ایّوب

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42


باب 1

1 عوضؔ کی سر زمین میں ایوب نام ایک شخص تھا ۔وہ شخص کامل اور راستباز تھا اور خدا سے ڈرتا اور ابدی سے دُور رہتا تھا ۔
2 اُسکے ہاں سات بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہُوئیں ۔
3 اُسکے پاس سات ہزار اُونٹ اور پانچسوجوڑی بیل اور پانچسو گدھیاں اور بہت سے نوکر چاکر تھے اَیسا کہ اہل مشرق میں وہ سب سے بڑا آدمی تھا ۔
4 اُسکے بیٹے ایک دوسرے کے گھر جایا کرتے تھے اور ہر ایک اپنے دِن پر ضیافت کرتا تھا اور اپنے ساتھ کھا نے پینے کو اپنی تینوں بہنوں کو بلُوابھیجتے تھے ۔
5 اور جب اُنکی ضیافت کے دن پُورے ہوجاتے تو ایوبؔ اُنہیں بُلوا کر پاک کرتا اور صُبح کو سویرے اُٹھکر اُن سبھوں کے شمار کے موافق سو ختنی قُربانیاں چڑھاتا تھا کیونکہ اُیوّب ؔ کہتا تھا کہ شاید میرے بیٹوں نے کچھ خطا کی ہو اور اپنے دِل میں خدا کی تکفیر کی ہو ۔ایوب ہمیشہ اَیسا ہی کیا کرتا تھا ۔
6 اور ایک دن خدا کے بیٹے آئے کہ خداوند کے حضور حاضر ہوں اور اُن کے درمیان شیطان بھی آیا ۔
7 اور خداوند نے شیطان سے پُوچھا کہ تو کہاں سے آتا ہے ؟ شیطان نے خداوند کو جواب دیا کہ زمین پر اِدھر اُدھر گھومتا پھر تا اور اُس میں سیر کرتا ہوا آیا ہُوں ۔
8 خداوند نے شیطان سے کہا کیا تو نے میرے بندہ ایوب کے حال پر بھی کچھ غور کیا ؟ کیونکہ زمین پر اُسکی طرح کامل اور راستباز آدمی جو خدا سے ڈرتا اور بدی سے دُور رہتا ہو کوئی نہیں ۔
9 شیطان نے خداوند کو جواب دیا کیا ایوب یوں ہی خدا سے ڈرتا ہے؟ ۔
10 کیا ت تو نے اُسکے اور اُسکے گھر کے گرد اور جو کچھ اُسکا ہے اُس سب کے گردچاروں طرف باڑ نہیں بنائی ہے ۔تو نے اُسکے ہاتھ کے کام میں برکت بخشی ہے اور اُسکے گلے ملک میں بڑھ گئے ہیں ۔
11 پر تو ذرا اپنا ہاتھ بڑھا کر جو کچھ اُسکا ہے اُسے چھُو ہی دے تو کیا وہ تیرے منہ پر تیری تکفیر نہ کریگا ؟۔
12 خداوندنے شیطان سے کہا دیکھ اُسکا سب کچھ تیرے اِختیا ر میں ہے ۔صرف اُسکو ہاتھ نہ لگانا ۔تب شیطان خداوند کے سامنے سے چلا گیا۔
13 اور ایک دن جب اُسکے بیٹے اور بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے گھر میں کھانا کھارہے اور مے نوشی کر رہے تھے ۔
14 تو ایک قاصد نے ایوب ؔ کے پاس آکر بیل ہل میں جُتے تھے اور گدھے اُن کے پاس چر رہے تھے ۔
15 کہ سباؔ کے لوگ اُن پر ٹوٹ پڑے اورُ انہیں لے گئے اور نوکروں کو تہ تیغ کیا اور فقط میں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبر دوں ۔
16 وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اور بھی آکر کہنے لگا کہ خدا کی آگ آسمان سے نازل ہُوئی اور بھیڑوں اور نوکروں کو جلا کر بھسم کر دیا اور فقط میں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبردوُں ۔
17 وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اور بھی آکر کہنے لگا کہ کسدی تین غول ہو کر اُنٹوں پر آگرے اور اُنہیں لے گئے اور نوکروں کو تہ تیغ کیا اور فقط میں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبردوُں ۔
18 وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اور بھی آکر کہنے لگا کہ تیرے بیٹے بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے گھر میں کھانا کھا رہے اور مے نوشی کر رہے تھے ۔
19 اور دیکھ !بیابان سے ایک بڑی آندھی چلی اور اُس گھر کے چاروں کونوں پر اَیسے زور سے ٹکرائی کہ وہ اُن جوانوں پر گر پڑا اور وہ مرگئے اور فقط میں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبردوُں ۔
20 تب ایوب ؔ نے اُٹھکر اپنا پیراہن چاک کیا اور سرمُنڈایا اور زمین پر گر کر سجدہ کیا۔
21 اور کہا ننگا میں اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا اور ننگا ہی واپس جاؤنگا ۔خداوند نے دِیا اور خداوند نے لے لیا ۔خداوند کا نام مبُارک ہو ۔
22 اِن سب باتوں میں ایوب ؔ نے نہ تو گُناہ کیا اور نہ خدا پر بیجا کام کا عیب لگایا ۔


باب 2

1 پھر ایک دن خدا کے بیٹے آئے کہ خداوند کے حُضُور حاضر ہوں اور شیطان بھی اُنکے درمیان آیا کہ خداوند کے آگے حاضر ہو۔
2 اور خداوند نے شیطان سے پُوچھا کہ تو کہاں سے آتا ہے ؟ شیطان نے خداوند کو جواب دیا کہ زمین پر اِدھر اُدھر گُھومتا پھِرتا اور اُس میں سیر کرتا ہُوا آیا ہُوں ۔
3 خداوند نے شیطان سے کہا کیا تُو نے میرے بندہ ایوب ؔ کے حال پر بھی کچھ غَور کیا ؟ کیو نکہ زمین پر اُسکی طرح کامل اور راستبا ز آدمی جو خدا سے ڈرتا اور بدی سے دُور رہتا ہو کوئی نہیں اور گو تُو نے مُجھ کو اُبھارا کہ بے سبب اُسے ہلاک کروُں تو بھی وہ اپنی راستی پر قائم ہے ۔
4 شیطان نے خداوند کو جواب دِیا کہ کھال کے بدلے کھال بلکہ اِنسان اپنا سارا مال اپنی جان کے لئے دے ڈالیگا ۔
5 اب فقط اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسکی ہڈّی اور اُسکے گو شت کو چُھودے تو وہ تیرے منہ پر تیری تکفیر کریگا ۔
6 خداوند نے شیطان سے کہا کہ دیکھ وہ تیرے اِختیار میں ہے ۔فقط اُسکی جان محفوظ رہے ۔
7 تب شیطان خداوند کے سامنے سے چلا گیا اور ایوب ؔ کو تلوے سے چاند تک دردناک چھوڑوں سے دُکھ دِیا۔
8 اور وہ اپنے کو کھُجانے کے لئے ایک ٹھیکر الیکر راکھ پر بیٹھ گیا۔
9 تب اُسکی بیوی اُس سے کہنے لگی کہ کیا تو اب بھی اپنی راستی پر قائم رہیگا ؟ خداوند کی تکفیر کر اور مر جا۔
10 پر اُس نے اُس سے کہا کہ تو نادان عورتوں کی سی باتیں کرتی ہے۔ کیا ہم خدا کے ہاتھ سے سُکھ پائیں اور دُکھ نہ پائیں ؟ اِن سب باتوں میں ایوب ؔ نے اپنے لبوں سے خطا نہ کی ۔
11 جب ایوبؔ کے تین دوستوں تیمانی اِلیفزؔ اور سُوخی بَلددؔ اور نعماتی ضُوفرؔ نے اُس ساری آفت کو حال جو اُس پر آئی تھی سُنا تو وہ اپنی اپنی جگہ سے چلے اور اُنہوں نے آپس میں عہد کیا کہ جاکر اُسکے ساتھ روئیں اور اُسے تسلّی دیں ۔
12 اور جب اُنہوں نے دُور ست نگاہ کی اور اُسے نہ پہچانا تو وہ چلاّ چلاّ کر رونے لگے اور ہر ایک نے اپنا پیراہن چاک کیا اور پنے سر کے اُوپر آسمان کی طرف دُھول اُڑائی ۔
13 اور وہ سات دِن اور سات رات اُسکے ساتھ زمین پر بیٹھے رہے اور کسی نے اُس سے ایک بات نہ کہی کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ اُسکا غم بہت بڑ اہے ۔


باب 3

1 اِسکے بعد ایوبؔ نے اپنا مُنہ کھولکر اپنے جنم دِن پر لعنت کی ۔
2 ایوبؔ کہنے لگا ۔
3 نابُود ہو وہ دن جس میں مَیں پیدا ہُوا اور وہ رات بھی جس میں کہا گیا کہ دیکھو بیٹا ہُوا !
4 وہ دن اندھیرا ہو جائے ۔خدا اُوپر سے اُسکا لحاظ نہ کرے اور نہ اُس پر روشنی پڑے !
5 اندھیرا اور موت کا سایہ اُس پر قابض ہوں ۔بدلی اُس پر چھانی رہے اور دن کو تاریک کر دینے والی چیزیں اُسے دہشت زدہ کردیں ۔
6 گہری تاریکی اُس رات کو دبوچ لے ۔وہ سال کے دِنوں کے درمیان خُوشی نہ کرنے پائے اور نہ مہینوں کے شمار میں آئے !
7 وہ رات بانجھ ہو جائے ۔ اُس میں خوشی کی کوئی صدا نہ آئے !
8 دِن پر لعنت کرنے والے اُس پر لعنت کریں اور وہ بھی جو اژدہا کو چھیڑنے کو تیار ہیں !
9 اُسکی شام کے تارے تاریک ہو جائیں ۔وہ روشنی کی راہ دیکھے جبکہ وہ ہے نہیں اور نہ وہ صُبح کی پلکوں کو دیکھے !
10 کیو نکہ اُس نے میری ماں کے رَحم کے دروازوں کو بند نہ کیا اور دُکھ کو میری آنکھوں سے چھپا نہ رکھاّ ۔
11 میں رَحم ہی میں کیوں نہ مرگیا؟ میں نے پیٹ سے نکلتے ہی جان کیوں نہ دے دی ؟
12 مُجھے قبول کرنے کو گھٹنے کیوں تھے اور چھاتیاں کہ میں اُن سے پُیوں ؟
13 نہیں تو اِس وقت میں پڑا ہوتا اور بے خبر رہتا میں سو جاتا ۔ تب مُجھے آرام ملتا ۔
14 زمین کے بادشاہوں اور مُشیروں کے ساتھ جنہوں نے اپنے لئے مقبرے بنائے ۔
15 یا اُن شاہزادوں کے ساتھ ہو تا جنکے پاس سونا تھا۔جنہوں نے اپنے گھر چاندی سے بھر لئے تھے ۔
16 یا پوشیدہ اسقاط حمل کی مانند میں وُجوُد میں نہ آتا یا اُن بچوّں کی مانند جنہوں نے روشنی ہی نہ دیکھی ۔
17 وہاں شریر فساد سے باز آتے ہیں ۔ اور تھکے ماند راحت پاتے ہیں ۔
18 وہاں قیدی ملکر آرام کرتے ہیں اور داروغہ کی آواز سُننے میں نہیں آتی ۔
19 چھوٹے اور بڑے دونوں وہیں ہیں اور نوکر اپنے آقا سے آزاد ہے ۔
20 دُکھیارے کو روشنی اور تلخ جان کو زندگی کیوں ملتی ہے ؟
21 جو موت کی راہ دیکھتے ہیں پر وہ آتی نہیں اور چھپے خزانوں سے زیادہ اُسکے جویان ہیں ۔
22 جو نہایت شادمان اور خوش ہوتے ہیں جب قبر کو پالیتے ہیں
23 اَیسے آدمی کو روشنی کیوں ملتی ہے جسکی راہ چھپی ہے اور جسے خدا نے ہر طرف سے بند کردیا ہے؟
24 کیو نکہ میرے کھانے کی جگہ میری آہیں ہیں اور میرا کراہتا پانی کی طرح جاری ہے۔
25 کیونکہ جس بات سے میں ڈرتا ہوں وہی مجھ پر گذرتی ہے ۔
26 کیونکہ مجھے نہ چین ہے نہ آرام نہ مجھے کل پڑتی ہے بلکہ مصیبت ہی آتی ہے۔


باب 4

1 تب تیمائی الیفزؔ کہنے لگا۔
2 اگر کوئی تجھ سے بات چیت کرنے کی کوشش کرے تو کیا تو رنجیدہ ہوگا ؟ پر بولے بغیر کون رہ سکتا ہے ؟
3 دیکھ ! تو نے بہتوں کو سکھایا اور کمزور ہاتھوں کومضبوط کیا۔
4 تیری باتوں نے گرتے ہوئے کو سنبھالا اور تو نے لڑکھڑاتے گھٹنوں کو پایدار کیا۔
5 پر اب تو تجھی پر آپڑی اور تو بے دِل ہُوا جاتا ہے ۔اُس نے تجھے چھُوا اور تو گھبرا اُٹھا ۔
6 کیا تیری خدا ترسی ہی تیرا بھروسا نہیں ؟ کیا تیری راہوں کی راستی تیری اُمید نہیں ؟
7 کیا تجھے یا د ہے کہ کبھی کوئی معصوم بھی ہلاک ہُوا ہے ؟ یا کہیں راستباز بھی کاٹ ڈالے گئے ؟
8 میرے دیکھنے میں تو جو گُناہ کو جوتتے اور دُکھ بولتے ہیں وہی اُسکو کاٹتے ہیں ۔
9 وہ خدا کے دم سے ہلاک ہوتے اور اُسکے غضب کے جھوکے سے بھسم ہوتے ہیں ۔
10 ببر کی گرج اور خونخوار ببر کی دھاڑ اور ببر کے بچوں کے دانت ۔یہ سب توڑے جاتے ہیں ۔
11 شکار نہ پانے سے بُڈّھا ببر ہلاک ہوتا اور شیرنی کے بچے تتر بتر ہوجاتے ہیں ۔
12 ایک بات چُپکے سے میرے پاس پہنچائی گئی ۔اُسکی بھنک میرے کان میں پڑی ۔
13 رات کی رویتوں کے خیالوں کے درمیان جب لوگوں کو گہری نیند آتی ہے ۔
14 مجھے خوف اور کپکپی نے اَیسا پکڑا کہ میری سب ہڈیوں کو ہلا ڈالا۔
15 تب ایک رُوح میرے سامنے سے گُذری اور میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔
16 وہ چُپ چاپ کھڑی ہوگئی پر میں اُسکی شکل پہچان نہ سکا ۔ ایک صورت میری آنکھوں کے سامنے تھی اور سناّٹا تھا ۔پھر میں نے ایک آواز سُنی ۔ کہ
17 کیا فانی اِنسان خدا سے زیادہ عادِل ہوگا؟کیا آدمی اپنے خالق سے زیادہ پاک ٹھہریگا ؟
18 دیکھ! اُسے اپنے خادموں کا اعتبار نہیں اور وہ اپنے فرشتوں پر حمایت کوعائد کرتا ہے ۔
19 پھر بھلا اُنکی کیا حقیقت ہے جو مٹی کے مکانوں میں رہتے ہیں ۔جنکی بُنیاد خاک میں ہے اور جو پتنگے سے بھی جلدی پس جاتے ہیں !
20 وہ صُبح سے شام تک ہلاک ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ کے لئے فنا ہوجاتے ہیں اور کوئی اُنکا خیال بھی نہیں کرتا ۔
21 کیا اُنکے ڈیرے کی ڈوری اُنکے اندر ہی اندر توڑی نہیں جاتی ؟ وہ مرتے ہیں اور یہ بھی بغیر دانائی کے ۔


باب 5

1 ذرا پُکار ۔کیا کوئی ہے جو تجھے جواب دیگا؟ اور مُقدسوں میں سے تو کس کی طرف پھر یگا ؟
2 کیو نکہ کُڑھتا بیوقوف کو مار ڈالتا ہے اور جلن احمق کی جان لے لیتی ہے ۔
3 میں نے بیو قوف کو جڑ پکڑتے دیکھا ہے پر ناگہان اُسکے مسکن پر لعنت کی ۔
4 اُسکے بال بچے سلامتی سے دُور ہیں ۔وہ پھاٹک ہی پر کچلے جاتے ہیں اور کوئی نہیں جو اُنہیں چھُڑائے ۔
5 بُھوکا اُسکی فصل کو کھاتا ہے بلکہ اُسے کانٹوں میں سے بھی نکال لیتا ہے اور پیاسا اُسکے مال کو نگل جاتا ہے ۔
6 کیو نکہ مصیبت مٹّی میں سے نہیں اُگتی ۔ نہ دُکھ زمین میں سے نکلتا ہے۔
7 پر جیسے چنگاریاں اُوپر ہی کو اُڑتی ہیں ویسے ہی انسان دُکھ کے لئے پیدا ہوا ہے ۔
8 لیکن میں تو خدا ہی کا طالب رہونگا اور اپنا معاملہ خدا ہی پر چھوڑ ونگا ۔
9 جو اَیسے بڑے بڑے کام جو دریافت نہیں ہوسکتے اور بے شمار عجیب کام کرتا ہے ۔
10 وہی زمین پر مینہ برساتا اور کھیتوں میں پانی بھیجتا ہے ۔
11 اِسی طرح وہ فروتنوں کو اُونچی جگہ پر بٹھاتا ہے اور ماتم کرنے والے سلامتی کی سرفرازی پاتے ہیں ۔
12 وہ عیّاروں کی تد بیروں کو باطل کردیتا ہے ۔یہاں تک کہ اُنکے ہاتھ اُنکے مقصود کو پورا نہیں کرسکتے
13 وہ ہوشیاروں کو اُن ہی کی چالاکیوں میں پھنسا تا ہے اور ٹیڑ ھے لوگوں کی مشورت جلد جاتی رہتی ہے ۔
14 اُنہیں دِن دِہاڑے اندھیرے سے پالا پڑتا ہے اور وہ دوپہر کے وقت اَیسے ٹٹولتے پھرتے ہیں جیسے رات کو۔
15 لیکن مُفلس کو اُنکے مُنہ کی تلوار اور زبردست کے ہاتھ سے وہ بچا لیتا ہے ۔
16 سو مسکین کو اُمید رہتی ہے اور بدکاری اپنا مُنہ بند کرلیتی ہے ۔
17 دیکھ! وہ آدمی جسے خدا تنبیہ کرتا ہے خوش قسمت ہے ۔اِسلئے قادر مُطلق کی تادیب کو حقیر نہ جان ۔
18 کیو نکہ وہی مجروح کرتا اور پٹی باندھتا ہے ۔وہی زخمی کرتا ہے اور اُسی کے ہاتھ چنگا کرتے ہیں ۔
19 و ہ تجھے چھ مُصیبتوں سے چھُڑائیگا بلکہ سات میں بھی کوئی آفت تجھے چھُونے نہ پائیگی ۔
20 کال میں وہ تجھ کو موت سے بچائیگا اور لڑائی میں تلوار کی دھار سے ۔
21 تو زبان کے کوڑے سے محفوظ رکھا جائیگا اور جب ہلاکت آئیگی تو تجھے ڈر نہیں لگیگا ۔
22 تو ہلاکت اور خشک سالی پر ہنسیگا اور زمین کے درندوں سے تجھے کچھ خوف نہ ہوگا ۔
23 میدان کے پتھروں کے ساتھ تیرا ایکا ہوگا اور جنگلی درِندے تجھ سے میل رکھینگے
24 اور تو جانیگا کہ تیرا ڈیرا محفوظ ہے اور تو اپنے مسکن میں جائیگا اور کوئی چیز غائب نہ پائیگا ۔
25 تجھے یہ بھی معلوم ہوگا کہ تیری نسل بڑی اور تیری اَولاد زمین کی گھاس کی مانند برومند ہوگی۔
26 تو پُوری عمر میں اپنی قبر میں جائیگا جیسے اناج کے پُولے اپنے وقت پر جمع کئے جاتے ہیں ۔
27 دیکھ ! ہم نے اِسکی تحقیق کی اور یہ بات یوں ہی ہے ۔اِسے سُن لے اور اپنے فائدہ کے لئے اِسے یاد رکھ ۔


باب 6

1 تب ایوب نے جواب دیا:۔
2 کاشکہ میرا کُڑھنا تولا جاتا اور میری ساری مصیبت ترازُو میں رکھی جاتی !
3 تو وہ سمندر کی ریت سے بھی بھاری اُترتی ۔اِسی لئے میری باتیں نے تاملّی کی ہیں
4 کیو نکہ قادِر مطلق کے تیر میرے اندر لگے ہُوئے ہیں ۔ میری رُوح اُن ہی کے زہر کو پی رہی ہے ۔خدا کی ڈراونی باتیں میرے خلاف صف باندھے ہُوئے ہیں۔
5 کیا جنگلی گدھا اُس وقت بھی رینگتا ہے جب اُسے گھاس مل جاتی ہے؟ یا کیا بیل چارا پاکر ڈکارتا ہے؟
6 کیا پھیکی چیز بے نمک کھائی جاسکتی ہے ؟ یا کیا انڈے کی سفیدی میں کوئی مزہ ہے؟
7 میری رُوح کو اُنکے چھُونے سے بھی انکار ہے۔وہ میرے لئے مکُروہ غذا ہیں ۔
8 کاش کہ میری درخواست منظورہوتی اور خدا مجھے وہ چیز بخشتا جسکی مجھے آرزو ہے!
9 یعنی خدا کو یہی منظور ہوتا کہ مجھے کُچل ڈالے اور اپنا ہاتھ چلا کر مجھے کاٹ ڈالے !تو مجھے تسلّی ہوتی بلکہ میں نے اُس اٹل درد میں بھی شادمان رہتا کیو نکہ میں نے اُس قُدُّوس کی باتوں کا اِنکار نہیں کیا ۔
10
11 میری طاقت ہی کیا ہے جو میں ٹھہرا رہوُں ؟ اور میرا انجام ہی کیا ہے جو میں صبر کُروں ؟
12 کیا میری طاقت پتھروں کی طاقت ہے ؟یا میرا جسم پیتل کا ہے؟
13 کیا بات یہی نہیں کہ میں بے بس ہُوں اور کام کرنے کی قُوت مجھ سے جاتی رہی ہے؟
14 اُس پر جو بے دِل ہونے کو ہے اُسکے دوست کی طرف سے مہربانی ہونی چاہئے بلکہ اُس پر بھی جو قادِر مطلق کا خوف چھوڑ دیتا ہے ۔
15 میرے بھائیوں نے نالے کی طرح دغا کی ۔ اُن وادِیوں کے نالوں کی طرح جو سوکھ جاتے ہیں ۔
16 جو یخ کے سبب سے کالے ہیں اور جن میں برف چھپی ہے۔
17 جس وقت وہ گرم ہوتے ہیں تو غائب ہوجاتے ہیں اور جب گرمی پڑتی ہے تو اپنی جگہ سے اُڑجاتے ہیں ۔
18 قافلے اپنے راستہ سے مُڑ جاتے ہیں اور بیابان میں جاکر ہلاک ہوجاتے ہیں ۔
19 تیماؔ کے قافلے دیکھتے رہے ۔سباؔ کے کاروان اُنکے اِنتظار میں رہے ۔
20 وہ شر مندہ ہُوئے کیونکہ اُنہوں نے اُمید کی تھی ۔ وہ وہا ں آئے اور پشیمان ہوئے ۔
21 سو تمہاری بھی کوئی حقیقت نہیں ۔تم ڈراونی چیز دیکھکر ڈر جاتے ہو۔
22 کیا میں نے کہا کچھ مجھے دو؟ یا اپنے مال میں میرے لئے رِشوت دو؟
23 یا مخالف کے ہاتھ سے مجھے بچاؤ؟یا ظالموں کے ہاتھ سے مجھے چھُڑاؤ ؟
24 مجھے سمجھاؤ اور میں خاموش رہونگا اور مجھے سمجھاؤ کہ میں کس با ت میں چُوکا ۔
25 راستی کی باتیں کیسی مُوثر ہوتی ہیں !پر تمہاری دلیل کس بات کی تردید کرتی ہے؟
26 کیا تم اِس خیال میں ہو کہ لفظوں کی تردید کرو؟ اِس لئے کہ مایوس کی باتیں ہوا کی طرح ہوتی ہیں ۔
27 ہاں تم تو یتیموں پر قرعہ ڈالنے والے اور اپنے دوست کو سوداگری کا مال بنانے والے ہو ۔
28 اِس لئے ذرا میری طرف نگاہ کروکیو نکہ تمہارے منہ پر میں ہر گز جھوٹ نہ بولُونگا ۔
29 میں تمہاری منّت کرتا ہوں ۔باز آؤ ۔ بے انصافی نہ کرو ۔ہاں با ز آؤ۔ میں حق پر ہوں ۔
30 کیا میری زبان پر بے انصافی ہے ؟ کیا فتنہ انگیز ی کی باتوں کے پہچاننے کا مجھے شعور نہیں ؟


باب 7

1 کیا انسان کے لئے زمین پر جنگ وجدل نہیں ؟ اور کیا اُسکے دِن مزدوُر کے سے نہیں ہوتے ؟
2 جیسے نوکر سایہ کی بڑی آرزُو کرتا ہے اور مزدُور اپنی اُجرت کا منتظر رہتا ہے ۔
3 ویسے ہی میں بُطلان کے مہینوں کا مالک بنایا گیا ہُوں اور مصیبت کی راتیں میرے لئے ٹھہرائی گئی ہیں ۔
4 جب میں لیٹتا ہوں تو کہتا ہوں کب اُٹھو نگا ؟ پر رات لمبی ہوتی ہے اور دن نکلنے تک اِدھر اُدھر کروٹیں بدلتا رہتا ہوں ۔
5 میرا جسم کیڑوں اور مٹی کے ڈھیلوں سے ڈھکا ہے۔میری کھال سمٹتی اور پھرناسور ہوجاتی ہے۔
6 میرے دِن جُلا ہے کی ڈھر کی سے بھی تیز رفتا ر ہیں اور بغیر اُمید کے گذر جاتے ہیں ۔
7 آہ! یاد کہ کر میری زندگی ہوا ہے اور میری آنکھ خوشی کو پھر نہ دیکھیگی ۔
8 جو مجھے اب دیکھتا ہے اُسکی آنکھ مجھے پھر نہ دیکھیگی ۔ تیری آنکھیں تو مجھ پر ہونگی پر میں نہ ہو نگا ۔
9 جیسے بادل پھٹکر غائب ہوجاتا ہے ویسے ہی وہ جو قبر میں اُترتا ہے پھر کبھی اُوپر نہیں آتا ۔
10 وہ اپنے گھر کوپھر نہ لَوٹیگا ۔ نہ اُسکی جگہ اُسے پھِر پہچانیگی ۔
11 اِس لئے میں اپنا منہ بند نہیں رکھونگامیں اپنی رُوح کی تلخی میں بولتا جاؤنگا ۔ میں اپنی جان کے غذاب میں شکوہ کرونگا ۔
12 کیا میں سمندر ہوں یا مگرمچھ جو تو مجھ پر پہرا بٹھاتا ہے ؟
13 جب میں کہتا ہوں میرا بستر مجھے آرام پہنچائیگا ۔ میرا بچھونا میرے غم کو ہلکا کریگا
14 تو تُو خوابوں سے مجھے ڈراتا اور روتیوں سے مجھے سہما دیتا ہے ۔
15 یہاں تک کہ میری جان پھانسی اور موت کو میری اِن ہڈّ یوں پر ترجیح دیتی ہے۔
16 مجھے اپنی جان سے نفرت ہے۔میں ہمیشہ تک زندہ رہنا نہیں چاہتا ۔مجھے چھوڑ دے کیونکہ میرے دِن بُطلان ہیں ۔
17 اِنسان کی بساط ہی کیا ہے جو تو اُسے سرفراز کرے اور اپنا دِل اُس پر لگائے
18 اور ہر صُبح اُسکی خبر لے اور ہر لمحہ اُسے آزمائے ؟
19 تو کب تک اپنی نگا ہ میری طرف سے نہیں ہٹا ئیگا اور مجھے اِتنی بھی مہلت نہ دیگا کہ اپنا تھوک نگل لُوں ؟
20 اَے بنی آدم کے ناظر ! اگر میں نے گناہ کیا ہے تو تیرا کیا بگاڑتا ہُوں ؟تو نے کیوں مجھے اپنا نشانہ بنا لیا ہے یہاں تک کہ میں اپنے آپ پر بوجھ ہُوں ؟
21 تو میر ا گُناہ کیوں نہیں معاف کرتا اور میری بد کاری کیوں نہیں دُور کر دیتا ؟ اب تو میں مٹّی میں سو جاؤنگا اور تو مجھے خُوب ڈھونڈیگا پر میں نہ ہُونگا ۔


باب 8

1 تب بِلددؔ سُوخی کہنے لگا:۔
2 تو کب تک اَیسے ہی بکتا رہیگا ؟ اور تیرے مُنہ کی باتیں کب تک آندھی کی طرح ہونگی؟
3 کیا خدا بے انصافی کرتا ہے ؟کیا قادِرمطلق عدل کا خون کرتا ہے ؟
4 اگر تیرے فرزندوں نے اُسکا گُناہ کیا ہے اور اُس نے اُنہیں اُن ہی کی خطا کے حوالہ کردیا
5 تو بھی اگر تو خدا کو خوب ڈھونڈتا اور قادِر مطلق کے حُضُور منت کرتا
6 تو اگر تو پاک دِل راستباز ہو تا تو وہ ضُرور اب تیرے لئے بیدار ہو جاتا اور تیری راستبازی کے مسکن کو برومند کرتا ۔
7 اور اگرچہ تیرا آغاز چھوٹا سا تھا تو بھی تیرا انجام بہت بڑا ہوتا۔
8 ذرا پچھلے زمانہ کے لوگوں سے پُوچھ اور جو کچھ اُنکے باپ دادا نے تحقیق کی ہے اُس پر دھیان کر
9 (کیونکہ ہم تو کل کے ہیں اور کچھ نہیں جانتے اور ہمارے دِن زمین پر سایہ کی مانند ہیں )۔
10 کیا وہ تجھے نہ سکھائینگے اور نہ بتا ئینگے اور اپنے دِل کی باتیں نہیں کرینگے ؟
11 کیا ناگر موتھا بغیر کیچڑ کے اُگ سکتا ہے؟کیا سرکنڈا بغیر پانی کے بڑھ سکتا ہے؟
12 جب وہ ہرا ہی ہے اور کاٹا بھی نہیں گیا تو بھی اور پودوں سے پہلے سُوکھ جاتا ہے ۔
13 اَیسی ہی اُن سب کی راہیں ہیں جو خدا کو بھول جاتے ہیں ۔بے خدا آدمی کی اُمید ٹوٹ جائیگی ۔
14 اُسکا اِعتماد جاتا رہیگا اور اُسکا بھروسا مکڑی کا جالا ہے ۔
15 وہ اپنے گھر پر ٹیک لگا ئیگا لیکن وہ کھڑا نہ رہیگا ۔وہ اُسے مضبوطی سے تھامیگا پر وہ قائم نہ رہیگا ۔
16 وہ دُھوپ پاکر ہرا بھرا ہو جاتا ہے اور اُسکی ڈالیاں اُسی کے باغ میں پھیلتی ہیں ۔
17 اُسکی جڑیں ڈھیرمیں لپٹی ہُوئی ہیں ۔وہ پتھروں کی جگہ کو دیکھ لیتا ہے ۔
18 اگر وہ اپنی جگہ سے نیست کیا جائے تو وہ اُسکا اِنکار کرکے کہنے لگیگی کہ میں نے تجھے دیکھا ہی نہیں ۔
19 دیکھ!اُسکی راہ کی خوشی اِتنی ہی ہے اور مٹّی میں سے دُوسرے اُگ آئینگے ۔
20 دیکھ! خدا کامِل آدمی کو چھوڑ نہ دیگا ۔نہ وہ بدکرداروں کو سنبھالیگا ۔
21 وہ اب بھی تیرے مُنہ کو ہنسی سے بھر دیگا اور تیرے لبوں کو للکار کی آواز سے ۔
22 تیرے نفرت کرنے والے شرم کا جامہ پہنینگے اور شریروں کو ڈیرا قائم نہ رہیگا ۔


باب 9

1 پھر ایوب ؔ نے جواب دیا:۔
2 درحقیقت میں جانتا ہُوں کہ بات ےُوں ہی ہے پر اِنسان خُدا کے حُضُور کیسے راستباز ٹھہرے ؟
3 اگر وہ اُس سے بحث کرنے کو راضی بھی ہو تو یہ ہزار باتوں میں سے اُسے ایک کا بھی جواب نے دے سکیگا ۔
4 وہ دِل کا عقلمند اور طاقت میں زور آور ہے ۔کِس نے جُرات کرکے اُسکا سامنا کیا اور برومند ہُوا ؟
5 وہ پہاڑوں کو ہٹا دیتا ہے اور اُنہیں پتا بھی نہیں لگتا ۔وہ اپنے قہر میں اُنہیں اُلٹ دیتا ہے ۔
6 وہ زمین کو اُسکی جگہ سے ہلادیتا ہے اور اُسکے سُتُون کانپنے لگتے ہیں ۔
7 وہ آفتاب کو حکم کرتا ہے اور وہ طلوع نہیں ہوتا اور ستاروں پر مُہر لگا دیتا ہے ۔
8 وہ آسمانوں کو اکیلا تان دیتا ہے اور سُمندر کی لہروں پر چلتا ہے ۔
9 اُس نے بناتُؔ النصش اور جبّارؔ اور ثُریاؔ اور جنوب کے برجوں کو بنایا ۔
10 وہ بڑے بڑے کام جو دریافت نہیں ہو سکتے اور بے شُمار عجاءِب کرتا ہے ۔
11 دیکھ ! وہ میرے پاس سے گذُرتا ہے پر مجھے دِکھائی نہیں دتیا ۔وہ آگے بھی بڑھ جاتا ہے پر میں اُسے نہیں دیکھتا ۔
12 دیکھ !وہ شکار پکڑتا ہے۔ کونُ سے روک سکتا ہے ؟کون اُس سے کہیگا کہ تو کیا کرتا ہے؟
13 خدا اپنے غضب کو نہیں ہٹا ئیگا ۔رہبؔ کے مددگار اُسکے نیچے جُھک جاتے ہیں ۔
14 پھر میری کیا حقیقت ہے کہ میں اُسے جواب دُوں اور اُس سے بحث کرنے کو اپنے لفظ چھانٹ چھانٹکر نکالُوں ؟
15 اُسے تومیں اگر صادق بھی ہوتا تو جواب نہ دیتا ۔میں اپنے مخالف کی منت کرتا ۔
16 اگر وہ میرے پُکارنے پر مجھے جواب بھی دیتا تو بھی میں یقین نہ کرتا کہ اُس نے میری آواز سُنی ۔
17 وہ طوفان سے مجھے توڑتا ہے اور بے سبب میرے زخموں کو زیادہ کرتا ہے۔
18 وہ مجھے دم نہیں لینے دیتا بلکہ مجھے تلخی سے لبریز کرتا ہے ۔
19 اگر زور آور کی طاقت کا ذکر ہو تو دیکھو وہ ہے ! اور اگر اِنصاف کا تو میرے لئے وقت کون ٹھہرائیگا ؟
20 اگر میں صادق بھی ہوں تو بھی میرا ہی منہ مجھے مُلزم ٹھہرائیگا ۔اگر میں کامل بھی ہوں تو بھی یہ مجھے کجرو ثابت کریگا۔
21 میں کامل تو ہوں پر میں اپنے کو کچھ نہیں سمجھتا ۔میں اپنی زِندگی کو حقیر جانتا ہوں ۔
22 یہ سب ایک ہی بات ہے اِس لئے میں کہتا ہوں کہ وہ کامل اور شریر دونوں کو ہلاک کردیتا ہے۔
23 اگر مری ناگہان ہلاک کرنے لگے تو وہ بے گُناہ کی آزمائش کا مضحکہ اُڑاتا ہے۔
24 زمین شریروں کو سُپرد کر دی گئی ہے۔وہ اُسکے حاکموں کے منہ ڈھانک دیتا ہے ۔اگر وہی نہیں تو اَور کون ہے؟
25 میرے دِن ہر کاروں سے بھی تیز رَو ہیں ۔وہ اُڑے چلے جاتے ہیں اور خوشی نہیں دیکھنے پاتے ۔
26 وہ تیز جہازوں کی طرح نکل گئے اور اُس عُقاب کی مانند جو شکار پر جھپٹتا ہو۔
27 اگر میں کہوں میں اپناغم بُھلادُونگا اور اُداسی چھوڑ کر دِل شاد ہُونگا
28 تو میں اپنے دُکھوں سے ڈرتا ہُوں ۔میں جانتا ہُوں کہ تو مجھے بے گُناہ نہ ٹھہرائیگا ۔
29 میں تو مُلزم ٹھہرونگا ۔پھر میں عبث زحمت کیوں اُٹھاؤں ؟
30 اگر میں اپنے کو برف کے پانی سے دھوؤں اور اپنے ہاتھ کتنے ہی صاف کُروں
31 تو بھی تُو مجھے کھائی میں غوطہ دیگا اور میرے ہی کپڑے مجھ سے گھن کھا ئینگے ۔
32 کیو نکہ وہ میری طرح آدمی نہیں کہ میں اُسے جواب دُوں اور ہم عدالت میں باہم حاضر ہوں ۔
33 ہمارے درمیان کوئی ثالث نہیں جو ہم دونوں پر اپنا ہاتھ رکھے ۔
34 وہ اپنا عصا مجھ سے ہٹا لے اور اُسکی ڈراونی بات مجھے ہراسان نہ کرے ۔
35 تب میں کچھ کہونگا اور اُس سے ڈرنے کا نہیں کیو نکہ اپنے آپ میں تو میں ایسا نہیں ہوں


باب 10

1 میری رُوح میری زندگی سے بیزار ہے۔میں اپنا شکوہ خوب دِل کھولکر کُرونگا ۔ میں اپنے دل کی تلخی میں بولُونگا ۔
2 میں خدا سے کہونگا مجھے مُلز منہ ٹھہرا ۔مجھے بتا کہ تو مجھ سے کیوں جھگڑتا ہے ۔
3 کیا تجھے اچھا لگتا ہے کہ اندھیر کرے اور اپنے ہاتھوں کی بنائی ہُوئی چیز کو حقیر جانے اور شریروں کی مشور ت کو روشن کرے ؟
4 کیا تیری آنکھیں گوشت کی ہیں یا تو اَیسے دیکھتا ہے جیسے آدمی دیکھتا ہے؟
5 کیا تیرے دِن آدمی کے دِن کی طرح اور تیرے سال اِنسان کے ایّام کی مانند ہیں
6 کہ تو میری بدکاری کو پُوچھتا اور میرا گناہ ڈھونڈتا ہے
7 گو تجھے معلوم ہے کہ میں شریر نہیں ہوں اور کوئی نہیں جو تیرے ہاتھ سے چھُڑاسکے ؟
8 تیرے ہی ہاتھوں نے مجھے بنایا اور سراسر جوڑ کر کامل کیا۔پھر بھی تو مجھے ہلاک کرتا ہے ۔
9 یاد کر کہ تو نے گُندھی ہُوئی مٹّی کی طرح مجھے بنایا اور کیا تو مجھے پھر خاک میں ملائیگا ؟
10 کیا تو نے مجھے دُودھ کی طرح نہیں اُنڈیلا اور پنیر کی طرح نہیں جمایا ؟
11 پھر تو نے مجھ پر چمڑا اور گوشت چڑھایا اور ہڈیوں اور نسوں سے مجھے جوڑ دیا۔
12 تو نے مجھے جان بخشی اور مجھ پر کرم کیا اور تیری نگہبانی نے میری رُوح سلامت رکھی
13 تو بھی تو نے یہ باتیں اپنے دِل میں چھپا رکھی تھیں ۔میں جانتا ہوں کہ تیر ا یہی اِرادہ ہے کہ
14 اگر میں گناہ کُروں تو تُو مجھ پر نگران ہوگا۔اور تو مجھے میری بدکاری سے بری نہیں کریگا ۔
15 اگر میں بدی کُروں تو مجھ پر افسوس !اگر میں صادق بنوں تو بھی اپنا سر نہیں اُٹھانے کا کیونکہ میں رُسوائی سے بھرا ہُوں اور اپنی مصیبت کو دیکھتا رہتا ہوں
16 اور اگر سر اُٹھاؤں تو تُو شیر کی طرح مجھے شکار کرتا ہے اور پھر عجیب صورت میں مجھ پر ظاہر ہوتا ہے ۔
17 تو میرے خلاف نئے نئے گواہ لاتا ہے اور اپنا قہر مجھ پر بڑھاتا ہے ۔نئی نئی فوجیں مجھ پر چڑھاآتی ہیں ۔
18 پس تو نے مجھے رَحِم سے نکالا ہی کیوں ؟میں جان دے دیتا اور کوئی آنکھ مجھے دیکھنے نہ پاتی ۔
19 میں اَیسا ہو تا کہ گویا تھا ہی نہیں ۔میں رَحم ہی سے قبر میں پہنچادیا جاتا ۔
20 کیا میرے دِن تھوڑے سے نہیں ؟ باز آ اور مجھے چھوڑدے تاکہ میں کچھ راحت پاؤں ۔
21 اِس سے پہلے کہ میں وہاں جاؤں جہاں سے پھر نہ لَوٹو نگا یعنی تاریکی اور موت اور سایہ کی سر زمین کو
22 گہری تاریکی کی سر زمین جو خود تاریکی ہی ہے ۔موت کے سایہ کی سر زمین جو بے ترتیب ہے اور جہاں روشنی بھی اَیسی ہے جیسی تاریکی ۔


باب 11

1 تب ضُوؔ فرنعماتی نے جواب دیا:۔
2 کیا اِن بُہت سی باتوں کا جواب نہ دِیا جائے ؟ اور کیا بکواسی آدمی راست ٹھہرایا جائے ؟
3 کیا تیری لاف زنی لوگوں کو خاموش کردے ؟اور جب تو ٹھٹھا کرے تو کیا کوئی تجھے شرمندہ نہ کرے ؟
4 کیونکہ تو کہتا ہے میری تعلیم پاک ہے اور تیری نگاہ میں بیگناہ ہوں ۔
5 کاش !خداخود بولے اورتیرے خلاف اپنے لبوں کو کھولے
6 اور حکمت کے اسرار تجھے دِکھائے کہ وہ تا ثیر میں گونا گُون ہے!سو جان لے کہ تیری بدکاری جس لائق ہے اُس سے کم ہی خدا تجھ سے مُطالبہ کرتا ہے ۔
7 کیا تو تلاش سے خدا کو پا سکتا ہے ؟ کیا تو قادِر مُطلق کا بھید کمال کے ساتھ دریافت کرسکتا ہے؟
8 وہ آسمان کی طرح اُونچا ہے ۔ تو کیا کرسکتا ہے ؟ وہ پاتال سے گہرا ہے ۔تو کیا جان سکتا ہے ؟
9 اُسکی ناپ زمین سے لمبی اور سمندر سے چوڑی ہے۔
10 اگر وہ بیچ سے گذر کر بند کردے اور عدالت میں بُلائے تو کون اُسے روک سکتا ہے؟
11 کیونکہ وہ بیہودوآدمیوں کو پہچانتا ہے اور بدکاری کو بھی دیکھتا ہے خواہ اُسکا خیال نہ کرے ۔
12 لیکن بے بیہودوآدمی سمجھ سے خالی ہوتا ہے بلکہ اِنسان گورخر کے بچہ کی طرح پیدا ہوتا ہے ۔
13 اگر تو اپنے دِل کو ٹھیک کرے اور اپنے ہاتھ اُسکی طرف پھیلائے ۔
14 اگر تیرے ہاتھ میں بدکاری ہو تواُسے دُور کرے اور ناراستی کو اپنے ڈیروں میں رہنے نہ دے
15 تب یقیناًتو اپنا منہ بے داغ اُٹھائیگا بلکہ تو ثابت قدم ہو جائیگا اور ڈرنے کا نہیں
16 کیونکہ تو اپنی خستہ حالی کو بھول جائیگا ۔تو اُسے اُسے پانی کی طرح یاد کریگا جو بہ گیا ہو۔
17 اور تیری زندگی دوپہرسے زیادہ روشن ہوگی اور اگر تاریکی ہُوئی تو وہ صبح کی طرح ہوگی
18 اور تو مُطمئن رہیگا کیونکہ اُمید ہوگی اور اپنے چوگرد دیکھ دیکھکر سلامتی سے آرام کریگا
19 اور تو لیٹ جائیگا اور کوئی تجھے ڈرائیگا نہیں بلکہ بہتیرے تجھ سے فریاد کرینگے
20 پر شریروں کی آنکھیں رہ جائینگی ۔ اُنکے لئے بھاگنے کو بھی راستہ نہ ہوگا اور دم دے دینا ہی اُنکی اُمید ہوگی۔


باب 12

1 تب ایوب ؔ نے جواب دیا:۔
2 بے شک آدمی تو تم ہی ہو اور حکمت تمہارے ہی ساتھ مریگی ۔
3 لیکن مجھ میں بھی سمجھ ہے جیسے تم میں ہے ۔میں تم سے کم نہیں ۔بھلا اَیسی باتیں جیسی یہ ہیں کون نہیں جانتا ؟
4 میں اُس آدمی کی طرح ہوں جو اپنے پڑوسی کے لئے ہنسی کا نشانہ بنا ہے ۔میں وہ آدمی تھا جو خدا سے دُعا کرتا اور وہ اُسکی سُن لیتا تھا۔راست اور کامل آدمی ہنسی کا نشانہ ہوتا ہے ۔
5 جو چین سے ہے اُسکے خیال میں دُکھ کے لئے حقارت ہوتی ہے۔یہ اُنکے لئے تیار رہتی ہے جنکا پاؤں پھسلتا ہے۔
6 ڈاکوؤں کے ڈیرے سلامت رہتے ہیں اور جو خدا کو غصہ دلاتے ہیں وہ محفوظ رہتے ہیں ۔اُن ہی کے ہاتھ کو خدا خوب بھرتا ہے
7 حیوانوں سے پُوچھ اور وہ تجھے سکھائینگے اور ہو ا کے پرندوں سے دریافت کر اور وہ تجھے بتا ئینگے ۔
8 یا زمین سے بات کر اور وہ تجھے سکھا ئیگی اور سمندر کی مچھلیاں تجھ سے بیان کرینگی۔
9 کون نہیں جانتا کہ اِن سب باتوں میں خداوند ہی کاہاتھ ہے جس نے یہ سب بنایا ؟
10 اُسی کے ہاتھ میں ہر جاندار کی جان اور کُل بنی آدم کا دم ہے۔
11 کیا کان باتوں کو نہیں پرکھ لیتا جیسے زبان کھانے کو چکھ لیتی ہے ؟
12 بُڈّھوں میں سمجھ ہوتی ہے اور عُمر کی درازی میں دانائی
13 خدا میں سمجھ اور قوت ہے ۔اُس کے پاس مصلحت اور دانائی ہے ۔
14 دیکھو!وہ ڈھا دیتا ہے تو پھر بنتا نہیں ۔وہ آدمی کو بند کردیتا ہے تو پھر کُھلتا نہیں ۔
15 دیکھو! وہ مینہ کو روک لیتا ہے تو پانی سُوکھ جاتا ہے ۔پھر جب وہ اُسے بھیجتا ہے تو وہ زمین کو اُلٹ دیتا ہے ۔
16 اُس میں طاقت اور تا ثیر کی قوُّت ہے۔فریب کھانے والا اور فریب دینے والا دونوں اُسی کے ہیں ۔
17 وہ مُشیروں کو لٹوا کر اسیری میں لے جاتا ہے اور عدالت کرنے والوں کو بیوقوف بنا دیتا ہے ۔
18 وہ شاہی بندھنوں کو کھول ڈالتا ہے اور بادشاہوں کی کمر پر پٹکا باندھتا ہے۔
19 وہ کاہنوں کو لٹوا کر اسیری میں لے جاتا اور زبردستوں کو پچھاڑ دیتا ہے۔
20 وہ اعتماد والے کی قُّوت گویائی دُور کرتا اور بُزُرگوں کی دانائی کو چھین لیتا ہے ۔
21 وہ اُمرا پر حقارت برساتا ہے اور زور آوروں کے کمر بند کو کھول ڈالتا ہے۔
22 وہ اندھیرے میں سے گہری باتوں کا آشکارا کرتا اور موت کے سایہ کو بھی روشنی میں لے آتا ہے۔
23 وہ قوموں کو بڑھاکر اُنہیں ہلاک کر ڈالتا ہے۔وہ قوموں کو پھیلاتا اور پھر اُنہیں سمیٹ لیتا ہے ۔
24 وہ زمین کی قوموں کے سرداروں کی عقل اُڑا دیتا اور اُنہیں اَیسے بیابان میں بھٹکا دیتا ہے جہاں راستہ نہیں ۔
25 وہ روشنی کے بغیر تاریکی میں ٹٹولتے پھرتے ہیں اور وہ اُنہیں اَیسا بنا دیتا ہے کہ متوالے کی طرح لڑکھڑاتے ہُوئے چلتے ہیں ۔


باب 13

1 میری آنکھ نے تو یہ سب کچھ دیکھا ہے۔میرے کان نے یہ سُنا اور سمجھ بھی لیا ہے ۔
2 جو کچھ تم جانتے ہو اُسے میں بھی جانتا ہُوں ۔ میں تم سے کم نہیں ۔
3 میں تو قادِر مطلق سے گفتگو کرنا چاہتا ہُوں ۔ میری آرزُو ہے کہ خدا کے ساتھ بحث کُروں
4 لیکن تم لوگ تو جھوٹی باتوں کے گھڑنے والے ہو۔تم سب کے سب نکمے طبیب ہو۔
5 کاش تم بالکل خاموش ہوجاتے !یہی تمہاری عقلمندی ہوتی ۔
6 اب میری دلیل سُنو اور میرے منہ کے دعویٰ پر کان لگاؤ ۔
7 کیا تم خدا کے حق میں ناراستی سے باتیں کروگے اور اُسکے حق میں فریب سے بولو گے ؟
8 کیا تم اُسکی طرفداری کروگے ؟ کیا تم خدا کی طرف سے جھگڑو گے ؟
9 کیا یہ اچھا ہوگا کہ وہ تمہاری تفتیش کرے ؟کیا تم اُسے فریب دوگے جیسے آدمی کو ؟
10 وہ ضرور تمہیں ملامت کریگا ۔ اگر تم خُفیتہً طرفداری کرو ۔
11 کیا اُسکا جلال تمہیں ڈرانہ دیگا اور اُسکا رُعب تم پر چھا نہ جائیگا ۔
12 تمہاری معروف باتیں راکھ کی کہاوتیں ہیں ۔تمہاری فصیلیں مٹّی کی فصیلیں ہیں ۔
13 تم چُپ رہو۔مجھے چھوڑو تاکہ میں بول سکوں اور پھر مجھ پر جو بیتے سو بیتے ۔
14 میں اپنا ہی گوشت اپنے دانتوں سے کیوں چباؤں اور اپنی جان اپنی ہتھیلی پر کیوں رکھوں ؟
15 دیکھو وہ مجھے قتل کریگا ۔میں اِنتظار نہیں کرونگا بہرحال میں اپنی راہوں کی تائید اُسکے حُضُور کُرونگا ۔
16 یہ بھی میری نجات کا باعث ہوگا کیونکہ کوئی بے خدا اُسکے سامنے آنہیں سکتا ۔
17 میری تقریر کو غور سے سُنو اور میرا بیان تمہارے کانوں میں پڑے ۔
18 دیکھو میں نے اپنا دعویٰ دُرست کر لیا ہے ۔میں جانتا ہوں کہ میں صادق ہوں ۔
19 کون ہے جو میرے ساتھ جھگڑیگا ؟ کیونکہ پھر تو میں چُپ ہو کر اپنی جان دیدوُنگا ۔
20 فقط دوہی کام مجھ سے نہ کر ۔تب میں تجھ سے نہیں چھپونگا ۔
21 اپنا ہاتھ نجھ سے دُور ہٹا لے اور تیری ہیبت مجھے خوفزدہ نہ کرے ۔
22 تب تیرے بُلانے پر میں جواب دُونگا ۔یا میں بولُوں اور تو مجھے جواب دے ۔
23 میری بدکاریاں اور گناہ کو جان لُوں ۔
24 تو اپنا منہ کیوں چھپا تا ہے اور مجھے اپنادُشمن کیوں جانتا ہے؟
25 کیا تو اُڑتے پتے کو پریشان کریگا ؟ کیا تو سُوکھے ڈنٹھل کے پیچھے پڑیگا ؟
26 کیونکہ تو میرے خلاف تلخ باتیں لکھتا ہے اور میری جوانی کی بدکاریاں مجھ پر واپس لاتا ہے ۔
27 تو میرے پاؤں کاٹھ میں ٹھونکتااور میری سب راہوں کی نگرانی کرتا ہے ۔اور میرے پاؤں کے گر د خط کھینچتا ہے۔
28 اگرچہ میں سڑی ہُوئی چیز کی طرح ہُوں جو فنا ہوجاتی ہے۔ یا اُس کپڑے کی مانند ہوں جسے کیڑے نے کھا لیا ہو۔


باب 14

1 اِنسان جو عورت سے پیدا ہوتا ہے۔تھوڑے دِنوں کا ہے اور دُکھ سے بھرا ہے۔
2 وہ پھُول کی طرح نکلتا اور کاٹ ڈالاجا تا ہے۔وہ سایہ کی طرح اُڑ جا تا ہے اور ٹھہر تا نہیں ۔
3 سو کیا تُو اَیسے پر اپنی آنکھیں کھولتا ہے اور مجھے اپنے ساتھ عدالت میں گھسیٹتا ہے ؟
4 ناپاک چیز میں سے پاک چیز کون نکال سکتا ہے؟ کو ئی نہیں ۔
5 اُسکے دِن تو ٹھہرے ہُوئے ہیں اور اُسکے مہینوں کی تعدا د تیرے پاس ہے اور تو نے اُسکی حدّوں کو مُقرر کر دیا ہے جنہیں وہ پار نہیں کرسکتا ۔
6 سو اُسکی طرف سے نظر ہٹالے تاکہ وہ آرام کرے جب تک وہ مزدوُر کی طرح اپنادِن پُورا نہ کرلے ۔
7 کیونکہ درخت کی تو اُمید رہتی ہے کہ اگر وہ کاٹا جائے تو پھر پھُوٹ نکلیگا اور اُسکی نرم نرم ڈالیاں موقُّوف نہ ہونگی ۔
8 اگرچہ اُسکی جڑ زمین میں پُرانی ہوجائے اور اُسکا تنہ مٹّی میں گل جائے
9 تو بھی پانی کی بُو پاتے ہی وہ شگوفے لائیگا اور پودے کی طرح شاخیں نکالیگا ۔
10 لیکن اِنسان مر کر پڑا رہتا ہے بلکہ اِنسان دم چھوڑ دیتا ہے اور پھر وہ کہاں رہا ؟
11 جیسے جھیل کا پانی مَوقوُف ہو جاتا ہے اور یا دریا اُترتا اور سُوکھ جاتا ہے
12 ویسے آدمی لیٹ جاتا ہے اور اُٹھتا نہیں ۔جب تک آسمان ٹل نے جائے وہ بیدار نہ ہونگے اور نہ اپنی نیند سے جگائے جائینگے ۔
13 کاشکہ تُو مجھے پاتال میں چھپا دے اور جب تک تیرا قہر ٹل نہ جائے مجھے پوشیدہ رکھے اور کوئی مُعیّن وقت میرے لئے ٹھہرائے اور مجھے یاد کرے !
14 اگر آدمی مرجائے تو کیا وہ پھر جئیگا ؟میں اپنی جنگ کے کُل ایّام میں مُنتظر رہتا جب تک میرا چھُٹکارا نہ ہوتا ۔
15 تو مجھے پکارتا اور میں تجھے جواب دیتا ۔تجھے اپنے ہاتھوں کی صنعت کی طرف رغبت ہوتی۔
16 پر اب تو تُو میرے قدم گنتا ہے ۔کیا تُو میرے گناہ کی تاک میں لگا نہیں رہتا ؟
17 میری خطا تھیلی میں سربہ مُہر ہے۔تو نے میرے گناہ کو سی رکھا ہے۔
18 یقیناًپہاڑ گرتے گرتے معدُوم ہوجاتا ہے اور چٹان اپنی جگہ سے ہٹا دی جاتی ہے ۔
19 پانی پتھروں کو گھس ڈالتا ہے ۔اُسکی باڑھ زمین کی خاک کو بہالے جاتی ہے ۔ اِسی طرح تو اِنسان کی اُ مید کو مٹا دیتا ہے ۔
20 تو سدا اُ س پر غالب ہوتا ہے ۔سو وہ گذر جاتا ہے ۔تو اُسکا چہرہ بدل ڈالتا اور اُسے خارج کر دیتا ہے ۔
21 اُسکے بیٹوں کی عزت ہوتی ہے پر اُسے خبر نہیں ۔وہ ذلیل ہوتے ہیں پر وہ اُنکا حال نہیں جانتا ۔
22 بلکہ اُسکا گوشت جو اُسکے اُوپر ہے دُکھی رہتا اور اُسکی جان اُسکے اندر ہی اندر غم کھاتی رہتی ہے۔


باب 15

1 تب الِیفزؔ تیمائی نے جواب دیا:۔
2 کیا عقلمند کو چاہئے کہ لغو باتیں جوڑ کر جواب دے اور مشر قی ہوا سے اپنا پیٹ بھرے ؟
3 کے اوہ بیفاءِدہ بکواس سے بحث کرے یا اَیسی تقریروں سے جو بے سُود ہیں ؟
4 بلکہ تو خوف کو برطرف کرکے خدا کے حُضور عبادت کو زائل کرتا ہے ۔
5 کیونکہ تیرا گناہ تیرے منہ کا سکھاتا ہے اور تو عیّاروں کی زبان اِختیار کرتا ہے ۔
6 تیرا ہی منہ تجھے ملزم ٹھہراتا ہے نہ کہ میں بلکہ تیرے ہی ہونٹ تیرے خلاف گواہی دیتے ہیں ۔
7 کیا پہلا اِنسان تو ہی پیدا ہُوا ؟ یا پہاڑوں سے پہلے تیری پیدائش ہُوئی ؟
8 کیا تو نے خدا کی پوشیدہ مصلحت سُن لی ہے اور اپنے لئے عقلمندی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟
9 تو اَیسا کیا جانتا ہے جو ہم میں نہیں جانتے؟ تجھ میں اَیسی کیا سمجھ ہے جو ہم میں نہیں ؟
10 ہم لوگوں میں سفید سرا اور بڑے بُوڑھے بھی ہیں جو تیرے باپ سے بھی بہت زیادہ عمر کے ہیں ۔
11 کیا خدا کی تسلی تیرے نزدیک کچھ کم ہے اور وہ کلام جو تجھ سے نرمی کے ساتھ کیا جاتا ہے ؟
12 تیرا دِل کیو ں تجھے کھینچ لے جاتا ہے اور تیری آنکھیں کیوں اِشارہ کرتی ہیں
13 کہ تو اپنی رُوح کو خدا کی مخالف پر آمادہ کرتا ہے اور وہ اپنے منہ سے اَیسی باتیں نکلنے دیتا ہے؟
14 اِنسان ہے کیا کہ وہ پاک ہو؟ اور وہ جو عورت سے پیدا ہُوا کیا ہے کہ صادق ہو؟
15 دیکھ! وہ اپنے قُدسیوں کا اعتبار نہیں کرتا بلکہ آسمان بھی اُسکی نظر میں پاک نہیں ۔
16 پھر بھلا اُسکا کیا ذکر جو گھنونا اور خراب ہے یعنی وہ آدمی جو بدی کو پانی کی طرح پیتا ہے ؟
17 میں تجھے بتاتا ہوں ۔ تُو میری سُن اور جو میں نے دیکھا ہے اُسکا بیا ن کُرونگا ۔
18 (جسے عقلمندوں نے اپنے باپ دادا سے سُنکر بتایا ہے اور اُسے چھپایا نہیں
19 صرف اُن ہی کو ملک دیا گیا تھا اور کوئی پردیسی اُنکے درمیان نہیں آیا)۔
20 شریر آدمی اپنی ساری عمر درد سے کراہتا ہے ۔یعنی سب برس جو ظالم کے لئے رکھے گئے ہیں ۔
21 ڈراونی آوازیں اُسکے کان میں گُونجتی رہتی ہیں ۔اِقبالمندی کے وقت غارتگر اُس پر آپڑیگا ۔
22 اُسے یقین نہیں کہ وہ اندھیرے سے باہر نکلیگا اور تلوار اُسکی مُنتظر ہے۔
23 وہ روٹی کے لئے مارامارا پھرتا ہے کہ کہاں ملیگی ۔وہ جانتا ہے کہ اندھیرے کا دِن پاس ہی ہے ۔
24 مصیبت اور سخت تکلیف اُسے ڈراتی ہیں ۔اَیسے بادشاہ کی طرح جو لڑائی کے لئے تیار ہو وہ اُس پر غالب آتی ہیں۔
25 اِسلئے کہ اُس نے خدا کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھایا ہے اور قادِرمطلق کے خلاف بے باکی کرتا ہے۔
26 وہ اپنی ڈھالوں کی موٹی موٹی گُلمیخوں کے ساتھ گردن کش ہو کر اُس پر لپکتا ہے ۔
27 اِسلئے کہ اُسکے منہ پر مُٹا پا چھا گیا ہے اور اُسکے پہلُوؤں پر چربی کی تہیں جم گئی ہیں ۔
28 اور وہ ویران شہروں میں بس گیا ہے ۔اَیسے مکانوں میں جن میں کوئی آدمی نہ بسا اور جو کھنڈر ہونے کو تھے ۔
29 وہ دَولتمند نہ ہوگا ۔ اُسکا مال بنا نہ رہیگا اور اَیسوں کی پیداوار زمین کی طرف نہ جُھکیگی ۔
30 وہ اندھیرے سے کبھی نہ نکلیگا ۔ شعلے اُسکی شاخوں کو خشک کر دینگے اور وہ خدا کے منہ کے دم سے جاتا رہیگا ۔
31 وہ اپنے آپ کو دھوکا دیکر بطالت کا بھروسا نہ کرے کیو نکہ بطالت ہی اُسکا اجر ٹھہریگی ۔
32 یہ اُسکے وقت سے پہلے پُورا ہو جائیگا اور اُسکی شاخ ہر ی نہ رہیگی ۔
33 تاک کی طرح اُسکے انگور کچّے ہی جھڑ جائینگے اور زیتون کی طرح اُسکے پُھول گرجائینگے ۔
34 کیونکہ بے خدا لوگوں کی جماعت بے پھل رہیگی اور رِشوت کے ڈیروں کو آگ بھسم کر دیگی ۔
35 وہ شرارت سے باردار ہوتے ہیں اور بدی پیدا ہوتی ہے اور اُنکا پیٹ دغا کو تیار کرتا ہے ۔


باب 16

1 تب ایوب ؔ نے جواب دیا:۔
2 اَیسی بہت سی باتیں میں سُن چُکا ہُوں ۔ تم سب کے سب نکمےّ تسلی دینے والے ہو۔
3 کیا لغو باتیں کبھی ختم ہونگی ؟ تو کون سی بات سے جھڑک کر جواب دیتا ہے ؟
4 میں بھی تمہاری طرح بات بنا سکتا ہُوں ۔ اگر تمہاری جان میری جان کی جگہ ہوتی تو میں تمہارے خلاف باتیں گھڑ سکتا اور تم پر اپنا سر ہلا سکتا ۔
5 بلکہ میں اپنی زبان سے تمہیں تقویت دیتا اور میرے لبوں کی غمگساری تم کو تسلی دیتی ۔
6 اگرچہ میں بولتا ہُوں پر مجھ کو تسلی نہیں ہوتی اور گوچُپکا بھی ہو جاتا ہُوں پر مجھے کیا راحت ہوتی ہے؟
7 پر اُس نے تو مجھے بیزار کر ڈالا ہے ۔تو نے میرے سارے جتھے کو تباہ کردیا ہے۔
8 تو نے مجھے مضبوطی سے پکڑلیا ہے ۔یہی مجھ پر گواہ ہے ۔ میری لاغری میرے خلاف کھڑی ہو کر میرے منہ پر گواہی دیتی ہے ۔
9 اُس نے اپنے غضب میں مجھے پھاڑ اور میرا پیچھا کیا ہے ۔اُ سنے مجھ پر دانت پیسے ۔میرا مُخالف مُجھے آنکھیں دِکھاتا ہے۔
10 اُنہوں نے مجھ پر منہ پسارا ہے ۔اُنہوں نے طنزا مجھے گال پر مارا ہے ۔وہ میرے خلاف اِکٹھے ہوتے ہیں ۔
11 خدا مجھے بے دینوں کے حوالہ کرتا ہے اور شریروں کے ہاتھوں میں مجھے سُپرد کرتا ہے۔
12 میں آرام سے تھا اور اُس نے مجھے چُور چُور کر ڈالا ۔اُس نے میری گردن پکڑ لی او ر مجھے پٹک کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔اور اُس نے مجھے اپنا نشانہ بنا کر کھڑا کر لیا ہے۔
13 اُسکے تیر انداز مجھے چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں ۔وہ میرے گُردوں کو چیرتا ہے اور رحم نہیں کرتا اور میرے پت کو زمین پر بہا دیتا ہے۔
14 وہ مجھے زخم پر زخم لگا کر خستہ کرتا ہے ۔وہ پہلوان کی طرح مجھ پر دھاوا کرتا ہے۔
15 میں نے اپنی کھال پر ٹا ٹ کو سی لیا ہے اور اپنا سینگ خاک میں راکھ دیا ہے۔
16 میرا منہ روتے روتے سُوج گیا ہے اور میری پلکوں پر موت کاسایہ ہے۔
17 اگرچہ میرے ہاتھوں میں ظلم نہیں اور میری دُعا بے ریا ہے۔
18 اے زمین ! میرے خون کو نہ ڈھانکنا اور میری فریاد کو آرام کی جگہ نہ ملے ۔
19 اب بھی دیکھ ! میرا گواہ آسمان پر ہے اور میرا ضامن عالمِ بالا پر ہے ۔
20 میرے دوست میری حقارت کرتے ہیں پر میری آنکھ خدا کے حُضور آنسو بہاتی ہے۔
21 تا کہ وہ آدمی کے حق کو اپنے ساتھ اور آدم زاد کے حق کو اُسکے پڑوسی کے ساتھ قائم رکھے ۔
22 کیونکہ جب چند سال نکل جائینگے تو میں اُس راستہ سے چلا جاؤ نگا جس سے پھر لَوٹنے کا نہیں


باب 17

1 میری جان تباہ ہوگئی ۔میرے دِن ہو چکے ۔قبر میرے لئے تیار ہے۔
2 یقیناًہنسی اُڑانے والے میرے ساتھ ساتھ ہیں اور میری آنکھ اُنکی چھیڑ چھاڑ پر لگی رہتی ہے۔
3 ضمانت دے ۔ اپنے اور میرے بیچ میں تو ہی ضامن ہو۔کون ہے جو میرے ہاتھ پر ہاتھ مارے ؟
4 کیونکہ تو نے اِن کے دل کو سمجھ سے روکا ہے اِسلئے تو اِن کو سرفراز نہ کریگا ۔
5 جو لُوٹ کی خاطر اپنے دوستوں کو ملزم ٹھہراتا ہے اُسکے بچوں کی آنکھیں بھی جاتی رہینگی ۔
6 اُس نے مجھے لوگوں کے لئے ضرب المثل بنا دیا ہے اور میں اَیسا ہو گیا کہ لوگ میرے منہ پر تھوکیں ۔
7 میری آنکھ غم کے مارے دُھندلا گئی اور میرے سب اعضا پر چھائیں کے مانند ہیں ۔
8 راستبا ز آدمی اِس بات سے حیران ہونگے ۔ اور معصوم آدمی بے خدا لوگوں کے خلاف جوش میں آئیگا ۔
9 تو بھی صادق اپنی راہ میں ثابت قدم رہیگا اور جس کے ہاتھ صاف ہیں وہ زورآور ہی ہوتا جائیگا
10 پر تم سب کے سب آتے ہو تو آؤ ۔مجھے تمہارے درمیان ایک بھی عقلمند آدمی نہ ملیگا ۔
11 میرے دِن ہوچکے ۔میرے مقصود بلکہ میرے دِل کے ارمان مِٹ گئے ۔
12 وہ رات کو دِن سے بدلتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں روشنی تاریکی کے نزدیک ہے ۔
13 اگر میں اُمید کُروں کہ پاتال میرا گھر ہے ۔ اگر میں نے اندھیرے میں اپنا بچھونا بچھا لیا ہے ۔
14 اگر میں نے سڑاہٹ سے کہا ہے کہ تو میرا باپ ہے اور کیڑے سے کہ تو میری ماں اور بہن ہے
15 تو میری اُمید کہاں رہی ؟ اور جو میری اُمید ہے اُسے کون دیکھیگا ؟
16 وہ پاتال کے پھاٹکوں تک نیچے اُتر جائیگی جب ہم ملکر خاک میں آرام پائینگے ۔


باب 18

1 تب بلددؔ سُوخی نے جواب دیا :۔
2 تم کب تک لفظوں کی جُستجو میں رہو گے ؟ غور کر لو ۔ پھر ہم بو لینگے ۔
3 ہم کیوں جانوروں کی مانند سمجھے جاتے اور تمہاری نظر میں ناپاک ٹھہرے ہیں ؟
4 تو جو اپنے قہر میں اپنے کو پھاڑتا ہے تو کیا زمین تیرے سبب سے اُجڑجائیگی یا چٹان اپنی جگہ سے ہٹا دی جائیگی ؟
5 بلکہ شریر کا چراغ گُل کر دیا جائیگا اور اُسکی آگ کا شعلہ بے نور ہو جائیگا ۔
6 روشنی اُسکے ڈیرے میں تاریکی ہو جائیگی اور جو چراغ اُسکے اُوپر ہے بُجھا دیا جائیگا ۔
7 اُسکی قُّوت کے قدم چھوٹے کئے جائینگے اور اُسی کی مصلحت اُسے نیچے گرا ئیگی ۔
8 کیو نکہ وہ اپنے ہی پاؤ ں سے جال میں پھنستا ہے اور پھندوں پر چلتا ہے ۔
9 دام اُسکی ایڑی کو پکڑ لیگا اور جال اُسکو پھنسا لیگا۔
10 کمند اُسکے لئے زمین میں چھپا دی گئی ہے اور پھند ا اُسکے لئے راستہ میں رکھا گیا ہے۔
11 دہشتناک چیزیں ہر طرف سے اُسے ڈرائینگی اور اُسکے درپے ہو کر اُسے بھگا ئینگی ۔
12 اُسکا زور بُھوک کا مارا ہوگا اور آفت اُسکے شامل حال رہیگی ۔
13 وہ اُسکے جسم کے اعضا کو کھا جائیگی بلکہ موت کا پہلوٹھا اُسکے اعضا کو چٹ کر جائیگا ۔
14 وہ اپنے ڈیرے سے جس پر اُسکا بھروسا ہے اُکھاڑ دیاجائیگا اور دہشت کے بادشاہ کے پاس پہنچایا جائیگا ۔
15 وہ جو اُسکا نہیں اُسکے ڈیرے میں بسیگا ۔اُسکے مکان پر گندھک چھترائی جائیگی ۔
16 نیچے اُسکی جڑیں سُکھائی جائینگی اور اُوپر اُسکی ڈالی کاٹی جائیگی ۔
17 اُسکی یادگار زمین پر سے مٹ جائیگی اور کوچوں میں اُسکا نام نہ ہوگا ۔
18 وہ روشنی سے اندھیرے میں ہنکا دیا جائیگا اور دُنیا سے کھدیڑدیا جائیگا
19 اُسکے لوگوں میں اُسکا نہ کوئی بیٹا ہو گا نہ پوتا اور جہاں وہ ٹکا ہُوا تھا وہاں کوئی اُسکا باقی نہ رہیگا ۔
20 وہ جو پیچھے آنے والے ہیں اُسکے دِن پر حیران ہونگے جیسے وہ پہلے ہُوئے ڈرگئے تھے۔
21 ناراستوں کے مسکن یقیناًاَیسے ہی ہیں ۔اور جو خدا کو نہیں پہچانتا اُسکی جگہ اَیسی ہی ہیں ۔


باب 19

1 تب ایوب ؔ نے جواب دیا:۔
2 تم کب تک میری جان کھاتے رہو گے اور باتوں سے مجھے چور چور کروگے ؟
3 اب دس بار تم نے مجھے ملامت ہی کی ۔تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم میرے ساتھ سختی سے پیش آتے ہو ۔
4 اور مانا کہ مجھ سے خطا ہُوئی ۔میری خطا میری ہے۔
5 اگر تم میرے مقابلہ میں اپنی بڑائے کرتے ہو اور میرے ننگ کو میرے خلاف پیش کرتے ہو
6 تو جان لو کہ خدا نے مجھے پست کیا اور اپنے جال سے مجھے گھیر لیا ہے ۔
7 دیکھو! میں ظلم ظلم پُکارتا ہُوں پر میری سُنی نہیں جاتی ۔میں مدد کے لئے دُہائی دیتا ہُوں پر انصاف نہیں ہوتا ۔
8 اُس نے میرا راستہ اَیسا مسد ود کردیا ہے کہ میں گذر نہیں سکتا ۔اُس نے میری راہوں پر تاریکی کو بٹھا دیا ہے۔
9 اُس نے میری حشمت مجھ سے چھین لی اور میرے سر پر سے تاج اُتار لیا ۔
10 اُس نے مجھے ہر طرف سے توڑ کر نیچے گرادیا ۔بس میں تو ہولیا اور میری اُمید کو اُس نے پیڑ کی طرح اُکھا ڑ ڈالا ہے ۔
11 اُس نے اپنے غضب کی بھی میرے خلاف بھڑکا یا ہے اور وہ مجھے اپنے مُخالفوں میں شمار کرتا ہے۔
12 اُسکی فوجیں اِکٹھی ہو کر آتی اور میرے خلاف اپنی راہ تیار کرتی اور میرے ڈیرے کے چوگر د خیمہ زن ہوتی ہیں ۔
13 اُس نے میرے بھائیوں کو مجھ سے دُور کردیا ہے اور میرے جان پہچان مجھ سے بیگانہ ہوگئے ہیں ۔
14 میرے رشتہ دار کام نہ آئے اور میرے دِلی دوست مجھے بُھول گئے ہیں ۔
15 میں اپنے گھر کے رہنے والوں اپنی لونڈیوں کی نظر میں اجنبی ہُوں ۔میں اُنکی نگاہ میں پردیسی ہو گیا ہوں ۔
16 میں اپنے نوکر کو بُلاتا ہُوں اور وہ مجھے جواب نہیں دیتا اگرچہ میں اپنے منہ سے اُسکی منت کرتا ہوں۔
17 میرا سانس میری بیوی کے لئے مکُروہ ہے اور میری منت میری ماں کی اَولاد کے لئے ۔
18 چھوٹے بچے بھی مجھے حقیر جانتے ہیں ۔جب میں کھڑا ہوتا ہوں تو وہ مجھ پر آواز کستے ہیں ۔
19 میرے سب ہمراز دوست مجھ سے نفرت کرتے ہیں ۔اور جن سے میں محبت کرتا تھا وہ میرے خلاف ہو گئے ہیں ۔
20 میری کھال اور میرا گوشت میری ہڈیوں سے چمٹ گئے ہیں اور میں بال بال بچ نکلا ہُوں ۔
21 اَے میرے دوستو! مجھ پر ترس کھاؤ۔ ترس کھاو! کیونکہ خدا کا ہاتھ مجھ پر بھاری ہے۔
22 تم کیوں خدا کی طرح مجھے ستاتے ہو۔اور میرے گوشت پر قناعت نہیں کرتے ؟
23 کاش کہ میری باتیں اب لکھ لی جاتیں ! کاش کہ وہ کسی کتاب میں قلمبند ہوتیں !
24 کاش کہ وہ لوہے کے قلم اور سیسے سے ہمیشہ کے لئے چٹان پر کندہ کی جاتیں !
25 لیکن میں جانتا ہُوں کہ میرا مخلصی دینے والا زندہ ہے۔اور آخر کار وہ زمین پر کھڑا ہوگا۔
26 اور اپنی کھال کے اِس طرح برباد ہو جانے کے بعد بھی میں اپنے اِس جسم میں سے خدا کو دیکھونگا ۔
27 جسے میں خود دیکھونگا اور میری ہی آنکھیں دیکھینگی نہ کہ بیگانہ کی ۔میرے گُردے میرے اندر فنا ہو گئے ہیں ۔
28 اگر تم کہو ہم اُسے کیسا کیسا ستائینگے ! حالانکہ اصلی بات مجھ میں پائی گئی ہے
29 تو تم تلوار کی سزاؤں کو لاتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اِنصاف ہوگا۔


باب 20

1 تب صُنوفرؔ نعماتی نے جواب دیا:۔
2 اِسی لئے میرے خیال مجھے جواب سکھاتے ہیں ۔اُس جلد بازی کی وجہ سے مجھ میں ہے
3 میں نے وہ جھڑکی سُن لی جو مجھے شرمندہ کرتی ہے اور میری عقل کی رُوح مجھے جواب دیتی ہے ۔
4 کیا تو قدیم زمانہ کی یہ بات نہیں جانتا جب سے اِنسان زمین پر بسایا گیا
5 کہ شریروں کی فتح چند روزہ ہے اور بے دینوں کی خوشی دم بھر کی ہے ؟
6 خواہ اُسکا جاہ وجلال آسمان تک بلند ہوجائے اور اُسکا سر بادلوں تک پہنچے
7 تو بھی وہ اپنے ہی فضلہ کی طرح ہمیشہ کے لئے فنا ہوجائیگا ۔جنہوں نے اُسے دیکھا ہے کہینگے وہ کہاں ہے ؟
8 وہ خواب کی طرح اُڑ جائیگا اور پھر نہ ملیگا بلکہ وہ رات کی رویا کی طرح دوُر کردیاجائیگا ۔
9 جس آنکھ نے اُسے دیکھا وہ اُسے پھر نہ دیکھیگی ۔نہ اُسکا مکان اُسے پھر کبھی دیکھیگا۔
10 اُسکی اَولاد غریبوں کی خوشامد کریگی اور اُسکی دولت کو واپس دینگے ۔
11 اُسکی ہڈّیاں اُسکی جوانی سے پُرہیں پر وہ اُسکے ساتھ خاک میں مل جائیگی ۔
12 خواہ شرارت اُسکو میٹھی لگے ۔خواہ وہ اُسے اپنی زبان کے نیچے چھپائے ۔
13 خواہ وہ اُسے بچا رکھے اور نہ چھوڑے ۔ بلکہ اُسے اپنے منہ کے اندر دبا رکھے
14 تو بھی اُسکا کھانا اُسکی انتڑیوں میں بدل گیا ہے ۔ وہ اُسکے اندر افعی کا زہر ہے۔
15 وہ دولت کا نگل گیا ہے پر وہ اُسے پھر اُگلیگا ۔خدا اُسے اُسکے پیٹ سے باہر نکال دیگا ۔
16 وہ افعی کا زہر چُوسیگا ۔افعی کی زبان اُسے مار ڈالیگی ۔
17 وہ دریاؤں کو دیکھنے نہ پائیگا یعنی شہد اور مکھن کی بہتی ندیوں کو ۔
18 جس چیز کے لئے اُس نے مشقت کھینچی اُسے وہ واپس کریگا اور نگلیگا نہیں ۔ جو مال اُس نے جمع کیا اُسکے مُطابق وہ خوشی نہ کریگا ۔
19 کیونکہ اُس نے غریبوں پر ظلم کیا اور اُنہیں ترک کردیا ۔اُس نے زبردستی گھر چھینا پر وہ اُسے بنانے نہ پائیگا ۔
20 اِس سبب سے کہ وہ اپنے باطن میں آسُودگی سے واقف نہ ہُوا ۔وہ اپنی دِلپسند چیزوں میں سے کچھ نہیں بچا ئیگا ۔
21 کوئی چیز اَیسی باقی نہ رہی جسکو اُس نے نگلا نہ ہو۔اِس لئے اُس کی اقبالمندی قائم نہ رہیگی ۔
22 اپنی کمال آسودہ حالی میں بھی وہ تنگی میں ہوگا ۔ہر دُکھیارے کا ہاتھ اُس پر پڑیگا ۔
23 جب وہ اپنا پیٹ بھرنے پر ہوگا تو خدا اپنا قہر شاید اُس پر نازل کریگا ۔اور جب وہ کھاتا ہوگا تب یہ اُس پر برسیگا ۔
24 وہ لوہے کے ہتھیا ر سے بھاگیگا لیکن پیتل کی کمان اُسے چھید ڈالیگی ۔
25 وہ تیر نکا لیگا اور وہ اُسکے جسم سے باہر آئیگا ۔اُسکی چمکتی نوک اُسکے پتیّ سے نکلیگی ۔دہشت اُس پر چھائی ہُوئی ہے۔
26 ساری تاریکی اُسکے خزانوں کے لئے رکھی ہُوئی ہے۔وہ آگ جو کسی اِنسان کی سُلگائی ہُوئی نہیں اُسے کھا جائیگی ۔وہ اُسے جو اُسکے ڈیرے میں بچا ہُوا ہوگا بھسم کر دیگی ۔
27 آسمان اُسکی بدی کو ظاہر کردیگا اور زمین اُسکے خلاف کھڑی ہو جائیگی ۔
28 اُسکے گھر کی بڑھتی جاتی رہیگی ۔خدا کے غضب کے دِن اُسکا مال جاتا رہیگا ۔
29 خدا کی طرف سے شریر آدمی کا حصہ اور اُسکے لئے خدا کی مُقرر کی ہُوئی میراث یہی ہے۔


باب 21

1 تب ایوب نے جواب دیا:۔
2 غور سے میری بات سُنو اور یہی تمہارا تسلی دینا ہو۔
3 مجھے اِجازت دو تو میں بھی کچھ کہو نگا اور جب میں کہ چکوں تو ٹھٹھا مار لینا ۔
4 لیکن میں ۔ کیا میری فریاد اِنسان سے ہے ؟پھر میں بے صبری کیوں نہ کُروں ؟
5 مجھ پر غور کرو اور متُعجب ہو اور اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھو ۔
6 جب میں یاد کرتا ہوں تو گھبراجاتا ہُوں اور میرا جسم تھرااُٹھتا ہے ۔
7 شریر کیوں جیتے رہتے ۔ عمر رسیدہ ہوتے بلکہ قوت میں زبردست ہوتے ہیں ؟
8 اُنکی اَولاد اُنکے دیکھتے دیکھتے اور اُنکی نسل اُنکی آنکھوں کے سامنے قائم ہوجاتی ہے ۔
9 اُنکے گھر ڈر سے محفوظ ہیں اور خدا کی چھڑی اُن پر نہیں ہے۔
10 اُنکا سانڈباردار کردیتا ہے اور چوکتا نہیں ۔اُنکی گائے بیاتی ہے اور اپنا بچہ نہیں گراتی ۔
11 وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ریوڑ کی طرح باہر بھیجتے ہیں اور اُنکی اَولاد ناچتی ہے۔
12 وہ خنجری اور ستارکے تال پر گاتے اور بانسلی کی آواز سے خوش ہوتے ہیں ۔
13 وہ خوشحالی میں اپنے دِن کاٹتے اور دم کے دم میں پاتال میں اُتر جاتے ہیں ۔
14 حالانکہ اُنہوں نے خدا سے کہا تھا کہ ہمارے پاس سے چلا جا ۔کیونکہ ہم تیری راہوں کی معرفت کے خواہاں نہیں ۔
15 قادِر مطلق ہے کیا کہ ہم اُسکی عبادت کریں؟ اور اگر ہم اُس سے دُعا کریں تو ہمیں کیا فائدہ ہو گا؟
16 دیکھو! اُنکی اقبالمندی اُنکے ہاتھ میں نہیں ہے۔شریروں کی مشورت مجھ سے دُور ہے۔
17 کتنی بار شریروں کا چراغ بجھ جاتا ہے اور اُنکی آفت اُن پر آپڑتی ہے!اور خدا اپنے غضب میں اُنہیں غم پر غم دیتا ہے
18 اور وہ اَیسے ہیں جیسے ہو اکے آگے ڈنٹھل اور جیسے بھوسا جسے آندھی اُڑ لے جاتی ہے ۔
19 خدا اُسکی بدی اُسکے بچوں کے لئے رکھ چھوڑتا ہے۔وہ اُسکا بدلہ اُسی کو دے تا کہ وہ جان لے۔
20 اُسکی ہلاکت کو اُسی کی آنکھیں دیکھیں اور وہ قادِرمطلق کے غضب میں سے پئے ۔
21 کیونکہ اپنے بعد اُسکو اپنے گھرانے سے کیا خوشی ہے جب اُسکے مہینوں کا سلسلہ ہی کاٹ ڈالا گیا ؟
22 کیا کوئی خدا کو علم سکھائیگا ؟جس حال کہ وہ سرفرازوں کی عدالت کرتا ہے ۔
23 کوئی تو اپنی پُوری طاقت میں چین اور سُکھ سے رہتا ہُوا مرجاتا ہے۔
24 اُسکی دوہنیاں دُودھ سے بھری ہیں اور اُسکی ہڈّیوں کا گودا تر ہے۔
25 اور کوئی اپنے جی میں کڑھ کڑھکر مرتا ہے اور کبھی سُکھ نہیں پاتا ۔
26 وہ دونوں مٹّی میں یکساں پڑجاتے ہیں اور کیڑے اُنہیں ڈھانک لیتے ہیں ۔
27 دیکھو! میں تمہارے خیالوں کو جانتا ہُوں اور اُن منصوبوں کو بھی جو تم بے اِنصافی سے میرے خلاف باندھتے ہو
28 کیونکہ تم کہتے ہو کہ اِمیر کا گھر کہاں رہا ؟ اور وہ خیمہ کہاں ہے جس میں شریر بستے تھے ؟
29 کیا تم نے راستہ چلنے والوں سے کبھی نہیں پُوچھا ؟اور اُنکے آثار نہیں پہچانتے؟
30 کہ شریر آفت کے دِن کے لئے رکھا جاتا ہے اور غضب کے دِن تک پہنچایا جاتا ہے؟
31 کون اُسکی راہ کو اُسکے منہ پر بیان کریگا؟ اور اُسکے کئے کا بدلہ کون اُسے دیگا ؟
32 تو بھی وہ گور میں پہنچایا جائیگا اور اُسکی قبر پر پہرا دیا جائیگا۔
33 وادی کے ڈھیلے اُسے مرغُوب ہیں اور سب لوگ اُسکے پیچھے چلے جائینگے ۔جیسے اُس سے پہلے بے شمار لوگ گئے ۔
34 سو تم کیوں مجھے عبث تسلی دیتے ہو جس حال کہ تمہاری باتوں میں جھوٹ ہی جھوٹ ہے؟


باب 22

1 تب اِلیفزؔ تیمائی نے جواب دیا:۔
2 کیا کوئی اِنسان خدا کے کام آسکتا ہے ؟یقیناعقلمند اپنے ہی کام کا ہے ۔
3 کیا تیرے صادق ہو نے سے قادِرمطلق کو کوئی خوشی ہے ؟یا اِس بات سے کہ تو اپنی راہوں کو کامل کرتا ہے اُسے کچھ فائدہ ہے؟
4 کیا اِسلئے کہ تجھے اُسکا خوف ہے وہ تجھے جھڑکتا اور تجھے عدالت میں لاتا ہے ؟
5 کیا تیری شرارت بڑی نہیں ؟کیا تیری بدکاریوں کی کوئی حّد ہے؟
6 کیونکہ تونے اپنے بھائی کی چیزیں بے سبب رہن رکھیں اور ننگوں کا لباس اُتار لیا ۔
7 تو نے تھکے ماندوں کو پانی نہ پلایا اور بھوکوں سے روٹی کو روک رکھا۔
8 لیکن زبردست آدمی زمین کا مالک بنا اور عزت دار آدمی اُس میں بسا ۔
9 تو نے بیواؤں کو خالی چلتا کیا اور یتیموں کے بازُو توڑے گئے ۔
10 اِس لئے پھندے تیری چاروں طرف ہیں اور ناگہانی خوف تجھے ستاتا ہے ۔
11 یا اَیسی تاریکی کہ تو دیکھ نہیں سکتا اور پانی کی باڑھ تجھے چھپائے لیتی ہے۔
12 کیا آسمان کی بلندی میں خدا نہیں ؟ اور تاروں کی بلندی کو دیکھ ۔وہ کیسے اُونچے ہیں !
13 پھر تو کہتا ہے کہ خدا کیا جانتا ہے؟ کیا وہ گہری تاریکی میں سے عدالت کریگا؟
14 دلدار بادل اُسکے لئے پردہ ہیں کہ وہ دیکھ نہیں سکتا ۔وہ آسمان کے دائرہ میں سیر کرتا پھرتا ہے۔
15 کیا تو اُسی پُرانی راہ پر چلتا رہیگا جس پر شریر لوگ چلے ہیں ؟
16 جو اپنے وقت سے پہلے اُٹھالئے گئے اور سیلاب اُنکی بُنیاد کو بہالے گیا ۔
17 جو خدا سے کہتے تھے ہمارے پاس سے چلا جا اور یہ کہ قادِرمطلق ہمارے لئے کرکیا سکتا ہے؟
18 تو بھی اُس نے اُنکے گھروں کو اچھی اچھی چیزوں سے بھردیا لیکن شریروں کی مشورت مجھ سے دُور ہے۔
19 صادق یہ دیکھکر خوش ہوتے ہیں اور بیگناہ اُنکی ہنسی اُڑاتے ہیں
20 اور کہتے ہیں کہ یقیناًوہ جو ہمارے خلاف اُٹھے تھے کٹ گئے اور جواُن میں سے باقی رہ گئے تھے اُنکو آگ نے بھسم کردیا ہے۔
21 اُس سے ملا رہ تو سلامت رہیگا اور اِس سے تیرا بھلا ہوگا ۔
22 میں تیری منت کرتا ہوں کہ شریعت کو اُسی کی زبانی قبول کر اور اُسکی باتوں کو اپنے دل میں رکھ لے ۔
23 اگر تو قادِر مطلق کی طرف پھرے تو بحال کیا جائیگا ۔بشر طیکہ تو ناراستی کو اپنے خیموں سے دُور کردے ۔
24 تو اپنے خزانہ کو مٹّی میں اور راوفیرؔ کے سونے کو ندیو ں کے پتھروں میں ڈال دے
25 تب قادِرمطلق تیرا خزانہ اور تیرے لئے بیش قیمت چاندی ہوگا ۔
26 کیونکہ تب ہی تو قادِرمطلق میں مسُرور رہیگا اور خدا کی طرف اپنا منہ اُٹھائیگا۔
27 تو اُس سے دُعا کریگا اور وہ تیری سُنیگا اور تو اپنی منیتں پُوری کریگا ۔
28 جس بات کو تو کہیگا وہ تیرے لئے ہو جائیگی اور نور تیری راہوں کو روشن کریگا ۔
29 جب وہ پست کرینگے تو کہیگا بلندی ہوگی ۔اور وہ حلیم آدمی کو بچائیگا ۔
30 وہ اُسکو بھی چھڑالیگا جو بے گناہ نہیں ہے۔ہاں وہ تیرے ہاتھوں کی پاکیزگی کے سبب سے چھڑایا جائیگا ۔


باب 23

1 تب ایوب نے جواب دیا:۔
2 میری شکایت آج بھی تلخ ہے ۔میری مار میرے کراہنے سے بھی بھاری ہے۔
3 کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ وہ مجھے کہاں مل سکتا ہے تاکہ میں عین اُسکی مسند تک پہنچ جاتا !
4 میں اپنا مُعاملہ اُسکے حُضُور پیش کرتا اور اپنا منہ دلیلوں سے بھر لیتا ۔
5 میں اُن لفظوں کو جان لیتا جن میں وہ مجھے جواب دیتا اور جوکچھ وہ مجھ سے کہتا میں سمجھ لیتا
6 کیا وہ اپنی قُدرت کی عظمت میں مجھ سے لڑتا ؟نہیں ۔بلکہ وہ میری طرف توجہ کرتا ۔
7 راستبازو ہاں اُسکے ساتھ بحث کرسکتے ۔یوں میں اپنے مُنصف کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لئے رہائی پاتا ۔
8 دیکھو! میں آگے جاتا ہُوں پر وہ وہاں نہیں اور پیچھے ہٹتا ہُوں پر میں اُسے دیکھ نہیں سکتا ۔
9 با ئیں ہاتھ پھر تا ہُوں جب وہ کام کرتا ہے وہ مجھے دِکھائی نہیں دیتا ۔وہ دہنے ہاتھ کی طرف چھپ جاتا ہے اَیسا کہ میں اُسے دیکھ نہیں سکتا ۔
10 لیکن وہ اُس راستہ کو جس پر چلتا ہُوں جانتا ہے ۔جب وہ مجھے تالیگا تو میں سونے کی مانند نکل آؤنگا ۔
11 میرا پاؤں اُسکے قدموں سے لگا رہاہے ۔میں اُسکے راستہ پر چلتا رہا ہوں اور برگشتہ نہیں ہوا۔
12 میں اُس کے لبوں کے حکم سے ہٹا نہیں ۔میں نے اُسکے منہ کی باتوں کو اپنی ضروری خوراک سے بھی زیادہ ذخیرہ کیا ۔
13 لیکن وہ ایک خیال میں رہتا ہے اور کون اُسکو پھرا سکتا ہے؟اور جو کچھ اُسکا جی چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
14 کیونکہ جو کچھ میرے لئے مُقرر ہے وہ پُورا کرتا ہے اور بہت سی اَیسی باتیں اُسکے ہاتھ میں ہیں ۔
15 اِسی لئے میں اُسکے حُضُور میں گھبراجاتا ہُوں ۔میں جب سوچتا ہُوں تو اُس سے ڈر جاتا ہُوں
16 کیونکہ خدا نے میرے دِل کو بودا کرڈالا اور قادِرمطلق نے مجھکو گھبرادیا ہے ۔
17 اِسلئے کہ میں اِس ظلمت سے پہلے کاٹ ڈالا نہ گیا اور اُس نے بڑی تاریکی کو سامنے سے نہ چھپایا۔


باب 24

1 قادِرمطلق نے وقت کیوں نہیں ٹھہرائے اور جو اُسے جانتے ہیں وہ اُسکے دِنوں کو کیوں نہیں دیکھتے ؟
2 اَیسے لوگ بھی ہیں جو زمین کی حدّوں کو سرکا دیتے ہیں ۔وہ ریوڑوں کو زبردستی لے جاتے اور اُنہیں چراتے ہیں ۔
3 وہ یتیم کے گدھے کو ہانک لے جاتے ہیں ۔وہ بیوہ کے بیل کو گرو لیتے ہیں ۔
4 وہ محتاج کو راستہ سے ہٹا دیتے ہیں ۔زمین کے غریب اِکٹھے چھپتے ہیں ۔
5 دیکھو! وہ بیابان کے گورخروں کی طرح پنے کام کو جاتے اور مشقت اُٹھا کر خوراک ڈھونڈتے ہیں ۔بیابان اُنکے بچوں کے لئے خوراک بہم پہنچاتا ہے۔
6 وہ کھیت میں اپنا چارا کاٹتے ہیں اور شریروں کے انگور کی خوشہ چینی کرتے ہیں ۔
7 وہ ساری رات بے کپڑے ننگے پڑے رہتے ہیں اور جاڑوں میں اُنکے پاس کوئی اوڑھنا نہیں ہوتا ۔
8 وہ پہاڑوں کی بارش سے بھیگے رہتے ہیں اور کسی آڑ کے نہ ہونے سے چٹان سے لپٹ جاتے ہیں۔
9 اَیسے لوگ بھی ہیں جو یتیم کو چھاتی پر سے ہٹا لیتے ہیں اور غریبوں سے گرو لیتے ہیں ۔
10 سو وہ بے کپڑے ننگے پھرتے اور بھوک کے مارے پُولیاں ڈھوتے ہیں ۔
11 وہ اِن لوگوں کے اِحاطوں میں تیل نکالتے ہیں ۔وہ اُنکے کُنڈوں میں انگور رَوندتے اور پیاسے رہتے ہیں ۔
12 آباد شہر میں سے نکلکر لوگ کراہتے ہیں اور زخمیوں کی جان فریاد کرتی ہے۔تو بھی خدا اِس حمایت کا خیال نہیں کرتا۔
13 یہ اُن میں سے ہیں جو نور سے بغاوت کرتے ہیں ۔وہ اُسکی راہوں کو نہیں جانتے ۔نہ اُسکے راستوں پر قائم رہتے ہیں ۔
14 خونی روشنی ہوتے ہی اُٹھتا ہے ۔وہ غریبوں اور محتاجوں کو مار ڈالتا ہے اور رات کو وہ چور کی مانند ہے۔
15 زانی کی آنکھ بھی شام کی مُنتظر رہتی ہے۔وہ کہتا ہے کسی کی نظر مجھ پر نہ پڑ یگی اور وہ اپنا منہ ڈھاک لیتا ہے ۔
16 اندھیرے میں وہ گھروں میں سیندمارتے ہیں ۔ وہ دن کے وقت چھپے رہتے ہیں ۔وہ نور کو نہیں جانتے
17 کیونکہ صبح اُن سبھوں کے لئے اَیسی ہے جیسے موت کا سایہ اِسلئے کہ اُنہیں موت کے سایہ کی دہشت معلوم ہے۔
18 وہ پانی کی سطح پر تیز رَو ہے ۔وہ تاکستانوں کی راہ پر نہیں چلتے ۔
19 خشکی اور گرمی برفانی پانی کے نالوں کو سُکھا دیتی ہیں ۔اَیسا ہی قبر گنہگاروں کے ساتھ کرتی ہے۔
20 رَحم اُسے بھول جائیگا ۔کیڑا اُسے مزہ سے کھائیگا ۔اُسکی یاد پھر نہ ہوگی ۔ناراستی درخت کی طرح توڑ دی جائیگی ۔
21 وہ بانجھ کو جو جنتی نہیں نگل جاتا ہے اور بیوہ کے ساتھ بھلائی نہیں کرتا ۔
22 خدا اپنی قُّوت سے زبردستوں کو بھی کھینچ لیتا ہے ۔وہ اُٹھتا ہے اور کسی کو زندگی کا یقین نہیں رہتا ۔
23 خدا اُنہیں امن بخشتا ہے اور وہ اُسی میں قائم رہتے ہیں اور اُسکی آنکھیں اُنکی راہوں پر لگی رہتی ہیں ۔
24 وہ سرفراز تو ہوتے ہیں پر تھوڑی ہی دیر میں جاتے رہتے ہیں بلکہ وہ پست کئے جاتے ہیں اور سب دُوسروں کی طرح راستہ سے اُٹھالئے جاتے اور اناج کی بالوں کی طرح کاٹ ڈالے جاتے ہیں۔
25 اور اگر یہ یوں ہی نہیں ہے تو کون مجھے جھوٹا ثابت کریگا ۔اور میری تقر یر کو ناچیز ٹھہرا ئیگا ؟


باب 25

1 تب بلددؔ سُوخی نے جواب دیا:۔
2 اِقتدار اور دبدبہ اُسکے ساتھ ہے۔وہ اپنے بلند مقاموں میں امن رکھتا ہے ۔
3 کیا اُسکی فوجوں کی کوئی تعداد ہے؟اور کون ہے جس پر اُسکی روشنی نہیں پڑتی ؟
4 پھر اِنسان کیونکر خدا کے حُضُور راست ٹھہر سکتا ہے؟ یا وہ جو عورت سے پیدا ہُوا ہے کیونکر پاک ہوسکتا ہے؟
5 دیکھ ! چاند میں بھی روشنی نہیں اور تارے اُسکی نظر میں پاک نہیں ۔
6 پھر بھلا اِنسان کا جو محض کیڑا ہے اور آدم زاد کا جو صرف کِرم ہے ذکر !


باب 26

1 تب ایوب ؔ نے جواب دیا:۔
2 جو بے طاقت ہے اُسکی تو نے کیسی مدد کی! جس بازو میں قوت نہ تھی اُسکو تو نے کیسا سنبھالا !
3 نادان کو تو نے کیسی صلاح دی اور حقیقی معرفت خوب ہی بتائی !
4 تو نے جو باتیں کہیں سو کس سے ؟ اور کس کی رُوح تجھ میں سے ہوکر نکلی ؟
5 مُردوں کی رُوحیں پانی اور اُسکے رہنے والوں کے نیچے کانپتی ہیں ۔
6 پاتال اُسکے حُضُور کھلا ہے اور جہنم بے پردہ ہے۔
7 وہ شمال کو فضا میں پھیلا تا ہے اور زمین کو خلا میں لٹکاتا ہے ۔
8 وہ اپنے دلدار بادلوں میں پانی کا باندھ دیتا ہے اور بادل اُسکے بوجھ سے پھٹتا نہیں ۔
9 وہ اپنے تخت کو ڈھانک لیتا ہے اور اُسکے اُوپر اپنے بادل کو تان دیتا ہے ۔
10 اُس نے روشنی اور اندھیرے کے ملنے کی جگہ تک پانی کی سطح پر حّد باندھ دی ہے ۔
11 آسمان کے سُتُون کانپتے اور اُسکی جھڑکی سے حیران ہوتے ہیں ۔
12 وہ اپنی قُدرت سے سمندر کو موجزن کرتا اور اپنے فہم سے رہبؔ کو چھیدا ہے ۔
13 اُسکے دم سے آسمان آراستہ ہوتا ہے ۔اُسکے ہاتھ نے تیزرَو سانپ کو چھیدا ہے۔
14 دیکھو! یہ تو اُسکی راہوں کے فقط کنارے ہیں اور اُسکی کیسی دھیمی آواز ہم سُنتے ہیں !پر کون اُسکی قُدرت کی گرج کو سمجھ سکتا ہے؟


باب 27

1 اور ایوب ؔ نے پھر اپنی مثل شُروع کی اور کہنے لگا:۔
2 زندہ خد کی قسم جس نے میرا حق چھین لیا اور قادِرمطلق کی سِوگند جس نے میری جان کو دُکھ دیا ہے۔
3 ( کیونکہ میری جان مجھ میں اب تک سالم ہے اور خدا کا دم میرے نتھنوں میں ہے)۔
4 یقینامیرے لب ناراستی کی باتیں نہ کہینگے نہ میری زبان سے فریب کی بات نکلیگی ۔
5 خدا نہ کرے کہ میں تمہیں راست ٹھہراؤں ۔میں مرتے دم تک اپنی راستی کو ترک نہ کرونگا ۔
6 میں اپنی صداقت پر قائم ہُوں اور اُسے نہ چھوڑونگا ۔جب تک میری زندگی ہے میرا دِل مجھے ملامت نہ کریگا ۔
7 میرا دُشمن شریروں کی مانند ہو اور میرے خلاف اُٹھنے والا ناراستوں کی مانند !
8 کیونکہ گوبیدین دَولت حاصل کرلے تو بھی اُسکی اُمید کیا ہے جب خدا اُسکی جان لیلے ؟
9 کیا خدا اُسکی فریاد سُنیگا جب مصیبت اُس پر آئے ؟
10 کیا وہ قادِرمطلق میں مسروُر رہیگا اور ہر وقت خدا سے دُعا کریگا ؟
11 میں تمہیں خدا کے برتاؤ کی تعلیم دُونگا اور قادِرمطلق کی بات نہ چھپاؤنگا ۔
12 دیکھ! تم سبھوں نے خُود یہ دیکھا ہے پھر تم باِلکل خود بین کیسے ہوگئے ؟
13 خدا کی طرف سے شریر آدمی کا حصہ اور ظالموں کی میراث جو وہ قادِرمطلق کی طرف سے پاتے ہیں یہی ہے۔
14 اگر بچے بہت ہوجائیں تو وہ تلوار کے لئے ہیں اور اُسکی اَولاد روٹی سے سیر نہ ہوگی ۔
15 اُسکے باقی لوگ مرکر دفن ہونگے اور اُسکی بیوائیں نَوحہ نہ کرینگی ۔
16 چاہے وہ خاک کی طرح چاندی جمع کرلے اور کثرت سے لباس تیار کر رکھے ۔
17 وہ تیار کرلے پر جو راست ہیں وہ اُنکو پہنینگے اور جو بے گناہ ہیں وہ اُس چاندی کو بانٹ لینگے ۔
18 اُس نے مکڑی کی طرح اپنا گھر بنایا اور اُس جھونپڑی کی طرح جسے رکھوالا بناتا ہے۔
19 وہ لیٹتا ہے دَولتمند پر وہ دفن نہ کیا جائیگا ۔وہ اپنی آنکھ کھولتا ہے اور وہ ہے ہی نہیں۔
20 دہشت اُسے پانی کی طرح آلیتی ہے ۔رات کو طوفان اُسے اُڑا لے جاتا ہے ۔
21 مشرقی ہوا اُسے اُڑا لے جاتی ہے اور وہ جاتا رہتا ہے۔وہ اُسے اُسکی جگہ سے اُکھاڑ پھینکتی ہے ۔
22 کیونکہ خُدا اُس پر برسائیگا اور چھوڑنے کا نہیں ۔وہ اُسکے ہاتھ سے نکل بھاگنا چاہیگا ۔
23 لوگ اُس پر تالیا ں بجائینگے اور سُسکار کر اُسے اُسکی جگہ سے نکال دینگے ۔


باب 28

1 یقیناچاندی کی کان ہوتی ہے اور سونے کے لئے جگہ ہوتی ہے جہاں تایا جاتا ہے ۔
2 لوہا زمین سے نکالا جاتا ہے اور پیتل پتھر میں سے گلایا جاتا ہے ۔
3 اِنسان تاریکی کی تہ تک پہنچتا ہے اور ظُلمات اور موت کے سایہ کی اِنتہا تک پتھروں کی تلاش کرتا ہے ۔
4 آبادی سے دُور وہ سُرنگ لگاتا ہے۔آنے جانے والوں کے پاؤں سے بے خبر اور لوگوں سے دُور وہ لٹکتے اور جھولتے ہیں ۔
5 اور زمین ۔اُس سے خوراک پیدا ہوتی ہے اور اُسکے اندر گویا آگ سے انقلاب ہوتا رہتا ہے۔
6 اُسکے پتھروں میں نیلم ہے ۔اور اُس میں سونے کے ذرّے ہیں ۔
7 اُس راہ کو کوئی شکاری پرندہ نہیں جانتا نہ باز کی آنکھ نے اُسے دیکھا ہے
8 نہ متکبر جانور اُس پر چلے ہیں نہ نخوار ببر اُدھر سے گذرا ہے۔
9 وہ چقماق کی چٹان پر ہاتھ لگاتا ہے ۔وہ پہاڑوں کو جڑ سے اُلٹ دیتا ہے ۔
10 وہ چٹانوں میں سے نالیاں کاٹتا ہے۔ اُسکی آنکھ ہر بیش قیمت چیز کو دیکھ لیتی ہے
11 وہ ندیوں کو مُسدود کرتا ہے کہ وہ ٹپکتی بھی نہیں اور چھپی چیز کو وہ روشنی میں نکال لاتا ہے۔
12 لیکن حکمت کہاں ملیگی ؟ اورخرد کی جگہ کہاں ہے؟
13 نہ اِنسان اُسکی قدر جانتا ہے نہ وہ زندوں کی سر زمین میں ملتی ہے ۔
14 گہراؤ کہتا ہے وہ مجھ میں نہیں ہے ۔سمندر کہتا ہے وہ میرے پاس نہیں ۔
15 نہ وہ سونے کے بدلے مل سکتی ہے نہ چاندی اُسکی قیمت کے لئے تُلیگی ۔
16 نہ اوفیرؔ کا سونا اُسکا مول ہوسکتا ہے اور نہ قیمتی سُلیمانی پتھریا نیلم ۔
17 نہ سونا اور کانچ اُسکی برابری کرسکتے ہیں نہ چوکھے سونے کے زیور اُسکا بدل ٹھہر ینگے ۔
18 مونگے اور بِلّور کا نام بھی نہیں لیا جائیگا بلکہ حکمت کی قیمت مرجان سے بڑھکر ہے۔
19 نہ کوُش کا پکھراج اُسکے برابر ٹھہریگا نہ چوکھا سونا اُسکا مول ہوگا ۔
20 پھر حکمت کہاں سے آتی ہے ؟اور خرد کی جگہ کہاں ہے ؟
21 جس حال کہ وہ سب زندوں کی آنکھوں سے چھپی ہے اور ہوا کے پرندوں سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔
22 ہلاکت اور موت کہتی ہیں ہم نے اپنے کانوں سے اُسکی افواہ تو سُنی ہے۔
23 خدا اُسکی راہ کو جانتا ہے اور اُسکی جگہ سے واقف ہے۔
24 کیونکہ وہ زمین کی اِنتہا تک نظر کرتا ہے اور سارے آسمان کے نیچے دیکھتا ہے
25 تاکہ وہ ہوا کا وزن ٹھہرائے بلکہ وہ پانی کو پیمانہ سے ناپتا ہے ۔
26 جب اُس نے بارش کے لئے قانون اور رعد کی برق کے لئے راستہ ٹھہرایا
27 تب ہی اُس نے اُسے دیکھا اور اُسکا بیان کیا ۔اُس نے اُسے قائم کیا بلکہ اُسے ڈھونڈ نکالا
28 ا ور اُس نے اِنسان سے کہا دیکھ خداوند کا خوف ہی حکمت ہے اور بدی سے دُور رہنا خرد ہے۔


باب 29

1 اور ایوب ؔ پھر اپنی مثل لاکر کہنے لگا:۔
2 کا شکہ میں اَیسا ہوتا جیسا گُذشتہ مہینوں میں یعنی جیسا اُن دِنوں میں جب خدا میری حفاظت کرتا تھا ۔
3 جب اُسکا چراغ میرے سر پر روشن رہتا تھا اور میں اندھیرے میں اُسکے نور کے ذریعہ سے چلتا تھا ۔
4 جیسا میں اپنی برومندی کے ایاّم میں تھا ۔جب خدا کی خوشنودی میرے ڈیرے پر تھی ۔
5 جب قادِرمطلق ہنوز میرے ساتھ تھا اور میرے بچے میرے ساتھ تھے ۔
6 جب میرے قدم مکھن سے دُھلتے تھے اور چٹان میرے لئے تیل کی ندیاں بہاتی تھی!
7 جب میں شہر کے پھاٹک پر جاتا اور اپنے لئے چوک میں بیٹھک تیار کرتا تھا
8 تو جوان مجھے دیکھتے اور چھپ جاتے اور عمر رسید ہ لوگ اُٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔
9 امرا بولنا بند کر دیتے اور اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیتے تھے ۔
10 رئیسوں کی آواز تھم جاتی اور اُنکی زبان تالُو سے چیک جاتی تھی۔
11 کیونکہ کان جب میری سُن لیتا تو مجھے مُبارک کہتا تھا اور آنکھ جب مجھے دیکھ لیتی تو میری گواہی دیتی تھی
12 کیونکہ میں غریب کو جب وہ فریاد کرتا چھڑاتا تھا اور یتیم کو بھی جس کا کوئی مددگار نہ تھا ۔
13 ہلاک ہونے والا مجھے دُعا دیتا تھا اور میں بیوہ کے دِل کو اَیسا خوش کرتا تھا کہ وہ گانے لگتی تھی ۔
14 میں نے صداقت کو پہنا اور اُس سے مُلبس ہُوا ۔میرا اِنصاف گویا جُبہّ اور عمامہ تھا۔
15 میں اندھوں کے لئے آنکھیں تھا اور لنگڑوں کے لئے پاؤں ۔
16 میں مُحتاج کا باپ تھا اور میں اجنبی کے مُعاملہ کی بھی تحقیق کرتا تھا ۔
17 میں ناراست کے جبڑوں کو توڑ ڈالتا اور اُسکے دانتوں سے شکار چھڑالیتا تھا ۔
18 تب میں کہتا تھا کہ میں اپنے آشیانہ میں مروُنگا اور میں اپنے دِنوں کو ریت کی طرح بے شمار کُرونگا۔
19 میری جڑیں پانی تک پھیل گئی ہیں اور رات بھرا وس میری شاخوں پر رہتی ہے۔
20 میری شوکت مجھ میں تازہ ہے اور میری کمان میرے ہاتھ میں نئی کی جاتی ہے۔
21 لوگ میری طرف کان لگاتے اور منتظر رہتے اور میری مشورت کے لئے خاموش ہوجاتے تھے۔
22 میری باتوں کے بعد وہ پھر نہ بولتے تھے اور میری تقریر اُن پر ٹپکتی تھی ۔
23 وہ میرا اَیسا اِنتظار کرتے تھے جیسے پچھلے مینہ کے لئے ۔
24 جب وہ مایوس ہوتے تھے تو میں اُن پر مسکراتا تھا اور میرے چہرہ کی بشاشت کو اُنہوں نے کبھی نہ بگاڑا ۔
25 میں اُنکی راہ کو چُنتا اور سردار کی طرح بیٹھتا اور اَیسے رہتا تھا جیسے فوج میں بادشاہ اور جیسے وہ جو غمزدوں کو تسلی دیتا ہے۔


باب 30

1 پر اب تو وہ جو مجھ سے کم عمر ہیں میرا تمسخر کرتے ہیں جنکے باپ دادا کو اپنے گلہ کے کتوں کے ساتھ رکھنا بھی مجھے ناگوار تھا ۔
2 بلکہ اُنکے ہاتھوں کی قُوّت مجھے کس بات کا فائدہ پہنچایگی ؟ وہ اَیسے آدمی ہیں جنکی جوانی کا زور زائل ہوگیا ۔
3 وہ اِفلاس اور قحط کے مارے دُبلے ہوگئے ہیں ۔وہ ویرانی اور سُنسانی کی تاریکی میں خاک چاٹتے ہیں ۔
4 وہ جھاڑیوں کے پاس لونئےِ کا ساگ توڑتے ہیں اور جھاؤ کی جڑیں اُنکی خوراک ہے۔
5 وہ لوگوں کے درمیان رگیدے گئے ہیں ۔لوگ اُنکے پیچھے اَیسے چلاتے ہیں جیسے چور کے پیچھے ۔
6 اُنکو وادِیو ں کے شگافوں میں اور غاروں اور زمین کے بھٹوں میں رہنا پڑتا ہے ۔
7 وہ جھاڑیوں کے درمیان رینگتے اور جھنکاڑوں کے نیچے اِکٹھے پڑے رہتے ہیں ۔
8 وہ احمقوں بلکہ کمینوں کی اَولاد ہیں ۔وہ ملک سے مار مار کر نکالے گئے تھے ۔
9 اور اب میں اُنکا گیت بنا ہُوں ۔بلکہ اُنکے لئے ضرب المثل ہُوں ۔
10 وہ مجھ سے گھن کھاتے ۔وہ مجھ سے دُور کھڑے ہوتے اور میرے منہ پر تھوکنے سے باز نہیں رہتے ہیں ۔
11 کیونکہ خدا نے میرا چلّہ ڈِھیلا کردیا اور مجھ پر آفت بھیجی ۔اِسلئے وہ میرے سامنے بے لگام ہوگئے ہیں ۔
12 میرے دہنے ہاتھ پر لوگوں کا ہجُوم اُٹھتا ہے ۔وہ میرے پاؤں کو ایک طرف سرکا دیتے ہیں اور میرے خلاف اپنی مُہلک راہیں نکالتے ہیں ۔
13 اَیسے لوگ بھی جن کا کوئی مددگار نہیں میرے راستہ کو بگاڑتے اور میری مصیبت کو بڑھاتے ہیں ۔
14 وہ گویا بڑے رخنہ میں سے ہوکر آتے ہیں اور تباہی میں مجھ پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
15 دہشت مجھ پر طاری ہوگئی ۔وہ ہوا کی طرح میری آبروُ کو اُڑاتی ہے۔میری عافیت بادل کی طرح جاتی رہی ۔
16 اب تو میری جان میرے اندر گُذاز ہوگئی ۔دُکھ کے دِنوں نے مجھے جکڑ لیا ہے ۔
17 رات کے وقت میری ہڈّیاں میرے اندر چھد جاتی ہیں اور وہ درد جو مجھے کھائے جاتے ہیں دم نہیں لیتے ۔
18 میرے مرض کی شدّت سے میری پوشاک بدنما ہوگئی ۔وہ میرے پیراہن کے گربیان کی طرح مجھ سے لپٹی ہُوئی ہے۔
19 اُس نے مجھے کیچڑمیں دھکیل دیا ہے ۔میں خاک اور راکھ کی مانند ہو گیا ہُوں ۔
20 میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں اور تو مجھے جواب نہیں دیتا ۔ میں کھڑا ہوتا ہوں اور تو مجھے گھورنے لگتا ہے ۔
21 تو بدل کر مجھ پر بے رحم ہوگیا ہے۔اپنے بازُو کے زور سے تو مجھے ستاتا ہے ۔
22 تو مجھے اُوپر اُٹھا کر ہوا پر سوار کرتا ہے اور مجھے آندھی میں گھلادیتا ہے۔
23 کیونکہ میں جانتا ہُوں کہ تو مجھے موت تک پہنچائیگا اور اُس گھر تک جو سب زندوں کے لئے مُقرّر ہے ۔
24 تو بھی کیا تباہی کے وقت کوئی اپنا ہاتھ نہ بڑھائیگا اور مصیبت میں فریاد نہ کریگا ؟
25 کیا میں دردمند کے لئے روتا نہ تھا ؟ کیا میری جان محتاج کے لئے آزردہ نہ ہوتی تھی ؟
26 جب میں بھلائی کا منتظر تھا تو بُرائی پیش آئی ۔جب میں روشنی کے لئے ٹھہرا تھا تو تاریکی آئی۔
27 میری انتڑ یا ں اُبل رہی ہیں اور آرام نہیں پاتیں ۔ مجھ پر مصیبت کے دن آپڑے ہیں ۔
28 میں بغیر دُھوپ کے کالا ہو گیا ہُوں۔میں مجمع میں کھڑا ہو کر مدد کے لئے دُہائی دیتا ہُوں ۔
29 میں گیدڑوں کا بھائی اور شُتر مُرغوں کا ساتھی ہُوں ۔
30 میری کھا ل کالی ہو کر مجھ پر سے گرتی جاتی ہے اور میری ہڈّیاں حرارت سے جل گئیں ۔
31 اِسی لئے میری ستارسے ماتم اور میری بانسلی سے رونے کی آواز نکلتی ہے۔


باب 31

1 میں نے اپنی آنکھوں سے عہد کیا ہے ۔پھر میں کسی کنورای پر کیونکر نظر کُروں ؟
2 کیونکہ اُوپر سے خدا کی طرف سے کیا بخرہ ہے اور عالمِ بالا سے قادِرمطلق کی طرف سے کیا میراث ہے؟
3 کیا وہ ناراستوں کے لئے آفت اور بدکرداروں کے لئے تباہی نہیں ہے ؟
4 کیا وہ میری راہوں کو نہیں دیکھتا اور میرے سب قدموں کو نہیں گنتا ؟
5 اگر میں بطالت سے چلا ہُوں اور میرے پاؤں نے دغا کے لئے جلدی کی ہے
6 (تو میں ٹھیک ترازُو میں تولا جاؤں تاکہ خدا میری راستی کو جان لے ) ۔
7 اگر میرا قدم راستہ سے برگشتہ ہُوا ہے اور میرے دِل نے میری آنکھوں کی پیروی کی ہے اور اگر میرے ہاتھوں پر داغ لگا ہے
8 تو میں بوؤں اور دوسرا کھائے اور میرے کھیت کی پیداوار اُکھاڑدی جائے۔
9 اگر میرا دِل کسی عورت پر فریفتہ ہُوا اور میں اپنے پڑوسی کے دروازہ پر گھات میں بیٹھا
10 تو میری بیوی دُوسرے کے لئے پیسے اور غیر مرد اُس پر جھکیں ۔
11 کیونکہ یہ نہایت بُرا جُرم ہوتا بلکہ اَیسی بدی ہوتی جسکی سزا قاضی دیتے ہیں ۔
12 کیونکہ وہ اَیسی آگ ہے جو جلا کر بھسم کردیتی ہے اور میرے سارے حاصل کو جڑ سے نیست کر ڈالتی ہے ۔
13 اگر میں نے اپنے خادم یا اپنی خادمہ کا حق مارا ہو جب اُنہوں نے مجھ سے جھگڑا کیا
14 تو جب خدا اُٹھیگا تب میں کیا کُرونگا؟اور جب وہ آئیگا تو میں اُسے کیا جواب دُونگا ؟
15 کیا وہی اُسکا بنانے والا نہیں جِس نے مجھے بطن میں بنایا؟ اور کیا ایک ہی نے ہماری صُورت رحیم میں نہیں بنائی ؟
16 اگر میں نے محتاج سے اُسکی مُرادروک رکھی یا اَیسا کیا کہ بیوہ کی آنکھیں رہ گئیں ۔
17 یا اپنا نوالہ اکیلے ہی کھایا ہو اور یتیم اُس میں سے کھانے نہ پایا ۔
18 (نہیں ۔ بلکہ میرے لڑکپن سے وہ میرے ساتھ اَیسے پلا جیسے باپ کے ساتھ اور میں اپنی ماں کے بطن ہی سے بیوہ کا رہنما رہا ہوں )۔
19 اگر میں نے دیکھا کہ کوئی بے کپڑے مرتا ہے یا کسی محتاج کے پاس اوڑھنے کو نہیں ۔
20 اگر اُسکی کمر نے مجھ کو دُعا نہ دی ہو اور اگر وہ میری بھیڑوں کی اُون سے گرم نہ ہُوا ہو ۔
21 اگر میں نے کسی یتیم پر ہاتھ اُٹھایا ہو ۔کیونکہ پھاٹک پر مجھے اپنی کُمک دِکھائی دی
22 تو میرا کندھا میرے شانہ سے اُترجائے اور میرے بازُو کی ہڈّی ٹوٹ جائے
23 کیونکہ مجھے خدا کی طرف سے آفت کا خوف تھا اور اُسکی بُزُرگیکی وجہ سے میں کچھ نہ کرسکا ۔
24 اگر میں نے سونے پر بھروسا کیا ہو اور چوکھے سونے سے کہا میرا اِعتماد تجھ پر ہے ۔
25 اگر میں اِسلئے کہ میری دَولت فراوان تھی اور میرے ہاتھ نے بہت کچھ حاصل کرلیا تھا نازان ہُوا ۔
26 اگر میں نے سُورج پر جب وہ چمکتا ہے نظر کی ہو یا چاند پر جب وہ آب وتاب میں چلتا ہے
27 اور میرا دِل خفیتہً فریفتہ ہوگیا ہو اور میرے منہ نے میرے ہاتھ کو چوم لیا ہو
28 تو یہ بھی اَیسی بدی ہے جسکی سزا قاضی دیتے ہیں کیونکہ یوں مَیں نے خدا کا جو عالمِ بالا پر ہے اِنکار کیا ہوتا ۔
29 اگر میں اپنے نفرت کرنے والے کی ہلاکت سے خوش ہُوا یا جب اُس پر آفت آئی تو شادمان ہُوا ۔
30 (ہاں میں نے تو اپنے منہ کو اِتنا گُناہ بھی نہ کرنے دیا کہ لعنت بھیجکر اُسکی موت کے لئے دُعا کرتا )۔
31 اگر میرے خیمہ کے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو اَیسا کون ہے جو اُسکے ہاں گوشت سے سیر نہ ہُوا ؟
32 پردیسی کو گلی کُوچوں میں ٹکنا نہ پڑا بلکہ میں مُسافر کے لئے اپنے دروازے کھول دیتا تھا۔
33 اگر آدمؔ کی طرح اپنی بدی اپنے سینہ میں چھپا کر میں نے اپنی تقصیروں پر پردہ ڈالا ہو
34 اِس سبب سے کہ مجھے عوام الناس کا خوف تھا اور میں خاندانوں کی حقارت سے ڈر گیا۔یہانتک کہ میں خاموش ہوگیا اور دروازہ سے باہر نہ نکلا۔
35 کاش کہ کوئی میری سُننے والا ہوتا! ( یہ لو میرا دستخط ۔قادِرمطلق مجھے جواب دے ) ۔کاش کہ میرے مخالف کے دعویٰ کی تحریر ہوتی!
36 یقیناًمیں اُسے اپنے کندھے پر لئے پھرتا اور اُسے اپنے لئے عمامہ کی طرح باندھ لیتا ۔
37 میں اُسے اپنے قدموں کی تعداد بتاتا ۔اِمیر کی طرح میں اُسکے پاس جاتا ۔
38 اگر میری زمین میرے خلاف دُہائی دیتی ہو اور اُسکی ریگھاریاں ملکر روتی ہوں ۔
39 اگر میں نے بے دام اُسکے پھل کھائے ہوں یا اَیسا کیا کہ اُسکے مالکوں کی جان گئی
40 تو گیہوں کے بدلے اُونٹ کٹارے اور جو کے بدلے کڑوے دانے اُگیں ۔


باب 32

1 ایوب ؔ کی باتیں تمام ہُوئیں ۔سو اُن تینوں آدمیوں نے ایوب ؔ کو جواب دینا چھوڑ دیا اِسلئے کہ وہ اپنی نظر میں صادق تھا ۔
2 تب اِلیہوُبنؔ براکیلؔ بُوزی کا جورامؔ کے خاندان سے تھا قہر بھڑکا ۔اُسکا قہر ایوب پر بھڑکا اِسلئے کہ اُس نے خدا کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو راست ٹھہرایا ۔
3 اور اُسکے تینوں دوستوں پر بھی اُسکا قہر بھڑکا اِسلئے کہ اُنہیں جواب تو سُوجھا نہیں تو بھی اُنہوں نے ایوبؔ کو مجرم ٹھہرایا ۔
4 اور الیہوُؔ ایوب ؔ سے بات کرنے سے اِسلئے رُکا رہا کہ وہ اُس سے بڑے تھے۔
5 جب اِلیہوُؔ نے دیکھا کہ اُن تینوں کے منہ میں جواب نہ رہا تو اُسکا قہر بھڑک اُٹھا۔
6 اور براکیلؔ بُوزی کا بیٹا الیہوُ ؔ کہنے لگا:۔میں جوان ہُوں اور تم بہت عمر رسیدہ ہو اِسلئے میں رُکا رہا اور اپنی رائے دینے کی جرُات نہ کی ۔
7 میں نے کہا سالُخور دہ لوگ بولیں اور عمر رسیدہ حکمت سکھائیں ۔
8 لیکن اِنسان میں رُوح ہے اور قادِرمطلق کا دم خردبخشتا ہے۔
9 بڑے آدمی ہی عقلمند نہیں ہوتے اور عمر رسیدہ ہی اِنصاف کو نہیں سمجھتے ۔
10 اِسلئے میں کہتا ہُوں میری سُنو ۔میں بھی اپنی رائے دُونگا ۔
11 دیکھو! میں تمہاری باتوں کے لئے رُکا رہا جب تم الفاظ کی تلاش میں تھے ۔میں تمہاری دلیلوں کا منتظر رہا
12 بلکہ میں تمہاری طرف توجہُّ کرتا رہا اور دیکھو تم میں کوئی نہ تھا جو ایوب ؔ کو قائل کرتا یا اُسکی باتوں کا جواب دیتا ۔
13 خبردار یہ نہ کہنا کہ ہم نے حکمت کو پالیا ہے ۔خدا ہی اُسے لاجواب کرسکتا ہے نہ کہ اِنسان ۔
14 کیونکہ نہ اُس نے مجھے اپنی باتوں کا نشانہ بنایا نہ میں تمہاری سی تقریروں سے اُسے جواب دونگا ۔وہ حیران ہیں ۔
15 وہ اب جواب نہیں دیتے ۔اُنکے پاس کہنے کو کوئی بات نہ رہی ۔
16 اور کیا میں رُکارہوں اِسلئے کہ وہ بولتے نہیں ۔اِسلئے کہ وہ چُپ چاپ کھڑے ہیں اور اب جواب نہیں دیتے ؟
17 میں بھی اپنی بات کہونگا ۔میں بھی اپنی رائے دُونگا ۔
18 کیونکہ میں باتوں سے بھرا ہُوں اور جو رُوح میرے اندر ہے وہ مجھے مجبور کرتی ہے۔
19 دیکھو! میرا پیٹ بے نکاس شراب کی مانند ہے ۔وہ نئی مشکوں کی طرح پھٹنے ہی کو ہے ۔
20 میں بولُو نگا تاکہ مجھے تسکین ہو۔میں اپنے لبوں کوکھولُونگا اور جواب دُونگا ۔
21 نہ میں کسی آدمی کی طرفداری کُرونگا نہ کسی شخص کو خوشامد کے خطاب دُونگا
22 کیونکہ مجھے خوشامد کے خطاب دینا نہیں آتا ۔ ورنہ میرا بنانے والا مجھے جلد اُٹھا لیتا ۔


باب 33

1 تو بھی اَے ایوب ؔ ذرا میری تقریر سُن لے اور میری سب باتوں پر کان لگا۔
2 دیکھ میں نے اپنا منہ کھولا ہے ۔میری زبان نے میرے منہ میں سخن آرائی کی ہے ۔
3 میری باتیں میرے دِل کی راستباز ی کوظاہر کرینگی اور میرے لب جو کچھ جانتے ہیں اُسی کو سچائی سے کہینگے ۔
4 خدا کی رُوح نے مجھے بنایا ہے اور قادِر مطلق کا دم مجھے زندگی بخشتا ہے ۔
5 اگر تو مجھے جواب دے سکتا ہے تو دے اور اپنی باتوں کو میرے سامنے ترتیب دیکر کھڑا ہو جا ۔
6 دیکھ! خدا کے حُضُور میں تیرے برابر ہُوں ۔میں بھی مٹّی سے بناہُوں ۔
7 دیکھ! میرا رُعب تجھے ہراسان نہ کریگا ۔میرا دباؤ تجھ پر بھاری نہ ہوگا ۔
8 یقیناًتونے میرے سُنتے کہا ہے اور میں نے تیری باتیں سُنی ہیں
9 کہ میں صاف اور بے تقصیر ہُوں ۔میں بے گناہ ہُوں اور مجھ میں بدی نہیں ۔
10 وہ میرے خلاف موقع ڈھونڈتا ہے۔وہ مجھے اپنا دُشمن سمجھتا ہے ۔
11 وہ میرے دونوں پاؤں کو کاٹھ میں ٹھونک دیتا ہے ۔وہ میری سب راہوں کی نگرانی کرتا ہے۔
12 دیکھ میں تجھے جواب دیتا ہُوں ۔اِس بات میں تو حق پر نہیں کیونکہ خدا اِنسان سے بڑا ہے ۔
13 تو کیوں اُس جھگڑتا ہے؟ کیونکہ وہ اپنی باتوں میں سے کسی کا حساب نہیں دیتا ۔
14 کیونکہ خدا ایک بار بولتا ہے بلکہ دوبار ۔ خواہ اِنسان اِسکا خیال نہ کرے ۔
15 خواب میں ۔ رات کی رویا میں جب لوگوں کو گہری نیند آتی ہے اور بستر پر سوتے وقت ۔
16 تب وہ لوگوں کے کان کھولتا ہے اور اُنکی تعلیم پر مہر لگاتا ہے
17 تاکہ اِنسان کو اُسکے مقصود سے روکے اور غروُر کو اِنسان سے دُور کرے ۔
18 وہ اُسکی جان کو گڑھے سے بچاتا ہے اور اُسکی زندگی تلوار کی مار سے۔
19 وہ اپنے بستر پر درد سے تنبیہ پاتا ہے اور اُسکی ہڈّیوں میں دائمی جنگ ہے۔
20 یہانتک کہ اُسکا جی روٹی سے اور اُسکی جان لذیذ کھانے سے نفرت کرنے لگتی ہے۔
21 اُسکا گوشت اَیسا سُوکھ جاتا ہے کہ دکھائی نہیں دیتا اور اُسکی ہڈّیاں جو دِکھائی نہیں دیتی تھیں نکل آتی ہیں ۔
22 بلکہ اُسکی جان گڑھے کے قریب پہنچتی ہے اور اُسکی زندگی ہلاک کرنے والوں کے نزدیک ۔
23 وہاں اگر اُسکے ساتھ کوئی فرشتہ ہو یا ہزار میں ایک تعبیر کرنے والا جو اِنسان کو بتائے کہ اُسکے لئے کیا ٹھیک ہے
24 تو وہ اُس پر رحم کرتا اور کہتا ہے کہ اُسے گڑھے میں جانے سے بچائے۔مجھے فدیہ مل گیا ہے۔
25 تب اُسکا جسم بچےّ کے جسم سے بھی تازہ ہوگا اور اُسکی جوانی کے دِن لوٹ آتے ہیں ۔
26 وہ خدا سے دُعا کرتا ہے اور وہ اُس پر مہربان ہوتا ہے ۔اَیسا کہ وہ خوشی سے اُسکا منہ دیکھتا ہے اور وہ اِنسا ن کی صداقت کا بحال کردیتا ہے۔
27 وہ لوگوں کے سامنے گانے اور کہنے لگتا ہے کہ میں نے گناہ کیا اور حق کواُلٹ دیا اور اِس سے مجھے فائدہ نہ ہُوا ۔
28 اُس نے جان کو گڑھے میں جانے سے بچا یا اور میری زندگی روشنی کو دیکھیگی ۔
29 دیکھو! خدا آدمی کے ساتھ یہ سب کام دوبار بلکہ تین بار کرتا ہے
30 تا کہ اُسکی جان کو گڑھے سے لوٹا لائے اور وہ زندوں کے نو ر سے منُّور ہو۔
31 اَے ایوب ؔ ! توجہ سے میری سُن ۔ خاموش رہ اور میں بولونگا ۔
32 اگر تجھے کچھ کہنا ہے تو مجھے جواب دے ۔بول کیونکہ میں تجھے راست ٹھہرانا چاہتا ہُوں ۔
33 اگر نہیں توتُو میری سُن ۔ خاموش رہ اور میں تجھے دانائی سکھاؤنگا ۔


باب 34

1 اِسکے علاوہ اِلیہوُؔ نے یہ بھی کہا :۔
2 اَے تم عقلمند لوگو! میری باتیں سُنو اور اَے تم جو اہل معرفت ہو ! میری طرف کان لگا ؤ
3 کیونکہ کان باتوں کو پرکھتا ہے جیسے زبان کھانے کو چکھتی ہے ۔
4 جو کچھ ٹھیک ہے ہم اپنے لئے چُن لیں ۔جو بھلا ہے ہم آپس میں جان لیں ۔
5 کیونکہ ایوب ؔ نے کہا میں صادق ہُوں اور خدا نے میری حق تلفی کی ہے ۔
6 اگرچہ میں حق پر ہُوں تو بھی جھوٹا ٹھہرتا ہُوں ۔گو میں بے تقصیر ہُوں ۔ میرا زخم لاعلاج ہے۔
7 ایوب ؔ سا بہادر کون ہے جو تمسخر کو پانی کی طرح پی جاتا ہے ؟
8 جو بدکرداروں کی رفافت میں چلتا اور شریرلوگوں کے ساتھ پھرتا ہے۔
9 کیونکہ اُس نے کہا ہے کہ آدمی کو کچھ فائدہ نہیں کہ وہ خدا میں مسرور رہے ۔
10 اِسلئے اَے اہل خرد میری سُنو۔یہ ہر گز ہو نہیں سکتا کہ خدا شرارت کا کام کرے اور قادِرمطلق بدی کرے ۔
11 وہ اِنسان کو اُسکے اعمال کے مطابق جزادیگا اور اَیسا کریگا کہ ہر کسی کو اپنی ہی راہوں کے مطابق بدلہ ملیگا ۔
12 یقیناخدا بُرائی نہیں کریگا ۔ قادِرمطلق سے بے اِنصافی نہ ہوگی۔
13 کس نے اُسکو زمین پر اختیار دیا ؟یا کس نے ساری دُنیا کا اِنتظام کیا ہے؟
14 اگر وہ اِنسان سے اپنا دِل لگائے ۔اگر وہ اپنی رُوح اور اپنے دم کو واپس لے لے
15 تو تمام بشر اِکٹھے فنا ہوجائینگے اور اِنسان پھر مٹّی میں مل جائیگا ۔
16 سو اگر تجھ میں سمجھ ہے تو اِسے سُن لے اور میری باتوں پر توجہ کر۔
17 کیا وہ جو حق سے عداوت رکھتا ہے حکومت کریگا ؟اور کیا تو اُسے جو عادل اور قادِر ہے ملزم ٹھہرائیگا۔
18 وہ تو بادشاہ سے کہتا ہے تو ذیل ہے اور شریفوں سے تم شریر ہو ۔
19 وہ اُمرا کی طرفداری نہیں کرتا اور امیر کو غریب سے زیادہ نہیں مانتا کیونکہ وہ سب اُسی کے ہاتھ کی کاریگری ہیں ۔
20 وہ دم بھر میں آدھی رات کو مر جاتے ہیں ۔لوگ ہلائے جاتے اور گذر جاتے ہیں ۔اور زبردست لوگ بغیر ہاتھ لگائے اُٹھالئے جاتے ہیں ۔
21 کیونکہ اُسکی آنکھیں آدمی کی راہوں پر لگی ہیں اور وہ اُسکی سب روِشوں کو دیکھتا ہے ۔
22 نہ کوئی اَیسی سب تاریکی نہ موت کاسایہ ہے جہاں بدکردار چھپ سکیں ۔
23 کیونکہ اُسے ضرور نہیں کہ آدمی کا زیادہ خیال کرے تاکہ وہ خدا کے حُضُور عدالت میں جائے ۔
24 وہ بلا تفتیش زبردستوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا اور اُنکی جگہ اَوروں کو برپا کرتا ہے۔
25 اِسلئے وہ اُنکے کاموں کا خیال رکھتا ہے اور وہ اُنہیں رات کو اُلٹ دیتا ہے اَیسا کہ وہ ہلاک ہوجاتے ہیں ۔
26 وہ اَوروں کے دیکھتے ہُوئے اُنکو اَیسا مارتا ہے جیسا شریروں کو
27 اِسلئے کہ وہ اُسکی پیروی سے پھرگئے اور اُسکی کسی راہ کا خیال نہ کیا ۔
28 یہانتک کہ اُنکے سبب سے غریبوں کی فریاد اُسکے حُضُور پہنچی اور اُس نے مصیبت زدوں کی فریاد سُنی ۔
29 جب وہ راحت بخشے تو کون اُسے دیکھ سکتا ہے؟ جب وہ منہ چھپالے تو کون اُسے دیکھ سکتا ہے؟خواہ کوئی قوم ہو یا آدمی ۔دونوں کے ساتھ یکساں سلُوک ہے ۔
30 تاکہ بے دین آدمی سلطنت نہ کرے اور لوگوں کو پھندے میں پھنسانے کے لئے کوئی نہ ہو۔
31 کیونکہ کیا کسی نے خدا سے کہا ہے میں نے سزا اُٹھالی ہے ۔ میں اب بُرائی نہ کرُونگا ۔
32 جو مجھے دِکھائی نہیں دیتا وہ تو مجھے سکھا ۔اگر میں نے بدی کی ہے تو اب اَیسا نہیں کرونگا ۔
33 کیا اُسکا اجر تیری مرضی پر ہوکہ تو اُسے نامنظور کرتا ہے؟ کیونکہ تجھے فیصلہ کرنا ہے نہ کہ مجھے ۔اِسلئے جو کچھ تو جانتا ہے کہدے ۔
34 اہل خرو مجھ سے کہینگے بلکہ ہر عقلمند جو میری سُنتا ہے کہیگا
35 ایوب ؔ نادانی سے بولتا ہے او راُسکی باتیں حکمت سے خالی ہیں ۔
36 کاشکہ ایوب ؔ آخر تک آزمایا جاتا کیونکہ وہ شریروں کی طرح جواب دیتا ہے ۔
37 اِسلئے کہ وہ اپنے گناہ پر بغاوت کو بڑھاتا ہے ۔ وہ ہمارے درمیان تالیا ں بجاتا ہے اور خدا کے خلاف بہت سی باتیں بناتا ہے۔


باب 35

1 اِسکے علاوہ اِلہیوؔ نے یہ بھی کہا:۔
2 کیا تو اِسے حق سمجھتا ہے یا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تیری صداقت خدا کی صداقت سے زیادہ ہے۔
3 جو تو کہتا ہے کہ مجھے اِس گنہگار ہونے کی نسبت کونسا زیادہ فائدہ ہوگا ؟
4 میں تجھے اور تیرے ساتھ تیرے رفیقوں کو جواب دُونگا ۔
5 آسمان کی طرف نظر کر اور دیکھ اور افلاک پر جو تجھ سے بلند ہیں نگاہ کر ۔
6 اگر تو گناہ کرتا ہے تو اُسکا کیا بگاڑتا ہے؟ اور اگر تیری تقصیر یں بڑھ جائیں تو تُو اُسکا کیا کرتا ہے؟
7 اگر تو صادق ہے تو اُسکو کیا دے دیتا ہے؟ یا اُسے تیرے ہاتھ سے کیا مل جاتا ہے؟
8 تیری شرارت تجھ جیسے آدمی کے لئے ہے اور تیری صداقت آدم زاد کے لئے ۔
9 ظلم کی کثرت کی وجہ سے وہ چلاتے ہیں ۔زبردست کے بازُو کے سبب سے مدد کے لئے دُہائی دیتے ہیں ۔
10 پرکوئی نہیں کہتا کہ خدا میرا خالق کہاں ہے جو رات کے وقت نغمے عنایت کرتا ہے۔
11 جو ہم کو زمین کے جانوروں سے زیادہ تعلیم دیتا ہے اور ہمیں ہوا کے پرندوں سے زیادہ عقلمند بناتا ہے ؟
12 وہ دُہائی دیتے ہیں پر کوئی جواب نہیں دیتا ۔ یہ بُرے آدمیوں کے عزور کے سبب سے ہے ۔
13 یقیناًخدا بطالت کو نہیں سُنیگا اور قادِ ر مطلق اُسکالحا ظ نہ کر یگا ۔
14 خا صکر جب تو کہتا ہے کہ تو اُسے دیکھتا نہیں ۔ مقد مہ اُ سکے سامنے ہے اور تو اُ سکے لئے ٹھہرا ہُوا ہے۔
15 پر اب چونکہ اُ س نے اپنے غضب میں سزا نہ دی اور وہ عزور کا زیادہ خیال نہیں کرتا
16 اِ سلئے ایوب ؔ خودبینی کے سبب سے اپنا منہ کھولتا ہے اور نادانی سے باتیں بناتا ہے۔


باب 36

1 پھر اِ لیہوُؔ نے یہ بھی کہا :۔
2 مجھے ذرا اِجازت دے اور میں تجھے بتا ؤنگا ۔ کیونکہ خدا کی طرف سے مجھے کچھ اور بھی کہنا ہے۔
3 میں اپنے علم کو دُور سے لاؤنگا اور راستی اپنے خالق سے منسوب کرونگا
4 کیونکہ فی الحقیقت میری باتیں جھوٹی نہیں ہیں ۔وہ جو تیرے ساتھ ہے علم میں کامل ہے۔
5 دیکھ! خدا قادِر ہے اور کسی کو حقیر نہیں جانتا ۔ وہ فہم کی قوت میں غالب ہے۔
6 وہ شریروں کی زندگی کو برقرار نہیں رکھتا بلکہ مصیبت زدوں کو اُنکا حق عطا کرتا ہے۔
7 وہ صادقو ں کی طرف سے اپنی آنکھیں نہیں پھرتا بلکہ اُنہیں بادشاہوں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے تخت پر بٹھاتا ہے اور وہ سرفراز ہوتے ہیں ۔
8 اور اگر وہ بیڑیوں سے جکڑے جائیں اور مصیبت کی رسیّوں سے بندھیں
9 تو وہ اُنہیں اُنکا عمل اور اُنکی تقصیر یں دِکھاتا ہے کہ اُنہوں نے گھمنڈ کیا ۔
10 وہ اُنکے کان کو تعلیم کے لئے کھولتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ بدی سے باز آئیں ۔
11 اگر وہ سُن لیں اور اُسکی عبادت کریں تو اپنے دِن اِقبالمند ی میں اور اپنے برس خوشحالی میں بسر کر ینگے ۔
12 پر اگر نہ سُنیں تو وہ تلوار سے ہلاک ہونگے اور جہالت میں مر ینگے ۔
13 لیکن وہ جو دِل میں بے دین ہیں غضب کو رکھ چھوڑتے ہیں ۔ جب وہ اُنہیں باندھتا ہے تو وہ مدد کے لئے دُہائی نہیں دیتے ۔
14 وہ جوانی میں مرتے ہیں اور اُنکی زندگی لُوطیوں کے درمیان برباد ہوتی ہے ۔
15 وہ مصیبت زدہ کو اُسکی مصیبت سے چھٹراتا ہے اور ظلم میں اُنکے کان کھولتا ہے ۔
16 بلکہ وہ تجھے بھی دُکھ سے چھُٹکارا دیکر اَیسی وسیع جگہ میں جہاں تنگی نہیں ہے پہنچا دیتا اور جو کچھ تیرے دسترخوان پر چُنا جاتا ہے وہ چکنائی سے پُر ہوتا
17 پر توُ تو شریروں کے مقدمہ کی تا ئید کرتا ہے ۔ اِسلئے عدل اور اِنصاف تجھ پر قابض ہیں ۔
18 خبردار ! تیرا قہر تجھ سے تکفیر نہ کرائے اور فدیہ کی فراوانی تجھے گمراہ نہ کرے ۔
19 کیا تیرا رونا یا تیری قوت وتوانائی اِ س بات کے لئے کافی ہیں کہ تو دُکھ میں نہ پڑے ؟
20 اُس رات کی خواہش نہ کر جس میں قومیں اپنے مسکنوں سے اُٹھالی جاتی ہیں ۔
21 ہوشیار رہ ! بدی کی طرف راغب نہ ہو کیونکہ تو نے مصیبت کو نہیں بلکہ اِسی کو چُنا ہے۔
22 دیکھ! خدا اپنی قدرت سے بڑے بڑے کام کرتا ہے۔کونسا اُستاد اُسکی مانند ہے؟
23 کس نے اُسکا راستہ بتایا ؟ یا کون کہہ سکتا ہے کہ تو نے ناراستی کی ہے ؟
24 اُسکے کام کی بڑائی کرنا یاد رکھ جس کی تعریف لوگ گاتے رہے ہیں ۔
25 سب لوگوں نے اِسکو دیکھا ہے۔ اِنسان اُسے دُور سے دیکھتا ہے ۔
26 دیکھ ! خدابُزرُگ ہے اور ہم اُسے نہیں جانتے ۔ اُسکے برسوں کا شمار دریافت سے باہر ہے ۔
27 کیونکہ وہ پانی کے قطروں کو اُوپر کھینچتا ہے جو اُسی کے بخرات سے مینہ کی صورت میں ٹپکتے ہیں
28 جنکو افلاک اُنڈیلتے اور اِنسان پر کثرت سے برساتے ہیں۔
29 بلکہ کیا بادلوں کے پھیلاؤ اور اُسکے شامیانہ کی گرجوں کو سمجھ سکتا ہے؟
30 دیکھو!وہ اپنے نور کو اپنے چوگرد پھیلا تا ہے اور سمندر کی تہ کو ڈھانکتا ہے ۔
31 کیونکہ اِن ہی سے وہ قوموں کا اِنصاف کرتا ہے اور خوراک اِفراط سے عطا فرماتا ہے۔
32 وہ بجلی کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اُسے حکم دیتا ہے کہ دُشمن پر گرے۔
33 اِس کی کڑک اُسی کی خبر دیتی ہے ۔چوپائے بھی طُوفان کی آمد بتاتے ہیں ۔


باب 37

1 اِس بات سے بھی میرا دِل کانپتا ہے اور اپنی جگہ سے اُچھل پڑتا ہے ۔
2 ذرا اُسکے بولنے کی آواز کو سُنو اور اُس زمزمہ کو جو اُسکے منہ سے نکلتا ہے ۔
3 وہ اُسے سارے آسمان کے نیچے اور اپنی بجلی کو زمین کی اِ نتہا تک بھیجتا ہے ۔
4 اِسکے بعد رعد کی آواز آتی ہے۔ وہ اپنے جلال کی آواز سے گرجتا ہے اور جب اُسکی آواز سُنائی دیتی ہے تو وہ اُسے روکتا ہے ۔
5 خدا عجیب طور پر اپنی آواز سے گرجتا ہے ۔ وہ بڑے بڑے کام کرتا ہے جنکو ہم سمجھ نہیں سکتے ۔
6 کیونکہ وہ برف کو فرماتا ہے کہ تو زمین پر گر ۔ اِسی طرح وہ بارش سے اور موسلادھار مینہ سے کہتا ہے ۔
7 وہ ہر آدمی کے ہاتھ پر مہر کردیتا ہے تاکہ سب لوگ جنکو اُس نے بنایا ہے اِس بات کو جان لیں ۔
8 تب درِندے غاروں میں گھس جاتے اور اپنی اپنی ماند میں پڑے رہتے ہیں ۔
9 آندھی جنوب کی کوٹھری سے اور سردی شمال سے آتی ہے۔
10 خدا کے دم سے برف جم جاتی ہے اور پانی کا پھیلاؤ تنگ ہو جاتا ہے ۔
11 بلکہ وہ گھٹا پر نمی کو لادتا ہے اور اپنے بجلی والے بادلوں کو دُور تک پھیلا تا ہے۔
12 اُسی کی ہدایت سے وہ اِدھر اُدھر پھرائے جاتے ہیں تا کہ جو کچھ وہ اُنہیں فرمائے اُسی کو وہ دُنیا کے آباد حصّہ پر انجام دیں
13 خواہ تنبیہ کے لئے یا اپنے ملک کے لئے ۔ یا رحمت کے لئے وہ اُسے بھیجے ۔
14 اَے ایوبؔ اِسکو سُن لے ۔چُپ چاپ کھڑا رہ اور خدا کے حیرت انگیز کاموں پر غور کر۔
15 کیا تجھے معلوم ہے کہ خدا کیونکر اُنہیں تاکید کرتا ہے اور اپنے بادل کی بجلی کو چمکاتا ہے؟
16 کیا تو بادلوں کے مُوازنہ سے واقف ہے؟ یہ اُسی کے حیرت انگیز کام ہیں جو علم میں کامل ہے۔
17 جب زمین پر جنوبی ہوا کی وجہ سے سناٹا ہوتا ہے تو تیرے کپڑے کیوں گرم ہوجاتے ہیں ؟
18 کیا تو اُسکے ساتھ فلک کو پھیلاسکتا ہے جو ڈھلے ہُوئے آئینہ کی طرح مضبوط ہے؟
19 ہمکو سکھا کہ ہم اُس سے کیا کہیں کیونکہ اندھیرے کے سبب سے ہم اپنی تقریر کو دُرست نہیں کرسکتے
20 کیا اُسکو بتایا جائے کہ میں بولنا چاہتا ہُوں؟ یا کیا کوئی یہ خواہش کرے کہ وہ نگل لیا جائے ؟
21 ابھی تو آدمی اُس نور کونہیں دیکھتے جو افلاک پر روشن ہے لیکن ہوا چلتی ہے اور اُنہیں صاف کر دیتی ہے۔
22 شمال سے سُنہری روشنی آتی ہے۔خدا مہیب شوکت سے مُلبسّ ہے ۔
23 ہم قادِرمطلق کو پا نہیں سکتے ۔ وہ قُدرت اور عدل میں شاندار ہے اور اِنصاف کی فراوانی میں ظلم نہ کریگا ۔
24 اِسی لئے لوگ اُس سے ڈرتے ہیں ۔وہ دانادِلوں کی پروا نہیں کرتا ۔


باب 38

1 تب خداوند نے ایوب ؔ کو بگولے میں سے یوں جواب دیا:۔
2 یہ کون ہے جو نادانی کی باتوں سے مصلحت پر پردہ ڈالتا ہے؟
3 مرد کی مانند اب اپنی کمر کس لے کیونکہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تو مجھے بتا ۔
4 تو کہاں تھا جب میں نے زمین کی بنیاد ڈالی ؟تو دانشمند ہے تو بتا ۔
5 کیا تجھے معلوم ہے کس نے اُسکی ناپ ٹھہرائی ؟ یا کس نے اُس پر سُوت کھینچا؟
6 کس چیز پر اُسکی بنیاد ڈالی گئی ؟یا کس نے اُسکے کونے کا پتھر بٹھایا
7 جب صبح کے ستارے ملکر گاتے تھے اور خدا کے سب بیٹے خوشی سے للکارتے تھے ؟
8 یا کس نے سمندر کو دروازوں سے بند کیا جب وہ اَیسا پُھوٹ نکلا گویا رَحیم سے ۔
9 جب میں نے بادل کو اُسکا لباس بنایا اور گہری تاریکی کو اُسکا لپٹینے کا کپڑا
10 اور اُسکے لئے حدّ ٹھہرائی اور بینڈے اور کواڑ لگائے
11 اور کہا یہانتک تو آنا پر آگے نہیں اور یہاں تیری بپھرتی ہُوئی موجیں رُک جائینگی ؟
12 کیا تو نے اپنی عمر میں کبھی صبح پر حکمرانی کی اور کیا تونے فجر کو اُسکی جگہ بتائی
13 تاکہ وہ زمین کے کناروں پر قبضہ کرے اور شریر لوگ اُس میں جھاڑ دِئے جائیں ؟
14 وہ اَیسے بدلتی ہے جیسے مہر کے نیچے چکنی مٹی اور تمام چیزیں کپڑے کی طرح نمایاں ہوجاتی ہیں ۔
15 اور شریروں سے اُنکی روشنی روک لی جاتی ہے اور بلند بازو توڑا جاتا ہے ۔
16 کیا تو سمندر کے سوتوں میں داخل ہُوا ہے؟یا گہراؤ کی تھاہ میں چلا ہے؟
17 کیا موت کے پھاٹک تجھ پر ظاہر کر دِئے گئے ہیں ؟یا تو نے موت کے سایہ کے پھاٹکوں کو دیکھ لیا ہے؟
18 کیا تو نے زمین کی چوڑائی کو سمجھ لیا ہے ؟اگر تو یہ سب جانتا ہے تو بتا ۔
19 نور کے مسکن کا راستہ کہاں ہے ۔رہی تاریکی ۔ سو اُسکا مکان کہاں ہے
20 تاکہ تو اُسے اُسکی حدّ تک پہنچا دے اور اُسکے مکان کی راہوں کو پہچانے؟
21 بے شک تو جانتا ہوگا کیونکہ تو اُسو قت پیدا ہُوا تھا اور تیرے دِنوں کا شمار بڑا ہے!
22 کیا تو برف کے مخزنوں میں داخل ہُوا ہے یا اولوں کے مخزنوں کو تو نے دیکھا ہے
23 جنکو میں نے تکلیف کے وقت کے لئے اور لڑائی اور جنگ کے دِن کی خاطر رکھ چھوڑا ہے ؟
24 روشنی کس طریق سے تقسیم ہوتی ہے یا مشرقی ہوا زمین پر پھیلائی جاتی ہے؟
25 سیلاب کے لئے کس نے نالی کاٹی یا رعد کی بجلی کے لئے راستہ
26 تاکہ اُسے غیر آباد زمین پر برسائے اور بیابان پر جس میں اِنسان نہیں بستا
27 تاکہ اُجڑی اور سُوئی زمین کو سیراب کرے اور نرم نرم گھاس اُگائے؟
28 کیا بارش کا کوئی باپ ہے؟ یا شبنم کے قطرے کس سے تولُّد ہُوئے ؟
29 یخ کس کے بطن سے نکلا اور آسمان کے سفید پالے کو کس نے پیدا کیا؟
30 پانی پتھر سا ہوجاتا ہے اور گہراؤ کی سطح جم جاتی ہےَ
31 کیا تو عقدِثرُیاّؔ کو باندھ سکتا یا جباّرؔ کے بندھن کو کھول سکتا ہے ؟
32 کیا تو منطقتہ الُبرُوج کو اُنکے وقتوں پر نکال سکتا ہے؟یا بناتُ النعشّ کی اُنکی سہیلیوں کے ساتھ رہبری کرسکتا ہے؟
33
34 کیا تو بادلوں تک اپنی آواز بلند کرسکتا ہے تاکہ پانی کی فراوانی تجھے چھپالے ؟
35 کیا تو بجلی کو روانہ کرسکتا ہے کہ وہ جائے اور تجھ سے کہے میں حاضر ہُوں ؟
36 باطن میں حکمت کس نے رکھی ؟اور دِل کو دانش کس نے بخشی ؟
37 بادلوں کو حکمت سے کون گن سکتا ہے؟یا کون آسمان کی مشکوں کو اُنڈیل سکتا ہے
38 جب گرد ملکر تودہ بن جاتی ہے اور ڈھیلے باہم سٹ جاتے ہیں !
39 کیا تو شیرنی کے لئے شکار مار دیگا یا ببر کے بچوں کو آسُودہ کردیگا
40 جب وہ اپنی ماندوں میں بیٹھے ہوں اور گھات لگائے آڑ میں دبکے ہوں ؟
41 پہاڑی کُّوے کے لئے کون خوراک مُہیا کرتا ہے جب اُسکے بچے خدا سے فریاد کرتے اور خوراک نہ ملنے سے اُڑتے پھرتے ہیں ؟


باب 39

1 کیا تو جانتا ہے پہاڑ کی جنگلی بکریاں کب بچے دیتی ہیں ؟یا جب ہرنیاں بیاتی ہیں تو کیا تو دیکھ سکتا ہے ؟
2 کیا تو اُن مہینوں کو جنہیں وہ پُورا کرتی ہیں گن سکتا ہے؟یا تجھے وہ وقت معلوم ہے جب وہ بچے دیتی ہیں ؟
3 وہ جھک جاتی ہیں ۔وہ اپنے بچے دیتی ہیں اور اپنے درد سے رہائی پاتی ہیں ۔
4 اُنکے بچے موٹے تازہ ہوتے ہیں ۔وہ کھلے میدان میں بڑھتے ہیں ۔وہ نکل جاتے ہیں اور پھر نہیں لوٹتے ۔
5 گورخر کو کس نے آزاد کیا؟ جنگلی گدھے کے بند کس نے کھولے ؟
6 بیابان کو میں نے اُسکا مکان بنایا اور زمین شور کو اُسکا مسکن ۔
7 وہ شہر کے شور وغل کو ہیچ سمجھتا ہے اور ہانکنے والے کی ڈانٹ کو نہیں سُنتا ۔
8 پہاڑوں کا سلسلہ اُسکی چراگاہ ہے اور وہ ہریالی کی تلاش میں رہتا ہے۔
9 کیا جنگلی سانڈ تیری خدمت پر راضی ہوگا؟کیا وہ تیری چرنی کے پاس رہیگا ؟
10 کیا تو جنگلی سانڈ کو رسیّ سے باندھکر ریگھاری میں چلاسکتا ہے؟یا وہ تیرے پیچھے پیچھے وادیوں میں ہینگا پھیریگا؟
11 کیا تو اُسکی بڑی طاقت کے سبب سے اُس پر بھروسا کریگا؟یا کیا تو اپنا کام اُس پر چھوڑ دیگا؟
12 کیا تو اُس پر اعتماد کریگا کہ وہ تیرا غلّہ گھر لے آئے اور تیرے کھلیہان کا اناج اِکٹھا کرے ؟
13 شُتر مُرغ کے بازُو آسودہ ہیں لیکن کیا اُسکے پر وبال سے شفقت ظاہر ہوتی ہے؟
14 کیونکہ وہ تو اپنے انڈے زمین پر چھوڑ دیتی ہے اور ریت سے اُنکو گرمی پہنچاتی ہے
15 اور بھول جاتی ہے کہ وہ پاؤں سے کچلے جائینگے یا کوئی جنگلی جانور اُنکو رَوند ڈالیگا ۔
16 وہ اپنے بچوں سے اَیسی سخت دِلی کرتی ہے گویا وہ اُسکے نہیں ۔خواہ اُسکی محنت رایگاں جائے اُسے کچھ خوف نہیں ۔
17 کیونکہ خدا نے اُسے عقل سے محروم رکھا اور اُسے سمجھ نہیں دی ۔
18 جب وہ تنکر سیدھی کھڑی ہوجاتی ہے تو گھوڑے اور اُسکے سوار دونوں کو ناچیز سمجھتی ہے۔
19 کیا گھوڑے کو اُسکا زور تو نے دیا ہے ؟ کیا اُسکی گردن کو لہراتی ایال سے تو نے مُلبسّ کیا ؟
20 کیا اُسے ٹِڈّی کی طرح تونے کدایا ہے ۔اُسکے فرّانے کی شان مُہیب ہے ۔
21 وہ وادی میں ٹاپ مارتا ہے اور اپنے زور میں خوش ہے۔ وہ مُسلّح آدمیوں کا سامنا کرنے کو نکلتا ہے۔
22 وہ خوف کو ناچیز جانتا ہے اور گھبراتا نہیں اور وہ تلوار سے منہ نہیں مورتا ۔
23 ترکش اُس پر کھڑکھڑاتا ہے ۔چمکتا ہُوا بھالا اور سانگ بھی۔
24 وہ تُندی اور قہر مین زمین پیمائی کرتا ہے اور اُسے یقین نہیں ہوتا کہ یہ تُرہی کی آواز ہے۔
25 جب جب تُرہی بجتی ہے وہ ہِن ہِن کرتا ہے اور لڑائی کو دُور سے سُونگھ لیتا ہے۔سرداروں کی گرج اور للکار کو بھی ۔
26 کیا باز تیری حکمت سے اُڑتا ہے اور جنوب کی طرف اپنے بازُو پھیلاتا ہے؟
27 کیا عقاب تیرے حکم سے اُوپر چڑھتا ہے اور بلند ی پر اپنا گھونسلا بناتا ہے؟
28 وہ چٹان پر رہتا اور وہیں بسیرا کرتا ہے ۔یعنی چٹان کی چوٹی پر اور پناہ کی جگہ میں ۔
29 وہیں سے وہ شکار تاڑ لیتا ہے اُسکی آنکھیں اُسے دُور سے دیکھ لیتی ہیں ۔
30 اُسکے بچے بھی خون چوُستے ہیں اور جہاں مقتول ہیں وہاں وہ بھی ہے۔


باب 40

1 خداوند نے ایوب ؔ سے بھی یہ کہا :۔
2 کیا جو فُضول حُجت کرتا ہے وہ قادِر مطلق سے جھگڑاکرے ؟ جو خدا سے بحث کرتا ہے وہ اِسکا جواب دے ۔
3 تب ایوب ؔ نے خداوند کو جواب دِیا:۔
4 دیکھ ! میں ناچیز ہُوں ۔میں تجھے کیا جواب دُوں ؟میں اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھتا ہُوں ۔
5 اب جواب نہ دُونگا ۔ ایکبار میں بول چُکا بلکہ دوبار ۔ پر اب آگے نہ بڑھُونگا ۔
6 تب خداوند نے ایوب ؔ کو بگولے میں سے جواب دیا:۔
7 مرد کی مانند اب اپنی کمر کس لے ۔میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تومجھے بتا۔
8 کیا تو مجھے مجرم ٹھہرائیگا تاکہ خود راست ٹھہرے ؟
9 یا کیا تیرا بازو خدا کا سا ہے ؟اور کیا تو اُسکی سی آواز سے گرج سکتا ہے ؟
10 اب اپنے کوشان وشوکت سے آراستہ کر اور عزت وجلال سے مُلبسّ ہوجا۔
11 اپنے قہر کے سیلابوں کو بہا دے اور ہر مغرُور کو دیکھ اور ذلیل کر۔
12 ہر مغرور کو دیکھ اور اُسے نیچا کر اور شریروں کو جہاں کھڑے ہوں پامال کردے ۔
13 اُنکو اِکٹھا مٹی میں چھپا دے اور اُس پوشیدہ مقام میں اُنکے منہ باندھ دے ۔
14 تب میں بھی تیرے بارے میں مان لُونگا کہ تیرا ہی دہنا ہاتھ تجھے بچا سکتا ہے۔
15 اب ہِپوّ پوٹیمس کو دیکھ جسے میں نے تیرے ساتھ بنایا ۔وہ بیل کی طرح گھاس کھاتا ہے۔
16 دیکھ! اُسکی طاقت اُسکی کمر میں ہے اور اُسکا زور اُسکے پیٹ کے پٹھوں میں۔
17 وہ اپنی دُم کو دیودار کی طرح ہلاتا ہے ۔اُسکی رانوں کی نسیں باہم پیوستہ ہیں ۔
18 اُسکی ہڈّیوں پیتل کے نلوں کی طرح ہیں ۔اُسکے اعضا لوہے کے بینڈوں کی مانند ہیں ۔
19 وہ خدا کی خاص صنعت ہے۔اُسکے خالق ہی نے اُسے تلوار بخشی ہے۔
20 یقیناًٹیلے اُسکے لئے خوراک بہم پہنچاتے ہیں جہاں میدان کے سب جانور کھیلتے کُودتے ہیں ۔
21 وہ کنول کے درخت کے نیچے لیٹتا ہے۔سرکنڈوں کی آڑا اور دلدل ہیں ۔
22 کنول کے درخت اُسے اپنے سایہ کے نیچے چھپا لیتے ہیں ۔نالے کی بیدیں اُسے گھیر لیتی ہیں ۔
23 دیکھ! اگر دریا میں باڑھ ہو تو وہ نہیں کانپتا ۔خواہ یردنؔ اُسکے منہ تک چڑھ آئے وہ بے خوف ہے۔
24 جب وہ چوکس ہو تو کیا کوئی اُسے پکڑلیگا یا پھند الگا کر اُسکی ناک کو چھید یگا؟


باب 41

1 کیا تو مگر کو شست سے باہر نکال سکتا ہے؟یا رسّی سے اُسکی زبان کو دبا سکتا ہے ؟
2 کیا تو اُسکی ناک میں رسّی ڈال سکتا ہے؟اُسکا جبڑا میخ سے چھید سکتا ہے ؟
3 کیا وہ تیری بہت منت سماجت کریگا ؟ یا تجھ سے میٹھی میٹھی باتیں کہیگا ؟
4 کیا وہ تیرے ساتھ عہد باندھیگا کہ تو اُسے ہمیشہ کے لئے نوکر بنالے ؟
5 کیا تو اُس سے اَیسے کھیلیگا جیسے پرندہ سے ؟ یا کیا تو اُسے اپنی لڑکیوں کے لئے باندھ دیگا ؟
6 کیا وہ اُسے سوداگروں میں تقسیم کرینگے ؟
7 کیا تو اُسکی کھال کو بھالوں سے یا اُسکے سرکو ماہی گیر کے تر سُولوں سے بھر سکتا ہے ؟
8 تو اپنا ہاتھ اُس پر دھرے تو لڑائی کو یاد رکھیّگا اور پھر اَیسا نہ کریگا۔
9 دیکھ! اُسکے بارے میں اُمید بے فائدہ ہے ۔کیا کوئی اُسے دیکھتے ہی گر نہ پڑے گا؟
10 کوئی اَیسا تُند خو نہیں جو اُسے چھیڑنے کی جُرات کرے ۔ پھر وہ کون ہے جو میرے سامنے کھڑا ہوسکے ؟
11 کس نے مجھے پہلے کچھ دیا ہے کہ میں اُسے ادا کُروں ؟جو کچھ سارے آسمان کے نیچے ہے وہ میرا ہے۔
12 نہ میں اُسکے اعضا کے بارے میں خاموش رہونگا نہ اُسکی بڑی طاقت اور خوبصورت ڈیل ڈول کے بارے میں ۔
13 اُسکے اُوپر کا لباس کون اُتا ر سکتا ہے؟اُسکے جبڑوں کے بیچ کون آئیگا؟
14 اُسکے منہ کے کواڑوں کو کون کھول سکتا ہے ؟اُسکے دانتوں کا دائرہ دہشتناک ہے۔
15 اُسکی ڈھالیں اُسکا فخر ہیں۔جو گویا سخت مہر سے پیوستہ کی گئی ہیں۔
16 وہ ایک دُوسری سے اَیسی جُٹی ہُوئی ہیں کہ اُنکے درمیان ہوا بھی نہیں آسکتی ۔
17 وہ ایک دوسری سے باہم پیوستہ ہیں ۔ وہ آپس میں اَیسی سٹی ہیں کہ جُدا نہیں ہوسکتیں ۔
18 اُسکی چھینکیں نُورافشانی کرتی ہیں ۔اُسکی آنکھیں صبح کے پپوٹوں کی طرح ہیں ۔
19 اُسکے منہ سے جلتی مشعلیں نکلتی ہیں اور آگ کی چنگاریاں اُڑتی ہیں
20 اُسکے نتھنوں سے دُھواں نکلتا ہے۔گویا کھولتی دیگ اور اور سُلگتے سرکنڈے سے ۔
21 اُسکا سانس کوئلوں کو دہکا دیتا ہے اور اُسکے منہ سے شعلے نکلتے ہیں ۔
22 طاقت اُسکی گردن میں بستی ہے اور دہشت اُسکے آگے آگے چلتی ہے ۔
23 اُسکے گوشت کی تہیں آپس میں جُڑی ہُوئی ہیں ۔وہ اُس پر خوب سٹی ہیں اور ہٹ نہیں سکتیں ۔
24 اُسکا دِل پتھر کی طرح مضبوط ہے بلکہ چکی کے نیچے پاٹ کی طرح ۔
25 جب وہ اُٹھ کھڑ ا ہوتا ہے تو زبردست لوگ ڈر جاتے ہیں اور گھبرا کو حوا س باختہ ہوجاتے ہیں ۔
26 اگر کوئی اُس پر تلوار چلائے تو اُس سے کچھ نہیں بنتا ۔نہ بھالے ۔نہ تیر۔ نہ برچھی سے ۔
27 وہ لوہے کو بھوسا سمجھتا ہے اور پیتل کو گلی ہُوئی لکڑی ۔
28 تیر اُسے بھگا نہیں سکتا ۔ فلاخن کے پتھر اُس پت تنکے سے ہیں ۔
29 لاٹھیاں گویا تنکے ہیں ۔وہ برچھی کے چلنے پر ہنستا ہے ۔
30 اُسکے نیچے کے حصیّ تیز ٹھیکروں کی مانند ہیں۔ وہ کیچڑ پر گویا ہینگا پھیرتا ہے۔
31 وہ گہراؤ کو دیگ کی طرح کھولاتا اور سمندر کو مرہم کی مانند بنا دیتا ہے ۔
32 وہ اپنے پیچھے چمکیلی لیک چھوڑتا جاتا ہے۔گہراؤ گویا سفید نظر آنے لگتا ہے ۔
33 زمین پر اُسکا نظیر نہیں جو اَیسا بے خوف پیدا ہُوا ہو۔
34 وہ ہر اُونچی چیز کو دیکھتا ہے اور سب مغروُروں کا بادشاہ ہے۔


باب 42

1 تب ایوب ؔ نے خداوندکو یوں جواب دیا:۔
2 میں جانتا ہُوں کہ تو سب کچھ کرسکتا ہے اور تیرا کوئی اِرادہ رُک نہیں سکتا ۔
3 یہ کون ہے جو نادانی سے مصلحت پر پردہ ڈالتا ہے؟ لیکن میں نے جو نہ سمجھا وُہی کہایعنی اَیسی باتیں جو میرے لئے نہایت عجیب تھیں جنکو میں جانتا نہ تھا۔
4 میں تیری منت کرتا ہوں سُن ۔میں کچھ کہونگا ۔میں تجھ سے سوال کرونگا ۔تو مجھے بتا۔
5 میں نے تیری خبر کان سے سُنی تھے پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے
6 اِسلئے مجھے اپنے آپ سے نفرت ہے اور میں خاک اور راکھ میں توبہ کرتا ہوں ۔
7 اور اَیسا ہُوا کہ جب خداوند یہ باتیں ایوب ؔ سے کہہ چُکا تو اُس نے اِلیفزؔ تیمائی سے کہا کہ میرا غضب تجھ پر اور تیرے دونوں دوستوں پر بھڑکا ہے کیونکہ تم نے میری بابت وہ بات نہ کہی جو حق ہے جیسے میرے بندہ ایوبؔ نے کہی ۔
8 پس اب اپنے لئے سات بیل اور سات مینڈھے لیکر میرے بندہ ایوب ؔ کے پاس جا ؤ اور اپنے لئے سوختنی قربانی گذرانو اور میرا بندہ ایوب ؔ تمہارے لئے دُعا کریگا کیونکہ اُسے تو میں قبول کرونگا تاکہ تمہاری جہالت کے مطابق تمہارے ساتھ سلوک نہ کروں کیونکہ تم نے میری بابت وہ بات کہی جو حق ہے جسے میرے بندہ ایوبؔ نے کہی ۔
9 سو اِلیفزؔ تیمانی اور بلدسؔ سُوخی اور صُنوفرنعماتی نے جاکر جیسا خداوند نے اُنکو فرمایا تھا کیا اور خداوند نے ایوبؔ کو قبول کیا ۔
10 اور خداوند نے ایوبؔ کی اسیری کو جب اُس نے اپنے دوستوں کے لئے دُعا کی بدل دیا اور خداوند نے ایوبؔ کو جتنا اُسکے پاس پہلے تھا اُسکا دوچند دیا۔
11 تب اُسکے سب بھائی اور سب بہنیں اور اُسکے سب اگلے جان پہچان اُسکے پاس آئے اور اُسکے گھر میں اُسکے ساتھ کھانا کھایا اور اُس پر نَوحہ کیا اور اُن سب بلاؤں کے بارے میں جو خداوند نے اُس پر نازل کی تھیں اُسے تسلّی دی۔ہر شخص نے اُسے ایک سکّہ بھی دیا اور ہر ایک نے سونے کی ایک بالی ۔
12 یوں خداوند نے ایوب کے آخری ایاّم میں اِبتدا کی نسبت زیادہ برکت بخشی اور اُس کے پاس چودہ ہزار بھیڑ بکریاں اور چھ ہزار اُونٹ اور ہزار جوڑی بیل اور ہزار گدھیاں ہوگئیں ۔
13 اُسکے سات بیٹے اور تین بیٹیاں بھی ہُوئیں ۔
14 اور اُس نے پہلی کا نام یمیمہ ؔ اور دوسری کانام قصیاہؔ اور تیسری کانام قرہُپّوکؔ رکھا ۔
15 اور اُس ساری سرزمین میں اَیسی عورتیں کہیں نہ تھیں جو ایوبؔ کی بیٹیوں کی طرح خوبصورت ہوں اور اُنکے باپ نے اُنکو اُنکے بھائیوں کے درمیان میراث دی۔
16 اور اِسکے بعد ایوبؔ ایک سوچالیس برس جیتارہا اور اپنے بیٹے اور پوتے چوتھی پُشت تک دیکھے۔
17 اور ایوبؔ نے بُڈھا اور عمر رسیدہ ہو کر وفات پائی ۔