باب 1

1 یسعیاہ بن آموص کی رویاجو اُس نے یہوداہ اوریروشلیم کی بابت یہوادہ کےبادشاہوں عُزیاہ اور یوتام اورآخز اور حزقیاہ کی آیام میں دیکھی۔
2 سُن اے آسمان اورکان لگا اے زمین کہ خداوند یوں فرماتاہے کہ میں نے لڑکوں کو پالا اور پوسا اورانہوں نے مجھ سےسر کشی کی
3 بیل اپنے مالک کو پہچانتاہے اور گدھا اپنے مالک کی چرنی کو لیکن بنی اسرائیل نہیں جانتے ۔ میرے لوگ کچھ نہیں سوچتے۔
4 آہ خطا کار گروہ۔ بد کرداری سے لدی ہوئی قوم۔ بدکرداروں کی نسل مکار اولاد جنہوں نے خداوند کو ترک کیا اِسرائیل کے قُدوس کو حقیر جانا اورگمراہ برگشتہ ہو گئے۔
5 تم کیوں زیادہ بغاوت کر کے اور مار کھاؤ گے ؟ تمام سر بیمار ہے اور دل بِاکُل سُست ہے۔
6 تلوے سے لیکر چاندی تک اُس میں کہیں صحت نہیں۔ فقط زخم اور چوٹ اورسڑے ہوئے گھاؤ ہی ہیں جو نہ دبائے گئے نہ باندھےگئے نہ تیل سے نرم کئے گئے۔
7 تُمہارا مُلک اُجاڑ ہے۔ تمہاری بستیاں جل گئیں ۔ پردیسی تمہاری زمین کو تمہارے سامنے نگلتے ہیں۔ وہ ویران ہے گویا اُسے اجنبی لوگوں نے اُجاڑا ہے۔
8 اور صیون کی بیٹی چھوڑدی گئی ہے جیسی جھونپڑی تاکستان میں اور چھپر ککڑی کےکھیت میں یا اُس شہر کی مانند جو محصور ہو گیا ہے۔
9 اگر رب الافواج ہمارا تھوڑا سا بقیہ باقی نہ چھوڑتا توہم سدوم کی مثل اورعمورہ کی مانند ہوجاتے۔
10 اے سدوم کے حاکمو خداوندکا کلام سُنو! اے عمورہ کے لوگو ہمارے خدا کی شریعت پر کان لگاؤ۔
11 خداوند فرماتا ہے تمہارے ذبیحوں کی کثرت مجھے کیا کام؟ میں مینڈھوں کی سوختنی قربانیوں اورفربہ بچھڑوں کی چربی سےبیزار ہوں اوربیلوں اوربھیڑوں اوربکروں کےخون میں میری خوشنُودی نہیں ۔
12 جب تُم میرے حضور آکر میرے دیدار کے طالب ہوتے ہو توکون تم سے یہ چاہتا ہے کہ میری بارگاہوں کو روندو؟۔
13 آئیندہ کوباطل ہدیہ نہ لانا۔ بخور سے مجھے نفرت ہے ۔ نئے چاند اور سبت اورعیدی جماعت سے بھی کیونکہ مجھ میں بدکرداری کے ساتھ عید کی برداشت نہیں ۔
14 میرے دل کو تُمہارے نئےچاندوں اور تُمہاری مُقررہ عیدوں سے نفرت ہے ۔ وہ مجھ پر بار ہیں۔ میں اُن کی برداشت نہیں کر سکتا۔
15 جب تُم اپنے ہاتھ پھیلاؤ گے تو میں تُم سے آنکھ پھیر لوں گا۔ ہاں جب تُم دُعا پر دُعا کرو گے تو میں نہ سُنوں گا۔ تُمہارے ہاتھ تو خون آلودہ ہیں۔
16 اپنےآپکو دھو۔ اپنےآپکو پاک کرو۔ اپنے بُرےکاموں کو میرے سامنے سے دُور کرو۔ بدفعلی سے باز آؤ۔
17 نیکو کاری سیکھو۔ انصاف کے طالب ہو۔ مظلوموں کی مدد کرو۔ یتیموں کی فریاد رسی کرو۔ بیواؤں کے حامی ہو۔
18 اب خداوند فرماتا ہے آؤ ہم باہم حُجت کریں۔ اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گےاور ہر چند اورارغوانی ہو تو بھی اوُن کی مانند اُجلے ہونگے ۔
19 اگر تم راضی اورفرمانبردار ہو تو زمین کےاچھےاچھےپھل کھاؤ گے۔
20 پر اگرتم انکارکرو اور باغی ہو تو تلوار کا لقمہ ہو جاؤ گے کیونکہ خداوند نے اپنے مُنہ سے یہ فرمایا ہے۔
21 وفا داربستی کیسی بدکار ہو گئی! وہ تو انصاف سے معمور تھی اورراستبازی اُس میں بستی تھی لیکن اب خونی رہتےہیں۔
22 تیری چاندی مِیل ہو گئی ۔ تیری مَے میں پانی مِل گیا۔
23 تیری سردارگردن کش اورچوروں کے ساتھی ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک رشوت دوست اور انعام کا طالب ہے۔ وہ یتیموں کوانصاف نہیں کرتے اور بیواؤں کی فریاد اُن تک نہیں پہنچتی۔
24 اِسلیے خداوند رب الافواج اسرائیل کا قادر یوں فرماتا ہے کہ آہ میں ضروراپنے مُخالفوں سے آرام پاؤنگا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لونگا۔
25 اور میں تُجھ پر اپنا ہاتھ بڑھاؤنگا اور تیری مَیل بالکُل دُور کر دوں گااور اُس رانگے کو جو تُجھ میں مِلا ہے جُداکرونگا۔
26 اور میں تیرےقاضیوں کو پہلے کی طرح اورتیرے مُشیروں کو ابتدا کی طرح بحال کرونگا۔ اِس کے بعد توراستبازبستی اور وفادارآبادی کہلائے گی۔
27 صیون عدالت کےسبب سے اور وہ جو اُس میں گُناہ سے باز آئے ہیں راستبازی کےباعث نجات پائینگے۔
28 لیکن گنہگار اور بدکردار سب اکٹھے ہلاک ہونگے اورجو خداوند سےباغی ہوئے فنا کئے جائینگے۔
29 کیونکہ وہ اُن بلوطوںسے جنکو تم نے چاہا شرمندہ ہونگے اور تُم اُن باغوں سے جنکو تُم نے پسند کیا خجل ہو گے۔
30 اورتُم اُس بلوط کی مانند ہو جاؤ گے جسکے پتے جھڑ جائیں اوراُس باغ کی مِثل جو بے آبی کی سبب سے سوکھ جائے۔
31 وہاں کا پہلوان ایسا ہو جائیگا جیسا سَن اوراُسکا کام چنگاری ہو جائیگے۔ وہدونوں باہم جَل جائینگے اور کوئی اُن کی آگ نہ بھجائیگا


باب 2

1 وہ بات جو یسعیاہ بن آموص نے یہوادہ اور یروشلیم کےحق میں رویا دیکھی ۔
2 آخری دنوںمیں یوں ہو گا کہ خداوند کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائیگا اور ٹیلوں سے بُلند ہو گا اور سب قومیں وہاں پہنچینگی۔
3 بلکہ بہت سی اُمتیں آئینگی اور کہینگی آو خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوب کے خداکے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائے گا اور ہم اُسکے راستوں پر چلیں گے کیونکہ شریعت صیون سے اور خداوند کا کلام یروشلیم سے صادر ہو گا۔
4 اورقوموں کے درمیان عدالت کریگا اور بہت سی اُمتوں کو ڈانٹے گااور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھرکبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔
5 اے یعقوب کے گھرانے آؤ ہم خداوند کی روشنی میں چلیں ۔
6 تُو نے تواپنے لوگوں یعنی یعقوب کےگھرانے کو ترک کیا اس لیے کہ وہ اہل مشرق کی رسوم سے پُر ہیں اور فلستیوں کی مانند شگون لیتے اور بیگانوں کی اولاد کی مانند ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں ۔
7 اور اُن کا مُلک سونے چاندے سے مالا مال ہےاور اُن کے خزانوں کی کُچھ انتہا نہیں اور اُن کا مُلک گھوڑوں سے بھرا ہے اور اُنکے رتھوں کا کُچھ شُمار نہیں۔
8 اور اُنکی سر زمین بُتوں سے بھی پُر ہے وہ اپنے ہی ہاتھوں کی صعنت یعنی اپنی اُنگلیوں کی کاریگری کو ہی سجدہ کرتےہیں۔
9 اِس سبب سے چھوٹا آدمی پست کیا جاتا ہے اوربڑا آدمی ذلیل ہوتا ہے اور تُو اُنکو ہرگز مُعاف نہ کریگا۔
10 خداوند کے خوف سے اور اُسکے جلال کی شوکت سے چٹان میں گھُس جا اور خاک میں چھِپ جا۔
11 اِنسان کی اونچی نگاہ نیچی کی جائیگی اور بنی آدمی کا تکبر پست ہو جائیگا اوراُس روز خداوند ہی سر بُلند ہو۔
12 کیونکہ رب الافواج کا دن تمام مغرورں، بُلند نظروں اور مُتکبروں پر آئیگا اور وہ پست کئیے جائینگے ۔
13 اورلُبنان کےسب دیوداروں پر جو بُلند اوراونچے ہیں اور بسن کے سب بلوطوں پر۔
14 اور سب اونچے پہاڑوں اور سب ٹیلوں پر ۔
15 اور ہر ایک اونچےبُرج پر اور ہر ایک فصیلی دیوار پر۔
16 اورترسِیس کے سب جہازوں پر غرض ہر ایک خوشنما منظر پر۔
17 اور آدمی کا تکبر ذیر کیا جائیگا اور لوگوں کی بُلند بینی پست کی جائیگی اور اُس روز خداوند ہی سر بُلند ہو گا۔
18 اور تمام بُت بالکل فنا ہونگے۔
19 اور جب خدواند اُٹھیگا کہ زمین کو شدت سے ہلائے تو لوگ اُسکے ڈر سے اور اُسکے جلال کی شوکت سے پہاڑوں کے غاروں میں اور زمین کے شگافوں میں گھُسینگے۔
20 اُس روز لوگ اپنی سونے چاندی کی مورتوں کو جو انہوں نے اپنے پوجنے کے لیے بنائی چھچھُورندوں اور چمگادڑوں کے آگے پھینکیں گے ۔
21 تاکہ جب خداوند زمین کو شدت سے ہلانے کے لیےاُٹھے تو اُسکے خوف سے اور اُس کے جلال کی شوکت سے چٹانوں کےغاروں اور نا ہموارپتھروں کے شگافوں میں گھُس جائیں۔
22 پس تُم انسان سے جسکا دم اُسکے نتھنوں میں ہےباز رہو کیونکہ اُسکی کیا قدر ہے؟۔


باب 3

1 کیونکہ دیکھو خداوند رب الافواج یروشلیم اور یہوادہ سے سہارا اور تکیہ ۔ روٹی کا تمام سہارا اور پانی کا تمام تکیہ دور کر دے گا۔
2 یعنی بُہادر اور صاحب جنگ کو قاضی اور نبی کو فالگیر اور کُہن سال کو۔
3 پچاس پچاس کی سرداروں اورعزت داروں اورصلاحکاروں اور ہوشیار کاریگروں اور ماہر جادوگروں کو۔
4 اور میں لڑکوں کو اُنکے سردار بناؤنگا اور ننھے لڑکے اُن پر حکمرانی کریں گے۔
5 لوگوں میں سے ہر ایک دوسرے پر اور ہر ایک اپنے ہمسایہ پرستم کریگا اور بچے بوڑھوں کی اور رذیل شریفوں کی گُستاخی کریں گے۔
6 جب کوئی آدمی اپنے باپ کے گھرمیں اپنے بھائی کا دامن پکڑکر کہے کہ تو پوشاک والا ہے ۔ آ تو ہماراحاکم ہواور اِس اُجڑےدیس پر قابض ہو جا ۔
7 اُس وقت وہ بُلند آواز سے کہے گا کہ مُجھ سے انتظام نہیں ہو گا کیونکہ میرے گھرمیں نہ روٹی ہے نہ کپڑا۔ مُجھے لوگوں کا حاکم نہ بناؤ۔
8 کیونکہ یروشلیم کی بربادی ہوگئی اور یہوادہ گِر گیا۔ اسلیےکہ اُنکی بول چال اورچال چلن خداوند کی خلاف ہے کہ اُسکی جلالی آنکھوں کو غضب ناک کریں۔
9 اُنکے مُنہ کی صورت اُن پر گواہی دیتی ہے ۔ وہ اپنے گناہوں کو سدوم کی مانند ظاہر کرتےہیں اورچھپاتے نہیں۔ اُنکی جانوں پر واویلا ہے!کیونکہ وہ آپ اپنے اوپر بلا لاتے ہیں ۔
10 راستبازوں کی بابت کہو کہ بھلا ہوگا کیونکہ وہ اپنے کاموں کا پھل کھائینگے۔
11 شریروں پر واویلا ہے! کہ اُنکو بدی پیش آئیگی کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کا کیا پائنگے۔
12 میرے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ لڑکے اُن پر ظُلم اور عورتیں اُن پر حکمرانی کرتی ہیں۔ اے میرے لوگو! تُمہارے پیشوا تُم کو گُمراہ کرتےہیں اورتُمہارے چلنے کی راہوں کو بگاڑتےہیں۔
13 خداوند کھڑا ہے کہ مقدمہ لڑے اور لوگوں کی عدالت کرے۔
14 خداوند اپنے لوگوں کے بزرگوں اوراُنکے سرداروں کی عدالت کرنےکو آئیگا ۔ تُم ہی ہو جا تاکستان چٹ کر گئے ہواور مسکینوں کی لوٹ تُمہارے گھروں میں ہے۔
15 خداوند رب الافواج فرماتاہے کہ اِسکے کیا معنی ہیں کہ تُم میرے لوگوں کو دباتےاور مسکینوں کے سرکُچلتے ہو ؟۔
16 اور خداوند فرماتا ہے چونکہ صیون کی بیٹیاں مُتکبر ہیں اورگردن کشی اورشوخ چشمی سے خرامان ہوتی ہیں اور اپنے پاؤں سے نازرفتاری کرتی اورگھنگھرو بجاتی جاتی ہیں ۔
17 اسلیے خداوند صیون کی بیٹیوں کے سرگنجے اور یہوادہ اُن کےبدن بےپردہ کر دےگا۔
18 اُس دن خداوند اُنکے خلخال کی زیبائش اور جالیاں اورچاند لے لے گا۔
19 اورآویزے اور پہنچیاں اور نقاب۔
20 اور تاج اور پازیب اورپٹکے اورعِطردان اور یعِویذ ۔
21 اور انگوٹھیاں اور نتھ۔
22 اور نفیس پوشاکیں اوراوڑھنیاں اوردوپٹے اورکیِسے ۔
23 اور آرسیاں اور باریک کتانی لِباس اور دستاریں اوربُرقعے بھی۔
24 اور یوں ہو گا کہ خوشبو کے عوض سڑاہٹ ہو گی اور پٹکےکےبدلے رسی اورگُندھے ہوئے بالوں کی جگہ چندلاپن اورنفیس لباس کے عوض ٹاٹ اور حُسن کے بدلے داغ۔
25 تیرے بہادرتِہ تیغ ہونگے اورتیرے پہلوان جنگ میں قتل ہونگے اور تیرے پہلوان جنگ میں قتل ہونگے۔
26 اُسکے پھاٹک ماتم اور نوحہ کریں گے اور وہ اُجاڑ ہو کر خاک پر بیھٹے گی ۔


باب 4

1 اُس وقت سات عورتیں ایک مردکو پکڑ کر کہیں گی کہ ہم اپنی روٹی کھائینگی اور اپنے کپڑے پہنیں گی تو ہم سب سے صرف اتنا کر کہ ہم تیرےنام سے کہلائیں تاکہ ہماری شرمندگی مِٹے۔
2 تب خداوند کی طرف سے روئیدگی خوبصورت و شاندار ہو گی اور زمین کا پھل اُن کے لیے جو بنی اسرائیل میں سے بچ نکلے گالذیذ اورخوشنما ہو گا۔
3 اور یوں ہو گا کہ جو کوئی صیون میں چھٹ جائیگا اور جوکوئی یروشلیم میں باقی رہے گا بلکہ ہرایک جسکا نام یروشلیم کے باشندوں میں لکھا ہو گا مُقدس کہلائیگا ۔
4 جب خداوند صیون کی بیٹیوں کی گندگی دور کریگا اور یروشلیم کا خون رُوحِ عدل اور رُوحِ سوزان کے ذریعہ سے دھو ڈالیگا۔
5 تب خداوند پھر کوہ صیون کےہر ایک مکان پر اوراُس کی مجلس گاہوں پردن کو بادل اوردھواں اوررات کو روشن شعلہ پیدا کریگا۔ تمام جلال پر ایک سایبان ہو گا۔
6 اور ایک خیمہ ہو گا جو دن کو گرمی میں سایہ دار مکان اور آندھی اور جھڑی کے وقت آرامگاہ اور پناہ کی جگہ ہو۔


باب 5

1 اب میں اپنے محبوب کے لیے اپنے محبوب کا ایک گیت اُس کےتاکستان کےلیےگاونگا۔ میرے محبوب کا تاکستان ایک زرخیز پہاڑ پر تھا۔
2 اور اُس نے اُسے کھودا اور اُس میں سے پتھر نکال دئیے اور اچھی سے اچھی تاکیں اُس میں لگائی ارو اُس میں برج بنایااور ایک کولھو بھی اُس میں لگایا اور انتظار کیا کہ اُس میں اچھے انگور لگیں لیکن اُسمیں جنگلی انگور لگے۔
3 اب اےیروشلیم کے باشندہ اور یہوداہ کے لوگو میرے اور میرے تاکستان میں تم ہی انصاف کرو۔
4 کہ میں اپنے تاکستان کے لیے اور کیا کر سکتا تھا جومیں نےنہ کیا؟ اوراب جو میں اچھے انگوروں کی اُمیدکی تو اس میں جنگلی انگور کیوں لگے؟۔
5 میں تم کو بتاتا ہوں کہ اب میں اپنے تاکستان سے کیا کرونگا میں اُسکی باڑ گرادونگا اور وہ چراگاہ ہو گا۔ اُس کا احاطہ توڑڈالونگا اوروہ پامال کیا جائیگا۔
6 اورمیں اُسے بالکل ویران کردونگا۔ وہ نہ چھانٹا جائیگا نہ نرایا جائیگا۔ اُس میں اونٹ کٹارے اور کانٹ اگیں گے اور میں بادلوں کو حکم کرونگا کہ اس پر مینہ نہ برسائیں۔
7 سو رب الافواج کا تاکستان اسرائیل کا گھرانہ ہے اور بنی یہوادہ اُس کا خوشمنا پودا ہے اُس نےانصاف کا انتظار کیا پر خونریزی دیکھی وہ داد کا مُنتظر رہاپر فریاد سُنی۔
8 اُن پر افسوس جو گھر سے گھر اور کھیت سے کھیت ملا دیتے ہیں یہاں تک کہ کوئی جگہ باقی نہ بچےاور وہی مُلک میں اکیلےبسیں۔
9 رب الافواج نےمیرے کان میں کہا یقیناً بہت سےگھر اجڑ جائیں گے اور بڑے بڑے عالیشان اور خوبصورت مکان بھی بے چراغ ہونگے۔
10 کیونکہ پندرہ بیگھے تاکستان سے صرف ایک بت مے نکلے گی اور ایک خومر بیج سے ایکایفہ غلہ۔
11 اُن پر افسوس جو صبح سویرے اٹھتے ہیں تاکہ نشہ بازی کے درپے ہو اور رات کو جاگتے ہیں جب کہ شراب اُن کو بھڑکا نہ دے ۔
12 اور اُن کے جشن کی محفلوں میں ستار، بربط اور دف اور بین اور شراب ہیں لیکن وہ خدا کے کام کو نہیں سوچتے اور اُس کے ہاتھوں کی کایگری پر غور نہیں کرتے۔
13 اس لیے میرے لوگ جہالت کے سبب سے اسیری میں جاتے ہیں اُن کے بزرگ بھوکوں مرتے اورعوام پیاس میں جلتے ہیں۔
14 بس پاتال اپنی ہوس بڑھاتا ہے اور اپنا منہ بے انتہا پھاڑتاہے اور ان کے شریف اور عام لوگ اور غوگائی اور جو کوئی ان میں فخر کرتاہے اُس میں اُتر جائینگے۔
15 اورچھوٹا آدمی جھکایا جائیگا اوربڑا آدمی پست ہو گا اور مغرورں کی آنکھیں نیچی ہو جائیں گی۔
16 لیکن رب الافواج عدالت میں سر بُلند ہو گا اور خدائے قدوس کی تقدیس صداقت سے کی جائیگی۔
17 تب برے گویا اپنی چراگاہوں میں چریں گے اوردولتمندوں کے ویران کھیت پردیسیوں کے گلے کھائیں گے۔
18 اُن پر افسوس جو بطالت کے طنابوں سے بدکرداری کو اور گویاگاڑی کے رسوں سے گناہ کو کھینچ لاتے ہیں ۔
19 اور جو کہتے ہیں کہ وہ جلدی کرےاور پُھرتی سے اپنا کام کرےکہ ہم دیکھیں اور اسرائیل کے قُدوُس کی مشورت نزدیک ہو اورآن پہنچے تاکہ ہم اسے جانیں۔
20 اُن پر افسوس جو بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتےہیں اور نور کی جگہ تاریکی کو او ر تاریکی کی جگہ نور کر دیتے ہیں اور شیرینی کے بدلے تلخی اور تلخی کے بدلے شیرینی رکھتے ہیں۔
21 اُن پر افسوس جو اپنی نظر میں دانشمند اوراپنی نگاہ میں صاحب امتیاز ہیں۔
22 اُن پر افسوس جو مے پینے میں زور آوراور شراب ملانے میں پہلوان ہیں۔
23 جو رشوت لے کر شریروں کو صادق اورصادقوں کو شریر ٹھہراتے ہیں۔
24 پس جس طرح آگ بھوسے کو کھا جاتی ہے اور جلتاہوا پھوُس بیٹھ جاتا ہے اُسی طرح اُن کی جڑ بوسیدہ ہوگی اوراُن کی کلی گرد کی طرح اُڑ جائیگی کیونکہ انہوں نے رب الافواج کی شریعت کو ترک کیا اوراسرائیل کے قُدوس کے کلام کو حقیر جانا۔
25 اس لیے خداوند کا قہر اُس کے لوگوں پر بھڑکا اور اُس نے اُن کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھایا اوراُنکو مارا چنانچہ پہاڑ کانپ گئے اوراُن کی لاشیں بازاروں میں غلاظت کی مانند پڑی ہیں۔ باوجود اُس کا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُس کا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے ۔
26 اور وہ قوموں کے لیے دورسےجھنڈا کھڑا کریگا اوراُن کو زمین کی انتہا سے سُسکار کر بُلائیگا اور دیکھ وہ دوڑےچلے آئینگے۔
27 نہ کوئی اُن میں تھکے گا اور نہ پھسلے گا۔ نہ کوئی اونگھیگا اورنہ سوئیگا۔ نہ اُن کا کمر بند کھُلے گا اور نہ جوتیوں کا تسمہ ٹوٹے گا۔
28 اُنکے تیر تیز ہیں اور اُن کی سب کمانیں کشیدہ ہونگی۔ اُنکے گھوڑوں کےسم چقماق اوراُنکی گاڑیاں گردباد کی مانند ہونگی۔
29 وہ شیرنی کی مانند گرجیں گے ہاں وہ جوان شیروں کی مانند دھاڑیں گے وہ غُرا کر شکار پکڑینگے اوراُسے بےروک ٹوک لےجائیں گے اورکوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
30 اور اُس روز وہ اُن پر ایسا شور مچائیں گے جیساسمندر کا شورہوتاہے اور اگر کوئی اس ملک پر نظر کرے تو تو بس اندھیرا اور تنگ حالی ہے اورروشنی اُسکے بادلوں سےتاریک ہو جاتی ہے ۔


باب 6

1 جس سال میں عُزیاہ بادشاہ نے وفات پائی اُس سال میں نے خداوند کو بڑی بُلندی پر اونچے تخت پر بیٹھے دیکھا او اُسکے لباس کےدامن سے ہیکل معمور ہو گئی۔
2 اُس کے آس پاس سرافیم کھڑے تھے جن میں سے ہر ایک کے چھ بازو تھے اور ہر ایک دو سے اپنا مُنہ ڈھانپے ہوئےتھا اور دو سے پاؤں اوردوسے اڑتا تھا۔
3 اور ایک نے دوسرے کو پُکارا اورکہا قدوس قدوس قدوس رب الافواج ہے۔ ساری زمین اُسکے جلال سے معمور ہے۔
4 اور پُکارنے والے کی آواز سے آستانوں کی بنیادیں ہل گئی اور مکان دھوئیں سے بھر گیا۔
5 تب میں بول اُٹھا کہ مجھ پر افسوس ! میں تو برباد ہوگیا! کیونکہ میرے ہونٹ ناپاک ہیں اورنجس لب لوگوں میں بستا ہوں کیونکہ میری آنکھوں نے بادشاہ رب الافواج کو دیکھا۔
6 اُس وقت سرافیم میں سے ایک سُلگا ہوا کوئلہ جو اُس نے دست پناہ سے مذبح پر سےاٹھالیاتھا لیکر اڑتا ہوا میرے پاس آیا۔
7 اور اُس نے میرےمنہ کو چھوا اورکہا دیکھ اس نے تیرے لبوں کو چُھؤا۔ پس تیری بد کرداری دور ہوئی اور تیرے گناہ کا کفارہ ہو گیا۔
8 اُس وقت میں نے خداوند کی آواز سُنی جس نے فرمایا میں کس کو بھیجوں اور ہماری طرف سے کون جائے گا؟ تب میں نے عرض کی کہ میں حاضر ہوں مجھے بھیج۔
9 اوراُسنے فرمایا کہ کہ جا اور اُن لوگوں سے کہہ کہ تم سُنا کرو پر سمجھونہیں۔ تم دیکھا کرو پربوجھو نہیں ۔
10 تواُن لوگوں کےدلوں کو چربا دے اوراُن کے کانوں کو بھاری کر اور ان کی آنکھیں بند کر دے تا نہ ہوں کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے کانوں سے سُنیں اور اپنےدلوں سے سمجھ لیں اور باز آئیں اورشفا پائیں۔
11 تب میں نے کہا کہ اے خداوند یہ کب تک؟ اُس نے کہا کہ جب تک بستیاں ویران نہ ہوں اورکوئی بسنےوالا نہ رہے اورگھر بےچراغ نہ ہوں اور زمین سرا سر اجاڑ نہ ہو جائے ۔
12 اور خداوند آدمیوں کو دور کر دے اور اس زمین میں متروک مقام بکثرت ہوں۔
13 اور اگراُس میں دسواں حصہ باقی بھی بچ جائے تر وہ پھر بھسم کیا جائے گا لیکن وہ بُطم اوربلوط کی مانند ہو گا کہ باوجود وہ کاٹے بھی جائیں تو بھی اُن کاٹنڈ بچ رہتا ہے ۔ سو اُسکا ٹنڈ ایک مقدس تخم ہو گا۔


باب 7

1 اور شاہ یہوداہ آخز بن یوتام بن عُزیاہ کے آیام میں یہ ہوا کہ رضین شاہ ارام اور فقح بن رملیاہ شاہ اسرائیل نے یروشلیم پر چڑھائی کی لیکن اُس پر غالب نہ آسکے۔
2 اُس وقت داؤد کے گھرانے کو یہ خبر دی گئی کہ ارام افرائیم کے ساتھ متحد ہے۔ پس اُس کے دل نےاور اُس کے لوگوں کےدلوں نے یوں جنبش کھائی جیسےجنگل کےدرخت آندھی سےجنبش کھاتےہیں۔
3 تب خداوند نے یسعیاہ کو حکم کیا کہ تو اپنےبیٹے شیار یاشوب کو لےکر اوپر کے چشمہ کی نہر کے سرے پر جو دھوبیوں کے میدان کی راہ میں ہے آخز سے ملاقات کر۔
4 اوراُسے کہہ کے خبردار ہو اوربےقرار نہ ہو۔ ان لکٹیوں کے دودھوئیں والے ٹکڑوں سے یعنی ارامی رضین اوررملیاہ کے بیٹےکی قہر انگیزی سے نہ ڈر اور تیرا دل نہ گھبرائے۔
5 چونکہ ارام اورافرائیم اوررملیاہ کا بیٹا تیرے خلاف مشورت کر کے کہتےہیں۔
6 کہ آؤ ہم یہوادہ پر چڑھائی کریں اوراُسے تنگ کریں اور اپنے لیے اُس میں رخنہ پیدا کریں اور طابیل کے بیٹے کو اُسکے درمیان تخت نشین کریں ۔
7 اس لیے خداوند خدافرماتا ہے کہ اسکو پایداری نہیں بلکہ ایسا ہو بھی نہیں سکتا ۔
8 کیونکہ ارام کا دالسلطنت دمشق ہی ہو گا اور دمشق کا سردار رضین اورپینسٹھ برس کےاندر افرائیم ایسا کٹ جائے گا کہ قوم نہ رہیگا۔
9 افرائیم کا بھی دارالسلطنت سامریہ ہی ہو گا اور سامریہ دا سردار رملیاہ کا بیٹا۔ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو یقیناً تم بھی قائم نہ رہو گے۔
10 پھر خداوند نے آخز سے فرمایا۔
11 خداوند اپنے خدا سے کوئی نشان طلب کر خواہ نیچے پاتال میں خواہ اُوپر بلندی پر ۔
12 لیکن آخز نے کہا کہ میں طلب نہیں کروں گا اور خداوند کو نہیں آزماونگا۔
13 تب اُن نے کہا اے داؤد کے خاندان اب سنو ! کیا تمہارا انسان کو بیزار کرنا کوئی ہلکی بات ہے کہ میرے خدا کو بھی بیزار کروگے؟۔
14 لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور وہ اُس کا نام عمانوائیل رکھے گی۔
15 وہ دہی اورشہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اور بدی کےرد و قبول کے قابل نہ ہو جائے۔
16 پراس سے پیشتر کہ یہ لڑکا نیکی اوربدی کے رد و قبول کے قابل ہو یہ ملک جس کے دونوں بادشاہوں سے تجھ کو نفرت ہے ویران ہو جائیگا۔
17 خداوند تجھ پر اورتیرے لوگوں اورتیرے باپ کےگھرانے پر ایسے دن لائیگا جیسے اُس دن سے جب افرائیم یہوادہ سے جُدا ہوا آج تک کبھی نہ لایا یعنی شاہ اسور کے دن۔
18 اُس وقت یوں ہو گا کہ خداوند مصر کی نہروں کے اُس سرے سے مکھیوں کو اور اسور کے ملک سے زنبوروں کو سسکار کر بُلائیگا۔
19 سو وہ سب آئینگے اور ویران وادیوں میں اور چٹانوں کی دراڑوں میں اور سب خارستانوں میں اور سب چراگاہوں میں چھا جائیں گے ۔
20 اسی روز خداوند اس اُسترے سے جو دریایِ فرات کے پار سے کرایہ پر لیا یعنی اسور کے بادشاہ سے سر اور پاؤں کے بال مونڈیگا اور اس سے ڈاڑھی بھی کھرچی جائیگی۔
21 اور اُسوقت ایساہو گا کہ آدمی صرف ایک گائے اوردو بھیڑیں پالیگا ۔
22 اور ان کے دودھ کی فراوانی سے لوگ مکھن کھائینگے کیونکہ ہر ایک جو اُس ملک میں بچ رہیگا مکھن اورشہد ہی کھایا کرےگا۔
23 اور اس وقت یہ حالت ہو جائیگی کہ ہر جگہ ہزاروں روپیہ کے تاکستانوں کی جگہ خار دار جھاڑیاں ہونگی۔
24 لوگ تیر اور کمانیں لیکر وہاں آئینگے کیونکہ تمام ملک کانٹوں اور جھاڑیوں سے پُر ہو گا۔
25 مگر ان سب پہاڑیوں پر جو کدالی سےکھودی جاتی تھیں جھاڑیوں اور کانٹوں کے خوف سے تو پھر نہ چڑھیگا لیکن وہ گائے بیل اوربھیڑ بکریوں کہ چراگاہ ہونگی۔


باب 8

1 پھر خداوند نے مجھے فرمایا کہ ایک بڑی تختی لے اور اُس پر لکھ مہیر شالال حاش بز کے لیے۔
2 اوردودیانتدار گواہوں کو یعنی اوریا کاہن کو اور زکریاہ بن یبرکیاہ کو شاہد بنا۔
3 اور میں نبیہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور بیٹا پیدا ہوا۔ تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ اُس کا نام مہیر شالال حاش بز رکھ۔
4 کیونکہ اس سے پیشتر کہ یہ لڑکا ابا اور امّاں کہنا سیکھے دمشق کا مال اور سامریہ کی لوٹ کو اٹھوا کر شاہ اسور کےحضور لےجائیں گے۔
5 پھر خداوند نے یہ فرمایا ہے۔
6 چونکہ ان لوگوں نے چشمہ شیلوخ کے آہستہ رو پانی کو رد کیا اور رضین اوررملیاہ کے بیٹے پر مائل ہوئے۔
7 اسلیے اب دیکھ خداوند دریایِ فرات کے سخت شدید سیلاب کو یعنی شاہ اسور اوراُس کی ساری شوکت کو ان پر چڑھا لائیگا اور وہ اپنے سب نالوں پر اور اپنے سب کناروں سے بہہ نکلے گا۔
8 اور وہ یہوادہ میں بڑھتا چلا جائیگا اور اسکی طغیانی بڑھتی چلی جائیگی۔ وہ گردن تک پہنچےگا اوراسکے پروں کے پھیلاؤ سےتیرے ملک کی ساری وسعت اَے عمانوئیل چھپ جائیگی۔
9 اے لوگو دھوم مچاؤ پر تم ٹکڑے ٹکڑے کیے جاؤ گے اور اے دوردور کے ملکوں کے باشندو سُنو! کمر باندھو پر تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے ۔ کمر باندھو پر تمہارے پُرزے پُرزے ہونگے۔
10 تم منصوبہ باندھو پر وہ باطل ہو گا ۔ تم کچھ کہو اور اُسے قیام نہ ہو گا کیونکہ خدا ہمارےساتھ ہے۔
11 کیونکہ خداوند نے جب اُسکا ہاتھ مجھ پر غالب ہوا اور ان لوگوں کی راہ میں چلنے سے مجھ کو منع کیا تو مجھ سے یوں فرمایا کہ۔
12 تم اُس سب کو جسے یہ لوگ سازش کہتے ہیں سازش نہ کہو اورجس سے وہ ڈرتے ہیں تم نہ ڈرو اور گھبراؤ۔
13 تم رب الافواج کو ہی مقدس جانو اور اُسی سےڈرو اور اُسی سے خائف رہ۔
14 اور وہ ایک مقدس ہو گا لیکن اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لیے صدمہ اور ٹھوکر کا پتھر اور یروشلیم کے لوگوں کے لئے پھندا اوردام ہو گا۔
15 ان میں سے بہتیرے اس سے ٹھوکر کھائینگے اور گرینگے اور پاش پاش ہونگے اور دام میں پھنسینگے اور پکڑے جائیں گے۔
16 شہادت نامہ بند کر دو اور میرے شاگردوں کے لیے شریعت پر مہر کرو۔
17 میں بھی خداوند کی راہ دیکھونگا اب جو یعقوب کے گھرانےسے اپنا منہ چھپاتا ہے ۔ میں اسکا انتظار کرونگا۔
18 دیکھ میں ان لڑکوں سمیت جو خداوند نے مجھے بخشے رب الافواج کی طرف سے جو کوہ صیون میں رہتا ہے بنی اسرائیل کے درمیان نشانوں اورعجائب وہ غرائب کے لیے ہوں۔
19 اور جب وہ تم سے کہیں تم جنات کے یاروں اورافسونگرں کی جو پُھسپُھساتے اور بڑبڑاتےہیں تلاش کرو تو تم کہو کیا لوگوں کو مناسب نہیں کہ اپنے خدا کے طالب ہوں ؟ کیا زندوں کی بابت مردوں سے سوال کریں؟ ۔
20 شریعت اور شہادت پر نظر کرو۔ اگر وہ اس کلام کے مطابق نہ بولیں تو انکے لیے صبح نہ ہو گی۔
21 تب وہ ملک میں بھوکے اور خستہ حال پھریں گے اور یوں ہو گا کہ جب وہ بھوکے ہوں تو جان سے بیزار ہونگے اور اپنے بادشاہ اور خدا پر لعنت کریں گے اور اپنے منہ آسمان کی طرف اٹھائیں گے۔
22 پھر زمین کی طرف دیکھیں گے اور ناگہان تنگی اور تاریکی یعنی ظلمتِ اندوہ اور تیرگی میں کھدیڑے جائینگے


باب 9

1 لیکن اندوہگین کی تیرگی جاتی رہیگی۔ اُس نے قدیم زمانے میں زبولون اورنفتالی کے علاقوں کو ذلیل کیا پر آخری زمانہ میں قوموں کے گلیل میں دریا کی سمت یردن کے پاربزرگی دیگا۔
2 جو لوگ تاریکی میں چلتے تھےانہوں نے بڑی روشنی دیکھی ۔ جو موت کے سایہ کے ملک میں رہتے تھے ان پر نور چمکا۔
3 تو نے قوم کو بڑھایا۔ تو نے انکی شادمانی کو زیادہ کیا۔ وہ تیرے حضور ایسے خوش ہیں جیسے فصل کاٹتے وقت اور غنیمت کی تقسیم کے وقت لوگ خوش ہوتے ہیں۔
4 کیونکہ تو نے انکے بوجھ کے جوئے اور انکے کندھے کے لٹھاور اُن پر ظلم کرنے والے کے عصا کو ایسا توڑاجیسا مدیان کے دن میں کیا تھا ۔
5 کیونکہ جنگ میں مسّلح مردوں کے تمام سلاح اور خون آلودہ کپڑے جلانے کے لئے ایندھن ہونگے۔
6 اس لیے ہمارے لیے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹابخشا گیا اور سلطنت اُسکے کندھے پر ہو گی اور اُس کا نام عجیب مشیرخدائے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہو گا۔
7 اُسکی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہو گی۔ وہ داؤد کے تخت اور اُسکی مملکت پر آج سے ابد تک حکمران رہیگا اور عدالتاورصداقت سے اُسے قیام بخشے گا رب الافواج کی غیوری یہ کرے گی۔
8 خداوند نے یعقوب کے پاس پیغام بھیجا اور وہ اسرائیل پر نازل ہوا۔
9 اور سب لوگ معلوم کرینگے یعنی بنی افرائیم اور اہل سامریہ جو تکبر اور سخت دلی سے کہتے ہیں۔
10 کہ اینٹیں گر گئیں اورہم تراشتے ہوئے پتھروں کی عمارت بنائینگے ۔ گولر کے درخت کاٹے گئے پر ہم دیودار لگائینگے۔
11 اسلیے خداوند رضین کے مخالف گروہوں کو اُن پر چڑھا لائیگا اور اُن کے دشمنوں کو خود مسلح کریگا۔
12 آگے ارامی ہونگے اور پیچھے فلستی اور وہ منہ پسار کر اسرائیل کو نگل جائینگے۔ باوجود اسکے اُسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔
13 تو بھی لوگ اپنے مارنے والے کیطرف نہ پھرے اوررب الافواج کے طالب نہ ہوئے۔
14 اسلیے خداونداسرائیل کے سر اور دُم اورخاص و عام کو ایک ہی دن میں کاٹ ڈالیگا۔
15 بزرگ اورعزت دار آدمی سر ہے اور جو نبی جھوٹی باتیں سکھاتا ہے وہی دم ہے۔
16 کیونکہ جو ان لوگوں کے پیشوا ہیں ان سے خطاکاری کراتے ہیں اور انکے پیرو نگلے جائیں گے۔
17 پس خداوند ان کے جوانو سے خوشنود نہ ہو گا اور ان کے یتیموں اور ان کی بیواں پر کبھی رحم نہ کریگا کیونکہ ان میں سے ہر ایک بے دین اور بدکردار ہے اور ہر ایک منہ حماقت اگلتا ہے باوجود اُسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔
18 کیونکہ شرارت آگ کی طرح جلاتی ہے ۔ وہ خس و خار و کھا جاتی ہے بلکہ وہ جنگل کی گنجان جھاڑیوں میں شعلہ زن ہوتی ہے اور وہ دھوئیں کےبادل میں اوپر کو اڑ جاتی ہے۔
19 رب الافواج کےقہر سے یہ مُلک جلایا گیاہے اور لوگ ایندھن کی مانند ہیں کوئی اپنےبھائی پر رحم نہیں کرتا۔
20 اورکوئی دہنی طرف سےچھینےگا پر بھوکا نہ رہیگا اور وہ بائیں طرف سے کھائے گا سیر نہ ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اپنےبازو کا گوشت کھائیگا ۔
21 منسی افرائیم کا اورافرائیم منسی کا اور وہ ملکر یہوداہ کے مخالف ہونگے ۔ باوجود اسکے اسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔


باب 10

1 ان پر افسوس جو بے انصافی سے فیصلے کرتے ہیں اور ان پر جو ظلم کی روبکائیں لکھتے ہیں۔
2 تاکہ مسکینوں کو عدالت سے محروم کریں اور جو میرے لوگوں میں محتاج ہیں انکا حق چھین لیں اور بیواؤں کو لوٹیں اور یتیم ان کا شکار ہوں! ۔
3 سو تم مطالبہ کے دن اور اُس خرابی کے دن جو دور سے آئیگی کیا کرو گے ؟ تم کمک کے لیے کس کے پاس دوڑو گے؟ اور تم اپنی شوکت کہاں رکھ چھوڑو گے؟۔
4 وہ قیدیوں میں گھسینگے اور مقتولوں کے نیچےچھپینگے ۔ باوجود اسکے اسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوزبڑھا ہوا ہے ۔
5 اسور یعنی میرے قہر کے عصا پر افسوس! جو لٹھ اسکے ہاتھ میں ہے سو میرے قہر کا ہتھیار ہے ۔
6 میں اسے ایک ریا کارقوم پر بھیجونگا اور اُن لوگوں کی مخالفت میں جن پر میرا قہر ہے میں اُسے حکم قطعی دونگا کہ مال لوٹے اور غنیمت لے لے اور انکو بازاروں کی کیچڑ کی مانند لتاڑے۔
7 لیکن اسکا یہ خیال نہیں ہے اور اسکے دل میں یہ خواہش نہیں کہ ایساکرے بلکہ اسکا دل یہ چاہتا ہے کہ قتل کرے اور بہت سی قوموں کو کاٹ ڈالے۔
8 کیونکہ وہ کہتا ہے کہ کیا میرے امرا سب کے سب بادشاہ نہیں؟۔
9 کیا کلنو کرکمیس کی مانند نہیں ہے؟ اور حمات ارفاد کی مانند نہیں؟ اور سامریہ دمشق کی مانندنہیں ہے ؟۔
10 جس طرح میرے ہاتھوں نے بتوں کی مملکتیں حاصل کیں جنکی کھودی ہوئی مورتیں یروشلم اور سامریہ کی مورتوں سے کہیں بہتر ہیں۔
11 کیا جیسا میں نے سامریہ اور اس کے بتوں سے کیا ویسا ہی یروشلیم اور اسکےبتوں سے نہیں کرونگا؟ ۔
12 لیکن یوں ہو گا کہ جب خداوند کوہ صیون پر اور یروشلیم میں اپنا سب کام مکمل کرچکے گا تب ( وہ فرماتا ہے ) میں شاہ اسور کو اسکے گستاخ دل کے ثمرہ کی اور اسکی بلند نظری اور گھمنڈ کی سزا دونگا۔
13 کیونکہ وہ کہتا ہے میں نے اپنے زور بازو سے اور اپنی دانش سے یہ کیا ہے کیونکہ میں دانشمند ہوں ۔ ہاں میں نے قوموں کی حدود کو سرکا دیا اور انکے خزانے لوٹ لیے اور میں نے جنگی مرد کی مانند تخت نشینوں کو اُتار دیا۔
14 اور میرے ہاتھ نے لوگوں کی دولت کو گھونسے کی طرح پایا اور جیسے کوئی ان انڈوں کو جو متروک پڑے ہوں سمیٹ لے ویسے ہی میں ساری زمین پر قابض ہوا اور کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ پر ہلائے یا چونچ کھولے یا چہچہائے ۔
15 کیا کلہاڑا اس کے روبرو جو اُس سے کاٹتا ہے لاف زنی کریگا ؟ کیا ارّہ ارّہ کش کے سامنے شیخی مارے گا ؟ گویا عصا اپنے اٹھانے والے کو حرکت دیتا ہے اور چھڑی آدمی کو اٹھاتی ہے۔
16 اس سبب سے خداوند رب الافواج اسکے فربہ جوانوں پر لاغری بھیجے گا اور اسکی شوکت کے نیچے ایک سوزش آگ کی سوزش کی مانند بھڑکائیگا۔
17 بلکہ اسرائیل کا نور ہی آگ بن جائے گا اور اس کا قدوس ایک شعلہ ہو گا اور وہ اسکے خس و خار کو ایک دن میں جلا کر بھسم کر دے گا۔
18 اور اس کے بن اور باغ کی خوشنمائی کو بالکل نیست ونابود کردیگا اور وہ ایساہو جائیگا جیسا کوئی مریض جو غش کھائے ۔
19 اور اسکے باغ کے درخت ایسے تھوڑے باقی بچینگے کہ ایک لڑکابھی اُنکو گن کرلکھ لے ۔
20 اور اسوقت یوں ہو گا کہ وہ جو بنی اسرائیل میں سے باقی رہ جائینگے اوریعقوب کے گھرانے میں بچ رہینگے اُس پر جس نے اُنکو مارا پھر تکیہ نہ کرینگےبلکہ خداوند اسرائیل کے قدوس پر سچےدل سےتوکل کرینگے ۔
21 ایک بقیہ یعنی یعقوب کا بقیہ خدایِ قادر کی طرف پھریگا۔
22 کیونکہ اے اسرائیل اگرچہ تیرے لوگ سمندر کی ریت کی مانند ہوں تو بھی ان کا صرف ایک بقیہ واپس آئے گا اور بربادی پورے عدل سےمقرر ہو چکی ہے۔
23 کیونکہ خداوند رب الافواج مقررہ بربادی تمام رُوی زمین پر ظاہر کریگا ۔
24 لیکن خداوند رب الافواج فرماتا ہے اے میرے لوگو جو صیون میں بستے ہو اسور سے نہ ڈرو۔ اگرچہ وہ تم کو لٹھ سے مارے اور مصر کی طرح تم پر اپنا عصا اُٹھائے۔
25 لیکن تھوڑی ہی دیر ہےکہ جوش و خروش موقوف ہو گا اور انکی ہلاکت سے میرےقہر کی تسکین ہو گی۔
26 کیونکہ رب الافواج مدیان کی خونریزی کے مطابق جو عوریب کی چٹان پر ہوئی اُس پر ایک کوڑا اُٹھائیگا ۔ اسکا عصا سمندر پر ہو گا ہاں وہ اسے مصر کی طرح اٹھائیگا ۔
27 اور اسوقت یوں ہو گا کہ اسکا بوجھ تیرے کندھے پر سے اور اسکا جوا تیری گردن پر سے اٹھا لیا جائیگا اور وہ جوا مسح کے سبب سے توڑا جائیگا ۔
28 وہ عیات میں آیا ہے ۔ مجرون میں سے ہو کر گذر گیا ۔ اُس نے اپنا اسباب مِکماس میں رکھا ہے۔
29 وہ گھاٹی سے پار گئے ۔ انہوں نے جبعہ میں رات کاٹی ۔ رامہ ہراسان ہے جبعہ ساؤل بھاگ نکلا ہے ۔
30 اے حلیم کی بیٹی چیخ مار! اے مسکین عنتوت اپنی آواز لیس کو سنا۔
31 مدمینہ چل نکلا جیبیم کے رہنے والے نکل بھاگے۔
32 وہ آج کے دن نوب میں خیمہ زن ہو گا ۔ تب وہ دختر صیون کے پہاڑ یعنی کوہ یروشلیم پرہاتھ اُٹھا کر دھمکائیگا۔
33 دیکھو خداوند رب الافواج ہیبتناک طور سے مار کر شاخوں کو چھانٹ ڈالیگا۔ قد آور کاٹ ڈالے جائینگے اور بلند پست کیے جائینگے۔
34 اور وہ جنگل کی گنجان جھاڑیوں کو لوہے سے کاٹ ڈالیگا اور لُبنان ایک زبردست کے ہاتھ سے گر جائیگا۔


باب 11

1 اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلیگی اور اسکی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔
2 اور خداوند کی روح اُس پر ٹھہرے گی ۔حکمت اور خرد کی روح مصلحت اور قدرت کی روح معرفت اور خداوند کے خوف کی روح ۔
3 اوراسکی شادمانی خداوند کے خوف میں ہو گی اور وہ نہ اپنی آنکھوں کے دیکھنےکے مطابق انصاف کریگا اور نہ اپنے کانوں کے سننے کے مطابق فیصلہ کریگا۔
4 بلکہ وہ راستی سے مسکینوں کا انصاف کریگا اور عدل سے زمین کے خاکساروں کا فیصلہ کریگا اور اپنی زبان کلے عصا سے زمین کو ماریگا اور اپنے لبوں کے دم سے شریروں کو فنا کرڈالیگا۔
5 اور اسکے کمر کا پٹکا راستبازی ہو گی اور اسکے پہلو پر راستبازی کا پٹکا ہو گا۔
6 پس بھیڑ یا بّرہ کے ساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑااور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مل جل کر رہینگے اور ننھا بچہ انکی پیش روی کریگا۔
7 گائے اور ریچھنی ملکر چرینگی ۔ انکے بچے اکٹھے بیٹھیں گے اور شیر ببر بیل کی طرح بھوسا کھائیگے۔
8 اوردودھ پیتا بچہ سانپ کی بل کے پاس کھیلے گا اور وہ لڑکا جسکا دودھ چھڑایا گیا ہو افعی کی بل میں ہاتھ ڈالیگا۔
9 وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضررپہچائینگے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کےعرفان سے معمور ہو گی۔
10 اور اسوقت یوں ہو گاکہ لوگ یسی کی اُس جڑ کےطالب ہونگے جو لوگوں کے لیے ایک نشان ہے اوراسکی آرامگاہ جلالی ہو گی۔
11 اور اسوقت یوں ہو گا کہ خداوند دوسری بار اپنے ہاتھ بڑھائیگا کہ اپنے لوگوں کا بقیہ جو بچ رہا ہو اسور اور مصر اور فتروس اور کوش اور عیلام اورسنعار اور حمات اور سمندر کے اطراف سے واپس لائے ۔
12 اور وہ قوموں کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کریگا اور ان اسرائیلیوں کو جو خارج کیے گئے ہوں جمع کریگا اور سب بنی اسرائیل کو جو پراگندہ ہو نگے زمین کی چاروں اطراف سے فراہم کریگا۔
13 تب بنی افرائیم میں حسد نہ رہیگا اور بنی یہوادہ کے دشمن کاٹ ڈالے جائیں گے بنی افرائیم بنی یہوادہ پر حسد نہ کرینگے اور بنی یہوادہ بنی افرائیم سے کینہ نہ رکھینگے۔
14 اور وہ مغرب کی طرف فلستیوں کے کندھوں کی طرف جھپٹیں گے اور وہ مل کر مشرق کے بسنے والوں کو لوٹیں گے اور ادوم اور موآب پر ہاتھ ڈالیں گے اور بنی عمون انکے فرمانبردار ہونگے۔
15 تب خداوند بحر مصر کی خلیج کو بالکل نیست کر دیگا اور اپنی باد سموم سے دریایِ فرات پر ہاتھ چلائے گا اور اسکو سات نالے کردیگا اور ایسا کرے گا کہ لوگ جوتے پہنے ہوئے پار چلے جائیں گے اور اسکے باقی لوگوں کے لیے جو اسور میں سے بچ رہینگے اور ایک ایسی شاہراہ ہو گی جیسی بنی اسرائیل کے لیے تھی جب وہ ملک مصر سے نکلے ۔
16


باب 12

1 اور اس وقت توکہیگا اے خداوند میں تیری ستائش کرونگا اگرچہ تو مجھ سے ناخوش تھا تو بھی تیرا قہر ٹل گیااور تو نے مجھے تسلی دی۔
2 دیکھو خدا میری نجات ہے میں اُس پر توکل کرونگا اور نہ ڈرونگا کیونکہ یاہ یہوواہ میرا زور اور میرا سرور ہے اور وہ میری نجات ہوا ہے ۔
3 پس تم خوش ہو کر نجات کے چشموں سےپانی بھرؤ گے۔
4 اور اسوقت تم کہو گے کہ خداوند کی ستائش کرو اُس سے دعا کرو۔ لوگوں کےدرمیان اُس کے کاموں کا بیان کرو اور کہو کہ اُس کا نام بلند ہے۔
5 خداوند کی مداح سرائی کرو کیونکہ اُس نے جلالی کام کیے جنکو تمام دنیا جانتی ہے۔
6 اے صیون کی بسنے والی تو چلا اور للکار کیونکہ تجھ میں اسرائیل کاقُدُوس بزرگ ہے


باب 13

1 بابل کی بابت بار بنوت جو یسعیاہ بن عاموس نے رویا میں پایا۔
2 تم ننگے پہاڑ پر ایک جھنڈا کھڑا کرو۔ انکو بُلند آواز سے پکارو اور ہاتھ سے اشارہ کرو کہ وہ سرداروں کے دروازوں کے اندر جائیں۔
3 میں نے اپنے مخصوص لوگوں کو حکم کیا ۔ میں نے اپنے بہادروں کو جو میری خداوندی سے مسرور ہیں بُلایا ہے کہ وہ میرے قہر کو انجام دیں۔
4 پہاڑوں میں ایک ہجوم کا شور ہے ۔ گویا بڑے لشکر کا ! مملکتوں کی قوموں کے اجتماع کا غوغا ہے ! رب الافواج جنگ کے لیے لشکر جمع کرتا ہے ۔
5 وہ دور کے ملک سے آسمان کی انتہا سے آتے ہیں ۔ ہاں خداوند اوت اسکے قہر کے ہتھیارتاکہ تمام ملک کو برباد کریں۔
6 اب تم واویلا کرو کیونکہ خداوند کا دن نزدیک ہے۔ وہ قادر مطلق کی طرف سےبڑی ہلاکت کی مانند آئیگا۔
7 اس لیے سب ہاتھ ڈھیلے ہوں گے اور ہر ایک کا دل پگھل جائیگا ۔
8 اور وہ ہراسان ہوں گے جانکنی اورغمگینی ان کو آ لے گی وہ ایسے درد میں مبتلا ہوں گے جیسے عورت زہ کی حالت میں ۔ وہ سراسیمہ ہو کر ایک دوسرے کا منہ دیکھیں گے اور انکے چہرے شعلہ نما ہونگے۔
9 دیکھو خداوند کا وہ دن آتا ہے جو غضب میں اور قہر شدید میں سخت درشت ہے تاکہ ملک کو ویران کرے اور گنہگاروں کو اس پر سے نیست و نابود کردے۔
10 کیونکہ آسمان کے ستارے اور کواکب بے نور ہو جائیں گے اورسورج طلوع ہوتے ہوتے تاریک ہو جائیگا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔
11 اور میں جہان کو اس کی برائی کے سبب سے اورشریروں کو ان کی بدکرداری کے سبب سزا دوں گا اور میں مغرورں کو نیست اور ہیبتناک لوگوں کا گھمنڈ پست کردونگا۔
12 میں آدمی کو خالص سونے سے بلکہ انسان اوفیر کے کندن سے بھی کمیاب بناونگا ۔
13 اس لیے میں آسمانوں لرزاونگا اوررب الافواج کے غضب سے اور اسکے قہر شدید کےزورسے زمین اپنی جگہ سے جھٹکی جائیگی۔
14 اور یوں ہو گا کہ وہ کھدیڑے ہوئے آہو اور لاوارث بھیڑوں کی مانند ہونگے ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے لوگوں کی طرف متوجہ ہو گا اور ہر ایک اپنے وطن کو بھاگے گا۔
15 ہر ایک جو مل جائے آر پار چھیدا جائیگا اور ہر ایک جو پکڑا جائے تلوار سے قتل کیا جائیگا۔
16 اور انکے بال بچےانکی آنکھوں کے سامنے پارہ پارہ ہونگے ۔ انکے گھر لوٹے جائیں گے اور انکی عورتوں کیبے حرمتی ہو گی ۔
17 دیکھو میں بادلوں کو انکے خلاف برانگیختہ کرونگا جو چاندی کو خاطر میں نہیں لاتے اورسونے سے خوش نہیں ہوتے۔
18 انکی کمانیں جوانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینگی اور وہ شیر خواروں پر ترس نہ کھائینگے اور چھوٹے بچوں پر رحم کی نظر نہ کرینگے۔
19 اور بابل جو مملکتوں کی حشمت اور کسدیوں کی بزرگیکی رونق ہے سدوم اورعمورہ کی مانند ہو جائیگا جنکو خدا نے الٹ دیا ۔
20 اور وہ ابد تک آباد نہ ہو گا اور پشت در پشت اس میں کوئی نہ بسے گا۔ وہاں عرب ہرگز خیمے نہ لگائینگے اوروہاں گڈرے گلوں کو نہ بٹھائیں گے۔
21 پر بن کے جنگلی درندے وہاں بیٹھینگے اور ان کے گھروں میں اُلو بھرے ہونگے ۔ وہاں شتر مرغ بسیں گے اور چھگمانس وہاں ناچینگے۔
22 اور گیدڑ انکے عالیشان مکانوں میں اور بھیڑیے انکے رنگ محلوں میں چلائینگے۔ اسکا وقت نزدیک آ پہنچا ہے اور اسکے دنوں کو اب طول نہیں ہو گا۔


باب 14

1 کیونکہ خداوند یعقوب پر رحم فرمائیگا بلکہ وہ اسرائیل کو ہنوز برگزیدہ کرے گا اور انکو انکے ملک میں پھر قائم کریگا اور پردیسی ان کے ساتھ میل کرینگے اور یعقوب کے گھرانے سے مل جائینگے۔
2 اور لوگ انکو لا کر انکے ملک میں پہچائینگے اوراسرائیل کا گھرانہ خداوند کی سر زمین میں انکا مالک ہو کر انکو غلام اور لونڈیاں بنائےگا کیونکہ وہ اپنے اسیرکرنے والوں کو اسیرکرینگے اور اپنے ظلم کرنے والوں پر حکومت کرینگے ۔
3 اور یوں ہو گا کہ جب خداوند تیری محنت و مشقت سے اورسخت خدمت سےجو انہوں نے تجھ سے کرائی راحت بخشے گا۔
4 تب توشاہ بابل کے خلاف یہ مثل لائیگا اور کہیگا کہ ظالم کیسا نابود ہو گیا! اور غاصب کیسا نیست ہوا ! ۔
5 خداوند نے شریروں کا لٹھ یعنی بےانصاف حاکموں کاعصا توڑڈالا۔
6 وہی جو لوگوں کو قہر سے مارتا رہا اورقوموں پر غضب کے ساتھ حکمرانی کرتا رہا اور کوئی روک نہ سکا ۔
7 ساری زمین پر آرام و آسائش ہے ۔ وہ یکایک گیت گانے لگتے ہیں۔
8 ہاں صنوبر کےدرخت اور لبنان کے دیودار تجھ پر یہ کہتے ہوئے خوشی کرتے ہیں کہ جب سے تو گرایا گیا تب سے کوئی کاٹنے والا ہماری طرف نہیں آیا۔
9 پاتال نیچے سے تیرےسبب سے جنبش کھاتا ہے کہ تیرے آتے وقت تیرا استقبال کرے وہ تیرے لئےمردوں کو یعنی زمین کے سب سرادروں کو جگاتا ہے۔ وہ قوموں کے سب بادشاہوں کو ان کے تختوں پر سے اٹھا کھڑا کرتا ہے۔
10 وہ سب تجھ سے کہیں گے کیا تو بھی ہماری مانند عاجز ہو گیا؟ تو ایسا ہو گیا جیسے ہم ہیں؟ ۔
11 تیری شان و شوکت اور تیرے سازوں کی خوش آوازی پاتال میں اتاری گئی تیرے نیچے کپڑوں کا فرش ہوا اور کپڑے ہی تیرے بالا پوش بنے۔
12 اےصبح کے روشن ستارے تو کیونکرآسمان سے گر پڑا! اے قوموں کر پست کرنے والے توکیونکر زمین پر ٹپکا گیا ! ۔
13 تُو تو اپنے دل میں کہتا تھا کہ میں آسمان پر چڑھ جاونگا میں اپنے تخت کو خدا کے ستاروں سے بھی اونچا کرونگا اور میں شمالی اطراف میں جماعت کے پہاروں پربیٹھوں گا۔
14 میں بادلوں سے بھی اوپر چڑھ جاونگا ۔ میں خدا تعالیٰ کی مانند ہونگا۔
15 لیکن تو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اتارا جائیگا۔
16 اور جنکی نظر تجھ پر پڑےگی تجھے غور سے دیکھ کر کہیں گے کیا یہ وہی شخص ہے جس نے زمین کو لرزایا اور مملکتوں کو ہلا دیا۔
17 جس نے جہان کو ویران کیا اور اسکی بستیاں اجاڑ دیں ۔ جس نے اپنے اسیروں کو آزاد نہ کیا کہ گھر کی طرف جائیں؟ ۔
18 قوموں کے تمام بادشاہ سب کے سب اپنے اپنےمسکن میں شوکت کے ساتھ آرام کرتے ہیں۔
19 لیکن تو اپنی گور سے باہر نکمی شاخ کی مانند نکال پھینکا گیا۔ تو اُن مقتولوں کے نیچے دبا ہے جو تلوار سے چھیدے گئے اور گڑھے کے پتھروں پر گرے ہیں ۔ اُس لاش کی مانند جوجو پاؤں سے لتاڑی گئی ہو ۔
20 تو انکے ساتھ کبھی قبر میں دفن نہ کیا جائے گا کیونکہ تو نے اپنے مملکت کو ویران کیا اور اپنی رعیت کو قتل کیا ۔بدکرداروں کی نسل کا نام باقی نہ رہیگا۔
21 اسکے فرزندوں کے لئے انکے باپ دادا کےگناہوں کے سبب سے قتل کے سامان تیار کرو تاکہ وہ پھر ملک کے مالک نہ ہو جائیں اور رُویِ زمین کو شہروں سے معمور نہ کریں۔
22 کیونکہ رب الافواج فرماتا ہے میں انکی مخالفت کو اٹھونگا اور میں بابل کا نام مٹاونگا اور انکو جو باقی ہیں بیٹوں اور پوتوں سمیت کاٹ ڈالونگا ۔ یہ خداوند کا فرمان ہے۔
23 رب الافواج فرماتا ہے میں اسے خار پشت کی میراث اور تالاب بناونگا اور میں اسے فنا کے جھاڑو سے صاف کردونگا۔
24 رب الافواج قسم کھا کر فرماتا ہےکہ یقیناً جیسا میں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا میں نے ارادہ کیا ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔
25 میں اپنے ہی ملک میں اسوری کی شکست دونگا اور اپنے پہاڑوں میں اُسے پاؤں تلے لتاڑونگا ۔ تب اُسکا جُوا ان پر سے اتریگا اور اسکا بوجھ ان کے کندھو ں پر سے ٹلیگا۔
26 ساری دنیا کی بابت یہی ہے اور سب قوموں پر یہی ہاتھ بڑھایا گیا ہے ۔
27 کیونکہ رب الافواج نے ارادہ کیا ہے۔ کون اسے باطل کریگا ؟ اور اسکا ہاتھ بڑھایا گیا ہے اُسے کون روکیگا؟ ۔
28 جس سال آخز بادشاہ نے وفات پائی اُسی سال یہ بار بنوت آئی۔
29 اے کل فلستین تو اس پر خوش نہ ہو کہ تجھے مارنے والا لٹھ ٹوٹ گیا کیونکہ سانپ کی اصل سے ایک ناگ نکلیگا اور اُس کا پھل ایک اڑنےوالا آتشی سانپ ہو گا ۔
30 تب مسکینوں کے پہلوٹھے کھائینگے اور محتاج آرام سے سوئیں گے پر میں تیری جڑ کال سے برباد کردونگا اور تیرے باقی لوگ قتل کیے جائینگے۔
31 اے پھاٹک تو واویلا کر اے شہر تو چلا اے فلستین تو بالکل گداز ہو گئی کیونکہ شمال سے ایک دھواں اُٹھیگااور اسکے لشکروں میں سے کوئی پیچھے نہ رہے گا ۔
32 اس وقت قوم کے قاصدوں کو کوئی کیا جواب دیگا؟ کہ خداوند نے صیون کو تعمیر کیا ہے اور اس میں اسکے مسکین بندے پناہ لیں گے۔


باب 15

1 موآب کی بار بنوت۔ ایک ہی رات میں موآب خراب و نابود ہو گیا ایک ہی رات میں قیر موآب خراب و نیست ہو گیا۔
2 بیت اوردیبون اونچے مقاموں پر رونے کے لیے چڑھ گئے ہیں ۔ نبو اور میدبا پر اہل موآب واویلا کرتے ہیں ۔ اُن سب کے سر منڈائے گئے اور ہر ایک کی داڑھی کاٹی گئی۔
3 وہ اپنی راہوں میں ٹاٹ کا کمر بند باندھتے ہیں اور اپنے گھروں کی چھتوں پر اوربازاروں میں نوحہ کرتے ہوئے سب کے سب زارزار روتے ہیں۔
4 حسبون اور الیعالہ واویلا کرتے ہیں۔ اُنکی آواز یہض تک سُنائی دیتی ہے۔ اِس پر موآب کے مسلح سپاہی چلا چلا کر روتے ہیں۔ اسکی جان اس میں تھرتھراتی ہے۔
5 میرا دل موآب کے لیے فریاد کرتا ہے۔ اسکے بھاگنے والے ضغر تک عجلت شلیشیاہ تک پہنچے۔ ہاں وہ لوحیت کی چڑھائی پر روتےہوئے چڑھ جاتے اور حورونایم کی راہ میں ہلاکت پر واویلا کرتے ہیں۔
6 کیونکہ نمریم کی نہریں خراب ہو گئی کیونکہ گھاس کملا گئی اور سبزہ مرجھا گیا اورروئیدگی کا نام نہ رہا۔
7 اس لیے وہ فراون مال جو انہوں نے حاصل کیا تھا اور ذخیرہ جو انہوں نے رکھ چھوڑا تھا بید کی ندی کے پار لے جائیں گے۔
8 کیونکہ فریاد موآب کی سرحدوں تک اور انکا نوحہ اجلائم تک اور انکا ماتم بیرایلیم تک پہنچ گیا ہے۔
9 کیونکہ دیمون کی ندیاں لہو سے بھری ہیں۔ میں دیمون پر زیادہ مصیبت لاونگا کیونکہ اُس پر جو موآب میں سے بچ کر بھاگے گا اور اس ملک کے باقی لوگوں پر ایک شیر ببر بھیجوں گا۔


باب 16

1 سِلع سے بیابان کی راہ دُخترِ صیون کے پہاڑ پر ملک کے حاکم کے پاس بّرے بھیجو۔
2 کیونکہ ارنون کے گھاٹوں پر موآب کی بیٹیاں آوارہ پرندوں اور انکے پراگندہ بچوں کی مانند ہوں گی۔
3 صلاح دو۔ انصاف کرو۔ اپنا سایہ دوپہر کو رات کی مانند بناؤ۔ جلاوطنوں کو پناہ دو۔ فراریوں کو حوالہ نہ کرو۔
4 میرے جلاوطن تیرے ساتھ رہیں۔ تو موآب کو غارتگروں سےچھپا لےکیونکہ ستمگرموقوف ہوں گے اور غارتگری تمام ہو جائیگی اور سب ظالم ملک سے فنا ہونگے۔
5 یوں تخت رحمت سے قائم ہوگا اور ایک شخص راستی سے داؤد کےخیمہ میں اُس پر جلوس فرما کر عدل کی پیروی کریگا اورراستبازی پر مستعد رہیگا۔
6 ہم نے موآب کے گھمنڈ کی بابت سنا ہے کہ وہ بڑا گھمنڈی ہے۔ اسکا تکبر اور گھمنڈ اورواویلا بھی سنا ہے۔ اسکی شیخی ہیچ ہے۔
7 سو موآب واویلا کرےگا۔ موآب کے لیے ہر ایک وایلا کریگا۔ قیِر حراست کی کِشمِش کی ٹکیوں پر تم سخت تباہ حالی میں ماتم کرو گے۔
8 کیونکہ حسبون کے کھیت سوکھ گئے۔ قوموں کے سرداروں نے سبماہ کی تاک کی بہترین شاخوں کو توڑڈالا۔ وہ یعزیر تک بڑھیں گے۔ وہ جنگل میں بھی پھیلیں۔ اسکی شاخیں دور تک پھیل گئی۔ وہ دریا پار گذریں۔
9 پس میں یعزیر کے آہ و نالہ سے سبماہ کی تاک کے لیےزاری کرونگا ۔ اے حسبون اے الیعالہ میں تجھےاپنے آنسوؤں سے ترکردونگا کیونکہ تیرے آیام گرمی کے میوؤں اور غلہ کی فصل کو غوغای جنگ نے آ لیا۔
10 اور شادمانی چھین لی گئی اور ہرے بھرے کھیتوں کی خوشی جاتی رہی اور تاکستانوں میں گانا اور للکارنا بند ہو جائیگا ۔ پامال کرنےوالے انگوروں کوپھر حوضوں میں پامال نہ کرینگے۔ میں نے انگور کی فصل کےغوغا کو موقوف کر دیا۔
11 اسلیے میرا اندرون موآب پر اور میرا دل قیر حارس پر بربط کی مانند فغان خیز ہے۔
12 اور یوں ہو گا کہ جب موآب حاضر ہو اور اونچے مقام پر اپنے آپکو تھکائے بلکہ اپنے معبد میں جا کر دعا کرے تو اُسے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔
13 یہ وہ کلام ہے جو خداوند نے موآب کے حق میں زمانہ ماضی میں فرمایا تھا۔
14 پر اب خداوند یوں فرماتا ہے کہ تین برس کے اندر جو مزدوروں کے برسوں کی مانند ہوں موآب کی شوکت اسکے تمام لشکروں سمیت حقیر ہو جائیگی اور بہت تھوڑے باقی بچیں گے اور وہ کسی حساب میں نہ ہونگے۔


باب 17

1 دمشق کی بابت بار بنوت۔ دیکھو دمشق اب تو شہر نہ رہیگا بلکہ کھنڈر کا ڈھیر ہوگا۔
2 عروعیر کی بستیاں ویران ہیں اور گلوں کی چراگاہیں ہوں گیس ۔ وہ وہاں بیٹھینگے اور کوئی انکے ڈرانے کو بھی وہاں نہ ہو گا۔
3 اورافرائیم میں کوئی قلعہ نہ رہیگا۔ دمشق اورارام کے بقیہ سے سلطنت جاتی رہیگی۔ ر ب الافواج فرماتا ہے جو حال بنیہ اسرائیل کی شوکت کا ہوا وہی انکا ہو گا۔
4 اور اس وقت یوں ہو گا کہ یعقوب کی حشمت گھٹ جائیگی اوراسکا چربی داربدن دُبلا ہو جائیگا۔
5 یہ ایسا ہو گا کہ جیسے کوئی کھڑے کھیت کاٹ کر غلہ جمع کرے اور اپنے ہاتھ سے بالیں توڑے بلکہ ایسا ہو گا جیسےکوئی افرائیم کی وادی میں خوشہ چینی کرے۔
6 خداوند اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ تب اسکا بقیہ بہت ہی تھوڑاہو گا جیسے زیتون کےدرخت کا جب وہ ہلایا جائےیعنی دو تین دانے چوٹی کی شاخ پر۔ چار پانچ پھل والے درخت کی بیرونی شاخوں پر۔
7 اس روز انسان اپنے خالق کی طرف نظر کریگا اور اسکی آنکھیں اسرائیل کی قدوس کی طرف دیکھیں گی۔
8 اور وہ مذبحوں یعنی اپنے ہاتھ کے کام پر نظرنہ کریگا اور اپنی دستکاری یعنی یسرتوں اور بتوں کی پرواہ نہ کریگا۔
9 اس وقت اسکے فصیل دار شہر اجڑے جنگل اور پہاڑ کی چوٹی پر کےمقامات کی مانند ہوں گے جو بنی اسرائیل کے سامنے اجڑ گئے اور وہاں ویرانی ہوگی۔
10 چونکہ تو نے اپنےنجات دینے والے خدا کو فراموش کیا اور اپنی توانائی کی چٹان کو یادنہ کیا اسلیے تو خوبصورت پودے لگاتا اور عجیب قلمیں اُس میںجماتا ہے ۔
11 لگاتےوقت اسکے گرد احاطہ بناتا ہے اورصبح کو اس میں پھول کھلتے ہیں لیکن اسکا حاصل سخت دکھ اور مصیبت کے وقت ہیچ ہے۔
12 آہ! بہت سے لوگوں کا ہنگامہ ہے جو سمندر کے شور کی مانند شور مچاتے ہیں اور امتوں کا دھاوا بڑے سیلاب کے ریلے کی مانند ہے!۔
13 اُمتیں سیلاب عظیم کی مانند آ پڑینگی پر وہ انکو ڈانٹیگا اور وہ دور بھاگ جائینگی اور اُس بھوسے کی مانند جو ٹیلوں کے اوپر آندھی سے اڑتاپھرے اور اس گرد کی مانند جو بگولے کی مانند چکر کھائے رگیدی جائینگی۔
14 شام کے وقت تو ہیبت ہے۔ صبح ہونے سے پیشتر وہ نابود ہیں۔ یہ ہمارے غارتگروں کا حصہ ہے اور ہم کو لوٹنے والوں کا بخرہ ہے۔


باب 18

1 آہ پروں کےپھڑپھرانے کی سرزمین جو کوش کی ندیوں کے پار ہے۔
2 جو دریا کی راہ سے بردی کی کشتیوں میں سطح آب پر ایلچی بھیجتی ہے ۔ اے تیز رفتارایلچیو! اس قوم کے پاس جاؤ جو خوبصورت اور زور آور ہے۔ اس قوم کے پاس جو ابتدا سے اب تک مُہیب ہے۔ ایسی قوم جو زبردست اورفتحیاب ہے۔ جسکی زمین ندیوں سے منقسم ہے۔
3 اے جہان کے تمام باشندو اور اے زمین کے رہنے والو! جب پہاڑوں پر جھنڈا کھڑا کیا جائے تو دیکھو اور جب نرسنگا پھونکا جائے تو سنو۔
4 کیونکہ خداوند نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے مسکن میں تابش آفتاب کی مانند اور موسم درو کی گرمی میں شبنم کے بادل کی طرح سکون کے ساتھ نظر کروں گا۔
5 کیونکہ فصل سے پیشتر جب کلی کھل چکے اور پھول کی جگہ انگور پکنے پر ہوں تو وہ ٹہنیوں کو ہنسوے سے کاٹ ڈالیگا اور پھیلی ہوئی شاخوں کو چھانٹ دیگا۔
6 اور وہ پہاڑ کے شکاری پرندوں اور میدان کے درندوں کےلیے پڑی رہینگی اور شکاری پرندےگرمی کے موس میں ان پر بیٹھینگے اور زمین کے سب ڈرندے جاڑے کے موسم میں ان پر لیٹیں گے۔
7 اس وقت رب الافواج کے حضوراس قوم کی طرف سے جو زورآوراورخوبصورت ہے اُس گروہ کی طرف سے جو ابتدا سے آج تک مہیب ہے۔ اس قوم سے جو زبردست اورظفریاب ہے جسکی زمین ندیوں سے منقسم ہے ایک ہدیہ رب الافواج کے نام کے مکان پر جو کوہ صیون ہے پہنچایا جائیگا۔


باب 19

1 مِصر کی بابت بار نبوت۔ دیکھو خداوند ایک تیز رو بادل پر سوار ہو کر مصر میں ہےاور مصرکے بُت اسکے حضورلرزاں ہوں گے اورمصرکا دل پگھل جائیگا۔
2 اور میںمصریوں کو آپس میں مخالف کردونگا۔ ان میں سے ہر ایک اپنےبھائی سے اور ہر ایک اپنے ہمسایہ سے لڑےگا۔ شہر شہر اورصوبہ صوبہ سے۔
3 اور مصر کی روح افسردہو جائیگی اور میں اسکے منصوبہ ہو فناکرونگا اور وہ بتوں اورافسونگروں اور جنات کے یاروں اورجادو گروں کی تلاش کرینگے۔
4 پر میں مصریوں کو ایک ستمگر حاکم کے قابو میں کر دونگا اورزبردست بادشاہ ان پر حکومت کریگا۔ یہ خداوند رب الافواج کا فرمان ہے ۔
5 اوردریا کا پانی سوکھ جائے گا اور ندی خشک اور خالی ہو جائے گی۔
6 اور نالے بدبو ہو جائینگے اور مصر کی نہریں خالی ہونگی اور سوکھ جائینگی اور بید اورنے مرجھا جائیں گے۔
7 دریایِ نیل کے کنارے کی چراگاہیں اور وہ سب چیزیں جو اسکےآس پاس بوئی جاتی ہیں مرجھا جائینگی اور بالکل نیست و نابود ہو جائیں گی۔
8 تب ماہی گیر ماتم کرینگے اور وہ سب جو دریا میں شست ڈالتے ہیں غمگین ہونگے اور پانی میں جال ڈالنے والے بیتاب ہو جائینگے۔
9 اور سن جھاڑنے اور کتان بُننے والے گھبرا جائیں گے۔
10 ہاں اسکے ارکان شکستہ اور تمام مزدور رنجیدہ خاطر ہونگے۔
11 ضُعن کے شاہزادے بالکل احمق ہیں۔ فرعون کے سب سے دانشمند مشیروں کی مشورت وحشیانہ ٹھہری۔ پس تم کیونکر فرعون سے کہتےہو کہ میں دانشمند کا فرزند اور شاہانِ قدیم کی نسل ہوں؟۔
12 اب تیرے دانشور کہاں ہیں؟ وہ تجھے خبر دیں اگر وہ جانتے یوں کہ خداوند رب الافواج نے مصرکے حق میں کیا ارادہ کیاہے۔
13 ضُعن کے شاہزادے احمق بن گئے ہیں۔ نوف کے شاہزادوں نے فریب کھایا اور جن پر مصری قبائل کو بھروسہ تھا ان ہی نے گمراہ کیا ۔
14 خدا نے کجروی کی روح ان میں ڈالدی ہےاور انہوں نے مصریوں کو انکے سب کاموں میں اس متوالے کی طرح بھٹکایا جو قے کرتےہوئے ڈگمگاتا ہے۔
15 اور مصریوں کا کوئی نام نہ ہو گا جو سر یا دم یا خاص و عام کر سکے۔
16 اس وقت رب الافواج کے ہاتھ چلانے سے جو ہو مصر پر چلائیگا مصری عورتوں کی مانند ہو جائینگے اور ہیبت زدہ اورہراسان ہونگے۔
17 تب یہودہ کا ملک مصر کے لیے دہشت ناک ہو گا ۔ ہر ایک جس سے اسکا ذکر ہو خوف کھائے گا۔ اس ارادہ کے سبب سے جو رب الافواج نےانکے خلاف کر رکھا ہے۔
18 اس روز ملک مصر میں پانچ شہری ہونگے جو کنعانی زبان بولیں گے اور رب الافواج کی قسم کھائینگے۔ ان میں سے ایک کا نام شہر آفتاب ہو گا۔
19 اس وقت ملک مصر کے وسط میں خداوند کا ایک مذبح اور اسکی سرحد پر خداوند کا ایک ستون ہو گا۔
20 اور وہ ملک مصرمیں رب الافواج کے لیے نشان اور گواہ ہو گا اس لیے کہ وہ ستمگروں کے ظلم سے خداوند سےفریاد کریں گے اور وہ انکے لیے رہائی دینے والا اور حامی بھیجے گا اور وہ انکو رہائی دیگا۔
21 اور خداوند اپنے آپ کو مصریوں پر ظاہر کریگا اس وقت مصری خداوند کو پہچانینگے اور ہدیے اور ذبیحے گذرانینگے ہاں وہ خداوند کے لیے منت مانینگے اور ادا کریں گے۔
22 اور خداوند مسریوںکو مارے اگ۔ ماریگا اورشفابخشے گا اور وہ خداوند کی طرف رجوع لائینگے اور وہ انکی دعا سنے گا اور انکو صحت بخشے گا۔
23 اس وقت مصر سے اسور تک ایک شاہراہ ہو گی اور اسوری مصر آئینگے اور مصری اسور جائینگے۔ اور مصری اسوریوں کے ساتھ مل کر عبادت کرینگے۔
24 تب اسرائیل مصر اوراسور کے ساتھ تیسرا ہو گا اور رویِ زمین پر برکت کا باعث ٹھہرےگا۔
25 کیونکہ رب الافواج انکو برکت بخشیگا اور فرمائیگا مبارک ہو مصر میری امت اسور میرے ہاتھ کی صعنت اور اسرائیل میری میراث۔


باب 20

1 جس سال سرجون شاہ اسور نے ترتان کو اشدود کی طرف بھیجا اور اس نے آ کر اشدود سے لڑائی کی اور اسے فتح کر لیا۔
2 اسوقت خداوند نے یسعیاہ بن آموص کی معرفت یوں فرمایا کہ جا اور ٹا ٹ کا لباس اپنی کمر سےکھول ڈال اور اپنے پاؤں سے جوتے اتار۔ سو اس نے ایسا ہی کیا ۔ وہ برہنہ اور ننگے پاؤں پھرا کرتا تھا۔
3 تب خداوند نے فرمایا جس طرح میرا بندہ یسعیاہ تین برس تک برہنہ اور ننگے پاؤں پھر کیا تاکہ مصریوں اور کوشیوں کےبارے نشان اور اچنبھا ہو۔
4 اسی طرح شاہ اسور مصری اسیروں اور کوشی جلاوطنوں کو کیا بوڑھے کیاجوان برہنہ اور ننگے پاؤں اور بے پردی سُرنیوں کے ساتھ مصریوں کی رسوائی کے لیے لے جائے گا۔
5 تب وہ ہراسان ہونگے اور کوش سے جو انکی اُمید گاہ تھی اور مصر سے جو انکا فخر تھا شرمندہ ہونگے۔
6 اوراسوقت اس ساحل کےباشندے کہینگے دیکھوہماری اُمید گاہ کا یہ حال ہوا جس میں ہم مدد کے لیے بھاگے تاکہ اسور کے بادشاہ سے بچ جائیں۔ پس ہم کس طرح رہائی پائیں ؟ ۔


باب 21

1 دشتِ دریا کی بابت بار نبوت۔ جس طرح جنوبی گرد باد زور سے چلا آتا ہے اسی طرح وہ دشت سے اور مہیب سر زمین سے نزدیک آ رہا ہے ۔
2 ایک ہولناک رویا مجھے نظر آئی ۔ دغا باز دغابزی کرتا ہے اور غارتگر غارت کرتا ہے۔ اے عیلام چڑھائی کر ۔ اے مادی محاصرہ کر ۔ میں وہ سب کراہنا جو اسکے سبب سے ہوا موقوف کرتا ہوں ۔
3 سو میری کمر میں سخت درد ہے اور میں گویا دردِ زہ میں تڑپتا ہوں ۔ میں ایسا ہراسان ہوں کہ سن نہیں سکتا میں ایسا پریشان ہوں کہ دیکھ نہیں سکتا۔
4 میرا دل دھڑکتا ہے اور ہول یکایک مجھ پر غالب آ گیا۔ شفق شام جسکا میں آرزو مند تھا میرے لئے خوفناک ہو گئی۔
5 دستر خوان بچھایا گیا۔ نگہبان کھڑا کیا گیا۔ وہ کھاتے ہیں اور پیتے ہیں۔ اٹھو اے سردارو سپر پر تیل ملو۔
6 کیونکہ خداوند نے مجھے یوں فرمایا کہ جا نگہبان بٹھا۔ وہ جو کچھ دیکھے سو بتائے۔
7 اس نے سواردیکھے جو دودوآتے تھے اور گدھوں اور اونٹوں پر سوار۔ اور اس نے بڑے غور سے سنا۔
8 تب اسنے شیر کیسی آواز سے پکارا اے خداوند! میں اپنی دیدگاہ پر تمام دن کھڑا رہا اور میں نے ہر رات پہرے کی جگہ پر کاٹی۔
9 اور دیکھ سپاہیوں کےغول اور انکے سوار دو دوکر کے آتے ہیں۔ پھر اس نے یوں کہا کہ بابل گر پڑا گر پڑا اور اسکے معبودوں کی سب تراشی ہوئی مورتیں بالکل ٹوٹی پڑی ہیں۔
10 اے میرے گاہے ہوئے اور میرے کھلیہان کے غلہ جو کچھ میں نے رب الافواج اسرائیل کے خدا سے سنا تم سے کہہ دیا۔
11 دومہ کی بابت بار نبوت۔ کسی نے مجھ کو شعیر سے پکارا کہ اے نگہبان رات کی کیا خبر ہے؟ اے نگہبان رات کی کیا خبر ہے؟ ۔
12 نگہبان نے کہا صبح ہوتی ہے اوررات بھی۔ اگر تم پوچھنا چاہتے ہو تو پوچھو۔ تم پھر آنا ۔
13 عرب کی بابت بار نبوت ۔ اے دوانیوں کے قافلو تم عرب کے جنگل میں رات کاٹوگے۔
14 وہ پیاسے کے پاس پانی لائے۔ تیما کی سر زمین کے باشندے روٹی لیکر بھاگنےوالے سے ملنے کو نکلے۔
15 کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اورجنگ کی شدت سےبھاگے ہیں۔
16 کیونکہ خداوند نے مجھ سے یہ فرمایا کہ مزدور کے برسوں کے مطابق ایک برس کے اندراندر قیدار کی ساری حشمت جاتی رہیگی۔
17 اورتیرانداوں کی تعداد کا بقیہ یعنی بنی قیدار کے بہادر تھوڑے سے ہونگے کیونکہ خداونداسرائیل کے خدا نے یو ں فرمایا ہے۔


باب 22

1 رویا کی وادی کی بابت بار نبوت ۔ اب تم کو کیا ہوا کہ تم سب کے سب کوٹھوں پر چڑھ گئے؟ ۔
2 اےپر شور اور غوغائی شہر! اے شادمان بستی! تیرے مقتول نہ تلوارسےقتل ہوئے نہ لڑائی میں مارے گئے۔
3 تیرے سب سردار اکٹھے بھاگ نکلے۔ انکو تیر اندازوں نے اسیر کر لیا جتنے تجھ میں پائےگئے سب کے سب بلکہ وہ بھی جو دوربھاگ گئے تھے اسیر کئے گئے ہیں۔
4 اسی لیے میں نے کہا میری طرف مت دیکھو کیونکہ میں زار زار رونگا میری تسلی کی فکر مت کرو کیونکہ میری دختر قوم برباد ہو گئی ۔
5 کیونکہ خداوند رب الافواج کی طرف سے رویا کی وادی میں یہ دکھ اور پامالی و بیقراری اور دیواروں کو گرانے اور پہاڑوں تک فریاد پہچانے کا دن ہے۔
6 کیونکہ عیلام نے جنگی رتھوں اورسواروں کے ساتھ ترکش اٹھا لیا اورقیر نے سپر کا غلاف اتار دیا۔
7 اور یوں ہوا کہ بہترین وادیاں جنگی رتھوں سے معمور ہو گئیں اورسواروں نے پھاٹک پر صف آرائی کی۔
8 اور یہوداہ کا نقاب اتار گیا اور تو اب دشت محل کے سلاح خانہ پر نگاہ کرتاہے۔
9 اورتم نے داؤد کے شہر کےرخنے دیکھے کہ بے شمار ہیں اورتم نے نیچے کے حوض میں پانی جمع کیا۔
10 اورتم نے یروشلیم کے گھروں کو گنا اورانکو گرایا تاکہ شہر پناہ کو مضبوط کرو۔
11 اورتم نے پرانے حوض کے پانی کے لیے دونوں دیواروں کے درمیان ایک اور حوض بنایا لیکن تم نے اسکے پانی پر نگاہ نہ کی اور اسکی طرف جس نے قدیم سے اسکی تدبیر کی متوجہ نہ ہوئے۔
12 اور اسوقت خداوند رب الافواج نے رونے اور ماتم کرنے اور سر منڈوانے اور ٹاٹ سے کمر باندھنے کا حکم دیا تھا۔
13 لیکن دیکھو خوشی اور شادمانی ۔ گائے بیل کو ذبح کرنا اور بھیڑ بکری کو حلال کرنا اور گوشت خواری اور مے نوشی کہ آؤ کھائیں اور پئیں کیونکہ کل تو ہم مرینگے۔
14 اور رب الافواج نے کہا کہ تمہاری اس بدکرداری کا کفارہ تمہارے مرنے تک بھی نہ ہو سکے گا۔ یہ خداوند رب الافواج کا فرمان ہے۔
15 خداوند رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ اُس خزانچی شبناہ کے جو محل میں معّین ہے جا اور کہہ ۔
16 تو یہاں کیا کرتا ہے؟ اورتیرا یہاں کون ہے کہ تو یہاں اپنے لیے قبر تراشتا ہے؟ بلندی پر اپنی گور تراشتا ہے اورچٹان میں اپنے لیے گھر کھدواتا ہے۔
17 دیکھ اے زبردست! خداوند تجھ کو زور سے دور پھینک دے گا ۔ وہ یقیناً تجھے پکڑ رکھیگا۔
18 وہ تجھ کو بے شک گیند کی مانند گھما گھما کر وسیع ملک میں اچھالیگا۔ وہاں تو مرے گا اورتیری حشمت کے رتھ وہیں رہیں گے اے اپنے آقا کے گھر کی رسوائی۔
19 اور میں تجھے تیرے منصب سے برطرف کرونگا۔ ہاں وہ تجھے تیری جگہ سے کھینچ کر اتاریگا۔
20 اور اس روز یوں ہو گا کہ میں اپنے بندہ الیاقیم بن خلقیاہ کو بُلاونگا ۔
21 اور میں تیرا خلعت اُسے پہناونگا اورتیرا پٹکا اس پر کسونگا اور تیری حکومت اُس کے ہاتھ میں سپرد کردونگا اور وہ اہل یروشلیم اور بنی یہوادہ کا باپ ہو گا۔ (22 اور میں داؤد کے گھر کی کنجی اسکے کندھے پر رکھونگا پس وہ کھولیگا اور کوئی بند نہ کریگا اور کوئی نہ کھولیگا۔
22
23 اورمیں اسکو کھونٹی کی مانندمضبوط جگہ پر محکم کرونگا اور وہ اپنےباپ کے گھرانے کے لیے جلالی تخت ہو گا۔
24 اور اسکے باپ کے خاندان کی ساری حشمت یعنی آل و اولاد اور سب چھوٹے بڑے برتن پیالوں سےلیکر قرابوں تک سب کو اسی سے منسوب کرینگے۔
25 رب الافواج فرماتا ہے اس وقت وہ کھونٹی جو مضبوط جگہ میں لگائی گئی تھی ہلائی جائیگی اور وہ کاٹی جائیگی اور اس پر کا بوجھ گر پڑیگا کیونکہ خداوند نے یوں فرمایا ہے۔


باب 23

1 صور کی بابت بار نبوت۔ اے ترسیس کے جہازو واویلا کرو کیونکہ وہ اجڑ گیا وہاں کوئی گھر اور کوئی داخل ہونے کی جگہ نہیں۔ کتیم کی زمین سے انکو یہ خبر پہنچی ہے۔
2 اے ساحل کے باشندہ جنکو صیدانی سوداگروں نے جو سمندر کے پار آتےجاتےتھے مالا مال کر دیا خاموش رہا۔
3 سمندر کے پار سے سیحور کا غلہ اوروادیِ نیل کی فصل کی آمدنی تھی۔ سو وہ قوموں کی تجارت گاہ بنا ۔
4 اے صیدا تو شرما کیونکہ سمندر نے کہا سمندر کی گڑھی نہ کہا مجھے دردزہ نہیں لگا اور میں نے بچے نہیں جنے میں جوانوں کو نہیں پالتی اور کنواریوں کی پرورش نہیں کرتی ہوں۔
5 جب اہل مصرکو یہ خبر پہنچے گی تو وہ صور کی خبر سے بہت غمگین ہونگے۔
6 اے ساحل کے باشندہ تم زارزار روتے ہوئے ترسیس کو چلے جاؤ ۔
7 کیا یہ تمہاری شادمان بستی ہے جسکی ہستی قدیم سے ہے ؟ اُسی کے پاؤں اُسے دور دور لے جاتے ہیں کہ پردیس میں رہے۔
8 کس نے یہ منصوبہ صور کے خلاف باندھا جو تاج بخش ہے ۔ جسکے سوداگر اُمرا اور جس کے بیوپاری دنیا بھرکے عزت دار لوگ ہیں ؟ ۔
9 رب الافواج نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ساری حشمت کے گھمنڈ کو نیست کرے اوردنیا بھر کے عزت داروں کو ذلیل کرے۔
10 اے دُخترِ ترسیس! دریایِ نیل کی طرح اپنی سر زمین پر پھیل جا ۔ اب کوئی بند باقی نہیں رہا۔
11 اس نے سمندر پر اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ اس نےمملکتوں کو ہلا دیا۔ خداوند نے کنعان کے حق میں حکم کیا ہے کہ اسکے قلعے مسمار کیے جائیں۔
12 اور اس نے کہا اے مظلوم کنواری دختر صیدا! تو پھر کبھی فخر نہ کریگی ۔ اٹھ کتیم میں چلی جا۔ تجھے وہاں بھی چین نہ ملے گا ۔
13 کسدیوں کے ملک کو دیکھ یہ قوم موجود نہ تھی ۔ اسور نےاسے بیابان میں رہنے والوں کاحصہ ٹھہرایا۔ انہوں نے اپنے برج بنائے انہوں نے اسکے محل غارت کیے اور اسے ویران کیا۔
14 اے ترسیس کے جہاز واویلا کرو کیونکہ تمہارا قلعہ اڑا گیا۔
15 اوراُس وقت یوں ہو گاکہصور کسی بادشاہ کے آیام کے مطابق ستر برس تک فراموش ہو جائیگا اورستر برس کے بادشاہ صور کی حالت فاحشہ کےگیت کے مطابق ہو گی ۔
16 اے فاحشہ تو جو فراموش ہو گئی ہے بربط اٹھا کے اور شہر میں پھرا کر ۔ راگ کو چھیڑ اور بہت سی غزلیں گا کہ لوگ تجھے یاد کریں۔
17 اور ستر برس کےبعد یوں ہو گا کہ خداوند صور کی خبر لےگا اوروہ اجرت پر جائیگی اوررویِ زمین پر کی تمام مملکتوں سے بدکاری کریگی ۔
18 لیکن اسکی تجارت اور اسکی اجرت خداوند کے لئےمقدس ہو گی اور اسکا مال نہ ذخیرہ کیا جائیگا اور نہ جمع رہیگا بلکہ اسکی تجارت کا حاصل انکے لیےہو گا جو خداوند کے حضوررہتے ہیں کہ کھا کر سیر ہوں اورنفیس پوشاک پہنیں۔


باب 24

1 دیکھو خداوند زمین کو خالی اور سر نگوں کر کے ویران کرتاہے اور اسکے باشندوں کر تِتر بِتر کر دیتا ہے۔
2 اور یوں ہو گا کہ جیسا رعیت کا حال ہو گا ویسا ہی کاہن کا۔ جیسا نوکر کا ویسا ہی اسکے صاحب کا ۔ جیسا لونڈی کاویسا ہی اسکی بی بی کا۔ جیسا خریدار کا ویسا ہی بیچنے والے کا جیسا قرض دینے والے کا ویسا ہی فرض لینے والے کا ۔ جیسا سود دینے والے کا ویسا ہی سود لینےوالے کا۔
3 زمین بالکل خالی کی جائیگی اوربہ شدت غارت ہو گی کیونکہ یہ کلام خداوند کا ہے ۔
4 زمین غمگین ہوتی اور مرجھاتی ہے جہان بےتاب اور پژمردہ ہوتاہے ۔ زمین کے عالی قدر لوگ ناتوان ہوتےہیں۔
5 زمین اپنے باشندوں سے نجس ہوئی کیونکہ انہوں نے شریعت کو عدول کیا ۔ آئین سے منحرف ہوئے ۔ عہد ابدی کو توڑا۔
6 اس سبب سے لعنت نے زمین کو نگل لیا اور اسکے باشندے مجرم ٹھہرے اور اسکی لیے زمین کے لوگ بھسم ہوئے اورتھوڑے سے آدمی بچ گئے ۔
7 نئی مے غمزدہ اور تاک پژمردہ ہے اور سب جو دلشاد تھے آہ بھرتے ہیں ۔
8 ڈھولکوں کی خوشی بند ہو گئی ۔ خوشی منانےوالوں کا غل و شور تمام ہوا۔ بربط کی شادمانی جاتی رہی ۔
9 وہ پھر گیت کے ساتھ مے نہیں پیتے ۔ پینے والوں کو شراب تلخ معلوم ہو گی۔
10 سنسان شہر ویران ہو گیا ہر ایک گھر بند ہو گیا کہ کوئی اندر نہ جا سکے ۔
11 مے کے لیے بازاروں میں واویلا ہو رہا ہے۔ ساری خوشی پر تایکی چھا گئی ۔ ملک کی عشرت جاتی رہی۔
12 شہر میں ویرانی ہی ویرانی ہے اور پھاٹک توڑ پھوڑدئیے گئے۔
13 کیونکہ زمین میں لوگوں کے درمیان یوں ہو گا جیسا زیتون کا ڈرخت جھاڑا جائے ۔ جیسے انگور توڑے نے بعد خوشہ چینی ۔
14 وہ اپنی آواز بلند کرینگے وہ گیت گائینگے۔ خداوند کے جلال کے سبب سے سمندر للکاریں گے۔
15 پس تم مشرق میں خداوند کی اور سمندر کے جزیروں میں خداوند کے نام کی جو اسرائیل کا خدا ہے تمجید کرو۔
16 انتہایِ زمین سے نغموں کی آواز ہم کو سنائی دیتی ہے۔ جلال و عظمت صادق کے لیے ! پر میں نے کہا میں گداز ہو گیا۔ میں ہلاک ہوا مجھ پر افسوس دغابازوں نے دغا کی۔ ہاں دغابازوں نے بڑی دغا کی۔
17 اے زمین کے باشندے خوف اور گڑھااور دام تجھ پر مسلط ہیں۔
18 اور یوں ہو گا کہ جو کوئی خوفناک آواز سن کر بھاگے گڑھے میں گرے گا اور گڑھے سے نکل آئے دام میں پھنسے گا کیونکہ آسمان کی کھڑکیاں کھل گئ اور زمین کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔
19 زمین بالکل اجڑ گئی ۔ زمین یکسر شکستہ ہوئی اور شدت سے ہلائی گئی۔
20 وہ متوالے کی مانند ڈگمگائیگی اور جھونپڑی کی طرح آگے پیچھے سرکائی جائیگی کیونکہ اسکے گناہ کا بوجھ اس پر بھاری ہوا۔ وہ گریگی اور پھر نہ اٹھیگی۔
21 اور اس وقت یوں ہو گا کہ خداوند آسمانی لشکر کو آسمان پر اور زمین کے بادشاہوں ہو زمین پر سزا دے گا۔
22 اور وہ ان قیدیوں کی مانند جو گڑھے میں ڈالے جائیں جمع کیے جائیں گے اور وہ قید خانے میں قید کیے جائیں گے اور بہت دنوں کے بعد ان کی خبر لی جائیگی۔
23 اور جب رب الافواج کوہ صیون پر اور یروشلیم میں اپنے بزرگ بندوں کے سامنے حشمت کے ساتھ سلطنت کریگا تو چاند مضطرب اور سورج شرمندہ ہو گا۔


باب 25

1 اے خداوند تو میرا خدا ہے۔ میں تیری تمجید کرونگا ۔ تیرے نام کی ستایش کرونگا کیونکہ تو عجیب کام کیے ہیں تیری مصلحتیں قدیم سے وفاداری اور سچائی ہیں۔
2 کیونکہ تو نے شہر کو خاک کا ڈھیرکیا۔ ہاں فصیل دور شہر کو کھنڈر کاڈھیر بنا دیا اورپردیسیوں کے محل کو بھی یہاں تک کہ شہر نہ رہا۔ وہ پھر تعمیرنہ کیا جائیگا۔
3 اسلیے زبردست لوگ تیری ستایش کرینگے اور ہیبتناک قوموں کا شہر تجھ سے ڈریگا۔
4 کیونکہ تومسکین کے لیے قلعہ اورمحتاج کے لیے پریشانی کے وقت ملجا اور آندھی سے پناہ گاہ اور گرمی سے بچانے کو سایہ ہوا جس وقت ظالموں کی سانس دیوار کن طوفان کی مانند ہو۔
5 تو پردیسیوں کے شور کو خشک مکان کی گرمی کی مانند دور کریگااور جس طرح ابر کے سایہ سے گرمی نیست ہوتی ہے اسی طرح ظالموں کا شادیانہ بجانا موقوف ہو گا۔
6 اوررب الافواج اس پہاڑ پر سب قوموں کے لیے فربہ چیزوں سے ایک ضیافت تیار کریگا بلکہ ایک ضیافت تلچھٹ پر سے نتھری ہوئی مے سے۔ ہاں فربہ چیزوں سے جو پر مغز ہوں اور مے سے جو تلچھٹ پر سےخوب نتھری ہوئی ہو۔
7 اور وہ اس پہاڑپر اس پردہ کو جو تمام لوگوں پر گر پڑا اور اس نقاب کو جو سب قوموں پرلٹک رہا ہےدورکریگا۔
8 وہ موت کو ہمیشہ کے لیے نابود کریگا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا اور اپنےلوگوں کی رسوائی تمام زمین پر سے مٹا ڈالیگا کیونکہ خداوند نے یہ فرمایا ہے۔
9 اور اس وقت یوں کہا جائیگاکہ لو یہ ہماراخدا ہے۔ ہم اسکی راہ تکتے تھے اور وہی ہم کو بچائے گا ۔ یہ خداوند ہے اور ہم اسک انتظار میں تھے اور ہم اسکی نجات سے خوش و خرم ہونگے۔
10 کیونکہ اس پہاڑ پر خداوند کا ہاتھ برقرار رہیگا اور موآب اپنی ہی جگہ میں ایسا کچلا جائے گا جیسے مزبلہ کے پانی میں گھاسکچلی جاتی ہے۔
11 اور وہ اس کی مانند جو تیرتے ہوئے ہاتھ پھیلاتا ہے اپنے ہاتھ پھیلائیگا پر وہ اس غرور کو اسکے ہاتھوں کتے فن فریب سمیت پست کریگا۔
12 اور وہ تیری فصیل کے اونچے برجوں کو توڑ پر پست کریگا اور زمین کے بلکہ خاک کےبرابر کردیگا۔


باب 26

1 اس وقت یہوادہ کے ملک میں یہ گیت گایا جائیگا ۔ ہمارا ایک محکم شہر ہے جس کی فصیل اورپشتوں کی جگہوہ نجات کو ہی مقررکریگا۔
2 تم دروازے کھولو تاکہ صادق قوم کو وفادار رہی داخل ہو۔
3 جسکا دل قائم ہے تو اسے سلامت رکھیگا کیونکہ اس کا توکل تجھ پر ہے۔
4 اب تک خداوند پر اعتماد رکھو کیونکہ خداوند یہواہ ابدی چٹان ہے۔
5 کیونکہ اس نے بلندی پر بسنے والوں کو نیچے اتارا بلند شہر کو زیر کیا۔ اس نے اسے زیر کر کے خاک میں ملایا۔
6 وہ پاؤں تلے روندا جائیگا۔ ہاں مسکینوں کے پاؤں اور محتاجوں کے قدموں سے ۔
7 صادق کی راہ راستی ہے ۔ تو جو حق ہے صادق کی راہبری کرتا ہے۔
8 ہاں تیری عدالت کی راہ میں اے خداوند ہم تیرے منتظر ہیں ہماری جان کا اشتیاق تیرے نام اور تیری یاد کی طرف ہے۔
9 رات کو میری جان تیری مشتاق ہےہاں میری روح تیری جستجو میں کوشان رہیگی کیونکہ جب تیری عدالت زمین پر جاری ہے تو دنیا کے باشندی صداقت سیکھتےہیں۔
10 ہر چند شریر پر مہربانیکی جائے پر وہ صداقت نہ سیکھے گا ۔ راستی کے ملک میں ناراستی کریگا اور خداوند کی عظمت کو نہ دیکھے گا۔
11 اے خداوند تیرا ہاتھ بلند ہے پر وہ نہیں دیکھتے لیکن وہ لوگوں کےلیے تیری غیرت کو دیکھنگے اورشرمسار ہونگے بلکہ آگ تیرے دشمنوں کو کھا جائیگی۔
12 اے خداوند تو ہی ہم کو راستی بخشے گا کیونکہ تو نے ہی ہمارے سب کامں کو ہمارےلیے سر انجام دیا ہے۔
13 اے خداوند ہمارے خدا تیرے سوا دوسرے حاکموں نے ہم پر حکومت کی ہے لیکن تیری مدد سے ہم صرف تیرا ہی نام لینگے۔
14 وہ مر گئے پھر زندہ نہ ہو نگے۔ وہ رحلت کر گئے پھر نہ اٹھینگے کیونکہ تو نے ان پر نظر کی اور انکو نابود کیا اور انکی یاد کو بھی مٹا دیا ہے ۔
15 اے خداوند تو نے اس قوم کو کثرت بخشی ہے۔ تو نے اس قوم کو بڑھایا ہے تو ہی دوالجلال ہے۔ تو ہی نے ملک کی حدود کو بڑھا دیا۔
16 اے خداوند وہ مصیبت میں تیرے طالب ہوئے ۔ جب تو نے انکو تادیب کی تو نہوں نے گریہ و زاری کی ۔
17 اے خداوند تیرے حضورمیں اس حاملہ کی مانند ہیں جسکی ولادت کا وقت نزدیک ہو ۔ جو دکھ میں ہے اور اپنےدرد سے چلاتی ہے۔
18 ہم حاملہ ہوئے ہم کو درد زہ لگا پر پیدا کیا ہوا ؟ ہوا! ہم نے زمین پر آزادی کو قائم نہ کیا اور نہ دنیا میں بسنے والے پیدا ہوئے۔
19 تیرے مردے جی اٹھینگے ۔ میری لاشیں اٹھ کھڑی ہونگی تم جو خاک میں جا بسے ہو جاگو اور گاؤ کیونکہ تیری اوس اُس اوس کی مانند ہے جو نباتات پر پڑتی ہے اور زمین مردوں کو اگل دے گی۔
20 اے میرے لوگو اپنے خلوت خانے میں داخل ہو اور اپنے پیچھے دروازے بند کر لو اور اپنے آپ کو تھوڑی دیر تک چھپا رکھو جب تک کہ غضب ٹل نہ جائے۔
21 کیونکہ دکھو خداوند اپنے مقام سے چلا آتا ہے تاکہ زمین کے باشندوں کو انکی بدکرداری کی سزا دے اور زمین اس خون کو ظاہر کریگی جواس میں ہے اوراپنے مقتولوں کو ہرگز نہ چھپائے گی۔


باب 27

1 اس وقت خداونداپنی سخت اور بڑی مضبوط تلوار سے اژدھا یعنی تیز رو سانپ کو اوراژدھا یعنی پیچیدہ سانپ کو سزادیگا اوردریائی اژدہا کو قتل کریگا۔
2 اس وقت تم خوشنما تاکستان کا گیت گانا ۔
3 میں خداوند اسکی حفاظت کرتا ہوں میں اسے ہر دم سینچتا ہوں۔ میں دن رات اسکی نگہبانی کرونگا کہ اسے نقصان نہ پہنچے۔
4 مجھ میں قہر نہیں تو بھی کاش کہ جنگ گاہ میں جھاڑیاں اور کانٹے میرے خلاف ہوتے! میں ان پر خروج کرتا اور ان کو بالکل جلا دیتا۔
5 پر اگر کوئی میری توانائی کا دامن پکڑے تو مجھ سے صلح کرے۔ ہاں وہ مجھ سے صلح کرے۔
6 اب آئیندہ آیام میں یعقوب جڑ پکڑے گا اوراسرائیل پنپیگا اور پھولیگا اور روئِ زمین کو میووں سے مالامال کریگا۔
7 کیا اس نے مارا جسطرح اس نے اسکے مارنے والوں کو مارا؟ یا کیا وہ قتل ہوا جس طرح اسکے قاتل قتل ہوئے؟ ۔
8 تو نےعدل کے ساتھ اسکو نکالتےوقت اس سے حجت کی ۔ اس نے مشرقی ہوا کےدن اپنے سخت طوفان سے اسکو نکال دیا۔
9 اسلیےاس سے یعقوب کےگناہ کا کفارہ ہو گااور اسکا گناہ دور کرنے کا کل نتیجہ یہی ہے جس وقت وہ مذبح کے سب پتھروں کو ٹوٹے کنکرں کی مانند ٹکڑے ٹکڑے کرے کہ یسیرتیں اور سورج کے بت قائم نہ ہوں۔
10 کیونکہ فصیل دار شہر ویران ہے اور وہ بستی اجاڑ اوربیابان کی مانند خالی ہے وہاں بچھڑا چرے گا اور وہیں لیٹ رہیگا اور اسکی ڈالیاں بالکل کاٹ کھائیگا۔
11 جب اسکی شاخیں مرجھا جائیں گی تو توڑی جائینگی ۔ عورتیں آئینگی اور انکو جلائینگی کیونکہ لوگ دانش سے خالی ہیں اسلیے انکا خالق ان پر رحم نہیں کرے گا اور انکا بنانے والا ان پر ترس نہیں کھائیگا۔
12 اور اس وقت یوں ہو گا کہ خداوند دریائے فرات کی گذر گاہ سے رودِ مصرتک جھاڑ ڈالیگا اورتم اے بنی اسرائیل ایک ایک کر کے جمع کیے جاؤ گے۔
13 اور اس وقت یوں ہو گاس کہ بڑا نرسنگا پھونکا جائیگا اور وہ جو اسور کے ملک میں قریبُ المو تھے اور وہ جو ملک مصر میں جلاوطن تھے آئینگے اور یروشلیم کے مقدس پہاڑ پر خداوند کی پرستش کرینگے۔


باب 28

1 افسوس افرائیم کے متوالوں کے گھمنڈ کے تاج پر اور اسکی شاندار شوکت کے مرجھائے ہوئے پھول پر جو ان لوگوں کی شاداب وادی کے سرے پر ہے جو مے کے مغلوب ہیں!۔
2 دیکھو خداوند کے پاس ایک زبردست اور زور آور شخص ہے جو اس آندھی کی مانند ہے جس میں اولے ہوں اور باد سموم کی مانند اور سیلاب شدید کی مانند زمین پر ہاتھ سے پٹک دیگا۔
3 افرائیم کے متوالوں کے گھمنڈ کا تاج پامال کیا جائیگا۔
4 اور اس شاندارشوکت کا مرجھایا ہوا پھول جو اس شاداب وادی کے سرے پر ہے پہلے پکے انجیر کی مانند ہو گا جو گرمی کے آیا م سے پیشتر لگے جس پر کسی کی نگاہ پڑے اور وہ اسے دیکھتے ہیں اور ہاتھ میں لیتےہی نگل جائے۔
5 اس وقت رب الافواج اپنے لوگوں کے بقیہ کے لیے شوکت کا افسر اور حسن کا تاج ہو گا۔
6 اورعدالت کی کرسی پر بیٹھنے والے کےلیے انصاف کی روح اور پھاٹکوں سے لڑائی کو دفع کرنے والوں کے لیے توانائی ہوگا۔
7 لیکن یہ بھی مے خواری سے ڈگمگاتےاور نشہ میں لڑکھڑاتے ہیں۔ کاہن اور نبی بھی نشہ میں چوراور مے میں گرق ہیں۔ وہ نشہ میں جھومتےاور دریا میں خطا کرتے اورعدالت میں لغزش کھاتے ہیں۔
8 کیونکہ سب دستر خوان قے اور گندگی سے بھرے ہیں کوئی جگہ باقی نہیں۔
9 وہ کس کو دانش سکھائیگا؟ کس کو وعظ کرے کے سمجھائے گا؟ کیا انکو جنکا دودھ چھڑایا گیا اور جو چھاتیوں سے جداکیے گئے ؟ ۔
10 کیونکہ حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون ہے۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔
11 لیکن وہ بیگانوں لبوں اور اجنبی زبان سے ان لوگوں سے کلام کریگا۔
12 جن کو اس نے فرمایا یہ آرام ہے تم تھکے ماندوں کو آرام دو اور یہ تازگی ہے پر وہ شنوا نہ ہوئے۔
13 پس خداوند کا کلام انکے لیے حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون ہے۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں ہو گا تاکہ وہ چلے جائیں اور پیچھے گریں اور شکست کھائیں اور دام میں پھنسیں اور گرفتار ہوں۔
14 پس اے ٹھٹھا کرنے والو جو یروشلیم کے ان باشندوں پر حکمرانی کرتے ہو! خداوند کا کلام سنو۔
15 چونکہ تم کہا کرتے ہو کہ ہم نے موت سے عہد باندھا اور پاتال سے پیمان کر لیاہے۔ جب سزا کا سیلاب آئیگا تو ہم تک نہیں پہنچیگا کیونکہ ہم نے جھوٹ کو اپنی پناہ گاہ بنایا ہے اور دروغ گوئی کی آڑ میں چھپ گئے ہیں۔
16 اس لیے خداوند خدا یوں فرماتا ہے دیکھو میں صیون میں بنیاد کے لیے ایک پتھر رکھونگا ۔ آزمودہ پتھر۔ محکم بنیاد کے لیے کونے کے سرے کا قیمتی پتھر جو کوئی ایمان لاتا ہے قائم رہیگا۔
17 اور میں عدالت کو سوت اور صداقت کو ساہول بناونگا اور اسلے جھوت کی پناہ گاہ کو صاف کر دینگے اور پانی چھپنے کے مکان پر پھیل جائیگا۔
18 اور تمہارا عہد جو موت سے ہوا منسوخ ہو جائیگا اور تمہارا پیمان جو پاتال سے ہوا قام نہ رہیگا ۔ جب سزا کا سیلاب آئیگا تو تم کو پامال کریگا۔
19 اور گذرتے وقت تم کو بہا لے جائیگا ۔ ہر صبح اور شب و روز آئیگا بلکہ اسکا چرچا سننا بھی خوفناک ہو گا ۔
20 کیونکہ پلنگ ایسا چھوٹا ہے کہ آدمی اس پر دارز نہیں ہو سکتا اور لحاف اتنا تنگ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس میں لپیٹ نہیں سکتا۔
21 کیونکہ خداوند اٹھیگا جیسا کوہ پراضیم میں اور وہ غضبناک ہو گا جیسا جبعون کی وادی میں تاکہ اپنا کام بلکہ اپنا عجیب کام کرے اور اپنا ہاں اپنا انوکھا کام پورا کرے۔
22 سو اب تم ٹھٹھا نہ کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے بند سخت ہو جائیں کیونکہ میں نے خداوند رب الافواج سے سنا ہے کہ اس نے کامل اور مصصم ارادہ کیا ہے کہ ساری سر زمین کو تباہ کرے۔
23 کان لگا کر میری آواز سنو ۔ شنوا ہو کر میری بات پر دل لگاؤ ۔
24 کیا کسان بونےکے لیے ہر روز ہل چلایا کرتا ہے؟ کیا وہ ہر وقت اپنے زمین کو کھودتا اور اسکے ڈھیلے پھوڑا کرتا ہے؟ ۔
25 جب اسکو ہموار کر چکا تو کیا وہ اجوائن کو نہیں چھینٹتا اور زیرہ کو ڈال نہیں دیتا اور گیہوں کو قطاروں میں نہیں بوتا اور جو کو اسکے معین مکان میں اور کٹھیا گیہوں کو اسکی خاص کیاری میں نہیں بوتا؟ ۔
26 کیونکہ اسکا خدا اسکو تربیت کر کے اسکو سکھاتا ہے۔
27 کیا اجوائن کو داونے کے ہینگے کے ساتھ نہیں داؤتے اور زیرے کے اوپر گاڑی کے پہیے نہیں گھماتے بلکہ اجوائن کو لاٹھی سے جھاڑتا ہے اورزیرے کو چھڑی سے۔
28 روٹی کے غلہ پر دائیں چلاتا ہے لیکن وہ ہمیشہ اسے کوٹتا نہیں رہتا اور اپنی گاڑی کے پہیوں اورگھوڑوں کو اس پر پھراتا نہیں رہتا۔ وہ اسے سراسر نہیں کچلیگا۔
29 یہ بھی رب الافواج سے مقرر ہوا ہے جسکی مصلحت عظیم اوردانائی عجیب ہے۔


باب 29

1 ارایئیل پر افسوس۔ اریئیل اس شہر پر جہاں داؤد خیمہ زن ہوا ! سال پر سال زیادہ کرو۔ عید پر عید منائی جائے ۔
2 تو بھی میں اریئیل کو دکھ دونگا اور وہاں نوحہ اور ماتم ہو گا پر میرے لیے وہ اریئیل ہی ٹھہریگا۔
3 میں تیرے خلاف گرداگرد خیمہ زن ہونگا اور مورچہ بندی کر کے تیرا محاصرہ کرونگا اور تیرے خلاف دمدمہ باندھونگا۔
4 اورتو پست ہو گا اور زمین پر سے بولیگا اور خاک پر سےتیری آواز دھیمی آئیگی ۔ تیری صدا بھوت کی سی ہو گی جو زمین کےاندر سے نکلیگی اورتیری بولی خاک پر سے چُرُگنے کی آواز معلوم ہو گی۔
5 لیکن تیرے دشمنوں کا غول باریک گرد کی مانند ہو گا اور ان ظالموں کی گروہ اڑنے والے بھوسے کی مانند ہو گی اور یہ ناگہان ایک دم میں واقع ہو گا۔
6 رب الافواج خود گرجنے اور زلزلہ کے ساتھ اور بڑی آواز اور آندھی اور طوفان اور آگ کے مہلک شعلہ کے ساتھ تجھے سزا دینے کو آئے گا۔
7 اور ان سب قوموں کو انبوہ جو اریئیل سے لڑےگا یعنی وہ سب جو اس سے اور اسکے قلعہ سے جنگ کرینگے اور اسے دکھ دینگے خواب یا رات کی رویا کی مانند ہو جائینگے ۔
8 جیسے بھوکا آدمی خواب میں دیکھے کہ کھا رہا ہے پرجاگ اٹھے تو اسکا دل نہ بھرا ہو یا پیاسا آدمی خواب میں دیکھے کہ پانی پی رہا ہے پر جاگ اٹھے تو پیاس سے بیتاب ہو اور اسکی جان آسودہ نہ ہو ویسا ہی ان سب قوموں کے انبوہ کا حال ہو گا جو کوہ صیون سے جنگ کرتی ہیں۔
9 ٹھہر جاؤ اور تعجب کرو ۔ عیش و عشرت کرو اور اندھے ہو جاؤ ۔ وہ مست ہیں پر مے سے نہیں ۔ وہ لڑکھڑاتے ہیں پر نشے میں نہیں ۔
10 کیونکہ خداوند نے تم پر گہری ننید کی روح بھیجی ہے اور تمہاری آنکھوں یعنی نبیوں کو نابینا کر دیا اورتمہارے سروں یعنی غیب بینوں پر حجاب ڈال دیا۔
11 اورساری رویا تمہارے نزدیک سر بمہر کتاب کے مضمون کی مانند ہو گی جسے لوگ کسی پڑھے لکھے ہو دیں اور کہیں اسکو پڑھ اور وہ کہے کہ میں اسکو پڑھ نہیں سکتا کیونکہ یہ سر بمہر ہے۔
12 اور پھر وہ کتاب کسی نا خواندہ کو دیں اور کہیں اسکو پڑھ اور وہ کہے کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔
13 پس خداوند فرماتاہے کہ یہ لوگ زبان سے میری نزدیکی چاہتےہیں اور ہونٹوں سے میری تعظیم کرتے ہیں لیکن انکے دل مجھ سے دور ہیں کیونکہ میرا خوف جو انکو ہوا فقط آدمیوں کی تعلیم سننے سے ہوا۔
14 اس لیے میں ان لوگوں کے ساتھ عجیب سلوک کرونگا جو حیرت انگیز اورتعجب خیز ہو گا اور ان کے عاقلوں کی عقل زائل ہو جائیگی۔ اور ان کے داناؤں کی دانائی جاتی رہیگی۔
15 ان پر افسوس جو اپنی مشورت خداوندسے چھپاتے ہیں ۔ جنکا کاروبار اندھیرے میں ہوتا ہے اور کہتے ہیں کون ہم کو دیکھتا ہے؟ کون ہم کو پہچانتا ہے؟ ۔
16 آہ! تم کیسے ٹیڑھے ہو! کیا کمہار مٹی کےبرابر گنا جائیگا یا مصنوع اپنے صانع سے کہے گاکہ میں تیری صنت نہیں ؟ کیا مخلوق اپنے خالق سےکہے گا کہ تو کچھ نہیں جانتا؟ ۔
17 کیا تھوڑا ہی عرصہ باقی نہیں کہ لبنان شاداب میدان ہو جائیگا اور شاداب میدان جنگل گنا جائیگا۔
18 اور اس وقت بہرے کتاب کی باتیں سنیں گے اور اندھوں کی آنکھیں تاریکی اوراندھیرے میں سے دیکھیں گی۔
19 تب مسکین خداوند میں زیادہ خوش ہونگے اورغریب و محتاج اسرائیل کے قدوس میں شادمان ہونگے ۔
20 کیونکہ ظالم فنا ہو جائیگا اورٹھٹھا کرنے والا نابود ہو گا اور سب جو بدکرداری کے لیے بیدار رہتے ہیں کاٹ ڈالے جائینگے۔
21 یعنی جو آدمی کو اسکے مقدمے میں مجرم ٹھہراتے اور اسکے لیے جس نے عدالت سے پھاٹک پر مقدمہ فصیل کیا پھندا لگاتے اور راستباز کو بےسبب برگشتہ کرتےہیں۔
22 اس لیے خداوند جو ابرہام کا نجات دینےوالا ہے یعقوب کے خاندان کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ یعقوب اب شرمندہ نہ ہو گا اور وہ ہرگز زود رو نہ ہو گا۔
23 بلکہ اسکے فرزند اپنے درمیان میری دستکاری دیکھ کر میری تقدیس کرینگے۔ ہاں وہ یعقوب کےقدوس کی تقدیس کرینگے اوراسرائیل کے خدا ڈرینگے۔ اور وہ بھی جو روح میں گمراہ ہیں فہم حاصل کرینگے اوربڑبڑانے والے تعلیم پذیر ہونگے۔
24


باب 30

1 خداوند فرماتا ہے ان باغی لڑکوں پر افسوس جو ایسی تدبیر کرتے ہیں جو میری طرف سے نہیں اور عہد و پیمان کرتے ہیں جو میری روح کی ہدایت سے نہیں تاکہ گناہ پر گناہ کریں۔
2 وہ مجھ سے پوچھے بغیر مصر کو جاتے ہیں تاکہ فرعون کے پاس پناہ لیں اور مصر کے سایہ میں امن سے رہیں۔
3 لیکن فرعون کی حمایت تمہارے لیے خجالت ہو گی اور مصرکے سایہ میں پناہ لینا تمہارے راسطے رسوائی ہو گا۔
4 کیونکہ اسکے سرادر ضعن میں ہیں اور اسکے ایلچی حنیس میں جا پہنچے۔
5 وہ اس قوم کو جو انکو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے اور مدد و یاری نہیں بلکہ خجالت اور ملامت کا باعث ہو شرمندہ ہونگے۔
6 جنوب کے جانوروں کی بابت بار نبوت۔ دکھ اور مصیبت کی سر زمین جہاں سے نر و مادہ شیر ببر اور افعی اور اڑنے والے آتشی سانپ آتے ہیں وہ اپنی دولت گدھوں کی پیٹھ پر اور اپنے خزانے اونٹوں کی کوہان پر لاد کر اس قوم کے پاس لے جاتےجس سے انکو کچھ فائدہ نہ پہنچیگا۔
7 کیونکہ مصریوں کی کمک باطل اور بے فائدہ ہو گی اسی سبب سے میں نے اسے رہب کہا جوسُست بیٹھی ہے ۔
8 اب جا کر انکے سامنے اسے تختی پر لکھ اور کتاب میں قلمبند کر تاکہ آئیندہ ابدالاباد رہے۔
9 کیونکہ یہ باغی لوگ اور جھوٹے فرزند ہیں جو خدا کی شریعت کو سننے سے انکار کرتے ہیں۔
10 جو غیب بینوں سے کہتے ہیں غیب بینی کرو اور نبیوں سے کہ ہم پر سچی نبوتیں ظاہر کرو۔ ہمکو خوشگوار باتیں سناؤ اور ہم سے جھوٹی نبوت کرو۔
11 راہ سے باہر جاؤ راستہ سے برگشتہ ہو اور اسرائیل کےقدوس کو ہمارے درمیان سے موقوف کرو۔
12 پس اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے چونکہ تم اس کلام کو حقیر جانتے ہو اور ظلم اور کجروی پر بھروسہ رکھتے اور اسی پر قائم ہو ۔
13 اس لیے یہ بدکرداری تمہارے لئے ایسی ہو گی جیسی پھٹی ہوئی دیوار جو گرا چاہتی ہو۔ اونچی ابھری ہوئی دیوار جس کا گرنا ناگہان ایک دم میں ہو۔
14 وہ اسے کمہار کے برتن کی طرح توڑ ڈالے گا اسے بے دریغ چکنا چور کریگا چنانچہاس کے ٹکڑوں میں ایک ٹھیکرا بھی نہ ملے گا جس میں چولہے پر سے آگے اٹھائی جائے یا حوض سے پانی لیا جائے۔
15 کیونکہ خدا یہوواہ اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ واپس آنے اورخاموش بیٹھنے میں تمہاری سلامتی ہے ۔ خاموشی اورتوکل میں تمہاری قوت ہے پر تم نے یہ نہ چاہا۔
16 تم نے کہا نہیں ہم تو گھوڑوں پر چڑھ کر بھاگینگے اس لیے تم بھاگو گے اور کہا ہم تیز رفتار جانوروں پر سوار ہونگے پس تمہارا پیچھا کرنے والے تیز رفتار ہونگے۔
17 ایک کی جھڑکی سے ایک ہزاربھاگینگے ۔ پانچ کی جھڑکی سے تم ایسے بھاگو گے کہ تم اس علامت کی مانند جو پہاڑ کی چوٹی پر اور اس نشان کی مانند جو کوہ پر نصب کیا گیا ہو رہ جاؤ گے۔
18 تو بھی خدا تم پر مہربانی کرنے کے لیے انتظار کریگااورتم پر رحم کرنے کےلیے بلند ہو گا کیونکہ خداوند عادل خدا ہے ۔ مبارک ہیں وہ سب جو اسکا انتظار کرتے ہیں۔
19 کیونکہ اے صیونی قوم جو یروشلیم میں بسے گی تو پھر نہ روئیگی۔ وہ تیری فریاد کی آواز سن کر یقیناً تجھ پر رحم فرمائیگا ۔ وہ سنتےہی جواب دیگا۔
20 اور اگرچہ خداوند تجھ کو تنگی کی روٹی اور مصیبت کا پانی دیتاہے تو بھی تیرا معلم پھر تجھ سے روپوش نہ ہو گا بلکہ تیری آنکھیں اسکو دیکھیں گی۔
21 اور جب تو دہنی یا بائیں طرف مڑے تو تیرے کان پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اس پر چل۔
22 اس وقت تو اپنی کھودی ہوئی مورتوں پر مڑھی ہوئی چاندی اورڈھالے ہوئے سونے کو ناپاک کریگا ۔ تو اسے حیض کی لتّہ کی مانند پھینک دیگا۔ تو اسے کہیگا نکل دورہو۔
23 تب وہ تیرے بیج کے لیے جو تو بوئے بارش بھیجے گا اورزمین کی افزائش کی روٹی کا غلہ عمدہ اورکثرت سے ہو گا۔ اس وقت تیرے جانور وسیع چراگاہوں میں چرینگے۔
24 اور بیل اور جوان گدھے جن سے زمین جوتی جاتی ہے لذیذ چارا کھائینگے جو بیلچہ اور چھاج سے پھٹکا گیا ہو۔
25 اور جب برج گرینگے اور بڑی خونریزی ہو گی تو ہر ایک اونچے پہاڑ اور بلند ٹیلے پر چشمے اور پانی کی ندیاں ہونگے۔
26 اور جس وقت خداوند اپنے لوگوں کی شکستگی کو درست کریگا اور انکے زخموں کو اچھا کریگا تو چاند کی چاندنی ایسی ہو گی جیسی سورج کی روشنی اورسورج کی روشنی سات گنی بلکہ سات دن کے برابر ہو گی۔
27 دیکھو خداوند سے چلا آتا ہے ۔ اسکا غضب بھڑکا اوردھوئیں کا بادل اٹھا! اسکے لب قہر آلود اور اسکی زبان بھسم کرنے والی آگ کی مانند ہے۔
28 اسکا دم ندی کے سیلاب کی مانند ہے جو گردن تک پہنچ جائے ۔ وہ قوموں کو ہلاکت کے چھاج میں پھٹکے گا اور لوگوں کے جبڑوں میں لگام ڈالیگا تاکہ انکو گمراہ کرے۔
29 تب تم گیت گاؤ گے جیسے اس رات گاتے ہو جب مقدس عید مناتےہو اور دل کی ایسی خوشی ہو گی جیسی اس شخص کی جو بانسری لئے ہوئے خرامان ہو کہ خداوند کے پہاڑ میں اسرائیل کی چٹان کے پاس جائے ۔
30 کیونکہ خداوند اپنی جلالی آواز سنائے گا اور اپنے قہر کی شدت اور آتش سوزان کے شعلے اورسیلاب اور آندھی اور اولوں کے ساتھ اپنا بازو نیچے لائیگا۔
31 ہاں خداوند کی آواز ہی سے اسور تباہ ہو جائیگا ۔ وہ اسے لٹھ سے ماریگا ٍ۔
32 اور اس قضا کے لٹھ کی ہر ایک ضرب جو خداوند اس پر لائیگا دف اوربربط کے ساتھ ہو گی اور وہ اس سے سخت لڑائی لڑے گا ۔
33 کیونکہ توفت مدت سے تیار کیا گیا ہاں وہ بادشاہ کے لیے گہرا اور وسیع بنایا گیا ہے۔ اسکا ڈھیر آگ اور بہت سا ایندھن ہے اور خداوند کی سانس گندھک کے سیلاب کی مانند اسکو سلگاتی ہے۔


باب 31

1 ان پر افسوس جو مدد کے لیے مصر کو جاتے اور گھوڑوں پر اعتماد کرتے ہیں اوررتھوں پر بھروسہ رکھتےہیں اس لیے کہ وہ بہت سے ہیں اورسواروں پر کیونکہ وہ بہت زورآور ہیں لیکن اسرائیل کے قدوس پر نگاہ نہیں کرتے اور خداوند کے طالب نہیں ہوئے!۔
2 پر وہ بھی تو عقل مند ہے اور بلا نازل کریگا اور اپنے کلام کو باطل نہیں ہونے دیگا ۔ وہ شریروں کے گھرانے پر اور ان پر جو بدکرداروں کی حمایت کرتے ہیں چڑھائی کریگا۔
3 کیونکہ مصری تو انسان ہیں خدا نہیں اور انکے گھوڑے گوشت ہیں روح نہیں۔ سو جب خداوند اپنا ہاتھ بڑھائیگا تو حمایتی گر جائیگا اور وہ جسکی حمایت کی گئی پست کیا جائیگا اور وہ سب کے سب اکٹھے ہلاک ہو جائینگے۔
4 کیونکہ خداوند نے مجھ سے یوں فرمایا ہے کہ جس طرح شیر ببر ہاں جوان شیر ببر اپنے شکار پر غراتا ہے اور بہت سے گڈائے اسکے مقابلہ کو بلائے جائیں تو انکی للکار سے نہیں ڈرتا اور انکے ہجوم سے دب نہیں جاتا اسی طرح رب الافواج کوہ صیون اور اسکے ٹیلے پر لڑنے کو اتریگا۔
5 منڈلاتے ہوئے پرندے کی طرح رب الافواج یروشلیم کی حمایت کریگااوررہائی بخشیگا ۔ رحم کریگا اور بچا لیگا۔
6 اے بنی اسرائیل تم اسکی طرف پھرو جس سے تم نے سخت بغاوت کی ہے۔
7 کیونکہ اس وقت ان میں سے ہر ایک اپنے چاندی کے بت اور اپنے سونے کی مورتیں جنکو تمہارے ہاتھوں نے خطاکاری کے لیے بنایا نکال پھینکے گا۔
8 تب اسور اسی تلوار سے گر جائیگا جو انسان کی نہیں اور وہی تلوار جو آدمی کی نہیں اسے ہلاک کریگی۔ وہ تلوار کے سامنے سے بھاگے گا اور اسکے جوان مرد خراج گذار بنیگے۔
9 اور وہ خوف کے سبب سے اپنے حصین مکان سے گزر جائیگا اور اسکے سردار جھنڈے سے خوفزدہ ہو جائیں گے۔ یہ خداوند فرماتا ہے جسکی آگ صیون میں اوربھٹی یروشلیم میں ہے۔


باب 32

1 دیکھ ایک بادشاہ صداقت سے سلطنت کریگا اورشاہزادے عدالت سے حکمرانی کرینگے۔
2 اور ایک شخص آندھی سے پناہ گاہ کی مانند ہو گا اورطوفان سے چھپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماندگی زمین میں بڑی چٹان کی مانند ہو گا۔
3 اس وقت دیکھنے والوں کی آنکھیں دھندلی نہ ہونگی اور سننے والوں کے کان شنوا ہونگے۔
4 جلد باز کا دل عرفان حاصل کریگا اور لکنتی کی زبان صاف بولنے میں مستعد ہو گی۔
5 تب احمق بامروت نہ کہلائیگا اور بخیل کو کوئی سخی نہ کہیے گا۔
6 کیونکہ احمق حماقت کی باتیں کریگا اوراسکا دل بدی کا منصوبہ باندھے گا کہ بے دینی کرے اور خداوند کے خلاف دروغگوئی کرے اور بھوکے کے پیٹ کو خالی کرےاور پیاسے کو پانی سے محروم رکھے۔
7 اور بخیل کے ہتھیار زبون ہیں ۔ وہ برے منصوبے باندھا کرتا ہے تاکہ جھوٹی باتوں سے مسکین کو اور محتاج کو جب کہ وہ حق بیان کرتا ہو ہلاک کرے۔
8 لیکن صاحب مروت سخاوت کی باتیں سوچتا ہے اور وہ سخاوت کے کاموں میں ثابت قدم رہیگا۔
9 اے عورتو تم جو آرام میں ہو اٹھو ! میری آواز سنو! اے بے پرواہ بیٹیو! میری باتوں پر کان لگاؤ۔
10 اے بے پرواہ عورتو! سال سے کچھ زیادہ عرصہ میں تم بے آرام ہو جاؤ گی کیونکہ انگور کی فصل جاتی رہیگی۔ پھل جمع کرنے کی نوبت نہ آئیگی۔
11 اے عورتو تم جو آرام میں ہو تھرتھراؤ اے بے پرواؤ مضطرب ہو۔ کپڑے اتار کر برہنہ ہو جاؤ۔ کمر پر ٹاٹ باندھو۔
12 وہ دلپذیر کھیتوں اور میوہ دار تاکوں کے لیے چھاتی پیٹنگی۔
13 میرے لوگوں کی سر زمین میں کانٹے اور جھاڑیاں ہونگی بلکہ خوش وقت شہر کے تمام شادمان گھروں میں بھی۔
14 کیونکہ قصر خالی ہو جائیگا۔ عوفل اور دیدبانی کا بُرج ہمیشہ تک ماند بنکر گورخروں کی آرام گاہیں اور گلوں کی چراگاہیں ہونگے۔
15 تا وقت کے عالم بالا سے ہم پر روح نازل نہ ہو اور بیابان شاداب میدان نہ نے اورشاداب میدان جنگل نہ گنا جائے۔
16 تب بیابان میں عدل بسیگا اورصداقت شاداب میدان میں رہا کریگی۔
17 اورصداقت کا انجام صلح ہو گا اورصداقت کا پھل ابدی آرام و اطمینان ہو گا ۔
18 اور میرے لوگ سلامتی کے مکانوں میں اور بے خطر گھروں میں اور آسودگی اور آسایش کے کاشانوں میں رہینگے۔
19 لیکن جنگل کی بربادی کے وقت اولے پڑینگے اور شہر بالکل پست ہو جائیگا۔
20 تم خوش نصیب ہو جو سب نہروں کے آس پاس بوتےہو اور بیلوں اور گدھوں کو ادھر لے جاتےہیں۔


باب 33

1 تجھ پر افسوس کہ تو غارت کرتا ہے اورغارت نہ کیا گیا تھا! تو دغابازی کرتا تھا اور کسی نے تجھ سے دغا بازی نہ کی تھی۔ جب تو غارت کر چکیگا اور تو غارت کیا جائیگااور جب تو دغابازی کر چکیگا تو اور لوگ تجھ سے دغابازی کرینگے۔
2 اے خداوند! ہم پر رحم کر کیونکہ ہم تیرے منتظر ہیں ۔ تو ہر صبح انکا بازو ہو اور مصیبت ے وقت ہماری نجات۔
3 ہنگامہ کی آواز سنتے ہی لوگ بھاگ گئے ۔ تیرے اٹھتےہیں قومیں تتر بتر ہو گئیں۔
4 اورتمہاری لوٹ کا مال اسی طرح بٹورا جائیگا جس طرح کیڑے بٹور لیتےہیں۔ لوگ اس پر ٹڈی کی طرح ٹوٹ پڑینگے۔
5 خداوند سرفراز ہے کیونکہ وہ بلندی پر رہتا ہے ۔ اس نے عدالتاورصداقت سے صیون کو معمور کر دیا ہے۔
6 اورتیرے زمانہ میں امن ہو گا نجات و حکمت اور دانش کی فراوانی ہو گی ۔ خداوند کا خوف اسکا خزانہ ہے ۔
7 دیکھ انکے بہادرباہر فریاد کرتے ہیں اورصلح کے ایلچی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں ۔
8 شاہرائیں سنسان ہیں ۔ کوئی چلنے والا نہ رہا۔ اس نے عہد شکنی کی ۔ شہروں کو حقیر جانا اورانسان کو حساب میں نہیں لاتا۔
9 زمین کڑھتی اور مرجھاتی ہے ۔ لبنان رسوا ہوا اور مرجھا گیا۔ شارون بیابان کی مانند ہے۔ بسن اور کرمل بے برگ ہو گئے۔
10 خداوند فرماتا ہے اب میں اٹھونگا۔ اب میں سرفراز ہونگا۔ اب میں سر بلند ہو نگا۔
11 تم بھوسے سے باردار ہو گے پھوس تم سے پیدا ہو گا۔ تمہارا دم آگ کی طرح تم کو بھسم کریگا۔
12 اور لوگ جلے چونے کی مانند ہونگے۔ وہ ان کانٹوں کی مانند ہونگے جو کاٹ کر آگ میں جلائے جائیں۔
13 تم جو دور ہو سنو کہ میں نے کیا کیا اورتم جو نزدیک ہو میری قدرت کا اقرار کرو۔
14 وہ گنہگار جو صیون میں ہیں ڈر گئے ۔ کپکپی نے بے دینوں کو آ دبایا ہے۔ کون ہم میں سے اس مہلک آگ میں رہ سکتا ہے ؟ اور کون ہم میں سے ابدی شعلوں کے درمیان بس سکتا ہے؟ ۔
15 وہ جو راست رفتار اور درست گفتار ہیں ۔ جو ظلم کے نفع کو حقیر جانتا ہے ۔ جو رشوت سے دست بردارہے جو اپنے کان بند کرتا ہے تاکہ خونریزی کے مضمون نہ سنے اور آنکھیں موندتا ہے تاکہ زیان کاری نہ دیکھے۔
16 وہ بلندی پر رہیگا اسکی پناہ گاہ پہاڑ کا قلعہ ہو گا ۔ اسکو روٹی دی جائیگی اسکا پانی مقرر ہو گا۔
17 تیری آنکھیں بادشاہ کا جمال دیکھیں گی اور وہ بہت دور تک وسیع ملک پر نظر کرینگی۔
18 تیرا دل اس دہشت پر سوچیگا کہاں ہے وہ گننے والا؟ کہاں ہے وہ تولنے والا؟ کہاں ہے وہ جو برجوں کو گنتا تھا۔
19 تو پھر ان تند خو لوگوں کو نہ دیکھے گا جنکی بولی تو سمجھ نہیں سکتا جنکی زبان بیگانہ ہے جو تیری سمجھ میں نہیں آتی۔
20 ہماری عید گاہ صیون پر نظر کر۔ تیری آنکھیں یروشلیم کو دیکھیں گی جو سلامتی کا مقام ہے بلکہ ایسا خیمہ جو ہلایا نہ جائے گا۔ جسکی میخوں میں سے ایک بھی اکھاڑی نہ جائیگی اور اسکی ڈوریوں میں سے ایک بھی توڑی نہ جائیگی۔
21 بلکہ وہاں ذوالجلال خداوند بڑی بڑی ندیوں اور نہروں کی مانند ہماری گنجائش کے لیے آپ موجود ہو گا کہ وہاں ڈانڈ کی کوئی کشتی نہ جائیگی اور نہ شاندار جہازوں کا گذر اس میں ہو گا۔
22 کیونکہ خداوند ہمارا حاکم ہے۔ خداوند ہمارا شریعت دینے والا ہے۔ خداوند ہمارا بادشاہ ہے وہی ہم کو بچائیگا۔
23 تیری رسیاں ڈھیلی ہیں۔ لوگ مستول کی چول کو مضبوط نہ کر سکے وہ بادبان نہ پھیلا سکے۔ سو لوٹ کا وافر مال تقسیم کیا گیا لنگڑے بھی غنیمت کر قابض ہو گئے۔
24 وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ میں بیمار ہوں اور انکے گناہ بخشے جائینگے۔


باب 34

1 اے قومو! نزدیک آ کے سنو۔ اے اُمتو کان لگاؤ۔ زمین اور اسکی معموری دنیا اور اسکی سب چیزیں جو اس میں ہیں سنیں۔
2 کیونکہ خداوند کا قہر تمام قوموں پر اور اسکا غضب انکی سب فوجوں پر ہے۔ اس نے انکو ہلاک کر دیا اس نے انکو ذبح ہونے کے لیے حوالہ کیا۔
3 اور انکے مقتول پھینک دئے جائینگے بلکہ ان کی لاشوں سے بدبو اٹھیگیاور پہاڑ انکے لہو سے بہہ جائینگے۔
4 اورتمام اجرامِ فلک گداز ہو جائینگے اور آسمان طومار کی مانند لپیٹے جائینگے اور انکی تمام افواج تاک اور انجیر کے مرجھائے ہوئے پتوں کی مانند گر جائینگی۔
5 کیونکہ میری تلوار آسمان میں مست ہو گی دیکھو وہ ادوم پر اور ان لوگوں پر جنکو میں نے ملعون کیا سزا دینے کو نازل ہو گی ۔
6 خداوند کی تلوار خون آلودہ ہے ۔ وہ چربی اور اور بکروں اور بروں کےلہو سے اورمینڈھوں کے گردوں کے خون سے چکنا گئی کیونکہ خداوند کے لیے بصراہ میں ایک قربانی اور ادوم کے ملک میں بڑی خونریزی ہے ۔
7 اور انکے ساتھ جنگلی سانڈ اور بچھڑے اور بیل ذبح ہونگے اور انکا ملک خون سے سیراب ہو جائیگا اور انکی گرد چربی سے چکنا جائیگی۔
8 کیونکہ یہ خداوند کا انتقام لینے کا دن اور بدلہ لینے کا سال ہے جس میں وہ صیون کا انصاف کریگا۔
9 اور اسکی ندیاں رال ہو جائینگی اور اسکی خاک گندھک اور اسکی زمین جلتی ہوئی رال ہو گی۔
10 جو شب و روز کبھی نہ بھجے گی۔ اس سے ابد تک دھواں اٹھتا رہیگا۔ نسل در نسل وہ اجاڑ رہیگی ۔ ابدالاباد تک کوئی ادھر سے نہ گذرے گا۔
11 لیکن حواصل اور خار پشت اسکے مالک ہونگے ۔ الو اور کوئے اس میں بسینگے اور اس پر ویرانی کا سوت پڑیگا اورسنسانی کا ساہول ڈالا جائیگا۔
12 اسکے اشراف میں سے کوئی نہ ہو گا جسے وہ بلائیں کہ حکمرانی کرے اور اسکے سب سردار ناچیز ہونگے۔
13 اور اسکے قصروں میں کانٹے اور اسکے قلعوں میں بچھو بوٹی اور اونٹ کٹارے اُگینگے اور وہ گیدڑوں کی ماندیں اور شتر مرغوں کے رہنے کا مقام ہو گا۔
14 اوردشتی درندے بھیڑیوں سے ملاقات کرینگے اور چھگمانس اپنے ساتھی کو پکارے گا ۔ ہاں عفریت شب وہاں آرام کریگا اور اپنے ٹکنے کو جگہ پائیگا ۔
15 وہاں اڑنے والے سانپ کا آشیانہ ہو گا اور انڈے دینا اور سینا اور اپنے سایہ میں جمع کرنا ہو گا وہاں گدھ جمع ہونگے اور ہر ایک کے ساتھ اسکی مادہ ہو گی۔
16 تم خداوند کی کتاب میں ڈھونڈو اور پڑھو ۔ ان میں سے ایک بھی کم نہ ہو گا اور کوئی بے جفت نہ ہوگا کیونکہ میرے منہ نے یہی حکم کیا ہے اور اسکی روح نے انکو جمع کیا ہے ۔
17 اور اس نے انکے لیے قرعہ ڈالا ہے اور اسکے ہاتھ نے انکے لیے جریب کو تقسیم کیا ۔ سو وہ ابد تک اسکے مالک ہونگے اور پشت در پشت اس میں بسینگے۔


باب 35

1 بیابان اور ویرانہ شادمان ہونگے اور دست خوشی کریگا اور نرگس کی مانند شگفتہ ہو گا۔
2 اس میں کثرت سے کلیاں نکلیں گے ۔ وہ شادمانی سے گا کر خوشی کریگا۔ لبنان کی شوکت اور کرمل اورشارون کی زینت اسے دی جائیگی ۔ وہ خداوند کا جلال اور ہمارے خداوند کی حشمت دیکھنگے۔
3 کمزور ہاتھوں کو زور اور ناتوان گھٹنوں کو توانائی دو۔
4 ان کو کج دلے ہیں کہو ہمت باندھو مت ڈرو ۔ دیکھو تمہارا خدا سزا اور جزا کے لیے آتا ہے۔ ہاں خدا ہی آئیگا اورتم کو بچائیگا۔
5 اس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائینگی اور بہروں کے کان کھولے جائینگے ۔
6 تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرینگے اور گونگے کی زبان گائیگی کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلینگی۔
7 بلکہ سراب تالاب ہو جائیگا اور پیاسی زمین چشمہ بن جائیگی ۔ گیدڑوں کی ماندوں میں جہاں وہ پڑےتھے نَے اور نل کا ٹھکانا ہو گا ۔
8 اور وہاں ایک شاہراہ اور گذرگاہ ہو گی جو مقدس راہ کہلائیگی جس سے کوئی ناپاک گذر نہ کریگا ۔ لیکن یہ مسافروں کے لیے ہو گی ۔ احمق بھی اس میں گمراہ نہ ہونگے۔
9 وہاں شیر ببر نہ ہو گا اورنہ کوئی درندہ اُس پر چڑھیگا نہ وہاں پایا جائیگا لیکن جنکا فدیہ دیا گیا وہاں سیر کرینگے۔
10 اورجنکو خداوند نے مخلصی بخشی لوٹینگے اورصیون میں گاتے ہوئے آئینگے اور ابدی سرور انکے سروں پر ہوگا۔ وہ خوشی اور شادمانی حاصل کرینگے اور غم و اندوہ کافور ہو جائینگے۔


باب 36

1 اور حزقیاہ بادشاہ کی سلطنت کے چودھویں برس یوں ہوا کہ شاہ اسور سنحیرب نے یہوادہ کے سب فصیلدار شہروں پر چڑھائی کی اور انکو لے لیا۔
2 اورشاہ اسور نے ربشاقی کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ لکیس سے حزقیاہ کے پاس یروشلیم کو بھیجا اور اس نے اوپر کے تالاب کی نالی پر دھوبیوں کےمیدان کی راہ میں مقام کیا۔
3 تب الیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اور شبناہ منشی اور محرر یوآخ بن آسف نکل کر اسکے پاس آئے ۔
4 اور ربشاقی نے انکے سے کہا تم حزقیاہ سے کہو کہ ملک معظم شاہ اسور فرماتا ہے کہ تو کیا اعتماد کیے بیٹھا ہے؟۔
5 کیا مشورت اور جنگ کی قوت منہ کی باتیں ہی ہیں؟ آخر کس کے برتے پر تو نے مجھ سے سرکشی کی ہے؟۔
6 دیکھ تجھے اُس مسلے ہوئے سرکنڈے کے عصا یعنی مصر پر بھروسہ ہے اس پر اگر کوئی ٹیک لگائے تو وہ اس کے ہاتھ میں گڑجائیگا اور اسے چھید دیگا ۔ شاہ مصر فرعون ان سب کے لیے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں ایسا ہی ہے ۔
7 پر اگر تو مجھ سے یوں کہے کہ ہمارا توکل خداوند ہمارے خدا پر ہے تو کیا وہ وہی نہیں ہے جس کے اونچے مقاموں اور مذبحوں کو ڈھا کر حزقیاہ نے یہوادہ اوریروشلیم سے کہا کہ تم اس مذبح کے آگے سجدہ کیا کرو ؟۔
8 اس لیے اب ذرا میرے آقا شاہ اسور کے ساتھ شرط باندھ اورمیں تجھے دو ہزار گھوڑے دونگا بشرطیکہ تو اپنی طرف سے ان پر سوارچڑھا سکے ۔
9 بھلا پھر تو کیونکر میرے آقا کے کمترین ملازموں میں سے ایک سردار کا بھی منہ پھیر سکتا ہے؟ اورتو رتھوں اورسواروں کے لیے مصر پر بھروسہ کرتاہے ؟ ۔
10 اور کیا اب میں نے خدا کے بے کہے ہی اس مقام کو غارت کرنے کے لیے چڑھائی کی ہے ؟ خداوند نے ہی تو مجھ سے کہا کہ اس ملک پر چڑھائی کر اور اسے غارت کر دے ۔س
11 تب الیاقیم اور شبناہ اور یوآخ نے ربشاقی سے عرض کی کہ اپنے خادموں سے آرامی زبان میں بات کر کیونکہ ہم اسے سمجھتے ہیں اوردیوار پر کے لوگوں کے سنتےہوئے یہودیوں کی زبان میں ہم سے بات نہ کر۔
12 لیکن ربشاقی نے کہا کیا میرے آقا نے مجھے یہ باتیں کہنے کو تیرے آقا کے پاس یا تیرے پاس بھیجا ہے ؟ کیا اس نے مجھے ان لوگوں کے پاس نہیں بھیجا جو تمہارے ساتھ اپنی ہی نجاست کھانے اوراپنا ہی قارورہ پینے کو دیوار پر بیٹھے ہیں؟ ۔
13 پھر ربشاقی کھڑا ہو گیا اور یہودیوں کی زبان میں بلند آواز سے کہنے لگا کہ ملک معظم شاہ اسور کا کلام سنو۔
14 بادشاہ یوں کہتاہے کہ حزقیاہ تم کو فریب نہ دے کیونکہ وہ تم کو چھڑا نہیں سکیگا ۔
15 اور نہ وہ یہ کہہ کر تم سے خداوند پر بھروسہ کرائے کہ خداوند ضرور ہم کو چھڑائے گا اور یہ شہر شاہ اسور کے حوالہ نہ کیا جائیگا۔
16 حزقیاہ کی نہ سنو کیونکہ شاہ اسور یوں فرماتا ہے کہ تم مجھ سے صلح کر لو اورنکل کر میرے پاس آؤ اور تم میں سے ہر ایک اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کا میوہ کھاتا اور اپنے حوض کا پانی پیتا رہے۔
17 جب تک کہ میں تم کو آکر ایک ایسے ملک میں نہ لے جاؤں جو تمہارے ملک کی مانند غلہ اور مے کا ملک روٹی اور تاکستانوں کا ملک ہے ۔
18 خبردار ایسا نہ ہو کہ حزقیاہ تم کو یہ کہہ کر ترغیب دے کہ خداوند ہم کو چھڑائیگا کیا قوموں کے معبودوں میں سے کسی نے بھی اپنے ملک کو شاہ اسور کے ہاتھ سے چھڑایا ہے؟ ۔
19 حمات اور ارفاد کے دیوتا کہاں ہیں؟ سفر وائیم کے دیوتا کہاں ہیں؟ کیا انہوں نے سامریہ کو میرے ہاتھ سے بچا لیا؟ ۔
20 ان ملکوں کے تمام دیوتاؤں میں سے کس کس نے اپنے ملک کو میرے ہاتھ سے چھڑا لیا جو خداوند بھی یروشلیم کو میرے ہاتھ سے چھڑائیگا؟ ۔
21 لیکن وہ خاموش رہےاوراسکے جواب میں انہوں نے ایک بات بھی نہ کہی کیونکہ بادشاہ کا حکم یہ تھا کہ اسے جواب نہ دینا۔
22 اورالیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اورشبناہ منشی اور یوآخ بن آسف محرر اپنے کپڑے چاک کیے ہوئے حزقیاہ کے پاس آئے اورربشاقی کی باتیں اسے سنائیں۔


باب 37

1 جب حزقیاہ بادشاہ نے یہ سنا تو اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اوڑھکر خداوند کے گھر میں گیا۔
2 اوراس نے گھر کے دیوان الیاقیم اور شبناہ منشی اورکاہنوں کے بزرگوں کو ٹاٹ اوڑھا کر آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کے پاس بھیجا ۔
3 اورانہوں نے اس سے کہا کہ حزقیاہ یوں کہتاہے کہ آج کا دن دکھ اور ملامت اورتوہین کا دن ہے کیونکہ بچے پیدا ہونے پر ہیں اور ولادت کی طاقت نہیں۔
4 شاید خداوند تیرا خدا ربشاقی کی باتیں سنے گا جسے اسکے آقا شاہ اسور نے بھیجا ہے کہ زندہ خدا کی توہین کرے اورجو باتیں خداوند تیرے خدانے سنیں ان پر وہ ملامت کریگا پس تو اس بقیہ کے لیے جو موجود ہے دعا کر۔
5 پس حزقیاہ بادشاہ کے ملازم یسعیاہ کے پاس آئے ۔
6 اور یسعیاہ نے ان سے کہا تم اپنے آقا سے یوں کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو ان باتوں سے جو تونے سنی ہیں جس سے شاہ اسورکے ملازموں نے میری تکفیر کی ہے ہراسان نہ ہو۔
7 دیکھ میں اس میں ایک روح ڈال دونگا اوروہ ایک افواہ سن کر اپنے ملک کو لوٹ جائیگا اور میں اسے اسی کے ملک میں تلوار سے مروا ڈالونگا۔
8 سو ربشاقی لوٹ گیا اور اس نے شاہ اسورکو لبناہ سے لڑتے پایا کیونکہ اس نے سنا تھا کہ وہ لکیس سے چلا گیا ہے۔
9 اور اس نے کوش کے بادشاہ ترہاقہ کی بابت سنا کہ وہ تجھ سے لڑنے کو نکلا ہے اورجب اس نے یہ سنا تو حزقیاہ کے پاس ایلچی بھیجے اور کہا ۔
10 شاہ یہوادہ حزقیاہ سے یوں کہنا کہ تیرا خدا جس پر تیرا بھروسہ ہے تجھے یہ کہکر فریب نہ دے کہ یروشلیم شاہ اسورکے قبضہ میں نہ کیا جائے گا۔
11 دیکھ تو نے سنا ہے کہ اسور کے بادشاہ نےتمام ممالک کو غارت کر کے انکا کیا حال بنایا ہے سو کیا تو بچا رہیگا؟ ۔
12 کیا ان قوموں کے دیوتاؤں نے انکو یعنی جوزان اور حاران اوررصف اور بنی عدن کو جو تلسار میں تھے جنکو ہمارے باپ دادا نے ہلاک کیا چھڑایا؟ ۔
13 حمات کا بادشاہ اورارفاد کا بادشاہ اور شہر سفر وائیم اور ہینع اور عواہ کا بادشاہ کہاں ہیں؟۔
14 حزقیاہ نے ایلچیوں کے ہاتھ سے نامہ لیا اور اسے پڑھا اور حزقیاہ نے خداوند کے گھر جا کر اسکے خداوند کے حضورپھیلا دیا ۔
15 اور حزقیاہ نے خداوند سے یوں دعا کی ۔
16 اے خداوند رب الافواج اسرائیل کے خدا ۔ کروبیوں کے اوپر بیٹھنے والے ! تو ہی اکیلا زمین کی سب سلطنتوں کا خدا اے۔ تو ہی نے آسمان اوت زمین کو پیدا کیا۔
17 اے خداوند کان لگا اور سن ۔ اے خداوند اپنی آنکھیں کھول اوردیکھ اور سنحیرب کی ان سب باتوں کو جو اس نے زندہ خدا کی توہین کرنے کے لیے کہلا بھیجی ہیں سن لے۔
18 اے خداوند در حقیقت اسور کے بادشاہ نے سب قوموں کو انکے ملکوں سمیت تباہ کیا۔
19 اور انکے دیوتاؤں کو آگ میں ڈالا کیونکہ وہ خدا نہ تھے بلکہ آدمیوں کی دستکاری تھے۔ لکڑی اورپتھر۔ اس لیے انہوں نے انکو نابود کیا۔
20 سو اب اے خداوند ہمارے خدا تو ہمکو اس کے ہاتھ سےبچا لے تاکہ زمین کی سب سلطنتیں جان لیں کہ تو ہی اکیلا خداوند ہے۔
21 تب یسعیاہ بن آموص نے حزقیاہ کو کہلا بھیجا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے چونکہ تو نے شاہ اسور سنحیرب کے خلاف مجھ سے دعا کی ہے ۔
22 اس لیے خداوند نے اسکے حق میں یوں فرمایا کہ کنواری دخترِ صیون نے تیری تحقیر کی اورتیرا مضحکہ اڑایا۔ یروشلیم کی بیٹی نے تجھ پر سر ہلایا ہے۔
23 تو نے کس کی توہین و تکفیر کی ہے ؟ تونے کس کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور اپنی آنکھیں اوپر اٹھائیں؟ اسرائیل کے قدوس کے خلاف؟ ۔
24 تو نے اپنے خادموں کے ذریعے سے خداوند کی توہین کی اورکہا کہ میں اپنے بہت سے رتھوں کو لیکر پہاڑوں کی چوٹیوں پر بلکہ لبنان کے وسطی حصہ تک چڑھ آیا ہوں اور میں اسکے اونچے اونچے دیوداروں اور اچھے سے اچھے صنوبر کے درختوں کو کاٹ ڈالونگا اورمیں اسکے چوٹی پر کے زرخیز جنگل میں جا گھسونگا۔
25 میں نے کھود کھود کر پانی پیا ہے اور میں اپنے پاؤں کے تلوے سے مصر کی سب ندیاں سکھا ڈالونگا ۔
26 کیا تو نے یہ نہیں سنا کہ مجھے یہ کیے ہوئے مدت ہوئی اورمیں نے قدیم آیام سے ٹھہرا دیا تھا ؟ اب میں نے اسی کو پورا کیا ہے کہ تو فصیلدار شہروں کو اجاڑ کر کھنڈر بنا دینے کے لیے برپا ہو۔
27 اسی سبب سے انکے باشندے کمزورہوئے اور گھبرا گئے اور شرمندہ ہوئے ۔ وہ میدان کی گھاس اور پود چھتوں پر کی گھاس اور کھیت کے اناج کی مانند ہو گئی جو ابھی بڑھا نہ ہو۔
28 لیکن میں تیری نشست اور آمدورفت اورتیرا مجھ پر جھنجھلانا جانتا ہوں۔
29 تیرے مجھ پر جھنجھلانے کے سبب سے اور اس لیے کہ تیرا گھمنڈ میرے کانوں تک پہنچا میں اپنی نکیل تیرے ناک میں اور اپنی لگام تیرے منہ میں ڈالونگا اورتو جس راہ سے آیا ہے میں تجھے اسی راہ سے واپس لوٹا دونگا۔
30 اورتیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ تم اس سال وہ چیزیں جو خود اگتی ہیں اوردوسرے سال وہ چیزیں جو ان سے پیدا ہوں کھاؤ گے اورتیسرے سال تم بونا اورکاٹنا اورتاکستان لگا کر ان کا پھل کھانا۔
31 اوروہ بقیہ جو یہوادہ کے گھرانے سے بچ رہا ہے پھر نیچے کی طرف جڑ پکڑے گا اور اوپر کی طرف پھل لائیگا۔
32 کیونکہ ایک بقیہ یروشلیم میں سے اور وہ جو بچ رہے ہیں کوہ صیون سے نکلینگے۔ رب الافواج کی غیوری یہ کر دکھائیگی۔
33 سو خداوند شاہ اسور کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ وہ اس شہر میں آنے یا یہاں تیر چلانے نہ پائے گا ۔ وہ نہ تو سپر کے کر اسکے سامنے آنے اور نہ اسکے مقابل دمدمہ باندھنے پائے گا۔
34 بلکہ خداوند فرماتا ہے کہ جس راہ سے وہ آیا اسی سے لوٹ جائیگا اور اس شہر میں آنے نہ پائیگا۔
35 کیونکہ میں اپنی خاطر اپنے بندہ داؤد کی خاطر اس شہر کی حمایت کر کے اسے بچاونگا۔
36 پس خداوند کے فرشتہ نے اسوریوں کی لشکر گاہ میں جا کر ایک لاکھ پچاسی ہزار آدمی جان سے مار ڈالے اورصبح کو جب لوگ سویرے اٹھے کہ وہ سب مرے پڑے ہیں۔
37 تب شاہ اسور سنحیرب کوچ کر کے وہاں سے چلا گیا اورلوٹ کر نینوہ میں رہنے لگا۔
38 اور جب وہ اپنے دیوتا نسروک کےمندر میں پوجا کر رہا تھا تو ادرملک اورشراضر اسکے بیٹوں نے اسکے تلوار سے قتل کیا اوراراراط کی سرزمین کو بھاگ گئے اوراسکا بیٹا اسرحدون اسکی جگہ بادشاہ ہوا۔


باب 38

1 ان ہی دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ مرنے کے قریب ہو گیا اور یسعیاہ نبی آموص کے بیٹے نے اسکے پاس آ کر اس سےکہا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے گھر کا انتظام کر دے کیونکہ تو مر جائے گا اوربچنے کا نہیں ۔
2 تب حزقیاہ نے اپنے منہ دیوارکی طرف کیا اورخداوند سے دعا کی۔
3 اور کہا اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں یاد فرما کہ میں تیرے حضور سچائی اورپورے دل چلتا رہا ہوں اور جو تیر ی نظر میں بھلا ہے وہی کیا اورحزقیاہ زارزار رویا۔
4 تب خداوند کا یہ کلام یسعیاہ پر نازل ہوا ۔
5 کہ جا اورحزقیاہ سےکہہ کے خداوند تیرے باپ داؤد کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے تیری دعا سنی ۔ میں نے تیرے آنسو دیکھے ۔ سودیکھ میں تیری عمر پندرہ برس اور بڑھا دونگا۔
6 اور میں تجھ کو اور اس شہر کو شاہ اسور کے ہاتھ سے بچا لونگا اور میں اس شہر کی حمایت کرونگا۔
7 اورخداوند کی طرف سے تیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ خداوند اس بات کو جو اس نے فرمائی پورا کریگا ۔
8 دیکھ میں آفتاب کے ڈھلے ہوئے سایہ کے درجوں میں سے آخز کی دھوپ گھڑی کے مطابق دس درجے پیچھے کو لوٹا دونگا۔ چنانچہ آفتاب جن درجوں سے ڈھل گیا تھا ان میں کے دس درجے پھر لوٹ گیا۔
9 شاہ یہوادہ حزقیاہ کی تحریر جب وہ بیمار تھا اور اپنی بیماری سے شفا یاب ہوا۔
10 میں نے کہا کہ میں اپنی آدھی عمر میں پاتال کے پھاٹکوں میں داخل ہونگا۔ میری زندگی کے باقی برس مجھ سے چھین لئے گئے۔
11 میں کہا میں خداوند کو ہاں خداوند زندوں کی زمین میں پھر کبھی نہ دیکھونگا۔ انسان اوردنیا کے باشندے مجھے پھر دکھائی نہ دینگے۔
12 میرا گھر اجڑ گیا اور گڈریے کے خیمے کی مانند مجھ سےدورکیا گیا۔ میں نے جلاہے کی مانند اپنی زندگانی کو لپیٹ لیا ۔ وہ مجھ کو تانت سے کاٹ ڈالیگا۔ صبح سے شام تک تو مجھ کو تمام کر ڈالتا ہے۔
13 میں نے صبح تک تحمل کیا ۔ تب وہ شیر ببر کی مانند میری سب ہڈیاں چور کر ڈالتا ہے ۔ صبح سے شام تک تو مجھے تمام کر ڈالتا ہے۔
14 میں ابابیل اورسارس کی طرح چیں چیں کرتا رہا۔ میں کبوتر کی طرح کڑھتا رہا ۔ میری آنکھیں اوپر دیکھتے دیکھتےپتھرا گئیں۔ اے خداوند میں بے کس ہوں تو میرا کفیل ہو۔
15 میں کہا کہوں؟ اس نے تو مجھ سے وعدہ کیا اور اسی نے پورا کیا۔ میں اپنی باقی عمر اپنی جان کی تلخی کے سبب سے آہستہ آہستہ پوری کرونگا۔
16 اے خداوند ان ہی چیزوں سے انسان کی زندگی ہے اور ان ہی میں میری روح کی حیات ہے۔ سو تو ہی شفا بخش اورمجھے زندہ رکھ۔
17 دیکھ میرا سخت رنج راحت میں تبدیل ہوا۔ اورمیری جان پر مہربان ہو کر تو نے اسے نیستی کے گڑھے سے رہائی دی۔ کیونکہ تو نے میرے گناہوں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔
18 اس لیے کہ پاتال تیری ستایش نہیں کر سکتا اور موت سے تیری حمد نہیں ہو سکتی۔ وہ جو گور میں اترنے والے ہیں تیری سچائی کے امیدوار نہیں ہو سکتے ۔
19 زندہ ہاں زندہ ہی تیری ستایش کریگا جیسا آج کے دن میں کرتا ہوں۔ باپ اپنی اولاد کو تیری سچائی کی خبر دیگا۔
20 خداوند مجھے بچانے کو تیار ہے اس لیے ہم اپنےتاردار سازوں کے ساتھ عمر بھر خداوند کے گھر میں سرود خوانی کرتے رہینگے۔
21 یسعیاہ نے کہا تھا کہ انجیر کی ٹکیہ لیکر پھوڑے پر باندھیں اوروہ شفا پائے گا ۔
22 اورحزقیاہ نے کہا تھا کہ اسکا کیا نشان ہےکہ میں خداوند کے گھر میں جاونگا؟۔


باب 39

1 اس وقت مردوک بلدان بن بلدان شاہ بابل نے حزقیاہ کے لیے نامے اورتحائف بھیجے کیونکہ اس نے سنا تھا کہ وہ بیمارتھا اور شفا یاب ہوا۔
2 اور حزقیاہ ان سے بہت خوش ہوا اوراپنے خزانے یعنی چاندی اورسونا اورمصالح اور بیش قیمت عطر اورتمام سلاح خانہ اورجو کچھ اسکے خزانوں میں موجود تھا انکو دکھایا۔ اسکے گھر میں اور اسکی مملکت میں ایسی کوئی چیز نہ تھی جو انکو نہ دکھائی۔
3 تب یسعیاہ نبی نے حزقیاہ بادشاہ کے پاس آ کر اس سے کہا کہ یہ لوگ کیا کہتےہیں اور یہ کہاں سے تیرے پاس آئے ؟ حزقیاہ نے کہا کہ یہ ایک دورکے ملک یعنی بابل سے میرے پاس آئے ہیں۔
4 تب اس نے پوچھا انہوں نے تیرے گھر میں کیا کیا دیکھا ؟ حزقیاہ نے کہا سب کچھ جو میرے گھر میں ہے انہوں نے دیکھا۔ میرے خزانوں میں ایسی کوئی چیز نہیں جو میں نے انکو نہ دکھائی ہو۔
5 تب یسعیاہ نے حزقیاہ سے کہا کہ رب الافواج کا کلام سن لے۔
6 دیکھ وہ دن آتےہیں کہ سب کچھ جو تیرے گھر میں ہے اور جو کچھ تیرےباپ دادا نے آج کے دن تک جمع کر کے رکھا ہے بابل کو لے جائینگے۔ خداوند فرماتا ہے کچھ بھی باقی نہ رہیگا۔
7 اوروہ تیرے بیٹوں میں سے جو تجھ سے پیدا ہونگے اور جنکا باپ تو ہی ہو گا کتنوں کو لے جائینگے اور وہ شاہ بابل کے ملک میں خواجہ سرا ہونگے۔
8 تب حزقیاہ نے یسعیاہ سے کہا خداوند کا کلام جو تو نے سنایا بھلا ہے اور اس نے یہ بھی کہا کہ میرے آیام میں تو سلامتی اورامن ہو گا۔


باب 40

1 تسلی دو تم میرے لوگوں کو تسلی دو۔ تمہارا خدا فرماتا ہے۔
2 یروشلیم کو دلاسا دو اور اسے پکار کر کہو کہ اسکی مصیبت کے دن جو جنگ و جدل کے تھے گذر گئے۔ اسکے گناہ کا کفارہ ہوا اور اس نے خداوند کے ہاتھ سے اپنے سب گناہوں کا بدلہ دو چند پایا۔
3 پُکارنے والے کی آواز! بیابان میں خداوند کی راہ درست کرو۔ صحرا میں ہمارے خداوند کے لیے شاہراہ ہموار کرو۔
4 ہر ایک نشیب اونچا کیا جائے گا اور ہر ایک ٹیڑھی چیز سیدھی اور ہر ایک ناہموار جگہ ہموار کی جائے۔
5 اور خداوند کا جلال آشکارا ہو گا اورتمام بشراسکو دیکھے گا کیونکہ خداوند نے اپنے منہ سے فرمایا ہے ۔
6 ایک آواز آئی کہ منادی کر اورمیں نے کہا کہ میں کیا منادی کروں؟ ہر بشر گھاس کی مانند ہے اور اسکی ساری رونق میدان کے پھول کی مانند۔
7 گھاس مرجھاتی ہے پھول کُملاتا ہے کیونکہ خداوند کی ہوا اس پر چلتی ہے یقیناً لوگ گھاس ہیں۔
8 ہاں گھاس مرجھاتی ہے۔ پھول کُملاتا ہے پر ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔
9 اے صیون کو خوشخبری سنانے والی اونچے پہاڑ پر چڑھ جا اور اے یروشلیم کو بشارت دینے والی زور سے اپنی آواز بلند کر! خوب پُکار اور مت ڈر۔ یہوداہ کی بستیوں سے کہہ دیکھو اپنا خدا!۔
10 دیکھو خداوند خدا بڑی قدرت کے ساتھ آئیگا اور اسکا بازو اسکے لیے سلطنت کریگا۔ دیکھو اسکا صلہ اسکے ساتھ ہے اوراسکا اجر اسکے سامنے۔
11 وہ چوپان کی مانند اپنا غلہ چرائیگا۔ وہ بّروں کو اپنے بازوں میں جمع کریگا اور اپنی بغل میں لے کر چلے گا اور انکو جو دودھ پلاتی ہیں آہستہ آہستہ لے کر چلے گا۔
12 کس نے سمندر کو چلو سے ناپا اور آسمان کی پیمائش بالشت سے کی اور زمین کی گرد کو پیمانہ میں بھرا اورپہاڑوں کو پلڑوں میں وزن کیا اورٹیلوں کو ترازو میں تولا؟ ۔
13 کس نے خداوند کی روح کی ہدایت کی یا اسکا مشیر ہو کر اسے سکھایا؟ ۔
14 اس نے کس سے مشورت لی جو اسے تعلیم دے اور اسے عدالت کی راہ سجھائے اور اسے معرفت کی بات بتائے اور اسے حکمت سے آگاہ کرے ؟ ۔
15 دیکھ قومیں ڈول کی ایک بوند کی مانند ہیں اورترازو کی باریک گرد کی مانند گنی جاتی ہیں۔ دیکھ وہ جزیروں کو ایک ذٓرہ کی مانند اٹھا لیتا ہے۔
16 لبنان ایندھن کے لیے کافی نہیں اور اسکے جانور سوختنی قربانی کے لیے بس نہیں۔
17 سب قومیں اسکی نظرمیں ہیچ ہیں بلکہ وہ اسکے نزدیک بطالت اور ناچیز سے بھی کمتر گنی جاتی ہیں۔
18 پس تم خدا کو کس سے تشبیہ دو گے؟ اور کون سی چیز اس سے مشابہ ٹھہراؤ گے؟۔
19 تراشی ہوئی مورت! کاریگر نے اسے ڈھالا اور سنار اس پر سونا مڑھتا ہے اوراسکے لیے چاندی کی زنجیریں بناتا ہے۔
20 اور جو ایسا تہیدست ہے کہ اس کے پاس نذر گذارننے کو کچھ نہیں وہ ایسی لکڑی چن لیتا ہے جو سڑنے والی نہ ہو۔ وہ ہوشیار کاریگر کی تلاش کرتا ہے تاکہ ایسی مورت بنائے جو قائم رہ سکے۔
21 کیا تم نہیںجانتے؟ کیا تم نے نہیں سنا؟ کیا یہ بات ابتدا ہی سے تم کو بتائی نہیں گئی؟ کیا تم بنائے عالم سے نہیں سمجھے؟ ۔
22 وہ محیط زمین پر بیٹھا ہے اور اسکے باشندے ٹڈوں کی مانند ہیں وہ آسمان کو پردہ کی مانند تانتا ہے اور اسکو سکونت کے لیے خیمہ کی مانند پھیلاتا ہے۔
23 جو شاہزادوں ہو ناچیز کر ڈالتا ہے اور دنیا کے حاکموں کو ہیچ ٹھہراتا ہے۔
24 وہ ہنوز لگائے نہ گئے وہ ہنوز بوئے نہ گئے ۔ انکا تنا زمین میں ہنوز جڑ نہ پکڑ چکا کہ وہ فقط ان پر پھونک مارتا ہے اور وہ خشک ہو جاتے ہیں اورگرد باد انکو بھوسے کی مانند اڑا لے جاتاہے۔
25 وہ قدوس فرماتا ہے کہ تم مجھے کس سے تشبیہ دوگے؟ اورمیں کس چیز سے مشابہہ ہونگا۔
26 اپنی آنکھیں اوپر اٹھاؤ اور دیکھو کہ ان سب کا خالق کون ہے۔ وہی جو انکے لشکر کو شمار کر کے نکالتا ہے اور ان سب کو نام بنام بلاتا ہے اسکی قدرت کی عظمت اور اسکے بازو کی توانائی کے سبب سے ایک بھی غیر حاضر نہیں رہتا۔
27 پس اے یعقوب تو کیوں یوں کہتا ہے کہ اے اسرائیل تو کس لئے ایسی بات کرتا ہے کہ میری راہ خداوند سے پوشیدہ ہے اور میری عدالت خدا سے گذر گئی؟ ۔
28 کیا تو نہیں جانتا؟ کیا تو نےنہیں سنا کہ خداوند خدایِ ابدی و تمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور ماندہ نہیں ہوتا؟ اسکی حکمت ادراک سے باہر ہے۔
29 وہ تھکے ہوئے ہو زوربخشتا ہے اورناتوان کی توانئی کو زیادہ کرتا ہے ۔
30 نوجوان بھی تھک جائینگے اور ماندہ ہونگے اور سورما بالکل گر پڑینگے ۔
31 لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے ازسر نو زور حاصل کرینگے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پر سے اڑینگے وہ دوڑینگے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلینگے اورماندہ نہ ہونگے۔


باب 41

1 اے جزیرو! میرے حضور خاموش رہو اورامتیں از سرنو زورحاصل کریں۔ وہ نزدیک آ کر عرض کریں۔ آؤ ہم ملکر عدالت کے لیے نزدیک ہوں۔
2 کس نے مشرق سے اسکو برپا کیا جسکو وہ صداقت سے اپنے قدموں میں بلاتا ہے؟ وہ قوموں کو اسکے حوالے کرتا اور اسے بادشاہوں پر مسلط کرتا ہے اورانکو خاک کی مانند اسکی تلوار کے اور اڑتی ہوئی بھوسی کی مانند اسکی کمان کے حوالہ کرتاہے۔
3 وہ انکا پیچھا کرتا اور اس راہ سے جس پرپیشتر قدم نہ رکھا سلامت گذرتا ہے۔
4 یہ کس نے کیااورابتدائی پشتوں کو طلب کر کے انجام دیا؟ میں خداوند نے جو اوّل و آخر ہوں۔ وہ میں ہی ہوں۔
5 جزیروں نے دیکھا اورڈرگئے۔ زمین کے کنارےتھرا گئے وہ نزدیک آتےگئے۔
6 ان میں سے ہر ایک نے اپنے پڑوسی کی مدد کی اور اپنے بھائی سے کہا کہ حوصلہ رکھ۔
7 بڑھئی نے سنار کی اور اس نے جو ہتھوڑی سے صاف کرتا ہے اسکی جو نہائی پر پیٹتا ہے ہمت بڑھائی اور کہا جوڑ تو اچھا ہے۔ سو انہوں نے اسکو میخوں سے مضبوط کیا تاکہ قائم رہے۔
8 پر تو اے اسرائیل میرے بندے! اے یعقوب جسکو میں نے پسند کیا جو میرے دوست ابرہام کی نسل سے ہے۔
9 تو جسکو میں نے زمین کی انتہا سے بلایا اور اسکے سِوانوں سے طلب کیا اورتجھ کو کہا تو میرا بندہ ہے میں تجھے پسند کیا اورتجھے رد نہ کیا۔
10 تو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراسان نہ ہو کیونکہ میں تیرا خدا ہوں میں تجھے زوربخشونگا۔ میں یقیناً تیری مدد کرونگا اور میں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھسے تجھے سنبھالونگا۔
11 دیکھ وہ سب جو تجھ پر غضبناک ہیں پشیمان اور رسوا ہونگے وہ جو تجھ سے جھگڑتےہیں ناچیز ہو جائیں گے اور ہلاک ہونگے۔
12 تو اپنے مخالفوں کو ڈھونڈے گا اور نہ پائے گا ۔ تجھ سے لڑنے والے ناچیز و نابور ہو جائیں گے۔
13 کیونکہ میں خداوند تیرا خدا تیرا دہنا ہاتھ پکڑ کر کہونگا مت ڈر میں تیری مدد کرونگا۔
14 ہراسان نہ ہو اے کیڑے یعقوب! اے اسرائیل کی قلیل جماعت میں تیری مدد کرونگا خداوند فرماتا ہے ہا ں میں جو اسرائیل کا قدوس تیرا فدیہ دینے والا ہوں۔
15 دیکھ میں تجھے گہائی کا نیا اور تیز دندانہ دار آلہ بناونگا۔ تو پہاڑوں کو کوٹیگا اور انکو ریزہ ریزہ کریگا اورٹیلوں کو بھوسے کی مانند بنائیگا۔
16 تو انکو اسائیگا اور ہوا انکو اڑا لے جائیگی اورگرد باد انکو تتر بتر کردیگا پر تو خداوند سے شادمان ہو گا اوراسرائیل کے قدوس پر فخر کریگا۔
17 محتاج اور مسکین پانی ڈھونڈتےپھرتےہیں پر نہیں ملتا۔ انکی زبان پیاس سے خشک ہے میں خداوند انکی سنونگا۔ میں اسرائیل کا خدا انکو ترک نہ کرونگا ۔
18 میں ننگے ٹیلوں پر نہریں اوروادیوں میں چشمے کھولونگا صحرا کو تالاب اور خشک زمین کو پانی کا چشمہ بنا دونگا ۔
19 بیابان میں دیوادر اور ببول اور آس اور زیتون کے درخت لگاونگا ۔
20 تاکہ وہ سب دیکھیں اور جانیں اورغور کریں اور سمجھیں کہ خداوند ہی کے ہاتھ نے یہ بنایا اوراسرائیل کے قدوس نے یہ پیدا کیا۔
21 خداوند فرماتا ہے اپنا دعویٰ پیش کرو یعقوب کا بادشاہ فرماتا ہے اپنی مضبوط دلیلیں لاؤ۔
22 وہ انکو حاضر کریں تاکہ وہ ہمکو ہونے ولی چیزوں کی خبر دیں۔ ہم سے اگلی باتیں بیان کرو کہ کیا تھیں تاکہ ہم ان پر سوچیں اور انکے آیام کو سمجھیں یا آئیندہ کو ہونے والی باتوں سے انکو آگاہ کرو۔
23 بتاؤ کہ آگے کو کیا ہوگا تاکہ ہم جانیں کہ تم اِلٰہ ہو ۔ ہاں بھلا یا بُرا کچھ تو کرو تاکہہ ہم متعجب ہوں اور باہم اسے دیکھیں۔
24 دیکھو تم ہیچ اور بیکار ہو تم کو پسند کرنے والا مکروہ ہے۔
25 میں نے شمال سے ایک کو برپا کیا ہے وہ آ پہنچا ہے وہ آفتاب سے مطلع ہو کر میرا نام لیگا اور شاہزادوں کو گارے کی طرح لتاڑیگا۔ جیسے کمہار مٹی گوندھتا ہے ۔
26 کس نے یہ ابتدا سے بیان کیا کہ ہم جانیں؟ اور کس نے آگے سے خبر دی کہ ہم کہیں کہ یہ سچ ہے؟ کوئی اسکا بیان کرنے والا نہیں۔ کوئی اسکی خبر دینے والا نہیں کوئی نہیں جو تمہاری باتیں سنے۔
27 میں ہی نے پہلے صیون سے کہا کہ دیکھ ۔ انکو دیکھ اور میں ہی یروشلیم کو ایک بشارت دینے والا بخشونگا۔
28 کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ کوئی نہیں ۔ ان میں کوئی مشیر نہیں جس سے پوچھوں اور وہ مجھے جواب دے۔
29 دیکھو وہ سب کے سب بطالت ہیں۔ انکے کام ہیچ ہیں۔ انکی ڈھالی ہوئی مورتیں بالکل ناچیز ہیں۔


باب 42

1 دیکھو میرا خادم جسکو میں سنبھالتاہوں ۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے میں نے اپنی روح اس پر ڈالی۔ وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔
2 وہ نہ چلائیگا اورنہ شورکریگا اورنہ بازاروں میں اسکی آواز سنائی دیگی۔
3 وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑیگا اورٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائیگا۔ وہ راستی سے عدالت کریگا۔
4 وہ ماندہ نہ ہو گا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرلے۔ جزیرے اسکی شریعت کا انتظار کرینگے۔
5 جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور جو کچھ اس میں سے نکلتاہے پھیلایا اور جو اسکے باشندوں کو سانس اور اس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔
6 میں خداوند نے تجھے صداقت سے بُلایا میں ہی تیرا ہاتھ پکڑونگا اور تیری حفاظت کرونگا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لیے تجھے دونگا۔
7 کہ تو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور انکو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانے سے چھڑائے۔
8 یہوواہ میں ہی ہوں۔ یہی میرا نام ہے میں اپنا جلال کسی دوسرے کےلیے اور اپنی حمد کھودی مورتوں کے لیے روا نہ رکھونگا۔
9 دیکھو پرانی باتیں پوری ہو گئیں اورمیں نئی باتیں بتاتا ہوں۔ اس سے پیشتر کہ واقع ہوں میں تم سےبیان کرتا ہوں ۔
10 اے سمندر پر گذرنے والو اور اس میں بسنے والو! اے جزیرو اور انکے باشندو خداوند کے لیے نیا گیت گاؤ۔ اور زمین پر سر تا سر اسکی ستائش کرو۔
11 بیابان اور اسکی بستیاں۔ قیدار کے آبادگاؤں اپنی آواز بلند کریں۔ سلع کے بسنے والے گیت گائیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں۔
12 وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں اور جزیروں میں اسکی ثنا خوانی کریں ۔
13 خداوند بہادر کی مانند نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت دکھائیگا۔ وہ نعرہ ماریگا ہاں وہ للکاریگا وہ اپنے دشمنوں پر غالب آئیگا۔
14 میں بہت مدت سے چپ رہا ۔ میں خاموش رہا اور ضبط کرتارہا پر اب میں دردزہ والی کی طرح چلاونگا میں ہانپونگا اورزور زورسے سانس لونگا۔
15 میں پہاڑوں اور ٹیلوں کو ویران کرڈالونگا اور انکے سبزہ زاروں کو خشک کرونگا اور انکی ندیوں کو جزیرے بناونگا اور تالابوں کو سکھا دونگا۔
16 اور اندھوں کو اس راہ سے جسے وہ نہیں جانتے لے جاونگا میں انکو ان راستوں سے جن سے وہ آگاہ نہیں لے چلونگا۔ میں انکے آگے تاریکی کو روشنی اور اونچی نیچی جگہوں کو ہموار کر دونگا میں ان سے یہ سلوک کرونگا اور اور ان کو ترک نہ کرونگا۔
17 جو کھودی ہوئی مورتوں پر بھروسہ کرتے اورڈھالے ہوئے بتوں سے کہتے ہیں تم ہمارے معبود ہو وہ پیچھے ہٹیں گے اور بہت شرمندہ ہونگے۔
18 اے بہرو سنو اے اندھو نظر کرو تاکہ تم دیکھو۔
19 میرے خادم کے سوا اندھا کون ہے؟ اور کون ایسا بہرا ہے جیسا میرا رسول جسے میں بھیجتا ہوں؟ میرے دوست کی اورخداوند کے خادم کی مانند نابینا کون ہے؟ ۔
20 تو بہت سی چیزوں پر نظر کرتاہے پر دیکھتانہیں۔ کان تو کھلے ہیں پر سنتا نہیں۔
21 خداوند کو پسند آیا کہ اپنی صداقت کی خاطر شریعت کو بزرگی دے اور اسے قابلِ تعظیم بنائے۔
22 لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو لٹ گئے اور غارت ہوئے۔ وہ سب کے سب زندانوں میں گرفتار اور قید خانوں میں پوشیدہ ہیں۔ وہ شکار ہوئے اور کوئی نہیں چھڑاتا۔ وہ لٹ گئے اور کوئی نہیں کہتا پھیر دو۔
23 تم میں کون ہےجو اس پر کان لگائے؟ جو آیندہ کی بابت توجہ سے سنے؟ ۔
24 کس نے یعقوب کو حوالے کیا کہ غارت ہو اوراسرائیل کو کہ لٹیروں کے ہاتھ میں پڑے؟ کیا خداوند نے نہیں جس کے خلاف ہم نے گناہ کیا؟ کیونکہ انہوں نے نہ چاہا کہ اسکی راہ پر چلیں اور وہ اسکی شریعت کے تابع نہ ہوئے۔
25 اس لیے اس نے اپنے قہر کی شدت اور جنگ کی سختی کو اس پر ڈالا اور اسے ہر طرف سے آگ لگ گئی پر وہ اسے دریافت نہیں کرتا۔ وہ اس سے جل جاتا ہے پر خاطر میں نہیں لاتا۔


باب 43

1 اور اب اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اورجس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ میں نے تیرا نام لیکر تجھے بلایا ہے تومیرا ہے۔
2 جب تو سیلاب میں سے گذرے تو میں تیرے ساتھ ہونگا اورجب تو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھے نہ ڈبائینگی۔ جب تو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگیگی اورشعلہ تجھے نہ جلائیگا۔
3 کیونکہ میں خداوند تیرا خدا اسرائیل کا قدوس تیرا نجات دینے والا ہوں۔ میں نے تیرے فدیہ میں مصر کو اورتیرے بدلے میں کوش اور سبا کو دیا۔
4 چونکہ تو میری نگاہ میں بیش قیمت اور مکرم ٹھہرااور میں نے تجھ سے محبت رکھی اس لیے میں تیرے بدلے لوگ اورتیری جان کے بدلے میں امتیں دے دونگا۔
5 تو خوف نہ کر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں تیری نسل کو مشرق سے لے آونگا اور مغرب سے تجھے فراہم کرونگا۔
6 میں شمال سے کہونگا کہ دے ڈال اورجنوب سے کہ رکھ نہ چھوڑ۔ میرے بیٹوں کو دور سے اور میری بیٹیوں کو زمین کی انتہا سے لاؤ۔
7 ہر ایک کو جو میرے نام سے کہلاتا ہے اورجسکو میں نے اپنے جلال کے لیے خلق کیاجسے میں نے پیدا کیا ہاں جسے میں ہی نے بنایا۔
8 ان اندھے لوگوں کو جو آنکھیں رکھتے ہیں اور ان بہروں کو جن کے کان ہیں باہر لاؤ۔
9 تمام قومیں فراہم کی جائیں اور سب امتیں جمع ہوں۔ انکے درمیان کون ہے جو اسے بیان کرے یا ہم کو پچھلی باتیں بتائے؟ وہ اپنے گواہوں کو لائیں تاکہ وہ سچے ثابت ہوں اورلوگ سنیں اورکہیں کہ یہ سچ ہے۔
10 خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اورمیرا خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کی میں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی نہ ہو گا۔
11 میں ہی یہوواہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔
12 میں نے اعلان کیا اور میں نے نجات بخشی اور میں ہی نے ظاہر کیا جب تم میں کوئی اجنبی معبود نہیں تھا سو تم میرے گواہ ہو خداوند فرماتا ہے کہ میں ہی خدا ہوں۔
13 آج سے میں ہی ہوں اور کوئی نہیں جر میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ میں کام کرونگا۔ کون ہے جو اسے رد کر دکے۔
14 خداوند تمہارا نجات دینے والا اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہےکہ تمہاری خاطر میں نے بابل پر خروج کرایا اورمیں ان سب کو فراریوں کی حالت میں اورکسدیوں کو بھی جو اپنے جہازوں میں للکارتےتھے لے آونگا۔
15 میں خداوند تمہار قدوس اسرائیل کا خالق تمہارا بادشاہ ہوں ۔
16 جس نے سمندر میں راہ اورسیلاب میں گذر گاہ بنائی۔
17 جو جنگی رتھوں اورگھوڑوں اور لشکر اوربہادروں کو نکال لاتا ہے ( وہ سب کے سب لیٹ گئے وہ پھرنہ اٹھینگے وہ بجھگئے ہاں وہ بتی کی طرح بجھ گئے) ۔
18 یعنی خداوند یوں فرماتا ہے کہ پچھلی باتوں کو یاد نہ کر اورقدیم باتوں پر سوچتےنہ رہو۔
19 دیکھو میں ایک نیا کام کرونگا۔ اب وہ ظہور میں آئیگا کیا تم اس سے ناواقف رہو گے؟ ہاں میں بیابان میں ایک راہ اورصحرا میں ندیاں جاری کرونگا۔
20 جنگلی جانور گیدڑاور شتر مرغ میری تعظیم کرینگے کیونکہ میں بیابان میں پانی اورصحرا میں ندیاں جاری کرونگا تاکہ میرے لوگوں کے لیے یعنی میرے برگزیدوں کے پینے کے لیے پانی ہو۔
21 میں نے ان لوگوں کو اپنے لیےبنایا تاکہ وہ میری حمد کریں۔
22 تو بھی اے یعقوب تو نے مجھے نہ پکارا بلکہ اے اسرائیل تو مجھ سے تنگ آگیا۔
23 تو بروں کو اپنی سوختنی قربانیوں کے لیے میرے حضور نہ لایا اورتو نے اپنے ذبیحوں سے میری تعظیم نہیں کی۔ میں نے تجھے ہدیے لانے پر مجبور نہیں کیا اور لبان جلانے کی تکلیف نہیں دی۔
24 تو نے روپیہ سے میرے لئے اِگر کو نہیں خریدا اورتو نے مجھے اپنے ذبیحوں کی چربی سے سیر نہیں کیا لیکن تونے اپنے گناہوں سے مجھے زیر بار کیا اور اپنی خطاؤں سے مجھے بیزار کر دیا۔
25 میں ہی وہ ہوں جو اپنے نام کی خاطر تیرے گناہوں کو مٹاتا ہوں اور میں تیری خطاؤں کو یاد نہیں رکھونگا۔
26 مجھے یاد دلا۔ ہم آپس میں بحث کریں۔ اپنا حال بیان کر تاکہ تو صادق ٹھہرے۔
27 تیرے بڑے باپ نے گناہ کیا اور تیرے تفسیر کرنے والوں نے میری مخالفت کی ہے۔
28 اس لیے میں نے مقدس کے اسیروں کو ناپاک ٹھہرایا اور یعقوب کو لعنت اوراسرائیل کو طعنہ زنی کے حوالہ کیا۔


باب 44

1 لیکن اب اے یعقوب میرے خادم اوراسرائیل میرے برگزیدہ سن! ۔
2 خداوند تیرا خادم جس نے رحم ہی سے تجھے بنایا اور تیری مدد کریگا۔ یوں فرماتا ہے کہ اے یعقوب میرے خادم اور یسورون میرے برگزیدہ خوف نہ کر۔ کیونکہ میں پیاسی زمین پر انڈیلونگا۔
3 اور خشک زمین میں ندیاں جاری کرونگا۔ میں اپنی روح تیری نسل پر اور اپنی برکت تیری اولاد پر نازل کرونگا۔
4 اوروہ گھاس کےدرمیان اگینگے جیسے بہتے پانی کے کنارے پر بید ہو۔
5 ایک تو کہیگا کہ میں خداوند کا ہوں اوردوسرا اپنے آپ کو یعقوب کے نام سے ٹھہرائےگا اورتیسرا اپنے ہاتھ پر لکھے گا میں خداوند ہوں اور اپنے آپ کو اسرائیل کے نام سے ملقّب کریگا۔
6 خڈاوند اسرائیل کا بادشاہ اور اسکا فدی دینے والا رب لافواج یوں فرماتا ہے کہ میں ہی اوّل اور میں ہی آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں۔
7 اور جب سے میں نے قدیم لوگوں کی بنیاد ڈالی کون میری طرح بلائیگا اور اسکو بیان کر کے میری طرح ترتیب دیگا؟ ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اسکا بیان کریں۔
8 تم نہ ڈرو اور ہراسان نہ ہو۔ کیا میں نے قدیم ہی سے تجھے نہیں بتایا اورظاہر نہیں کیا؟ تم میرے گواہ ہو۔ کیا میرے سوا کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں کوئی چٹان نہیں میں تو کوئی نہیں جانتا۔
9 کھودی ہوئی مورتوں کے بنانے والے سب کے سب باطل ہیں اور انکی پسندیدہ چیزیں بےنفع ہیں۔ ان ہی کے گواہ دیکھتے نہیں اور سمجھتے نہیں تاکہ پشیمان ہوں۔
10 کس نے کوئی بت بنایا یا کوئی مورت ڈھالی جس سے کچھ فائدہ ہو؟۔
11 دیکھ اسکے سب ساتھی شرمندہ ہونگے کیونکہ بنانے والے تو انسان ہیں وہ سب کے سب جمع ہو کر کھڑے ہوں۔ وہ ڈر جائینگے وہ سب کے سب شرمندہ ہونگے۔
12 لہار کلہاڑا بناتا ہے اور اپنا کام انگاروں سے کرتا ہے اور اسے ہتھوڑوں سے درست کرتا ہے اور اپنے بازو کی قوت سے گھڑتا ہے۔ ہاں وہ بھوکا ہو جاتا ہے اور اسکا زور گھٹ جاتا ہے وہ پانی نہیں پیتا اور تھک جاتا ہے۔
13 بڑھئی سوت پھیلاتا ہے اور نُکیلے ہتھیار سے اسکی صورت کھینچتا ہے وہ اسکو رندے سے صاف کرتاہے اور پرکار سے اس پر نقش بناتا ہے وہ اسے انسان کی شکل بلکہ آدمی کی خوبصورت شبیہ بناتا ہے تاکہ اسےگھر میں نصب کرے۔
14 وہ دیوداروں کو اپنے لیے کاٹتا ہے اور قسم قسم کے بلوط کو لیتا ہے اور جنگل کے درختوں سے جسکو پسند کرتا ہے۔ وہ صنوبر کا درخت لگاتا ہے اور مینہ اسے سینچتا ہے۔
15 تب وہ آدمی کے لیے ایندھن ہوتا ہے اواس میں سے کچھ سلگا کر تاپتا ہے۔ وہ اسکو جلا کر روٹی پکاتا ہے بلکہ اس سے بت بنا کر اسے سجدہ کرتاہے۔ وہ کھودی ہوئی مورت بناتا ہے اور اسکے آگے منہ کےبل گرتا ہے۔
16 اسکا ایک ٹکڑا لیکر آگ میں جلاتا ہے اور اسی کے ایک ٹکڑے پر گوشت کباب کر کے کھاتا اور سیر ہوتا ہے۔ پھر وہ تاپتا اور کہتا ہے ہا میں گرم ہو گیا میں نے آگ دیکھی۔
17 پھر اسکی باقی لکڑی سے دیوتا یعنی کھودی ہوئی مورت بناتا ہے اور اسکے آگے منہ کے بل گر جاتا ہے اور اسے سجدہ کرتا اور اس سے التجا کر کے کہتا ہے کہ مجھے نجات دے کیونکہ تو میرا خدا ہے۔
18 وہ نہیں جانتے اور نہیں سمجھتےکیونکہ انکی آنکھیں بند ہیں۔ پس وہ دیکھتے نہیں اور انکے دل سخت ہیں۔ پس وہ سمجھتے نہیں۔
19 بلکہ کوئی اپنے دل سے نہیں سوچتا اور نہ کسی کو معرفت اورتمیز ہے کہ اتنا کہے میں نے اس کا ایک ٹکڑا آگ میں جلایا اور میں نے اسکے انگاروں پر روٹی بھیپکائی اورمیں نے گوشت بھونا اور کھایا۔ اب کیا میں اس کے بقیہ سے ایک مکرو ہ چیز بناؤں؟ کیا میں درخت کے کندے کو سجدہ کروں؟ ۔
20 وہ راکھ کھاتا ہے۔ فریب خوردہ دل نے اسکو ایسا گمراہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی جان بچا نہیں سکتا اور کہتا کیا میرے دہنے ہاتھ میں بطالت نہیں۔
21 اے یعقوب! اے اسرائیل! ان باتوں کو یاد رکھ کیونکہ تو میرا بندہ ہے اور میں نے تجھے بنایا تو میرا خادم ہے اے اسرائیل میں تجھ کو فراموش نہ کرونگا۔
22 میں نے تیری خطاؤں کو گھٹا کی مانند اورتیری گناہوں کو بادل کی مانند مٹا ڈالا۔ میرے پاس واپس آ جا کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔
23 اے آسمانو گاؤ کہ خداوند نے یہ کیا ہے۔ اے اسفل زمین للکار اے پہاڑو اے جنگل اوراسے سب درختو نغمہ پردازی کرو کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا اوراسرائیل میں اپنا جلال ظاہر کریگا۔
24 خداوند تیرا فدیہ دینے والا جس نے رحم سے ہی تجھے بنایا یوں فرماتا ہے کہ میں خداوند سب کا خالق ہوں میں ہی اکیلا آسمان کو تاننے والا اور زمین کو بچھانے والا ہوں کون میرا شریک ہے؟ ۔
25 میں جھوٹوں کے نشانوں کو باطل کرتا اورفالگیروں کو دیوانہ بناتا ہوں اور حکمت والوں کو رد کرتا اور انکی حکمت کو حماقت ٹھہراتا ہوں۔
26 اپنے خادم کے کلام کو ثابت کرتا اور اپنے رسولوں کی مصلحت کو پورا کرتا ہوں جو یروشلیم کی بابت کہتا ہوں کی وہ آباد ہو جائیگا اور یہوداہ کے شہروں کی بابت کہ وہ تعمیر کیے جائینگے اور میں اس کے کھنڈروں کو تعمیر کرونگا۔
27 جو سمندر کو کہتا ہوں کہ سوکھ جا اور میں تیری ندیاں سکھا ڈالوں گا۔
28 جو خورس کے حق میں کہتا ہوں کہ وہ میرا چرواہا ہے اور میری مرضی بالکل پوری کرے گا اور یروشلیم کی بابت کہتا ہوں کہ وہ تعمیر کیا جائیگا اورہیکل کی بابت کی اسکی بنیاد ڈالی جائیگی۔


باب 45

1 خداوند اپنے ممسوح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اسکا دہنا ہاتھ پکڑ ا کہ امتوں کو اسکے سامنے زیر کروں اور بادشاہوں کی کمریں کھلوا ڈالوں اوردروازوں کو اسکے سامنے کھول دوں اور پھاٹک بند نہ کیے جائینگے۔
2 میں تیرے آگے آگے چلونگا اور ناہموار جگہ کو ہموار بنادونگا میں پیتل کے دروازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرونگا اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالونگا۔
3 اور میں ظلمات کے خزانے اور پوشیدہ مکانوں کے دفینے تجھے دونگا تاکہ تو جانے کہ میں خداوند اسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لیکر بلایا ہے۔
4 میں نے اپنے خادم یعقوب اور اپنے برگذیدہ اسرائیل کی خاطر تجھے نام لیکر بلایا میں نے تجھے ایک لقب بخشا۔ اگرچہ تو مجھ کو نہیں جانتا۔
5 میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں میرے سوا کوئی خدا نہیں۔ میں نے تیری کمر باندھی اگرچہ تو نے مجھے نہ پہچانا۔
6 تاکہ مشرق سے مغرب تک لوگ جان لیں کہ میرے سوا کوئی نہیں میں ہی خداوند ہوں میرے سوا کوئی دوسرا نہیں۔
7 میں ہی روشنی کا موجد اور تاریکی کا خالق ہوں۔ میں سلامتی کا بانی اور بلا کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی خداوند یہ سب کچھ کرنے والا ہوں۔
8 اے آسمان اوپر سے پٹک پڑ! ہاں بادل راستبازی برسائیں۔ زمین کھل جائے اورنجات اورصداقت کا پھل لائے۔ وہ انکو اکٹھے اگائے۔ میں خداوند اسکا پیدا کرنے والا ہوں۔
9 افسوس اس پر جو اپنے خالق سے جھگڑتا ہے! ٹھیکرا تو زمین کی ٹھیکروں میں سے ہے کیا مٹی کمہار سے کہے کہ تو کیا بناتا ہے؟ کیا تیری دستکاری کہے اسکے تو ہاتھ نہیں؟ ۔
10 اس پر افسوس جو باپ سے کہے کہ تو کس چیز کا والد ہے؟ اور ماں سے کہے کہ تو کس چیز کی والدہ ہے؟ ۔
11 خداوند اسرائیل کا قدوس اور خالق یوں فرماتا ہےکیا تم آنے والی چیزوں کی بابت مجھ سے پوچھو گے ؟ کیا تم میرے بیٹوں یا میری دستکاری کی بابت مجھے حکم دو گے ؟ ۔
12 میں نے زمین بنائی اس پر انسان کو پیدا کیا اورمیں ہی نے آسمان کو تانا اور اسکے سب لشکروں پر میں نے حکم کیا۔
13 رب الاافواج فرماتا ہے میں نے اسکو صداقت میں برپا کیا ہے اور میں اسکی تمام راہوں کو ہموار کرونگا وہ میرا شہر بنائیگا اور میرے اسیروں کو بغیر قیمت اور عوض لئے آزاد کر دیگا۔
14 خداوند یوں فرماتا ہے کہ مصرکی دولت اور کوش کی تجارت اور سبا کے قد آور لوگ تیرے پاس آئینگے اورتیرے ہونگے وہ تیری پیروی کرینگے وہ بیڑیاں پہنے ہوئے اپنا ملک چھوڑ کر آئینگے اور تیرے حضور سجدہ کرینگے۔ وہ تیری منت کرینگے اور کہینگے یقیناً خدا تجھ میں ہے اور کوئی دوسرا نہیں اور اسکے سوا کوئی خدا نہیں۔
15 اے اسرائیل کے خدا اے نجات دینے والے یقیناً تو پوشیدہ خدا ہے۔
16 بت خانے والے سب کے سب پشیمان اور سراسیمہ ہونگے ۔ وہ سب کے سب شرمندہ ہونگے۔
17 لیکن خداوند اسرائیل کو بچا کر ابدی نجات بخشے گا تم ابدالآباد تک کبھی پشیمان اور سراسیمہ نہ ہو گے۔
18 کیونکہ خداوند جس نے آسمان پیدا کیے وہی خدا ہے۔ اسی نے زمین بنائی اور تیار کی اسی نے اسے قائم کیا اس نے اسے عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اسکو آبادی کے لیے آراستہ کیا ۔ وہ یوں فرماتا ہے کہ میں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔
19 میں نے زمین کی کسی تاریک جگہ میں پوشیدگی میں تو کلام نہیں کیا۔ میں نے یعقوب کی نسل کو نہیں فرمایا کہ عبث میرے طالب ہو ۔ میں خداوند سچ کہتا ہوں اورراستی باتیں بیان فرماتا ہوں۔
20 تم جو قوموں میں سے بچ نکلے ہو جمع ہو کر آؤ۔ ملکر نزدیک ہو ۔ وہ جو اپنی لکڑی کی کھودی ہوئی مورت لیے پھرتے ہیں اور ایسے معبود سے دعا کرتے ہیں جو بچا نہیں سکتا دانش سے خالی ہیں۔
21 تم منادی کرو اور انکو نزدیک لاؤ ۔ ہاں وہ باہم مشورت کریں۔ کس نے قدیم سے ہی یہ ظاہر کیا؟ کس نے قدیم آیام میں اسکی خبر پہلے ہی سے دی؟ کیا میں خداوند نے ہی یہ نہیں کیا؟ سو میرے سوا کوئی خدا نہیں ۔ صادق القول اور نجات دینے والا خدا میرے سوا کوئی نہیں۔
22 اے انتہایِ زمین کے سب رہنے والو تم میری طرف متوجہ ہو اور نجات پاؤ کیونکہ میں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔
23 میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کلامِ صدق میرے منہ سے نکلا ہے اوریہ ٹلیگا نہیں کہ ہر ایک گھٹنا میرے حضور جھکے گا اور ہر ایک زبان میں میری قسم کھائیگی۔
24 میرے حق میں ہر ایک کہے گا کہ یقیناً خداوند ہی میں رستبازی اورتوانائی ہے ۔ اسی کے پاس وہ آئیگا اور سب جو اس سے بیزار تھے پشیمان ہونگے۔
25 اسرائیل کی کل نسل خداوند میں صادق ٹھہرے گی اور اس پر فکر کریگی۔


باب 46

1 بیل جھکتا ہے بنو خم ہوتا ہے انکے بت جانوروں اور چوپایوں پر لدے ہیں جو چیزیں تم اٹھائے پھرتےتھے تھکے ہوئے چوپایوں پر لدی ہیں ۔
2 وہ جھکتے اور باہم خم ہوتےہیں وہ اس بوجھ کو بچانہ سکے اور وہ آپ ہی اسیری میں چلے گئے ہیں۔
3 اے یعقوب کے گھرانے اور اے اسرائیل کے سب باقی ماندہ لوگو جنکو بطن ہی سے میں نے اٹھایا اور جنکو رحم ہی سے میں نے گود لیا میری سنو۔
4 میں تمہارے بڑھاپے تک وہی ہوں اورسر سفید ہونے تک تم کو اٹھائے پھرونگا۔ میں ہی نے خلق کیا اور میں ہی اٹھاتا رہونگا۔ میں ہی لے چلونگا اور میں ہی رہائی دونگا۔
5 تم مجھے کس سے تشبیہ دو گے اور مجھے کس کے برابر ٹھہراؤ گے اور مجھے کس کی مانند کہو گے تاکہ ہم مشابہ ہوں؟ ۔
6 جو تھیلی سے با افراط سونا نکالتے اور چاندی کو ترازو میں تولتے ہیں وہ سنار کو اجرت پر لگاتے ہیں اور وہ اس سے ایک بت بناتاہے پھر وہ اسکے سامنے جھکتےبلکہ سجدہ کرتے ہیں۔
7 وہ اسے کندھے پر اٹھاتےہیں وہ اسے لے جا کر اسکی جگہ پر نصب کرتے ہیں اوروہ کھڑا رہتا ہے ۔ وہ اپنی جگہ سے سرکتا نہیں بلکہ کوئی اسی پکارے تو نہ اسے جواب دے سکتا ہے اور نہ مصیبت سے چھڑا سکتا ہے۔
8 اے گنہگارو! اسے یاد رکھو اور مرد بنو۔ اس پر پھر سوچو۔
9 پہلی باتوں کو جو قدیم سے ہیں یاد کرو کہ میں خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں ۔ میں خدا ہوں اور کوئی مجھ سا نہیں۔
10 جو ابتدا سے ہی انجام کی خبر دیتاہوں اور ایّامِ قدیم سے وہ باتیں جو اب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری مصلحت قائم رہے گی اور میں اپنی مرضی بالکل پوری کرونگا ۔
11 جو مشرق سے عقاب کو یعنی اس شخص کو جو میرے ارادہ کو پورا کریگا دور کے ملک سے بلاتا ہوں میں ہی نے یہ کیا اور میںہی اسکو وقوع میں لاونگا۔ میں نے اس کا ارادہ کیا اور میں ہی اسے پورا کرونگا ۔
12 اے سخت دلو جو صداقت سےدور ہو میری سنو۔
13 میں اپنی صداقت کو نزدیک لاتا ہوں ۔ وہ دور نہیں ہو گی اور میری نجات تاخیر نہیں کریگی اور میں صیون کو نجات اوراسرائیل کو اپنا جلال بخشونگا۔


باب 47

1 اے کنواری دختر بابل تو بے تخت زمین پر بیٹھ کیونکہ اب تو نرم اندام اور نازنین نہ کہلائیگی۔
2 چکی لے اور آٹا پیس اپنا نقاب اتار اور دامن سمیٹ لے۔ ٹانگیں ننگی کر کے ندیوں کو عبور کر۔
3 تیرا بدن بے پردہ کیا جائیگا بلکہ تیرا ستر بھی دیکھا جائیگا۔ میں بدلہ لونگا اور کسی پر شفقت نہ کرونگا۔
4 ہمارا فدیہ دینے والے کا نام رب الافواج یعنی اسرائیل کا قدوس ہے ۔
5 اے کسدیوں کی بیٹی چپ ہو کر بیٹھ اور اندھیرے میں داخل ہو کیونکہ اب تو مملکتوں کی خاتون نہ کہلائیگی۔
6 میں اپنے لوگوں پر غضبناک ہوا ۔ میں نے اپنی میراث کو ناپاک کیا اور انکو تیرے ہاتھ میں سونپ دیا تو نے ان پر رحم کیا ۔ تو نے بوڑھوں پر بھی اپنا بھاری جوا رکھا ۔ اورتو نے کہا بھی کہ میں ابد تک خاتون بنی رہونگی۔ سو تو نے اپنے دل میں ان باتوں کا خیال نہ کیا اور انکے انجام کو نہ سوچا ۔
7
8 پس اب یہ بات سُن۔ اے تو عشرت میں غرق ہے جو بے پرواہ رہتی ہے۔ جو اپنے دل میں کہتی ہے کہ میں ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔ میں بیوہ کی طرح نہ بیٹھونگی اور نے بے اولاد ہونے کی حالت سے واقف ہونگی ۔
9 سو ناگہان ایک ہی دن میں یہ دو مصیبتیں تجھ پر آ پڑیں گی یعنی بے اولاد اور بیوہ ہو جائیگی ۔ تیرے جادو کی افراط اورتیرے سے سحر کی کثرت کےباوجود یہ مصیبتیں پورے طور سےتجھ پر آ پڑیں گی۔
10 کیونکہ تو نے اپنی شرارت پر بھروسہ کیا تو نے کہا مجھے کوئی نہیں دیکھتا تیری حکمت اور تیری دانش نے تجھ کو بہکایا اور تو نے اپنے دل میں کہا میں ہی ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں ۔
11 اس لیے تجھ پر مصیبت آ پڑیگی جسکا منتر تو نہیں جانتی اور ایسی بلا تجھ پر نازل ہو گی جسکو تو دور نہ کر سکیگی ۔ یکایک تباہی تجھ پر آئیگی جسکی تجھ کو کچھ خبر نہیں۔
12 اب اپنا جادو اور اپنا سارا سحر جسکی تو نے بچپن سے ہی مشق کر رکھی ہے استعمال کر۔ شاید تو ان سے نفع پائے ۔ شاید تو غالب آئے۔
13 اب افلاک پیما اور منجم اور وہ جو ماہ بماہ آیندہ حالات دریافت کرتے ہیں اٹھیں اور جو کچھ تجھ پر آنے والا ہے اس سے تجھ کو بچائیں۔
14 دیکھ وہ بھوسے کی مانند ہونگے آگ انکو جلائیگی ۔ وہ اپنے آپ کو شعلہ کی شدت سے بچا نہ سکینگے ۔ یہ آگ نہ تاپنے کے انگارے ہو گی نہ اس کے پاس بیٹھ سکیں گے۔
15 جنکے لئے تو نے محنت کی تیرے لئے ایسے ہی ہونگے جنکے ساتھ تو نے اپنی جوانی ہی سے تجارت کی ان میں سے ہر ایک اپنی راہ لےگا ۔ تجھ کو بچانے والا کوئی نہ رہیگا۔


باب 48

1 یہ بات سنو اے یعقوب کے گھرانے جو اسرائیل کے نام سے کہلاتے ہو اور یہوداہ کے چشمے سے نکلےہو جو خداوند کا نام لیکر قسم کھاتے ہو اوراسرائیل کے خدا کا اقرار کرتے ہو پرا مانت اورصداقت سے نہیں۔
2 کیونکہ وہ شہر قدس کے لوگ کہلاتے ہیں اوراسرائیل کے خدا پر توکل کرتے ہیں جسکا نام رب الافواج ہے ۔
3 میں نے قدیم سے ہونے والی باتوں کی خبر دی ہے ہاں وہ میرے منہ سے نکلیں۔ میں نے انکو ظاہر کیا میں نا گہان انکو عمل میں لایا اوروہ وقوع میں آئیں۔
4 چونکہ میں جانتا تھا کہ تو ضدی ہے اور تیری گردن کا پٹھا لوہے کا ہے اورتیری پیشانی پیتل کی ہے۔
5 اس لیے میں قدیم سے ہی یہ باتیں تجھے کہہ سنائیں اور انکے واقع ہونے سے پیشتر تجھ پر ظاہر کردیا تا نہ ہو کہ تو کہے کے میرے بت نے یہ کام کر دیا اور میرے کھودے ہوئے صنم نے اور میری ڈھالی ہوئی مورت نے یہ باتیں فرمائیں۔
6 تو نے یہ سنا ہے سو اس سب پر توجہ کر۔ کیا تم اسکا اقرار نہ کرو گے؟ اب میں تجھے نئی چیزیں اور پوشیدہ باتیں جن سے تو واقف نہ تھا دکھاتا ہوں ۔
7 وہ ابھی خلق کی گئی ہیں ۔ قدیم سے نہیں بلکہ آج سے پہلے تو نے انکو سنا بھی نہیں تھا تا نہ ہو کہ تو کہے دیکھ میں جانتا ہوں۔
8 ہاں تو نے نہ سنا نہ جانا ہاں قدیم ہی سے تیرے کان کھلے نہ تھے کیونکہ میں جانتا تھا کہ تو بالکل بے وفا ہے اور رَحِم ہی سے خطا کار کہلاتا ہے۔
9 میں اپنے نام کی خاطر اپنے غضب میں تاخیر کرونگا اور اپنے جلال کی خاطر تجھ سے باز رہونگا کہ تجھے کاٹ نہ ڈالوں۔
10 دیکھ میں نے تجھے صاف کیا لیکن چاندی کی مانند نہیں میں نے مصیبت کی کٹھالی میں تجھے صاف کیا۔
11 میں اپنی خاطر ہاں اپنی ہی خاطر یہ کیا ہے کیونکہ میرے نام کی تکفیر کیوں ہو؟ میں تو اپنی شوکت دوسرے کو نہیں دینے کا۔
12 اے یعقوب میری سن! اور اسے اسرائیل جو میرا بلایا ہوا ہے ! میں وہی ہوں میں ہی اول اور میں ہی آخر ہوں۔
13 یقیناً میرے ہی ہاتھ نے زمین کی بنیاد ڈالی اور میرے دہنے ہاتھ نے آسمان کو پھیلایا۔ میں انکو پکارتا ہوں اور وہ حاضر ہو جاتے ہیں۔
14 تم سب جمع ہو کر سنو ان میں سے کس نے ان باتوں کی خبر دی ہے ؟ وہ جسے خداوند نے پسند کیا ہے اسکی خوشی کو بابل کے متعلق عمل میں لائیگا اور اسی کا ہاتھ کسدیوں کی مخالفت میں ہو گا۔
15 میں نے ہاں میں ہی نے یہ کیا میں ہی نے اسے بلایا میں اسے لایا ہوں اور وہ اپنی روش میں برومند ہو گا ۔
16 میرے نزدیک آؤ اور یہ سنو میں نے شروع ہی سے پوشیدگی میں کلام نہیں کیا جس وقت سے کہ وہ تھا میں وہیں تھا اور اب خداوند خدا نے اور اسکی روح نے مجھے بھیجا ہے۔
17 خداوند تیرا فدیہ دینے والا اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ میں ہی خداوند تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں اور تجھے اس راہ میں جس میں تجھے جانا ہے لے چلتا ہوں۔
18 کاش کہ تو میرے احکام کا شنوا ہوتا اورتیری سلامتی نہر کی مانند اورتیری صداقت سمندر کی موجوں کی مانند ہوتی۔
19 تیری نسل ریت کی مانند ہوتی اور تیرے صلبی فرزند اسکے ذروں کی مانند بکثرت ہوتے اور اسکا نام میرے حضور سے کاٹا یا مٹایا نہ جاتا۔
20 تم بابل سے نکلو کسدیوں کے درمیان سے بھاگو ۔ نغمہ کی آواز سے بیان کرو اسے مشہور کرو۔ ہاں اس کی خبر زمین کے کناروں تک پہنچاؤ۔ کہتے جاؤ کہ خداوند نے اپنے خادم یعقوب کا فدیہ دیا۔
21 اور جب وہ انکو بیابان میں سے لے گیا تو وہ پیاسے نہ ہوئے۔ اس نے انکے لیے چٹان سے پانی نکالا۔ اس نے چٹان کو چیرا اور پانی پھوٹ نکلا۔
22 خداوند فرماتا ہے کہ شریروں کے لیے سلامتی نہیں۔


باب 49

1 اے جزیرو میری سنو ! اے امتو جو دور ہو کان لگاؤخداوند نے مجھے رَحِم سے ہی بلایا ۔ بطن مادر سے ہی اس نے میرے نام کا ذکر کیا ۔
2 اس نے میرے منہ کو تیز تلوار کی مانند بنایا اور مجھ کو اپنے ہاتھ کے سایہ تلے چھپایا اس نے مجھے تیر آبدار کیا اور اپنے ترکش میں مجھے چھپا رکھا۔
3 اس نے مجھ سے کہا تو میرا خادم ہے تجھ میں اے اسرائیل میں اپنا جلال ظاہر کرونگا ۔
4 تب میں نے کہا میں نے بے فائدہ مشقت اٹھائی۔ میں نے اپنی قوت بے فائدہ بطالت میں صرف کی تو بھی یقیناً میرا حق خداوند کےساتھ اور میرا اجر خدا کے پاس ہے۔
5 چونکہ میں خدا کی نظر میں جلیل القدر ہوں اور وہ میری توانائی ہے اس لیے وہ جس نے مجھے رَحِم سے ہی بنایا تاکہ اسکا خادم ہو کر یعقوب کو اسکے پاس واپس لاؤں اوراسرائیل کو اس کے پاس جمع کروں یوں فرماتا ہے۔
6 س ہاں خداوند فرماتا ہے کہ یہ تو ہلکی سی بات ہے کہ تو یعقوب کے قبائل کو برپا کرنے اور محفوظ اسرائیلیوں کو واپس لانے کے لیے میرا خادم ہو بلکہ میں تجھ کو قوموں کے لیے نور بناونگا کہ تجھ سے میری نجات زمین کے کناروں تک پہنچے۔
7 خداونداسرائیل کا فدیہ دینے والا اور اسکا قدوس اسکو جسے انسان حقیر جانتا ہے اور جس سے قوم کو نفرت ہے اور جو حاکموں کا چاکر ہے یو ں فرماتا ہے کہ بادشاہ دیکھنگے اور اٹھ کھڑے ہونگے اور امرا سجدہ کرینگے ۔ خداوند کے لیے جو صادق القول اوراسرائیل کا قدوس ہے جس نے تجھے برگذیدہ کیا ہے۔
8 خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں نے قبولیت کے وقت تیری سنی اور نجات کے دن تیری مدد کی اور میں تیری حفاظت کرونگا اور لوگوں کےلیے تجھے ایک عہد ٹھہراونگا تاکہ ملک کو بحال کرے اورویران میراث وارثوں کو دے۔
9 تاکہ تو قیدیوں کو کہے کہ نکل چلو اور انکو جو اندھیرے میں ہیں کہ اپنے آپ وک دکھلاؤ۔ وہ راستوں میں چرینگے اور سب ننگے ٹیلے انکی چراگاہیں ہونگے۔
10 وہ نہ بھوکے ہونگے اور نہ پیاسے اور نہ گرمی اوردھوپ سے انکو ضرر پہنچے گا کیونکہ وہ جسکی رحمت ان پر ہے انکا کا رہنما ہو گا اور پانی کے سوتوں کی طرف انکی راہبری کریگا۔
11 اور میں اپنے سارے کوہستان کو ایک راستہ بنادونگا اور میری شاہرائیں اونچی کی جائیں گی۔
12 دیکھ یہ دور سے اور یہ شمال اوتر مگرب سے اور یہ سیسنیم کے ملک سے آئینگے۔
13 اے آسمانو گاؤ! اے زمین شادمان ہو اے پہاڑو نغمہ پردازی کرو! کیونکہ خداوند نے اپنے لوگوں کو تسلی بخشی ہے اور اپنے رنجوروں پر رحم فرمائیگا۔
14 لیکن صیون کہتی ہے یہوواہ نے مجھے ترک کیا ہے اور خداوند مجھے بھول گیا ہے۔
15 کیا ممکن ہے کہ کوئی ماں اپنے شیر خوار بچے کو بھول جائے اوراپنے رحم کے فرزند پر ترس نہ کھائے؟ ہاں وہ شاید بھول جائے پر میں تجھے نہ بھولونگا۔
16 دیکھ میں نے تیری صورت اپنی ہتھیلیوں پر کھود رکھی ہے اور تیری شہر پناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔
17 تیرے فرزند جلدی کرتے ہیں اور وہ جو تجھے برباد کرنے اور اجاڑنے والے تھے تجھ سے نکل جائینگے۔
18 اپنی آنکھیں اٹھا کر چاروں طرف نظر کر یہ سب کے سب ملکر اکٹھے ہوتے ہیں اورتیرے پاس آتے ہیں۔ خداوند فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم کہ تو یقیناً ان سب کو زیور کی مانند پہن لے گی اور ان سے دلہن کی مانند آراستہ ہو گی۔
19 کیونکہ تیری ویران اور اجڑی جگہوں میں اور تیرے برباد ملک میں اب یقیناً بسنے والے گنجایش سے زیادہ ہونگے اورتجھ کو غارت کرنے والے دورہو جائینگے۔
20 بلکہ وہ تیرے بیٹے جو تجھ سے لے لئے گئے تھے تیرے کانوں میں پھر کہینگے کہ بسنے کی جگہ بہت تنگ ہے ہمکو بسنے کی جگہ دے۔
21 تب تو اپنے دل میں کہیگی کون میرے لیے انکا باپ ہوا؟ کہ میں تو لاولد ہو گئی اور اکیلی تھی۔ میں تو جلا وطنی اور آوارگی میں رہی سو کس نے انکو پالا؟ دیکھ میں تو اکیلی رہ گئی تھی پھر یہ کہاں تھے؟ ۔
22 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں قوموں پر ہاتھ اٹھاونگا اور امتوں پر اپنا جھنڈا کھرا کرونگا اوروہ تیرے بیٹوں کو اپنی گود میں لے آئینگے اورتیری بیٹیوں کو اپنے کندھوں پر بِٹھا کر پہنچائینگے۔
23 اوربادشاہ تیرے مربی ہونگے اور انکی بیویاں تیری دایہ ہونگی ۔ وہ تیرے سامنے منہ کےبل زمین پر گرینگے اورتیرے پاؤں کی خاک چاٹینگے اورتو ہی جانیگی کہ میں ہی خداوند ہوں جسکے منتظر شرمندہ نہ ہونگے۔
24 کیا زبردست سے شکارچھین لیا جائیگا؟ اورکیا راستباز کےقیدی چھڑا لیے جائینگے؟ ۔
25 خداوند یوں فرماتا ہے کہ زور آور کے اسیر بھی لےلئے جائینگے اور مہیب کا شکارچھڑا لیا جائیگا کیونکہ میں اس سے جو تیرے ساتھ جھگڑا کرتا ہے جھگڑونگا اورتیرے فرزندوں کو بچا لونگا۔
26 اورمیں تم پر ظلم کرنے والوں کو ان کا ہی گوشت کھلاونگا اور وہ میٹھی مے کی مانند اپنا ہی لہو پی کر بدمست ہو جائینگے اور ہر فرد بشر جانیگا کہ کہ میں خداوند تیرا نجات دینے والا اور یعقوب کا قادر تیرا فدیہ دینے والا ہوں۔



باب 50

1 (۱)خُداوندیُوں فرماتاہےکہ تیری ماں کاطلاق نامہ جسے لکھ کر میں نے اُسے چھوڑ دیاکہاں ہے؟ یا اپنے بیچ؟قرض خواہوں میں سے کس کے ہاتھ میں نےتم کو بیچا؟ دیکھو تم اپنی شرارتوں سبب سے بک گےاور تمھاری خطاؤں کے سبب ماں کو طلاق دی گی
2 پس کس لیےمیں جب میں لیےجب میں آیا تو کوئی آدمی نہ تھا؟اوراسلیے جب میں نے پکاراتو کوئی جواب دنیےوالانہ ہوا؟کیا میرا ہاتھ ایساکوتاہ ہوگیاہے کہ چُھرانہیں سکتا؟اور کیا مجھ نجات دینے کی قدرت نہیں؟دیکھومیں اپنی ایک دھمکی سے سمندر کو سکھا دیتاہوں اور نہروں کو صحرا ڈالتا ہوں۔اُن میں کی مچھلیاں پانی کے نہ ہونے سے بدبُوہو جاتی ہیں اور پیاس سے مر جاتی ہیں۔
3 میں آٓسمان کو سیاہ پوش کرتا ہوں اور اُس کو ٹاٹ اوڑھاتا ہوا۔
4 خُدا وند خُدانے مجھ کو شاگرد کی زبان بخشی تاکہ میں جانوں کہ کلام کے وسیلہ سے کس طرح تھکے ماندےکی مددکروں۔وہ مجھے ہر صبح جگاتا ہے اور میرا کان میں لگاتا ہے۔تاکہ شاگردوں کی طرح سُنوں
5 خُدا وند خُدانے میرےکان کھول دئے اور میں باغی وبرگشتہ نہ ہوا۔
6 میں نے اپنی داڑھی نوچنے والوں کے حوالہ کی۔میں نے اپنا منہ رسوائی اور تھوک سے نہیں چُھپایا
7 پر خُدا وند خُدا میری حمایت کرے گااور اس لئے میں شرمندہ نہ ہوں گا اور اسی لئے میں نے اپنا منہ سنگ خاراکی مانند بنایا اور مجھے یقین ہے کہ میں شرمسار نہ ہوں گا،
8 اور مجھے راست باز ٹھہرنے والا نزدیک ہے۔کون مجھ سے جھگڑا کرے گا؟آو ہم آمنے سامنے کھڑے ہوں،میرا مخالف کون ہے؟وہ میرے پاس آئے
9 دیکھو خُدا وند خُدا میری حمایت کرے گا۔کون مجھے مجرم ٹھہراے گا؟دیکھووہ سب کپڑے کی مانند پُرانے ہو جائیں گے۔اُن کو کیڑا کھا جائیں گے۔
10 تمہارے درمیان کون ہے جو خداوندخداسے ڈرتا اور اُس کے خادم کی با تیں سنتا ہے؟جو اندھیرے میں چلتا اور روشنی نہیں پاتا۔ خداوندخد کے نام پر توکل کرےاور اپنے خدا پر بھروسہ رکھے۔
11 دیکھو تم سب جوآگ میں سُلگاتے ہواپنی ہی آگ کے شعلوں میں اور اپنے سلگاے ہوئے انگاروںمیں چلو۔تم میرے ہاتھ سے یہی پاؤ گے۔تم عذاب میں لیٹ رہو گے۔


باب 51

1 اے لوگو جو صداقت کی پیروی کرتے ہو اورخداوندکے جو یان ہو میری سنو اس چٹان پر جس میں تم کاٹے گئے ہواور اُس گڑھے کے سوراخ پر جہاں سے تُم کھودے گئے ہو نظر کرو ۔
2 اپنے باپ ابرہام پر اور سارا پر جس سے تُم پیداہوئے نگاہ کرو کہ جب میں اُسے بلایا وہ اکیلا تھا۔پر میں اُ س کو برکت دی اور اُس کو کژت بخشی۔
3 یقینا خُداوند صیون کو تسلی دے گا۔وہ اُس کے تمام ویرانوں کی دل داری کرے گا۔وہ اُس کا بیابان عدن کی مانند اور اُس کا صحرا خُداوندکے باغ کی مانند بنائے گا۔خوشی اور شادمانی اُس میں پائی جائے گی۔شکر گزاری اور گانے کی اواز اُس میان ہو گی۔
4 میری طرف متوجہ ہوٓاے میرے لوگو!میری طرف کان لگاآے میری اُمت! کیونکہ شریعت مجھ سے صادر ہو گی اور میں اپنے عدل کو لوگوں کی روشنی کے لئے قائم کروں گا۔
5 میری صداقت نزدیک ہے۔میری نجات ظاہر ہےاور میرےبازو لوگوں پر حکمرانی کریں گے۔جزیرے میرا انتظار کریں گےاور میرے بازو پر اُن کا توکل ہو گا۔
6 اپنی آ نکھیں آٓسمان کی طرف اُٹھاؤ اور نیچے زمین پر نگاہ کرو۔کیونکہ آ سمان دُھوئیں کی مانند غائب ہو جائیں گے اور زمین کپڑے کی طرح پرانی ہو جائے گی اور اُس کے باشندے مچھروں کی طرح مر جائیں گے لیکن میری نجات اند تک رہے گی اور میری صداقت موقوف نہ ہو گی۔
7 آے صداقت شناسو! میری سُنو ۔آےلوگوجن کے دل میں میری شریعت ہے!انسان کی ملا مت سے نہ ڈرواور اُن کے طعنہ زنی سے ہرساں نہ ہو
8 کیونکہ کیڑا اُن کو کپڑے کی مانند کھائے گااور کرم اُن کو پشمینہ کی طرح کھا جائے گا۔ لیکن میری صداقت ابد تک رہے گی اور میری نجات پُشت در پُشت۔
9 جاگ جاگ آے خُداوند کے بازو۔توانائی سے ملُبس ہو!جاگ جیسا قدیم زمانہ میں اور گزشتہ پُشتوں میں۔کیا تو وہی خواب نہیں جس نے رہب کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اژدہا کو چھیدا؟۔
10 کیا تُو وہ ہی نہیں جس نے سمندر یعنی بحرعمیق کے پانی کو سُکھا ڈالا۔جس نے بحری کی تہ کو راستہ بنا ڈالا تا کہ جس کا فدیہ دیا گیااُسے عبور کریں؟۔
11 سو وہ جن کوخداوندنے مخلصی بخشی لوٹیں گے اور گاتے ہوئے صیون میں ٓائیں گےاور ابدی سُرور اُن کے سروں پر ہو گا۔وہ خوشی اور شادمانی حاصل کریں گے اور غم واندوہ کا فور ہوجائیں گے۔
12 تم کو تسلی دینے والا میں ہی ہوں۔تو کون ہے جو فانی انسان سے آرام زادے سے جو گھاس کی مانند ہو جائے گا ڈرتا ہے۔
13 اور خُداوند اپنے خالق کو بھول گیا جس نے آاسمان کو تانا اور زمین کی بنیاد ڈالی اور ھر وقت ظالم کےجوش خروش سے کہ وہ ہلاک کرنے کو تیارہےڈرتا ہے؟پر ظالم کا جوش خروش کہاں ہے؟۔
14 جلاوطن اسیر جلدی آزاد کیا جائے گا۔وہ غار میں نہ مرے گا اور اُس کی روٹی کمی نہ ہوگی۔
15 کیونکہ میں ہی تیرا خُداہوں جو مو جزن سمندر کو تھما دیتاہوں۔میرا نام رب الافواج ہے
16 اور میں نے اپنا کلام تیرےمنہ میں ڈالا اور تجھے اپنے ہاتھ کے سایہ تلے چھپارکھا تاکہ افلاک کو بر پا کروں اور زمین کی بنیاد ڈالوں اور اہل صیون سے کہوں کہ تم میرے لوگ ہو۔
17 جاگ جاگ اُٹھ اے یروشلیم!تو نے خدا کے ہاتھ سے اُس کے غضب کا پیالہ پیا۔تو نے ڈگمگانے کا جام تلچھٹ سیمت پی لیا۔
18 اُن سب بیٹوں میں جو اُس سےپیدا ہوئے کوئی نہیں جواُس کا رہنماہواور اُن سب بیٹوں میں کو اُس نے پالاایک بھی نہیں جو اُس کا ہاتھ پکڑے
19 یہ دو حادثے تجھ پر آ پڑے۔کون تیرا غم خوار ہو گا؟ویرانیاور ہلاکت۔کال اور تلوار۔میں کیونکر تجھے تسلی دوں؟۔
20 تیرے بیٹے ہرکُوچے کے مدخل میں ایسے بے ہوش پڑے جیسےہرندام میں۔وہ خُداوندکے غضب اور تیرےخُدا کی دھمکی سے بے خود ہیں
21 پس اب تو بد حالاور مست ہےپر مے سے نہیں یہ بات سن۔
22 تیرا خُداوندیہوواہ ہاں تیراخُدا جو اپنے لوگوں کی وکالت کرتا ہے۔یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں ڈگمگانے کا پیالہ اور اپنے قہر کا جام تیرے ہاتھ سے لے لوں گا۔تو اُسے پھر کبھی نہ پئےگی۔
23 اور میں اُسے اُن کے ہاتھ میں دونگا جو تجھے دُکھ دتیےاورجو تجھ سے کہتےتھےکہ ہم تیرےاُپرسے گزریں اور تُونے اپنی پیٹھ کو زمین بلکہ گزرنے والوں کے لئے سڑک بنا دیا۔


باب 52

1 جاگ جاگ اے صیون اپنی شوکت سے ملبُس ہو! اےیروشلیم مقدس چہر اپنا خوش نما لباس پہن لے!کیونکہ آگے کوئی نا مختون یا نا پاک تجھ میں کبھی داخل نہ ہو گا۔
2 اپنے اوپر سے گرد جھاڑ دے،اُ ٹھ بیٹھاے یروشلیم!اےا سیردخترصیون!اپنی گردن کے بندھنوں کو کھول ڈال۔(۳)کیونکہ خُداوندفرماتا ہےکہ تم مفت بیچے گئے اور تم بے زر ہی آزاد کئےجاؤگے۔
3
4 خُداوند یوں فرماتاہے کہ میرے لوگ ابتدا میں مصرکو گئےکہ وہاں مسافر ہو رہیں۔اسوریوں نے بھی بے سبب اُن پر ظلم کیا۔
5 پس خُداوندیوں فرماتاہےکہ اب میرا یہاں کیا کام حالانکہ میرے لوگ مفت اسیری میں گئےہیں؟وہ جواُن کےپرمسلط ہیں للکارتےہیں خُداوندفرماتاہے اور ہرروزمتواترمیرے نام کی تکفیر کی جاتی ہے۔یقینا میرے لوگ میرا نام جانیں گے اوراُس روز سمجھیں گے کہ کہنے والا میں ہی ہوں۔دیکھو میں حاضر ہوں۔
6
7 اُس کے پائوں پہاڑوں پر کیا ہی خوش نماہیں جو خوش خبری لاتا ہے اور سلامتی کی دعا کرتا ہےاور خیریت کی خبر اور نجات کا اشتہار دیتا ہے۔جو صیون سے کہتا ہےتیرا خدا سلطنت کرتاہے۔
8 اپنے نگہبانوں کی آاوازسن۔وہ اپنی آواز بلند کرتے ہے۔وہ آواز ملاکرگاتے ہیں کیونکہ جب خُداوند صیون کو واپس آگاتووہ اُسے روبرو دیکھیں گے۔
9 اے یرشلیم کےویرانو!خوشی سے للکارو۔مل کر۔نغمہ سرائی کرو کیونکہ خُداوند ے اپنی قوم کو دلاسا دیاُاس نے ہروشلیم کا فدیہ دیا۔
10 خُداوندنے پاک بازوتمام قوموں کی آنکھوں کے سامنے ننگا کیاہےاور سر زمین سراسرہمارے خداکی نجات کو دیکھےگی۔
11 اے خداوند کےظروف اٹھانے والو!روانہ ہو روانہ ہو۔وہاں چھلے جائو۔ نا پاک چیزوں ہاتھ نہ لگائو۔اس کے درمیان سے نکل جائو اور پاک ہو جائو۔
12 کیونکہ تم نہ تو جلدنہ نکل جائو گے اور بھاگنے والے کی طرح چلو گے۔کیو نکہ خُداوندتمہاراہراول اسرایئل کا خدا تمہاراچنڈ اول ہو گا۔
13 دیکھومیرا خادم اقبال مند ہوگا۔وہ اعلٰی بر تر اور نہایت بلند ہو گا۔
14 جس طرح بہتیرےتجھ کوتجھ کو دیکھ کردنگ ہو گے(اس کے چہرہ ہرایک بیشر سے زائد اور اس کا جسم بنی آدم سے زیادہ بگڑگیاتھا)
15 اسی طرح وہ بہت سی قوموں کو پاک کرے گا۔اور بادشاہ اس کے سامنے خاموش ہوں گے۔کیونکہ جو کچھ ان سے کہا نہ گیا تھا وہ سمجھیں گے۔اورجو کچھ انہوں نے سنا نا تھا وہ سمجھیں گے۔


باب 53

1 ہمارےپیغام پرکون ایمان لایا؟اور خُداوندکا بازوکس پرظاہرہوا؟
2 پر اس کے آگے کونپل کی طرح اور خشک زمین سے جڑکی مانندپھوٹ نکلاہے۔نہ اُس کی شکل و صورت ہے نہ خوب صورت اور جب ہم اُ پر نگاہ کریں تو کچھ حسن وجمال نہیں کہ ہم اُس کے مشتاق ہوں۔
3 وہ آدمیوں میں حقیرو مردود ۔ لوگ اُس سے گویا روپوش تھے۔اُس کی تحقیر کی گئی اور ہم نے اس کی کچھ قدر نہ جانی
4 تو بھی اس نے ہماری مشقتیں اٹھا لیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔پر ہم نے اسے خدا کا مارا کوٹا اور ستایاہوا سمجھا۔
5 حالانکہ وہ ہماری خطائوں کے سبب سے گھایل کیا گیا اور ہماری ہی سلامتی کے لئے اس پر سیاست ہوئی تاکہ اس کے مارکھانے سے ہم شفا پائیں۔
6 ہم سبب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئےہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خداوندنے ہم کی بد کرداری اُس پر لا دی۔
7 وہ ستایا گیا تو بھی اُس برداشت کی اور منہ نہ کھولا۔جس طرح برہ جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہے۔اُسی طرح خاموش رہا۔
8 وہ ظلم کر کے اور فتوی لگا کراُسے لے گئےپر اُس کے زمانہ کے لوگوںمیں سےکس نے خیال کیا کہ وہ زندوں کی زمین سے کاٹ ڈا لا گیا؟میرے لوگوں کے سبب اُس پر مارپڑی۔
9 اس کی بر شریروں کے درمیان ٹھہرائی گئی اور وہ اپنی موت میں دولت مندوں کے ساتھ موا حا لانکہ اس نے کسی طرح کا ظلم نہ کیا اوراس کے منہ میں ہرگزچھل نہ تھا۔
10 لیکن خُداوند کو پسندآیا کہ اسے کچلے۔اس نے اسے غمگین کیا۔جب اس کی گناہ کے سبب گزرانی جائے گی تو وہ اپنی نسل کو دیکھے گا۔اس کی عمردراز ہو گی اور خُداوند کی مرضی اس کے ہاتھ کے وسیلہ سے پوری ہو گی۔
11 اپنی جان ہی کا دکھ اٹھا کر وہ اسے وہ دیکھے گا اور سیر ہو گا۔اپنے ہی عرفان سےمیراصادق خادم بہتوں کو راست باز ٹھہراے گاکیونکہ وہ ان کی بدکرداری خود اٹھالے گا۔
12 اس لئے میں اسے بزرگوں کے ساتھ حصہ دوں گا اور وہ لوٹ کا مال زور اوروں کے ساتھ بانٹ لے گا کیونکہ اس نے اپنی جان کے لئے ا نڈیل دی اور وہ خطاکاروں کے ساتھ شمار کیا گیا تو بھی اس نے بہتوں کے گناہ اٹھا لئے اور خطا کاروں کی شفاعت کی۔


باب 54

1 اےبانجھ توبےاولاد تھی نغمہ سرائی!تو جس نے ولادت کا برداشت نہیں کیا خوشی سے گا اور زور سے چلا کیونکہ خُداوند فرماتا ہے کہ بے کس چھوڑی ہوئی کی اولاد سے زیادہ ہے۔
2 اپنی خیمہ گاہ کو وسیع کر دے ہاں اپنے مسکنوں کےپردے پھیلا۔ دریغ نہ کر۔اپنی ڈوریاں لمبی اور اپنی میخیں مضبوط کر۔
3 اس لئے کہ تو دہنی اور بائیں طرف بڑھے گی اور تیری نسل قوموں کی وارث ہو گی۔اور ویران شہروں کو بسائے گی۔
4 خوف نہ کر کیانکہ تو پھر پشیمان نا ہوگی۔تونہ گبھرا کیونکہ تو پھر رسوا نہ ہوگی اور اپنی جوانی کا ننگ بھول جائے گی ارو اپنی بیوگی کی عار کو پھر یاد نہ کرے گی۔
5 کیونکہ تیرا خالق تیرا شوہر ہے۔اس کا نام رب الافواج ہے۔اور تیرا فدیہ دینے والا اسرائیل کا قدوس ہے۔وہ تمام روی زمین کا خدا کہلائے گا
6 کیونکہ تیرا خدا فرماتا ہے کہ خُداوند نے تجھ کو متروکہ اور آزردہ بیوی کی طرح ہاں جوانی کی مطلوقہ بیوی کی منند پھر بلایا۔
7 میں نے ایک دم کے لئے تجھے چھوڑ دیا لیکن رحمت کی فراوانی سے تجھے لے لوں گا۔
8 خُداوند تیرا نجات دینے والا فرماتا ہے کہ قہر کی شدت میں میں نے ایک دم کے لئے تجھ سے منہ چھپایاپر اب میں ابدی سفقت سے تجھ پر رحم کروں گا۔
9 کیونکہ میرے لئے یہ طوفان نوح کا سامعاملہ ہے کہ جس طرحمیں قسم کھائی تھی کہ پھر ز مین پر نوح کا سا طوفان کبھی نہیں آئے گا اُسی طرح اب میں قسم کھائی ہے کہ میں تجھ سے پھر کھبی آزردہ ہی ہوں گا تجھ کو گُھڑکُوں گا۔
10 خُداوند تجھ پر رحم کرنے والا ہوں فرماتا ہے کہ پہاڑ تو جاتے رہیں اور ٹیلے ٹل جائیں لیکن میری سفقت کھبی تجھ پر سے جاتی نہ رہے گی اور میرا صلح کا عہد نہ ٹلے گا۔
11 اے مصیبت زدہ اور طوفان کی ماری اور تسلی سے محروم دیکھ میں تیرے پتھروں کو سیاہ ریختہ میں لگائوں گا۔اور تیری بنیاد نیلم سے ڈالوں گا
12 میں تیرے کنگروں کو لعلوں اور تیرے پھاٹکوں کو شب چراغ اورتیری ساری فصیل بیش قیمت پتھروں سے بناؤں گا ۔
13 اور تیرے سب فرزند خُداوندسے تعلم پائیں گے اور تیرےفرزندوں کی سلامتی کا مل ہو گئ۔
14 تو راست بازی سے پاک ہو جائے گا۔تو ظلم سے دور رہے گئ کیونکہ تُو بےخوف ہوگئ اور دہشت سے دور رہے گئ کیونکہ وہ تیرے قریب نہ آے گئ
15 ممکن ہے کہ وہ اکھٹے ہوں پر میرے حکم سے نہیں۔جو تیرے خلاف جمع ہوں گےوہ تیرے ہی سبب سے گریں گے۔
16 دیکھ میں نے لہار کو پیدا کیا جو کوئلوں کی اگ دھانکتا اور اپنے کام کے لئےہتھیار نکالتا ہےاور غارت گر کو میں ہی نے پیدا کیا کہ لوٹ مار کرے۔
17 کوئی ہتھیار جو تیرے خلاف بنایا جائے کام نہ آئے گا اور جو زبان عدالت میں تجھ پرچلے گی تو اسے مجرم ٹھہرائے گئ۔ خُداوندفرماتا ہے یہ میرے بندوں کی میرث ہےاور ان کی راست بازی مجھ سے ہے۔


باب 55

1 اے سب پیاسوں پانی کے پاس آؤ اور وہ بھی جس کے پاس پیسہ نہ ہو۔آؤ مول لو اور کھاؤ۔ہاں آؤ اور دودھ بے زر اور بے قیمت خریدو۔
2 تم کس لئے اپنا روپیہ ٓس چیز کے لئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی خرچ کرے ہو؟تم غور سے میری سنو اور وہ چیز جو اچھی ہےکھائو اور تمہاری جان فربہی سے لزت اٹھائے۔
3 کان لگائو اور میرے پاس ائو سُنواور تمہاری جان زندہرہے گی اور مین تم کو ابد عہد یعنی داود کی سچی نعمتیں بخشوں گا۔
4 دیکھو میں نےاُسےامتوں ک لئے گواہ کیا بلکہ امتوں کا پشیوا اور فرما روا۔
5 دیکھ تو ایک ایسی قوم کوجسے تو نہیں جانتا بلائے گااور ایک ایسی قوم جو نہیں جانتی تھی۔ خُداوند تیرے خدا اور اسرایئل کے قدوس کی خاطر تیرے پاس دوڑی آئے گی کیونکہ اُس نے تجھے جلال بخشا ہے۔
6 جب تک خُداوندمل سکتا ہے اس کے طلب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اس پکارو۔
7 شریر اپنی راہ کو ترک کرےاور بد کرداراپنے خیالوں کو اور وہ خُداوندکی طرف پھرے اور وہ اس پر رحم کرے گا اور ہمارےخدا کی طرف کیونکر وہ کثرت سے معاف کرے گا۔
8 خُداوند فرماتا ہے کہ میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔
9 کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اُسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرےخیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں۔
10 کیونکہ جس طرح آسمان سے بارش ہوتی اور برف پڑتی ہے اور پھر وہ وہاں واپس نہیں جاتی بلکہ زمین کو سیراب کرتی ہے۔اور اُس کی شادابی اور روئیدگی کا باعث ہوتی ہے تاکہ بونے والے بیج اور کھانے والے کو روٹی دے
11 اسی طرح میرا کلام جو میرے منہ سے نکلتا ہے ہو گا۔وہ انجام میرے پاس واپس نہ آئے گابلکہ جو کچھ میری خواہش ہو گی وہ اسےپورا کرے گا اور اس کام میں جس کس کے لئے میں نے اسے بیجھا موثر ہو گا۔
12 کیونکہ تم خوشی سے نکلوگے اور سلامتی کے ساتھ روانہ کیے جائو گے۔پہاڑ اور ٹیلے تمہارے سامنے نغمہ پرداز ہوں گے اور میدان کے سب درخت کاٹ دیں گے۔
13 کانٹوں کی جگہ صنوبر نکلے گا اور جھاڑی کے بدلے اس کادرخت ہوگا اور یہ خُداوندکے لئے نام اور ابدی ا نسان ہو گا جو کبھی منقطع نہ ہو گا۔


باب 56

1 خُداوندیوں فرماتا ہےکہ عدل کو قائم رکھواور صداقت کو عمل میں لاؤکیونکہ میری نجات نزدیک ہےاور میری صداقت ظایر ہونے والی ہے
2 مبارک ہے وہ انسان جو اس پر عمل کرتا ہےاور وہ آدم زادجو اس پر قائم رہتا ہےجوسبت کو ماننا اور اُسے نا پاک نہیں کرتا اور اپنا ہاتھ ہر طرح کی بدی سے باز رکھتا ہے
3 اور بےگانہ کافرزند جو خُداوند سے مل گیا ہرگزنہ کہے خُداوندمجھ پرکو اپنے لوگوں سے جدا کردےگااور خوجہ نہ کہے کہ دیکھو میں تو سوکھا درخت ہوں
4 کیونکہ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ خوجے جو میرے سبتوں کا مانتے ہیں اور اُن کاموں کو جو مجھے پسند ہیں اختیار کرتے ہیںاور میرے عہد پر قائم رہتے ہیں
5 میں اُن کو اپنے گھر میں اور اپنی چاردیواری کے اندر ایسا نام و نشان بخشوں گا جو بیٹوں سے بھی بڑھ کر ہو گا۔میں ہر ایک کو ایک ابدی نام دوں گا جو مٹایا نہ جائے گا۔
6 اور بے گانہ کی اولاد بھی جنہوں نے اپنے آپ ک خُداوند سے پیوستہ کیا ہے کہ اُس کی خدمت کریں اور خُداوند کے نام کو عزیز رکیھں اور اُس کے بندے ہوں۔وہ سب جو سبت کو حفظ کر کے اسُے نا پاک نہ کریں اور میرے عہد پر قائم رہیں
7 میں اُن کو بھی اپنے کوہ مُقدس پر لائوں گا اور اپنی عبادت گاہ میں اُن کو شادمان کروں گا اور ان کی سوختنی قربا نیاں اور ان کے ذبیحے میرے مز بح پر مقبول ہوں گےکیونکہ میرا گھر سب کی عبادت گاہ کہلائے گا۔
8 خُداوند خدا جواسرئٍیل کے پراگندہ لوگوں کو جمع کرنے و الا ہےوہ یوں فرماتا ہے کہ میں ان کے سوا جو اسی کے ہوکر جمع ہوئے اوروں کو بھی اُن کے پاس جمع کروں گا۔
9 اے دشتی حیوانوتم سب کے سب کھانےکو ائو!ہاں اے جنگل کے سب درندو
10 اُس کے نگہبان اندھے ہیں۔وہ جاہل ہیں۔ وہ سب گونگے کتے ہیں جو بھونک نہیں سکتے۔وہ کواب دیکھنے والے ہیں جو پڑے رہتے ہیں اور اُونگھتے رہنا پسندکرتے ہیں
11 اور وہ لالچی کتے ہیں جو کھبی سیر نہیں ہوہوتے۔وہ نادان چرواہے ہیں۔وہ سب اپنی اپنی راہ کو پھر گئے۔ہر ایک ہر طرف سے اپنا ہی نفع ڈ ھونڈتا ہے۔
12 ہر ایک کہتا ہے اور کل بھی آج ہی کی طرح ہو گا بلکہ اس سے بہتر۔


باب 57

1 صادق ہلاک ہو تا ہےاور کوئی اس بات کو خاطر میں نہیں لا تا اور نیک لوگ اُٹھا لئے جاتے ہیںاور نہیں سوچتا کہ صادق اُٹھا لیا گیا تا کہ انے والی آفت سے بچے
2 وہ سلامتی میں داخل ہو تا ہے۔ہر ایک راست رو اپنے بستر پرآرام پائے گا۔
3 لیکن تم اے جادوگرنی کے بیٹو! تم کیس پر ٹھٹھا مارتے ہو؟ تم کس پر منہ پھاڑتے اور زبان نکالتے ہو؟ کیا تم باغی اولاد اور دغا باز نسل نہیں ہو۔
4
5 جو بتوں کے ساتھ ہر ایک ہرے درخت کے نیچے اپنے اپ کو برانگخیتہ کرتے اور وادیوں میں چٹانوں کے شگافوں کے نیچے بچوں کو ذ بح کرتے ہو؟۔
6 وادی کے کے چکنے پتھر تیرا بخرہ ہیں وہ ہی تیرا حصہ ہیں۔ہاں تونے ان کے لئے تپاون دیا اور ہدیہ چڑھایا ہے۔کیا مجھے ان کاموں سے تسکین ہو گی؟۔
7 ایک اونچے اور بلند پہاڑ پر تو نے اپنا بستر بچھا یا ہے اور اسی پر ذ بیحہ ذبیحہ ذبح کرنے کوچڑھ گئی۔
8 اور تو نے دروازوں اور چو کھٹوں کے پیچھے اپنی یاد گار کی علامتیں نصب کیں اور تو میرے سوا دوسرے کے آگے بے پردہ ہوئی۔ ہاں تو نے اپنا بچھوونا بھی بڑا بنایا اور اُن کے ساتھ عہد کر لیا ہے۔تو نے اُن کے بستر کو جہاں دیکھا پسند کیا۔
9 تو خوشبو لگا کر بادشاہ کے حضور چلی گئی اور اپنے آپ کو خوب معطر کیا اور اپنے ایلچی دور دور بھیجے بلکہ تو نے اپنے آپ کو پا تا ل تک پست کیا۔
10 تو اپنے سفر کی درازی سے تھک گئی تو بھی تو نے نہ کہا کہ اس سے کچھہ فائدہ نہیں۔ تو نے اپنی قوت کی تازگی پائی اس لئے تو افسردہ نہ ہوئی۔
11 تو کس سے ڈری اور کس کے خوف سے تو نے جھوٹ بالا اور مجھے یاد نہ کیا اور خاطر میں نہ لائی؟کیا میں ایک مدت سے خاموش نہیں رہا؟ تو بھی تو مجھ سے نہ ڈری۔
12 میں تیری صداقت کو اور تیرے کاموں کو فاش کروں گا ان سے تجھے کچھ نفع نہ ہو گا۔
13 جب تو فریاد کرے تو جن کو تو نے جمع کیا وہ تجھے چھڑائیں پر ہوا ان سب کو اُڑالے جائے گی۔ایک جھانکا اُن کو لے جائے گا لیکن مجھ پر توکل کرنے وال زمین کا مالک ہو گا اور میرے کوہ مقدس کا وارث ہو گا۔
14 تب یوں کہا جائے گاراہ اُو نچی کرو اُو نچی کرو۔ہموار کرو۔میرے لوگوں کے راستہ سے ٹھوکر کا باعث دور کرو۔
15 کیونکہ جو عالی اور بلند ہے اور ابدالا آباد تک قائم ہے جس کا نام قدوس ہے یوں فرماتا ہے کہ میں بلند اور مقدس مقام میں رہتا ہوں اور اُس کے ساتھ بھی جو شکستہ دل اور فر تن ہے تاکہ فر تنوں کی روح کو زندہ کرو ں اور شکستہ دلوں کو حیات بخشوں۔
16 کیونکہ میں ہمیشہ نہ جھگڑوں گا اور سدا غضب ناک نہ رہوں گا اس لئے کہ میرے حضورروح اور جانیں جو میں نے پیدا کی ہیں بیتاب ہو جاتی ہیں۔
17 کہ میں اُس کے لا لچ کے گناہ سے غضب ناک ہواسو میں نے اُسے مارا۔میں نے اپنے آپ کو چھپایا غضب ناک ہوااس لئے راہ پر جو اُس پر جو اُس کے دل نے نکالی بھٹک گیا تھا۔
18 میں نے اُس کی راہیں دیکھیں اور میں ہی اسے شفا بخشوں گا۔میں میں اُس کی رہبری کرہں گا اور اس کو اور اس کے غم خواروں کو پھر دلاسا دوں گا۔
19 خداوند خدا فرماتا ہے میں لبوں کا پھل پیدا کرتا ہوں سلامتی سلامتی اس کو جو دورہے اور اس کو نزدیک ہے اور مین اس کو صحت بخشوں گا۔
20 لیکن شریر تو سمندر کی مانند ہیں جو ہمیشہ موجزن اور بے قرار ہے۔جس کا پانی کیچڑاور گندگی اچھالتا ہے۔
21 میرا خدا فرماتا ہے کہ شریروں کے لئے سلامتی نہیں ۔


باب 58

1 گلا پھاڑ کر چلا ۔دریغ نہ کر۔نرسنگے کی ماند اپنی اواز بلند کر اور میرے لوگوں پر ان کی خطا اور یعقوب کے گھرانے پر اُن کے گناہوں کو ظاہر کر
2 وہ روز بر روز میرے طالب ہیں اور اس قوم کی مانند جس نے صداقت کے کام کئےاور اپنے خدا کے احکام کو تر ک نہ کیا میری راہوں کو دریافت کرنا چاہتے ہیں۔وہ مجھ سے صداقت کے ٓحکام طلب کرتے ہیں۔وہ خدا کی نزدیکی چاہتے ہیں۔
3 وہ کہتے ہیں ہم نے کس لئے روزے رکھے جبکہ تو نظر نہیں کرتا اور ہم نے کیون اپنی جان کو دکھ دیا۔جبکہ تو خیال نہیں لاتا؟ دیکھو تم اپنے روزے کے دن میں خوشی کے طالب رہتے ہواور سب طرح کی سخت محنت لوگوں سے کرواتے ہو۔
4 دیکھو تم اس مقصد سے روزے رکھتے ہوجھگڑارگڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو۔پس تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتےہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پر سُنی جائے۔
5 کیا یہ وہ روزہ ہے جو مجھ پسند ہے؟ایسا دن کہ اُس ادمی اپنی جان کو دکھ دےآور اپنی سر کو جھائو کی طرح جھکائے اہر اپنے نیچے ٹا ٹ اور راکھ بچھائے؟کیا تُو اُس کو روزہ اور ایسا دن کہےگا جب خدا وند کا مقبول ہو؟۔
6 کیا وہ روزہ جو میں چاہتا ہوں یہ نہیں ظلم کی زنجیریں توڑیں اور جوئے کے بندھن کہالیں اور مظلوموں کو آزاد کریں بلکی ہر ایک جوئے کو توڑ ڈالیں۔
7 کیا یہ نہیں کہ تو اپنی روٹی بھوکے کو کھلائے اور مسکینوں کو جوآوارہ ہیں گھر میں لائے اور جب کسی کو ننگا دیکھے اُسے پہنائے اور تو اپنے ہم جسم سے روپوشی نہ کرے؟۔
8 تب تیری روشنی صبح کی منند پھوٹ نکلے گی اور تیری صحت کی ترقی جلد ظاہر ہو گی۔تیری صداقت تیری ہر آول ہوگی اور خداوند کا جلال تیرا چنڈاول ہو گا۔
9 تب تو پکارے گااور خداوند جواب دے گا۔تو چلائے گا اور فرمائے گا میں یہاں ہوں ۔اگر تو جوئے کو اور انگلوں سے شارہ کرنے کو اور ہر زہ گوئی کو اپنے درمیان سے دور کرے گا۔
10 اگر تو اپنے دل کو بھوکے کی طرف مائل کرے اور آزدہ دل کو آ سودہ کرے تو تیرا نور تاریکی میں چمکے گااور تیری تیرگی دوپہر کی مانندہو جائے گی۔
11 اور خدا وند سدا تیری را ہنمائی کرے گا اور خشک سالی میں تجھے سیر کرےگااور تیری ہڈیوں کو قوت بخشے گا۔پس تو سیراب باغ کی مانند ہوگا اور اس کے چشمہ کی مانند جس کا پانی کم نہ ہو ۔
12 اور تیرے لوگ قدیم ویران مکانوں کو تعمیر کریں گے اور پشت در پشت کی بنیادوں کو برپا کرے گا۔اور تو رخنہ کا بند کرنے والا اور ابادی کے لئےراہ کا درست کرنے والا کہلائے گا۔
13 اگر تو سبت کے روز اپنے پاؤں روکے رکھے اور میرے مقدس دن میں اپنی خوشی کا طالبنہ ہو اور سبت کو رحت اور خداوند کا مقدس اور معظم کہے اور اس کی تعظیم کرے۔اپنا کاروبار نہ کریں اور اپنی خوشی اور بے فائدہ باتوں سے دست بردارر ہے۔
14 تب خدا وند میں میسر ہوں گا اور میں مسرور ہو گا اور میں تجھے دنیا کی بلندیوں پر لے چلو گا اور میں تجھے تیرت باپ یعقوب کی میراث سے کھلائوں گا کیونکہ خدا وند کے منہ کے یہ ارشاد ہوا ہے


باب 59

1 دیکھوخداوند کا ہاتھ چھوٹا نہیں ہو گا کہ بچانہ سکے اور اس کا کان بھاری نہیں کہ سن نہ سکے
2 بلکہ تمہاری بد کاری نے تمہارے اور تمہارے خدا کے درمیان جدائی کر دیدی ہے اور تمہارے گناہوں نے اسے تم سے رو پوش کیا ایسا کہ نہیں سنتا۔
3 کیونکہ کہ تمہارا ہاتھ خون سے اور تمہاری ا نگلیاں بدکاری سے ا لودہ ہیں۔تمہارے لب جھوٹ بولتے اور تمہاری زبان شرارت کی باتیں بکتی ہے۔
4 کوئی انصاف کی بات پیش نہیں کرتا اور کوئی سچائی سے حجت نہیں کرتا۔وہ بطالت پر توکل کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں وہ زیان کاری سے باردار ہو کر بدکرداری کو جنم دیتے ہیں ۔
5 وہ افعی کے انڈے سیتے اور مکڑی کا جالاتانتے ہیں۔جوان کے انڈوں سے کچھ کھائے مر جائے گا اور جو ان میں سے توڑا جائے اس سے افعی نکلے گا۔
6 ان کے جالے پوشاک نہیں بنے گی۔وہ اپنی دست کاری سے ملبس نہ ہوں گے۔ان کے اعمال بدکاری کے ہیں اور ظلم کا کام ان کے ہاتھوں میں ہے۔
7 ان کے پاؤں بدی کی طرف دڑتے ہیں اور وہ بے گناہ کا خون بہانے کے لئےجلدی کرتے ہیں۔ان کے خیالات بدکاری کے ہیں۔تباہی اور ہلاکت اُن کی راہوں میں ہے۔
8 وہ سلامتی کا راستہ نہیں جانتے اور اُن کی روش میں انصاف نہیں۔وہ اپنے لئے ٹیڑھی راہ بناتے ہیں۔جو کوئی اُس میں جائےگا سلامتی کو نہ دیکھے گا۔
9 اس لئے انصاف ہم سے دور ہے اور صداقت ہمارے نزدیک نہیں اتی۔ہم نور کا انتظار کرتے ہیںپر دیکھو تاریکی ہے اور روشنی کا پراندھیرے میں چلتے ہیں۔
10 ہم دیوار کو اندھیرے کی طرح ٹٹولتے ہیں۔ہاں یوں ٹٹو لتے ہیں کہ گویا ہماری آنکھیں نہیں۔ ہم دوپہر کو یوں ٹھوکر کھاتے ہیں گویا رات ہو گی۔ہم تندرستوں کے درمیان گویا مردہ ہیں۔
11 ہم سب ریچھوں مانند غراتےہیں اور کبوتروں کی طرح کڑھتےہیں۔ہم انصاف کی راہ تکتے ہیں پر وہ کہیں نہیں اور نجات کےمنتظرہیں پر وہ ہم سے دہر ہے۔
12 کیونکہ ہماری خطائیں تیرے حضور بہت ہیں اور ہمارے گناہ ہم پر گواہی دیتے ہیں کیونکہ ہماری خطائیں ہمارے ساتھ ہے۔اور ہم بدکاری کو جانتے ہیں
13 کہ ہم نے ختاکی۔خداوند کا انکار کیا اور اپنے خدا کی پیروی سے بر گشتہ ہو گئے۔ہم نے ظلم اور سر کشی کی باتیں کیں اور دیل میں باطل تور کر کہ دروغ گوئی کی۔
14 عدالت ہٹائی گئی اور انصاف دور کھڑا ہو رہا۔صداقت بازار میں گر پڑی اور راستی داخل نہیں ہو سکتی
15 ہاں راستی گم ہو گئی اور جو بدی سے بھاگتا ہےشکار ہو جاتا ہےخداوند نے یہ دیکھا اور اس کی نظر میں برا معلوم ہوا کہ عدالت جاتی رہی ۔
16 اور اس نے دیکھا کہ کوئی آدمی نہیں اور تعجب کیا کہ کوئی شفاعت کرنے والا نہیں اس لئے اسی کے بازو نے اس کی نجات ھاصل کی اور اسی کی راست بازی اسے سنبھالا۔
17 ہاں اُس نے راست بازی کا بکتر پہنا اور نجات کا خود اپنے سر پر رکھا اور اُس نے لباس کی جگہ انتقام کی پوشاک پہنی اور غیرت کے جبہ سے ملبس ہوا۔
18 وہ اُن کو اُن کے اعمال کےمطابق جزا کے دے گا۔اپنے مخالفوں پر قہر کرے گا اور دشمنوں کو سزا دے گا اور جزیروں کو بدلہ دے گا۔
19 تب مغرب کے باشندے خداوند کے نام سے ڈریں گے اور مشرق کے باشندے اُس کے جلال سے کیونکہ وہ دریا کے سیلاب کی طرح آئے گا جو خداوند کے نام سے رواں ہو۔
20 اور خداوند فرماتا ہے کہ صیون میں اور اُن کے پاس یعقوب میں خطاکاری سے باز اتے ہیں ایک فدیہ دینے والا آئے گا۔
21 کیونکہ اُن کے ساتھ میرا عہد یہ ہے۔خداوند فرمتا ہے میری روح جو تجھ پر ہے اور میری باتیں جو میں نے تیرے منہ میں ڈالی ہیں اور تیرے منہ سے اور تیری نسل کے منہ سے اور تیری نسل کی نسل کے منہ سے اب سے لے کرابد تک جاتی رہیں گی۔خداوند کا یہی ارشاد ہے۔


باب 60

1 اُٹھ منور ہو کیونکہ تیرانور اگیا اور خدا وند کا جلال تجھ پر ظاہر ہوا۔
2 کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی اور تیرگی اُمتوں پر لیکن خداوند تجھ پر طالع ہو گیا اور اُس کا جلال تجھ پر نمایاں ہو گا۔
3 اور قومیں تیری روشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطین تیرے طلوع کی تجلی میں چلیں گے
4 اپنی آنکھیں اُٹھا کر چاروں طرف دیکھ۔وہ سب کے سب اکٹھے ہوتے ہیں اور تیرے پاس آتے ہیں ۔تیرے بیٹے دور سے آئیں گے اور تیری بٹیوں کو گود میں اُٹھا کر لائیں گے۔
5 تب تو دیکھے گی اور منور ہو گیہان تیرا دل اُچھلے گا اور کشادہ ہو گا کیونکہ سمندر کی فراوانی تیری طرف پھرے گی اور قوموں کی دولت تیرے پاس فراہم ہوگی
6 اُونٹوں کی قطاریں اور مدیان اور عیفہ کی سانڈنیاں ارد گردبے شمار ہوں گی۔ وہ سب سبا سے ائیں گے اور سونا اور لبان لائیں گے اور خداوند کی حمد کاا علان کریں گے۔
7 قیدار کی سب بھیڑیں تیرے پس جمع ہوں گی۔نبایوت کے مینڈھے تیری خدمت میں حاضر ہوں گے۔وہ میرے مذبح پر مقبول ہوں گے اور میں اپنے شوکت کے گھر کو جلال بخشوں گا۔
8 یہ کون ہے جو بادل کی طرح اُرے چلے اتے ہیں اور جیسے کباتر اپنی کابک کی طرف؟۔
9 یقینا جزیرےمیری راہ دیکھوں گے اور ترسیس کے جہاز پہلے ائیں گے کہ تیرے بیٹوںکو اُن کی چاندی اور اُن کے سونے سمیت دور سے خداوند تمہارا خدا اور اسرایئل کے قدوس کے نام کے لئے لائیں کیونکہ اُس نے تجھے بزرگی بخشی ہے۔
10 اور بیگانوں کے بیٹے تیری دیواریں بنائیں گے اور اُن کے بادشاہ تیری خدمت گزاری کریں گے۔اگرچہ میں نے اپنے قہر سے تجھے مارا پر اپنی مہربامی سے میں تجھ پر رحم کرو نگا۔
11 اور تیرے پھاٹک ہمیشہ کُھلے رہیں گے۔وہ دن رات کبھی بند ہوں گے تاکہ قوموں کی دولت اور اُن کے بادشاہوںکو تیرے پاس لائیں۔
12 کیونکہ وہ قوم اور مملکت جو تیری خدمت گزاری نہ کرےگی برباد ہو جائے گی۔ ہاں وہ قومیں بالکل ہلاک کی جائیں گی ۔
13 لبنان کا جلال تیرے پاس آے گا۔سرواور صنوبر اور دیودار سب آئیں گے تاکہ میرے مقدس کو آراستہ کریں اور میں اپنے پائوں کی کرسی کو رونق بخشوں گا
14 اور تیرے غارت گروں کے بیٹےتیرے سامنے جھکتے ہوئے آئیں گے اور تیرے تحقیر کرنے والے سب تیرے قدموں پر گریں گے۔اور وہ تیرا نامخداوند کا شہر اسرائیل کے قدوس کا صیون رکھیں گے۔
15 اس لئے کہ تو ترک کی گئی اور تجھ سے نفرت ہوئی ایسا کہ کیس آدمی نے تیری ترف گزر بھی نہ کیا۔میں تجھے ابدی فضلیت اور پشت درد پشت کی شادمانی کا باعث بنائوں گا
16 تو قوموں کا دودھ بھی پی لے گی۔ہاں بادشاہوں کیچھاتی چوسے گی اور تو جانے گی کہ میں خداوند تیرا نجات دینے والا اور یعقوب کا قادر تیرا فدیہ دنیے والا ہوں
17 میں پیتل کے بدلے سونا لاؤ گے اور لوہے کے بدلے چاندی اور لکڑی کے بدلے پیتل اور پتھروں کے بدلے لوہا اور میں تیرے حاکموں کو سلامی اور تیرےعاملوں کو صداقت بنائوں گا
18 پھرکبھی تیرے ملک میں ظلم کا ذکر نا ہو گا اور نہ تیری حدود کے اندر خرابی یا بربادی کا بلکہ تو اپنی دیواروںکا نام نجات اور اپنے پھاٹکوں کا حمد رکھے گی
19 پھر تیری روشنی نہ دن کوسورج سے ہو گی نہ چاند کے چمکنے سے بلکہ خداوند تیراابدی نور اور تیرا خدا تیراجلال ہو گا
20 تیرا سورج پھر کھبی نہ ڈھلے گا اور تیرے چاند کو زوال نہ ہو گا کیونکہ تیرا خداوند تیرا ابدی نور ہوگااور تیرے ماتن کے دن ختم ہوجائیں گے
21 اور تیرے لوگ سب کے سب راستباز ہوں گے۔وہ ابد تک مُلک کے وارث ہوں گے یعنی میریلگائی ہوئی شاخ اور میری دست کاری ٹھہریں گے تاکہ میرا جلال ظاہر ہو
22 سب سے چھوٹا ایک ہزار ہو جائے گا اعر سب سے حقیر ایک زبردست قوم۔میں خدا وند عین وقت پر یہ سب کچھ جلد کروں گا۔


باب 61

1 خداوند خدا کی روح مجھ پر ہے کیونکہاُس نے مجھے مسح کیا تاکہ حلیموں کو خشو خبری سناوں۔اس نے مجھے بھیجا ہے کہ شکستہ دلوں کو تسلی دوں ۔ قیدوں کے لیے رہائی اور اسیروں کے لئے آزادی کا اعلان کروں۔
2 تاکہ خدا وند کے سال مقبول کا اور اپنے خدا کے انتقام کے روز کا اشتہار دوںاور سب غمگینوں کو دلاسا دوں۔
3 صیون کے غمزدوں کے لئےیہ مقرر کردوں کہ ان کو راکھ کے بدلے سہرا اور ماتم کی جگہ خوشی کا روغن اور اُداسی کے بدلے ستایش کا خعلت بخشوں تاکہ وہ صداقت کے درخت اور خداوند کے لگائے ہوئے کہلائیں کہ اُس کا جلال ظاہر ہو۔
4 تب وہ پرانے اُجاڑ مکانوں کو تعمیر کریں گے اور قدیم ویرانیوں کو پھر بنا کریں گے اور ان اجڑے شہروں کی مرمت کریں گے جو پشت در پشت اُجاڑ پڑے تھے۔
5 پردیس آکھڑے ہوں گےاورتمہارے گلوں کو چرائیں گے اور بیگانوں کے بیٹے تمہارے ہل چلانے والے اور تکستانوں میں کام کرنے والے ہوں گے۔
6 پر تم خداوند کے کے کاہن کہلائو گے۔وہ تم کو ہمارے خدا کے خادم کہیں گے۔تم قوموں کا مال کھائو گے اور تم اُن کی شوکت پر فخر کرو گے ۔
7 تمہاری خجالت کا عوض دو چند ملے گا۔وہ اپنی رسوائی کے بدلے اپنے حصہ سے سے خوش ہوں گے۔پس وہ اپنے ملک میں دو چند کے مالک ہوں گے اور ان کو ابدی شادمانی ہوگی۔
8 کیونکہ میں خداوندانصاف کو عزیز رکھتا ہوں اور غارت گری اور ظلم سے نفرت کرتا ہوں۔سو میں سچائی سے اُن کے کاموں کا اجردوں گا اور ان کے ساتھ ابدی عہد باند ہوں گا۔
9 ان کی نسل قوموں کے درمیان نامور ہو گی اور ان کی اولاد لوگوں کے درمیان۔وہ سبجو ان کو دیکھیں گے اقرار کریں گے کہ ہی نسل ہے جسے خداوند نے برکت بخشی ہے
10 میں خداوندسے بہت شادمانہوں گا۔میری مسرور ہوگی کیونکہ اس نے مجھے نجات کے کپڑے پہنائے۔اس نے راستبازی کے خلعت سے مجھے ملبس کیا جیسے دلہا سہرے سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے اور دلہن اپنے زیوروں سے اپنا سنگار کرتی ہے
11 کیونکہ جس طرح زمین اپنے نباتات کو پیدا کرتی ہے اور جس طرح باغ ان چیزوں کو جو اس میں بوئی گئی ہیں اگاتا ہے اسی خداوندخدا صداقت اور ستایش کو تمام قوموں کے سامنے ظہور میں لائے گا۔


باب 62

1 صیون کی خاطر میں چپ نہ رہوں گا اور یروشلیم کی خاطر میں دم نہ لوں گا جب تک کہ اس کی صداقت نور کی مانند نہ چمکے اور اس کی نجات روشن چراغ کی طرح جلوہ نہ ہو۔
2 تب قوموں پر تیری صداقت اور سب بادشاہوں پر تیری شوکت ظاہر ہو گی اور تو ایک نئے نام سے کہلائے گی جو خدا وند کے ہاتھ میں جلالی تاج اور اپنے خدا کی ہتھیلی میں شاہانہ افسرہو گی۔
3
4 تو آگے کو متروکہ نہ کہلائے گیاور تیرے ملک کا نام پھر کبھی خرابہ نہ ہوگا بلکہ تو پیاری سر زمین سہاگن کہلائے گی کیونکہ خدا وند تجھ سے خوش ہے اور تیری زمین خاوند والی ہو گی۔
5 کیونکہ جس طرح جوان مرد کنواری عورت کو بیاہ لاتا ہےاسی طرح تیرے بیٹے تجھے بیاہ لیں گے جس طرح دلہا دلہن میں راحت پاتا ہے اُسی طرح تیرا خدا تجھ میں مسرور ہوگا۔
6 اے یروشلیم میں تیری دیواروں پر نگہبان مقرر کئے ہیں۔وہ دن رات کبھی خاموش نہ ہو گے اے خداوند کا ذکر کرنے والو خاموشنہ ہو۔
7 اور جب تک وہ یرشلیم کو قائم کر کے روی زمین پر محمود بنائے اُسے آرام نہ لینے دو۔
8 خدا وند نے اپنے ہاتھ اور اپنے قوی بازو کی قسم کھائی ہے کہ یقینا میں آگے کو تیرا غلہ تیرے دشمنوں کے کھانے کو نہ دوں گا اور نبے گانوں کے بیٹےتیری مے جس کے لئے تو نے محنت نہیں پئیں گے
9 بلکہ وہی جنہوں نے فصل جمع کی ہے۔اس میں سے کھائیں گے اور خدا وند کی حمد کےیں گے اور وہ جو ذخیرہ میں لئے ہیں اسے میرے مقدس کی بار گاہوں میں پئیں گے
10 گزر جائو پھاٹکوں سے گزر جائے!لوگوں کے لئے راہ درست کرواور شاہراہ اُنچی اور بلند کرو۔پتھر چن کر معاف کر دو۔لوگوں کے لئے جھنڈا کھٹر کرو۔
11 دیکھ خدا وند نے انتہای زمین تک اعلان دیا ہے۔دختر صیون سے کہو دیکھ تیرا نجات دینے وال آتا ہے۔دیکھ اُس کا اجر اُس کے ساتھ اور اُکا کام اُس کے سامنے ہے
12 اور وہ مقدس لوگ اور خدا وند کے خریدے ہوئے کہلائیں گے اور تو مطلوبہ یعنی گیر متروک شہر کہلائے گی۔


باب 63

1 یہ کون ہے جواُدوم سے سرخ پوشاک پہنےبصراہ سے آتا ہے؟یہ جس کا لباس درخشاں ہے اور اپنی توانائی کی بزرگی سے خرامان ہے؟یہ جو میں ہوں جو صادقُ القول اور نجات دینے پر قادرہوں ۔
2 تیری پوشاک کیوں سرک ہے؟تیرا لباس کیوں اُس شخص کی مانند ہے جو انگور حوض میں روندتا ہے؟۔
3 میں نے تن تنہا انگور حوض میں روندے اور لوگوں میں سے کوئی نہ تھا۔ہاں میں نے اُن کو اپنے قہر میں لتاڑا اور اپنےجوش میں اُن کو روندا اور اُن کا خون میرے لباس پر چھڑکا گیا اور میں نے اپنے سب کپڑوں کو آلودہ کیا۔
4 کیونکہ انتقام کا دن میرے دل میں ہے اور میرےخریدےہے لوگوں کا سال آپہنچا ہے ۔
5 میں نے نگاہ کی اور کوئی مددگار نہ تھا اور میں نے تعجب کیا کہ کوئی سنبھالنے والا نہ تھا۔پس میرے بازو سے نجات آئی اور میرے ہی قہر نے مجھے سنبھالا۔
6 ہاں میں نے اپنے قہر سے لاگوں کو لتاڑا اور اپنے غضب سےاُن کو مد ہوش کیا اور اُن کا خون زمین پر بہادیا۔
7 میں خدا وند کی شفقت کا ذکر کروں گا۔خداوندہی کی ستایش کااُس سب کے مطابق جو خداوند نے ہم کو عنایت کیا اوربڑی مہربانی کا جواُس نے اسرائیل کے گھرانے پر اپنی خاص رحمت اور فراوان شفقت کے مطابق ظاہر ہے ۔
8 کیونکہ اُس نے فرمایا یقینا وہ میرے ہی لوگ ہیں ایسی اولاد جو بے وفائی نہیں کرے گی۔چنانچہ وہ اُن کا بچانے والا ہوا۔
9 اُن کی تمام مصیبتوںمیں مصیبت زدہ ہوااور اُس کے حضور کے فرشتہ نے اُن کو بچایا۔اُس نے اپنی الفت اور رحمت سے اُن کا فدیہ دیا۔اُس نے اُن کو اُٹھایا اور قدیم سے ہمیشہ اُن کے لئےپھرا۔
10 لیکن وہ باغی ہوئے اور انہوں نے اُس کی روح قدس کو غمگین کیا۔اس لئے وہ اُن کا دشمن ہوگیااور اُن سے لڑا ۔
11 پھر اُس نے اگلے دنوںکو موسیٰ کو اور اپنے لوگوں کو یاد کیا اور فرمایاوہ کہاں ہےجو اُن کوگلہ کے چوپانوں سمیت سمندر میں سے نکال لایا؟وہ کہاں ہے جس نے اپنی روح قدس اُن کے اندرڈالی؟۔
12 جس نے موسیٰ کے دہنے ہاتھ پر اپنے جلالی بازوکو ساتھ کر دیااور اُن کے آگے پانی چیرا تاکہ اپنے لئے ابدی نام پیداکرے؟۔
13 جو گہراؤ میں سے اس طرح لے گیا جس طرح بیابان سے گھوڑا ایسا کہ اُنہوں نے ٹھوکر نہ کھائی؟۔
14 جس طرح مویشی وادی میں چلے جاتے ہیں اُسی طرح خداوند کی روح اُن کو آرام گاہ میں لائی اور اُسی طرح تونے اپنی قوم کی ہدایت کی تاکہ تو اپنے لئے جلیل نام پیدا کرے۔
15 آسمان پر سے نگاہ کر اور اپنے مقدس اور جلیل مسکن سے دیکھ۔ تیری غیرت اور تیری قدرت کے کام کہاں ہیں؟تیری دلی رحمت اورتیری شفقت جو مجھ پر تھی موقوف ہو گئی۔
16 یقینا تو ہمارا باپ ہے۔اگرچہ ابرہام ہم سے ناواقف ہو اور اسرائیل ہم کو نہ پہچانے۔تواے خداوند ہمارا باپ اور فدیہ دینے والا ہے۔تیرا نام ازل سےہے۔
17 اے خداوند تونے ہم کو اپنی راہوں سے گمراہ کیا اور ہمارے دلوں کو سخت کیا کہ تجھ سے ڈریں؟ اپنے بندوں کی خاطر اپنی میرا ث کے قبائل کی خاطر باز آ۔
18 تیرے مقدس لوگ تھوڑی دیر قابض رہے۔اب ہمارے دشمنوں نے تیرے مقدس کو پامال کر ڈالا ہے۔
19 ہم تو اُن کی منند ہوئے جن پر تو نے کبھی حکومت نہ کی اور جو تیرے نام سے نہیں کہلاتے۔


باب 64

1 کاشکہ تو آسمان کو پھاڑے اور اُتر آئےکہ تیرےحضورمیں پہاڑ لرزش کھائیں۔
2 جس طرح آگ سوکھی ڈالیوں کو جلاتی ہے اور پانی آگ سے جوش مارتا ہے تاکہ تیرا نام تیرے مخالفوں میں مشہور اور قومیں تیرے حضور میں لرزان ہوں۔
3 جس وقت تونے مہیب کام کئے جن کے ہم منتظر نہ تھے تو اُتر آیا اور پہاڑ تیرے حضور کانپگے۔
4 کیونکہ ابتداہی سے نہ کسی نے سُنا نہ کسی کے کان تک پہنچا اور آنکھوں نے تیرے سوا ایسے خدا کو دیکھا جو اپنے انتظار کرنے والے کے لئےکچھ کر دکھائے۔
5 تو اُس سے ملتا ہے جو خوشی سے صداقت کے کام کرتا ہے اور اُن سے جو تیری راہوں میں تجھے یاد رکھتے ہیں۔دیکھ تو غضب ناک ہوا کیونکہ ہم نے گناہ کیا اور مدت تک اسی میں رہے۔کیا ہم نجات پائیں گے؟۔
6 اور ہم سب کے سب ایسے ہیں جیسے ناپاک چیز اور ہماری تمام راست بازی ناپاک لباس کی مانند ہے اور ہم سب پتے کی طرح کملا جاتے ہیں اور ہماری بدکرداری آندھی کی مانند ہم کو اُڑلے جاتی ہے۔
7 اور کوئی نہیں جو تیرا نام لے۔جو اپنے آپ کو آمادہ کرے کہ تجھ سےلپٹا رہے کیونکہ ہماری بدکرداری کے سبب سے تو ہم سے روپوش ہوا اور ہم کو پگھلا ڈالا۔
8 تو بھی اے خداوند! تُو ہمارا باپ ہے۔ہم مٹی ہیں اور ہمارا کمہار ہے اور ہم سب کے سب تیری دستکاری ہیں۔
9 اے خداوند!غضبناک نہ ہوا اور بد کرداری کو ہمیشہ تک یاد نہ رکھ۔دیکھ ہم تیری منت کرتے ہیں۔ہم سب تیرے لوگ ہیں۔
10 تیرے پاک شہر بیابان بن گئے۔صیون سنسان اور یروشلیم ویران ہے۔
11 ہمارا خوش نما مُقدس جس میں ہمارے باپ داداتیری ستایش کرتے تھےآگ سے جلایاگیا ہماری نفیس چیزیں بربادہوگیئں۔
12 اے خداوندتو اس پر بھی اپنے آپ کو روکے گا؟کیا تو خاموش رہے گااور ہم کو یوں بدحال کردے گا؟۔


باب 65

1 جو میرےطالب نہ تھے میں اُن کی طرف متوجہ ہوا۔جنہوں نے مجھے ڈھونڈا نہ تھا پالیا۔میں نے ایک قوم سے جو میرے نام سے نہیں کہلاتی تھی فرمایا دیکھ میں حاضر ہوں
2 میں نے سر کش لوگوں کی طرف جو اپنی فکروں کی پیروی میں بری راہبر چلتے ہیں ہمیشہ ہاتھ پھیلائے
3 ایسے لوگ جو ہمیشہ میرے رو برو باغوں میں قربانیاں کرنے اور انیٹوں پر خو شبوجلانے سے مجھے برا فروختہ کرتےہیں۔
4 جو قبروں میں بیٹھتے اور پوسیدہ جگہوں میں رات کاٹتے اور سور کا گوشت کھاتے ہیں اور جن کے برتنوں میں نفرتی چیزوں کاشوربا موجود ہے۔
5 جو کہتے ہیں تو الگ ہی کھڑا رہ میرے نزدیک نہ آکیونکہ میں تجھ سے زیادہ پاک ہوں۔یہ میرے ناک میں دھوئیں کے مانند اور دن بھر جلنے والی آگ کی طرح ہیں۔
6 دیکھو میرے آگے وہ قلمبند ہواہے۔پس میں خاموش نہ رہوں گا بلکہ بدلہ دوں گا۔خداوند فرماتا ہے ہاں اُن کی گود میں ڈال دوں گا۔
7 اور تمہارے باپ داد کی بدکاریکا بدلہ اکٹھا دوں گا جو پہاڑوں پر خشبو جلاتے اور ٹیلوں پر میری تکفیر کرتے تھے۔پس میں پہلے اُن کے کاموں کو اُن کی گود میں ناپ کر دوں گا۔
8 خداوند یوں فرماتا ہےکہ جس طرح شیرہ خوشہ انگور میں موجود ہے اور کوئی کہے اسے خراب نہ کر کیونکہ اُس میں برکت ہے اُسی طرح میں اپنے بندوں کی خاطر کروں گاتاکہ اُن سب کو ہلاک نہ کروں۔
9 اور میں یعقوب میں سے ایک نسل اور یہوداہ میں سے اپنے کوہستان کا وارث برپا کروں گا اور میرے برگزیدہ لوگ اُس کے وارث ہوں گے اور میرے بندے وہاں بسیں گے۔
10 اور شارون گلوں کا گھر ہوگا اور عکور کی وادی بیلوں کے بیٹھنے کا مقام میرے اُن لوگوں کے لئے جو میرے طالب ہوئے۔
11 لیکن خدا وند کو ترک کرتے اور اُس کے کوہ مقدس کو فرموش کرتے اور مشتری کے لئے دسترخوان چنتے اور زہرہ کے لئے شراب ممزوج کا جام پر کرتے ہو۔
12 میں تم کو گن گن کر تلوار کے حوالے کروں گا اور تم سب ذبح ہو نے کے لئے خم ہو گے کیونکہ جب میں نے بلایا تو تم نے جواب نہ دیا۔جب میں نے کلام کیا تو تم نے نہ سنا بلکہ تم نے وہی کیا جو میری نظر میں برا تھا اور وہ چیز پسند کی جس سے میں خوش نہ تھا۔
13 اس لئے خدا وند خدا یوں فرماتا ہے کہ د یکھو میرے بندے کھائیں گے پر تم بھوکے رہو گے۔میرے بندے پئیں گے پر تم پیاسے رہو گے۔میرے بندے شاد مان ہوں گے پر تم شرمندہ ہو گے۔
14 اور میرے بندے دل کی خوشی سے گائیں گے پر تم دل گیری کے سبب سے نالان ہو گے اور جانکاہی سے واویلا کرو گے۔
15 اور تم اپنا نام میرے برگزیدوں کی لعنت کے لئے چھوڑ جاؤگے۔خداوند خدا تم کو قتل کر گا اور اپنے بندوں کو ایک دوسرے نام سے بلائے گا۔
16 یہاں کے جو کوئی روی زمین پر اپنے لئے دعا خیر کرے خدایِ بر حق کے نام سے کے گا اور کوئی اور جو کوئی زمین مین قسم کھائے خدای ِبر حق کے نا م سے کھائے گاکیونکہ گزشتہ مصبیتیں فراموش ہو گئیں اور وہ میری آنکھوں سے پوشید ہیں
17 کیونکہ دیکھو میں نئے آسمان اور نئی زمین کو پیدا کرتا ہوں اور پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہو گا اور وہ خیال میں نہ آئیں گی۔
18 بلکہ تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو کیونکہ دیکھو میں یروشلیم کو خوشی اور اُس کے لوگوں کو خرمی بنائوں گا۔
19 اور میں یروشلیم سے خوش اور اپنے لوگوں سے مسرور ہوں گا اور اُس میں رونے کی صدا اور نالہ کی آواز پھر کبھی نہ دے گی۔
20 پھر کبھی وہاں کوئی ایسا لڑکا نہ ہو گا جو کم عمر رہے اور نہ کوئی ایسا بوڑھا جو اپنی عمر پوری نہ کرے کیونکہ لڑکا سو برس کا ہو کر مرے گا اور جو گنہگار سو برس کا ہوجائے ملعون ہو گا۔
21 وہ گھر بنائیں گے اور ان میں بسیں گے۔تاکہ کستان لگائیں گے اور ان کے میوے کھائیں گے ۔
22 نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائیں کیونکہ میرے بندوں کے ایام درخت ایام کی مانند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُ ٹھا ئیں گے۔
23 ان کی محنت بے سود نہ ہو گی اور اُن کی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہو گی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوندا کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔
24 اور یوں ہوگا کہ میں ان کے پکارنے سے پہلے جواب دوں گا اور وہ ہنوز کہہ نہ چکیں گے کہ میں سن لوں گا۔
25 بھیڑیا اور برہ اکھٹے چریں گے اور شیر ببر بیل کی مانند بھوسا کھائے گا اور سانپ کی خوراک خاک ہوگی۔وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے خداوند فرماتا ہے۔


باب 66

1 خداوندیوں فرماتا ہے کہ آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی۔ تم میرے لئے کیسا گھر بناؤ گے اور کون سی جگہ میری آرام گاہ ہو گی؟۔
2 کیونکہ یہ سب چیزیں تو میرے ہاتھ نے بنائیں اور یوں موجود ہوئیں خداوند فرماتا ہے لیکن میں اُس شخص پر نگاہ کروں گا۔اُسی پر جو غریب اور شکستہ دل اور میرے کلام سے کانپ جاتا ہے۔
3 جو بیل ذبح کرتا ہے اُس کی مانند ہے جو کسی آدمی کو مار ڈالتا ہے اور جو برہ کی قربانی کرتا ہے اُس کے بر ابر ہے جو کتے کی گردن کاٹتا ہے۔جو ہدیہ لاتا ہے گویا سور کا لہو گزرانتا ہے ۔ جو لبان جلاتا ہے اُس کی مانند ہے جو بت کو مبارک کہتا ہے۔ہاں انہوں نے اپنی اپنی راہیں چن لیں اور اُن کے دل اُن کی نفرتی چیزروں سے مسرور ہیں۔
4 میں بھی ان کے لئے آفتوں کو چن لوں گا اور جن باتوں سے ڈڑتے ہیں اُن پر لاؤں گاکیونکہ جب میں نے پکارا تو کسی نے جواب نہ دیا۔ جب میں نے کلام کیا تو انہوں نے نہ سنا بلکہ انہوں نے وہی کیا جو میری نظر میں برا تھا اور وہ چیز پسند کی جس سے میں خوش نہ تھا۔
5 خداوند کی بات سنواے تم جو اس کے کلام سے کانپتے ہو!تمہارے بھائی جو تم سے کنیہ رکھتے ہیں اور میرے نام کی خاطر تم کو خارج کر دیتے ہیں کہتے ہیں خداوند کی تمجید کروتاکہ تمہاری خوشی کو دیکھیں لکین وہی شرمندہ ہوں گے۔
6 شہر سے ہجوم کا شور!ہیکل کی طرف سے ایک ندا!خداوند کی آواز ہےجو اپنے دشمنوں کو بدلہ دیتا ہے۔
7 پشیتر اس سے کہ اسے درد لگے اس نے جنم دیااور اس سے پہلےکہ اس کو درد ہو اس کو بیٹا پیدا ہوا۔
8 ایسی با ت کس نے سنی؟ایسی چیز کس نے دیکھیں ؟ کیا ایک دن میں کوئی ملک پیدا ہو سکتا ہے؟کیا یکبارگی ایک قوم پیدا ہو جائے گی؟ کیونکہ صیون کو درد لگی ہی تھی کہ اُس کو اولاد پیدا ہوگی۔
9 خداوند فرماتا ہے کہ میں اسے ولادت کے وقت تک لائوں گا اور پھر اس سے سے ولادت نہ کراؤں؟ تیرا خدا فرماتا ہے کیا میں جو ولادت تک لاتا ہوں ولادت سے باز رکھوں۔
10 تم یروشلیم کے ساتھ خوشی مناؤ اور اس کے سبب سے شادمان ہو ۔ اس کے سب دوستو۔جو اس کے لئے ماتم کرتے تھے اس کے ساتھ نہایت خوش ہو۔
11 تاکہ تم دودھ پیو اور اس کی تسلی کے پستان سے سیر ہو تاکہ نچوڑو اور اس کی شوکت کی فروانی سے حظ اُٹھائو۔
12 کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ دیکھ میں سلامتی کی نہرکی مانند اور قوموں کی دولت سیلاب کی طرح اُس کے پاس رواں کروں گا تب تم دودھ پیو گے اور بغل میں اُٹھا ئے جاؤگے اور گھٹنوں پر کدائے جاؤ گے۔
13 جس طر ح ماں اپنے بیٹے کو دلاسا دیتی ہے اُسی طرح میں تم کو دلاسا دوں گا۔یروشلیم یہ میں ہی تم تسلی پائو گے۔
14 اور تم دیکھو گے تمہارا دل خوش ہو گااور تمہاری ہڈیاں سبزہ کی مانند نشوونما پائیں گی اور خداوند کا ہاتھ اپنے بندوں پر ظاہر ہوگا پر اُس پر قہر اس کے دشمنوں پر پر بھڑکے گا ۔
15 کیونکہ خداوند آگ کے ساتھ آئے گااور اس رتھ گردباد کی مانند ہوں گے تاکہ اپنے قہر کو جوش کے ساتھ اور تنبیہ کو آگ کے شعلہ میں ظاہرکرے۔
16 کیونکہ آگ سےاور تلوار سے خداوند تمام نبی آدم کا مقابلہ کرے گااور خدا وندا کے مقتول بہت سے ہوں گے۔
17 وہ جو باغوں کے وسط میں کسی کے پیچھے کھڑے ہونے کے لئےاپنے آپ کو پاک وصاف کرتے ہیں جو سور کا گوشت اور مکروہ چیزیں اور چوہے کھاتے ہیں خدا وند فرماتا ہے وہ باہم فنا ہو جائیں گے۔
18 اور نیں اُن کے کام اور اُن کے منصوبے جانتا ہوں۔وہ وقت آتا ہے کہ میں تمام قوموں اور اہل لغت کو جمع کروں گا اور وہ آئیں گےاور میرجلال دیکھیں گے۔
19 تب میں ان کے درمیان ایک نشان نصب کروں گا اور میں اُن کو جو اُن میں سے نکلیں قوموں کی طرف بھیجوں گا یعنی ترسیسں اور پُول اور لُود کو جو تیرانداز ہیں اور توبل اور یاوان کواور دُورکے جزیروں کو جنہوں نے میری شہرت نیں سنی اور میرا جلال نہیں دیکھا اور وہ قوموں کے درمیان میرا جلال بیان کریں گے۔
20 اور خداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ تمہارے سب بھائیوں کو تمام قوموں میں سے گھوڑوں اور رتھوں پر اور پالکیوں میں اور خچروں پر اور سانڈنیوں پر بٹھا کر خداوند کے ہدیہ کے لئے یروشلیم میں میرے کوہ مقدس کو لائیں گے جس طرح سے نبی اسرئیل خداوند کے گھر میں پاک برتنوں میں ہدیہ لاتے ہیں۔
21 اور خداوند فرماتاہے کہ میں ان میں سے بھی اور لاوی ہونے کے لئے لوں گا۔
22 اور خداوند فرماتاہے جس طرح نیاآسمان اور نئی زمین جو میں بناؤنگا میرے حضور قائم رہیں گے اُسی طرح تمہاری نسل اور تمہارا نام باقی رہے گا۔
23 اور یوں ہو گا خداوند فرماتا ہےکہ ایک نئے چاندسے دوسرے تک اور ایک سبت سے دوسرے تک ہر فرد بشر عبادت کے لئے میرے پاس آئےگا۔
24 اور وہ نکل نکل کر اُن لوگوں کی لاشوں پر جو مجھ سے باغی ہوئے نظر کریں گے کیونکہ اُن کا کیڑا نہیں مرے گا اور اُن کی آگ نہ بجھےگی اوروہ تمام بنی آدم کے لئے نفرتی ہوں گے۔