ۔
11 اور میں یروشیلم پہنچکر تین دِن رہا۔
12 پھر میں رات کو اُٹھا ۔میں بھی اور میرے ساتھ چند آدمی پر جو کُچھ یروشلیم کے لئے کرنے کو میرے خدا نے میرے دِل میں ڈالا تھا وہ میں نے کسی کو نہ بتا یا اور جس جانور پر میں سوار تھا اُسکے سوا اور کوئی جانور میرے ساتھ نہ تھا۔
13 اور میں رات کو وادی کے پھاٹک کو گیا اور یروشلیم کی فصیل کو جو توڑدی گئی تھی اور اُسکے پھاٹکوں کو جو آگ سے جلے ہوُئے تھے دیکھا۔
14 پھر میں چشمہ کے پھاٹک اور بادشاہ کے تالاب کو گیا پر وہاں اُس جانور کے لئے جِس پر میں سوار تھا گذرنے کی جگہ نہ تھی ۔
15 پھر میں رات ہی کو نالے کی طرف سے فصیل کو دیکھکر لوٹا اور وادی کے پھاٹک سے داخل ہوا اور یوں واپس آگیا ۔
16 اور حاکموں کو معلوم نہ ہوا کہ میں کہا ں کہاں گیا یا میں نے کیا کیا اور میں نے اُ س وقت تک نہ یہودیوں نہ کاہنوں نہ اِمیروں نہ حاکموں نہ باقیوں کو جو کار گُذار تھے کچھ بتایا تھا۔
17 تب میں نے اُن سے کہا تم دیکھتے ہو کہ ہم کیسی مُصیبت میں ہیں کہ یروشلیم اُجاڑ پڑا ہے اور اُسک پھاٹک آگ سے جلے ہوئے ہیں۔آؤ ہم یروشلیم کی فصل بنائیں تا کہ آگے کو ہم ذِلت کا نشان نہ رہیں۔
18 اور میں نے اُنکو بتایا کہ خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر کیسے رہا اور یہ کہ بادشاہ نے مجھ سے کیا کیا باتیں کہی تھیں ۔اُنہوں نے کہا ہم اُٹھکر بنانے لگیں سو اِس اچھے کام کے لئے اُنہوں نے اپنے ہاتھوں کو مضبوط کیا۔
19 پر جب سنبلط حُورُونی اور عمونی غلام طُوبیاہ اور عربی حیشم نے یہ سُنا تو وہ ہم کو ٹھٹھوں میں اُڑانے اور ہماری حقارت کرکے کہنے لگے تم یہ کیا کام کرتے ہو؟کیا تم بادشاہ سے بغاوت کرو گے؟۔
20 تب میں نے جواب دے کر اُن سے کہا آسمان کا خدا وہی ہم کو کا میاب کر یگا ۔اِسی سبب سے ہم جو اُسکے بندے ہیں اُٹھکر تعمیر کرینگے لیکن یروشلیم میں تمہارا نہ کوئی حصہ نہ حق نہ یاد گار ہے۔


باب 3

1 تب اِلیا سب سردار کا ہن اپنے بھاےؤں یعنی کاہنوں کے ساتھ اُٹھا اور اُنہوں نے بھیڑ پھاٹک کو بنایا اور اُسے مقد س کیا اور اُسکے کواڑوں کو لگایا۔ اُنہوں نے ہمیاہ کے بُرج بلکہ حنن ایل کے بُرج تک اُسے مُقدس کیا۔
2 اُس سے آگے یریحوکے لوگوں نے بنایا اور اُن سے آگے زکوربن اِمری نے بنایا۔
3 اور مچھلی پھاٹک کو بنی ہسناہ نے بنایا ۔ اُنہوں نے اسکی کڑیا ں رکھیں اور اسکے کواڑے اور چٹکنیاں اور اڑ بنگے لگائے ۔
4 اور ان سے آگے مریموت بن اوریا ہ بن ہقوص نے مرمت کی اور ان سے آگے مسلام بن برکیا ہ بن مشینر بیل نے مرمت کی اور ان سے آگے صدوق بن بعنہ نے مرمت کی ۔
5 اور ان سے آگے تقوعیوں نے مرمت کی پر انکے اسیروں نے اپنے مالک کے کام کے لئے گردن نہ جھکائی ۔
6 اور پرانے پھاٹک کی یہویدع بن فاسخ اور مسلا م بن بسودیاہ نے مرمت کی۔ انہوں نے اسکی کڑیاں رکھیں اور اسکے کواڑے اور چٹکنیاں اور اڑ بنگے لگائے۔
7 اور ان سے آگے ملطیاہ جبعونی اور یدون مرونوتی اور جبعون اور مصفا ہ کے لوگوں نے جو دریا پار کے حاکم کی عملمداری میں سے تھے مرمت کی۔
8 اور ان سے آگے سناروں کی طرف سے عزیئیل بن حرہیاہ نے اور اس سے آگے عطاروں میں سے حننیاہ نے مرمت کی اور ا نہوں نے یروشلیم کو چوڑی دیوار تک محکم کیا۔
9 اور ان سے آگے رفایاہ نے جو حور کا بیٹا اور یروشلیم کے آدھے حلقہ کا سردار تھا مرمت کی۔
10 اور اس سے آگے یدایاہ بن حرومف نے اپنے ہی گھر کے سامنے تک مرمت کیاور اس سے آگے حطوش بن حسبنیاہ نے مرمت کی۔
11 ملکیاہ بن حارم اور حسوب بن پخت موآب نے دوسرے حصہ کی اور تنوروں کے بُرج کی مرمت کی۔
12 اور اُس سے آگے سلوم بن ہلو حیش نے یروشلیم کے آدھے حلقہ کا سردار تھا اور اُسکی بیٹیوں نے مر مت کی۔
13 وادی کے پھاٹک کی مرمت حنُون اور نواح کے باشندوں نے کی ۔اُنہوں نے اُسے بنایا اور اُسکے کواڑے اور چٹکیناں اور اڑ بنگے لگائے اور کوڑے کے پھاٹک تک ایک ہزار ہاتھ دیوار تیار کی۔
14 اور کوڑے کے پھاٹک کی مرمت ملکیاہ بن ریکاب نے کی جوبیت ہکرم کے حلقہ کا سردار تھا اُس نے اُسے بنایا اور اُسکے کواڑے اور چٹکنیاں اور اڑ بنگے لگائے۔
15 اور چشمہ پھاٹک کو سلوم بن کلحوزہ نے جو مصفاہ کے حلقہ کا سردار تھا مرمت کیا۔اُس نے اُسے بنایا اور اُسکو پاٹا اور اُسکے کواڑے اور چٹکیناں اور اُسکے اڑبنگے لگائے اور بادشاہی باغ کے پاس شیلوخ کے حوض کی دیوار کواُس سیڑھی تک جو داود کے شہر سے نیچے آتی ہے بنایا ۔
16 پھر نحمیابن عزبوق نے جو بیت سور کے آدھے حلقہ کا سردار تھا دادو کی قبروں کے سامنے کی جگہ اور اُس حوض تک جو بنایا گیا تھا اور سوریاؤں کے گھر تک مرمت کی ۔
17 پھر لاویوں میں سے رحُوم بن با نی نے مر مت کی ۔اُس سے آگے حسبیاہ نے جو قعیلاہ کے آدھے حلقہ کا سردار تھا اپنے حلقہ کی طرف سے مرمت کی ۔
18 پھر اُنکے بھائیوں میں سے بوی بن حنداد نے جو قعیلاہ کے آدھے حلقہ کا سردار تھا مرمت کی۔
19 اور اُس سے آگے عیزربن یشوع مصفاہ کے سردار نے دُوسرے ٹکڑے کی جو موڑ کے پاس سلاح خانہ کی چڑھائی کے سامنے ہے مرمت کی۔
20 پھر باروک بن زبی نے سرگرمی سے اُس موڑ سے سردار کاہن اِلیا سب کے گھر کے دروازہ تک ایک اور ٹکڑے کی مرمت کی۔
21 پھر مریموت بنِ اُوریاہ بنِ ہقوص نے ایک اور ٹکڑے کی اِلیا سب کے گھر کے دروازہ سے اِلیاسب کے گھر کے آخر تک مرمت کی۔
22 اور پھر نشیب کے رہنے والے کاہنوں نے مرمت کی ۔
23 پھر بنیمین اور حسوب نے اپنے گھر کے سامنے تک مرمت کی۔پھر عزریاہ بن معسیاہ بن عننیاہ نے اپنے گھر کے برابر تک مرمت کی ۔
24 پھر بنوی بن حنداد نے عزریاہ کے گھر سے دیوار کے موڑاور کونے تک ایک اور ٹکڑے کی مرمت کی۔
25 فالال بن اُوزی نے موڑ کے سامنے کے حصہ کی اور اُس برج کی جو قید خانہ کے صحن کے پاس کے شاہی محل سے باہر نکلا ہوا ہے مرمت کی۔پھر فدایاہ بن پرعُوس نے مرمت کی۔
26 (اور نتنیم مشرق کی طرف عوفل میں پانی پھاٹک کے سامنے اور اُس بُرج تک بسے ہوئے تھے جو باہر نکلا ہوا ہے)۔
27 پھر تقوعیوں نے اُس بڑے بُرج کے سامنے جوباہر نکلا ہواہے اور عوفل کی دیوار تک ایک اَور ٹکڑے کی مرمت کی۔
28 گھوڑا پھاٹک کے اُوپر کاہنوں نے اپنے اپنے گھر کے سامنے مرمت کی۔
29 اُنکے پیچھے صدوق بن اِمیر نے اپنے گھر کے سامنے مرمت کی پھر مشرقی پھاٹک کے دربان سمعیاہ بن سکنیاہ نے مرمت کی۔
30 پھر حننیاہ بن سلمیاہ اور حنون نے جو صلف کا چھٹا بیٹا تھا ایک اور ٹکڑے کی مرمت کی۔پھر مسُلام بن برکیاہ نے اپنی کوٹھری کے سامنے مرمت کی۔
31 پھر سُناروں میں سے ایک شخص ملکیاہ نے نتنیم اور سوداگروں کے گھر تک ہمفقاد کے پھاٹک کے سامنے اور کونے کی چڑھائی تک مرمت کی۔
32 اور اُس کونے کی چڑھائی اور بھیڑ پھاٹک کے بیچ سُناروں اور سوداگروں نے مرمت کی۔


باب 4

1 لیکن اَیسا ہو ا کہ جب سنبلط نے سُنا کہ ہم شہر پناہ بنا رہے ہیں تو جل گیا اور بہت غصہ ہوا اور یہودیوں کو ٹھٹھوں میں اُڑانے لگا۔
2 اور وہ اپنے بھائیوں اور سامریہ کے لشکر کے آگے یوں کہنے لگا کہ یہ کمزور یہودی کیا کر رہے ہیں؟ کیا یہ اپنے گرد مورچہ بندی کر ینگے؟کیا وہ قربانی چڑئینگے ؟ کیا وہ ایک ہی دن میں سب کچھ کر چُکینگے ؟کیا وہ جلے ہوئے پتھروں کو کوڑے کے ڈھیروں میں نکالکر پھر نئے کر وینگے؟۔
3 اور طُوبیاہ عمونی اُسکے پاس کھڑاتھا۔سو وہ کہنے لگا جو کچھ وہ بنا رہے ہیں اگر اُس پر لومڑی چڑھ جائے تو وہ اُنکی پتھر کی شہر پناہ کو گرا دیگی ۔
4 سُن لے اَے ہمارے خداکیونکہ ہماری حقارت ہوتی ہے اور اُنکی ملامت اُن ہی کے سر پر ڈال اور اسیری کے مُلک میں اُنکو غارتگروں کے حوالہ کر دے ۔
5 اور اُنکی بدی کو نہ ڈھانک اور اُنکی خطا تیرے حُضور سے مٹائی نہ جائے کیونکہ اُنہوں نے معماروں کے سامنے تجھے غصہ دلایاہے۔
6 غرض ہم دیوار بناتے رہے اور ساری دیوار آدھی بلندی تک جوڑی گئی کیونکہ لوگ دِل لگا کر کام کرتے تھے ۔
7 پر جب سنبلط اور طوبیاہ اور عربوں اور عمونیو ں اور اشدودیوں نے سُنا کہ یروشیلم کی فصیل مرمت ہوتی جاتی ہے اور دراڑیں بند ہونے لگیں تو وہ جل گئے۔
8 اور سبھوں نے ملکر بندش باندھی کہ آکر یروشیلم سے لڑیں اور وہا ں پریشانی پیدا کر دیں ۔
9 پر ہم نے اپنے خدا سے دُعا کی اُنکے سبب سے دِن اور رات اُنکے مقابلہ میں پہرا بٹھائے رکھا۔
10 اور یہوداہ کہنے لگا کہ بوجھ اُٹھانے والوں کا زور گھٹ گیااور ملبہ بہت ہے ۔ سو ہم دیوار نہیں بنا سکتے ہیں۔
11 اور ہمارے دُشمن کہنے لگے کہ جب تک ہم اُنکے بیچ پہنچکر اُنکو قتل نہ کر ڈالیں اور کام موقوف نہ کر دیں تب تک اُنکو نہ معلوم ہوگا نہ وہ دیکھینگے ۔
12 اور جب وہ یہودی جو اُنکے آس پاس رہتے تھے آئے تو اُنہوں نے سب جگہوں سے دس بار آکر ہم سے کہا کہ تم کو ہمارے پاس سے لوٹ آنا ضرور ہے۔
13 اِسلئے میں نے شہر پناہ کے پیچھے کی جگہ کے سب سے نیچے حصوں میں جہاں جہاں کھلا تھالوگوں کو اپنی اپنی تلوار اور بر چھی اور کمان لئے ہوئے اُنکے گھرانوں کے مطابق بٹھادیا۔
14 تب میں دیکھکر اُٹھا اور اِمیروں اور حاکموں اور باقی لوگوں سے کہا کہ تم اُن سے مت ڈرو خداوند کو جو بُررگ اور مہیب ہے یاد کرو اور اپنے بھائیوں اور بیٹے بیٹیوں اور اپنی بیویوں اور گھروں کے لئے لڑو۔
15 اور جب ہمارے دُشمنوں نے سُنا کہ یہ بات ہم کو معلوم ہوگئی اور خدانے اُنکا منصوبہ باطل کر دیا توہم سب کے سب شہر پناہ کو اپنے اپنے کام پر لوٹے ۔
16 اور اَیسا ہوا کہ اُس دن سے میرے آدھے نوکر کام میں لگ جاتے اور آدھے برچھیاں اور ڈھالیں اور کمانیں لئے اور بکتر پہنے رہتے تھے اور وہ جو حاکم تھے یہوداہ کے سارے خاندان کے پیچھے موجود رہتے تھے ۔
17 سو جو لوگ دیوار بناتے تھے اور جو بوجھ اُٹھاتے اور ڈھوتے تھے ہر ایک اپنے ایک ہاتھ سے کام کرتاتھااور دوسرے میں اپنا ہتھیار لئے رہتا تھا۔
18 اور معماروں میں سے ہر ایک آدمی اپنی تلوار اپنی کمر سے باندھے ہوئے کام کرتا تھا اور وہ جو نرسنگاپُھونکتا تھا میرے پاس رہتاتھا۔
19 اور میں نے اِمیروں اور حاکموں اور باقی لوگوں سے کہا کہ کام تو بڑا اور پھیلا ہو ا ہے اور ہم دیوار پر الگ الگ ایک دوسرے سے دُور رہتے ہیں۔
20 سوجدھر سے نرسنگاتم کوسُنائی دے اُدھر ہی تم ہمارے پاس چلے آنا۔ہمارا خدا ہمارے لئے لڑ یگا۔
21 یوں ہم کام کرتے رہے اور اُن میں سے آدھے لوگ پوپھٹنے کے وقت سے تاروں کے دکھائی دینے تک برچھیاں لئے رہتے تھے۔
22 اور میں نے اُسی موقع پر لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ہر شخص اپنے نوکر کو لیکر یروشیلم میں رات کاٹا کرے تاکہ رات کو وہ ہمارے لئے پہرا دیا کریں اور دن کو کام کریں۔
23 سو نہ تو میں نہ میر ے بھائی نہ میرے نوکر اور نہ پہرے کے لوگ جو میرے پیرو تھے کبھی اپنے کپڑے اُتارتے تھے بلکہ ہر شخص اپنا ہتھیار لئے ہوئے پانی کے پاس جاتاتھا۔


باب 5

1 پھر لوگوں اور اُنکی بیویوں کی طرف سے اُنکے یہودی بھائیوں پر بڑی شکایت ہوئی۔
2 کیونکہ کئی اَیسے تھے جو کہتے تھے کہ ہم اور ہمارے بیٹے بیٹیاں بہت ہیں۔سو ہم اناج لے لیں تاکہ کھا کر جیتے رہیں۔
3 اور بعض اَیسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ ہم اپنے کھیتوں اور انگورِستانوں اور مکانوں کو گرورکھتے ہیں تا کہ ہم کال میں اناج لے لیں۔
4 اور کتنے کہتے تھے کہ ہم نے اپنے کھیتوں اور انگورِستانوں پر بادشاہ کے خراج کے لئے روپیہ قرض لیا ہے۔
5 پر ہمارے جِسم تو ہمارے بھائیوں کے جِسم کی طرح ہیں اور ہمارے بال بچے اَیسے ہیں جیسے اُنکے بال بچے اور دیکھو ہم اپنے بیٹے بیٹیوں کو نوکر ہونے کے لئے غلامی کے سُپرد کرتے ہیں اور ہماری بیٹیوں میں سے بعض لونڈیاں بن چکی ہیں اور ہمار اکچھ بس نہیں چلتا کیونکہ ہمارے کھیت اور انگورِستان اوروں کے قبضہ میں ہیں۔
6 جب میں نے اُنکی فریاد اور یہ باتیں سُنیں تو میں بہت غصہ ہوا۔
7 اور میں نے اپنے دِل میں سوچا اور اِمیروں اور حاکموں کو ملامت کرکے اُن سے کہا تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی سے سود لیتا ہے اور میں نے ایک بڑی جماعت کو اُنکے خلاف جمع کیا۔
8 اور میں نے اُن سے کہا کہ ہم اپنے مقدور کے موافق اپنے یہودی بھائیوں کو جو اور قوموں کے ہاتھ بیچ دِئے گئے تھے دام دیکر چھڑایا ۔ سو کیا تم اپنے ہی بھائیوں کو بیچو گے؟اور کیا وہ ہمارے ہی ہاتھ میں بیچے جائینگے ؟تب وہ چپ رہے اور اُنکو کچھ جواب نہ سوجھا۔
9 اور میں نے یہ بھی کہا کہ یہ کام جو تم کرتے ہو ٹھیک نہیں۔کیا اور قوموں کی ملامت کے سبب سے جو ہماری دُشمن ہیں تم کو خدا کے خوف میں چلنا لازم نہیں؟۔
10 میں بھی اور میرے بھائی اور میرے نوکر بھی اُنکو روپیہ اور غلہ سود پر دیتے ہیں پر میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ ہم سب سُود لینا چھوڑ دیں۔
11 میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ آج ہی کے دِن اُنکے کھیتوں اور انگورِستانوں اور زیتون کے باغوں اور گھروں کو اور اُس روپے اور اناج اور مے اور تیل کے سو یں حصہ کوجو تم اُن سے جبراً لیتے ہو اُنکو واپس کر دو۔
12 تب اُنہوں نے کہا کہ ہم اُنکو واپس کر دینگے اور اُن سے کچھ نہ مانگینگے جیسا تو کہتا ہے ہم ویسا ہی کر ینگے ۔پھر میں نے کاہنوں کو بُلایا اور اُن سے قسم لی کہ وہ اِسی وعدہ کے مطابق کرینگے۔
13 پھر میں نے اپنادامن جھاڑا اور کہا کہ اِسی طرح سے خدا ہر شخص کو جو اپنے اِس وعدہ پر عمل نہ کرے اُسکے گھر سے اور اُسکے کاروبار سے جھاڑڈالے۔ وہ اِسی طرح جھاڑ دیا اور نکال پھینکا جاے۔تب ساری جماعت نے کہا آئین اور خدا وند کی حمد کی اور لوگوں نے اِس وعدہ کے مطابق کام کیا۔
14 علاوہ اِسکے جِس وقت سے میں یہوداہ کے ملک میں حاکم مُقرہ ہوا یعنی ارتخششتا بادشاہ کے بیسویں برس سے بتیسویں برس تک غرض بارہ برس میں نے اور میرے بھائیوں نے حاکم ہونے کی روٹی نہ کھائی ۔
15 لیکن اگلے حاکم جو مجھ سے پہلے تھے رعیت پر ایک بار تھے اور علاوہ چالیس مثقال چاندی کے روٹی اور مے اُن سے لیتے تھے بلکہ اُنکے نوکر بھی لوگوں پر حکومت جتاتے تھے لیکن میں نے خدا کے خوف کے سبب سے اَیسا نہ کیا۔
16 بلکہ میںَ س شہر پناہ کے کام میں برابر مشغول رہا اور ہم نے کچھ زمین بھی نہیں خریدی اور میر ے سب نوکروہاں کام کے لئے اکٹھے رہتے تھے۔
17 اِسکے سوااُن لوگوں کے علاوہ جو ہمارے آس پاس کی قوموں میں سے ہمارے پاس آتے تھے یہودیوں اور سرداروں میں سے ڈیڑھ سو آدمی میرے دستر خوان پر ہوتے تھے۔
18 اور ایک بیل اور چھ موٹی موٹی بھیڑیں ایک دِن کے لئے تیار کی جاتی تھیں۔مُرغیاں بھی میرے لئے تیار کی جاتی تھیں اور دس دس دِن کے بعد ہر قسم کی مے کا ذخیرہ تیار ہوتا تھا باوجوداِس سب کے میں نے حاکم ہونے کی روٹی طلب نہ کی کیونکہ اِن لوگوں پر غلامی گران تھی۔
19 اَے میرے خدا جو کچھ میں نے اِن لوگوں کے لئے کیا ہے اُسے تو میرے حق میں بھلائی کے لئے یاد رکھ۔


باب 6

1 جب سنبلط اور طوبیاہ اور حبشم عربی اور ہمارے باقی دُشمنوں نے سُنا کہ میں شہر پناہ کو بنا چُکا اور اُس میں کوئی رخنہ باقی نہیں رہا (اگرچہ اُس وقت تک میں نے پھاٹکوں میں کواڑے نہیں لگائے تھے)۔
2 تو سنبلط اور حبشم نے مجھے یہ کہلا بھیجا کہ آہم اونو کے میدان کے کسی گاؤں میں باہم مُلاقات کریں پر وہ مجھ سے بدی کرنے کی فکر میں تھے۔
3 سو میں نے اُنکے پاس قاصدوں سے کہلابھیجا کہ میں بڑے کام میں لگاہوں اور آ نہیں سکتا ۔میرے اِسے چھوڑ کر تمہارے پاس آنے سے یہ کام کیوں موقوف رہے؟۔
4 اُنہوں نے چار بار میرے پاس اَیسا ہی پیغام بھیجا اور میں نے اُنکو اِسی طرح کا جواب دِیا۔
5 پھر سنبلط نے پانچویں بار اُسی طرح سے اپنے نوکر کو میرے پاس ہاتھ میں کُھلی چھٹی لئے ہوئے بھیجا ۔
6 جِس میں لکھا تھاکہ اور قوموں میں یہ افواہ ہے اور جشمو یہی کہتا ہے کہ تیرا اور یہودیوں کا اِرادہ بغاوت کرنے کا ہے ۔اِسی سبب سے تو شہر پناہ بناتا ہے ۔
7 اور تو نے نبیوں کو بھی مُقرر کیا کہ یروشیلم میں تیرے حق میں منادی کریں اور کہیں کہ یہوداہ میں ایک بادشاہ ہے پس اِن باتوں کے مطابق بادشاہ کو اِطلاع کی جائیگی ۔ سو اب آہم باہم مشورہ کریں۔
8 تب میں نے اُسکے پاس کہلا بھیجا جو تو کہتا ہے اِس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ تو یہ باتیں اپنے ہی دِل سے بناتا ہے۔
9 وہ سب تو ہمکو ڈراناچا ہتے تھے اور کہتے تھے کہ اِس کام میں اُنکے ہاتھ اَیسے ڈھیلے پڑجائینگے کہ وہ ہونے ہی کا نہیں پر اب اَے خدا تو میرے ہاتھوں کو زور بخش ۔
10 پھر میں سمعیا ہ بن دِلایاہ بن مُہیطبیل کے گھر گیا ۔وہ گھر میں بند تھا ۔ اُس نے کہا ہم خدا کے گھر میں ہیکل کے اند ر ملیں اور ہیکل کے دروازوں کو بند کرلیں کیونکہ وہ تجھے قتل کرنے کو آئینگے ۔ وہ ضُرور رات کو تجھے قتل کرنے کو آئینگے۔
11 میں نے کہا کیا مجھ سا آدمی بھا گے ؟اور کون ہے جو مجھ سا ہو اور اپنی جان بچانے کو ہیکل میں گھسے ؟ میں اند ر نہیں جانے کا۔
12 اور میں نے معلوم کر لیا کہ خدا نے اُسے نہیں بھیجا تھا لیکن اُس نے میرے خلاف پیشینگوئی کی بلکہ سنبلط اور طوبیاہ نے اُسے اُجرت پر رکھا تھا۔
13 اور اُسکو اسلئے اُجرت دی گئی تاکہ میں ڈر جاؤں اور ایسا کام کرکے خطاکار ٹھہروں اور اُنکو بُری خبر پھیلانے کا مضمون مل جائے تاکہ مجھے ملامت کریں۔
14 اَے میرے خدا طوبیاہ اور سنبلط کو اُنکے اِن کاموں کے لحاظ سے اور نوعید یاہ نبیہ کو بھی اور باقی نبیوں کو جو مجھے ڈرانا چاہتے تھے یاد رکھ۔
15 غرض باون دِن میں الول مہینے کی پچیسویں تاریخ کو شہر پناہ بن چکی ۔
16 جب ہمارے سب دُشمنوں نے یہ سُنا تو ہمارے آس پاس کی سب قومیں ڈرنے لگیں اور اپنی ہی نظر میں خود ذلیل ہوگئیں کیونکہ اُنہوں نے جان لیا کہ یہ کام ہمارے خدا کی طرف سے ہوا۔
17 اِسکے سوا اُن دِنوں میں یہوداہ میں بہت لوگوں نے اُس سے قول وقرار کیا تھا اِسلئے کہ وہ سکنیاہ بن ارخ کا داماد تھا اور اُسکے بیٹے یہوحانان نے مُسلام بن برکیا ہ کی بیٹی کوبیاہ لیاتھا ۔
18
19 اور وہ میرے آگے اُسکی نیکیوں کا بیان بھی کرتے تھے اور میری باتیں اُسے سُناتے تھے اور طوبیاہ مجھے ڈرانے کو چٹھیاں بھیجا کرتا تھا۔


باب 7

1 جب شہر پناہ بن چکی اور میں نے دروازے لگالئے اور دربان اور گانے والے اور لاوی مُقرر ہوگئے ۔
2 تو میں نے یروشیلم کو اپنے بھائی حنائی اور قلعہ کے حاکم حنانیاہ کے سپرد کیا کیونکہ وہ امانت دار اور بہتوں سے زیادہ خدا ترس تھا۔
3 اور میں نے اُن سے کہا کہ جب تک دُھوپ تیز نہ ہو یروشیلم کے پھاٹک نہ کھلیں اور جب وہ پہرے پر کھڑے ہوں تو کواڑے بند کئے جائیں اور تم اُن میں اُڑ بنگے لگاؤ اور یروشیلم کے باشندوں میں سے پہرے والے مُقرر کرو کہ ہر ایک اپنے گھرکے سامنے اپنے پہرے پر رہے۔
4 اور شہر تو وسیع اور بڑا تھا پر اُس میں لوگ کم تھے اور گھر بنے نہ تھے ۔
5 اور میرے خدا نے میرے دِل میں ڈالا کہ اِمیروں اور سرداروں اور لوگوں کو اِکٹھا کروں تاکہ نسب نامہ کے مطابق اُن کا شمار کیا جائے اور مجھے اُن لوگوں کانسب نامہ ملا جو پہلے آئے تھے اور اُس میں یہ لکھا ہوا پایا۔
6 ملک کے جن لوگوں کو شاہ بابل نبوکدنضر بابل کو لے گیا تھا اُن اِسیروں کی اِسیری میں سے وہ جو نکل آئے اور یروشیلم اور یہوداہ میں اپنے اپنے شہر کو گئے یہ ہیں۔
7 جوزربابل یشوع نحمیاہ عرزیاہ رعمیاہ نحمانی مرد کی بلشان مسفرت بگوی نحوم اور بعنہ کے ساتھ آئے تھے۔
8 بنی اِسرائیل کے لوگوں کا شمار یہ تھا۔
9 بنی پرعوس دو ہزار ایک سو بہترّ۔
10 بنی سفطیاہ تین سوبہترّ
11 بنی ارخ چھ سو باون۔
12 بنی پختموآب جو یشوع اور ایوب کی نسل میں سے تھے دو ہزار آٹھ سو اٹھارہ ۔
13 بنی عیلام ایک ہزار دوسو چون۔
14 بنی زتو آٹھ سو پینتالیس ۔
15 بنی زکی سات سو ساٹھ۔
16 بنی نبوی چھ سو اڑتالیس ۔
17 بنی ببی چھ سو اٹھائیس ۔
18 بنی عزجاد دوہزارتین سو بائیس ۔
19 بنی ادونقام چھ سو سڑسٹھ ۔
20 بنی بگوی دو ہزار سڑسٹھ ۔
21 بنی عدین چھ سو پچپن ۔
22 حزقیاہ کے خاندان میں سے بنی اِطیراٹھانوے ۔
23 بنی حشوم تین سو اٹھائیس ۔
24 بنی بضی تین سو چوبیس۔
25 بنی خارف ایک سو بارہ۔
26 بنی جعبون پچانوے ۔
27 بیت لحم اور نطوفہ کے لوگ ایک سو اٹھاسی
28 عنتوت کے لوگ ایک سو اٹھائیس ۔
29 بیت عزماوت کے لوگ بیالیس ۔
30 قر یت یعریم کفیرہ اور بیروت کے لوگ سات سا تینتالیس ۔
31 رامہ اور جبع کے لوگ چھ سو اکیس ۔
32 مکماس کے لوگ ایک سو بائیس ۔
33 بیت ایل اور عی کے لوگ ایک سو تےئس ۔
34 دوسرے بنو کے لوگ باون۔
35 دوسرے عیلام کی اَولاد ایک ہزار دو سو چون۔
36 بنی حارم تین سو بیس ۔
37 یریحو کے لوگ تین سو پینتالیس ۔
38 لود اور حاوید تین اور اونو کے لوگ سات سو اکیس ۔
39 بنی سنا آہ تین ہزار نو سو تیس ۔پھر کاہن یعنی یشوع کے گھرانے میں سے بنی ید عیاہ نو سو تہتر ۔
40 بنی اِمیر ایک ہزار باون۔
41 بنی فشحُور ایک ہزار دو سو سینتالیس ۔
42 بنی حارم ایک ہزار سترہ ۔
43 پھر لاوی یعنی بنی ہوداوہ میں سے یشوع اور قدمی ایل کی اُولاد چوہتر ۔
44 اور گانے والے یعنی بنی آسف ایک سو اڑتالیس ۔
45 اور دربان جو سلوم اور اطیر اور طلمون اور عقوب اور خطیطااور سوبی کی اُولاد تھے ایک سو اڑتیس ۔
46 اور نتینم یعنی بنی ضیحا بنی حسوُفا بنی طبعوت ۔
47 بنی قروس بنی سیغابنی فُدون۔
48 بنی لبانہ بنی حجا بہ بنی شلمی ۔
49 بنی حنان بنی جد یل بنی حجار ۔
50 بنی ریا یاہ بنی رصین بنی نقودا۔
51 بنی جزام بنی عُزا بنی فاسخ۔
52 بنی بسی بنی معونیم بنی نفو شسیم ۔
53 بنی بقبوق بنی حقو قہ بنی حرحور ۔
54 بنی بضلیت بنی محید ابنی حرشا ۔
55 بنی برقوس بنی سیسرا بنی تامح ۔
56 بنی نضیاہ بنی خطیفا ۔
57 سُلیمان کے خادموں کی اَولاد بنی سُوتی بنی سوفرت بنی فریدا ۔
58 بنی یعلہ بنی درقون بنی جدیل ۔
59 بنی سفطیاہ بنی خطیل بنی فوکر ت ضبائم اور بنی امون ۔
60 سب نتنیم اور سُلیمان کے خادموں کی اُولاد تین سو بانوے ۔
61 اور جو لوگ تل ملح اور تل حرسااور کر وب اور اُدون اور اِمیر سے گئے تھے پر اپنے آبائی خاندانوں اور نسل کا پتہ نہ دے سکے کہ اِسرائیل میں سے تھے یا نہیں سو یہ ہیں۔
62 بنی دِلایا ہ بنی طوبیاہ بنی نقوداچھ سو بیالیس ۔
63 اور کاہنوں میں سے بنی حبایا ہ بنی ہقوص اور برزلی کی اُولاد جس نے جلعادی برزلی کی بیٹیوں میں سے ایک لڑکی کو بیاہ لیا اور اُنکے نام سے کہلایا ۔
64 اُنہوں نے اپنی سند اُنکے درمیان جو نسب ناموں کے مطابق گنے گئے تھے ۔ڈھونڈی پر وہ نہ ملی اِسلئے وہ ناپاک مانے گئے اور کہانت سے خارج ہوئے۔
65 اور حاکم نے اُن سے کہا کہ وہ پاکترین چیزویں میں سے نہ کھائیں جب تک کوئی کا ہن اُوریم وتمیم لئے ہوئے برپانہ ہو۔
66 ساری جماعت کے لوگ مل کر بیالیس ہزار تین سو ساٹھ تھے ۔
67 علاوہ اُنکے غلاموں اور لونڈیوں کا شمار سات ہزار تین سو سینتیس تھا اور اُنکے ساتھ دو سو پینتالیس گانے والے اورگانے والیاں تھیں ۔
68 اُنکے گھوڑے سات سو چھتیس ۔اُنکے خچردو سو پینتالیس ۔
69 اُنکے اُونٹ چار سو پینتیس ۔اُنکے گدھے چھ ہزار سات سو بیس تھے ۔
70 اور آبائی خاندانوں کے سرداروں میں سے بعض نے اُس کام کے لئے دِیا۔حاکم نے ایک ہزار سونے کے درہم اور پچاس پیالے اور کاہنوں کے پانچسوتیس پیراہن خزانہ میں داخل کئے۔
71 اور آبائی خاندانوں کے سرداروں میں سے بعض نے اُس کام کے خزانہ میں بیس ہزارسونے کے درہم اور دو ہزار دوسو منہ چاندی دی۔
72 اور باقی لوگوں نے جو دِیا وہ بیس ہزار سونے کے درہم اور دو ہزار منہ چاندی اور کاہنوں کے سڑسٹھ پیراہن تھے۔
73 سو کاہن اور لاوی اور دربان اور گانے والے اور بعض لوگ اور نتنیم اور تمام اِسرائیل اپنے اپنے شہر میں بس گئے اور جب ساتواں مہینہ آیا تو بنی اِسرائیل اپنے اپنے شہر میں تھے۔


باب 8

1 اور سب لوگ یک تن ہوکر پانی پھاٹک کے سامنے کے میدان میں اِکٹھے ہوئے اور اُنہوں نے عزرافقیہ سے عر ض کی کہ مُوسیٰ کی شریعت کی کتاب کو جسکا خداوند نے اِسرائیل کو حکم دِیا تھا لائے۔
2 اور ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ کو عزرا کاہن توریت کو جماعت کے یعنی مردوں اور عورتوں اور اُن سب کے سامنے لے آیا جو سُنکر سمجھ سکتے تھے۔
3 اور وہ اُس میں سے پانی پھاٹک کے سامنے کے میدان میں صُبح سے دو پہر تک مردوں اور عورتوں اور سبھوں کے آگے جو سمجھ سکتے تھے پڑھتا رہا اور سب لوگ شریعت کی کتاب پر کان لگائے رہے۔
4 اور عزرافقیہ ایک چوبی منبر پر جو اُنہوں نے اِسی کام کے لئے بنایا تھا کھڑا ہوا اور ااُسکے پاس متیتاہ اور سمع اور عنایاہ اور اُوریاہ اور خلقیاہ اور معیاہ اُسکے دہنے کھڑے تھے اور اُسکے بائیں فدایاہ اور مساایل اور ملکیاہ اور حاشوم اور حسبدانہ اور زکریاہ اور مُسلام تھے ۔
5 اور عزرا نے سب لوگوں کے سامنے کتاب کھولی (کیونکہ وہ سب لوگوں سے اُوپر تھا)اور جب اُس نے اُسے کھولا تو سب لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے۔
6 اور عزرا نے خداوند خُدایِ عظیم کو مبارک کہا اور سب لوگوں نے اپنے ہاتھ اُٹھا کر جواب دِیا۔آمین ۔آمین ۔اور اُنہوں نے اوندھے منہ زمین تک جھک کر خداوند کو سجدہ کیا۔
7 اور یشوع اور بانی اور سر بیاہ اور یامن اور عقوب اور سبتی اور ہودیاہ اور معسیاہ اور قلیطااور عرزیاہ اور یوزبد اور حنان اور فلایاہ اور لاوی لوگوں کو شریعت سمجھاتے گئے اور لوگ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔
8 اور اُنہوں نے اُس کتاب یعنی خداکی شریعت میں سے صاف آواز سے پڑھا ۔ پھر اُسکے معنی بتائے اور اُن کو عبارت سمجھا دی ۔
9 اور نحمیاہ نے جو حاکم تھا اور عزرا کاہن اور فقیہ نے اور اُن لاویوں نے جو لوگوں کو سکھا رہے تھے سب لوگوں سے کہا کہ آج کا دِن خداوندتمہارے خدا کے لئے مقدس ہے۔نہ غم کرو نہ رو کیونکہ سب لوگ شریعت کی باتیں سُنکر رونے لگے تھے۔
10 پھر اُس نے اُن سے کہا کہ اب جاؤ اور جو موٹا ہے کھاؤ اور جو میٹھا ہے پیو اور جنکے لئے کچھ تیار نہیں ہوااُنکے پاس بھی بھیجو کیونکہ آج کا دِن ہمارے خداوند کے لئے مقدس ہے اور تم اُداس مت ہو کیونکہ خداوند کی شادمانی تمہاری پناہ گاہ ہے۔
11 اور لاویوں نے سب لوگوں کو چُپ کرایا اور کہا خاموش ہو جاؤ کیونکہ آج کا دِن مقدس ہے اور غم نہ کرو۔
12 سو سب لوگ کھانے پینے اور حصہ بھیجنے اور بڑی خوشی کرنے کو چلے گئے کیونکہ وہ اُن باتوں کو جو اُنکے آگے بڑھی گئیں سمجھے تھے۔
13 اور دُوسرے دِن سب لوگو ں کے آبائی خاندانوں کے سردار اور کاہن اور لاوی عزرا فقیہ کے پاس اِکٹھے ہوئے کہ توریت کی باتوں پر دھیان لگائیں ۔
14 اور اُن کو شریعت میں یہ لکھا ملا کہ خداوند نے مُوسیٰ کی معرفت فرمایا ہے کہ بنی اِسرائیل ساتویں مہینے کی عید میں جھونپڑیوں میں رہا کریں۔
15 اور اپنے سب شہروں میں اور یروشیلم میں یہ اِعلان اور منادی کرائیں کہ پہاڑ پر جاکر زیتون کی ڈالیاں اور مہندی کی ڈالیاں اور کھجور کی شاخیں اور گھنے درختوں کی ڈالیاں جھوپنڑیوں کے بنانے کو لاؤ جیسا لکھا ہے ۔
16 سو لوگ جا جا کر اُنکو لائے اور ہر ایک نے اپنے گھر کے صحنوں میں اور پانی پھاٹک کے میدان میں اور افرائیمی پھاٹک کے میدان میں اپنے لئے جھونپڑیاں بنائیں۔
17 اور اُن لوگوں کی ساری جماعت نے جو اسیری سے پھر آئے تھے جھونپڑیاں بنائیں اور اُن ہی جھونپڑیوں میں رہے کیونکہ یشوع بن نُون کے دِنوں سے اُس دِن تک بنی اِسرائیل نے اَیسا نہیں کیا تھا چُنانچہ بہت بڑی خوشی ہوئی۔
18 اور پہلے دِن سے آخری دِن تک روز بروز اُس نے خدا کی شریعت کی کتاب پڑھی اور اُنہوں نے سات دِن عید منائی اور آٹھویں دِن دستور کے موافق مقدس مجمع فراہم ہوا ۔


باب 9

1 پھر اِسی مہینے کی چوبیسویں تاریخ کوبنی اِسرائیل روزہ رکھکر اور ٹاٹ ا وڑھکر اور مٹی اپنے سر پر ڈال کر اکٹھے ہوئے۔
2 اور اِسرائیل کی نسل کے لوگ سب پر دیسیوں سے الگ ہوگئے اور کھڑے ہو کر اپنے گناہوں اور اپنے باپ دادا کی خطاؤں کا اِقرار کیا۔
3 اور اُنہوں نے اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر ایک پہر تک خداوند اپنے خدا کی شریعت کی کتاب پڑھی اور دوسرے پہر میں اقرار کرکے خداوند اپنے خدا کو سجدہ کرتے رہے۔
4 تب قدمی ایل یشوع اور بانی اور سبنیاہ اور بُنی اور سربیاہ اور بانی اور کنعانی نے لاویوں کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے خداوند انے خدا سے فریاد کی۔
5 پھر یشوع اور قدمی ایل اور بانی اور حسبنیاہ اور سربیاہ اور ہودیاہ اور سبنیاہ اور فتحیاہ لاویوں نے کہا کھڑے ہو جاؤ اور کہو خداوند ہمارا خدا ازل سے ابد تک مبارک ہے تیر ا جلالی نام مُبارک ہو جوسب حمدوتعریف سے بالا ہے۔
6 تو ہی اکیلا خداوند ہے۔تو نے آسمان اور آسمانوں کے آسمان کو اور اُنکے سارے لشکر کو زمین کو اور جو کچھ اس پر ہے سمندر وں کو اور جو کچھ اُن میں ہے بنایا اور تو اُن سبھوں کا پروردگار ہے اور آسمان کا لشکر تجھے سجدہ کرتا ہے۔
7 تو وہ خداوند خدا ہے جس نے ابرام کو چن لیا اور اُسے کسدیوں کے اَور سے نکال لایا اور اُسکا نا م ابراہام رکھا۔
8 تو نے اسکا دِل اپنے حضور وفا دار پایا اور کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور یبوسیوں اور جرجاسیوں کا ملک دینے کا عہد اُس سے باندھا تاکہ اُسے اُسکی نسل کو دے اور تو نے اپنے سخن پُورے کئے کیونکہ تو صادق ہے۔
9 اور تو نے مصر میں ہمارے باپ دادا کی مصیبت پر نظر کی اور بحرقلزم کے کنارے اُنکی فریاد سُنی۔
10 اور فرعون اور اُسکے سب نوکروں اور اُسکے ملک کی سب رعیت پر نشان اور عجائب کر دکھائے کیونکہ تو جانتا تھا کہ وہ غرور کے ساتھ اُن سے پیش آئے سو تیرا بڑا نام ہوا جیسا آج ہے۔
11 اور تونے اُنکے آگے سُمندر کو دو حصے کیا اَیسا کہ وہ سمندر کے بیچ سُوکھی زمین پر ہو کر چلے اور تونے اُنکا پیچھا کرنے والوں کو گہراو میں ڈالا جیسا پتھر سمندر میں پھینکا جاتا ہے۔
12 اور تو نے دِن کو بادل کے ستون میں ہو کر اُنکی راہنمائی کی اور رات کو آگ کے ستون میں تاکہ جس راستے اُنکو چلنا تھا اُس میں اُنکو روشنی ملے۔
13 اور تو کوہ سینا پر اُترآیا اور تونے آسمان پر سے انکے ساتھ باتیں کیں اور راست احکام اور سچے قانون اور اچھے آئین وفرنان انکو دِئے۔
14 اور اُنکو اپنے مقدس سبت سے واقف کیا اور اپنے بندہ موسی کی معرفت اُنکو احکام اور آئین اور شریعت دی ۔
15 اور تو نے اُنکی بھوک مٹانے کو آسمان پر سے روٹی دی اور اُنکی پیاس بجھانے کو چٹان میں سے اُنکے لئے پانی نکالا اور اُنکو فرمایا کہ وہ جاکر اس ملک پر قبضہ کریں جسکو اُنکو دینے کی تو نے قسم کھائی تھی۔
16 لیکن اُنہوں نے اور ہمارے باپ دادا نے گھمنڈ کیا اور گردن کش بنے اور تیرے حکمو ں کو نہ مانا ۔
17 اور فرمانبرداری سے انکار کیا اور تیرے عجائب کو جو تو نے اُنکے درمیان کئے یاد نہ رکھا بلکہ گردن کش بنے اور اپنی بغاوت میں اپنے لئے ایک سردار مُقرر کیا تاکہ اپنی غلامی کی طرف لوٹ جائیں پر تو وہ خدا ہے جو رحیم وکریم معاف کرنے کو تیار اور قہر کرنے میں دھیمااور شفقت میں غنی ہے۔سو تو نے اُنکو ترک نہ کیا۔
18 پر جب اُنہوں نے اپنے لئے ڈھالا ہوا بچھڑا بنا کر کہا یہ تیرا خدا ہے جو تجھے ملک مصر سے نکال لایا اور یوں غصہ دلانے کے بڑے بڑے کام کئے۔
19 تو بھی تونے اپنی گوناگون رحمتوں سے اُنکو بیابان میں چھوڑ نہ دیا۔دِن کو بادل کا ستون اُنکے اُوپر سے دورنہ ہوا تاکہ راستہ میں اُنکی راہنمائی کرے اور نہ رات کو آگ کا ستون دور ہوا تاکہ وہ اُنکو روشنی اور وہ راستہ دکھائے جس سے انکو چلنا تھا ۔
20 اور تونے اپنی نیک روح بھی اُنکی پیاس بجھانے کو پانی دِیا۔
21 چالیس برس تک تو بیابان میں اُنکی کپڑے پرانے ہوئے اور نہ اُنکے پاؤں سوجے۔
22 اِسکے سوا تو نے اُن کو مملکتیں اور اُمیتں بخشیں جنکو تونے اُنکے حصوں کے مطا بق اُنکو بانٹ دیا ۔چنانچہ وہ سیحون کے ملک اور شاہ حسبون کے ملک اور بسن کے بادشاہ عوج کے ملک پر قابض ہوئے ۔
23 اور تو نے انکی اَولاد کو بڑھا کر آسمان کے ستاروں کی مانند کردیا اور اُنکو اُس ملک میں لایا جس کی بابت تو نے انکے باپ دادا سے کہا تھا کہ وہ جاکر اُس پر قبضہ کریں۔
24 سو انکی اولاد نے آکر اس ملک پر قبضہ کیا اور تو نے اُنکے آگے اس ملک کے باشندوں یعنی کنعانیوں کو مغلوب کیا اور اُنکو اُنکے بادشاہوں اور اِس ملک کے لوگوں سمیت اُنکے ہاتھ میں کر دیا کہ جیسا چاہیں ویسا اُن سے کریں۔
25 سو اُنہوں نے فصیل دار شہروں اور زرخیزملک کو لے لیا اور وہ سب طرح کے اچھے مال سے بھرے ہوئے گھروں اور کھودے ہوئے کوؤں اور بہت سے انگورستانوں اور زیتون کے باغوں اور پھل دار درختوں کے مالک ہوئے ۔ پھر وہ کھا کر سیر ہوئے اور موٹے تازہ ہوگئے اور تیرے بڑے احسان سے نہایت حظ اُٹھایا۔
26 توبھی وہ نافرمان ہو کر تجھ سے باغی ہوئے اور انہوں نے تیری شریعت کو پیٹھ پیچھے پھینکا اور تیرے نیبوں کو جو انکے خلاف گواہی دیتے تھے تاکہ اُن کو تیری طرف پھر الائیں قتل کیا اور انہوں نے غصہ دِلانے کے بڑے بڑے کام کئے۔
27 اِسلئے تو نے اُنکو ستا یا اور دُکھ کے وقت میں جب اُنہوں نے تجھ سے فریاد کی تو تو نے آسمان پر سے سُن لیا اور اپنی گوناگون رحمتوں کے مطابق اُنکو چھڑانے والے دِئے جنہوں نے انکو اُنکے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھڑایا۔
28 لیکن جب اُنکو آرام ملا تو اُنہو ں نے پھرتیرے آگے بدکاری کی اِسلئے تو نے اُنکو اُنکے دُشمنوں کے قبضہ میں چھوڑ دیا سو وہ اُن پر مسلط رہے تو بھی جب وہ رجوع لائے اور تجھ سے فریاد کی توتو نے آسمان پر سے سُن لیا اور اپنی رحمتوں کے مطابق اُن کو بار بار چھڑایا۔
29 اور تو نے اُنکے خلاف گواہی دی تاکہ اپنی شر یعت کی طرف اُنکو پھیر لائے پر اُنہوں نے گھمنڈ کیا اور تیرے فرمان نہ مانے بلکہ تیرے اِحکام کے برخلاف گناہ کیا(جنکو اگر کوئی مانے تو اُنکے سبب سے جیتا رہیگا)اور اپنے کندھے کو ہٹا کر گردن کش بن گئے اور نہ سُنا۔
30 تو بھی تو بہت برسوں تک اُنکی برداشت کرتا رہا اور اپنی رُوح سے اپنے نبیوں کی معرفت اُنکے خلاف گواہی دیتا رہا تو بھی اُنہوں نے کان نہ لگا یا اِسلئے تو نے اُنکو اور ملکوں کے لوگوں کے ہاتھ میں کردیا۔
31 باوجود اِسلئے تو نے اپنی گونا گون رحمتوں کے باعث اُنکو نابود نہ کر دِیا اور نہ اُنکو رترک کیا کیونکہ تو رحیم وکریم خدا ہے۔
32 سو اب اَے ہمارے خدا بُررُگ اور قادِر ومہیب خدا جو عہد ورحمت کو قائم رکھتا ہے وہ دُکھ جو ہم پر اور ہمارے بادشاہوں پر اور ہمارے سرداروں اور ہمارے کاہنوں پر اور ہمارے نبیوں اور ہمارے باپ دادا پر اور تیرے سب لوگوں پر اسُور کے بادشاہوں کے زمانہ سے آج تک پڑا ہے سو تیرے حضور ہلکا نہ معلوم ہو۔
33 تو بھی جو کچھ ہم پر آیا ہے اُس سب میں تو عادل ہے کیونکہ تو سچائی سے پیش آیا پر ہم شرارت کی ۔
34 اور ہمارے بادشاہوں اور سرداروں اور ہمارے کاہنوں اور باپ دادا نے نہ تو تیری شریعت پر عمل کیا اور نہ تیرے احکام اور شہادتوں کو مانا جن سے تو اُنکے خلاف گواہی دیتا رہا۔
35 کیونکہ اُنہوں نے اپنی مملکت میں اور تیرے بڑے احسان کے وقت جوتو نے اُن پر کیا اور اِس وسیع اور زرخیز ملک میں جو تو نے اُنکے حوالہ کر دیا تیری عبادت نہ کی اور نہ وہ اپنی بدکاریوں سے باز آئے۔
36 دیکھ آج ہم غلام ہیں بلکہ اُسی ملک میں جو تو نے ہمارے باپ دادا کو دیا کہ اُسکا پھل اور پیداوار کھائیں سو دیکھ ہم اُسی میں غلام ہیں۔
37 وہ اپنی کثیر پید اوار اُن بادشاہوں کو دیتا ہے جنکو تو نے ہمارے گناہوں کے سبب سے ہم پر مسلط کیا ہے وہ ہمارے جسموں اور ہماری مواشی پر بھی جیسا چاہتے ہیں اختیار رکھتے ہیں اور ہم سخت مُصیبت میں ہیں۔
38 اِن سب باتوں کے سبب سے ہم امرا اور ہمارے لاوی اور ہمارے کاہن اُس پر مہر کرتے ہیں۔


باب 10

1 اور وہ جنہوں نے مہر لگائی یہ ہیں نحمیاہ بن حکلیاہ حاکم اور صدقیاہ ۔
2 سرایاہ عزریاہ یرمیاہ ۔
3 فشحُور امریاہ ملکیاہ۔
4 حطوش سبنیاہ مُلوک۔
5 حارِم مریموت عبدیاہ۔
6 دانی ایل جنتون بارُوک ۔
7 مُسلام ابیاہ میامین ۔
8 معز یاہ بلجی سمعیا ہ یہ کاہن تھے۔
9 اور لاوی یہ تھے۔ یشوع بن ازنیاہ نبوی بنی حنداد میں سے قدمی ایل۔
10 اور اُنکے بھائی سبنیاہ ہودیاہ قلیطاہ قلایاہ حنان۔
11 میکارحوب حسابیاہ۔
12 زکو ر سربیاہ سبنیاہ۔
13 ہودیاہ بانی بنینو۔
14 لوگوں کے رئیس یہ تھے ۔ پر عوس نچتموآب عیلام زتو بانی ۔
15 بنی عزجاد ببی ۔
16 اُدونیاہ بگوی عدین۔
17 اِطیر حزقیاہ عزور۔
18 ہودیاہ حاشوم بضی ۔
19 خاریف عنتوت نو بی ۔
20 مگفیعاس مسلام حزیر۔
21 مشیز بیل صدوق یدقع۔
22 فلطیاہ حنان عنایاہ ۔
23 ہوسیع حننیاہ حسوب ۔
24 ہلوحیس فلحاسوبیق ۔
25 رحوم حسبناہ معسیاہ ۔
26 اخیاہ حنان عنان ۔
27 ملوک حارِم بعناہ ۔
28 اور باقی لوگ اور کاہن اور لاوی اور دربان اور گانے والے اور نتنیم اور سب جو خدا کی شریعت کی خاطر اور ملکوں کی قوموں سے الگ ہو گئے تھے اور اُنکی بیویاں اور اُنکے بیٹے اور بیٹیاں غرض جن میں سمجھ اور عقل تھی۔
29 وہ سب کے سب اپنے بھائی اِمیروں کے ساتھ ملکر لعنت و قسم میں شامل ہوئے تاکہ خدا کی شریعت پر جو بندہ خدا موسیٰ کی معرفت ملی چلیں اور یہوداہ ہمارے خداوند کے سب حکموں اور فرمانوں اور آئین کو مانیں اور عمل کریں ۔
30 اور ہم اپنی بیٹیاں ملک کے باشندوں کو نہ دیں اور نہ اپنے بیٹوں کے لئے اُنکی بیٹیاں لیں۔
31 اور اگر ملک کے لوگ سبت کے دِن کچھ مال یا کھانے کی چیز بیچنے کو لائیں تو ہم سبت کو یا کسی مقدس دن کو اُن سے مول نہ لیں اور ساتواں سال اور ہر قرض کا مطالبہ چھوڑدیں۔
32 اور ہم نے اپنے لئے قانون ٹھہرائے کہ اپنے خدا کے گھر کی خدمت کے لئے سال بہ سال مثقال کا تیسراحصہ دیا کریں۔
33 یعنی سبتوں اور نئے چاندوں کی نذر کی روٹی اور دائمی نذر کی قربانی اور دائمی سو ختنی قربانی کے لئے اور مُقرر عیدوں اور مقدس چیزوں اور خطا کی قربانیوں کے لئے کہ اِسرائیل کے واسطے کفارہ ہو اور اپنے خدا کے گھر کے سب کاموں کے لئے۔
34 اور ہم نے یعنی کاہنوں اور لاویوں اور لوگوں نے لکڑی کے ہدئے کی بابت قرعے ڈالے تاکہ اُسے اپنے خدا کے گھر میں باپ دادا کے گھرانوں کے مطابق مُقررہ وقتوں پر سال بہ سال خداوند اپنے خدا کے مذبح پر جلانے کو لایا کریں جیسا شریعت میں لکھا ہے۔
35 اور سال بہ سال اپنی اپنی زمین کے پہلے پھل اور سب درختوں کے سب میووں میں سے پہلے پھل خداوند کے گھر میں لائیں ۔
36 اور جیسا شریعت میں لکھا ہے اپنے پہلوٹھے بیٹوں کو اور اپنی مواشی یعنی گائے بیل اور بھیڑ بکری کے پہلوٹھے بچوں کو اپنے خدا کے گھر میں کاہن کے پاس جو ہمارے خدا کے گھر میں خدمت کرتے ہیں لائیں ۔
37 اور اپنے گوندھے ہوئے آٹے اور اپنی اُٹھائی ہوئی قربانیوں اور سب درختوں کے میووں اور مے اور تیل میں سے پہلے پھل کو اپنے خدا کے گھر کی کوٹھریوں میں کاہنوں کے پاس اور اپنے کھیت کی دہ یکی لاویوں کے پاس لایا کریں کیونکہ لاوی سب شہروں میں جہاں ہم کاشتکاری کرتے ہیں دسواں حصہ لیتے ہیں۔
38 اور جب لاوی دہ یکی لیں تو کوئی کاہن جو ہارون کی اولا د سے ہو لاویوں کے ساتھ ہو اور لاوی دہ یکیوں کا دسواں حصہ ہمارے خدا کے بیت المال کی کوٹھریوں میں لائیں ۔
39 کیونکہ بنی اِسرائیل اور بنی لاوی اناج اور مے اور تیل کی اُٹھائی ہوئی قربانیاں اُن کوٹھریوں میں لایا کرینگے جہاں مقدس کے ظروف اور خدمت گُذار کاہن اور دربان اور گانے والے ہیں اور ہم اپنے خدا کے گھر کو نہیں چھوڑ ینگے ۔


باب 11

1 اور لوگوں کے سردار یروشیلم میں رہتے تھے اور باقی لوگوں نے قرعے ڈالے کہ ہر دس شخصوں میں سے ایک کو شہر مُقدس یروشیلم میں بسنے کے لئے لائیں اور نو باقی شہروں میں رہیں۔
2 اور لوگوں نے اُن سب آدمیوں کو جنہوں نے خوشی سے اپنے آپ کو یروشیلم میں بسنے کے لئے پیش کیا دُعا دی۔
3 اس صوبہ کے سردار جو یروشیلم میں آبسے یہ ہیں (پر یہوداہ کے شہروں میں ہر ایک اپنے شہر میں اپنی ہی ملکیت میں رہتا تھایعنی اہل اِسرائیل اور کاہن اور لاوی اور نتنیم اور سُلیمان کے ملازموں کی اَولاد)۔
4 اور یروشیلم میں کچھ بنی یہوداہ میں سے عتایاہ بن عزیاہ بن زکریاہ بن امریاہ بن سفطیاہ بن مہلل ایل بنی فارص میں سے ۔
5 اور معسیا ہ بن باروک بن کل حوزہ بن حزایاہ بن عدایاہ بن یویریب بن زکریاہ بن شلونی۔
6 سب بنی فارص جو یروشیلم میں بسے چار سو اڑسٹھ سُورماتھے۔
7 اور یہ بنی بنیمین ہیں سلوبن مُسلام بن یوئیدبن فدایاہ بن قولایاہ بن معسیاہ بن ایتی ایل بن یسعیاہ ۔
8 پھر جبی سلی اور نو سو اٹھائیس آدمی۔
9 اور یوایل بن زکری اُنکا ناظم تھا اور یہوادہ بن ہسنوہ شہر کے حاکم کا نائب تھا۔
10 کاہنوں میں سے یدعیاہ بن یویریب اور یاکین ۔
11 شرایاہ بن خلقیاہ بن مُسلام بن صدوق بن مرایوت بن اخیطوب خدا کے گھرکا ناظم ۔
12 اور اُنکے بھائی جو ہیکل میں کام کرتے تھے آٹھ سو بائیس اور عدایاہ بن یروحام بن فللیاہ بن امضی بن زکریاہ بن فشحور بن ملکیاہ۔
13 اور اُسکے بھائی آبائی خاندانوں کے رئیس دو سو بیالیس اور امشی بن عزرایل بن اخسی بن مسیلموت بن اِمیر۔
14 اور اُنکے بھائی زبردست سُورما ایک سو اٹھائیس اور اُنکا سردار زبدی ایل بن ہجدولیم تھا۔
15 اور لاویوں میں سے سمعیاہ بن حسوب بن عزرِیقام بن حسبیاہ بن نبی ۔
16 اور سبتی اور یوزباد لاویوں کے رئیسوں میں سے خدا کے گھر کے باہر کے کام پر مُقر ر تھے۔
17 اور متنیاہ بن میکا بن زبدی بن آسف سردار تھا جو دُعا کے وقت شُکرگذاری شُروع کرنے میں پیشوا تھا اور بقبوقیاہ اُسکے بھائیوں میں سے دُوسرے درجہ پر تھا اور عبدابن سموع بن جلال بن یدوتون۔
18 مقدس شہر میں کُل دو سو چوراسی لاوی تھے۔
19 اور دربان عقوب اور طلمون اور اُنکے بھائی جو پھاٹکوں کی نگہبانی کرتے تھے ایک سو بہتر تھے۔
20 اور اِسرائیلیوں اور کاہنوں اور لاویوں کے باقی لوگ یہوادہ کے سب شہروں میں اپنی اپنی ملکیت میں رہتے تھے۔
21 پر نتنیم عوفل میں بسے ہوئے تھے اور ضیحا اور جسفا نتنیم پر مُقرر تھے۔
22 اور عزی بن بانی بن حسبیاہ بن متنیاہ بن میکاہ جو آسف کی اَولاد یعنی گانے والوں میں سے تھا یروشیلم میں اُن لاویوں کا ناظم تھا جو خدا کے گھر کے کام پر مُقرر تھے۔
23 کیونکہ اُنکی بابت بادشاہ کی طرف سے حکم ہو چکا تھا اور گانے والوں کے لئے ہر روز کی ضرورت کے مطابق مُقررہ رسد تھی ۔
24 اور فتحیاہ بن مشیزبیل جوزارح بن یہوداہ کی اَولاد میں سے تھا رعیت کے سب مُعاملات کے لئے بادشاہ کے حضور رہتا تھا۔
25 رہے گاؤں اور اُنکے کھیت سو بنی یہوداہ میں سے کچھ لوگ قریت اربع اور اُسکے قصبوں میں اور دِیبون اور اُسکے قصبوں میں اور یقبضی ایل اور اُسکے گاؤں میں رہتے تھے۔
26 اور یشوع اور مولادہ اور بیت فلط میں۔
27 اور حصرسوعال اور بیر سبع اور اُسکے قصبوں میں۔
28 اور صقلاج اور مقوناہ اور اُسکے قصبوں میں۔
29 اور عین رِمون اور صارعاہ اور یارموت میں۔
30 زانواح عدلام اور اُنکے گاؤں میں ۔لکیس اور اُسکے کھیتوں میں عزیقہ اور اُسکے قصبوں میں یوں وہ ببرسبع سے ہنوم کی وادی تک ڈیروں میں رہتے تھے۔
31 اوربنی بنیمین بھی جبع سے لیکر آگے مکماس اور عنیاہ اور بیت ایل اور اُسکے قصبوں میں۔
32 اور عنتوت اور نوب اور عننیاہ ۔
33 اور حاصور اور رامہ اور جتیم ۔
34 اور حادید اور ضبوعیم اور نبلاط۔
35 اور نود اور اونو یعنی کاریگروں کی وادی میں رہتے تھے۔
36 اور لاویوں میں سے بعض فریق جو یہوداہ میں تھے وہ بنیمین سے مل گئے۔


باب 12

1 وہ کاہن اور لاوی جو زربابل بن سالتی ایل اور یشوع کے ساتھ گئے سو یہ ہیں ۔ سرایاہ۔یرمیاہ عزرا۔
2 امریاہ ملوک حطوش۔
3 سکنیاہ رحوم مریموت ۔
4 عدو جنتو ابیاہ۔
5 میامین معدیاہ بلجہ ۔
6 سمعیاہ اور یویریب یدعیاہ ۔
7 سلو عموق خلقیاہ یدعیاہ۔ یہ یشوع کے دِنوں میں کاہنوں اور اُنکے بھائیوں کے سردار تھے۔
8 اور یہ لاوی تھے۔ یشوع بنوی قدمی ایل سیربیاہ یہوداہ اور متنیاہ جو اپنے بھائیوں سمیت شُکرگذاری پر مقرر تھا۔
9 اور اُنکے بھائی بقبوقیاہ اور عنو اُنکے سامنے اپنے اپنے پہرے پر مقرر تھے۔
10 اور یشوع سے یویقیم پیدا ہوا اور یویقیم سے اِلیاسب پیدا ہوا اور اِلیاسب سے یدوع پیدا ہوا۔
11 اور یویدع سے یونتن پیدا ہوا اور یونتن سے یدوع پیدا ہوا ۔
12 اور یویقیم کے دنوں میں یہ کاہن آبائی خاندانوں کے سردار تھے۔ سرایاہ سے مرایاہ یرمیاہ سے حننیاہ ۔
13 عزرا سے مسلام ۔ امریاہ سے یہوحنان ۔
14 ملکو سے یونتن سبنیاہ سے یوسف۔
15 حارِم سے عدنا۔ مرایوت سے حلفی ۔
16 عدد سے زکریاہ جنتون سے مُسلام ۔
17 ابیاہ سے زکری بنیمین سے موعدیاہ سے فلطی ۔
18 بلجہ سے سموع ۔سمعیاہ سے یہونتن ۔
19 یویریب سے متنی یدعیاہ سے عزی ۔
20 سلی سے قلی ۔عموق سے عبر ۔
21 خلقیاہ سے حسبیاہ ۔ یدعیاہ سے نتنی ایل ۔
22 اِلیاسب اور یویدع اور یوحنان اور یدوع کے دِنوں میں لاویوں کے آبائی خاندانوں کے سردار لکھے جاتے تھے اور کاہنوں کے دارا فارسی کی سلطنت میں۔
23 بنی لاوی کے آبائی خاندانوں کے سردار یوحنا ن بن اِلیا سب کے دِنوں تک تواریخ کی کتاب میں لکھے جاتے تھے۔
24 اور لاویوں کے رئیس حسبیاہ سیر بیاہ اور یشوع بن قدمی ایل اپنے بھائیوں سمیت آمنے سامنے باری باری سے مرد خداداؤد کے حکم کے مطابق حمد اور شکر گذاری کے لئے مُقرر تھے۔
25 متیناہ اور بقوقیاہ اور عبدیاہ اور مُسلام اور طمون اور عقوب دربان تھے جو پھاٹکوں کے مخزنوں کے پاس پہرا دیتے تھے۔
26 یہ یویقیم بن یشوع بن یو صدق کے دِنوں میں اور نحمیاہ حاکم اور عزرا کاہن اور فقیہ کے دِنوں میں تھے۔
27 اور یروشیلم کی پناہ کی تقدیس کے وقت اُنہوں نے لاویوں کو انکی سب جگہوں سے ڈھونڈ نکالا کہ ان کو یروشیلم میں لائیں تاکہ وہ خوشی خوشی جھانجھ اور ستارا اور بربط کے ساتھ شکرگذاری کرکے اور گاکر تقدیس کریں۔
28 سو گانے والوں کی نسل کے لوگ یروشیلم کی گردنواح کے میدان سے اور نطوفاتیوں کے دیہات سے ۔
29 اور بیت الجلجال سے بھی اور جبع اور عزماوت کے کھیتوں سے اِکٹھے ہوئے کیونکہ گانے والوں نے یروشیلم کے گرداگردا اپنے لئے دیہات بنا لئے تھے۔
30 اور کاہنوں اور لاویوں نے اپنے آپکو پاک کیا اور انہوں نے لوگوں کو پھاٹکوں کو اور شہر پناہ کو پاک کیا۔
31 تب میں یہوداہ کے اِمیروں کو دیوار پر لایا اور میں نے دو بڑے غول مُقرر کئے جو حمد کرتے ہوئے جلوس میں نکلے ۔ ایک اُن میں سے دہنے ہاتھ کی طرف دیوار کے اُوپر اُوپر سے کوڑے کے پھاٹک کی طرف گیا۔
32 اور یہ اُنکے پیچھے پیچھے گئے یعنی ہوسعیاہ اور یہوداہ کے آدھے سردار۔
33 عزریاہ اور مسلام ۔
34 یہوداہ اور بنیمین اور سمعیاہ اور یرمیاہ ۔
35 اور کچھ کاہن زادے نرسنگے لئے ہوئے یعنی زکریاہ بن یونتن بن سمعیاہ بن متنیاہ بن میکایاہ بن زکور بن آسف ۔
36 اور اسکے بھائی سمعیاہ اوررعزرایل ۔مللی۔ جللی ماعی ۔منتنی ایل اور یہوداہ اور حنانی مرد خداداؤد کے باجوں کو لئے ہوئے جاتے تھے اور عزرافقیہ اُنکے آگے آگے تھا۔
37 اور وہ چشمہ پھاٹک سے ہوکر سیدھے آگے گئے اور داؤد کے شہر کی سڑھیوں پر چڑھکر شہر پناہ کی اُونچائی پر پہنچے اور داؤد کے محل کے اوپر ہو کر پانی پھاٹک تک مشرق کی طرف گئے ۔
38 اور شکر گذاری کرنے والوں کا دوسرا غول اور اُنکے پیچھے پیچھے میں اور آدھے لوگ اُن سے ملنے کو دیوار پر تنوروں کے برج کے اُوپر چوڑی دیوار تک ۔
39 اور افرایمی پھاٹک کے اُوپر پرانے پھاٹک اور مچھلی پھاٹک اور حنن ایل کے برج اور میاہ کے برج پر سے ہوتے بھیڑ پھاٹک تک گئے اور پہرے والوں کے پھاٹک پر کھڑے ہوگئے۔
40 سو شکر گذاری کرنے والوں کے دونوں غول اور میں اور میرے ساتھ آدھے حاکم خدا کے گھر میں کھڑے ہوگئے۔
41 اور کاہن اِلیا قیم معسیاہ منیمین میکا یاہ الیوعینی زکریاہ حننیاہ نرسنگے لئے ہوئے تھے۔
42 اور معسیاہ اور سمعیاہ اور الیغررا اور عزی اور یہوحنان اور ملکیاہ اور عیلام اور عزراپنے سردار گانے والے اِزخیاہ کے ساتھ بلند آواز سے گاتے تھے۔
43 اور اس دن انہوں نے بہت سی قربانیاں چڑھائیں اور خوشی کی کیونکہ خدا نے ایسی خوشی انکو بخشی کہ وہ نہایت شادمان ہوئے اور عورتوں اور بچوں نے بھی خوشی منائی سو یروشیلم کی خوشی کی آوازدُور تک سُنائی دیتی تھی ۔
44 اُسی دِن لوگ خزانہ کی اور اُٹھائی ہوئی قربانیوں اور پہلے پھلوں اور دویکیوں کی کوٹھریوں پر مقرر ہوئے تا کہ اُن میں شہر شہر کے کھیتوں کے مطابق جو حصے کاہنوں اور لاویوں کے لئے شرع کے مطابق مقرر ہوئے اُنکو جمع کریں کیونکہ بنی یہوداہ کاہنوں اور لاویوں کے سبب سے جو حاضر رہتے تھے خوش تھے۔
45 سو وہ اپنے خدا کے انتظام اور طہارت کے انتظام کی نگرانی کرتے رہے اور گانے والوں اور دربانوں نے بھی داؤد اور اسکے بیٹے سلیمان کے حاکم کے مطابق ایسا ہی کیا۔
46 کیونکہ قدیم زمانہ سے داؤد اور آسف کے دِنوں میں ایک سردار مغنی ہوتا تھا اور خدا کی حمد اور شکر کے گیت گائے جاتے تھے۔
47 اور تمام اِسرائیل زربابل کے اور نحمیاہ کے دنوں میں ہر روز کی ضرورت کے مطابق گانے والوں اور دربانوں کے حصے دیتے تھے ۔یوں وہ لاویوں کے لئے چیزیں مخصوص کرتے تھے۔


باب 13

1 اُ س دن انہوں نے لوگوں کو موسیٰ کی کتاب میں سے پڑھکر سُنایا اور اُس میں یہ لکھا ملا کہ عمونی اور موآبی خدا کی جماعت میں کبھی نہ آنے پائیں۔
2 اِسلئے کہ وہ روٹی اور پانی لیکر بنی اِسرائیل کے استقبال کو نہ نکلے بلکہ بلعام کو اُنکے خلاف اُجرت پر بُلایا تا کہ اُن پر لعنت کرے پر ہمارے خدا نے اُس لعنت کو برکت سے بدل دیا۔
3 اور ایسا ہوا کہ شریعت کو سُنکر اُنہوں نے ساری ملی جلی بھیڑ کو اِسرائیل سے جدا کر دیا۔
4 اس سے پہلے اِلیاسب کاہن نے جو ہمارے خدا کے گھر کی کوٹھریوں کا مختار تھا طوبیاہ کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے۔
5 اُسکے لئے ایک بڑی کوٹھری تیار کی تھی جہاں پہلے نذر کی قربانیاں اور لُبان اور برتن اور اناج کی اور مے کی اورتیل کی دہ یکیاں جو حکم کے مطابق لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں کو دی جاتی تھیں اور کاہنوں کے لئے اُٹھائی ہوئی قربانیاں بھی رکھی جاتی تھیں۔
6 پر ان ایام میں میں یروشیلم میں نہ تھا کیونکہ شاہ بابل ارتخششتا کے بتیسویں برس میں بادشاہ کے پاس گیا تھا اور کچھ دنوں کے بعد میں نے بادشاہ سے رُخصت کی درخواست کی۔
7 اور میں یروشیلم میںآیا اور معلوم کیا کہ خدا کے گھر کے صحنوں میں طوبیاہ کے واسطے ایک کو ٹھری تیار کرنے سے الیاسب نے کیسی خرابی کی ہے۔
8 اِس سے میں نہایت رنجیدہ ہوا اِسلئے میں نے طوبیاہ کے سب خانگی سامان کو اُس کوٹھری سے باہر پھینکدیا۔
9 پھر میں نے حکم دیا اور انہوں نے ان کوٹھریوں کو صاف کیا اور میں خدا کے گھر کے برتنوں اور نذر کی قر بانیوں اور لبان کو پھر وہیں لے آیا۔
10 پھر مجھے معلوم ہوا کہ لاویوں کے حصے اُن کو نہیں دئے گئے اِسلئے خدمتگذار لاوی اورگانے والے اپنے اپنے کھیت کو بھاگ گئے ہیں۔
11 تب میں نے حاکموں سے جھگڑا کر کہا کہ خدا کا گھر کیوں چھوڑ دیا گیا ہے ؟ اور میں نے اُنکو اِکٹھا کرکے اُنکو اُنکی جگہ پر مقرر کیا ۔
12 تب سب اہل یہوداہ نے اناج اور مے اور تیل کا دسواں حصہ خزانوں میں داخل کیا۔
13 اور میں نے سلمیاہ کاہن اور صدوق فقیہ اور لاویو ں میں سے فد ایاہ کو خزانوں کے خزانچی مقرر کیا اور حنان بن زکور بن متنیاہ اُنکے ساتھ تھا کیونکہ وہ دیانتدار مانے جاتے تھے اور اپنے بھائیوں میں بانٹ دینا انکا کام تھا۔
14 اَے میرے خدا اِسکے لئے مجھے یا د کر اور میرے نیک کاموں کو جو میں نے اپنے خدا کے گھر اور اسکی رسوم کے لئے کئے مٹا نہ ڈال۔
15 ان ہی دنوں میں میں نے یہوادہ میں بعض کو دیکھا جو سبت کے دن حوضوں میں پاؤں سے انگور کچل رہے تھے اور پولے لاکر اُنکو گدھوں پر لادتے تھے ۔اسی طرح مے اور انگور اور انجیر اور ہر قسم کے بو جھ سبت کو یروشیلم میں لاتے تھے اور جس دن وہ کھانے کی چیزیں بیچنے لگے میں نے انکوٹوکا۔
16 اور وہاں صور کے لوگ بھی رہتے تھے جو مچھلی اور ہر طرح کا سامان لا کر سبت کے دن یروشیلم میں یہوداہ کے لوگوں کے ہاتھ بیچتے تھے۔
17 تب میں نے یہوادہ کے اُمرا سے جھگڑا کر کہا یہ کیا بُرا کام ہے جو تم کرتے اور سبت کے دن کی بے حرمتی کرتے ہو ؟۔
18 کیا تمہارے باپ دادا نے ایسا ہی نہیں کیا یہ کیا ہمارا خدا ہم پر اور اس شہر پر سب آفتیں نہیں لایا؟ تو بھی تم سبت کی بے حرمتی کرکے اِسرائیل پر زیادہ غضب لاتے ہو۔
19 سو جب سبت سے پہلے یروشیلم کے پھاٹکوں کے پاس اندھیرا ہونے لگا تو میں نے حکم دیا کہ پھاٹک بند کر دئے جائیں اور حکم دے دیا کہ جب تک سبت گذر نہ جائے وہ نہ کھلیں اور میں نے اپنے چند نوکروں کو پھاٹکوں پر رکھا کہ سبت کے دن کوئی بوجھ اندر آنے نہ پائے۔
20 سو بیوپاری اور طرح طرح کے مال کے بیچنے والے ایک یاد وبار یروشیلم کے باہر ٹکے۔
21 تب میں نے اُ نکو ٹوکا اور اُن سے کہا کہ تم دیوار کے نزدیک کیوں ٹک جاتے ہو؟اگر پھر ایسا کیا تو میں تم کو گرفتار کر لونگا۔ اس وقت سے وہ سبت کو پھر نہ آئے۔
22 اور میں نے لاویوں کو حکم کیا کہ اپنے آپ کو پاک کریں اور سبت کے دن کی تقدیس کی غرض سے آکر پھاٹکوں کی رکھوالی کریں۔ اَے میرے خدا اِسے بھی میرے حق میں یا د کر اور اپنی بڑی ر حمت کے مطابق مجھ پر ترس کھا۔
23 اُن ہی دنوں میں میں نے اُن یہودیوں کو بھی دیکھا جنہوں نے اشدُودی اور عمونیااور موآبی عورتیں بیاہ لی تھیں۔
24 اور انکے بچوں کی زبان آدھی اشدُودی تھی اور وہ یہودی زبان میں بات نہیں کر سکتے تھے بلکہ ہر قوم کی بولی کے مطابق بولتے تھے۔
25 سو میں نے اُن سے جھگڑا کر اُنکو لعنت کی اور اُن میں سے بعض کو مارا اور اُنکے بال نوچ ڈالے اور انکو خدا کی قسم کھلائی کہ تم اپنی بیٹیاں اُنکے بیٹوں کو نہ دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لئے اور نہ اپنے لئے اُنکی بیٹیاں لینا۔
26 کیا شاہِ اِسرائیل سُلیمان نے اِن باتوں سے گناہ نہیں کیا؟ اگر چہ اکثر قوموں میں اُسکی مانند کوئی بادشاہ نہ تھا اور وہ اپنے خدا کا پیارا تھا اور خدا نے اُسے سارے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا تو بھی اجنبی عورتوں نے اُسے بھی گناہ میں پھنسایا۔
27 سو کیا ہم تمہاری سُنکر اَیسی بڑی بُرائی کریں کہ اجنبی عورتوں کو بیاہ کر اپنے خدا کا گناہ کریں؟۔
28 اور اِلیاسب سردار کاہن کے بیٹے یویدع کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا حورونی سنبلط کا داماد تھا اِسلئے میں نے اُسکو اپنے پاس سے بھگا دیا۔
29 اَے میرے خدا اُنکو یاد کر اِسلئے کہ اُنہوں نے کہانت کو اور کہانت اور لاویوں کے عہد کو ناپاک کیا ہے۔
30 یوں ہی میں نے اُنکو کل اجنبیوں سے پاک کیا اور کاہنوں اور لاویوں کے لئے اُنکی خدمت کے مطابق۔
31 اور مُقررہ وقتوں پر لکڑی کے ہدئے اور پہلے پھلو ں کے لئے حلقے مُقرر کرے دِئے ۔اَے میرے خدا بھلائی کے لئے مجھے یاد کر۔