اِمثال

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31


باب 1

1 اِسرائیل کے بادشاہ سلیمان داؤد کی امثال۔
2 حکمت اور تربیت حاصل کرنے اور فہم کی باتوں کا امتیاز کر نے کے لئے۔
3 عقلمندی اورصداقت اور عدل اور راستی میں تربیت حاصل کرنے کے لئے
4 سادہ دِ لوں کو ہوشیا ری ۔جوان کو علم اور تمیز بخشنے کے لئے
5 تاکہ دانا آدمی سُنکر علم میں ترقی کرے اور فہیم آدمی دُرست مشورت تک پُہنچے ۔
6 جِس سے مثل اور تمِثیل کو۔داناؤں کی باتوں اور اُنکے معموں کو سمجھ سکے۔
7 خداوند کا خوف علم کا شروع ہے لیکن احمق حکمت اور تربیت کی حقارت کرتے ہیں۔
8 اَے میرے بیٹے !اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کر ۔
9 کیونکہ وہ تیرے سر کے لئےزینت کا سہرا اور تیرے عملے کے لیے طوق ہونگی۔
10 اَے میرے بیٹے !اگر گنہگارتجھے پُھسلا تورضا مند نہ ہونا ۔
11 اگر وہ کہیں ہمارے ساتھ چل ۔ ہم خون کرنے کے لئےتاک میں بیٹھیں اور چھپکر بیگُناہ کے لئےناحق گھات لگائیں ۔
12 ہم اُنکو اِس طرح جیتا اور سمو چانگل جٓا ئیں طرح پاتال مردوں کو نگل جٓاتا ہے۔
13 ہمکو ہر قسم کا نفیس مال میلگا۔ہم اپنے گھروں کو لوٹ سے بھر لینگے ۔
14 تو ہمارے ساتھ مل جٓا ۔ہم سب کی ایک ہی تھیلی ہو گی
15 تو اَے میرے بیٹے !تو انکے ہمراہ نہ جٓانا ۔ اُنکی راہ سے اپنا پاوں روکنا ۔
16 کیونکہ اُنکے پاوں بدی کی طرف دَوڑتے ہیں اور خُون بہانے کے لئے جلدی کرتے ہیں ۔
17 کیونکہ پرندہ کی آنکھوں کے سامنے جٓال بچھانا عبث ہے۔
18 اور یہ لوگ تو اپنا ہی خون کرنے کے لئے تاک میں بیٹھتے ہیں اور چھپکر اپنی ہی جٓان کی گھات لگاتے ہیں ۔
19 نفع کے لالچی کی راہیں اَیسی ہی ہیں ۔اَیسا نفع اُسکی جٓان لیکر ہی چھوڑتا ہے۔
20 حکمت کو چہ میں زور سے پُکارتی ہے۔وہ راستوں میں اپنی آواز بلند کرتی ہے ۔
21 وہ پُر ہجوم بازار میں چلاتی ہے۔وہ چھاٹکوں کے مدخل پر اور شہر میں یہ کہتی ہے۔
22 اَے نادانو!تم کب تک نادانی کو دوست رکھو گے؟اور ٹھٹھا باز کب تک ٹھٹھابازی سے خوش رہنیگے اور احمق کب تک علم سے عداوت رکھینگے ؟
23 تم میری ملامت کو سُنکر باز آو۔دیکھو !میں اپنی روح تم پر اُنڈیلونگی۔ میں تمکو اپنی بایتں بتا ؤنگی ۔
24 چونکہ میں نے بُلایا اور تم نے اِنکار کیا میں نے ہاتھ پھیلایا اور کسی نےخیال نے کیا ۔
25 بلکہ تم نے میری تمام مشورت کو نا چیز جٓانا اور میری ملامت کی بیقدری کی
26 اسلئے میں بھی تمہاری مصیبت کے دن ہنسونگی اور جب تم پر دہشت چھا جٓاینگی تو ٹھٹھامارونگی ۔
27 یعنی جب دہشت طوفان کی طرح آپڑیگی اور آفت بگولے کی طرح تم کو آلیگی ۔جب مُصبیت اور جٓا نکنی تم پر ٹوٹ پڑیگی
28 تب وہ مجھے پکار ینگے لیکن میں جواب نہ دونگی اور دل وجٓان سے مجھے ڈھونڈینگے پر نہ پاینگے ۔
29 اسلئےکہ اُنہوں نے علم سے عداوت رکھی اور خداوند کے خوف کو اخیتار نہ کیا ۔
30 اُنہوں نے میری تمام مشورت کی بے قدری کی اور میری ملامت کو حقیر جٓانا۔
31 پس وہ اپنی ہی روش کا پھل کھا ئینگے اور اپنے ہی منصوبوں سے پیٹ بھر ینگے ۔
32 کیونکہ نادانوں کی برگشتگی اُنکو قتل کر یگی اور احمقوں کی فارغ البالی انکی ہلاکت کا باعث ہو گی۔
33 لیکن جو میری سُنتا ہے وہ محفوظ ہو گا اور آفت سے نڈر ہو کر اِطمینان سے رہیگا۔


باب 2

1 اے میرے بیٹے !اگرتو میری باتوں کوقبول کرے اور میرےفرمان کو نگاہ میں رکھے۔
2 اَیساکہ توحکمت کی طرف کان لگاے اور فہم سے دل لگاے
3 بلکہ عقل کو پُکارے اور فہم کے لئے آوازبلندکرے۔
4 اور اُسکو اَیسا ڈھونڈےجیسےچاندی کواور اُسکی ایسی تلاش کرے جیسی پوشیدہ خزانوں کی
5 توتوخداوندکے خوف کو سمجھایگا اور خدا کی معرفت کو حاصل کر یگا
6 کیونکہ خداوند حکمت بخشتا ہے۔علم وفہم اُسی کے منہ سے نکلتے ہیں۔
7 وہ راستبازوں کے لئے مدد تیار رکھتا ہےاور راست روکے لئے سپر ہے۔
8 تاکہ وہ عدل کی راہوں کی نگہبانی کرے اور اپنے مقدسوں کی راہ کو محفوظ رکھے۔
9 تب تو صداقت اور عدل اور راستی کو بلکہ ہر ایک اچھی راہ کو سمجھیگا۔
10 کیونکہ حکمت تیرے دِل میں داخل ہوگیااور علم تیری جٓان کو مرغوب ہوگا ۔
11 تمیزتیری نگہبان ہوگی۔فہم تیری حفاظت کریگا
12 تاکہ تجھے شریر کی راہ سے اور کجگوسے بچائیں۔
13 جو راستبازی کی راہ کو ترک کرتے ہیں تاکہ تاریکی کی راہوں میں چلیں۔
14 جو بدکاری خوش ہوتے ہیں اور شرارت کی کجروی میں خوش رہتےہیں۔
15 جنکی روشیں نا ہموار اور جنکی راہیں ٹیڑھی ہیں۔
16 تاکہ تجھے بی عورت سے بچائیں یعنی چکنی چپڑی باتیں کرنے والی پرائی عورت سے
17 جو اپنی جوانی کے ساتھی کو چھوڑ دیتی اور اپنے خدا کے عہد کو بھول جٓاتی ہے۔
18 کیونکہ اُسکا گھر موت کی اُتر ائی پر ہے اور اُسکی راہیں پاتال کوجٓاتی ہیں۔
19 جو کوئی اُسکے پاس جٓاتا ہےواپس نہیں آتااور زندگی کی راہوں تک نہیں پہنچتا ۔
20 تاکہ تو نیکوں کی راہ پر چلے اور صادقوں کی راہوں پرقائم رہے۔
21 کیونکہ راستباز ملک میں بسینگے اور کامل اُس میں آباد رہینگے ۔
22 لیکن شیریر زمین پر سے کاٹ ڈالے جٓائینگے اور دغاباز اُس سے اُکھاڑ پھینکے جٓائینگے۔


باب 3

1 اے میرے بیٹے!میری تعلیم کو فراموش نہ کر۔بلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے ۔
2 کیونکہ تو اِن سے عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی حاصل کریگا۔
3 شفقت اور سچائی تجھ سے جدانہ ہوں۔تو اُنکو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دِل کی تختی پر لکھ لینا۔
4 یوں تو خدا اور اِنسان کی نظر میں مقبولیت اور عقلمندی حاصل کریگا ۔
5 سارے دِل سے خداوند پر توکل کراور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر ۔
6 اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا ۔
7 تو اپنی ہی نگاہ میں دانشمندنہ بن۔خداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔
8 یہ تیری ناف کی صحت اور تیری ہڈیوں کی تازگی ہو گی۔
9 اپنے مال سے اور اپنی ساری پیداوار کے پہلے پھلوں سے خداوند کی تعظیم کر۔
10 یُوں تیرے کھتے خوب بھرے رہینگے اور تیرے حوض نئی مے سے لبریز ہونگے ۔
11 اے میرےبیٹے!خداوند کی تنبیہ کو حقیر نہ جٓاناور اُسکی ملامت سے بی نہ ہو ۔
12 کیونکہ خداوند اُسی کو ملامت کرتا ہے ج سے اُسے محبت ہے ۔ جیسے باپ اُس بیٹے کو جِس سے وہ خوش ہے۔
13 مُبارک ہے وہ آدمی جو حکمت کو پاتا ہےاور وہ جو فہم حاصل کرتا ہے
14 کیونکہ اِسکا حصول چاندی کے حصول سے اور اُسکا نفع کندن سے بہتر ہے۔
15 وہ مرجٓان سے زیادہ بی بہا ہے اور تیری مرغوب چیزوں میں بے نظیر۔
16 اُسکے دہنے ہاتھ میں عمر کی درازی ہے اور اُسکے با ہاتھ میں دولت وعزت۔
17 اُسکی راہیں خوشگوار راہیں ہیں اور اُسکے سب راستے سلامتی کے ہیں۔
18 جو اُسے پکڑے رہتے ہیں وہ اُنکے لئے حیات کا درخت ہےاور ہر ایک جو اُسے لئے رہتا ہے مبارک ہے۔
19 خداوند نے حکمت سے زمین کی بُنیاد ڈالی اور فہم سے آسمان کو قائم کیا۔
20 اُسی کے علم سے گہراؤ کے سوتے پھوٹ نکلے اور افلاک شبنم ٹپکاتے ہیں۔
21 اَے میرے بیٹے !دانائی اور تمیز کی حفاظت کر۔اُنکو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے ۔
22 یوں وہ تیری جٓان کی حیات اور تیرے گلے کی زینت ہو نگی ۔
23 تب تو بے کھٹکے اپنے راستہ پر چلیگا اور تیرےپاؤں کو ٹھیس نہ لگیگی۔
24 جب تو لیٹیگا تو خوف نہ کھا یئگا ۔ بلکہ تو لیٹ جٓایئگا اور تیری نیند میٹھی ہو گی۔
25 نا گہانی دہشت سے خوف نہ کھانااور نہ شریروں کی ہلاکت سے جب وہ آئے۔
26 کیونکہ خداوند تیرا سہارا ہوگا اور تیرے پاؤں کو پھنس جٓانے سے محفوظ رکھیگا۔
27 بھلائی کے حقدار سے اُسے دریغ نہ کر نا
28 جب تیرے پاس دینے کو کُچھ ہو تواپنے ہمسایہ سے یہ نہ کہنا اب جٓا ۔پھر آنا۔میں تجھے کل دُونگا ۔
29 اپنے ہمسا یہ کے خلاف بُرائی کا منصوبہ نہ باندھنا ۔جِس حال کہ وہ تیرے پڑوس میں بے کھٹکے رہتا ہے۔
30 اگر کسی تجھے نقصان نہ پہنچایا ہو تو اُس سے بے سبب جھگڑا نہ کرنا۔
31 تندخو آدمی پر حسد نہ کرنا اور اُسکی کسی روش کو اختیار نہ کرنا ۔
32 کیونکہ کجروسے خداوند کو نفرت ہےلیکن راستباز اُسکے محرم راز ہیں۔
33 شریروں کے گھرپر خداوند کی لعنت ہے لیکن صادقوں کے مسکن پر اُسکی برکت ہے ۔
34 یقیناًوہ ٹھٹھابازوں پر ٹھٹھے مارتاہے لیکن فروتنوں پر فضل کرتا ہے۔دانا جلال کے وارِث ہونگےلیکن احمقوں کی ترقی شرمندگی ہو گی ۔
35


باب 4

1 اَے میرے بیٹو!باپ کی تربیت پر کان لگاؤ اور فہم حاصل کرنے کے لئے توجہ کرو ۔
2 کیونکہ میں تمکو اچھی تلقین کرتا ہوں۔تم میری تعلیم کو ترک نہ کرنا۔
3 کیونکہ میں بھی اپنے کا بیٹا تھااور اپنی ماں کی نگاہ میں نازک اور اکیلا لاڈلا۔
4 باپ نے مجھے سکھایا اور مجھ سے کہا میری بای تیرے دِل میں رہیں ۔ میرے فرمان بجا لااور زندہ رہ ۔
5 حکمت حاصل کر ۔فہم حاصل کر ۔بھولنا مت اور میرے مُنہ کی باتوں سے بر گشتہ نہ ہونا ۔
6 حکمت کو ترک نہ کرنا ۔وہ تیری حفاظت کر یگی ۔اُس سے محبت رکھنا ۔وہ تیری نگہبان ہو گی۔
7 حکمت افضل اصل ہے ۔پس حکمت حاصل کر بلکہ اپنے تما م حاصلات سے فہم حاصل کر۔
8 اُسکی تعظیم کر۔وہ تجھے سر فراز کر یگی ۔ جب تو اُسے گلے لگایئگا وہ تجھے عزت بخشیگی۔
9 وہ تیرے سرپر زینت کا سہرا باندھیگی اور تجھ کو جمال کا تاج عطا کر یگی ۔
10 اَے میرے بیٹے !سُن اور میری باتوں کو قبول کر اور تیری زندگی کے دِن بُہت سے ہونگے ۔
11 میں نے تجھے حکمت کی راہ بتائی ہے اور راہِ راست پر تیری راہنمائی کی ہے
12 جب تو چلیگا تیرے قدم کو تاہ نہ ہو نگے اور اگر تو دوڑے تو ٹھوکر نہ کھا یئگا ۔
13 تربیت کو مضبوطی سے پکڑے رہ۔اُسے جٓانے نہ دے اُسکی حفاظت کر کیونکہ وہ تیری حیات ہے۔
14 شریروں کے راستہ میں نہ جٓانا اور بُرے آدمیوں کی راہ میں نہ چلنا۔
15 اُس سے بچنا ۔اُسکے پاس سے نہ گذرنا ۔ اُس سے مڑ کر آگے بڑھ جٓانا ۔
16 کیونکہ وہ جب تک بُرائی نہ کر لیں سوتے نہیں۔اور جب تک کسی کو گرانہ دیں اُنکی نیند جٓاتی رہتی ہے۔
17 کیونکہ وہ شرارت کی روٹی کھاتے اور ظلم کی مے پیتے ہیں۔
18 لیکن صادقوں کی راہ نور سحر کی مانند ہے جٓسکی روشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جٓاتی ہے۔
19 شریروں کی راہ تاریکی کی مانند ہے۔وہ نہیں جٓانتے کہ کن چیزوں سے اُنکو ٹھوکر لگتی ہے۔
20 اَے میرےبیٹے !میری باتوں پر توجہ کر۔میرے کلام پر کان لگا ۔
21 اُسکو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دے۔اُسکواپنے دِل میں رکھ ۔
22 کیونکہ جو اِسکوپالیتے ہیں یہ اُنکی حیات اور اُنکے سارے جسم کی صحت ہے۔
23 اپنے دِل کی خوب حفاطت کر کیونکہ زندگی کا سر چشمہ وہی ہے۔
24 کجگومنہ تجھ سے الگ رہے۔دروغگولب تجھ سے دور ہوں۔
25 تیری آنکھیں سامنے ہی نظر کریں اور تیری پلکیں سیدھی رہیں۔
26 اپنے پاؤں کے راستے کو ہموار بنا اور تیری سب راہیں قائم رہیں ۔
27 نہ دہنے مڑ نہ بائیں اور پاؤں کو بدی سے ہٹالے ۔


باب 5

1 اَے میرے بیٹے!میری حکمت پر توجہ کر ۔میرے فہم پر کان لگا۔
2 تاکہ تو تمیز کو محفوظ رکھے اور تیرے لب علم کے نگہبان ہوں۔
3 کیونکہ بی یگا عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے اور اُسکا مُنہ تیل سے زیادہ چکنا ہے
4 پر اُسکا انجام ناگدونے کی مانندتلخ اور دودھاری تلوار کی مانند تیز ہے۔
5 اُسکے پاؤں موت کی طرف جٓاتے ہیں ۔اُسکے قدم پاتال تک پہنچتے ہیں ۔
6 سواُسے زندگی کا ہموار راستہ نہیں ملتا ۔اُسکی راہیں بے ٹھکانا ہیں پر وہ بے خبر ہے۔
7 اِسلئے اَے میرے بیٹو !میری سُنو اور میرے مُنہ کی باتوں سے برگشتہ نہ ہو۔
8 اُس عورت سےاپنی راہ دور رکھ اور اُسکے گھر کے دروازہ کے پاس بھی نہ جٓا۔
9 اَیسا نہ ہو کہ تواپنی آبروکسی غیر کے اور اپنی عمر بے رحم کے حوالہ کرے۔
10 اَیسا نہ ہو کہ بی یگا تیری قوت سے سیر ہوں اور تیری کمائی کسی غیر کے گھر جٓائے۔
11 اور جب تیرا گوشت اور تیرا جسم گھل جٓائیں توتو اپنے انجام پر نوحہ کرے
12 اور کہے میں نے تربیت سے کیسی عدوات رکھی اور میرے دِل نے ملامت کو حقیر جٓانا۔
13 نہ میں نے اُستادوں کا کہا مانا نہ اپنے تربیت کرنے والوں کی سُنی!
14 میں جماعت اور مجلس کے درمیان قریباًسب بُرائیوں میں مبتلا ہوا۔
15 تو پانی اپنے ہی حوض سے اور بہتا پانی اپنے ہی چشمہ سے پینا۔
16 کیا تیرے چشمے باہر بہ جٓائیں اور پانی کی ندیاں کوچوں میں؟
17 وہ فقط تیرے ہی لئے ہوں۔نہ تیرے ساتھ غیروں کے لئے بھی۔
18 تیرا سوتا مُبارک ہواور تو اپنی جوانی کی بیوی کے ساتھ شادرہ ۔
19 پیاری ہرنی اور دلفریب غزال کی ماننداُسکی چھاتیاں تجھے ہر وقت آسودہ کریں اور اُسکی محبت تجھے ہمیشہ فریفتہ رکھے۔
20 اَے میرے بیٹے !تجھے ب یگا عورت کیوں فریفتہ کرے اور تو غیر عورت سے کیوں ہم آغوش ہو؟
21 کیونکہ اِنسان کی راہیں خداوند کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور وہی اُسکے سب راستوں کو ہموار بناتا ہے۔
22 شریر کو اُسی کی بدکاری پکڑیگی اور وہ اپنے ہی گناہ کی رسیوں سے جکڑا جٓایئگا ۔
23 وہ تربیت نہ پانے کے سبب سے مر جٓائیگا ۔اور اپنی سخت حمایت کے سبب سے گمراہ ہو گا۔


باب 6

1 اے میرے بیٹے !اگر تو اپنے پڑوسی کا ضامن ہوا ہے ۔اگر تو ہاتھ مار کر کسی ب یگا کا ذمہ وار
2 تو تو اپنے ہی منہ کی باتوں میں پھنسا ۔تو اپنے ہی منہ کی باتوں سے پکڑا گیا ۔
3 سو اَے میرے بیٹے !چونکہ تو اپنے پڑوسی کے ہاتھ میں پھنس گیا ہے۔اب یہ کر اور اپنے آپ کو بچالے ۔جٓا۔خاکسار بن کر اپنے پڑوسی سے اِصرار کر۔
4 تو نہ اپنی آنکھوں میں نیند آنے دے اور نہ اپنی پلکوں میں جھپکی۔
5 اپنے آپ کو ہرنی کی مانند صیاد کے ہاتھ سے اور چڑیاکی ما نند یمار کے ہاتھ سے چھڑا۔
6 اَے کاہل !چیو نٹی کے پاس جٓا ۔اُسکی روشوں پر غورکر اور دانشمندبن ۔
7 جو با ؤجودیکہ اُسکانہ کوئی نہ سردار نہ ناظر نہ حاکم ہے۔
8 گرمی کے موسم میں اپنی خوراک مہیا کرتی ہے اور فصل کٹنے کے وقت اپنی خورش جمع کرتی ہے۔
9 اَے کاہل !تو کب تک پڑارہیگا؟تو نیند سے کب اُٹھیگا ؟
10 تھوڑی سی نیند ۔ایک اور جھپکی۔ذراپڑے رہنے کو ہاتھ پر ہاتھ ۔
11 اِسی طرح تیری مُفلسی راہزن کی طرح اور تیری تنگ دستی مسلح آدمی کی طرح آپڑیگی۔
12 خبیث وبدکارآدمی ٹیڑھی ترچھی زبان لئے پھرتا ہے۔
13 وہ آنکھ مارتا ہے۔وہ پاؤں سے باتیں اور اُنگلیوں سے اِشارہ کر تا ہے۔
14 اُسکے دِل میں کجی ہے ۔وہ بُرائی کے منصوبے باندھتا رہتا ہے۔وہ فتنہ انگیز ہے۔
15 اِسلئے آفت اُس پر ناگہاں آپڑیگی ۔وہ یک لخت توڑدِیا جٓا ئیگااورکوئی چارہ نہ ہو گا ۔
16 چیزیں ہیں جن سے خداوند کو نفرت ہےسات ہیں جن سے اُسے کراہیت ہے۔
17 اوچی آنکھیں ۔جھوٹی زبان ۔بے گناہ کاخون بہانے والے ہاتھ ۔
18 بُرے منصوبے باندھے والا دِل ۔شرارت کے لئے تیز رو پاؤں ۔
19 جھوٹا گواہ جو دروغ گوئی کر تا ہےاور جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔
20 اَے میرے بیٹے !اپنے باپ کے فرمان کو بجالا اور اپنی ماں کی تعلیم کو نہ چھوڑ۔
21 اِنکو اپنے دِل پر باندھے رکھ اور اپنے گلے کا طوق بنالے ۔
22 یہ چلتے وقت تیری رہبری اور سوتے وقت تیری نگہبانی اور جٓاگتے وقت تجھ سے باتیں کر یگی ۔
23 کیونکہ فرمان چراغ ہے اور تعلیم نُور اور تربیت کی ملامت حیات کی راہ ہے۔
24 تاکہ تجھ کو بری عورت سے بچائے یعنی ب یگا عورت کی زبان کی چاپُلوسی سے۔
25 تو اپنے دِل میں اُسکے حُسن پر عاشق نہ ہواور وہ تجھ کو اپنی پلکوں سے شکار نہ کرے ۔
26 کیونکہ چھنال کے سبب سے آدمی ٹکڑ ے کا محتاج ہو جٓا تا ہے۔اور زانیہ قیمتی جٓان کا شکار کرتی ہے۔
27 کیا ممکن ہے کہ آدمی اپنے سینہ میں آگ رکھےاور اسکے کپڑے نہ جلیں ؟
28 یا کوئی انگاروں پر چلے اور اُسکے پاؤں نہ جھلسیں ؟
29 وہ بھی اَیسا ہے جو اپنے پڑوسی کی بیوی کے پاس جٓاتا ہے۔جو کوئی اُسے چھوئے بے سزا نہ رہیگا۔
30 چوراگر بھو ک کے مارے اپنا پیٹ بھرنے کو چوری کرے تو لوگ اُسے حقیر نہیں جٓانتے ۔
31 پر اگر وہ پکڑا جٓائے تو سات گنا بھر یگا ۔اُسے اپنے گھر کا سارا مال دینا پڑیگا ۔
32 جو کسی عورت سے زنا کر تا ہے وہ بے عقل ہے ۔ وہی اَیسا کرتا ہے جو اپنی جٓان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
33 وہ زخم اور ذلت اُٹھائیگا اور اسکی رُسوائی کبھی نہ ہٹیگی ۔
34 کیونکہ غیرت سے آدمی غضبناک ہو تا ہےاور وہ اِنتقام کے دِن نہیں چھوڑیگا ۔
35 وہ کوئی فدیہ منظور نہیں کر یگا اور گو تو بہت سے انعام بھی دے تو بھی وہ راضی نہ ہو گا ۔


باب 7

1 اَے میرے بیٹے !میری باتوں کو مان اور میرے فرما ن کو نگاہ میں رکھ۔
2 میرے فرمان کو بجالا اور زندہ رہ اور میری تعلیم کو اپنی آنکھ کی پتلی جٓان ۔
3 اُنکو اپنے اُنگلیوں پر باندھ لے ۔اُنکو اپنے دِل کی تختی پر لکھ لے۔
4 حکمت سے کہہ تو میری بہن ہے اور فہم کو اپنا رشتہ دار قراردے ۔
5 تاکہ وہ تجھ کو پرائی عورت سے بچائیں یعنی ب یگا عورت سے جو چاپلوسی کی باتیں کرتی ہے
6 کیونکہ میں نے اپنے گھر کی کھڑکی سے یعنی جھروکے میں سے باہر نگاہ کی
7 اور میں نے ایک بے عقل جوان کو نادانوں کے درمیان دیکھا۔یعنی نوجوانون کے درمیان وہ مجھے نظر آیا
8 کہ اُس عورت کے گھر کے پاس گلی کے موڑسے جٓارہا ہے اور اُس نے اُسکے گھر کا راستہ لیا ۔
9 دِن چھپے شام کے وقت ۔رات کے اندھیرے اور تاریکی میں
10 اور دیکھو !وہاں اُس سے ایک عورت آملی جو دِل کی چالاک اور کسبی کا لباس پہنےتھی ۔
11 وہ غوغائی اور خود سر ہے۔اُسکے پاؤں اپنے گھر میں نہیں ٹکتے ۔
12 ابھی وہ کوچوں میں ہے۔ابھی بازاروں میں اور ہر موڑ پر گھات میں بیٹھتی ہے۔
13 سو اُس نے اُسکو پکڑکر چوما اور بے حیامنہ سے اُس سے کہنے لگی
14 سلامتی کی قربانی کے ذبی مجھ پر فرض تھے۔آج میں نے اپنی نذریں ادا کی ہیں۔
15 اِسی لئے میں تیری ملاقات کو نکلی کہ کسی طرح تیرا دِیدار حاصل کروں ۔سو تو مجھے مل گیا۔
16 میں نے اپنے پلنگ پر کامدار غالیچےاور مصر کے سوت کے دھاری دار کپڑے بچھائے ہیں۔
17 میں نے اپنے بستر کو مرا ور عود اور دار چینی سے معطر کیا ہے۔
18 آہم صبح تک دِل بھر کر عشق بازی کریں اور محبت کی باتوں سے دِل بہلائیں ۔
19 کیونکہ میرا شوہر گھر میں نہیں ۔اُس نے دُور کا سفر کیا ہے۔
20 وہ اپنے ساتھ روپے کی تھیلی لے گیا ہےاور پورے چاند کے وقت گھر آیئگا ۔
21 اُس نے میٹھی میٹھی باتوں سے اُسکوپُھسلا لیا اور اپنےلبوں کی چاپلوسی سے اُسکو بہکا لیا ۔
22 وہ فوراً اسکے پیچھے ہو لیا۔جیسے ب ذبح ہونے کو جٓاتا ہے یا ب ڑوں میں احمق سزا پانے کو۔
23 جیسے پرندہ جٓال کی طرف تیز جٓاتا ہےاور نہیں جٓانتا کہ وہ اُسکی جٓان کے لئے ہے۔حتی کہ تیراسکے جگر کے پار ہو جٓائیگا ۔
24 سواب اے بیٹو!میری سنو اور میرے منہ کی باتوں پر توجہ کرو
25 تیرا دل اسکی راہوں کی طرف مائل نہ ہو۔تو اسکے راستوں میں گمراہ نہ ہونا ۔
26 کیونکہ اُس نے بہتوں کو زخمی کرکے گرا دیا ہے۔بلکہ اسکے مقتول بے شمار ہیں ۔
27 اسکا گھر پاتال کا راستہ ہےاور موت کی کوٹھریوں کو جٓاتا ہے۔


باب 8

1 کیا حکمت پکار نہیں رہی اور فہم آواز بلند نہیں کر رہا ؟
2 وہ راہ کے کنارے کی اُونچی جگہوں کی چوٹیوں پر جہاں سڑکیں ملتی ہیں کھڑی ہو تی ہے۔
3 پھاٹکوں کے پاس شہر کے مدخل پر یعنی دروازوں کے مدخل پر وہ زور سے پکارتی ہے۔
4 اَے آدمیو!میں تمکو پکارتی ہوں اور بنی آدم کو آواز دیتی ہوں۔
5 اَے سادہ دِلو !ہو شیاری سیکھو اور اے احمقو! دانا دِل بنو ۔
6 سنو !کیونکہ میں لطیف باتیں کہونگی اور میرے لبوں سے راستی کی باتیں نکلینگی ۔
7 اِسلئے کہ میرا منہ سچا ئی کو بیان کر یگا اور میرے ہونٹوں کو شرارت سے نفرت ہے۔
8 میرے منہ کی سب باتیں صداقت کی ہیں ۔اُن میں کچھ ٹیڑھا ترچھانہیں ہے ۔
9 سمجھنے والے کے لئے وہ سب صاف ہیں اور علم حاصل کرنے والوں کے لئے راست ہیں ۔
10 چاندی کو نہیں بلکہ میری تربیت کو قبول کرو اور کندن سے بڑھ کر علم کو۔
11 کیونکہ حکمت مر جٓان سے افضل ہےاور سب مرغوب چیزوں میں بے نظیر ۔
12 مجھ حکمت نے ہو شاری کو اپنا مسکن بنایا ہےاور علم اور تمیز کو پالیتی ہوں۔
13 خداوند کا خوف بدی سے عداوت ہے۔غرور اور گھمنڈاور بری راہ اور کجومنہ سے مجھے نفرت ہے۔
14 مشورت اور حمایت میری ہیں ۔فہم میں ہی ہوں ۔مجھ میں قدرت ہے۔
15 میری بدولت سلطنت کرتے اور اُمرا انصاف کافتوی دیتے ہیں۔
16 میری ہی بدولت حاکم حکومت کرتے ہیں اور سردار یعنی دُنیا کے سب قاضی بھی۔
17 جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں میں ان سے محبت رکھتی ہوں اورجو مجھے دل سے ڈھونڈتے ہیں وہ مجھے پا لینگے ۔
18 دولت وعزت میرے ساتھ ہیں۔بلکہ دائمی دولت اور صداقت بھی۔
19 میراپھل سونے سے بلکہ کندن سے بھی بہتر ہےاور میرا حاصل خالص چاندی سے ۔
20 میں صداقت کی راہ پر انصاف کے راستوں میں چلتی ہوں۔
21 تاکہ میں اُنکو جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں مال کے وارث بناوں اور انکے خزانوں کو بھردوں۔
22 خداوند نے انتقام عالم کےشروع میں اپنی قدیمی صنعتوں سے پہلے مجھے پیدا کیا ۔
23 میں ازل سے یعنی ابتدا ہی سے مقرر ہوئی ۔اس سے پہلے کہ زمین تھی۔
24 میں اس وقت پیدا ہوئی جب گہراو نہ تھے ۔جب پانی سے بھرے ہوئے چشمے بھی نہ تھے۔
25 میں پہاڑوں کے قائم کئے جٓانے سے پہلے اور ٹیلوں سے پہلے خلق ہوئی ۔
26 جب کہ اُس نے ابھی نہ زمین کو بنایا تھا نہ میدانوں کو اور نہ زمین کی خاک کی ابتداتھی۔
27 جب اُس نے آسمان کو قائم کیا میں وہیں تھی ۔جب اُس نے سمندر کی سطح پر دائرہ کھینچا۔
28 جب اس نے اوپر افلاک کو استوار کیا اور گہراو کے سوتے مضبوط ہو گئے ۔
29 جب اُس نے سمندر کی حد ٹھہرائی تاکہ پانی اُسکے حکم کو نہ توڑے۔ جب اُس نے زمین کی بنیاد کے نشان لگائے
30 اس وقت ماہرکاریگرکی مانند میں اسکے پاس تھی اور میں ہر روز اسکی خوشنودی تھی اور ہمیشہ اسکے حضور شادمان رہتی تھی ۔
31 آبادی کے لالق زمین سے شادمان تھی اور میری خوشنودی بنی آدم کی صحبت میں تھی۔
32 اسلئے اَے بیٹو !میری سنوکیونکہ مبارک ہیں وہ جو میری راہوںپر چلتے ہیں ۔
33 تربیت کی بات سنو اور دانا بنو اور اسکو ردّنہ کرو ۔
34 مبارک ہے وہ آدمی جو میری سنتا ہے اور ہر روز میرے پھاٹکوں پر انتظار کرتا ہےاور میرے دروازوں کی چوکھٹوں پر ٹھہرا رہتا ہے۔
35 کیونکہ جو مجھ کو پاتا ہے زندگی پاتا ہےاور وہ خداوند کا مقبول ہوگا۔
36 لیکن جو مجھ سا بھٹک جٓاتا ہے اپنی ہی جٓان کو نقصان پہنچتاہے۔مجھ سے عداوت رکھنے والے سب موت سے محبت رکھتے ہیں۔


باب 9

1 حکمت نے اپنا گھر بنا لیا ۔اس نے اپنے ساتوں ستون تراش لئے ہیں۔
2 اس نے اپنے جٓانوروں کو ذبح کر لیا اور اپنی مے ملا کر تیار کر لی۔اس نے اپنا دسترخوان بھی چن لیا ۔
3 اس نے اپنی سہیلیوں کو روانہ کیا ہے۔وہ خود شہر کی اونچی جگہوں پر پکارتی ہے۔
4 جو سادہ دِل ہے اِدھر آجٓائے۔اور بے عقل سے کہتی ہے
5 آؤ!میری روٹی میں سے کھاو اور میر ی ملائی ہوئی مے میں سے پیو۔
6 اَے سادہ دلو!باز آو اور زندہ رہواور فہم کی راہ پر چلو۔
7 ٹھٹھاباز کو تنبیہ کرنے والا لعن طعن اُٹھا ئیگا اور شریر کو ملامت کرنے والے پر دھبا لگیگا۔
8 ٹھٹھا باز کو ملامت نہ کر ۔نہ ہو کہ وہ تجھ سے عداوت رکھنے لگے۔دانا کو ملامت کر اور وہ تجھ سے محبت رکھیگا۔
9 دانا کو تربیت کر اور وہ اور بھی دانا بن جٓائیگا ۔صادق کو سکھا اور وہ علم میں ترقی کر یگا۔
10 خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہےاور اس قدوس کی پہچان فہم ہے۔
11 کیونکہ میری بدولت تیرے ایام بڑھ جٓائینگے اور تیری زندگی کے سال زیادہ ہونگے۔
12 اگر تو دانا ہے تو اپنے لئے اور اگر تو ٹھٹھاباز ہے تو خود ہی بھگتیگا ۔
13 احمق عورت غوغائی ہے۔وہ نادان ہے اور کچھ نہیں جٓانتی ۔
14 وہ اپنے گھر کے دروازہ پرشہر کی اونچی جگہوں میں بیٹھ جٓاتی ہے
15 تاکہ آنے جٓانے والوں کو بلائےجو اپنے اپنےراستہ پر سیدھے جٓارہےہیں۔
16 سادہ دل ادھر آجٓائیں اور بے عقل سے وہ یہ کہتی ہے
17 چوری کا پانی میٹھا ہے اور پوشیدگی کی روٹی لذیذ
18 پر وہ نہیں جٓانتا کہ وہاں مردے پڑے ہیں اور اس عورت کے مہمان پاتال کی تہ میں ہیں۔


باب 10

1 سلیمان کی امثال دانا بیٹا باپ کو خوش رکھتا ہےلیکن احمق بیٹا اپنی ماں کا غم ہے۔
2 شرارت کے خزانے عبث ہیں لیکن صادقت موت سے چھڑاتی ہے۔
3 خداوند صادق کی جٓان کو فاقہ نہ کرنے دیگاپر شریروں کی ہوس کو دور ودفع کریگا۔
4 جو ڈھیلے ہاتھ سے کام کرتا ہے کنگال ہو جٓاتا ہےلیکن محنتی کا ہاتھ دولتمند بنا دیتا ہے ۔
5 وہ جو گرمی میں جمع کرتا ہے دانا بیٹا ہےپر وہ بیٹا جو درو کے وقت سوتا رہتا ہے شرم کا باعث ہے۔
6 صادق کے سر پر برکتیں ہوتی ہیں لیکن شریروں کے منہ کو ظلم ڈھانکتا ہے ۔
7 راست آدمی کی یاد گار مبارک ہے لیکن شریروں کانام سڑجٓائیگا ۔
8 دانادل فرمان بجالائیگا پر بکواسی احمق پچھاڑ کھایئگا ۔
9 راست رو بے کھٹکے چلتا ہےلیکن جو کجروی کرتا ہے ظاہر ہو جٓایئگا۔
10 آنکھ مارنے والارنج پہنچاتا ہےاور بکواسی احمق پچھاڑکھا یئگا۔
11 صادق کا منہ حیات کا چشمہ ہے لیکن شریروں کے منہ کو ظلم ڈھانکتا ہے۔
12 عداوت جھگڑے پیدا کرتی ہےلیکن محبت سب خطاؤں کو ڈھانک دیتی ہے۔
13 عقلمند کے لبوں پرحکمت ہے لیکن بے عقل کی پیٹھ کے لئے لٹھ ہے ۔
14 داناآدمی علم جمع کرتے ہیں لیکن احمق کا منہ قریبی ہلاکت ہے۔
15 دولتمند کی دولت اسکا محکم شہر ہے۔
16 صادق کی محنت زندگانی کا باعث ہے ۔شریر کی اقبالمندی گناہ کراتی ہے۔
17 تربیت پذیر زندگی کی راہ پر ہےلیکن ملامت کو ترک کرنے والا گمراہ ہو جٓاتا ہے
18 عداوت کو چھپانے والا دروغگو ہےاور تہمت لگانے والا احمق ہے۔
19 کلام کی کثرت خطا سے خالی نہیں لیکن ہونٹوں کو قابو میں رکھنے والا دانا ہے ۔
20 صادق کی زبان خالص چاندی ہے۔شریروں کے دل بے قدر ہیں ۔
21 صادق کے ہونٹ بہتوں کو غذا پہنچاتے ہیں لیکن احمق بے عقلی سے مرتے ہیں۔
22 خداوند ہی کی برکت دولت بخشتی ہےاور وہ اسکے ساتھ دکھ نہیں ملاتا ۔
23 احمق کے لئے شرارت کھیل ہےپر حکمت عقلمند کے لئے ہے۔
24 شریر کا خوف اُس پر آپڑیگا اور صادقوں کی مراد پوری ہوگی ۔
25 جب بگولا گذرتا ہے تو شر یر نیست ہو جٓاتا ہےلیکن صادق ابدی بُنیاد ہے۔
26 جیسا دانتوں کے لئے سرکہ اور آنکھوں کے لئے دھواں ویسا ہی کاہل اپنے بھیجنے والوں کے لئے ہے۔
27 خداوند کا خوف عمر کی درازی بخشتا ہےلیکن شریروں کی زندگی کو تازہ کر دی جٓائیگی ۔
28 لیکن شریروں کی توقع خاک میں مل جٓائیگی ۔
29 خداوند کی راہ راستباروں کے لئے پناہگاہ لیکن بدکرداروں کے لئے ہلاکت ہے۔
30 صادقوں کو کبھی جبنش نہ ہوگی لیکن شریر زمین پر قائم نہیں رہینگے
31 صادق کے منہ سے حکمت نکلتی ہےلیکن کجگو زبان کاٹ ڈالی جٓایئگی ۔
32 صادق کے ہونٹ پسندیدہ بات سے آشنا ہیں لیکن شریروں کے منہ کجگوئی سے۔


باب 11

1 دغا کے ترازوسے خداوند کو نفرت ہےلیکن پورا باٹ اُسکی خوشی ہے۔
2 تکبر کے ہمراہ رسوائی آتی ہےلیکن خاکساروں کے ساتھ حکمت ہے۔
3 راستبازوں کی راستی انکی راہنما ہو گی لیکن دغا بازوں کی کجروی اُنکو برباد کریگی ۔
4 قہر کے دن مال کام نہیں آتا لیکن صداقت موت سے رہائی دیتی ہے۔
5 کامل کی صداقت اُسکی راہنمائی کریگی لیکن شریر اپنی ہی شررات سے گرپڑیگا۔
6 راستبازوں کی صداقت انکو رہائی دیگی لیکن دغاباز اپنی ہی بد نیتی میں پھنس جٓا یئنگے ۔
7 مرنے پر شریر کی توقع خاک میں مل جٓاتی ہےاور ظالموں کی امید نیست ہو جٓاتی ہے۔
8 صادق مصبیت سے رہائی پاتا ہے اور شریر اس میں پڑجٓاتا ہے۔
9 بے دین اپنی باتوں سے اپنے پڑوسی کو ہلاک کرتا ہےلیکن صادق علم کے ذریعہ سے رہائی پایئگا ۔
10 صادقوں کی خوشحالی سے شہر خوش ہوتا ہےاور شریروں کی ہلاکت پر خوشی کی للکار ہوتی ہے
11 راستبازوں کی دعاسے شہر سرفرازی پاتاہے لیکن شریروں کی باتوں سے برباد ہوتا ہے
12 اپنے پڑوسی کی تحقیر کرنے والا بے عقل ہے لیکن صاحب فہم خاموش رہتا ہے۔
13 جو کوئی لتراپن کرتا پھرتا ہے راز فاش کرتا ہے لیکن ج س میں وفا کی روح ہے وہ راز دار ہے ۔
14 نیک صلاح کے بغیر لوگ تباہ ہوتے ہیں لیکن صلا حکاروں کی کثرت میں سلامتی ہے۔
15 جو بغیانہ کا ضامن ہوتا ہے سخت نقصان اُٹھایئگا لیکن جس ضمانت سے نفرت ہے وہ بے خطر ہے
16 نیک سیرت عورت عزت پاتی ہے اور تند خوآدمی مال حاصل کرتے ہیں ۔
17 رحمدل اپنی جٓان کے ساتھ نیکی کرتا ہےلیکن بےرحم اپنے جسم کو دکھ دیتا ہے۔
18 شریر کی کمائی باطل ہے لیکن صداقت بونے والا حقیقی اجر پاتا ہے ۔
19 صداقت پر قائم رہنے والا زندگی حاصل کرتا ہے اور بدی کا پیرواپنی موت کو پہنچتا ہے۔
20 کج دلوں سے خداوند کو نفرت ہے لیکن کامل رفتار اُسکی خوشنودی ہیں۔
21 یقیناًشریر بے سزا نہ چھوٹیگا لیکن صادقوں کی نسل رہائی پایئگی ۔
22 بے تمیز عورت میں خوبصورتی گویا سوار کی ناک میں سونے کی نتھ ہے۔
23 صادقوں کی تمنا صرف نیکی ہےلیکن شریروں کی اُمید غضب ہے۔
24 کوئی تو بتھراتا ہے پر تو بھی ترقی کرتا ہے اور واجب خرچ سے دریغ کرتا ہے پر توبھی کنگال ہے۔
25 فیاض دل موٹا ہوجٓایئگا اور سیراب کرنے والا خود بھی سیراب ہوگا ۔
26 جو غلہ روک رکھتا ہے لوگ اس پر لعنت کرینگے لیکن جو اُسے بیچتا ہے اسکے سر پر برکت ہو گی ۔
27 جو دل سے نیکی کی تلاش میں ہے مقبولیت کا طالب ہے لیکن جو بدی کی تلاش میں ہے وہ اُسی کےآگے آیئگی ۔
28 جو اپنے مال پر بھروساکرتا ہے گر پڑیگا لیکن صادق ہرے پتوں کی طرح سرسبز ہونگے ۔
29 جو اپنے گھرانے کو دکھ دیتا ہے ہوا کا وارث ہوگا اور احمق دانا دل کا خادم بنیگا ۔
30 صادق کا پھل حیات کا درخت ہے اور جو دانشمند ہے دِلوں کو موہ لیتاہے۔
31 دیکھ صادق کو زمین پر بدلہ دیا جٓایئگا تو کتنا زیادہ شریر اور گنہگار کو!


باب 12

1 جو تربیت کو دوست رکھتا ہے علم کو دوست رکھتا ہے لیکن جو تنبیہ سے نفرت رکھتا ہے وہ حیوان ہے ۔
2 نیک آدمی خداوند کا مقبول ہوگالیکن برے منصوبے باند ھنے والے کو وہ مجرم ٹھہرایئگا ۔
3 آدمی شرارت سے پایدار نہیں ہوگا لیکن صادقوں کی جڑ کو کبھی جنبش نہ ہوگی ۔
4 نیک عورت اپنے شوہر کے لئے تاج ہے لیکن ندامت لانے والی اسکی ہڈیوں میں بوسیدگی کی مانند ہے ۔
5 صادقوں کے خیالات دُرست ہیں لیکن شریروں کی مشورت مکر ہے ۔
6 شریروں کی باتیں یہی ہیں کہ خون کرنے کے لئے تاک میں بیٹھیں لیکن صادقوں کی باتیں انکو رہائی دینگی ۔
7 شریر پچھاڑکھاتے اور نیست ہوتے ہیں لیکن صادقوں کا گھر قائم رہیگا ۔
8 آدمی کی تعریف اسکی عقلمندی کے مطابق کی جٓاتی ہے لیکن بے عقل حقیر ہوگا ۔
9 جو چھوٹا سمجھاجٓاتا ہے لیکن اسکے پاس ایک نوکر ہے اس سے بہتر ہے جو اپنے آپکو بڑاجٓانتا اور روٹی کا محتاج ہے۔
10 صادق اپنے چوپائے کی جٓان کا خیال رکھتا ہے لیکن شریروں کی رحمت بھی عین ظلم ہے۔
11 جو اپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے روٹی سے سیر ہوگالیکن بطالت کا پیرو بے عقل ہے ۔
12 شریر بد کرداروں کے دام کا مشتاق ہے لیکن صادقوں کی جڑپھلتی ہے۔
13 لبوں کی خطارری میں شریر کے لئے پھنداہے لیکن صادق مصبیت سے بچ نکلیگا۔
14 آدمی کے کلام کا پھل اسکو نیکی سے آسودہ کریگا اور اسکے ہاتھوں کے کئے کی جزا اُسکوملیگی ۔
15 احمق کی روش اسکی نظر میں درست ہے لیکن دانا نصیحت کو سنتا ہے
16 احمق کا غضب فوراًظاہر ہو جٓاتا ہے لیکن ہوشیار ندامت کو چھپاتا ہے ۔
17 راستگوصداقت ظاہر کرتا ہے لیکن جھوٹاگواہ دغابازی ۔
18 بے تامل بولنے والے کی باتیں تلوار کی طرح چھید تی ہیں لیکن دانشمندکی زبان صحت بخش ہے۔
19 سچے ہونٹ ہمیشہ تک قائم رہینگے لیکن جھوٹی زبان ٖصرف دم بھرکی ہے۔
20 بد ی کے منصوبے باندھنے والوں کے دل میں دغاہےلیکن صلح کی مشورت دینے والوں کے لئے خوشی ہے
21 صادق پر کوئی آفت نہیں آیئگی لیکن شریر بلامیں مبتلا ہونگے۔
22 جھوٹے لبوں سے خداوند کو نفرت ہے لیکن راستکا ر اسکی خوشنودی ہیں۔
23 ہوشیارآدمی علم کو چھپاتا ہےلیکن احمق کا دل حمایت کی منادی کرتاہے۔
24 محنتی آدمی کا ہاتھ حکمران ہو گا ۔لیکن سُست آدمی باج گذار بنیگا ۔
25 آدمی کا دل فکرمندی سے دب جٓاتا ہے لیکن اچھی بات سے خوش ہوتا ہے۔
26 صادق اپنے ہمسایہ کی راہنمائی کرتا ہے لیکن شریروں کی روش انکو گمراہ کر دیتی ہے۔
27 سست آدمی شکارپکڑکر کباب نہیں کرتا لیکن اِنسان کی گران بہا دولت محنتی پاتا ہے۔
28 صداقت کی راہ میں زندگی ہے اور اُسکے راستہ میں ہرگز موت نہیں۔


باب 13

1 دانشمند بیٹا!اپنے باپ کی تعلیم کو سنتا ہے لیکن ٹھٹھاباز سرزنش پر کان نہیں لگاتا ۔
2 آدمی اپنے کلام کے پھل سے اچھاکھا یئگا لیکن دغا بازوں کی جٓان کے لئے ستم ہے۔
3 اپنے منہ کی نگہبانی کرنے والا اپنی جٓان کی حفاظت کرتا ہے لیکن جو اپنے ہونٹ پسارتا ہے ہلاک ہوگا۔
4 سُست آدمی آرزو کرتا ہے پر کچھ نہیں پاتا لیکن محنتی کی جٓان فربہ ہوگی ۔
5 صادق کو جھوٹ سے نفرت ہے لیکن شریر نفرت انگیز ورسوا ہوتا ہے۔
6 صداقت راست رو کی حفاظت کرتی ہے لیکن شرارت شریر کو گرا دیتی ہے۔
7 کوئی اپنے آپ کو دولتمند جتاتا ہے لیکن نادار ہےاور کوئی اپنے آپ کو کنگال بتاتا ہے پر بڑا مالدار ہے۔
8 آدمی کی جٓان کا کفارہ اُسکا مال ہےپر کنگال دھمکی کو نہیں سنتا۔
9 صادقوں کا چراغ روشن رہیگا لیکن شریروں کا دیا بجھایا جٓایئگا۔
10 تکبر سے صرف جھگڑاپیدا ہوتا ہےلیکن مشورت پسند کے ساتھ حکمت ہے۔
11 جو دولت بطالت سے حاصل کی جٓائے کم ہو جٓائیگی لیکن محنت سے جمع کرنے والے کی دولت بڑھتی رہئیگی۔
12 اُمید کے بر آنے میں تاخیردل کو بیمار کرتی ہےپر آرزو کا پورا ہونا زندگی کا درخت ہے۔
13 جو کلام کی تحقیرکرتا ہے اپنے آپ پر ہلاکت لاتا ہے پر جو فرمان سے ڈرتا ہے اجر پائیگا ۔
14 دانشمند کی تعلیم حیات کا چشمہ ہے جو موت کے پھندوں سے چھٹکارے کا باعث ہو۔
15 فہم کی دُرستی مقبولیت بخشتی ہےلیکن دغابازوں کی راہ کٹھن ہے۔
16 ہر ایک ہوشیار آدمی دانائی سے کام کرتا ہےپر احمق اپنی حمایت کو پھیلادیتا ہے۔
17 شریر قاصد بلا میں گرفتار ہوتا ہےپر دیانتدار ایلچی صحت بخش ہے۔
18 تربیت کو رد کرنے والا کنگالااور رسوا ہو گا پر وہ جو تنبیہ کا لحاظ رکھتا ہے عزت پائیگا ۔
19 جب مراد بر آتی ہے تب جی بہت خوش ہوتا ہےپر بدی کو ترک کرنے سے احمق کو نفرت ہے۔
20 وہ جو داناوں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کیا جٓائیگا ۔
21 بدی گنہگاروں کا پیچھا کرتی ہےپر صادوقوں کو نیک جزاملیگی ۔
22 نیک آدمی اپنے پوتوں کے لئے میراث چھوڑتا ہے پر گنہگار کی دولت صادقوں کے لئے فراہم کی جٓاتی ہے۔
23 کنگالوں کی کھیتی میں بہت خوراک ہو تی ہے پر ایسے لوگ بھی ہیں جو بے انصافی سے برباد ہو جٓاتے ہیں۔
24 وہ جو اپنی چھڑی کو باز رکھتا ہے اپنے بیٹے سے کینہ رکھتا ہے پر وہ جو اس سے محبت رکھتا ہے بروقت اسکو تنبیہ کرتا ہے۔
25 صادق کھا کر سیر ہو جٓاتاہے پر شریر کا پیٹ نہیں بھرتا ۔


باب 14

1 دانا عورت اپنا گھر بناتی ہےپر احمق اُسے اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کرتی ہے۔
2 راست رو خداوند سے ڈرتا ہے پر کجرو اسکی حقارت کرتا ہے۔
3 احمق میں غرور پھوٹ نکلتا ہے پر دانشمند وں کے لب انکی نگہبانی کرتے ہیں۔
4 جہاں بیل نہیں وہاں چرنی صاف ہے لیکن غلہ کی افزایش بیل کے زور سے ہے ۔
5 دیانتدار گواہ جھوٹ نہیں بولتا لیکن جھوٹا گواہ جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے۔
6 ٹھٹھا باز حکمت کی تلاش کرتا ہے اور نہیں پاتا لیکن صاحب فہم کو علم آسانی سے حاصل ہوتا ہے ۔
7 احمق سے کنارہ کر کیونکہ تو اُس میں علم کی باتیں نہیں پائیگا ۔
8 ہوشیار کی حکمت یہ ہے کہ اپنی راہ پہچانے لیکن احمقوں کی حمایت دھوکہ ہے۔
9 احمق گناہ کرکے ہنستے ہیں پر راستکاروں میں رضامندی ہے۔
10 اپنی تلخی کو دل ہی خوب جٓانتا ہے اور بغیانہ اُسکی خوشی میں داخل نہیں رکھتا۔
11 شریر کا گھر برباد ہو جٓائیگا پر راست آدمی کا خیمہ آباد رہئیگا۔
12 ایسی راہ بھی ہے جو انسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہےپر اسکی انتہا میں موت کی راہیں ہیں۔
13 ہنسنےمیں بھی دل غمگین ہے اور شادمانی کا انجام غم ہے ۔
14 برگشتہ دل اپنی روش کا اجر پاتا ہےاور نیک آدمی اپنے کام کا۔
15 نادان ہر بات کا یقین کر لیتا ہے لیکن ہوشیار آدمی اپنی روش کو دیکھتا بھالتا ہے۔
16 دانا ڈرتا ہے اور بدی سے الگ رہتا ہے پر احمق جھنجھلاتا ہے اور بیباک رہتا ہے۔
17 زودرنج بیوقوفی کرتا ہے اور برے منصوبے باندھنے والا گھنونا ہے۔
18 نادان حمایت کی میراث پاتے ہیں پر ہوشیاروں کے سر پر علم کا تاج ہے۔
19 شریر نیکوں کے سامنے جھکتے ہیں اور خبیث صادقوں کے دروازوں پر۔
20 کنگال سے اُسکا ہمسایہ بھی بیزار ہے پر مالدار کے دوست بہت ہیں۔
21 اپنے ہمسایہ کو حقیر جٓاننے والا گناہ کرتا ہےلیکن کنگال پر رحم کرنے والا مبارک ہے۔
22 کیا بدی کے موجد گمراہ نہیں ہوتے؟پر شفقت اور سچائی نیکی کے موجد کے لئے ہیں۔
23 ہر طرح کی محنت میں نفع ہے پر منہ کی باتوں میں محض محتاجی ہے۔
24 داناوں کا تاج انکی دولت ہے پر احمقوں کی حمایت ہی حمایت ہے۔
25 گواہ جٓان بچانے والا ہے پر دروغگودغا بازی کرتا ہے۔
26 خداوند کے خوف میں قوی امید ہے اور اسکے فررزندوں کو پناہ کی جگہ ملتی ہے۔
27 خداوند کا خوف حیات کا چشمہ ہے جو موت کے پھندوں سے چھٹکارے کا باعث ہے۔
28 رعایا کی کثرت میں بادشاہ کی شان ہے پر لوگوں کی کمی میں حاکم کی تباہی ہے۔
29 جو قہر کرنے میں دَھیما ہے بڑا عقلمند ہے پر وہ جو جھکی ہے حمایت کو بڑھاتا ہے۔
30 مطمن دل جسم کی جٓان ہے لیکن حسد ہڈیوں کی بوسیدگی ہے۔
31 مسکین پر ظلم کرنے والا اسکے خالق کی اِہانت کرتا ہے لیکن اسکی تعظیم کرنے والا محتاجوں پر رحم کرتا ہے ۔
32 شریر اپنی شرارت میں پست کیا جٓاتا ہے لیکن صادق مرنے پر بھی امیدوار ہے۔
33 حکمت عقلمندکے دل میں قائم رہتی ہے پر احمقوں کا دلی راز فاش ہو جٓاتا ہے۔
34 صداقت قوم کو سر فرازی بخشتی ہےپرگناہ سے امتوں کی رسوائی ہے۔
35 عقلمند خادم پر بادشاہ کی نظر عنایت ہےپر اسکا قہر اس پر ہے جو رسوائی کا باعث ہے۔


باب 15

1 نرم جواب قہر کو دور کر دیتا ہے پر کرخت باتیں غضب انگیز ہیں ۔
2 داناوں کی زبان علم کا درست بیان کرتی ہے۔پر احمقوں کا منہ حمایت اگلتا ہے۔
3 خداوند کی آنکھیں ہر جگہ ہیں اور نیکوں اور بدوں کی نگران ہیں۔
4 صحت بخش زبان حیات کا درخت ہے پر اسکی کجگوئی روح کی شکستگی کا باعث ہے۔
5 احمق اپنے باپ کی تربیت کو حقیر جٓانتا ہے پر تنبیہ کا لحاظ رکھنے والا ہوشیار ہوجٓاتا ہے۔
6 صادق کے گھر میں بڑا خزانہ ہے پر شریر کی آمدنی میں پریشانی ہے۔
7 داناوں کے لب علم پھیلاتے ہیں پر احمقوں کے دل ایسے نہیں۔
8 شریروں کے ذبیحہ سے خداوند کو نفرت ہے پر راستکار کی دعا اسکی خوشنودی ہے۔
9 شریروں کی روش سے خداوند کو نفرت ہےپر وہ صداقت کے پیرو سے محبت رکھتاہے۔
10 راہ سے بھٹکنے والے کے لئے سخت تادیب ہے اور تنبیہ سے نفرت کرنے والا مریگا۔
11 جب پاتال اور جہنم خداوند کے حضور کھلے ہیں تو بنی آدم کے دل کا کیا ذکر ؟
12 ٹھٹھاباز تنبیہ کو دوست نہیں رکھتا اور داناوں کی مجلس میں ہر گز نہیں جٓاتا ۔
13 خوش دلی خندہ روئی پیدا کرتی ہےپر دل کی غمگینی سے انسان شکستہ خاطرہوتا ہے۔
14 صاحب فہم کا دل علم کا طالب ہے پر احمقوں کی خوراک حمایت ہے۔
15 مصیبت زدہ کے تمام ایام بُرے ہیں پر خوش دل ہمیشہ جشن کرتا ہے۔
16 تھورا جو خداوند کے خوف کے ساتھ ہو اس بڑے گنج سے جو پریشانی کے ساتھ ہو بہتر ہے۔
17 محبت والے گھر میں ذرا سا ساگ پات عداوت والے گھر میں پلے ہوئے بیل سے بہتر ہے۔
18 غضبناک آدمی فتنہ برپاکرتا ہےپر جو قہر میں دھیما ہے جھگڑامٹاتا ہے۔
19 کاہل کی راہ کانٹوں کی آڑسی ہے پر راستکاروں کی روش شاہراہ کی مانند ہے۔
20 دانا بیٹا باپ کو خوش رکھتا ہےپر احمق اپنی ماں کی تحقیر کرتا ہے۔
21 بے عقل کے لئے حمایت شادمانی کا باعث ہے پر صاحب فہم اپنی روش کو درست کرتا ہے۔
22 صلاح کے بغیر ارادے پورے نہیں ہوتے پر صلاحکاروں کی کثرت سے قیام پاتے ہیں ۔
23 آدمی اپنے منہ کے جواب سے مسُرور ہوتا ہے اور با موقع بات کیا خوب ہے!
24 دانا کے لئے زندگی کی راہ اُوپر کو جٓاتی ہے تاکہ وہ پاتال میں اترنے سے بچ جٓائے۔
25 خداوند مغروروں کا گھر ڈھا دیتا ہے پر وہ بیوہ کے سوانے کو قائم کرتا ہے ۔
26 برےمنصوبوں سے خداوند کو نفرت ہے پر پاک لوگوں کا کلام پسندیدہ ہے۔
27 نفع کا لالچی اپنے گھرانے کو پریشان کرتا ہے پر جس کو رشوت سے نفرت ہے زندہ رہئیگا ۔
28 صادق کا دل سوچ کر جواب دیتا ہے پر شریروں کا منہ بُری باتیں اُگلتا ہے۔
29 خداوند شریروں سے دُور ہے پر وہ صادقوں کی دُعا سُنتا ہے۔
30 آنکھوں کا نُور دِل کو خوش کرتا ہےاور خوشخبری ہڈیوں میں فربہی پیدا کرتی ہے۔
31 جو زندگی بخش تنبیہ پر کان لگاتا ہے داناوں کے درمیان سکونت کریگا ۔
32 تربیت کو رد کرنے والا اپنی ہی جٓان کا دشمن ہے پر تنبیہ پر کان لگانے والا فہم حاصل کرتا ہے۔
33 خداوند کا خوف حکمت کی تربیت ہےاور سرفرازی سے پہلے فروتنی ہے۔


باب 16

1 دل کی تدبیریں اِنسان سے ہےلیکن زبان کا جواب خدواند کی طرف سے ہے۔
2 اِنسان کی نظر میں اُسکی سب روشیں پاک ہیں لیکن خدوند روحوں کو جٓانچتا ہے۔
3 اپنے سب کام خداوند پر چھوڑدے تو تیرے اِرادے قائم رہینگے ۔
4 خداوند نے ہر ایک چیز خاص مقصد کے لئے بنائی ۔ہاں شریروں کو بھی اُس نےبُرے دِن کے لئے بنایا۔
5 ہر ایک سے جس کے دِل میں غرور ہے خداوند کو نفرت ہے یقیناًوہ بے سزا نہ چھوٹیگا۔
6 شفقت اور سچائی سے بدی کا کفارہ ہوتا ہے اور لوگ خداوند کے خوف سے سبب سے بدی سے باز آتے ہیں۔
7 جب اِنسان کی روشیں خداوند کو پسند آتی ہیں تو وہ اُسکے دشمنوں کی بھی اُسکے دوست بناتا ہے۔
8 صداقت کے ساتھ ساتھ سا مال بے اِنصافی کی بڑی آمدنی سے بہتر ہے۔
9 آدمی کا دِل اپنی راہ ٹھہراتا ہےپر خداوند اُسکے قدموں کی راہنمائی کرتا ہے۔
10 کلام ربانی بادشاہ کے لبوں سے نکلتا ہے اور اُسکا منہ عدالت کرنے میں خطا نہیں کرتا۔
11 ٹھیک ترازو اور پلڑے خداوند کے ہیں تھیلی کے سب باٹ اُسکا کام ہیں۔
12 شرارت کرنے سے بادشاہوں کو نفرت ہے کیونکہ تخت کی پایداری صداقت سے ہے۔
13 صادق لب بادشاہوں کی خوشنودی ہیں اور وہ سچ بولنے والوں کو دوست رکھتے ہیں۔
14 بادشاہ کا قہر موت کا قاصد ہے پر دانا آدمی اُسے ٹھنڈا کرتا ہے۔
15 بادشاہ کے چہرہ کے نور میں زندگی ہے ور اُسکی نظر عنایت آخری برسات کے بادل کی مانند ہے۔
16 حکمت کا حصول سونے سے بہت بہتر ہےاور فہم کا حصول چاندی سے بہت پسندیدہ ہے۔
17 راستکار آدمی کی شاہراہ یہ ہے کہ بدی سے بھاگے اور اپنی راہ کا نگہبان اپنی جٓان کی حفاظت کرتا ہے ۔
18 ہلاکت سے پہلے تکبر اور زوال سے پہلے خودبینی ہے۔
19 مسکینوں کے ساتھ فروتن بننا متکبروں کے ساتھ لوٹ کا مال تقسیم کرنے سے بہتر ہے۔
20 جو کلام پر توجہ کرتا ہے بھلائی دیکھیگااور جس کا توکل خداوند پر ہے مبارک ہے۔
21 دانا دِل ہوشیار کہلائیگا اور شیرین زبانی سے علم کی فراوانی ہوتی ہے۔
22 عقلمند کے لئے عقل حیات کا چشمہ ہے ہر احمقوں کی تربیت حمایت ہے۔
23 دانا کا دِل اُسکے منہ کی تربیت کرتا ہے اور اُسکے لبوں کو علم بخشتا ہے۔
24 دِل پسند باتیں شہد کا چھتا ہیں۔وہ جی کو میٹھی لگتی ہیں اور ہڈیوں کے لئے شفاہیں۔
25 ایسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہےپر اُسکی اِنتہا میں موت کی راہیں ہیں۔
26 محنت کرنے والے کی خواہش اُس سے کام کراتی ہےکیونکہ اُسکا پیٹ اُسکو اُبھارتا ہے۔
27 خبیث آدمی شرارت کو کھود کر نکالتا ہےاور اُسکے لبوں میں گویا جلانے والی آگ ہے۔
28 کجرو آدمی فتنہ انگیز ہےاور غیبت کرنے والا دوستوں میں جدائی ڈالتا ہے۔
29 تند خو آدمی اپنے ہمسایہ کو ورغلاتا ہےاور اُسکو بُری راہ پر لے جٓاتا ہے۔
30 آنکھ مارنے والا کجی ایجاد کرتا ہے اور لب چبانے والا فساد برپا کرتا ہے ۔
31 سفید سر شوکت کا تاج ہے۔وہ صداقت کی راہ پر پایا جٓائیگا ۔
32 جو قہر کرنے میں دِھیما ہے پہلوان سے بہتر ہے اور وہ جو اپنی رُوح پر ضابطہ ہے اُس سے جو شہر کو لے لیتا ہے۔
33 قرعہ گود میں ڈالا جٓاتا ہےپر اُسکا سارا اِنتظام خداوند کی طرف سے ہے۔


باب 17

1 سلامتی کے ساتھ خشک نوالہ اِس سے بہتر ہے کہ گھر نعمت سے پُر ہو اور اُسکے ساتھ جھگڑا ہو۔
2 عقلمند نوکر اُس بیٹے پر جو رُسوا کرتا ہے حکمران ہوگا اور بھائیوں میں شامل ہوکر میراث کا حصہ لیگا ۔
3 چاندی کے لئے کٹھالی ہے اور سونے کے لئے بھٹی پر دِلوں کو خداوند پرکھتا ہے۔
4 بدکردار جھوٹے لبوں کی سُنتا ہےاور دروغگو مفید زبان کا شنوا ہوتا ہے۔
5 مسکین پر ہنسنے والا اُسکے خالق کی اِہانت کرتا ہے اور جو اَوروں کی مصبیت سے خوش ہوتا ہے بے سزا نہ چھوٹیگا ۔
6 بیٹوں کے بیٹے بُوڑھوں کے لئے تاج ہیں اور بیٹوں کے فخر کا باعث اُنکے باپ دادا ہیں۔
7 خوشگوئی احمق کو نہیں سجتی تو کس قدر کم دروغگوئی شریف کو سجیگی۔
8 رِشوت جس ہاتھ میں ہے اُسکی نظر میں گران بہا جوہرہے اور وہ جدھر توجہ کرتا ہے کامیاب ہوتا ہے۔
9 جو خطا پوشی کرتا ہے دوستی کا جویان ہےپر جو اَیسی بات کو باربار چھیڑتاہے دوستوں میں جدائی ڈالتا ہے۔
10 صاحب فہم پر ایک جھڑکی احمق پر سو کوڑوں سے زیادہ اثر کرتی ہے۔
11 شریر محض سر کشی کا جویان ہے۔اُسکے مقابلہ میں سنگدل قاصد بھیجاجٓائیگا ۔
12 جس ریچھنی کے بچے پکڑے گئے ہوں آدمی کا اُس سےدو چار ہونا اِس سے بہتر ہے کہ احمق کی حمایت میں اُس کے سامنے آئے ۔
13 جو نیکی کے بدلے میں بدی کرتا ہےاُسکے گھر سے بدی ہرگز جُدا نہ ہوگی۔
14 جھگڑے کا شروع پانی پھوٹ نکلنے کی مانند ہےاِسلئے لڑائی سے پہلے جھگڑے کو چھوڑدو۔
15 جو شریر کو صادق اور جو صادق کو شریر ٹھہراتا ہے خداوند کو اُن دونوں سے نفرت ہے۔
16 حکمت خریدنے کو احمق کے ہاتھ میں قیمت سے کیا فائدہ ہے حالانکہ اُسکا دِل اُسکی طرف نہیں ؟
17 دوست ہر وقت محبت دِکھاتا ہے اور بھائی مصبیت کے دِن کے لئے پیدا ہوا ہے ۔
18 بے عقل آدمی ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے اور اپنے ہمسایہ کے رُو بُرو ضامن ہوتا ہے۔
19 فساد پسند خطا پسند ہے اور اپنے دروازہ کو بلند کرنے والا ہلاکت کا طالِب۔
20 کج دِلا بھلائی کو نہ دیکھیگا اور جس زبان کجگو ہے مصیبت میں پڑ یگا ۔
21 بیوقوف کے والد کے لئے غم ہے کیونکہ احمق کے باپ کو خوشی نہیں ۔
22 شادمان دِل شفا بخشتا ہے لیکن افسردہ دِلی ہڈیوں کو خشک کر دیتی ہے۔
23 شریر بغل میں رشوت رکھ لیتا ہے تاکہ عدالت کی راہیں بگاڑے ۔
24 حکمت صاحب فہم کے رُو بُرو ہے لیکن احمق کی آنکھیں زمین کے کناروں پر لگی ہیں۔
25 احمق بیٹا اپنے باپ کے لئے غم اور اپنی ماں کے لئے تلخی ہے۔
26 صادق کو سزا دینا اور شریفوں کو اُنکی راستی کے سبب سے مارنا خوب نہیں ۔
27 صاحبِ علم کم گو ہےارو صاحب فہم متین ہے۔
28 احمق بھی جب تک کاموش ہے عقلمند گنا جٓاتا ہے۔جو اپنے لب بندرکھتا ہے ہوشیار ہے۔


باب 18

1 جواپنے آپ کو سب سے الگ رکھتا ہے اپنی خواہش کا طالب ہے اور ہر معقول بات سے برہم ہوتا ہے۔
2 احمق فہم سے خوش نہیں ہوتا لیکن ٖصرف اِس سے کہ دِل کا حال ظاہر کرے۔
3 شریر کے ساتھ حقارت آتی ہے اور رسوائی کے ساتھ اِہانت ۔
4 اِنسان کے منہ کی باتیں گہرے پانی کی مانند ہیں اور حکمت کا چشمہ بہتا نالہ ہے۔
5 شریر کی طرفداری کرنا یا عدالت میں صادق سے بے اِنصافی کرنا خوب نہیں ۔
6 احمق کے ہونٹ فتنہ انگیز ی کرتے ہیں اور اُسکا منہ طمانچوں کے لئے پُکارتا ہے ۔
7 احمق کامنہ اُسکی ہلاکت ہے اور اُسکے ہونٹ اُسکی جٓان کے لئے پھندا ہیں۔
8 غیبت گوکی باتیں لذیذنوالے ہیں اور وہ خوب ہضم ہو جٓاتی ہیں۔
9 کام میں سُستی کرنے والا مسرف کا بھائی ہے ۔
10 خداوند کا نام محکم برج ہے۔صادق اُس میں بھاگ جٓاتا ہے اور امن میں رہتا ہے۔
11 دولتمند آدمی کا مال اُسکا محکم شہر اور اُسکے تصور میں اُونچی دیوار کی مانند ہے۔
12 آدمی کے دِل میں تکبر ہلاکت کا پیشرو ہے اور فروتنی عزت کی پیشوا۔
13 جو بات سُننے سے پہلے اُسکا جواب دے یہ اُسکی حمایت اور خجالت ہے۔
14 اِنسان کی رُوح اُسکی ناتوانی میں اُسے سبنھالیگی لیکن افسردہ دِلی کی کون برداشت کر سکتا ہے؟
15 ہوشیار کا دِل علم حاصل کرتا ہے اور دانا کے کان علم کے طالب ہیں۔
16 آدمی کا نذرانہ اُسکے لئے جگہ کر لیتا ہے اور بڑے آدمیوں کے حضور اُسکی رسائی کر دیتا ہے۔
17 جو پہلے اپنا دعویٰ بیان کرتا ہے راست معلوم ہوتا ہےپر دُوسراآکر اُسکی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔
18 قرعہ جھگڑوں کو موقوف کرتا ہےاور زبردستوں کے درمیان فیصلہ کردیتا ہے۔
19 رنجیدہ بھائی کو راضی کرنا محکم شہر لے لینے سے زیادہ مشکل ہے اور جھگڑے قلعہ کے بینڈوں کی مانند ہیں۔
20 آدمی کا پیٹ اُسکے منہ کے پھل سے بھرتا ہے اور وہ اپنے لبوں کی پیداراو سے سیر ہوتا ہے ۔
21 موت اور زندگی زبان کے قابو میں ہیں اور جو اُسے دوست رکھتے ہیں اُسکا پھل کھاتے ہیں۔
22 جس کو بیوی ملی اُس نے تحفہ پایا اور اُس پر خداوند کا فضل ہوا۔
23 محتاج منت سماجت کرتا ہےپر دولتمند سخت جواب دیتا ہے۔
24 جو بہتوں سے دوستی کرتا ہے اپنی بربادی کے لئے کرتا ہے پر اَیسا دوست بھی ہے جو بھائی سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔


باب 19

1 راست رو مسکین کجگواور احمق سے بہتر ہے۔
2 یہ بھی اچھانہیں کہ روح علم سے خالی رہے۔جو چلنے میں جلد بازی کرتا ہے بھٹک جٓاتا ہے۔
3 آدمی کی حمایت اُسے گمراہ کرتی ہےاور اُسکا دِل خداوندسے بزیر ہوتا ہے۔
4 دولت بہت سے دوست پیدا کرتی ہے پر مسکین اپنے ہی دوست سے بغیانہ ہے۔
5 جھوٹا گواہ بے سزا نہ چھوٹیگا اور جھوٹ بولنے والا رہائی نہ پائیگا۔
6 بہتیرے لوگ فیاض کی خوشامد کرتے ہیں اور ہر ایک آدمی اِنعام دینے والے کا دوست ہے۔
7 جب مسکین کے سب بھائی ہی اُس سے نفرت کرتے ہیں تو اُسکے دوست کتنے زیادہ اُس سے دُور بھاگینگے!وہ باتوں سے اُنکا پیچھاکرتا ہے پر اُنکو نہیں پاتا۔
8 جو حکمت حاصل کرتا ہے اپنی جٓان کو عزیز رکھتا ہے۔جو فہم کی محافظت کرتا ہے فائدہ اُٹھایئگا۔
9 جھوٹاگواہ بےسزا نہ چھوٹیگااور جو جھوٹ بولتا ہے فنا ہوگا۔
10 جب احمق کے لئے نازونعمت زیبا نہیں تو خادم کا شہزادوں پر حکمران ہونا اور بھی نامناسب ہے۔
11 آدمی کی تمیز اُسکو قہر کرنے میں دِھیما بناتی ہے۔اور خطا سے درگذر کرنے میں اُسکی شان ہے۔
12 بادشاہ کا غضب شیر کی گرج کی مانند ہے اور اُسکی نظر عنایت گھاس پر شبنم کی مانند۔
13 احمق بیٹا اپنے باپ کے لئے بلا ہےاور بیوی کا جھگڑارگڑاسدا کا ٹپکا۔
14 گھر اور مال تو باپ دادا سے میراث میں ملتے ہیں لیکن دانشمند بیوی خداوند سے ملتی ہے۔
15 کاہلی نیند میں غرق کر دیتی ہے اور کاہل آدمی بھوکا رہیگا ۔
16 جو فرمان بجا لاتا ہے اپنی جٓان کی محافظت کرتا ہے پر جو اپنی راہوں سے غافل ہے مریگا ۔
17 جو مسکینوں پر رحم کرتا ہےخداوند کو قرض دیتا ہے اور وہ اپنی نیکی کا بدلہ پایئگا ۔
18 جب تک اُمید ہے اپنے بیٹے کی تادِیب کئے جٓااور اُسکی بربادی پر دِل نہ لگا۔
19 شیدید الضغب آدمی سزا پائیگا۔کیونکہ اگر تو اُسے رہائی دے تو مجھے باربار اَیسا ہی کرنا ہوگا۔
20 مشورت کو سُن اور تربیت پذیر ہو تاکہ توآخر کار دانا ہوجٓائے ۔
21 آدمی کے دِل میں بہت سے منصوبے ہیں لیکن صرف خداوند کا اِرادہ ہی قائم رہیگا ۔
22 آدمی کی مقبولیت اُسکے اِحسان سے ہے اور کنگال جھوٹے آدمی سے بہتر ہے۔
23 خداوند کا خوف زندگی بخش ہے۔اور خدا ترس سیر ہو گا اور بدی سے محفوظ رہیگا۔
24 سست آدمی اپنا ہاتھ تھالی میں ڈالتا ہے اور اتنا بھی کرتا کہ پھر اُسے اپنے منہ تک لائے ۔
25 ٹھٹھا کرنے والے کو مار۔اِس سے سادہ دِل ہوشیار ہوجٓایئگا اور صاحب فہم کو تنبیہ کر۔وہ علم حاصل کر یگا۔
26 جو اپنے باپ سے بد سلوکی کرتا اور ماں کو نکال دیتا ہے خجالت کا باعث اور رسوائی لانے والا بیٹا ہے۔
27 اَے میرے بیٹے !اگر تو علم سے برگشتہ ہوتا ہے تو تعلیم سُننے سے کیا فائدہ ؟
28 خبیث گواہ عدل پر ہنستا ہے اور شریر کا منہ بدی نگلتا رہتا ہے
29 ٹھٹھا کرنے والوں کے لئے سزائیں ٹھہرائی جٓاتی ہیں اور احمقوں کی پیٹھ کے لئے کوڑے ہیں۔


باب 20

1 مے مسخرہ اور شراب ہنگامہ کرنے والی ہے اور جو کوئی اِن سے فریب کھاتا ہے دانا نہیں ۔
2 بادشاہ کا رُعب شیر کی گرج کی مانند ہے۔جو کوئی اُسے غصہ دلاتا ہے اپنی جٓان سے بدی کرتا ہے ۔
3 جھگڑے سے الگ رہنے میں آدمی کی عزت ہے لیکن ہر ایک احمق جھگڑتا رہتا ہے
4 کاہل آدمی جٓاڑے کے باعث ہل نہیں چلاتا اِسلئے فصل کاٹنے کے وقت وہ بھیک مانگیگااور کچھ نہ پائیگا۔
5 آدمی کے دِل کی بات گہرے پانی کی مانند ہے لیکن صاحب فہم آدمی اُسے کھینچ نکالیگا ۔
6 اکثر لوگ اپنا اپنااِحسان ج تے ہیں لیکن وفا دار آدمی کس کو ملیگا ؟
7 راست رو صادق کے بعد اُسکے بیٹے مُبارک ہوتے ہیں۔
8 بادشاہ جو تخت عدالت پر بیٹھتا ہےخود دیکھ کر ہر طرح بدی کو پھٹکتا ہے۔
9 کون کہہ سکتا ہے کہ میں نے اپنے دِل کو صاف کر لیا ہے اور میں اپنے گناہ سے پاک ہوگیا ہوں؟
10 دوطرح کے باٹ اور دو طرح کے پیمانے ۔ اِن دونوں سے خداوند کو نفرت ہے۔
11 بچہ بھی اپنی حرکات سے پہچانا جٓاتا ہے کہ اُسکے کام نیک وراست ہیں کہ نہیں ۔
12 سُننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ دونوں کو خداوند نے بنایا ہے ۔
13 خواب دوست نہ ہو ۔مبادا تو کنگال ہو جٓائے ۔اپنی آنکھیں کھول کہ تو روٹی سے سیر ہوگا۔
14 خریدار کہتا ہے ردی !لیکن جب چل پڑتا ہے تو فخر کرتا ہے۔
15 زرومرجٓان کی کثرت ہے لیکن بی یش بہا سرمایہ علم والے ہونٹ ہیں ۔
16 جو بغیانہ کا ضامن ہو اُسکے کپڑے چھین لے اور جو اجنبی کا ضامن ہو اُس سے کچھ گرورکھ لے۔
17 دغا کی روٹی آدمی کو میٹھی لگتی ہے لیکن آخر کو اُسکا منہ کنکروں سے بھر جٓاتا ہے۔
18 ہر ایک کام مشورہ سے ٹھیک ہوتا ہے اور تو نیک صلاح لیکر جنگ کر۔
19 جو کوئی لتراپن کرتا پھرتا ہے راز فاش کرتا ہے اِسلئے تو منہ پھٹ سے کچھ واسطہ نہ رکھ ۔
20 جو اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرتا ہے اُسکا چراغ گہری تاریکی میں بجھایا جٓایئگا ۔
21 اگرچہ ابتدا میں میراث یک لخت حاصل ہو تو بھی اُسکا انجام مبارک نہ ہوگا۔
22 تو یہ نہ کہنا کہ میں بدی کا بدلہ لونگا۔خداوندکی آس رکھ اور وہ تجھے بچایئگا۔
23 دو طرح کے باٹ سے خداوند کو نفرت ہے اور دغا کے ترازو ٹھیک نہیں ۔
24 آدمی کی رفتار خداوند کی طرف سے ہے ۔پس اِنسان اپنی راہ کو کیونکر جٓان سکتا ہے؟
25 جلد بازی سے کسی چیز کو مقدس ٹھہرانا اورمنت ماننے کے بعد دریافت کرنا آدمی کے لئے پھندا ہے ۔
26 دانا بادشاہ شریروں کو پھٹکتا ہے اور اُن پر داو نے پہیا پھرواتا ہے۔
27 آدمی کا ضمیر خداوند کا چراغ ہے جو اُسکے تمام اندرونی حال کو دریافت کرتا ہے۔
28 شفقت اور سچائی بادشاہ کی نگہبان ہیں بلکہ شفقت ہی سے اُسکا تخت قائم رہتا ہے۔
29 جوانوں کا زور اُنکی شوکت ہے اور بوڑھوں کے سفید بال اُنکی زینت ہیں۔
30 کوڑوں کے زخم سے بدی دُور ہوتی ہے اور مارکھانے سے دِل صاف ہوتا ہے۔


باب 21

1 بادشاہ کا دِل خدوند کے ہاتھ میں ہے ۔وہ اُسکو پانی کے نالوں کی مانند جدھر چاہتا ہے پھیرتا ہے۔
2 اِنسان کی ہر ایک روش اُسکی نظر میں راست ہے پر خداوند دِلوں کو جٓانچتا ہے۔
3 صداقت اور عدل خداوند کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔
4 بلند نظری اور دِل کا تکبر اور شریروں کی اِقبالمندی گناہ ہے۔
5 محنتی کی تدبیریں یقیناًفراوانی کا باعث ہیں لیکن ہر ایک جلد باز کا انجام محتاجی ہے۔
6 دروغگوئی سے خزانے حاصل کرنا بے ٹھکانا بخارات کی مانند ہے اور اُنکے طالب موت کے طالب ہیں۔
7 شریروں کا ظلم اُنکو اُڑا لے جٓایئگا کیونکہ اُنہوں نے انصاف کرنے سے اِنکار کیا ہے۔
8 گناہ آلودہ آدمی کی راہ بہت ٹیڑ ھی ہے پر جو پاک ہے اُسکا کام ٹھیک ہے۔
9 گھر کی چھت پر کونے میں رہناجھگڑالو بیوی کے ساتھ کشادہ گھر میں رہنے سے بہتر ہے ۔
10 شریر کی جٓان برائی کی مشتاق ہے۔اُسکا ہمسایہ اُسکی نگاہ میں مقبول نہیں ہوتا۔
11 جب ٹھٹھا کرنے والے کو سزا دی جٓاتی ہے تو سادہ دِل حکمت حاصل کرتا ہے اور جب دانا تربیت پاتا ہے تو علم حاصل کرتا ہے۔
12 صادق شریر کے گھر پر غور کرتا ہے ۔شریر کیسے گر کر برباد ہوگئے ہیں۔
13 جو مسکین کا نالہ سُنکر اپنے کان بند کرلیتا ہے وہ آپ بھی نالہ کریگا اور کوئی نہ سُنیگا۔
14 پوشیدگی میں ہدیہ دینا قہر کو ٹھنڈا کرتا ہےاور انعام بغل میں دے دینا غضب شدید کو۔
15 اِنصاف کرنے میں صادق کی شادمانی ہے لیکن بدکرداروں کی ہلاکت ۔
16 جو فہم کی راہ سے بھٹکتا ہے مردوں کے غول میں پڑا رہیگا۔
17 عیاش کنگال رہیگا۔جو مے اور تیل کا مشتاق ہے مالدار نہ ہوگا۔
18 شریر صادق کا فدیہ ہوگااور غا باز راستبازوں کے بدلہ میں دِیا جٓایئگا۔
19 بیابان میں رہنا جھگڑا لو اور چڑچڑی بیوی کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے۔
20 قیمتی خزانہ اور تیل داناوں کے گھر میں ہیں لیکن احمق اُنکو اُڑدیتا ہے ۔
21 جو صداقت اور شفقت کی پیروی کرتا ہے زندگی اور صداقت وعزت پاتا ہے۔
22 دانا آدمی زبردستوں کے شہر پر چڑھ جٓاتا ہے اور جس قوت پر اُنکا اِعتماد ہے اُسے گرا دیتا ہے۔
23 جو اپنے منہ اور اپنی زبان کی نگہبانی کرتا ہے اپنی جٓان کو مصیبتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
24 متکرو مغرور شخص جو ٹھٹھا باز کہلاتا ہےبہت تکبر سے کام کرتا ہے۔
25 کاہل کی تمنا اُسے مار ڈالتی ہے کیونکہ اُسکے ہاتھ محنت سے اِنکار کرتے ہیں۔
26 وہ دِن بھر تمنا میں رہتا ہے لیکن صادق دیتا ہے اور دریغ نہیں کرتا۔
27 شریر کی قربانی نفرت انگیز ہے خصوصاًجب وہ بدنیتی سے لاتا ہے۔
28 جھوٹا گواہ ہلاک ہوگا لیکن ج س شخص نے بات سُنی ہے وہ خاموش نہ رہیگا۔
29 شریر اپنے چہرہ کو سخت کرتا ہے لیکن صادق اپنی راہ پر غور کرتا ہے ۔
30 کوئی حکمت کوئی فہم اور کوئی مشورت نہیں جو خداوند کے مقابل ٹھہر سکے۔
31 جنگ کےدِن کے لئے گھوڑا تو تیار کیا جٓاتا ہے لیکن فتحیابی خداوند کی طرف سے ہے۔


باب 22

1 نیک نام بے قیاس خزانہ سے اور اِحسان سونے چاندی سے بہتر ہے۔
2 اِمیروغریب ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔اُن سب کا خالق خداوند ہی ہے
3 ہو شیار بلا کو دیکھکر چھپ جٓاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جٓاتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔
4 دولت اور عزت وحیات خداوند کے خوف اور فروتنی کا اجر ہیں۔
5 کجرو کی راہ میں کانٹے اور پھندے ہیں جو اپنی جٓان کی نگہبانی کرتا ہے اُن سے دُور رہیگا۔
6 لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جٓانا ہے۔وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑیگا۔
7 مالدار مسکین پر حکمران ہوتا ہے اور قرض لینے والا قرض دینے والے کا نوکر ہے۔
8 جو بدی بوتا ہے مصیبت کاٹیگا اور اُسکے قہر کی لاٹھی ٹوٹ جٓائیگی ۔
9 جونیک نظر ہے برکت پائیگاکیونکہ وہ اپنی روٹی میں سے مسکینوں کو دیتا ہے۔
10 ٹھٹھا کرنے واے کا نکال دے توفساد جٓاتا رہیگا۔ہاں جھگڑارگڑ اور رسوائی دُور ہو جٓائینگے ۔
11 جو پاک دِلی کو چاہتا ہے اُسکے ہونٹوں میں لطف ہے اور بادشاہ اُسکا دوستدار ہوگا۔
12 خداوند کی آنکھیں علم کی حفاظت کرتی ہیں۔وہ دغابازوں کے کلام کو اُلٹ دیتا ہے۔
13 سست آدمی کہتا ہے باہر شیر کھڑا ہے۔میں گلیوں میں پھاڑا جٓاونگا۔
14 بیغانہ عورت کا منہ گہرا گڑھا ہے۔اُس میں وہ گرتا ہے جس سے خداوند کو نفرت ہے۔
15 حمایت لڑکے کے دِل سے وابستہ ہے لیکن تربیت کی چھڑی اُسکو اُس سے دور کر دیگی ۔
16 جو اپنے فائدہ کے لئے مسکین پر ظلم کرتا اور جو مالدار کو دیتا ہے یقیناًمحتاج ہوجٓایئگا ۔
17 اپنا کان جھکا اور داناوں کی باتیں سن اور میری تعلیم پر دِل لگا
18 کیونکہ یہ پسندیدہ ہے کہ تو اُنکو اپنے دِل میں رکھے اور وہ تیرے لبوں پر قائم رہیں۔
19 تاکہ تیرا توکل خداوند پر ہو میں نے آج کےدِن تجھ کو ہاں تجھ ہی کو جتا دِیا ہے ۔
20 کیا میں نے تیرے لئے مشورت اور علم کی لطیف باتیں اِسلئے نہیں لکھی ہیں کہ
21 سچائی کی باتوں کی حقیقت تجھ پر ظاہر کردوں تاکہ تو سچی باتیں حاصل کرکے اپنے بھیجنے والوں کے پاس جٓائے؟
22 مسکین کو اِسلئے نہ لوٹ کہ وہ مسکین ہے اور مصیبت زدہ پر عدالتگاہ میں ظلم نہ کر
23 کیونکہ خداوند اُنکی وکالت کریگااور اُنکے غار تگروں کی جٓان کو غارت کریگا۔
24 غصہ ور آدمی سے دوستی نہ کر اور غضبناک شخص کے ساتھ نہ جٓا۔
25 مباداتو اُسکی روشیں سیکھےاور اپنی جٓان کو پھندے میں پھنسا ئے ۔
26 تو اُن میں شامل نہ ہوجو ہاتھ ہر ہاتھ مارتے ہیں۔اور نہ اُن میں جو قرض کے ضامن ہوتے ہیں۔
27 کیونکہ اگر تیرے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ ہو تو وہ تیرا بستر تیرے نیچے سے کیوں کھینچ لیجائے؟
28 اُن قدیم حدود کو نہ سرکا جو تیرے باپ دادا نے باندھی ہیں۔
29 تو کسی کو اُسکے کام میں محنتی دیکھتا ہے؟وہ بادشاہوں کے حضورکھڑاہوگا۔وہ کم قدر لوگوں کی خدمت نہ کر یگا ۔


باب 23

1 جب تو حاکم کے ساتھ کھانے بیٹھے تو خوب غور کر کہ تیرے سامنےکون ہے۔
2 اگر تو کھاو ہے تو اپنے گلے پر چھری رکھدے۔
3 اُسکے مزہ دار کھانوں کی تمنا نہ کر کیونکہ وہ دغابازی کا کھانا ہے۔
4 مالدار ہونے کے لئے پریشان نہ ہو ۔اپنی اِس دانشمندی سے باز آ۔
5 کیا تو اُس چیز پر آنکھ لگائیگا جو ہے ہی نہیں؟کیونکہ دولت یقیناًعقاب کی طرح پر لگا کر آسمان کی طرف اُڑجٓاتی ہے۔
6 تو تنگ چشم کی روٹی نہ کھا اور اُسکے مزہ دار کھانوں کی تمنا نہ کر
7 کیونکہ جیسے اُسکے دِل کے اندیشے ہیں وہ ویسا ہی ہے ۔لیکن اُسکا دِل تیری طرف نہیں۔
8 جو نوالہ تونے کھایا ہے تواُسے اُگل دیگااور تیری میٹھی باتیں بے سود ہونگی۔
9 اپنی باتیں احمق کو نہ سُنا کیونکہ وہ تیرے دانائی کا کلام کی تحقیر کر یگا۔
10 قدیم حدود کو نہ سرکا اور یتیموں کے کھیتوں میں دخل نہ کر۔
11 کیونکہ اُنکا رہائی بخشنے والا زبردست ہے۔وہ خود ہی تیرے خلاف اُنکی وکالت کریگا ۔
12 تربیت پر دِل لگا اور علم کی باتیں سُن۔
13 لڑکے سے تادِیب کو دریغ نہ کر۔ اگر تو اُسے چھڑی سے مار یگا تووہ مرنہ جٓائیگا۔
14 تو اُسے چھڑی سے ماریگا اور اُسکی جٓان کو پاتال سے بچائیگا۔
15 اَے میرے بیٹے !اگر تو دانا دِل ہے تو میرا دل ۔ہاں میرا دل خوش ہوگا۔
16 اور جب تیرے لبوں سے سچی باتیں نکلینگی تو شادمان ہوگا۔
17 تیرا دِل گنہگاروں پر رشک نہ کر ےبلکہ تو دِن بھر خداوند سے ڈرتا رہ۔
18 کیونکہ اجر یقینی ہے اور تیری آس نہیں ٹویئگی ۔
19 اَےمیرے بیٹے !تو سن اور دانا بن اور اپنے دِل کی راہبری کر۔
20 تو شیرابیوں میں شامل نہ ہو اور نہ حریص کبابیوں میں
21 کیونکہ شرانی اور کھاو کنگال ہو جٓائینگے اور نیند اُنکو چتھڑے پہنائیگی ۔
22 اپنے باپ کا ج س سے تو پیدا ہوا شنوا ہو اور اپنی ماں کو اُسکے بڑھاپے میں حقیر نہ جٓان ۔
23 سچائی کو مول لے اور اُسے بیچ نہ ڈال حکمت اور تربیت اور فہم کو بھی۔
24 صادق کا باپ نہایت خوش ہوگااور دانشمندکا باپ اُس سے شادمانی کر یگا۔
25 اپنے ماں باپ کو خوش کر۔اپنی والدہ کو شادمان رکھ۔
26 اَے میرے بیٹے!اپنا دِل مجھ کو دے اور میری راہوں سے تیری آنکھیں خوش ہوں۔
27 کیونکہ فاحشہ گہری خندق ہے اور بیغانہ عورت تنگ گڑھا ہے۔
28 وہ راہزن کی طرح گھات میں لگی ہےاور بنی آدم میں بدکاروں کا شمار بڑھاتی ہے۔
29 کون افسوس کرتا ہے؟کون غمزدہ ہے؟کون جھگڑالوہے؟کون شاکی ہے ؟کون بے سبب گھایل ہے؟اور کس کی آنکھوں میں سرخی ہے؟
30 وہی جو دیر تک مے نوشی کرتے ہیں۔وہی جو ملائی ہوئی مے کی تلاش میں رہتے ہیں۔
31 جب مے لال لال ہو۔جب اُسکا عکس جٓام پر پڑے اور جب وہ روانی کے ساتھ نیچے اُترےتو اُس پر نظر نہ کر
32 کیونکہ انجام کار وہ سانپ کی طرح کاٹتی اور افعی کی طرح ڈس جٓاتی ہے۔
33 تیری آنکھیں عجیب چیزیں دیکھینگی اور تیرے منہ سے اُلٹی سیدھی باتیں نکلینگی ۔
34 بلکہ تو اُسکی مانند ہو گا جو سمندر کے درمیان لیٹ جٓائے یا اُسکی مانند جو مستول کے سر ے پر سورہے۔
35 توکہیگا اُنہوں نے تومجھے پیٹا ہے پر مجھے معلوم بھی نہیں ہوا۔میں کب بیدارہو نگا؟میں پھر اُسکا طالب ہونگا۔


باب 24

1 تو شریروں پر رشک نہ کرنا اور اُنکی صحبت کی خواہش نہ رکھنا
2 کیونکہ اُنکے دِل ظلم کی فکر کرتے ہیں اور اُنکے لب شرارت کا چرچا۔
3 حکمت سے گھر تعمیر کیا جٓاتا ہے اور فہم سے اُسکوقیام ہوتا ہے۔
4 اور علم کے وسیلہ سے کوٹھریاں نفیس ولطیف مال سے معمور کی جٓاتی ہیں۔
5 دانا آدمی زور آور ہے بلکہ صاحب علم کا زور بڑھتا رہتا ہے
6 کیونکہ تو نیک صلاح لیکر جنگ کرسکتا ہےاور صلاح کاروں کی کثرت میں سلامتی ہے۔
7 حکمت احمق کے لئے بہت بلند ہے۔وہ پھاٹک پر منہ نہیں کھول سکتا ۔
8 جو بدی کے منصوبے باندھتا ہے فتنہ انگیز کہلایئگا۔
9 حمایت کا منصوبہ بھی گناہ ہے اور ٹھٹھاکرنے والے سے لوگوں کو نفرت ہے۔
10 اگر تومصیبت کے دِن بیدِل ہو جٓائے تو تیری طاقت بہت کم ہے۔
11 جو قتل کے لئے گھسیٹےجٓاتے ہیں اُنکو چھڑا۔جو مارے جٓانے کو ہیں اُنکو حوالہ نہ کر۔
12 اگر توکہے دیکھوہمکویہ معلوم نہ تھاتو کیا دِلوں کوجٓانچنے والا یہ نہیں سمجھتا؟اور کیا تیری جٓان کا نگہبان یہ نہیں جٓانتا؟اور کیا وہ ہر شخص کو اُسکے کام کے مطابق اجر نہ دیگا؟
13 اَے میرے بیٹے !تو شہد کھا کیونکہ وہ اچھا ہے اور شہد کا چھتا بھی کیونکہ وہ مجھے میٹھا لگتا ہے۔
14 حکمت بھی تیری جٓان کے لئے اَیسی ہی ہوگی۔اگر وہ تجھے مل جٓائے تو تیرے لئے اجر ہوگااور تیری آس نہیں ٹوٹیگی ۔
15 اَے شریر تو صادق کے گھر کی گھات میں نہ بیٹھنا اُسکی آرامگاہ کو غارت نہ کرنا۔
16 کیونکہ صادق سات بار گرتا ہے اور پھر اُٹھ کھڑا ہوتا ہے لیکن شریر بلا میں گرکر پڑاہی رہتا ہے۔
17 جب تیرا دشمن گر پڑے تو خوشی نہ کرنا اور جب وہ پچھاڑکھائے تو دلشاد نہ ہونا
18 مبادا خداوند اِسے دیکھکر ناراض ہو اور اپنا قہر اُس پر سے اُٹھا لے۔
19 تو بد کرداروں کے سبب سے بی نہ ہونا اور شریر پر رشک نہ کر۔
20 کیونکہ بد کردار کے لئے کچھ اجر نہیں۔شریروں کا چراغ بجھادِیا جٓائیگا۔
21 اَے میرے بیٹے!خداوند سے اور بادشاہ سے ڈر اور مفسدوں کے ساتھ صحبت نہ رکھ
22 کیونکہ اُن پر ناگہان آفت آیئگی اور اُن دونوں کی طرف سے آنے والی ہلاکت کوکون جٓانتا ہے؟
23 یہ بھی داناوں کے اقوال ہیں۔ عدالت میں طرفداری کرنااچھا نہیں۔
24 جو شریر سے کہتا ہے تو صادق لوگ اُس پر لعنت کر ینگے اور اُمتیں اُس سے نفرت رکھینگی ۔
25 لیکن جو اُسکو ڈانٹتے ہیں خوش ہو نگے اور اُنکو بڑی برکت ملیگی ۔
26 جو حق بات کہتا ہے لبوں پر بوسہ دیتا ہے۔
27 اپنا کام باہر تیار کر۔اُسے اپنے لئے کھیت میں دُرست کر لے اور اُسکے بعد اپنا گھر بنا۔
28 بے سبب اپنے ہمسایہ کے خلاف گواہی نہ دینا اور اور اپنے لبوں سے فریب نہ دینا۔
29 یوں نہ کہہ میں اُس نے مجھ سے کیا۔میں اُس آدمی سے اُسکے کام کے مطابق سلوک کرونگا۔
30 میں کاہل کے کھیت کے اور بے عقل کے تاکستان کے پاس سے گذرا
31 اور دیکھووہ سب کا سب کانٹوں سے بھرا تھا اور بچھوبوٹی سے ڈھکا تھااور اُسکی سنگین دیوار گرائی گئی تھی۔
32 تب میں نے دیکھ اور اُس پر خوب غور کیا۔ہاں میں نے اُس پر نگاہ کی اور عبرت پائی ۔
33 تھوڑی سی نیند ۔ایک اور جھپکی ۔ذرا پڑے رہنے کو ہاتھ پر ہاتھ ۔
34 اِسی طرح تیری مفلسی راہزن کی طرح اور رتیری تنگدستی مسلح آدمی کی طرح آپڑیگی۔


باب 25

1 یہ بھی سلیمان کی امثال ہیں جنکی شاہ یہوداہ حزقیاہ کے لوگوں نے نقل کی تھی
2 خداکا جلال رازداری میں ہے لیکن بادشاہوں کا جلال معاملات کی تفتیش میں۔
3 آٓسمان کی اُونچائی اور زمین کی گہرائی اور بادشاہوں کے دِل کی انتہا نہیں ملتی ۔
4 چاندی کی میل دور کرنے سے سُنار کے لئے برتن بن جٓاتا ہے۔
5 شریروں کو بادشاہ کے حضور سے دور کرنے سے اُسکا تخت صداقت پر قائم ہو جٓایئگا۔
6 بادشاہ کے حضور اپنی بڑائی نہ کرنا اور بڑے آدمیوں کی جگہ کھڑا نہ ہونا
7 کیونکہ یہ بہترہے کہ حاکم کے روبُروجس کو تیری آنکھوں نے دیکھا ہے تجھ سے کہا جٓائے آگے بڑھ کر بیٹھ نہ کہ پیچھے ہٹا دیا جٓائے۔
8 جھگڑا کرنے میں جلدی نہ کر۔آخرکار جب تیرا ہمسایہ تجھ کو ذلیل کرے تب تو کیا کریگا؟
9 تو ہمسایہ کے ساتھ اپنے دعویٰ کا چرچا کر لیکن کسی دوسرے کا راز فاش نہ کر۔
10 مبادا جو کوئی اُسے سنے تجھے رسوا کرے اور تیری بدنامی ہوتی رہے۔
11 باموقع باتیں روپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سبب ہیں۔
12 دانا ملامت کرنے والے کی بات سننے والے کے کان میں سونے کی بالی اور کندن کا زیور ہے۔
13 وفادار ایلچی اپنے بھیجنے والوں کے لئے اَیسا یے جیسے فصل کاٹنے کے ایام میں برف کی ٹھنڈک کیونکہ وہ اپنے مالکوں کی جٓان کو تازہ دم کرتا ہے۔
14 جو کسی جھوٹی لیاقت پر فخر کرتا ہے وہ بے بارش بادل اور ہوا کی مانند ہے۔
15 تحمل کرنے سے حاکم راضی ہوجٓاتا ہےاور نرم زبان ہڈی کو بھی توڑڈالتی ہے۔
16 کیا تو نے شہد پایا؟ تو اِتنا کھا جتنا تیرے لئے کافی ہےمبادا تو زیادہ کھا جٓائے اور اُگل ڈالے۔
17 اپنے ہمسایہ کے گھر با ر بار جٓانے سے اپنے پاوں کو روک مبادا وہ دق ہو کر تجھ سے نفرت کرے ۔
18 جو اپنے ہمسایہ کا خلاف جھوٹی گواہی دیتا ہے وہ گرزاور تلوار اور تیز تیر ہے۔
19 مصیبت کے وقت بیوفا آدمی پر اِعتماد ٹوٹا دانت اور اُکھڑا پاوں ہے۔
20 جو کسی غمگینکے سامنے گیت گاتا ہے۔وہ گویا جٓاڑے میں کسی کے کپڑے اُتارتا اور سجی پر سرکہ ڈالتا ہے۔
21 اگر تیرا دشمن بھوکا ہوتو اُسے روٹی کھلا اور اگر پیاسا ہو تو اُسے پانی پلا
22 کیونکہ تو اُسکے سر پر انگاروں کا ڈھیرلگائیگا اور خداوند تجھ اجر دیگا۔
23 شمالی ہوا مینہ کو لاتی ہے اور غیبت گو زبان ترش روئی کو۔
24 گھر کی چھت پر ایک کونے میں رہنا جھگڑالو بیوی کے ساتھ کشادہ مکان میں رہنے سے بہتر ہے۔
25 وہ خوشخبری جو دور کے ملک سے آئے اَیسی ہے جیسے تھکے ماندہ کی جٓان کے لئے ٹھنڈا پانی ۔
26 صادق کا شریر کے آگے گرنا گویا گدلا چشمہ اور ناپاک سوتا ہے۔
27 بہت شہد کھانا اچھا نہیں اور اپنی بزرگی کا طالب ہونا زیبا نہیں ہے۔
28 جو اپنے نفس پر ضابط نہیں وہ بے فصیل اور مسمار شدہ شہر کی مانند ہے۔


باب 26

1 جس طر ح ایام گرمی میں برف اور درو کے وقت بارش اُسی طرح احمق کو عزت زیب نہیں دیتی۔
2 جس طرح گوریا آوارہ پھرتی اور ابابیل اُڑاتی رہتی ہے اُسی طرح بے سبب لعنت بے محل ہے۔
3 گھوڑے کے لئے چابک اور گدھے کے لئے لگام لیکن احمق کی پیٹھ کے لئے چھڑی ہے۔
4 احمق کو اُسکی حمایت کے مطابق جواب نہ دے مبادا تو بھی اُسکی مانند ہوجٓائے ۔
5 احمق کو اُسکی حمایت کے مطابق جواب دے مبادا وہ اپنی نظر میں دانا ٹھہرے ۔
6 جو احمق کے ہاتھ پیغام بھیجتا ہے اپنے پاوں پر کلہاڑا مارتا اور نقصان کا پیالہ پیتا ہے۔
7 جس طرح لنگڑے کی ٹانگ لڑکھڑاتی ہے اُسی طرح احمق کے منہ میں تمثیل ہے۔
8 احمق کی تعظیم کرنے والا گویا جواہر کو پتھروں کے ڈھیر میں رکھتا ہے ۔
9 احمق کے منہ میں تمثیل شرابی کے ہاتھ میں چبھنے والے کانٹے کی مانند ہے ۔
10 جو احمقوں اور راہگذروں کو مزدوری پر لگاتا ہے اُس تیر انذاز کی مانند ہے جو سب کو زخمی کرتا ہے۔
11 جس طرح کتا اپنے اُگلے ہوئے پھر کھاتا ہے اُسی طرح احمق اپنی حمایت کو دہراتا ہے۔
12 کیا تو اُسکوجو اپنی نظر میں دانا ہے دیکھتا ہے ؟ اُسکے مقابلہ میں احمق سے زیادہ اُمید ہے۔
13 سست آدمی کہتا ہے راہ میں شیر ہے۔شیر ببر گلیوں میں ہے۔
14 جس طرح دروازہ اپنی چولوں پر پھرتا ہے اُسی طرح سست آدمی اپنے بستر پر کروٹ بدلتا رہتا ہے۔
15 سست آدمی اپنا ہاتھ تھالی میں ڈالتا ہے اور اُسے پھر منہ تک لانا اُسکو تھکا دیتا ہے
16 کاہل اپنی نظر میں دانا ہے بلکہ دلیل لانے والے سات شخصوں سے بڑھکر ۔
17 جو راستہ چلتے ہوئے پرائے جھگرے میں دخل دیتا ہے اُسکی مانند ہے جو کتے کو کان سے پکڑتا ہے۔
18 جیسا وہ دیوانہ جو چلتی لکڑیاں اور موت کے تیر پھینکتا ہے
19 ویسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے ہمسایہ کو دغا دیتا ہے اور کہتا ہے میں تو دِل لگی کر رہا تھا۔
20 لکڑی نہ ہونے سے آگ بجھ جٓاتی ہے سو جہاں غیبت گو نہیں وہاں جھگڑا موقوف ہو جٓاتا ہے۔
21 جیسے انگاروں پر کوئلے اور آگ پر ایندھن ہے ویسے ہی جھگڑالو جھگڑابرپاکرنے کے لئے ہے۔
22 غیبت گو کی باتیں لذیذنوالے ہیں اور وہ خوب ہضم ہو جٓاتی ہیں۔
23 اُلفتی لب بدخواہ دِل کے ساتھ اُس ٹھیکرے کی مانند ہیں جس پر کھٹی چاند ی منڈھی ہو۔
24 کینہ ور دِل میں دغا رکھتا ہے لیکن اپنی باتوں سے چھپاتا ہے۔
25 جب وہ میٹھی میٹھی باتیں کرے تو اُسکا یقین نہ کر کیونکہ اُسکے دِل میں کمال نفرت ہے۔
26 اگرچہ اُسکی بدخواہی مکر میں چھپی ہے تو بھی اُسکی بدی جماعت کے روبرو فاش کی جٓائیگی ۔
27 جو گڑھا کھودتا ہے آپ ہی اُس میں گریگا۔اور جو پتھر ڈھلکاتا ہے وہ پلٹ کر اُسی پر پڑیگا ۔
28 جھوٹی زبان اُنکا کینہ رکھتی ہے جنکو اُس نے گھایل کیا ہے اور چاپلوس منہ تباہی کرتا ہے۔


باب 27

1 کل کی بابت گھنڈنہ کر کیونکہ تو نہیں جٓانتا کہ ایک ہی دِن میں کیا ہوگا۔
2 غیر تیری ستایش کرے نہ کہ تیرا ہی منہ ۔بیغانہ نہ کرے نہ کہ تیرے ہی لب ۔
3 پتھر بھاری ہے اور ریت وزن دار ہے لیکن احمق کا جھنجھلانا اِن دونوں سے گران تر ہے۔
4 غضب سخت بے رحمی اور قہر سیلاب ہے لیکن حسد کت سامنے کون کھڑا رو سکتا ہے؟
5 چھپی محبت سے کھلی ملامت بہتر ہے۔
6 جو زخم دوست کے ہاتھ سے لگیں پر وفا ہیں لیکن دُشمن کے بوسے بااِفراط ہیں۔
7 آسودہ جٓان کو شہد کے چھتے سے بھی نفرت ہے لیکن بھوکے کے لئے ہر ایک کڑوی چیز میٹھی ہے۔
8 اپنے مکان سے آوارہ اِنسان اُس چڑیا کی مانند ہے جو اپنے آشیانہ سے بھٹک جٓائے ۔
9 جیسے تیل اور عطرسے دِل کو فرحت ہوتی ہےویسے ہی دوست کی دِلی مشورت کی شیرینی سے۔
10 اپنے دوست اور اپنے باپ کے دوست کو ترک نہ کر اور اپنی مصیبت کے دِن اپنے بھائی کے گھر نہ جٓا کیونکہ ہمسایہ جو نزدیک ہو اُس بھائی سے جو دُور ہو بہتر ہے۔
11 اَے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دِل کو شاد کر تاکہ میں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں ۔
12 ہوشیار بلا کو دیکھکر چھپ جٓاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جٓاتے اور نقصان ُٹھاتے ہیں۔
13 جو بیغانہ کا ضامن ہو اُسکے کپڑے چھین لے اور جو اجنبی کا ضامن ہو اُس سے کچھ گرو رکھ لے۔
14 جو صبح سویرے اُٹھ کر اپنے دوست کے لئے بلند آواز سے دعا ی خیر کرتا ہے اُسکے لئے یہ لعنت محسوب ہوگی۔
15 جھڑی کے دِن کا لگاتار ٹپکا اور جھگڑالوبیوی یکسان ہیں۔
16 جو اُسکو روکتا ہے ہوا کو روکتا ہے اور اُسکا داہنا ہاتھ تیل کو پکڑتا ہے۔
17 جس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے اُسی طرح آدمی کے دوست کے چہرہ کی آب اُسی سے ہے ۔
18 جو انجیر کے درخت کی نگہبانی کرتا ہے اُسکا میوہ کھا ئیگا اور جو اپنے آقا کی خدمت کرتا ہے عزت پائیگا۔
19 جس طرح پانی میں چہرہ چہرہ سے مشابہ ہے اُسی طرح آدمی کا دِل آدمی سے۔
20 جس طرح پاتال اور ہلاکت کو آسودگی نہیں اُسی طرح اِنسان کی آنکھیں سیر نہیں ہوتیں۔
21 جیسے چاندی کے لئے کٹھالی اور سونے کے لئے بھٹی ہے ویسے ہی آدمی کے لئے اُسکی ستایش ہے۔
22 اگرچہ تو احمق کو اناج کے ساتھ اُکھلی میں ڈالکر موسل سے کوٹے توبھی اُسکی حمایت اُس سے کبھی جدا نہ ہوگی۔
23 اپنے ریوڑوں کا حال دریافت کرنے میں دِل لگا اور اپنے گلوں کو اچھی طرح سے دیکھ
24 کیونکہ دولت سدا نہیں رہتی اور کیا تا جوری پشت درپشت قائم رہتی ہے؟
25 سوکھی گھاس جمع کی جٓاتی ہے۔پھر سبزہ نمایاں ہوتا ہےاور پہاڑوں پر سے چارہ کاٹ کر فراہم کیا جٓاتا ہے۔
26 برے تیر ی پوشش کے لئے ہیں اور بکریاں تیرے میدانوں کی قیمت ہیں
27 اور بکریوں کا دودھ تیری اور تیرے خاندان کی خوراک اور تیری لونڈیوں کی گذران کے لئے کافی ہے۔


باب 28

1 اگر چہ کوئی شریر کا پیچھا نہ کرے تو بھی وہ بھاگتا ہے لیکن صادق شیر ببر کی مانند دلیر ہے۔
2 ملک کی خطا کاری کے سبب سے حاکم بہت سے ہیں لیکن صاحب علم وفہم سے اِنتظام بحال رہیگا۔
3 مسکین پر ظلم کرنے والا کنگال موسلا دھار مینہ ہے جو ایک دانہ بھی نہیں چھوڑتا ۔
4 شریعت کو ترک کرنے والے شریروں کی تعریف کرتے ہیں لیکن شریعت پر عمل کرنے والے اُنکا مقابلہ کرتے ہیں۔
5 شریر عدل سے آگاہ نہیں لیکن خداوند کے طالب سب کچھ سمجھتے ہیں۔
6 راست رو مسکین کجرو دولتمند سے بہتر ہے۔
7 تعلیم پر عمل کرنے والا دانا بیٹا ہے لیکن مسرفوں کا ہمنشین اپنے باپ کو رسوا کرتا ہے۔
8 جو نا جٓائز سود اور نفع سے اپنی دولت بڑھاتا ہے وہ مسکینوں پر رحم کرنے والے کے لئے جمع کرتا ہے ۔
9 جو کان پھیر لیتا ہے کہ شریعت کو نہ سنے اُسکی دعا بھی نفرت انگیز ہے۔
10 جو کوئی صادق کو گمراہ کرتا ہے تاکہ وہ بری راہ پر چلے وہ اپنے گڑھے میں آپ ہی گر یگا لیکن کاہل لوگ اچھی چیزوں کے وارِث ہونگے ۔
11 مالدار اپنی نظر میں دانا ہے لیکن عقلمند مسکین اُسے پرکھ لیتا ہے۔
12 جب صادق فتحیاب ہوتے ہیں تو بڑی دھوم دھام ہوتی ہے لیکن جب شریر برپا ہوتے ہیں تو آدمی ڈھونڈے نہیں ملتے ۔
13 جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے کامیاب نہ ہوگا لیکن جو اُنکا اِقرار کرکے اُنکو ترک کرتا ہے اُس پر رحمت ہوگی۔
14 مبارک ہے وہ آدمی جو سدا ڈرتا رہتا ہے لیکن جو اپنے دِل کو سخت کرتا ہے مصیبت میں پڑیگا ۔
15 مسکینوں پر شریر حاکم گرجتے ہوئے شیراور شکار کے طالب ریچھ کی مانند ہے۔
16 بے عقل حاکم بھی بڑا ظالم ہے لیکن جو لالچ سے نفرت رکھتا ہے اُسکی عمر دراز ہوگی ۔
17 ج س کے سر پر کسی کا خون ہے وہ گڑھے کی طرف بھاگیگا ۔اُسے کوئی نہ روکے۔
18 جو راست رو ہے رہائی پایئگالیکن کجرو ناگہان گر پڑیگا۔
19 جو اپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے روٹی سے سیر ہوگا لیکن بطالت کا پیرو بہت کنگال ہوجٓائیگا ۔
20 دیانتدار آدمی برکتوں سے معمور ہوگا لیکن جو دولتمند ہونے کے لئے جلدی کرتا ہے بے سزا نہ چھوٹیگا۔
21 طرفداری کرنا خوب نہیں اور نہ یہ کہ آدمی روٹی کے ٹکڑے کے لئے گناہ کرے ۔
22 تنگ چشم دولت جمع کرنے میں جلدی کرتا ہے اور یہ نہیں جٓانتا کہ افلا س اُسے آدبا یئگا۔
23 آدمی کو سرزنش کرنے والا آخرکار زبانی خوشامد کرنے والے سے زیادہ مقبول ٹھہر یگا۔
24 جو کوئی اپنے والدین کو لوٹتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ گناہ نہیں وہ غارت گر کا ساتھی ہے ۔
25 جس کے دِل میں لالچ ہے وہ جھگڑا برپا کرتا ہے لیکن جس کا توکل خداوند پر ہے وہ فربہ کیا جٓایئگا۔
26 جو اپنے ہی دِل پر بھروسا رکھتا ہے بیوقوف ہے لیکن جو دانائی سے چلتا ہے رہائی پائیگا ۔
27 جو مسکینوں کو دیتا ہے محتاج نہ ہوگا لیکن جو آنکھ چراتا ہے بہت ملعون ہوگا۔
28 جب شریر برپاہوتے ہیں تو آدمی ڈھونڈے نہیں ملتے لیکن جب وہ فنا ہوتے ہیں تو صادق ترقی کرتے ہیں۔


باب 29

1 جو بار بار تنبیہ پا کر بھی گردن کشی کرتا ہے ناگہان بر باد کیا جٓائیگا اور اُسکا کوئی چارہ نہ ہوگا ۔
2 جب صادق اِقبالمند ہوتے ہیں تو لوگ خوش ہوتے ہیں لیکن جب شریر اِقتدار پاتے ہیں تو لوگ آہیں بھرتے ہیں۔
3 جو کوئی حکمت سے اُلفت رکھتا ہے اپنے باپ کو خوش کرتا ہے لیکن جو کسبیوں سے صحبت رکھتا ہے اپنا مال اُڑاتا ہے۔
4 بادشاہ عدل سے اپنی مملکت کو قیام بخشتا ہے لیکن رِشوت ستان اُسکوویران کرتا ہے ۔
5 جو اپنے ہمسایہ کی خوشامد کرتا ہے اُسکے پاوں کے لئے جٓال بچھاتا ہے۔
6 بد کردار کے گناہ میں پھندا ہے لیکن صادق گاتا اور خوشی کرتا ہے
7 صادق مسکینوں کے معاملہ کا خیال رکھتا ہے لیکن شریر میں اُسکو جٓاننے کی لیاقت نہیں۔
8 ٹھٹھا باز شہر میں آگ لگاتے ہیں لیکن دانا قہر کو دور کر دیتے ہیں۔
9 اگر دانا احمق سے مباحثہ کرے تو خواہ وہ قہر کرے خواہ ہنسے کچھ اِطمینان نہ ہوگا۔
10 خونریزلوگ کاہل آدمی سے کینہ رکھتے ہیں لیکن راستکار اُسکی جٓان بابچانے کا قصد کرتے ہیں ۔
11 احمق اپنا قہر اُگل دیتا ہے لیکن دانا اُسکو روکتا اور پی جٓاتا ہے ۔
12 اگر کوئی حاکم جھوٹ پر کان لگاتا ہے تو اُسکے سب خادم شریر ہو جٓاتے ہیں۔
13 مسکین اور زبردست ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور خداوند دونوں کی آنکھیں روشن کرتا ہے۔
14 جو بادشاہ دِیانتداری سے مسکینوں کی عدالت کرتا ہے اُسکا تخت ہمیشہ قائم رہتا ہے ۔
15 چھڑی اور تنبیہ حکمت بخشتی ہیں لیکن جو لڑکا بے تربیت چھوڑدیا جٓاتا ہے اپنی ماں کو رسوا کریگا۔
16 جب شریر اِقبالمند ہوتے ہیں تو بدی زیادہ ہوتی ہے لیکن صادق اُنکی تباہی دیکھینگے ۔
17 اپنے بیٹے کی تربیت کر آرام دیگا اور تیری جٓان کو شادمان کریگا ۔
18 جہاں رویا نہیں وہاں لوگ بے قید ہو جٓاتے ہیں لیکن شریعت پر عمل کرنے والا مبارک ہے۔
19 نوکر باتوں ہی سے نہیں سدھرتا کیونکہ اگرچہ وہ سمجھتا ہے تو بھی پروا نہیں کرتا۔
20 کیا تو بے تامل بولنے والے کو دیکھتا ہے؟ اُسکے مقابلہ میں احمق سے زیادہ اُمید ہے۔
21 جو اپنے خانہ زاد کو لڑکپن سے ناز میں پالتا ہے وہ آخر کار اُسکا بیٹا بن بیٹھیگا۔
22 قہر آلودہ آدمی فتنہ برپاکرتا ہے اور غضبناک گناہ میں زیادتی کرتا ہے ۔
23 آدمی کا غرور اُسکو پست کر یگا لیکن جو دِل سے فروتن ہے عزت حاصل کریگا۔
24 جو کوئی چور شریک ہوتا ہے اپنی جٓان سے دشمنی رکھتا ہے۔وہ حلف اُٹھاتا ہے اور حال بیان نہیں کرتا۔
25 اِنسان کا ڈر پھندا ہے لیکن جو کوئی خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہیگا۔
26 حاکم کی مہربانی کے طالب بہت ہیں لیکن اِنسان کا فیصلہ خداوند کی طرف سے ہے۔
27 صادق کو بے اِنصاف سے نفرت ہے اور شریر کو راست رو سے۔


باب 30

1 یاقہ کے بیٹے اجور کے پیغام کی باتیں اُس آدمی نے اِتی ایل ہاں اِتی ایل اور اُکال سے کہا
2 یقیناًمیں ہر ایک اِنسان سے زیادہ حیوان ہوں اور اِنسان کا سا فہم مجھ میں نہیں ۔
3 میں نے حکمت نہیں سیکھی اور نہ مجھے اُس قدوس کا عرفان حاصل ہے۔
4 کون آسمان پر چڑھا اور پھر نیچے اُترا ؟کس نے ہوا کو اپنی مٹھی میں جمع کر لیا؟ کس نے پانی کو چا در میں باندھا؟ کس نے زمین کی حد ود ٹھہرائیں ؟اگر تو جٓانتا ہے تو بتا اُسکا کیا نام ہےاور اُسکے بیٹے کا کیا نام ہے؟
5 خدا کا ہر ایک سخن پاک ہے۔وہ اُنکی سپر ہے جنکا توکل اُس پر ہے
6 تو اُسکے کلام میں کچھ نہ بڑھانا۔مبادا وہ تجھکو تنبیہ کرے اور تو جھوٹا ٹھہرے ۔
7 میں نے تجھ سا دو باتوں کی درخواست کی ہے میرے مرنے سے پہلے اُنکو مجھ سے دریغ نہ کر۔
8 بطالت اور دروغگوئی کو مجھ سے دور کردے اور مجھ کو نہ کنگال کر نہ دولتمند ۔میری ضرورت کے مطابق مجھے روزی دے۔
9 اَیسا نہ ہو کہ میں سیر ہوکر اِنکا ر کروں اور کہوں خداوند کون ہے؟ یا مبادا محتاج ہو کر چوری کروں اور اپنے خدا کے نام کی تکفیر کروں ۔
10 خادم پر اُسکے آقا کے حضور تہمت نہ لگا تانہ ہو کہ وہ تجھ پر لعنت کرے اور تو مجرم ٹھہرے ۔
11 ایک پشت اَیسی ہے جو اپنے باپ پر لعنت کرتی ہے اور اپنی ماں کو مبارک نہیں کہتی ۔
12 ایک پشت اَیسی ہے جو اپنی نگاہ میں پاک ہے لیکن اُسکی گندگی اُس سے دھوئی نہیں گئی ۔
13 ایک پشت اَیسی ہے کہ واہ وا کیا ہی بلند نظر ہے!اور اُنکی پلکیں اُوپر کو اُٹھی رہتی ہیں۔
14 ایک پشت اَیسی ہے ج س کے دانت تلواریں ہیں اور ڈاڑھیں چھریاں تاکہ زمین کے مسکینوں اور بنی آدم کے کنگالوں کو کھا جٓائیں۔
15 جو نک کی دو بیٹیاں ہیں جو دے !دے!چلاتی ہیں۔تین ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتیں بلکہ چار ہیں جو کبھی "بس " نہیں کہتیں ۔
16 پاتال اور بانجھ کا رحم اور زمین جو سیراب نہیں ہوئی اور آگ جو کبھی "بس"نہیں کہتی ۔
17 وہ آنکھ جو اپنے باپ کی ہنسی کرتی ہے اور اپنی ماں کی فرمانبرداری کو حقیر جٓانتی ہے وادی کے کوے اُسکو اُچک لے جٓائینگے اور گدھ کے بچے اپسے کھا ئینگے ۔
18 تین چیزیں میرے نزدیک بہت ہی عجیب ہیں بلکہ چار ہیں جنکو میں نہیں جٓانتا ۔
19 عقاب کی راہ ہوا میں اور سانپ کی راہ چٹان پر اور جہاز کی راہ سمندر میں اور مرد کی روش جوان عورت کے ساتھ ۔
20 زانیہ کی راہ اَیسی ہی ہے ۔وہ کھاتی ہے اور اپنا منہ پونچھتی ہے اور کہتی ہے میں نے کچھ برائی نہیں کی ۔
21 تین چیزوں سے زمین لرزان ہے بلکہ چار ہیں جنکی وہ برداشت نہیں کر سکتی ۔
22 غلام سے جو بادشاہی کرنے لگے اور احمق سے جب اُسکا پیٹ بھرے
23 اور نامقبول عورت سے جب وہ بیاہی جٓائے اور لونڈی سے جو اپنی بی بی کی وارث ہو۔
24 چار ہیں جو زمین پر ناچیز ہیں لیکن بہت دانا ہیں۔
25 چیونٹیا ں کمزور مخلوق ہیں تو بھی گرمی میں اپنے لئے خوراک جمع کر رکھتی ہیں
26 اور سافان اگرچہ ناتوان مخلوق ہیں تو بھی چٹانوں کے درمیان اپنے گھر بناتے ہیں
27 اور ٹڈیاں جنکا کوئی بادشاہ نہیں تو بھی پرے باندھ کر نکلتی ہیں
28 اور چھپکلی جو اپنے ہاتھوں سے پکڑتی ہے اور تو بھی شاہی محلوں میں ہے۔
29 تین خوش رفتار ہیں بلکہ چار جنکا چلنا خوشنما ہے ۔
30 ایک تو شیر ببر جو سب حیوانات میں بہادر ہے اور کسی کو پیٹھ نہیں دِکھاتا ۔
31 جنگی گھوڑا اور بکرا اور بادشاہ جس کا سامنا کوئی نہ کرے۔
32 اگر تو نے حمایت سے اپنے آپ کو بڑا ٹھہرایا ہے یا تو نے کوئی برا منصوبہ باندھا ہے تو ہاتھ اپنے منہ پر رکھ
33 کیونکہ یقیناًدودھ بلونے سے مکھن نکلتا ہے اور ناک مروڑنے سے لہو ۔اِسی طرح قہر بھڑکا نے سے فساد برپا ہوتا ہے۔


باب 31

1 لموایل بادشاہ کے پیغام کی باتیں جو اُسکی ماں نے اُسے سکھائیں۔
2 اَے میرے بیٹے! اَے میرے رحم کے بیٹے !تجھے جسے میں نے نذریں مان کر پایا کیا کہوں؟
3 اپنی قوت عورتوں کو نہ دے اور اپنی راہیں بادشاہوں کو بگاڑنے والوں کی طرف نہ نکال ۔
4 بادشاہوں کو اَے لموایل !بادشاہ کو میخواری زیبا نہیں اور شراب کی تلاش حاکموں کو شایان نہیں۔
5 مبادا وہ پیکر قوانین کو بھول جٓائیں اور کسی مظلوم کی حق تلفی کریں ۔
6 شراب اُسکو پلاو جو مرنے پر ہے اور مے اُسکو جو تلخ جٓان ہے
7 تاکہ وہ پئے اوراپنی تنگدستی فراموش کرےاور اپنی تباہ حالی کو پھریاد نہ کرے ۔
8 اپنا منہ گونگے کے لئے کھول ۔اُن سب کی وکالت کو جو بکیس ہیں ۔
9 اپنا منہ کھول۔راستی سے فیصلہ کر اور مسکینوں اور ور محتاجوں کا اِنصاف کر۔
10 نیکوکار بیوی کس کو ملتی ہے؟کیونکہ اُسکی قدر مرجٓان سے بھی بہت زیادہ ہے۔
11 اُسکے شوہر کے دِل کو اُس پر اعتماد ہے اور اُسے منافع کی کمی نہ ہوگی ۔
12 وہ اپنی عمر کے تمام ایام میں اُس سے نیکی ہی کریگی۔بدی نہ کریگی ۔
13 وہ اُون اور کتان ڈھونڈتی ہے اور خوشی کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے کام کرتی ہے ۔
14 وہ سوداگروں کے جہاز وں کی مانند ہے۔ وہ اپنی خورِش دور سے لے آتی ہے۔
15 وہ رات ہی کو اُٹھ بیٹھتی ہے اور اپنے گھرانے کو کھلاتی ہے اور اپنی لونڈیوں کو کام دیتی ہے
16 وہ کسی کھیت کی بابت سوچتی ہے اور اُسے خرید لیتی ہے اور اپنے ہاتھوں کے نفع سے تاکستان لگاتی ہے۔
17 وہ مضبوطی سے اپنی کمر باندھتی ہے اور اپنے بازووں کو مضبوط کرتی ہے۔
18 وہ اپنی سوداگری کو سود مند پاتی ہے۔رات کو اُسکا چراغ نہیں بجھتا ۔
19 وہ تکلے پر ہاتھ چلاتی ہے اور اُسکے ہاتھ اٹیرن پکڑتے ہیں۔
20 وہ مفلسوں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتی ہے ہاں وہ اپنے ہاتھ محتاجوں کی طرف بڑھاتی ہے۔
21 وہ اپنے گھرانے کے لئے برف سے نہیں ڈرتی لہونکہ اُسکے خاندان میں ہر ایک سرخ پوش ہے۔
22 وہ اپنے لئے نگارین بالا پوش بناتی ہے۔اُسکی پوشاک مہین کتانی اور ارغوانی ہے۔
23 اُسکا شوہر پھاٹک میں مشہور ہے جب وہ ملک کے بزرگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔
24 وہ مہین کتانی کپڑے بناکر بیچتی ہے اور ٹپکے سوداگروں کے حوالہ کرتی ہے۔
25 عزت اور حرمت اُسکی پوشاک ہیں اور وہ آیندہ ایام پر ہنستی ہے۔
26 اُسکے منہ سے حکمت کی باتیں نکلتی ہیں ۔اُسکی زبان پر شفقت کی تعلیم ہے۔
27 وہ اپنے گھرانے پر بخوبی نگاہ رکھتی ہے اور کاہلی کی روٹی نہیں کھاتی ۔
28 اُسکے بیٹے اُٹھتے ہیں اور اُسے مبارک کہتے ہیں۔اُسکا شوہر بھی اُسکی تعریف کرتا ہے
29 کہ بُہتیری بیٹیوں نے فضیلت دِکھائی ہے لیکن تو سب پر سبقت لے گئی ۔
30 حُسن دھوکا اور جمال بے ثبات ہے لیکن وہ عورت جو خداوند سے ڈرتی ہے ستودہ ہو گی ۔
31 اُسکی محنت کا اجر اُسے دو اور اُسکے کاموں سے مجلس میں اُسکی ستایش ہو۔