نغزلُ الغزلات

1 2 3 4 5 6 7 8


باب 1

1 سلیمان کی غزلُ الغزلات ۔
2 وہ اپنے منہ کے چُوموں سے مُجھے چُومے۔کیونکہ تیرا عشق مے سے بہتر ہے۔
3 تیرے عطر ی خوشبو لطیف ہے۔تیرا نام عطر ر ختیہ ہے۔اِسی لئے کنواریاں تجھ پر عاشق ہیں۔
4 مجھے کھینچ لے ۔ ہم تیرے پیچھے دوڑینگی۔ بادشاہ مجھے اپنے محل میں لے آیا۔ہم تجھ میں شادمان اور مُسرور ہونگی ۔ہم تیرے عشق کا تذکرہ مے سے زیادہ کرینگی ۔وہ سچّے دِل سے تجھ پر عاشق ہیں۔
5 اَے یروشلیم کی بیٹیو!میں سیاہ فام لیکن خوبصورت ہوں ۔قیدار کے خیموں اور سُلیمان کے پردوں کی مانند ۔
6 مجھے مت تاکو کہ میں سیاہ فام ہوں کیونکہ میں دُھوپ کی جلی ہُوں میری ماں کے بیٹے مجھ سے ناخوش تھے۔اُنہوں نے مجھ سے تاکستانوں کی نگہبانی کرائی لیکن میں اپنے تاکستان کی نگہبانی نہیں کی۔
7 اَے میری جان کے پیارے!مجھے بتا۔تو اپنے گلہ کو کہاں چراتا ہے اور دوپہر کے وقت کہاں بٹھات ہے کیونکہ میں تیرے رفیقوں کے گلّوں کے پاس کیوں ماری ماری پُھروں؟
8 اَے عورتوں میں سب سے جمیلہ !اگر تو نہیں جانتی تو گلہ کے نقش قدم پر چلی جااور اپنے بزغالوں کو چرواہوں کے خیموں کے پاس پاس چرا۔
9 اَے میری پیاری !میں نے تجھے فرعون کے رتھ کی گھوڑیوں میں سے ایک کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔
10 تیرے گال مسُلسل زلفوں میں خوشنماہیں اور تیری گردن موتیوں کے باروں میں۔
11 ہم تیرے لئے سونے کے طوق بنا ئینگے ۔اور اُن میں چاندی کے پُھول جڑینگے ۔
12 جب تک بادشاہ تناول فرماتا رہا میرے سُنبل کی مہک اُڑتی رہی۔
13 میرا محبوب میرے لئے دسِتہ مرہے جورات بھر میری چھایتوں کے درمیان پڑا رہتاہے ۔
14 میرا محبوب میرے لئے عین جدی کے انگورستان سے مہندی کے پھولوں کا گُچھاہے ۔
15 دیکھ تو خوبرو ہے اَے میری پیاری !دیکھ تو خوبصورت ہے۔تیری آنکھیں دو کبوتر ہیں۔
16 دیکھ تو ہی خوبصورت ہے اَے میرے محبوب !بلکہ مرغوب خاطر ہے۔ہمارا پلنگ بھی سبز ہے۔
17 ہمارے گھر کے شہتیر دیودار کے اور ہماری کڑیاں صنوبر کی ہیں۔


باب 2

1 میں شارون کی نرگس اور وادیوں کی سوسن ہوں۔
2 جیسی سوسن جھاڑیوں میں ویسی ہی میری محبوبہ کنواریوں میں ہے ۔
3 جیسا سیب کادرخت بن کے درختوں میں ویسا ہی میرا محبوب نوجوانوں میں ہے ۔میں نہایت شادمانی سے اُسکے سایہ میں بیٹھی اور اُس کا پھل میرے منہ میں میٹھا لگا ۔
4 وہ مجھے مینحانہ کے اندر لایا اور اُسکی محبت کا جھنڈا میرے اُوپر تھا۔
5 کشمش سے مجھے قراردو۔سیبوں سے مجھے تازہ دم کرو کیونکہ میں عشق کی بیمارہوں ۔
6 اُسکا بایاں ہاتھ میرے سر کے نیچے ہے اور اُسکا دہنا ہاتھ مجھے گلے سے لگاتا ہے۔
7 اَے یروشلیم کی بیٹیو!میں تمکوغزالوں اور میدان کی ہرنیوں کی قسم دیتی ہوں کہ تم میرے پیارے کو نہ جگاؤ نہ اُٹھاو جب تک کہ وہ اُٹھنا نہ چاہے۔
8 میرے محبوب کی آواز !دیکھ وہ آرہا ہے!پہاڑوں پر سے کودتا اور ٹیلوں پر سے پھاندتا ہوا چلاآتا ہے ۔
9 میرا محبوب آہو یا جوان ہرن کی مانند ہے۔دیکھ وہ ہماری دیوار کے پیچھے کھڑا ہے۔وہ کھڑکیوں سے جھانکتا ہے۔وہ جھنجریوں سے تاکتا ہے۔
10 میرے محبوب نے مجھ سے باتیں کیں اور کہا اُٹھ میری پیاری !میری ناز نین!چلی آ۔
11 کیونکہ دیکھ جاڑا گذرگیا ۔مینہ برس چکا اور نکل گیا ۔
12 زمین پر پھولوں کی بہار ہے۔ پرندوں کے چہچانے کا وقت آپُہنچا۔اور ہماری سر زمین میں قمریوں کی آواز سُنائی دینے لگی ۔
13 انجیر کے درختوں میں ہرے انجیر بکنے لگے۔اور تاکیں پُھولنے لگیں۔اُنکی مہک پھیل رہی ہے۔سو اُٹھ میری پیاری!میری جمیلہ !چلی آ۔
14 اَے میری کبوتر ی جو چٹانوں کے دراڑوں میں اور کڑاڑوں کی آڑ میں پھپی ہے ! مُجھے اپنا چہرہ دِکھا۔مجھے اپنی آواز سُنا کیونکہ تو ماہ جبین اور تیری آواز شیرین ہے۔
15 ہمارے لئے لومڑیوں کو پکڑو ۔اُن بچوں کو جو تاکستان خراب کرتے ہیں کیونکہ ہماری تاکوں میں پھول لگے ہیں۔
16 میرا محبوب میرا ہے اور اُسکی ہوں۔وہ سوسنوں کے درمیان چراتا ہے۔
17 جب تک دِن ڈھلے اور سایہ بڑھے تو پھر آ اَے میرے محبوب ! تو غزال یاجوان ہرن کی طرح ہو کر آ جو باتر کے پہاڑوں پر ہے۔


باب 3

1 میں نے رات کو اپنے پلنگ پر اُسے ڈھونڈجو میری جان کا پیارا ہے۔میں نے اُسے ڈھونڈا پر نہ پایا ۔
2 اب میں اُٹھونگی اور شہر میں پھرونگی کوچوں میں اور بازاروں میں اُسکو ڈھونڈونگی جو میری جان کا پیارا ہے۔میں نے اُسے ڈھونڈا پر نہ پایا ۔
3 پہرے والے جو شہر میں پھرتے ہیں مجھے ملے۔میں نے پوچھا کیا تم نے اُسے دیکھا جو میری جان کا پیارا ہے؟
4 ابھی میں اُن سے تھوڑا ہی آگے بڑھی تھی کہ میری جان کا پیارامجھے مل گیا ۔میں نے اُسے پکڑرکھا اور اُسے نہ چھوڑا جب تک کہ میں اُسے اپنی ماں کے گھر میں اور اپنی والد ہ کے خلوت خانہ میں نہ لے گئی
5 اَے یروشلیم کی بیٹیو!میں تمکوغزالوں اورمیدان کی ہرینوں کی قسم دیتی ہوں کہ تم میرے پیارے کو نہ جگاؤ نہ اُٹھاؤجب تک کہ وہ اُٹھنا نہ چاہے ۔
6 یہ کون ہے جو مُر اور لُبان سے اور سوداگروں کے تمام عطروں سے معطر ہو کر بیابان سے دھوئیں کے ستون کی مانند چلا آتا ہے؟
7 دیکھو یہ سُلیمان کی پالکی ہے۔جسِکے ساتھ اِسرائیلی بہادُروں میں سے ساٹھ پہلوان ہیں۔
8 وہ سب کے سب شمشیرزن اور جنگ میں ماہر ہیں۔رات کے خطرہ کے سبب سے ہر ایک کی تلوار اُسکی ران پر لٹک رہی ہے۔
9 سُلیمان بادشاہ نے لُبنان کی لکڑیوں سے اپنے لئے ایک پالکی بنوائی ۔
10 اُسکے ڈنڈے چاندی کے بنوائے ۔اُسکی نشست سونے کی گدی ارغوانی بنوائی اور اُسکے اند رکا فرش یروشلیم کی بیٹیوں نے عشق سے مُرصع کیا۔
11 اَے صیون کی بیٹیو! باہر نکلو اور سُلیمان بادشاہ کو دیکھو ۔اُس تاج کے ساتھ جو اُسکی ماں نے اُسکے بیاہ کے دِن اور اُسکے دِل کی شادمانی کے روز اُسکے سر پر رکھا ۔


باب 4

1 دیکھ تو خوبرو ہے اَے میری پیاری ! دیکھ تو خوبصورت ہے ۔تیری آنکھیں تیرے نقاب کے نیچے دو کبوتر ہیں۔تیرے بال بکریوں کے گلہ کی مانند ہیں جو کوہ جاِماد پر بیٹھی ہوں۔
2 تیرے دانت بھیڑوں کے گلہ کی مانند ہیں جنکے بال کترے گئے ہوں اور جنکو غُسل دیا گیا ہو ۔جن میں سے ایک نے بچے دِئے ہوں اور اُن میں ایک بھی بانجھ نہ ہو۔
3 تیرے ہونٹ قرمزی ڈورے ہیں۔تیرا منہ دِلفریب ہے۔تیری کنپٹیاں تیرے نقاب کے نیچے انار کے ٹکڑوں کی مانند ہیں۔
4 تیری گردن داؤد کا برج ہے جو سلاح خانہ کے لئے بنا جِس پر ہزار سپریں لٹکائی گئی ہیں وہ سب کی سب پہلوانوں کی سپریں ہیں۔
5 تیری دونوں چھاتیاں دو توام آہو بچے ہیں جو سوسنوں میں چرتے ہیں۔
6 جب تک دِن ڈھلے اور سایہ بڑھے میں مُر کے پہاڑ اور لُبان کے ٹیلے پر جارہونگا۔
7 اَے میری پیاری !تو سراپا جمال ہے ۔تجھ میں کو ئی عیب نہیں۔
8 لُبنان سے میرے ساتھ چلی آ۔ امانہ کی چوٹی پر سے ۔شیروں کی ماندوں سے اور چیتوں کے پہاڑوں پر سے نظر دوڑا۔
9 اَے میری پیاری !میری زوجہ !تونے میرا دِل لُوٹ لیا ۔اپنی ایک نظر سے ۔اپنی گردن کے ایک طوق سے تونے میرا دِل غارت کر لیا ۔
10 اَے میری پیاری !میری زوجہ !تیرا عشق کیا خوب ہے ! تیری محبت مے سے زیادہ لذیذ ہے اور تیرے عطروں کی مہک ہر طرح کی خوشبو سے بڑھکر ہے۔
11 اَے میری زوجہ ! تیرے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے۔شہد وشیرتیری زبان تلے ہیں۔تیری پوشاک کی خوشبو لُبنان کی سی ہے۔
12 میری پیاری ۔میری زوجہ ایک مُقفل باغچہ ہے۔وہ محفوظ سوتا اور سربہر چشمہ ہے ۔
13 تیرے باغ کے پودے لذیذ میوہ دار انار ہیں۔ مہندی اور سُنبل بھی ہیں۔
14 جٹاماسی اور زعفران ۔بید مُشک اور دار چینی اور لُبان کے تمام درخت ۔مُرا اور عود اور ہر طرح کی خالص خوشبو ۔
15 تو باغوں میں ایک منبع آب حیات کا چشمہ اور لُبنان کا بھرنا ہے ۔
16 اَے بادشمال بیدار ہو! اَے باد جنوب چلی آ! میرے باغ پر سے گذر تاکہ اُسکی خوشبو پھیلے ۔میرا محبوب اپنے باغ میں آئے اور اپنے لذیذمیوئے کھائے۔


باب 5

1 میں اپنے باغ آیا ہوں اَے میری پیاری ! میری زوجہ !میں نے اپنا مُراپنے بلسان سمیت جمع کرلیا ۔میں نے اپنا شہد چھتے سمیت کھا لیا ۔ میں نے اپنی مے دودھ سمیت پی لی ہے ۔اَے دوستو! کھاؤ پیو ۔پیو!ہاں اَے عزیزو! خوب جی بھرکے پیو۔
2 میں سوتی ہُوں پر میرا دِل جاگتا ہے۔میرے محبوب کی آواز ہے جو کھٹکھٹاتا اور کہتا ہے میرے لئے دروازہ کھول میری محبوبہ ! میری پیاری ! میری کبوتری ! میری پاکیزہ !کیونکہ میرا سر شبنم سے تر ہے۔اور میری زلفیں رات کی بوندوں سے بھری ہیں۔
3 میں تو کپڑے اُتار چکی اب پھر کیسے پہنوں ؟میں تو اپنے پاؤں دھو چکی اب اُنکو کیوں میلا کُروں ؟
4 میرے محبوب نے اپنا ہاتھ سُوراخ سے اندر کیا اور میرے دِل وجگر میں اُسکے لئے جنُبش ہوئی ۔
5 میں اپنے محبوب کے لئے درواز ہ کھولنے کو اُٹھی اور میرے ہاتھوں سے مُرٹپکا اور میری اُنگلیوں سے رقیق مُرٹپکا اور قفل کے دستوں پر پڑا۔
6 میں نے اپنے محبوب کے لئے درواز کھولا لیکن میرا محبوب مُڑ کر چلا گیا تھا۔جب وہ بولا تو میں بے حواس ہوگئی ۔میں نے اُسے ڈھونڈا پر نہ پایا ۔میں نے اُسے پُکارا پر اُس نے مجھے کچھ جواب نہ دِیا۔
7 پہرے والے جو شہر میں پھرتے ہیں مجھے ملے۔اُنہوں نے مجھے مارا اور گھایل کیا۔شہر پناہ کے محافظوں نے میری چادر مجھ سے چھین لی۔
8 اَے یروشیلم کی بیٹیو!میں تم کو قسم دیتی ہوں کہ اگر میرا محبوب تم کو مل جائے تو اُس سے کہدینا کہ میں عشق کی بیمار ہوں ۔
9 تیرے محبوب کو کسی دوسرے محبوب پر کیا فضیلت ہے؟ اَے عورتوں میں سب سے جمیلہ !تیرے محبوب کو کسی دوسرے پر کیا فوقیت ہے جو ہمکو اِس طرح قسم دیتی ہے؟
10 میرا محبوب سُرخ وسفید ہے۔وہ دس ہزار میں ممتاز ہے
11 اُسکا سر خالص سونا ہے۔اُسکی زُلفیں پیچ درپیچ اور کوے سی کالی ہیں۔
12 اُسکی آنکھیں اُن کبوتروں کی مانند ہیں جو دودھ میں نہا کر لب دریا تمکنت سے بیٹھے ہوں۔
13 اُسکے رُخسار پھولوں کے چمن اور بلسان کی اُبھری ہوئی کیاریاں ہیں۔اُسکے ہونٹ سوسن ہیں جِن سے رقیق مُرٹپکتا ہے۔
14 اُسکے ہاتھ زبرجد سے مُرصع سونے کے حلقے ہیں۔اُسکا پیٹ ہاتھی دانت کا کام ہے جِس پر نیلم کے پُھول بنے ہوں۔
15 اُسکی ٹانگیں کُندن کے پایوں پر سنگ مرمر کے سُتون ہیں۔وہ دیکھنے میں لُبنان اور خوبی میں رشک سرو ہے۔
16 اُسکا منہ ازبس شیرین ہے۔ہاں وہ سراپا عشق انگیز ہے۔اَے یروشلیم کی بیٹیو ! یہ ہے میرا محبوب ۔یہ ہے میرا پیارا۔


باب 6

1 تیرا محبوب کہاں گیا؟ اَے عورتوں میں سب سے جمیلہ ! تیرا محبوب کس طرف نکلا کہ ہم تیرے ساتھ اُسکی تلاش میں جائیں؟
2 میرا محبوب اپنے بوستان میں بلسان کی کیاریوں کی طرف گیا ہے۔تاکہ باغوں میں چرائے اور سوسن جمع کرے ۔
3 میں اپنے محبوب کی ہوں اور میرا محبوب میرا ہے ۔وہ سوسنوں میں چراتا ہے۔
4 اَے میری پیاری ! تو ترضہ کی مانند خوبصورت ہے۔یروشلیم کی مانند خوش منظر اور علمدار لشکر کی مانند مہیب ہے۔
5 اپنی آنکھیں میری طرف سے پھیرلے کیونکہ وہ مجھے گھبرا دیتی ہیں۔تیرے بال بکریوں کے گلہ کی مانند ہیں جو کوہ جلعاد پر بیٹھی ہوں ۔
6 تیرے دانت بھڑوں کے گلہ کی مانند ہیں۔جنکو غُسل دِیا گیا ہو۔جِن میں سے ہر ایک نے دوبچے دِئے ہوں اور اُن میں ایک بھی بانجھ نہ ہو۔
7 تیری کنپٹیاں تیرے نقاب کے نیچے انار کے ٹکڑوں کی مانند ہیں۔
8 ساٹھ رانیاں اور اسی حرمیں اور بے شمار کنواریاں بھی ہیں
9 پر میری کبوتری ۔میری پاکیزہ بے نظیر ہے۔وہ اپنی ماں کی اِکلوتی ۔وہ اپنی والدہ کی لاڈلی ہے۔بیٹیوں نے اُسے دیکھا اور اُسے مُبارک کہا ۔رانپوں اور حرموں نے دیکھکر اُسکی ستایش کی۔
10 یہ کون ہے جسکا ظہور صبح کی مانند ہے جو حُسن میں ماہتاب اور نور میں آفتاب اور علمدار لشکر کی مانند مہیب ہے؟
11 میں چلغوزوں کے باغ میں گیا کہ وادی کی نباتات پر نظر کروں اور دیکھوں کہ تاک میں غنچے اور انار وں میں پھول نکلے ہیں کہ نہیں۔
12 مجھے ابھی خبر نہ تھی کہ میرے دِل نے مُجھے میرے امرا کے رتھوں پر چڑھا دِیا۔
13 لوٹ آلوٹ آاَے شولمیت! لوٹ آلوٹ آکہ ہم تجھ پر نظر کریں ۔تم شولمیت پر کیوں نظر کرو گے گویا وہ دولشکروں کا ناچ ہے؟


باب 7

1 اَے امیر زادی تیرے پاؤں جوتیوں میں کیسے خوبصورت ہیں!تیری رانوں کی گولائی اُن زیوروں کی مانند ہے جنکو کسی اُستاد کاریگر نے بنایا ہو۔
2 تیری ناف گول پیالہ ہے جس میں ملائی ہوئی مے کی کمی نہیں۔تیرا پیٹ گیہوں کا انبار ہے جسکے گرداگرد سوسن ہوں ۔
3 تیری دونوں چھاتیاں دوآہوبچے ہیں۔جو توام پیدا ہوئے ہوں ۔
4 تیری گردن ہاتھی دانت کا بُرج ہے۔تیری آنکھیں بیت ربیم کے پھاٹک کے پاس حسبون کے چشمے ہیں۔تیری ناک لُبنان کے بُرج کی مثال ہے جو دمشق کے رُخ بنا ہے۔
5 تیرا سر تجھ پر کرئل کی مانند ہے اور تیرے سر کے بال ارغوانی ہیں۔بادشاہ تیری زلفوں میں اسیرہے۔
6 اَے محبوبہ ! عیش وعشرت کے لئے تو کسی جمیلہ اورجانفزا ہے !
7 یہ تیری قامت کھجور کی مانند ہے اور تیری چھاتیاں انگور کے گچھے ہیں ۔
8 میں نے کہا میں اِس کھجور پر چڑھونگا اور اِسکی شاخوں کر پکڑونگا ۔تیری چھاتیاں انگور کے گچھے ہوں اور تیرے سانس کی خوشبو سیب کی سی ہو
9 اور تیرا منہ بہترین شراب کی مانند ہو جو میرے محبوب کی طرف سیدھی چلی جاتی ہے اور سونے والوں کے ہونٹوں پر سے آہستہ آہستہ بہ جاتی ہے۔
10 میں اپنے محبوب کی ہوں اور وہ میرا مُشتاق ہے۔
11 اَے میرے محبوب !چل ہم کھیتوں میں سیر کریں اور گاؤں میں رات کاٹیں۔
12 پھر تڑکے انگورِستانوں میں چلیں اور دیکھیں کہ آیا تاک شگفتہ ہے اور اُس میں پھول نکلے ہیں اور انار کی کلیاں کھلی ہیں یا نہیں ۔وہاں میں تجھے اپنی محبت دِکھاؤنگی ۔
13 مردم گیارہ کی خوشبو پھیل رہی ہے اور ہمارے دروازوں پر ہر قسم کے تروخشک میوے ہیں جو میں نے تیرے لئے جمع کر رکھے ہیں!اَے میرے محبوب !


باب 8

1 کا شکہ تو میرے بھائی کی مانند ہوتا جس نے میری ماں کی چھاتیوں سے دُودھ پیا!میں تجھے جب باہر پاتی تو تیری مچھِیاں لیتی اور کوئی مُجھے حقیر نہ جانتا ۔
2 میں تجھکو اپنی ماں کے گھر میں لے جاتی ۔وہ مجھے سکھاتی ۔میں اپنے اناروں کے رس سے تجھے ممزوج مے پلاتی ۔
3 اُسکا بایاں ہاتھ میرے سر کے نیچے ہوتا اور داہنا مُجھے گلے لگاتا ۔
4 اَے یروشلیم کی بیٹیو! میں تم کو قسم دیتی ہوں کہ تم میرے پیارے کو نہ جگاؤ نہ اُٹھاؤجب تک وہ اُٹھنا نہ چاہے ۔
5 یہ کون ہے جو بیابان سے اپنے محبوب پر تکیہ کئے چلی آتی ہے ؟میں نے تجھے سیب کے درخت کے نیچے جگایا۔جہاں تیری ولادت ہوئی ۔جہاں تیری والدہ نے تجھے جنم دِیا۔
6 نگین کی مانند مجھے اپنے دِل میں لگا رکھ اور تعویذ کی مانند اپنے بازو پر کیونکہ عشق موت کی مانند زبردست ہے اور عبرت پاتال سی بے مُروت ہے۔اُسے شعلے آگ کے شعلے ہیں اور خداوند کے شعلہ کی مانند۔
7 سیلاب عشق کو بجھا نہیں سکتا ۔باڑھ اُسکو ڈبا نہیں سکتی ۔اگر آدمی محبت کے بدلے اپنا سب کچھ دے ڈالے تو وہ سراسر حقارت کے لائق ٹھہریگا۔
8 ہماری ایک چھوٹی بہن ہے ۔ابھی اُسکی چھاتیاں نہیں اُٹھیں ۔جِس روز اُسکی بات چلے ہم اپنی بہن کے لئے کیا کریں؟
9 اگر وہ دیوار ہو تو ہم اُس پر چاندی کا برج بنائینگے اور اگر وہ دروازہ ہو تو ہم اُس پر دیودار تختے لگائینگے ۔
10 میں دیوار ہوں اور میری چھاتیاں بُرج ہیں اور میں اُسکی نظر میں سلامتی یافتہ کی مانند تھی۔
11 بعل ہامون میں سُلیمان کا تاکستان کو باغبانوں کے سپرد کیا کہ کواُن میں سے ہر ایک اُسکے پھل کے بدلے ہزار مثقال چاندی ادا کرے۔
12 میرا تاکستان جو میراہی ہے میرے سامنے ہے۔اَے سُلیمان !توتُو ہزار لے اور اُسکے پھل کے نگہبان دو سو پائیں ۔
13 اَے بُوستان میں رہنے والی ! رفیق تیری آواز سُنتے ہیں تجھکو بھی سُنا ۔
14 اَے میرے محبوب ! جلدی کر اور اُس غزال یا آہُو بچے کی مانند ہو جا جو بلسانی پہاڑیوں پر ہے۔