حزقی ایل

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48


باب 1

1 تیسویں برس کے چوتھے مہینے کی پانچویں تاریخ کو یوں ہوا کہ جب میں نہر کبار کے کنارے پر اسیروں کے درمیان تھا تو آسمان کھل گیا اور میں نے خدا کی رویتیں دیکھیں۔
2 اس مہینے کی پانچویں تاریخ کو یہویاکین بادشاہ کی اسیری کے پانچویں برس میں ۔
3 خداوند کا کلام بوزی کے بیٹے حزقی ایل کاہن پر جو کسیدیوں کے ملک میں نہر کبار کے کنارے پر تھا نازل ہوا اور وہاں خداوند کا ہاتھ اس پر تھا۔
4 اور میں نے نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ شمال سے آندھی اٹھی۔ایک بڑی گھٹا اور لپٹتی ہوئی آگ اور اس کے گرد روشنی چمکتی تھی اور اس کے بیچ سے یعنی اس آگ میں سے صیقل کئے ہوئے پیتل کی سی صورت جلوہ گر ہوئی ۔
5 اور اس میں سے چار جانداروں کی ایک شبیہ نظر آئی اور ان کی شکل یوں تھی کہ وہ انسان سے مشابہ تھے۔
6 اور ہر ایک کے چار چہرے اور چار پر تھے۔
7 اور انکی ٹانگیں سیدھی تھیں اور ان کے پاﺅں کے تلوے بچھڑے کے پاﺅں کے تلوے کی مانند تھے اور وہ منجھے ہوئے پیتل کی مانند جھلکتے تھے۔
8 اور انکی چاروں طرف پروں کے نیچے انسان کے ہاتھ تھے اور چاروں کے چہرے اور پر یوں تھے۔
9 کہ ان کے پر ایک دوسرے سے باہم پیوستہ تھے اور وہ چلتے ہوئے مڑتے نہ تھے بلکہ سب سیدھے آگے بڑھے چلے جاتے تھے۔
10 ان کے چہروں کی مشابہت یوں تھی کہ ان چاروں کا ایک ایک چہرہ انسان کا۔ ایک ایک شیر ببر کا انکی دہنی طرف اور ان چاروں کا ایک ایک چہرہ سانڈ کا بائیں طرف اور ان کا ایک ایک چہرہ عقاب کا تھا۔
11 ان کے چہرے تویوں تھے اور ان کے پر اوپر سے الگ الگ تھے۔ ہر ایک کے دو پر دوسرے کے دو پروں سے ملے ہوئے تھے اور دو دو سے ان کا بدن ڈھنپا ہوا تھا۔
12 جدھر کو جانے کی کوشش ہوتی تھی وہ جاتے تھے۔ وہ چلتے ہوئے مڑتے نہ تھے ۔
13 رہی ان جانداروں کی صورت سو ان کی شکل آگ کے سلگے ہوئے کوئلوں اور مشعلوں کی مانند تھی۔ وہ ان جانداروں کے درمیان ادھر اُدھر آتی جاتی تھی اور وہ آگ نورانی تھی اور اس میں سے بجلی نکلتی تھی۔
14 اور وہ جاندار ایسے ہٹتے بڑھتے تھے جیسے بجلی کوند جاتی ہے۔
15 جب میں نے ان جانداروں پر نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان چار چار چہروں والے جاندار وںکے ہر چہرے کے پاس ایک پہیہ ہے۔
16 ان پہیوں کی صورت اور بناوٹ زبر جد کی سی تھی اور وہ چاروں ایک ہی وضع کے تھے اور ان کی شکل اور ان کی بناوٹ ایسی تھی گویا پہیہ پہیے کے بیچ میں ہے۔
17 وہ چلتے وقت اپنے چاروں پہلوﺅں پر چلتے تھے اور پیچھے نہیں مڑتے تھے۔
18 اور ان کے حلقے بہت انچے اور ڈراﺅنے تھے اور ان چاروں کے حلقوں کے گردا گرد آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔
19 جب وہ جاندار چلتے تھے تو پہیے بھی ان کے ساتھ چلتے تھے اور جب وہ جاندار زمین پر سے اٹھائے جاتے تھے تو پہئے بھی اٹھا ئے جاتے تھے۔
20 جہاں کہیں جانے کی خواہش ہوتی تھی وہ جاتے تھے۔ انکی خواہش ادھر ہی ان کو لے جاتی تھی اور پہئے ان کے ساتھ اٹھائے جاتے تھے کیونکہ جاندار کی روح پہیوں میں تھی۔
21 جب وہ چلتے تھے یہ چلتے تھے اور جب وہ ٹھہرتے تھے یہ ٹھہرتے تھے اور جب وہ زمین پر سے اٹھائے جاتے تھے تو پہیے بھی ان کے ساتھ اٹھائے جاتے تھے کیونکہ پہیوں میں جاندا کی روح تھی۔
22 جانداروں کے سروں کے اوپر کی فضا درخشان تھی اور ان کے سروں کے اوپر پھیلی تھی۔
23 اور اس فضا کے نیچے ان کے پر ایک دوسرے کی سیدھ میں تھے۔ ہر ایک کے دو پروں سے ان کے بدنوں کا ایک پہلو اور دوپروں سے دوسرا پہلو ڈھنپا تھا۔
24 اور جب وہ چلے تو میں نے ان کے پروں کی آواز سنی گویا بڑے سیلاب کی آواز یعنی قادر مطلق کی آواز اور ایسی شور کی آواز ہوئی جیسی لشکر کی آواز ہوتی ہے ۔ جب وہ ٹھہرتے تھے تو اپنے پروں کو لٹکا دیتے تھے۔
25 اور اس فضا کے اوپر سے جو ان کے سروں کے اوپر تھی ایک آواز آتی تھی اور جب وہ ٹھہرتے تھے تو اپنے بازوﺅں کو لٹکا دیتے تھے۔
26 اور اس فضا سے اوپر جو ان کے سروں کے اوپر تھی تخت کی صورت تھی اور اسکی صورت نیلم کے پتھر کی سی تھی اور اس تخت نما صورت پر کسی انسان کی سی شبیہ اس کے اوپر نظر آئی۔
27 اور میں نے اس کی کمر سے لیکر اوپر تک صیقل کئے ہوئے پیتل کا سارنگ او رشعلہ سا جلوہ اسکے درمیان اور گردا گرد دیکھا اور اس کی کمر سے لیکر نیچے تک میں نے شعلہ کی سی تجلی دیکھی اور اسکی چاروں طرف جگمگاہٹ تھی۔
28 جیسی اس کمان کی صور ت ہے جو بارش کے دن بادلوں میں دکھائی دیتی ہے ایسی ہی آس پاس کی اس جگمگاہٹ کی نمود تھی یہ خداوند کے جلال کا اظہار تھا اور دیکھتے ہی میں اوندھے منہ گرا اور میں نے ایک آواز سنی جیسے کوئی باتیں کرتاہے۔


باب 2

1 اور اس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو کہ مین تجھ سے باتیں کروں۔
2 جب اس نے مجھے یوں کہا تو روح مجھ میں داخل ہوئی اور مجھے پاﺅں پر کھڑا کیا۔ تب میں نے اس کی سنی جو مجھ سے باتیں کرتا تھا۔
3 چنانچہ اس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد میں تجھے بنی اسرائیل کے پاس یعنی اس باغی قوم کے پاس جس نے مجھ سے بغاوت کی ہے بھیجتا ہوں وہ اور ان کے باپ دادا آج تک میرے گناہگار ہوتے آئے ہیں۔
4 کیونکہ جن کے پاس میں تجھ کو بھیجتا ہوں وہ سخت دل اور بے جا فرزند ہیں۔ تو ان سے کہنا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔
5 پس خواہ وہ سنیں یا نہ سنین (کیونکہ وہ تو سرکش خاندان ہیں) تو بھی وہ اتنا تو جانیں گے کہ ان میں ایک نبی برپا ہوا۔
6 اور تو اے آدمزاد ان سے ہراسان نہ ہو اور ان کی باتوں سے نہ ڈر۔ ہر زند کہ تو اونٹ کٹاروں اور کانٹوں سے گھرا ہے اور بچھوﺅں کے درمیان رہتا ہے۔ ان کی باتوں سے ترسان نہ ہو اور ان کے چہروں سے گھبرا اگر چہ وہ باغی خاندان ہیں ۔
7 پس تو میری باتیں ان سے کہنا خواہ وہ سنیں یا نہ سنیں کیونکہ وہ نہایت باغی ہیں۔
8 لیکن اے آدمزاد تو میرا کلام سن۔ تو اس سرکش خاندان کی مانند سرکشی نہ کر ۔ اپنا منہ کھول اور جو کچھ میں تجھے دیتا ہوں کھا لے۔
9 اور میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھا ہوا ہے اور اس میں کتاب کا طومار ہے ۔
10 اور اس نے اسے کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ اس میں اندر باہر لکھا ہوا تھا اور اس میں نوحہ اور ماتم اور آہ و نالہ مرقوم تھا۔


باب 3

1 پھر اس نے مجھے کہا کہ اے آدمزاد جو کچھ تو نے پایا سو کھا۔ اس طومار کو نگل جا اور جا کر اسرائیل کے خاندان سے کلام کر۔
2 تب میں نے منہ کھولا اور اس نے وہ طومار میرے مجھے کھلایا۔
3 پھر اس نے مجھے کہا اے آدمزاد اس طومار کو جو میں تجھے دیتا ہوں کھا جا اور اس سے اپنا پیٹ بھر لے۔ تب میں نے وہ کھایا اور وہ میرے منہ میں شہد کی مانند میٹھا تھا۔
4 پھر اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد تو بنی اسرائیل کے پاس جا اور میری یہ باتیں ان سے کہہ۔
5 کیونکہ تو ایسے لوگوں کی طرف نہیں بھیجا جاتا جن کی زبان بیگانہ اور جن کی بولی سخت ہے بلکہ اسرائیل کے خاندان کی طرف۔
6 نہ بہت سی امتوں کی طرف جن کی زبان بیگانہ اور جن کی بولی سخت ہے ۔جن کی بات تو سمجھ نہیں سکتا۔ یقینا اگر میں تجھے ان کے پاس بھیجتا تو وہ تیری سنتیں۔
7 لیکن بنی اسرائیل تیری بات نہ سنیں گے کیونکہ وہ میری سننا نہیں چاہتے کیونکہ سب بنی اسرائیل سخت پیشانی اور سنگ دل ہیں۔
8 دیکھ میں نے ان کے چہرے کے مقابل تیرا چہرہ درشت کیا ہے اور تیری پیشانی ان کی پیشانیوں کے مقابل سخت کر دی ہے۔
9 میں نے تیری پیشانی کو ہیرے کی مانند چقماق سے بھی زیادہ سخت کر دیا ہے ۔ ان سے نہ ڈر اور ان کے چہرے سے ہراسان نہ ہواگر چہ وہ باغی خاندان ہیں۔
10 پھر اس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد میری سب باتون کو جو میں تجھ ے کہوں گا اپنے دل سے قبول کر اور اپنے کانوں سے سن۔
11 اب اٹھ اسیروں یعنی اپنی قوم کے لوگوں کے پاس جا اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے خواہ وہ سنیں خواہ نہ سنیں۔
12 اور روح نے مجھے اٹھا لیا اور میں نے اپنے پیچھے ایک بڑی کڑک آواز سنی جو کہتی تھی کہ خداوند کا جلال اس کے مسکن سے مبارک ہو۔
13 اور جانداروں کے پروں کے آیک دوسرے سے لگنے کی آواز اور ان کے مقابل پہیوں کی آواز اور ایک بڑے دھڑاکے کی آواز سنائی دی۔
14 اور روح مجھے اٹھا کر لے گئی۔ سو میں تلخ دل اور غضبناک ہو کر روانہ ہوا اور خداوند کا ہاتھ مجھ پر غالب تھا۔
15 اور میں تل ابیب میں اسیروں کے پاس جو نہر کبار کے کنارے بستے تھے پہنچا اور جہاں وہ رہتے تھے میں سات دن تک ان کے درمیان پریشان بیٹھا رہا۔
16 اور سات دن کے بعد خداوند کاکلام مجھ پر نازل ہوا۔
17 کہ اے آدمزاد میں نے تجھے نبی اسرائیل کا نگہبان مقرر کیا ۔ پس تو میرے منہ کا کلام سن اور میری طرف سے ان کو آگاہ کر دے۔
18 جب میں شریر سے کہوں کہ تو یقینا مرے گا اور تو اسے آگاہ نہ کرے اور شریر سے نہ کہے کہ وہ اپنی بری روش سے خبردار ہو تاکہ وہ اس سے باز آکر اپنی جان بچائے تو وہ شریر اپنی شرارت میں مرے گا لیکن میں اسکے خون کی باز پرس تجھ سے کروں گا۔
19 لیکن اگر تو نے شریر کو آگاہ کر دیا اور وہ اپنی شرارت اور بری روش سے باز نہ آیا تو وہ اپنی بد کرداری میں مرے گا پر تو نے اپنی جان کو بچا لیا۔
20 اور اگر راستباز اپنی راستبازی چھوڑ دے اور گناہ کرے اور میں اس کے آگے ٹھکر کھلانے والا پتھر رکھوں تو وہ مر جائے گا۔ اس لئے کہ تو نے اسے آگاہ نہیں کیا تو وہ اپنے گناہ میں مرے گا اور اس کی صداقت کے کاموں کا لحاظ نہیں کیا جائے گا پر میں اس کے خون کی باز پرس تجھ سے کروں گا۔
21 لیکن اگر تو اس راستباز کو آگاہ کر دے تاکہ گناہ نہ کرے اور وہ گناہ سے باز رہے تو وہ یقینا جئے گا اسلئے کہ نصیحت پذیر ہوا اور تو نے اپنی جان بچا لی۔
22 اور وہاں خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس نے مجھے فرمایا اٹھ میدان میں نکل جا اور وہاں میں تجھ سے باتیں کروں گا۔
23 تب میں اٹھ کر میدان میں گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ خداوند کا جلال اس شوکت کی مانند جو میں نہرکبار کے کنارے دیکھی تھی کھڑا ہے اور میں منہ کے بل گرا۔
24 تب روح مجھ میں داخل ہوئی اور اس نے مجھے میرے پاﺅں پرکھڑا کیا اور مجھ سے ہمکلام ہو کر فرمایا کہ اپنے گھر جا اور دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ رہ۔
25 اور اے آدمزاد دیکھ وہ تجھ پر بندھن ڈالیں گے اور ان سے تجھے باندھیں گے اور تو ان کے درمیان باہر نہ جائے گا۔
26 اور میں تیری زبان تیرے تالو سے چپکا دوں گا کہ تو گونگا ہو جائےاور ان کے لئے نصیحت گو نہ ہو کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔
27 لیکن جب میں تجھ سے ہمکلام ہوں گا تو تیرا منہ کھولوں گا تن تو ان سے کہے گا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے جو سنتا ہے سنے اور جو نہیں سنتا نہ سنے کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔


باب 4

1 اور اے آدمزاد تو ایک کھپرا لے اور اپنے سامنے رکھ کر اس پر ایک شہر ہاں یروشلیم ہی کی صورت کھینچ ۔
2 اور اس کا محاصرہ کر اور اس کے مقابل برج بنا اور اس کے سامنے دمدمہ باندھ اور اس کے گرد خیمے کھڑے کر اور اس کی چاروں طرف منجنیق لگا۔
3 پھر تو لوہے کا ایک اور توا لے اور اپنے اور شہر کے درمیان اسے نصب کر کہ وہ لوہے کی دیوار ٹھہرے اور تو اپنا منہ اسکے مقابل کر اور وہ محاصرہ کی حالت میں ہو اور تو اس کا محاصرہ کرنے والا ہوگا۔ یہ بنی اسرائیل کےلئے نشان ہے۔
4 پھر تو اپنی بائیں کروٹ پر لیٹ رہ اور بنی اسرائیل کی بد کرداری اس پر رکھ دے۔ جتنے دنوں تک تو لیٹا رہے گا تو ان کی بدکرداری برداشت کرے گا۔
5 اور میں نے ان کی بدکرداری کے برسوں کو ان دنوں کے شمار کے مطابق جو تین سو نوے دن ہیں تجھ پر رکھا ہے سو تو بنی اسرائیل کی بدکرداری برداشت کرے گا۔
6 اور جب تو ان کو پورا کر چکے تو پھر اپنی دہنی طرف لیٹ رہ اور چالیس دن تک بنی یہودا کی بدکرداری برداشت کر۔ میں نے تیرے لئے ایک ایک سال کے بدلے ایک ایک دن مقرر کیا ہے۔
7 پھر تو یروشلیم کے محاصرہ کی طرف منہ کر اور اپنا بازو ننگا کر اور اس کے خلاف نبوت کر۔
8 اور دیکھ میں تجھ پر بندھن ڈالوں گا کہ تو کروٹ نہ لے سکے جب تک اپنے محاصرہ کے دنوں کو پورا نہ کر لے۔
9 اور تو اپنے لئے گیہوں اور جو اور باقلا اور مسور اور چینا اور باجرا لے اور ان کو ایک ہی برتن میں رکھ اور ان کی اتنی روٹیاں پکا جتنے دنوں تک تواپنی پہلی کروٹ پر لیٹا رہے گا۔ تو تین سو نوے دن تک ان کو کھانا ۔
10 اور تیرا کھانا وزن کر کے بیس مثقال روزانہ ہوگاجو تو کھائے گا۔ تو گاہے گاہے کھانا۔
11 تو پانی بھی ناپ کر ایک ہین کا چھٹا حصہ پئے گا۔ تو گاہے گاہے پینا ۔
12 اور تو جو کے پھلکے کھانا اور تو ان کی آنکھوں کے سامنے انسان کی نجاست سے ان کو پکانا۔
13 اور خداوند نے فرمایا کہ اسی طرح سے بنی اسرائیل اپنی ناپاک روٹیوں کو ان اقوام کے درمیان جن میں مَیں ان کو آوارہ کروں گا کھایا کریں گے۔
14 تب میں نے کہا ہائے ! خداوند خدادیکھ میری جان کبھی ناپاک نہیں ہوئی اور اپنی جوانی سے اب تک کوئی مردار چیز جو آپ ہی مر جائے یا کسی جانور سے پھاڑی جائے میں نے ہر گز نہیں کھائی اور حرام گوشت میرے منہ میں کبھی نہیں گیا۔
15 تب اس نے مجھے فرمایا دیکھ میں انسان کی نجاست کے عوض تجھے گوبر دیتا ہوں ۔ سو تو اپنی روٹی اس سے پکانا۔
16 اور اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد دیکھ میں یروشلیم میں روٹی کا عصا توڑ ڈالوں گا اور وہ روٹی توڑ کر فکر مندی سے کھائیں گے اور پانی ناپ کر حیرت سے پئیں گے۔
17 تاکہ وہ روٹی پانی کے محتاج ہوں اور باہم سراسیمہ ہوں اور اپنی بدکرداری میں ہلاک ہوں۔


باب 5

1 اے آدمزاد تو ایک تیز تلوار لے اور حجام کے استرہ کی طرح اس سے اپنا سر اور اپنی داڑھی منڈا اور ترازو لے اور بالو ں کو تول کر انکے حصے بنا۔
2 پھر جب محاصرہ کے دن پورے ہو جائیں تو شہر کے بیچ میں ان کا ایک حصہ لے کر آگ میں جلا اور دوسرا حصہ لے کر تلوار سے ادھر ادھر بکھیر دے اور تیسرا حصہ ہوا میں اڑا دے اور میں تلوار کھینچ کر ان کا پیچھا کروں گا۔
3 اور ان میں سے تھوڑے سے بال گن کر لے اور ان کو اپنے دامن میں باندھ۔
4 پھر ان میں سے کچھ نکال کر آگ میں ڈال اور جلا دے۔ اس میں سے ایک آگ نکلے گی جو اسرائیل کے تمام گھرانے میں پھیل جائے گی۔
5 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ یروشلیم یہی ہے۔ میں نے اسے قوموں اور مملکتوں کے درمیان جو اس کے آس پاس ہیں رکھا ہے۔
6 لیکن اس نے دیگر اقوام سے زیادہ شرارت کر کے میرے احکام کی مخالفت کی اور میرے آئین کو آس پاس کی مملکتوں سے زیادہ رد کیا کیونکہ انہوں نے میرے احکام کو رد کیا اور میرے آئین کی پیروی نہ کی۔
7 پس خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم اپنے آس پاس کی اقوام سے بڑھ کر فتنہ انگیز ہو اور میرے آئین کی پیروی نہیں کی اور میرے احکام پر عمل نہیں کیا اور اپنے آس پاس کی اقوام کے آئین و احکام پر بھی کار بند نہیں ہوئے۔
8 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ مَیں ہاں مَیں ہی تیرا مخالف ہوں اور تیرے درمیان سب قوموں کی آنکھوں کے سامنے تجھے سزا دوں گا۔
9 اور میں تیرے سب نفرتی کاموں کے سبب سے تجھ میں وہی کروں گا جو میں نے اب تک نہیں کیا اور کبھی نہ کروں گا۔
10 پس تجھ میں باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو کھا جائے گا اور میں تجھے سزا دوں گا اور تیرے بقیہ کو ہر طرف پراگندہ کروں گا۔
11 پس خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم چونکہ تو نے اپنی تمام مکروہات سے اور اپنے نفرتی کاموں سے میرے پاک مقدس کو ناپاک کیا اس لئے میں بھی تجھے گھٹاﺅں گا۔ میری آنکھیں رعایت نہ کریں گی۔ میں ہر گز رحم نہ کروں گا۔
12 تیرا ایک حصہ وبا سے مر جائے گا اور کال سے تیرے اندر ہلاک ہو جائے گا اور دوسرا حصہ تیری چاروں طرف تلوار سے مارا جائے گا اور تیسرے حصے کو میں ہر طرف پراگندہ کروں گا اور تلوار کھینچ کر ان کا پیچھا کروں گا۔
13 میرا قہر یوں پورا ہوگا تب میرا غضب ان پر دھیما ہو جائے گا اور میری تسکین ہو گی اور جب میں ان پر اپنا قہر پورا کروں گا تب وہ جانیں گے کہ مجھے خڈاوند نے اپنی غیرت سے یہ سب کچھ فرمایا تھا۔
14 اس کے سوا میں تجھ کو ان قوموں کے درمیان جو تیرے آس پاس ہیں اور ان سب کی نگاہوں میں جو ادھر سے گزر کریں گی ویران و باعث ملامت بناﺅں گا۔
15 پس جب میں قہر و غضب اور سخت ملامت سے تیرے درمیان عدالت کروں گا تو تو اپنی آس پاس کی اقوام کےلئے جای ملامت و اہانت اور مقام عبرت و حیرت ہوگی ۔ مَیں خداوند نے یوں فرمایا ہے۔
16 یعنی جب میں سخت قہر کے تیر جو ان کی ہلاکت کےلئے ہیں ان کی طرف روانہ کرو ں گا جن کو میں تمہارے ہلاک کرنے کےلئے چلاﺅں گا اور میں تم میں قحط کو زیادہ کروں گا اور تمہاری روٹی کے عصا کو توڑ ڈالوں گا ۔
17 اور میں تم میںقحط اور برے درندے بھیجوں گااور وہ تجھے لاولد کریں گے اور مری اور خونریزی تیرے درمیان آئے گی اور میں تلوار تجھ پر لاﺅں گا۔ مَیں خداوند ہی نے فرمایا ہے۔


باب 6

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد اسرائیل کے پہاڑوں کی طرف منہ کر کے ان کے خلاف نبوت کر۔
3 اور یوں کہہ کہ اے اسرائیل کے پہاڑو خداوند خدا کا کلام سنو! خداوند خدا پہاڑوں اور ٹیلوں کو اور نہروں اور وادیوں کو یوں فرماتا ہے کہ دیکھو مَیں ہاں مَیں ہی تم پر تلوار چلاﺅں گا اور تمہارے اونچے مقاموں کو غارت کروں گا۔
4 اورتمہاری قربان گاہیں اجڑ جائیں گی اور تمہاری سورج کی مارتیں توڑ ڈالی جائیں گی اور میں تمہارے مقتولوں کو تمہارے بتوں کے آگے ڈال دوں گا۔
5 اور بنی اسرائیل کی لاشیں ان کے بتوں کے آگے پھینک دوں گا اور مَیں تمہاری ہڈیوں کو تمہاری قربانگاہوں کے گردا گرد پراگندہ کروں گا۔
6 تمہاری بودوباش کے تمام علاقوں کے شہر ویران ہوں گے اور اونچے مقام اجاڑے جائیں گے تاکہ تمہاری قربان گاہیں خراب اور ویران ہوں اور تمہارے بت توڑے جائیں اور باقی نہ رہیں اور تمہاری سورج کی مورتیں کاٹ ڈالی جائیں اور تمہاری دستکاریاں نابود ہوں۔
7 اور مقتول تمہارے درمیان گریں گے اور تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
8 لیکن میں ایک بقیہ چھوڑ دوں گا یعنی وہ چند لوگ جو قوموں کے درمیان تلوار سے بچ نکلیں گے جب تم غیر ممالک میں پراگندہ ہو جاﺅ گے۔
9 اور جو تم میں سے بچ رہیں گے ان قوموں کے درمیان جہاں جہاں وہ اسیر ہو کر جائیں گے مجھ کو یاد کریں گے جب کہ میں ان کے بے وفا دلوں کو جو مجھ سے دور ہوئے اور ان کی آنکھوں کو جو بتوں کی پیروی میں برگشتہ ہوئیں شکستہ کروں گا اور وہ آپ اپنی تمام بد اعمالی کے سبب سے جو انہوں نے اپنے تمام گھنونے کاموں میں کی اپنی ہی نظر میں نفرتی ٹھہریں گے۔
10 تب وہ جانیں گے کہ میں ہی خداوند ہوں اور مَیں نے یوں ہی نہیں فرمایا تھا کہ مَیں ان پر یہ بلا لاﺅں گا۔
11 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ ہاتھ پر اتھ مار اورپاﺅں زمین پر پٹک کر کہہ کہ بنی اسرائیل کے تمام گھنونے کاموں پر افسوس! کیونکہ وہ تلوار اور کال اور وبا سے ہلاک ہوں گے۔
12 جو د’ور ہے وہ وبا سے مرے گا اور جو نزدیک ہے وہ تلوار سے قتل کیا جائے گا اور جو باقی رہے اور محصور ہو وہ کال سے مرےگا اور مَیں ان پر اپنے قہر کو یوں پورا کروں گا۔
13 اور جب ان کے مقتونل ہر اونچے ٹیلے اور پہاڑوں کی سب چوٹیوں پر اور ہر ایک ہرے درخت اورگھنے بلوط کے نیچے ہر جگہ جہاں وہ اپنے سب بتوں کےلئے خوشبو جلاتے تھے ان کے بتوں کے پاس ان کی قربان گاہوں کی چاروں طرف پڑے ہوئے ہوںگے تب وہ پہنچانیں گے کہ خڈاوند مَیں ہوں۔ اور میں ان پر ہاتھ چلاﺅں گا ۔
14 اور بیابان سے دبلا اور ان کے ملک کی سب بستیاں ویران اور سنسان کروں گا۔ تب وہ پہچانیںگے کہ میں خداوند ہوں۔


باب 7

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ اے آدمزادخداوند خدا اسرائیل کے ملک سے یوں فرماتا ہے کہ تمام ہوا! ملک کے چاروں کونوں پر خاتمہ آن پہنچا ہے۔
3 اب تیری اجل آئی اور میں تجھ پر اپنا غضب نازل کروں گااور تیری روش کے مطابق تیری عدالت کروں گا اور یرے سب گھنونے کاموں کی سزا تجھ پر لاﺅں گا۔
4 میری آنکھ تیری رعایت نہ کرے گی اور میں تجھ پر رحم نہ کروںگا بلکہ میں تیری روش کے مطابق تجھے سزا دوں گا اور تیرے گھنونے کاموں کے انجام تیرے درمیان ہوں گے تاہ تم جانو کہ میں خداوند ہوں۔
5 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ ایک بلا یعنی بلایِ عظیم ! دیکھ وہ آتی ہے۔
6 خاتمہ آیا ۔ خاتمہ آگیا۔ وہ تجھ پر آپہنچا۔ دیکھ وہ آپہنچا۔
7 اے زمین پر بسنے والے تیری شامت آگئی ۔ وقت آ پہنچا۔ ہنگامہ کا دن قریب ہوا۔ یہ پہاڑوں پر خوشی کی للکار کا دن نہیں۔
8 اب میں اپنا قہر جھ پر انڈیلنے کو ہوں اور اپنا غضب تجھ پر پورا کروں گا اور تیری روش کے مطابق تیری عدالت کروں گا اور تیرے گھنونے کاموں کی سزا تجھ پر لاﺅں گا۔
9 میری آنکھ رعایت نہ کرے گی اور میں ہر گز رحم نہ کروں گا میں تجھے تیری روش کے مطابق سزا دوں گا اور تیرے گھنونے کاموں کے انجام تیرے درمیان ہوں گے اور تم جانو گے کہ میں خداوند سزا دینے والا ہوں۔
10 دیکھ وہ دن۔ وہ دن آپہنچا ہے! تیری شامت آگئی۔ عصا میں کلیاں نکلیں۔
11 غرور میں غنچے نکلے۔ستم گری نکلی کہ شرارت کی چھڑی ہو۔ کوئی ان میں سے نہ بچے گا۔ نہ ان کے انبوہ میں سے کوئی اور نہ ان کے مال میں سے کچھ اور تم پر ماتم نہ ہوگا۔
12 وقت آگیا۔ دن قریب ہے۔ نہ خریدنے والا خوش ہو نہ بیچنے والا اداس کیونکہ ان کے تمام انبوہ پر غضب نازل ہونے کو ہے۔
13 کیونکہ بیچنے والا بکی ہوئی چیز تک پھر نہ پہنچے گا اگرچہ ہنوز وہ زندوں کے درمیان ہوں کیونکہ یہ رویا انکے تما م انبوہ کےلئے ہے۔ ایک بھی نہ لوٹے گا اور نہ کوئی بدکرداری سے اپنی جان کو قائم رکھے گا۔
14 نرسنگا پھونکا گیا اور سب کچھ تیار ہے۔ لیکن کوئی جنگ کےلئے نہیں نکلتا کیونکہ میرا غضب ان کے تمام انبوہ پر ہے۔
15 باہر تلوار ہے اور اند وبا اور قحط ہیں۔ جو کھیت میں ہے وہ تلوار سے قتل ہوگا اور جو باہر ہے وبا اور قحط اسے نگل جائیں گے۔
16 لیکن جو ان سے بھاگ جائیں گے وہ بچ نکلیں گے اور وادیوں کے کبوتروںکی مانند پہاڑوں پر رہیں گےاور سب کے سب نالہ کریں گے۔ ہر ایک اپنی بدکرداری کے سبب سے۔
17 سب ہاتھ ڈھیلے ہوں گے اور سب گھٹنے پانی کی مانند کمزور ہوجائیں گے۔
18 وہ ٹات سے کمر کسیں گے اور ہول ان پر چھا جائے گا اور سب کے منہ پر شرم ہوگی اور ان سب کے سروں پر چند لاپن ہوگا۔
19 وہ اپنی چاندی سڑکوں پر پھینک دیں گا اور ان کا سونا ناپاک چیز کی مانند ہوگا۔ خداوند کے غضب کے دن میں ان کا سونا اور چاندی ان کو نہ بچا سکے گا۔ ان کی جانیں آسودہ نہ ہوں گی اور ان کے پیٹ نہ بھریں گے کیونکہ انہوں نے اسی سے ٹھوکر کھا کر بدکرداری کی تھی۔
20 اور ان کے خوبصورت زیور شوکت کےلئے تھے پر انہوں نے ان سے اپنی نفرتی مورتیں اور مکروہ چیزیں بنائیں۔اس لئے میں نے ان کےلئے ان کو ناپاک چیز کی مانند کر دیا۔
21 اور میں ان کو غنیمت کےلئے پردیسیوں کے ہاتھ میں اور لوٹ کےلئے زمین پر شریروں کے ہاتھ سونپ دوں گا اور وہ ان کو ناپاک کریں گے۔
22 اور میں ان سے منہ پھیر لوں گا اور وہ خلوت خانہ کو ناپاک کریں گے۔ اس میں غارت گر آئیں گے اور اسے ناپاک کریں گے۔
23 زنجیر بنا کیونکہ ملک خونریزی کے گناہوں سے پر ہے اور شہر ظلم سے بھرا ہے ۔
24 پس میں غیر قوموں میں سے بد ترین کو اﺅں گا اور وہ ان کے گھروں کے مالک ہوں گے اور میں زبردستوں کا گھمنڈ مٹا ﺅں گا اور ان کے مقدس مقام نا پاک کئے جائیں گے۔ ہلاکت آتی ہے اور وہ سلامتی کو ڈھونڈیں گے پر نہ پائیں گے۔
25 بلا پر بلا آئے گی اور افواہ پر افواہ ہوگی۔
26 تب وہ نبی سے رویا کی تلاش کریں گے لیکن شریعت کاہن سے اور مصلحت بزرگوں سے جاتی رہے گی۔
27 بادشاہ ماتم کرے گا اور حاکم پر حیرت چھا جائے گی اور رعیت کے ہاتھ کانپیں گے۔ میں ان کی روش کے مطابق ان سے سلوک کروں گا اور ان کے اعمال کے مطابق ان پر فتویٰ دوں گا تاکہ وہ جانیں کہ خداوند مَیں ہوں۔


باب 8

1 اور چھٹے برس کے چھٹے مہنے کی پانچویں تاریخ کو یوں ہوا کہ میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا اور یہودا کے بزرگ میرے سامنے بیٹھے تھے کہ وہاں خداوند خدا کا ہاتھ مجھ پر ٹھہرا۔
2 تب میں نے نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شبیہ آ کی مانند نظر آتی ہے اس کی کمر سے نیچے تک آگ اور اسکی کمر سے اوپر جلوہِ نور ظاہر ہوا جس کا رنگ صیقل کئے ہوئے پیتل کا سا تھا۔
3 اور اس نے ایک ہاتھ کی سی شبیہ سی بڑھا کر میرے سر کے بالوں سے مجھے پکڑا اور روح نے مجھے آسمان اور زمین کے درمیان بلند کیا اور مجھے الٰہی رویا میں یروشلیم میں شمال کی طرف اندرونی پھاٹک پر جہاں غیرت کی مورت کا مسکن تھا جو غیرت بھڑکاتی ہے لے آئی۔
4 اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں اسرائیل کے خدا کا جلال اس رویا کے مطابق جو میں نے اس وادی میں دیکھی تھی موجود تھی۔
5 تب اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد اپنی آنکھیں شمال کی طرف اٹھا اور میں نے اس طرف آنکھیں ا ±ٹھائیں اور کیا دیکھتا ہوں کہ شمال کی طرف مذبح کے دروازہ پر غیرت کی وہی مورت مدخل میں ہے۔
6 اور اس نے مجھے فرمایا کہ اے آدمزاد تو ان کے کام دیکھتا ہے؟یعنی وہ مکروہاتِ عظیم جو بنی اسرائیل یہاں کرتے ہیں تاکہ میں اپنے مقدس کو چھوڑ کر اس سے دور ہو جاﺅں لیکن تو ابھی ان سے بھی بڑی مکروہات دیکھے گا۔
7 تب وہ مجھے صحن کے پھاٹک پر لایا اور میں نے نظر کی اور میں کیا دیکھتا ہوں کہ دیوار میں ایک چھید ہے ۔
8 تب اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد دیوار کھود اور جب میں نے دیوار کو کھودا تو ایک دروازہ دیکھا۔
9 پھر اس نے مجھے کہا اندر جا اور جو نفرتی کام وہ یہاں کرتے ہیں دیکھ۔
10 تب میں نے اندر جا کر دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ہر نوع کے سب رینگنے والے کیڑوں اور مکروہ جانوروں کی سب صورتیں اور بنی اسرائیل کے سب بت گردا گرد دیوار پر منقش ہیں۔
11 اور بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے ستّر شخص ان کے آگے کھڑے ہیں اور یازنیاہ بن سافن ان کے وسط میں کھڑا ہے اور ہر ایک کے ہاتھ میں ایک بخور دان ہے اور خوشبو بخور کا بادل اٹھ رہا ہے۔
12 تب اس نے مجھے فرمایا کہ اے آدمزاد کیا تو نے دیکھا کہ بنی اسرائیل کے سب بزرگ تاریکی میں یعنی اپنے منقش کاشانوں میں کیا کرتے ہیں؟ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ خداوند ہم کو نہیں دیکھتا۔ خداوند نے ملک کو چھوڑ دیا ہے۔
13 اور اس نے مجھے یہ بھی فرمایا تو ابھی ان سے بھی بڑی مکروہات جو وہ کرتے ہیں دیکھے گا۔
14 تب وہ مجھے خداوند کے گھر کے شمالی پھاٹک پر لایا اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں عورتیں بیٹھی تموز پر نوحہ کر رہی ہیں۔
15 تب اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد کیا تو نے یہ دیکھا ہے؟ توابھی ان سے بھی بڑی مکروہات دیکھے گا۔
16 پھر وہ مجھے خداوند کے گھر کے اندرونی صحن میںلے گیا اور کیا دیکھتاہوں کہ خداوند کی ہیکل کے دروازہ پر آستانہ مذبح کے درمیان قریباً پچیس شخص ہیں جن کی پیٹھ خداوند کی ہیکل کی طرف ہے اور انکے منہ مشرق کی طرف ہیں اور مشرق کا رخ کر کے آفتاب کوسجدہ کر رہے ہیں۔
17 تب اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد کیا تو نے یہ دیکھا ہے؟ کیا بنی یہودا کے نزدیک یہ چھوٹی سی بات ہے کہ وہ یہ مکروہ کام کریں جووہ یہاں کرتے ہیںکیونکہ انہوں نے تو ملک کو ظلم سے بھر دیا اور پھر مجھے غضب ناک کیا اور دیکھ وہ اپنی ناک سے ڈالی لگاتے ہیں۔ پس میں بھی قہر سے پیش آﺅں گا۔
18 میری آنکھ رعایت نہ کرے گی اور میں ہر گز رحم نہ کروں گااور اگرچہ وہ چلا چلا کر میرے کانوں میں آہ و نالہ بھی کریں تو بھی میں انکی نہ سنوں گا۔


باب 9

1 پھر اس نے بلند آواز سے پکار کر میرے کانوں میں کہا کہ ان کو جو شہر کے منتظم ہیں نزدیک بلا۔ ہر ایک شخص اپنا مہلک ہتھیارہاتھ میں لئے ہو۔
2 اور دیکھ چھ مرد اوپر کے پھاٹک کی راہ سے جو شمال کی طرف ہے چلے آئے اور ہر ایک مرد کے ہاتھ میں اس کا خونریز ہتھیار تھا اور ان کے درمیان ایک آدمی کتانی لباس پہنے تھا اور اسکی کمرپر لکھنے کی دوات تھی۔ سو وہ اندر گئے اور پیتل کے مذبح کے پاس کھڑے ہوئے۔
3 اور اسرائیل کے خدا کا جلال کروبی پر ے جس پر وہ تھا اٹھ کر گھر کے آستانہ پر گیا اور اس نے اس مرد کو جو کتانی لباس پہنے تھا اور جس کے پاس لکھنے کی دوات تھی پکارا۔
4 اور خداوند نے اسے فرمایا کہ شہر کے درمیان سے ہاں یروشلیم کے بیچ سے گزر اور ان لوگوں کی پیشانی پر جو ان نفرتی کامو ں کے سبب سے جو اس کے درمیان کئے جاتے ہیں آہیں مارتے اور روتے ہیں نشان کردے۔
5 اور اس نے میرے سنتے ہوئے دوسروں سے فرمایا اس کے پیچھے پیچھے شہر میں سے گزر کرو اور مارو۔ تمہاری آنکھیں رعایت نہ کریں اور تم رحم نہ کرو۔
6 تم بوڑھوں اور جوانوں اور لڑکیوں اور ننھے بچوں اور عورتوں کو بالکل مار ڈالو لیکن جن پر نشان ہے ان میں سے کسی کے پاس نہ جاﺅ اور میرے مقدس سے شروع کرو۔ تب انہوں نے ان بزرگوں سے جو ہیکل کے سامنے تھے شروع کیا۔
7 اور اس نے ان کو فرمایا کہ ہیکل کو ناپاک کرو اور مقتولوں سے صحنوں کو بھر دو ۔ چلو باہر نکلو۔ سو وہ شہر میں نکل گئے اور قتل کرنے لگے۔
8 اور جب وہ انکو قتل کر رہے تھے اور میں بچ رہا تھا تو یوں ہوا کہ وہ منہ کے بل گرا اور چلا کر کہا آہ! اے خداوند خدا کیا تو اپنا قہرِ شدید یروشلیم پر نازل کر کے اسرائیل کے سب باقی لوگوں کو ہلاک کرے گا؟
9 تب اس نے مجھے فرمایا کہ اسرائیل اور یہودا کے خاندان کی بدکرداری نہایت عظیم ہے۔ ملک خونریزی سے پر ہے اور شہر بے انصافی سے بھرا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ خداوند نے ملک چھوڑ دیا ہے اور وہ نہیں دیکھتا۔
10 پس میری آنکھ رعایت نہ کرے گی اور میں ہرگز رحم نہ کروں گا۔ میں ان کی روش کا بدلہ ان کے سر پر لاﺅں گا۔
11 اور دیکھو اس آدمی نے جو کتانی لباس پہنے تھا اور جس کے پاس لکھنے کی دوات تھی یوں کیفیت بیان کی جیسا تو نے مجھے حکم دیا میں نے کیا۔


باب 10

1 تب میں نے نگاہ کی اورکیا دیکھتا ہوں کہ اس فضا پر جو کروبیوں کے سر کے اوپر تھی ایک چیز نیلم سی دکھائی دی اور اس کی صورت خت کی سی تھی۔
2 اور اس نے اس آدمی کو جو کتانی لباس پہنے تھا فرمایا کہ ان پہیوں کے اندر جا جو کروبی کے نیچے ہیں اور آگ کے انگارے جو کروبیوں کے درمیان ہیں مٹھی بھر کر اٹھا اور شہر کے اوپر بکھیر دے اور وہ گیا اور میں دیکھتا تھا۔
3 جب وہ شخص اندر گیا تب وہ کروبی ہیکل کے اندر کھڑے تھے اور اندرونی صحن بادل سے بھر گیا۔
4 تب خداوند کا جلال کروبی پر سے بلند ہو کر ہیکل کے آستانہ پر آیا اور ہیکل بادل سے بھر گئی اور صحن خداوند کے جلال کے نور سے معمور ہوگیا۔
5 اور کروبیوں کے پروں کی صدا باہر کے صحن تک سنائی دتی تھی جیسے قادر مطلق خدا کی آواز جب وہ کلام کرتا ہے۔
6 اور یوں ہوا کہ جب اس نے اس شخص کو جو کتانی لباس پہنے تھا حکم دیا کہ وہ پہیے کے اندر سے اور کروبیوں کے درمیان سے آگ لے تب وہ اندر گیا اور پہئے کے پاس کھڑا ہوا۔
7 اور کروبیوں میں سے ایک نے اپنا ہاتھ اس آگ کی طرف جو کروبیوں کی طرف تھی بڑھایا اور آگ لے کر اس شخص کے ہاتھوں پر جو کتانی لباس پہنے تھا رکھی۔وہ لیکر باہر چلا گیا۔
8 اور کروبیوں کے درمیان ان کے پروں کے نیچے انسان کے ہاتھ کی سی صورت نظر آئی۔
9 اور میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ چار پہئے کروبیوں کے آس پاس ہیں۔ ایک کروبی کے پاس ایک پہیہ اور دوسرے کے پاس دوسرا پہیہ تھا اور ان پہیﺅں کا جلوہ دیکھنے میں زبرجد کا سا تھا۔
10 اور ان کی شکل ایک ہی طرح کی تھی۔ جیسے پہیا پہئے کے اندر ہو۔
11 جب وہ چلتے تھے تو اپنی چاروں طرف پر چلتے تھے۔ وہ چلتے ہوئے مڑتے نہ تھے ۔ جس طرف کہ سر کا رخ ہوتا تھا اسی طرف اس کے پیچھے پیچھے جاتے تھے۔ وہ چلتے ہوئے مڑتے نہ تھے۔
12 اور ان کے تمام بدن اور پیٹھ اور ہاتھوں اور پروں اور ان پہیوں میں گردا گرد آنکھیں ہی آنکھیں تھیںیعنی ان چاروں کے پہیوں میں۔
13 ان پہیوں کو میرے سنتے ہوئے چرخ کہاگیا۔
14 اور ہر ایک کے چار چہرے تھے پہلا چہرہ کروبی کا۔ دوسرا انسان کا۔ تیسرا شیر ببر کا اور چوتھا عقاب کا۔
15 اور کروبی بلند ہوئے۔ یہ وہ جاندار تھا جو میں نے نہر کبار میں دیکھا تھا۔
16 اور جب کروبی چلتے تھے تو پہئے بھی ان کے ساتھ ساتھ چلتے تھے اور جب کروبیوں نے اپنے بازو پھیلائے تاکہ زمین سے اوپر بلند ہوں تو وہ پہئے ان کے پاس سے جدا نہ ہوئے۔
17 جب وہ ٹھہرتے تھے تو یہ بھی ٹھہرتے تھے اور جب وہ بلند ہوتے تھے تو یہ بھی ان کے ساتھ بلند ہو جاتے تھے کیونکہ جاندار کی روح ان میں تھی۔
18 اور خداوند کا جلال گھر کے آستانہ پر سے روانہ ہو کر کروبیوں کے اوپر ٹھہر گیا۔
19 تب کروبیوں نے اپنے بازو پھیلائے اورمیری آنکھوں کے سامنے زمین سے بلند ہوئے اور چلے گئے اور پہئے ان کے ساتھ ساتھ تھے اور وہ خداوند کے گھر کے مشرقی پھاٹک کے آستانہ پر ٹھہرے اور اسرائیل کے خدا کا جلال ان پر جلوہ گر تھا۔
20 یہ وہ جاندار ہے جو میں نے اسرائیل کے خدا کے نیچے نہر کبار کے کنارے پر دیکھا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ یہ کروبی ہیں۔
21 ہر ایک کے چار چہرے تھے اور چار بازو اور ان کے بازوﺅں کے نیچے انسان کا سا ہاتھ تھا۔
22 رہی ان کے چہروں کی صورت ۔ یہ وہی چہرے تھے جو میں نہر کبار کے کنارے پر دیکھے تھے یعنی ان کی صورت اور وہ خود۔ وہ سب کے سب سیدھے آگے ہی کو چلے جاتے تھے۔


باب 11

1 اور روح مجھ کو اٹھا کر خداوند کے گھر کے مشرقی پھاٹک پر جس کا رخ مشرق کی طرف ہے لے گئی اور کیا دیکھتا ہوں کہ اس پھاٹک کے آستانہ پر پچیس شخص ہیں اور میں نے ان کے درمیان یازنیا بن عزور اور فلطیاہ بن بنایاہلوگوں کے امرا کو دیکھا۔
2 اور اس نے مجھے فرمایا کہ اے آدمزاد یہ وہ لوگ ہیں جو اس شہر میں بدکرداری کی تدبیر اور بری مشورت کرتے ہیں۔
3 جو کہتے ہیں کہ گھر بنانا نزدیک نہیں ہے۔ یہ شہر تو دیگ ہے اور ہم گوشت ہیں۔
4 اس لئے تو ان کے خلاف نبوت کر ۔ اے آدمزاد نبوت کر۔
5 اور خداوند کی روح مجھ پر نازل ہوئی اور اس نے مجھے کہا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اے بنی اسرائیل تم نے یوں کہا ہے ۔ میں تمہارے دل کے خیالات جانتا ہوں۔
6 تم نے اس شہر میں بہتوں کو قتل کیا بلکہ اس کی سڑکوں کو مقتولوں سے بھر دیا ہے۔
7 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ تمہارے مقتول جن کی لاشیں تم نے شہر میں رکھ چھوڑی ہیں یہ وہی گوشت ہے اور یہ شہر وہی دیگ ہے لیکن تم اس سے باہر نکالے جاﺅ گے۔
8 تم تلوار سے ڈرے ہو اور خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں تلوار تم پر لاﺅں گا۔
9 اورمیں تم کو اس سے باہر نکالوں گا اور تم کو پردیسیوں کے حوالہ کردوں گا اور تم کو سزا دوں گا۔ تم تلوار سے قتل ہوگے۔
10 اسرائیل کی حدود کے اندر میں تمہاری عدالت کروں گا اور تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
11 یہ شہر تمہارے لئے دیگ نہ ہوگا نہ تم اس میں کا گوشت ہوگے بلکہ میں بنی اسرائیل کی حدود کے اندر تمہارا فیصلہ کروں گا۔
12 اورتم جانو گے کہ میں تمہارا خداوند ہوں جس کے آئین پر تم نہیں چلے اور جس کے احکام پر تم نے عمل نہیں کیا بلکہ تم ان قوموں کے احکام پر جو تمہارے آس پاس ہیں کار بند ہوئے۔
13 اور جب میں نبوت کر رہا تھا تو یوں ہوا کہ فلطیاہ بن بنایاہ مرگیا۔ تب میں منہ کے بل گرا اور بلند آواز سے چلا کر کہا آہ خداوند خدا! کیا تو بنی اسرائیل کے بقیہ کو بالکل مٹا ڈالے گا؟
14 تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
15 کہ اے آدمزاد تیرے بھائیوں ہاں تیرے بھائیوں یعنہ قرابتیوں بلکہ سب بنی اسرائیل سے ہان ان سب سے بنی اسرائیل کے باشندوں نے کہا ہے خداوند سے دور رہو۔ یہ ملک ہم کو میراث میں دیا گیا ہے۔
16 اس لئے تو کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ ہر چند میں نے ان کو قوموں کے درمیان ہانک دیا ہے اور غیر ملکوں میں پراگندہ کیا لیکن میں ان کےلئے تھوڑی دیر تک ان ملکوں میں جہاں جہاں وہ گئے ہیں ایک مقدس ہوں گا۔
17 اس لئے تو کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں تم کو امتوں میں سے جمع کروں گا اور ان ملکوں میں سے جن میں تم پراگندہ ہوئے تم کو فراہم کروں گا اور اسرائیل کا ملک تم کو وں گا۔
18 اور وہ ہاں آئیں گے اور اس کی تمام نفرتی اور مکروہ چیزیں اس سے دور کر دیں گے۔
19 اور میں ان کو نیا دل دوں گا اور نئی روح تمہارے باطن میں ڈالوں گا اور سنگین دل ان کے جسم سے خارج کر دوں گا اور ان کو گوشتین دل عنایت کروں گا۔
20 تاکہ وہ میرے آئین پر چلیں اور میرے احکام پر عمل کریں اور ان پر کار بند ہوں اور وہ میرے لوگ ہوں گے اور میں ان کا خدا ہوں گا۔
21 لیکن جن کا دل اپنی نفرتی اور مکروہ چیزوں کا طالب ہوکر ان کی پیروی میں ہے ان کی بابت خداوند خدا فرماتا ہے کہ میں انکی روش کو انہی کے سر پرلاﺅں گا۔
22 تب کروبیوں نے اپنے اپنے بازو بلند کئے اور پہئے ان کے ساتھ ساتھ چلے اور اسرائیل کے خدا کا جلال ان کے اوپر جلوہ گر تھا۔
23 اور خداوند کا جلال شہر میں سے اٹھا اور شہر کے مشرقی طرف کے پہاڑ پر جا ٹھہرا۔
24 تب روح نے مجھے اٹھایا اور خدا کی رویا نے مجھے پھر کسدیوں کے ملک میں اسیروں کے پاس پہنچا دیا اور وہ رویا جو میں نے دیکھی مجھ سے غائب ہوگئی۔
25 اور میں نے اسیروں سے خداوند کی وہ سب باتیںبیان کیں جو اس نے مجھ پر ظاہر کی تھیں۔


باب 12

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ اے آدمزاد! تو ایک باغی گھرانے کے درمیان رہتا ہے جن کی آنکھیں ہیں کہ دیکھیں پر وہ نہیں دیکھتے اور ان کے کان ہیں کہ سنیں پر وہ نہیں سنتے کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔
3 اس لئے اے آدمزاد سفر کا سامان تیار کر اور دن کو ان کے دیکھتے ہوئے اپنے مکان سے روانہ ہو۔ تو ان کے سامنے اپنے مکان سے دوسرے مکان کو جا۔ ممکن ہے کہ وہ سوچیں اگر چہ وہ باغی خاندان ہیں۔
4 اور دن کو ان کی آنکھوں کے سامنے اپنا سامان باہر نکا ل جس طرح نکل مکان کےلئے سامان نکالتے ہیں اور شام کو ان کے سامنے ان کی مانند جو اسیر ہو کر نکل جاتے ہیں نکل جا۔
5 انکی آنکھوں کے سامنے دیوار میں سوراخ کر اور اس راہ میں سے سامان نکال۔
6 انکی آنکھوں کے سامنے تو اسے اپنے کاندھے پر اٹھا اور اندھیرے میں اسے نکال لے جا۔ تو اپنا چہرہ ڈھانپ تاکہ زمین کو نہ دیکھ سکے کیونکہ میں نے تجھے بنی اسرائیل کےلئے ایک نشان مقرر کیا ہے۔
7 چنانچہ جیسا مجھے حکم تھا ویسا ہی میں نے کیا۔ میں نے دن کو سامانا نکالا جیسے نقل مکان کےلئے نکلاتے ہیں اور شام کو میں نے اپنے ہاتھ سے دیوار میں سوراخ کیا۔ میں نے اندھیرے میں اسے نکالا اور ان کے دیکھتے ہوئے کاندھے پر اٹھا لیا۔
8 اور صبح کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
9 کہ اے آدمزاد کیا بنی اسرائیل نے جو باغی خاندان ہیں تجھ سے نہیں پوچھا کہ تو کیا کرتا ہے؟
10 ان کو جواب دے کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ یروشلیم کے حاکم اور تمام بنی اسرائیل کےلئے جو اس میں ہیں یہ بارِ نبوت ہے۔
11 ان سے کہہ دے میں تمہارے لئے نشان ہوں جیسا میں نے کیا ویسا ہی ان سے سلوک کیا جائے گا۔ وہ جلاوطن ہوں گے اور اسیری میں جائیںگے۔
12 اور جو ان میں حاکم ہے وہ شام کو اندھیرے میں اٹھ کر اپنے کاندھے پر سامان اٹھائے ہوئے نکل جائے گا۔وہ دیوار میں سوراخ کریں گے کہ اس راہ سے نکال لے جائیں وہ اپنا چہرہ ڈھانپے گا کیونکہ اپنی آنکھوں سے زمین کو نہ دیکھے گا۔
13 اور میں اپنا جال اس پر بچھاﺅں گا اور وہ اس میں پھنس جائے گا اور میں اسے کسدیوں کے ملک میں بابل میں پہنچاﺅں گا لیکن وہ اسے نہیں دیکھے گا اگر چہ وہیں مرے گا۔
14 اور میں اس کے آس پاس کے سب حمایت کرنے والوں کو اور اس کے سب غولوں کو تمام اطراف میں پراگندہ کروں گا اور میں تلوار کھینچ کران کا پیچھا کروں گا۔
15 اور جب میں ان کو اقوام میں پراگندہ اور ممالک میں تتر بتر کروں گا تب وہ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں۔
16 لیکن میں ان میں سے بعض کو تلوار اور کال سے اور وبا سے بچا رکھوں گا تاکہ وہ قوموں کے درمیان جہاں کہیں جائیں اپنے تمام نفرتی کاموں کو بیان کریں اور وہ معلوم کریں گے کہ میں خداوند ہوں۔
17 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
18 کہ اے آدمزاد ! تو تھرتھراتے ہوئے روٹی کھا اور کانپتے ہوئے اور فکر مندی سے پانی پی۔
19 اور اس ملک کے لوگوں سے کہہ کہ خداوند خدا یروشلیم اور ملک اسرائیل کے باشندوں کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ وہ فکرمندی سے روٹی کھائیں گے اور پریشانی سے پانی پئیں گے تاکہ اس کے باشندوں کی ستمگری کے سبب سے ملک اپنی معموری سے خالی ہو جائے۔
20 اور وہ بستیاں جو آباد ہیں اجاڑ ہو جائیں گی اور ملک ویران ہوگا اور تم جانو گے کہ خداوند میں ہوں۔
21 پھر خداوند کا کلام مجھ نازل ہوا۔
22 کہ اے آدمزاد! ملک اسرائیل میں یہ کیا مثل جاری ہے کہ وقت گزرتا جاتا ہے اور کسی رویا کا کچھ انجام نہیں ہوا؟
23 اس لئے ان سے کہہ دے کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں اس مثل کو موقوف کروں گا اور پھر اسے اسرائیل میں استعمال نہ کریں گے بلکہ تو ان سے کہہ کہ وقت آگیا ہے اور ہر رویا کا انجام قریب ہے۔
24 کیونکہ آگے کو بنی اسرائیل کے درمیان رویایِ باطل اور خوش آمد کی غیب دانی نہ ہوگی۔
25 کیونکہ میں خدا وند ہوں میں کلام کروں گا اور میرا کلام ضرور پورا ہوگا۔ اس کے پورا ہونے میں تاخیر نہ ہوگی بلکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے باغی خاندان میں تمہارے دنوں میں کلام کر کے اسے پورا کروں گا۔
26 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
27 کہ اے آدمزاد بنی اسرائیل کہتے ہیں کہ جو رویا اس نے دیکھی ہے بہت مدت میں ظاہر ہوگی اور وہ ان ایام کی خبر دیتا ہے جو بہت دور ہیں۔
28 اس لئے ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ آگے کو میری کسی بات کی تکمیل میں تاخیر نہ ہوگی بلکہ خداوند خدا فرماتا ہے کہ جو بات میں کہوں گا وہ پوری ہو جائے گی۔


باب 13

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ اے آدمزاد! اسرائیل کے نبی جو نبوت کرتے ہیں ان کے خلاف نبوت کر اور جو اپنے دل سے بات بنا کر نبوت کرتے ہیں ان سے کہہ خداوند کا کلام سنو۔
3 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ احمق نبیوں پر افسوس جو اپنی روح کی پیروی کرتے ہیں اور انہوں نے کچھ نہیں دیکھا۔
4 اے اسرائیل تیرے نبی ان لومڑیوں کی مانند ہیں جو ویرانوں میں رہتی ہیں۔
5 تم رخنوں پر نہیں گئے اور نہ ہی بنی اسرائیل کےلئے فصیل بنائی تاکہ وہ خداوند کے دن جنگ گاہ میں کھڑے ہوں۔
6 انہوں نے باطل اور جھوٹا شگون دیکھا ہے جو کہتے ہیں کہ خداوند خدا فرماتا ہے اگر چہ خداوند نے ان کو نہیں بھیجا اور لوگوں کو امید دلاتے ہیں کہ ان کی بات پوری ہو جائے گی۔
7 کیا تم نے باطل رویا نہیں دیکھی؟ کیا تم نے جھوٹی غیب دانی نہیں کی کیونکہ تم کہتے ہو کہ خداوند خدا نے فرمایا اگر چہ میں نے نہیں فرمایا؟
8 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے جھوٹ بولا ہے اور بطلان دیکھا اس لئے خداوند خدا فرماتا ہے کہ میں تمہارا مخالف ہوں۔
9 اور میرا ہاتھ ان نبیوں پر جو بطلان دیکھتے ہیں اور جھوٹی غیب دانی کرتے ہیں چلے گا نہ وہ میرے لوگوں کے مجمع میںشامل ہوں گے نہ اسرائیل کے خاندان کے دفتر میں لکھے جائیں گے اور نہ وہ اسرائیل کے ملک میں داخل ہوں اور تم جان لو گے کہ میں خداوند ہوں۔
10 اس سبب سے کہ انہوں نے میرے لوگوں کو یہ کہہ کر ورغلایا ہے کہ سلامتی ہے حالانکہ سلامتی نہیں۔ جب کوئی دیوار بناتا ہے تو وہ اس پر کچی کہگل کرتے ہیں ۔
11 تو ان سے جو کچی کہگل کرتے ہیں کہہ کہ وہ گر جائے گی کیونکہ موسلادھار بار ہوگی اور بڑے بڑے اولے پڑیں گے اور آندھی اسے گرا دے گی۔
12 اور جب وہ دیوار گرے گی تو کیا لوگ تم سے نہ پوچھیں گے کہ وہ کہگل کہاں ہے جو تم نے اس پر کی تھی؟
13 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں اپنے غضب کے طوفان سے اسے توڑ دوں گا اور میرے قہر سے جھما جھم مینہ برسے گا اور میرے قہر کے اولے پڑیں گے تاکہ اسے نابود کریں۔
14 سو میں اس دیوار کو جس پر تم نے کچی کہگل کی ہے توڑ ڈالوں گا اور زمین پر گراﺅں گا یہاں تک کہ اس کی بنیاد ظاہر ہو جائے گی ہاں وہ گرے گی اور تم اسی میں ہلاک ہو جاﺅگے اور جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
15 میں اپنا قہر اس دیوار پر اور ان پر جنہوں نے اس پر کچی کہگل کی ہے پورا کروں گا اور تب میں تم سے کہوں گا کہ نہ وہ دیوار رہی اور نہ وہ جنہوں نے اس پر کچی کہگل کی۔
16 یعنی اسرائیل کے نبی جو یروشلیم کی بابت نبوت کرتے ہیں اور اسکی سلامتی کی رویا دیکھتے ہیں حالانکہ سلامتی نہیں ہے خداوند خدا فرماتا ہے۔
17 اور اے آدمزاد ! تو اپنی قوم کی بیٹیوں کی طرف جو اپنے دل سے بات بنا کر نبوت کرتی ہیں متوجہ ہو کر ان کے خلاف نبوت کر۔
18 کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ تم پر افسوس تم سب پر جو کہنیوں سے نیچے کی گدّی سیتی ہو اور ہر ایک قد کے موافق سر کےلئے برقعہ بناتی ہو کہ جانوروں کو شکار کرو! کیا تم میرے لوگوں کی جانوں کا شکار کرو گی اور اپنی جان بچاﺅ گی؟
19 اور تم نے مٹھی بھر جو کےلئے اور روٹی کے ٹکڑوں کےلئے میرے لوگوں میں مجھے ناپاک ٹھہرایا تاکہ تم ان جانوں کو مار ڈالو جو مرنے کے لائق نہیں اور ان کو زندہ رکھو جو زندہ رہنے کےلئے لائق نہیں ہیں کیونکہ تم میرے لوگوں سے جو جھوٹ سنتے ہیں جھوٹ بولتی ہو۔
20 پس خداوند خدا فرماتا ہے کہ دیکھو میں تمہاری گدّیوں کا دشمن ہوں جن سے تم جانوں کو پرندوں کی مانند شکار کرتی ہو اور میں ان کو تمہاری کہنیوں کے نیچے سے پھاڑ ڈالوں گا اور ان جانوں کو جن کو تم پرندوں کی مانند شکار کرتی ہو آزاد کردوں گا۔
21 اور میں تمہارے برقعوں کو بھی پھاڑ دوں گا اور اپنے لوگوں کو تمہارے ہاتھ سے چھڑاﺅں گا اور پھر تمہارا کبھی بس نہ چلے گا کہ ان کا شکار کرو اور تم جانو گی کہ میں خداوند ہوں۔
22 اس لئے کہ تم نے جھوٹ بول کر صادق کے دل کو اداس کیا جس کو میں نے غمگین نہیں کیا اور شریر کی مدد کی ہے تا کہ وہ اپنی جان بچانے کےلئے اپنی بری روش سے باز نہ آئے۔
23 اس لئے آگے کو تم نہ بطالت دیکھو گی اور نہ غیب گوئی کروگی کیونکہ میں اپنے لوگوں کو تمہارے ہاتھ سے چھڑاﺅں گا تب تم جانو گی کہ خداوند مَیں ہوں۔


باب 14

1 پھر اسرائیل کے بزرگوں میں سے چند آدمی میرے پاس آئے اورمیرے سامنے بیٹھ گئے۔
2 تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
3 کہ اے آدمزاد ان مردوں نے اپنے بتوں کو اپنے دل میں نصب کیا ہے اور اپنی ٹھوکر کھلانے والی بدکرداری کو اپنے سامنے رکھا ہے۔ کیا ایسے لوگ مجھ سے کچھ دریافت کر سکتے ہیں؟
4 اس لئے تو ان سے باتیںکر اور ان سے کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ہر کوئی جو اپنے بتوں کو اپنے دل میں نصب کر تا ہے اور اپنی ٹھوکر کھلانے والی بدرکرداری کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور نبی کے پاس آتا ہے میَں خداوند اسکے بتوں کی کثرت کے مطابق اس کو جواب دوں گا۔
5 تاکہ میں بنی اسرائیل کو انہی کے خیالات میں پکڑوں کیونکہ وہ سب کے سب اپنے بتوں کے سبب مجھ سے دور ہو گئے ہیں۔
6 اس لئے تو بنی اسرائیل سے کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ توبہ کرو اور اپنے بتوں سے باز آﺅ اور اپنی تمام مکروہات سے منہ موڑو۔
7 کیونکہ ہر ایک جو بنی اسرائیل میں سے یا ان بیگانوں میں سے جو بنی اسرائیل میں رہتے ہیں مجھ سے جدا ہو جاتا ہے اور اپنے دل میں اپنے بت کو نصب کرتا ہے اور اپنی ٹھوکر کھلانے والی بدکرداری کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور نبی کے پاس آتا ہے اور اس کی معرفت مجھ سے دریافت کرے اس کو میں خداوند آپ کی جواب دوں گا۔
8 اور میرا چہرہ اس کے خلاف ہو گا اور میں اسکو باعث حیرت و انگشت نما اور ضرب المثل بناﺅں گا اور اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالوں گااور تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
9 اور اگر نبی کچھ فریب کھا کر کہے تو میں خداوند نے اس نبی کو فریب دیا اور اپنا ہاتھ اس پر چلاﺅں گا اور اسے اپنے اسرائیلی لوگوں میں سے نابود کر دوں گا۔
10 اور وہ اپنی بدکرداری کی سزا برداشت کریں گے ۔ نبی کی بدکرداری کی سزا ویسی ہی ہوگی جیسی سوال کرنے والے کی بدکرداری کی۔
11 تاکہ نبی اسرائیل پھر مجھ سے بھٹک نہ جائیں اور اپنی سب خطاﺅں سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کریں بلکہ خداوند خدا فرماتا ہے کہ وہ میرے لوگ ہوں اور مَیں ان کا خدا ہوں۔
12 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
13 اے آدمزاد جب کوئی ملک سخت خطا کر کے میرا گناہگار ہو اور میں اپنا ہاتھ اس پر چلاﺅں اور اسکی روٹی کا عصا توڑ ڈالوں اور اس میں قحط بھیجوں اور اس کے انسان اور حیوان کو ہلاک کروں۔
14 تو اگرچہ یہ تین شخص نوح اور دانی ایل اور ایوب اس میں موجود ہوں تو بھی خداوند خڈا فرماتا ہے کہ وہ اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جان بچائیں گے۔
15 اگر میں کسی ملک میں مہلک درندے بھیجوں کہ اس میں گشت کر کے اسے تباہ کریں اور وہ یہاں تک تباہ ہو جائے کہ درندوں کے سبب سے کوئی اس میں سے گذر نہ سکے۔
16 تو خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کہ قسم اگر چہ یہ تین شخص اس میں ہوں تو بھی وہ نہ بیٹوں کو بچا سکیں گے نہ بیٹیوں کو۔ فقط وہ خود ہی بچیں گے اور ملک ویران ہو جائے گا۔
17 یااگر میں اس ملک پر تلوار بھیجوں اور کہوں کہ اے تلوار ملک میں سے گذر کر اور میں اس کے انسان اور حیوان کاٹ ڈالوں۔
18 تو خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم اگر چہ یہ تین شخص اس میں ہوں تو بھی نہ بیٹوں کو بچا سکیں گے نہ بیٹیوں کو فقط وہ خود ہی بچ جائیں گے۔
19 یا اگر میں اس ملک میں وبا بھیجوں اور خونریزی کراکر اپنا قہر اس پر نازل کروں کہ وہاں کے انسان اور حیوان کو کاٹ ڈالوں۔
20 اگر چہ نوح اور دانی ایل اور ایوب اس میں ہوں تو بھی خدا خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم وہ نہ بیٹے کو بچا سکیں گے نہ بیٹی کو بلکہ اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جان بچائیں گے۔
21 پس خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میں اپنی چار بڑی بلائیں یعنی تلوار اور قحط اور مہلک درندے اور وبا یروشلیم پر بھیجوں کہ انسان اور حیوان کو کاٹ ڈالوں تو کیا حال ہوگا۔
22 تو بھی وہاں تھوڑے سے بیٹے بیٹیاں بچ رہیں گے جو نکال کر تمہارے پاس پہنچائے جائیں گے اور تم ان کی روش اور ان کے کاموں کو دیکھ کر اس آفت کی بابت جو میں نے یروشلیم پر بھیجی اور ان سب آفتوں کی بابت جو میں اس پر لایا ہوں تسلی پاﺅ گے۔
23 اور وہ بھی جب تم ان کی روش اور ان کے کاموں کو دیکھ گے تمہاری تسلی کا باعث ہوں گے اور تم جانو گے کہ جو کچھ میں نے اس میں کیا ہے بے سبب نہیں کیا خداوند خدا فرماتا ہے۔


باب 15

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد کیا تاک کی لکڑی اور درختوں کی لکڑی سے شاخ انگور جنگل کے درختوں سے کچھ بہتر ہے؟
3 کیا اس کی لکڑی کوئی لیتا ہے کہ اس سے کچھ بنائے؟ یا لوگ اسکی کھونٹیاں بنا لیتے ہیں کہ ان پر برتن لٹکائیں؟
4 دیکھ وہ آگ میں ایندھن کےلئے ڈالی جاتی ہے جب آگ اس کے دونوں سروں کو کھا گئی اور درمیانی حصہ کو بھسم کر چکی تو کیا وہ کسی کام کی ہے؟
5 دیکھ جب وہ سالم تھی تو کسی کام کی نہ تھی اور جب آگ سے جل گئی تو کس کام کی ہے؟
6 پس خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جس طرح میں نے جنگل کے درختوں میں سے انگور کے درخت کو آگ کا ایندھن بنایا اسی طرح یروشلیم کے باشندوں کو بناﺅں گا۔
7 اور میرا چہرہ ان کے خلاف ہو گا ۔ وہ آگ سے نکل بھاگیں گے پر آگ ان کو بھسم کرے گی اور جب میرا چہرہ ان کے خلاف ہو گا تو تم جانو گے کہ خداوند میں ہوں۔
8 اور میں ملک کو اجاڑ ڈالوں گا اس لئے کہ انہوں نے بڑی بے وفائی کی ہے خداوند خدا فرماتا ہے۔


باب 16

1 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ آدمزاد یروشلیم کو اس کے نفرتی کاموں سے آگاہ کر۔
3 اور کہہ کہ خداوند خدا یروشلیم سے ہوں فرماتا ہے کہ تیری ولادت اورتیری پیدائش کعنان کی سر زمین کی ہے۔ تیرا باپ اموری تھا اور تیری ماں حِتی تھی۔
4 اور تیری پیدائش کا حال یوں ہے کہ جس دن تو پیدا ہوئی تیری ناف کاٹی نہ گئی اور نہ صفائی کےلئے تجھے پانی سے غسل ملا اور تجھ پر نمک ملا گیا اور تو کپڑوں میں لپیٹی نہ گئی۔
5 کسی کی آنکھ نے تجھ پر رحم نہ کیا کہ تیرے لئے یہ کام کرے اور تجھ پر مہربانی دکھائے بلکہ تو اپنی ولادت کے روز باہر میدان میں پھینکی گئی کیونکہ تجھ سے نفرت رکھتے تھے۔
6 تب میں نے تجھ پر گذر کیا اور تجھے تیرے ہی لہو میں لوٹتی دیکھا اور میں نے تجھے جب تو اپنے خون میں آغِشتہ تھی کہا کہ جیتی رہ۔ ہاں میں نے تجھ خون آلودہ سے کہا کہ جیتی رہ۔
7 میں نے تجھے چمن کے شگوفوں کی مانند ہزار چند بڑھایا۔ سو تو بڑھی اور بالغ ہوئی اور کمال و جمال تک پہنچی ۔ تیری چھاتیاں اٹھیں اور تیری زلفیں بڑھیں لیکن تو ننگی اور برہنہ تھی۔
8 پھر میں نے تیری طرف گذر کیا اور تجھ پر نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ تو عشق انگیز عمر کو پہنچ گئی ہے پس میں اپنا دامن پھیلایا اور تیری برہنگی کو چھپایا اور قسم کھا کر تجھ سے عہد باندھا خداوند خدا فرماتا ہے اور تو میری ہوگئی۔
9 پھر میں نے تجھے پانی سے غسل دیا اور تجھے بالکل دھو ڈالا اور تجھ پر عطر ملا۔
10 اور میں نے تجھے زردوز لباس میں ملبس کیا اور تخس کی کھال کی جوتی پہنائی ۔ نفیس کتان سے تیرا کمر بند بنایا اور تجھے سراسر ریشم سے ملبس کیا۔
11 میں نے تجھے زیور سے آراستہ کیا تیرے ہاتھوں میں کنگن پہنائے اور تیری گلے میں طوق ڈالا۔
12 اور میں نے تیری ناک میں نتھ اور تیرے کانوں میں بالیا ں پہنائیں اور ایک خوبصورت تاج تیرے سر پر رکھا۔
13 اور تو سونے چاندی سے آراستہ ہوئی اور تیری پوشاک کتانی اور ریشمی اور چکن دوزی کی تھی اور تو میدہ اور شہد اور چکنائی کھاتی تھی اور تو نہایت خوبصورت اور اقبالمند ملکہ ہوگئی۔
14 اور اقوام عالم میں تیری شہرت پھیل گئی کیونکہ خداوند خدایوں فرماتا ہے کہ تو میرے اس جلال سے جو میں نے تجھے بخشا کامل ہوگئی۔
15 لیکن تو نے اپنی خوبصورت پر تکیہ کیا اور اپنی شہرت کے سبب بدکاری کرنے لگی اور ہر ایک کے ساتھ جس کا تیری طرف گذر ہوا خوب فاحشہ بنی اور اسی کی ہوگئی۔
16 تو نے اپنی پوشاک سے اپنے اونچے مقام منقش کئے اور آراستہ کئے اور ان پر ایسی بدکاری کہ نہ کبھی کی اور نہ کبھی ہوگی۔
17 اور تو نے اپنے سونے چاندی کے نفیس زیوروں سے جو میں نے تجھے دئے تھے اپنے لئے مردوں کی مورتیں بنائی اور ان سے بدکاری کی۔
18 اور اپنی زردوز پوشاکوں سے انکو ملبس کیا اور میرا عطر اور بخور ان کے آگے رکھا۔
19 اور میرا کھانا جو میں نے تجھے دیا یعنی میدہ اور چکنائی اور شہد جو میں تجھے کھلاتا تھا تو نے ان کے سامنے خشبو کےلئے رکھا۔ خدا وند خدا فرماتا ہے کہ یوں ہی ہوا۔
20 اور تو نے اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کو جن کو تو نے میرے لئے جنم دیا لے کر ان کے آگے قربان کیا تاکہ وہ ان کو کھا جائے۔ کیا تیری بدکاری کوئی چھوٹی بات تھی۔
21 کہ تو نے میرے بچوں کو بھی ذبح کیا اور ان کو بتوں کےلئے آگ کے حوالہ کیا؟
22 اور تو نے اپنی تمام مکروہات اور بدکاری میں اپنے بچپن کے دنوں کو جب کہ تو ننگی اور برہنہ اپنے خون میں لوٹتی تھی کبھی یاد نہ کیا۔
23 اور خداوند خدا فرماتا ہے کہ اپنی ساری بدکاری کے علاوہ افسوس ! تجھ پر افسوس !
24 تو نے اپنے لئے گنبد بنایا اور ہر ایک بازار میں اونچا مقام تیار کیا۔
25 تو نے راستہ کے ہر کونے پر اپنا اونچا مقام تعمیر کیا اور اپنی خوبصورتی کو نفرت انگیز کیا اور ہر ایک راہ گذر کےلئے اپنے پاﺅں پسارے اور بدکاری میں ترقی کی ۔
26 اور تو نے اہل مصر اپنے پڑوسیوں سے جو بڑے قد آور ہیں بدکاری کی اور اپنی بدکاری کی کثرت سے مجھے غضب ناک کیا ۔
27 پس دیکھ میں نے اپنا ہاتھ تجھ پر چلایا اور تیرے وظیفہ کو کم کردیا اور تجھے تیری بدخواہ فلستیوں کی بیٹیوں کے قابو میں کر دیا جو تیری خراب روش سے شرمندہوتی تھیں۔
28 پھر تو نے اہل اسور سے بدکاری کی کیونکہ تو سیر نہ ہوسکتی تھی ۔ ہا ںتو نے ان سے بھی بدکاری کی پر تو بھی تو آسودہ ہ ہوئی۔
29 اور تو نے ملک کعنان سے کسدیوں کے ملک تک اپنی بدکاری کو پھیلایا لیکن اس سے بھی سیر نہ ہوئی۔
30 خداوند خدا فرماتا ہے تیرا دل کیسا بے اختیار ہے کہ تو یہ سب کچھ کرتی ہے جو بے لگام فاحشہ عورت کا کام ہے ۔
31 اس لئے کہ تو ہر ایک سڑک کے سرے پر اپنا گنبد بناتی ہے اور ہر ایک بازار میں اپنا اونچا مقام تیار کرتی ہے اور تو کسبی کی مانند نہیں کیونکہ تو اجرت لینا حقیر جانتی ہے۔
32 بلکہ بدکار بیوی کی مانند ہے جو اپنے شوہر کے عوض غیروں کو قبول کرتی ہے۔
33 لوگ سب کسبیو ں کو ہدعے دیتے ہیں پر تو اپنے یاروں کو ہدعے اور تحفے دیتی ہے تا کہ وہ چاروں طرف سے تیرے پاس آئیں اور تیرے ساتھ بدکاری کریں۔
34 اور تو بدکاری میں اور عورتوں کی مانند نہیں کیونکہ بدکاری کےلئے تیری پیچھے کوئی نہیں آتا۔ تو اجرت نہیں لیتی بلکہ خود اجرت دیتی ہے ۔ پس تو انوکھی ہے ۔
35 اس لئے اے بدکار تو خداوند کا کلام سن ۔
36 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تیری ناپاکی بہہ نکلی اور تیری برہنگی تیری بدکای کے باعث جو تو نے اپنے یاروں سے کی اور تیرے سب نفرتی بتوں کے سبب سے اور تیرے بچوں کے خون کے سبب سے جو تو نے ان کے آگے گذرانہ ظاہر ہوگئی۔
37 اس لئے دیکھ میں تیرے سب یاروں کو جن کو تو لذیز تھی اور ان سب کو جن کو تو چاہتی تھی اور ان سب کو جن سے تو کینہ رکھتی ہے جمع کروں گا۔ میں ان کو چاروں طرف سے تیری مخالفت پرفراہم کروں گا اور ان کے آگے تیری برہنگی کھول دوں گا تاکہ وہ تیری تمام برہنگی دیکھیں۔
38 اور میں تیری ایسی عدالت کروں گا جیسی بے وفا اور خونی بیوی کی اور میں غضب اور غیرت کی موت تجھ پر لاﺅں گا ۔
39 اور میں تجھے ان کے حوالہ کر دوں گااور وہ تیرے گنبد اور اونچے مقاموں کو مسمار کریں گے اور تیرے کپڑے اتاریں گے اور تیرے خوشنما زیور چھین لیں گے اور تجھے ننگی اور برہنہ چھوڑ جائیں گے۔
40 اور وہ تجھ پر ایک ہجوم چڑھا لائیں گے اور تجھے سنگسار کریں گے اور اپنی تلواروں سے تجھے چھید ڈالیں گے۔
41 اور وہ تیرے گھر آگ سے جلائیں گے اور بہت سی عورتوں کے سامنے تجھے سزا دیں گے اور میں تجھے بدکاری سے روک دوں گا اور تو پھر اجرت نہ دے گی۔
42 تب میرا قہر تجھ پر دھیما ہوجائے گا اور میری غیرت تجھ سے جاتی رہے گی اور میں تسکین پاﺅں گا اور پھر غضب ناک نہ ہوں گا ۔
43 چونکہ تو نے اپنے بچپن کے دنوں کو یاد نہ کیا اور ان سب باتوں سے مجھ کو افروختہ کیا اس لئے خداوند خدا فرماتا ہے دیکھ میں تیری بد راہی کا نتیجہ تیرے سر پر لاﺅں گا اور تو آگے کو اپنے سب گھنونے کاموں کے علاوہ ایسی بد ذاتی نہیں کر سکے گی۔
44 دیکھ سب مثل کہنے والے تیری بابت یہ مثل کہیں گے کہ جیسی ماں ویسی بیٹی۔
45 تو اپنی اس ماں کی بیٹی ہے جواپنے شوہر اور اپنے بچوں سے گھن کھاتی تھی اور تو اپنی ان بہنوں کی بہن ہے جو اپنے شوہروں اور اپنے بچوں سے نفرت رکھتی تھی تیری ماں حتی اور تیرا باپ اموری تھا ۔
46 اور تیری بڑی بہن سامریہ ہے جو تیری بائیں طرف رہتی ہے۔ وہ اور اس کی بیٹیاں اور تیری چھوٹی بہن جو تیری دہنی طرف سدوم اور اس کی بیٹیاں ہیں۔
47 لیکن تو فقط ان کی راہ پر نہیں چلی اور صرف انہی کے سے گھنونے کام نہیں کئے کیونکہ یہ تو گویا چھوٹی بات تھی بلکہ تو اپنی تمام روشوں میں ان سے بدتر ہوگئی۔
48 خداوند خدا فرماتاہے مجھے اپنی حیات کی قسم کہ تیری بہن سدوم نے ایسا نہیں کیا۔ نہ اس نے نہ اس کی بیٹیوں نے جیسا تو نے اور تیری بیٹیوں نے کیا ہے۔
49 دیکھ تیری بہن سدوم کی تقصیر یہ تھی غرور اور روٹی کی سیری اور راحت کی کثرت اس میں اور اس کی بیٹیوں میں تھی۔ اس نے غریب اور محتاج کی دستگیری نہ کی ۔ اور وہ متکبر تھیں اور نہوں نے میرے حضور گھنونے کام کئے اس لئے میں جب دیکھا تو ان کو اکھاڑ پھینکا۔
50
51 اور سامریہ نے تیرے گناہوں کے آدھے بھی نہیں کئے۔ تو نے ان کی نسبت اپنی مکروہات کو فراوان کیا ہے اور تو نے اپنی ان مکروہات سے اپنی بہنوں کو بے قصور ٹھہرایا ہے۔
52 پس تو آپ اپنی بہنوں کو مجرم ٹھہراتی ہے ان گناہوں کے سبب سے جو تو نے کئے جو ان کے گناہوں سے زیادہ نفرت انگیز ہیں ملامت اٹھا۔ وہ تجھ سے زیادہ بے قصور ہیں۔ پس تو بھی رسوا ہو اور شرم کھا کیونکہ تو نے اپنی بہنوں کو بے قصور ٹھہرایا ہے۔
53 اور میں ان کی اسیری کو بدل دوں گا یعنی سدوم اور اسکی بیٹیوں کی اسیری کواور سامریہ اور اسکی بیٹیوں کی اسیری کواور ان کے درمیان تیرے اسیروں کی اسیری کو۔
54 تاکہ تو اپنی رسوائی اٹھائے اور اپنے سب کاموں سے پشیمان ہو کیونکہ تو ان کےلئے تسلی کا باعث ہے۔
55 اور تیری بہنیں سدوم اور سامریہ اپنی اپنی بیٹیوں سمیت اپنی پہلی حالت پر بحال ہو جائیں گی اور تو اور تیری بیٹیاں اپنی پہلی حالت پر بحال ہو جاﺅ گی۔
56 تو نے اپنے گھمنڈ کے دنوں میں اپنی بہن سدوم کا نام تک زبان پر نہ لاتی تھی۔
57 اس سے پیشتر کہ تیری شرارت فاش ہوئی جب ارام کی بیٹیوں نے اور ان سب نے جو ان کے آس پاس تھیں تجھے ملامت کی اور فلستیوں کی بیٹیوں نے چاروں طرف سے تیری تحقیر کی۔
58 خداوند فرماتا ہے تو نے اپنی بد ذاتی اور گھنونے کاموں کی سزا پائی ۔
59 کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں تجھ سے جیسا تو نے کیا ویسا ہی سلوک کروں گا اس لئے کہ تو نے قسم کو حقیر جانااور عہد شکنی کی۔
60 لیکن میں اپنے اس عہد کو جو میں نے تیری جوانی کے ایام میں تیرے ساتھ باندھا یاد رکھوں گا اور ہمیشہ کا عہد تیرے ساتھ قائم کروں گا۔
61 اور جب تو اپنی بڑی اور چھوٹی بہنوں کو قبول کرے گی تب تو اپنی راہوں کو یاد کر کے پشیمان ہوگی اور میں ان کو تجھے دوں گا کہ تیری بیٹیاں ہوں لیکن یہ تیری عہد کے مطابق نہیں۔
62 اور میں اپنا عہدتیرے ساتھ قائم کروں گا اور تو جانے گی کہ خداوند مَیں ہوں۔
63 تاکہ تو یاد کرے اور پشیمان ہو اور شرم کے مارے پھر کبھی منہ نہ کھولے جبکہ میں سب کچھ جو تو نے کیا ہے معاف کردوں خداوند خدا فرماتا ہے۔


باب 17

1 اور خدا کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ اے آدمزاد ایک پہیلی نکال اور ہل اسرائیل سے ایک تمثیل بیان کر۔
3 اور کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ ایک بڑا عقاب جو بڑے بازو اور لمبے پر رکھتے تھا اور اپنے رنگا رنگ کے بال و پر میں چھپا ہوا لبنان میں آیا اور اس نے دیودار کی چوٹی توڑلی۔
4 وہ سب سے اونچی ڈالی توڑ کر سوداگری کے ملک میں لے گیا اور سوداگروں کے شہر میں اسے لگایا۔
5 اور وہ اس سر زمین میں سے بیج لے گیا اور اسے زرخیز زمین میں بویا۔ اس نے اسے آب فراوان کے کنارے بید کے درخت کی طرح لگایا ۔
6 اور وہ اگا اور انگور کاایک پست قد شاخدار درخت ہوگیا اور اسکی شاخیں اس کی طرف جھکی تھیںاور اسکی جڑیں اس کے نیچے تھیں چنانچہ وہ انگور کا ایک درخت ہوا۔اس کی شاخیں نکلیں اور اس کی کونپلیں بڑھیں۔
7 اور ایک اور بڑا عقاب تھا جس کے بازو بڑے بڑے اور پر و بال بہت تھے اور اس تاک نے اپنی جڑیں اس کی طرف جھکائیںاور اپنی کیاریوں سے اپنی شاخیں اس کی طرف بڑھائیں تاکہ وہ اسے سینچے۔
8 یہ آب فراوان کے کنارے زرخیز زمین میں لگائی گئی تھی۔ تاکہ اس کی شاخیں نکلیں اور اس میں پھل لگیںاور یہ لفیس تاک ہو۔
9 تو کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ کیا یہ برو مند ہوگی؟ کیا وہ اس کو اکھاڑ نہ ڈالے گا؟ اور اس کا پھل نہ توڑ ڈالے گا کہ یہ خشک ہو جائے اور اسکے سب تازہ پتے مرجھا جائیں؟ اسے جڑ سے اکھاڑنے کےلئے بہت طاقت اور بہت سے آدمیوں کی ضرورت نہ ہوگی۔
10 دیکھ یہ لگائی تو گئی پر کیا یہ برومند ہوگی؟ کیا یہ پوربی ہوا لگتے ہی بالکل سوکھ نہ جائے گی؟ یہ اپنی کیاریوں ہی میں پژ مردہ ہوجائے گی ۔
11 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
12 کہ اس باغی خاندان سے کہہ کیا تم ان باتوں کا مطلب نہیں جانتے ؟ ان سے کہہ دیکھو شاہ بابل نے یروشلیم پر چڑھائی کی اور اسکے بادشاہ کو اور اس کے امرا کو اسیر کر کے اپنے ساتھ بابل کو لے گیا ۔
13 اور اس نے شاہی نسل میں سے ایک کو لیا اور اس کے ساتھ عہد باندھا اور اس سے قسم لی اور ملک کے بہادروں کو بھی لے گیا۔
14 تاکہ وہ مملکت پست ہو جائے اور پھر سر نہ اٹھا سکے بلکہ اس کے عہد کو قائم رکھنے سے قائم رہے۔
15 لیکن اس نے بہت سے آدمی اور گھوڑے لینے کےلئے مصر میں ایلچی بھیج کر اس سے سرکشی کی۔ کیا وہ کامیاب ہوگا؟کیا ایسے کام کرنے والا بچ سکتا ہے؟ کیا وہ عہد شکنی کر کے بھی بچ جائے گا؟
16 خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم وہ اسی جگہ جہاں اس بادشاہ کا مسکن ہے جس نے اسے بادشاہ بنایا اور جسکی قسم کو اس نے حقیر جانا اور جس کا عہد اس نے توڑا یعنی بابل میں اسی کے پاس مرے گا۔
17 اور فرعون اپنے بڑے لشکر اور بہت سے لوگوں کو لےکر لڑائی میں اس کے ساتھ شریک نہ ہوگاجب دمدمہ باندھتے ہوںاور برج بناتے ہوں کہ بہت سے لوگوں کو قتل کریں۔
18 چونکہ اس نے قسم کو حقیر جانا اور عہد کو توڑا اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر بھی یہ سب کچھ کیا اس لئے وہ بچ نہ سکے گا۔
19 پس خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم وہ میری ہی قسم ہے جس کو اس نے حقیر جانا اوروہ میرا ہی عہد ہے جو اس نے توڑا۔ میں ضرور یہ اس کے سر پر لاﺅں گا۔
20 اور میں اپنا جال اس پر پھیلاﺅں گا اور وہ میرے پھندے میں پکڑا جائے گااور میں اسے بابل کو لے آﺅں گا اور جو میرا گناہ اس نے کیا ہے اس کی بابت میں وہاں اس سے حجت کروں گا۔
21 اور اس کے لشکر کے سب فراری تلوار سے قتل ہوں گےاور جو بچ رہیں گے وہ چاروں طرف پراگندہ ہوجائیں گے اور تم جانو گے کہ میں خداوند نے یہ فرمایا ہے۔
22 خداوند خدا فرماتا ہے میں بھی دیودار کی بلند چوٹی لوں گا اور اسے لگاﺅں گا۔ پھر اس کی نرم شاخوں میں سے ایک کونپل کاٹ لوں گا اور اسے ایک اونچے اور بلند پہاڑ پر لگاﺅں گا۔
23 میں اسے اسرائیل کے اونچے پہاڑ پر لگاﺅں گا اور وہ شاخیں نکالے گا اور پھل لائے گااور عالی شان دیودار ہوگا اور ہر قسم کے پرندے اس کے نیچے بسیں گے۔ وہ اس کی ڈالیوں کے سایہ میں بسیرا کریں گے۔
24 اور میدان کے سب درخت جانیں گے کہ میں خداوند نے بڑے درخت کو پست کیااور چھوٹے درخت کو بلند کیا۔ ہرے درخت کو س ±کھا دیا اور سوکھے درخت کو ہرا کیا۔ میں خداوند نے فرمایا اور کر دکھایا۔


باب 18

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ تم اسرائیل کے ملک کے حق میںکیوں یہ مثل کہتے ہو کہ باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور اولاد کے دانت کھٹے ہوئے؟
3 خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم کہ تم پھر اسرائیل میں یہ مثل نہ کہو گے۔
4 دیکھ سب جانیں میری ہیں جیسی باپ کی جان ویسی ہی بیٹے کی جان بھی میری ہے۔
5 جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی۔ لیکن جو انسان صادق ہے اور اس کے کام عدالت و انصاف کے مطابق ہیں ۔
6 جس نے بتوں کی قربانی سے نہیں کھایا اور بنی اسرائیل کے بتوں کی طرف اپنی آنکھیں نہیں اٹھائیں اور اپنے ہمسایہ کی بیوی کو ناپاک نہیں کیا اور عورت کی ناپاکی کے وقت اس کے پاس نہیں گیا۔
7 اور کسی پر ستم نہیں کیا اور قرضدار کا گرو واپس کر دیا اور ظلم سے کچھ چھین نہیں لیا۔ بھوکوں کو اپنی روٹی کھلائی اور ننگوں کو کپڑا پہنایا۔
8 سود پر لین دین نہیں کیا۔ بد کرداری سے دستبردار ہوا اور لوگوں میں سچا انصاف کیا۔
9 میرے آئن پر چلا اور میرے احکام پر عمل کیا تاکہ راستی سے معاملہ کرے ۔وہ صادق ہے۔ خداوند خدا فرماتا ہے وہ یقینا زندہ رہے گا۔
10 پر اگر اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو جو راہزنی یا خونریزی کرے اور ان گناہوں میں سے کوئی گناہ کرے۔
11 اور ان فرائض کو بجا نہ لائے بلکہ بتوں کی قربانی سے کھائے اور اپنے ہمسائے کی بیوی کو ناپاک کرے ۔
12 غریب اور محتاج پر ستم کرے۔ ظلم کرکے چھین لے۔ گرو واپس نہ لے اور بتوں کی طرف اپنی آنکھیں اٹھائے اور گھنونے کام کرے۔
13 سود پر لین دین کرے تو کیا وہ زندہ رہے گا؟ وہ زندہ نہ رہے گا۔ اس نے یہ سب نفرتی کام کئے ہیں۔ وہ یقینا مرے گا۔ اس کا خون اسی پر ہوگا ۔
14 لیکن اگر اس کے ہاں ایسا بیٹا پیدا ہو جو ان تمام گناہوں کو جو اس کا باپ کرتا ہے دیکھے اور خوف کھا کر اس کے سے کام نہ کرے۔
15 اور بتوں کی قربانی سے نہ کھائے اور بنی اسرائیل کے بتوں کی طرف اپنی آنکھیں نہ اٹھائے اور اپنے ہمسایہ کی بیوی کو ناپاک نہ کرے۔
16 اور کسی پر ستم نہ کرے۔ گرو نہ لے اور ظلم کر کے کچھ چھین نہ لے۔ بھوکے کو اپنی روٹی کھلائے اور ننگے کو کپڑے پہنائے۔
17 غریب سے دستبردار ہو اور سود پر لین دین نہ کرے پر میرے احکام پر عمل کرے اور میرے آئین پر چلے وہ اپنے باپ کے گناہوں کےلئے نہ مرے گا۔ وہ یقینا زندہ رہے گا۔
18 لیکن اس کا باپ چونکہ اس نے بے رحمی سے ستم کیا اور اپنے بھائی کو ظلم سے لوٹا اور اپنے لوگوں کے درمیان برے کام کئے اس لئے وہ اپنی بد کرداری کے باعث مرے گا۔
19 تو بھی تم کہتے ہو کہ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ کیوں نہیں اٹھاتا؟ جب بیٹے نے وہی جو جائز اور روا ہے کیا اور میرے سب آئین کو حفظ کر کے ان پر عمل کیا تو وہ یقینا زندہ رہے گا۔ جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی۔
20 بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔ صادق کی صداقت اسی کےلئے ہو گی اور شریر کی شرارت شریر کےلئے ۔
21 لیکن اگر شریراپنے تمام گناہوں سے جو اس نے کئے ہیں باز آئے اور میرے سب آئین پر چل کر جو جائز اور روا ہے کرے تو وہ یقینا زندہ رہے گا۔ وہ نہ مرے گا۔
22 وہ سب گناہ جو اس نے کئے ہیں اس کے خلاف محسوب نہ ہوں گے۔ وہ اپنی راستبازی میں جو اس نے کی زندہ رہے گا۔
23 خداوند خدا فرماتا ہے کیا شریرکی موت میں میری خوشی ہے اور اس میں نہیں کہ وہ اپنی روش سے باز آئے اور زندہ رہے؟
24 لیکن اگر صادق اپنی صداقت سے باز آئے اور گناہ کرے اور ان سب گھنونے کاموں کے مطابق جو شریر کرتا ہے کرے تو کیا وہ زندہ رہے گا؟ اس کی تمام صداقت جو اس نے کی فراموش ہوگی۔ وہ اپنے گناہوں میں جو اس نے کئے ہیں اور اپنی خطاﺅں میں جو اس نے کی ہیں مرے گا۔
25 تو بھی تم کہتے ہو کہ خداوند کی روش راست نہیں۔ اے بنی اسرائیل سنو تو۔ کیا میری روش راست نہیں؟ کیا تمہاری روش نا راست نہیں؟
26 جب صادق اپنی صداقت سے باز آئے اور بدکرداری کرے اور اس میں مرے تو وہ اپنی بدکرداری کے سبب سے جو اس نے کی ہے مرے گا۔
27 اور اگر شریر اپنی شرارت سے جو وہ کرتا ہے باز آئے اور وہ کام کرے جو جائز اور روا ہے تو وہ اپنی جان زندہ رکھے گا۔
28 اس لئے کہ اس نے سوچااور اپنے سب گناہوں سے جو کرتا تھا باز آیا۔ وہ یقینا زندہ رہے گا اور نہ مرے گا۔
29 تو بھی بنی اسرائیل کہتے ہیں کہ خداوند کی روش راست نہیں۔
30 پس خداوند خدا فرماتا ہے اے بنی اسرائیل میں ہر ایک کی روش کے مطابق تمہراری عدالت کروں گا توبہ کرو اور اپنے تمام گناہوں سے باز آﺅ تاکہ بدکرداری تماہری ہلاکت کا باعث نہ ہو۔
31 ان تمام گناہوں کو جن سے تم گناہگار ہوئے دور کرو اور اپنے لئے نیا دل اور نئی روح پیدا کرو۔ اے بنی اسرائیل تم کیوں ہلاک ہوگئے؟
32 کیونکہ خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے مرنے والے کی موت سے شادمانی نہیں ۔ اس لئے باز آﺅ اور زندہ رہو۔


باب 19

1 اب تو اسرائیل کے امرا پر نوحہ کر۔
2 اور کہہ تیری ماں کون تھی؟ ایک شیرنی جو شیروں کے درمیان لیٹی تھی اور جوان شیروں کے درمیان اس نے اپنے بچوں کو پالا۔
3 اور اس نے اپنے بچوں میں سے ایک کو پالا اور وہ جوان شیر ہوا اور شکار کرنا سیکھ گیا اور آدمیوں کو نگلنے گا۔
4 اور قوموں کے درمیان اس کا چرچا ہوا تو وہ ان کے گڑھے میں پکڑا گیا اوروہ اسے زنجیروں میں جکڑ کر زمین مصر میں لائے۔
5 اور جب شیرنی نے دیکھا کہ اس نے بے فائدہ انتظار کیا اور اسکی امید جاتی رہی تو اس نے اپنے بچوں میں سے دوسرے کو لیا اور اسے پال کر جوان شیر کیا۔
6 اور وہ شیروں کے درمیان سیر کرتا پھرا اور جوان شیر ہوا اور شکار کرنا سیکھ گیا اور آدمیوں کو نگلنے لگا۔
7 اور اس نے ان کے قصروں کو برباد کیا اور ان کے شہروں کو ویران کیا۔ اسکی گرج سے ملک اجڑ گیا اور اسکی آبادی نہ رہی۔
8 تب بہت سی قومیں تمام ممالک سے اسکی گھات میں بیٹھیںاور انہوں نے اس پر اپنا جال پھیلایا۔ وہ ان کے گڑھے میں پکڑا گیا۔
9 اور انہوں نے اسے زنجیروں سے جکڑ کر پنجرے میں ڈالا اور شاہ بابل کے پاس لے آئے۔ انہوں نے اسے قلعہ میں بند کیا تاکہ اس کی آواز اسرائیل کے پہاڑوں پر پھر سنی نہ جائے۔
10 تیری ماں اس تاک سے مشابہ تھی جو تیری مانند پانی کے کنارے لگائی گئی۔ وہ پانی کی فراوانی کے باعث بارور اور شاخدار ہوئی۔
11 اور اسکی شاخیں ایسی مضبوط ہوگئیں کہ بادشاہوں کے عصا ان سے بنائے گئے اور گھنی شاخوں میں اس کا تنہ بلند ہوااور وہ اپنی گھنی شاخوں کے باعث اونچی دکھائی دیتی تھی۔
12 لیکن وہ غضب سے اکھاڑ کر زمین پرگرائی گئی اور پوربی ہوا نے اس کا پھل خشک کر ڈالا اور اسکی مضبوط ڈالیا ں توڑی گئیںاور آگ سے بھسم ہوئیں۔
13 اور اب وہ بیابان میں سوکھی اور پیاسی زمین میں لگائی گئی۔
14 اور ایک چھڑی سے جو اس کی ڈالیوں سے بنی تھی آگ نکل کر اس کا پھل کھا گئی اور اسکی کوئی ایسی مضبوط ڈالی نہ رہی کہ سلطنت کا عصا ہو۔ یہ نوحہ ہے اور نوحہ کےلئے رہے گا۔


باب 20

1 اور ساتویں برس کے پانچویں مہینے کی دسویں تاریخ کو یوں ہوا کہ اسرائیل کے چند بزرگ خداوند سے کچھ دریافت کرنے کو آئے اور میرے سامنے بیٹھ گئے۔
2 تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
3 کہ اے آدمزاد اسرائیل کے بزرگوں سے کلام کر اور ان سے کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ کیا تم مجھ سے دریافت کرنے آئے ہو؟ خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم تم مجھ کچھ دریافت نہ کر سکو گے۔
4 کیا تو ان پر حجت قائم کرے گا؟ انکے باپ دادا کے نفرتی کاموں سے ان کو آگاہ کر۔
5 ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جس دن میں نے اسرائیل کو برگزیدہ کیا اور بنی یعقوب سے قسم کھائی اور ملک مصر میں اپنے آپ کو ان پر ظاہر کیا میں نے ان سے قسم کھا کر کہا میں خداوند تمہارا خدا ہوں ۔
6 جس دن میں نے ان سے قسم کھائی تاکہ اب جو ملک مصرسے اس ملک میں لاﺅں جو میں نے ان کےلئے دیکھ کر ٹھہرایا تھا جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے اور جو تمام ممالک کی شوکت ہے۔
7 اور میں نے ان سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنے نفرتی کاموں کوجو اسکی منظور نظر ہیں دور کرے اور تم اپنے آپ مصر کے بتوں سے پاک کرو۔ مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
8 لیکن وہ مجھ سے باغی ہوئے اور نہ چاہا کہ میری سنیں۔ ان میں سے کسی نے ان نفرتی کاموں کو جو اس کی منظور نظر تھے ترک نہ کیا اور مصر کے بتوں کو نہ چھوڑا۔ تب میں نے کہا کہ میں اپنا قہر ان پر انڈیل دوںگاتاکہ اپنے غضب کو ملک مصر میں ان پر پورا کروں۔
9 لیکن میں نے اپنے نام کی خاطر ایسا کیا تاکہ میرا نام ان قوموں کی نظر میں جن کے درمیان وہ رہتے تھے اور جن کی نگاہوں میں مَیں ان پر ظاہر ہوا جب ان کو ملک مصر سے نکال لایا ناپاک نہ کیا جائے۔
10 پس میں ان کو ملک مصر سے نکال کر بیابان میںلایا۔
11 اور میں نے اپنے آئین ان کو دئیے اور اپنے احکام ان کو سکھائے تاکہ انسان ان پر عمل کرنے سے زندہ رہے۔
12 اور میں نے اپنے سبت بھی ان کو دئیے تاکہ وہ میرے اور ان کے درمیان نشان ہوں تاکہ وہ جانیں کہ میں خداوند ان کا مقدس کرنے والاہوں۔
13 لیکن بنی اسرائیل بیابان میں مجھ سے باغی ہوئے اور میرے آئین پر نہ چلے اور میرے احکام کو رد کیاجن پر اگر انسان چلے تو ان کے سبب سے زندہ رہے اور انہوں نے میرے سبتوں کو نہایت ناپاک کیا۔تب میں نے کہا کہ میں بیابان میں ان پر اپنا قہر نازل کر کے ان کو فناکروں گا ۔
14 لیکن میں نے اپنے نام کی خاطر ایسا کیا تاکہ وہ ان قوموں کی نظر میں جن کے سامنے میں ان کو نکال لایا ناپاک نہ کیا جائے۔
15 اور میں نے بیابان میں بھی ان سے قسم کھائی کہ میں ان کو اس ملک میں نہ لاﺅں گا جو میں نے ان کو دیا جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے اور جو تمام ممالک کی شوکت ہے۔
16 کیونکہ انہوں نے میرے احکام کو رد کیا اور میرے آئین پر نہ چلے اور میرے سبتوں کو ناپاک کیا اسلئے کہ ان کے دل ان کے بتوں کے مشتاق تھے۔
17 تو بھی میری آنکھوں نے ان کی رعایت کی اور میں نے ان کو ہلاک نہ کیا اور میں نے بیابان میں ان کو بالکل نیست و نابود نہ کیا۔
18 اور میں نے بیابان میں ان کے فرزندوں سے کہا تم اپنے باپ دادا کے آئین و احکام پر نہ چلو اور ان کے بتوں سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کرو۔
19 مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ میرے آئین پر چلو اور میرے احکام کو مانو اور ان پر عمل کرو۔
20 اور میرے سبتوں کو مانو کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان نشان ہوں تاکہ تم جانو کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
21 لیکن فرزندوں نے بھی مجھ سے بغاوت کی۔وہ میرے آئین پر نہ چلے اورنہ یرے احکام کو مان کر ان پر عمل کیا جن پر اگر انسان عمل کرے تو ان کے سبب زندہ رہے۔ انہوں نے میرے سبتوں کو ناپاک کیا۔ تب میں نے کہا کہ میں اپنا قہر ان پر نازل کروں گا اور بیابان میں اپنے غضب کو ان پر پورا کروں گا۔
22 تو بھی میں نے اپنا ہاتھ کھینچا اور اپنے نام کی خاطر ایسا کیا تاکہ وہ ان قوموں کی نظر میں جن کے دیکھتے ہوئے میں ان کو نکال لایا ناپاک نہ کیا جائے۔
23 پھر میں نے بیابان میں ان سے قسم کھائی کہ ان کو قوموں میں آوارہ اور ممالک میں پراگندہ کروں گا۔
24 اس لئے کہ وہ میرے احکام پر عمل نہ کرتے تھے بلکہ میرے آئین کو رد کرتے تھے اور میرے سبتوں کو ناپاک کرتے تھے اور ان کی آنکھیں ان کے باپ دادا کے بتوں پر تھیں۔
25 سو میں نے ان کو برے آئین اور ایسے آئین دئیے جن سے وہ زندہ نہ رہیں۔
26 اور میں نے ان کو انہی کے ہدیوں سے یعنی ان کے پہلوٹھوں کو آگ پر گزار کر ناپاک کیا تاکہ میں ان کو ویران کروں اور وہ جانیں کہ خداوند مَیں ہوں۔
27 اس لئے اے آدمزاد تو بنی اسرائیل سے کلام کر اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اس کے علاوہ تمہارے باپ دادا نے ایسے کام کر کے میری تکفیر کی اور میرا گناہ کر کے خطا کار ہوئے۔
28 کہ جب میں ان کو اس ملک میں لایا جسے ان کو دینے کی میں نے ان سے قسم کھائی تھی تو انہوں نے جس اونچے پہاڑ اور اونچے درخت کو دیکھا وہیں اپنے ذبیحوں کو ذبح کیا اور وہیں اپنی غضب انگیز نذر کو گزرانا اور وہیں اپنی خوشبو جلائی اور اپنے تپاون تپائے۔
29 تب میںنے ان سے کہا یہ کیسا اونچا مقام ہے جہاں تم جاتے ہو؟ اور انہوں نے اس کا نام باماہ رکھا جو آج کے دن تک ہے۔
30 اس لئے تو بنی اسرائیل سے کہہ کہ کیا تم بھی اپنے باپ دادا کی طرح ناپاک ہوتے ہو؟ اور ان کے نفرت انگیز کاموں کی مانند تم بھی بدکاری کرتے ہو؟
31 اور جب اپنے ہدیے چڑھاتے اور اپنے بیٹوں کو آگ پر سے گزار کر اپنے سب بتوں سے اپنے آپ کو آج کے دن تک ناپاک کرتے ہو تو اے بنی اسرائیل کیا تم مجھ سے کچھ دریافت کر سکتے ہو؟خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم مجھ سے کچھ دریافت نہ کر سکو گے۔
32 اور جو تمہارے جی میں آتا ہے ہر گز وقوع میں نہ آئے گا کیونکہ تم سوچتے ہو کہ تم بھی دیگر اقوام و قبائل عالم کی مانند لکڑی اور پتھر کی پرستش کروگے۔
33 خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم میں زور آور ہاتھ سے اور بلند بازو سے قہر نازل کر کے تم پر سلطنت کروں گا۔
34 اور میں زور آور ہاتھ اور بلند بازو سے قہر نازل کر کے تم کو قوموں میں سے نکال لاﺅں گا اور ان ملکوں میں سے جن میں تم پراگندے ہوئے ہو جمع کروں گا۔
35 اور میں تم کو قوموں کے بیابان میں لاﺅں گا اور وہاں روبرو تم سے حجت کروں گا۔
36 جس طرح میں نے تمہارے باپ دادا کے ساتھ مصر کے بیابان میں حجت کی۔خداوند فرماتا ے کہ اسی طرح میں تم سے بھی حجت کروں گا ۔
37 اور میں تم کو چھڑی کے نیچے سے گزاروں گا اور عہد کے بند میں لاﺅں گا۔
38 اور میں تم میں سے ان لوگوں کو جو سرکش اورمجھ سے باغی ہیں جدا کروں گا۔ میں ان کو اس ملک سے جس میں انہوں نے بودوباش کی نکال لاﺅں گا پر وہ اسرائیل کے ملک میں داخل نہ ہوں گے اور تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
39 اور تم سے اے بنی اسرائیل خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جاﺅ اور اپنے اپنے بت کی عبادت کرو اور آگے کو بھی اگر تم میری نہ سنو گے۔ لیکن اپنی قربانیوں اور اپنے بتوں سے میرے مقدس نام کی تکفیر نہ کرو گے۔
40 کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے کوہ مقدس یعنی اسرائیل کے اونچے پہاڑ پر تمام بنی اسرائیل سب کے سب ملک میں میری عبادت کریں گے۔ وہاں میں ان کو قبول کروں گا اور تمہاری قربانیاں اور تمہاری نذروں کے پہلے پھل اور تمہاری سب مقدس چیزیں طلب کروں گا۔
41 جب میں تم کو قوموں میں سے نکال لاﺅں گا اور ان ملکوں میں سے جن میں مَیں نے تمکو پراگندہ کیا جمع کروں گا تب میں تم کو خوشبو کے ساتھ قبول کروں گا اور قوموں کے سامنے تم میری تقدیس کرو گے۔
42 اور جب میں تم کو اسرئیل کے ملک میں یعنی اس سر زمین میں جس کی میں نے قسم کھائی کہ تمہارے باپ دادا کو دوں لے آﺅں گا تب تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
43 اور وہاں تم اپنی روش اور اپنے سب کاموں کو جن سے تم ناپاک ہوئے ہو یاد کرو گے اور تم اپنی تمام بدی کے سبب سے جو تم نے کی ہے اپنی ہی نظر میں گھنونے ہو گے۔
44 خداوند خدا فرماتا ہے اے بنی اسرائیل جب میں تمہاری بری روش اور بد اعمالی کے مطابق نہیں بلکہ اپنے نام کی خاطر تم سے سلوک کروں گا تو تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
45 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
46 کہ اے آدمزاد جنوب کا رخ کر اور جنوب ہی سے مخاطب ہوکر اس کے میدان کے جنگل کے خلاف نبوت کر۔
47 اور جنوب کے جنگل سے کہہ خداوند کا کلام سن خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تجھ میں آگ بھڑکاﺅں گا اور وہ ہر ایک ہرا درخت اور ہر ایک سوکھا درخت جو تجھ میں ہے کھا جائے گی۔ بھڑکتا ہوا شعلہ نہ بجھے گا اور جنوب سے شمال تک سب کے منہ اس سے جھلس جائیں گے۔
48 اور ہر فردِ بشر دیکھے گا کہ مَیں خداوند نے اسے بھڑکایا ہے۔ وہ نہ بجھے گی۔
49 تب میں نے کہا ہائے خداوند خدا! وہ تو میری بابت کہتے ہیں کیا وہ تمثیلیں نہیں کہتا؟


باب 21

1 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ اے آدمزاد ریروشلیم کا رخ کر اور مقدس مکانوں سے مخاطب ہو کر ملک اسرائیل کے خلاف نبوت کر۔
3 اور اس سے کہہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ مَیں تیرا مخالف ہوں اور اپنی تلوار میان سے نکال لوں گا اور تیرے صادقوں اور تیرے شریروں کو تیرے درمیان سے کاٹ ڈالوں گا۔
4 پس چونکہ میں تیرے درمیان سے صادقوں اور شریروں کو کاٹ ڈالوں گااس لئے میری تلوار میان سے نکل کر جنوب سے شمال تک تمام بشر پر چلے گی۔
5 اور سب جانیں گے کہ میں خداوند نے اپنی تلوار میان سے کھینچی ہے۔ وہ پھر اس میں نہ جائے گی۔
6 پس اے آدمزاد کمر کی شکستگی سے آہیں مار اور تلخ کامی سے ان کی آنکھوں کے سامنے ٹھنڈی سانس بھر۔
7 اور جب وہ پوچھیں کہ تو کیوں ہائے ہائے کرتا ہے؟ تو یوں جواب دینا کہ اسکی آمد کی افواہ کے سبب سے اور ہر ایک دل پگھل جائے گا اور سب ہاتھ ڈھیلے ہوں جائیں گے اور ہر ایک جی ڈوب جائے گا اور سب گھٹنے پانی کی مانند کمزور ہوجائیں گے خداوند خدا کی فرماتا ہے۔ اسکی آمدآمد ہے۔ یہ وقوع میں آئے گا۔
8 پھر خداوند کاکلام مجھ پر نازل ہوا۔
9 کہ اے آدمزاد نبوت کر اور کہہ کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو کہہ تلوار بلکہ تیزاور صیقل کی ہوئی تلوار ہے۔
10 وہ تیز کی گئی ہے تاکہ اس سے بڑی خونریزی کی جائے۔ وہ صیقل کی گئی ہے تاکہ چمکے۔ پھر کیا ہم خوش ہوسکتے ہیں؟ میرے بیٹے کا عصا ہر لکڑی کو حقیر جانتا ہے ۔
11 اور اس نے اسے صیقل کرنے کو دیا تاکہ ہاتھ میں لی جائے۔ وہ تیز اور صیقل کی گئی تاکہ قتل کرنے والے کے ہاتھ میں دی جائے۔
12 اے آدمزاد تو رو اور نالہ کر کیونکہ وہ میرے لوگوں پر چلے گی۔ وہ اسرائیل کے سب امرا پر ہوگی۔ وہ میرے لوگوں سمیت تلوار کے حوالہ کئے گئے ہیںاس لئے تو اپنی ران پر ہاتھ مار۔
13 یقینا وہ آزمائی گئی اور اگر عصا اسے حقیر جانے تو کیا وہ نابود ہوگا؟ سخداوند خدا فرماتا ہے۔
14 اور اے آدمزاد! تو نبوت کر اور تالی بجا اور تلوار دو چند بلکہ سہ چند ہو جائے۔ وہ تلوار جو مقتولوں پر کار گر ہوئی بڑی خونریزی کی تلوار ہے جو ان کو گھیرتی ہے۔
15 میں نے یہ تلوار ان کے سب پھاٹکوں کے خلاف قائم کی ہے تاکہ ان کے دل پگھل جائیں اور ان کے گرنے کے سامان زیادہ ہوں۔ ہائے برقِ یغ! یہ قتل کرنے کو کھینچی گئی۔
16 تیار ہو۔ دہنی طرف جا۔ آمادہ ہو۔ بائیں طرف جا۔ جدھر تیرا رخ ہے۔
17 اور میں بھی تالی بجاﺅں گا اور اپنا قہر ٹھنڈا کروں گا۔ میں خداوند نے یہ فرمایا ہے۔
18 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
19 کہ اے آدمزاد! تو دو راستے کھینچ جن سے شاہ بابل کی تلوار آئے۔ ایک ہی ملک سے وہ دونوں راستے نکال اور ایک ہاتھ نشان کےلئے شہر کی راہ کے سرے پر بنا۔
20 ایک راہ نکال جس سے تلوار بنی عمون کی ربّہ پر اور پھر ایک اور جس سے یہوداہ کے محصور شہر یروشلیم پر آئے ۔
21 کیونکہ شاہ بابل دونوں راہوں کے نقطئہ اتصال پر خالگیری کےلئے کھڑا ہوگا اور تیروں کو ہلا کر بت سے سوال کرے گا اور گر پر نظر کرے گا۔
22 اس کے دہنے ہاتھ میں یروشلیم کا قرعہ پڑے گا کہ منجنیق لگائے اور کشت و خون کےلئے منہ کھولے۔ للکار کی آواز بلند کرے اور پھاٹکوں پر منجنیق لگائے اور دمدمہ باندھے اور برج بنائے۔
23 لیکن ان کی نظر میں یہ ایسا ہوگا جیسا چھوٹا شگون یعنی ان کے لئے جنہوں نے قسم کھائی تھی پر وہ بدکرداری کو یاد کرے گا تاکہ وہ گرفتار ہوں۔
24 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تو نے اپنی بدکرداری یاد دلائی اور تمہاری خطاکاری ظاہر ہوئی یہاں تک کہ تمہارے سب کاموں میں تمہارے گناہ عیاں ہیں اور چانکہ تم خیال میں آگئے اسلئے گرفتار ہو جاﺅگے۔
25 اور تو اے مجروح شریر شاہِ اسرائیل جس کا زمانہ بدکرداری کے انجام کو پہنچنے پر آیا ہے۔
26 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ گلاہ دور کر اور تاج اتار۔ یہ ایسا نہ رہے گا۔ پست کو بلند کر اور اسے جو بلند ہے پست پست کر۔
27 میں ہی اسے الٹ الٹ الٹ دوں گا۔ پر یوں بھی نہ رہے گا اور وہ آئے گا جس کا حق ہے اور میں اسے دوں گا۔
28 اور تو اے آدمزاد نبوت کر اور کہہ کہ خداوند بنی عمون اور ان کی طعنہ زنی کی بابت یوں فرماتا ہے کہ تو کہہ کہ تلوار بلکہ کھینچی ہوئی تلوار خونریزی کےلئے صیقل کی گئی ہے تاکہ بجلی کی طرح بھسم کرے۔
29 جبکہ وہ تیرے لئے دھوکہ دیکھتے ہیں اور جھوٹے فال نکالتے ہیں کہ تجھ کو ان شریروں کی گردنوں پر ڈال دیں جو مارے گئے جن کا زمانہ انکی بدکرداری کے انجام کو پہنچنے پر آیا ہے۔
30 اس کو میان میں کر۔ میں تیری پیدائش کے مکان میں اور تیری زاد بوم میں تیری عدالت کروں گا۔
31 اور میں اپنا قہر تجھ پر نازل کروں گااور اپنے غضب کی آگ تجھ پر بھڑکاﺅں گااور تجھ کو حیوان حصلت آدمیوں کے حوالہ کروں گا جو برباد کرنے میں ماہر ہیں۔
32 تو آگ کےلئے ایندھن ہوگااور تیرا خون ملک میں بہے گااور پھر تیرا ذکر بھی نہ کیا جائے گاکیونکہ میں خداوند نے فرمایا ہے۔


باب 22

1 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ اے آدمزاد کیا تو الزام نہ لگائے گا؟ کیا تو اس خونی شہر کو ملزم نہ ٹھہرائے گا ؟ تو اس کے سب نفرتی کام اس کو دکھا۔
3 اور کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے شہر تو اپنے زندر خونریزی کرتا ہے تاکہ تیرا وقت آ جائے اور تو اپنے واسطے بتوں کو اپنے ناپاک کرنے کےلئے بناتا ہے۔ تو اس خون کے سبب سے جو تو نے بہایا مجرم ٹھہرا اور تو بتوں کے باعث جن کو تو نے بنایا ہے ناپاک ہوا۔
4 تو اپنے وقت کو نزدیک لاتا ہے اور اپنے ایام کے خاتمہ تک پہنچا ہے اسلئے میں نے تجھے اقوام کی ملامت کا نشانہ اور ممالک کا ٹھٹھہ بنایا ہے۔
5 تجھ سے دور و نزدیک کے سب لوگ تیری ہنسی اڑائیں گے کیونکہ تو فسادی اور بدنام مشہور ہے۔
6 دیکھ اسرائیل کے امرا سب کے سب جو تجھ میں ہیں مقدور بھر خونریزی پر مستعدتھے۔
7 تیرے اندر انہوں نے ماں باپ کو حقیر جانا ہے۔ تیرے اندر انہوں نے بردیسیوں پر ظلم کیا۔ تیرے اندر انہوں نے یتیموں اور بیواﺅں پر ستم کیا ہے۔
8 تو نے میری پاک چیزوں کو ناچیز جانا اور میرے سبتوں کو ناپاک کیا۔
9 تیرے اندر وہ لوگ ہیں جو چغل خوری کر کے خون کرواتے ہیں اور تیرے اندر وہ ہیں جو بتوں کی قربانی سے کھاتے ہیں۔ تیرے اندر وہ ہیں جو فسق و فجور کرتے ہیں۔
10 تیرے اندر وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے باپ کی حرم شکنی کی تجھ میں انہوں نے اس عورت سے ناپاکی کی حالت میں تھی مباشرت کی۔
11 کسی نے دوسرے کی بیوی سے بدکاری کی اور کسی نے اپنی بہو سے بد ذاتی کی اور کسی نے اپنی بہن اپنے باپ کی بیٹی کو تیرے اندر رسوا کیا۔
12 تیرے اندر انہوں نے خون ریزی کےلئے رشوت خواری کی۔ تو نے بیاج اور سود لیا اور ظلم کر کے اپنے پڑوسی کو لوٹااور مجھے فراموش کیا خداوند خدا فرماتا ہے۔
13 دیکھ تیرے نا روا نفع کے سبب سے جو تو نے لیا اور تیری خون ریزی کے باعث جو تیرے اندر ہوئی میں نے تالی بجائی۔
14 کیا تیرا دل برداشت کرے گا اور تیرے ہاتھوں میں زور ہوگا جب میں تیرا معاملہ فیصل کروں گا؟ مَیں خداوند نے فرمایا اور میں ہی کر دکھاﺅں گا۔
15 ہاں میں تجھ کو قوموں میں پراگندہ اور ملکوں میں تتر بتر کروں گااور تیری گندگی تجھ میں سے نابود کر دوں گا۔
16 اور تو قوموں کے سامنے اپنے آپ میں ناپاک ٹھہرے گا اور معلوم کرے گا کہ میں خداوند ہوں۔
17 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
18 کہ اے آدمزاد بنی اسرائیل میرے لئے میل ہوگئے ہیں۔ وہ سب کے سب پیتل اور رانگا اور لوہا اور سیسہ ہیں جو بھٹی میں ہیں۔ وہ چاندی کی میل ہیں۔
19 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم سب میل ہوگئے ہو اس لئے دیکھومیں تم کو یروشلیم میں جمع کروں گا۔
20 جس طرح لوگ چاندی اور پیتل اورلوہا اور سیسہ اور رانگا بھٹی میں جمع کرتے ہیں اور ان پر دھونکتے ہیں تاکہ ان کو پگھلا ڈالیں اسی طرح میں اپنے قہر اور اپنے غضب میں تمکو جمع کروں گااور تمکو وہاں رکھ کر پگھلاﺅں گا۔
21 ہاں میں تمکو اکٹھا کروں گا اور اپنے غضب کی آگ تم پر دھونکوں گااور تم کو اس میں پگھلا ڈالوں گا۔
22 جس طرح چاندی بھٹی میں پگھلائی جاتی ہے اسی طرح تم اس میں پگھلائے جاﺅگے اور تم جانو گے کی مَیں خداوند نے اپنا قہر تم پر نازل کیا ہے۔
23 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
24 کہ اے آدمزاد اس سے کہہ تو وہ سر زمین ہے جو پاک نہیں کی گئی اور جس پر غضب کے دن میں بارش نہیں ہوئی۔
25 جس میں اس کے نبیوں نے سازش کی ہے۔ شکار کو پھاڑتے ہوئے گرجنے والے شیر ببر کی مانند وہ جانوں کو کھاگئے ہیں۔ وہ مال اور قیمتی چیزوں کو چھین لیتے ہیں۔ انہوں نے اس میں بہت عورتوں کو بیوہ بنا دیا ہے۔
26 اس کے کاہنوں نے میری شریعت کو توڑا اور میری مقدس چیزوں کو ناپاک کیا ہ۔ انہوں نے مقدس اور عام میں کچھ فرق نہیں رکھا اور نجس و طاہر میں امتیاز کی تعلیم نہیں دی اور میرے سبتوں کو نگاہ میں نہیں رکھا اور میں ان میں بے عزت ہوا۔
27 اس کے امرا اس میں شکار کو پھاڑنے والے بھیڑیوں کی مانند ہیں جو ناجائز نفع کی خاطر خونریزی کرتے اور جانوں کو ہلاک کرتے ہیں۔
28 اور اس کے نبی ان کےلئے کچی کہگل کرتے ہیں۔ باطل رویہ دیکھتے اور جھوٹی فال گیری کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے حالانکہ خداوند نے نہیں فرمایا۔
29 اس ملک کے لوگوں نے ستم گیری اور لوٹ مار کی ہے اور غریب اور محتاج کو ستایا ہے اور پردیسیوں پر ناحق سختی کی ہے۔
30 میں نے ان کے درمیان تلاش کی کہ کوئی ایسا آدمی ملے جو فصیل بنائے اور اس سر زمین کےلئے اس کے رخنہ میں میرے سامنے کھڑا ہو تاکہ میں اسے ویران نہ کروں پر کوئی نہ ملا۔
31 پس میں نے اپنا قہر ان پر نازل کیا اور اپنے غضب کی آگ سے ان کو فنا کر دیا اور میں انکی روش کو ان کے سروں پر لایاخداوند خدا فرماتا ہے۔


باب 23

1 اور خدا کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2 کہ اے آدمزاد دو عورتیں ایک ہی ماں کی بیٹیاں تھیں۔
3 انہوں نے مصر میں بدکاری کی۔ وہ اپنی جوانی میں بدکار بنیں۔ وہاں ان کی چھاتیاں ملیں گئیںاور وہیں ان کی دو شیزگی کے پستان مسلے گئے۔
4 ان میں سے بڑی کا نام اہولہ اور اسکی بہن کا اہولیبہ تھااور وہ دوں میری ہوگئیں اور ان سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوئے اور ان کے یہ نام اہولہ اور اہولیبہ سامریہ و یروشلیم ہیں۔
5 اور اہولہ جب کہ وہ میری تھی بدکاری کرنے لگی اور اپنے یاروں پر یعنی اسوریوں پر جو ہمسایہ تھے عاشق ہوئی۔
6 وہ سردار اور حاکم اور سب کے سب دل پسند جوان مرد اور سوار تھے جو گھوڑوں پر سوار ہوتے اور ارغوانی پوشاک پہنتے تھے۔
7 اور اس نے ان سب کے ساتھ جو اسور کے برگزیدہ مرد تھے بدکاری کی اور ان سب کے ساتھ جن سے وہ عشق بازی کرتی تھی اور ان کے سب بتوں کے ساتھ ناپاک ہوئی۔
8 اس نے جو بدکاری مصر میںکی تھی اسے ترک نہ کیا کیونکہ اس کی جوانی میں وہ اس سے ہم آغوش ہوئے اور انہوں نے اس کے دو شیزگی کے پستانوں کومسلا اور اپنی بدکاری اس پر انڈیل دی۔
9 اس لئے میں نے اسے اس کے ےاروں یعنی اسورےو ں کے حوالہ کر دےا جن پر وہ مرتی تھی ۔
10 انہو ں نے اسکو بے ستر کیا اور اس کے بےٹوں اور بیٹےوں کو چھین لیا اور اسے تلوار سے قتل کیا ۔پس وہ عورتوں میں انگشت نما ہو ئی کیونکہ انہو ں نے اسے عدالت سے سزا دی ۔
11 اوراس کی بہن اہو لیبہ نے یہ سب کچھ دیکھا پر وہ شہوت پرستی میں اس سے بدتر ہو ئی اور اس نے اپنی بہن سے بڑھ کر بد کاری کی ۔
12 وہ اسورےوں پر عاشق ہوئی جو سرداراور حاکم ارو اس کے ہمسا یہ تھے جو بھڑکیلی پو شاک پہنتے اور بھوڑوں پر سوار ہوتے اور سب کے سب دلپسند جوانمرد تھے ۔
13 اور میں نے دیکھا کہ وہ بھی ناپاک ہو گئی ۔ان دونوں کی ایک ہی روش تھی ۔
14 اور اس نے بدکاری میں ترقی کی کیو نکہ جب اس نے دےوار پر مردوں کی صورتےں دیکھیں ےعنی کسدیوں کی تصویریں جو شنگرف سے کھنچی ہو ئی تھےں ۔
15 جو پٹکوں سے کمر بستہ اور سروں پر رنگین پگڑےاں پہنے تھے اور سب کے سب دےکھنے میں امرا اہلِ بابل کی مانند تھے جن کا کا وطن کسدستان ہے ۔
16 تو دےکھتے ہی وہ ان پر مرنے لگی اور ان کے پاس کسدستان میں قاصد بھیجے ۔
17 پس اہلِ بابل اس کے پاس آکر عشق کے بستر پر چڑھے اور انہوں نے اس سے بدکاری کر کے اسے آلودہ کیا اور وہ ان سے ناپاک ہو ئی تو اس کی جان ان سے بیزار ہو گئی ۔
18 تب اس کی بدکاری علانیہ ہو ئی اور اس کی برہنگی بے ستر ہو گئی ۔تب میری جان اس سے بےزار ہو ئی جیسی اس کی بہن سے بےزار ہو چکی تھی ۔
19 تو بھی اس نے اپنی جوانی کے دنوں کو یا د کرکے جب وہ مصر کی سرزمین میں بدکاری کرتی تھے بدکاری پر بدکاری کی ۔
20 سو وہ پھر اپنے ےاروں پر مرنے لگی جنکا بدن گدھوں کا سا بدن اور جنکا انزال گھوروں کا سا انزال تھا ۔
21 اس طرح تو نے اپنی جوانی کی شہوت پرستی کوجبکہ مصری تےری جوانی کی چھاتےوں کے سبب سے تےرے پستان ملتے تھے پھر ےاد کیا۔
22 اس لئے اے اہو لیبہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں ان یاروں کو جن سے تےری جان بےزار ہو گئی ہے ابھاروں گا کہ تجھ سے مخالفت کرےں اور ان کو بلا لاﺅنگا کہ تجھے چاروں طرف سے گھےر لیں ۔
23 اہلِ بابل اور سب کسدیوں کو فقدد اور شوع اور قوع اور انکے ساتھ تمام اسورےوں کو۔سب کے سب دلپسند جوانمرد وں کو سرداروں اور حاکموں کو اور بڑے بڑے امیروں اور نامی لوگوں کو جو سب کے سب گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں تجھ پر چڑھا لاﺅنگا ۔
24 اور اسلحہ جنگ اور رتھوں اور چھکڑوں اور امتوں کے انبوہ کے ساتھ تجھ پر حملہ کرےں گے اور ڈھال اور پھری پکڑ کر اور خود پہنکر چاروں طرف سے تجھے گھےر لینگے ۔میں عدالت ان کو سپرد کرونگا اور وہ اپنے آئین کے مطابق تےرا فےصلہ کرےں گے ۔
25 اور میں اپنی غےرت کو تےری مخالفت بناﺅنگا اور وہ غضب ناک ہو کر تجھ سے پیش آئیں گے اور تتےری ناک اور تےرے کان کاٹ ڈالیں گے اور تےرے با قی لوگ تلوار سے مارے جائینگے ۔وہ تےرے بےٹوں اور بےٹےوں کو پکڑ لےنگے اور تےرا بقیہ آگ سے بھسم ہو گا ۔
26 اور وہ تےرے کپڑے اتار لینگے اور تےرے نفیس زیور لوٹ جائینگے ۔
27 اور میں تےری شہوت پرستی اور تےری بدکاری جو تو نے ملک مصر میں سیکھی موقوف کرونگا یہاں تک کہ تو ان کی طرف پھر اانکھ نہ اٹھائےگی اور پھر مصر کو یاد نہ کرے گی ۔
28 کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تجھے ان کے ہاتھ میں جن سے تجھے نفرت ہے ہاں انہی کے ہاتھ میں جن سے تےری جان بیزار ہے دےدونگا ۔
29 اور وہ تجھ سے نفرت کے ساتھ پیش آئیں گے اور تےرا سب مال ج تو نے محنت پیدا کیا ہے چھین لےنگے اور تجھے عرےان اور برہنہ چھوڑ جائیں گے یہاں تک کہ تےری شہوت پرستی و خباثت اور تےری بدکاری فاش ہو جائیگی ۔
30 یہ سب کچھ تجھ اس لئے ہوگا کہ تو نے بدکاری کے لئے دےگر اقوام ک پیچھا کیا اور ان کے بتوںسے ناپاک ہوئی۔
31 تو اپنی بہن کی راہ پر چلی اس لئے میں اس کا پیالہ تےرے ہاتھ میں دونگا ۔
32 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ تو اپنی بہن کے پیالہ سے جو گہراہ اور بڑا ہے پیئگی ۔تےری ہنسی ہو گی ار تو ٹھٹھوں میں اڑائی جائیگی کیونکہ اس میں بہت سی سمائی ہے ۔
33 تو مستی اور سوگ سے بھر جائیگی ۔ویرانی ور حےرت کا پیالہ ۔تےری بہن سامریہ کا پیالہ ہے ۔
34 تو اسے پئیے گی اور نچوڑیگی اور اس کی ٹھیکرےاں بھی چبا جاےئگی اور اپنی چھاتےاں نوچے گی کیونکہ میں ہی نے یہ فرمایا ہے خداوند خدا فرماتا ہے ۔
35 پس خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تو مجھے بھول گئی ہے اور مجھے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اس لئے اپنی بدذاتی اور بدکاری کی سزا اٹھا ۔
36 پھر خداوند نے مجھے فرمایا اے آدمزاد کیا تو اہولیہ اور اہولیبہ پر الزام نہ لگائے گا ؟تو ان کے گھنونے کام ان پر ظاہر کر ۔
37 کیونکہ انہوں نے بدکاری کی اور ان کے ہاتھ خون آلودہ ہیں ۔ہاں انہوں نے اپنے بتون سے بدکاری کی اور اپنے بےٹوں کو جو مجھ سے پیدا ہوئے آگ سے گذارا کہ بتوں کی نذر ہو کر ہلاک ہوں ۔
38 اس کے سوا انہوں نے مجھ سے یہ کیا کہ اسی دن انہوں نے مےرے مقدس کو ناپاک کیا اور مےرے سبتوں کی بے حرمتی کی ۔
39 کیونکہ جب وہ اپنی اولاد کو بتوں کے لئے زبح کر چکیں تو ااسی دن مےرے مقدس میں داخل ہو ئیں تاکہ اسے ناپاک کرےں اور دیکھ انہوں نے مےرے گھر کے اندر ایسا کام کیا ۔
40 بلکہ تم نے دور سے مرد بلائے جن کے پا س قاصد بھےجا اور دےکھ وہ آئے جن کے لئے تو غسل کیا اور آنکھوں میں کاجل لگاےا او بناﺅ سنگار کیا ۔
41 اور تو نفےس پلنگ ر بیٹھی اور ا س کے پاس دستر خوان تےار کیا اور اس پر تو نے مےرا بخور اور میرا عطر رکھا ۔
42 اور ایک عیاش جماعت کی آواز اس کے ساتھ تھی اور عام لوگوں کے علاوہ بیابان سے شرابےوں کو لائے اور انہوں نے ان کے ہتھوں میں کنگن اور سروں پر خوشنما تاج پہنائے ۔
43 تب میں نے ا سکی بابت جو بدکاری کرتے کرتے بڑھےا ہو گئی تھی کہا اب یہ لوگ اس سے بدکاری کرےنگے اور وہ ان سے کرےگی ۔
44 او ر وہ اس کے پاس گئے جس طرح کسی کسبی کے پاس جاتے ہیں اسی طرح وہ ان بدذات عورتوں اہولیہ اور اہولیبہ کے پاس گئے۔
45 لیکن صادق آدمی ان پر وہ فتویٰ دینگے جو بدکار اور خونی عورتوں پر دےا جاتا ہے کیونکہ وہ بدکار عورتےں ہیں اور ان کے ہاتھ خون آلودہ ہیں ۔
46 کیو نکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں ان پر ایک گروہ چڑھا لاﺅنگا اور ان کو چھوڑ دونگا کہ اِدھر ا’دھر دھکے کھاتی پھرےں اور غارت ہوں ۔
47 اور وہ گروہ ان کو سنگسار کرےگی اور اپنی تلواروں سے ان کو قتل کرےگی ۔ان کے بےٹوں اور بےٹےوں کو ہلاک کرےگی اور ان کے گھروں کو آگ سے جلا دےگی ۔
48 یوں میں بدکاری کو ملک سے موقوف کر نگا تاکہ سب عورتےں عبررت پذےر ہوں اور تمہاری مانند بدکاری نہ کریں ۔
49 اور وہ تمہارے فسق و فجور کا بدلہ تمکو دینگے اور تم اپنے بتوں کے گناہوں کی سزا کا بوجھ اٹھاﺅ گے تاکہ تم جانو کہ خداوندخدا میں ہی ہوں ۔


باب 24

1 پھر نویں بر س کے دسوےں مہینے کی دسویں تا رےخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 اے آدمزاد آج کے دن ہاں اسی دن کا نام لکھ رکھ ۔شاہِ بابل عین اسی دن یروشلم پر خروج کیا ۔
3 اور اس باغی خاندان کے لئے ایک تمثےل بیان کر اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ ایک دیگ چڑھا دے ہاں چڑھا اور اس میں پانی بھر دے ۔
4 ٹکڑے اس میں اکٹھے کر ۔اور ایک اچھا ٹکڑا یعنی ران اور شانہ اور اچھی اچھی ہڈےا ں اس میں بھر دے ۔
5 اور گلہ میں چُن چُن کر لے اور اسکے نےچے لکڑےوں کا ڈھےر لگا دے اور خوب جوش دے تا کہ اس کی ہڈےاں اس میں خوب اُبل جائیں ۔
6 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اس خونی شہر پر افسوس اور اس دیگ پر جس میں زنگ لگا ہے اور اس کا زنگ اس پر سے اتارا نہیں گےا !ایک ایک ٹکرا کر کے اس میں نکال اور اس پر قرعہ نہ پڑے ۔
7 کیو نکہ اس کا خون اس کے درمیان ہے ۔اس نے اسے صاف چٹان پر رکھا ۔زمین پر نہیں گراےا تاکہ خاک میں چھپ جائے ۔
8 اس لئے کہ غضب نازل ہو اور انتقام لیا جائے میں نے اس کا خون صاف چٹان پر رکھا تاکہ وہ چھپ نہ جائے ۔
9 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ خونی شہر پر افسوس !میں بھی بڑھا دےر لگاﺅ نگا ۔
10 لکڑےاں خوب جھونک ۔آگ سلگا ۔گوشت کو خوب اُبال اور شوربا گاڑھا کر اور ہڈےا بھی جلا دے ۔
11 تب اسے خالی کر کے انگاروں پر رکھ تا کہ اس کا پیتل گرم ہو اور جل جائے اور اس میں کی ناپاکی گل جائے اور اس کا زنگ دور ہو ۔
12 وہ سخت محنت سے ہار گئی لیکن اسکا بڑا زنگ اس سے دور نہیں ہو ا ۔آگ سے بھی اس کا زنگ دور نہیں ہو تا ۔
13 تےری ناپاکی میں خباثت ہے کیونکہ میں تجھے پاک کیا چاہتا ہوں پر تو پاک ہونا نہیں چاہتی ۔تو اپنی ناپاکی سے پھر پاک نہ ہو گی جب تک میں اپنا قہر تجھ پر پورا نہ کر چکوں ۔
14 میں خداوند نے یہ فرمایا ہے ۔یوں ہی ہوگا اور میں کر دکھاﺅنگا ۔نہ دستبردار ہونگا نہ رحم کرونگا نہ باز آﺅنگا ۔تےری روش اور تےرے کاموں کے مطابق وہ تےری عدالت کرینگے خداوند خدا فرماتا ہے ۔
15 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
16 کہ اے آدمزاد دیکھ میں تےری منظورِنظر کو ایک ہی ضرب میں تجھ سے جدا کرونگا لیکن تو نہ ماتم کرنا نہ رونا اور نہ آنسو بہانا ۔
17 چپکے چپکے آہیں بھرنا ۔مردہ پر نو حہ نہ کرنا ۔سر پر اپنی پگڑی باندھنا اور پاﺅں میں جوتی پہننا اور اپنے ہونٹوں کو نہ ڈھانپنا اور لوگوں کی روٹی نہ کھانا ۔
18 سو میں نے صبح کو لوگوں سے کلام کیا اور شام کو میری بیوی مر گئی اور صبح کو میں نے وہی کیا جسکا مجھے حکم ملا تھا ۔
19 پس لوگوںنے مجھ سے پوچھا کیا تو ہمیں نہ بتائے گا کہ جو تو کرتا ہے اس کو ہم سے کیا نسبت ہے ؟
20 سو میں نے ان سے کہا کہ خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
21 کہ اسرائیل کے گھرانے سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں اپنے مقدس کو جو تمہارے زور کا فخر اور تمہارا منظورِنظر ہے جسکے لئے تمہارے دل ترستے ہیںناپاک کرونگا اور تمہارے بےٹے اور تمہاری بےٹےاں جن کو تم پیچھے چھور آئے ہو تلوار سے مارے جائےنگے ۔
22 اور تم ایسا ہی کرو گے جیسا میں نے کیا ۔تم اپنے ہونٹوں کو نہ ڈھانپوگے اور لوگوں کی روٹی نہ کھاﺅ گے ۔
23 اور تمہاری پگڑےاں تمہارے سروں پر اور تمہاری جوتےاں تمہارے پاﺅں میں ہونگی اور تم نوحہ اور زاری نہ کرو گے پر اپنی شرارت کے سبب سے گھُلو گے اور ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر ٹھنڈی سانسیں بھرو گے ۔
24 چنانچہ حزقی ایلتمہارے لئے نشان ہے ۔سب کچھ جو اس نے کیا تم بھی کرو گے اور جب یہ وقوع میں آئے گا تو تم جانو گے کہ خداوند خدا میں ہوں ۔
25 اور تو اے آدمزاد دیکھ کہ جس دن میں ان سے انکا زور اور انکی شان وشوکت اور انکے منظورِنظر کو اور انکے مرغوب خاطر انکے بےٹے اور انکی بےٹےاں لے لونگا ۔
26 اس دن وہ جو بھاگ نکلے تےرے پاس آئےگا کہ تےرے کان میں کہے ۔
27 اس دن تےرا منہ اسکے سامنے جو بچ نکلا ہے کھل جائےگا اور تو بولیگااور پھر گونگا نہ رہیگا ۔سو تو ان کےلئے ایک نشان ہو گا اور وہ جانےنگے کہ خداوند میں ہوں ۔


باب 25

1 اور خداوند خدا کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد بنی عمون کی طرف متوجہ ہو اور ان کے خلاف نبوت کر ۔
3 اور بنی عمون سے کہہ خداوند خدا کا کلام سنو ۔خداوند خدا یوں فرماتا ہے چونکہ تو نے مےرے مقدس پر جب وہ ناپاک کیا گےا اور اسرائیل کے ملک پر جب اجاڑا گےا اور بنی یہوداہ پر جب وہ اسےر ہو کر گئے اہاہا!کہا۔
4 اسلئے میں تجھے اہلِ مشرق کے حوالہ کردونگاکہ تو ان کی ملکےت ہو اور وہ تجھ میں اپنے ڈےرے لگا ئےنگے اور تےرے اندر اپنے مکان بنائےنگے اور تےرے مےوے کھائےنگے اور تےرا دودھ پئےنگے ۔
5 اور میں ربہ کو اونٹوں کا اصطبل اور بنی عمون کی سرزمین بھےڑ سالہ بنا دونگا اور تو جانےگا کہ میں خداوند ہوں ۔
6 کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تو نے تالیاں بجائیں اور پاﺅں پٹکے اور اسرائیل کی ملکےت کی بربادی پر اپنی کمال عداوت سے بڑی شادمانی کی ۔
7 اسلئے دیکھ میں اپنا ہاتھ تجھ پر چلاﺅنگا اور تجھے دےگر اقوام کے حوالی کرونگا تا کہ وہ تجھ کو لوٹ لیں اور میں تجھے امتوں میں سے کاٹ ڈالونگا اور ملکوں میں سے تجھے نیست و نابود کرونگا ۔میں تجھے ہلاک کرونگا اور تو جانےگا کہ خداوند میں ہوں۔
8 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ مواباور شعرکہتے ہیں کہ بنی یہوداہ تمام قوموں کی مانند ہیں ۔
9 اس لئے دیکھ میں موابکے پہلو کو اسکے شہر وں سے اسکی سرحد کے شہروں سے جو زمین کی شوکت ہیں بےتِ یسیموت اور بعل معون اور قریتائم سے کھول دونگا ۔
10 اور میں اہلِ مشرق کو اسکے اور بنی عمون کے خلاف چڑھا لاﺅنگا کہ ان پر قابض ہوں تا کہ قوموں کے درمیان بنی عمون کا ذکر باقی نہ رہے ۔
11 اور میں مواب کو سزادونگا اور وہ جانیگے کہ خداوند میں ہوں ۔
12 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ ادومنے بنی یہوداہ سے کینہ کشی کی اور ان سے انتقام لیکر بڑا گناہ کیا ۔
13 اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں ادوم پر ہاتھ چلاﺅنگا ۔اسکے انسان اور حیوان کو نابود کرونگا اور تےمان سے لے کر اسے وےران کرونگا اور وہ ددان تک تلوار سے قتل ہونگے۔
14 اور میں اپنی قوم بنی اسرائیل کے ہاتھ سے ادومسے انتقام لونگا اور وہ مےرے غضب و قہر کے مطابق ادوم سے سلوک کریں گے اور وہ مےرے انتقام کو معلوم کرےنگے خداوند خدا فرماتا ہے ۔
15 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ فلسیوں نے کینہ کشی کی اور دل کی کینہ وری سے انتقام لیا تا کہ دائمی عداوت سے اسے ہلاک کریں ۔
16 اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا کہ دیکھ میں فلسیوں پر ہاتھ چلاﺅنگا اور ےتےموں کو کاٹ دالونگا اور سمندر کے ساحل کے باقی لوگوں کو ہلاک کرونگا ۔
17 اور میں سخت عتاب کرکے ان سے بڑا انتقام لونگا اور جب میں ان سے انتقام لونگا تو وہ جانےنگے کہ خداند میں ہوں ۔


باب 26

1 اور گےارھویں برس میں مہینے کے پہلے دن خداون کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد چونکہ صور نے ےروشلیم پر کہا اہا ہا !وہ قوموں کا پھاٹک توڑ دےا گےا ہے ۔اب وہ میری طرف متوجہ ہو گی ۔اب اس کی بربادی سے معموری ہو گی ۔
3 اسلئے خداند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے صور میں تےرا مخالف ہوں اور بہت سی قوموں کوتجھ پر چڑھا لاﺅنگا جس طرح سمندر اپنی موجوں کو چڑھاتا ہے ۔
4 اور وہ صورکی شہر پناہ کو توڑ ڈالینگے اور اس کے برجوں کو ڈھا دےنگے اور میں اس کی مٹی تک کھرچ پھےنکونگا اور اسے صاف چٹان بنادونگا ۔
5 وہ سمندر میں جال پھیلانے کی جگہ ہو گاکیونکہ میں ہی نے فرمایا خدوند خدا فرماتا ہے اور وہ قوموں کے لئے غنےمت ہوگا ۔
6 اور اس کی بےٹےاں جو میدان میں ہیں تلوار سے قتل ہو نگی اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔
7 کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں شاہِ بابل نبُو کد رضرکو جو شاہنشا ہ ہے گھوڑوں اور رتھوں اور سواروں اور فو جوں اور بہت سے لوگوں کے انبوہ کے ساتھ شمال سے صور پر چڑھا لاﺅنگا ۔
8 وہ تےری بےٹےوں کو میدان میں تلوار سے قتل کرےگا اور تےرے ارد گرد مورچہ بندی کرےگا اور تےرے مقابل دمدمہ باندھے گا اور تری مخالفت میں ڈھال اٹھائے گا ۔
9 وہ اپنے منجنیق کو تےری شہر پناہ پر چلائےگا اور اپنے تبروں سے تےرے برجوں کو دھا دےگا ۔
10 اسکے گھوڑوں کی کثرت کے سبب سے اتنی گرد اڑے گی کہ تجھے چھپا لیگی ۔جب وہ تےرے پھاٹکوں میں گھُس آئےگا جس طرح رخنہ کرکے شہرمیں گھُس جاتے ہیں اور سواروں اور گاڑےوں اور رتھوں کی گڑگڑاہٹ کی آواز سے تیری شہر پناہ ہل جائےگی۔
11 وہ اپنے گھوروں کی سُموں سے تیری سب سڑکوں کو روند ڈالےگا اور تےرے لوگوں کو تلوار سے قتل کر ےگا اور تےری توانائی کے ستون زمین پر گر جائینگے ۔
12 اور وہ تےری دولت لوٹ لینگے اور تےرے مال تجارت کو غارت کرےنگے اور تےری شہر پناہ توڑدالینگے اور تےرے رنگ محلوں کو ڈھا دےنگے اور تےرے پتھر اور لکڑی اور تےری ماتی سمندر میں ڈال دےنگے ۔
13 اور میں تےرے گانے کی آواز بند کردونگا اور تےری ستاروں کی صدا پھر سنی نہ جائےگی ۔
14 اور میں تجھے صاف چٹان بنا دونگا ۔تو جال پھےلانے کی جگہ ہو گا اور پھر تعمیر نہ کیا جائےگا کیونکہ میں خداوند نے یہ فرمایا ہے خداوند خدا فرماتا ہے ۔
15 خداوند خدا صور سے یہ فرماتا ہے کہ جب تجھ میں قتل کاکام جاری ہو گا اور زخمی کراہتے ہونگے تو کیا بحری ممالک تےرے گرنے کے شور سے نہ تھر تھرائینگے ۔
16 تب سمندر کے امرا اپنے تختوں پر اترےنگے اور اپنے جبے اتار ڈالینگے اور اپنے زردوز پیراہن اتار پھےنکیں گے ۔وہ تھر تھراہٹ سے ملُبس ہو کر خاک پر بےٹھےںگے ۔وہ ہر دم کانپینگے اور تےرے سبب سے حےرت زدہ ہو نگے اور ۔
17 اور وہ تجھ پر نوحہ کرےنگے اور کہینگے ہائے تو کیسا نابود ہوا جو بحری ممالک سے آباد اور مشہور شہر تھا جو سمندر میں زور آور تھا جسکے باشندوں سے سب اس میں آمدورفت کرنے والے خو ف کھاتے تھے !۔
18 اب بحری ممالک تےرے گرنے کے دن تھرتھرائینگے ہاں سمندر کے سب بحری ممالک تےرے انجام سے ہراساں ہوں گے ۔
19 کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میں تجھے ان شہروں کی مانند جو بے چراغ ہیں ویران کر دوں گا جب میں تجھ پر سمندر بہا دوں گا اور جب سمند ر ت ¿جھے چھپا لے گا ۔
20 تب میں تجھے ان کے ساتھ جو پاتال میں اتر جاتے ہیں پرانے وقت کے لوگوں کے درمیان نیچے اتاروں گا اور زمین کے اسفل میں اور ان اجاڑ مکانوں میں جو قدیم سے ہیں ان کے ساتھ جو پاتال میں اتر جاتے ہیں تجھے بساﺅں گا تاکہ تو پھر آباد نہ ہو پر میں زندوں کے ملک کو جلال بخشوں گا۔
21 میں تجھے جایِ عبرت کروں گا اور تو نابود ہوگا۔ ہرچند تیری تلاش کی جائے تو کہیں ابد تک نہ ملے گا خداوند خدا فرماتا ہے۔


باب 27

1 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد تو صور پر نوحہ شروع کر۔
3 اور صور سے کہہ تجھے جس نے سمندر کے مدخل میں جگہ پائی اور بہت سے بحری ممالک کی لوگوں کے لئے تجارت گاہ ہے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے صور تو کہتا ہے میرا حسن کامل ہے۔
4 تیری سرحدیں سمندر کے درمیان ہیں۔ تیرے معماروں نے تیری خوشنمائی کو کامل کیا ہے ۔
5 انہوں نے سنیر کے سروﺅں سے تیرے جہازوں کے تختے بنائے اور لبنان سے دیودار کاٹ کر تیرے لئے مستول بنائے۔
6 بسن کے ہلوط سے ڈانڈ بنائی اور تیرے تختے جزائرِ کتیم کے صنوبر سے ہاتھی دانت جڑ کر تیار کئے گئے۔
7 تیرا بادبان مصری منقش کتان کا تھا تاکہ تیرے لئے جھنڈے کا کام دے۔ تیرا شامیانہ جزائرِ الیسہ کے کبودی و ارغوانی رنگ کا تھا۔
8 صیدا اور ارود جے رہنے والے تیرے ملاح تھے اور اے صور تیرے دانشمند تجھ میں تیرے ناخدا تھے۔
9 جبل کے بزرگ اور دانشمند تجھ میں تھے کہ رخنہ بندی کریں ۔ سمندر کے سب جہاز اور ان کے ملاح تجھ میں حاضر تھے کہ تیرے لئے تجارت کا کام کریں۔
10 فارس اور لود اور فوط کے لوگ تیرے لشکرکے جنگی بہادر تھے۔ وہ تجھ میں سپر اور خود کو لٹکاتے اور تجھے رونق بخشتے تھے۔
11 ارود کے مرد تیری ہی فوج کے ساتھ چاروں طرف تیری شہر پناہ پر موجود تھے اور بہادر تیرے برجوں پر حاضر تھے۔ انہوں نے اپنی سپریں چاروں طرف تیری دیواروں پر لٹکائیں اور تیرے جمال کو کامل کیا۔
12 ترسیس نے ہر طرح کے مال کی کثرت کے سبب سے تیرے ساتھ تجارت کی۔ وہ چاندی اور لوہا اور رانگااور سیسا لا کر تیرے بازاروں میں سوداگری کرتے تھے۔
13 یاوان توبل اور مسک تیرے تاجر تھے۔ وہ تیرے بازاروں میں غلاموں اور پیتل کے برتنوں کی سوداگری کرتے تھے۔
14 اہل تجرمہ نے تیرے بازاروں میں گھوڑوں، جنگی گھوڑوں اور خچروں کی تجارت کی۔
15 اہل ودان تیرے تاجر تھے۔ بہت سے بحری ممالک تجارت کےلئے تیرے اختیار میں تھے۔ وہ ہاتھی دانت اور آبنوس مبادلہ کےلئے تیرے پاس لاتے تھے۔
16 ارامی تیری دستکاری کی کثرت کے سبب سے تیرے ساتھ تجارت کرتے تھے۔ وہ گوہر شب چراغ اور ارغوانی رنگ اور چکن دوزی اور کتان اور مونگا اور لعل لا کر تجھ سے خریدو فروخت کرتے تھے۔
17 یہوداہ اور اسرائیل کا ملک تیرے تاجر تھے۔ وہ نیت اور پتنگ کا گیہوں اور شہد اور روغن اور بلسان لا کر تیرے ساتھ تجارت کرتے تھے۔
18 اہل دمشق تیری دستکاری کی کثرت کے سبب سے اور قسم قسم کے مال کی فراوانی کے باعث حلبون کی مے اور سفید اوون کی تجارت تیرے یہاں کرتے تھے۔
19 ودان اور یاوان اوزال سے تج اور آبدار فولاد اور اگر تیرے بازاروں میں لاتے تھے۔
20 ددان تیرا تاجر تھا جو سواری کے چار جامے تیرے ہاتھ بیچتاتھا۔
21 ارب اور قیدار کے سب امیر تجارت کی راہ سے تیرے ہاتھ میں تھے۔ وہ برے اور مینڈھے اور بکریاں لاکر تیرے ساتھ تجارت کرتے تھے۔
22 سبا اور رعماہ کے سوداگر تیرے ساتھ سوداگری کرتے تھے۔ وہ ہر قسم کے نفیس مصالح اور ہر طرح کے قیمتی پتھر اور سونا تیرے بازاروں میں لا کر خریدو فروخت کرتے تھے۔
23 حران اور کنہ اور عدن اور سبا کے سوداگر اور اصور اور کلمد کے باشندے تیرے ساتھ سوداگری کرتے تھے۔
24 یہی تیرے سوداگر تھے جو لاجوردی کپڑے اور کم خواب اور نفیس پوشاکوں سے بھرے دیودار کے صندوق ڈوری سے کسے ہوئے تیری تجارت گاہ میں بیچنے کو لاتے تھے۔
25 ترسیس کے جہاز تیری تجارت کے کاروان تھے۔ تو معمور اور وسط بحر میں نہایت شان و شوکت رکھتا تھا ۔ تیرے ملاح تجھے گہرے پانی میں لائے۔
26 مشرقی ہوا نے تجھ کو وسط بحر میں توڑا ہے۔
27 تیرا مال و اسباب اور تیری اجناس تجارت اور تیرے اہل جہازو ناخدا۔ تیرے رخنہ بندی کرنے والے اور تیرے کاروبار کے گماشتے اور سب جنگی مرد جو تجھ میں ہیں اس تمام جماعت کے ساتھ جو تجھ میں ہے تیری تباہی کے دن سمندر کے وسط میں کریں گے۔
28 تیرے ناخداوں کے چلانے کے شور سے تمام نواحی تھرا جائے گی۔
29 اور تمام ملاح اور اہل جہاز اور سمندر ے سب ناخدا اپنے جہازوں پر سے اتر آئیں گے۔ وہ خشکی پر کھڑے ہوں گے۔
30 اور وہ اپنی آواز بلند کر کے تیرے سبب سے چلائیں گے اور زار زار روئیں گے اور اپنے سروں پر خاک ڈالیں گے اور راکھ میں لوٹیں گے۔
31 وہ تیری سبب سے سر منڈائیں گے اور ٹاٹ اوڑھیں گے۔وہ تیرے لئے دل شکستہ ہو کر روئیں گے اور جاں گداز نوحہ کریں گے۔
32 اور نوحہ کرتے ہوئے تجھ پر مرثیہ خوانی کریں گے اور تجھ پر یوں روئیں گے کہ کون صور کی مانند ہے جو سمندر کے درمیان میں تباہ ہوا؟
33 جب تیرا مال تجارت سمندر پر سے جاتا تھا تب تجھ سے بہت سی قومیں مالامال ہوتی تھیںتو اپنی دولت اور اجناس تجارت کی کثرت سے رویِ زمین کے بادشاہوں کو دولت مند بناتا تھا۔
34 پر اب تو سمندر کی گہرائی میں پانی کے زور سے ٹوٹ گیا ہے۔ تیری اجناس تجارت اور تیرے اندر کی تمام جماعت گر گئی۔
35 بحری ممالک کے سب رہنے والے تیری بابت حیرت زدہ ہوں گے اور ان کے بادشاہ نہایت ترسان ہوں گے ان کا چہرہ زرد ہو جائے گا۔
36 قوموں کے سوداگر تیرا ذکر سن کر سسکاریں گے۔ تو جایِ عبرت ہوگا اور باقی نہ رہے گا۔


باب 28

1 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزادوالیِ صور سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے اس لئے کہ تےرے دل میں گھمنڈ سمایا اور تو نے کہا میں خداوند ہوں اور وسطِ بح ر میں الہٰی تخت پر بےٹھا ہوں اور تو نے اپنا دل الہ کا سا بناےا ہے اگرچہ تو الہ نہیں بلکہ انسان ہے ۔
3 دیکھ تو دانی ایل سے زیادہ دانشمند ہے ۔ایسا کوئی بھید نہیں جو تجھ سے چھپا ہو۔
4 تو نے اپنی حکمت اور خرد سے مال حاصل کیا اور سونے چاندی سے اپنے خزانے بھر لئے ۔
5 تو نے اپنی بڑی دولت سے اور اپنی سوداگری سے اپنی دولت بہت بڑھائی اور اور تےرا دل تےری دولت کے باعث پھول گےا۔
6 اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے چونکہ تو نے اپنا دل الہ کا سا بناےا ۔
7 اسلئے دیکھ میں تجھ پر پردےسےوں کو جو قوموں میں ہیبتناک ہیں چڑھا لاﺅنگا ۔وہ تےری دانش کی خوبی کے خلاف تلوار کھےنچےں گے اور تےرے جمال کو خراب کرےں گے۔
8 وہ تجھے پاتال میں اتارےں گے اور تو ان کی موت مرے گا جو سمندر کے وسط میں قتل ہوتے ہیں ۔
9 کیا تو اپنے قاتل کے سامنے یوں کہے گا کہ میں الہ ہوں ؟حالانکہ تو اپنے قاتل کے ہاتھ الہ نہیں بلکہ انسان ہے ۔
10 تو اجنبی کے ہاتھ سے نامختون کی موت مرےگا کیونکہ میں نے فرمایا ہے خداند خدا فرماتا ہے ۔
11 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
12 کہ اے آدمزاد صور کے بادشاہ پر یہ نوحہ کر اور اس سے کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ تو خاتم الکمال دانش سے معمور اور حسن میں کامل ہے ۔
13 تو عدن میں باغِ خدا میں رہا کرتا تھا ۔ہر ایک قیمتی پتھر تےری پوشش کےلئے تھا مثلََا ےا قوتِ سرخ اور پکھراج اورالماس اور فےروز ہ اور سنگِ سلیمانی اور زبرِ جد اور نیلم اور زمرد اور گورِ شب چراغ اور سونے سے تجھ میں خاتم سازی اور نگےنہ بند ی کی صنعت تےری پیدائش ہی کے رو ز سے جاری رہی ۔
14 تومسمو ح کروبی تھا جو سایہ افگن تھا اور میں نے تجھے خدا کے کوہِ مقدس پر قائم کیا ۔تو وہاں آتشی پتھروں کے درمیان چلتا پھرتا تھا ۔
15 تو اپنی پیدائش ہی کے روز سے اپنی راہ و رسم میں کامل تھا ۔جب تک کہ تجھ میں ناراستی نہ پائی گئی ۔
16 تےری سوداگری کی فراوانی کے سبب سے انہوں نے تجھ میں ظلم بھی بھر دےا اور تو نے گناہ کیا۔ اسلئے میں نے تجھ کو خدا کے پہاڑ پر سے گندگی کی طرح پھینک دےا اور تجھ سایہ افگن کروبی کو آتشی پتھروں کے درمیان سے فنا کر دےا ۔
17 تےرا دل تےرے حسن پر گھمنڈ کرتا تھا ۔تو نے جمال کے سبب سے اپنی حکمت کھو دی ۔میں نے تجھے زمین پر پٹک دےا اور بادشاہوں کے سامنے رکھ دےا ہے تاکہ وہ تجھے دیکھ لیں ۔
18 تو نے اپنی بدکرداری کی کثرت اور اپنی سوداگری کی ناراستی سے اپنے مقدسوں کو ناپاک کیا ہے ۔اسلئے میں تےرے اندر سے آگ نکالونگا جو تجھے بھسم کرے گی اور میں تےرے اب دےکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے تجھے زمین پر راکھ کردونگا ۔
19 قوموں کے درمیان وہ سب جو تجھ کو جانتے ہیں تجھے دیکھ کر ھےران ہونگے ۔تو جایِ عبرت ہو گا اور باقی نہ رہیگا ۔
20 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
21 کہ اے آدمزاد صےدا کا رخ کر کے اس کے خلاف نبوت کر ۔
22 اور کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تےرا مخالف ہوں اسے صیدا اور تےرے اندر میری تمجید ہو گی اور جب میں اس کو سزا دونگا تو لوگ معلوم کرلینگے کہ میں خداوند ہوں اور اس میں میری تقدےس ہو گی ۔
23 میں ا س میں وہا بھےجونگا اور اس کی گلیوں میں خونرےزی کرونگا اور مقتول اس کے درمیان اس تلوار سے جو چاروں طرف سے اس پر چلیگی گرےنگے او ر وہ معلوم کرینگے کہ میں خداوند ہوں ۔
24 تب بنی اسرائیل کےلئے انکی چاروں طرف کے سب لوگوں میں سے جو ان کو حقےر جانتے تھے کوئی چبھنے والا کانٹا ےا دکھانے والا خارنہ رہیگا اور وہ جانےنگے کہ خداوند خدا میں ہوں ۔
25 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میں بنی اسرائیل کو قوموںمیں سے جن میں وہ پراگندہ ہو گئے جمع کرونگا تب میں تقدےس کراﺅنگا اور وہ اپنی سرزمین میں جو میں نے اپنے بندہ یعقوب کو دی تھی بسےنگے ۔
26 اور وہ اس میں امن سے سکونت کرےنگے بلکہ مکان بنائےنگے اور انگور ستان لگائےنگے اور امن سے سکونت کرینگے ۔جب میں ان سب کو جو چاروں طرف سے انکی حقارت کرتے تھے سزا دونگا تو وی جانےنگے کہ میں خدا وند انکا خدا ہوں ۔


باب 29

1 دسویں برس کے دسویں مہینے کی بارھویں تارےخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد تو شاہِ مصر فرعون کے خلا ف ہو اور اس کے اور تمام ملکِ مصر کے خلاف نبوت کر ۔
3 کلام کر اور کہہ خداوند خدا یو ں فرماتا ہے کہ دیکھ اے شاہِ مصر فرعون میں تےرا مخالف ہوں ۔اس بڑے گھڑےال کا جو اپنے درےاﺅں میں لیٹ رہتا ہے اور کیتا ہے کہ میرا درےا میرا ہی ہے اور میںنے سے اپنے لئے بناےا ہے ۔
4 لیکن میں تےرے جبڑوں میں کانٹے اٹکاﺅنگا اور تےرے درےائں کی مچھلیاں تےری کھال پر چمٹاﺅنگا اور تجھے تےرے درےاﺅں سے باہر کھینچ نکالونگا اور تےرے درےاﺅں کی سب مچھلیاں تےری کھال پر چمٹی ہو نگی۔
5 اور میں تجھ کو اور تےرے درےاﺅں کی مچھلیوں کو بیابان میں پھےنک دونگا ۔تو کھلے میدان میں پڑا رہیگا ۔تو نہ بٹورا جائےگا نہ جمع کیا جائےگا ۔میں نے تجھے میدان کے درندوں اور آسمان کے پرندوں کی خوراک کر دےا ہے ۔
6 اور مصر کے تمام باشندے جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔اسلئے کہ وہ بنی اسرائیل کےلئے فقط سر کنڈے کا عصا تھے ۔
7 جب انہوں نے تجھے ہاتھ میں لیا تو تو ٹوٹ گےا اور ان سب کے کندھے زخمی کر ڈالے ۔پھر جب انہوں نے تجھ پر تکیہ کیا تو تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گےا اور ان سب کی کریں ہل گئیں ۔
8 اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میںایک تلوار تجھ پر لاﺅنگا اور تجھ میں انسان اور حیوان کو کاٹ ڈالونگا ۔
9 اور ملکِ مصر اجاڑ اور وےران ہو جائےگا اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔چونکہ ا س نے کہا ہے کہ درےا میرا ہی ہے اور میں نے ہی سے بنایا ہے ۔
10 اسلئے دیکھ میں تےرا اور تےرے درےاﺅں کا مخالف ہوں اور ملکِ مصر کو مجدال سے اسوان بلکہ کوش کی سرحد تک محض وےران اور اجاڑ کردونگا ۔
11 کسی انسان کا پاﺅں ادھر نہ پڑے گا اور نہ اس میں کسی حیوان کے پاﺅں کا گذر ہوگا کیونکہ وہ چالیس برس تک آباد نہ ہوگا۔
12 اور میں ویران ملکوں کے ساتھ ملک مصر کو ویران کرونگا اور اجڑے شہروں کے ساتھ اس کے شہر چالیس برس تک اجاڑ رہینگے اور مصریوں کو قوموں میں پراگندہ اور مختلف ممالک میں تتر بتر کرونگا ۔
13 کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چالیس برس کے آخر میں میں مصریوں کو ان قوموں کے درمیان سے جہاں وہ پرابندہ ہوئے جمع کرونگا ۔
14 اور میں مصر کے اسےروں کو واپس لاﺅنگا اور ان کو فتروس کی زمین ان کے وطن میں واپس پہنچاﺅنگا اور وہ وہاں حقیر مملکت ہونگے ۔
15 یہ مملکت تمام مملکتوں سے زیادہ حقےر ہوگی اور پھر قوموں پر اپنے تئےں بلند نہ کرےگی کیونکہ میں ان کو پست کرونگا تاکہ پھر قوموں پر حکمرانی نہ کریں۔
16 اور وہ آیندہ کو بنی اسرائیل کی تکیہ گاہ نہ ہوگی ۔ جب وہ ان کی طرف دیکھنے لگےں تو انکی بدکرداری یاد دلائےنگے اور جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔
17 سستائےسویں برس کے پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
18 کہ اے آدمزاد شاہِ بابل نبو کد رضر نے اپنی فوج سے صور کی مخالف میں بڑی خدمت کروائی ہے ۔ہر ایک سر بے بال ہو گےا اور ہر ایک کا کندھا چھل گےا پر یہ نہ اس نے اور نہ اس کے لشکر نے صور سے اس خدمت کے واسطے جو اس نے اس کی مخالفت میں کی تھی کچھ اجرت پائی ۔
19 اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں ملکِ مصر شاہِ بابل نبو کد رضر کے ہاتھ میں کردونگا ۔وہ اس کے لوگوں کو پکڑ لے جائےگا اور اس کو لوٹ لے گا اور اس کی غنیمت کو لے لےگا اور یہ اس کے لشکر کی اجرت ہو گی ۔
20 میں نے ملکِ مصر اس محنت کے صلہ میں جو اس نے کی اسے دیا کیونکہ انہوں نے مےرے لئے مشقت کھینچی تھی خداوند خدا فرماتا ہے ۔
21 میں اس وقت اسرائیل کے خاندان کا سینگ اگاﺅنگا اور ان کے درمیان تےرا منہ کھولونگا اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔


باب 30

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد نبت کر اور کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چلا کر کہو افسوس اس رو ز پر!
3 اسلئے کہ وہ روز قرےب ہے ہاں خداوند کا روز یعنی بادلوں کا روز قریب ہے ۔وہ قوموں کی سزا کا وقت ہو گا ۔
4 کیونکہ تلوار مصر پر آئےگی اور جب لوگ مصر میں قتل ہونگے اور اسیری میں جائینگے اور اس کی بنیادیں برباد کی جائینگی تو اہلِ کوش سخت درد میں مبتلا ہونگے ۔
5 کوش اور فوط اور لود اور تمام ملے جلے لوگ اورر کوب اور اس سرزمین کے رہنے والے جنہوں نے معاہدہ کیا ہے ان کے ساتھ تلوار سے قتل ہو نگے ۔
6 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ مصر کے مدد گار گر جائےنگے اور اس کے زور کا گھمند جاتا رہیگا ۔مجدال سے اسوان تک اور اس میں تلوار سے قتل ہونگے خداوند خدا فرماتا ہے ۔
7 اور وہ ویران ملکوں کے ساتھ ویران ہو نگے اور اسکے شہر اجڑے شہروں ک ساتھ اجاڑ رہینگے ۔
8 اور جب میں مصر میں آگ بھڑکاﺅنگا اور اس کے سب مد د گار ہلاک کئے جائےنگے تو وہ معلوم کرےنگے کہ خداوند میں ہوں ۔
9 اس روز بہت سے ایلچی جہازوں پر سوار ہو کر میری طرف سے روانہ ہو نگے کہ غافل کو شیوں کو ڈرائیں اور وہ سخت درد میں مبتلا ہونگے جےسے مصر کی سزا کے وقت کیونکہ دیکھ وہ روز آتا ہے ۔
10 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں مصر کے انبوہ کو شاہِ بابل نبو کد رضر کے ہاتھ سے نیست و نابودکر دونگا ۔
11 وہ اور اس کے ساتھ اس کے لوگ جو قوموں میں ہیبتناک ہیں ملک اجا ڑنے کو بھیجے جائےنگے اور وہ مصر پر تلوار کھینچیں گے اور ملک کو مقتولوں سے بھر دےنگے ۔
12 اور میں ندےوں کو سکھا دونگا اور ملک کو شرےروں کے ہاتھ بیچونگا اور میں اس سرزمین کو اور اس کی تمام معموری کو اجنبیوں کے ہاتھ سے ویران کر ونگا ۔میں کداوند نے فرماےا ہے ۔
13 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں بتوں کو بھی نےست کرونگا اور نوف میں سے مورتو ں کو ہٹا ڈالونگا اور اائیندہ کو ملک مصر سے کوئی بادشاہ برپا نہ ہو گا اور میں ملک مصر میں دہشت ڈالونگا ۔
14 اور فتروس کو ویران کرونگا اور صنعن میں آگ بھڑکاﺅنگا اور نو پر فتویٰ دونگا ۔
15 اور میں سین پر جو مصر کا قلعہ ہے اپنا قہر نازل کرونگا اور نو کے انبوہ کو کاٹ ڈالونگا ۔
16 اور میں مصر میں آگ لگاﺅ نگا سین کو سخت درد دونگا اور نو میں رخنے ہو جائےنگے اور نوف پر ہر روز مصےبت ہو گی ۔
17 آون اور فی بست کے جوان تلوار سے قتل ہونگے اور یہ دونوں بستےاں اسیری میں جائینگی ۔
18 اور تحفنحیس میں بھی دن ندھےرا ہو گا جس وقت میں وہاں مصر کے جوﺅں کو توڑ ونگا اور اس کی قوت کی شوکت مٹ جائےگی اور اس پر گھٹا چھا جائےگی اور اس کی بےٹےاں اسےر ہو کر جائینگی ۔
19 اسی طرح سے مصر کو سزا دونگا اور وہ جانےنگے کہ میں خدا ہوں ۔
20 گےارھویں بر س کے پہلے مہینے کی ساتویں تارےخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
21 کہ اے آدمزاد میں نے شاہِ مصر فرعون کا بازو توڑا اور دیکھ وہ باندھا نہ گےا ۔دوا لگا کر اس پر پٹےاں نہ کسی گئےں کہ تلوار پکڑنے کے لئے مضبوط ہو۔
22 اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں شاہِ مصر کا مخالف ہوں اور اس کے بازﺅں کو یعنی مضبوط اور ٹوٹے کو توڑونگا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرا دوں گا ۔
23 اور مصرےوں کو قوموں میں پراگندہ اور ممالک میں تتر بتر کرونگا ۔
24 اور میںشاہِ بابل کے بازﺅوں کو قوت بخشونگا اور اپنی تلوار اس کے ہاتھ میں دونگا لیکن فرعون کے بازوﺅں کو توڑونگا اور وہ اس کے آگے گھائل کی مانند جومرنے پرہو آہیں مارےگا ۔
25 ہاں شاہِ بابل کے بازوﺅں کو سہارا دونگا اور فرعون کے بازو گر جائےنگے اور جب میں اپنی تلوات شاہِ بابل کے ہاتھ میں دونگا اور اس کو ملکِ مصر پر چلائیگا تو وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔
26 اور میں مصرےوں کو قوموں میں پراگندہ اور ممالک میں تتر بتر کردونگا اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔


باب 31

1 پھر گےا رویں برس کے تےسرے مہینے کی پہلی تا رےخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد شاہِ مصر فرعون اور اس کے لوگو ں سے کہہ کہ تم اپنی بزرگی کس کی مانند ہو ؟
3 دےکھ اسور لبنان کا بلند دےوار تھا جسکی ڈالیاں خوبصورت تھیں اور پتےوں کی کثرت سے وہ خوب سایہ دار تھا اور اس کا قد بلند تھا اور اسکی چو ٹی گھنی شاخوں کے درمیان تھی ۔
4 پانی نے اسکی پروش کی۔ گہراﺅ نے اسے بڑھاےا ۔اس کی نہریں چاروں طرف جاری تھیں اور اس نے اپنی نالیوں کو میدان کے سب درختےوں تک پینچاےا ۔
5 اسلئے پانی کی کثرت سے اس کا قد میدان کے سب درختوں سے بلند ہوا اور جب وہ لہلہانے لگا تو اسکی شاخیں فراوان اور اس کی ڈالیا ں دراز ہوئیں ۔
6 ہوا کے سب پرندے اس کی شاخوں پر اپنے گھونسلے بناتے تھے اور اس کی ڈالیوں کے نےچے سب دشتی حیوان بچے دےتے تھے اور سب بڑی بڑی قومیں اس کے سایہ میں بستی تھیں ۔
7 یوںوہ اپُنی بزرگی میں اپنی ڈالیوں کی درازی میں کے سبب سے خوشنما تھا کیونکہ اس کی جڑوں کے پاس پانی کی کثرت تھی ۔
8 خدا کے باغ کے دےوار اسے چھپانہ سکے۔ سرو اس کی شاخوں اور چنار اس کی ڈالیوں کے برابر نہ تھے اور خدا کے باغ کا کوئی درخت خونصورتی میں اسکی مانند نہ تھا ۔
9 میں نے اس کی ڈالیوں کی فراوانی سے اسے حسن بخشا یہاں تک کہ عدن کے سب درختوں کو جو خدا کے باغ میں تھے اس پر رشک آتا تھا ۔
10 اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ اس نے آپ کو بلند اور اپنی چوٹی کو گھنی شاخوں کے درمیان اونچا کیا اور اس کے دل میں اس کی بلندی پر غرور سمایا ۔
11 اس لئے میں اس کو قوماں میں سے ایک زبردست کے حوالہ کردونگا ۔ےقینا وہ اس کا فیصلہ کر دے گا ۔میں اس کو اس کی شرارت کے سبب سے نکال دےا ۔
12 اور اجنبی لوگ جو قو موں میں سے ہیبتناک ہیں اسے کاٹ ڈالیں گے اور پھےنک دےں گے ۔پہاڑوں اور سب وادےوں پر اسکی شاخیں گر پڑیں گی اور زمین کی سب نہروں کے آس پاس اسکی ڈالیاں تو ڑی جائیں گی اور روی ِزمین کے سب لوگ اس کے سایہ سے نکل جائینگے اور اسے چھوڑ دےں گے ۔
13 ہوا کے سب پرندے اس کے ٹو ٹے تنہ میں بسیں گے اور تمام دشتی جانور اسکی شاخوں پر ہو نگے ۔
14 تاکہ لبِ آب کے سب درختوں میں سے کوئی اپنی بلندی پر مغرور نہ ہو اور اپنی چوٹی گھنی شاخوں کے درمیان اونچی نہ کرے اور ان میں سے بڑے بڑے اور پانی جذب کرنے والے سےدھے کھڑے نہ ہوں کیو نکہ وہ سب کے سب موت کے حوالہ کیا جائیں گے یعنی مین کے اسفل میں بنی آدم کے درمیان جو پاتال میں اترتے ہیں ۔
15 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جس روز وہ پاتال میں اترے میں ماتم کراﺅ نگا گا ۔میں اس کے سبب سے گہراﺅ کو چھپا دونگا اور اس کی نہروں کو روک دوں گا اور بڑے سیلاب تھم جائیں گے ہاں میں لبنان کو اسکے لئے سیاہ پوش کراﺅنگا گا اور اس کے لئے میدان کے سن درخت غشی میں آئیں گے ۔
16 جس وقت میں اسے ان سب کے ساتھ جو گڑھے میں گرتے ہیں پاتال میں ڈالوں گا تو اس کے گرنے کے شور سے تمام اقوام لرزاں ہو نگی اور عدن کے سب درخت ۔لبنان کے چیدہ اور نفیس ۔وہ سب جو پانی جذب کرتے ہیں زمین کے اسفل میں تسلی پائیں گے ۔
17 وہ بھی اس کے ساتھ ان تک جو تلوار سے مارے گئے پاتال میں اتر جائیں گے اور وہ بھی جو اس کے بازو تھے اور قوموان کے درمیان اس کے سایہ میں بستے تھے وہیں ہو نگے ۔
18 تو شان و شوکت میں عدن کے درختوں میں سے کس کی مانند ہے ؟ لیکن تو عدن کے درختوں کے ساتھ زمین کے اسفل میں ڈالا جائےگا ۔تو ان کے ساتھ جو تلوار سے قتل ہو ئے نا مختونوں کے درمیان پڑا رہے گا ۔یہی فرعون اور اس کے سب لوگ ہیں خداوند خدا فرماتا ہے ۔


باب 32

1 بارھویں برس کے با رھویں مہینے کی پہلی تا ریخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد شاہِ مصر فرعون پر نو حہ اٹھا اور اسے کہہ کہ تو قوموں کے درمیان جوان شےر ببر کی مانند تھا اور تو درےاﺅں کے گھڑیال سا ہے ۔ تو اپنی نہروں میں سے ناگاہ نکل آتا ہے اور تو نے اپنے اپنے پاﺅں سے پانی کو تہ و بالا کیا اور ان کی نہروں کو گدلا کر دیا ۔
3 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں امتوں کے انبوہ کے ساتھ تجھ پر اپنا جال ڈالو نگا اور وہ تجھے مےرے ہی جال میں باہر نکالیں گے ۔
4 تب میں تجھے خشکی میں چھوڑ دوں گا اور کھلے میدان پر تجھے پھےنکوں گا اور ہوا کے سب پرندوں کو تجھ پر بےٹھاﺅں گا اور تمام رویِ زمین کے درندوں کو تجھ سے سیر کرونگا ۔
5 اور تےرا گوشت پہاڑوں پر ڈالوں گا اور وادےوں کو تےری بلندی سے بھردونگا ۔
6 اور میں اس سرزمین کو جس کے پانی میں تو تےرتا تھا پہاڑوں تک تےرے لہو سے تر کرونگا اور لہریں تجھ سے لبرےز ہونگی ۔
7 اور جب میں تجھے نابود کرونگا تو آسمان کو تارےک اور اس کے ستاروں کو بے نور کرونگا ۔سورج کو بادل سے چھپاﺅنگا اور چاند اپنی روشنی نہ دےگا ۔
8 اور میں تمام نورانی اجرامِ فلک کو تجھ پر تارےک کرونگا اور میری طرف سے تےری زمین پر تاریکی چھا جائیگی خداوند خدا فرماتا ہے ۔
9 اور جب میں تےری شکستہ حالی کی خبر کو قوموں کے درمیان ان ملکوں میں جن سے تو نا واقف ہے پہنچاﺅ نگا تو امتوں کا دل آزردہ کرونگا ۔
10 بلکہ بہت سی امتوں کو تےرے حال سے حےران کرونگا اور ان کے بادشاہ تےرے سبب سے سخت ترسان ہونگے ۔جب میں ان کے سامنے اپنی تلوار چمکاﺅنگا تو ان میں سے ہر ایک اپنی جان کی خاطر تےرے گرنے کے دن ہر دم تھر تھر ائے گا ۔
11 کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتاہے کہ شاہِ بابل کی تلوار تجھ پر چلےگی ۔
12 میں تیری جمےعت کو زبردستوں کی تلوار سے جو سب کے سب قوموں میں ہیبتناک ہیں ہلاک کرونگا اور وہ مصر کی شوکت کو موقوف اور اور اس کی تمام جمےعت کو نیست کرےنگے ۔
13 اور میں اس کے سب جانوروں کو آبِ کثےر کے پاس سے نابود کرونگا اور آگے کو نہ انسان کے پاﺅں اسے گدلا کر ےنگے نہ حیوان کے سم ۔
14 تب میں ان کا پانی صاف کردوں گا اور ان کی ندیاں روغن کی طرح جاری ہو نگی خداوند خدا فرماتا ہے ۔
15 جب میں ملک مصر کو ویران اور سنسان کرونگا اور اپنی معموری سے خالی ہو جائےگا ۔جب میں اس کے تمام باشندوں کو ہلاک کرونگا تب وہ جانیں گے کہ خداوند میں ہی ہوں ۔
16 یہ وہ نوحہ ہے جس سے اس پر ماتم کرےنگے ۔قوموں کی بیٹیاں اس سے ماتم کرےنگی ۔وہ مصر اور اس کی تمام جمےعت پر اسی سے ماتم کرےنگی خدا وند خدا فرماتا ہے ۔
17 پھر بارھویں برس میں مہینے کے پندرھویں دن خدا کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
18 کہ اے آدمزاد مصر کی جمےعت پر واویلا کر اور اسکو اور نامدار قوموں کی بیٹےوں کو پاتال میں اترنے والوں کے ساتھ زمین کے اسفل میں گرا دے ۔
19 تو حسن میں کس سے بڑھکر تھا؟
20 اتر اور نامختونوں کے ساتھ پڑا رہ ۔ وہ انکے درمیان گرےنگے جو تلوار سے قتل ہوئے ۔وہ تلوار کے حوالہ کیا گےا ہے ۔اسے اور اسکی تمام جمےعت کو گھسےٹ لے جا۔
21 وہ زور آوروں میں سب سے توانا ہیں پاتال میں اس سے اور اسکے مددگار وں سے مخاطب ہو نگے ۔وہ پاتال میں اتر گئے۔ وہ بے حس پڑے ہیں یعنی وہ نامختون جو تلوار سے قتل ہو ئے۔
22 اسور اس کی تمام جمےعت وہاں ہیں ۔اسکی چاروں طرف ان کی قبرےں ہیں ۔سب کے سب تلوار سے قتل ہوئے ہیں۔
23 جن کی قبرےں پاتال کی تہ میں ہیں اور اس کی تمام جمےعت اسکی قبر کے گردا گرد ہے ۔سب کے سب تلوار سے قتل ہو ئے جو زندوں کی زمین میں ہیبت کا باعث تھے ۔
24 عیلام اور اسکی تمام گرو ہ جو اسکی قبر کے گردا گرد ہیں وہاں ہیں ۔سب کے سب تلوار سے قتل ہوئے ہیں ۔وہ زمین کے اسفل میں نا مختون اتر گئے جو ندوں کی زمین میں ہیبت کا باعث تھے اور انہوں نے پاتال میں اترنے والوں کے ساتھ خجالتاٹھائی ہے۔
25 انہوں نے اس کے لئے اور اسکی تمام گروہ کے لئے مقتولوں کے درمیان بستر لگاےا ہے ۔اسکی قبریں اس کے گردا گرد ہیں سب کے سب نا مختون تلوار سے قتل ہوئے ہیں ۔وہ زندوں کی زمین میں ہیبت کا باعث تھے اور انہوں نے پاتال میں اترنے والوں کے ساتھ رسوائی اٹھائی ۔وہ مقتولوں میں رکھے گئے ۔
26 مسک اور توبل اور اسکی تمام جمیعت وہاں ہیں ۔اسکی قبریں اسکے گرداگرد ہیں ۔سب کے سب نامختون اور تلوار کے مقتول ہیں۔اگرچہ زندوں کی زمین میں ہیبت کا باعث تھے ۔
27 کیاوہ ان بہادروں کے ساتھ جو نامختونوں میں ست قتل ہوئے جو اپنے جنگ کے ہتھےاروں سمےت پاتال میں اتر گئے پڑے نہ رہیں گے ؟ان کی تلواریں ان کے سروں کے نےچے رکھی ہیںاور ان کی بدکرداری ان کی ہڈیوں پر ہے کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں بہادروں کے لئے ہیبت کا باعث تھے ۔
28 اور تو نامختونوں کے درمیان تو ڑا جائے گا اور تلوار کے مقتولوں کے ساتھ پڑا رہیگا ۔
29 وہاں ادوم بھی ہے ۔اسکے بادشاہ اور اسکے سب امرا جو باوجود اپنی قوت کے تلوار کے مقتولوں میں رکھے گئے ہیں۔وہ نامختونوں اور پاتال میں اترنے والوں کے ساتھ پڑے رہیں گے ۔
30 شمال کے تمام امرا اور تمام صیدانی جو مقتولوں کےساتھ پاتال میں اترگئے باوجود اپنے رعب کے اپنی زور آور ی سے شرمندہ ہوئے ۔وہ تلوار کے مقتولوں کے ساتھ نا مختون پڑے رہینگے ۔اور پاتال میں اترنے والوں کے ساتھ رسوائی اٹھائیں گے ۔
31 فرعون انکو دیکھ کر اپنی تمام جمےعت کی بابت تسلی پذےر ہو گا ۔ہاں فرعون اور اسکا تمام لشکر جو تلوار سے قتل ہوئے خدانو خدا فرماتا ہے ۔
32 کیو نکہ میں نے زندوںکی زمین میں اسکی ہیبت قائم کی اور وہ تلوار کے مقتولوں کے ساتھ نا مختونوں میں رکھا جائےگا ۔ہاں فرعون اور اسکی جمےعت خداوند خدا فرماتا ہے ۔


باب 33

1 پھر خداوند کا کلام مجھ پر ناز ل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد تو اپنی قوم کے فرزندوں سے مخاطب ہو اور ان سے کہہ جس وقت میں کسی سرزمین پر تلوار چلاﺅں اور اس کے لوگ اپنے بہادروں میں سے ایک کو لیں اور اسے اپنا نگہبان ٹھہرائےں ۔
3 اور وہ تلوارکو اپنی سرزمین پر آتے دیکھ کر نرسنگا پھونکے اور لوگوں کو ہوشیار کرے ۔
4 تب جو کوئی نرسنگے کی آواز سنے اور ہوشیار نہ ہو اور تلوار آئے اور قتل کرے تو اسکا خون اسی کی گردن پر ہوگا ۔
5 اس نے نرسنگے کی آواز سنی اور ہوشیار نہ ہوا ۔اس کا خون اسی پر ہوگا حالا نکہ اگر وہ ہوشیار ہوتا تو اپنی جان بچاتا ۔
6 پر اگر نگہبان تلوار آتے دیکھے اور نرسنگا نہ پھونکے اور لوگ ہوشیار نہ کئے جائیں اور تلوار آئے اور ان کے درمیان سے کسی کو لے جائے تو وہ اپنی بد کرداری میں ہلاک ہوا لیکن میں نگہبان سے اس کے خون کی باز پرس کرونگا ۔
7 سو تو اے آدمزاد اسلئے کہ میں نے تجھے بنی سرائیل کا نگہبان مقرر کیا مےرے منہ کا کلام سن رکھ اور میری طرف سے ان کو ہوشیار کر ۔
8 جب میں شرےر سے کہوں اے شرےر تو ےقینا مرےگا اس وقت اگر تو شرےر سے نہ کہے اور اسے اس کی روش سے آگاہ نہ کرے تو وہ شرےر تو اپنی بدکرداری میں مرےگا پر میں تجھ سے اس کے خون کی باز پرس کرونگا ۔
9 لیکن اگر تو اس شرےر کو جتائے کہ وہ اپنی روش سے باز آئے اور وہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو وہ اپنی بدکرداری میں مرےگا لیکن تو نے اپنی جان بچا لی ۔
10 اسلئے اے آدمزاد تو بنی اسرائیل سے کہہ تم ےوں کہتے ہو کہ فی الحقیقت ہماری خطائیں اور ہمارے گناہ ہم پر ہیں اور ہم ان میں گھلتے رہتے ہیں ۔پس ہم کیونکر زندہ رہیں گے ؟
11 تو ان سے کہہ خداوند خدا فرماتا ہے تجھے اپنی حےات کی قسم شرےر کے مرنے میں تجھے کچھ خوشی نہیں بلکہ اس میں ہے کہ شرےر اپنی راہ سے باز آئے اور زندہ ہے ۔اے بنی اسرائیل باز آﺅ۔تم اپنی بری روش سے باز آﺅ۔تم کیوں مروگے ؟
12 اسلئے اے آدمزاد اپنی قوم کے فرزندوں سے یوں کہہ کہ صادق کی صداقت اس کی خطا کاری کے دن اسے نہ بچائے گی اور شرےر کی شرارت جب وہ اس سے باز آئے تو اس کے گرنے کا سبب نہ ہو گی اور صادق جب گناہ کرے تو اپنی صداقت کے سبب سے زندہ نہ رہ سکے گا ۔
13 جب میں صادق سے کہوں کہ تو ےقینا زندہ رہیگا اگر وہ اپنی صداقت پر تکیہ کرکے بدکرداری کرے تو اس کی صداقت کے کام فراموش ہو جائےنگے اور وہ اس بدکرداری کے سبب سے جو اس نے کی ہے مرےگا ۔
14 اور جب شرےر سے کہوں تو ےقینا مرےگا اگروہ اپنے گناہ سے باز آئے اور وہی کرے جو جائزوروا ہے ۔
15 اگر وہ شرےر گرو واپس کر دے اور جو اس نے لوٹ لیا ہے واپس دےدے اور زندگی کے آئین پر چلے اور ناراستی نہ کرے تو وہ یقینا زندہ رہیگا ۔وہ نہیں مرےگا ۔
16 جو گناہ اس نے کئے ہیں اس کے خلاف محسوب نہ ہو نگے ۔اس نے وہی کیا جو جائزوروا ہے ۔وہ یقینا زندہ رہیگا ۔
17 پر تےری قوم کے فرزند کہتے ہیں کہ خداوند کی روش راست نہیں حالانکہ خود ان کی روش ناراست ہے ۔
18 اگر صادق اپنی صداقت چھوڑ کر بدکرداری کرے تو وہ یقینا اسی کے سبب سے مرےگا ۔
19 اور اگر شرےر اپنی شرارت سے باز آئے اور وہی کرے جو جائز و روا ہے تو اس کے سبب سے زندہ رہیگے ۔
20 پھر بھی تم کہتے ہو کہ خداوند کی روش راست نہیں ہے ۔ اے بنی اسرائیل میں تم میں سے ہر ایک کی روش کے مطابق تمہاری عدالت کروں گا۔
21 ہماری اسیری کے بارھویںبرس کے دسویں مہینے کی پانچویں تاریخ کو یوں ہوا کہ ایک شخص جو یروشلیم کو بھاگ نکلا تھامیرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ شہر مسخر ہو گیا۔
22 اور شام کے وقت اس فراری کے پہنچنے سے پیشتر خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس نے میرا منہ کھول دیا۔ اس نے صبح کو اس کے میرے پاس آنے سے پہلے میرا منہ کھول دیا اور میں پھر گونگا نہ رہا۔
23 تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
24 کہ اے آدمزاد ملک اسرائیل کے قیرانوں کے باشندے یوں کہتے ہیں کہ ابراہام ایک ہی تھا اور وہ اس ملک کا وارث ہوا پر ہم تو بہت سے ہیں۔ ملک ہم کو میراث میں دیا گیا ہے۔
25 اس لئے تو ان سے کہہ دے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ تم لہو سمیت کھاتے اور بتوں کی طرف آنکھ اٹھا تے ہو اور خونریزی کرتے ہو۔ کیا تم ملک کے وارث ہو گے؟
26 تم اپنی تلوار پر تکیہ کرتے ہو۔ تم مکروہ کام کرتے ہو اور تم میں سے ہر ایک اپنے ہمسایہ کی بیوی کو ناپاک کرتا ہے۔ کیا تم ملک کے وارث ہو گے؟
27 تو ان سے یوں کہنا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم وہ جو ویرانوں میں ہیں تلوار سے قتل ہوں گے اور اسے جو کھلے میدان میں ہیں درندوں کو دوں گا کہ نگل جائیں اور ہ جو قلعوں اور غاروں میں ہیں وبا سے مریں گے۔
28 کیونکہ میں اس ملک کو اجاڑ اور باعث حیرت بناﺅں گا اور اسکی قوت کا گھمنڈ جاتا رہے گااور اسرائیل کے پہاڑ ویران ہوں گے یہاں تک کہ کوئی ان پر سے گذر نہیں کرے گا۔
29 اور جب میں ان کے تمام مکروہ کاموں کے سبب سے جو انہوں نے کئے ہیں ملک کو ویران اور باعث حیرت بناﺅں گا تو وہ جانیں گے کہ مَیں خداوند ہوں۔
30 پر اے آدمزاد فی الحال تیری قوم کے فرزند دیواروں کے پاس اور گھروں کے آستانوں پر تیری بابت گفتگو کرتے ہیں اور ایک دوسرے کہتے ہیں ہاں ہر ایک اپنے بھائی سے یوں کہتا ہے چلو وہ کلام سنیں جو خداوند کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
31 وہ امت کی طرح تیرے پاس آتے اور میرے لوگوں کی مانند تیرے آگے بیٹھتے اور تیری باتیں سنتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے منہ سے توبہت محبت ظاہر کرتے ہیں پر ان کا دل لالچ پر دوڑتا ہے۔
32 اور دیکھ تو ان کےلئے نہایت مرغوب سرودی کی مانند ہے جو خوش الحان اور ماہر ساز بجانے والا ہو کیونکہ وہ تیری باتیں سنتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتے۔
33 اور جب یہ باتیں وقوع میں آئیں گی(دیکھ وہ جلد وقوع میں آنے والی ہیں )تب وہ جانیں گے کہ ان کے درمیان ایک نبی تھا۔


باب 34

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد اسرائیل کے چرواہوں کے خلاف نبوت کر ۔ہاں نبوت کر اور ان سے کہہ خداوند خدا چرواہوں کو یوں فرماتا ہے کہ اسرائیل کے چرواہوں پر افسوس ج اپنا ہی پیٹ بھرتے ہیں ۔کیا چرواہوں کو مناسب نہیں کہ بھےڑوں کو چرائیں؟
3 تم چکنائی کھاتے اور اون پہنتے ہو اور جو فربہ ہیں ان کو ذبح کرتے ہو لیکن گلہ نہیں چراتے ۔
4 تم نے کمزوروں کو توانائی اور بیماروں کو شفا نہیں دی اور ٹوٹے ہوئے کو نہیں باندھا اور جو نکال دئے گئے ان کو واپس نہیں لائے اور گمشدہ کی تلاش نہیں کی بلکہ زبردستی اور سختی سے ان پر حکومت کی ۔
5 اور وہ تتر بتر ہو گئے کیونکہ کوئی پاسبان نہ تھا اور وہ پراگندہ ہو کر میدان کے سب درندوں کی خوراک ہوئے ۔
6 میری بھیڑےں تمام پہاڑوں پر اور ہر ایک اونچے ٹےلے پر بھٹکتی پھرتی تھیں ۔ہاں میری بھیڑےں تمام رویِ زمین پر تتر بتر ہو گئےں اور کسی نے نہ ان کو ڈھونڈا نہ ان کی تلا ش کی ۔
7 اسلئے اے پاسبانو خداوند کا کلام سنو ۔
8 خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حےات کی قسم چونکہ میری بھےڑےں شکار ہو گئےں ہاں میری بھیڑےں ہر ایک دشتی درندہ کی خوراک ہوئیں کیونکہ کوئی پاسبان نہ تھا اور مےرے پاسبانوں نے میری بھےڑوں کی تلاش نہ کی بلکہ انہوں نے اپنا پیٹ بھرا اور میری بھےڑوں کو نہ چراےا ۔
9 اسلئے اے پاسبانوں خداوند کا کلام سنو ۔
10 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں چرواہوں کا مخالف ہوں ساور اپنا گلہ ان کے ہاتھ سے طلب کرونگا اور ان کو گلہ بانی سے معزول کرونگا ۔اور چرواہے آیندہ کو اپنا پیٹ نہ بھر سکینگے کیونکہ میں اپنا گلہ ان کے منہ سے چھڑالونگا تاکہ وہ ان کی خوراک نہ ہو ۔
11 کیونکہ خداوند خدا فرماتا ہے کہ دیکھ میں خود پنی بھےڑوں کی تلاش کرونگا اور ان کو ڈھونڈ نکالونگا ۔
12 جس طرح چرواہا اپنے گلہ کی تلاش کرتا ہے جب کہ وہ اپنی بھےڑوں کے درمیان ہو جو پراگندہ ہو گی ہیں اسی طرح میں اپنی بھےڑوں کو ڈھونڈونگا اور ان کو ہر جگہ سے جہاں وہ ابر اور تارےکی کے دن تتر بتر ہو گئی ہیں چھڑالاﺅنگا ۔
13 اور میں ان کو سب امتوں کے درمیان سے واپس لاﺅنگا اور سب ملکوں کے درمیان سے فراہم کرونگا اور ان ہی کے ملک میں پہنچاﺅنگا اور اسرائیل کے پہاڑوں پر نہروں کے کنارے اور زمین کے تمام آباد مکانوں میں چراﺅنگا ۔
14 اور انکو اچھی چراگاہ میں چراﺅنگااور ان کی آرام گاہ اسرائیل کے اونچے پہاڑ پر ہو گی ۔وہاں وہ عمدہ آرامگاہ میں لیٹینگی اور ہری چراگاہ میں اسرائیل کے پہاڑوں پر چرینگی ۔
15 میں ہی اپنے گلہ کو چراﺅنگا اور ان کو لٹاﺅنگا خداوند خدا فرماتا ہے ۔
16 میں گمشدہ کی تلاش کرونگااور خارج شدہ کو واپس لاﺅنگا اور شکستہ کو باندھونگا اور بےماروں کو تقوےت دونگا لیکن موٹوں اور زبردستوں کو ہلاک کرونگا ۔ میںان کو سیاست کا کھانا کھلاﺅنگا ۔
17 اور تمہارے حق میں خداوند خدا یوں فرماتا ہے اے میری بھےڑو دیکھو میں بھےڑ بکریوں اور مینڈھوں اور بکروں کے درمیان امتےاز کرکے انصاف کرونگا ۔
18 کیا تم کو یہ ہلکی سی بات معلوم ہوئی کہ تم اچھا سبزہ زار کھا جاﺅ اور باقی ماندہ کو پاﺅں سے گدلا کرو ؟
19 اور جو تم نے پاﺅں سے لتاڑا ہے وہ میری بھیڑیں کھاتی ہیں اور جو تم نے پاﺅں ے گدلا کی پیتی ہیں ۔
20 اسلئے خداوند خدا نکو یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں ہاں میں موٹی اورر دبلی بھےڑوں کے درمیان انساف کرونگا ۔
21 چونکہ تم نے پہلو اور کندھے سے دھکیلا ہے اور تمام بیماروں کو اپنے سینگوں سے رےلا ہے یہاں تک کہ وہ تتر بتر ہوئے ۔اسلئے میں اپنے گلہ کو بچاﺅنگا ۔
22 وہ پھر کبھی شکار نہ ہو نگے اور میں بھےڑ بکرےوں کے درمیان انساف کرونگا ۔
23 اور میں ان کے لئے ایک چوپان مقرر کرونگا اور وہ ان کو چرائےگا یعنی میرا بندہ داﺅد ۔وہ ان کو چرائےگا اور وہی ان کا چوپان ہو گا ۔
24 اور میں خداوند انکا خدا ہونگا اور میر ا بندہ داﺅد ان کے درمیان فرمانروا ہو گا ۔میں خداوند نے یوں فرمایا ہے ۔
25 اور میں ان کے ساتھ صلح کا عہد باندھوگا اور سب برے درندو کو ملک سے نابود کرونگا اور وہ بیابان میں سلامتی سے رہا کرینگے اور جنگلوں میں سوئےنگے ۔
26 اور میں ان کو اور ان جگہوں کو جو مےرے پہاڑ کے آس پاس ہیں برکت کا باعث بناﺅ نگا اور میں بروقت مینہ برساﺅں گا ۔ برکت کی بارش ہو گی ۔
27 اور میدان کے درخت اپنا میوہ دےنگے اور زمین اپنا حاصل دےگی اور وہ سلامتی کے ساتھ اپنے ملک میں بسےنگے اور جب میں ان کے جوئے کا بندھن توڑ ونگا اور ان کے ہاتھ سے جو ان سے خدمت کرواتے ہیں چھاڑﺅنگا تو وہ جانےنگے کہ میں خداند ہوں ۔
28 اور وہ آگے کو قوموں کا شکار نہ ہو نگے اور زمین کے درندے انکو نگل نہ سکینگے بلکہ وہ امن سے بسےنگے اور ان کو کوئی نہ ڈرائےگا ۔
29 اور میں ان کے لئے ایک نامور پودا برپا کرونگا اور وہ پھر کبھی اپنے ملک میں قحط سے ہلاک نہ ہو نگے اور آگے کو قوموں کا طعنہ نہ اٹھائےنگے ۔
30 اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند انکا خدا انکے ساتھ ہوں اور وہ یعنی بنی اسرائیل مےرے لوگ ہیں خداوند خدا فرماتا ہے ۔
31 اور تم اے میری بھےڑو میری چراہ گاہ کی بھےڑ و ہو اور میں تمہارا خدا ہوں خداوند خدا فرماتا ہے۔


باب 35

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد کوہِ شعےر کی طرف متوجہ ہو اور اسکے خلاف نبوت کر ۔
3 اور اس سے کہہ خداوند خدایوں فرماتا ہے کہ دیکھ اے کوہِ شعےر میں تےرا مخالف ہوں اور تجھ پر اپنا ہاتھ چلاﺅنگا اور تجھے ویران اور بے چراغ کرونگا ۔
4 میں تےرے شہروں کو اجاڑونگا اور تو وےران ہوگا اور جانیگا کہ خداوند میں ہوں ۔
5 چونکہ تو قدیم سے عداوت رکھتا ہے اور تو نے بنی اسرائیل کو ان کی مصیبت کے دن انکی بد کرداری کے آخر میں تلوار کی دھار کے حوالہ کیا ہے ۔
6 اسلئے خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حےات کی قسم میں تجھے خون کے حوالہ کرونگا اور خون تجھے رکیدے گا ۔چونکہ تو نے خونرےزی سے نفرت نہ رکھی اس لئے خون تےرا پیچھا کریگا ۔
7 یوں میں کوہِ شعےر کو ویران اور بے چراغ کرونگا اور اس میں سے گزرنے والے اور واپس آنے والے کو نابود کرونگا ۔
8 اور اس کے پہاڑوں کو اس کے مقتولوں سے بھردونگا ۔تلوار کے مقتول تےرے ٹےلوں اور تیری وادیوں اور تےری تمام ندیوں میں گریں گے ۔
9 میں تجھے ابد تک ویران رکھونگا اور تےری بستےاں پھر آباد نہ ہونگی اور تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں ۔
10 چونکہ تو نے کہا کہ یہ دو قومیں اور یہ دو ملک مےرے ہونگے اور ہم ان کے مالک ہو نگے باوجود یہ کہ خداوند وہاں تھا ۔
11 اسلئے خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حےات کی قسم میں تےرے قہر اور حسد کے مطابق جو تو نے اپنی کینہ وری سے ان کے خلاف ظاہر کیا تجھ سے سلوک کرونگا اور جب میں تجھ پر فتویٰ دونگا تو ان کے درمیان مشہور ہونگا ۔
12 اور تو جانےگا کہ میں خداوند نے تےری تمام حقارت کی باتےں جو تو نے اسرائیل کے پہاڑوں کی مخالفت میں کہیں کہ وہ ویران ہوئے اور ہمارے قبضہ میں کر دئےگے کہ ہم ان کو نگل جائیں سنی ہیں ۔
13 اسی طرح تم نے مےرے خلاف اپنی زبان سے لاف زنی کی اور مےرے مقابل زیادہ گوئی کی ہے جو میں سن چکا ہوں ۔
14 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جب تمام دنیا خوشی کریگی میں تجھے وےران کرونگا ۔
15 جس طرح تو نے بنی اسرائیل کی میراث پر اسلئے کہ وہ ویران تھی شادمانی کی اسی طرح میں بھی تجھ سے کرونگا ۔اے کوہِ شعےر تو اور تمام ادوم بلکل ویران ہو گے اور لوگ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔


باب 36

1 اے آدمزاد اسرائیل کے پہاڑوں سے نبوت کر اور کہہ اے اسرائیل کے پہاڑو خداووند کا کلام سنو ۔
2 خداوند خدایوں فرماتاہے کہ چونکہ دشمن نے تم پر اہا ہا ! کہا اور یہ کہ وہ اونچے اونچے قدیم مقام ہمارے ہی ہو گئے ۔
3 اسلئے نبوت کر اور کہہ خداوند خدا یو ں فرماتاہے کہ اس سبب سے ہا ں اسی سبب سے کہ انہوں نے تم کو ویران کیا اور ہر طرف سے تم کو نگل گئے تا کہ جو قوموں میں سے باقی ہیں تمہارے مالک ہوں اور تمہارے حق میں بکواسیوں زبان کھولی ہے اور تم لوگوں میں بدنام ہوئے ہو ۔
4 اس لئے اے اسرائیل کے پہاڑو خداوند خدا کا کلام سنو ۔خداوند خدا پہاڑوں اور ٹےلوں ،نالوں اور وادےوں اور اجاڑ ویرانوں سے اور متروک شہروں سے جو آس پاس کے باقی لوگوں کے لئے لوٹ اور جایِ تمسخر ہوئے ہیں ےوں فرماتا ہے ۔
5 ہاں اسی لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ یقینا میں اقوام کے باقی لوگوں کا اور تمام ادوم کا مخالف ہوکر جنہوں نے اپنے پورے دل کی خوشی سے اور قلبی عداوت سے اپنے آپ کو میری سر زمین کے مالک ٹھہراےا تا کہ ان کے لئے غنیمت ہو اپنی غےرت کے جوش میں فرماےا ہے ۔
6 اسلئے تو اسرائیل کے ملک کی بابت نبوت کر اور پہاڑوں اور ٹےلوں ،نالوں اور وادےوں سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں نے اپنی غےرت اور اپنے قہر میں کلام کیا اسلئے کہ تم نے قوموں کی ملامت اٹھائی ہے ۔
7 پس خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ یقینا تمہارے آس پا س کی اقوام آپ ہی ملامت اٹھائینگی ۔
8 پر تم اے اسرائیل کے پہاڑو اپنی شاخیں نکالو گے اور میری امت اسرائیل کے لئے پھل لاﺅ گے کیونکہ وہ جلد آنے والے ہیں ۔
9 اسلئے دیکھو میں تمہاری طرف ہوں اور تم پر نوحہ کرونگا اور تم جوتے اور بوئے جاﺅگے ۔
10 اور میں آدمیوں کو ہاں اسرائیل کے تمام گھرانے کو تم پر بہت بڑھاﺅنگا اور شہر آباد ہونگے اور کھنڈر پھر تعمےر کئے جائےنگے ۔
11 اور میں تم پر انسان و حیوان کی فراوانی کرونگا اوروہ بہت ہونگے اور پھلینگے اور میں تم کو ایسے آباد کرونگا جیسے تم پہلے تھے اور تم پر تمہاری ابتدا کے ایام سے زیادہ احسان کرونگا اور تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں ۔
12 ہاں میں ایسا کرونگا آدمی یعنی مےرے اسرائیلی لوگ تم پر چلیں پھریں گے اور تمہارے مالک ہو نگے اور تم ان کی میراث ہو گے اور پھر ان کو بے اولاد نہ کروگے ۔
13 خداوند خدا یوں فرماتا کہ چونکہ وہ تجھ سے کہتے ہیں اے زمین تو انسان کو نگلتی ہے اور تو نے اپنی قوموں کو بے اولاد کیا ۔
14 اس لئے آیندہ نہ تو انسان کو نگلے گی نہ اپنی قوموں کو بے اولاد کرےگی خداوند خدا فرماتا ہے ۔
15 اور میں ایسا کرونگا کہ لوگ تجھ پر کبھی دےگر اقوام کا طعنہ نہ سنےگے اور تو قوموں کی ملامت نہ اٹھائےگی اور پھر اپنے لوگوں کی لغزش کا باعث نہ ہو گی خداوند خدا فرماتا ہے ۔
16 اور خداوند کا کلا م مجھ پر نازل ہوا ۔
17 اے کہ آدمزاد جب بنی اسرائیل اپنے ملک میں بستے تھے انہوں نے اپنی روش اور اپنے اعمال سے اسکو ناپاک کیا ۔ان کی روش مےرے نزدیک عورت کی ناپاکی کی حالت کی مانند تھی ۔
18 اسلئے میں اس خونرےزی کے سبب سے جو انہوں نے اس ملک میںکی تھی اور ان بتوں کے سبب سے جن سے انہوں نے اسے ناپاک کیا تھا اپنا قہر ان پر نازل کیا ۔
19 اور میں نے ان کو قوموں میں پراگندہ کیا اور وہ ملکوں میں تتر بتر ہو گئے اور ان کی روش اور ان کے اعمال کے مطابق میں نے ان کی عداوت کی ۔
20 اور جب وہ دیگر اقوام کے درمیان جہاں جہاں وہ گئے تھے پہنچے تو انہوں نے مےرے مقدس نام کو ناپاک کیا کیونکہ لوگ ان کی بابت کہتے تھے کہ یہ خداوند کے لوگ ہیں اور اس کے ملک سے نکل آئے ہیں ۔
21 لیکن مجھے اپنے پاک نام پر جس کو بنی اسرائیل نے ان قوموں کے درمیان جہاں وہ گئے تھے ناپاک کیا افسوس ہوا ۔
22 اسلئے توبنی اسرائیل سے کہہ دے کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے اے بنی اسرائیل تمہاری خاطر نہیں بلکہ اپنے مقدس نام کی خاطر جسکو تم ان قوموں کے درمیان جہاں تم گئے تھے ناپاک کیا یہ کرتا ہوں ۔
23 میں اپنے بزرگ نام کی جو قوموں کے درمیان ناپاک کیا گےا جسکو تم نے ان کے درمیان ناپا ک کیا تھا تقدےس کرونگا اور جب ان کی آنکھوں کے سامنے تم سے میری تقدےس ہوگی تب وہ قومیں جانینگی کہ میں خداوند ہوں داوند خدا فرماتا ہے ۔
24 کیونکہ میں تم کو ان قوموں میں سے نکال لونگااور تمام ملکوں میں سے فراہم کرونگا اور تم کو تمہارے وطن میں واپس لاﺅنگا ۔
25 تب تم پر صاف پانی چھڑکونگا اور تم پاک صاف ہو گے اور میں تم کو تمہاری تمام گندگی سے اور تمہارے سب بتوں سے پاک کرونگا ۔
26 اور میں تم کو نیا دل بخشو نگا اور نئی روح تمہارے باطن میں دالونگا اور تمہارے جسم میں سنگین دل کو نکال ڈالونگا اور گوشتےن دل تم کو عناےت کرونگا ۔
27 اور میں اپنی روح تمہارے باطن میں ڈالونگا اور تم سے اپنے آئین کی پیروی کراﺅنگا اور تم مےرے احکام پر عمل کرو گے اور ان کو بجا لاﺅنگا ۔
28 اور تم اس ملک میں جو میں نے تمہارے باپ دادا کو دیا سکونت کرو گے اور تم مےرے لوگ ہو گے اور میں تمہارا خدا ہونگا ۔
29 اور میں تم کو تمہاری تمام ناپاکی سے چھڑاﺅنگا اور اناج منگواﺅنگا اور افراط بخشونگا اور تم ہر قحط نہ بھیجونگا ۔
30 اور میں درخت کے پھلوں میں اور کھےت کے حاصل میں افزاےش بخشونگا یہاں تک کہ تم آیندہ کو قوموں کے درمیان قحط کے سبب سے ملامت نہ اٹھاﺅ گے ۔
31 تب تم اپنی بری روش اور بد اعمالی کو یاد کرو گے اور اپنی بدکرداری اور مکروہات کے سبب سے اپنی نظر میں گھنونے ٹھہرو گے ۔
32 میں یہ تمہاری خاطر نہیں کرتا ہوں خداوند خدا فرماتا ہے ۔یہ تمکو یاد رہے ۔تم اپنی راہوں کے سبب سے خجالت اٹھاﺅ اور شرمندہ ہو اے بنی اسرائیل ۔
33 خداوند خدا یوں فرماتا کہ جس دن میں تم کو تمہاری تمام بد کرداری سے پاک کرونگا اسی دن تم کو تمہارے شہروں میں بساﺅں گا اور تمہارے کھندر تعمےر ہو جائےنگے۔
34 اور وہ ویران زمین جو تمام راہ گزروں کی نظروں میں ویران پڑی تھی جوتی جائےگی ۔
35 اور وہ کہےنگے کہ یہ سرزمین جو خراب پڑی تھی باغ ِ عدن کی مانند ہو گی اور اجاڑاور ویران و خراب شہر محکم اور آباد ہو گئے ۔
36 تب وہ قومیں تمہارے آس پاس باقی ہیں جانےنگی کہ میں خداوند نے اجاڑ مکانوں کو تعمیر کیا ہے اور ویرانہ باغ بناےا ہے ۔میں خداوند نے فرماےا ہے اور میں ہی کر دکھاﺅنگا ۔
37 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل مجھ سے یہ درخواست بھی کر سکینگے اور میں ان کے لئے ایسا کرونگا کہ ان کے لوگوں کو بھےڑ بکریوں کی طرح فراوان کروں ۔
38 جیسا مقدس گلہ تھا اور جس طرح یروشلیم کا گلہ اس کی مقررہ عیدوں میں تھا اسی طرح اجاڑ شہرآدمیوں کے غولوں سے معمور ہو نگے اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔


باب 37

1 خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس نے مجھے اپنی روح میں اٹھا لیااور اس وادی میں جو ہڈیوں سے پر تھی مجھے اتار دےا ۔
2 اور مجھے ان کی آس پاس چوگر دپھراےا اور دیکھ وہ وادی کے میدان میں بکثرت اور نہاےت سوکھی تھیں ۔
3 اور اس نے مجھے فرماےا اے آدمزادکیا یہ ہڈےاں زندہ ہو سکتی ہیں ؟ میں نے جواب دیا اے خداوند خدا تو ہی جانتا ہے ۔
4 پھر اس نے مجھے فرمایا تو ان ہڈیوں پر نبوت کر اور ان سے کہہ اے سوکھی ہڈیو خداوند کا کلام سنو ۔
5 خداوند خدا ان ہڈیوں کو یوں فرماتا ہے کہ میں تمہارے اندر روح ڈالونگا اور تم زندہ ہو جاﺅگی ۔
6 اور تم پر نسیں پھیلاﺅنگا اور گوشت چڑھاﺅنگا اور تم کو چمڑا پہناﺅنگا اور تم میں دم پھونکونگا اور تم زندہ ہو گی اور جانو گی کہ میں خداوند ہوں ۔
7 پس میں نے حکم کے مطابق نبوت کی اور جب میں نبوت کر رہا تھا تو ایک شور ہوا اور دیکھ زلزلہ آیا اور ہڈیاں آپس میں مل گئےں ۔ہر ایک ہدی اپنی اپنی ہڈی سے ۔
8 اور میںنے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ نسیں اور گوشت ان پر چڑھ آئے اور ان پر چمڑے کی پوشش ہو گئی پر ان میں دم نہ تھا ۔
9 تب اس نے مجھے فرمایا کہ نبوت کر تو ہوا سے نبوت کر اے آدمزاد اور ہوا سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے دم تو چاروں طرف سے آاور ان مقتولوں پر پھونک کہ زندہ ہو جائےں۔
10 پس میں نے حکم کے مطابق نبوت کی اور ان میں دم آیا اور وہ زندہ ہو کر اپنے پاﺅں پر کھڑی ہوئیں ۔ایک نہاےت بڑا لشکر۔
11 تب اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد یہ ہڈیاں تمام بنی اسرائیل ہیں ۔ دیکھ یہ کہتے ہیں ہماری ہڈےاں سوکھ گئیں اور ہماری امید جاتی رہی ۔ہم تو بلکل فنا ہو گئے۔
12 اسلئے تو نبوت کر اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے مےرے لوگودیکھو میںتمہاری قبروں کو کھولونگا اور تم کو ان سے باہر نکالونگا اور اسرائیل کے ملک میں لاﺅ نگا ۔
13 اور اے مےرے لوگو جب میں تمہاری قبروں کو کھولونگا اور تم کو ان سے باہر نکالونگا تب تم جانو گے کہ خداوند میں ہوں ۔
14 اور میں اپنی روح تم میں ڈالونگا اور تم زندہ ہو جاﺅ گے اور میں تم کو تمہارے ملک میں بساﺅنگا تب تم جانو گے کہ میں خداوند نے فرماےا اور پورا کیا خداوند فرماتا ہے ۔
15 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
16 کہ اے آدمزاد ایک چھڑی لے اور اس پر لکھ یہوداہ اور اس کے رفیق بنی اسرائیل کے لئے۔پھر دوسری چھڑی لے اور اس پر یہ لکھ افرا ئیم کی چھڑی یوسف اور اس کے رفیق تمام بنی اسرائیل کے لئے ۔
17 اور ان دونوں کو جوڑ دے کہ ایک ہی چھڑی تےرے لئے ہوں اور وہ تےرے ہاتھ میں ایک ہونگی ۔
18 اور جب تےری قوم کے لوگ تجھ سے پوچھیں اور کہیں کہ ان کاموں سے تےرا کیا مطلب ہے ؟کیا تو ہم کو نہیںبتائے گا ؟
19 تو تو ان سے کہنا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں یوسف کی چھڑی کو جو افرائےم کے ہاتھ میں ہے اور اس کے رفیقوں کو جو اسرائیل کے قبائل ہیںلونگا اور یہوداہ کی چھڑی کے ساتھ جوڑ دونگا اور ان کو ایک ہی چھڑی بنا دونگا اور وہ مےرے ہاتھ میں ایک ہونگی ۔
20 اور وہ چھڑےاں جن پر تو لکھتا ہے انکی آنکھوں کے سامنے تےرے ہاتھ میں ہونگی ۔
21 اور تو ان سے کہنا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں بنی اسرائیل کو قوموں کے درمیان سے جہاں جہاں وہ گئے ہیں نکال لاﺅنگا اور ہر طرف سے ان کو فراہم کرونگا اور ان کو ان کے ملک میں لاﺅنگا ۔
22 اور میں ان کو اس ملک میں اسرائیل کے پہاڑوں پر ایک ہی قوم بناﺅنگا اور ان سب پر ایک ہی بادشاہ ہو گا اور وہ آگے نہ دو قومیں ہونگے اور نہ دو مملکتوں میں تقسےم کئے جائےنگے ۔
23 اور وہ پھر اپنے بتوں سے اور اپنی نفرت انگےز چےزوں سے اور اپنی خطا کاری سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کرےنگے بلکہ میں ان کو ان کے تمام مسکنوں سے جہاں انہوں نے گناہ کیا چھڑاﺅ نگا اور ان کو پاک کرونگا اور وہ مےرے لوگ ہونگے اور میں ان کا خدا ہونگا ۔
24 اور میرا بندہ داﺅد ان کا بادشاہ ہو گا اور ان سب کا ایک ہی چرواہا ہو گا اور وہ مےرے احکام پر چلینگے اور مےرے آئین کو مان کر ان پر عمل کرےنگے ۔
25 اور وہ اس ملک میں جو میں نے اپنے بندہ یعقوب کو دیا جس میں تمہارے باپ دادا بستے تھے بسےنگے اور وہ اور انکی اولاد اور ان کی اولاد کی اولاد ہمیشہ تک اس میں سکونت کرےنگے اور میرا بندہ داﺅد ہمیشہ کےلئے ان کا فرمانروا ہوگا۔
26 اور میں ان کے ساتھ سلامتی کا عہد باندھو نگا جو ان کے ساتھ ابدی عہد ہوگا اور میں ان کو بساﺅنگا اور فراوانی بخشونگا اور ان کے درمیان اپنے مقدس کو ہمیشہ کے لئے قائم کرونگا ۔
27 میرا خیمہ بھی ان کے ساتھ ہو گا ۔میں ان کا خدا ہونگا اور وہ مےرے لوگ ہونگے ۔
28 اور جب مےرا مقدس ہمیشہ کے لئے ان کے درمیان رہیگا تو قومیں جانیں گے کہ میں خداوند اسرائیل کو مقد س کرتا ہوں ۔


باب 38

1 اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2 کہ اے آدمزاد جوج کی طرف جو ماجوج کی سرزمین کا ہے اور روش اور مسک اور توبل کا فرمانروا ہے متوجہ ہو اور اس کے خلاف نبوت کر ۔
3 اور کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ اے جوج روش اور مسک اور توبل کے فرمانروا میں تےرا مخالف ہوں ۔
4 ا ور میں تجھے پھرا دونگا اور تےرے جبڑوں میں آنکڑے ڈال کر تجھے اور تےرے تمام لشکر اور گھوڑوں اور سواروں کو جوسب کے سب مسلح لشکر ہیں جو پھرےاں اور سپریں لئے ہیں اور سب کے سب تےغ زن ہیں کھینچ نکالونگا۔
5 اور انکے ساتھ فارس اور کوش اور فوط جو سب کے سب سپر بردار اور خو پوش ہیں ۔
6 جمر اور اس کا تمام لشکر اور شمال کی دور اطراف کے اہلِ تجرمہ اور ان کا تمام لشکر یعنی بہت سے لوگ جو تےرے ساتھ ہیں۔
7 تو تےار ہو اور اپنے لئے تےاری کر ۔تو اور تےری تمام جماعت جو تےرے پاس فراہم ہو ئی ہے اور تو ان کا پیشوا ہو۔
8 اور بہت دنو ں کے بعد تو یاد کیا جائیگا اور آخری برسوں میں اس سرزمین پر جو تلوار کے غلبہ سے چھوڑائی گئی ہے اور جس کے لوگ بہت سی قوموں کے درمیان سے فراہم کئے گئے ہیں اسرائیل کے پہاڑوں پر جو قدیم اقوام سے آزاد ہے اور وہ سب کے سب امن و امان سے سکونت کرےنگے ۔
9 تو چڑھائی کرےگا اور آندھی کی طرح آئے گا ۔تو بادل کی مانند زمین کو چھپائےگا ۔تو اور تےرا تمام لشکر اور بہت سے لوگ تےرے ساتھ ۔خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اس وقت یوں ہو گا کہ بہت سے مضمون تےرے دل میں آئیں گے اور تو ایک بڑھا منصوبہ باندھے گا ۔
10
11 اور تو کہے گا کہ میں دیہات کی سرزمین پر حملہ کرونگا اور میں ان پر حملہ کرونگا جو راحت اور آرام سے بستے ہیں ۔جنکی نہ فصیل ہے نہ اڑبنگے اور نہ پھاٹک ہیں ۔
12 تا کہ تو لوٹے اور مال کو چھین لے اور ان وےرانوں پر جو اب آباد ہیں اور ان لو گو ں پر جو تمام قوموں میں سے فراہم ہو ئے ہیں جو مقیشی اور مال کے مالک ہیں اور زمین کی ناف پر بستے ہیں اپنا ہاتھ چلائے ۔
13 سبا اور ددان اور ترسےس کے سوداگر اور ان کے تمام جوان شےر ببر تجھ سے پوچھیں گے کیا تو غارت کرنے آیا ہے ؟کیا تو نے اپنا غول اسکئے جمع کیا ہے کہ مال چھین لے اور چاندی سونا لوٹے اور مویشی اور مال لے جائے اور بڑی غنئمت حاصل کرے ؟
14 اس لئے اے آدمزا د نبوت کر اور جوج سے کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میری اسرائیل امن سے بسیگی کیا تجھے خبر نہ ہو گی ؟
15 اور تو اپنی جگہ سے شمال دور اطراف سے آئےگا تو اور بہت اے لوگ تےرے ساتھھ جو سب کے سب گھوڑوں پر سوار ہو نگے ۔ایک بڑی فوج اوربھاری لشکر۔
16 تومیری امت اسرائیل کے مقابلہ کو نکلے گا اور زمین کو باد ل کی طرح چھپا لے گا یہ آخری دنوں میں ہو گا اور تجھے اپنی سرزمین پر چڑھا لاﺅنگا تا کہ قومیں مجھے جانیں جس وقت میں اے جوج ان کی آنکھوں کے سامنے تجھ سے اپن تقدیس کراﺅنگا ۔
17 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ کیا تو وہی نہیں جس کی بابت میں نے قدیم زمانہ میں اپنے خدمت گزار اسرائیلی نبیوں کی معرفت جنہوں نے ان ایام میں سالہاسال تک نبوت کی فرمایا تھا کہ میں تجھے ان پر چڑھا لاﺅنگا ؟
18 اور یوں ہو گا کہ ان ایام میں جب جوج اسرائیل کی مملکت پر چڑھائی کرےگا تو میرا قہر مےرے چہرے سے نمایا ں ہو گا خداوند خدا فرماتا ہے ۔
19 کیونکہ میںنے اپنی غےرت اور آتش قہر میں فرمایا کہ یقینا اس روز اسرائیل کی سرزمین میں سخت زلزلہ آئے گا ۔
20 یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اور آسمان کے پرندے اور میدان کے چرندے اور سبب کےڑے مکوڑے جو زمین پر رینگتے ہیں اور تمام انسان جو رویِ زمین پر ہیں مےرے حضور تھرتھرائےںگے او رپہاڑ گر پڑےں گے اور کراڑے بےٹھ جائیں گے اور اہر ایک دیوار زمین پر گر پڑیگی ۔
21 اور میں اپنے سب پہاڑوں سے اس پر تلوار طلب کرونگا خداوند خدا فرماتا ہے اور ہر ایک انسان کی تلوار اس کے بھائی پر چلیگی ۔
22 اور میں وبا بھیج کر اور خونریزی کر کے اسے سزا دونگا اور اس پر اور اس کے لشکروں پر اور ان بہت سے لوگوں پر جو اس کے ساتھ ہیں شدت کا مینہ اور بڑے بڑے اولے اور آگ اور گندھک برساﺅنگا ۔
23 اور اپنی بزرگی اور اپنی تقدیس کراﺅنگا اور بہت سی قوموں کی نظروں میں مشہور ہونگا اور وہ جانینگے کہ خداوند میں ہوں ۔


باب 39

1 پس اے آدمزاد تو جوج کے خلاف نبوت کر اور کہہ خداوند خدا فرماتا ہے دیکھ اے جوج روش اور مسک اور توبل کے فرمانروا میں تےرا مخالف ہوں ۔
2 اور میں تجھے پھرادونگا اور تجھے لئے پھرونگا اور شمال کی دو اطراف سے چڑھا لاﺅنگا اور تجھے اسرائیل کے پہاڑوں پر پہنچا ونگا ۔ اور تےری کمان تےرے بائیں ہاتھ سے چھڑاﺅنگا اور تےرے تےر تےر ے دہنے ہاتھ سے گرا دونگا ۔
3 تو اسرائیل کے پہاڑوں پر اپنے سب لشکر اور حمایتےوں سمےت گر جائےگا اور میں تجھے ہر قسم کے شکاری پرندوں اور میدان کے سب درندوں کودونگا کہ کھا جائیں ۔
4
5 تو کھلے میدان میں گرے گا کیونکہ میں ہی نے کہا خداوند خدا فرماتا ہے ۔
6 اور میں ماجوج پر اور ان پر جو بحر ی ممالک میں امن سے سکونت کرتے ہیں آگ بھیجونگا اور وہ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں ۔
7 اور میں اپنے مقدس نام کو اپنی امت اسرائیل میں ظاہر کرونگا اور پھر اپنے مقدس نام کی بے حرمتی نہ ہونے دونگا اور قومیں جانینگی کہ میں خداوند اسرائیل کا قدوس ہوں ۔
8 دیکھ وہ پہنچا اور وقوع میںآیا خداوند خدا فرماتا ہے ۔یہ وہی دن ہے جسکی بابت میں نے فرمایا تھا ۔
9 تب اسرائیل کے شہروں کے بسنے والے نکلینگے اور آگ لگا کر ہتھیاروں کو جلائےنگے یعنی سپروں اور پھرےوں کو ،کمانوں اور تےروں کو اور بھالوں اور برچھےوں کو اور وہ سات برس تک ان کو جلاتے رہینگے ۔
10 یہاں تک کہ وہ نہ میدان سے لکڑی لائینگے اور نہ جنگلوں سے کاٹےنگے کیونکہ وہ ہتھےار ہی جلائینگے اور وہ اپنے لوٹنے والوں کو لوٹےنگے اور اپنے غارت کرنے والوں کو غارت کرےنگے خداوند خدا فرماتا ہے ۔
11 اور اسی دن یوں ہو گا کہ میں وہاں اسرائیل میں جوج کو ایک گورستان دونگا یعنی رہگذروں کی وادی جو سمندر کے مشرق میں ہے ۔اس سے رہگذروں کی راہ بند ہو گی اور وہاں جوج کو اور اسکی تمام جمعےت کو دفن کرینگے اور جمعےت جوج کی وادی اس کا نام رکھینگے ۔
12 اور سات مہینوں تک بنی اسرائیل ان کو دفن کرتے رہینگے تاکہ ملک کو صاف کریں ۔
13 ہاں اس ملک کے سب لوگ ان کو دفن کرےنگے اور یہ ان کے لئے ناموری کا سبب ہوگا جس جس روز میری تمجید ہو گی خداوند خدا فرماتا ہے ۔
14 اور وہ چند آدمیوں کو چن لےنگے جو اس کام میں ہمیشہ مشغول رہینگے اور زمین پر گزرتے ہوئے رہگذروں کی مدد سے ان کو جو سطح زمین پر پڑے رہ گئے ہوں دفن کرےنگے تا کہ اسے صاف کریں ۔پورے سسات مہینوں کے بعد اسے تلاش کرےنگے ۔
15 اور جب وہ ملک میں سے گزریں اور ان میں سے کوئی کسی آدمی کی ہڈی دیکھے تو اس کے پاس ایک نشان کھڑا کرےگا جب تک دفن کرنے والے جمعےت جوج کی وادی میں اسے دفن نہ کریں ۔
16 اور شہر بھی جمعےت کہلائے گا ۔یوں وہ زمین کو پاک کرینگے ۔
17 اور اے آدمزاد خداوند خدا فرماتا ہے ہر قسم کے پرندے اور میدان کے ہر ایک جانور سے کہہ جمع ہو کر آﺅ مےرے اس ذبیحہ پر جسے میں تمہارے لئے ذبح کرتا ہوں ہاں اسرائیل کے پہاڑوں پر ایک بڑے ذبیحہ پر ہر طرف سے جمع ہو تو کہ تم گوشت کھاﺅ اور خون پئیو ۔
18 تم بہادرں کا گوشت کھاﺅ گے اور زمین کے امرا کا خون پئیو گے ۔ہاں مینڈھوں ،بروں ،بکرےوں اور بےلوں کا ۔وہ سب کے سب بسن کے فربہ ہیں ۔
19 اور تم مےرے ذبیحہ کی جسے میں نے تمہارے لئے ذبح کیا یہاں تک چربی کھاﺅ گے اور اتنا خون پئیو گے کہ سست ہو جاﺅ گے ۔
20 اور تم مےرے دستر خوان پر گھوڑوں اور سواروں سے اور بہادروں اور تمام جنگی مردوں سے سےر ہوگے خداوند خدا فرماتا ہے۔
21 اور میں قوموں کے درمیان اپنی بزرگی ظاہر کرونگا اور تمام قومیں میری سزا کو جو میں نے دی او ر مےرے ہاتھ کو جو میں نے ان پر رکھا دکھیں گی ۔
22 اور بنی اسرائیل جانینگے کہ اس دن سے لے کر آگے کو میں ہی خداوند ان کا خدا ہوں ۔
23 اور قومیں جانینگی کہ بنی اسرائیل اپنی بدکرداری کے سبب سے اسیری میں گئے ۔چونکہ وہ مجھ سے باغی ہوئے اس لئے میں نے ان سے منہ چھپایا اور انکو انکے دشمنوں کے ہاتھ میں کر دیا اور وہ سب کے سب تلوار سے قتل ہوئے ۔
24 ان کی ناپاکی اور خطا کاری کے مطابق میں نے ان سے سلوک کیا اور ان سے اپنا منہ چھپایا ۔
25 لیکن خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اب میں ےعقوب کی اسیری کو موقوف کرونگا اور تمام بنی اسرائیل پر رحم کرونگا اور اپنے مقدس نام کے لئے غےور ہونگا ۔
26 اور وہ اپنی رسوائی اور تمام خطا کاری جس سے وہ مےرے گناہ گار ہوئے برداشت کرےنگے ۔جب وہ اپنی سرزمین میں امن سے بودوباش کرینگے تو کوئی انکو نہ ڈرائیگا ۔
27 جب میں ان کو امتوں میں سے واپس لاﺅنگا اور ان کے دشمنوں کے ملکوں میں سے فراہم کرونگا اور بہت سی قوموں کی نظروں میں ان کے درمیان میری تقدیس ہو گی ۔
28 تب وہ جانینگے کہ میں خداوند ان کا خدا ہوں اسلئے کہ میں نے ان کو ان کے ملک میں جمع کیا اور ان میں سے ایک بھی وہاں نہ چھوڑا ۔
29 اور میں پھر کبھی ان سے منہ نہ چھپاﺅنگا کیونکہ میں نے اپنی روح بنی اسرائیل پر نازل کی ہے خداوند خدا فرماتا ہے ۔


باب 40

1 ہماری اسیری کے پچیسویں برس کے شروع میں اور مہینے کی دسویں تاریخ کو جو شہر کی تسخیر کا چودھواں سال تھا اسی دن خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور وہ مجھے وہاں لے گےا ۔
2 وہ مجھے خدا کی رویتوں میں اسرائیل کے ملک میں لے گےا اور اس نے مجھے ایک نہاےت بلند پہاڑ پر اتارا اور اسی پر جنوب کی طرف گویا ایک شہر کا سانقشہ تھا ۔
3 اور وہ مجھے وہاں لے گےا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہے جسکی جھلک پیتل کی سی ہے اور وہ سن کی ڈوری اور پیمائش کا سر کنڈا ہاتھ میں لئے پھاٹک پر کھڑا ہے ۔
4 اور اس شخص نے مجھے کہا اے آدمزا اپنی آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن جو کچھ میں تجھے دکھاﺅں اس سب پر خوب غور کر کیونکہ تو اسی لئے یہاں پہنچاےا گےا ہے کہ میں یہ سب کچھ تجھے دکھاﺅں ۔ پس جو کچھ تو دیکھتا ہے بنی اسرائیل سے بیان کر ۔
5 اور کیا دیکھتا ہوں کہ مسکن کے گرد اگرد دیوار ہے اور اس شخص کے ہاتھ میں پیمائش کا سر کنڈا ہے ۔چھ ہاتھ لمبا اورہو ایک ہاتھ پورے ہاتھ سے چار انگل بڑا تھا ۔سو اس نے اس دیوار کی چوڑائی ناپی ۔وہ ایک سرکنڈا ہوئی اور اونچائی ایک سرکنڈا۔
6 تب وہ مشرق رویہ پھاٹک پر آیااور اس کی سیڑھی پر چڑھا اور اس پھاٹک کے آستانہ کو ناپا جو ایک سرکنڈا چوڑا تھا اور دوسرے آستانہ کا عرض بھی ایک سرکنڈا تھا۔
7 اور ہر ایک کوٹھری ایک سرکنڈا لمبی اور اور ایک سرکنڈا چوڑی تھی اور کو ٹھریوں کے درمیان پانچ پانچ ہاتھ کا فاصلہ تھا اور پھاٹک کی ڈےوڑھی کے پاس اندر کی طرف پھاٹک کا آستانہ ایک سرکنڈا تھا ۔
8 اور اس نے پھاٹک کی ڈیوڑھی اندر سے ایک سرکنڈا ناپی ۔
9 تب اس نے پھاٹک کی ڈیوڑھی آٹھ ہاتھ ناپی اور اس کے ستون دو ہاتھ اور پھاٹک کی ڈےوڑھی اندر کی طرف تھی ۔
10 اور مشرق رویہ پھاٹک کی کوٹھریاں تےن ادھر ور تےن ادھر تھےں یہ تےنوں پیمائش میں برابر تھےں اور اِدھر اُدھر کے ستونوں کا ایک ہی ناپ تھا ۔
11 اور اس نے پھاٹک کے دروازہ کی چوڑائی دس ہاتھ اور لمبائی تےرہ ہاتھ ناپی ۔
12 اور کوٹھریوں کے آگے کا حاشیہ ہاتھ بھر اِ دھر اور ہاتھ بھر اُدھر تھا اور کوٹھرےاں چھ ہاتھ اِدھر اور چھ ہاتھ اُدھر تھےں ۔
13 تب اس نے پھاٹک کو ایک کوٹھری کی چھت سے دوسری کی چھت تک پچیس ہاتھ چوڑا ناپا ۔دروازہ کے مقابل دروازہ ۔
14 اور اس نے ستون ساٹھ ہاتھ ناپے اور صحن کے ستون دروازہ کے گرداگرد تھے ۔
15 اور مدخل کے پھاٹک کے سامنے سے لیکر اندرونی پھاٹک کی دیورھی تک پچاس ہاتھ کا فاصلہ تھا ۔
16 اور کوٹھرےوں میں اور ان کے ستونوں میں پھاٹک کے اندر گردا گرد جھروکے تھے ویسے ہی ڈیوڑھی کے اندر بھی گردا گرد جھروکے تھے اور ستونوں پر کھجور کی سورتےں تھےں ۔
17 پھر وہ مجھے باہر کے صحن میں لے گےا اور کیا دیکھتا ہوں کہ حجرے ہیں اور چاروں طرف صحن میں فرش لگا تھا اور اس فرش پر تےس حجرے تھے ۔
18 اور وہ فرش یعنی نیچے کا فرش پھاٹکوں کے ساتھ ساتھ برابر لگا تھا ۔
19 تب ا س نے اس کی چوڑائی نیچے کے پھاٹک کے سامنے سے اندر کے صحن کے آگے مشرق اور شمال کی طرف باہر باہر سو ہاتھ ناپی ۔
20 پھر اس نے باہر کے صحن کے شمال رویہ پھاٹک کی لمبائی اور چوڑائی ناپی ۔
21 اور اس کی کوٹھریاں تےن اس طرف اور تےن اس طرف تھےں اور اس کے ستون اور محراب پہلے پھاٹک کے ناپ کے مطابق تھے ۔اسکی لمبائی پچاس ہاتھ اور چوڑائی پچیس ہاتھ تھی ۔
22 اور اس کے درےچے اور ڈیوڑھی اور کھجور کے درخت مشرق رویہ پھاٹک کے ناپ کے مطابق تھے اور اوپر جانے کے لئے سات زےنے تھے ۔اسکی دیوڑھی ان کے آگے تھی۔
23 اور اندر کے صحن کا پھاٹک شمال رویہ اور مشرق رویہ پھاٹکوں کے سامنے تھا اور اس نے پھاٹک سے پھاٹک تک سو ہاتھ ناپا ۔
24 اور وہ مجھے جنوب کی راہ سے گےا اور کیا دیکھتا ہوں کہ جنوب کی طرف ایک پھاٹک ہے اور اس نے اسکے ستونوں کو اور اسکی ڈیوڑھی کو ان ہی ناپوں کے مطابق ناپا ۔
25 اور اس میں اور اس کی ڈیوڑھی میں اردگرد ان دریچوں کی مانند درےچے تھے ۔لمبائی پچاس ہاتھ اور چوڑائی پچیس ہاتھ ۔
26 اور اس کے اوپر جانے کے لئے سات زےنے تھے اور اس کی ڈیوڑھی ان کے آگے تھی اور اس کے ستونوں پر کجھور کی صورتےں تھیں ۔ایک اس طرف اور ایک اُس طرف ۔
27 اور جنوب کی طرف اندرونی صحن کا پھاٹک تھا اور اس نے جنوب کی طرف پھاٹک سے پھاٹک تک سو ہاتھ ناپا ۔
28 اور وہ جنوبی پھاٹک کی راہ سے مجھے اندرونی صحن میں لایا اور ان ہی ناپوں کے مطابق اس نے جنوبی پھاٹک کو ناپا ۔
29 اور اس کی کوٹھریوں اور اس کے ستونوں اور اس کی ڈیوڑھی کو ان ہی کے ناپوں کے مطابق پایا اور اس میں اسکی ڈیوڑھی میں اردگرد درےچے تھے ۔لمبائی پچاس ہاتھ اور چوڑائی پچیس ہاتھ تھی ۔
30 اور ڈیوڑھی اور اردگرد پچیس ہاتھ لمبی اور پانچ ہاتھ چوڑی تھی ۔
31 اس کی ڈیوڑھی بیرونی صحن کی طرف تھی اور اس کے ستونوں پر کھجور کی صورتےں تھیں اور اوپر جانے کے لئے آٹھ زےنے تھے ۔
32 اور وہ مجھے مشرق کی طرف اندرونی صحن میں لایا اور ان ہی ناپوں کے مطابق پھاٹک کو پایا ۔
33 اور اس کی کوٹھریوں اور ستونوں اور ڈیوڑھی کو انہی ناپوں کے مطابق پایا اور اس میں اور اس کی ڈیوڑھی میں ارد گرد درےچے تھے ۔لمبائی پچاس ہاتھ اور چوڑائی پچیس ہاتھ تھی ۔
34 اور اس کی ڈیوڑھی بیرونی صحن کی طرف تھی اور اس کے ستونوں پر ادھر اُدھر کھجور کی صورتےں تھیں اور اوپر جانے کے لئے آٹھ زےنے تھے ۔
35 اور وہ مجھے شمالی پھاٹک کی طرف لے گےا اور ان ہی ناپوں کے مطابق اسے پایا ۔
36 اس کی کوٹھریوں اور اس کے ستونوں اوراسکی ڈیوڑھی کو جن میں ارد گرد درےچے تھے ۔ لمبائی پچاس ہاتھ اور چوڑئی پچیس ہاتھ تھی ۔
37 اور اس کے ستون بیرونی صحن کی طرف تھے اور اس کے ستونوں پر ادھر اُدھر کھجور کی صورتیں تھےں اور اوپر جانے کے لئے آٹھ زےنے تھے ۔
38 اور پھاٹکوں کے ستونوں کے پاس دروازہ دار حجرہ تھا جہاں سوختنی قربانیا ں دھوتے تھے ۔
39 اور پھاٹک کی ڈیوڑھی میں دو میزیں اس طرف اور دو اس طرف تھےں کہ ان پر سوختنی قربانی اور خطا کی قربانی اور جرم کی قربانی ذبح کریں ۔
40 اور باہر کی طرف شمالی پھاٹک کے مدخل کے پاس دو میزیں تھےں اور پھاٹک کی ڈیوڑھی کی دوسری طرف دو میزیں ۔
41 پھاٹک کے پاس چار میزیں اس طرف اور چار اُس طرف تھےں یعنی آٹھ میزیں جن پر ذبح کریں ۔
42 سوختنی قربانی کے لئے تراشے ہوئے پتھروں کی چار میزیں تھےں جو ڈیڑھ ہاتھ لمبی اور ڈےڑھ ہاتھ چوڑی اور ایک ہاتھ اونچی تھےں جن پر وہ سوختنی قربانی اور ذبیحہ کو ذبح کرنے کے لئے ہتھےا ر رکھتے تھے ۔
43 اور اس کے اندر چاروں طرف چار انگل لمبی انکڑےاں لگی تھےں اور قربانی کا گوشت میزوں پر تھا ۔
44 اور اندرونی پھاٹک سے باہر اندرونی صحن میں جو شمالی پھاٹک کی جانب تھا گانے والوں کے حجرے تھے اور ان کا رخ جنوب کی طرف تھا اور ایک مشرقی پھاٹک کی جانب تھا جس کا رخ شمال کی طرف تھا ۔
45 اور اس نے مجھ سے کہا کہ یہ حجرہ جسکا رخ جنوب کی طرف ہے ان کاہنوں کے لئے جو مسکن کی نگہبانی کرتے ہیں ۔
46 اور وہ حجرہ جس کا رخ شمال کی طرف ہے ان کاہنوں کے لئے جو مذبح کی محافظت میں حاضر ہیں یہ بنی صدوق ہیں جو بنی لاوی میں سے خدا کے حضور آتے ہیں کہ اس کی خدمت کریں ۔
47 اور اس نے صحن کو سو ہاتھ لمبا اور سو ہاتھ چوڑا مربع ناپا اور مذبح مسکن کے سامنے تھا ۔
48 پھر وہ مجھے مسکن کی ڈیوڑھی میں لایا اور ڈیوڑھی کو ناپا ۔پانچ ہاتھ ادھر اور پانچ ہاتھ اُدھر اور پھاٹک کی چوڑائی تےن ہاتھ اس طرف تھی اور تےن ہاتھ اُس طرف۔
49 ڈیوڑھی کی لمبائی بیس ہاتھ اور چوڑائی گےارہ ہاتھ تھی اور سےڑھی کے زےنے جن سے اس پر چڑھتے تھے اور ستونوں کے پاس پیِلپائے تھے ایک اس طرف اور ایک اُس طرف ۔


باب 41

1 اور وہ مجھے ہیکل میں لایا اور ستو نو ں کو ناپا ۔چھ ہاتھ کی چو ڑائی ایک طرف اور چھ ہاتھ کی دوسری طرف ۔ یہی خیمہ کی چو ڑائی تھی ۔
2 اور دروازا کی چوڑائی دس ہاتھ اور اسکا ایک پہلو پانچ ہاتھ کا اور دوسرا بھی پانچ ہاتھ کا تھا اور اس نے اسکی لمبائی چالیس ہاتھ اور چوڑائی بیس ہاتھ ناپی ۔
3 تب وہ اندر گےا اور دروازہ کے ہر ستون کو دو ہاتھ ناپا اور دروازہ کو چھ ہاتھ اور دروازہ کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی۔
4 اور اس نے ہیکل کے سامنے کی لمبائی کو بیس ہاتھ اور چو ڑائی کو بےس ہاتھ ناپا اور مجھ سے کہا کہ یہی پاک ترین مقام ہے ۔
5 اور اس نے مسکن کی دےوار چھ ہاتھ ناپی اور پہلو کے ہر ایک حجرہ کی چوڑائی مسکن کے گِردا گرد چار ہاتھ تھی۔
6 اور پہلو کے حجرے سِہ منزلہ تھے۔ حجرے اوپر حجرہ قطار میں تےس اور وہ اس دیوار میں جو مسکن کے ارد گرد کے حجروں کے لئے تھی داخل کئے گئے تھے تا کہ مضبوط ہوں لیکن وہ مسکن کی دیوار سے ملے ہوئے نہ تھے ۔
7 اور وہ پہلو پر کے حجرے اوپر تک چاروں طرف زیادہ وسیع ہو تے جاتے تھے کیو نکہ مسکن گردا گرد سے اونچا ہاتا چلا جاتا تھا ۔ مسکن کی چوڑائی اوپر تک برابر تھی اور اوپر کے حجروں کا راستہ درمیانی حجروں کے بیچ سے تھا ۔
8 اور میں نے مسکن کی چاروں طرف اونچا چبو ترا دےکھا۔ پہلو کے حجروں کی بنیاد چھ بڑے ہاتھ کے اوپر سر کنڈے کی تھی ۔
9 اور پہلو کے حجروں کی بیرونی دےوار کی چوڑائی پانچ ہاتھ تھی ۔ اور جو جگہ باقی بچی وہ مسکن کے پہلو کے حجروں کے درمیان تھی ۔
10 اور حجروں کے درمیان مسکن کی چاروں طرف گردا گرد بیس ہاتھ کا فاصلہ تھا۔
11 اور پہلو کے حجروں کے دروازے اس خالی جگہ کی طرف تھے ۔ ایک دروازہ شمال کی طرف اور ایک جنوب کی طرف اور خالی جگہ کی لمبائی چاروں طرف پانچ ہاتھ تھی ۔
12 اور وہ عمارت جو الگ جگہ کے سامنے مغرب کی طرف اسکی چوڑائی ستر ہاتھ تھی اور اس عمارت کی دےوار چاروں طرف پانچ ہاتھ موٹی اور نوے ہاتھ لمبی تھی۔
13 سو اس نے مسکن کو سو ہاتھ لمبا ناپا اور الگ جگہ اور عمارت اس کی دےواروں سمیت سو ہاتھ لمبی تھی۔
14 نیز مسکن کے سامنے کی اور اس مشری جانب کی الگ جگہ کی چو ڑائی سو ہاتھ تھی۔
15 اور الگ جگہ کے سامنے کی عمارت کی لمبائی کو جو اس کے پیچھے تھی اور اس کی جانب کے برآمدے اس طرف سے اور اس طرف سے اور اندر کی طرف ہیکل کو اور صحن کی ڈیوڑھیوں کو اس نے سو ہاتھ ناپا ۔
16 ا ٓستانوں اور جھروکوں اور گردا گرد کے برآمدوں کو جو سِہ منزلہ اور آستانوں کے مقابل تھے اور چاروں طرف سے لکڑکی کے مڑھے ہوئے تھے اور زمین سے کھڑکیوں تک اور کھڑکیا ں بھی مڑھی ہوئی تھی۔
17 دروازہ کے اوپر تک اور اندرونی گھر تک اور اس کے باہر بھی چاروں طرف کی دےوار تک گھر کے اندر سب ٹھیک اندازہ سے تھے ۔
18 اور کروبی اور کھجور بنے تھے اور ایک کھجور دو کروبیوں کے بیچ میں تھا اور ہر ایک کروبی کے دو چہرے تھے۔
19 چنانچہ ایک طرف انسان کا چہرہ کھجور کی طرف اور دوسری طرف جوان شیر ببر کا چہرہ بھی کھجور کی طرف تھا ۔ گھر کی چاروں طرف اسی طرح کا کام تھا ۔
20 زمین سے دروازے کے اوپر تک اور ہیکل کی دےوار پر کروبی اور کھجور بنے تھے ۔
21 اور ہیکل کے دروازے کے ستون چہار غوشہ تھے اور مقدس کے سامنے کی صورت بھی اسی طرح کی تھی ۔
22 مذبح لکڑی کا تھا۔ اس کی اونچائی تےن ہاتھ اور لمبائی دو ہاتھ تھی اور اس کے کو نے اور اس کی کرسی اور اس کی دےواریں لکڑی کی تھیں ۔ اور اس نے مجھ سے کہا یہ خداوند کے حضور کی میز ہے ۔
23 اور ہیکل اور مقدس کے دو دو دروازے تھے
24 اور دروازوں کے دو دو پلے تھے جو مڑ سکتے تھے۔دو پلے ایک دروازے کے لئے اور دو دوسرے کے لئے ۔
25 اور ان پر یعنی ہیکل کے دروازوں پر کروبی اور کھجور بنے تھے جےسے کہ دےواروں پر بنے تھے ۔ اور باہر کی ڈیوڑھی کے رخ پر تختہ بندی تھی۔
26 اور ڈیوڑھی کی اندرونی اور بیرونی جانب پہلو میں جھروکے اور کھجور کے درخت بنے تھے اور ہیکل کے پہلو کے حجروں اور تختہ بندی کی یہی صورت تھی۔


باب 42

1 پھر وہ مجھے شمالی راہ سے بےرونی صحن میں لے گےا اور اس کو ٹھری میں جو الگ جگہ اور عمارت کے سامنے شمال کی طرف تھی لے آیا۔
2 سو ہاتھ کی لمبائی کی جگہ کے مقابل شمالی دروازہ تھا اور اسکی چوڑائی پچاس ہاتھ تھی ۔
3 بیس ہاتھ کے مقابل جو اندرونی صحن کے لئے تھے اور بےرونی صحن کے فرش کے مقابل کوٹھرےاں تےن طبقوں میں ایک دوسری کے مقابل تھےں ۔
4 اور کو ٹھریوں کے سامنے اندر کی طرف دس ہاتھ چوڑا راستہ تھا اور ایک راستہ ایک ہاتھ کا اور ان کے دروازے شمال کی طرف تھے ۔
5 اوپر کی کو ٹھرےاں چھو ٹی تھےں کیو نکہ ان کے بر آمدوں نے عمارت کی نچلی اور درمیانی منزل کے مقابلہ میں ان سے زیادہ جگہ روک لی تھی۔
6 کیو نکہ وہ تےن درجوں کی تھےں لیکن ان کے ستون صحن کے ستو نوں کی ماند نہ تھے ۔ اس لئے وہ نچلی اور درمیانی منزل سے تنگ تھےں ۔
7 اور کوٹھرےوں کے پاس کی بےرونی صحن کی طرف کوٹھریوں کے سامنے کی بےرونی دےوار پچاس ہاتھ لمبی تھی ۔
8 کیو نکہ بیرونی صحن کی کو ٹھریوں کی لمبائی پچاس ہاتھ تھی اور ہیکل کے مقابل سو ہاتھ کی لمبائی تھی۔
9 اور ان کو ٹھریوں کے نےچے مشرق کی طرف وہ مداخل تھا جہاں سے بیرونی صحن سے داخل ہوتے تھے ۔
10 ۔ مشرقی صحن کی چوڑی دےوار میں اور الگ جگہ اور اس عمارت کے سامنے کو ٹھریاں تھےں ۔
11 اور ان کے سامنے ایک ایسا راستہ تھا جیسا شمال کی طرف کی کو ٹھریوں کے سامنے تھا ۔ ان کی لمبائی اور چوڑائی برابر تھی اور ان کے تمام مخرج ان کی ترتےب اور ان کے دروازوں کے مطابق تھے۔
12 اور جنوب کی طرف کی کو ٹھریوں کے دروازوں کے مطابق ایک ادروازہ راہ کے سرے پر تھا یعنی سیدھی دےوار کی راہ پر مشرق کی طرف جہاں سے ان میں داخل ہوتے تھے ۔
13 اور اس نے مجھ سے کہا کہ شمالی اور جنوبی کوٹھریاں جو الگ جگہ کے مقابل ہیں مقدس کو ٹھریاں ہیں جہاں کاہن جو خداوند کے حضور جاتے ہیں اقدس چیزیں کھائیں گے اور اقدس چیزیں اور نذرکی قربانی اور خطا کی قربانی اور جرم کی قربانی وہاں رکھیں گے کیو نکہ وہ مکان مقدس ہے ۔
14 جب کاہن داخل ہو ں تو وہ مقدس سے بےرونی صحن میں نہ جائیں بلکہ اپنی خدمت کے لباس وہیں اتار دیں کیو نکہ وہ مقدس ہیں اور وہ دوسرے کپڑے پہن کر عام مکان میں جائیں ۔
15 پس جب وہ اندرونی گھر کو ناپ چکا تھا تو مجھے اس پھاٹک کی راہ سے لایا جس کا رخ مشرق کی طرف ہے اور گھر کو چاروں طرف سے ناپا ۔
16 اس نے پیمائش کے سر کنڈے سے مشرق کی طرف گردا گرد پانچ سو سر کنڈے ناپے ۔
17 اس نے پیمائش کے سر کنڈے سے شمال کی طرف گردا گرد پانچ سو سر کنڈے ناپے ۔
18 اس نے پیمائش سر کنڈے سے جنوب کی طرف بھی پانچ سو سر کنڈے ناپے۔
19 اس کی نے مغرب کی طرف مڑ کر پیائش کے سر کنڈے سے پانچ سو سرکنڈے ناپے ۔
20 اس نے اس کو چاروں طرف سے ناپا۔اس کی چاروں طرف ایک دیوار پانچ سو سر کنڈے لمبی اور پانچ سو چوڑی تھی تا کہ مقدس کو عام سے جدا کرے۔


باب 43

1 پھر وہ مجھے پھا ٹک پر لے آیا یعنی اس پاٹک پر جس کا رخ مشرق کی طرف ہے۔
2 یا وہ دیکھتا ہوں کہا اسرائیل کے خدا کا جلال مشرق کی طرف سے آیا اور اس کی آوازسیلاب کے شور کی سی تھی اور اس کے جلال سے منور ہو گئی ۔
3 اور یہ اس رویا کی نما ئش کے مطابق تھا جو میں نے دیکھی تھی ۔ہاں اس رویا کے مطا بق جو میں نے دیکھی تھی جب میں شہر کو بر باد کرنے آیا تھااور یہ رویتیں اس رویا کی مانند تھی جو میں نے نہر کبار کے کنار ہ پر دےکھی تھی۔
4 اور خداوندکا جلال اس پھاٹک کی راہ سے جس کا رخ مشرق کی طرف ہے ہیکل میں داخل ہوا۔
5 اور روح نے مجھے اٹھا کراندرونی صحن میں پہنچا دےا ا ور کیا د یکھتا ہوںکہ ہیکل خدا وند کے جلال سے معمور ہے۔
6 اور میں نے لسی کی آواز سنی جو ہیکل میں سے میرے سا تھ با کرتا تھااور ایک شخص میرے پاس کھڑا تھا ۔
7 اور اس نے مجھے فرماےا اے آدمزاد یہ میری تختتےں گاہ اور میرے پاوں کی کرسی ہے جہاں میں بنی اسرائیل کے درمےان ابد تک رہوں گااور بنی اسرائیل اور ا پان کے بادشاہ پھر کبھی میرے مقدس نام کو اپنی بدکاری اور اپنے باد شاہوں کی لاشوں سےان کے مرنے پر ناپاک نہ کر ینگے۔
8 کیونکہ و ہاں ا پنے آستانے میرے آستانوں کےس اور اپنی چوکھٹیں مےری چوکھٹوں کے پاس لگاتے تھے اور میرے اور ان کے درمیان اپنے ان صرف ایک دیوار تھی انہوں نے گھنو نے کاموں سے جوا نہوں نے کئے میرے مقدس نام کونا پاک کیا اس لئے میں نے اپنے قہر میں ان کو ہلاک کیا ۔
9 پس اب وہ اپنی بد کاری اور اپنے بادشاہوں کی لاشیں مجھ سے دور کردےں تو میں ابد تک ان کے درمیان رہونگا۔
10 اے آدمزاد توبنی اسرائیل کو یہ گھر دکھاتاکہ وہ اپنی بدکرد اری سے شرمندہ ہو جائیں اور اس نمونہ کو نا پیں۔
11 اور اگر وہ اپنے سب کاموں سے پشیمان ہوں تو اس گھر کا نقشہ اور اس کی ترتےب اور اسکے مخارج و داخل اور اسکی تمام شکل اور اس کے کل احکام اور اسکی پوری وضع اور تمام قوانین انکو دکھا اور انکی آنکھوں کے سامنے اسکو لکھ تاکہ وہ اس کا کل نقشہ اور اس کے تمام حکام کو مان کر ان پر عمل کریں ۔
12 اس گھر کا قانون یہ ہے کہ اسکی تمام سرحدیں پہاڑ کی چوٹی پر اسکے گردا گرد نہاےت مقدس ہو نگی ۔ دیکھ یہی اس گھر کا قانون ہے ۔
13 اور ہاتھ کے ناپ سے مذبح کے یہ ناپ ہیں اور اس ہاتھ کی لمبائی ایک ہاتھ چار انگل ہے ۔پایہ ایک ہاتھ کا ہو گا اور چوڑائی ایک ہاتھ اور اس کے گردا گرد بالشت بھر چوڑا حاشیہ اور مذبح کا پایہ یہی ہے ۔
14 اور زمین پر کے اس پایہ سے لے کر نیچے کی کرسی تک دو ہاتھ اور اسکی چوڑائی ایک ہاتھ اور چھوٹی کرسی سے بڑی کرسی تک چار ہاتھاور چوڑائی ایک ہاتھ ۔
15 اور اوپر کا مذبح چار ہاتھ ہو گا اور مذبح کے اوپر چار سینگ ہو ں گے ۔
16 اور مذبح بارہ ہاتھ لمبا ہو گا اور بارہ ہاتھ چوڑا مربع ۔
17 اور کرسی چودہ ہاتھ لمبی اور چودہ ہاتھ چوڑی مربع اور گردا گرد اسکا کنارہ آدھا ہاتھ اور اسکا پایہ گرداگرد ایک ہاتھ اور اس کا زینہ مشرق رو ہو گا ۔
18 اور اس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ مذبح کے یہ احکام اس روز جاری ہونگے جب وہ اسے بنائیں گے تاکہ اس پر سوختنی قربانی چڑھائیں اور اس پر لہو چھڑکیں ۔
19 اور تو لاوی کاہنوں کو جو صدوق کی نسل سے ہیں جو میری خدمت کے لئے میرے حضور آتے ہیں خطا کی قربانی کے لئے بچھڑا دینا خداوند خدا فرماتا ہے ۔
20 اور تو اسکے خون میں سے لینا اور مذبح کے چاروں سینگوں پو اسکی کرسی کے چاروں کونوں پر اور اس اسکے گرد چوگرد کے حاشیہپر لگانا اسی طرح کفارہ دیکر اسے پاک و صاف کرنا ۔
21 اور خطا کی قربانی کے لئے بچھڑا لینا اور وہ گھر کی مقرر جگہ میں مقدس کے باہر جلایا جائے گا ۔
22 اور تو دوسرے دن ایک بے عےب بکرا خطا کی قربانی کے لئے چھڑھانا اور وہ مذبح کو کفارہ دیکر اسی طرح پاک کر ےنگے جس طرح بچھڑے سے پاک کیا تھا ۔
23 اور جب تو اسے پاک کر چکے گا تو ایک بے عےب مینڈھا چڑھانا ۔
24 اور تو انکو خداوند خداکے حضور ؛انا اور کاہن ان پر نمک چھڑکیں گے اور ان کو سوختنی قربانی کے لئے خداوند کے حضور چھڑائیں ۔
25 اور تو سات دن تک ہر روز ایک بکرا خطا کی قربانی کے لئے تیار رکھنا ۔اور وہ ایک بچھڑا اور گلہ کا ایک مینڈھا بھی جو بے عےب ہوں تےار کر رکھیں ۔
26 سات دن کو کفارہ دے کر پاک صاف کریں گے اور اس کو مخصوص کریں گے ۔
27 اور جب یہ دن پورے ہو ں گے تو یوں ہو گا کہ آٹھویں دن اور آئیندہ کاہن تمہاری سوختنی قربانیوں کو مذبح پر گزرانیں گے اور میں تم کو قبول کرونگا خداوند خدا فرماتا ہے ۔


باب 44

1 تب وہ مجھ کو مقدس کے بےرونی پھاٹک کی راہ سے جسکا رخ مشرق کی طرف ہے واپس لایا اور وہ بند تھا ۔
2 اور خداوند نے مجھے فرمایا کہ یہ پھاٹک بند رہے گا اور کھولانہ جائے گا اور کوئی انسان اس سے داخل نہ ہو گا چو نکہ خداوند اسرائیل کو خدا اس سے داخل ہو اہے اسلئے یہ بند رہے گا
3 مگر فرمانروا اسلئے کہ فرمانروا ہے خداوند کے حضور روٹی کھانے کو اس میں بیٹھے گا ۔ وہ اس پھاٹک کے آستانہ کی راہ سے اندر آئے گا اور اسی راہ سے باہر جائے گا ۔
4 پھر وہ مجھے مالی پھاٹک کی راہ سے ہیکل کے سامنے لایا اور میں نے نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ خداوند کی جلال نے خداوند کے گھر کو معمور کر دیا اور میں منہ کے بل گرا ۔
5 اور خداوند نے مجھے فرمایا اے آدمزاد ! خوب غور کر اور اپنی آنکھوں سے دےکھ اور جو کچھ خداوند کے گھر کے حکام و قوانین کی بابت تجھ سے کہتا ہوں اپنے کانوں سے سن اوت گھر کءمدخل کو اورت مقدس کے سب مخرجوں کو خیال میں رکھ ۔
6 اور تو بنی اسرائیل کے باغی لوگوں سے کہنا کہ خداوند خدا یوںفرماتاکہ بنی اسرائئیل تم اپنی تمام مکروہات کو اپنے لئے کافی سمجھو ۔
7 چنانچہ جب تم میری روٹی اور چربی اور لہو گزرانتے تھے تو دل کے نا مختون اور جسم کے نا مختون اجنبی زادوں میرے مقدس میں لائے تاکہ وہ میرے مقدس میں آکر میرے گھر کو نا پاک کریں اور انہوں نے تمہارے تمام نفرت انگےز کاموں کے سبب سے میرے عہد کو توڑا ۔
8 اور تم نے میری مقدس چےزوں کی حفاظت نہ کی بلکہ تم نے غےروں کو اپنی طرف سے میرے مقدس میں نگاہ بان مقرر کیا ۔
9 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ ان اجنبی زادوں میں سے جو بنی اسرائیل کے درمیان ہیں کوئی دل کا نا مختون یا جسم کا نا مختون اجنبی زادہ میرے مقدس میں داخل نہ ہو گا ۔
10 اور بنی لاوی جو مجھ سے دور ہو گئے جب اسروئیل گمراہ ہوا کیو نکہ وہ اپنے بتوں کی پےروی کر کے مجھ سے گمراہ ہوئے ۔وہ بھی اپنی بد کرداری کی سزا پائیں گے۔
11 تو بھی وہ میرے مقدس میں خادم ہو ں گے اور میرے گھر کے پھاٹکوں پر نگاہ بانی کریں گے اور میرے میں خدمت گزاری کریں گے ۔وہ لوگوں کے لئے سوختنی قربانی اور ذبیحہ ذ بح کریں گے اور ان کے سامنے ان کی خدمت کے لئے کھڑے رہیں گے
12 کیو نکہ انہوں نے ان کے لئے بتوں کی خدمت کی اور فرماتا ہے کہ ۔ وہی میرے مقدس میں داخل ہو ں گے اور میری خدمت کے لئے میرے پاس آئیں گے اور میرے امانت دار ہوں گے ۔ابنی اسرائیل کے لئے بد کرداری میں ٹھوکر کا باعث ہوئے اس لئے میں نے ان پر ہاتھ چلایا اور وہ اپنی بد کرداری کی سزا پائیں گے خداوند خدا فرماتا ہے ۔
13 اور وہ میرے نزدیک آسکیں گے کہ میرے حضور کہانت کریں ۔نہ وہ میری مقدس چےزوں کے پاس آئیں گے اور یعنی پاک ترین چےزوں کے پاس بلکہ وہ اپنی رسوائی اٹھائیں گے اور اپنے گھنونے کاموں کی جو انہوں نے کئے ہیں سزا پائیں گے۔
14 تو بھی میں ان کو ہیکل کی حفاظت کے لئے اور اس کی تمام خدمت کے لئے اور سب اس کے لئے جو اس میں کیا جائے گا نگاہ بان مقرر کروں گا۔
15 لیکن لاوی کاہن یعنی بنی صدوق جو میرے مقدس کی حفاظت کرتے تھے جب بنی اسرائیل مجھ سے گمراہ ہو گئے میری خدمت کے لئے میرے نزدیک آئیں گے اور میرے حضور کھڑے رہیں گے تا کہ میرے حضور چربی اور لہو گزرانیں خداوند خدا فرماتا ہے ۔
16 وہی میرے مقدس میں داخل ہو ں گے اور وہی خدمت کے لئے میری میز کے پاس آئیں گے اور میرے امانتدار ہوں گے ۔
17 اور یوں ہو گا کہ جس وقت وہ اندرونی صحن کے پھاٹکوں سے داخل ہوں گے تو کتانی پوشاک سے ملبوس ہوں گے اور جب تک اندرونی صحن کے پھاٹکوں کے درمیان اور مسکن میں خدمت کریں گے ۔کو ئی اونی چیز نہ پہنیں گے ۔
18 وہ اپنے سروں پر کتانی عمامے اور کمروں پر کتانی پاجامے پہنیں گے واور جو کچھ پسینے کا باعث ہو اسے اپنی کمر پر نہ باندھیں ۔
19 اور جب بیرونی صحن میں یعنی عوام کے بیرونی صحن میں نکل آئیں تو اپنی خدمت کی پو شاک اتار کر مقدس حجروں میں رکھیں گے اور دوسری پوشاک پہنیں گے تاکہ اپنے لباس سے عوام کی تقدےس نہ کریں ۔
20 اور وہ نہ سر منڈائیں گے اور نہ بال بڑھا ئیں گے وہ صرف اپنے سروں کے بال کترائیں گے ۔
21 اور جب اندرونی صحن میں داخل ہوں گے تو کوئی کاہن مے نہ پئے ۔
22 اور وہ بیوہ یا مطلقہ سے بیاہ نہ کریں گے بلکہ بنی اسرائیل کی نسل کی کنوارےوں سے یا اس بیوہ سے جو کسی کاہن کی بیوہ ہو ۔
23 اور وہ میرے لوگوں کو مقدس اور عام میں فرق بتائیں گے اور ان کو نجس اور طاہر میں امتےاز کرنا سکھائیں گے ۔
24 اور وہ جھگڑوں کے فیصلے کے لئے کھڑے ہو ںگے اور میرے احکام کے مطابق عدالت کریں گے اور وہ میری تمام مقررہ عیدوں میں میری شریعت اور میرے عائین پر عمل کریں گے اور میرے سبتوں کو مقدس جانیں گے ۔
25 اور وہ کسی مردہ کے پاس جانے سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کریں گے فقت باپ یا ماں یا بیٹے یا بیٹی یا بھائی یا کنواری بہن کے لئے وہ اپنے آپ کو ناپاک کر سکتے ہیں ۔
26 اور وہ اس کے پاک ہو نے کے بعد اس کے لئے اور سات دن شمار کریں گے۔
27 اور جس روز وہ مقدس کے اندرونی صحن میں خدمت کرنے کو جائے تو اپنے لئے خطا کی قربانی گزرانے گا خداوند خدا فرماتا ہے ۔
28 اور ان کے لئے ایک میراث ہو گی میں ہی ان کی میراث ہوں اور تم اسرائیل میں ان کو کوئی ملکےت نہ دینا ۔میں ہی ان کی ملکیت ہوں ۔
29 اور وہ نذر کی قربانی اور خطا کی قربانی اور جرم کی قربانی کھائیں گے اور ہر ایک چیز جو اسرائیل میں مخصوص کی جائے ان ہی کی ہو گی ۔
30 اور سب پہلے پھلوں کا پہلا اور تمہاری تمام چیزوں کی ہر ایک قربانی کاہن کے لئے ہوں اور تم اپنے پہلے گوندے آٹے سے کاہن کو دینا تاکہ تیرے گھر پر برکت ہو ۔
31 پر وہ جو آپ ہی مر گےا ہو یا درندوں کا پھاڑا ہو اکیا پرند کیا چرند کاہن اسے نہ کھائیں ۔


باب 45

1 اور جب تم زمین کو قرعہ ڈال کر میراث کے لئے تقسیم کرو تو اسکا ایک مقدس حصہ خداوند کے حضور ہدیہ دینا ۔اس کی لمبائی پچیس ہزار اور چوڑائی دس ہزار ہو گی اور وہ اپنے ارد گرد کی تمام حدود میں مقدس ہو گا ۔
2 اس میں سے ایک قطعہ جسکی لمبائی پانچ سو اور چوڑائی پانچ سو جو چاروں طرف برابر ہے مقدس کے لئے ہو گا اور اسکے احاطہ کے لئے چاروں طرف پچاس پچاس ہاتھ کی چوڑائی ہو گی۔
3 اور تو اس پیمائش کی پچیس ہزار کی لمبائی اور دس ہزار کی چوڑائی ناپیگا اور اس میں مقدس ہو گا جو نہاےت پاک ہے ۔
4 زمین کایہ مقدس حصہ ان کاہنوں کے لئے ہو گا جو مقدس کے خادم ہیں جو خداوند کے حضور خدمت کرنے کو آتے ہیں اور یہ مقام ان کے گھروں کے لئے ہو گا اور مقدس کے لئے پاک جگہ ہو گی ۔
5 اور پچیس ہزار لمبا اور دس ہزار چوڑا بنی لاوی ہیکل کے خادموں کے لئے ہو گا تا کہ بیس بستیوں کی جگہ انکی ملکیت ہو ۔
6 اور تم شہر کا حصہ پانچ ہزار چوڑا اور پچیس ہزار لمبا مقدس کے ہدیہ والے حصہ کے پاس مقرر کرنا ۔یہ تمام بنی اسرائیل کے لئے ہو گا ۔
7 اور مقدس ہدیہ والے حصہ کی اور شہر کے حصہ کی دونوں طرف ،قدس ہدیہ والے حصہ کے مقابل مغربی گوشہ مغرب کی طرف اور مشرقی گوشہ مشرق کی طرف فرمانروا کے لئے ہو گا اور لمبائی میں مغربی سرحد سے مشرقی سرحد تک ان حصوں میں سے ایک کے مقابل ہو گا ۔
8 اسرائیل کے درمیان زمین میں سے اسکا یہی حصہ ہو گا اور میرے امرا پھر میرے لوگوں پر ستم نہ کریں اور زمین کو بنی اسرائیل میں ان کے قبائل کے مطابق تقسیم کریں گے ۔
9 خدا وند خدا جوں فرماتا ہے کہ اسرائیل کے مرا تمہارے لے یہی کا فی ہے ۔ ظلم ا ور لو ٹ ما ر کو دور کرو ۔عدالت اور صدا قت کو عمل میں لاو۔اور میرے لوگوں پر سے اپنی زیادتی کو موقوف کرو خداوند خدا یو ں فرماتا ہے ۔
10 اور تم پوری ترازواور پورا ایفہ اور ر پورا بت رکھاکرو۔
11 ایفہ اور بتایک ہی وزن کا ہو تاکہ بت میں خومر کادسواں حصہ ہواس کا اندازہ خومر کے مطابق ہو ۔
12 اور مثقا ل بیس جےرا کا ہو اور بےس مثقا ل پچےس مثقال پندرہ مثقال کا تمہارا مانہ ہو گا۔
13 اور ہدےہ جو تم گزرانوگے سو یہ ہے ۔گیہوں کے خو مر سے ایفہ کا چھٹا اور جو کے خومر سے ایفہ کا چھٹا حصہ دینا ۔
14 اور تیل یعنی تیل کے بت کی بابت ےہ حکم ہے کہ تم کر میں سے دس بت کا خومر ہے ایک بت کا دسواں حصہ دےنا کیو نکہ خومر میں دس بت ہے ۔
15 اور گلہ میں سے ہر دو سوپیچھے اسرائیل کی سیراب چراگاہایک برہ نذر کی قربانی کے لئے اور سوختنی قربانی کے لئے اور سلامتی کی قربانی کے لئے تاکہ ان کے لئے کفارہ ہو خداوند خدا فرماتا ہے۔
16 ملک کے سب لوگ اس فرمانروا کے لئے جو اسرائیل میں ہے یہی ہدیہ د ینگے ۔
17 اور فرمانروا سوختنی قربانیاں اور نذر کی قربانیاں اور تپان عےدوں اور نئے چاند کے وقتو ں اور سبتو ں اور بنی اسرائیل کی تمام مقررہ عےدوں میں دے گا ۔اور خطا کی قربانی اور نذر کی قر بانی اور سوختنی قربانی اور سلامتی کی قربانیاں بنی اسرائیل کے کفارے کے لئے تیار کرے گا ۔
18 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ پہلے مہینے کی پہلی تار ےخ کو توایک بے عیب بچھٹرا لینا اور مقدس کو پاک کرنا ۔
19 اور کاہن خا کی قربا نی کے بچھڑے کا لہو لے گا اور س میں سے کچھ مسکن کے ستو نوں پر اور مذبح کی کر سی کے چاروں کونوں پر اور اندرونی صحن کے دروازے کی چوکھٹوں پر لگا ئے گا ۔
20 اور تو مہینے کی ساتویں تارےح کو ہرایک کے لئے جو خا کرے اور اس کے لئے بھی نادان ہے اور اےسا ہی کرے ۔اسی طرح یہ مسکن کا کفارہ دیا کرو گے ۔
21 تم پہلے مہینے کی چودھو یں تاریح کو عید فسح منانا جو سات دن کی عید ہے اور اس میں بے خمیری ردٹی کھائی جائے گئی ۔
22 ا ور اسی دن فرماروا اپنے لئے اور تمام اہل ملکت کے لئے خطاکی قربانی کے واسطےایک بچھٹرا تیار کرے گا۔
23 اور عید کے ساتویں دن میں وہ ہر روزیعنی سات دن تک سات بے عیب بچھڑے اور سات مینڈھے مہیا کرے گا تاکہ خداوند کے حضو رسوختنی قربانی ہوں اور ہر روز خطا کی قربانی کے لئے ایک بکرا ۔
24 اور وہ ہر ایک بچھڑے کے لئے ایک ایفہ بھر نذر کی قربانی اور ہر ایک مینڈھے کے لئے ایک ایفہ اور فی ایفہ ایک ہین تیل میں تیار کرے گا ۔
25 ساتویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کوبھی وہ عید کے لئے جس طرح سے اس نے ان سات دنوں میں کیا تھا تیاری کرے گا خطا کی قربانی اور سوختنی قربانی اور نذر کی قربانی اور تیل کے مطابق ۔


باب 46

1 خدا وند خدا یوں فرماتا ہے کہ اندرونی صحن کا پھاٹک جس کا رخ مشرق کی طرف ہے کام کاج کے چھ دن بند رہے گا پر سبت کے دن کھولا جائے گا اور نئے چاند کے دن بھی کھولا جائے گا ۔
2 اور فرما نروا بےرونی پھاٹک کے آستانہ کی راہ سے داخل ہو گا اور پھاٹک کی چوکھٹ کے پاس کھڑا رہے گا اور کاہن اس کی سوختنی قربانی اور اس کی سلامتی کی قربانی گزرانے گئے اور پھاٹک کے آستانے پر سجدہ کر کے باہر نکلے گاپر پھاٹک شام تک بند نہ ہو گا ۔
3 اور ملک کے لوگ اسی پھاٹک کے دروازہ پر سبتوں اور نئے چاند کے وقتوں میں خداوند کے حضو رسجدہ کیا کر یں گئے۔
4 اور سوختنی قربانی جو فرمانروا سبت کے دن خداوند کے حضور گزرانے گا یہ ہے ۔چھ بے عیب برے بے عیب مینڈھے ۔
5 اور نذر کی قربانی مینڈھے کے لئےایک ایفہ اور بروں کے لئے نذر کی قربانی اس کی توفیق کے مطابق اوراورایک ایفہ کے لئےایک ہیں تیل ۔
6 اور نئے چاند کے روزایک بے عیب بچھڑا اور چھ برے اورایک مینڈھا سب کے سب بے عیب ہو نگے۔ .
7 اور وہ نذر کی قربانی تےار کرے گایعنی بچھڑے کے لئےایک ایفہ اور بروں کے لئے اس کی توفیق کے مطابق اور ہرایک ایفہ کے لئےایک ہیں تیل ۔
8 اور جب فرمانروا ندر آئے تو پھاٹک کے آستانہ کی راہ سے داخل ہو گا اور اسی را ہ سے نکلے گا۔
9 لیکن جب ملک کے لوگ مقرہ عیدوں کے وقت خداوند کے حضو ر حاضر ہونگے تو جو شمالی پھاٹک کی راہ سے سجدہ کرنے کو داخل ہو گا وہ جنو بی پھاٹک کی راہ سے باہر جا ئے گا اور جو جنوبی پھاٹک کی راہ سے اندر آتا ہے وہ شمالی پھاٹک کی راہ سے باہر جائے گا۔جس پھاٹک کی راہ سے وہ اندر آتا ہے اس سے واپس نہ جائے گابلکہ سیدھا اپنے سامنے کے پھاٹک کی راہ سے نکل جائے گا ۔
10 اور جب وہ اندر جائیں گے تو فرمانروا بھی ان کے درمیان ہوکر جائے گا اور جب وہ باہر نکلے گا سب اکٹھے جائیں گئے۔
11 اور عیدوں اور مذہبی تہواروں کےوقت میں نذر کی قربانی بیل کے لئے ایک ایفہ اور مینڈھے کے لئے ایک ایفہ ہو گی اور بروں کے لئے اس کی توفیق کے مطابق اور ہر ایک ایفہ کے لئے ایک ہین تیل ۔
12 اور جب فرمانرو ا رضا کی قربانی تیار کرے یعنی سوختنی قربانی یا سلامتی کی قربانی خداوند کے حضور رضا کی قربانی کے طور پر لائے تو وہ پھاٹک جس کا رخ مشرق کی طرف ہے اس کے لئے کھولا جائے گا اور سبت کے دن کی طرح وہ اپنی سوختنی قربانی اور سلا متی کی قربانی گزرانے گا ۔تب وہ باہر نکل آئے گا اور اس کے نکلنے کے بعد پھا ٹک بند کیا جائے گا ۔
13 تو ہر روز خداوند کے حضور پہلے سال کا ایک بے عیب برہ سوختنی قربانی کے لئے چرھا ئے گا ۔تو ہر صبح چڑھا ئے گا ۔
14 اور تو اس کے ساتھ ہر صبح نذر کی قربانی گزرانے گا یعنی ایفہ کا چھٹا حصہ اور میدہ کے ساتھ ملانے کو تیل کے ہین کی ایک تہائی دائمی حکم کے مطابق ہمیشہ کے لئے خداوند کے حضور یہ نذر کی قربانی ہو گئی ۔
15 اسی طرح وہ برے اور اور نذر کی قربانی اور تیل ہر صبح ہمیشہ کی سوختنی قربانی کے لئے چڑھائے گا۔
16 خدا وندخدا یوں فرماتا ہے کہ اگر فرمانروا اپنے بیٹوں میں سے کسی کو کوئی ہدیہ دے تووہ اس کی میراث اس کے بےٹوں کی ہو گی۔وہ ان کا مورثی مال ہے۔
17 پر اگر وہ پنے غلاموں میں سے کسی کو اپنی میراث میں سے ہدیہ دے تو وہ آزادی کہ سال تک اس کا ہو گا اس کے بعد پھر فرمانرواکا ہو جائے گا مگر اس کی میراث اس کے بیٹوں کی ہو جائے گی۔
18 اور فرمانروا لوگوں کی میراث میں سے ظلم کر کے نہ لے گا تاکہ ان کو ان کی ملکیت سے بے دخل کرے پر وہ اپنی ہی ملکیت میں سے اپنے بیٹوںکو میراث دے گا تاکہ میرے لوگ اپنی اپنی ملکیت سے جدا نہ ہو جائیں ۔
19 پھروہ مجھے اس مدخل کی راہ سے جو پھاٹک کے پہلو میں تھا کا ہنوں کے مقدس حجروں میں جن کا رخ شمال کی طرف تھا لایا اور کیا دیکھتا ہوں کہ مغرب کی طرف پیچھے کچھ خالی جگہ ہے ۔
20 تب اس نے مجھے فرمایا دیکھ یہ وہ جگہ ہے جس میں کاہن جرم کی قربانی اور خطا کی قربانی کو جوش دینگے اور نذر کی قربانی پکائیں گے تا کہ ان کو بیرونی صحن میں لے جا کر لوگوں کی تقدیس کریں ۔
21 پھر وہ مجھے بیرونی صحن میں لایا اور صحن کے چاروں کونوں کی طرف مجھے لے گےا اور دیکھو صحن کے ہر طرف کونے میں ایک اور صحن تھا ۔
22 صحن کے چاروں کونوں میں چالیس چالیس ہاتھ لمبے اور اور تےس تیس ہاتھ چوڑے صحن متصل تھے ۔یہ چاروں کونے والے ایک ہی ناپ کے تھے۔
23 اور ان کے گردا گرد یعنی ان چاروں کے گردا گرد دےوار تھی اور چاروں طرف دےوار کے نےچے چو لھے بنے تھے ۔
24 تب اس نے مجھے فرمایا کہ یہ چو لھے ہیں جہاں ہیکل کے خادم لو گوں کے ذبیحے ابا لیں گے ۔


باب 47

1 پھر وہ مجھے ہیکل کے دروازہ پر واپس لایا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ہیکل کے آستانہ کے نیچے سے پانی مشرق کی طرف نکل رہا ہے کیو نکہ ہیکل کا سامنا مشرق کی طرف تھا اور پانی ہیکل کی دہنی طرف کے نیچے سے مذبح کی جنوبی جانب سے بہتا تھا۔
2 تب وہ مجھے شمالی پھاٹک کی عاہ سے باہر لایا اور مجھے اس راہ سے جس کا رخ مشرق کی طرف ہے بیرونی پھاٹک پر واپس لایا یعنی مشرق رویہ پھا ٹک پر اور کیا دیکھتا ہوں کہ دہنی طرف سے پانی جاری ہے ۔
3 اور اس مرد نے جس کے ہاتھ میں پیمائش کی ڈوری تھی مشرق کی طرف بڑھ کر ہزار ہاتھ ناپا اور مجھے پانی میں سے چلایا اور پانی ٹخنوں تک تھا ۔
4 پھر اس نے ہزار ہاتھ اور ناپا اور مجھے اس میں سے چلایا اور پانی گھٹنوں تک تھا ۔پھر اس نے ایک ہزار اور ناپا اور مجھے اس میں سے چلایا اور پانی کمر تک تھا ۔
5 پھر اس نے ایک ہزار اور ناپا اور وہ ایسا دریا تھا کہ میں اسے عبور نہیں کر سکتا تھا کیو نکہ پانی چڑھ کر تیرنے کے درجہ کو پہنچ گےا اور ایسا دریا بن گیا جس کو عبور کرنا ممکن نہ تھا ۔
6 اور اس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد کیا تو نے یہ دیکھا؟تب وہ مجھے لایا اور دریا کے کنارے پر واپس پہنچایا ۔
7 اور جب میں واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دریا کے کنارے دونوں طرف بہت سے درخت ہیں ۔
8 تب اس نے مجھے فرمایا کہ یہ پانی مشرقی علاقے کی طرف بہتا ہے اور میدان میں سے ہو کر سمندر میں جا ملتا ہے اور سمندر میں ملتے ہی اس کے پانی کو شیریں کر دے گا ۔
9 اور یوں ہو گا کہ جہاں کہیں یہ دریا پہنچے گا ہر ایک چلنے پھرنے والا جاندار زندہ رہے گا اور مچھلیوں کی بڑی کثرت ہو گی کیونکہ یہ پانی وہاں پہنچا اور وہ شیریں ہو گیا ۔ پس جہاں کہیں یہ دریا پہنچے گا زندگی بخشے گا ۔
10 اور یوں ہو گا کہ ماہی گیر اس کے کنارے کھڑے رہیں گے ۔ عین جدی سے عین عجلیم تک جال بچھانے کی جگہ ہو گی اس کی مچھلیاں اپنی اپنی جنس کے مطابق بڑے سمندر کی مچھلیوں کی مانند کثرت سے ہو ں گی ۔
11 لیکن اس کی کیچ کی جگہیں اور دلدلیں شیریں نہ کی جائیں گی ۔وہ نمک زار ہی رہیں گی ۔
12 اور دریا کے قریب اس کے دونوں کناروں پر ہر قسم کے میوہ دار درخت اگیں گے جن کے پتے کبھی نہ مرجھائیں گے اور جن کے میوے کبھی موقوف نہ ہو ں گے وہ ہر مہینے نئے میوے لائیں گے کیو نکہ ان کا پانی مقدس سے جاری ہے اور ان کے میوے کھانے کے لئے اور ان کے پتے دوا کے لئے ہوں گے ۔
13 خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ یہ وہ سرحد ہے جس کے مطابق تم زمین کو تقسےم کرو گے تاکہ اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی میراث ہو ۔یوسف کے لئے دو حصے ہوں گے ۔
14 اور تم سب یکساں اسے میراث میں پاﺅ گے جس کی بابت میں نے قسم کھائی کہ تمہارے باپ دادا کو دوں اور یہ زمین تمہاری میراث ہو گی ۔
15 اور زمین کی حدود یہ ہوں گی ۔شمال کی طرف بڑے سمندر سے لے کر حتلون سے ہو تی ہوئی صداد کے مدخل تک ۔
16 حمات بےروت سبریم جو دمشق کی سرحد اور حمات کی سرحد کے درمیان ہے اور حصر ہتےکون جو حوران کے کنارہ پر ہے ۔
17 اور سمندر سے سرحد یہ ہو گی یعنی حصر عینان دمشق کی سرحد اور شمال کو شمالی اطراف حمات کی سرحد شمالی جانب یہی ہے ۔
18 اور مشرقی سرحد حوران اور دمشق اور جلعاد کے درمیان سے اور اسرائیل کی سر زمین کے درمیان سے یردن پر ہو گی ۔شمالی سرحد سے مشرقی سمندر تک ناپنا ۔مشرقی جانب یہی ہے ۔
19 اور جنوب کی طرف جنوبی سرحد یہ ہے یعنی تمر سے مرےبوت کے قادس کے پانی سے اور نہر مصر سے ہو کر بڑے سمندر تک ۔جنوبی جانب یہی ہے ۔
20 اور اسی سرحد سے حمات کے مدخل کے مقابل بڑا سمندر مغربی سرحد ہو گا ۔مغربی جانب یہی ہے۔
21 اسی طرح تم قبائل اسرائیل کے مطابق زمین کو آپس میں تقسےم کرو گے ۔
22 اور یوں ہو گا کہ تم اپنے اور ان بےگانوں کے درمیان جو تمہارے ساتھ بستے ہیں ادھر جن کی اولاد تمہارے درمیان پیدا ہوئی جو تمہارے لئے دیسی بنی اسرائیل کی مانند ہوں گے میراث تقسےم کے لئے قرعہ ڈالو گے ۔وہ تمہارے ساتھ قبائل اسرائیل کے درمیان میراث پائیں گے ۔
23 اور یوں ہو گا کہ جس جس قبیلہ میں کوئی بیگانہ بستا ہو گا اسی میں تم اسے میراث دو گے خداوند خدا فرماتا ہے ۔


باب 48

1 اور قبیلوں کے نام یہ ہیں ۔انتہلی شمال پر حتلون کے راستہ کے ساتھ ساتھ حمات کے مدخل سے ہو تے ہوئے حصر عینان تک جو دمشق کی شمالی سرحد پر حمات پاس ہے مشرق سے مغرب تک دان کے لئے ایک حصہ ۔
2 اور دان کی سرحد سے متصل مشرقی سرحدسے مغربی سرحد تک آشر کے لئے ایک حصہ ۔
3 اور آشر کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک نفتالی کے لئے ایک حصہ۔
4 اور نفتالی کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک منسی کے لئے ایک حصہ ۔
5 اور منسی کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک افرائیم کے لئے ایک حصہ ۔
6 اور افرائیم کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک روبن کے لئے ایک حصہ ۔
7 اور روبن کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سررحد تک یہوداہ کے لئے ایک حصہ ۔
8 اور یہوداہ کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک ہدیہ کا حصہ ہو گا جو تم وقف کرو گے ۔اس کی چو ڑائی پچیس ہزار اور لمبائی باقی حصوں میں سے ایک کے برابر مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک اور مقدس اس کے وسط میں ہو گا ۔
9 ہدیہ کا حصہ جو تم خداوند کے لئے وقف کرو گے پچیس ہزار لمبا اور دس ہزار چوڑا ہو گا ۔
10 اور یہ مقدس ہدیہ کا حصہ ان کے لئے ہاں کاہنوں کے لئے ہو گا ۔شمال کی طرف پچیس ہزار اس کی لمبائی ہو گی اور دس ہزار اس کی چوڑائی مغرب کی طرف اور دس ہزار اس کی چوڑائی مشرق کی طرف اور پچیس ہزار اس کی لمبائی جنوب کی طرف اور خداوند کا مقدس اس کے وسط میں ہو گا ۔
11 یہ ان کاہنوں کے لئے ہو گا جو صدوق کے بیٹوں میں سے مقدس کئے گئے ہیں ۔جنہوں نے میری مانت داری کی اور گمراہ نہ ہوئے جب بنی اسرائیل گمراہ ہو گئے جےسے بنی لاوی گمراہ ہوئے ۔
12 اور زمین کے ہدیہ میں سے بنی لاوی کے حصہ سے متصل ۔یہ ان کےلئے ہدیہ ہو گا جو نہایت مقدس ٹھہرے گا ۔
13 اور کاہنوں کی سرحد کے مقابل بنی لاوی کے لئے ایک حصہ ہو گا پچیس ہزار لمبا اور دس ہزار چوڑا ۔اس کی کل لمبائی پچیس ہزار اور چوڑائی دس ہزار ہو گی۔
14 اور وہ اس میں سے نہ بیچیں اور نہ بدلیں اور نہ زمین کا پہلا پھل اپنے قبضہ سے نکلنے دیں کیو نکہ وہ خداوند کے لئے مقدس ہے ۔
15 اور وہ پانچ ہزار کی چوڑائی کا باقی حصہ اس پچیس ہزار کے مقابل بستی اور اس کی نواحی کے لئے عام جگہ ہو گی اور شہر اس کے وسط میں ہو گا ۔
16 اور اس کی پیمایش یہ ہو گی شمال کی طرف چار ہزار پانچ سو اور جنوب کی طرف چار ہزار پانچ سو اور مشرق کی طرف چار ہزار پانچ سو اور مغرب کی طرف چار ہزار پانچ سو ۔
17 اور شہر کی نواحی شمال کی طرف دو سو پچاس اور جنوب کی طرف دوسو پچاس اور مشرق کی طرف دو سو پچاس اور مغرب کی طرف دو سو پچاس۔
18 اور مقدس ہدیہ کے مقابل باقی لمبائی مشرق کی طرف دس ہزار اور مغرب کی طرف دس ہزار ہو گیاور وہ مقدس ہدیہ کے مقابل ہو گی اور اس کا حاصل ان کی خوراک کے لئے ہو گا جو شہر میں کام کرتے ہیں ۔
19 اور شہر میں کام کرنے والے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے اس میں کاشت کاری کریں گے ۔
20 ہدیہ کے تمام حصہ کی لمبائی پچیس ہزار اور چوڑائی پچیس ہزار ہو گی ۔تم مقدس ہدیہ کے حصہ کو مربع شکل میں شہر کی ملکیت کے ساتھ وقف کرو گے ۔
21 اور باقی جو مقدس ہدیہ کا حصہ اور شہر کی ملکیت کی دونوں طرف جو ہدیہ کے حصہ کے پچیس ہزار کے مقابل مشرق کی طرف اور پچیس ہزار کے مقابل مغرب کی طرف فرمانروا کے حصوں کے مقابل ہے وہ فرمانروا کے لئے ہو گا اور وہ مقدس ہدیہ کا حصہ ہو گا اور مقدس مسکن اس کے وسط میں ہو گا۔
22 اور بنی لاوی کی ملکیت سے اور شہر کی ملکیت سے جو فرمانروا کی ملکیت کے وسط میں ہے یہوداہ کی سرحد اور بینیمین کی سرحد کے درمیان فرمانروا کے لئے ہو گی ۔
23 اور باقی قبائل کے لئے یوں ہو گا کہ مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک بینیمین کے لئے ایک حصہ ۔
24 اور بینیمین کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک شمعون کے لئے ایک حصہ ۔
25 اور شمعون کی سرحد سے متصل مشرقی سرحدسے مغربی سرحد تک اشکار کے لئے ایک حصہ ۔
26 اور اشکار کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک زبولون کے لئے ایک حصہ ۔
27 اور زبولون کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک جد کے لئے ایک حصہ۔
28 اور جد کی سرحد سے متصل جنوب کی طرف جنوبی کنارے کی سرحد تمر سے لے کر مریبوت قادس کے پانی سے نہر مصر سے ہو کر بڑے سمندر تک ہو گی ۔
29 یہ وہ سرزمین ہے جس کو تو میراث کے لئے قرعہ ڈال کر قبائل اسرائیل میں تقسیم کرو گے اور یہ ان کے حصے ہیں خداوند خدا یوں فرماتا ہے ۔
30 اور شہر کے مخارج یہ ہیں شمال کی طرف کی پیمایش چار ہزار پانچ سو۔
31 اور شہر کے پھاٹک قبائل اسرائیل سے نامزد ہو ں گے ۔تین پھاٹک شمال کی طرف ایک پھاٹک روبن کا ۔ایک یہوداہ کا ۔ایک لاوی کا ۔
32 اور مشرق کی طرف کی پیمایش چارہزار پانچ سو اور تےن پھاٹھ ایک یوسف کا ایک بنیمین کا اور ایک دان کا ۔
33 اور جنوب کی طرف کی پیمایش چار ہزار پانچ سو اور تین پھاٹک ایک شمعون کا ۔ ایک اشکار کا اور زبولون کا۔
34 اور مغرب کی طرف کی پیمایش چار ہزار پانچ سو اور تین پھاٹک ۔ ایک جد کا ۔ایک اشر کا اور ایک نفتالی کا ۔
35 اس کا محیط اٹھارہ ہزار اور شہر کا نام اسی دن سے یہ ہو گا کہ خداوند وہاں ہے۔