یرمیاہ

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52


باب 1

1 یرمیاہ بن خلقیاہ کی باتیں جو بنیمین کی مملکت میں غتوتی کاہنوں میں تھا ۔
2 جس پر خداوند کا کلام شاہ یہوداہ یوسیاہ بن امون کے دِنوں میں اُسکی سلطنت کے تیرھویں سال میں نازِل ہوا۔
3 شا ہ یہوداہ یہویقیم بن بوسیاہ کے دِنوں میں بھی شاہ یہوداہ صدقیاہ بن یوسیاہ کے گیارھویں سال کے تمام ہونے تک اہل یروشیلم کے اسیری میں جانے تک جو پانچویں مہینے میں تھا نازِل ہوتا رہا۔
4 تب خداوند کا کلام مجھ پر نازِل ہوا اور اُس نے فرمایا ۔
5 اِس سے پیشتر کہ میں نے تجھے بطن میں خلق کیا۔ میں تجھے جانتا تھا اور تیری وِلادت سے پہلے میں نے تجھے مخصوص کیا اور قوموں کے لئے تجھے نبی ٹھہرایا۔
6 تب میں نے کہا ہائے خداوند خدا ! دیکھ میں بول نہیں سکتا کیونکہ میں تو بچہ ہوں۔
7 لیکن خداوند نے مجھے فرمایا یوں نہ کہہ کہ میں بچہ ہوں کیونکہ جس کسی کے پاس میں تجھے بھیجونگا تو جائیگا اور جو کچھ میں تجھے فرماؤ نگا تو کہیگا ۔
8 تو اُنکے چہروں کو دیکھکر نہ ڈر کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں تجھے چھڑانے کو تیرے ساتھ ہوں۔
9 تب خداوند نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے منہ کو چھوا اور خداوند نے مجھے فرمایا دیکھ میں نے اپنا کلام تیرے منہ میں ڈالدیا۔
10 دیکھ آج کے دن میں نے تجھے قوموں پر اور سلطنتوں پر مقرر کیا کہ اُکھاڑے اور ڈھائے اور ہلاک کرے اور گرائے اور تعمیر کرے اور لگائے۔
11 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا اور اُس نے فرمایا اَے یرمیاہ تو کیا دیکھتا ہے؟میں نے عرض کی کہ بادام کے درخت کی ایک شاخ دیکھتا ہوں۔
12 اور خداوند نے مجھے فرمایا کہ تو نے خوب دیکھا کیونکہ میں اپنے کلام کو پورا کرنے کے لئے بیدار رہتا ہوں ۔
13 دُوسری بار خداوند کا کلام مجھ پر نازِل ہوا اور اُس نے فرمایا تو کیا دیکھتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اُبلتی ہوئی دیگ دیکھتا ہوں جسکا منہ شمال کی طرف سے ہے ۔
14 تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ شمال کی طرف سے اِس مُلک کے تمام باشندوں پر آفت آئیگی ۔
15 کیونکہ خداوند فرماتا ہے دیکھ ! میں شمال کی سلطنتوں کے تمام خاندانوں کو بُلاؤنگا اور وہ آئینگے اور ہر ایک اپنا تخت یروشیلم کے پھاٹکوں کے مدخل پر اور اُسکی سب دیواروں کے گرداگرد اور یہوداہ کے تمام شہروں کے مقابل قائم کریگا۔
16 اور میں اُنکی ساری شرارت کے باعث اُن پر فتویٰ دُونگا کیونکہ اُنہوں نے مجھے ترک کیا اور غیر معبودوں کے سامنے لبان جلایا اور اپنی ہی دستکاری کو سجدہ کیا۔
17 اِسلئے تو اپنی کمر کسکراُٹھاکھڑاہوا اور جوکچھ میں تجھے فرماؤں اُن سے کہہ ۔ اُنکے سامنے سراسمیہ کروں۔
18 کیونکہ دیکھ میں آج کے دن تجھکو اِس تمام ملک اور یہوداہ کے بادشاہوں اور اُسکے اِمیروں اور اُسکے کاہنوں اور ملک کے لوگوں کے مقابل ایک فصیلدار شہر اور لوہے کا ستون اور پیتل کی دیوار بناتا ہوں۔
19 اور وہ تجھ سے لڑینگے لیکن تجھ پر غالب نہ آئینگے کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں تجھے چھڑانے کو تیرے ساتھ ہوں۔


باب 2

1 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازِل ہوا اور اُس نے فرمایا کہ ۔
2 تو جا اور یروشیلم کے کان میں پُکار کر کہہ کہ خداوند یو ں فرماتا ہے کہ میں تیری جوانی کی اُلفت اور تیرے بیاہ کی محبت کو یاد کرتا ہوں کہ تو بیابان یعنی بنجر زمین میں میرے پیچھے پیچھے چلی۔
3 اِسرائیل خداوند کا مقدس اور اُسکی افزایش کا پہلا پھل تھا۔ خداوند فرماتا ہے اُسے نگلنے والے سب مجرم ٹھہر ینگے اُن پر آفت آئیگی ۔
4 اَے اہل یعقوب اور اہل اِسرائیل کے سب خاندانو! خداوند کا کلام سُنو۔
5 خداوند یوں فرماتا ہے کہ تمہارے باپ دادا نے مجھ میں کونسی بے اِنصافی پائی جسکے سبب سے وہ مجھ سے دُور ہوگئے اور بُطلان کی پیروی کرکے باطل ہوئے؟۔
6 اور اُنہوں نے یہ نہ کہا کہ خداوند کہاں ہے جو ہمکو ملک مصر سے نکال لایا اور بیابان اور بنجر اور گڑھوں کی زمین میں سے خشکی اور موت کے سایہ کی سر زمین میں سے جہاں سے نہ کوئی گذرتا اور نہ کوئی بودوباش کرتا تھا ہمکو لے آیا ؟۔
7 اور میں تمکو باغوں والی زمین میں لایا کہ تم اُسکے میوے اور اُسکے اچھےّ پھل کھاؤ لیکن جب تم دِاخل ہوئے تو تم نے میری زمین کو ناپاک کردیا اور میری میراث کو مُکروہ بنایا ۔
8 کاہنوں نے نہ کہا کہ خداوند کہاں ہے؟اور اہل شریعت نے مجھے نہ جانا اور چرواہوں نے مجھ سے سر کشی کی اور نبیوں نے بعل کے نام سے نبوّت کی اور اُن چیزوں کی پیروی کی جن سے کچھ فائدہ نہیں۔
9 اِسلئے خداوند فرماتا ہے میں پھر تم سے جھگڑونگا اور تمہارے بیٹوں کے بیٹوں سے جھگڑا کرونگا۔
10 کیونکہ پار گذر کر کتیم کے جزیروں میں دیکھو اور قیدار میں قاصد بھیج کر دریافت کرو اور دیکھو کہ اَیسی بات کہیں ہوئی ہے؟۔
11 کیا کسی قوم نے اپنے معبودوں کو حالانکہ وہ خدانہیں بدل ڈالا؟ پر میری قوم نے اپنے جلال کو بے فائدہ چیز سے بدلا۔
12 خداوند فرماتا ہے اَے آسمانو! اِس سے حیران ہو ۔ شدت سے تھرتھراؤ اور بالکل ویران ہو جاؤ۔
13 کیونکہ میرے لوگوں نے دو برائیاں کیں ۔ اُنہوں نے مجھ آبِ حیات کے چشمہ کو ترک کر دیا اور اپنے لئے حوض کھودے ہیں ۔ شکستہ حوض جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔
14 کیا اِسرائیل غلام ہے؟ کیا وہ خانہ زاد ہے ؟ وہ کس لئے لوٹا گیا ؟۔
15 جو ان شیر ببر اُس پر غرائے اور گرجے اور اُنہوں نے اُسکا ملک اُجاڑ دِیا ۔ اُسکے شہر جل گئے ۔ وہاں کوئی بسنے والا نہ رہا۔
16 بنی نوف اور بنی تحفنیس نے بھی تیری کھوپڑی پھوڑی ۔
17 کیا تو خود ہی یہ اپنے اُوپر نہیں لائی کہ تو نے خداوند اپنے خدا کو ترک کیا جبکہ وہ تیری راہبری کرتا تھا؟۔
18 اور اب سیحور کا پانی پینے کو اسور کی راہ میں تیرا کیا مطلب ؟۔
19 تیری ہی شرارت تیری تادیب کریگی اور تیری برگشتگی تجھ کو سزا دیگی ۔ خداوند رب الافواج فرماتا ہے دیکھ اور جان لے کہ یہ بُرا اور بے نہایت بیجا کام ہے کہ تو نے خداوند اپنے خدا کو ترک کیا اور تجھکو میرا خوف نہیں۔
20 کیونکہ مُدّت ہوئی کہ تو نے اپنے جوئے کو توڑ ڈالا اور اپنے بندھنوں کے ٹکڑے کر ڈالے اور کہا کہ میں تابع نہ رہونگی ۔ہاں ہر ایک اُونچے پہاڑ پر اور پر ایک ہرے درخت کے نیچے تو بدکاری کے لئے لیٹ گئی۔
21 میں نے تو تجھے کامل تاک لگا یا اور عمدہ بیج بویا تھا پھر تو کیونکہ کر میرے لئے بے حقیقت جنگلی انگور کا درخت ہو گئی ؟۔
22 ہر چند تو اپنے کو مّجی سے دھوئے اور بہت سا صابون اِستعمال کرے تو بھی خداوند خدا فرماتا ہے تیری شرارت کا داغ میرے حضور عیان ہے۔
23 تو کیونکہ کر کہتی ہے میں ناپاک نہیں ہوں۔ میں نے بعلیم کی پیروی نہیں کی ؟ وادی میں اپنی روش دیکھ اور جو کچھ تو نے کیا ہے معلوم کر ۔ تو تیز رو اُونٹنی کی مانند ہے جو اِدھر اُدھر دوڑتی ہے۔
24 مادہ گور خر کی مانند جو بیابان کی عادی ہے۔ جو شہوت کے جوش میں ہوا کر سُو نگھتی ہے۔ اُسکی مستی کی حالت میں کون اُسے روک سکتا ہے؟اُسکے طالب ماندہ نہ ہو نگے ۔اُسکی مستی کے ایام میں وہ اُسے پالینگے ۔
25 تو اپنے پاؤں کو برہنگی سے اور اپنے حلق کو پیاس سے بچا لیکن تو نے کہا کہ کچھ اُمید نہیں ۔ ہرگز نہیں کیونکہ میں بیگانوں پر عاشق ہوں اور اُن ہی کے پیچھے جا ؤنگی ۔
26 جس طرح چور پکڑاجانے پر رسوا ہوتا ہے اُسی طرح اِسرائیل کا گھرانا رُسوا ہوا ۔وہ اور اُسکے بادشاہ اور اُمر ا اور کاہن اور بنی ۔
27 جو لکڑی سے کہتے ہیں کہ تو میرا باپ ہے اور پتھر سے کہ تو نے مجھے جنم دیا کیونکہ اُنہوں نے میری طرف منہ نہ کیا بلکہ پیٹھ کی پر اپنی مُصیبت کے وقت وہ کہینگے کہ اُٹھ کر ہم کو بچا ۔
28 لیکن تیرے بُت کہا ں ہیں جنکو تو نے اپنے لئے بنایا ؟ اگر وہ تیری مصیبت کے وقت تجھے بچا سکتے ہیں تو اُٹھیں کیونکہ اَے یہوداہ ! جتنے تیرے شہر ہیں اُتنے ہی تیرے معبود ہیں۔
29 تم مجھ سے کیوں حجت کرو گے؟ تم سب نے مجھ سے بغاوت کی ہے خداوند فرماتا ہے۔
30 میں نے بے فائدہ تمہارے بیٹوں کو پیٹا ۔ وہ تربیت پذیر نہ ہوئے ۔ تمہاری ہی تلوار پھاڑنے والے شیر ببر کی طرح تمہارے نبیوں کو کھا گئی ۔
31 اَے اِس پُشت کے لوگو! خداوند کے کلام کا لحاظ کرو۔ کیا میں اِسرائیل کے لئے بیابان یا تا ریکی کی زمین ہوا؟ میرے لوگ کیوں کہتے ہیں ہم آزاد ہو گئے ۔ پھر تیرے پاس نہ آئینگے ؟۔
32 کیا کنواری اپنے زیویا دُلہن اپنی آرایش بُھول سکتی ہے؟ پر میرے لوگ تو مدت مدیر سے مجھکو بھول گئے۔
33 تو طلب عشق میں اپنی راہ کو کیسی آراستہ کرتی ہے ! یقیناًتو نے فاحشہ عورتوں کو بھی اپنی راہیں سکھائی ہیں۔
34 تیر ے ہی دامن پر بے گناہ مسکینوں کا خون بھی پایا گیا ۔ تونے اُنکو نقب لگاتے نہیں پکڑا بلکہ اِن ہی سب باتوں کے سبب سے ۔
35 تو بھی تو کہتی ہے میں بے قصور ہوں ۔ اُسکا غضب یقیناًمجھ پر سے ٹل جائیگا ۔ دیکھ میں تجھ پر فتوی دونگا کیونکہ تو کہتی ہے میں نے گناہ نہیں کیا۔
36 تو اپنی راہ بدلنے کو اَیسی بے قرار کیوں پھرتی ہے؟تو مصر سے بھی شرمندہ ہوگی جیسے اسور سے ہوتی ۔
37 وہاں سے بھی تو اپنے سر پر ہاتھ رکھکر نکلیگی کیونکہ خداوند نے اُنکو جن پر تو نے اعتماد کیا حقیر جانا اور تو اُن سے کامیاب نہ ہوگی۔


باب 3

1 کہتے ہیں کہ اگر کو ئی مر د اپنی بیو ی کو طلا ق دیدے اور وہ اُسکے ہاں سے جا کر کسی دُوسرے مر د کی ہو جا ئے تو کیا وہ پہلا پھر اُسکے پا س جائیگا ؟ کیا وہ زمین نہا یت نا پاک نہ ہو گی ؟ لیکن تو نے تو بہت سے یاروں کے ساتھ بد کاری کی ہے۔کیا اب بھی تو میری طرف پھر یگی ؟ خداوند فرماتا۔
2 پہاڑوں کی طرف اپنی آنکھیں اُٹھا اور دیکھ کو نسی جگہ ہے جہاں تو نے بدکاری نہیں کی ؟تو راہ میں اُنکے لئے اِس طرح بیٹھی جس طرح بیابان میں عرب تو نے اپنی بدکاری اور شرارت سے زمین کو ناپاک کیا۔
3 اِسلئےِ بارش نہیں ہوتی اور آخری برسات نہیں ہوئی ۔ تیری پیشانی فا حشہ کی ہے اور تجھکو شرم نہیں آتی۔
4 کیا تو اب سے مجھے پُکار کر نہ کہیگی اَے میرے باپ ! تو میری جوانی کا راہبر تھا؟۔
5 کیا اُسکا قہر ہمیشہ رہیگا؟ کیا وہ اُسے ابد تک رکھ چھوڑ یگا؟ دیکھ تو اَیسی باتیں تو کہہ چکی لیکن جہاں تک تجھ سے ہو سکا تو نے بُرے کام کئے۔
6 اور یوسیاہ بادشاہ کے ایام میں خداوند نے مجھ سے فرمایا کیا تو نے دیکھا بر گشتہ اِسرائیل نے کیا کیا ہے ؟ وہ ہر ایک اُونچے پہاڑ پر اور پر ایک ہر ے درخت کے نیچے گئی اور وہاں بدکاری کی ۔
7 اور جب وہ یہ سب کچھ کر چکی تو میں نے کہا وہ میری طرف واپس آئیگی پر وہ نہ آئی اور اُسکی بیوفا بہن یہوداہ نے یہ حال دیکھا ۔
8 پھر میں نے دیکھا کہ جب بر گشتہ اِسرائیل کی زناکاری کے سبب سے میں نے اُسکو طلاق دیدی اور اُسے طلاق نامہ لکھ دیا تو بھی اُسکی بیوفا بہن یہوداہ نہ ڈری بلکہ اُس نے بھی جا کر بد کاری کی ۔
9 اور ایسا ہوا کہ اُس نے اپنی بد کاری کی برائی سے زمین کو ناپاک کیا اور پتھر اور لکڑی کے ساتھ زناکاری کی۔
10 اور خداوند فرماتا ہے کہ باوجود اِس سب کے اُسکی بیوفا بہن یہوداہ سّچے دِل سے میری طرف نہ پھری بلکہ ریاکاری سے ۔
11 اور خداوند نے مجھ سے فرمایا برگشتہ اِسرائیل نے بیوفا یہوداہ سے زیادہ اپنے آپ کو صادق ثابت کیا ہے۔
12 جا اور شمال کی طرف یہ بات پُکار کر کہہ دے کہ خداوند فرماتا ہے اَے برگشتہ اِسرائیل ! واپس آ۔ میں تجھ پر قہر کی نظر نہیں کرونگا کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں رحیم ہوں ۔ میرا قہر دائمی نہیں ۔
13 صِرف اپنی بد کرداری کا اِقرار کر کہ تو خداوند فرماتا اپنے خدا سے عاصی ہو گئی اور ہر ایک ہر ے درخت کے نیچے غیروں کے ساتھ اِدھر اُدھر آوارہ پھری ۔خداوند فرماتا ہے تم میری آواز کے شنوا نہ ہوئے ۔
14 خداوند فرماتا ہے اَے برگشتہ بچو واپس آو! کیونکہ میں خود تمہارا مالک ہوں اور میں تم کو ہر ایک شہر میں سے ایک اور ہر گھرانے میں سے دو لیکر صیون میں لاؤنگا۔
15 اور میں تم کو اپنے خاطر خواہ چرواہے دُونگا اور وہ تم کو دانائی اور عقلمندی سے چرائینگے۔
16 اور یوں ہو گا خداوند فرماتا ہے کہ جب اُن ایام میں تم ملک میں بڑھو گے اور بہت ہو گے تب وہ پھر نہ کہینگے کہ خداوند کے عہد کا صندوق ۔ اُسکا خیال بھی کبھی اُنکے دِل میں نہ آئیگا ۔ وہ ہر گز اُسے یاد نہ کر ینگے اور اُسکی زیارت کو نہ جائینگے اور اُسکی مّرمت نہ ہوگی ۔
17 اُس وقت یروشیلم خداوند کا تخت کہلائیگا اور اُس میں یعنی یروشیلم میں سب قومیں خداوند کے نام سے جمع ہو نگی اور وہ پھر اپنے بُرے دِل کی سختی کی پیروی نہ کرینگے ۔
18 اُن ایام میں یہوداہ کا گھرانا اِسرائیل کے گھرانے کے ساتھ چلیگا۔ وہ ملکر شمال کے ملک میں سے اُس ملک میں جسے میں نے تمہارے باپ دادا کو میراث میں دیا آئینگے۔
19 آہ ! میں نے تو کہا تھا میں تجھکو فرزندوں میں شامل کر کے خوشنما ملک یعنی قوموں کی نفیس میراث تجھے دونگا اور تو مجھے باپ کہہ کر پُکاریگی اور تو پھر مجھ سے برگشتہ نہ ہو گی۔
20 لیکن خداوند فرماتا ہے اَے اِسرائیل کے گھرانے ! جس طرح بیوی بیوفائی سے اپنے شوہر کو چھوڑدیتی ہے اُسی طرح تو نے مجھ سے بیوفائی کی ہے۔
21 پہاڑوں پر بنی اِسرائیل کی گریہ وزاری اور منت کی آواز سُنائی دیتی ہے کیونکہ اُنہوں نے اپنی راہ ٹیڑھی کی اور خداوند اپنے خدا کو بھول گئے۔
22 اَے برگشتہ فرزندو واپس آؤ! میں تمہاری برگشتگی کا چارہ کرونگا۔ دیکھ ہم تیرے پاس آتے ہیں کیونکہ تو ہی اَے خداوند ہمارا خدا ہے۔
23 فی الحقیقت ٹیلوں اور پہاڑوں پر کے ہجوم سے کچھ امید رکھنا بے فائدہ ہے یقیناًخداوند ہمارے خداہی میں اِسرائیل کی نجات ہے۔
24 لیکن اِس رسوائی کے باعث نے ہماری جوانی کے وقت سے ہمارے باپ دادا کے مال کو اُنکی بھیڑوں اور اُنکے بیلوں اور اُنکے بیٹے اور بیٹیوں کا نگل لیاہے۔
25 ہم اپنی شرم میں لیٹیں اور رسوائی ہم کو چھپالے کیونکہ ہم کو اور ہمارے باپ دادا اپنی جوانی کے وقت سے آج تک خداوند اپنے خدا کے خطاکار ہیں اور ہم خداوند اپنے خدا کی آواز کے شنوا نہیں ہوئے ۔


باب 4

1 اَے اِسرائیل اگر تو واپس آئے خداوند فرماتا ہے اگر تو میری طرف واپس آئے اور اپنی مکر وہات کو میری نظر سے دُور کرے توتو آوارہ نہ ہو گا۔
2 اور اگر تو سچائی اور عدالت اور صداقت سے زندہ خداوند کی قسم کھائے توقومیں اُسکے سبب سے اپنے آپ کو مبارک کہینگی اور اُس پر فخر کر ینگی۔
3 کیونکہ خداوند یہوداہ اور یروشیلم کے لوگوں کو یوں فرماتا ہے کہ اپنی اُفتادہ زمین پر ہل چلاؤ اور کانٹو ں میں تُخم ریزی نہ کرو۔
4 اَے یہوداہ کے لوگواور یروشیلم کے باشندو !خداوند کے لئے اپنا ختنہ کراؤ ہاں اپنے دِل کا ختنہ کرو تا نہ ہو کہ تمہاری بد اعمالی کے باعث سے امیر قہر آگ کی مانند شعلہ زن ہو اور ایسا بھڑکے کہ کوئی بُجھا نہ سکے ۔
5 یہوداہ میں اِشتہاردو اور یروشیلم میں اِسکی منادی کرو اور کہو کہ تم ملک میں نرسنگا پھونکو۔ بلند آواز سے پُکارو اور کہو کہ جمع ہو کر حصین شہروں میں چلیں ۔
6 تم صیون ہی میں جھنڈا کھڑا کرو ۔ پناہ لینے کو بھاگو اور دیر نہ کر و کیونکہ میں بلا اور ہلاکت شدید کو شمال کی طرف سے لاتا ہوں۔
7 شیر ببر جھاڑیوں سے نکلا ہے اور قوموں کے ہلاک کرنے والے نے کوچ کیا ہے۔ وہ اپنی جگہ سے نکلا ہے تاکہ تیری زمین کو ویران کرے تاکہ تیرے شہر ویران ہوں اور کوئی بسنے والا نہ رہے ۔
8 اِسلئے ٹاٹ اوڑھکر چھاتی پیٹو اور واویلا کرو کیونکہ خداوند کا قہر شدید ہم پر سے ٹل نہیں گیا۔
9 اور خداوند فرماتا ہے اُس وقت ےُوں ہوگا کہ بادشاہ اور سردار بیدل ہو جائینگے اور کاہن حیرت زدہ اور نبی سراسیمہہونگے۔
10 تب میں نے کہا افسو س اَے خداوند خدا یقیناًتو نے اِن لوگوں اور یروشیلم کو یہ کہہ کر دُعا دی کہ تم سلامت رہو گے حالانکہ تلوار جان تک پُہنچ گئی ہے۔
11 اُس وقت ان لوگوں اور یروشیلم سے یہ کہا جا ئیگا کہ بیابان کے پہاڑوں پر سے ایک خشک ہو ا میری دُختر قوم کی طرف چلیگی ۔ اُسانے اورصا ف کرنے کے لئے نہیں۔
12 بلکہ وہاں سے ایک نہایت تُند ہوا میرے لئے چلیگی ۔ اب میں بھی اُن پر فتویٰ دُونگا۔
13 دیکھو وہ گھٹا کی طرح چڑھ آئیگا ۔ اُسکے رتھ گردباد کی مانند اور اُسکے گھوڑے عقابوں سے تیز تر ہیں ۔ ہم پر افسوس ! کہ ہائے ہم غارت ہو گئے ۔
14 اَے یروشیلم ! تو اپنے دِل کو شرارت سے پاک کر تاکہ تو رہائی پائے ۔ بُرے خیالات کب تک تیرے دِل میں رہینگے ؟۔
15 کیونکہ دانؔ سے ایک آواز آتی ہے اور افراؔ ئیم کے پہاڑ سے مُصےِبت کی خبر دیتی ہے ۔
16 قوموں کو خبر دو۔ دیکھو یروشیلم کی بابت منادی کرو کہ مُحاصرہ کرنے والے دُور کے ملک سے آتے ہیں اور یہوداہؔ کے شہروں کے مقابِل للکار ینگے ۔
17 کھیت کے رکھوالوں کی مانند وہ اُسے چاروں طرف سے گھیر ینگے کیونکہ اُس نے مجھ سے بغاوت کی خداوند فرماتا ہے۔
18 تیری چال اور تیرے کاموں سے یہ مصیبت تجھ پر آئی ہے۔ یہ تیری شرارت ہے۔ یہ بہت تلخ ہے کیونکہ یہ تیرے تک پُہنچ گئی ہے۔
19 ہائے میرا دِل ! میرے پردۂ دِل میں درد ہے۔ میرا دِل بیتاب ہے۔ میں چپ نہیں رہ سکتا کیونکہ اَے میری جان !تو نے نرسنگے کی آواز اور لڑائی کی للکار سُن لی ہے۔
20 شکست پر شکست کی خبر آتی ہے۔ یقیناًتمام ملک برباد ہو گیا ۔ میرے خیمے ناگہان اور میرے پردے ایک دم میں غارت کئے گئے۔
21 میں کب تک یہ جھنڈا دیکھوں اور نرسنگے کی آواز سُنوں ؟۔
22 فی الحقیقت میرے لوگ احمق ہیں۔ اُنہوں نے مجھے نہیں پہچانا ۔ وہ بے شعور بچے ہیں اور امتیاز نہیں رکھتے بُرے کام کرنے میں ہوشیار ہیں پر نیکو کاری کی سمجھ نہیں رکھتے ۔
23 میں نے زمین پر نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ویران اور سُنسان ہے۔ افلاک کو بھی بے نور پایا۔
24 میں نے پہاڑوں پر نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کانپ گئے اور سب ٹیلے متزلزل ہو گئے۔
25 میں نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی آدمی نہیں اور سب ہوائی پرندے اُڑ گئے ۔
26 پھر میں نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ زرخیز زمین بیابان ہوگئی اور اُسکے سب شہر خداوند کی حضوری اور اُسکے قہر کی شدت سے برباد ہوگئے ۔
27 کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ تمام ملک ویران ہوگا تو بھی میں اسے بالکل برباد نہ کرونگا۔
28 اِسی لئے زمین ماتم کریگی اور اُوپر سے آسمان تاریک ہو جائیگا کیونکہ میں کہہ چُکا ۔ میں نے اِرادہ کیا ہے ۔ میں اُس سے پشیمان نہ ہو نگا اور اُس سے باز نہ آؤنگا ۔
29 سواروں اور تیر اندازوں کے شور سے تمام شہری بھاگ جائینگے۔ وہ گھنے جنگلوں میں جا گھُسینگے اور چٹانوں پر چڑھ جائینگے۔ سب شہر ترک کئے جائینگے اور کوئی آدمی اُن میں نہ رہیگا۔
30 تب اَے غارت شدہ ! تو کیا کریگی؟ اگرچہ تو لال جوڑا پہنے ۔ اگرچہ تو زرین زیوروں سے آراستہ ہو۔ اگرچہ تو اپنی آنکھوں میں سُرمہ لگائے تو عبث اپنے آپ کو خوبصورت بنا ئیگی ۔ تیرے عاشق تجھکو حقیر جا ئینگے ۔ وہ تیری جان کے طالب ہو نگے۔
31 کیونکہ میں نے اُس عورت کی سی آواز سُنی ہے جسے درد لگے ہوں اور اُسکی سی درد ناک آواز جسکے پہلا بچہ پیدا ہو یعنی دُختر صیون کی آواز جو ہانپتی اور اپنے ہاتھ پھیلا کر کہتی ہے ہائے ! قاتلوں کے سامنے میری جان بیتاب ہے۔


باب 5

1 اب یروشیلم کے کُوچوں میں اِدھر اُدھر گشت کرو اور دیکھو اور دریافت کرو اور اُسکے چوکوں میں ڈھونڈو اگر کوئی آدمی وہاں ملے جو اِنصاف کرنے والا اور سّچائی کا طالب ہو تو میں اُسے معاف کُرونگا۔
2 اور اگرچہ وہ کہتے ہیں زندہ خداوند کی قسم تو بھی یقیناًوہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں۔
3 اَے خداوند ! کیا تیری آنکھیں سّچائی پر نہیں ہیں؟ تو نے اُنکو مارا ہے پر اُنہوں نے افسوس نہیں کیا ۔ تو نے اُنکو غارت کیا پر وہ تربیت پذیر نہ ہوئے اُنہوں نے اپنے چہروں کو چٹان سے بھی زیادہ سخت بنایا ۔ اُنہوں نے واپس آنے سے انکار کیا ہے۔
4 تب میں نے کہا کہ یقیناًیہ بیچارے جاہل ہیں کیونکہ یہ خداوند کی راہ اور اپنے خدا کے احکام کو نہیں جانتے۔
5 میں بُزرگوں کے پاس جا ؤنگا اور اُن سے کلا م کُرونگا کیونکہ وہ خداوند کی راہ اور اپنے خدا کے احکلام کو جانتے ہیں لیکن اِنہوں نے جو ا بالکل توڑ ڈالا اور بندھنوں کے ٹکڑے کر ڈالے ۔
6 اِسلئے جنگل کا شیر ببر اُنکو پھاڑ یگا ۔ بیابان کا بھیڑیا اُنکا ہلاک کریگا۔ چیتہ اُنکے شہروں کی گھات میں بیٹھا رہیگا ۔ جو کوئی اُن میں سے نکلے پھاڑا جا ئیگا کیونکہ اُنکی سرکشی بہت ہُوئی اور اُنکی برگشتگی بڑھ گئی ۔
7 میں تجھے کیونکر مُعاف کُروں ؟ تیرے فرزندوں نے مجھ کو چھوڑا اور اُنکی قسم کھائی جو خدا نہیں ہیں جب میں نے اُنکو سیر کیا تو انہو ں نے بدکاری کی اور پرے باندھکر قحبہ خانوں میں اِکٹھے ہُوئے ۔
8 وہ پیٹ بھرے گھوڑوں کی مانند ہو گئے ۔ ہر ایک صُبح کے وقت اپنے پڑوسی کی بیوی پر ہنہنانے لگا۔
9 خداوند فرماتا ہے کیا میں اِن باتوں کے لئے سزانہ دُونگا اور کیا میری رُوح اَیسی قوم سے اِنتقام نہ لیگی ؟۔
10 اُسکی دِیواروں پر چڑھ جاؤ اور توڑ ڈالو لیکن بالکل برباد نہ کرو ۔ اُسکی شاخیں کاٹ دو کیونکہ وہ خداوند کی نہیں ہیں۔
11 اِسلئےِ کہ خداوند فرماتا ہے اِسرائیل کے گھرانے اور یہوادہؔ کے گھرانے نے مجھ سے نہایت بیوفائی کی۔
12 اُنہوں نے خداوند کا اِنکار کیا اور کہا کہ وہ نہیں ہے ۔ ہم پر ہرگز آفت نہ آئیگی اور تلوار اور کال کو ہم نہ دیکھینگے۔
13 اور نبی محض ہوا ہو جائینگے اور کلام اُن میں نہیں ہے۔ اُنکے ساتھ اَیسا ہی ہوگا۔
14 پس اِسلئے کہ تم یوں کہتے ہو خداوند رب اِلافواج ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اپنے کلام کو تیرے مُنہ میں آگ اور اِن لوگوں کو لکڑی بناؤ نگا۔ اور وہ اِنکو بھسم کر دیگی ۔
15 اَے اِسرائیل کے گھرانے دیکھ میں ایک قوم کو دور سے تجھ پر چڑھا لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔ وہ زبردست قوم ہے ۔ وہ قدیم قوم ہے۔ وہ اَیسی قوم ہے جسکی زبان تو نہیں جانتا اور اُنکی بات کو تو نہیں سمجھتا ۔
16 اُنکے ترکش کُھلی قبریں ہیں۔ وہ سب بہادر مرد ہیں۔
17 اور وہ تیری فصل کا اناج اور تیری روٹی جو تیرے بیٹوں اور بیٹیوں کے کھانے کی تھی کھا جائینگے ۔ تیرے گائے بیل اور تیری بھیڑ بکریوں کو چٹ کر جائینگے تیرے انگور اور انجیر نگل جائینگے۔ تیرے حصین شہروں کو جن پر تیرا بھروسا ہے تلوار سے ویران کردینگے ۔
18 لیکن خداوند فرماتا ہے اُن ایام میں بھی میں تم کو بالکل برباد نہ کرونگا ۔
19 اور یوں ہو گا کہ جب وہ کہینگے کہ خداوند ہمارے خدا نے یہ سب کچھ ہم سے کیوں کیا؟ تو تو اُن سے کہیگا کہ جس طرح تم نے مجھے چھوڑ دِیا اور اپنے ملک میں غیر معبودوں کی عبادت کی اُسی طرح تم اُس ملک میں جو تمہارا نہیں ہے اجنبیوں کی خدمت کرو گے۔
20 یعقوب کے گھرانے میں اِس بات کا اِشتہار دو اور یہوداہؔ میں اِسکی منادی کرو اور کہو ۔
21 اب ذرا سُنو اَے نادان اور بے عقل لوگو جو آنکھیں رکھتے ہو پر دیکھتے نہیں ۔ جو کان رکھتے ہو پر سُنتے نہیں۔
22 خداوند فرماتا ہے کہ کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے؟ کیا تم میرے حضور میں تھرتھراؤ گے نہیں جس نے ریت کو سمندر کی حد پر ابدی حکم سے قائم کیا کہ وہ اُس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور ہر چند اُسکی لہریں اُچھلتی ہیں تو بھی غالب نہیں آتیں اور ہر چند شور کرتی ہیں تو بھی اُس سے تجاؤز نہیں کر سکتیں؟۔
23 لیکن اِن لوگوں کے دِل باغی اور سرکش ہیں۔ اِنہوں نے سرکشی کی اور دُور ہو گئے ۔
24 اِنہوں نے اپنے دِل میں نہ کہا کہ ہم خداوند اپنے خدا سے ڈریں جو پہلی اور پچھلی برسات وقت پر بھیجتا ہے اور فصل مُقررہ ہفتوں کو ہمارے لئے مُوجودہ کر رکھتا ہے۔
25 تمہاری بدکرداری نے اِن چیزوں کو تم سے دُور کر دیا اور تمہارے گُناہوں نے اچھی چیزوں کو تم سے با زرکھا ۔
26 کیونکہ میرے لوگوں میں شریر پائے جاتے ہیں۔ وہ پھندا لگانے والوں کی مانند گھات میں بیٹھتے ہیں۔ وہ جال پھیلاتے اور آدمیوں کو پکڑتے ہیں۔
27 جیسے پنجرا چڑیوں سے بھرا ہو وَیسے ہی اُنکے گھر مکر سے پُر ہیں۔ پس وہ بڑے اور مالدار ہو گئے ۔
28 وہ موٹے ہو گئے ۔ وہ چکنے ہیں ۔ وہ بُرے کاموں میں سبقت لے جاتے ہیں ۔ وہ فریاد یعنی یتیموں کی فریاد نہیں سُنتے تا کہ اُنکا بھلا ہو اور محتاجوں کا اِنصاف نہیں کرتے ۔
29 خداوند فرماتا ہے کیا میں اِن باتوں کے لئے سزا نہ دُونگا؟ اور کیا میری رُوح اَیسی قوم سے اِنتقام نہ لیگی؟۔
30 ملک میں ایک حیرت افزا ہولناک بات ہوئی ۔
31 نبی جھوٹی نبوت کرتے ہیں اور کاہن اُنکے وسیلہ سے حکمرانی کرتے ہیں اور میرے لوگ اَیسی حالت کو پسند کرتے ہیں۔ اب تم اِسکے آخر میں کیا کرو گے ؟۔


باب 6

1 اَے بنی بنیمین یروشیلم میں پناہ کے لئے بھاگ نکلو اور تقوع میں نرسنگا پُھونکا اور بیت ہکرم میں آتشین علم بلند کرو کیونکہ شمال کی طر ف سے بلا اور بڑی تباہی آنے والی ہے۔
2 میں دُخترصِےُوّن کو جو شکیل اور نازِنین ہے ہلاک کُرونگا۔
3 چروا ہے اپنے گلّوں کو لیکر اُسکے پاس آئینگے اور گرداگردا اُسکے مُقابل خیمے کھڑے کرینگے ۔ ہر ایک اپنی جگہ میں چرائیگا ۔
4 اُس سے جنگ کے لئے اپنے آپکو مخصوص کرو۔ اُٹھو دوپہرہی کو چڑھ چلیں۔ ہم پر افسوس کیونکہ دِن ڈھلتا جاتا ہے اور شام کا سایہ بڑھتا جاتا ہے۔
5 اُٹھو رات ہی کو چڑھ چلیں اور اُسکے قصروں کو ڈھادیں۔
6 کیونکہ ربُّ الافواج ےُوں فرماتا ہے کہ درخت کاٹ ڈالو اور یروشیلم کے مُقابل دمدسہ باندھو۔ یہ شہر سزا کا سزا وار ہے۔ اِس میں ظلم ہی ظلم ہے۔
7 جِس طرح پانی چشمہ سے پھوٹ نکلتا ہے اُسی طرح شرارت اِس سے جاری ہے۔ ظلم اور ستم کی صدا اِس میں سُنی جاتی ہے ۔ وہ ہر دم میرے سامنے دُکھ درد اور زخم ہیں۔
8 اَے یروشیلم ! تربیت پذیر ہوتا نہ ہو کہ میرا دِل تجھ سے ہٹ جائے ۔ نہ ہو کہ میں تجھے ویران اور غیر آباد زمین بنادُوں ۔
9 ربُّ الافواج ےُوں فرماتا ہے کہ وہ اِسرائیل کے پاس بقیہ کو انگوروں کی مانند ڈھونڈکر توڑ لینگے ۔ تو انگور توڑنے والے کی طرح پھر اپنا ہاتھ شاخوں میں ڈال ۔
10 میں کس سے کہوں اور کسکو جتاؤں تاکہ وہ سُنیں؟ دیکھ اُنکے کان نامختون ہیں اور وہ سُن نہیں سکتے ۔ دیکھ خداوند کا کلام اُنکے لئے حقارت کا باعث ہے ۔ وہ اُس سے خوش نہیں ہوتے ۔
11 اِسلئے میں خداوند کے قہر سے لبریز ہوں ۔ میں اُسے ضبط کرتے کرتے تنگ آگیا ۔ بازاروں میں بچوں پر اور جوانوں کی جماعت پر اُسے اُنڈیل دے کیونکہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اور بُوڑھا کُہن سال کے ساتھ گرفتار ہو گا۔
12 اور اُنکے گھر کھیتوں اور بیویوں سمیت اَوروں کے ہو جائینگے کیونکہ خداوند فرماتا ہے اپنا ہاتھ اِس ملک کے باشندوں پر بڑھاؤنگا۔
13 اِسلئے کے چھوٹوں سے بڑوں تک سب کے سب لالچی ہیں اور نبی سے کاہن تک ہر دغا باز ہے ۔
14 کیونکہ وہ میرے لوگوں کے زخم کو ےُوں ہی سلامتی سلامتی کہکر اچھّا کرتے ہیں حالانکہ سلامتی نہیں ہے ۔
15 کیا وہ اپنے مکروہ کاموں کے سبب سے شرمندہ ہوئے؟ وہ ہرگز شرمندہ نہ ہوئے بلکہ وہ لجائے تک نہیں اِس واسطے وہ گرنے والوں کے ساتھ گرینگے ۔ خداوند فرماتا ہے جب میں اُنکو سزا دُونگا تو پست ہو جائینگے۔
16 خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ راستوں پرکھڑے ہو اور دیکھو اور پُرانے راستوں کی بابت پُوچھو کہ اچھی راہ کہاں ہے ؟ اُسی پر چلو اور تمہاری جان راحت پائیگی پر اُنہوں نے کہا ہم اُس پر نہ چلینگے ،۔
17 اور میں نے تم پر نگہبان بھی مقرر کئے اور کہا نرسنگے کی آواز سُنو پر اُنہوں نے کہا ہم نہ سُنینگے ۔
18 اِسلئے اَے قو مو سُنو! اور اَے اہل مجمع معلوم کرو کہ اُنکی کیا حالت ہے۔
19 اَے زمین سُن! دیکھ میں اِن لوگوں پر آفت لاؤنگا جو اِنکے اندیشوں کا پھل ہے کیونکہ اِنہوں نے میرے کلام کو نہیں مانا اور میری شریعت کو ردّ کردیاہے۔
20 اِس سے کیا فائدہ کہ سبا سے لبان اور دور کے ملک سے اگر میرے حضور لاتے ہیں؟ تمہاری سوختنی قربانیاں مجھے پسند نہیں اور تمہارے ذبیحوں سے مجھے خوشی نہیں۔
21 اِسلئے خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں ٹھوکر کھلانے والی چیزیں اِن لوگوں کی راہ میں رکھ دُونگا اور باپ اور بیٹے باہم اُن سے ٹھوکر کھائینگے ہمسائے اور اُنکے دوست ہلاک ہونگے۔
22 خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ شمالی ملک سے ایک گُروہ آتی ہے اور اِنتہایِ زمین سے ایک بڑی قوم برانگختیہ کی جائیگی ۔
23 وہ تیر انداز و نیزہ باز ہیں۔ وہ سنگدل اور بے رحم ہیں۔ اُنکے نعروں کی صداسُمندر کی سی ہے اور وہ گھوڑوں پر سوار ہیں۔ اَے دُختر صےُّون ! وہ جنگی مردوں کی مانند تیرے مقابل صف آرائی کرتے ہیں۔
24 ہم نے اِسکی شہرت سُنی ہے ۔ ہمارے ہاتھ ڈھیلے ہوگئے ہم زچہ کی مانند مُصیبت اور درد میں گرفتار ہیں۔
25 میدان میں نہ نکلنا اور سڑک پر نہ جانا کیونکہ ہر طرف دُشمن کی تلوار کا خوف ہے۔
26 اَے میری بنتِ قوم ! ٹاٹ اوڑھ اور راکھ میں لیٹ ۔ اپنے اِکلوتوں پر ماتم اور دِلخراش نوحہ کر کیونکہ غارتگر ہم پر اچانک آئیگا ۔
27 میں نے تجھے اپنے لوگوں میں پرکھنے والا اور بُرج مقرر کیا تاکہ تو اُنکی روِشوں کو معلوم کرے اور پرکھے۔
28 وہ سب کے سب نہایت سرکش ہیں ۔ وہ غیبت کرتے ہیں ۔ وہ تو تانبا اور لوہا ہیں۔ وہ سب کے سب مُعاملہ کے کھوٹے ہیں۔
29 دھونکنی جل گئی ۔ سیسا آگ سے بھسم ہو گیا ۔ صاف کرنے والے نے بے فائدہ صاف کیا کیونکہ شریر الگ نہیں ہوئے۔
30 وہ مردُ ود چاندی کہلائینگے کیونکہ خداوند نے اُنکو رد کر دیا ہے۔


باب 7

1 یہ وہ کلام ہے جو خداوند کی طرف سے یرمیاہ پر نازل ہوا اور اس نے فرمایا ۔
2 تو خداوند کے گھر کے پھاٹک پر کھڑا ہو اور وہاں اس کلام کا اشتہا ر دے اور کہہ اے یہوداہ کے سب لوگو جو خداوند کی عبادت کے لئے ان پھاٹکوں سے داخل ہوتے ہو تو خداوند کا کلام سنو!۔
3 رب الافواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ اپنی روشیں اور اپنے اعمال درست کرو تو میں تم کو مکان میں بساؤ نگا۔
4 جھوٹی باتوں پر بھروسا نہ کرو اور یوں نہ کہتے جاؤ کہ یہ ہے خداوند کی ہیکل ۔خداوند کی ہیکل ۔خداوند کی ہیکل ۔
5 کیونکہ اگر تم اپنی روشیں اور اپنے اعمال سراسر درست کرو۔ اگر ہر آدمی اور اسکے ہمسایہ میں پورا انصاف کرو۔
6 اگر پردیسی اور یتیم اور بیوہ پر ظلم نہ کرو اور اس مکان میں بیگناہ کا خون نہ بہاؤ اور غیر معبودوں کی پیروی جس میں تمہارا نقصان ہے نہ کرو۔
7 تو میں تم کو اس مکان اور اس ملک میں بساؤ نگا جو میں تمہارے باپ دادا کو قدیم سے ہمیشہ کے لئے دیا۔
8 دیکھو تم جھوٹی باتوں پر جو بے فائدہ ہیں بھروسا کرتے ہو۔
9 کیا تم چوری کروگے ۔خون کرو گے ۔ زنا کاری کرو گے جھوٹی قسم کھاؤ گے اور بعل کے لئے بخور جلاؤ گے اور غیر معبودوں کی جنکو تم نہیں جانتے تھے پیروی کروگے۔
10 اور میرے حضور اس گھر میں جو میرے نام سے کہلاتا ہے اگر کھڑے ہوگے اور کہو گے کہ ہم نے خلاصی پائی تاکہ یہ سب نفرتی کام کرو ؟۔
11 کیا یہ جو گھر میرے نام سے کہلاتا ہے تمہاری نظر میں ڈاکوؤ ں کا غار بن گیا ؟ دیکھ خداوند فرماتا ہے میں نے خود یہ دیکھا ہے ۔
12 پس اب میرے اس مکان کو جاؤ جو سَیلا میں تھا ۔ جس پر پہلے میں نے اپنے نام کو قائم کیا تھا اور دیکھو کہ میں نے اپنے لوگوں یعنی بنی اسرائیل کی شرارت کے سبب سے اس سے کیا کِیا۔
13 اور خداوند فرماتا ہے اب چونکہ تم نے یہ سب کام کئے میں نے بر وقت تم کو کہا اور تاکید کی پر تم نے نہ سنا اور میں نے تم کو بلایا پر تم نے جواب نہ دیا۔
14 اسلئے میں اس گھر سے جو میرے نام سے کہلاتا ہے جس پر تمہارا اعتماد ہے اور اس مکان سے جسے میں نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو دیا وہی کرونگا جو میں نے سَیلا سے کیا ہے ۔
15 اور میں تم کو اپنے حضور سے نکال دونگا جس طرح تمہاری ساری برادری افرائیم کی کل نسل کو نکال دیا ہے۔
16 پس تو ان لوگوں کے لئے دعا نہ کر اور انکے واسطے آواز بلند نہ کر اور مجھ سے منت اور شفاعت نہ کر کیونکہ میں تیری نہ سنونگا۔
17 کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ یہوداہ کے شہروں میں اور یروشیلم کے کوچوں میں کیا کرتے ہیں ؟۔
18 بچے لکڑی جمع کرتے ہیں اور باپ آگ سلگاتے ہیں اور عورتیں آٹا گوندھتی ہیں تاکہ آسمان کی ملکہ کے لئے روٹیاں پکائیں اور ٖیر معبودوں کے لئے تپاون تپا کر مجھے غضبناک کریں ۔
19 خداوند فرماتا ہے کیا وہ مجھ ہی کو غضبناک کرتے ہیں ؟ کیا وہ اپنی ہی روسیاہی کے لئے نہیں کرتے ؟۔
20 اسی واسطے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میرا قہرو غضب اس مکان پر اور انسان اور حیوان اور میدان کے درختوں پر اور زمین کی پیداوار پر انڈیل دیا جائیگا اور وہ بھڑکیگا اور بجھیگا نہیں۔
21 رب الا فواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ اپنے ذبیحوں پر اپنی سوختنی قربانیاں بھی بھڑھاؤ اور گوشت کھاؤ ۔
22 کیونکہ جس وقت میں تمہارے باپ دادا کو ملک مصر سے نکال لایا اُنکو سوختنی قربانی اور ذبیحہ کی بابت کچھ نہیں کہااور حکم نہیں دِیا۔
23 بلکہ میں نے اُنکو یہ حکم دیا اور فرمایا کہ میری آواز کے شنوا ہو اور میں تمہارا خدا ہونگا اور تم میرے لوگ ہوگے اور جس راہ کی میں تم کو ہدایت کُروں اُس پر چلو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔
24 لیکن اُنہوں نے نہ سُنا نہ کان لگایا بلکہ اپنی مصلحتوں اور آگے نہ بڑھے ۔
25 جب سے تمہارے باپ دادا ملک مصر سے نکل آئے اب تک میں نے تمہارے پاس اپنے سب خادِ موں یعنی نبیوں کو بھیجا ۔ میں نے اُنکو ہمیشہ بر وقت بھیجا ۔
26 لیکن اُنہوں نے میری نہ سُنی اور کان نہ لگایا بلکہ اپنی گردن سخت کی۔ اُنہوں نے اپنے باپ دادا سے بڑھکر بُرائی کی۔
27 تو یہ سب باتیں اُن سے کہیگا لیکن وہ تیری نہ سُنینگے ۔ تو اُنکو بُلائیگا لیکن وہ تجھے جواب نہ دینگے ۔
28 پس تو اُن سے کہدے کہ یہ وہ قوم ہے جو خداوند اپنے خدا کہ آواز کی شنوا اور تربیت پذیر نہ ہوئی ۔ سّچائی نیست ہو گئی اور اُنکے مُنہ سے جاتی رہی ۔
29 اپنے بال کاٹ کر پھینک دے اور پہاڑوں پر جا کر نوحہ کر کیونکہ خداوند نے اُن لوگوں کو جن پر اُسکا قہر ہے ردّ اور ترک کر دیا ہے۔
30 اِسلئے کہ بنی یہوداہ نے میری نظر میں بُرائی کی ۔ خداوند فرماتا ہے اُنہوں نے اُس گھر میں جو میرے نام سے کہلاتا ہے اپنی مکروہات رکھیں تا کہ اُسے ناپاک کریں۔
31 اور اُنہوں نے توفت کے اُونچے مقام بن ہنوم کی وادی میں بنائے تاکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو آگ میں جلائیں جسکا میں نے حکم نہیں دیا اور میرے دِل میں اِسکا خیال بھی نہ آیا تھا ۔
32 اِسلئے خداوند فرماتا ہے دیکھ وہ دِن آتے ہیں کہ یہ نہ توفت کہلائیگی نہ بن ہنوم کہ وادی قتل اور جگہ نہ ہونے کے سبب سے توفت میں دفن کرینگے ۔
33 اور اِس قوم کی لاشیں ہوائی پرندوں اور زمین کے درندوں کی خوراک ہونگی اور اُنکو کوئی نہ ہنکائیگا ۔
34 تب میں یہوداہ کے شہروں میں اور یروشیلم کے بازاروں میں خوشی اور شادمانی کی آواز ۔دُلہے اور دُلہن کی آواز موقوف کُرونگا کیونکہ یہ ملک ویران ہو جائیگا۔


باب 8

1 خداوند فرماتا ہے کہ اُس وقت وہ یہوداہ کے بادشاہوں اور اُسکے سرداروں اور کاہنوں اور نبیوں اور یروشیلم کے باشندوں کی ہڈیاں اُنکی قبروں سے نکال لائینگے ۔
2 اور اُنکو سُورج اور چاند اور تمام اجرام فلک کے سامنے جنکو وہ دوست رکھتے اور جنکی خدمت و پیروی کرتے تھے جن سے وہ صلاح لیتے تھے اور جنکو سجدہ کرتے تھے بچھا ئینگے ۔ وہ نہ جمع کی جائینگی نہ دفن ہونگی بلکہ رُویِ زمین پر کھاوبنینگی ۔
3 اور وہ سب لوگ جو اِس بُرے گھرانے میں سے باقی بچ رہینگے اُن سب مکانوں میں جہاں جہاں میں اُنکو ہانک دُوں موت کو زندگی سے زیادہ چاہینگے ربُّ الافوج فرماتا ہے۔
4 اور تو اُن سے کہدے کہ خداوند ےُوں فرماتا ہے کیا لوگ گر کر پھر نہیں اُٹھتے ؟ کیا کوئی برگشتہ ہو کر واپس نہیں آتا؟۔
5 پھر یروشیلم کے یہ لوگ کیوں ہمیشہ کی برگشتگی پر اڑے ہیں؟ وہ مکر سے لپٹے رہتے ہیں اور واپس آنے سے اِنکار کرتے ہیں۔
6 میں نے کان لگایا اور سُنا ۔ اُنکی باتیں ٹھیک نہیں ۔ کسی نے اپنی بُرائی سے توبہ کرکے نہیں کہا کہ میں نے کیا کِیا ؟ ہر ایک اپنی راہ کو پھرتا ہے جِس طرح گھوڑا لڑائی میں سرپٹ دَوڑتا ہے۔
7 ہاں ہوائی لقلق اپنے مُقررہ وقتوں کو جانتا ہے اور قمری اور ابابیل اور کُلنگ اپنے آنے کا وقت پہچان لیتے ہیں لیکن میرے لوگ خداوند کے احکام کو نہیں پہچانتے ۔
8 تم کیونکر کہتے ہو کہ ہم تو دانشمند ہیں اور خداوند کی شریعت ہمارے پاس ہے ؟ لیکن دیکھ لکھنے والوں کے باطل قلم نے بطالت پیدا کی ہے۔
9 دانشمند شرمندہ ہوئے ۔ وہ حیران ہُوئے اور پکڑے گئے ۔ دیکھ اُنہوں نے خداوند کے کلام کو رّد کیا۔ اُن میں کیسی دانائی ہے؟۔
10 پس میں اُنکی بیویاں اور وں کو اُنکے کھیت اُنکو دُونگا جو اُن پر قابض ہونگے کیونکہ وہ سب چھوٹے سے بڑے تک لالچی ہیں اور نبی سے کاہن تک ہر ایک دغا باز ہے۔
11 اور وہ میری بنتِ قوم کے زخم کو یوُں ہی سلامتی سلامتی کہکر اچھّا کرتے ہیں حالانکہ سلامتی نہیں ہے۔
12 کیا وہ اپنے مکُروہ کاموں کے سبب سے شرمندہ ہُوے ؟ وہ ہرگز شرمندہ نہ ہُوئے بلکہ وہ لجائے تک نہیں ۔ اِس واسطے وہ گرنے والوں کے ساتھ گرینگے ۔ خداوند فرماتا ہے جب اُنکو سزا ملیگی تو پست ہو جا ئینگے ۔
13 خداوند فرماتا ہے کہ میں اُنکو بِالکل فنا کُرونگا ۔ نہ تاک میں انگور لگینگے اور نہ انجیر کے درخت میں اِنجیر بلکہ پتے بھی سُوکھ جائینگے اور جو کچھ میں نے اُنکو دِیا جاتا رہیگا ۔
14 ہم کیوں چُپ چاپ بیٹھے ہیں؟ آؤ اِکٹھے ہو کر مُحکم شہروں میں بھاگ چلیں اور وہاں چُپ ہو رہیں کیونکہ خداوند ہمارے خدانے ہم کو چُپ کرایا اور ہم کو اِندراین کاپانی پینے کو دیا ہے۔ اِسلئے کہ ہم خداوند کے گُنہگار ہیں۔
15 سلامتی کا اِنتظار تھا پر کچھ فائدہ نہ ہوا اور شفا کے وقت کر پر دیکھو دہشت !۔
16 اُسکے جنگی گھوڑوں کے غرانے کی آواز دانؔ سے سُنائی دیتی ہے ۔ اُسکے جنگی گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سے تمام زمین کانپ گئی کیونکہ وہ آپہنچے ہیں اور زمین کو اور سب کچھ جو اُس میں ہے اور شہر کو بھی اُسکے باشندوں سمیت کھا جائینگے ۔
17 کیونکہ خداوند فرماتا ہے دیکھو میں تمہارے درمیان سانپ اور افعی بھیجو نگا جِن پر منترکار گر نہ ہوگا اور وہ تمکو کاٹینگے ۔
18 کاشکہ میں غم سے تسلی پاتا ! میرا دِل مجھ میں سُست ہوگیا ۔
19 دیکھ میری بنتِ قوم کے نالہ کی آواز دُور کے ملک سے آتی ہے۔ کیا خداوند صیوُّن میں نہیں ؟ کیا اُسکا بادشاہ اُس میں نہیں ؟ اُنہوں نے کیوں اپنی تراشی ہُوئی مُورتوں سے بیگانہ معبودوں سے مجھکو غضبناک کیا ؟۔
20 فصل کاٹنے کا وقت گذرا ۔ گرمی کے ایام تمام ہُوئے اور ہم نے رہائی نہیں پائی۔
21 اپنی بنت قوم کی شکستگی کے سبب سے میں شکستہ حال ہُوا ۔ میں کُڑھتا رہتا ہوں ۔ حیرت نے مجھے دبا لیا ۔
22 کیا جِلعاد ؔ میں روغن بلسان نہیں ہے؟ کیا وہاں کوئی طبیب نہیں؟ میری بنتِ قوم کیوں شفا نہیں پاتی ؟۔


باب 9

1 کاشکہ میرا سر پانی ہوتا اور میری آنکھیں آنُسو ؤنکا چشمہ تاکہ میں اپنی بنتِ قوم کے مقُتولوں پر شب وروز ماتم کرتا !۔
2 کاشکہ میرے لئے بیابان میں مُسافر خانہ ہوتا تاکہ میں اپنی قوم کو چھوڑدیتا اور اُن میں نکل جاتا! کیونکہ وہ سب بدکار اور دغا باز جماعت ہیں۔
3 وہ اپنی زبان کو ناراستی کی کمان بناتے ہیں۔ وہ ملک میں زور آور ہو گئے ہیں لیکن راستی کے لئے نہیں کیونکہ وہ بُرائی سے بُرائی تک بڑھتے جاتے ہیں اور مجھکو نہیں جانتے خداوند فرماتا ہے۔
4 ہر ایک اپنے ہمسایہ سے ہوشیار رہے اور تم کسی بھائی پر اعتماد نہ کرو کیونکہ ہر ایک بھائی دغا بازی سے دُوسرے کی جگہ نے لیگا اور ہر ایک ہمسایہ غیبت کرتا پھریگا ۔
5 اورہر ایک اپنے ہمسایہ کو فریب دیگا اور سچ نہ بولیگا ۔ اُنہوں نے اپنی زبان کوجھوٹ بولنا سکھایا ہے اور بدکرداری میں جانفشانی کرتے ہیں۔
6 تیرا مسکن فریب کے درمیان ہے۔ خداوند فرماتا ہے فریب ہی سے وہ مجھکو جاننے سے اِنکا ر کرتے ہیں۔
7 اِسلئےِ ربُّ الافواج ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اُنکو پگھلاڈالُونگا اور اُنکو آزماؤنگا کیونکہ اپنی بنتِ قوم سے اَور کیا کُروں ؟۔
8 اُنکی زبان مُہلک تیر ہے۔ اُس سے دغا کی باتیں نکلتیِ ہیں۔ اپنے ہمسایہ کو منہ سے تو سلام کہتے ہیں پر باطن میں اُسکی گھات میں بیٹھتے ہیں۔
9 خداوند فرماتا ہے کیا میں اِن باتوں کے لئے اُنکو سزا دُونگا ؟کیا میری رُوح اَیسی قوم سے اِنتقام نہ لیگی ؟۔
10 میں پہاڑوں کے لئے گریہ و زاری اور بیابا ن کی چراگاہوں کے لئے نَوحہ کُرونگا کیونکہ وہ یہاں تک جل گئیں کہ کوئی اُن میں قدم نہیں رکھتا چوپایوں کی آواز سُنائی نہیں دیتی ۔ ہوا کے پرندے اور مویشی بھاگ گئے ۔ وہ چلے گئے۔
11 میں یروشیلم کو کھنڈر اور گیدڑوں کا مسکن بنادُونگا اور یہوداہ ؔ کے شہروں کو اَیسا ویران کُرونگا کہ کوئی باشندہ نہ رہیگا ۔
12 صاحب حکمت آدمی کون ہے کہ اِسے سمجھے ؟ اور وہ جس سے خداوند کے منہ نے فرمایا کہ اِس بات کا اِعلان کرے؟ کہ یہ سرزمین کس لئے ویران ہُوئی اور بیابان کی مانند جل گئی کہ کوئی اِ س قدم نہیں رکھتا ؟۔
13 اور خداوند فرماتا ہے اِسلئےِ کہ اُنہوں نے میری شریعت کو جو میں نے اُنکے آگے رکھی تھی ترک کردیا اور میری آواز کو نہ سُنا اور اُسکے مُطابق نہ چلے ۔
14 بلکہ اُنہوں نے اپنے ہٹّی دِلوں کی اور بعلیم کی پیروی کی جسکی اُنکے باپ دادا نے اُنکو تعلیم دی تھی ۔
15 اِسلئےِ ربُّ الافواج اِسرائیل کا خُدا ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِنکو ہاں اِن لوگوں کو نالہ رَونا کھلاؤ نگا اور اِندراین کا پانی پلاؤ نگا۔
16 اور اِنکو اُن قوموں میں جنکو نہ یہ نہ اِنکے باپ دادا جانتے تھے تّر بِتر کُرونگا اور تلوار اِنکے پیچھے بھیجکر اِنکو نابودکر ڈالُونگا ۔
17 ربُّ الافواج ےُوں فرماتا ہے کہ سوچو اور ماتم کر نے والی عورتوں کو بُلاؤ کہ آئیں اور ماہر عورتوں کوبُلوا بھیجو کہ وہ بھی آئیں ۔
18 اور جلدی کریں اور ہمارے لئے نُو حہ اُٹھائیں تاکہ ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہوں اور ہماری پلکوں سے سیلاب اشک بہ نکلے ۔
19 یقیناًصِیوُّن سے نَوحہ کی آواز سُنائی دیتی ہے۔ ہم کیسے غارت ہُوئے اور ہمارے گھر گرا دِئے گئے۔
20 اَے عورتو! خداوند کا کلام سُنو اور تمہارے کان اُسکے مُنہ کی بات قبول کریں اور تم اپنی بیٹیوں کو نَوحہ گری اور اپنی پڑوسنوں کو مرثیہ خوانی سکھاؤ۔
21 کیونکہ موت ہماری کھڑکیوں میں چڑھ آئی ہے اور ہمارے قصروں میں گھُس بیٹھی ہے تاکہ باہر بچوں کو بازاروں میں جوانوں کو کاٹ ڈالے ۔
22 کہدے خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ آدمیوں کی لاشیں میدان میں کھاد کی طرح گر ینگی اور اُس مُٹھی بھر کی مانند ہو نگی جو فصل کانٹے والے کے پیچھے رہ جائے جِسے کوئی جمع نہیں کرتا۔
23 خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ نہ صاحب حکمت اپنی حکمت پر اور نہ قوی پنی قُّوت پر اور نہ مالدار اپنے مال پر فخر کرے۔
24 لیکن جو فخر کرتا ہے اِس پر فخر کرے کہ وہ سمجھتا اور مجھے جانتا ہے کہ میں ہی خداوند ہُوں جو دنیا میں شفقت وعدل اور راستبازی کو عمل میں لاتا ہوں کیونکہ میری خوشنودی اِن ہی باتوں میں ہے خداوند فرماتا ہے۔
25 دیکھ وہ دِن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے جب میں سب مختونوں کو نامختونوں کے طور پر سزا دُونگا ۔
26 مِصر ؔ اور یہُوادہؔ اور ادومؔ اور بنی عُموّن اور موآبؔ کو اور اُن سب کو جو گاودُم داڑھی رکھتے ہیں جو بیابان کے باشندے ہیں کیونکہ یہ سب قَومیں نامختون ہیں اور اِسرائیل کا سارا گھرانا دِل کا نامختون ہے۔


باب 10

1 اَے اِسرائیل کے گھرانے ! وہ کلام جو خداوند تم سے کرتا ہے سُنو۔
2 خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ تم دیگر اقوام کی روش نہ سیکھو اور آسمانی علامات سے ہر اسان نہ ہو اگرچہ دِیگر اقوام اُن سے ہراسان ہوتی ہیں ۔
3 کیونکہ اُنکے آئین بطالت ہیں چنانچہ کوئی جنگل میں کلہاڑی سے درخت کاٹتا ہے جو بڑھئی کے ہاتھ کا کام ہے۔
4 وہ اُسے چاندی اور سونے سے آراستہ کرتے ہیں اور اُس میں ہتھوڑوں سے منیحے لگا کر اُسے مضبوط کرتے ہیں تاکہ قائم رہے۔
5 وہ کھجور کی مانند مخروطی سُتون ہیں پر بولتے نہیں۔اُنکو اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ چل نہیں سکتے ۔ اُن اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ چل نہیں سکتے ۔ اُن سے فائدہ بھی نہیں پہنچ سکتا۔
6 اَے خداوند ! تیرا کو ئی نظیر نہیں ۔ تو عظیم ہے اور قدرت کے سبب سے تیرا نام بُزرگ ہے۔
7 اَے قوموں کے بادشاہ ! کون ہے جو تجھ سے نہ ڈر ے ؟ یقیناًیہ تجھ ہی کو زیبا ہے کیونکہ قوموں کے سب حکیموں میں اُنکی تمام مملکتوں میں تیرا ہمتا کوئی نہیں۔
8 مگر وہ سب حیوان خصلت اور احمق ہیں۔بُتوں کی تعلیم کیا ۔ وہ تو لکڑی ہیں! ۔
9 تر سیس ؔ سے چاند ی کا پیٹا ہوا پّتر اور اُوفاز ؔ سے سونا آتا ہے جو کاریگر کی کاریگر ی اور سُنار کی دستکاری ہے۔ اُنکا لباس نیلا اور ارغوانی ہے اور یہ سب کچھ ماہر اُستادوں کی دستکاری ہے۔
10 لیکن خداوند سّچا خدا ہے۔ وہ زِندہ خدا اور ابدی بادشاہ ہے۔ اُسکے قہر سے زمین تھرتھراتی ہے اور قوموں میں اُسکے قہر کی تاب نہیں ۔
11 تم اُن سے ےُوں کہنا کہ یہ معبود جنہوں نے آسمان کے نیچے سے نیست ہو جائینگے۔
12 اُسی نے اپنی قدرت سے زمین کو بنایا ۔ اُسی نے اپنی حکمت سے جان کو قائم کیا اور اپنی عقل سے آسمان کو تان دِیا ہے۔
13 اُسکی آواز سے آسمان میں پانی کی فراوانی ہوتی ہے اور وہ زمین کی انتہا سے بُخارات اُٹھاتا ہے۔ اور وہ بارش کے لئے بجلی چمکاتا ہے اور اپنے خزانوں سے ہوا چلاتا ہے۔
14 ہر آدمی حیوان خصلت اور بے علم ہو گیا ہے۔ ہر ایک سُنار اپنی کھودی ہُوئی مُورت سے رُسوا ہے کیونکہ اُسکی ڈھالی ہُوئی مُورت باطل ہے۔ اُن میں دم نہیں۔
15 وہ باطل فعل فریب ہیں ۔ سزا کے وقت برباد ہو جائینگی ۔
16 یعقوب کا بخرہ اُنکی مانند نہیں کیونکہ وہ سب چیزوں کا خالق ہے اور اِسرائیل اُسکی میراث کا عصاہے ۔ ربُّ الافواج اُسکا نام ہے۔
17 اَے مُحاصرہ میں رہنے والی ! زمین پر سے اپنی گٹھری اُٹھالے ۔
18 کیونکہ خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس ملک کے باشندوں کو اب کی بار گویا فلا خن میں رکھکر پھینک دُونگا اور اُنکو اَیسا تنگ کُرونگا کہ جان لیں ۔
19 ہائے میری خستگی ! میرا زخم درد ناک ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ یقیناًمجھے یہ دُکھ برادشت کرنا ہے ۔
20 میرا خیمہ غارت کیا گیا اور میری سب طنا ہیں توڑ دی گئیں ۔ میرے بچے میرے پاس سے چلے گئے اور وہ ہیں نہیں ۔اب کوئی نہ رہا جو میرا خیمہ کھڑا کرے اور میرے پردے لگائے ۔
21 کیونکہ چرواہے حیوان بن گئے اور خداوند کے طالب نہ ہُوئے اِسلئےِ وہ کامیاب نہ ہُوئے اور اُنکے سب گلّے تِتّر بتر ہوگئے ۔
22 دیکھ شمال کے ملک سے بڑے غوغا اور ہنگامہ کی آواز آتی ہے تاکہ یہوادہؔ کے شہروں کو اُجاڑ کر گیدڑوں کا مسکن بنائے۔
23 اَے خداوند ! میں جانتا ہوں کہ اِنسا ن اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا ۔
24 اَے خداوند ! مجھے تنبیہ کر پر اندازہ سے ۔ اپنے قہر سے نہیں ۔ نہ ہو کہ تو مجھے نا بودہ کر دے ۔
25 اَے خداوند! اُن قوموں پر جو تجھے نہیں جا نتیں اور اُن گھرانوں پر جو تیرا نام نہیں لیتے اپنا قہر اُنڈیل دے کیونکہ وہ یعقوب کو کھا گئے ۔ وہ اُسے نگل گئے اور چٹ کر گئے اور اُسکے مسکن کو اُجاڑ دِیا۔


باب 11

1 یہ وہ کلام ہے جو خداوند کی طرف سے یرمیاہ ؔ پر نازل ہُوا اور اُس نے فرمایا۔
2 کہ تم اِس عہد کی باتیں سُنو اور بنی یہوداہؔ اور یروشیلم کے باشندوں سے بیان کرو۔
3 اور تو اُن سے کہہ خداوند اِسرائیل کا خدا ےُوں فرماتا ہے کہ لعنت اُس انسان پر جو اس عہد کی باتیں نہیں سُنتا ۔
4 جو میں نے تمہارے باپ دادا سے اُس وقت فرمائیں جب میں اُنکو ملک مصر سے لوہے کے تنور سے یہ کہکر نکال لایا کہ تم میری آواز کی فرمانبر داری کرو اور جو کچھ میں نے تم کو حکم دیا ہے اُس پر عمل کرو تو تم میرے لوگ ہوگے اور میں تمہارا خدا ہونگا ۔توکہ میں اُس قسم کو جو میں نے تمہارے باپ دادا سے کھائی کہ میں اُنکو اَیسا ملک دُونگا جس میں دُودھ اور شہد بہتا ہو جیسا کہ آج کے دِن ہے پورا کروں ۔ تب میں نے جواب میں کہا اَے خداوند ! آمین ۔
5
6 پھر خداوند نے مجھے فرمایا کہ یہوداہؔ کے شہروں میں اور یروشیلم کے کُوچوں میں ان سب باتوں کی منادی کر اور کہہ کہ اِس عہد کی باتیں سُنو اور اُن پر عمل کرو۔
7 کیونکہ میں تمہارے باپ دادا کو جس دن سے ملک مصر سے نکال لایا آج تک تاکید کرتا اور بروقت جتاتا اور کہتا رہا کہ میری سُنو۔پر اُنہوں نے کان نہ لگا یا اور شنوا نہ ہوئے بلکہ ہر ایک نے اپنے بُرے دل کی سختی کی پیروی کی۔ اِسلئےِ میں نے اس عہد کی سب باتیں جن پر عمل کرنے کا اُنکو حکم دیا تھا اور اُنہوں نے نہ کیا اُن پر پوری کیں۔
8
9 تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ یہوادہؔ کے لوگوں اور یروشیلم کے باشندوں میں سازش پائی جاتی ہے ۔
10 وہ اپنے باپ دادا کی بدکرداری کی طرف جنہوں نے میری باتیں سنُنے سے اِنکار کیا پھر گئے اور غیر معبودوں کے پیرو ہو کر اُنکی عبادت کی۔ اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے نے اُس عہد کو جومیں نے اُنکے باپ دادا سے کیا تھا توڑ دیا۔
11 اِسلئےِ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اُن پر اَیسی بلا لاؤنگا جس سے وہ بھاگ نہ سکینگے اور وہ مجھے پکار ینگے پر میں اُنکی نہ سُنونگا ۔
12 تب یہوداہؔ کے شہر اور یروشیلم کے باشندے جا ئینگے اور اُن معبودوں کو جنکے آگے وہ بخور جلاتے ہیں پکار ینگے پر وہ مصیبت کے وقت اُنکو ہرگز نہ بچائینگے ۔
13 کیونکہ اَے یہوداہؔ ! جتنے تیرے شہر ہیں اُتنے ہی تیرے معبود ہیں اور جتنے یروشیلم کے کوچے ہیں اُتنے ہی تم نے اُ س رُسوائی کے باعث کے لئے مذبحے بنائے یعنی بعل کے لئے بخور جلانے کی قربانگا ہیں۔
14 پس تو ان لوگوں کے لئے دُعا نہ کر اور نہ اِنکے واسطے اپنی آواز بلند کر اور نہ منت کر کیونکہ جب یہ اپنی مصیبت میں مجھے پُکار ینگے میں اُنکی نہ سُنونگا۔
15 میرے گھر میں میری محبوبہ کو کیا کام جبکہ وہ بکثرت شرارت کرچکی ؟ کیا منت اور مقدس گو شت تیری شرارت کو دُور کر ینگے ؟ کیا تو اُنکے ذریعہ سے رہائی پائیگی ؟ تو شرارت کرکے خوش ہوتی ہے۔
16 خداوند نے خوش میوہ ہرا زیتون تیرا نام رکھا ۔ اُ س نے بڑے ہنگامہ کی آواز ہوتے ہی اُسے آگ لگا دی اور اُسکی ڈالیا ں توڑ دی گئیں ۔
17 کیونکہ ربُّ الافواج نے جس نے تجھے لگایا تجھ پر بلا کا حکم کیا ۔ اُس بدی کے سبب سے جو اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے نے اپنے حق میں کی کہ بعل ؔ کے لئے بخور جلا کر مجھے غضبناک کیا۔
18 خداوند نے مجھ پر ظاہر کیا اور میں جان گیا۔ تب تو نے مجھے اُنکے کام دِکھائے ۔
19 لیکن میں اُس پالتو بّرہ کی مانند تھا جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور مجھے معلوم نہ تھا کہ اُنہوں نے میرے خلاف منصوبے باندھے ہیں کہ آؤ درخت کو اُسکے پھل سمیت نیست کریں اور اُسے زندوں کی زمین سے کاٹ ڈالیں تاکہ اُسکے نام کا ذکر تک باقی نہ رہے۔
20 اَے ربُّ الافواج ! جو صداقت سے عدالت کرتا ہے جو دِل ودماغ کو جانچتا ہے اُن سے اِنتقام لیکر مجھے دِکھا کیونکہ میں نے اپنا دعویٰ تجھ ہی پر ظاہر کیا ہے۔
21 اِسلئےِ خداوند فرماتا ہے عنتوت کے لوگوں کی بابت جو یہ کہکر تیری جان کے خواہاں ہیں کہ خداوند کا نام لیکر نُبوت نہ کر تاکہ تو ہمارے ہاتھ سے نہ مارا جائے ۔ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اُنکو سزا دُونگا ۔ جوان تلوار سے مارے جائینگے۔ اُنکے بیٹے بیٹیاں کال سے مرینگے۔
22 اور اُن میں سے کوئی باقی نہ رہیگا کیونکہ میں عنتوت ؔ کے لوگوں پر اُنکی سزا کے سال میں آفت لاؤ نگا ۔
23


باب 12

1 اَے خداوند!اگر میں تیرے ساتھ محبت کُروں توتو ہی صادق ٹھہر یگا تو بھی میں تجھ سے اِس امر پر بحث کرنا چاہتا ہوں کہ شریر اپنی روش میں کیوں کامیاب ہوتے ہیں ؟سب دغا باز کیوں آرام سے رہتے ہیں؟
2 تو نے اُنکو لگایا اور اُنہوں نے جڑ پکڑلی ۔ و ہ بڑھ گئے بلکہ برومند ہُوئے ۔ تو اُنکے منہ سے نزدیک پر اُنکے دِلوں سے دُور ہے۔
3 لیکن اَے خداوند ! تو مجھے جانتا ہے تو نے مجھے دیکھا اور میرے دِل کو جو تیری طرف ہے آزمایا ہے۔ تو اُنکو بھیڑوں کی مانند ذبح ہونے کے لئے کھینچکر نکال اور قتل کے دن کے لئے اُنکو مخصو ص کر ۔
4 اہل زمین کی شرارت سے زمین کب تک ماتم کرے اور تمام ملک کی روئیدگی ثپرمُردہ ہو؟ چرندے اور پرندے غارت ہو گئے کیونکہ اُنہوں نے کہا وہ ہمارا انجام نہ دیکھیگا۔
5 اگر تو پیادوں کے ساتھ دوڑا اور اُنہوں نے تجھے تھکا دیا تو پھر تجھ میں یہ تاب کہاں کہ سواروں کی برابری کرے ؟ تو سلامتی کی سرزمین میں تو بے خوف ہے لیکن یرون ؔ کے جنگل میں کیا کریگا ؟۔
6 کیونکہ تیرے بھائیوں اور تیرے باپ کے گھرانے نے بھی تیرے ساتھ بیوفائی کی ہے۔ ہاں اُنہوں نے بڑی آواز سے تیرے پیچھے للکار ۔ اُن پر اعتماد نہ کر اگرچہ وہ تجھ سے میٹھی میٹھی باتیں کریں ۔
7 میں نے اپنے لوگوں کو ترک کیا ۔ میں نے اپنی میراث کو رّد کر دیا۔ میں نے اپنے دل کی محبوبہ کو اسکے دُشمنوں کے حوالہ کیا۔
8 میری میراث میرے لئے جنگلی شیر بن گئی ۔ اُس نے میرے خلاف اپنی آواز بلند کی اِسلئے مجھے اُس سے نفرت ہے۔
9 کیا میری میراث میرے لئے ابلق شکاری پرندہ ہے؟کیا شکاری پرندے اُسکو چاروں طرف گھیرے ہیں؟ آؤ سب دشتی درندوں کو جمع کرو اُنکو لاؤ کہ وہ کھا جائیں ۔
10 بہت سے چرواہوں نے میرے تاکستان کو خراب کیا ۔ انہوں نے میرے بخرہ کو اُجاڑ کر بیابان بنا دِیا۔
11 اُنہوں نے اُسے ویران کیا وہ ویران ہو کر مجھ سے فریادی ہے ۔ ساری زمین ویران ہوگئی تو بھی کوئی اِسے خاطر میں نہیں لاتا۔
12 بیابان کے سب پہاڑوں پر غارتگر آگئے ہیں کیونکہ خداوند کی تلوار ملک کے ایک سرے سے دُوسرے سِرے تک نگل جاتی ہے اور کسی بشر کو سلامتی نہیں ۔
13 اُنہوں نے گیہوں بویا پر کانٹے جمع کئے ۔ اُنہوں نے مشقت کھینچی پر فائدہ نہ اُٹھایا ۔ خداوند کے قہر شدید کے سبب سے اپنے انجام سے شرمندہ ہو۔
14 میرے سب شریر پڑوسیوں کے خلاف خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ جنہوں نے اُس میراث کو چھوا جسکا میں نے اپنی قوم اِسرائیل کو وارث کیا اُنکو اُنکی سرزمین سے اُکھاڑ ڈالونگا اور یہوادہؔ کے گھرانے کو اُنکے درمیان سے نکال پھینکو نگا۔
15 اور اِسکے بعد کہ میں اُنکو اُکھاڑ ڈالونگا یوں ہو گا کہ میں پھر اُن پر رحم کُرونگا اور ہر ایک کو اُسکی میراث میں اور ہر ایک کو اُسکی زمین میں پھر کاؤنگا۔
16 اوریوں ہوگا کہ اگر وہ دل لگا کر میرے لوگوں کے طریقے سیکھینگے کہ میرے نام کی قسم کھائیں کہ خداوند زندہ ہے جیسا کہ اُنہوں نے میرے لوگوں کو سکھایا کہ بعل ؔ کی قسم کھائیں تو وہ میرے لوگو ں میں شامل ہو کر قائم ہو جا ئینگے ۔
17 لیکن اگر وہ شنوا نہ ہونگے تو میں اُس قوم کو یکلخت اُکھاڑ ڈالونگا اور نیست و نابود کر دونگا خداوند فرماتا ہے۔


باب 13

1 خداوند نے مجھے یوں فرمایا کہ تو جا کر اپنے لئے ایک کتانی کمر بند خریدلے اور اپنی کمر پر باندھ پر اُسے پانی میں مت بھگو۔
2 سو میں نے خداوند کے کلام کے موافق ایک کمر بند خریدلیا اور اپنی کمر باندھا ۔
3 اور خداوند کا کلام دوبارہ مجھ پر نازل ہوا اور اُس نے فرمایا ۔
4 کہ اس کمربند کو جو تو نے خریدا اور جو تیری کمر پر ہے لے کر اُٹھ اور فرات کو جا اور وہاں چٹان کے ایک شگاف میں اُسے چھپا دے۔
5 چنانچہ میں گیا اور اُسے فراتؔ کے کنارے چھپا دیا جیسا خداوند نے مجھے فرمایا تھا۔
6 اور بہت دِنوں کے بعد یوں ہوا کہ خداوند نے مجھے فرمایا کہ اُٹھ فراتؔ کی طرف جا اور اُس کمر بند کو جسے تو نے میرے حکم سے وہاں چھپا رکھا ہے نکال لے ۔
7 تب میں فراتؔ کو گیا اور کھودا اور کمر بند کو اُس جگہ سے جہاں میں نے اُسے گاڑ دیا تھانکالا اور دیکھ وہ کمر بند ایسا خراب ہو گیا تھا کہ کسی کام کا نہ رہا ۔
8 تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
9 کہ خداوند یوں فر ماتا ہے کہ اِسی طرح میں یہوداہؔ کے گھمنڈ اور یروشیلم کے بڑے غرور کو نیست کرونگا ۔
10 یہ شریر لوگ جو امیر کلام سُننے سے انکار کرتے ہیں اور اپنے ہی دل کی سختی کے پیروہوتے اور غیر معبودوں کے طالب ہو کر اُنکی عبادت کرتے اور اُنکو پوجتے ہیں وہ اس کمر بند کی مانند ہونگے جو کسی کام کا نہیں ۔
11 کیونکہ جیسا کمر بند اِنسان کی کمر سے لپٹا رہتا ہے ویسا ہی خداوند فرماتا ہے میں نے اِسرائیل کے تمام گھرانے اور یہوداہؔ کے تما م گھرانے کو لیا کہ مجھ سے لپٹے رہیں تاکہ وہ میرے لوگ ہوں اُنکے سبب سے میرا نام ہو اور میری ستائش کی جائے اور میرا جلال ہو پر اُنہوں نے نہ سُنا ۔
12 پس تو اُن سے یہ بات بھی کہہ دے کہ خداوند اِسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ ہر ایک مٹکے میں مے بھری جائیگی اور وہ تجھ سے کہینگے کیا ہم نہیں جانتے کہ ہر ایک مٹکے میں مے بھری جائیگی ؟۔
13 تب تو اُن سے کہنا خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھومیں اِس ملک کے سب باشندوں کو ہاں اُن بادشاہوں کو جو داؤدؔ کے تخت پر بیٹھتے ہیں اورکاہنوں اور نبیوں اور یروشیلم کے سب باشندوں کو مستی سے بھر دُونگا۔
14 اور میں اُنکو ایک دُوسرے پر یہاں تک کہ باپ کو بیٹوں پر دے مارونگا ۔ خداوند فرماتا ہے میں نہ شفقت کرونگا نہ رعایت اور نہ رحم کُرونگا کہ اُنکو ہلاک نہ کُروں ۔
15 سُنو اور کان لگاؤ ۔ گھمنڈ نہ کرو کیونکہ خداوند نے فرمایا ہے۔
16 خداوند اپنے خدا کی تمجید کرو اِس سے پہلے کہ وہ تاریکی لائے اور تمہارے پاؤں گھپ اندھیرے میں ٹھو کر کھائیں اور جب تم روشنی کا اِنتظار کرو تو وہ اُسے موت کے سایہ سے بدل ڈالے اور اُسے سخت تاریکی بنادے۔
17 لیکن اگر تم نہ سُنو گے تو میری جان تمہارے غرور کے سبب سے خلوت خانوں میں غم کھایا کر یگی ۔ ہاں میری آنکھیں پھوٹ پھوٹ کر روئینگی اور آنسو بہا ئینگی کیونکہ خداوند کا گلہ اسیری میں چلا گیا۔
18 بادشاہ ااور اُسکی والدہ سے کہہ کہ عاجزی کرو اور نیچے بیٹھو کیونکہ تمہاری بُزرگی کا تاج تمہارے سر پر سے اُتار لیا گیا ہے ۔
19 جنوب کے شہربند ہو گئے ۔ اور کوئی نہیں کھو لتا سب نبی یہوداہؔ اِسیر ہوگئے ۔ سب کو اِسیر کرکے لے گئے ۔
20 اپنی آنکھیں اُٹھا اور اُنکو جو شمال سے آتے ہیں دیکھ ۔ وہ گلہ جو تجھے دیا گیا تھا ۔ تیرا خوشنما گلہ کہاں ہے؟۔
21 جب وہ تجھ پر اُنکو مُقرر کریگا جنکوتو نے اپنی حمایت کی تعلیم دی ہے تو تو کیا کہیگی ؟ کیا تو اُس عورت کی مانند جسے دردِزِہ ہو درد میں مُبتلا نہ ہو گی؟ ۔
22 اور اگر تو نے اپنے دل میں کہے کہ یہ حادِثے مجھ پر کیوں گذرے ؟ تیری بد کرداری کی شدت سے تیرا دامن اُٹھایا گیا اور تیری ایڑیاں جبراً برہنہ کی گئیں ۔
23 حبشی اپنے چمڑے کو یا چیتہ اپنے داغوں کو بدل سکے تو تم بھی جو بدی کے عادی ہو نیکی کر سکو گے۔
24 اِسلئےِ میں اُنکو اُس بھوسے کی مانند جو بیابان کی ہوا سے اُڑتا پھرتا ہے تِتربتر کُرونگا۔
25 خداوند فرماتا ہے کہ میری طرف سے یہی تیرا بخرہ تیرا نیا ہوا حّصہ ہے کیونکہ تو نے مجھے فراموش کرکے بُطلان پر توکل کیا ہے ۔
26 پس میں بھی تیرا دامن تیرے سامنے سے اُٹھا دُونگا تا کہ تو بے پردہ ہو۔
27 میں نے تیری بدکاری تیرا ہنہنانا تیری حرامکاری اور تیرے نفرت انگیز کام جو تو نے پہاڑوں پر اور میدانوں میں کئے دیکھے ہیں۔اَے یروشیلم تجھ پر افسوس ! تو اپنے آپکو کب تک پاک وصاف نہ کریگی ؟۔


باب 14

1 خداوند کا وہ کلام جو خشک سالی کی بابت یرمیاہ پر نازل ہُوا۔
2 یہوداہؔ ماتم کرتا ہے اور اُسکے پھاٹکوں پر اُداسی چھائی ہے ۔ وہ ماتمی لباس میں خاک پر بیٹھے ہیں اور یروشیلم کا نالہ بلند ہُوا ہے۔
3 اُنکے امرا اپنے ادنیٰ لوگوں کو پانی کے لئے بھیجتے ہیں ۔ وہ چشموں تک جاتے ہیں پر پانی نہیں پاتے اور خالی گھڑے لئے لوٹ آتے ہیں ۔ وہ شرمندہ وپشیمان ہو کر اپنے سر ڈھاپنتے ہیں۔
4 چونکہ ملک میں بارش نہ ہُوئی اِسلئےِ زمین پھٹ گئی اورکسان سراسیمہ ہُوئے۔ وہ اپنے سر ڈھاپنتے ہیں۔
5 چنانچہ ہرنی میدان میں بچہ دیکر اُسے چھوڑ دیتی ہے کیونکہ گھاس نہیں ملتی ۔
6 اور گورخر اُونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر گیدڑروں کی مانند ہاپنتے ہیں ۔ اُنکی آنکھیں رو جاتی ہیں کیونکہ گھاس نہیں ہے۔
7 اگرچہ ہماری بد کرداری ہم پر گواہی دیتی ہے تو بھی اے خداوند ! اپنے نام کی خاطر کچھ کر کیونکہ ہماری برگشتگی بہت ہے ۔ ہم تیرے خطا کار ہیں ۔
8 اَے اِسرائیل کی اُمید! مصیبت کے وقت اُسکے بچانے والے !تو کیوں ملک میں پر دیسی کی مانند بنااور اُس مُسافر کی مانند جو رات کاٹنے کے لئے ڈیرا ڈالے ؟۔
9 تو کیوں اِنسان کی مانند ہکا بکا ہے اور اُس بہادر کی مانند جو رہائی نہیں دے سکتا ؟ بہر حال اَے خداوند ! تو تو ہمارے درمیان ہے اور تیرے نام سے کہلاتے ہیں۔تو ہم کو ترک نہ کر۔
10 خداوند اِن لوگوں سے یوں فرماتا ہے ہے کہ اِنہوں نے گمراہی کو یوں دوست رکھا ہے اور اپنے پاؤں کو نہیں روکا اِسلئےِ خداوند اِنکو قبول نہیں کرتا ۔ اب وہ اِنکی بد کرداری یا د کریگا اور اِنکے گناہ کی سزا دیگا۔
11 اور خداوند نے مجھے فرمایا کہ اِن لوگوں کے لئے دُعا یِ خیر نہ کر ۔
12 کیونکہ جب یہ روزہ رکھیں تو میں اِنکا نالہ نہ سُنونگا اور جب سوختنی قربانی اور ہدیہ گذرانیں تو قبول نہ کرونگا بلکہ میں تلوار اور کال اور وبا سے اُنکو ہلاک کرونگا۔
13 تب میں نے کہا آہ! اَے خداوند خدا دیکھ انبیا اُن سے کہتے ہیں تم تلوار نہ دیکھو گے اور تم میں کال نہ پڑیگا بلکہ میں اس مقام میں تم کو حقیقی سلامتی بخشونگا ۔
14 تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ انبیا میرا نام لیکر جھوٹی نبوُّت کرتے ہیں۔میں نے نہ اُنکو بھیجا اور نہ حکم دیا اور نہ اُن سے کلام کیا ۔ وہ جھوٹی رویا اور جھوٹا علم غیب اور بطالت اور اپنے دِلوں کی مکاری نبوت کی صورت میں تم پر ظاہر کرتے ہیں۔
15 اِسلئےِ خداوند یوں فرماتا ہے کہ نبی جنکو میں نے نہیں بھیجا جو میرا نام لیکر نبوت کرتے اور کہتے ہیں کہ تلوار اور کال اس ملک میں نہ آئینگے وہ تلوار اور کال ہی سے ہلاک ہونگے ۔
16 اور جن لوگوں سے وہ نبوت کرتے ہیں وہ کاں اور تلوار کے سبب سے یروشیلم کے کوچوں میں پھینک دِئے جائینگے ۔ اُنکو اور اُنکی بیویوں اور اُنکے بیٹوں اور اُنکی بیٹیوں کو دفن کرنے والا کوئی نہ ہوگا ۔ میں اُنکی بُرائی اُن پر اُنڈیل دُونگا ۔
17 اور تو اُن سے یوں کہنا کہ میری آنکھیں شب وروز آنسو بہائیں اور ہرگز نہ تھمیں کیونکہ میری کنواری دُختر قوم بڑی خستگی اور ضرب شدید سے شکستہ ہے۔
18 اگر میں باہر میدان میں جاؤں تو وہاں تلوار کے مقتول ہیں! اور اگر میں شہر میں داخل ہوؤں تو وہاں کال کے مارے ہیں! ہاں نبی اور کاہن دونوں ایک ایسے مُلک کو جا ئینگے جسے وہ نہیں جانتے ۔
19 کیا تو نے یہوداہؔ کو بالکل رد کردیا؟ کیا تیری جان کو صیون سے نفرت ہے؟ تو نے ہم کو کیوں مارا اور ہمارے لئے شفا نہیں ؟ سلامتی کا اِنتظار تھا پر کچھ فائدہ نہ ہوا اور شفا کے وقت کا پر دیکھو دہشت !۔
20 اَے خداوند ! ہم اپنی شرارت اور اپنے باپ دادا کی بد کرداری کا اِقرار کرتے ہیں کیونکہ ہم نے تیرا گناہ کیا ہے۔
21 اپنے نام کی خاطر رد نہ کر اور اپنے جلال کے تخت کی تحقیر نہ کر ۔ یا د فرما اور ہم سے رِشتہ عہد کو نہ توڑ ۔
22 قوموں کے بُتوں میں کوئی ہے جو مینہ برسا سکے یا افلاک بارش پر قادر ہیں ؟ اَے خداوند ہمارے خدا کیا وہ تو ہی نہیں ہے؟ پس ہم تجھ ہی اُمید رکھینگے کیونکہ تو ہی نے یہ سب کام کئے ہیں۔


باب 15

1 تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ اگرچہ مُوسیٰ اور سموئیل میرے حضور کھڑے ہوتے تو بھی میرا دِل اِن لوگوں کی طرف متوجہ نہ ہوتا ۔ اِنکو میرے سامنے سے نکال دے کہ چلے جائیں۔
2 اور جب وہ تجھ سے کہیں کہ ہم کدھر جائیں ؟ تو اُن سے کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ جو موت کے لئے ہیں وہ موت کی طرف جائیں اور جو تلوار کے لئے ہیں وہ تلوار کی طرف اور جو کال کے لئے ہیں وہ کال کو اور جو اِسیری کے لئے ہیں وہ اِسیری میں ۔
3 اور میں چار چیزوں کو ان پر مسلط کرونگا خداوند فرماتا ہے ۔ تلوار کو کہ قتل کرے اور کتوں کو کہ پھاڑ ڈالیں اور آسمانی پرندوں کو اور زمین کے درندوں کو کہ نگل جائیں اور ہلاک کریں ۔
4 اور میں انکو شاہِ یہوداہ منسی بن حزقیاہ کے سبب سے اس کام کے باعث جو اس نے یروشیلم میں کیا ترک کردونگا کہ زمین کی سب مملکتو ں میں دھکے کھاتے پھریں ۔
5 اب اے یروشیلم کون تجھ پر رحم کریگا؟ کون تیرا ہمدرد ہوگا؟ یا کون تیری طرف آئیگا کہ تیری خیروعافیت پوچھے؟ ۔
6 خداوند فرماتا ہے تو نے مجھے ترک کیا اور برگشتہ ہوگئی اسلئے میں تجھ پر اپنا ہاتھ بڑھاؤنگا اور تجھے برباد کرونگا میں تو ترس کھاتے کھاتے تنگ آگیا۔
7 اور میں نے انکو ملک کے پھاٹکوں پر چھاج سے پھٹکا۔ میں نے انکے بچے چھین لئے ۔ میں نے اپنے لوگوں کو ہلاک کیا کیونکہ وہ اپنی راہوں سے نہ پھرے ۔
8 انکی بیوائیں میرے آگے سمندر کی ریت سے زیادہ ہوگئیں ۔ میں نے دوپہر کے وقت جوانوں کی ماں پر غارتگر کو مسلط کیا۔ میں نے اس پر ناگہان عذاب و دہشت کو ڈالدیا۔
9 سات بچوں کی والدہ نڈھال ہوگئی ۔ اس نے جان دیدی ۔ دن ہی کو اسکا سورج ڈوب گیا۔ وہ پشیمان اور سراسیمہ ہوگئی ہے ۔ خداوند فرماتا ہے میں انکے باقی لوگوں کو انکے دشمنوں کے آگے تلوار کے حوالہ کرونگا۔
10 اے میری ماں تجھ پر افسوس کہ میں تجھ سے تمام دنیا کے لئے لڑاکا آدمی اور جھگڑا لو شخص پیدا ہوا ! میں نے تو نہ سود پر قرض دیا اور نہ قرض لیا تو بھی ان میں سے ہر ایک مجھ پر لعنت کرتا ہے ۔
11 خداوند نے فرمایا یقیناًمیں تجھے تقویت بخشونگا کہ تیری خیر ہو۔ یقیناًمیں مصیبت اور تنگی کے وقت دشمنوں سے تیرے سامنے التجا کرونگا ۔
12 کیا کوئی لوہے کو یعنی شمالی فولاد اور پیتل کو توڑ سکتا ہے ؟۔
13 تیرے مال اور تیرے خزانوں کو مفت لٹوا دونگا ور یہ تیرے سب گناہوں کے سبب سے تیری تمام سرحدوں میں ہوگا۔
14 اور میں تجھکو تیرے دشمنوں کے ساتھ ایسے ملک میں لے جاؤنگا جسے تو نہیں جانتا کیونکہ میرے غضب کی آگ بھڑکیگی اور تم کو جلائیگی۔
15 اے خداوند تو جانتا ہے تجھے یاد فرما اور مجھ پر شفقت کر اور میرے ستانے والوں سے میرا انتقام لے۔ تو برداشت کرتے کرتے مجھے نہ اٹھالے ۔ جان رکھ کہ میں نے تیری خاطر ملامت اٹھائی ہے۔
16 تیرا کلام ملا اور میں نے اسے نوش کیا اور تیری باتیں میرے دل کی خوشی اور خرمی تھیں کیونکہ اے خداوند رب الا فواج ! میں تیرے نام سے کہلاتا ہوں ۔
17 نہ میں خوشی منانے والوں کی محفل میں بیٹھا اور نہ شادمان ہوا ۔ تیرے ہاتھ کے سبب سے میں تنہا بیٹھا کیونکہ تو نے مجھے قہر سے لبریز کر دیا ہے۔
18 میرا درد کیوں دائمی اور میرا زخم کیوں لاعلاج ہے کہ صحت پذیر نہیں ہوتا؟ کیا تو میرے لئے سراسر دھوکے کی ندی سا ہوگیا ہے۔ اُس پانی کی مانند جسکو قیام نہیں ۔
19 اِسلئےِ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر تو باز آئے تو میں تجھے پھیر لاؤنگا اور تو میرے حضور کھڑا ہو گا اور اگر تو لطیف کو کثیف سے جدا کرے توتو میرے منہ کی مانند ہوگا۔ وہ تیری طرف پھریں لیکن تو اُنکی طرف نہ پھرنا۔
20 اور میں تجھے اِن لوگوں کے مقابل پیتل کی مضبوطی دیوار ٹھہر اؤنگا اور یہ تجھ سے لڑینگے لیکن تجھ پر غالب نہ آئینگے کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں کہ تیری حفاظت کروں اور تجھے رہائی دُوں۔
21 ہاں میں تجھے شریروں کے ہاتھ سے رہائی دُونگا اور ظالموں کے پنجے سے تجھے چھڑاؤنگا ۔


باب 16

1 خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا اور اُس نے فرمایا۔
2 تو بیوی نہ کرنا۔ اس جگہ تیرے ہاں بیٹے بیٹیاں نہ ہوں ۔
3 کیونکہ خداوند اُن بیٹوں اور بیٹیوں کی بابت جو اس جگہ پیدا ہُوئے ہیں اُنکی ماؤ ں کی بابت جنہوں نے اُنکو ولادت دی اور اُنکے باپوں کی بابت جن سے وہ پیدا ہُوئے یوں فرماتا ہے ۔
4 کہ وہ بُری موت مرینگے ۔ نہ اُن پر کوئی ماتم کریگا اور نہ دفن کئے جائینگے ۔ وہ سطح زمین پر کھاد کی مانند ہو نگے ۔ وہ تلوار اور کال سے ہلاک ہو نگے اور اُنکی لاشیں ہوا کے پرندوں اور زمین کے درندوں کی خوراک ہو نگی۔
5 اِسلئےِ خدا یوں فرماتا ہے کہ تو ماتم والے گھر میں داخل نہ ہوا اور نہ اُن پر رونے کے لئے جا نہ اُن پر ماتم کر کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں نے اپنی سلامتی اور شفقت ورحمت کو اِن لوگوں پر سے اُٹھا لیا ہے ۔
6 اور اِس ملک کے چھوٹے بڑے سب مر جائینگے ۔ نہ وہ دفن کئے جائینگے نہ لوگ اُن پر ماتم کرینگے اور نہ کوئی اُنکے لئے زخمی ہو گا نہ سر منڈائیگا۔
7 نہ لوگ ماتم کرنے والوں کو کھانا کھلا ئینگے تا کہ اُنکو مرُدوں کی بابت تسلی دیں اور نہ اُنکو دِلداری کا پیالہ دینگے کہ وہ اپنے ماں باپ کے غم میں پئیں۔
8 اور تو ضیافت والے گھر میں داخل نہ ہونا کہ اُنکے ساتھ بیٹھکر کھائے پئے۔
9 کیونکہ ربُّ الافواج اِسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس جگہ سے تمہارے دیکھتے ہوئے اور تمہارے ہی دنوں میں خوشی اور شادمانی کی آوازدُلہے اور دُلہن کی آواز موقوف کراؤنگا۔
10 اور جب تو یہ سب باتیں اِن لوگوں پر ظاہر کرے اور وہ تجھ سے پوچھیں کہ خداوند نے کیوں یہ سب بُری باتیں ہمارے خلاف کہیں ؟ ہم نے خداوند اپنے خدا کے خلاف کونسی بدی اور کونسا گناہ کیا ہے؟
11 تب تو اُن سے کہنا خداوندفرماتا ہے اِسلئےِ کہ تمہارے باپ دادا نے مجھے چھوڑ دِیا اور غیر معبودوں کے طالب ہوئے اور اُنکی عبادت اور پرستش کی اور مجھے ترک کیا اور میری شریعت پر عمل نہیں کیا۔
12 اور تم نے اپنے باپ دادا سے بڑھکر بدی کی کیونکہ دیکھو تم میں سے ہر ایک اپنے بُرے دِل کی سختی کی پیروی کرتا ہے کہ میری نہ سُنے۔
13 اِسلئےِ میں تم کو اِس ملک سے خارج کرکے اَیسے ملک میں آوارہ کُرونگا جِسے نہ تم اور نہ تمہارے باپ دادا جانتے تھے اور وہاں تم رات دن غیر معبودوں کی عبادت کروگے کیونکہ میں تم پر رحم نہ کُرونگا۔
14 لیکن دیکھ خداوند فرماتا ہے وہ دن آتے ہیں کہ لوگ کبھی نہ کہینگے کہ زندہ خداوند کی قسم جو بنی اِسرائیل کو مصر سے نکال لایا۔
15 بلکہ زندہ خداوند کی قسم جو بنی اِسرائیل کو شمال کی سر زمین سے اور اُن سب مملکتوں سے جہاں جہاں اُس اُنکو ہانک دیا تھا نکال لایا اور میں اُنکو پھر اُس ملک میں لاؤنگا جو میں نے اُنکے باپ دادا کو دیا تھا۔
16 خداوند فرماتا ہے دیکھ میں بہت سے ماہی گیر وں کو بلواؤنگا اور وہ اُنکو شکار کرینگے اور پھر میں بہت سے شکاریوں کو بلواؤنگا اور وہ ہر پہاڑ سے ہر ٹیلے سے اور چٹانوں کے شگافوں سے اُنکو پکڑ نکالینگے ۔
17 کیونکہ میری آنکھیں اُنکی سب روِشوں پر لگی ہیں۔ وہ مجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں اور اُنکی بدکرداری میری آنکھوں سے چھپی نہیں۔
18 اور میں پہلے اُنکی بدکرداری اور خطاکاری کی دُونی سزادُونگا کیونکہ اُنہوں نے میری سر زمین کو اپنی مُکروہ چیزوں کی لاشوں سے ناپاک کیا اور میری میراث کو اپنی مکروہات سے بھر دیا ہے۔
19 اَے خداوند میری قوت اور میرے گڑھ اور مصیبت کے دِن میں میری پناہ گاہ ! دُنیا کے کناروں سے قومیں تیرے پاس آکر کہینگی کہ فی الحقیقت ہمارے باپ دادا نے مخص جھوٹ کی میراث حاصل کی یعنی بُطلان اور بے سود چیزیں ۔
20 کیا اِنسا ن اپنے لئے معبود بنائے جو خدا نہیں ہیں ۔
21 اِسلئےِ دیکھ میں اس مرتبہ اُنکو آگاہ کُرونگا میں اپنا ہاتھ اور اپنا زور اُنکو دکھاؤنگا اور وہ مر جائینگے کہ میرا نا م یہوداہؔ ہے۔


باب 17

1 یہوداہ ؔ کا گناہ لوہے کے قلم اور ہیرے کی نوک سے لکھا گیا ہے۔ اُنکے دِل تختی پر اور اُنکے مذبحوں کے سینگوں پر کندہ کیا گیا ہے۔
2 کیونکہ اُنکے بیٹے اپنے مذبحوں اور یسیرتوں کو یا د کرتے ہیں جوہرے درختوں کے پاس اُونچے پہاڑوں پر ہیں ۔
3 اَے میرے پہاڑ جومیدان میں ہے! میں تیرا مال اور تیرے سب خزانے اور تیرے اُونچے مقام جنکو تو نے اپنی تمام سرحدوں پر گناہ کے لئے بنایا لُٹاؤنگا۔
4 اور تو ازخود اُس میراث سے جو میں نے تجھے دی اپنے قصور کے باعث ہاتھ اُٹھائیگا اور میں اُس ملک میں جسے تو نہیں جانتا تجھ سے تیرے دُشمنوں کی خدمت کراؤنگا کیونکہ تم نے میرے قہر کی آگ بھڑکا دی ہے جو ہمیشہ تک جلتی رہیگی ۔
5 خداوند یوں فرماتا ہے کہ ملعون ہے وہ آدمی جوانسان پر توکل کرتا ہے اور بشیر کو اپنا بازو جا نتا ہے اور جسکا دِل خداوند سے برگشتہ ہو جاتا ہے۔
6 کیونکہ وہ رتمہ کی مانند ہو گا جو بیابان میں ہے اور کبھی بھلائی نہ دیکھیگا بلکہ بیابان کی بے آب جگہوں میں اور غیر آباد زمین شور میں رہیگا۔
7 مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند پر توکل کرتا ہے اور جسکی اُمید گاہ خداوند ہے۔
8 کیونکہ وہ اُس درخت کی مانند ہو گا جو پانی کے پاس لگایا جائے اور اپنی جڑ دریا کی طرف پھیلائے اور جب گرمی آئے تو اُسے کچھ خطرہ نہ ہو بلکہ اُسکے پتے ہرے رہیں اور خشک سالی کا اُسے کچھ خوف نہ ہو اور پھل لانے سے باز نہ رہے۔
9 دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے۔ اُسکو کون دریافت کرسکتا ہے؟ ۔
10 میں خداوند دِل ودماغ کو جانچتا اور آزماتا ہوں تاکہ ہر ایک آدمی کو اُسکی چال کے موافق اور اُسکے کاموں کے پھل کے مطابق بدلہ دُوں ۔
11 بے انصافی سے دولت حاصل کرنے والا اُس تیتر کی مانند ہے جو کسی دُوسرے کے انڈوں پر بیٹھے ۔ وہ آدھی عمر میں اُسے کھو بیٹھیگا اور آخر کو احمق ٹھہر یگا۔
12 ہمارے مقدس کا مکان ازل ہی سے مُقررکیا ہوا جلالی تخت ہے۔
13 اَے خداوند اِسراؔ ئیل کی اُمید گاہ! تجھکو ترک کرنے والے سب شرمندہ ہو نگے ۔ مجھکو ترک کرنے والے خاک میں مل جائینگے کیونکہ اُنہوں نے خداوند کو جو آبِ حیات کا چشمہ ہے ترک کردیا۔
14 اَے خداوند ! تو مجھے شفا بخشے تو میں شفا پاؤنگا ۔ تو ہی بچائے تو بچونگا کیونکہ تو میرا فخر ہے ۔
15 دیکھ وہ مجھے کہتے ہیں خداوند کا کلام کہا ں ہے؟ اب نازل ہو۔
16 میں نے تو تیری پیروی میں گڈریا بننے سے گریز نہیں کیا اور مصیبت کے دن کی آرزو نہیں کی ۔ تو خود جانتا ہے کہ جو کچھ میرے لبوں سے نکلا تیرے سامنے تھا ۔
17 تو میرے لئے دہشت کا باعث نہ ہو ۔ مصیبت کے دن تو ہی میری پناہ ہے۔
18 مجھ پر ستم کرنے والے شرمندہ ہوں پر مجھے شرمندہ نہ ہونے دے ۔ وہ ہراسان ہوں پر مجھے ہراسان نہ ہونے دے ۔ مصیبت کا دن اُن پر لا اور اُنکو شکست پر شکست دے۔
19 خداوند نے مجھ سے یوں فرمایا ہے کہ جا اور اُس پھاٹک پر جس سے عام لوگ اورشاہان یہوداہؔ اور اَے سب بنی یہوداہ اور یروشیلم ؔ کے سب پھاٹکوں پر کھڑا ہو۔
20 اور اُن سے کہدے کہ اَے شاہان یہوداہ ؔ اور اَے سب بنی یہوداہ اور یروشیلمؔ کے سب باشند و جو اِن پھاٹکوں میں سے آتے جاتے ہو خداوند کا کلام سُنو۔
21 خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم خبردار رہو اور سبت کے دن بوجھ نہ اُٹھاؤ اور یروشیلم ؔ کے پھاٹکوں کی راہ سے اندر نہ لاؤ۔
22 اور تم سبت کے دن بوجھ اپنے گھروں سے اُٹھاکر باہر نہ لے جاؤ اور کسی طرح کاکام نہ کرو بلکہ سبت کے دن مقدس جانو جیسا میں نے تمہارے باپ دادا کو حکم دیا تھا ۔
23 لیکن اُنہوں نے نہ سُنا نہ کان لگایا بلکہ اپنی گردن کو سخت کیا کہ شنوا نہ ہوں اور تربیت نہ پائیں ۔
24 اور یوں ہو گا کہ اگر تم دل لگا کر میری سُنو گے خداوند یوں فرماتا ہے اور سبت کے دن تم اِس شہر کے پھاٹکوں کے اندر بوجھ نہ لاؤ گے بلکہ سبت کے دن کو مقدس جانو گے یہاں تک کہ اُس میں کچھ کام نہ کرو۔
25 تو اِس شہر کے پھاٹکوں سے داؤدؔ سے جا نشین بادشاہ اور اُمراداخل ہو نگے۔ وہ اور اُنکے اُمرا یہوداہؔ کے لوگ اور یروشیلم کے باشندے رتھوں اور گھوڑوں پر سوار ہونگے اور یہ شہر ہمیشہ تک آباد رہیگا ۔
26 اور یہوداہؔ کے شہروں اور یروشیلم کی نواحی اور بینمین کی سر زمین اور میدان اور کوہستان اور جنوب سے سوختنی قربانیاں اور ذبیحے اور ہدئے اور لُبان لیکر آئینگے اور خداوند کے گھر میں شکر گذاری کے ہدئے لائینگے ۔
27 لیکن اگر تم میری نہ سُنو گے کہ سبت کے دن کو مقدس جانو اور بوجھ اُٹھا کر سبت کے دن یروشیلم کے پھاٹکوں میں داخل ہونے سے باز نہ رہو تو میں اُسکے پھاٹکوں میں آگ سُلگاؤنگا جو اُسکے قصروں کو بھسم کر دیگی اور ہرگز نہ بُجھیگی ۔


باب 18

1 خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہُوا۔
2 کہ اُٹھ اور کمہار کے گھر جا اور میں وہاں اپنی باتیں تجھے سُناؤ نگا ۔
3 تب میں کمہار کے گھر گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہ چاک پر کچھ بنا رہا ہے۔
4 اُس وقت وہ مٹی کا برتن جو وہ بنا رہاتھا اُسکے ہاتھ میں بگڑ گیا۔ تب اُس نے اُس سے جیسا مُناسب سمجھا ایک برتن بنا لیا۔
5 تب خداوند کا یہ کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
6 کہ اَے اِسرائیل کے گھرانے کیا میں اِس کمہار کی طرح تم سے سُلوک نہیں کر سکتا ہوں؟ خداوند فرماتا ہے دیکھو جس طرح مٹی کمہار کے ہاتھ میں ہے اُسی طرح اَے اِسرائیل ؔ کے گھرانے تم میرے ہاتھ میں ہو۔
7 اگر کسی وقت میں کسی قوم اور سلطنت کے حق میں کہوں کہ اُسے اُکھاڑوں اور توڑ ڈالوں اور ویران کروں۔
8 اور اگر وہ قوم جسکے حق میں میں نے کہا اپنی بُرائی سے باز آئے تو میں بھی اُس بدی سے جو میں نے اُس پر لانے کا ارادہ کیا تھا باز آؤنگا ۔
9 اور پھر اگر میں کسی قوم اور سلطنت کی بابت کہوں کہ اُسے بناؤں اور لگاؤں ۔
10 اور وہ میری نظر میں بدی کرے اور میری آواز کو نہ سُنے تو میں بھی اُس نیکی سے باز ہونگا جو اُسکے ساتھ کرنے کو کہا تھا ۔
11 اور اب تو جاکر یہوداہؔ کے لوگوں اور یروشیلم کے باشندوں سے کہدے کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں تمہارے لئے مصیبت تجویز کرتا ہوں اور تمہاری مخالفت میں منصوبہ باندھتا ہوں ۔ سو اب تم میں سے ہر ایک اپنی بُری روِش سے باز آئے اور اپنی راہ اور اپنے اعمال کو دُرست کرے۔
12 پر وہ کہینگے کہ یہ تو فضول ہے کیونکہ ہم اپنے منصوبوں پر چلینگے اور ہر ایک اپنے بُرے دِل کی سختی کے مطابق عمل کریگا ۔
13 اِسلئےِ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دریافت کرو کہ قومو ں میں کسی نے کبھی اَیسی باتیں سُنی ہیں؟ اِسراؔ ئیل کی کنواری نے نہایت ہولناک کام کیا ۔
14 کیا لُبنان کی برف جو چٹان سے میدان میں بہتی ہے کبھی بند ہو گی؟ کیا وہ ٹھنڈا بہتا پانی جو دُرو سے آتا ہے سو کھ جائیگا ؟۔
15 لیکن میرے لوگ مجھکو بھول گئے اور اُنہوں نے بطالت کے لئے بخور جلایا اور اُس نے اُنکی راہوں میں یعنی قدیم راہوں میں اُنکو گمراہ کیا تاکہ وہ پگڈنڈیوں میں جائیں اور اَیسی راہ میں جو بنائی نہ گئی ۔
16 کہ وہ اپنی سر زمین کو ویرانی اور ہمیشہ کی حیرانی اور سُسکار کا باعث بنائیں ۔ ہر ایک جو اُدھر سے گذرے دنگ ہو گا اور سر ہلائیگا ۔
17 میں اُنکو دُشمن کے سامنے گویا پُوربی ہوا سے تتر بتر کر دُونگا ۔ اُنکی مصیبت کے وقت اُنکو منہ نہیں بلکہ پیٹھ دکھاؤنگا۔
18 تب اُنہوں نے کہا آؤ ہم یرمیاہ ؔ کی مخالفت میں منصوبے باندھیں کیونکہ شریعت کاہن سے جاتی نہ رہیگی اور نہ مشورت مُشیرسے اور نہ کلام نبی سے ۔ آؤ ہم اُسے زبان سے ماریں اور اُسکی کسی بات پر توجہ نہ کریں۔
19 اَے خداوند ! تو مجھ پر توجہ کر اور مجھ سے جھگڑنے والوں کی آواز سن۔
20 کیا نیکی کے بدلے بدی کی جائیگی ؟ کیونکہ اُنہوں نے میری جان کے لئے گڑھا کھودا ۔ یاد کر کہ میں تیرے حضور کھڑ اہوا کہ اُنکی شفاعت کروں اور تیرا قہر اُن پر سے ٹلادُوں ۔
21 اِسلئےِ اُنکے بچوں کو کال کے حوالہ کر اور اُنکو تلوار کی دھار کے سپر د کر۔ اُنکی بیویاں بے اَولاد اور بیوہ ہوں اور اُنکے مرد مارے جائیں ۔ اُنکے جوان میدان جنگ میں تلوار سے قتل ہوں۔
22 جب تو اچانک اُن پر فوج چرھا لائیگا اُنکے گھروں سے ماتم کی صدا نکلے کیونکہ اُنہوں نے مجھے پھنسانے کو گڑھا کھودا اور میرے پاؤں کے لئے پھندے لگائے۔
23 پر اَے خداوند تو اُنکی سب سازِشوں کو جو اُنہوں نے میرے قتل پر کیں جانتا ہے۔ اُنکی بد کرداری کو معاف نہ کر اور اُنکے گناہ کو اپنی نظر سے دُور نہ کر بلکہ وہ تیرے حضور پست ہوں۔ اپنے قہر کے وقت تو اُن سے یوں ہی کر۔


باب 19

1 خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ تو جاکر کمہار سے مٹی کی صراحی مول لے اور قوم کے بُزرگوں اور کاہنوں کے سرداروں کو ساتھ لے۔
2 اور بن ہنوم کی وادی میں کمہاروں کے پھاٹک کے مڈخل پر نکل جا اور جو باتیں میں تجھ سے کہوں وہاں اُنکا اِعلان کر ۔
3 اور کہہ اَے یہوداہؔ کے بادشاہو اور یروشیلم کے باشندو! خداوند کا کلام سنو۔ ربُّ الافواج اِسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اِس جگہ پر ایسی بلا نازل کرونگا کہ جو کوئی اُسکی بابت سنے اُسکے کان بھناجائینگے ۔
4 کیونکہ اُنہوں نے مجھے ترک کیا اور اِس جگہ کو غیروں کے لئے ٹھہر ایا اور اِس میں غیرمعبودوں کے لئے بخور جلایا جنکو نہ وہ نہ اُنکے باپ دادا نہ یہوداہؔ کے بادشاہ جانتے تھے اور اِس جگہ کو بے گناہوں کے خون سے بھر دیا۔
5 اور بعل کے لئے اُونچے مقام بنائے تاکہ اپنے بیٹوں کو بعل ؔ کی سوختنی قربانیوں کے لئے آگ میں جلائیں جو نہ میں نے فرمایا نہ اُسکا ذکر کیا اور نہ کبھی یہ میرے خیال میں آیا۔
6 اِسلئےِ دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ یہ جگہ نہ تو توفت کہلائیگی اور نہ بن ہنوم کی وادی بلکہ دادی قتل ۔
7 اور اِسی جگہ میں یہوداہؔ اور یروشیلم کا منصوبہ باطل کرونگا اور میں ایسا کرونگا کہ وہ اپنے دُشمنوں کے آگے اور اُنکے ہاتھوں سے جو اُنکی جانکے خواہاں ہیں تلوار سے قتل ہونگے اور میں اُنکی لاشیں ہوا کے پرندوں کو اور زمین کے درندوں کو کھانے کو دُونگا ۔
8 اور میں اِس شہر کو حیرانی اور سُسکار کا باعث بناؤنگا ہر ایک جو اِدھر سے گذرے دنگ ہو گا اور اُسکی سب آفتوں کے سبب سے سُسکاریگا ۔
9 اور میں اُنکو اُنکے بیٹوں اور اُنکی بیٹیوں کو گوشت کھلاؤنگا بلکہ ہر ایک دُوسرے کا گوشت کھائیگا ۔ محاصرہ کے وقت اُس تنگی میں جس سے اُنکے دُشمن اور اُنکی جان کے خواہاں اُنکو تنگ کرینگے۔
10 تب تو اُس صراحی کو اُن لوگوں کے سامنے جو تیرے ساتھ جائینگے توڑ دالنا۔
11 اور اُن سے کہنا کہ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ میں اِن لوگو ں اور اِ س شہر کو ایسا توڑ ونگا جس طرح کوئی کمہار کے برتن کو توڑ دالے جو پھر دُرست نہیں ہو سکتا اور لوگ توفتؔ میں دفن کرینگے یہاں تک کہ دفن کرنے کو جگہ نہ رہیگی ۔
12 میں اِس جگہ اور اِسکے باشندوں سے ایسا ہی کرونگا ۔خداوند فرماتا ہے چنانچہ میں اِس شہر کو توفتؔ کی مانند کردونگا۔
13 اور یروشیلم کے گھر اور یہوداہؔ کے بادشاہوں کے گھر توفتؔ کے مقام کی مانند ناپاک ہوجائینگے ۔ ہاں وہ سب گھر جنکی چھتوں پر اُنہوں نے تمام اجرام فلک کے لئے بخور جلایا اور غیرمعبودوں کے لئے تپاون تپائے ۔
14 تب یرمیاہ ؔ توفتؔ سے جہاں خداوند نے اُسے نبوت کرنے کو بھیجا تھا واپس آیا اور خداوند کے گھر کے صحن میں کھڑا ہو کر تمام لوگوں سے کہنے لگا۔
15 ربُّ الافواج اِسرائیل ؔ کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اِس شہر پر اور اِسکی سب بسیتوں پر وہ تمام بلا جو میں نے اِس پر بھیجنے کو کہا تھا لاؤنگا اِسلئے کہ اُنہوں نے نہایت گردن کشی کی تاکہ میری باتوں کو نہ سُنیں ۔


باب 20

1 فشحور بن امیر کاہن نے جو خداوند کے گھر میں سردار ناظم تھا یر میاہ ؔ کو یہ باتیں نبوت سے کہتے سنا ۔
2 تب فشحور نے یرمیاہ نبی کو مارا اور اُسے اُس کاٹھ میں ڈالا جو بینمین کے بالائی پھاٹک میں خداوند کے گھر میں تھا۔
3 اور دُوسرے دن یوں ہوا کہ فشحور نے یرمیاہ ؔ کوکاٹھ سے نکالا ۔ تب یرمیاہؔ نے اُسے کہا کہ خداوند نے تیرا نام فشحور نہیں بلکہ مجور مسابیب رکھا ہے۔
4 کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تجھکو تیرے لئے اور تیرے سب دوستوں کے لئے دہشت کا باعث بناؤنگا اور وہ اپنے دُشمنوں کی تلوار سے قتل ہونگے اور تیری آنکھیں دیکھینگی اور میں تمام یہوداہؔ کو شاہ بابل کے حوالہ کردؤنگا اور وہ اُنکواِسیر کرکے بابل میں لے جائیگا اور اُنکو تلوار سے قتل کریگا۔
5 اور میں اِس شہر کی ساری دولت اور اِسکے تمام محاسل اور اسکی سب نفیس چیزوں کو اور یہوداہؔ کے بادشاہوں کے سب خزانوں کو دے ڈالونگا ۔ ہاں میں اُنکو اُنکے دُشمنوں کے حوالہ کردُونگا جو اُنکو لُوٹینگے اور بابلؔ کو لے جائینگے ۔
6 اور اَے فشخورؔ تو اور تیرا سارا گھرانا اسیری میں جاؤگے اور تو بابلؔ میں پہنچیگا اور وہاں مریگا اور وہیں دفن کیا جائیگا ۔ تو اور تیرے سب دوست جن سے تو نے جھوٹی نبوت کی۔
7 اَے خداوند ! تو نے مجھے ترغیب دی ہے اورمیں نے مان لیا۔ تو مجھ سے توانا تھا اور تو غالب آیا ۔ میں دن بھر ہنسی کا باعث بنتا ہوں ۔ ہرایک میری ہنسی اُڑاتا ہے ۔
8 کیونکہ جب جب میں کلام کرتا ہوں زور سے پُکارتا ہوں۔ میں نے غضب اور ہلاکت کا اعلان کیا کیونکہ خداوند کا کلام دن بھر میری ملامت اور ہنسی کا باعث ہوتا ہے ۔
9 اور اگر میں کہوں کہ میں اُسکا ذکر نہ کرونگا نہ پھر کبھی اُسکے نام سے کلام کرونگا تو اُسکا کلام میرے دل جلتی آگ کی مانند ہے جو میری ہڈیوں میں پوشیدہ ہے اور میں ضبط کرتے کرتے تھک گیا اور مجھ سے رہا نہیں جاتا ۔
10 کیونکہ میں نے بہتوں کی تہمت سُنی ۔چاروں طرف دہشت ہے۔ اُسکی شکایت کرو۔وہ کہتے ہیں ہم اُسکی شکایت کرینگے ۔میرے سب دوست میرے ٹھوکر کھائے ۔ تب ہم اُس پر غالب آئینگے اور اُس سے بدلہ لینگے۔
11 لیکن خداوند مہیب بہادر کی مانند میری طرف ہے۔اِسلئے مجھے ستانے والوں نے ٹھوکر کھائی اور غالب نہ آئے ۔وہ نہایت شرمندہ ہُوئے اِسلئے کہ اُنہوں نے اپنا مقصد نہ پایا ۔اُنکی شرمندگی ہمیشہ تک رہیگی ۔ کبھی فراموش نہ ہوگی ۔
12 پس اَے ربُّ الافواج ! تو جو صادقوں کو آزماتا اور دل ودماغ کو دیکھتا ہے اُن سے بدلہ لیکر مجھے دکھا اِسلئے کہ میں نے اپنا دعویٰ تجھ پر ظاہر کیا ہے۔
13 خداوند کی مدح سرائی کرو۔ خداوند کی ستائش کرو کیونکہ اُس نے مسکین کی جان کوبدکرداروں کے ہاتھ سے چھڑایا ہے ۔
14 لعنت اُس دن پر جس میں میں پیدا ہوا ۔وہ دن جس میں میری ماں نے مجھکو جنم دیا ہرگز مُبارک نہ ہو۔
15 لعنت اُس آدمی پر جس نے میرے باپ کو یہ کہکر خبر دی کہ تیرے ہاں بیٹا پیدا ہُوا اور اُسے بہت خوش کیا۔
16 ہاں وہ آدمی اُن شہروں کی مانند ہو جنکو خداوند نے شکست دی اور افسوس نہ کیا اور وہ صُبح کو خوفناک شور سُنے اور دوپہر کے وقت بڑی للکار ۔
17 اِسلئے کہ اُس نے مجھے رحم ہی میں قتل نہ کیا کہ میری ماں میری قبر ہوتی اور اُسکا رحم ہمیشہ تک بھرارہتا ۔
18 میں پیدا ہی کیوں ہوا کہ مشقت اور رنج دیکھوں اور میرے دِن رُسوائی میں کٹیں ؟۔


باب 21

1 وہ کلام جو خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا جب صدقیاہؔ بادشاہ نے فشحوؔ ر بن ملکیاؔ ہ اور صفنیاہؔ بن معسیاہؔ کاہن کو اُسکے پاس یہ کہنے کو بھیجا ۔
2 کہ ہماری خاطر خداوند سے دریافت کر کیونکہ شاہِ بابلؔ نبو کدرؔ ضر ہمارے ساتھ لڑائی کرتا ہے۔ شاید خداوند ہم سے اپنے تمام عجیب کاموں کے موافق ایسا سلوک کرے کہ وہ ہمارے پاس سے چلا جائے۔
3 تب یرمیاہؔ مے اُن سے کہا تم صدقیاہؔ سے یو ں کہنا ۔
4 کہ خداوند اِسرائیل ؔ کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں لڑائی کے ہتھیاروں کو جو تمہارے ہاتھ میں ہیں جن سے تم شاہِ بابلؔ اور کسدیوں کے خلاف جو فصیل کے باہر تمہارا محاصرہ کئے ہُوئے ہیں لڑتے ہو پھیردونگا اور میں اُ نکو اِس شہر کے بیچ میں اکٹھے کرونگا ۔
5 اور میں آپ اپنے بڑھائے ہوئے ہاتھ سے اور قوت بازو سے تمہارے خلاف لڑؤنگا ۔ہاں قہر وغضب سے بلکہ قہر شدید سے ۔
6 اور میں اِس شہر کے باشندوں کو اِنسان وحیوان دونوں کو مارونگا ۔وہ بڑی وباسے فنا ہوجائینگے ۔
7 اورخداوند فرماتا ہے پھر میں شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کو اور اُسکے ملازموں اور عام لوگوں کو جواِس شہر میں وبا اور تلوار اور کال سے بچ جائینگے شاہِ بابلؔ نبوکدرضرؔ اور اُنکے مخالفوں اور جانی دُشمنوں کے حوالہ کرونگا اور وہ اُنکو تہ تیغ کریگا ۔ نہ اُنکو چھوڑیگا نہ اُن پر ترس کھائیگا اور نہ رحم کریگا۔
8 اور تو اِن لوگوں سے کہنا خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں تم کو حیات کی راہ اور موت کی راہ دکھاتا ہوں۔
9 جو کوئی اِس شہر میں رہیگا وہ تلوار اور کال اور وبا سے مریگا لیکن جو نکل کر کسدیوں میں جو تم کو گھیرے ہُوئے ہیں چلائیگا وہ جِئیگا اور اُسکی جان اُسکے لئے غنیمت ہوگی ۔
10 کیونکہ میں اِس شہر کا رُخ کیا ہے کہ اِس سے بُرائی کُروں ۔خداوند فرماتا ہے وہ شاہِ بابلؔ کے حوالہ کیا جائیگا اور وہ اُسے آگ سے جلائیگا ۔
11 اور شاہِ یہوداہؔ کے خاندان کی بابت خداوند کا کلام سُنو۔
12 اَے داؤدؔ کے گھرانے !خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم سویرے اُٹھکر اِنصاف کرو اور مظلوم کوظالم کے ہاتھ سے چھڑاؤ مبادا تمہارے کاموں کی بُرائی کے سبب سے میرا قہر آگ کی طرح بھڑکے اور ایسا تیز ہو کہ کوئی اُسے ٹھنڈا نہ کرسکے ۔
13 اَے وادی کی بسنے والی ! اَے میدان کی چٹان پر رہنے والی جو کہتی ہے کہ کون ہم پر حملہ کر یگا یا ہمارے مسکنوں میں کون آگھسیگا ؟ خداوند فرماتا ہے میں تیرا مخالف ہوں۔
14 اور تمہارے کاموں کے پھل کے موافق میں تم کو سزا دؤنگا خداوند فرماتا ہے اور میں اُسکے بن میں آگ لگاؤ نگا جو اُسکی ساری نواحی کو بھسم کریگی ۔


باب 22

1 خداوند یوں فرماتا ہے کہ شاہِ یہوداہؔ کے گھر جا اور وہاں یہ کلام سُنا۔
2 اور کہہ اَے شاہِ یہوداہؔ جو داؤدؔ کے تخت پر بیٹھا ہے ! خداوند کا کلام سن ۔تو اور تیرے ملازم اور تیرے لوگ جوان دروازوں سے داخل ہوتے ہیں ۔
3 خداوند یوں فرماتا ہے کہ عدالت اور صداقت کے کام کرو اور مظلوم کو ظالم کے ہاتھ سے چھڑاؤ اور کسی سے بدسلوکی نہ کرو اور مسافر ویتیم اور بیوہ پر ظلم نہ کرو اِس جگہ بے گناہ کو خون نہ بہاؤ۔
4 کیونکہ اگر تم اِس پر عمل کرو گے تو داؤدؔ کے جانشین بادشاہ رتھوں پر اور گھوڑوں پر سوار ہو کر اس گھر کے پھاٹکوں سے داخل ہونگے ۔ بادشاہ اور اُسکے مُلازم اور اُسکے لوگ ۔
5 پر اگر تم اِن باتوں کو نہ سُنو گے تو خداوند فرماتا ہے مجھے اپنی ذات کی قسم یہ گھر ویران ہو جائیگا ۔
6 کیونکہ شاہِ یہوداہؔ کے گھرانے کی بابت خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگرچہ تو میرے لئے جلعاد ؔ ہے اور لُبنانؔ کی چوٹی تو بھی میں یقیناًتجھے اُجاڑ دُونگا اور غیر آباد شہر بناؤنگا ۔
7 اور میں تیرے خلاف غارت گروں کومقررہ کرونگا ۔ ہر ایک کو اُسکے ہتھیاروں سمیت اور وہ تیرے نفیس دیوراروں کو کا ٹینگے اور اُنکو آگ میں ڈالینگے ۔
8 اور بہت سی قومیں اِس شہر کی طرف سے گذرینگی اور اُن میں سے ایک دوسرے سے کہیگا کہ خداوند نے اِس بڑے شہر سے ایسا کیوں کیا ہے ؟۔
9 تب وہ جواب دینگے اِسلئے کہ اُنہوں نے خداوند اپنے خدا کے عہد کو ترک کیا اور غیر معبودوں کی عبادت اور پر ستش کی ۔
10 مُردہ پر نہ رونہ نُوحہ کرو مگر اُس پر جو چلا جاتا ہے زار زار نالہ کرو کیونکہ وہ پھر نہ آئیگا نہ اپنے وطن کو دیکھیگا ۔
11 کیونکہ شاہِ یہوادہؔ سلُوم بن یوسیاہؔ کی بابت جو اپنے باپ یوسیاہؔ کا جانشین ہوا اور اِس جگہ سے چلا گیا خداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ پھر اِس طرف نہ آئیگا ۔
12 بلکہ وہ اُسی جگہ مریگا جہاں اُسے اسیر کرکے لے گئے ہیں اور اِس ملک کو پھر نہ دیکھیگا ۔
13 اُس پرجو افسوس جو اپنے گھر کو بے اِنصافی سے اور اپنے بالا خانوں کو ظلم سے بناتا ہے ۔ جو اپنے پڑوسی سے بیگار لیتا ہے اور اُسکی مُزدُوری اُسے نہیں دیتا ۔
14 جو کہتا ہے میں اپنے لئے بڑا مکان اور ہوا دار بالا خانہ بناؤنگا اور وہ اپنے لئے جھنجھریاں بناتا ہے اور دیودار کی لکڑی کی چھت لگاتا ہے اور اُسے شنگر فی کرتا ہے۔
15 کیا تو اِسی لئے سلطنت کریگا کہ تجھے دیودار کے کام کا شوق ہے؟ کیا تیرے باپ نے نہیں کھایا پیا اور عدالت وصداقت نہیں کی جِس سے اُسکا بھلا ہوا؟
16 اس نے مسکین اور محتاج کا اِنصاف کیا۔ اِسی سے اُسکا بھلا ہوا ۔کیا یہی میرا عرفان نہ تھا ؟ خداوند فرماتا ہے۔
17 پر تیری آنکھیں اور تیرا دِل فقط لالچ اور بے گناہ کا خون بہانے اور ظلم وستم پر لگے ہیں ۔
18 اِسی لئے خداوند یہو یقیمؔ شاہِ یہوادہؔ بن یوسیاہؔ کی بابت یوں فرماتا ہے کہ اُس پر ہائے میرے بھائی !یا ہائے بہن !کہکر ماتم نہیں کرینگے ۔اُسکے لئے ہائے آقا!یا ہائے مالک !کہکر نَوحہ نہیں کرینگے ۔
19 اُسکا دفن گدھے کا سا ہوگا ۔اُسکو گھسیٹ کر یروشیلم کے پھاٹکوں کے باہر پھینک دینگے۔
20 تو لُبنان پر چڑھ جا اور چلا اور بسن ؔ میں اپنی آواز بلند کر اور عیاریم ؔ پر سے نالہ کر کیونکہ تیرے سب چاہنے والے مارے گئے ۔
21 میں نے تیری اِقبالمندی کے ایام میں تجھ ساکلام کیا پر تو نے کہا میں نہ سنونگی ۔ تیری جوانی سے تیری یہی چال ہے کہ تو میری آواز کو نہیں سُنتی ۔
22 ایک آندھی تیرے چرواہوں کو اُڑ لے جائیگی اور تیرے عاشق اِسیری میں جائینگے ۔تب تو اپنی ساری شرارت کے لئے شرمسار اور پشیمان ہو گی ۔
23 اَے لبنانؔ کی بسنے والی جو اپنا آشیانہ نہ دیوداروں پر بناتی ہے تو کیسی عاجزہو گی جب تو زچہ کی مانند دردزہ میں مبتلا ہو گی ۔
24 خداوند فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم اگرچہ تو اَے شاہِ یہوداہؔ کونیاہؔ بن یہویقیم ؔ میرے دہنے ہاتھ کی انگوٹھی ہوتا تو بھی میں تجھے نکال پھینکتا ۔
25 اور میں تجھکو تیرے جانی دُشمنوں کے جن سے توڈرتا ہے یعنی شاہِ بابلؔ بنوکدؔ رضر اور کسدیوں کے حوالہ کرونگا ۔
26 ہاں میں تجھے اور تیری ماں کو جس سے تو پیدا ہوا غیر ملک میں جو تمہاری زاد بوم نہیں ہے ہانک دُونگا اور تم وہیں مروگے ۔
27 جس ملک میں وہ واپس آنا چاہتے ہیں ہرگز لوٹ کر نہ آئینگے ۔
28 کیا یہ شخص کونیاہؔ ناچیز ٹوٹا برتن ہے یا ایسا برتن جسے کوئی نہیں پوچھتا؟ وہ اور اُسکی اَولاد کیوں نکال دِئے گئے اور اَیسے ملک میں جلا وطن کئے گئے جسے وہ نہیں جانتے؟۔
29 اے زمین زمین زمین !خداوند یوں فرماتا ہے کہ اِس آدمی کو بے اَولاد لکھو جو اپنے دِنوں میں اقبالمندی کامنہ نہ دیکھیگا کیونکہ اُسکی اَولاد میں سے کبھی کوئی ایسا اِقبالمند نہ وہ گا کہ داؤدؔ کے تخت پر بیٹھے اور یہوداہؔ پر سلطنت کرے۔
30


باب 23

1 خداوند فرماتا ہے کہ اُن چرواہوں پر افسوس جو میری چراگاہ کی بھیڑوں کوہلاک وپراگندہ کرتے ہیں ۔
2 اِسلئے خداوند اِسراؔ ئیل کا خدااُن چراوہوں کی مخالفت میں جو میرے لوگوں کی چوپانی کرتے ہیں یوں فرماتا ہے کہ تم نے میرے گلہ کو پراگندہ کیا اور اُنکو ہانک کر نکال دیا اور نگہبانی نہیں کی۔ دیکھو میں تمہارے کاموں کی بُرائی تم پر لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔
3 پر میں اُنکو جو میرے گلہ سے بچ رہے ہیں تمام ممالک سے جہاں جہاں میں نے اُنکو ہانک دیا تھا جمع کر لُو نگااور اُنکو پھر اُنکے گلہ خانوں میں لاؤ نگا اور وہ پھلینگے اور بڑھینگے ۔
4 اور میں اُن پر اَیسے چوپان مُقرر کرونگا جو اُنکو چرائینگے اور وہ پھر نہ ڈر ینگے نہ گھبرائینگے نہ گم ہونگے خداوند فرماتا ہے۔
5 دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں داؤد کے لئے ایک صادق شاخ پیدا کرونگا اور اُسکی بادشاہی ملک میں اقبالمندی اور عدالت اور صداقت کے ساتھ ہوگی۔
6 اُسکے ایام میں یہوؔ داہ نجات پائیگا اور اِسرؔ ائیل سلامتی سے سُکونت کریگا ور اُسکا نام یہ رکھا جائیگا خداوند ہماری صداقت ۔
7 اِسی لئے دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ وہ پھر نہ کہینگے کہ زندہ خداوند کی قسم جو بنی اِسرؔ ائیل کو ملک مصرؔ سے نکال لایا۔
8 بلکہ زندہ خداوند کی قسم جو اِسرؔ ائیل کے گھرانے کی اَولاد کو شمال کی سرزمین سے اور اُن سب مملکتوں سے جہاں جہاں میں نے اُنکو ہانک دیا تھا نکال لایا اور وہ اپنے ملک میں بسینگے ۔
9 نبیوں کی بابت ۔میرا دِل میرے اندر ٹوٹ گیا۔ میری سب ہڈیاں تھرتھراتی ہیں ۔ خداوند اور اُسکے پاک کلام کے سبب سے میں متوالا ساہوں اور اُس شخص کی مانند جو مے سے مغلوب ہو۔
10 یقیناًزمین بدکاروں سے پُر ہے ۔ لعنت کے سبب سے زمین ماتم کرتی ہے۔ میدان کی چراگاہیں سُوکھ گئیں کیونکہ اُنکی روش بُری اور اُنکا زور ناحق ہے۔
11 کہ نبی اور کاہن دونوں ناپاک ہیں ۔ ہاں میں نے اپنے گھرکے اندر اُنکی شرارت دیکھی خداوند فرماتا ہے۔
12 اِسلئے اُنکی راہ اُنکے حق میں اَیسی ہوگی جیسے تاریکی میں پھسلنی جگہ ۔وہ اُس میں رگیدے جائینگے اور وہاں گرینگے کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں اُن پر بلا لاؤ نگا یعنی اُنکی سزا کا سال ۔
13 اور میں نے سامریہؔ کے نبیوں میں حمایت دیکھی ہے اُنہوں نے بعلؔ کے نام سے نبوت کی اور میری قوم اِسرؔ ائیل کو گمراہ کیا۔
14 میں نے یروشیلم ؔ کے نبیوں میں بھی ایک ہولناک بات دیکھی ۔ وہ زناکار جھوٹ کے پیرو اور بدکاروں کے حامی ہیں یہاں تک کہ کوئی اپنی شرارت سے باز نہیں آتا۔ وہ سب میرے نزدیک سُدومؔ کی مانند اور اُسکے باشندے عمورہؔ کی مانند ہیں ۔
15 اِسی لئے ربُّ الافواج نبیوں کی بابت یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اُنکو ناگدوناکھلاؤنگا اور اِندراین کا پانی پلاؤنگا کیونکہ یروشیلمؔ کے نبیوں ہی سے تمام ملک میں بیدینی پھیلی ہے۔
16 ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ اُن نبیوں کی باتیں نہ سُنو جو تم سے نبوت کرتے ہیں ۔ وہ تم کو بطالت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ وہ اپنے دلوں کے اِلہام بیان کرتے ہیں نہ کہ خداوند کے منہ کی باتیں ۔
17 وہ مجھے حقیر جاننے والوں سے کہتے رہتے ہیں خداوند نے فرمایا ہے کہ تمہاری سلامتی ہو گی اور ہر ایک سے جو اپنے دل کی سختی پر چلتا ہے کہتے ہیں کہ تجھ پر کوئی بلانہ آئیگی ۔
18 پر اُن میں سے کون خداوند کی مجلس میں شامل ہوا کہ اُسکا کلام سُنے اور سمجھے ؟ کس نے اُسکے کلا م کی طرف توجہ کی اور اُس پر کان لگایا ؟۔
19 دیکھ خداوند کے قہر شدید کا طوفان جاری ہوا ہے بلکہ طوفان کا بگولہ شریروں کے سر پر ٹوٹ پڑیگا۔
20 خداوند کا غضب پھر موقوف نہ ہوگا جب تک اُسے انجام تک نہ پہنچائے اور اُسکے دل کے اِرادہ کوپورا نہ کرے ۔تم آنے والے دِنوں میں اُسے بخوبی معلوم کرو گے۔
21 میں نے اِن نبیوں کو نہیں بھیجا پر یہ دوڑتے پھرے ۔میں نے اِن سے کلام نہیں کیا پر اِنہوں نے نبوت کی۔
22 لیکن اگر وہ میری مجلس میں شامل ہوتے تو میری باتیں میرے لوگوں کو سُناتے اور اُنکو اُنکی بُری راہ سے اور اُنکے کاموں کی بُرائی سے باز رکھتے ۔
23 خداوند فرماتا ہے کیا میں نزدیک ہی کا خداہوں اور دور کا خدا نہیں ؟۔
24 کیا کوئی آدمی پوشیدہ جگہوں میں چھپ سکتا ہے کہ میں اُسے نہ دیکھوں ؟ خداوند فرماتا ہے کیا زمین وآسمان مجھ سے معمور نہیں ہیں ؟خداوند فرماتا ہے ۔
25 میں نے سُنا جو نبیوں نے کہا جو میرا نام لیکر جھوٹی نبوت کرتے اور کہتے ہیں کہ میں نے خواب دیکھا ۔ میں نے خواب دیکھا ۔
26 کب تک یہ نبیوں کے دِل میں رہیگا کہ جھوٹی نبوت کریں ؟ ہاں وہ اپنے دِل کی فریب کاری کے نبی ہیں ۔
27 جو گمان رکھتے ہیں کہ اپنے خوابوں سے جو اُ ن میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی سے بیان کرتا ہے میرے لوگوں کو میرا نام بُھلادیں جس طرح اُنکے باپ دادا بعلؔ کے سبب سے میرا نام بھول گئے تھے۔
28 جس نبی کے پاس خواب ہے وہ خواب بیان کرے اور جسکے پاس میرا کلام ہے وہ میرے کلام کو دیانتداری سے سُنائے ۔گیہوں کو بھوسے سے کیا نسبت ؟ خداوند فرماتا ہے ۔
29 کیا میرا کلام آگ کی مانند نہیں ہے؟ خداوند فرماتا ہے اور ہتھوڑے کی مانند جو چٹان کو چکنا چور کر ڈالتا ہے؟۔
30 اِسلئے دیکھ میں اُن نبیوں کا مخالف ہوں خداوند فرماتا ہے جو ایک دُوسرے سے میری باتیں چراتے ہیں ۔
31 دیکھ میں اُن نبیوں کا مخالف ہو ں خداوند فرماتا ہے ہے جو اپنی زبان کو استعمال کرتے اور کہتے ہیں کہ خدافرماتا ہے۔
32 خداوند فرماتا ہے دیکھ میں اُنکا مخالف ہوں جو جھوٹے خوابوں کو نبوت کہتے اور بیان کرتے ہیں اور اپنی جھوٹی باتوں سے اور لافزنی سے میرے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں لیکن میں نے نہ اُنکو بھیجا نہ حکم دیا اِسلئے اِن لوگوں کو اُن سے ہر گز فاعمدہ نہ ہو گا خداوند فرماتا ہے۔
33 اور جب یہ لوگ یا نبی یا کاہن تجھ سے پُوچھیں کہ خداوند کی طرف سے بار نبوت کیا ہے؟تب تو اُن سے کہنا کون سا بارِ نبوت ! خداوند فرماتا ہے میں کو پھینکدونگا ۔
34 اور نبی اور کاہن اور لوگوں میں سے جو کوئی کہے خداوندکی طرف سے بارِنبوت میں اُس شخص کو اور اُسکے گھرانے کو سزادُونگا ۔
35 چاہئے کہ ہر ایک اپنے پڑوسی اور اپنے بھائی سے یوں کہے کہ خداوند نے کیا جواب دیا؟ اور خداوند نے کیا فرمایا ہے ؟۔
36 پر خداوند کی طرف سے بارِنبوت کا ذکر تم کبھی نہ کرنا اِسلئے کہ ہر ایک آدمی کی اپنی ہی باتیں اُس پر بار ہونگی کیونکہ تم نے زندہ خدا ربُّ الافواج ہمارے خدا کے کلام کو بگاڑڈالاہے۔
37 تو نبی سے یوں کہنا کہ خداوند نے تجھے کیا جواب دیا؟اور خداوند نے کیا فرمایا ؟ ۔
38 لیکن چونکہ تم کہتے ہو خداوند کی طرف سے بارِنبوت اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم کہتے ہو خداوند کی طرف سے بارِنبوت اور میں نے تم کو کہلا بھیجا کہ خداوند کی طرف سے بارِنبوت نہ کہو۔
39 اِسلئے دیکھو میں تم کو بالکل فراموش کردونگا اور تم کو اور اِس شہر کوجو میں نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو یا اپنی نظر سے دُور کردونگا ۔
40 اور میں تم کو ہمیشہ کی ملامت کا نشانہ بناؤ نگا اور ابدی خجالت تم پر لاؤ نگا جوکبھی فراموش نہ ہوگی۔


باب 24

1 جب شاہ بابلؔ نبوکدرضرؔ شاہ یہوداہؔ یکونیاہؔ بِن یہویقیمؔ کو اور یہوؔ داہ کے اُمر اکو کاریگروں اور لُہاروں سمیت یروشلیمؔ سے اِسیر کرکے بابلؔ کو لے گیا تو خداوند نے مجھ پر نمایاں کیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ خداوند کی ہیکل کے سامنے انجیر کی دوٹوکریاں دھری تھیں ۔
2 ایک ٹوکری میں اچھے سے اچھے انجیر تھے ۔اُنکی مانند جو پہلے پکتے ہیں اور دوسری ٹوکری میں نہایت خراب انجیر تھے۔اَیسے خراب کہ کھانے کے قابل نہ تھے ۔
3 اور خداوند نے مجھ سے فرمایا اَے یرمیاہؔ !تو کیا دیکھتاہے؟ اور میں نے عرض کی انجیر ۔اچھے انجیر ۔نہایت اچھے اور خراب انجیر ۔بہت خراب ۔اَیسے خراب کہ کھانے کے قابل نہیں ۔
4 پھر خداوند کا کلا م مجھ پر نازل ہوا کہ ۔
5 خداوند اِسراؔ ئیل کا خدایوں فرماتا ہے کہ اِن اچھے انجیروں کی مانند میں یہوؔ داہ کے اُن اسیروں پر جنکو میں نے اِس مقام سے کسدیوں کے ملک میں بھیجا ہے کرم کی نظر رکھونگا۔
6 کیونکہ اُن پر میری نظر عنایت ہو گی اور میں اُنکو اس ملک میں واپس لاؤنگااور میں اُنکو برباد نہیں بلکہ آباد کرونگا ۔میں اُنکو لگاؤنگا اور اُکھاڑونگانہیں ۔
7 اور میں اُنکو اَیسا دل دونگا کہ مجھے پہچانیں کہ میں خداوند ہو ں اور وہ میرے لوگ ہونگے اور میں اُنکا خدا ہونگا اِسلئے کہ وہ پُورے دِل سے میری طرف پھرینگے ۔
8 پر اُن خراب انجیروں کی بابت جو اَیسے خراب ہیں کہ کھانے کے قابل نہیں خداوند یقیناًیوں فرماتا ہے کہ اِسی طرح میں شاہ یہوداہؔ صدؔ قیاہ کو اور اُسکے اُمرا کو اور یروشیلم ؔ کے باقی لوگوں کو جو اِس ملک میں بچ رہے ہیں اور ملک مصرؔ میں بستے ہیں ترک کردونگا۔
9 ہاں میں اُنکو ترک کردونگا کہ دُنیا کی سب مملکتوں میں دھکے کھاتے پھریں تاکہ وہ ہر ایک جگہ میں جہاں جہاں میں اُنکو ہانک دُونگا ملامت اور مثل اور طعن اور لعنت کا باعث ہوں ۔
10 اور میں اُن میں تلوار اور کال اور وبا بھیجونگا یہاں تک کہ وہ اُس ملک سے جو میں نے اُنکو اور اُنکے باپ دادا کو دیا نیست ہو جا ئینگے۔


باب 25

1 وہ کلام جو شاہ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے چوتھے برس میں جو شاہِ بابلؔ نبوُکدرضرؔ کا پہلا برس تھا یہوداہؔ کے سب لوگوں کی بابت یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2 جو یرمیاہؔ نبی نے یہوداہؔ کے سب لوگوں اور یروشیلمؔ کے سب باشندوں کو سنایا اور کہا۔
3 کہ شاہ یہوداہؔ یوسیاہؔ بن امون ؔ کے تیرھویں برس سے آج تک یہ تئیس برس خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا اور میں تم کو سناتا اور بروقت جتاتا رہا پر تم نے نہ سنا۔
4 اور خداوند نے اپنے سب خدمتگذار نبیوں کو تمہارے پاس بھیجا ۔اُس نے اُنکو بروقت بھیجا پر تم نے نہ سنا اور نہ کان لگایا۔
5 اُنہوں نے کہا کہ تم سب اپنی اپنی بُری راہ سے اور اپنے بُرے کاموں سے باز آؤ اور اُس ملک میں جو خداوند نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو قدیم سے ہمیشہ کے لئے دیا ہے بسو۔
6 اور غیر معبودوں کی پیروی نہ کروکہ اُنکی عبادت وپرستیش کرو اور اپنے ہاتھوں کے کاموں سے مجھے غضبناک نہ کرو اور میں تم کو کچھ ضرر نہ پہنچاؤنگا ۔
7 پر خداوند فرماتا ہے تم نے میری نہ سُنی تاکہ اپنے ہاتھوں کے کاموں سے اپنے زیان کے لئے مجھے غضبناک کرو۔
8 اِسلئے ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے میری بات نہ سُنی ۔
9 دیکھو میں تمام شمالی قبائل کو اور اپنے خدمتگذار شاہ بابلؔ نبوکدؔ رضر کو بلا بھیجونگا خداوند یوں فرماتا ہے اور میں انکو اِس ملک اور اسکے باشندوں پر اور ان سب قوموں پر جو آس پاس ہیں چڑھالاؤنگا اور انکو بالکل نیست ونابود کردونگا اور اُنکو حیرانی اور سسکار کاباعث بناؤنگا اور ہمیشہ کے لئے ویران کرونگا۔
10 بلکہ میں ان میں سے خوشی و شادمانی کی آواز دُلہے اور دُلہن کی آواز چکی کی آوا ز اور چراغ کی روشنی موقوف کردونگا ۔
11 اور یہ ساری سر زمین ویرانہ اور حیرانی کا باعث ہو جائیگی اور یہ قومیں ستر برس تک شاہ بابل ؔ کی غلامی کرینگی ۔
12 خداوند فرماتا ہے جب ستر برس پورے ہونگے تو میں شاہ بابلؔ کو اور اُس قوم کو اور کسدیوں کے ملک کو اُنکی بدکرداری کے سبب سے سزا دونگا اور میں اُسے ایسا اُجاڑؤنگاکہ ہمیشہ تک ویران رہے۔
13 اور میں اُس ملک پر اپنی سب باتیں جو میں نے اُسکی بابت کہیں یعنی وہ سب جو اِس کتاب میں لکھی ہیں جو یرمیاہؔ نے نبوت کرکے سب قوموں کو کہہ سنا ئیں پوری کرونگا۔
14 کہ اُ ن سے ہاں اُن ہی سے بہت سی قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ غلام کی سی خدمت لینگے ۔ تب میں اُنکے اعمال کے مطابق اور اُنکے ہاتھوں کے کاموں کے مطابق اُنکو بدلہ دونگا۔
15 چونکہ خداوند اِسراؔ ئیل کے خدا نے مجھے فرمایا کہ غضب کی مے کا یہ پیالہ میرے ہاتھ سے لے اور اُن سب قوموں کو جنکے پاس میں تجھے بھیجتا ہوں پلا۔
16 کہ وہ پئیں اور لڑکھڑائیں اور اُس تلوار کے سبب سے جو میں اُنکے درمیان چلاؤنگابے حواس ہوں ۔
17 اِسلئے میں نے خداوند کے ہاتھ سے وہ پیالہ لیا اور اُن سب قوموں کو جنکے پاس خداوند نے مجھے بھیجا تھا پلایا ۔
18 یعنی یروشیلم ؔ اور یہوداہؔ کے شہروں کو اور اُسکے بادشاہوں اور اُمرا کو تاکہ وہ برباد ہوں اور حیرانی اور سسکار اور لعنت کا باعث ٹھہریں جیسے اب ہیں ۔
19 شاہِ مصرؔ فرعونؔ کو اور اُسکے ملازموں اور اُسکے اُمرا اور اُسکے سب لوگوں کو۔
20 اور سب ملے جلے لوگو ں اور عوض ؔ کی زمین کے سب بادشاہوں اور فلستیوں کی سر زمین کے سب بادشاہوں اور اسقلونؔ اور غزہؔ اور عقرونؔ اور اشدودؔ کے باقی لوگوں کو۔
21 ادومؔ اور موآبؔ اور بنی عمونؔ کو ۔
22 اور صورؔ کے سب بادشاہوں اور صیداکے سب بادشاہوں اور سمندر پار کے بحری ممالک کے بادشاہوں کو۔
23 دوانؔ اور تیماؔ اور بوزؔ اور اُن سب کو جو گاودم داڑھی رکھتے ہیں ۔
24 اور عرب ؔ کے سب بادشاہوں اور اُن ملے جلے لوگوں کے سب بادشاہوں کو جو بیابان میں بستے ہیں ۔
25 اور زمریؔ کے سب بادشاہوں اور عیلام ؔ کے سب بادشاہوں اور مادی ؔ کے سب بادشاہوں کو۔
26 اور شمال کے سب بادشاہوں کو جو نزدیک اور جو دور ہیں ایک دوسرے کے ساتھ اور دُنیا کی سب سلطنتوں کو جو رُوی زمین پر ہیں اور اُنکے بعد شیشک کا بادشاہ پئیگا ۔
27 اور تو اُن سے کہیگا کہ اِسراؔ ئیل کا خدا ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم پیو اور مست ہو اور قے کرو اور گرپڑو اور پھر نہ اُٹھو ۔ اُس تلوار کے سبب سے جو میں تمہارے درمیان بھیجو نگا۔
28 اور یوں ہو گا کہ اگر وہ پینے کو تیرے ہاتھ سے پیالہ لینے سے اِنکار کریں تو اُن سے کہنا کہ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ یقیناًتم کو پینا ہوگا۔
29 کیونکہ دیکھ میں اِس شہر پر جو میرے نام سے کہلاتا ہے آفت لاناشروع کرتا ہوں اور کیا تم صاف بے سزا چھوٹ جاؤ گے ؟ تم بے سزا نہ چھوٹو گے کیونکہ میں زمین کے سب باشندوں پر تلوار کو طلب کرتا ہوں ربُّ الافواج فرماتا ہے ۔
30 اِسلئے تو یہ سب باتیں اُنکے خلاف نبوت سے بیان کر اور اُن سے کہدے کہ خداوند بلند ی پر سے گر جیگا اور اپنے مقدس مکان سے للکاریگا ۔
31 ایک غوغازمین کی سرحدوں تک پہنچا ہے کیونکہ خداوند قوموں سے جھگڑیگا ۔وہ تمام بشر کو عدالت میں لائیگا ۔وہ شریروں کو تلوار کے حوالہ کریگا خداوند فرماتا ہے ۔
32 ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ قوم سے قوم تک بلا نازل ہوگی اور زمین کی سرحدوں سے ایک سخت طوفان برپا ہوگا۔
33 اور خداوند کے مقتول اُس روز زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پڑے ہونگے اُن پر کوئی نوحہ نہ کر یگا ۔نہ وہ جمع کئے جائینگے نہ دفن ہونگے وہ کھاد کی طرح رُوی زمین پر پڑے رہینگے ۔
34 اے چرواہو واویلا کرو اور چلاؤ اور اے گلہ کے سردارو تم خود راکھ میں لیٹ جاؤ کیونکہ تمہارے قتل کے ایا م آپہنچے ہیں۔میں تم کو چکناچور کرونگا ۔تم نفیس برتن کی طرح گرجاؤ گے ۔
35 اور نہ چراوہوں کو بھاگنے کی کوئی راہ ملیگی نہ گلہ کے سرداروں کو بچ نکلنے کی ۔
36 چرواہوں کے نالہ کی آواز اور گلہ کے سرداروں کو نوحہ ہے کیونکہ خداوند نے اُنکی چراگاہ کو برباد کیا ہے ۔
37 اور سلامتی کے بھیڑ خانے خداوند کے قہر شدیدسے برباد ہوگئے ۔
38 وہ جوان شیز کی طرح اپنی کمینگاہ سے نکلا ہے۔ یقیناًستمگر کے ظلم سے اور اُسکے قہر کی شدت سے اُنکا ملک ویران ہوگیا۔


باب 26

1 شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بنِ یوسیاہؔ کی بادشاہی کے شروع میں یہ کلام خداوند کی طرف سے نازل ہوا۔
2 کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو خداوند کے گھر کے صحن میں کھڑا ہو اور یہوداہؔ کے سب شہروں کے لوگوں سے جو خداوند کے گھر میں سجدہ کرنے کو آتے ہیں وہ سب باتیں جنکا میں نے تجھے حکم دیا ہے کہ اُن سے کہے کہدے ۔ایک لفظ بھی کم نہ کر ۔
3 شاید وہ شنوا ہوں اور ہر ایک اپنی بُری روش سے باز آئے اور میں بھی اُس عذاب کو جو اُنکی بد اعمالی کے باعث اُن پر لانا چاہتا ہوں باز رکھوں ۔
4 اور تو اُن سے کہنا خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر تم میری نہ سُنو گے کہ میری شریعت پر جو میں نے تمہارے سامنے رکھی عمل کرو۔
5 اور میرے خدمتگذارنبیوں کی باتیں سُنو جنکو میں نے تمہارے پاس بھیجا ۔ میں نے اُنکو بروقت بھیجا پر تم نے نہ سُنا۔
6 تو میں اِس گھر کو سیلاؔ کی مانند کر ڈالونگا اور اِس شہر کو زمین کی سب قوموں کے نزدیک لعنت کا باعث ٹھہراؤنگا ۔
7 چنانچہ کا ہنوں اور نبیوں اور سب لوگوں نے یرمیاہؔ کو خداوند کے گھر میں یہ باتیں کہتے سُنا۔
8 اور یو ں ہوا کہ جب یرمیاہؔ وہ سب باتیں کہہ چُکا جو خداوند نے اُسے حکم دیا تھا کہ سب لوگوں سے کہے تو کاہنوں اور نبیوں اور سب لوگوں نے اُسے پکڑا اور کہا کہ تو یقیناًقتل کیا جائیگا ۔
9 تو نے کیوں خداوند کا نام لیکر نبوت کی اور کہا کہ یہ گھر سیلاؔ کی مانند ہو گا اور یہ شہر ویران اور غیر آباد ہو گا؟ اور سب لوگ خداوند کے گھر میں یرمیاہؔ کے پاس جمع ہوئے۔
10 اور یہوداہؔ کے اُمرا یہ باتیں سُنکر بادشاہ کے گھر سے خداوند کے گھر میں آئے اور خداوند کے گھر کے نئے پھاٹک کے مدخل پر بیٹھے ۔
11 اور کاہنو ں اور نبیوں نے اُمرا سے اور سب لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ شخص واجب القتل ہے کیونکہ اِس نے اِس شہر کے خلاف نبوت کی ہے جیسا کہ تم نے اپنے کانوں سے سُنا ۔
12 تب یرمیاہؔ نے سب اُمرا اور تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ خداوند نے مجھے بھیجا کہ اِس گھر اور اِس شہر کے خلاف وہ سب باتیں جو تم نے سُنی ہیں نبوت سے کہوں ۔
13 اِسلئے اب تم اپنی روش اور اپنے اعمال کو دُرست کرو اور خداوند اپنے خدا کی آواز کے شنوا ہو تاکہ خداوند اُس عذاب سے جسکا ررتمہارے خلاف اِعلان کیا ہے باز رہے ۔
14 اور دیکھو میں تمہارے قابو میں ہوں ۔ جو کچھ تمہاری نظر میں خوب و راست ہو مجھ سے کرو ۔
15 پر یقین جانو کہ اگر تم مجھے قتل کروگے تو بے گناہ کا خون اپنے آپ پر اور اِس شہر پر اور اِسکے باشندوں پر لاؤ گے کیونکہ درحقیقت خداوند نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تمہارے کانوں میں یہ سب باتیں کہوں ۔
16 تب اُمرا اور سب لوگوں نے کاہنوں اور نبیوں سے کہا کہ یہ شخص واجب القتل نہیں کیونکہ اُس نے خداوند ہمارے خدا کے نام سے ہم سے کلام کیا ۔
17 تب ملک کے چند بُزرگ اُٹھے اور کل جماعت سے مخاطب ہو کر کہنے لگے ۔
18 کہ میکا ہؔ مورشتی نے شاہِ یہوداہؔ حزقیاہؔ کے ایاّم میں نبوت کی اور یہوداہؔ کے سب لوگوں سے مخاطب ہو کر یوں کہا کہ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ صیون کھیت کی طرح جوتا جائیگا اور یروشیلم ؔ کھنڈ ر ہوجائیگا اور اِس گھر کا پہاڑ جنگل کی اُونچی جگہوں کی مانند ہو گا۔
19 کیا شاہ یہوداہ حزقیاہؔ اور تمام یہوداہؔ نے اُسکو قتل کیا؟کیا وہ خداوند سے نہ ڈرا اور خداوند سے مناجات نہ کی اور خداوند نے اُس غداب کو جسکا اُنکے خلاف اِعلان کیا تھا باز نہ رکھا؟ پس یوں ہم نے اپنی جانوں پر بڑی آفت لائینگے ۔
20 پھر ایک اور شخص نے خداوند کے نام سے نبوت کی یعنی اُوریاہؔ بن سمعیاہؔ نے جو قریتؔ یعر یم کا تھا۔اُس نے اِس شہر اور ملک کے خلاف یرمیاہؔ کی سب باتوں کے مطابق نبوت کی ۔
21 اور جب یہوؔ یقیم بادشاہ اور اُسکے سب جنگی مردوں اور اُمرا نے اُسکی باتیں سُنیں تو بادشاہ نے اُسے قتل کرنا چاہا لیکن اُوریاہؔ یہ سُنکر ڈرا اور مصرؔ کو بھاگ گیا۔
22 اور یہوؔ یقیم بادشاہ نے چند آدمیوں یعنی اِلناؔ تن بن عکبُوؔ ر اور اُسکے ساتھ کچھ اور آدمیوں کومصرؔ میں بھیجا ۔
23 اور وہ اُور یاہؔ کو مصرؔ سے نکال لائے اور اُسے یہوؔ یقیم بادشاہ کے پاس پہنچا یا اور اُس نے اُسکو تلوار سے قتل کیا اور اُسکی لاش کو عوام کے قبرستان میں پھنکوادیا۔
24 پر اخیقاؔ م بن ساؔ فن یرمیاہؔ کا دستگیر تھا تاکہ وہ قتل ہونے کے لئے لوگوں کے حوالہ نہ کیا جائے۔


باب 27

1 شا ہ یہوداہؔ صدقیاہؔ بن یوسیاہؔ کی سلطنت کے شروع میں خداوند کی طرف سے یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2 کہ خداوند نے مجھے یوں فرمایا کی بندھن اور جوئے بنا کر اپنی گردن پر ڈال ۔
3 اور اُنکو شاہ اُدومؔ ۔شاہ موآب ؔ ۔ شاہ بنی عمون شاہ صورؔ اور شاہ صیداؔ کے پاس اُن قاصدوں کے ہاتھ بھیج جو یروشلیمؔ میں شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کے پاس آئے ہیں ۔
4 اور اُنکو اُنکے آقاؤں کے واسطے تاکید کر کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم اپنے آقاؤں سے یوں کہنا ۔
5 کہ میں نے زمین کو اور اِنسان وحیوان کو جو رُوی زمین پر ہیں انپی بڑی قدرت اور بلند بازو سے پیدا کیا اور اُنکو جسے میں نے مناسب جانا بخشا۔
6 اور اب میں نے یہ سب مملکتیں اپنے خدمتگذار شاہ بابلؔ بنوکدنضرؔ کے قبضہ میں کردی ہیں اور میدان کے جانور بھی اُسے دئے کہ اُسکے کام آئیں ۔
7 اور سب قومیں اُسکی اور اُسکے بیٹے اور اُسکے پوتے کی خدمت کرینگی جب تک کہ اُسکی مملکت کا وقت نہ آئے ۔تب بہت سی قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ اُس سے خدمت کروائینگے ۔
8 اور خداوند فرماتا ہے جو قوم اور جو سلطنت اُسکی یعنی شاہِ بابلؔ بنوکدؔ نضرکی خدمت نہ کریگی اور اپنی گردن شاہِ بابلؔ کے جوئے تلے نہ جھکائیگی اُس قوم کو میں تلوار اور کال اور وبا سے سزا دونگا یہاں تک کہ میں اُسکے ہاتھ سے اُنکو نابودکر ڈالو نگا۔
9 پس تم اپنے نبیوں اور غیب دانوں اور خواب بینوں اور شگونیوں اور جادوگروں کی نہ سُنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہِ بابلؔ کی خدمتگذاری نہ کرو گے۔
10 کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں تاکہ تم کو تمہارے ملک سے آوارہ کریں اور میں تم کو خارج کردوں اور تم ہلاک ہوجاؤ۔
11 پر جو قوم اپنی گردن شاہِ بابلؔ کے جوئے تلے رکھ دیگی اور اُسکی خدمت کریگی اُسکو میں اُسکی مملکت میں رہنے دونگا خداوند فرماتا ہے اور وہ اُس میں کھیتی کر یگی اور اُس میں بسیگی ۔
12 اور اِن سب باتوں کے مطابق میں نے شاہِ یہوداہؔ صدؔ قیاہ سے کلام کیا اور کہا کہ اپنی گردن شاہِ بابل ؔ کے جوئے تلے رکھکر اُسکی اور اُسکی قوم کی خدمت کرو اور زندہ رہو۔
13 تو اور تیرے لوگ تلوار اور کال اور وبا سے کیوں مرو گے جیسا کہ خداوند نے اُس قوم کی بابت فرمایا ہے جو شاہِ بابلؔ کی خدمت نہ کریگی ؟۔
14 اور اُن نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہِ بابلؔ کی خدمت نہ کرو گے کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں ۔
15 کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں نے اُنکو نہیں بھیجا پر وہ میرا نام لیکر جھوٹی نبوت کرتے ہیں تاکہ میں تم کو خارج کردوں اور تم اُن نبیوں کے ساتھ جو تم سے نبوت کرتے ہیں ہلاک ہو جاؤ۔
16 میں نے کاہنوں سے اُن سب لوگوں سے بھی مخاطب ہو کر کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے نبیوں کی باتیں نہ سُنو جو تم سے نبوت کرتے اور کہتے ہیں کہ دیکھو خداوند کے گھر کے ظروف اب تھوڑی ہی دیر میں بابلؔ سے واپس آجائینگے ۔کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں ۔
17 اُنکی نہ سُنو۔ شاہِ بابلؔ کی خدمتگذاری کرو اور زندہ رہو۔یہ شہر کیوں ویران ہو؟ ۔
18 پر اگر وہ نبی ہیں اور خداوند کا کلام اُنکی امانت میں ہے تو وہ ربُّ الافواج سے شفاعت کریں تاکہ وہ ظروف جو خداوند کے گھر میں اور شاہِ یہوداہؔ کے گھر میں اور یروشلیمؔ میں باقی ہیں بابلؔ کو نہ جائیں ۔
19 کیونکہ سُتونوں کی بابت اور بڑے حوض اور کُرسیوں اور باقی ظروف کی بابت جو اِس شہر میں باقی ہیں ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے ۔
20 یعنی جنکو شاہِ بابلؔ نبوکدنضرؔ نہیں لے گیا جب وہ یہوداہؔ کے بادشاہ یکونیاہؔ بن یہوؔ یقیم کو یروشلیم ؔ سے اور یہوداہؔ اور یروشلیمؔ کے سب شرفا کو اسیرکرکے بابلؔ کو لے گیا۔
21 ہاں ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا اُن ظروف کی بابت جو خداوند کے گھر میں شاہِ یہوداہؔ کے محل میں اور یروشلیم ؔ میں باقی ہیں یوں فرماتا ہے۔
22 کہ وہ بابلؔ میں پہنچائے جائینگے اور اُس دن تک کہ میں اُنکو یاد فرماؤں وہاں رہینگے ۔خداوند فرماتا ہے اُس وقت میں اُنکو اُٹھا لاؤنگا اورپھر اِس مکان میں رکھ دونگا۔


باب 28

1 اور اُسی سال شاہِ یہوداہؔ صدقیاؔ ہ کی سلطنت کے شروع میں چوتھے برس کے پانچویں مہینے میں یوں ہوا کہ جبعونی عز ور ؔ کے بیٹے حننیاہؔ نبی نے خداوندکے گھر میں کاہنوں اور سب لوگوں کے سامنے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔
2 ربُّ الافواج اِسرائیلؔ کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے شاہِ بابلؔ کا جُوا توڑاڈالا ہے۔
3 دو ہی برس کے اندر میں خداوند کے گھر کے سب ظروف جو شاہِ بابلؔ نبوکدنضر ؔ اِس مکان سے بابل ؔ کو لے گیا اِسی مکان میں واپس لاؤنگا۔
4 شاہِ یہوداہؔ یکونیاہؔ بن یہویقیم ؔ کو اور یہوداہ کے سب اسیروں کو جو بابلؔ کو لے گئے تھے پھر اِسی جگہ لاؤنگا ۔خداوند فرماتا ہے کیونکہ میں شاہِ بابلؔ کے جوئے کو توڑ ڈالونگا۔
5 تب یرمیاہ ؔ نبی نے کاہنوں اور سب لوگوں کے سامنے جو خداوند کے گھر میں کھڑے تھے حننیاہؔ نبی سے کہا ۔
6 ہاں یرمیاہؔ نبی نے کہا آمین ۔خداوند اَیسا ہی کرے ۔خداوند تیری باتوں کو جو تو نے نبوت سے کہیں پُورا کرے کہ خداوند کے گھر کے ظروف کواور سب اِسیروں کو بابلؔ سے اِس مکان میں واپس لائے ۔
7 تو بھی اب یہ بات جو میں تیرے اور سب لوگوں کے کانوں میں کہتا ہوں سُن ۔
8 اُن نبیوں نے مجھ سے اور تجھ سے پہلے گذشتہ زمانہ میں تھے بہت سے ملکوں اور بڑی بڑی سلطنتو ں کے حق میں جنگ اور بلا اور وبا کی نبوت کی ہے ۔
9 وہ نبی جو سلامتی کی خبر دیتا ہے جب اُس نبی کا کلام پورا ہو جائے تو معلوم ہوگا کہ فی الحقیقت خداوند نے اُسے بھیجا ہے۔
10 تب حننیاہؔ نبی نے یرمیاہؔ نبی کی گردن پر سے جوا اُتارا اور اُسے توڑ ڈالا ۔
11 اور حننیاہؔ نے سب لوگوں کے سامنے اِس طرح کلام کیا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں اِسی طرح شاہِ بابلؔ نبوکدنضرؔ کو جوا سب قوموں کی گردن پر سے دو ہی برس کے اندر توڑ ڈالونگا ۔ تب یرمیاہؔ نبی نے اپنی راہ لی ۔
12 جب حننیاہؔ نبی یرمیاہ نبی کی گردن پر سے جوا توڑ چکا تھا تو خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
13 کہ جا اور حننیاہؔ سے کہہ کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو نے لکڑی کے جُوؤں کو تو توڑا پر اُنکے عوض میں لوہے کے جوئے بناؤئے ۔
14 کیونکہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کاخدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے اِن سب قوموں کی گردن پر لوہے کا جوا ڈال دیا ہے تاکہ وہ شاہِ بابلؔ نبوکدنضرؔ کی خدمت کریں ۔ پس وہ اُسکی خدمتگذاری کرینگی اور میں نے میدان کے جانور بھی اُسے دے دِئے ہیں ۔
15 تب یرمیاہؔ نبی نے حننیاہؔ نبی سے کہا اَے حننیاہؔ اب سُن ! خداوند نے تجھے نہیں بھیجا لیکن تو اِن لوگوں کو جھوٹی اُمید دِلاتا ہے۔
16 اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تجھے رُوی زمین پر سے خارج کرونگا ۔تو اِسی سال مر جائیگا کیونکہ تو نے خداو ند کے خلاف فتنہ انگیز باتیں کہی ہیں ۔
17 چنانچہ اُسی سال کے ساتویں مہینے حننیا ہؔ نبی مر گیا۔


باب 29

1 اب یہ اُس خط کی باتیں ہیں جو یرمیاہؔ نبی نے یروشلیم ؔ سے باقی بُزرگوں کو جو اِسیر ہو گئے تھے اور کا ہنوں اور نبیوں اور اُن سب لوگوں کو جنکو نبوؔ کدنضر یروشلیم ؔ سے اسیر کرکے بابلؔ لے گیا تھا۔
2 (اُسکے بعد کہ یکونیاؔ ہ بادشاہ اور اُسکی والدہ اور خواجہ سرا اور یہوداہؔ اور یروشلیم ؔ کے اُمرا اور کاریگر اور لُہا ر یروشلیم ؔ سے چلے گئے تھے )۔
3 العا سہؔ بن سافن ؔ اور حمبریاہؔ بن خلقیاہ ؔ کے ہاتھ ( جنکو شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ نے بابلؔ میں شاہِ بابلؔ نبوکدنضرؔ کے پاس بھیجا ) اِرسال کیا اور اُس نے کہا ۔
4 ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا اُن سب اسیروں سے جنکو میں یروشلیمؔ سے اِسیر کرواکر بابلؔ بھیجا ہے یوں فرماتا ہے۔
5 تم گھر بناؤ اور اُن میں بسو اور باغ لگاؤ اور اُنکا پھل کھاؤ۔
6 بیویاں کرو تاکہ تم سے بیٹے بیٹیا ں پیدا ہوں اور اپنے بیٹوں کے لئے بیویاں لو اور اپنی بیٹیاں شوہروں کو دو تاکہ اُن سے بیٹے بیٹیا ں پیدا ہوں اور تم وہاں پھلو پُھولو اور کم نہ ہو۔
7 اور اُس شہر کی خیر مناؤ جس میں میں نے تم کو اِسیر کرواکر بھیجا ہے اور اُسکے لئے خداوند سے دُعا کرو کیونکہ اُسکی سلامتی میں تمہاری سلامتی ہوگی۔
8 کیونکہ ربُّ الافواج اِسرؔ ائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ وہ نبی جو تمہارے درمیان ہیں اور تمہارے غیب دان تم کو گمراہ نہ کریں اور اپنے خواب بینوں کو جو تمہارے ہی کہنے سے خواب دیکھتے ہیں نہ مانو۔
9 کیونکہ وہ میرا نام لیکر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں ۔میں نے اُنکونہیں بھیجا خداوند فرماتا ہے ۔
10 کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ جب با بلؔ میں ستر برس گذر چکُنیگے تو میں تم کو یاد فرماؤنگا اور تم کو اِس مکان میں واپس لانے سے اپنے نیک قول کو پورا کرونگا ۔
11 کیونکہ میں تمہارے حق میں اپنے خیالات کوجانتا ہوں خداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات ۔بُرائی کے نہیں تاکہ میں تم کو نیک انجام کی اُمید بخشوں۔
12 تب تم میرا نام لوگے اور مجھ سے دُعا کروگے اور میں تمہاری سُنونگا۔
13 اور تم مجھے ڈھونڈوگے اور پاؤگے ۔ جب پورے دِل سے میرے طالب ہو گے ۔
14 اور میں تم کو مل جاؤ نگا خداوند فرماتا ہے اور میں تمہاری اِسیری کو موقوف کراؤنگا اور تم کو اُن سب قوموں سے اور سب جگہوں سے جن میں میں نے تم کو ہانک دیا ہے جمع کراؤ نگا خداوند فرماتا ہے اور میں تم کو اُس جگہ میں جہا ں سے میں نے تم کو اِسیر کرواکر بھیجا واپس لاؤنگا ۔
15 کیونکہ تم نے کہا کہ خداوند نے بابلؔ میں ہمارے لئے نبی برپا کئے ۔
16 اِسلئے خداوند اُس بادشاہ کی بابت جو داؤدؔ کے تخت پر بیٹھا ہے اور اُن سب لوگوں کی بابت جو اِس شہر میں بستے ہیں یعنی تمہارے بھائیوں کی بابت جو تمہارے ساتھ اِسیر ہو کر نہیں گئے یو ں فرماتا ہے۔
17 ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اُن پر تلوار اور کال اور وبا بھیجو نگا اور اُنکو خراب انجیروں کی مانند بناؤ نگا جو اَیسے خراب ہیں کہ کھا نے کے قابل نہیں ۔
18 اور میں تلوار اور کال اور وبا سے اُنکا پیچھا کرونگا اور میں اُنکو زمین کی سب سلطنتوں کے حوالہ کرونگا کہ دھکے کھاتے پھریں اور ستائے جائیں اور سب قوموں کے درمیان جن میں مَیں نے اُنکو ہانک دیا ہے لعنت اور حیرت اور سسکار اور ملامت کا باعث ہوں۔
19 اِسلئے کہ اُنہوں نے میری باتیں نہیں سُنیں خداوند فرماتا ہے جب میں نے اپنے خدمتگذار نبیو ں کو اُنکے پاس بھیجا ہاں میں نے اُنکو بروقت بھیجا پر تم نے نہ سُنا خداوند فرماتا ہے ۔
20 پس تم اَے اسیری کے سب لوگو جنکو میں نے یروشلیم ؔ سے بابلؔ کو بھیجا ہے خداوند کا کلا م سُنو۔
21 ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدااخیؔ اب بن قولایاہؔ کی بابت اور صدقیاہؔ بن معسیاہؔ کی بابت جو میرا نام لیکر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اُنکو شاہ بابلؔ نبوکدؔ رضر کے حوالہ کرونگا اور وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے قتل کریگا ۔
22 اور یہوداہؔ کے سب اِسیر جو بابل ؔ میں ہیں اُنکی لعنتی مثل بناکر کہا کر ینگے کہ خداوند تجھے صدقیاہؔ اور اخی ؔ اب کی مانند کرے جنکو شاہِ بابلؔ نے آگ پر کباب کیا۔
23 کیونکہ اُنہوں نے اِسراؔ ئیل میں حمایت کی اور اپنے پڑوسیوں کی بیویوں سے زنا کاری کی اور میرا نام لیکر جھوٹی باتیں کہیں جنکا میں نے اُنکو حکم نہیں دِیا تھا ۔خداوند فرماتا ہے میں جانتا ہوں اور گواہ ہوں۔
24 اور نخلامی سمعیاہؔ سے کہنا۔
25 کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے اِسلئے کہ تو نے یروشلیم کے سب لوگوں کو اور صفنیاہؔ بن معسیاہؔ کاہن اور سب کاہنوں کو اپنے نام سے یوں خط لکھ بھیجے ۔
26 کہ خداوند نے یہویدؔ ع کاہن کی جگہ تجھکو کاہن مُقرر کیا کہ تو خداوند کے گھر کا ناظموں میں ہواور ہر ایک مجنون اور نبوت کے مدعی کو قید کرے اور کاٹھ میں ڈالے ۔
27 پس تو نے عنتوتی یرمیاہؔ کی جو کہتا ہے کہ میں تمہارا نبی ہوں گو شمالی کیوں نہیں کی ؟۔
28 کیونکہ اُس نے بابلؔ میں یہ کہلا بھیجا ہے کہ یہ مدت دراز ہے۔ تم گھر بناؤ اور بسو اور باغ لگاؤ اور اُنکا پھل کھاؤ۔
29 اور صفنیاہؔ کاہن نے یہ خط پڑھکر یرمیاہؔ نبی کو سُنایا ۔
30 تب خداوند کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا کہ ۔
31 اسیری کے سب لوگوں کو کہلا بھیج کہ خداوند نخلامی سمعیاہؔ کی بابت یوں فرماتا ہے اِسلئے کہ سمعیاہؔ نے تم سے نبوت کی حالانکہ میں نے اُسے نہیں بھیجا اور اُس نے تم کو جھوٹی اُمید دلائی ۔
32 اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں نخلامی سمعیاہؔ کو اور اُسکی نسل کو سزا دونگا ۔اُسکا کو ئی آدمی نہ ہو گا جو اِن لوگوں کے درمیان بسے اور وہ اُس نیکی کو جو میں اپنے لوگوں سے کرونگا ہر گز نہ ددیکھیگا خداوند فرماتا ہے کیونکہ اُس نے خداوند کے خلاف فتنہ انگیز باتیں کہی ہیں ۔


باب 30

1 وہ کلام جو خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2 خداوند اَسراؔ ئیل کاخدا یوں فرماتا ہے کہ یہ سب باتیں جو میں نے تجھ سے کہیں کتاب میں لکھ ۔
3 کیونکہ دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں اپنی قوم اِسراؔ ئیل اور یہوداہؔ کی اسیری کو موقوف کراؤنگا خداوند فرماتا ہے اور اُنکو اُس ملک میں واپس لاؤنگا جو میں نے اُنکے باپ دادا کو دیا اور وہ اُسکے مالک ہونگے ۔
4 اور وہ باتیں جو اِسراؔ ئیل اور یہوداہؔ کی بابت فرمائیں یہ ہیں ۔
5 کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ ہم نے ہڑبڑی کی آواز سُنی ۔خوف ہے اور سلامتی نہیں ۔
6 اب پوچھو اور دیکھو کیا کبھی کسی مرد کو دردزہ لگا؟ کیا سبب ہے کہ میں ہر ایک مرد کو زچہ کی مانند اپنے ہاتھ کمر پر رکھے دیکھتا ہوں اور سب کے چہرے زرد ہو گئے ہیں ؟ ۔
7 افسوس !وہ دن بڑا ہے۔ اُسکی مثال نہیں ۔ وہ یعقوب کی مصیبت کا وقت ہے پر وہ اُس سے رہائی پائیگا ۔
8 اور اُس روز یوں ہوگا ربُّ الافواج فرماتا ہے کہ میں اُسکا جوا تیری گردن پر سے توڑ ونگا اور تیرے بندھنوں کو کھول ڈالو نگا اور بیگانے پھر تجھ سے خدمت نہ کرائینگے ۔
9 پر وہ خداوند اپنے خدا کی اور اپنے بادشاہ داؤدؔ کی جسے میں اُنکے لئے برپا کرونگا خدمت کرینگے ۔
10 اِسلئے اَے میرے خادم یعقوب ہراسان نہ ہو خداوند فرماتا ہے اور اَے اِسراؔ ئیل گھبرانہ جا کیونکہ دیکھ میں تجھے دُور سے اور تیری اَولاد کو اسیری کی سر زمین سے چھڑاؤنگا اور یعقوب واپس آئیگا اور آرام وراحت سے رہیگا اور کوئی اُسے نہ ڈرائیگا ۔
11 کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں خداوند فرماتا ہے تاکہ تجھے بچاؤں ۔ اگرچہ میں سب قوموں کو جن میں میں نے تجھے تتر بتر کیا تمام کر ڈالونگا تو بھی تجھے تمام نہ کرونگا بلکہ تجھے مناسب تنبیہ کرونگا اور ہر گزبے سزا نہ چھوڑونگا ۔
12 کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تیری خستگی لاعلاج اور تیرا زخم سخت دردناک ہے۔
13 تیرا حمایتی کوئی نہیں جو تیری مرہم پٹی کرے ۔تیرے پاس کوئی شفا بخش دوا نہیں ۔
14 تیرے سب چاہنے والے تجھے بھول گئے۔ وہ تیرے طالب نہیں ہیں ۔ فی الحقیقت میں نے تجھے دُشمن کی مانند گھا ئل کیا اور سنگدل کی طرح تادیب کی اِسلئے کہ تیری بد کرداری بڑھ گئی اور تیرے گناہ زیادہ ہوگئے ۔
15 تو اپنی خستگی کے سبب سے کیوں چلاتی ہے؟ تیرا درد لاعلاج ہے۔ اِسلئے کہ تیری بدکرداری نہایت بڑھ گئی اور تیرے گناہ زیادہ ہوگئے میں نے تجھ سے اَیسا کیا ۔
16 تو بھی وہ سب جو تجھے نگلتے ہیں نگلے جائینگے اور تیرے سب دُشمن اسیری میں جا ئینگے اور جو تجھے غارت کرتے ہیں خود غارت ہونگے اور میں اُن سب کو جو تجھے لوٹتے ہیں لُٹا دونگا ۔
17 کیونکہ میں پھر تجھے تندرستی اور تیرے زخموں سے شفا بخشو نگا ۔خداوند فرماتا ہے کیونکہ اُنہوں نے تیرا نام مُردودہ رکھا کہ یہ صیون ہے جسے کوئی نہیں پوچھتا۔
18 خداوندیوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں یعقوب کے خیموں کی اسیری کو موقوف کراؤنگا اور اُسکے مسکنوں پر رحمت کرونگا اور شہر اپنے ہی پہاڑ پر بنایا جائیگا اور قصر اپنے ہی مقام پر آباد ہوجائیگا ۔
19 اور اُن میں سے شکرگذاری اور خوشی کرنے والوں کی آواز آئیگی اور میں اُنکو افزایش بخشونگا اور وہ تھوڑے نہ ہو نگے ۔ میں اُنکو شوکت بخشونگا اور وہ حقیر نہ ہونگے ۔
20 اور اُنکی اَولاد اَیسی ہو گی جیسی پہلے تھی اور اُنکی جماعت میرے حضور میں قائم ہو گی اور میں اُن سب کو جو اُن پر ظلم کریں سزادونگا ۔
21 اور اُنکا حاکم اُن ہی میں سے ہوگا اور اُنکا فرمانردااُن ہی کے درمیان سے پیدا ہو گا اور میں اُسے قربت بخشونگا اور وہ میرے نزدیک آئیگا کیونکہ کون ہے جس نے یہ جُرات کی ہو کہ میرے پاس آئے ؟ خداوند فرماتا ہے ۔
22 اور تم میرے لوگ ہوگے اور میں تمہارا خداہونگا ۔
23 دیکھ خداوند کے قہر شدید کی آندھی چلتی ہے ۔ یہ تیز طوفان شریروں کے سر پر ٹوٹ پڑیگا ۔
24 جب تک یہ سب کچھ نہ ہولے اور خداوند اپنے دل کے مقصد پورے نہ کرلے اُسکا قہر شدید موقوف نہ ہوگا ۔ تم آخری دِنوں میں اِسے سمجھو گے۔


باب 31

1 خداوند فرماتا ہے میں اُس وقت اِسراؔ ئیل کے سب گھرانوں کا خدا ہو نگا اور وہ میرے لوگ ہونگے ۔
2 خداوند یوں فرماتا ہے کہ اِسراؔ ئیل میں سے جو لوگ تلوار سے بچے جب وہ راحت کی تلاش میں گئے تو بیابان میں مقبول ٹھہرے ۔
3 خداوند قدیم سے مجھ پر ظاہر ہوا اور کہا کہ میں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی اِسی لئے میں نے اپنی شفقت تجھ پر بڑھائی ۔
4 اَے اِسراؔ ئیل کی کنواری ! میں تجھے پھر آباد کرونگا اور تو آباد ہو جائیگی ۔ تو پھر دف اُٹھا کر آراستہ ہو گی اور خوشی کرنے والوں کے ناچ میں شامل ہونے کو نکلیگی ۔
5 تو پھر سامریہؔ کے پہاڑوں پر تاکستان لگائیگی ۔ باغ لگائینگے اور اُسکا پھل کھائینگے ۔
6 کیونکہ ایک دن آئیگا کہ افراؔ ئیم کی پہاڑیوں پر نگہبان پُکار ینگے کہ اُٹھو ہم صیون پر خداوند اپنے خدا کے حضور چلیں ۔
7 کیونکہ خداوند یو ں فرماتا ہے کہ یعقوب ؔ کے لئے خوشی سے گاؤ اورقوموں کی سرتاج کے لئے للکارو ۔ منادی کرو ۔ حمد کرو اور کہو اَے خداوند اپنے لوگوں کو یعنی اِسراؔ ئیل کے بقیہّ کو بچا ۔
8 دیکھو میں شمالی ملک سے اُنکو لاؤنگا اور زمین کی سر حدوں سے اُنکو جمع کرونگا اور اُن میں اندھے اور لنگڑے اور حاملہ اور زچہّ سب ہو نگے ۔ اُنکی بڑی جماعت یہاں واپس آئیگی ۔
9 وہ روتے اور مناجات کرتے ہوئے آئینگے ۔میں اُنکی راہبری کرونگا میں اُنکو پانی کی ندیوں کی طرف راہ راست پر چلا ؤنگا جس میں وہ ٹھوکر نہ کھا ئینگے کیونکہ میں اِسراؔ ئیل کا باپ ہوں اور افراؔ ئیم میرا پہلوٹھا ہے۔
10 اَے قومو! خداوند کا کلام سُنو اور دور کے جزیروں میں منادی کرو اور کہو کہ جس نے اِسراؔ ئیل کو تتر بتر کیا وہی اُسے جمع کریگا اور اُسکی اَیسی نگہبانی کریگا جیسی گڈریا اپنے گلہ کی۔
11 کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا ہے اور اُسے اُسکے ہاتھ سے جو اُس سے زور آور تھا رہائی بخشی ہے ۔
12 پس وہ آئینگے اور صیون کی چوٹی پر گائینگے اور خداوند کی نعمتوں یعنے اناج اور مے اور تیل او ر گائے بیل کے اور بھیڑ بکری کے بچوں کی طرف اِکٹھے رواں ہونگے اور اُنکی جان سیراب باغ کی مانند ہو گی اور وہ پھر کبھی غمزدہ نہ ہو نگے۔
13 اُس وقت کنواریا ں اور پیرو جوان خوشی سے رقص کرینگے کیونکہ میں اُنکے غم کو خوشی سے بدل دونگا اور اُنکو تسلی دیکر غم کے بعد شادمان کرونگا ۔
14 اور میں کاہنوں کی جان کو چکنائی سے سیر کرونگا اور میرے لوگ میری نعمتوں سے آسودہ ہونگے خداوند فرماتا ہے۔
15 خداوند یوں فرماتا ہے کہ رامہؔ میں ایک آواز سُنائی دی ۔ نوحہ اور زار زار رونا ۔ راخلؔ اپنے بچوں کو رو رہی ہے وہ اپنے بچوں کی بابت تسلی پذیر نہیں ہوتی کیونکہ وہ نہیں ہیں ۔
16 خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنی زاری کی آواز کو روک اور اپنی آنکھوں کو آنسوؤں سے باز رکھ کیونکہ تیری محنت کے لئے اجر ہے خداوند فرماتا ہے اور وہ دُشمن کے ملک سے واپس آئینگے ۔
17 اور خداوند فرماتا ہے تیری عاقیت کی بابت اُمید ہے کیونکہ تیرے بچے پھر اپنی حدود میں داخل ہونگے ۔
18 فی الحقیقت میں نے افراؔ ئیم کو اپنے آپ پر یوں ماتم کرتے سُنا کہ تو نے مجھے تنبیہ کی اور میں نے اُس بچھڑے کی مانند جو سدھایا نہیں گیا تنبیہ پائی ۔ تو مجھے پھیر تو میں پھر ونگا کیونکہ تو ہی میرا خدا وند خدا ہے ۔
19 کیونکہ پھر نے کے بعد میں نے توبہ کی اور تربیت پانے کے بعد میں نے اپنی ران پر ہاتھ مارا ۔ میں شرمندہ بلکہ پریشان خاطر ہوااِسلئے کہ میں نے اپنی جوانی کی ملامت اُٹھائی تھی۔
20 کیا افراؔ ئیم میرا پیارا بیٹا ہے؟ کیا وہ پسندیدہ فرزندہے؟ کیونکہ جب جب میں اُسکے خلاف کچھ کہتا ہوں تو اُسے جی جان سے یاد کرتا ہوں ۔ اِسلئے میرا دل اُسکے لئے بیتاب ہے۔ میں یقیناًاُس پر رحمت کرونگا خداوند فرماتا ہے ۔
21 اپنے لئے سُتون کھڑے کر ۔ اپنے لئے کھمبے بنا۔اُس شاہرا ہ پر دل لگا ۔ ہاں اُسی راہ سے جس سے تو گئی تھی واپس آ۔ اَے اِسراؔ ئیل کی کنورای اپنے اِن شہروں میں واپس آ۔
22 اَے برگشتہ بیٹی تو کب تک آوراہ پھر یگی ؟ کیونکہ خداوند نے زمین پر ایک نئی چیز پیدا کی ہے کہ عورت مرد کی حمایت کریگی ۔
23 ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میں اُنکے اسیروں کو واپس لاؤنگا تو وہ یہوداہ ؔ کے ملک اور اُسکے شہروں میں پھر یوں کہینگے اَے صداقت کے مسکن ! اَے کوہِ مقدس خداوند تجھے برکت بخشے ۔
24 اور یہوداہؔ اور اُسکے سب شہر اُس میں اِکٹھے سُکونت کرینگے کسان اور وہ جو گلے لئے پھرتے ہیں۔
25 کیونکہ میں نے تھکی جان کو آسودہ اور ہر غمگین روح کو سیر کیا ہے۔
26 اَب میں نے بیدارہو کر نگاہ کی اور میری نیند میرے لئے میٹھی تھی ۔
27 دیکھو وہ دن آتے ہے خداوند فرماتا ہے جب میں اِسراؔ ئیل کے گھر میں اور یہوداہؔ کے گھر میں اِنسان کا بیج اور حیوا ن کا بیج بوؤنگا ۔
28 اور خداوند فرماتا ہے جس طرح میں اُنکی گھات میں بیٹھکر اُنکو اُکھاڑا اور ڈھا یا اور گرایا اور برباد کیا اور دُکھ دیا اُسی طرح میں نگہبانی کرکے اُنکو بناؤ نگا اور لگاؤ نگا ۔
29 اُن ایام میں پھر یوں نہ کہینگے کہ باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور اَولاد کے دانت کھٹے ہو گئے ۔
30 کیونکہ ہر ایک اپنی ہی بدکرداری کے سبب سے مر یگا ۔ ہر یک جو کچے انگور کھاتا ہے اُسی کے دانت کھٹے ہونگے ۔
31 دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے جب میں اِسراؔ ئیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھونگا ۔
32 اُس عہد کے مطابق نہیں جو میں نے اُنکے باپ دادا سے کیا جب میں اُنکی دستگیری کی تاکہ اُنکو ملک مصرؔ سے نکال لاؤں اور اُنہوں نے میرے اُس عہد کو توڑا اگرچہ میں اُنکا مالک تھا خداوند فرماتا ہے ۔
33 بلکہ یہ وہ عہد ہے جو میں اُن دنوں کے بعد اِسراؔ ئیل کے گھرانے سے باندھونگا ۔ خداوندفرماتا ہے میں اپنی شریعت اُنکے باطن میں رکھو نگا اور اُنکے دِل پر اُسے لکھونگا اور میں اُنکا خدا ہونگا اور وہ میرے لوگ ہو نگے۔
34 اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھائی کو یہ کہکر تعلیم نہیں دینگے کہ خداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے جانینگے خداوند فرماتا ہے اِسلئے کہ میں اُنکی بدکرداری کو بخش دونگا اور اُنکے گناہ کو یا د نہ کرونگا ۔
35 خداوند جس نے دِن کی روشنی کے لئے سورج کر مقر ر کیا او ر جس نے رات کی روشنی کے لئے چاند اور ستاروں کا نظام قائم کیا جو سمندر کو موجزن کرتا ہے جس سے اُسکی لہریں شور کرتی ہیں یوں فرماتا ہے ۔ اُسکا نام ربُّ الافواج ہے۔
36 خداوند فرماتا ہے اگریہ نظام میرے حضور سے موقوف ہو جائے تو اِسراؔ ئیل کی نسل بھی میرے سامنے سے جاتی رہیگی کہ ہمیشہ تک پھر قوم نہ ہو۔
37 خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر کوئی اُوپر آسمان کو ناپ سکے اور نیچے زمین کی بنیاد کا پتہ لگالے تو میں بھی بنی اِسراؔ ئیل کو اُنکے اعمال کے سبب سے رد کردونگا خداوند فرماتا ہے ۔
38 دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ یہ شہر حنن ایل کے برج سے کونے کے پھاٹک تک خداوند کے لئے تعمیر کیا جائیگا۔
39 اور پھر جریب سیدھی کوہ جاریب ؔ پر سے ہوتی ہوئی جوعاتہؔ کو گھیر لیگی ۔
40 اور لاشوں اور راکھ کی تمام وادی اور سب کھیت قدؔ رون کے نالے تک اورگھوڑے پھاٹک کے کونے تک مشرق کی طرف خداوند کے لئے مُقدس ہونگے ۔ پھر وہ ہمیشہ تک نہ کبھی اُکھاڑانہ گرایا جائیگا۔


باب 32

1 وہ کلام جوشاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کے دسویں برس میں جو نبوکدرضرؔ کا اٹھا رھواں برس تھا خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2 اور اُس وقت شاہِ بابلؔ کی فوج یروشلیم کا محاصر ہ کئے پڑی تھی اور یرمیاہ ؔ نبی شاہِ یہوداہؔ کے گھر میں قید خانہ کے صحن میں بند تھا ۔
3 کیونکہ شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ نے اُسے یہ کہکر قید کیا کہ تو کیوں بنوت کرتا اور کہتا ہے کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس شہر کو شاہِ بابلؔ کے حوالہ کردونگا اور وہ اِسے لے لیگا ۔
4 اور شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کسدیوں کے ہاتھ سے نہ بچیگا بلکہ ضرور شاہِ بابلؔ کے حوالہ کیا جائیگا اور اُس سے رُوبُرو باتیں کریگا اور دونوں کی آنکھیں مُقابل ہو نگی۔
5 اور وہ صدقیاہؔ کو بابل ؔ میں لے جائیگا اور جب تک میں اُسکو یاد نہ فرماؤں وہ وہیں رہیگا ۔ خداوند فرماتا ہے ہر چند تم کسدیوں کے ساتھ جنگ کرو گے پر کامیاب نہ ہو گے ؟۔
6 تب یرمیاہؔ نے کہا کہ خداوند کا کلا م مجھ پر نازل ہوا اور اُس نے فرمایا ۔
7 دیکھ تیرے پاس آکر کہیگا کہ میرا کھیت جو عنتوتؔ میں ہے اپنے لئے خریدلے کیونکہ اُسکو چھڑانا تیرا حق ہے۔
8 تب میرے چچا کا بیٹا حنمؔ ایل قید خانہ کے صحن میں میرے پاس آیا اور جیسا خداوند نے فرمایا تھا مجھ سے کہا کہ میرا کھیت جو عنتوت میں بنیمین کے علاقہ میں ہے خرید لے کیونکہ یہ تیرا موروثی حق ہے اور اُسکوچھڑانا تیرا کام ہے اُسے اپنے لئے خرید لے ۔ تب میں نے جانا کہ یہ خدا وند کا کلام ہے ۔
9 اور میں نے اُس کھیت کوجو عنتوتؔ میں تھا اپنے چچا کے بیٹے حنمؔ ایل سے خرید لیا اور نقد ستر مثقال چاندی تول کر اُسے دی۔
10 اور میں نے ایک قبالہ لکھا اور اُس پر مہر کی اور گواہ ٹھہرائے اور چاندی ترازو میں تول کر اُسے دی ۔
11 سو میں نے اُس قبالہ کو لیا یعنی وہ جو آئین اور دستور کے مطابق سر بمہر تھا اور وہ جو کھلا تھا۔
12 اور میں نے اُس قبالہ کو اپنے چچا کے بیٹے حنمؔ ایل کے سامنے اور اُن گواہوں کے رُوبُرو جنہوں نے اپنے نام قبالہ پر لکھے تھے اُن سب یہودیوں کے رُوبُرو جو قید خانہ کے صحن میں بیٹھے تھے بارُوک ؔ بن نیریاہؔ بن محسیاہ ؔ کو سونپا۔
13 اور میں نے اُنکے رُوبُرو بارُوک کو تاکید کی ۔
14 کہ ربُّ الافواج اِسر اؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ یہ کا غذات لے یعنی یہ قبالہ جو سر بُمہر ہے اور یہ جو کھلا ہے اور اُنکو مٹی کے برتن میں رکھ تاکہ بہت دِنوں تک محفوظ رہیں ۔
15 کیونکہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ اِس ملک میں پھر گھروں اور کھیتوں اور تاکستانوں کی خرید وفروخت ہو گی ۔
16 باروک بن نیریاہؔ کو قبالہ دیے کے بعد میں نے خداوند سے یوں دُعا کی۔
17 آہ اَے خداوند خدا!دیکھ تو نے اپنی عظیم قدرت اور اپنے بلند بازو سے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور تیرے لئے کوئی کام مُشکل نہیں ہے۔
18 تو ہزاروں پر شفقت کرتا ہے اور باپ دادا کی بدکرداری کا بدلہ اُنکے بعد اُنکی اَولاد کے دامن میں ڈال دیتا ہے جسکا نام خدایِ عظیم وقا دِر ربُّ الافواج ہے۔
19 مشورت میں بُزرگ اور کام میں قدرت والا ہے ۔ بنی آدم کی سب راہیں تیری زیر نظر ہیں تاکہ ہر ایک کو اُسکی روش کے موافق اور اُسکے اعمال کے پھل کے مطابق اجر دے ۔
20 جس نے ملک مصر ؔ میں آج تک اور اِسر اؔ ئیل اور دوسرے لوگوں میں نشان اور عجائب دکھا ئے اور اپنے لئے نام پیدا کیا جیسا کہ اِس زمانہ میں ہے ۔
21 کیونکہ تو اپنی قوم اِسراؔ ئیل کو ملک مصرؔ سے نشانوں اور عجائب اور قوی ہاتھ اور بلند بازو سے اور بڑی ہیبت کے ساتھ نکال لایا ۔
22 اور یہ ملک اُنکو دیا جسے دینے کی تو نے اُنکے باپ دادا سے قسم کھائی تھی ۔ اَیسا ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ۔
23 اور وہ آکر اُسکے مالک ہو گئے لیکن وہ نہ تیری آواز کے شنوا ہوئے اور نہ تیری شریعت پر چلے اور جو کچھ تو نے کرنے کو کہا اُنہوں نے نہیں کیا اِسلئے تو یہ سب مُصیبت اُن پر لایا ۔
24 دمدموں کو دیکھ ۔ وہ شہر تک آپہنچے ہیں کہ اُسے فتح کرلیں اور شہر تلوار اور کال اور وبا کے سبب سے کسدیوں کے حوالہ کردیا گیا ہے جو اُس پر چڑھ آئے اور جو کچھ تو نے فرمایا پورا ہوا اور تو آپ دیکھتا ہے۔
25 تو بھی اَے خداوند خدا تو نے مجھ سے فرمایا کہ وہ کھیت روپیہ دیکر اپنے لئے خریدلے اور گواہ ٹھہر الے حالانکہ یہ شہر کسدیوں کے حوالہ کر دیاگیا۔
26 تب خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا کہ ۔
27 دیکھ میں خداوند تمام بشر کا خدا ہو ں ۔ کیا میرے لئے کو ئی کام دُشوار ہے؟ ۔
28 اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اِس شہر کوکسدیوں کے اور شاہِ بابل ؔ نبوکدؔ رضر کے حوالہ کردونگا اور وہ اِسے لے لیگا ۔
29 اور کسدی جو اِس شہر پر چڑھائی کرتے ہیں آکر اِسکو آگ لگا ئینگے اور اِسے اُن گھروں سمیت جلا ئینگے جنکی چھتوں پر لوگو ں نے بعلؔ کے لئے بخور جلایا اور غیر معبودوں کے لئے تپاون تپائے کہ مجھے غضبناک کریں ۔
30 کیونکہ بنی اِسراؔ ئیل اور بنی یہوداہ اپنی جوانی سے اب تک فقط وہی کرتے آئے ہیں جو میری نظر میں بُرا ہے کیونکہ بنی اِسراؔ ئیل نے اپنے اعمال سے مجھے غضبناک ہی کیا خداوند فرماتا ہے ۔
31 کیونکہ یہ شہر جس دِن سے اُنہوں نے اِسے تعمیر کیا آج کے دن تک میرے قہر اور غضب کا باعث ہورہا ہے تاکہ میں اِسے اپنے سامنے سے دور کروں ۔
32 بنی اِسراؔ ئیل او ر بنی یہوداہ کی تمام بدی کے باعث جو اُنہوں نے اور اُنکے بادشاہوں نے اور اُمرا اور کاہنوں اور نبیوں نے اور یہوداہ ؔ کے لوگوں اور یروشلیم کے باشندوں نے کی تاکہ مجھے غضبناک کریں ۔
33 کیونکہ اُنہوں نے میری طرف پیٹھ کی اور منہ نہ کیا ۔ ہر چند میں نے اُنکو سکھایا اور بروقت تعلیم دی تو بھی اُنہوں نے کان نہ لگایا کہ تربیت پذیر ہوں ۔
34 بلکہ اُس گھر میں میرے نام سے کہلا تا ہے اپنی مکروہات رکھیں تاکہ اُسے ناپاک کریں ۔
35 اور اُنہوں نے بعلؔ کے اُونچے مقام جو بن ہنوم ؔ کی وادی میں ہیں بنائے تاکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو مولکؔ کے لئے آگ میں سے گذاریں جسکا میں نے اُنکو حکم نہیں دیا اور نہ میرے خیال میں آیا کہ وہ اَیسا مکروہ کام کرکے یہوداہ کو گنہگار بنائیں ۔
36 اور اب اِس شہر کی بابت جسکے حق میں تم کہتے ہو کہ تلوار اور کال اور وبا کے وسیلہ سے وہ شاہِ بابلؔ کے حوالہ کیا جائیگا خداوند اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے ۔
37 دیکھ میں اُنکو اُن سب ملکوں سے جہاں میں نے اُنکو اپنے غیظ وغضب اور قہر شدید سے ہانک دیا ہے ۔ جمع کرونگا اور اِس مقا م میں واپس لاؤنگا اور اُنکو امن سے آباد کرونگا ۔
38 اور وہ میرے لوگ ہو نگے اور میں اُنکا خدا ہونگا ۔
39 اور میں اُنکو یکدل اور یک روش بنادونگا اور وہ اپنی اور اپنے بعد اپنی اَولاد کی بھلائی کے لئے ہمیشہ مجھ سے ڈرتے رہینگے ۔
40 اور میں اُن سے ابدی عہد کرونگا کہ اُنکے ساتھ بھلائی کرنے سے باز نہ آؤنگا اور میں اپنا خوف اُنکے دِل میں ڈالونگا تاکہ وہ مجھ سے برگشتہ نہ ہوں۔
41 ہاں میں اُن سے خوش ہو کر اُن سے نیکی کرونگا اور یقیناًدِل وجان سے اُنکو اس ملک میں لگاؤنگا ۔
42 کیو نکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ جس طرح میں اِن لوگوں پر یہ تمام بلایِ عظیم لایا ہوں اُسی طرح وہ تمام نیکی جسکا میں نے اُن سے وعدہ کیا ہے اُن سے کرونگا ۔
43 اور اِس ملک میں جسکی بابت تم کہتے ہو کہ وہ ویران ہے ۔ وہاں نہ اِنسان ہے نہ حیوان ۔ وہ کسدیوں کے حوالہ کیا گیا ۔ پھر کھیت خریدے جائینگے ۔
44 بنیمین کے علاقہ میں اور یروشلیم کی نواحی میں اور یہوداہ کے شہروں میں لوگ روپیہ دیکر کھیت خرید ینگے اور قبالے لکھا کر اُن پر مہر لگائینگے اور گواہ ٹھہر ا ئینگے کیونکہ میں اُنکی اسیری کو موقوف کردونگا خداوند فرماتا ہے ۔


باب 33

1 ہنوز یرمیاہؔ قید خانہ کے صحن میں بند تھا کہ خداوند کا کلام دوبارہ اُس پر نازل ہوا کہ ۔
2 خداوند جو پورا کرتا اور بناتا اور قائم کرتا ہے جسکا نام یہوداہ ہے یوں فرماتا ہے ۔
3 کہ مجھے پُکارا اور میں تجھے جواب دُونگا اور بڑی بڑی اور گہری باتیں جنکو تو نہیں جانتا تجھ پر ظاہر کرونگا ۔
4 کیونکہ خداوند اِسراؔ ئیل کا خدا اِس شہر کے گھروں کی بابت اور شاہان یہوداہ ؔ کے گھروں کی بابت جو دمدموں اور تلوار کے باعث گرادِئے گئے ہیں یوں فرماتا ہے۔
5 کہ وہ کسدیوں سے لڑنے آئے ہیں اور اُنکو آدمیوں کی لاشوں سے بھر ینگے ۔ جنکو میں نے اپنے قہر وغضب سے قتل کیا ہے اور جنکی تمام شرارت کے سبب سے میں نے اِس شہر سے اپنا منہ چھپا یا ہے۔
6 دیکھ میں اُسے صحت وتندرستی بخشونگا ۔ میں اُنکو شفا دونگا اور امن وسلامتی کی کثرت اُن پر ظاہر کرونگا ۔
7 اور میں یہوداہ اور اِسراؔ ئیل کو اسیری سے واپس لاؤنگا اور اُنکو پہلے کی طرح بناؤنگا ۔
8 اور میں اُنکو اُنکی ساری بدکرداری سے جو اُنہوں نے میرے خلاف کی ہے پاک کرونگا اور میں اُنکی ساری بد کرداری جس سے وہ میرے گنہگار ہوئے اور جس سے اُنہوں نے میرے خلاف بغاوت کی ہے معاف کرونگا ۔
9 اور یہ میرے لئے رُویِ زمین کی سب قوموں کے سامنے مُسرت بخش نام اور ستائش وجلال کا باعث ہو گا ۔وہ اُس سب بھلائی کا جو میں اُن سے کرتا ہوں ذکر سُنینگی اور اُس بھلائی اور سلامتی کے سبب سے جو میں اِنکے لئے مہیا کرتا ہوں ڈرینگی اور کانپینگی ۔
10 خداوند یوں فرماتا ہے کہ اِس مقام میں جسکی بابت تم کہتے ہو کہ وہ ویران ہے ۔وہاں نہ اِنسان ہے نہ حیوان یعنی یہوداہ کے شہروں میں اور یروشلیم کے بازاروں میں جو ویران ہیں جہاں نہ اِنسان ہے نہ باشندے نہ حیوان ۔
11 خوشی اور شادمانی کی آواز ۔ دلہے اور دلہن کی آواز اور اُنکی آواز سُنی جائیگی جو کہتے ہیں ربُّ الافواج کی ستائش کرو کیونکہ خداوند بھلا ہے اور اُسکی شفقت ابدی ہے۔ہاں اُنکی آواز جو خداوند کے گھر میں شکر گذاری کی قربانی لائینگے کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں اس ملک کے اِسیروں کو واپس لاکر بحال کرونگا ۔
12 ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ اِس ویران جگہ اور اِسکے سب شہروں میں جہاں نہ اِنسان ہے نہ حیوان پھر چرواہوں کے رہنے کے مکان ہونگے جو اپنے گلوں کو بٹھائینگے ۔
13 کوہستا ن کے شہروں میں اور وادی کے اور جنوب کے شہروں میں اور بینمین کے علاقہ میں اور یروشلیم کی نواحی میں اور یہوداہ ؔ کے شہروں میں پھر گلے گننے والے کے ہاتھ کے نیچے سے گذرینگے خداوند فرماتا ہے ۔
14 دیکھ وہ دِن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ وہ نیک بات جو میں نے اِسراؔ ئیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے کے حق میں فرمائی ہے پوری کرونگا ۔
15 اُن ہی ایام میں اور اُسی وقت میں داؤد کے لئے صداقت کی شاخ پیدا کرونگا اور وہ ملک میں عدالت وصداقت سے عمل کریگا۔
16 اُن دِنوں میں یہوداہ نجات پائیگا ور یروشلیم سلامتی سے سکونت کریگا اور خداوند ہماری صداقت اُسکا نام ہو گا۔
17 کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے ہے کہ اِسراؔ ئیل کے گھرانے کے تخت پر بیٹھنے کے لئے داؤد کو کبھی آدمی کی کمی نہ ہو گی ۔
18 اور نہ لاوی کاہنوں کو آدمیوں کی کمی ہو گی جو میرے حضور سوختنی قربانیاں گذرانیں اور ہدئے چڑھائیں اور ہمیشہ قربانی کریں۔
19 پھر خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
20 خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر تم میرا وہ عہد جو میں نے دن سے اور رات اپنے اپنے وقت پر نہ ہوں ۔
21 تو میرا وہ عہد بھی جو میں نے اپنے خادم داؤد سے کیا ٹوٹ سکتا ہے کہ اُسکے تخت پر بادشاہی کرنے کو بیٹا نہ ہوا ور وہ عہد بھی جو اپنے خدمتگذار لاوی کاہنوں سے کیا ۔
22 جیسے اجرام فلک بے شمار ہیں اور سمندر کی ریت بے اندازہ ہے ویسے ہی میں اپنے بندہ داؤد ؔ کی نسل کو اور لاویوں کو جو میری خدمت کرتے ہیں فراوانی بخشو نگا ۔
23 پھر خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
24 کہ کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں کہ جن دوگھرانوں کو خداوند نے چنا اُنکو اُس نے رّد کر دیا ؟ یوں وہ میرے لوگوں کو حقیر جانتے ہیں کہ گویا اُنکے نزدیک وہ قوم ہی نہیں رہے ۔
25 خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر دن رات کے ساتھ میرا عہد نہ ہو اور اگر میں نے آسمان اور زمین کا نظام مُقرر نہ کیا ہو ۔
26 تو میں یعقوب کی نسل کو اور اپنے خادم داؤ د کی نسل کو ردّکر دؤنگا تا کہ میں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کی نسل پر حکومت کرنے کے لئے اُسکے فرزندوں میں سے کسی کو نہ لُوں بلکہ میں تو اُنکو اسیری سے واپس لاؤنگا اور اُن پر رحم کرونگا۔



باب 34

1 جب شاہ بابل نبو کد نضر اور اس کی تمام فوج اور روئے زمین کی تمام سلطنتیں جو اس کی فرمانروائی میں تھیں اور سب اقوام یروشلم اور اس کی سب بستیوں کے خلاف جنگ کر رہی تھیں۔ تب خداوند کا یہ کلام یرمیاہ نبی پر ناز ل ہوا ۔
2 پیغام یہ تھا : " خداوند بنی اسرائیلیوں کا خدا جو کہتا ہے ، وہ یہ ہے اے یرمیاہ !شاہ یہودا ہ صدقیاہ کے پاس جا ؤ اور اسے یہ پیغام دو : ' اے صدقیاہ !خداوند کا پیغام جو تیرے لئے ہے وہ یہ ہے : میں یروشلم شہر کو شاہ بابل کے حوا لے بہت جلد ہی کردوں گا ۔ اور وہ اسے جلا ڈالے گا ۔
3 اے صدقیاہ ! تم شاہ بابل سے بچ کر نکل نہیں پا ؤ گے۔ تم یقیناً ہی پکڑے جا ؤ گے اور اسے دیدئیے جا ؤ گے۔ تم شاہ بابل کو اپنی آنکھوں سے دیکھو گے ۔ وہ تم سے آمنے سامنے با تیں کرے گا اور تم با بل جا ؤ گے ۔
4 لیکن اے شاہ یہودا ہ صدقیاہ خداوند کے دیئے وعدہ کو سنو ۔خداوند تمہا رے بارے میں جو کہتا ہے وہ یہ ہے تم تلوار سے نہیں ہلاک ہو گے ۔
5 تم امن کی حالت میں مرو گے اور جس طرح تمہارے با پ دادا یعنی تم سے پہلے بادشا ہوں کے لئے خوشبو جلاتے تھے ،اسی طرح تمہا رے لئے بھی جلا ئیں گے اور تم پر ماتم کریں گے اور کہیں گے " ہا ئے آقا !" کیوں کہ میں نے یہ بات کہی ہے ۔" خداوند فرماتا ہے ۔
6 اس لئے یرمیاہ نبی نے خداوند کا پیغام یروشلم میں یہودا ہ کے بادشا ہ صدقیاہ کو دیا ۔
7 یہ اس وقت ہوا جب شاہ بابل کی فوج یروشلم کے خلاف لڑ رہی تھی۔ بابل کی فوج یہودا ہ کے ان شہروں کے خلاف بھی لڑ رہی تھی جن پر قبضہ نہیں ہو سکا تھا ۔ وہ لکیس اور عزیقہ شہر تھے ۔ کیوں کہ یہودا ہ کے شہرو ں میں سے یہی قلعہ دار شہر باقی تھے ۔
8 صدقیاہ یروشلم کے لوگوں سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ سبھی یہودی غلاموں کو آزاد کردیگا ۔ جب صدقیاہ وہ معاہدہ کر لیا تواس کے بعد یرمیاہ کو خداوند کا پیغام ملا ۔
9 ہر شخص سے امید کی جا تی ہے کہ وہ اپنے عبرانی غلاموں کو آزا د کرے ۔ تما م عبرانی غلام اور خادمہ آزا دکر دیئے جا ئیں ۔ یہودا ہ کے گھرانے کے گروہ کے کسی بھی شخص کو غلام رکھنے کا حق نہیں دیا جا سکتا تھا ۔
10 اور جب سب امراء اور سب لوگوں نے جو اس معاہدہ میں شامل تھے سنا کہ ہر ایک کو لاز م ہے کہ اپنے غلام اور خادمہ کو آزاد کرے اور پھر ان سے غلامی نہ کرائے تو انہوں نے اطاعت کی اور ان کو آزاد کر دیا ۔
11 لیکن اس کے بعد وہ لوگ جن کے پاس غلام تھے اپنے خیال بدل لئے ۔اس لئے وہ لوگ ان لوگو ں کو لا ئے جنہیں انہوں نے آزاد کیا تھا اور پھر غلام بنا لیا ۔
12 تب خداوند کا کلام یرمیاہ پر ناز ل ہوا ۔
13 بنی اسرائیلیوں کا خداوند خدا فرما تا ہے : " اے یرمیاہ میں تمہا رے با پ دادا کو مصر سے با ہر لا یا جہاں وہ غلام تھے ۔ جب میں نے ایسا کیا تب میں نے ان سے ایک معاہدہ کیا ۔
14 میں نے تمہا رے با پ دادا سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک اپنی عبرانی بھا ئی کو جسے کہ اس کے ہا تھ بیچا گیا ہے سات برس کے آخر میں یعنی جب وہ چھ برس تک خدمت کر چکے تو آزا د کردو ۔ لیکن تمہا رے با پ دادا نے میری نہ سنی اور کان نہ لگایا ۔
15 کچھ وقت پہلے تم نے اپنے دل کو جو بہتر ہے ،اسے کر نے کے لئے بدلا ۔ تم میں سے ہر ایک نے ان عبرانی ساتھیوں کو آزاد کیا جو غلام تھے ۔ اور تم نے میرے سامنے اس ہیکل میں جو میرے نام پر ہے ایک معاہدہ بھی کیا ۔
16 لیکن اب تم نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے ۔ تم نے یہ دکھا دیا ہے کہ تم میرے نام کی تعظیم نہیں کر تے ۔ تم نے یہ کیسے کیا ؟ تم میں سے ہر ایک نے اپنے غلاموں اور خادماؤں کو واپس لے لیا ہے جنہیں تم نے آزاد کیا تھا ۔ تم لوگوں نے انہیں پھر غلام ہو نے کے لئے مجبور کیا ہے ۔
17 " اسلئے خداوند یوں فرماتا ہے : " تم نے میری فرمانبرداری نہیں کی ۔ تم نے اپنے بھا ئی اور اپنے ہمسایہ کو آزاد نہیں کیا ۔خداوند فرماتا ہے ، " میں تم کو تلوار ، قحط سالی اور بیما ری کا سامنا کرنے کیلئے " آزد کروں گا " میں تمہا ری مملکتو ں میں بلا مقصد بھٹکنے کے لئے آزا د کروں گا ۔
18 اور میں ان آدمیو ں کو جنہوں نے مجھ سے عہد شکنی کی اوراس معاہدہ کی باتیں جو انہوں نے میرے حضور باندھا ہے پوری نہیں کی ۔ جب بچھڑے کو دو ٹکڑے کیا اور ان دو ٹکڑو ں کے درمیان سے ہو کر گزرے ۔
19 یہ وہ لوگ ہیں جو بچھڑے کے دو ٹکڑو ں کے بیچ سے ہو کر گذرے اور میرے ساتھ معاہدہ کیا : وہ یہودا ہ اور یروشلم کے امراء ،اہم عہدیداران، کا ہن اور اس ملک کے لوگ تھے ۔
20 اس لئے میں ان لوگوں کے دشمنو ں اور ان لوگوں کو دوں گا جو انہیں ماردینا چا ہتے ہیں ۔ ان لوگوں کی لا شیں ہوا میں اڑنے وا لے پرندوں اور زمین پر کے جنگلی جانورو ں کی خوراک بنیں گی ۔
21 میں شاہ یہودا ہ صدقیاہ اور اس کے امراء کو ان کے دشمنوں اور ہر ایک جو انہیں ماردینا چا ہتے ہیں صدقیاہ اور ان کے لوگو ں کو شاہ بابل کی فوج کو تب بھی دو ں گا جب وہ فوج یروشلم کو چھوڑ چکی ہو گی ۔
22 دیکھو میں حکم جا ری کروں گا ، یہ خداوند فرماتا ہے ، اور میں انہیں پھر اس شہر میں وا پس لا ؤ ں گا اور وہ اس سے لڑیں گے اور اسے فتح کر کے آ گ سے جلا ڈا لیں گے ۔ میں یہودا ہ کے شہروں کو ایسا ویران کردو ں گا کہ وہاں کو ئی آبادی نہ رہے گی ۔"


باب 35

1 وہ کلام جو شاہِ یہوداہؔ یہویقیم ؔ بن یوسیاہؔ کے ایام میں خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2 کہ تو ریکا بیوں کے گھر جا اور اُن سے کلام کر اور اُنکو خداوند کے گھر کی کوٹھری میں لاکر مے پلا ۔
3 تب میں نے یازؔ نیاہ بن یرمیاہؔ بن حبصنیاہؔ اور اُسکے بھائیوں اور اُسکے سب بیٹوں اور ریکابیوں کے تمام گھرانے کو ساتھ لیا۔
4 اور اُنکو خداوند کے گھر میں بنی حنان بن یجد لیاہؔ مرد خدا کی کوٹھر ی میں لایا جو اُمرا کی کوٹھری کے نزدیک معسیاہؔ بن سلُوم دربان کی کوٹھری کے اُوپر تھی ۔
5 اور میں نے مے سے لبریز پیالے اور جام ریکابیوں کے گھرانے کے بیٹوں کے آگے رکھے اور اُن سے کہا مے پیو۔
6 پر اُنہوں نے کہا ہم مے نہ پئینگے کیونکہ ہمارے باپ ےُوناؔ داب بن ریکاؔ ب نے ہم کو یوں حکم دیا کہ تم ہرگز مے نہ پینا ۔ نہ تم نہ تمہارے بیٹے ۔
7 اور نہ گھر بنانا نہ بیج بونا نہ تا کستان لگانا نہ اُنکے مالک ہونا بلکہ عمر بھر خیموں میں رہنا تاکہ جس سر زمین میں تم مُسافر ہو تمہاری عمر دراز ہو ۔
8 چنانچہ ہم نے اپنے باپ ےُوناؔ داب بن ریکابؔ کی بات مانی ۔ اُسکے حکم کے مطابق ہم اور ہماری بیویاں اور ہمارے بیٹے بیٹیا ں کبھی مے نہیں پیتے ۔
9 اور ہم نہ رہنے کے لئے گھر بناتے اور نہ تاکستان اور کھیت اور بیج رکھتے ہیں ۔
10 پر ہم خیموں میں بسے ہیں اور ہم نے فرمانبرداری کی اور جو کچھ ہمارے باپ ےُوناؔ داب نے ہم کوحکم دیا ہم نے اُس پر عمل کیا ہے۔
11 لیکن یوں ہوا کہ جب شاہِ بابلؔ نبوکدؔ رضر اِس ملک پر چڑھ آیا تو ہم نے کہا کہ آؤ ہم کسدیوں اور ارامیوں کی فوج کے ڈر سے یروشلیم کو چلے جائیں ۔ یوں ہم یروشلیم میں بستے ہیں۔
12 تب خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
13 کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدایوں فرماتا ہے کہ جا اور یہوداہؔ کے آدمیوں اور یروشلیم کے باشندوں سے یوں کہہ کہ کیا تم تربیت پذیر نہ ہو گے کہ میری باتیں سُنو خداوند فرماتا ہے؟ ۔
14 جو باتیں ےُوناؔ داب بن ریکابؔ نے اپنے بیٹوں کو فرمائیں کہ مے نہ پیو وہ بجا لائے اور آج تک مے نہیں پیتے بلکہ اُنہوں نے اپنے باپ کے حکم کو مانا لیکن میں نے تم سے کلام کیا اور بروقت تم کو فرمایا اور تم نے میری نہ سُنی ۔
15 اور میں نے اپنے تمام خدمتگذار نبیوں کو تمہارے پاس بھیجا اور اُنکو بروقت یہ کہتے ہوئے بھیجا کہ تم ہر ایک اپنی بُری راہ سے باز آؤ اور اپنے اعمال کو دُرست کرو اور غیر معبودوں کی پیر وی اور عبادت نہ کرو اور جو ملک میں نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو دیا ہے تم اُس میں بسو گے لیکن تم نے نہ کان لگایا نہ میری سُنی ۔
16 اِس سبب سے کہ ےُوناؔ داب بن ریکابؔ کے بیٹے اپنے باپ کے حکم کو جو اُس نے اُنکو دیا تھا بجالائے پر اِن لوگوں نے میری نہ سُنی ۔
17 اِسلئے خداوند ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے دیکھ میں یہوداہؔ پر اور یروشلیم کے تمام باشندوں پر وہ سب مصیبت جسکا میں نے اُنکے خلاف اِعلان کیا ہے لاؤنگا کیونکہ میں نے اُن سے کلام کیا پر وہ شنوا نہ ہوئے اور میں نے اُنکو بُلایا پر اُنہوں نے جواب نہ دیا۔
18 اور یرمیاہؔ نے ریکابیوں کے گھرانے سے کہا کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے اپنے باپ ےُوناؔ داب کے حکم کو مانا اور اُسکی سب وصیتوں پر عمل کیا ہے اور جو کچھ اُس نے تم کو فرما یا تم بجا لائے ۔
19 اِسلئے ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ ےُوناؔ داب بن ریکاؔ ب کے لئے میرے حضور میں کھڑے ہونے کو کبھی آدمی کی کمی نہ ہو گی۔


باب 36

1 شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے چوتھے برس میں یہ کلام خداوند کی طرف سے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2 کہ کتاب کا طومار لے اور وہ سب کلام جو میں نے اِسراؔ ئیل اور یہوداہؔ اور تما م اقوام کے خلاف تجھ سے کیا اُس دن سے لیکر جب سے میں تجھ سے کلام کرنے لگا یعنی یوسیاہؔ کے ایاّم سے آج کے دن تک اُس میں لکھ ۔
3 شاید یہوداہؔ کا گھرانا اُس تمام مصیبت کا حال جو میں اُن پر لانے کا اِرادہ رکھتا ہوں سُنے تاکہ وہ سب اپنی بُری روشِ سے باز آئیں اور میں اُنکی بدکرداری اور گناہ کو معاف کروں ۔
4 تب یرمیاہؔ نے بارُوکؔ بن نیرؔ یاہ کو بلایا اور بارُوکؔ نے خداوند کا وہ سب کلام جو اُس نے یرمیاہؔ سے کیا تھا اُسکی زبانی کتاب کے اُس طومار میں لکھا ۔
5 اور یرمیاہؔ نے بارُوکؔ کو حکم دیا اور کہا کہ میں تو مجبور ہوں ۔ میں خداوند کے گھر میں نہیں جا سکتا ۔
6 پر تو جا اور خداوند کا وہ کلا م جو تو نے میرے منہ سے اُس طومار میں لکھا ہے خداوند کے گھر میں روزہ کے دن لوگوں کو پڑھکر سُنا اور تمام یہوداہؔ کے لوگوں کو بھی جو اپنے شہروں سے آئے ہوں تو وہی کلام پڑھکر سُنا۔
7 شاید وہ خداوند کے حضور منت کریں اور سب کے سب اپنی بُری روش سے باز آئیں کیونکہ خداوند کا قہر وغضب جسکا اُس نے اِن لوگوں کے خلاف اِعلان کیا ہے شدید ہے ۔
8 اور بارُوک ؔ بن نیریاہؔ نے سب کچھ جیسا یرمیاہؔ نبی نے اُسکو فرمایا تھا ویسا ہی کیا اور خداوند کے گھر میں خداوند کا کلام اُس کتاب سے پڑھکر سُنایا۔
9 اور شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے پانچویں برس کے نویں مہینے میں یوں ہوا کہ یروشلیم کے سب لوگوں نے اور اُن سب نے جو یہوداہ کے شہروں سے یروشلیم میں آئے تھے خداوند کے حُضُور روزہ کی منادی کی۔
10 تب بارُوک نے کتاب سے یرمیاہؔ کی باتیں خداوند کے گھر میں حمبر یاہؔ بن سافن ؔ منشی کی کوٹھر ی میں اُوپر کے صحن کے درمیان خداوند کے گھر کے نئے پھاٹک کے مدخل پر سب لوگوں کے سامنے پڑھ سُنائیں ۔
11 جب میکا یاہؔ بن حمبریاہؔ بن سافنؔ نے خداوند کا وہ سب کلام جو اُس کتاب میں تھا سُنا۔
12 تو وہ اُتر کر بادشاہ کے گھر منشی کی کوٹھری میں گیا اور سب اُمرا یعنے الیسمع ؔ منشی اور دِلایاہؔ بن سمعیاہؔ اور اِلناتنؔ بن عکبورؔ اور حمبریاہؔ بن سافنؔ اور صدقیاہؔ بن حننیاہؔ اور سب اُمرا وہاں بیٹھے تھے۔
13 تب میکاؔ یاہ نے وہ سب باتیں جو اُس نے سُنی تھیں جب بارُوکؔ کتاب سے پڑھکر لوگوں کو سُناتا تھا اُن سے بیان کیں ۔
14 اور سب اُمرا نے یہودی بن نتنیاہؔ بن سلمیاہؔ بن کُوشیؔ کو بارُوکؔ کے پاس یہ کہکر بھیجا کہ وہ طومار جو تو نے لوگوں کو پڑھکر سُنایا ہے اپنے ہاتھ میں لے اور چلا آ۔پس بارُوک ؔ بن نیریاہؔ وہ طومار لیکر اُنکے پاس آیا۔
15 اور اُنہوں نے اُسے کہا کہ اب بیٹھ جا اور ہم کو یہ پڑھکر سُنا اور بارُوکؔ نے اُنکو پڑھکر سُنایا ۔
16 اور جب اُنہوں نے وہ سب باتیں سُنیں تو ڈر کر ایک دوسرے کا منہ تاکنے لگے اور بارُوک ؔ سے کہا کہ ہم یقیناًیہ سب باتیں بادشاہ سے بیان کرینگے ۔
17 اور اُنہوں نے یہ کہکر بارُوکؔ سے پوچھا کہ ہم سے کہہ کہ تو نے یہ سب باتیں اُسکی زُبانی کیونکر لکھیں ؟۔
18 تب بارُوکؔ نے اُن سے کہا وہ سب باتیں مجھے اپنے منہ سے کہتا گیا اور میں سیاہی سے کتاب میں لکھتا گیا۔
19 تب اُمرا نے بارُوکؔ سے کہا کہ جا اپنے آپ کو اور یرمیاہؔ کو چھپا اور کوئی نہ جانے کہ تم کہاں ہو۔
20 اور وہ بادشاہ کے پاس صحن میں گئے لیکن اُس طومارکو الیسمع ؔ منشی کی کوٹھری میں رکھ گئے اور وہ باتیں بادشاہ کو کہہ سُنائیں ۔
21 تب بادشاہ نے یہودی کو بھیجا کہ طومار لائے اور وہ اُسے الیسمع ؔ منشی کی کوٹھری میں سے لے آیا اور یہودی نے بادشاہ اور سب اُمرا کو جو بادشاہ کے حُضُور کھڑے تھے اُسے پڑھکر سُنایا ۔
22 اور بادشاہ زمستانی محل میں بیٹھا تھا کیونکہ نواں مہینہ تھا اور اُسکے سامنے انگیٹھی جل رہی تھی ۔
23 اور جب یہودی ؔ نے تین چا ر ورق پڑھے تو اُس نے اُسے مُنشی کے قلم تراش سے کاٹا اور انگیٹھی کی آگ میں ڈالد یا یہاں تک کہ تمام طومار انگیٹھی کی آگ سے بھسم ہو گیا۔
24 لیکن وہ نہ ڈر ے نہ اُنہوں نے اپنے کپڑے پھاڑے نہ بادشاہ نے نہ اُسکے مُلازموں میں سے کسی نے جنہوں نے یہ سب باتیں سُنی تھیں ۔
25 لیکن اِلنا تنؔ اور دِلایاہؔ اور حمبریاہؔ نے بادشاہ سے عرض کی کہ طورما کو نہ جلائے پر اُس نے اُنکی ایک نہ سُنی ۔
26 اور بادشاہ نے شاہزادہ یرحمیلؔ کو اور شر ایاہؔ بن عز ریؔ ایل اور سلمیاہ ؔ بن عبدی ؔ ایل کو حکم دیا کہ بارُوک منشی اور یرمیاہ ؔ نبی کو گرفتار کریں لیکن خداوند نے اُنکو چھپا یا ۔
27 اور جب بادشاہ طُومار اور اُن باتوں کو جو بارُوک ؔ نے یرمیاہؔ کی زبانی لکھی تھیں جلا چُکا تو خداوند کا یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
28 کہ تو دوسرا طومار لے اور اُس میں وہ سب باتیں لکھ جو پہلے طومار میں تھیں جسے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ نے جلادیا۔
29 اور شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ سے کہہ کہ خداوندیوں فرماتا ہے کہ تو نے طومار کو جلا دیا اور کہا ہے کہ تو نے اُس میں یوں کیوں لکھا کہ شاہِ بابلؔ یقیناًآئیگا اور اِس ملک کو غارت کریگا اور نہ اِس میں اِنسان باقی چھوڑیگا نہ حیوان ۔
30 اِسلئے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ کی بابت خداوند یوں فرماتا ہے کہ اُسکی نسل میں سے کوئی نہ رہیگا جو داؤد ؔ کے تخت پر بیٹھے اور اُسکی لاش پھینکی جائیگی تا کہ دِن کو گرمی میں اور رات کو پالے میں پڑی رہے ۔
31 اور میں اُسکو اور اُسکی نسل کو اور اُسکے مُلا زموں کو اُنکی بدکرداری کی سزا دُونگا اور میں اُن پر یروشلیم کے باشند وں پر اور یہوداہؔ کے لوگوں پر وہ سب مصیبت لاؤنگا جسکا میں نے اُنکے خلاف اِعلان کیا پر وہ شنوا نہ ہوئے ۔
32 تب یرمیاہؔ نے دوسراطومار لیا اور بارُوکؔ بن نیریاہؔ منشی کو دیا اور اُس کتاب کی سب باتیں جسے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ نے آگ میں جلایا تھا یرمیاہؔ کی زبانی اُس میں لکھیں اور اُنکے سوا ویسی ہی اور بہت سی باتیں اُن میں بڑھا دی گئیں ۔


باب 37

1 اور صدقیاہؔ بن یوسیاہؔ م جسکو شاہِ بابلؔ نبوکدؔ رضر نے ملک یہوداہؔ پر بادشاہ مُقر ر کیا تھا کُونیاہؔ بن یہویقیمؔ کی جگہ بادشاہی کرنے لگا۔
2 لیکن نہ اُن نے نہ اُسکے مُلازموں نے نہ ملک کے لوگوں نے خداوند کی وہ باتیں سُنیں جو اُس نے یرمیاہؔ نبی کی معرفت فرمائی تھیں ۔
3 اور صدقیاہؔ بادشاہ نے یہوکلؔ بن سلمیاہؔ اور صفنیاہؔ بن معسیاہؔ کاہن کی معرفت یرمیاہؔ نبی کو کہلابھیجا کہ اب ہمارے لئے خداوند ہمارے خدا سے دُعا کر ۔
4 ہنوزیرمیاہؔ لوگوں کے درمیان آیا جایا کرتا تھا کیونکہ اُنہوں نے ابھی اُسے قید خانہ میں نہیں ڈالا تھا۔
5 اِس وقت فرعونؔ کی فوج نے مصرؔ سے چڑھائی کی اور جب کسدیوں نے یروشلیم کا محاصرہ کئے تھے۔ اِسکی شہرت سُنی تو وہاں سے چلے گئے ۔
6 تب خداوند کا یہ کلام یرمیاہ ؔ نبی پر نازل ہُوا۔
7 کہ خداوند اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم شاہِ یہوداہؔ سے جس نے تم کو میری طرف بھیجا کہ مجھ سے دریافت کرو یوں کہنا کہ دیکھ فرعونؔ کی فوج جو تمہاری مدد کو نکلی ہے اپنے ملک مصرؔ کو لوٹ جائیگی ۔
8 اور کسدی واپس آکر اِس شہر سے لڑینگے اور اِسے فتح کرکے آگ سے جلا ئینگے ۔
9 خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم یہ کہکر اپنے آپکو فریب نہ دو کہ کسدی ضرور ہمارے پاس سے چلے جائینگے کیونکہ وہ نہ جائینگے ۔
10 اور اگرچہ تم کسدیوں کی تمام فوج کو جو تم سے لڑتی ہے اَیسی شکست دیتے کہ اُن میں سے صرف زخمی باقی رہتے تو بھی وہ سب اپنے اپنے خیمہ سے اُٹھتے اور اِس شہر کو جلا دیتے ۔
11 اور جب کسدیوں کی فوج فرعون ؔ کی فوج کے ڈر سے یروشلیم کے سامنے سے کوچ کر گئی ۔
12 تو یرمیاہؔ یروشلیم سے نکلا کہ بینمین کے علاقہ میں جا کر وہاں لوگوں کے درمیان اپناحصہ لے۔
13 اور جب وہ بنیمین کے پھاٹک پر پہنچا تو وہاں پہرے والوں کا داروغہ تھا جسکا نا م اِریاہؔ یرمیاہؔ کو پکڑااور کہا کہ کسدیوں کی طرف بھاگا جاتا ہے ۔
14 تب یرمیاہؔ نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے ۔ میں کسدیوں کی طرف بھاگا نہیں جاتا ہوں پر اُس نے اُسکی ایک نہ سُنی پس اِریاہؔ یرمیاہؔ کو پکڑ کر اُمرا کے پاس لایا ۔
15 اور اُمرا یرمیاہؔ پر غضبناک ہوئے اور اُسے مارا اور ےُونتینؔ منشی کے گھر میں اُسے قید کیا کیونکہ اُنہوں نے اُس گھر کو قید خانہ بنا رکھا تھا۔
16 جب یرمیاہؔ قید خانہ میں اور اُسکے تہ خانوں میں داخل ہو کر بہت دِنوں تک وہاں رہ چکا ۔
17 تو صدقیاہؔ بادشاہ نے آدمی بھیج کر اُسے نکلو ایا اور اپنے محل میں اُس خفیہ طور سے دریافت کیا کہ کیا خداوند کی طرف سے کوئی کلا م ہے؟ اور یرمیاہؔ نے کہا کہ ہے کیونکہ اُس نے فرمایا ہے کہ تو شاہِ بابلؔ کے حوالہ کیا جائیگا ۔
18 اور یرمیاہؔ نے صدقیاہؔ بادشاہ سے کہا کہ میں نے تیرا اور تیرے مُلازموں کا اور اِن لوگوں کا کیا گناہ کیا ہے کہ تم نے مجھے قید خانہ میں ڈالا ہے؟۔
19 اب تمہارے نبی کہاں ہیں جو تم سے نبوت کرتے اور کہتے تھے کہ شاہِ بابلؔ تم پر اور اِس ملک پر چڑھائی نہیں کریگا ؟۔
20 اب اَے بادشاہ میرے آقا! میری سُن ۔ میری درخواست قبول فرما اور مجھے ےُونتنؔ منشی کے گھر میں واپس نہ بھیج اَیسا نہ ہو کہ میں وہاں مر جاؤں ۔
21 تب صدقیاہؔ بادشاہ نے حکم دیا اور اُنہوں نے یرمیاہ ؔ کو قید خانہ کے صحن میں رکھا اور ہر روز اُسے نانبائیوں کے محلہ سے ایک روٹی لیکر دیتے رہے جب تک کہ شہر میں روٹی مل سکتی تھی ۔ پس یرمیاہؔ قید خانہ کے صحن میں رہا۔


باب 38

1 پھر سفطیا ہؔ بن متانؔ اور جد لیاہؔ بن فشحورؔ اور یوکلؔ بن سلمیاہؔ اور فشحورؔ بن ملکیاہؔ نے وہ باتیں جو یرمیاہ ؔ سب لوگوں سے کہتا تھا سُنیں ۔ وہ کہتا تھا ۔
2 خداوند یوں فرماتا ہے کہ جو کوئی اِس شہر میں رہیگا وہ تلوار اور کال اور وبا سے مریگا اور جو کسدیوں میں جا ملیگا وہ زندہ رہیگا اور اُسکی جان اُسکے لئے غنیمت ہو گی اور وہ جیتا رہیگا ۔
3 خداوند یوں فرماتا ہے کہ یہ شہر یقیناًشاہِ بابلؔ کی فوج کے حوالہ کر دیا جائیگا اور وہ اِسے لے لیگا۔
4 اِسلئے اُمرا نے بادشاہ سے کہا ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ اِس آدمی کو قتل کروا کیونکہ یہ جنگی مردوں کے ہاتھوں کو جو اِس شہر میں باقی ہیں اور سب لوگوں کے ہاتھوں کو اُن سے ایسی باتیں کہکر سُست کرتا ہے کیونکہ یہ شخص اِن لوگوں کا خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہے ۔
5 تب صدقیاہؔ بادشاہ نے کہا وہ تمہارے قابو میں ہے کیونکہ بادشاہ تمہارے خلاف کچھ نہیں کرسکتا ۔
6 تب اُنہوں نے یرمیاہؔ کو پکڑکر ملکیاہؔ شاہزادہ کے حوض میں قید خانہ کے صحن میں تھاڈالدیا اور اُنہوں نے یرمیاہؔ کو رسے سے باندھکر لٹکا یا اور حوض میں کچھ پانی نہ تھا بلکہ کیچ تھی اور یرمیاہؔ کیچ میں دھس گیا۔
7 اور جب عبدملک کوشی نے جو شاہی محل کے خواجہ سراؤں میں سے تھا سُنا کہ اُنہوں نے یرمیاہ ؔ کو حوض میں ڈالدیا ہے جبکہ بادشاہ بنیمین کے پھاٹک میں بیٹھا تھا ۔
8 تو عبدؔ ملک بادشاہ کے محل سے نکلا اور بادشاہ سے یوں عرض کی ۔
9 کہ اَے بادشاہ میرے آقا! اِن لوگوں نے یرمیاہؔ نبی سے جو کچھ کیا بُرا کیا کیونکہ اُنہوں نے اُسے حوض میں ڈالدیا ہے اور وہ وہاں بھوک سے مرجائیگا کیونکہ شہر میں روٹی نہیں ہے۔
10 تب بادشاہ نے عبدملکؔ کو شی کو یوں حکم دیا کہ تو یہاں سے تیس آدمی اپنے ساتھ لے اور یرمیاہؔ نبی کو پیشتر اِس سے کہ مر جائے حوض میں سے نکال ۔
11 اور عبدؔ ملک اُن آدمیوں کو جو اُسکے پاس تھے اپنے ساتھ لیکر بادشاہ کے محل میں خزانہ کے نیچے گیا اور پُرانے چتھڑے اور پُرانے سڑے ہوئے لتے وہاں سے لئے اور اُنکورسیوں کے وسیلہ سے حوض میں یرمیاہؔ کے پاس لٹکایا ۔
12 اور عبدؔ ملک کوشی نے یرمیاہ ؔ سے کہا کہ اِن پُرانے چتھڑوں اور سڑے ہوئے لتوں کو رسّی کے نیچے اپنی بغل تلے رکھ اور یرمیاہؔ نے ویسا ہی کیا ۔
13 اور اُنہوں نے رسّیوں سے یرمیاہؔ کو کھینچا اور حوض سے باہر نکالا اور یرمیاہؔ قیدخانہ کے صحن میں رہا۔
14 تب صدقیاہؔ بادشاہ نے یرمیاہؔ نبی کو خداوند کے گھر کے تیسرے مدخل میں اپنے پاس بُلوایا اور بادشاہ نے یرمیاہؔ سے کہا میں تجھ سے ایک بات پُوچھتا ہوں۔ تو مجھ سے کچھ نہ چھپا ۔
15 اور یرمیاہ ؔ نے صدقیاہؔ سے کہا کہ اگر میں تجھ سے کھو لکر بیان کروں تو کیا تو مجھے یقیناًقتل نہ کریگا ؟اور اگر میں تجھے صلاح دُوں توتو نہ مانیگا ۔
16 تب صدقیاہؔ بادشاہ نے یرمیاہ کے سامنے تنہائی میں کہا زندہ خداوند کی قسم جو ہماری جانوں کا خالق ہے کہ نہ میں تجھے قتل کرونگا اور نہ اُنکے حوالہ کرونگا جو تیری جان کے خواہاں ہیں ۔
17 تب یرمیاہؔ نے صدقیاہؔ سے کہا کہ خداوند لشکروں کا خدا اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے یقینااگر تو نکلکر شاہِ بابلؔ کے اُمرا کے پاس چلا جائیگا تو تیری جان بچ جائیگی اور یہ شہر آگ سے جلایا نہ جائیگا اور تو اور تیرا گھرانا زندہ رہیگا ۔
18 پر اگر تو شاہِ بابلؔ کے اُمرا کے پاس نہ جائیگا تو یہ شہر کسدیوں کے حوالہ کر دیا جائیگا اور وہ اِسے جلادینگے اور تو اُنکے ہاتھ سے رہائی نہ پائیگا ۔
19 اور صدقیاہؔ بادشاہ نے یرمیاہ ؔ سے کہا کہ میں اُن یہودیوں سے ڈرتا ہوں جو کسدیوں سے جا ملے ہیں۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ مجھے اُنکے حوالہ کریں اور وہ مجھ پر طعنہ ماریں ۔
20 اور یرمیاہ ؔ نے کہا وہ تجھے حوالہ نہ کرینگے ۔ میں تیری منت کرتا ہوں تو خداوند کی بات جو میں تجھ سے کہتا ہوں مان لے ۔ اِ س سے تیرا بھلا ہوگا اور تیری جان بچ جائیگی ۔
21 پر اگر تو جانے سے اِنکار کرے تو یہی کلام ہے جو خداوند نے مجھ پر ظاہر کیا ۔
22 کہ دیکھ وہ سب عورتیں جو شاہِ یہوداہؔ کے محل میں باقی ہیں شاہِ بابلؔ کے اُمرا کے پاس پہنچائی جائینگی اور کہینگی کہ تیرے دوستوں نے تجھے فریب دیا اور تجھ پر غالب آئے ۔ جب تیرے پاؤں کیچ میں دھس گئے تو وہ اُلٹے پھر گئے۔
23 اور وہ تیری سب بیویوں اور تیرے بیٹوں کو کسدیوں کے پاس نکال لے جائینگے اور تو بھی اُنکے ہاتھ سے رہائی نہ پائیگا بلکہ شاہِ بابلؔ کے ہاتھ میں گرفتار ہو گا اور تو اِس شہر کے آگ سے جلائے جانے کا باعث ہوگا۔
24 تب صدقیاہؔ نے یرمیاہ ؔ سے کہا کہ اِ ن باتوں کو کوئی نہ جانے توتو مارا نہ جائیگا ۔
25 پر اگر اُمرا سن لیں کہ میں نے تجھ سے بات چیت کی اور تیرے پاس آکر کہیں کہ جو کچھ تو نے بادشاہ سے کہا اورجو کچھ بادشاہ نے تجھ سے کہا اب ہم پر ظاہر کر ۔ ہم سے نہ چھپا اور ہم تجھے قتل نہ کرینگے ۔
26 تب تو اُن سب باتوں کے مطابق جو بادشاہ نے فرمائی تھیں اُنکو جواب دیا اور وہ اُسکے پاس سے چپ ہو کر چلے گئے کیونکہ اصل مُعاملہ اُنکو معلوم نہ ہوا۔
27 اور جس دِن تک یروشلیم فتح نہ ہوا یرمیاہؔ قیدخانہ کے صحن میں رہا اور جب یروشلیم فتح ہوا تو وہ وہیں تھا ۔
28


باب 39

1 شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کے نویں برس کے دسویں مہینے میں شاہِ بابلؔ نبوکدرضرؔ اپنی تمام فوج لیکر یروشلیم پر چڑھ آیا اور اُسکا محاصرہ کیا ۔
2 صدقیاہؔ کے گیارھویں برس کے چوتھے مہینے کی نویں تاریخ کو شہر کی فصیل میں رخنہ ہو گیا ۔
3 اور شاہِ بابلؔ کے سب سردار یعنی نیرکلؔ سراضرؔ مجوسیوں کا سردار اور شاہِ بابلؔ کے باقی سردار داخل ہوئے اور درمیانی پھاٹک پر بیٹھے ۔
4 اور شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ اور سب جنگی مرد اُنکو دیکھکر بھاگے اور دونوں دیواروں کے درمیان جو پھاٹک شاہی باغ کے برابر تھا اُس سے وہ رات ہی رات بھاگ نکلے اور بیابان کی راہ لی ۔
5 لیکن کسدیوں کی فوج نے اُنکا پیچھا کیا اور یریحو کے میدان میں صدقیاہ ؔ کو جا لیا اور اُسکو پکڑ کر ربلہ ؔ میں شاہِ بابلؔ نبوکدرضرؔ کے پاس حمایت کے علاقہ میں لے گئے اور اُس نے اُس پر فتویٰ دیا۔
6 اور شاہِ بابلؔ نے صدقیاہؔ کے بیٹوں کو ربلہ میں اُسکی آنکھوں کے سامنے ذبح کیا اور یہوداہؔ کے سب شرفا کو بھی قتل کیا ۔
7 اور اُس نے صدقیاہ ؔ کی آنکھیں نکال ڈالیں اور بابلؔ کو لے جانے کے لئے اُسے زنجیروں سے جکڑا ۔
8 اور کسدیوں نے شاہی محل کو اور لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلا دیا اور یروشلیم کی فصیل کو گرادیا ۔
9 اِسکے بعد جلوداروں کا سردار نبوزؔ رادان باقی لوگوں کو جو شہر میں رہ گئے تھے اور اُنکو جو اُسکی طرف ہو کر اُسکے پاس بھاگ آئے تھے یعنی قوم کے سب باقی لوگوں کو اسیر کرکے بابلؔ کو لے گیا۔
10 پر قوم کے مسکینوں کو جنکے پاس کچھ نہ جلوداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے یہوداہؔ کے ملک میں رہنے دیا اور اُسی وقت اُنکو تاکستان اور کھیت بخشے ۔
11 اور شاہِ بابل ؔ نبوکدرضرؔ نے یرمیاہؔ کی بابت جلوداروں کے سردار نبوزرادانؔ کو تاکید کرکے یوں کہا ۔
12 کہ اُسے لیکر اُس پر خوب نگاہ رکھ اور اُسے کچھ دُکھ نہ دے بلکہ تواُس سے وہی کر جو وہ تجھے کہے۔
13 سو جلوداروں کے سردار نبوزارادانؔ نبوشزبان خواجہ سراؤں کے سردار اور نیرکل ؔ سراضر مجوسیوں کے سردار اور بابلؔ کے سب سرداروں نے آدمی بھیج کر ۔
14 یرمیاہؔ کو قید خانہ کے صحن سے نکلو الیا اور جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سافن ؔ کے سپرد کیا کہ اُسے گھر لے جائے ۔ سو وہ لوگوں کے ساتھ رہنے لگا۔
15 اور جب یرمیا ہؔ قید خانہ کے صحن میں بند تھا خداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا۔
16 کہ جا عبد ملک ؔ کوشی سے کہہ کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدایوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اپنی باتیں اِس شہر کی بھلائی کے لئے نہیں بلکہ خرابی کے لئے پُوری کُرونگا اور وہ اُس روز تیرے سامنے پُوری ہونگی ۔
17 پر اُس دِن میں تجھے رہائی دُونگا خداوند فرماتا ہے اور تو اُن لوگوں کے حوالہ نہ کیا جائیگا جن سے تو ڈرتا ہے۔
18 کیونکہ میں تجھے ضرور بچاؤنگا اور تو تلوار سے مارا نہ جائیگا بلکہ تیری جان تیرے لئے غنیمت ہو گی اِسلئے کہ تو نے مجھ پر توکل کیا خداوند فرماتاہے۔


باب 40

1 وہ کلام جو خداوند کی طرف یرمیاہؔ پر نازل ہوا اِسکے بعد کہ جلوداروں کے سردار نبُوزرادان ؔ نے اُسکو رامہؔ سے روانہ کر دیا جب اُس نے اُسے ہتھکڑیوں سے جکڑا ہوا اُن سب اسیروں کے درمیان پایا جو یروشلیم اور یہوداہؔ کے تھے جنکو اسیر کر کے بابلؔ کو لے جا رہے تھے۔
2 اور جلوداروں کے سردار نے یرمیا ہؔ کو لیکر اُس سے کہا کہ خداوندتیرے خدا نے اِس بلا کی جو اِس جگہ پر آئی خبر دی تھی ۔
3 سو خداوند نے اُسے نازل کیا اور اُس نے اپنے قول کے مطابق کیا کیونکہ تم لوگوں نے خداوند کا گناہ کیا اور اُسکی نہیں سُنی اِسلئے تمہارا یہ حال ہوا۔
4 اور دیکھ آج میں تجھے اِن ہتھکڑیوں سے جو تیرے ہاتھوں میں ہیں رہائی دیتا ہوں ۔ اگر میرے ساتھ بابلؔ چلنا تیری نظر میں بہتر ہو تو چل اور میں تجھ پر خوب نگاہ رکھو نگا اور اگر میرے ساتھ بابلؔ چلنا تیری نظر میں بُرا لگے تویہیں رہ تمام ملک تیرے سامنے ہے ۔ جہاں تیرا جی چاہئے اور تو مناسب جانے وہیں چلا جا ۔
5 وہ وہیں تھا کہ اُس نے پھر کہا تو جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سا فنؔ کے پاس جسے شاہِ بابلؔ نے یہوداہؔ کے شہروں کا حاکم کیا ہے چلا جا اور لوگوں کے درمیان اُسکے ساتھ رہ ورنہ جہاں تیری نظر میں بہتر ہو وہیں چلا جا ۔ اور جلوداروں کے سردار نے اُسے خوراک اور اِنعام دیکر رُخصت کیا۔
6 تب یرمیاہؔ جدلیاہؔ بن اخیقامؔ کے پاس مصفاہؔ میں گیا اور اُسکے ساتھ اُن لوگوں کے درمیان جو اُس ملک میں باقی رہ گئے تھے رہنے لگا۔
7 جب لشکروں کے سب سرداروں نے اور اُنکے آدمیوں نے جو میدان میں رہ گئے تھے سُنا کہ شاہِ بابلؔ نے جدلیاہؔ بن اخیقامؔ کو ملک کا حاکم مُقرر کیا ہے اور مردوں اور عورتوں اور بچوں کو اور مملکت کے مسکینوں کو جو اسیرہو کر بابلؔ کو نہ گئے تھے اُسکے سُپرد کیا ہے ۔
8 تو اِسمٰعیلؔ بن نتنیاہؔ اور ےُوحنانؔ اور ےُونتنؔ بنی قریح اور سرایاہؔ بن تنحومتؔ اور بنی عیفی نطوفاتی اور نیر نیاہؔ بن معکاتیؔ اپنے آدمیوں کے ساتھ جدلیاہؔ کے پاس مصفاہؔ میں آئے ۔
9 اور جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سافنؔ نے اُن سے اور اُنکے آدمیوں سے قسم کھا کر کہا کہ تم کسدیوں کی خدمتگذاری سے نہ ڈرو۔ اپنے ملک میں بسو اور شاہِ بابلؔ کی خدمت کرو تو تمہارا بھلا ہوگا۔
10 اور دیکھو میں تو اِسلئے مصفاہؔ مے رہتا ہوں کہ جو کسدی ہمارے پاس آئیں اُنکی خدمت میں حاضر رہوں پر تم مے اور تابستانی میوے اور تیل جمع کرکے اپنے برتنوں میں رکھو اور اپنے شہروں میں جن پر تم نے قبضہ کیا ہے بسو۔
11 اور اِسی طرح جب اُن سب یہودیوں نے جو موآب ؔ اور بنی عمون اور ادُوم ؔ اور تمام ممالک میں تھے سُنا کہ شاہِ بابلؔ نے یہوداہؔ کے چند لوگوں کو رہنے دیا ہے اور جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سافنؔ کو اُن پر مُقرر کیا ہے ۔
12 تو سب یہودی ہر جگہ سے جہاں وہ تتر بتر کئے گئے تھے لوٹے اور یہوداہؔ کے ملک میں مصفاہؔ میں جدلیاہؔ کے پاس آئے اور مے اور تابستانی میوے کثرت سے جمع کئے۔
13 اور ےُوحنانؔ بن قریح ؔ اور لشکروں کے سب سردار جو میدانوں میں تھے مصفاہؔ میں جدلیاہؔ کے پاس آئے۔
14 اور اُس سے کہنے لگے کیا تو جانتا ہے کہ بنی عمون کے بادشاہ بعلیسؔ نے اِسمٰعیل ؔ بن نتنیاہؔ کو اِسلئے بھیجا ہے کہ تجھے قتل کرے؟ پر جدلیاہؔ بن اخیقامؔ نے اُنکا یقین نہ کیا ۔
15 اور یوحنان بن قریح ؔ نے مصفاہؔ میں جدلیاہؔ سے تنہائی میں کہا کہ اجازت ہو تو میں اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ کو قتل کروں اور اِسکو کوئی نہ جائیگا ۔ وہ کیوں تجھے قتل کرے اور سب یہودی جو تیرے پاس جمع ہوئے ہیں پراگندہ کئے جائیں اور یہوداہ ؔ کے باقی ماندہ لوگ ہلاک ہوں؟ ۔
16 پر جدلیاہ ؔ بن اخیقامؔ نے یوحنانؔ بن قریح ؔ سے کہا تو ایسا کام ہر گز نہ کرنا کیونکہ تو اِسمٰعیل کی بابت جھوٹ کہتا ہے ۔


باب 41

1 اور ساتویں مہینے میں یوں ہوا کہ اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ بن الیسمعؔ جو شاہی نسل سے اور بادشاہ کے سرداروں میں سے تھا دس آدمی ساتھ لیکر جدلیاہؔ بن اخیقامؔ کے پاس مصفاہؔ میں آیا اور اُنہوں نے وہاں مصفاہؔ میں ملکر کھانا کھایا۔
2 تب اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ اُن دس آدمیوں سمیت جو اُسکے ساتھ تھے اُٹھا اور جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سافنؔ کو جسے شاہِ بابلؔ نے ملک کا حاکم مُقرر کیاتھاتلوار سے مارا اور اُسے قتل کیا۔
3 اور اِسمٰعیل نے اُن سب یہودیوں کو جو جدلیاہؔ کے ساتھ مصفاہؔ میں تھے اور کسدی سپاہیوں کو جو وہاں حاضر تھے قتل کیا۔
4 اور جب وہ جدلیاہؔ کو مارچکا اور کسی کو خبر نہ ہوئی تو اُسکے دُوسرے دِن یوں ہوا۔
5 کہ سکم اور سیلاؔ اور سامریہؔ سے کچھ لوگ جو سب کے سب اسّی آدمی تھے داڑھی مُنڈائے اور کپڑے پھاڑے اور اپنے آپکو گھائل کئے اور ہدئے اور لُبان ہاتھوں میں لئے ہوئے وہاں آئے تاکہ خداوند کے گھر میں گذرانیں ۔
6 اور اسمٰعیل بن نتنیاہؔ مصفاہؔ سے اُنکے اِستقبال کو نکلا اور روتا ہو چلا اور یوں ہوا کہ جب وہ اُن سے ملا تو اُن سے کہنے لگا کہ جدلیاہؔ بن اخیقامؔ کے پاس چلو۔
7 اور پھر جب وہ شہر کے وسط میں پہنچے تو اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ اور اُسکے ساتھیوں نے اُنکو قتل کرکے حوض میں پھینک دیا۔
8 پر اُن میں سے دس آدمی تھے جنہوں نے اِسمٰعیل سے کہا کہ ہم کو قتل نہ کر کیونکہ ہمارے گیہوں اور جو اور تیل اور شہد کے ذخیرے کھیتوں میں پوشیدہ ہیں۔ سو وہ باز رہا اور اُنکو اُنکے بھائیوں کے ساتھ قتل نہ کیا ۔
9 اور وہ حوض جس میں اِسمٰعیل نے اُن لوگوں کی لاشو ں کو پھینکا تھا جنکو اُس نے جدلیاہؔ کے ساتھ قتل کیا (وہی ہے جسے آسا ؔ بادشاہ نے شاہِ اِسراؔ ئیل بعشاؔ کے ڈر سے بنایا تھا )اور اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ نے اُسکو مقتولوں کی لاشوں سے بھر د یا۔
10 تب اِسمٰعیل سب باقی لوگوں کو یعنی شاہزادیوں اور اُن سب لوگوں کو جو مصفاہؔ میں رہتے تھے جنکو جلوداروں کے سردارنبوزرادانؔ نے جدلیاہؔ بن اخیقامؔ کے سپرد کیا تھا اسیر کرکے لے گیا ۔اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ اُنکو اسیر کرکے روانہ ہوا کہ پار ہو کر بنی عمون میں جاپہنچے ۔
11 لیکن جب ےُوحنانؔ بن قریح نے اور لشکر کے سب سرداروں نے جو اُسکے ساتھ تھے اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ کی تمام شر ارت کی بابت جو اُس نے کی تھی سُنا۔
12 تو وہ سب لوگوں کولیکر اُس سے لڑنے کو گئے اور جبعونؔ کے بڑے تالاب پر اُسے جالیا۔
13 اور یوں ہوا کہ جب اُن سب نے لوگوں نے جو اسمٰعیل کے ساتھ تھے ےُوحنان بن قریح کو اور اُسکے ساتھ سب فوجی سرداروں کو دیکھا تو وہ خوش ہوئے۔
14 تب وہ سب لوگ جنکو اِسمٰعیل مصفاہؔ سے پکڑ لے گیا تھا پلٹے اور ےُوحنان ؔ بن قریح ؔ کے پاس واپس آئے۔
15 پر اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ آٹھ آدمیوں کے ساتھ ےُوحنان ؔ کے سامنے سے بھاگ نکلا اوربنی عمون کی طرف چلا گیا۔
16 تب ےُوحنان ؔ بن قریح ؔ اور وہ فوجی سردار جو اُسکے ہمراہ تھے سب باقی ماندہ لوگوں کو واپس لائے جنکو اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ جدلیاہؔ بن اخیقامؔ کو قتل کرنے کے بعد مصفاہؔ سے لے گیا تھا یعنی جنگی مردوں اور عورتوں اور لڑکوں اور خواجہ سراؤں کو جنکو وہ جبعونؔ اور واپس لایا تھا۔
17 اور وہ روانہ ہوئے اور سرای کمہامؔ میں جو بیت لحمؔ کے نزدیک ہے آرہے تا کہ مصرؔ کو جائیں ۔
18 کیونکہ وہ کسدیوں سے ڈرے اِسلئے کہ اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ نے جدلیاہؔ بن اخیقام ؔ کو جسے شاہِ بابلؔ نے اس ملک پر حاکم مُقرر کیا تھا قتل کر ڈالا۔


باب 42

1 تب سب فوجی سردار اور ےُوحنان ؔ بن قریحؔ اور یزنیاہؔ بن ہوسعیاہؔ اور ادنیٰ و اعلیٰ سب لوگ آئے۔
2 اور یرمیاہؔ نبی سے کہا تو دیکھتا ہے کہ ہم بہتوں میں سے چند ہی رہ گئے ہیں ۔ ہماری درخواست قبول کر اور اپنے خداوند خدا ہمارے لئے ہاں اِس تمام بقیہ کے لئے دُعا کر۔
3 تاکہ خداوند تیرا خدا ہم کو وہ راہ جس میں ہم چلیں اور وہ کام جو ہم کریں بتلا دے۔
4 تب یرمیاہؔ نبی نے اُن سے کہا میں نے سُن لیا۔ دیکھو اب میں خداوند تمہارے خدا سے تمہارے کہنے کے مطابق دُعا کرونگا اور جو جواب خداوند تمکو دیگا میں تم کو سُناؤنگا ۔میں تم سے کچھ نہ چھپاؤنگا۔
5 اور اُنہوں نے یرمیاہ ؔ ؔ سے کہا کہ جو کچھ خداوند تیرا خدا تیری معرفت ہم سے فرمائے اگر ہم اُس پر عمل نہ کریں تو خداوند ہمارے خلاف سچا اور وفا دار گواہ ہو۔
6 خواہ بھلا معلوم ہو خواہ بُرا ہم خداوند اپنے خدا کا حکم جسکے حُضور ہم تجھے بھیجتے ہیں مانینگے تاکہ جب ہم خداوند اپنے خدا کی فرمابنرداری کریں تو ہمارا بھلا ہو۔
7 اب دس دن کے بعد ےُوں ہُوا کہ خداوند کا کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
8 اور اُس نے ےُوحنان ؔ بن قریح ؔ اور سب فوجی سرداروں کو جو اُسکے ساتھ تھے اور ادنیٰ واعلیٰ سب کو بلُایا ۔
9 اور اُن سے کہا کہ خداوند اِسراؔ ئیل کا خدا جسکے پاس تم نے مجھے بھیجا کہ میں اُسکے حُضور تمہاری درخواست پیش کروں یوں فرماتا ہے۔
10 اگر تم اِ س ملک میں ٹھہرے رہو گے تو میں تم کو برباد نہیں بلکہ آباد کرونگا اور اُکھاڑونگا نہیں بلکہ لگاؤ نگا کیونکہ میں اُس بدی سے جو میں نے تم سے کی ہے باز آیا۔
11 شاہِ بابلؔ سے جس سے تم ڈرتے ہو نہ ڈرو ۔ خدا فرماتا ہے اُس سے نہ ڈرو کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں کہ تم کو بچاؤں اور اُسکے ہاتھ سے چھڑاؤں ۔
12 اور میں تم پر رحم کُرونگا تاکہ وہ تم پر رحم کرے اور تم کو تمہارے ملک میں واپس جانے کی اجازت دے ۔
13 لیکن اگر تم کہو کہ ہم اِس ملک میں نہ رہینگے اور خداوند اپنے خدا کی بات نہ مانینگے ۔
14 اور کہو کہ نہیں ہم تو ملک مصرؔ میں جائینگے جہاں نہ لڑائی دیکھینگے نہ تُرہی کی آواز سُنینگے ۔نہ بھُوک سے روٹی کو ترسینگے اور ہم تو وہیں بسینگے ۔
15 تو اَے یہوداہؔ کے باقی لوگو خداوند کا کلام سُنو ! ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کاخدا ےُوں فرماتا ہے کہ اگر تم واقعی مصرؔ میں جا کر بسنے پر آمادہ ہو ۔
16 تو یوں ہو گا کہ تلوار جس سے تم ڈرتے ہو ملک مصرؔ میں تم کو جا لیگی اور وہ کال جس سے تم ہراسان ہو مصرؔ تک تمہارا پیچھا کریگا اور تم وہیں مرو گے ۔
17 بلکہ یوں ہوگا کہ وہ سب لوگ جو مصرؔ کا رُخ کرتے ہیں کہ وہاں جاکر رہیں تلوار اور کال اور وبا سے مرینگے ۔ اُن میں سے کوئی باقی نہ رہیگا اور نہ کوئی اُس بلا سے جو میں اُن پر نازل کُرونگا بچیگا ۔
18 کیونکہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ جس طرح میرا قہر وغضب یروشلیم کے باشندوں پر نازل ہوا اُسی طرح میرا قہر تم پر بھی جب تم مصرؔ میں داخل ہوگے نازل ہو گا اور تم لعنت وحیرت اور طعن وتشنیع کا باعث ہو گے اور اِس ملک کو تم پھر نہ دیکھو گے۔
19 اَے یہوداہؔ کے باقی ماندہ لوگو! خداوند نے تمہاری بابت فرمایا ہے کہ مصرؔ میں نہ جاؤ ۔یقین جانو کہ میں نے آج تم کو جتادیا ہے۔
20 فی الحقیقت تم نے اپنی جانوں کو فریب دیا ہے کیونکہ تم نے مجھ کو خداوند اپنے خدا کے حُضور یوں کہکر بھیجا کہ تو خداوند ہمارے خدا سے ہمارے لئے دُعا کر اور جو کچھ خداوند ہمارا خدا کہے ہم پر ظاہر کر اور ہم اُس پر عمل کرینگے ۔
21 اور میں نے آج تم پر یہ ظاہر کردیا ہے تو بھی تم نے خداوند اپنے خدا کی آواز کو یا کسی بات کو جسکے لئے اُس نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے نہیں مانا۔
22 اب تم یقین جانو کہ تم اُس ملک میں جہاں جانا اور رہنا چاہتے ہو تلوار اور کال اور وبا سے مرو گے۔


باب 43

1 اور یوں ہوا کہ جب یرمیاہؔ سب لوگوں سے وہ سب باتیں جو خداوند اُنکے خدا نے اُسکی معرفت فرمائی تھیں یعنی یہ سب باتیں کہہ چکا۔
2 تو عزریاہؔ بن ہوسعیاہؔ اور یوحنانؔ بن قریح ؔ اور سب معزور لوگوں نے یرمیاہؔ سے یوں کہا کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ خداوند ہمارے خدا نے تجھے یہ کہنے کو نہیں بھیجا کہ مصرؔ میں بسنے کو نہ جاؤ۔
3 بلکہ بارُوکؔ بن نیریاہؔ تجھے اُبھارتاہے کہ تو ہمارا مخالف ہو تاکہ ہم کسدیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوں اور وہ ہم کو قتل کریں اور اسیر کرکے بابلؔ کو لے جائیں ۔
4 پس یوحنانؔ بن قریح ؔ اور سب فوجی سرداروں اور سب لوگوں نے خداوند کا یہ حکم کہ وہ یہوداہ ؔ کے ملک میں رہیں نہ مانا ۔
5 پر ےُوحنان بن قریح ؔ اور سب فوجی سرداروں نے یہوداہؔ کے سب باقی لوگوں کو جو تمام قوموں میں سے جہاں جہاں وہ تتر بتر کئے گئے تھے اور یہوداہؔ کے ملک میں بسنے کو واپس آئے تھے ساتھ لیا ۔
6 یعنے مردوں اور عورتوں اور بچوں اور شاہزادیوں اور جس کسی کو جلو داروں کے سردار نبوزرودانؔ نے جدلیاہؔ بن اخیقام ؔ بن سافنؔ کے ساتھ چھوڑا تھا اور یرمیاہؔ نبی اور بارُوکؔ بن نیریاہؔ کو ساتھ لیا۔
7 اور وہ ملک مصرؔ میں آے کیونکہ اُنہوں نے خداوند کا حکم نہ مانا ۔ پس وہ تحفخیسؔ میں پہنچے۔
8 تب خداوند کاکلام تفخیسؔ میں یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
9 کہ بڑے پتھر اپنے ہاتھ میں لے اور اُنکو فرعون ؔ کے محل کے مدخل پر جو تفخیسؔ میں ہے بنی یہوداہؔ کی آنکھوں کے سامنے چونے سے فرش میں لگا۔
10 اور اُن سے کہہ کہ ربُّ الافواج اِسرؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اپنے خدمتگذار شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کو بلاؤنگا اور اِن پتھروں پر جنکو میں نے لگا یا ہے اُسکا تخت رکھونگا اور وہ اِن پر اپنا قالین بچھائیگا ۔
11 اور وہ آکر ملک مصرؔ کو شکست دیگا اور جو موت کے لئے ہیں موت کے جو اسیر ی کے لئے ہیں اسیری کے اور جو تلوار کے لئے ہیں تلوار کے حوالہ کریگا۔
12 اور میں مصرؔ کے بت خانوں میں آگ بھڑکا ونگا اور وہ اُنکو جلائیگا اور اسیر کرکے لے جا ئیگا اور جیسے چرواہا اپنا کپڑا لپیٹتا ہے ویسے ہی وہ زمین مصر ؔ کو لپیٹیگا اور وہاں سے سلامت چلا جا ئیگا ۔
13 اور وہ بیت شمسؔ کے ستونوں کو جو ملک مصرؔ میں ہیں توڑیگا اور مصریوں کے بت خانوں کو آگ سے جلا دیگا۔


باب 44

1 وہ کلام جو اُن سب یہودیوں کی بابت جو ملک مصرؔ میں مجدال ؔ کے علاقہ اور تفخیسؔ اور نوف اور فتروسؔ میں بسے تھے یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
2 کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم نے وہ تمام مُصیبت جو میں یروشلیم پر اور یہوداہؔ کے سب شہروں پر لایا ہوں دیکھی اور دیکھو اب وہ ویران اور غیر آباد ہیں ۔
3 اُس شرارت کے سبب سے جو اُنہوں نے مجھے غضبناک کرنے کو کی کیونکہ وہ غیر معبودوں کے آگے بخور جلانے کو گئے اور اُنکی عبادت کی جنکو نہ وہ جانتے تھے نہ تم نہ تمہارے باپ دادا ۔
4 اور میں نے اپنے تمام خدمتگذار نبیوں کو تمہارے پاس بھیجا ۔اُنکو بروقت یوں کہکر بھیجا کہ تم یہ نفرتی کام جس سے میں نفرت رکھتا ہوں نہ کرو۔
5 پر اُنہوں نے نہ سُنانہ کان لگایا کہ اپنی بُرائی سے باز آئیں اور غیر معبودوں کے آگے بخور نہ جلا ئیں ۔
6 اِسلئے میرا قہر وغضب نازل ہو ا اور یہوداہؔ کے شہروں اور یروشلیم کے بازاروں پر بھڑکا اور وہ خراب اور ویران ہوئے جیسے اب ہیں ۔
7 اور اب خداوند ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم کیوں اپنی جانوں سے اَیسی بڑی بدی کرتے ہو کہ یہوداہؔ میں سے مردوزن اور طفل وشیرخوار کاٹ ڈالے جائیں اور تمہارا کوئی باقی نہ رہے۔
8 کہ تم ملک مصرؔ میں جہاں تم بسنے کو گئے ہو اپنے اعمال سے اور غیر معبودوں کے آگے بخور جلا کر مجھ کو غضبناک کرتے ہو کہ نیست کئے جا ؤ اور رُویِ زمین کی سب قوموں کے درمیان لعنت وملامت کا باعث بنو؟ ۔
9 کیا تم اپنے باپ دادا کی شرارت اور یہوداہؔ کے بادشاہوں اور اُنکی بیویوں کی اور خود اپنی اور اپنی بیویوں کی شرارت جو تم نے یہوداہؔ کے ملک میں اور یروشلیم کے بازاروں میں کی بھول گئے ہو؟۔
10 وہ آج کے دن تک نہ فروتن ہوئے نہ ڈرئے اور میری شریعت وآئین پر جنکو میں تمہارے اور تمہارے باپ دادا کے سامنے رکھا نہ چلے ۔
11 اِسلئے ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں تمہارے خلاف زیا نکاری پر آمادہ ہونگا تاکہ تمام یہوداہؔ کو نیست کروں۔
12 اور میں یہوداہؔ کے باقی لوگوں کو جنہوں نے ملک مصرؔ کا رخ کیا ہے وہاں جا کر بسیں پکڑوُنگا اور وہ ملک مصرؔ ہی میں نابودُ ہونگے ۔وہ تلوار اور کال سے ہلاک ہونگے ۔ اُنکے ادنیٰ واعلیٰ نابود ہونگے وہ تلوار اور کال سے فنا ہو جائینگے اور لعنت وحیرت اور طعن وتشنیع کا باعث ہونگے ۔
13 اور میں اُنکو جو ملک مصرؔ میں بسنے کو جاتے ہیں اُسی طرح سزا دُونگا جس طرح میں نے یروشلیم کو تلوار اور کال اور وبا سے سزا دی ہے ۔
14 پس یہوداہؔ کے باقی لوگوں میں سے جو ملک مصرؔ میں بسنے کو جاتے ہیں نہ کو ئی بچیگا نہ باقی رہیگا کہ وہ یہوداہؔ کی سرزمین میں واپس آئیں جس میں آکر بسنے کے وہ مشتاق ہیں کیونکہ بھاگ کر بچ نکلنے والوں کے سوا کوئی واپس نہ آئیگا۔
15 تب سب مردوں نے جو جانتے تھے کہ اُنکی بیویوں نے غیر معبودوں کے لئے بخور جلایا ہے اور سب عورتوں نے جو پاس کھڑی تھیں ایک بڑی جماعت یعنی سب لوگوں نے جو ملک مصرؔ میں فتروس ؔ میں جابسے تھے یرمیاہؔ کو یوں جواب دیا۔
16 کہ یہ بات جو تو نے خداوند کا نام لیکر ہم سے کہی ہم کبھی نہ مانینگے ۔
17 بلکہ ہم تو اُسی بات پر عمل کرینگے جو ہم خود کہتے ہیں کہ ہم آسمان کی ملکہ کے لئے بخور جائینگے اور تپاون تپا ئینگے جس طرح ہم اور ہمارے باپ دادا ہمارے بادشاہ اور ہمارے سردار یہوداہؔ کے شہروں اور یروشلیم کے بازارو ں میں کیا کرتے تھے کیونکہ اُس وقت ہم خوب کھاتے پیتے اور خوشحال اور مصیبتوں سے محفوظ تھے۔
18 پر جب سے ہم نے آسمان کی ملکہ کے لئے بخورجلانا اور تپاون تپانا چھوڑ دیا تب سے ہم ہر چیز کے محتاج ہیں اور تلوار اور کال سے فنا ہو رہے ہیں۔
19 اور جب ہم آسمان کہ ملکہ کے لئے بخور جلاتی اور تپاون تپاتی تھیں تو کیا ہم نے اپنے شوہروں کے بغیر اُسکی عبادت کے لئے کُلچے پکائے اور تپاون تپائے تھے؟۔
20 تب یرمیاہؔ نے اُن سب مردوں اور عورتوں یعنی اُن سب لوگوں سے جنہوں نے اُسے جواب دیا تھا کہا۔
21 کیا وہ بخور جو تم نے اور تمہارے باپ دادا اور تمہارے بادشاہوں اور اُمرا نے رعیت کے ساتھ یہوداہؔ کے شہروں اور یروشلیم کے بازاروں میں جلایا خداوند کو یاد نہیں ؟ کیا وہ اُسکے خیال میں نہیں آیا؟
22 پس تمہارے بد اعمال اور نفرتی کاموں کے سبب سے خداوند برداشت نہ کرسکا ۔ اِسلئے تمہارا ملک ویران ہوا اور حیرت ولعنت کا باعث بنا جس میں کوئی بسنے والا نہ رہا جیسا کہ آج کے دن ہے۔
23 چونکہ تم نے بخور جلایا اور خداوند کے گنہگار ٹھہرے اور اُسکی شریعت نہ اُسکے آئین نہ اُسکی شہادتوں پر چلے اِسلئے یہ مصیبت جیسی کہ اب ہے تم پر آپڑی ۔
24 اور یرمیاہؔ نے سب لوگوں اور سب عورتوں سے یوں کہا کہ اَے تمام بنی یہوداہؔ جو ملک مصرؔ میں ہوا خداوند کا کلا م سُنو۔
25 ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم نے اور تمہاری بیویوں نے اپنی زبان سے کہا کہ آسمان کی ملکہ کے لئے بخور جلانے اور تپاون تپانے کی جو نذریں ہم نے مانی ہیں ضرور ادا کرینگے اور تم نے اپنے ہاتھوں سے ایسا ہی کیا ۔پس اب تم اپنی نذروں کو قائم رکھو اور ادا کرو۔
26 اِسلئے اَے تمام بنی یہوداہؔ جو ملک مصرؔ میں بستے ہو! خداوند کا کلام سُنو ۔ دیکھو خداوند فرماتا ہے میں نے اپنے بُزرگ نام کی قسم کھائی ہے کہ اب میرا نام یہوداہؔ کے لوگوں میں تمام ملک مصرؔ میں کسی کے منہ سے نہ نکلیگا کہ وہ کہے زندہ خداوند خدا کی قسم۔
27 دیکھو میں نیکی کے لئے نہیں بلکہ بدی کے لئے اُن پر نگران ہونگا اور یہوداہؔ کے سب لوگ جو ملک مصرؔ میں ہیں تلوار اور کال سے ہلاک ہونگے یہاں تک کہ بالکل نیست ہوجائینگے۔
28 اور وہ جو تلوار سے بچکر ملک مصرؔ سے یہوداہؔ کے ملک میں واپس آئینگے تھوڑے سے ہونگے اور یہوداہؔ کے تمام باقی لوگ جو ملک مصرؔ میں بسنے کو گئے جانینگے کہ کس کی بات قائم رہی ۔میری یا اُنکی ۔
29 اور تمہارے لئے یہ نشان ہے خداوند فرماتا ہے کہ میں اِسی جگہ تمکو سزا دُونگا تاکہ تم جانو کہ تمہارے خلاف میری باتیں مصیبت کی بابت یقیناًقائم رہینگی ۔
30 خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں شاہِ مصرؔ فرعون حُفرعؔ کو اُسکے مُخالفوں اور جانی دُشمنوں کے حوالہ کر دُونگا جس طرح میں نے شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کو شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کے حوالہ کر دیا جو اُسکا مُخالف اور جانی دُشمن تھا۔


باب 45

1 شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے چوتھے برس میں جب بارُوک بن نیریاہؔ یرمیاہؔ کی زبانی کلام کو کتاب میں لکھ رہا تھا تو یرمیاہؔ کی زبانی کلام کو کتاب میں لکھ رہا تھا تو یرمیاہ ؔ نے اُس سے کہا ۔
2 اَے بارُوکؔ خداوند اِسراؔ ئیل کا خدا تیری بابت یوں فرماتا ہے ۔
3 کہ تو نے کہا مجھ پر افسوس کہ خداوند نے میرے دُکھ درد پر غم بھی بڑھا دیا! میں کراہتے کراہتے تھک گیا اور مجھے آرام نہ ملا ۔
4 تو اُس سے یوں کہنا کہ خداوند فرماتا ہے دیکھ اِس تمام ملک میں جو کچھ میں نے بنایا گردُونگا اور جو کچھ میں نے لگایا اُکھاڑ پھینکو نگا ۔
5 اور کیا تو اپنے لئے اُمور عظیم کی تلاش میں ہے؟ اُنکی تلاش چھوڑ دے کیونکہ خداوند فرماتا ہے دیکھ میں تمام بشر پر بلا نازل کُرونگا لیکن جہاں کہیں تو جائے تیری جان تیرے لئے غنیمت ٹھہرؤنگا ۔


باب 46

1 خداوند کا کلام جو یرمیاہؔ نبی پر اقوام کی بابت نازل ہوا ۔
2 مصرؔ کی بابت :۔ شاہِ مصرؔ فرعونؔ نکوہ کی فوج کی بابت جو دریای فراتؔ کے کنارے پر کر کمیس ؔ میں تھی جسکو شاہِ بابلؔ نبو کدرؔ ضر نے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے چوتھے برس میں شکست دی۔
3 سپر اور ڈھال کو تیار کرو اور لڑائی پر چلے آؤ۔
4 گھوڑوں پر ساز لگاؤ ۔ اَے سوا رو!تم سوار ہو اور خود پہن کر نکلو ۔ نیزوں کو صیقل کرو ۔بکتر پہنو ۔
5 میں اُنکو گھبرائے ہوئے کیوں دیکھتا ہوں ؟ وہ پلٹ گئے ۔اُنکے بہادروں نے شکست کھائی ۔ وہ بھاگ نکلے اور پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے کیونکہ چاروں طرف خوف ہے خداوند فرماتا ہے۔
6 نہ سبکپا بھاگنے پائیگا نہ بہارد بچ نکلیگا ۔شمال میں دریای فراتؔ کے کنارے اُنہوں نے ٹھوکر کھائی اور گر پڑے ۔
7 یہ کون ہے جو دریای نیلؔ کی مانند بڑھا چلا آتا ہے جس کا پانی سیلاب کی مانند موجزن ہے؟۔
8 مصرؔ نیلؔ کی طرح اُٹھتا ہے اور اُسکا پانی سیلاب کی مانند موجزن ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں چڑھونگا اور زمین کو چھپا لُونگا ۔میں شہروں کو اور اُنکے باشندوں کو نیست کردنگا ۔
9 گھوڑے برانگیختہ ہوں۔ رتھ ہوا ہو جائیں اور کُوش وفوط ؔ کے بہادر جو سپر بردار ہیں اور لُودی جو کمان کشی اور تیرا ندازی میں ماہر ہیں نکلیں ۔
10 کیونکہ یہ خدا وند ربُّ الافواج کا دن یعنی اِنتقام کا زور ہے تاکہ وہ اپنے دُشمنوں سے اِنتقام لے ۔ پس تلوار کھا جائیگی اور سیر ہوگی اور اُنکے خون سے مست ہوگی کیونکہ خداوند ربُّ الافواج کے لئے شمالی سرزمین میں دریای فراتؔ کے کنارے ایک ذبیحہ ہے۔
11 اَے کنواری دُختر مصرؔ !جلعادؔ کو چڑھ جا اور بلسان لے۔ تو بے فائدہ طرح طرح کی دوائیں اِستعمال کرتی ہے۔تو شفا نہ پائیگی۔
12 قوموں نے تیری رُسوائی کا حال سُنا اور زمین تیرے نالہ سے معمور ہو گئی کیو نکہ بہادر ایک دوسرے سے ٹکرا کر باہم گرگئے ۔
13 وہ کلام جو خداوند نے یرمیاہؔ نبی کو شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کے آنے اور ملک مصرؔ کو شکست دینے کے بارے میں فرمایا ۔:۔
14 مصرؔ میں آشکارا کرو ۔مجدالؔ میں اِشتہار دوہاں نوفؔ اور تفخیسؔ میں منادی کرو ۔ کہو کہ اپنے آپکو تیار کر کیونکہ تلوار تیری چاروں طرف کھائے جاتی ہے۔
15 تیرے بہادر کیوں بھاگ گئے؟ وہ کھڑے نہ ر ہ سکے کیونکہ خداوند نے اُنکو گرادیا ۔
16 اُس نے بہتوں کو گمراہ کیا ۔ہاں وہ ایک دوسرے پر گر پڑے اور اُنہوں نے کہا اُٹھو ہم مہلک تلوار کے ظلم سے اپنے لوگوں میں اور اپنے وطن کو پھر جائیں ۔
17 وہ وہاں چلائے کہ شاہِ مصرؔ فرعون ؔ برباد ہوا ۔ اُس نے مُقرر ہ وقت کو گذر جانے دیا۔
18 وہ بادشاہ جسکا نام ربُّ الافواج ہے یوں فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم جیسا تبورؔ پہاڑوں میں اور جیسا کربلؔ سُمندر کے کنارے ہے ویسا ہی وہ آئیگا ۔
19 اَے بیٹی جو مصرؔ میں رہتی ہے ! اِسیر ی میں جانے کا سامان کر کیونکہ نوفؔ ویران اور بھسم ہوگا۔ اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہیگا ۔
20 مصرؔ نہایت خوبصورت بچھیا ہے لیکن شمال سے تباہی آتی ہے بلکہ آپہنچی ۔
21 اُسکے مزدُور سپاہی بھی اُسکے درمیان موٹے بچھڑوں کی مانند ہیں پر وہ بھی رُوگردان ہوئے ۔وہ اِکٹھے بھاگے۔ وہ کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ اُنکی ہلاکت کا دن اُن پر گیا ۔اُنکی سزا کا وقت آپہنچا ۔
22 وہ سانپ کی مانند چلچلائیگی کیونکہ وہ فوج لیکر چڑھائی کرینگے اور کلہاڑے لیکر لکڑ ہاروں کی مانند اُس پر چڑھ آئینگے ۔
23 وہ اُسکا جنگل کاٹ ڈالینگے ۔ اگرچہ وہ ایسا گھنا ہے کہ کوئی اُ س میں سے گذر نہیں سکتا خداوند فرماتا ہے کیونکہ وہ ٹڈیو ں سے زیادہ بلکہ بیشمار ہیں ۔
24 دُختر مصرؔ رُسوا ہو گی ۔وہ شمالی لوگوں کے حوالہ کی جائیگی ۔
25 ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا فرماتا ہے دیکھ میں آمون ؔ نوکو اور فرعون ؔ اور مصرؔ اور اُسکے معبودوں اور اُسکے بادشاہوں کو یعنی فرعون ؔ اور اُنکو جو اُس پر بھروسا رکھتے ہیں سزا دُونگا ۔
26 اور میں اُنکو اُنکے جانی دُشمنوں اور شاہِ بابلؔ نبورکدرؔ ضر اور اُسکے مُلازموں کے حوالہ کردُونگا لیکن اِسکے بعد وہ پھر اَیسی آباد ہوگی جیسی اگلے دِنوں میں تھی خداوند فرماتا ہے۔
27 لیکن اَے میرے خادم یعقوب ؔ ہراسان نہ ہوں اور اَے اِسراؔ ئیل گھبرانہ جا کیونکہ دیکھ میں تجھے دُور سے اور تیری اَولاد کو اُنکی اِسیری کی زمین سے رہائی دُونگا اور یعقوب واپس آئیگا اور آرام وراحت سے رہیگا اور کوئی اُسے نہ ڈرائیگا ۔
28 اَے میرے خادِم یعقوب ہراسان نہ ہو خداوند فرماتا ہے کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں ۔ اگرچہ میں اُن سب قوموں کو جن میں میں نے تجھے ہانک دیا نیست ونابودکروُ ں تو بھی میں تجھے نیست ونابود نہ کرونگا بلکہ مناسب تنبیہ کرونگا اور ہر گز بے سزا نہ چھوڑونگا ۔


باب 47

1 خداوند کا کلام جو یرمیاہؔ نبی پر فلستیوں کی بابت نازل ہوا اِس پیشتر کہ فرعون ؔ نے عزہؔ کو فتح کیا ۔
2 خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ شمال سے پانی چڑھینگے اور سیلاب کی طرح ہو نگے اور ملک پر اور سب پر جو اُس میں ہے شہر پر اور اُسکے باشندوں پر بہ نکلینگے ۔اُس وقت لوگ چلا ئینگے اور ملک کے سب باشندے نالہ کرینگے ۔
3 اُسکے طاقتور گھوڑوں کے سُموں کی ٹاپ کی آواز سے اُسکے رتھوں کے ریلے اور اُسکے پہیوں کی گڑگڑاہٹ سے باپ کمزوری کے باعث اپنے بچوں کی طرف لوٹ کر نہ دیکھینگے ۔
4 یہ اُس دن کے سبب سے ہوگا جو آتا ہے کہ سب فلستیوں کو غارت کرے اور صور ؔ اور صیداؔ سے ہر مددگار کو جو باقی رہ گیا ہے نیست کرے کیونکہ خداوند فلستیوں کو یعنی کفتورؔ کے جزیرہ کے باقی لوگوں کو غارت کریگا۔
5 غزہؔ پر چند لاپن آیا ہے۔ اسقلون ؔ اپنی وادی کے بقیہّ سمیت نیست کیا گیا ۔ تو کب تک اپنے آپ کو کاٹتا جائیگا ؟
6 اے خداوند کی تلوار تو کب تک نہ ٹھہر یگی ؟ تو چل اپنے غلا ف میں آرام لے اور ساکن ہو۔
7 وہ کیسے ٹھہر سکتی ہے جبکہ خداوند نے اسقلونؔ اور سُمندر کے ساحل کے خلاف اُسے حکم دیا ہے؟ اُس نے اُسے وہاں مُقرر کیا ہے ۔


باب 48

1 موآب ؔ کی بابت :۔ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ نبوؔ پر افسوس ! کہ وہ ویران ہوگیا ۔ قر یتائمؔ رُسوا ہوا اور لے لیا گیا مِسجاب ؔ خجل اور پست ہو گیا۔
2 اب موآبؔ کی تعریف نہ ہوگی ۔ حسبوُنؔ میں اُنہوں نے یہ کہکر اُسکے خلاف منصوبے باندھے ہیں کہ آؤ ہم اُسے نیست کریں کہ وہ قوم نہ کہلا ئے۔اَے مدمینؔ تو بھی کاٹ ڈالا جائیگا ۔ تلوار تیرا پیچھا کریگی ۔
3 حورونایم ؔ میں چیخ پُکار ۔ویرانی اور بڑی تباہی ہو گی ۔
4 موآبؔ برباد ہوا۔ اُسکے بچوں کے نوحہ کی آواز سُنائی دیتی ہے۔
5 کیونکہ لُوحیت ؔ کی چڑھائی پر آہ ونالہ کرتے ہوئے چڑھینگے ۔یقیناًحوروؔ نایم کی اُترائی پر مخالف ہلاکت کی سی آواز سُنتے ہیں ۔
6 بھاگو اپنی جان بچاؤ اور بیابان میں رتمہ کے درخت کی مانند ہو جاؤ۔
7 اور چونکہ تو نے اپنے کاموں اور خزانوں پر تکیہ کیا اِسلئے تو بھی گرفتار ہو گا اور کموسؔ اپنے کاہنوں اور اُمرا سمیت اِسیر ہو کر جائیگا ۔
8 اور غارتگر ہر ایک شہر پر آئیگا اور کوئی شہر نہ بچیگا ۔وادی بھی ویران ہوگی اور میدان اُجاڑ ہو جائیگا جیسا خداوند نے فرمایا ہے۔
9 موآبؔ کو پر لگا دو تاکہ اُڑ جائے کیونکہ اُسکے شہر اُجاڑ ہونگے اور اُن میں کوئی بسنے والا نہ ہو گا۔
10 جو خداوند کا کام بے پروائی سے کرتا ہے اور جو اپنی تلوار کو خو نریزی سے باز رکھتا ہے ملُعون ہو ۔
11 موآبؔ بچپن ہی سے آرام سے رہا ہے اور اُسکی تلچھٹ تہ نشین رہی ۔نہ وہ ایک برتن سے دوسرے میں اُنڈیلاگیا اور نہ اسیری میں گیا اِسلئے اُسکا مزہ اُس میں قائم ہے اور اُسکی بُو نہیں بدلی ۔
12 سو دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں اُنڈیلنے والوں کو اُسکے پاس بھیجوُ نگا کہ وہ اُسے اُلٹا ئیں اور اُسکے برتنوں کو خالی اور مٹکوں کو چکناچور کریں۔
13 تب موآبؔ کُموسؔ سے شرمندہ ہو گا جس طرح اِ سراؔ ئیل کا گھبرانا بیت ایلؔ سے جو اُسکا بھروسا تھا خجل ہوا۔
14 تم کیونکر کہتے ہو کہ ہم پہلوان ہیں اور جنگ کے لئے زبردست سُورما ہیں ؟۔
15 موآبؔ غارت ہوا۔ اُسکے شہروں کا دُھواں اُٹھ رہا ہے اور اُسکے چیدہ جوان قتل ہونے کو اُتر گئے ۔وہ بادشاہ فرماتا ہے جسکا نام ربُّ الافواج ہے ۔
16 نزدیک ہے کہ موآبؔ پر آفت آئے اور اُنکا وہاں دوڑاآتا ہے۔
17 اَے اُسکے اِردگرد والو سب اُس پر افسو س کرو اور تم سب جو اُسکے نام سے واقف ہو کہو کہ یہ موٹا عصا اور خوبصورت ڈنڈا کیونکر ٹوٹ گیا۔
18 اَے بیٹی جو دیبونؔ میں بستی ہے اپنی شوکت سے نیچے اُتر اور پیاسی بیٹھ کیونکہ موآبؔ کا غارتگر تجھ پر چڑھ آیا ہے اور اُس نے تیرے قلعوں کو توڑ ڈالا ۔
19 اَے عروعیر ؔ کی رہنے والی تو راہ پر کھڑی ہو اور نگاہ کر۔ بھاگنے والے سے اور اُس سے جو بچ نکلی ہو پُوچھ کہ کیا ماجرا ہے ؟
20 موآبؔ رُسوا ہوا کیونکہ وہ پست کردیا گیا ۔ تم واویلا مچاؤ اور چلاؤ ۔ ارنون ؔ میں اشتہار دو کہ موآب ؔ غارت ہو گیا ۔
21 اور کہ صحرا کی اطراف پر حولُون پر اور یہصا ہؔ پر اور مفعتؔ پر ۔
22 اور دیبونؔ پر اور نبوُپر ؔ اور بیت دِبلتاؔ یم پر ۔
23 اور قریتایم ؔ پر اور بیت جموُلؔ پر اور بیت معون ؔ پر ۔
24 اور قریوتؔ پر اور بُصرؔ اہ اور ملک موآبؔ کے دُور ونزدیک کے سب شہروں پر عذاب نازل ہوا ہے ۔
25 موآبؔ کا سینگ کا ٹا گیا اور اُسکا بازو توڑا گیا خداوند فرماتا ہے ۔
26 تم اُسکو مدہوش کرو کیونکہ اُس نے اپنے آپکو خداوند کے مقابل بلند کیا۔ موآب ؔ اپنی قے میں لوٹیگا اور مسخرہ بنیگا ۔
27 کیا اِسراؔ ئیل تیرے آگے مسخرہ نہ تھا ؟ کیا وہ چوروں کے درمیان پایا گیا کہ جب کبھی تو اُسکا نام لیتا تھا تو مصرؔ ہلاتا تھا؟ ۔
28 اَے موآب ؔ کے باشندو شہروں کو چھوڑدو اور چٹان پر جا بسو او رکبوتر کی مانند بنو جو گہرے غار کے منہ کے کنارے پر آشیانہ بناتا ہے ۔
29 ہم نے موآب ؔ کا تکبر سُنا ہے۔ وہ نہایت مغرور ہے ۔ اُسکی گستاخی بھی اور اُسکی شیخی اور اُسکا گھمنڈ اور اُسکے دِل کا تکبر ۔
30 میں اُسکا قہر جانتا ہوں خداوند فرماتا ہے۔ وہ کچھ نہیں اور اُسکی شیخی سے کچھ بن نہ پڑا۔
31 اِسلئے میں موآبؔ کے لئے واوَیلا کرونگا۔ہاں سارے موآب ؔ کے لئے میں زار زار رو ؤنگا ۔قیرحرسؔ کے لوگوں کے لئے ماتم کیا جا ئیگا ۔
32 اَے سبماہؔ کی تاک میں یغریرؔ کے رونے سے زیادہ تیرے لئے روؤنگا ،تیری شاخیں سُمندر تک پھیل گئیں ۔وہ یغریرؔ کے سُمندر تک پہنچ گئیں ۔غا رتگر تیرے تا بستانی میوؤں پر اور تیرے انگوروں پر آپڑ ا ہے ۔
33 خوشی اور شادمانی ہرے بھرے کھیتوں سے موآبؔ کے ملک سے اُٹھائی گئی اور میں نے انگور کے حوض میں مے باقی نہیں چھوڑی ۔اب کوئی للکار کر ۔نہ لتاڑ یگا ۔اُنکا للکا رنا للکارنا نہ ہو گا۔
34 حسبونؔ کے رونے سے وہ اپنی آواز کو الیعالہؔ اور یہضؔ تک اور صنغرؔ سے حوروناؔ یم تک ۔عجلت شلیشیاہؔ تک بلند کرتے ہیں کیونکہ نمریمؔ کے چشمے بھی خراب ہوگئے ہیں ۔
35 اور خداوند فرماتا ہے کہ جو کوئی اُونچے مقام پر قربانی چڑھاتا ہے اور جو کوئی اپنے معبودوں کے آگے بخور جلاتا ہے موآب میں سے نیست کردونگا ۔
36 پس میرا دل موآب ؔ کے لئے بانسری کی مانند آہیں بھرتا اور قیر حرسؔ کے لوگوں کے لئے شہناؤں کی طرح فغان کرتا ہے کیونکہ اُسکا فراوان ذخیرہ تلف ہوگیا ۔
37 فی الحقیقت ہر ایک سر منڈا ہے اور ہر ایک داڑھی کتری گئی ہے ۔ ہر ایک کے ہاتھ پر زخم ہے اور ہر ایک کی کمر پر ٹاٹ ۔
38 موآبؔ کے سب گھروں کی چھتوں پر اور اُسکے سب بازاروں میں بڑا ماتم ہو گا کیونکہ میں نے موآب ؔ کو اُس کو اُس برتن کی مانند جو پسند نہ آئے توڑا ہے خداوند فرماتا ہے ۔
39 وہ واویلا کرینگے اور کہینگے کہ اُس نے کیسی شکست کھائی ! موآب سب اِرد گرد والوں کے لئے ہنسی اور خوف کا باعث ہوگا ۔
40 کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ وہ عقاب کی مانند اُڑ یگا اور موآب کے خلاف بازو پھیلا ئیگا ۔
41 وہاں کے شہر اور قلعے لے لئے جا ئینگے اور اُس دن موآبؔ کے بہادروں کے دِل زچہ کے دل کی طرح ہونگے۔
42 اور موآبؔ ہلاک کیا جائیگا اور قوم نہ کہلائیگا ۔ اِسلئے کہ اُس نے خداوند کے مقابل اپنے آپکو بلند کیا ۔
43 خوف اور گڑھا اور دام تجھ پر مسلط ہونگے اَے ساکن موآبؔ خداوند فرماتا ہے۔
44 جو کوئی دہشت سے بھاگے گڑھے میں گریگا اور جو گڑھے سے نکلے دام میں پھنسیگا کیونکہ میں اُ ن پر ہاں موآبؔ پر اُنکی سیاست کا برس لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔
45 جو بھاگے سوحسبونؔ سے آگ اور سیحون ؔ کے وسط سے ایک شعلہ نکلیگا اور موآب ؔ کی داڑھی کے کونے کو اور ہر ایک فسادی کی چاند کو کھا جائیگا۔
46 ہائے تجھ پر اَے موآبؔ ! کموس ؔ کے ہلاک ہوئے کیونکہ تیرے بیٹوں کو اسیر کرکے لے گئے اور تیری بیٹیا ں بھی اسیر ہوئیں۔
47 باوُجود اِسکے میں آخری دنوں میں موآبؔ کے اسیروں کو واپس لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔موآب ؔ کی عدالت یہاں تک ہوئی۔


باب 49

1 بنی عمون کی بابت :۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ کیا اِسراؔ ئیل کے بیٹے نہیں ہیں ؟ کیا اُسکا کوئی وارث نہیں ؟ پھر ملکومؔ نے کیوں جدؔ پر قبضہ کر لیا اور اُسکے لوگ اُسکے شہروں میں کیوں بستے ہیں ؟ ۔
2 اِسلئے دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں بنی عُموّن کے ربہّؔ میں لڑائی کا ہلڑبر پاکر ونگا اور وہ کھنڈ ہو جائیگا اور اُسکی بیٹیا ں آگ سے جلائی جائینگی ۔ تب اِسراؔ ئیل اُنکا جو اُسکے وارث بن بیٹھے تھے وارث ہو گا خداوند فرماتا ہے ۔
3 اَے حسبونؔ واویلا کر کہ عیؔ برباد کی گئی ۔اَے ربّہؔ کی بیٹیو چلاؤ اور ٹاٹ اوڑھکر ماتم کرو اور اِحا طوں میں اِدھر اُدھر دوڑو کیونکہ ملکومؔ اسیری میں جائیگا اور اُسکے کاہن اور اُمرا بھی ساتھ جائینگے ۔
4 تیری وادی سیراب ہے۔ اَے برگشتہ بیٹی تو اپنے خزانوں پر تکیہ کرتی ہے کہ کون مجھ تک آسکتا ہے؟۔
5 دیکھ خداوند ربُّ الافواج فرماتا ہے میں تیرے سب اِردگردوالوں کا خوف تجھ پر غالب کرونگا اور تم میں سے ہر ایک آگے ہانکا جائیگا اور کوئی نہ ہوگا جو آوارہ پھرنے والوں کو جمع کرے ۔
6 مگر اُسکے بعد میں بنی عمون کو اسیری سے واپس لاؤنگاخداوند فرماتا ہے۔
7 ادومؔ کی بابت :۔ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ کیا تیمانؔ میں خرو مُطلق نہ رہی ؟ کیا عاقلوں کی مصلحت جاتی رہی ؟ کیا اُنکی عقل اُڑ گئی ؟۔
8 اَے ددانؔ کے باشندو بھاگو ۔لوٹو اور نشیبوں میں جا بسو کیونکہ میں اِنتقام کے وقت اُس پر عیسو ؔ کی سی مصیبت لاؤنگا ۔
9 اگر انگور توڑنے والے تیرے پاس آئیں تو کیا وہ حسب خواہش ہی نہ توڑ ینگے ؟۔
10 پر میں عیسو کو بالکل ننگا کرونگا۔ اُسکے پوشیدہ مکانوں کو بے پردہ کردونگا کہ وہ چھپ نہ سکے ۔اُسکی نسل اور اُسکے بھائی اور اُسکے پڑوسی اب نیست کئے جائینگے اور وہ نہ رہیگا ۔
11 تو اپنے یتیم فرزندوں کو چھوڑ ۔میں اُنکو زندہ رکھونگا اور تیری بیوائیں مجھ پر توکل کریں ۔
12 کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ جو سزا وار نہ تھے کہ پیالہ پئیں اُنہوں نے خوب پیا ۔ کیا تو بے سزا چھوٹ جائیگا؟ تو بے سزا نہ چھوٹیگا بلکہ یقیناًاُس میں سے پئیگا۔
13 کیونکہ میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ خداوند فرماتا ہے کہ بُصراہؔ جایِ حیرت اور ملامت اور ویرانی اور لعنت ہو گا اور اُسکے سب شہر ابد الاآباد ویران رہینگے۔
14 میں نے خداوند سے ایک خبر سُنی ہے بلکہ ایک ایلچی یہ کہنے کو قوموں کے درمیان بھیجا گیا ہے کہ جمع ہو اور اُس پر جا پڑو اور لڑائی کے لئے اُٹھو۔
15 کیونکہ دیکھ میں نے تجھے قوموں کے درمیان حقیر اور آدمیوں کے درمیان ذلیل کیا۔
16 تیری ہیبت اور تیرے دل کے غرور نے تجھے فریب دیا ہے ۔اَے تو جو چٹانوں کے شگافوں میں رہتی ہے پہاڑوں کی چوٹیوں پر قابض ہے اگرچہ تو عقاب کی طرح اپنا آشیانہ بلند ی پر بنائے تو بھی میں وہاں سے تجھے نیچے اُتا ر ونگا خداوند فرماتا ہے ۔
17 اور ادُومؔ بھی جایِ حیرت ہوگا ۔ ہر ایک جو اُدھر سے گُذریگا حیران ہو گا اور اُسکی سب آفتوں کے سبب سے سسُکا ریگا ۔
18 جس طرح سُدوم ؔ اور عمورہؔ اور اُنکے آس پاس کے شہر غارت ہوگئے اُسی طرح اُس میں بھی نہ کوئی آدمی بسیگا نہ آدمزادوہاں سکونت کریگا خداوند فرماتا ہے۔
19 دیکھ وہ شیر ببر کی طرح یرونؔ کے جنگل سے نکلکر محکم بستی پر چڑھ آئیگا پر میں اچانک اُسکو وہاں سے بھگا دُونگا اور پنے برگزیدہ کو اُس پر مُقرر کرونگا کیونکہ مجھ سا کون ہے؟ کون ہے جومیرے لئے وقت مُقرر کرے ؟ اور وہ چرواہا کون ہے جو میرے مقابل کھڑا ہوسکے؟۔
20 پس خداوند کی مصلحت کو جو اُس ادومؔ کے خلاف ٹھہرائی ہے اور اُسکے اِرادہ کو جو اُس نے تیمانؔ کے باشندوں کے خلاف کیا ہے سنو ۔اُنکے گلہ کے سب سے چھوٹوں کو بھی گھسیٹ لے جائینگے ۔یقیناًاُنکا مسکن بھی اُنکے ساتھ برباد ہوگا ۔
21 اُنکے گرنے کی آواز سے زمین کانپ جائیگی ۔اُنکے چلانے کا شور بحر قلزم تک سُنائی دیگا۔
22 دیکھ وہ چڑھ آئیگا اور اُس دن ادُوم ؔ کے بہادروں کا دل زچہ کے دل کی مانند ہوگا۔
23 دمشق کی بابت:۔حمایت اور اِرفاد ؔ شرمندہ ہیں کیونکہ اُنہوں نے بُری خبر سُنی ۔ وہ پگھل گئے ۔سمندر نے جنبش کھائی۔وہ ٹھہر نہیں سکتا ۔
24 دمشق کا زور ٹوٹ گیا ۔اُس نے بھاگنے کے لئے منہ پھیرا اور تھرتھر اہٹ نے اُسے آلیا ۔ زچہ کے سے رنج ودرد نے اُسے آپکڑا ۔
25 یہ کیونکر ہوا کہ وہ نامور شہر میرا شادمان شہر نہیں بچا؟۔
26 سو اُسکے جوان اُسکے بازاروں میں گرجائینگے اور سب جنگی مرد اُس دن کاٹ ڈالے جائینگے ربُّ الافواج فرماتا ہے ۔
27 اور میں دمشق کی شہر پناہ میں آگ بھڑکا ؤنگا جو بن ہددؔ کے محلّوں کو بھسم کردیگی ۔
28 قیدارؔ کی بابت اور حُضور کی سلطنتوں کی بابت جنکو شاہِ بابلؔ نبوکدرضرؔ نے شکست دی:۔خداوند یوں فرماتا ہے کہ اُٹھو قیدارؔ پر چڑھائی کرو اور اہل مشرق کو ہلاک کرو۔
29 وہ اُنکے خیموں اور گلوں کو لے لینگے ۔اُنکے پردوں اور برتنوں اور اُونٹوں کو چھین کے جائینگے اور وہ چلا کر اُن سے کہینگے کہ چاروں طرف خوف ہے۔
30 بھاگو دور نکل جاؤ ۔نشیب میں بسو اَے حضور کے باشند و خداوند فرماتا ہے کیونکہ شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر نے تمہاری مخالفت میں مشورت کی اور تمہارے خلاف اِرادہ کیا ہے۔
31 خداوند فرماتا ہے اُٹھو۔اُس آسودہ قوم پر جو بے فکر رہتی ہے جسکے نہ کواڑے ہیں نہ اڑبنگے اور اکیلی ہے چڑھائی کرو ۔
32 اور اُنکے اُونٹ غنیمت کے لئے ہونگے اور اُنکے چوپایوں کی کثرت لُوٹ کے لئے اور میں اُن لوگوں کو جو گاودم داڑھی رکھتے ہیں ہر طرف ہوا میں پراگندہ کرونگا اور میں اُن پر ہر طرف سے آفت لاؤنگا خداوند فرماتا ہے ۔
33 اور حضور گیڈروں کا مقام ہمیشہ کا ویرانہ ہوگا ۔نہ کوئی آدمی وہاں بسیگا اور نہ کوئی آدمزاد اُس میں سکونت کریگا ۔
34 خداوند کاکلام جو شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کی سلطنت کے شروع میں عیلام ؔ کی بابت یرمیاہؔ نبی پر نازل ہوا۔
35 کہ ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں عیلام ؔ کی کمان اُنکی بڑی توانائی کو توڑ ڈالونگا ۔
36 اور چاروں ہواؤں کو آسمان کونوں سے عیلام ؔ لاؤنگا اور اُن چاروں ہواؤں کی طرف اُنکو پرگندہ کرونگا اور کوئی ایسی قوم نہ ہو گی جس تک عیلامؔ کے جلاوطن نہ پہنچینگے۔
37 کیو نکہ میں عیلام ؔ کو اُنکے مُخالفوں اور جانی دُشمنوں کے آگے ہراسان کرونگا اور اُن پر ایک بلا یعنی قہر شدید کو نازل کرونگا خداوند فرماتا ہے اور تلوار کو اُنکے پیچھے لگادو نگا یہاں تک کہ اُنکو نابود کر ڈالونگا۔
38 اور میں اپنا تخت عیلامؔ میں رکھونگا اور وہاں سے بادشاہ اور اُمرا کو نابود کرونگا خداوند فرماتا ہے ۔(
39 پر آخری دِنوں میں یوں ہوگا کہ میں عیلام ؔ کو اسیری سے واپس لاؤنگا خداوند فرماتا ہے۔


باب 50

1 وہ کلام جو خداوند نے بابلؔ اور کسدیوں کے ملک کی بابت یرمیاہؔ نبی کی معرفت فرمایا :۔
2 قوموں میں اِعلان کرو اور اِشتہار دو اور جھنڈ ا کھڑا کرو ۔منادی کرو ۔پوشیدہ نہ رکھو ۔کہدو کہ بابلؔ لے لیا گیا ۔بیل ؔ رُسوا ہُوا ۔مرودکؔ سراسمیہ ہوگیا ۔اُسکے بُت خجل ہُوئے ۔اُسکی مُورتیں توڑی گئیں ۔
3 کیونکہ شمال سے ایک قوم اُس پر چڑھی چلی آتی ہے جو اُسکی سرزمین کو اُجاڑدیگی یہاں تک کہ اُس میں کو ئی نہ رہیگا ۔وہ بھاگ نکلے ۔وہ چلدئے کیا اِنسان کیا حیوان ۔
4 خداوند فرماتا ہے اُن دِنوں میں بلکہ اُسی وقت بنی اِسراؔ ئیل آئینگے ۔وہ اور بنی یہوداہ اِکٹھے روتے ہُوئے چلینگے اور خداوند اپنے خدا کے طالب ہونگے ۔
5 وہ صُّیون ؔ کی طرف مُتوجہّ ہو کر اُسکی راہ پُوچھینگے کہ آؤ ہم خداوند سے ملکر اُس ابدی عہد کریں جو کبھی فراموش نہ ہو۔
6 میرے لوگ بھٹکی ہُوئی بھیڑوں کی مانند ہیں ۔اُنکے چرواہوں نے اُنکو گمراہ کر دیا ۔اُنہوں نے اُنکو پہاڑوں پر لے جاکر چھوڑ دیا ۔وہ پہاڑوں سے ٹیلوں پر گئے اور اپنے آرام کا مکان بھول گئے ہیں ۔
7 سب جنہوں نے اُنکو پایا اُنکو نگل گئے اور اُنکے دُشمنوں نے کہا ہم قصور وار نہیں ہیں کیونکہ اُنہوں نے خداوند کا گناہ کیا ہے ۔وہ خداوند جو مسکن صداقت اور اُنکے باپ دادا کی اُمید گا ہ ہے ۔
8 بابلؔ میں سے بھاگو اور کسدیوں کی سر زمین سے نکلو اور اُن بکروں کی مانند ہو جو گلوں کے آگے آگے چلتے ہیں ۔
9 کیو نکہ دیکھ میں شمال کی سر زمین سے بڑی قوموں کے انبوہ کو برپاکرونگا اور بابلؔ پر چڑھالاؤنگا اور وہ اُسکے مُقابل صف آرا ہونگے ۔وہاں سے اُس پر قبضہ کر لینگے ۔اُنکے تیر کا ر آزمُودہ بہادر کے سے ہو نگے جو خالی ہاتھ نہیں لوٹتا ۔
10 کسدستان لُوٹا جائیگا اُسے لُوٹنے والے سب آسودہ ہو نگے خداوند فرماتا ہے ۔
11 اَے میری میراث کو لُوٹنے والو چونکہ تم شادمان اور خوش ہو اور داؤد نے والی بچھیا کی مانند کُودتے پھاندتے اور طاقتور گھوڑوں کی مانند ہنہناتے ہو۔
12 اِسلئے تمہاری ماں نہایت شرمندہ ہوگی ۔تمہاری والد ہ خجالت اُٹھائیگی ۔دیکھو وہ قوموں میں سب سے آخری ٹھہر یگی اور بیابان وخشک زمین اور ریگستان ہوگی ۔
13 خداوند کے قہر کے سبب سے وہ آباد نہ ہوگی بلکہ بالکل ویران ہو جائیگی ۔جو کوئی بابلؔ سے گذریگا حیران ہوگا اور اُسکی سب آفتوں کے باعث سُسکاریگا۔
14 اَے سب تیر اندازو! بابلؔ کو گھیر کر اُسکے خلاف صف آرائی کرو۔ اُس پر تیر چلاؤ ۔تیروں کا دریغ نہ کرو کیونکہ اُس نے خداوند کا گناہ کیا ہے؟۔
15 اُسے گھیر کر تم اُس پر للکار ۔اُس نے اطاعت منظور کر لی ۔اُسکی بُنیادیں دھس گئیں ۔اُسکی دیواریں گرگئیں کیونکہ یہ خداوندکا اِنتقام ہے ۔اُس سے اِنتقام لو۔جیسا اُس نے کیا ویسا ہی تم اس سے کرو ۔
16 بابلؔ میں ہر ایک بونے والے کو اور اُسے جو دِرَد کے وقت درانتی پکڑے کاٹ ڈالو ۔ ظالم کی تلوار کے ہیبت سے ہر ایک اپنے لوگوں میں جاملیگا اور ہر ایک اپنے وطن کو بھا گ جائیگا ۔
17 اِسراؔ ئیل پراگندہ بھیڑوں کی مانند ہے۔شیروں نے اُسے رگیدا ہے ۔پہلے شاہِ اسُور نے اُسے کھا لیا اور پھر یہ شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر اُسکی ہڈیوں تک چبا گیا۔
18 اِسلئے ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں شاہِ بابلؔ اوراُسکے ملک کو سزادونگا جس طرح میں نے شاہِ اُسورؔ کو سزا دی ہے ۔
19 لیکن میں اِسراؔ ئیل کو پھر اُسکے مسکن میں لاؤنگا اور وہ کربلؔ اور بسن ؔ میں چریگا اور اُسکی جان کوہِ افرائیمؔ اور جلعادؔ پر آسُودہ ہو گی ۔
20 خداوند فرماتا ہے اُن دِنوں میں اور اُسی وقت اِسراؔ ئیل کی بدی کرداری ڈھونڈ ے نہ ملیگی اور یہوداہؔ کے گناہوں کا پتہ نہ ملیگا کیونکہ جنکو میں باقی رکھو نگا اُنکو معاف کرونگا
21 مراتایمؔ کی سر زمین پر اور فقودؔ کے باشندوں پر چڑھائی کر ۔اُسے ویران کر اور اُنکو بالکل نابودکر خداوند فرماتا ہے جو کچھ میں نے تجھے فرمایا ہے اُس سب کے مطابق عمل کر ۔
22 ملک میں لڑائی اور بڑی ہلاکت کی آواز ہے ۔
23 تمام دُنیا کا ہتھوڑا کیونکر کاٹا اور توڑا گیا! بابلؔ قوموں کے درمیان کیسا جایِ حیرت ہوا!۔
24 میں نے تیرے لئے پھندا لگا یا اور اَے بابلؔ تو پکڑا گیا اور تجھے خبر نہ تھی ۔تیرا پتہ ملا اور تو گرفتا ر ہوگیا کیونکہ تو نے خداوند سے لڑائی کی ہے ۔
25 خداوند نے اپنا سلاخ خانہ کھولا اور اپنے قہر کے ہتھیاروں کو نکالا ہے کیونکہ کسدیوں کی سر زمین میں خداوند ربُّ الافواج کو کچھ کرنا ہے ۔
26 سرے سے شروع کرکے اُس پر چڑھو اور اُسکے انبار خانوں کو کھولو ۔اُسکو کھنڈر کر ڈالو اور اُسکو نیست کرو ۔اُسکی کوئی چیز باقی نہ چھوڑو ۔
27 اُسکے سب بیلوں کو ذبح کرو ۔اُنکو مسلخ میں جانے دو۔ اُن پر افسوس ! کہ اُنکا دن آگیا ۔اُنکی سزا کا وقت آپہنچا ۔
28 سرزمین بابلؔ سے فراریوں کی آواز ! وہ بھاگتے اور صیون میں خداوند ہمارے خدا کے اِنتقام یعنی اُسکی ہیکل کے اِنتقام کا اِعلان کرتے ہیں ۔
29 تیر اندازوں کو بُلا کر اکٹھا کرو کہ بابلؔ پر جائیں ۔سب کمانداروں کو ہر طرف سے اُسکے مُقابل خیمہ زن کرو۔وہاں سے بچ نہ نکلے ۔اُسکے کام کے موافق اُسکو بدلہ دو ۔سب کچھ جو اُس نے کیا اُس سے کرو کیونکہ اُس نے خداوند اِسراؔ ئیل کے قُدُّوس کے حضور بہت تکبرُّ کیا۔
30 اِسلئے اُسکے جوان بازاروں میں گرجائینگے اور سب جنگی مرد اُس دن کاٹ ڈالے جائینگے خداوند فرماتا ہے۔
31 اَے مغرور دیکھ میں تیرا مخالف ہوں خداوند ربُّ الافواج فرماتا ہے کیونکہ تیرا وقت آپہنچا ہاں وہ وقت جب میں تجھے سزادوُں۔
32 اوروہ گھمنڈی ٹھو کر کھائیگا ۔ وہ گریگا اور کوئی اُسے نہ اُٹھا ئیگا اور میں اُسکے شہروں میں آگ بھڑکاؤنگا اور وہ اُسکی تمام نواحی کو بھسم کردیگی ۔
33 ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ بنی اِسراؔ ئیل اور بنی یہوداہؔ دونوں مظلوم ہیں اور اُنکو اسیر کرنے والے اُنکو قید میں رکھتے ہیں اور چھوڑنے سے اِنکار کرتے ہیں ۔
34 اُنکا چھڑانے والا زور آور ہے۔ ربُّ الافواج اُسکا نام ہے ۔ وہ اُنکی پوری حمایت کریگا تاکہ زمین کو راحت بخشے اور بابلؔ کے باشندوں کو پریشان کرے۔
35 خداوند فرماتا ہے کہ تلوار کسدیوں پر اور بابل ؔ کے باشندوں پر اور اُسکے اُمر ا اور حکمار پر ہے
36 لافزنوں پر تلوار ہے۔وہ بیوقوف ہو جائینگے۔اُسکے بہادروں پر تلوار ہے ۔وہ ڈر جائینگے۔
37 اُسکے گھوڑوں اور رتھوں اور سب ملے جلے لوگو ں پر جو اُس میں ہیں تلوار ہے ۔ وہ عورتوں کی مانند ہو نگے ۔اُسکے خزانوں پر تلوار ہے ۔وہ لوٹے جائینگے۔
38 اُسکی نہروں پر خشک سالی ہے ۔ وہ سُوکھ جائینگی کیونکہ وہ تراشی ہُوئی مُورتوں کی مملکت ہے اور وہ بتوں پر شفیتہ ہیں ۔
39 اِسلئے دشتی درندے گیدڑوں کے ساتھ وہاں بسینگے اور شتر مُرغ اُس میں بسیرا کرینگے اور وہ پھر ابد تک آباد نہ ہوگی ۔پُشت درپُشت کوئی اُس میں سُکونت نہ کریگا ۔
40 جس طرح خدا نے سُدوم ؔ اور عمُورہؔ اور اُنکے آس پاس کے شہروں کو اُلٹ دیا خداوند فرماتا ہے اُسی طرح کوئی آدمی وہاں نہ بسیگا نہ آدمزاد اُس میں رہیگا ۔
41 دیکھ شمالی ملک سے ایک گروہ آتی ہے اور اِنتہایِ زمین سے ایک بڑی قوم اوربہت سے بادشاہ برانگیختہ کئے جائینگے ۔
42 وہ تیر انداز ونیزہ باز ہیں وہ سنگدل وبیرحم ہیں ۔اُنکے نعروں کی صداسُمندر کی سی ہے ۔وہ گھوڑوں پر سوار ہیں ۔اَے دُختر بابلؔ وہ جنگی مردوں کی مانند تیرے مُقابل صف آرائی کرتے ہیں ۔
43 شاہِ بابلؔ نے اُنکی شہرت سُنی ہے ۔اُسکے ہاتھ ڈھیلے ہوگئے ۔وہ زچہّ کی مانند مُصیبت اور درد میں گرفتار ہے ۔
44 دیکھ وہ شیر ببر کی طرح یردنؔ کے جنگل سے نکلکر محکم بستی پر چڑھ آئیگا پر میں اچانک اُسکو وہاں سے بھگا دُونگا اور اپنے برگزیدہ کو اُس پر مُقررکرونگا کیونکہ مجھ سا کون ہے؟ کون ہے جو میرے لئے وقت مُقر ر کرے ؟ اور وہ چرواہا کون ہے جو میرے مُقابل کھڑا ہوسکے ؟۔
45 پس خداوند کی مصلحت کو جو اُس نے بابلؔ کے خلاف ٹھہرائی ہے اور اُسکے اِرادہ کو جو اُس نے کسدیوں کی سر زمین کے خلاف کیا ہے سُنو ۔ یقیناًاُنکا مسکن بھی اُنکے ساتھ بر باد ہوگا۔
46 بابلؔ کی شکست کے شور سے زمین کاپنتی ہے اور فریاد کو قوموں نے سُنا ہے۔


باب 51

1 خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں بابلؔ پر اور اُس مخالف دارُلسّلطنت کے رہنے والوں پر ایک مہلک ہوا چلا ؤنگا ۔
2 اور میں اُسانے والوں کو بابلؔ میں بھیجونگا کہ اُسے اُسائیں اور اُسکی سرزمین کو خالی کریں ۔یقیناًاُسکی مُصیبت کے دن وہ اُسکے دُشمن بنکر اُسے چاروں طرف سے گھیر لینگے ۔
3 اُسکے کمانداروں اور زرہ پوشوں پر تیر اندازی کرو ۔تم اُسکے جوانوں پر رحم نہ کرو ۔اُسکے تمام لشکر کو بالکل ہلاک کرو۔
4 مقتول کسدیوں کی سرزمین میں گرینگے اور چھدے ہوئے اُسکے بازاروں میں پڑے رہینگے ۔
5 کیونکہ اِسراؔ ئیل اور یہوداہؔ کو اُنکے خدا ربُّ الافواج نے ترک نہیں کیا اگرچہ اِن کا ملک اِسراؔ ئیل کے قُدُّوس کی نافرنبرداری سے پُر ہے ۔
6 بابلؔ سے نکل بھاگو اور ہر ایک اپنی جان بچا ئے ۔اُسکی بد کرداری کی سزا میں شریک ہو کر ہلاک نہ ہو کیونکہ یہ خداوند کے اِنتقام کا وقت ہے ۔وہ اُسے بدلہ دیتا ہے ۔
7 بابلؔ خداوند کے ہاتھ میں سونے کا پیالہ تھا جس نے ساری دُنیا کو متوالا کیا ۔قوموں نے اُسکی مے پی اِسلئے وہ دیوانہ ہیں ۔
8 بابلؔ یکایک گرگیا اور غارت ہوا ۔ اُس پر واویلا کرو ۔اُسکے زخم کے لئے بلسان لو شاید وہ شفا پائے ۔
9 ہم تو بابلؔ کی شفا یابی چاہتے تھے پر وہ شفا یاب نہ ہوا ۔تم اُسکو چھوڑو ۔آؤ ہم سب اپنے اپنے وطن کو چلے جائیں کیونکہ اُسکی سزا آسمان تک پہنچی اور افلاک تک بلند ہوئی ۔
10 خداوند نے ہماری راستبازی کو آشکارا کیا ۔آؤ ہم صِےُّون میں خداوند اپنے خدا کے کام کا بیان کریں ۔
11 تیروں کو صیقل کرو ۔سپروں کو تیار رکھو ۔خداوند نے مادیوں کے بادشاہوں کی رُوح کو اُبھارا ہے کیونکہ اُس کا اِرادہ بابلؔ کو نیست کرنے کا ہے کیونکہ یہ خداوند کا یعنی اُسکی ہیکل کا اِنتقام ہے ۔
12 بابلؔ کی دیواروں کے مُقابل جھنڈاکھڑا کرو۔پہرے کی چوکیا ں مضبوط کرو۔ پہرے داروں کو بٹھاؤ ۔کمین گاہیں تیار کرو کیونکہ خداوند نے اہل بابلؔ کے حق میں جو کچھ ٹھہرایا اور فرمایا تھا سو پورا کیا ۔
13 اَے نہروں پر سکونت کرنے والی جسکے خزانے فراوان ہیں تیری تمامی کا وقت آپہنچا اور تیری غارت گری کا پیمانہ پُر ہو گیا ۔
14 ربُّ الافواج نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے یقیناًمیں تجھ میں لوگوں کو ٹڈیوں کی طرح بھردوُنگا اور وہ تجھ پر جنگ کا نعرہ مارینگے ۔
15 اُسی نے اپنی قدرت سے زمین کو بنایا اُسی نے اپنی حکمت سے جہان کو قائم کیا اور اپنی عقل سے آسمان کو تان دیا ہے ۔
16 اُسکی آواز سے آسمان میں پانی کی فراوانی ہوتی ہے اور وہ زمین کی اِنتہا سے بخارات اُٹھا تا ہے ۔ وہ بارش کے لئے بجلی چمکاتا ہے اور اپنے خزانوں سے ہوا چلاتا ہے ۔
17 ہر آدمی حیوان خصلت اور بے علم ہوگیا ہے ۔سُنار اپنی کھودی ہُوئی مُورت سے رُسوا ہے کیونکہ اُسکی ڈھالی ہُوئی مُورت باطل ہے۔ اُن میں دم نہیں ۔
18 وہ باطل فعل فریب ہیں ۔ سزا کے وقت برباد ہو جائینگی ۔
19 یعقوب ؔ کا بخرہ اُنکی مانند نہیں کیونکہ وہ سب چیزوں کا خالق ہے اور اِسراؔ ئیل اُسکی میراث کا عصا ہے ۔ربُّ الافواج اُسکا نام ہے۔
20 تو میرا گُزر اور جنگی ہتھیار ہے اور تجھی سے میں قوموں کو توڑتا اور تجھی سے سلطنتوں کو نیست کرتا ہوں ۔
21 تجھی سے میں گھوڑے اور سوار کو کُچلتا اور تجھی سے رتھ اوراُسکے سوار کو چُور کرتا ہوں ۔
22 تجھی سے مرد وزن اور پیر وجوان کو کُچلتا اور تجھی سے نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کو پیس ڈالتا ہوں ۔
23 اور تجھی سے چرواہے اور اُسکے گلہ کو کُچلتا اور تجھی سے کسان اور اُسکے جوڑی بیل کو اور تجھی سے سرداروں اور حاکموں کو چُورچُور کردیتا ہوں ۔
24 اور میں بابلؔ کو کسدستان کے سب باشندوں کو اُس تما م نقصان کا جو اُنہوں نے صےُِّون ؔ کو تمہاری آنکھوں کے سامنے پہنچایا ہے عوض دیتا ہوں خداوند فرماتا ہے ۔
25 دیکھ خداوند فرماتا ہے اَے ہلاک کرنے والے پہاڑ جو تمام رُویِ زمین کو ہلاک کرتا ہے ! میں تیرا مُخالف ہوں اور میں اپنا ہاتھ تجھ پر بڑھاؤنگا اور چٹانوں پر سے تجھے لُڑھکا ؤنگا اور تجھے جلاہُوا پہاڑ بنادوُنگا ۔
26 نہ تجھ سے کونے کا پتھر اور نہ بُنیاد کے لئے پتھر لینگے بلکہ تو ہمیشہ تک ویران رہیگا خداوند فرماتا ہے ۔
27 ملک میں جھنڈاکھڑا کرو قوموں میں نرسنگا پُھونکو اُنکو اُسکے خلاف مخصوص کرو ۔اراراطؔ اور منّیؔ اور اشکناز ؔ کی مملکتوں کو اُس پر چڑھا لاؤ ۔اُسکے خلاف سپہ سالار مُقرر کرو اور سواروں کو مہلک ٹڈیوں کی طرح چڑھالاؤ ۔
28 قوموں کو مادیوں کے بادشاہوں کو اورسرداروں اور حاکموں اور اُنکی سلطنت کے تما م ممالک کو مخصوص کرو کہ اُس پر چڑھائی کریں ۔
29 اور زمین کا نپتی اور درد میں مُبتلا ہے کیونکہ خداوند کے اِرادے بابلؔ کی مخالف میں قائم رہینگے کہ بابلؔ کی سر زمین کو ویران اور غیر آباد کر دے ۔
30 بابلؔ کے بہادُر لڑائی سے دست بردار اور قلعوں میں بیٹھے ہیں ۔اُنکا زور گھٹ گیا ۔وہ عورتوں کی مانند ہو گئے ۔اُسکے مسکن جلائے گئے ۔اُسکے اڑبنگے توڑے گئے۔
31 ہر کارہ ہر کارے سے ملنے کو اور قاصد قاصد سے ملنے کو دُوڑیگا کہ بابلؔ کے بادشاہ کو اِطلاع دے کہ اُسکا شہر ہر طرف سے لے لیا گیا ۔
32 اور گذرگاہیں لے لی گئیں اور نیستان آگ سے جلائے گئے اور فوج ہڑ بڑا گئی ۔
33 کیونکہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ دُختر بابلؔ کھلیہان کی مانند ہے جب اُسے روندنے کا وقت آئے ۔تھوڑی دیر ہے کہ اُسکی کٹائی کا وقت آپہنچیگا ۔
34 شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر نے مجھے کھا لیا ۔اُس نے مجھے شکست دی ہے ۔اُس نے مجھے خالی برتن کی مانند کردیا ۔اژدہا کی مانند وہ مجھے نگل گیا ۔اُس نے اپنے پیٹ کو میری نعمتوں سے بھر لیا ۔اُس نے مجھے نکال دیا ۔
35 صےُِّون ؔ کے رہنے والے کہینگے جو ستم ہم پر اور ہمارے لوگوں پر ہوا بابلؔ پر ہو اور یروشلیم کہیگا میرا خون اہل کسدستان پر ہو۔
36 اِسلئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تیری حمایت کرونگا اور تیرا اِنتقام لُونگا اور اُسکے بحر کو سکھاؤنگا اور اُسکے سوتے کو خشک کردونگا ۔
37 اور بابلؔ کھنڈر ہو جائیگا اور گیدڑوں کا مقام اور حیرت اور سُسکا ر کا باعث ہو گا اور اُس میں کوئی نہ بسیگا
38 وہ جوان ببروں کی طرح اِکٹھے گر جینگے ۔وہ شیر بچوں کی طرح غُّرا ئینگے ۔
39 اُنکی حالت طیش میں مَیں اُنکی ضیافت کرکے اُنکو مست کُرونگا کہ وہ جلد میں آئیں اور دائمی خواب میں پڑے رہیں اور بیدار نہ ہوں خداوند فرماتا ہے
40 میں اُنکو برّوں اور مینڈھوں کی طرح بکروں سمیت مسلخ پر اُتار لاؤنگا ۔
41 شیشک ؔ کیونکر لے لیا گیا ! ہاں تمام رویِ زمین کا ستودہ یکبارگی لے لیا گیا ! بابل ؔ قوموں کے درمیان کیسا ویران ہوا!۔
42 سمندر بابلؔ پر چڑھ گیا ہے ۔ وہ اُسکی لہروں کی کثرت سے چھپ گیا ۔
43 اُسکی بستیا ں اُجڑ گئیں ۔وہ خشک زمین اور صحرا ہو گیا ۔ اَیسی سر زمین جس میں کوئی نہ بستا ہو اور نہ وہاں آدمزاد کا گذر ہو ۔
44 کیونکہ میں بابلؔ میں بیل ؔ کو سزا دُونگا اور جو کچھ وہ نگل گیا ہے اُسکے منہ سے نکا لُونگا اور پھر قومیں اُسکی طرف روان نہ ہونگی ہاں !بابلؔ کی فصیل گر جائیگی۔
45 اَے میرے لوگو! اُس میں سے نکل آؤ اور تم میں سے ہر ایک خداوند کے قہر شدید سے اپنی جان بچائے ۔
46 نہ ہو کہ تمہارا دِل سُست ہو اور تم اُس افوا ہ سے ڈرو جو زمین میں سُنی جائیگی۔ ایک افواہ ایک سال آئیگی اور پھر دُوسری افواہ دُوسرے سال میں اور مُلک میں ظلم ہو گا اور حاکم حاکم سے لڑیگا ۔
47 اِسلئے دیکھ وہ دن آتے ہیں کہ میں بابلؔ کی تراشی ہُوئی مُورتوں سے اِنتقام لُونگا اور اُسکی تما م سرزمین رُسوا ہو گی اور اُسکے سب مقتول اُسی میں پڑے رہینگے۔
48 تب آسمان اور زمین اور سب کچھ جو اُن میں ہے بابلؔ پر شاد یا نہ بجا ئینگے کیونکہ غارتگر شمال سے اُس پر چڑھ آئینگے ۔خداوند فرماتا ہے ۔
49 جس طرح بابلؔ میں بنی اِسراؔ ئیل قتل ہُوئے اُسی طرح بابلؔ میں تمام ملک کے لوگ قتل ہونگے ۔
50 تم جو تلوار سے بچ گئے ہو کھڑے نہ ہو ۔چلے جاؤ ۔دُور ہی سے خداوند کو یاد کرو اور یروشلیم کا خیال تمہارے دِل میں آئے ۔
51 ہم پر یشان ہیں کیونکہ ہم نے ملامت سُنی ۔ہم شرم آلُودہ ہُوئے کیونکہ خداوند کے گھر کے مقدسوں میں اجنبی گُھس آئے ۔
52 اِسلئے دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں اُسکی تراشی ہُوئی مُورتوں کو سزا دُونگا اور اُسکی تمام سلطنت میں گھایل کراہینگے ۔
53 ہر چند بابلؔ آسمان پر چڑھ جائے اور اپنے زور کی اِنتہا تک مُستحکم ہو بیٹھے تو بھی غارتگر میری طرف سے اُس پر چڑھ آئینگے خداوند فرماتا ہے ۔
54 بابلؔ سے رونے کی اور کسدیوں کی سرزمین سے بڑی ہلاکت کی آواز آتی ہے ۔
55 کیونکہ خداوند بابلؔ کو غارت کرتا ہے اور اُسکے بڑے شور وغل کو نیست کریگا ۔اُنکی لہریں سمندر کی طرح شور مچاتی ہیں ۔اُنکے شور کی آوا ز بلند ہے ۔
56 اِسلئے کہ غارتگر اُس پر ہاں بابلؔ پر چڑھ آیا ہے اور اُسکے زور آور لوگ پکڑے جائینگے ۔اُنکی کمانیں توڑی جائینگی کیونکہ خداوند اِنتقام لینے والا خدا ہے ۔وہ ضرور بدلہ لیگا ۔
57 اور میں اُمرا و حکما کو اور اُسکے سرداروں اور حاکموں کو مست کُرونگا اور وہ دائمی خواب میں پڑے رہینگے اور بیدار نہ ہونگے ۔وہ بادشاہ فرماتا ہے جسکا نام ربُّ الافواج ہے ۔
58 ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ بابل ؔ کی چوڑی فصیل بالکل گرادی جائیگی اور اُسکے بلند پھاٹک آگ سے جلا دئے جائینگے ۔یوں لوگوں کی محنت بے فائدہ ٹھہر یگی اور قوموں کا کام آگ کے لئے ہو گا اور وہ ماندہ ہونگے ۔
59 یہ وہ بات ہے جو یرمیاہؔ نبی نے سرا یاہؔ بن نیریاہؔ بن محسیا ہؔ سے کہی جب وہ شاہِ یہوداہؔ صدقیاہ ؔ کے ساتھ اُسکی سلطنت کے چوتھے برس بابلؔ میں گیا اور یہ سرایاہؔ خواجہ سراؤں کا سردار تھا ۔
60 اور یرمیاہؔ نے اُن سب آفتوں کو جو بابلؔ پر آنے والی تھیں ایک کتاب میں قلمبند کیا ۔یعنی اِن سب باتوں کو جو بابلؔ کی بابت لکھی گئی ہیں ۔
61 اور یرمیاہؔ نے سرایاہؔ سے کہا کہ جب تو بابلؔ میں پہنچے تو اِن سب باتوں کو پڑھنا ۔
62 اور کہنا اَے خداوند ! تو نے اِس جگہ کی بربادی کی بابت فرمایا ہے کہ میں اِسکو نیست کُرونگا اَیسا کہ کوئی اِس میں نہ بسے نہ اِنسان نہ حیوان پر ہمیشہ ویران رہے ۔
63 اور جب تو اِس کتا ب کو پڑھ چکے تو ایک پتھر اِس سے باندھنا اور فراتؔ میں پھینکد ینا ۔
64 اور کہنا بابلؔ اِسی طرح ڈوُب جائیگا اور اُس مصیبت کت سبب سے جو میں اُس پر ڈالدوُنگا پھر نہ اُٹھیگا اور وہ ماندہ ہونگے ۔یرمیاہؔ کی باتیں یہاں تک ہیں :۔


باب 52

1 جب صدقیاہؔ سلطنت کرنے لگا تو اکیس برس کا تھا اور اُس نے گیارہ برس یروشلیم میں سلطنت کی اوراُسکی ماں کا نام حموطل تھا جو لبنا ہی یرمیاہؔ کی بیٹی تھی ۔
2 اور جو کچھ یہویقیمؔ نے کیا تھا اُسی کے مطابق اُس نے بھی خداوند کی نظر میں بدی کی ۔
3 کیونکہ خداوند کے غضب کے سبب سے یروشلیم اور یہوداہؔ کی یہ نوبت آئی کہ آخر اُس نے اُن کو اپنے حضور سے دُور ہی کردیا اور صدقیاہؔ شاہِ بابلؔ سے مُسخرف ہو گیا ۔
4 اور اُسکی سلطنت کے نویں برس کے دسویں مہینے کے دسویں دِ ن یوں ہوا کہ شاہِ بابلؔ نبورکدؔ رضر نے اپنی ساری فوج سمیت یروشلیم پر چڑھائی کی اور اُسکے مقابل خیمہ زن ہوا اور اُنہوں نے اُسکے مُقابل حصار بنالے ۔
5 اور صدقیاہؔ بادشاہ کی سلطنت کے گیارھویں برس تک شہر کا محاصرہ رہا ۔
6 اور چوتھے مہینے کے نویں دن سے شہر میں کال ایسا سخت ہو گیا کہ ملک کے لوگوں کے لئے خورش نہ رہی ۔
7 تب شہر پناہ میں رخنہ ہو گیا اور دونوں دیواروں کے درمیان جو پھاٹک شاہی باغ کے برابر تھا (اُس سے کسدی شہر کو گھیر ے ہُوئے تھے) اور بیابان کی راہ لی ۔
8 لیکن کسدیوں کی فوج نے بادشاہ کا پیچھا کیا اور اُسے یریحوہؔ کے میدان میں جا لیا اور اُسکا سارا لشکر اُسکے پا س سے پراگند ہ ہو گیا تھا ۔
9 سو وہ بادشاہ کو پکڑ کر ربلہ ؔ میں شاہِ بابلؔ کے پاس حماتؔ کے علاقہ میں لے گئے اور اُس نے صدقیاہؔ پر فتویٰ دیا۔
10 اور شاہِ بابلؔ نے صدقیاہؔ کے بیٹوں کو اُسکی آنکھوں کے سامنے ذبح کیا اور یہوداہؔ کے سب اُمرا کو بھی ربلہؔ میں قتل کیا۔
11 اور اُس نے صدقیاہؔ کی آنکھیں نکال ڈالیں اور شاہِ بابلؔ اُسکو زنجیروں سے جکڑکر بابلؔ کو لے گیا اور اُسکے مرنے کے دِن تک اُسے قید خانہ میں رکھا ۔
12 اور شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کے عہد کے اُنیسویں برس کے پانچویں مہینے کے دسویں دن جلوداروں کا سردار نبوزؔ رادان جو شاہِ بابلؔ کے حضور میں کھڑا رہتا تھا یروشلیم میں آیا ۔
13 اُس نے خداوند کا گھر اور بادشاہ کا قصر اور یروشلیم کے سب گھر یعنی ہر ایک بڑا گھر آگ سے جلادیا ۔
14 اور کسدیوں کے سارے لشکر نے جو جلو داروں کے سردار کے ہمراہ تھا یروشلیم کی فصیل کو چاروں طرف سے گرا دیا ۔
15 اور باقی لوگوں اور محتاجوں کو جو شہرمیں رہ گئے تھے اور اُنکو جنہوں نے اپنوں کو چھوڑکر شاہِ بابلؔ کی پناہ لی تھی اور عوام میں سے جتنے باقی رہ گئے تھے اُن سب کو نبُوؔ زرادان جلوداروں کا سردار اسیر کرکے لے گیا ۔
16 پر جلوداروں کے سردار نبوُزرادانؔ نے ملک کے کنگالوں کو رہنے دیا تا کہ کھیتی اور تاکستانو ں کی باغبانی کریں ۔
17 اور پیتل کے اُن سُتونوں کو جو خداوندکے گھر میں تھے اور کُرسیوں کو اور پیتل کے بڑے حوض کو جو خداوند کے گھر میں تھا کسدیوں نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اُنکو سب پیتل بابلؔ کو لے گئے ۔
18 اور دیگیں اور بیلچے اور کُلگیر اور لگن اور چمچے اور پیتل کے تمام برتین جو وہاں کام آتھے تھے لے گئے۔
19 اور باسن اور انگیٹھیاں اور لگن اور دیگیں اور شمعدان اور چمچے اور پیالے غرض جو سونے کے تھے اُنکے سونے کو اور جو چاندی کے تھے اُنکی چاندی کو جلوداروں کا سردار لے گیا ۔
20 وہ دُوستون اور وہ بڑا حوض اورپیتل کے بارہ بیل جو کُرسیوں کے نیچے تھے جنکو سُلیمان ؔ بادشاہ نے خداوند کے گھر کے لئے بنایا تھا اِن سب چیزوں کے پیتل کا وزن بے حساب تھا ۔
21 ہر سُتُون اٹھارہ ہاتھ اُونچا تھا اور بارہ ہاتھ کا سُوت اُسکے گرداگر د آتا تھا اور چاراُنگل موٹا تھا ۔ یہ کھو کھلا تھا۔
22 اور اُسکے اُوپر پیتل کا ایک تاج تھا اور وہ تاج پانچ ہاتھ بلند تھا ۔اُس تاج پر گرداگرد جالیاں اور انار کی کلیاں سب پیتل کی بنی ہُوئی تھیں اور دُوسرے سُتُون کے لوازِم بھی جالی سمیت اِن ہی کی طرح تھے ۔
23 اور چاروں ہواؤں کے رُخ انار کی کلیاں چھیانوے تھیں اور گرداگرد جالیوں پر ایک سو تھیں ۔
24 اور جلوداروں کے سردار نے سرایاہؔ سردار کاہن کو اور کاہن ثانی صفیناہؔ کو اور تینوں دربانوں کو پکڑ لیا۔
25 اور اُس نے شہر میں سے ایک سردار کو پکڑ لیا جو جنگی مردوں پر مُقرر تھا اور جو لوگ بادشاہ کے حضُور حاضر رہتے تھے اُن میں سات آدمیوں کو جو شہر میں ملے اور لشکر کے سردار کے مُحّرِر کو جو اہل ملک کی موجودات لیتا تھا اور ملک کے آدمیوں میں سے ساٹھ آدمیوں کو جو شہر میں ملے ۔
26 اِنکو جلوداروں کا سردار نبوزرادان ؔ پکڑ کر شاہِ بابلؔ کے حُضُور ربلہؔ میں لے گیا۔
27 اور شاہِ بابلؔ نے حماتؔ کے علاقہ کے ربلہؔ میں اُنکو قتل کیا ۔سو یہوداہؔ اپنے ملک سے اسیر ہو کر چلا گیا ۔
28 یہ وہ لوگ ہیں جنکو نبو کدرؔ ضر اسیر کرکے لے گیا ۔ساتویں برس میں تین ہزار تییس یہودی ۔
29 نبوکدرضر ؔ کے اٹھارھویں برس میں یروشلیم کے باشندوں میں آٹھ سو بتیس آدمی اسیر کرکے لے گیا ۔
30 نبوکدؔ رضر کے تےئیسویں برس میں جلوداروں کا سردار نبوُزرادانؔ سات سو پینتالیس آدمی یہودیوں میں پکڑ کر لے گیا ۔یہ سب آدمی چار ہزار چھ سوتھے ۔
31 اور یہویا کین شاہِ یہوداہؔ کی اسیری کے سینتیسویں برس کے بارھویں مہینے کے پچیسویں دن یوں ہوا کہ شاہِ بابلؔ اویل مُرؔ دوک نے اپنی سلطنت کے پہلے سال یہویاکین شاہِ یہوداہؔ کو قید خانہ سے نکالکر سرفراز کیا۔
32 اور اُسکے ساتھ مہربانی سے باتیں کیں اور اُسکی کُرسی اُن سب بادشاہوں کی کُرسیوں سے جو اُسکے ساتھ بابلؔ میں تھے بلند کی ۔
33 وہ اپنے قید خانہ کے کپڑے بدلکر عمر بھر برابر اُسکے حُضُور کھانا کھاتا رہا ۔
34 اور اُسکو عمر بھر یعنی مرنے تک شاہِ بابلؔ کی طرف سے وظیفہ کے طور پر ہر روز رسد ملتی رہی ۔