واعظ

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12


باب 1

1 شاہ یروشیلم داود کے بیٹے واعظ کی باتیں۔
2 باطل ہی باطل واعظ کہتا ہے باطل ہی باطل۔ سب کچھ باطل ہے۔
3 انسان کو اس ساری محنت سے جو وہ دُنیا میں کرتا ہے کیا حاصل ہے۔
4 ایک پُشت جاتی ہے اور دُوسری پُشت آتی ہے پر زمین ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
5 سُورج نکلتا ہے اور سورج ڈھلتا بھی ہے اور اپنے طُلوع کی جگہ کو جلد چلا جاتا ہے۔
6 ہوا جنوب کی طرف چلی جاتی ہے اور چکر کھا کر شمال کی طرف پھرتی ہے۔ یہ سدا چکر مارتی ہے اور اپنی گشت کے مُطابق دورہ کرتی ہے۔
7 سب ندیاں سمندر میں گرتی ہیں پر سمندر بھر نہیں جاتا۔ ندیاں جہاں سے نکلتی ہیں اُدھر ہی کو پھر جاتی ہیں۔
8 سب چیزیں ماندگی سے پُر ہیں۔ آدمی اس کا بیان نہیں کر سکتا آنکھ دیکھنے سے آسُودہ نہیں ہوتی اور کان سُننے سے نہیں بھرتا۔
9 جو ہُوا وُہی پھر ہو گا اور جو چیز بن چُکی ہے وہی ہے جو بنائی جائے گی اور دُنیا میں کوئی چیز نئی نہیں۔
10 کیا کوئی چیز ایسی ہے جس کی بابت کہا جاتا ہے کہ دیکھو یہ تو نئی ہے؟ وہ تو سابق میں ہم سے پیشتر کے زمانوں میں موجود تھی۔
11 اگلوں کی کوئی یادگار نہیں اور آنے والوں کی اپنے بعد کے لوگوں کے درمیان کوئی یاد نہ ہو گی۔
12 میں واعظ یُروشیلم میں بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا۔
13 اور میں نے اپنا دل لگایا کہ جو کُچھ آسمان کے نیچے کیا جاتا ہے اُس سب کی تفتیش و تحقیق کُروں ۔ خُدا نے بنی آدم کو یہ سخت دُکھ دیا ہے کہ وہ مشقت میں مُبتلا رہیں۔
14 میں نے سب کاموں پر جو دُنیا میں کئے جاتے ہیں نظر کی اور دیکھو یہ سب کچھ بُطلان اور ہوا کی چران ہے ۔
15 وہ جو ٹیڑھا ہے سیدھا نہیں ہو سکتا اور ناقص کا شُمار نہیں ہو سکتا۔
16 میں نے یہ بات اپنے دل میں کہی دیکھ میں نے بڑی ترقی کی بلکہ اُن سبھوں سے جو مجھ سے پہلے یُروشلیم میں تھے زیادہ حکمت حاصل کی۔ ہاں میرا دل حکمت اور دانش میں بڑا کاردان ہُوا۔
17 لیکن جب میں نے حکمت کے جاننے اور حماقت و جہالت کے سمجھنے پر دل لگایا تو معلوم کیا کہ یہ بھی ہوا کی چران ہے۔
18 کیونکہ بُہت حکمت میں بُہت غم ہے اور علم میں ترقی دُکھ کی فروانی ہے۔


باب 2

1 میں نے اپنے دل سے کہا آ میں تجھ کو خُوشی میں آزماوں گا۔ سو عشرت کر لے۔ لو یہ بھی بُطلان ہے۔
2 میں نے ہنسی کو دیوانہ کہا اور شادمانی کے بارے میں کہا اس سے کیا حاصل؟۔
3 میں نے دل میں سوچا کہ جسم کو مے نوشی سے کیوں کر تازہ کُروں اور اپنے دل کو حکمت کی طرف مائل رکھوں اور کیوں کر حماقت کو پکڑے رہُوں جب تک معلوم کُروں کہ بنی آدم کی بہُبودی کس بات میں ہے کہ وہ آسمان کے نیچے عُمر بھر یہی کیا کریں۔
4 میں نے بڑے بڑے کام کئے ۔ میں نے اپنے لئے عمارتیں بنائیں اور میں نے اپنے لے تاکستان لگائے۔
5 میں نے اپنے لے باغیچے اور باغ تیار کئے اور اُن میں ہر قسم کے میوہ دار درخت لگائے۔
6 میں نے اپنے لے تالاب بناے کہ اُن میں سے باغ کے درختوں کا ذخیرہ سینچوں۔
7 میں نے غلامُوں اوت لُونڈیوں کو خریدا اور نوکر چا کر میرے گھر میں پیدا ہُوئے اور جتنے مجھ سے پہلے یُروشلیم میں تھے اُن سے کہیں زیادہ گائے بُیل اور بھیڑیوں کا مالک تھا۔
8 میں نے سونااور چاندی اور بادشاہوں اور صوبوں کا خاص خزانہ اپنے لے جمع کیا۔ میں نے گانے والوں اور گانے والیوں کو رکھا اور بنی آدم کے اسباب عیش یعنی لونڈیوں کو اپنے لے کثرت سے فراہم کیا۔
9 سو میں بزرگ ہُوا اور اُن سبھوں سے جو مجھ سے پہلے یروشلیم میں تھے زیادہ بڑھ گیا۔ میری حکمت بھی مجھ سے قائم رہی۔
10 اور سب کچھ جو میری آنکھیں چاہتی تھیں میں نے اُن سے باز نہ رکھا ۔ میں نے اپنے دل کو کسی طرح کی خُوشی سے نہ روکا کیونکہ میرا دل میری ساری محنت سے شادمان ہوا اور میری ساری محنت سے میرا بخرہ یہی تھا۔
11 پھر میں نے ان سب کاموں پر جو میرے ہاتھوں نے کئے تھے اور اُس مشقت پر جو میں نے کام کرنے میں کھینچی تھی نظر کی اور دیکھا کہ سب بُطلان اور ہوا کی چران ہے اور دُنیا میں کُچھ فائدہ نہیں ۔
12 اور میں حکمت اور دیوانگی اور حماقت کے دیکھنے پر متوجہ ہوا۔ کیونکہ وہ شخص جو بادشاہ کے بعد آئے گا کیا کرے گا؟ وہی جو چلا آتا ہے۔
13 اور میں نے دیکھا کہ جیسی روشنی کو تاریکی پر فضیلت ہے ویسی ہی حکمت حماقت سے افضل ہے ۔
14 دانشور اپنی آنکھیں اپنے سر میں رکھتا ہے پر احمق اندھیرے میں چلتا ہے۔ تو بھی میں جان گیا کہ ایک ہی حادثہ اُن سب پر گُزرتا ہے۔
15 تب میں نے دل میں کہا جیسا احمق پر حادثہ ہوتا ہے ویسا ہی مجھ پر بھی ہو گا۔ پھر میں کیوں زیادہ دانشور ہُوا؟ سو میں نے دل میں کہا کہ یہ بھی بُطلان ہے۔
16 کیونکہ نہ دانشوار اور نہ احمق کی یادگار ابد تک رہے گی۔ اس لے کہ آنے والے دنوں میں سب کچھ فراموش ہو چُلے گا اور دانشور کیوں کر احمق کی طرح مرتا ہے!۔
17 پس میں زندگی سے بیزار ہُوا کیونکہ جو کام دُنیا میں کیا جاتا ہے مُجھے بُہت بُرا معلوم ہُوا کیونکہ سب بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔
18 بلکہ میں اپنی ساری محنت سے جو دُنیا میں کی تھی بیزار ہُوا کیونکہ ضُرور ہے کہ میں اُسے اُس آدمی کے لے جو میرے بعد آئے گا چھوڑ جاوں ۔
19 اور کون جانتا ہے کہ وہ دانشور ہو گا یا احمق؟ بہر حال وہ میری ساری محنت کے کام پر جو میں نے کیا اور جس میں میں نے دُنیا میں اپنی حکمت ظاہر کی ضابط ہو گا۔ یہ بھی بُطلان ہے۔
20 تب میں نے پھر ا کہ اپنے دل کو اُس سارے کام سے جو میں نے دُنیا میں کیا تھا نا اُمید کُروں ۔
21 کیونکہ ایسا شخص بھی ہے جس کےکام حکمت اور دانائی اور کامیابی کے ساتھ ہیں لیکن وہ اُن کو دوسرے آدمی کے لے جس نے اُن میں کچھ محنت نہیں کی اُس کی میراث کے لے چھوڑ جائے گا۔ یہ بھی بُطلان اور بلای عظیم ہے۔
22 کیونکہ آدمی کو اُس کی ساری مشقت اور جانفشانی سے جو اُس نے دُنیا میں کی کیا حاصل ہے؟۔
23 کیونکہ اُس کے لے عُمر بھر غم ہے اور اُس کی محنت ماتم ہے بلکہ اُس کا دل رات کو بھی آرام نہیں پاتا۔ یہ بھی بُطلان ہے۔
24 پس انسان کے لے اس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے اور اپنے اور اپنی ساری محنت کے درمیان خُوش ہو کر اپنا جی بہلاے۔ میں نے دیکھا کہ یہ بھی خُدا کے ہاتھ سے ہے۔
25 اس لے کہ مجھ سے زیادہ کون کھا سکتا اور کون مزہ اُڑا سکتا ہے؟۔
26 کیونکہ وہ اُس آدمی کو جو اُس کے حضور میں اچھا ہے حکمت اور دانائی اور خُوشی بخشتا ہے لیکن گُہنگار کو زحمت دیتا ہے کہ وہ جمع کرے اور انبار لگائے تاکہ اُسے دے جو خُدا کا پسندیدہ ہے۔ یہ بھی بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔


باب 3

1 ہر چیز کا ایک موقع اور ہر کام کا جو آسمان کے نیچے ہوتا ہے ایک وقت ہے۔
2 پیدا ہونے کا ایک وقت ہے اور مر جانے کا ایک وقت ہے ۔ درخت لگانے کا ایک وقت ہے اور لگائے ہُوئے کو اُکھاڑنے کا ایک وقت ہے۔
3 مار ڈالنے کا ایک وقت ہے اور شفا دینے کا ایک وقت ہے۔ ڈھانے کا ایک وقت ہے اور تعمیر کرنے کا ایک وقت ہے۔
4 رونے کا ایک وقت ہے اور ہسنے کا ایک وقت ہے۔ غم کھانے کا ایک وقت ہے اور ناچنے کا ایک وقت ہے۔
5 پتھر پھینکنے کا ایک وقت ہے اور پتھر بٹورنے کا ایک وقت ہے۔ ہم آغوشی کا ایک وقت ہے اور ہم آغوشی سے باز رہنے کا ایک وقت ہے۔
6 حاصل کرنے کا ایک وقت ہے اور کھو دینے کا ایک وقت ہے۔ رکھ چھوڑنے کا ایک وقت ہے اور پھینک دینے کا ایک وقت ہے۔
7 پھاڑنے کا ایک وقت ہے اور سینے کا ایک وقت ہے۔ چُپ رہنے کا ایک وقت ہے اور بولنے کا ایک وقت ہے۔
8 مُحبت کا ایک وقت ہے اور عدوات کا ایک وقت ہے۔ جنگ کا ایک وقت ہے اور صلح کا ایک وقت ہے۔
9 کام کرنے والے کو اُس سے جس میں وہ محنت کرتا ہے کیا حاصل ہوتا ہے؟۔
10 میں نے اُس سخت دُکھ کو دیکھا جو خُدا نے بنی آدم کو دیا ہے کہ وہ مشقت میں مُبتلا رہیں۔
11 اُس نے ہر ایک چیز کو اُس کے وقت میں خُوب بنایا اور اُس نے ابدیت کو بھی اُن کے دل میں جاگُزین کیا ہے اس لے کہ انسان اُس کام کو جو خُدا شروع سے آخر تک کرتا ہے دریافت نہیں کر سکتا۔
12 میں یقینا جانتا ہُوں کہ انسان کے لئے یہی بہتر ہے کہ خُوش وقت ہو اور جب تک جیتا رہے نیکی کرے ۔
13 اور یہ بھی کہ ہر ایک انسان کھائے اور پئے اور اپنی ساری محنت سے فائدہ اُٹھائے۔ یہ بھی خُدا کی بخشش ہے۔
14 اور مُجھ کو یقین ہے کہ سب کچھ جو خُدا کرتا ہے ہمییشہ کے لے ہے۔ اس میں کچھ کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور خُدا نے یہ اس لے کیا ہے ۔ کہ لوگ اُس کے حضور ڈرتے رہیں۔
15 جو کچھ ہے وہ پہلے ہو چُکا اور جو کُچھ ہونے کو ہے وہ بھی ہو چُکا اور خُدا گُزشتہ کو پھر طلب کرتا ہے۔
16 پھر میں نے دُنیا میں دیکھا کہ عدالت گاہ میں ظُلم ہے اور صداقت کے مکان میں شرارت ہے۔
17 تب میں نے دل میں کہا کہ خُدا راست بازوں اور شریروں کی عدالت کرے گا کیونکہ ہر ایک امر اور ہر کام کا ایک وقت ہے۔
18 میں نے دل میں کہا کہ یہ بنی آدم کے لے ہے کہ خُدا اُن کو جانچے اور سمجھ لیں کہ ہم خُود حیوان ہیں۔
19 کیونکہ جو کچھ بنی آدم پر گُزرتا ہے۔ ایک ہی حادثہ دونوں پر گُزرتا ہے جس طرح یہ مرتا ہے اُسی طرح وہ مرتا ہے۔ ہاں سب میں ایک ہی سانس ہے اور انسان کو حیوان پر کچھ فوقیت نہیں کیونکہ سب بُطلان ہے۔
20 سب کے سب ایک ہی جگہ جاتے ہیں۔ سب کے سب خاک سے ہیں اور سب کے سب پھر خاک سے جاملتے ہیں۔
21 کون جانتا ہے کہ انسان کی رُوح اُوپر چڑھتی اور حیوان کی روح زمین کی طرف نیچے کو جاتی ہے؟۔
22 پس میں نے دیکھا کہ انسان کے لے اس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ اپنے کاروبار میں خُوش رہے اس لے کہ اُس کا بخرہ یہی ہے کیونکہ کون اُسے واپس لائے گا کہ جو کچھ اُس کے بعد ہو گا دیکھ لے۔


باب 4

1 تب میں نے ہر کر اُس تمام ظُلم پر جو دُنیا میں ہوتا ہے نظر کی اور مُظلوموں کے آنسووں کو دیکھا اور اُن کو تسلی دہنے والا کوئی نہ تھا اور اُن پر ظلم کرنے والے زبردست تھے پر اُن کو تسلی دینے والا کوئی نہ تھا۔
2 پس میں نے مُردوں کو جو آگے مر چُکے تھے ان زندوں سے جو اب جیتے ہیں زیادہ مُبارک جانا۔
3 بلکہ دونوں سے نیک بخت وہ ہے جو اب تک ہُوا ہی نہیں۔ جا نے وہ بُرائی جو دُنیا میں ہوتی ہے نہیں دیکھی۔
4 پھر میں نے ساری محنت کے کام اور ہر ایک اچھی دست کاری کو دیکھا کہ اس کے سبب سے آدمی اپنے ہمسایہ سے حسد کرتا ہے۔ یہ بھی بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔
5 بے دانش اپنے ہاتھ سمیٹتا ہے اور آپ ہی اپنا گوشت کھاتا ہے۔
6 ایک مٹھی بھر جو چین کے ساتھ ہو اُن دو مُٹھیوں سے بہتر ہے جن کے ساتھ محنت اور ہوا کی چران ہو۔
7 اور میں نے پھر کر دُنیا کے بُطلان کو دیکھا۔
8 کوئی اکیلا ہے اور اُس کے ساتھ کوئی دُوسرا نہیں۔ اُس کے نہ بیٹا ہے نہ بھائی تو بھی اُس کی ساری محنت کی انہتا نہیں اور اُس کی آنکھ دولت سے سیر نہیں ہوتی۔ وہ کہتا ہے میں کس کے لے محنت کرتا اور اپنی جان کو عیش سے محروم رکھتا ہُوں ؟ یہ بھی بُطلان ہے ہاں یہ سخت دُکھ ہے۔
9 ایک سے دو بہتر ہیں اُن کی مخنت سے اُن کو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔
10 کیونکہ اگر وہ گریں تو ایک اپنے ساتھی کو اُٹھائے گا لیکن اُس پر افسوس جو اکیلا ہے جب وہ گرتا ہے کیونکہ کوئی دوسرا نہیں جو اُسے اُٹھا کھڑا کرے۔
11 پھر اگر دو اکٹھے لیٹیں تو گرم ہوتے ہیں پر اکیلا کیوں کر گرم ہو سکتا ہے؟۔
12 اور اگر کوئی ایک پر غالب ہو تو دو اُس کا سامنا کر سکتے ہیں اور تہری ڈوری جلد نہیں ٹوٹتی۔
13 مسکین اور دانش مند لڑکا اُس بوڑھے بے وقوف بادشاہ سے جس نے نصیحت سُننا ترک کر دیا بہتر ہے۔
14 کیونکہ وہ قید خانہ سے نکل کر بادشاہی کرنے آیا بُاوجودیکہ وہ جو سلطنت ہی میں پیدا ہُوا مسکین ہو چلا۔
15 میں نے سب زندوں کو جو دُنیا میں چلتے پھرتے ہیں دیکھا کہ وہ اُس دُوسرے جوان کے ساتھ تھے جو اُس کا جانشہن ہونے کے لے برپا ہُوا۔
16 اُن سب لوگوں کا یعنی اُن سب کا جن پر وہ حُکمران تھا کُچھ شُمار نہ تھا تو بھی وہ جو اُس کے بعد اُٹھیں گے اُس سے خُوش نہ ہوں گے۔ یقینا یہ بھی بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔


باب 5

1 جب تو خُدا کے گھر کو جاتا ہے تو سنجیدگی سے قدم رکھ کیونکہ شنوا ہونے کے لے جانا احمقوں کے سے ذبیحے گُزراننے سے بہتر ہے اس لے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ بدی کرتے ہیں۔
2 بولنے میں جلد بازی نہ کر اور تیرا دل جلد بازی سے خُدا کے حضُور کُچھ نہ کہے کیونکہ خُدا آسمان پر ہے اور تو زمین پر۔ اس لے تیری باتیں مُختصر ہوں ۔
3 کیونکہ کام کی کثرت کے باعث سے خواب دیکھا جاتا ہے اور احمق کی آواز باتوں کی کثرت ہوتی ہے۔
4 جب تو خُدا کے لے منت مانے تو اُس کے ادا کرنے میں دیر نہ کیونکہ وہ احمقوں سے خُوش نہیں ہے۔ تو اپنی منت کو پُورا کر۔
5 تیرا منت نہ ماننا اس سے بہتر ہے کہ تو منت مانے اور ادا نہ کرے۔
6 تیرا مُنہ تیرے جسم کو گُہنگار نہ بنائے اور فرشتہ کے حضُور مت کہہ کر بھول چُوک تھی۔ خُدا تیری آواز سے کیوں بیزار ہو اور تیرے ہاتھوں کا کام برباد کرے؟۔
7 کیونکہ خوابوں کی زیادتی اور بطالت اور باتوں کی کثرت سے ایسا ہوتا ہے لیکن تو خُدا سے ڈر۔
8 اگر تو مُلک میں مسکینوں کو مُظلُوم اور عدل و انصاف کو متروُک دیکھے تو اس سے حیران نہ ہو کیونکہ ایک بڑوں سے بڑا ہے جو نگاہ کرتا ہے اور کوئی ان سب سے بھی بڑا ہے۔
9 زمین کا حاصل سب کے لے ہے بلکہ کاشت کاری سے بادشاہ کا بھی کام نکلتا ہے۔
10 زردوست رُوپیہ سے آسودہ نہ ہوگا اور دولت کا چاہنے والا اُس کے بڑمنے سے سیر نہ ہوگا۔ یہ بھی بُطلان ہے۔
11 جب مال کی فروانی ہوتی ہے تو اُس کے کھانے والے بھی بُہت ہو جاتے ہیں اور جاتے ہیں اور اُس کے مالک کو سوا اس کے کہ اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور کیا فائدہ ہے۔
12 محنتی کی نیند میٹھی ہے خواہ وہ تھوڑا کھائے خواہ بُہت لیکن دولت کی فروانی دولت مند کو سونے نہیں دیتی۔
13 ایک بلای عظیم ہے جسے میں نے دُنیا میں دیکھا یعنی دولت جسے اُس کا مالک اپنے نقصان کے لے رلھ چھوڑتا ہے ۔
14 اور وہ مال کسی بُرے حادثہ سے برباد ہوتا ہے اور اگر اُس کے گھر میں بیٹا ہوتا ہے تو اُس وقت اُس کے ہاتھ میں کُچھ نہیں ہوتا۔
15 جس طرح سے وہ اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا اُسی طرح ننگا جیسا کہ آیا تھا پھر جائے گا اور اپنی محنت کی اُجرت میں کُچھ نہ پائے گا جسے وہ اپنے ہاتھ میں لے جائے۔
16 اور یہ بھی بلای عظیم ہے کہ ٹھیک جیسا وہ آیا تھا ویسا ہی جائے گا اور اُسے اس فضول محنت سے کیا حاصل ہے؟۔
17 وہ عمر بھر بے چینی میں کھاتا ہے اور اُس کی دقداری اور بیزاری اور خفگی کی انتہا نہیں۔
18 لو میں نے دیکھا کہ یہ خوب ہے بلکہ خُوش نما ہے کہ آدمی کھائے اور پئے اور اپنی ساری محنت سے جو وہ دُنیا میں کرتا ہے اپنی تمام عُمر جو خُدا نے اسُے بخشی ہے راحت اُٹھائے کیونکہ اُس کا بخرہ یہی ہے۔
19 نیز ہر ایک آدمی جسے خُدا نے مال و اسباب بخشا اور اُسے توفیق دی کہ اُس میں سے کھائے اور اپنا بخرہ لے اور اپنی محنت سے شادمان رہے۔ یہ تُو خُدا کی بخشش ہے ۔
20 پس وہ اپنی زندگی کے دنوں کو بُہت یاد نہیں کرے گا اس لے کے خُدا اُس کی خوش دلی کے مُطابق اُس سے سلوک کرتا ہے۔


باب 6

1 ایک زُبُونی ہے جو میں نے دُنیا میں دیکھی اور وہ لوگوں پر گراں ہے۔
2 کوئی ایسا ہے کہ خُدا نے اُسے دھن دولت اور عزت بخشی ہے یہاں تک کہ اُس کو کسی چیز کی جسے اُس کا جی چاہتا ہے کمی نہیں تو بھی خدا نے اُسے توفیق نہیں دی کہ اُس سے کھائے بلکہ کوئی اجنبی اُسے کھاتا ہے۔ یہ بُطلان اور سخت بیماری ہے۔
3 اگر آدمی کے سو فرزند ہوں اور وہ بُہت برسوں تک جیتا رہے یہاں تک کہ اُس کی عمر کے دن بے شمار ہوں پر اُس کا جی شادمانی سے سیر نہ ہو اور اُس کا دفن نہ ہو تو میں کہتا ہُوں کہ وہ حمل جو گر جائے اُس سے بہتر ہے۔
4 کیونکہ وہ بطالت کے ساتھ آیا اور تاریکی میں جاتا ہے اور اُس کا نام اندھیرے میں پوشیدہ رہتا ہے۔
5 اُس نے سورج کو بھی نہ دیکھا نہ کسی چیز کو جانا پس وہ اُس دُوسرے سے زیادہ آرام میں ہے۔
6 ہاں اگرچہ وہ دو ہزار برس تک زندہ رہے اور اُسے کُچھ راحت نہ ہو۔ کیا یہ سب کے سب ایک ہی جگہ نہیں جاتے ؟۔
7 آدمی کی ساری محنت اُس کے مُنہ کے لے ہے تُو بھی اُس کا جی نہیں بھرتا۔
8 کیونکہ دانش مند کو احمق پر کیا فضیلت ہے؟ اور مسکین کو جو زندوں کے سامنے چلنا جانتا ہے کیا حاصل ہے؟۔
9 آنکھوں سے دیکھ لینا آرزُو کی آوارگی سے بہتر ہے ۔ یہ بھی بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔
10 جو کُچھ ہوا اُس کا نام زمانہ قدیم میں رکھا گیا اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انسان ہے اور وہ اُس کے ساتھ جو اس سے زور آور ہے جھگڑ نہیں سکتا۔
11 چُونکہ بہت سی چیزیں ہیں جن سے بطالت فراوان ہوتی ہے پس انسان کو کیا فائدہ ہے؟۔
12 کیونکہ کون جانتا ہے کہ انسان کے لے اُس کی زندگی میں یعنی اُس کی باطل زندگی کے تمام ایّام میں جن کو وہ پرچھائیں کی مانند بسر کرتا ہے کونسی چیز فائدہ مند ہے؟ کیونکہ انسان کو کون بتا سکتا ہے کہ اُس کے بعد دُنیا میں کیا کمی واقع ہوگا؟۔


باب 7

1 نیک نامی پیش بہا عطر سے بہتر ہے اور مرنے کا دن پیدا ہونے کے دن سے۔
2 ماتم کے گھر جانا ضیافت کے گھر میں داخل ہونے سے بہتر ہے کیونکہ سب لوگوں کا انجام یہی ہے اور جو زندہ ہے اپنے دل میں اس پر سوچے گا۔
3 غمگینی ہنسی سے بہتر ہے کیونکہ چہرہ کی اُداسی سے دل سُدھر جاتا ہے۔
4 دانا کا دل ماتم کے گھر میں ہے لیکن احمق کا جی عشرت خانہ سے لگا ہے۔
5 انسان کے لے دانشور کی سرزنش سُننا احمقوں کا راگ سُننے سے بہتر ہے۔
6 جیسا ہانڈی کے نیچے کاہنوں کا چٹکنا ویسا ہی احمق کا ہنسنا ہے۔ یہ بھی بُطلان ہے۔
7 یقینا ظُلم دانشور آدمی کو دیوانہ بنا دیتا ہے اور رشوت عقل کو تباہ کرتی ہے۔
8 کسی بات کا انجام اُس کے آغاز سے بہتا ہے اور بُردبار مُتکبر مزاج سے اچھا ہے۔
9 تو اپنے جی میں خفا ہونے کی جلدی نہ کر کیونکہ خفگی احمقوں کے سینوں میں رہتی ہے۔
10 تو یہ نہ کہہ کہ اگلے دن ان سے کیونکر بہتر تھے؟ کیونکہ تو دانش مندی سے اس امر کی تحقیق نہیں کرتا۔
11 حکمت خُوبی میں میراث کے برابر ہے اور ان کے لے جو سُورج کو دیکھتے ہیں زیادہ سُودمند ہے۔
12 کیونکہ حکمت ویسی ہی پناہ گاہ ہے جیسے رُوپیہ لیکن علم کی خاص خُوبی یہ ہے کہ حکمت صاحب حکمت کی جان کی مُحافظ ہے۔
13 خُدا کے کام پر غور کر کیونکہ کون اُس چیز کو سیدھا کر سکتا ہے جسے اُس نے ٹیڑھا کیا ہے؟۔
14 اقبال مندی کے دن خُوشی میں مُشغول ہو پر مُصیبت کے دن میں سوچ بلکہ خُدا نے اس کو اُس کے مُقابل بنا رکھا ہے تاکہ انسان اپنے بعد کی کسی بات کو دریافت نہ کر سکے۔
15 میں نے اپنی بطلان کے دنوں میں یہ سب کُچھ دیکھا کوئی راست باز اپنی راست بازی میں مرتا ہے اور کوئی بدکردار اپنی بدکرداری میں عُمر درازی پاتا ہے۔
16 حد سے زیادہ نیکوکار نہ ہو اور حکمت میں اعتدال سے باہر نہ جا اس کی کیا ضرورت ہے کہ تو اپنے آپ کو برباد کرے؟۔
17 حد سے زیادہ بدکردار نہ ہو اور احمق نہ بن ۔ تو اپنے وقت سے پہلے کا ہے کو مرے گا؟۔
18 اچھا ہے کہ تو اس کو بھی پکڑے رہے اور اُس پر سے بھی ہاتھ نہ اُٹھائے کیونکہ جو خُدا ترس ہے ان سب سے بچ نکلے گا۔
19 حکمت صاحب حکمت کو شہر کے دس حاکموں سے زیادہ زور آور بنا دیتی ہے۔
20 کیونکہ زمین پر کوئی ایسا راست باز انسان نہیں کہ نیکی ہی کرے اور خطا نہ کرے۔
21 نیز اُن سب باتوں کے سُننے پر جو کہی جائیں کان نہ لگا۔ ایسا نہ ہو کہ تو سُن لےکہ تیرا نوکر تجھ پر لعنت کرتا ہے۔
22 کیونکہ تو تو اپنے دل سے جانتا ہے کہ تو نے آپ اسی طرح سے اوروں پر لعنت کی ہے۔
23 میں نے حکمت سے یہ سب کچھ آزمایا ہے۔ میں نے کہا کہ میں دانش مند بُنوں گا پر وہ مُجھ سے کہیں دُور تھی۔
24 جو کُچھ ہے سُود اور نہایت گہرا ہے۔ اسے کون پاسکتا ہے ہے؟۔
25 میں نے اپنے دل کو متوجہ کیا کہ جانُوں اور تفتیش کُروں اور حکمت اور خرد کو دریافت کُروں اور سمجھوں کہ بدی حماقت ہے اور حماقت دیوانگی ۔
26 تب میں نے موت سے تلخ تر اس عورت کو پایا جس کا دل پھندا اور جال ہے اور جس کے ہاتھ ہتھکڑیاں ہیں۔ جس سے خُدا خوش ہے وہ اس سے بچ جائے گا لیکن گُہنگار اس کا شکار ہوگا۔
27 دیکھ واعظ کہتا ہے میں نے ایک دُوسرے سے مُقابلہ کر کے یہ دریافت کیا ہے۔
28 جس کی میرے دل کو ابھی تک تلاش ہے پر ملا نہیں۔ میں نے ہزار میں ایک مرد پایا لیکن اُن سبھوں میں عورت ایک بھی نہ ملی۔
29 لو میں نے صرف اتنا پایا کہ خُدا نے انسان کو راست بنایا پر اُنہوں نے بُہت سی بندشیں تجویز کیں۔


باب 8

1 دانش مند کے برابر کون ہے ؟ اور کسی بات کی تفسیر کرنا کون جانتا ہے؟ انسان کی حکمت اُس کے چہرہ کو روشن کرتی ہے اور اُس کے چہرہ کی سختی اُس سے بدل جاتی ہے۔
2 میں تُجھے صلاح دیتا ہُوں کہ تو بادشاہ کے حُکم کو خُدا کی قسم کے سبب سے مانتا رہ۔
3 تو جلا بازی کر کے اُس کے حضُور سے غائب نہ ہو اور کسی بُری بات پر اسرار نہ کر کیونکہ وہ جو کُچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔
4 اس لے کہ بادشاہ کا حُکم با اختیار ہے اور اُس سے کون کہے گا کہ تو یہ کیا کرتا ہے؟۔
5 جو کوئی حُکم مانتا ہے بُرائی کو نہ دیکھے گا اور دانش مند کا دل موقع اور انصاف کو سمجھتا ہے۔
6 اس لے کہ ہرامر کا موقع اور قاعدہ ہے لیکن انسان کی مُصیبت اُس پر بھاری ہے۔
7 کیونکہ جو کُچھ ہوگا اُس کو معلُوم نہیں اور کون اُسے بتا سکتا ہے کہ کیونکر ہوگا؟۔
8 کسی آدمی کو روح پر اختیار نہیں کہ اُسے روک سکے اور مرنے کا دن بھی اُس کے اختیار سے باہر ہے اور اُس لڑائی سے چُھٹی نہیں ملتی اور نہ شرارت اُس کو جو اُس میں غرق ہے چُھڑائے گی۔
9 یہ سب میں نے دیکھا اور اپنا دل سارے کام پر جو دُنیا میں کیا جاتا ہے لگایا۔ ایسا وقت ہے جس میں ایک شخص دُوسرے پر حکومت کر کے اپنے اُوپر بلالاتا ہے ۔
10 اس کے علاوہ میں نے دیکھا کہ شریر گاڑےگے۔ اور لوگ بھی آئے اور راست باز پاک مقام سے نکلے اور اپنے شہر میں فراموش ہو گے۔ یہ بھی بُطلان ہے۔
11 چُونکہ بُرے کام پر سزا کا فورا حکُم نہیں دیا جاتا اس لے بنی آدم کا دل اُن میں بدی پر بہ شدت مائل ہے۔
12 اگرچہ گُہنگار سو بار بُرائی کرے اور اُس کی عمر دراز ہو تو بھی یقینا جانتا ہُوں کہ اُن ہی کا بھلا ہوگا جو خُدا ترس ہیں اور اُس کے حضُور کانپتے ہیں۔
13 لیکن گُہنگار کا بھلا کبھی نہ ہو گا اور نہ وہ اپنے دنوں کو سایہ کی مانند بڑھائے گا اس لے کہ وہ خُدا کے حضُور کانپتا نہیں۔
14 ایک بطالت ہے جو زمین پر وقوع میں آتی ہے کہ نیکوکار لوگ ہیں جن کو وہ کُچھ پیش آتا ہے جو تھا کہ بد کردارں کو پیش آتا اور شریر لوگ ہیں جن کو وہ کُچھ ملتا ہے جو تھا کہ نیکوکاروں کو ملتا ۔ میں نے کہا کہ یہ بھی بُطلان ہے۔
15 تب میں نے خُرّمی کی تعریف کی کیونکہ دُنیا میں انسان کے لے کوئی چیز اس سے بہتر نہیں کہ کھائے اور پئے اور خُوش رہے کیونکہ یہ اُس کی محنت کے دوران میں اس کی زندگی کے تمام ایّام میں جو خُدا نے دُنیا میں اُسے بخشی اُس کے ساتھ رہے گی۔
16 جب میں نے اپنا دل لگایا کی حکمت سیکھوں اور اس کام کاج کو جو زمین پر کیا جاتا ہے دیکھوں ( کیونکہ کوئی ایسا بھی ہے جس کی آنکھوں میں نہ رات کو نیند آتی ہے نہ دن کو) ۔
17 تب میں نے خُدا کے سارے کام پر نگاہ کی اور جانا کہ انسان اُس کام کو جو دُنیا میں کیا جاتا ہے دریافت نہیں کر سکتا۔ اگرچہ انسان کتنی ہی محنت سے اُس کی تلاش کرے پر کُچھ دریافت نہ کرے گا بلکہ ہر چند دانش مند کو گُمان ہو کہ اُس کو معلوم کر لے پر وہ کبھی اُس کو دریافت نہیں کرے گا۔


باب 9

1 ان سب باتوں پر میں نے دل سے غور کیا اور سب حال کی تفتیش کی اور معلوم ہُوا کہ صادق اور دانش مند اور اُن کے کام خُدا کے ہاتھ میں ہیں۔ سب کُچھ انسان کے سامنے ہے لیکن وہ نہ مُحبت جانتا ہے نہ عداوت۔
2 سب کُچھ سب پر یکساں گُزرتا ہے۔ صادق اور شریر پر۔ نیکوکار اور پاک اور ناپاک پر ۔ اُس پر جو قُربانی گُزرانتا ہے اور اُس پر جو قربانی نہیں گُزرانتا ایک ہی حادثہ واقع ہوتا ہے۔ جیسا نیکوکار ہے ویسا ہی گُہنگار ہے ۔جیسا وہ جو قسم کھاتا ہے ویسا ہی وہ جو قسم سے ڈرتا ہے۔
3 سب چیزوں میں جو دُنیا میں ہوتی ہیں ایک زبوُنی یہ ہے کہ ایک ہی حادثہ سب گُزرتا ہے۔ وہاں بنی آدم کا دل بھی شرارت سے بھرا ہے اور جب تک وہ جیتے ہیں حماقت اُن کے دل میں رہتی ہے اور اس کے بعد مُردوں میں شامل ہوتے ہیں۔
4 چونکہ جو زندوں کے ساتھ ہے اُس کے لے اُمید ہے اس لے زندہ کُتا مُردہ شیر سے بہتر ہے۔
5 کیونکہ زندہ جانتے ہیں کہ وہ مریں گے پر مُردے کُچھ نہیں جانتے اور اُن کے لے اور کُچھ اجر نہیں کیونکہ اُن کی یاد جاتی رہی ہے۔
6 اب اُن کی مُحبت اور عداوت و حسد سب نیست ہو گے اور تا ابد اُن سب کاموں میں جو دُنیا میں کئے جاتے ہیں اُن کا کوئی حصہ بخرہ نہیں۔
7 اپنی راہ چلا جا۔ خُوشی سے اپنی روٹی کھا اور خُوش دلی سے اپنی مے پی کیونکہ خُدا تیرے اعمال کو قبُول کر چُکا ہے۔
8 تیرا لباس ہمیشہ سفید ہو اور تیرا سر چکناہٹ سے خالی نہ رہے۔
9 اپنی بطالت کی زندگی کے سب دن جواُس نے دُنیا میں تجھے بخشی ہے ہاں اپنی بطالت کے سب دن اُس کی بیوی کے ساتھ جو تیری پیاری ہے عیش کر لے کہ اس زندگی میں اور تیری اُس محنت کے دوران میں جو تو نے دُنیا میں کی تیرا یہی بخرہ ہے۔
10 جو کام تیرا ہاتھ کرنے کو پائے اُسے مقدوربھر کر کیونکہ پاتال میں جہاں تو جاتا ہے نہ کام ہے نہ منصوبہ ۔ نہ علم نہ حکمت۔
11 پھر میں نے توجہ کی اور دیکھا کہ دُنیا میں نہ تو دوڑ میں تیز رفتار کو سبقت ہے نہ جنگ میں زور آور کو فتح اور نہ روٹی دانش مند کو ملتی ہے نہ دولت عقل مندوں کو اور نہ عزت اہل خرد کو بلکہ اُن سب کے لے وقت اور حادثہ ہے۔
12 کیونکہ انسان اپنا وقت بھی نہیں پہچانتا۔ جس طرح مچھلیاں جو مُصیبت کے جال میں گرفتار ہوتی ہیں اور جس طرح چڑیاں پھندے میں پھنسائی جاتی ہیں اُسی طرح بنی آدم بھی بدبختی میں جب اچانک اُن پر آپڑتی ہے پھنس جاتے ہیں۔
13 میں نے یہ بھی دیکھا کہ دُنیا میں حکمت ہے اور یہ مُجھے بڑی چیز معلُوم ہوئی۔
14 ایک چھوٹا شہر تھا اور اُس میں تھوڑے سے لوگ تھے۔ اُس پر ایک بڑا بادشاہ چڑھ آیا اور اُس کا مُحاصرہ کیا اور اُس کے مُوابل بڑے بڑے دمدمے باندھے۔
15 مگر اُس شہر میں ایک کنگال دانشور مرد پایا گیا اور اُس نے اپنی حکمت سے اُس شہر کو بچا لیا تو بھی کسی شخص نے اس مسکین مرد کو یاد نہ کیا۔
16 تب میں نے کہا حکمت زور سے بہتر ہے تو بھی مسکین کی حکمت تحیقر ہوتی ہے اور اُس کی باتیں سُنی نہیں جاتیں۔
17 دانشوروں کی باتیں جو آہستگی سے کہی جاتی ہیں احمقوں کے سردار کے شور سے زیادہ سُنی جاتی ہیں۔
18 حکمت لڑائی کے ہتھیاروں سے بہتر ہے۔ لیکن ایک گُہنگار بُہت سی نیکی کو برباد کر دیتا ہے۔


باب 10

1 مُردہ مکھیاں عطار کے عطر کو بدبُودار کر دیتی ہیں اور تھوڑی سی حماقت حکمت و عزت کو مات دیتی ہے۔
2 دانشور کا دل اُس کے دہنے ہاتھ پر احمق کا دل اس کی بائیں طرف ۔
3 ہاں احمق جب راہ چلتا ہے تو اُس کی عقل اُڑ جاتی ہے۔ اور وہ سب سے کہتا ہے کہ میں احمق ہُوں۔
4 اگر حاکم تجھ پر قہر کرے تو اپنی جگہ نہ چھوڑ کیونکہ برداشت بڑے بڑے گُناہوں کو دبا دتیی ہے۔
5 ایک زُبونی ہے جو میں نے دُنیا میں دیکھی ۔ گویا وہ ایک خطا ہے جو حاکم سے سر زد ہوتی ہے۔
6 حماقت بالا نشین ہوتی ہے پر دولت مند نیچے بیٹھتے ہیں۔
7 میں نے دیکھا کہ نوکر گھوڑوں پر سوار ہو کر پھرتے ہیں اور سردار نوکروں کی مانند زمین پر پیدل چلتے ہیں۔
8 گڑھا کھودنے والا اُسی میں گرے گا اور دیوار میں رخنہ کرنے والے کو سانپ ڈسے گا۔
9 جو کوئی پتھروں کو کاٹتا ہے ان سے چوٹ کھائے گا اور جو لکڑی چیرتا ہے اس سے خطرہ میں ہے۔
10 اگر کُلہاڑا کُند ہے اور آدمی دھار تیز نہ کرے تو بُہت زور لگانا پڑتا ہے پر حکمت ہدایت کے لے مُفید ہے۔
11 اگر سانپ نے افسون سے پہلے ڈسا ہے تو افسون گر کو کُچھ فائدہ نہ ہوگا۔
12 دانش مند کے مُنہ کی باتیں لطیف ہیں پر احمق کے ہونٹ اُسی کو نگل جاتے ہیں۔
13 اُس کے مُنہ کی باتوں کی ابتدا حماقت ہے اور اُس کی باتوں کی انتہا فتنہ انگیزا بلہی۔
14 احمق بھی بُہت سی باتیں بناتا ہے پر آدمی نہیں بتا سکتا ہے کہ کیا ہوگا اور جو کُچھ اس کے بعد ہوگا اُسے کون سمجھا سکتا ہے؟۔
15 احمق کی محنت اُسے تھکاتی ہے کیونکہ وہ شہر کو جانا بھی نہیں جانتا ۔
16 اے ممُلکت تجھ پر افسوس جب نابالغ تیرا بادشاہ ہوا اور تیرے سردار صُبح کو کھائیں ۔
17 نیک بخت ہے تو اے سر زمین جب تیرا بادشاہ شریف زادہ ہو اور تیرے سردار مُناسب وقت پر توانائی کے لے کھائیں اور نہ اس لے کہ بد مست ہوں۔
18 کاہل کے سبب سے کڑیاں جُھک جاتی ہیں اور ہاتھوں کے ڈھیلے ہونے سے چھت ٹپکتی ہے۔
19 ہنسنے کے لے لوگ ضیافت کرتے ہیں اور مے جان کو خُوش کرتی ہے اور رُوپیہ سے سب مقصد پُورے ہوتے ہیں۔
20 تو اپنے دل میں بھی بادشاہ پر لعنت نہ کر اور اپنی خواب گاہ میں بھی مال دار پر لعنت نہ کر کیونکہ ہوائی چڑایا بات لو لے اُڑے گی اور پردار اُس کو کھول دے گا۔


باب 11

1 اپنی روٹی پانی میں ڈال دے کیونکہ تو بُہت دنوں کے بعد اُسے پائیں گا۔
2 سات کو بلکہ آٹھ کو حصہ دے کیونکہ تو نہیں جانتا کہ زمین پر کیا بلا آئے گی۔
3 جب بادل پانی سے بھرے ہوتے ہیں تو زمین پر برس کر خالی ہوجاتے ہیں اور اگر درخت جنوب کی طرف یا شمال کی طرف گرے تو جہاں درخت گرتا ہے وہیں پڑا رہتا ہے۔
4 جو ہوا کا رُخ دیکھتا رہتا ہے وہ بوتا نہیں اور جو بادلوں کو دیکھتا ہے وہ کاٹتا نہیں ۔
5 جیسا تو نہیں جانتا ہے کہ ہوا کی کیا راہ ہے اور حاملہ کی رحم میں ہڈیاں کیوں کر بڑھتی ہیں ویسا ہی تو خُدا کے کاموں کو جو سب کچھ کرتا ہے نہیں جانے گا۔
6 صُبح کو اپنا بیج بو اور شام کو بھی اپنا ہاتھ ڈھیلا نہ ہونے دے کیونکہ تو نہیں جانتا کہ اُن میں سے کون سا بارور ہو گا۔ یہ یاوہ یا دونوں کے دونوں برابر برومند ہوں گے۔
7 نُور شیرین ہے اور آفتاب کو دیکھنا آنکھوں کو اچھا لگتا ہے۔
8 ہاں اگر آدمی برسوں زندہ رہے تو اُن میں خُوشی کرے لیکن تاریکی کے دنوں ک یاد رکھے کیونکہ وہ بُہت ہوں گے۔ سب کُچھ جو آتا ہے بُطلان ہے۔
9 اے جوان تو اپنی جوانی میں خُوش ہو اور اُس کے ایّام میں اپنا جی بہلا اور اپنے دل کی راہوں میں اور اپنی آنکھوں کی منظوری میں چل لیکن یاد رکھ کہ ان سب باتوں کے لے خُدا تجھ کو عدالت میں لائے گا۔
10 پس غم کو اپنے دل سے دُور کر اور بدی اپنے جسم سے نکال ڈال کیونکہ لڑکپن اور جوانی دونوں باطل ہیں۔


باب 12

1 اور اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کر جب کہ بُرے دن ہُنوز نہیں آئے اور وہ برس نزدیک نہیں ہُوئے جن میں تو کہئے گا کہ ان سے مُجھے کُچھ خُوشی نہیں ۔
2 جب کہ ہُنوز سُورج اور روشنی اور چاند اور ستارے تاریک نہیں ہُوئے اور بادل بارش کے بعد پھر جمع نہیں ہُوئے ۔
3 جس روز گھر کے نگہبان تھرتھرانے لگیں اور زور آور لوگ کُبڑے ہو جائیں اور پیسنے والیاں رُک جائیں اس لے کہ وہ تھوڑی سی ہیں اور وہ جو کھڑکیوں سے جھانکتی ہیں دُھندلاجائیں ۔
4 اور گلی کے کواڑے بند ہا جائیں ۔ جب چُکی کی آواز دھیمی ہو جائے اور انسان چڑیا کی آواز سے چُونک اُٹھے اور نغمہ کی سب بیٹیاں ضعیف ہو جائیں۔
5 ہاں جب وہ چڑھائی سے بھی ڈر جائیں اور دہشت راہ میں ہو اور بادام کے پُھول نکلیں اور ٹڈی ایک بوجھ معلوم ہُوا اور خواہش مٹ جائے ۔ کیونکہ انسان اپنے ابدی مکان میں چلا جائے گا اور ماتم کرنے والے گلی گلی پھریں گے۔
6 پیشتر اس سے کہ چاندی کی ڈوری کھولی جائے اور سونے کی کٹوری توڑی جائے اور گھڑا چشمہ پر پھوڑا جائے اور حوض کا چراغ ٹوٹ جائے۔
7 اور خاک خاک سے جا ملے جس طرح آگے ملی ہُوئی تھی اور رُوح خُدا کے پاس جس نے اُسے دیا تھا واپس جائے۔
8 باطل ہی باطل واعظ کہتا ہے سب کُچھ باطل ہے۔
9 غرض ازبسکہ واعظ دانش مند تھا اس نے لوگوں کو تعلیم دی۔ ہاں اُس نے بخُوبی غور کیا اور خُوب تجویز کی اور بُہت سی مثلیں قرینہ سے بیان کیں۔
10 واعظ دل آویز باتوں کی تلاش میں رہا۔ اُن سّچی باتوں کی جو راستی سے لکھی گیئں ۔
11 دانش مند کی باتیں پینوں کی مانند ہیں اور اُن کُھونٹیوں کی مانند جو صاحبان مجلس نے لگائی ہوں اور جو ایک ہی چرواہے کی طرف سے ملی ہوں۔
12 سو اب اے میرے بیٹے ان سے نصحیت پزیز ہو۔ بُہت کتابیں بنانے کی انتہا نہیں ہے اور بُہت پڑھنا جسم کو تھکاتا ہے۔
13 اب سب کُچھ سُنایا گیا۔ حاصل کلام یہ ہے۔ خُدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کہ انسان کا فرض کُلی یہی ہے۔
14 کیونکہ خُدا ہر ایک فعل کو ہر ایک پوشیدہ چیز کے ساتھ خواہ بھلی ہو خواہ بُری عدالت میں لائے گا۔