ہوسیع

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14


باب 1

1 شاہان یہوداہ عزیاہ اور یوتام اورآخر اور حزقیاہ اور شاہ اسرائیل یرُبعام بن یوآس کے ایام میں خُدا وند کا کلام ہوسیع بن بیری پر نازل ہوا۔
2 جب خداوند نے شروع میں ہوسیع کی معرفت کلام کیاتو اس کو فرمایا کہ جا کہ ایک بد کار بیوی اور بدکاری کی اولاد اپنے لے کیونکہ مُلک نے خُداوندکو چھوڑ کربڑی بدکاری کی ہے۔
3 پس اُس نے جا کر جمر بنت دبلائیم کو لیا۔ وہ حاملہ ہوئی اور بیٹا پیدا ہوا۔
4 اور خُداوند نے کہا اُس کا نام یزرعیل رکھ کیونکہ میں عنۡقریب ہی یاہو کے گھرانے سے یزرعیل کے خُون کا بدلہ لُوں گا اور اسرائیل کے گھرانے کی سلطنت کو تمام کُروں گا۔
5 اور اُسی وقت یزرعیل کی وادی میں اسرائیل کی کمان توڑوں گا۔
6 اور پھر وہ حاملہ ہُوئی اور بیٹی پیدا ہوئی اور خُداوند نے اُسے فرمایا کہ اُس کا نام لُورُ حامہ رکھ کیونکہ میں اسرائیل کے گھرانے پر رحم نہ کُروں گاکہ اُن کو معاف کُروں۔
7 لیکن یہُوداہ کے گھرانے پر رحم کُروں گا اور میں خُداوند اُن کا خُدا اُن کو رہائی دُوں گا اور اُن کو کمان اور تلوار اور لڑائی اور گھوڑوں اور سواروں کے وسیلہ سے نہیں چُھڑوں گا۔
8 اور لُورحامہ کا دُودھ چُھڑانے کے بعد وہ پھر حاملہ ہُوئی اور بیٹا پیدا ہُوا۔
9 اور اُس نے فرمایا کہ اُس کا نام لوعمی رکھ کیونکہ تم میرے لوگ نہیں ہو اور میں تمہارا نہیں ہُوں گا۔
10 تو بھی اسرائیل دریا کی ریت کی مانند بے شُمار و بے قیاس ہوں گے اور جہاں اُن سے یہ کہا جاتا تھا کہ تم میرے لوگ نہیں ہو زندہ خُدا کے فرزند کہلائیں گے۔
11 اور بنی یہُوداہ اور بنی اسرائیل باہم فراہم ہوں گے اور اپنے لئے ایک ہی سردار مُقرر کریں گے اور اس مُلک سے خُروج کریں گے کیونکہ یزرعیل کا دن عظیم ہو گا۔


باب 2

1 اپنے بھائیوں سے عمی کہو اور اپنی بہنوں سے رُمامہ۔
2 تم اپنی ماں سے حُجت کرو کیونکہ نہ وہ میری بیوی ہے اور نہ میں اُس کا شوہر ہوں وہ اپنی بدکاری اپنے سامنے سے اور اپنی زناکاری اپنے پستانوں سے دُور کرے۔
3 ایسا نہ کہ میں اُسے بے پردہ کُروں اور اس طرح ڈال دوں جس طرح وہ اپنی پیدائش کے دن تھی اور اُس کو بیابان اور خشک زمین کی مانند بنا کر پیاس سے مار ڈالوں۔
4 میں اُس کے بچوں پر رحم نہ کُروں گا کیونکہ وہ حلال زدہ نہیں ہیں۔
5 اُن کی ماں نے چھنا لا کیا۔ اُن کی والدہ نے رودیاہی کی کیونکہ اُس نے کہا میں اپنے یاروں کے پیچھے جاؤں گی جو کُجھ کو روٹی پانی اور اُونی کتانی کپڑے اور روغن و شربت دیتے ہیں۔
6 اس لئے دیکھو میں اُس کی راہ کانٹوں سے بند کُروں گا اور اُس کے سامنے دیوار بنادوُں گا تاکہ اُسے راستہ نہ ملے۔
7 اور وہ اپنے یاروں کے پیھچے جائے گی پر اُن سے جا نہ ملے گی اور اُن کو ڈھونڈے گی پر نہ پائے گی ۔ تب وہ کہے گی میں اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جاوں گی کیونکی میری وہ حالت اب سے بہتر تھی۔
8 کیونکہ اُس نے نہ جانا کہ میں ہی نے اُسے غلہ و مے اور روغن دیا اور سونے چاندی کی فروانی بخشی جس کو انہوں نے بعل پر خرچ کیا۔
9 اس لئے میں اپنا غلہ فصل کے وقت اور اپنی مے کو اُس کے موسم میں واپس لے لُوں گا اور اپنے اُونی اور کتانی کپڑے جو اُس کی ستر پوشی کرتے چھین لُوں گا۔
10 اب میں اُس کی فاحشہ گری اُس کے یاروں کے سامنے فاش کُروں گا اور کوئی اُس کو میرے ہاتھ سے نہیں چھڑاے گا۔
11 علاوہ اس کے میں اُس کی تمام خُوشیوں اور جشنوں اور نئے چاند اور سنت کے ایّام اور تمام مُعین عیدوں کو موقوف کُروں گا ۔
12 اور میں اُس کے انگور اور انجیر کے درختوں کو جن کی بابت اُس نے کہا ہے یہ میری اُجرت ہے جو میرے یاروں نے مُجھے دی ہے برباد کُروں گا اور اُن کو جنگل بناوں گا اور جنگلی جانور اُن کو کھائیں گے۔
13 اور خُداون فرماتا ہے میں اُسے بعلیم کے ایّام کے لئے سزادُوں گا جن میں اُس نے اُن کے لئے بخُور جلایا جب وہ بالیوں اور زبوروں سے آراستہ ہو کر اپنے یاروں کے پیچھے گئی اور مُجھے بھول گئی۔
14 تو بھی میں اُسے فریفتہ کر لُوں گا اور بیابان میں لا کر اُس سے تسلی کی باتیں کُہوں گا۔
15 اور وہاں سےاُس کے تاکستان اُسے دُوں گا اور علّور کی وادی بھی تاکہ وپ اُمید کا دروازہ ہو اور وہ وہاں گایا کرے گی جیسے اپنی جوانی کے ایّام میں اور مُلک مصر سے نکل آنے کے دنوں میں گایا کرتی تھی۔
16 اور خُداوند فرماتا ہے تب وہ مُجھے ایشی کہے گی اور پھر بعلی نہ کہے گی۔
17 کیونکہ میں بعیلم کے نام اُس کے مُنہ سے دُور کُروں گا اور پھر کبھی اُن کا نام نہ لیا جائے گا۔
18 تب میں اُن کے لئے جنگلی جانوروں اور ہوا کے پرندے اور زمین پر رینگنے والوں سے عہد کُروں گا اور کمان اور تلوار اور لڑائی کو مُلک سے نیست کُروں گا اور لوگوں کو امن و امان سے لیٹنے کا موقع دُوں گا۔
19 اور تُجھے اپنی ابدی نامزد کُروں گا۔ ہاں تُجھے صداقت اور عدالت اور شفقت و رحمت سے اپنی نامزد کُروں گا۔
20 میں تجھے وفاداری سے نامزد بناوں گااور تو خُداوند کا پہچانے گی۔
21 اور اُس وقت میں سُنو گا خُداوند فرماتا ہے۔میں آسمان کی سُنوں گا اور آسمان زمین کی سُنے گا۔
22 اور زمین اناج اور مے اور تیل کی سنے گی اور وہ یزرعیل کی سُنیں گے۔
23 اور میں اُس کو اُس سر زمین میں اپنے لئے بووں گا اور لورُحامہ پر رحم کُروں گا اور لوعمی سے کہوں گا تم میرے لوگ ہواوروہ کہیں گے اے ہمارے خُدا !۔


باب 3

1 خُداوند نے مُجھے فرمایا جا اس عورت سے جو اپنے یار کی پیاری اور بدکار ہے مُحبت رکھ جس طرح کہ خُداوند بنی اسرائیل سے جو غیر معبُودوں پر نگاہ کرتے ہیں اور کشمش کے کُلچے چاہتے ہیں مُحبت رکھتا ہے۔
2 سو میں نے اُسے پندرہ رُوپیہ اور ڈیڑھ خومر جو دے کر اپنے لئے مول لیا۔
3 اور اُسے کہا تو مُدت دراز تک مُجھ پر قناعت کرے گی اور حرامکاری سے باز رہے گی اور کسی دُوسرے کی بیوی نہ بنے گی اور میں بھی تیرے لئے یُوں ہی رہوں گا۔
4 کیونکہ بنی اسرائیل بُہت دنوں تک بادشاہ اور حاکم اور قربانی اور سُتون اور افود اور ترافیم کے بغیر رہیں گے۔
5 اس کے بعد بنی اسرائیل رجوع لائیں گے اور خُداوند اپنے خُدا کو اور اپنے بادشاہ داود کو ڈھونڈیں گے اور آخری دنوں میں ڈرتے ہوے خُداوند اور اُس کی مہربانی کے طالب ہوں گے۔


باب 4

1 اے بنی اسرائیل خُداوند کا کلام سُنو کیونکہ اس مُلک کے رہنے والوں سے خُداوند کا جھگڑا ہے کیونکہ یہ مُلک راستی و شفقت اور خُدا شناسی سے خالی ہے۔
2 بُد زبانی عہد شکنی اور خُون ریزی اور چوری اور حرام کاری کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ طُلم کرتے ہیں اور خُون پر خُون ہوتا ہے۔
3 اس لئے مُلک ماتم کرے گا اور اُس کے تمام باشندے جنگلی جانوروں اور ہوا کے پرندوں سمیت ناتواں ہو جائیں گے بلکہ سُمندر کی مچھلیاں بھی غائب ہو جائیں گی۔
4 تو بھی کوئی دُوسرے کے ساتھ بحث نہ کرے اور نہ کوئی اُسے الزام دے کیونکہ تیرے لوگ اُن کی مانند ہیں جو کاہن سے بحث کرتے ہیں ۔
5 اس لئے تو دن کو گر پڑے گا اور تیرے ساتھ نبی بھی رات کو گرے گا اور میں تیری ماں کو تباہ کُروں گا۔
6 میرے لوگ عدم معرفت سے ہلاک ہُوئے ۔ چونکہ تو نے معرفت کو رد کُروں گا تاکہ تو میرے حُضور کاہن نہ ہو اور چونکہ تو اپنے خُدا کی شریعت کو بھُول گیا ہے اس لئے میں بھی تیری اُولاد کُو بھول جاوں گا۔
7 جُوں جُوں وہ فراوان ہُوئے میرے خلاف زیادہ گُناہ کرنے لگے۔ پس میں اُن کی حشمت کو رُسوائی سے بدل ڈالوں گا۔
8 وہ میرے لوگوں کے گُناہ پر گُزران کرتے ہیں اور اُن کی بدکرداری کے آرزو مند ہیں۔
9 پس جیسا لوگوں کا حال ویسا ہی کاہنوں کا حال ہو گا۔ میں اُن کی روش کی سزا اور اُن کے اعمال کا بدلہ اُن کو دُوں گا۔ہ
10 چُونکہ اُن کا خُداوند کا خیال نہیں اس لئے وہ کھائیں گے پر آسودہ نہ ہوں گے۔ وہ بدکاری کریں گے لیکن زیادہ نہ ہوں گے۔
11 بدکاری اور مے اور نئی مے سے بصیرت جاتی رہتی ہے۔
12 میرے لوگ اپنے کاٹھ کے پُتلے سے سوال کرتے ہیں۔ اُن کالٹھ اُن کو جواب دیتا ہے کیونکہ بدکاری کی رُوح نے اُن کو گُمراہ کیا ہے اور اپنے خُدا کی پناہ کو چھوڑ کر بدکاری کرتے ہیں۔
13 پہاڑوں کی چوٹیاں پر وہ قربانیاں گُزرانتے ہیں اور ٹیلوں پر اور نُلوط و چنار و بطم کے نیچے بخُور چلاتے ہیں کیونکہ اُن کا سایہ اچھا ہے۔پس بُہو بیٹیاں بدکاری کرتی ہیں۔
14 جب تمہاری بُہو بیٹیاں بدکاری کریں گی تو میں اُن کو سزا نہ دُوں گا کیونکہ وہ آپ ہی بدکاروں کے ساتھ خلوت میں جاتے ہیں اور کسبیوں کے ساتھ قربانیاں گُزرانتے ہیں۔ پس جو لوگ دانش سے خالی ہیں برباد کئے جائیں گے۔
15 اے اسرائیل اگرچہ تو بدکاری کرے تو بھی ایسا نہ ہو کہ یہُوداہ بھی گُنہگار ہو۔ تم جلجال میں نہ آو اور بیت آون پر نہ جاو اور خُداوند کی حیات کی قسم نہ کھاو ۔
16 کیونکہ اسرائیل نے سرکش بھچیا کی مانند سرکشی کی ہے۔ اب خُداوند اُن کو کُشادہ جگہ میں بّرہ کی مانند چرائے گا۔
17 افائیم بُتوں سے مل گیا ہے۔ اُسے چھوڑ دو۔
18 وہ میخواری سے سیر ہو کر بدکاری میں مشغول ہوتے ہیں۔ اُس کے حاکم رُسوائی دوست ہیں۔
19 ہوانے اُسے اپنے دامن میں اُٹھا لیا۔ وہ اپنی قربانیوں سے شرمندہ نہ ہوں۔


باب 5

1 اے کاہنو یہ بات سُنو! اے بنی اسرائیل کان لگاو! اے بادشاہ کے گھرانے سُنو! اس لئے کہ فتوی تم پر ہے کیونکہ تم مصفاہ میں پھندا اور تُبور پر دام بنے ہو۔
2 باغی خُونریزی میں غرق ہیں لیکن میں اُن سب کی تادیب کُروں گا۔
3 میں افرائیم کو جانتا ہُوں اور اسرائیل بھی مُجھ سے چُھپا نہیں کیونکہ اے افرائیم تو نے بدکاری کی ہے۔ اسرائیل نجس ہُوا۔
4 اُن کے اعمال اُن کو خُدا کی طرف رُجوع نہیں ہونے دیتے کیونکہ بدکاری کی رُوح اُن میں موجود ہے اور وہ خُداوند کو نہیں جانتے۔
5 اور فخر اسرائیل اُس کے مُنہ پر گواہی دیتا ہے اور اسرائیل اور افرائیم اپنی بدکرداری میں گریں گے اور یہُوداہ بھی اُن کے ساتھ گرے گا۔
6 وہ اپنے ریوڑوں اور گلیوں کے وسیلہ سے خُداوند کے طالب ہوں گے لیکن اُس کو نہ پائیں گے۔ وہ اُن سے دُور ہو گیا ہے۔
7 اُنہوں نے خُداوند کے ساتھ بے وفائی کی کیونکہ اُن سے اجنبی بچے پیدا ہوئے۔ اب ایک مہنیے کا عرصہ اُن کی جائیداس سمیت اُن کو کھا جائے گا۔
8 جبعہ میں قرنا پُھونکو اور رامہ میں تُرہی۔ بیت آون میں للکار و کہ اے بنیمین خبر دار پیھچے دیکھ!۔
9 تادیب کے دن افرائیم ویران ہو گا۔ جو کُچھ یقینا ہونے والا ہے میں نے اسرائیلی قبائلی کو جتا دیا ہے۔
10 یہُوداہ کے اُمراسرحدوں کو سرکانے والوں کی مانند ہیں۔ میں اُن پر اپنا قہر پانی کی طرح اُنڈیلوں گا۔
11 افرائیم مُظلوم اور فتوی سے دبا ہے کیونکہ اُس نے تقلید پر قناعت کی۔
12 پس میں افرائیم کے لئے کیڑا ہُوں گا اور یہُوداہ کے گھرانے کے لے گُھن۔
13 جب افرائیم نے اپنی بیماری اور یہُوداہ نے اپنے زخم کو دیکھا تو افرائیم اسور کو گیا اور اُس مُخالف بادشاہ کو دعوت دی لیکن وہ نہ تم کو شفا دے سکتا ہے اور نہ تمہارے زخم کا اندمال کر سکتا ہے۔
14 کیونکہ میں افرائیم کے لے شیر ببر اور بنی یہُوداہ کے لئے جوان شیر کی مانند ہُوں گا۔ میں ہاں میں ہی پھاڑوں گا اور چلا جاوں گا ۔ میں اُٹھا لے جاوں گا اور کوئی چُھڑانے والا نہ ہو گا۔
15 میں روانہ ہوں گا اور اپنے مسکن کو چلا جاوں گا جب تک کہ وہ اپنے گُناہوں کا اقرار کر کے میرے چہرہ کے طالب نہ ہوں ۔ وہ اپنی مُصیبت میں بڑی سر گرمی سے میرے طالب ہوں گے۔


باب 6

1 آو ہم خُداوند کی طرف رجوع کریں کیونکہ اُسی نے پھاڑا ہے اور وہی ہم کو شفا بخشے گا۔ اُسی نے مارا ہے اور وہی ہماری مرہم پٹی کرے گا۔
2 وہ دوروز کے بعد ہم کو حیات تازہ بخشے گا اور تیسرے روز اُٹھا کھڑا کرے گا اور ہم اُسکے حُضور زندگی بسر کریں گے۔
3 آو ہم دریافت کریں اور خُداوند کے عرفان میں ترقی کریں ۔ اُس کا ظُہور صُبح کی مانند یقننی ہے اور وہ ہمارے پاس برسات کی مانند یعنی آخری برسات کی مانند جو زمین کو سیراب کرتی ہے آئے گا۔
4 اے افرائیم میں تجھ سے کیا کُروں؟ اے یہُوداہ میں تجھ سے کیا کُروں؟ کیونکہ تمہاری نیکی صُبح کے بادل اور شبنم کی مانند جلد جاتی رہتی ہے۔
5 اس لے میں نے ان کو نبیوں کے وسیلہ سے کاٹ ڈالا اور اپنے کلام سے قتل کیا ہےاور میرا عدل نور کی مانند چمکتا ہے۔
6 کیونکہ میں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہُوں اور خُدا شناسی کو سو ختنی قربانیوں سے زیادہ چاہتا ہوں ۔
7 لیکن وہ عہد شکن آدمیوں کی مانند ہیں۔ اُنہوں نے وہاں مجھ سے بےوفائی کی ہے۔
8 جلعاد بد کرداری کی بستی ہے۔ وہ خُون آلودہ ہے۔
9 جس طرح سے رہزنوں کے غول کسی آدمی کی گھات میں بیھٹے ہیں اُسی طرح کاہنوں کے گروہ سکم کی راہ میں قتل کرتی ہے ہاں اُنہوں نے بدکاری کی ہے۔
10 میں نے اسرائیل کے گھرانے میں ایک ہولناک چیز دیکھی۔ افرائیم میں بدکاری پائی جاتی ہے اور اسرائیل نجس ہو گیا۔
11 اے یہُوداہ تیرے لے بھی کٹائی کا وقت مُقرر ہے جب میں اپنے لوگوں کو اسیری سے واپس لاوں گا۔


باب 7

1 جب میں اسرائیل کو شفا بخشنے کو تھا تو افرائیم کی بدکرداری اور سامریہ کی شرارت ظاہر ہوئی کیونکہ وہ دغا کرتے ہیں۔ اندر چور گُھس آئے اور باہر ڈاکووں کا غول لُوٹ رہا ہے۔
2 وہ یہ نہیں سوچتے کہ مُجھے اُن کی ساری شرارت معلوم ہے۔ اب اُن کے اعمال نے جو مُجھ پر عیاں ہیں اُن کو گھیر لیا ہے۔
3 وہ بادشاہ کو اپنی شرارت اور اُمرا کو دروغگوئی سے خُوش کرتے ہیں۔ہ وہ سب کے سب بدکار ہیں۔ وہ اس تنُور کی مانند ہیں جس کو نانبائی گرم کرتا ہے اور آٹا گُوندھنے کے وقت سے خمیر اُٹھنے تک آگ بھڑکانے سے باز رہتا ہے۔
4
5 ہمارے بادشاہ کے جشن کے روز اُمرا تو گرمی مے سے بیمار ہُوئے اور وہ ٹھٹھا بازوں کے ساتھ بے تکلُف ہُوا۔
6 گھات میں بیھٹے اُن کے دل تُنور کی مانند ہیں۔ اُن کا قہر رات بھر سُلگتا رہتا ہے ۔ وہ صُبح کے وقت آگ کی مانند بھڑکتا ہے۔
7 وہ سب کے سب تُنور کی مانند دہکتے ہیں اور اپنے قاضوں کو کھا جاتے ہیں۔ اُن کے سب بادشاہ مارے گے۔ اُن میں کوئی نہ رہا جو مُجھ سے دُعا کرے۔
8 افرائیم دوُسرے لوگوں سے مل جُل گیا ۔ افرائیم ایک چپاتی ہے جو اُلٹائی نہ گی ۔
9 اجنبی اُس کی توانائی کو نگل گئے اور اُس کو خبر نہیں اور بال سفید ہونے لگے پر وہ بے خبر ہے۔
10 اور فخر اسرائیل اُس کے مُنہ پر گواہی دیتا ہے تو بھی وہ خُداوند اپنے خُدا کی طرف رجُوع نہیں لئے اور باوجُود اس سب کے اُس کے طالب نہیں ہوئے۔
11 افرائیم نے بےوقوف و بے دانش فاختہ ہے۔ وہ مصر کی دہائی دیتے اور اسور کو جاتے ہیں۔
12 جب وہ جائیں گے تو میں اُن پر اپنا جال پھیلاو دوں گا۔ اُن کو ہوا کے پرندوں کی مانند نیچے اُتاروں گا اور جیسا اُن کی جماعت سُن چکی ہے اُن کی تادیب کُروں گا۔
13 اُن پر افسوس! کیونکہ وہ مُجھ سے آوارہ ہو گے۔ وہ برباد ہوں ! کیونکہ وہ مجھ سے باغی ہوئے۔ اگرچہ میں اُن کا فدیہ دینا چاہتا ہوں وہ میرے خلاف دروغگوئی کرتے ہیں۔
14 اور وہ حُضور قلب کے ساتھ مجھ سے فریاد نہیں کرتے بلکہ اپنے بستروں پر پڑے چلاتے ہیں۔ وہ اناج اور مے کے لے تو جمع ہو جاتے ہیں پر مجھ سے باغی رہتے ہیں۔
15 اگرچہ میں نے اُن کی تربیت کی اور اُن کو وقی بازو کیا تو بھی وہ میرے حق میں بد اندیشی کرتے ہیں۔
16 وہ رجوع ہوتے ہیں حق تعالٰی کی طرف نہیں۔ وہ دغا دینے والی کمان کی مانند ہیں۔ اُن کے اُمرا اپنی زُبان کی گستاخی کے سبب سے تہ تیغ ہوں گے۔ اس سے مُلک مصر میں اُن کی ہنسی ہو گی۔


باب 8

1 تُرہی اپنے مُنہ سے کگا۔ وُہ عقاب کی طرح خُداوند کے گھر پر ٹوٹ پڑا ہے کیونکہ اُنہوں نے میرے عہد سے تجاوز کیا اور میری شریعت کے خلاف چلے۔
2 وہ مُجھے یُوںپکارتے ہیں کہ اے ہمارے خۃدا ہم بنی اسرائیل تُجھے پہچانتے ہیں۔
3 اسرائیل نے بھلائی کو ترک کر دیا ۔ دُشمن اُس کا پیچھا کریں گے۔
4 اُنہوں نے بادشاہ مُقرر کئے پر میری طرف سے نہیں۔ اُنہوں نے امرا کو ٹھہرایا ہے اور میں نے اُن کو نی جانا۔ اُنہوں نے اپنے سونے چاندی سے بت بنائے تاکہ نیست و نابُود ہوں۔
5 اے سامریہ تیرا بچھڑا مردُود ہے۔ میرا قہر اُن پر بھڑکا ہے۔ وہ کب تک گُناہ سے پاک نہ ہوں گے؟۔
6 کیونکہ یہ بھی ہی کی کرتوت ہے۔کاریگر نے اُس کو بنایا ہے۔ وہ خُدا نہیں۔ سامریہ کا بچھڑا یقینا ٹُکڑے ٹکڑے کیا جائے گا۔
7 بے شک اُنہوں نے ہوا بوئی۔ وہ گرد باد کاٹیں گے نہ اُس میں ڈنٹھل نکلے گا نہ اُس کی بالوں سے غلہ پیدا ہو گا اور اگر پیدا ہو بھی تو اجنبی اُسے چٹ کر جائیں گے۔
8 اسرائیل نگل گیا۔ اب وہ قوموں کے درمیان ناپسندیدہ برتن کی مانند ہوں گے۔
9 کیونکہ وہ تنہا گورخر کی مانند اسور کو چلے گئے ہیں۔ افرائیم نے اُجرت پر یار بُلائے۔
10 اگرچہ اُنہوں نے قوموں کو اُجرت دی ہے تو بھی اب میں اُن کو جمع کُروں گا اور بادشاہ و اُمرا کے بوجھسے غمگین ہوں گے۔
11 چونکہ افرائیم نے گُنہگاری کے لے بُہت سی قربان گاہیں بنائیں اس لے وہ قربان گاہیں اس کے گُنہگاری کا باعث ہوئیں۔
12 اگرچہ میں نے اپنی شریعت کے احکام کو اُن کے لے ہزار ہا بار لکھا پر وہ اُن کو اجنبی خیال کرتے ہیں۔
13 وہ میرے ہدیوں کی قربانیوں کے لے گوشت گُزارنتے اور کھاتے ہیں لیکن خُداوند اُن کو قبُول نہیں کرتا۔ اب وہ اُن کی بدکاری کو یاد کرے گا اور اُن کو اُن کے گُناہوں کی سزا دے گا۔ وپ مصر کو واپس جائیں گے۔
14 اسرائیل نے اپنے خالو کو فراموش کر کے بُت خانے بنائے ہیں اور یہُوداہ نے بُہت سے غصین شہر تعمیر کئے ہیں لیکن میں اُس کے شہروں پر آگ بھیجوں گا اور وہ اُن کے قصروں کو بھسم کر دے گی۔


باب 9

1 اے اسرائیل دُوسری قوموں کی طرح خُوشی و شادمانی نہ کر کیونکہ تو نے اپنے خُدا سے بے وفائی کی ہے۔ تو نے ہر ایک کھیلہان میں اُجرت تلاش کی ہے۔
2 کھیلہان اور مے کے حوض اُن کی پرورش کے لے کافی نہ ہوں گے اور نئی مے کفایت نہ کرے گی۔
3 وہ خُداوند کے مُلک میں نہ بسیں گے بلکہ افرائیم مصر کو واپس جائے گا اور وہ اُسور میں ناپاک چیزیں کھائیں گے۔
4 وہ مے کو خُداوند کے لے نہ تپائیں گے اور وہ اُس کے مقبول نہ ہوں گےاُن کی قربانیاں اُن کے لے نوحہ گروں کی روٹی کی مانند ہوں گی۔ اُن کو کھانے والے ناپاک ہوں گے کیونکہ اُن کی روٹیاں اُن ہی کی بھُوک کے لے ہوں گی اور خُداوند کے گھر میں داخل نہ ہوں گی۔
5 مجمع مقدس کے روز اور خُداوند کی عید کے روز کیا کرو گے؟۔
6 کیونکہ وہ تباہی کے خُوف سے چلے گئے لیکن مصر اُن کو سمیٹے گا۔ موف اُن کو دفن کرے گا۔ اُن کی چاندی کے اچھے خزانوں پر بچھو بُوٹی قابض ہو گی۔ اُن کے خیموں میں کانٹے اُگیں گے۔
7 سزا کے دن آ ھے۔ جزا کا وقت آپُہنچا ۔ اسرائیل کو مُعلوم ہو جائے گا کہ اُس کی بدکرداری کی کثرت اور عداوت کی زیادتی کے باعث نبی بے وقوف ہے۔ رُوحانی آدمی دیوانہ ہے۔
8 افرائیم میرے خُدا کی طرف سے نگہبان ہے۔ نبی اپنی تمام راہوں میں چِڑیمار کا جال ہے۔ وہ اپنے خُدا کے گھر میں عدوات ہے۔
9 اُنہوں نے اپنے آپ کو نہایت خراب کیا جیسا جبعہ کے ایّام میں ہُوا تھا۔ وہ اُن کی باکرداری کو یاد کرے گا اور اُن کے گُناہوں کی سزا دے گا۔
10 میں نے اسرائیل کو بنابانی انگوروں کی مانند پایا۔ تمہارے باپ دادا کو انجیر کے پہلے پکے پھل کی مانند دیکھا جو درخت کے پہلے موسم میں لگا ہو لیکن وہ بُعل فغور کے پاس گئے اور اپنے آپ کو اُس باعث رُسوائی کے لے مخصُوص کیا اور اپنے اُس محبوب کی مانند مُکروہ ہُوے۔
11 اہل افرائیم کی شوکت پرندہ کی مانند اُڑ جائے گی ولادت و حاملہ کا وجُود اُن میں نہ ہو گا اور اقرار حمل موقوف ہو جائے گا۔
12 اگرچہ وہ اپنے بچوں کو پالیں تو بھی میں اُن کو چھین لُوں گا تاکہ کوئی آدمی باقی نہ رہے کیونکہ جب میں بھی اُن سے دُور ہو جاوں تو اُ ن کی حالت قابل افسوس ہو گی۔
13 افرائیم کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ صور کی طرح نفسیں جگہ میں لگایا گیا لیکن افرائیم اپنے بچوں کو قاتل کے سامنے لے جائے گا ۔
14 اے خُداوند اُن کو دے۔ تو اُن کو کیا دے گا؟ اُن کو اسقاط حمل اور خُشک پستان دے۔
15 اُن کی ساری شرارت جلجال میں ہے۔ ہاں وہاں میں نے اُن سے نفرت کی۔ اُن کی بد اعمالی کے سبب سے میں اُن کو اپنے گھر سے نکال دُوں گا اور پھر اُن سے مُحبت نہ رکھّوں گا۔ اُن کے سب اُمراباغی ہیں۔
16 بنی افرائیم تباہ ہو گے ۔ اُن کی جڑ سوکھ گئی۔ اُن کے ہاں اولاد نہ ہو گی اور اگر اولاد ہو بھی تو میں اُن کے پیارے بچوں کو ہلاک کُروں گا۔
17 میرا خُدا اُن کو ردّ کر دے گا کیونکہ وہ اُس کے شنوا نہیں ہُوئے اور وہ اقوام عالم میں آوارہ پھریں گے۔


باب 10

1 اسرائیل لہلہاتی تاک ہے جس میں پھل لگا جس نے اپنے پھل کی کثرت کے مُطابق بُہت سی قربان گاہیں تعمیر کیں اور اپنی زمین کی خُوبی کے مُطابق اچھے اچھے ستون بنائے۔
2 اُن کا دل دغا باز ہے۔ اب وہ مُجرم ٹھہریں گے۔ وہ اُن کے مزبحوں کو ڈھائے گا اور اُن کے سُتونوں کو توڑے گا۔
3 یقینا اب وہ کہیں گے ہمارا کوئی بادشاہ نہیں کیونکہ جب ہم خُداوند سے نہیں ڈرتے تو بادشاہ ہمارے لے کیا کر سکتا ہے ؟۔
4 اُن کی باتیں باطل ہیں۔ وہ عہد و پیمان میں جُھوٹی قسم کھاتے ہیں۔ اس لے بلا ایسی پُھوٹ نکلے گی جیسے کھیت کی ریگھاریوں میں اندراین۔
5 بیت آون کی بچھیوں کے سبب سے سامریہ کے باشندے خُوف زدہ ہوں گے کیونکہ وہاں کے لوگ اُس پر ماتم کریں گے اور وہاں کے کاہن بھی جو اُس کی گُزشتہ شوکت کے سبب سے شادمان تھے۔
6 اس کو بھی اُسور میں لے جا کر اُس مُخالف بادشاہ کی نذر کریں گے۔ افرائیم ندامت اُٹھائے گا اور اسرائیل اپنی مشورت سے خجل ہوگا ۔
7 سامریہ کا بادشاہ کٹ گیا ہے۔ وہ پانی پر تیرتی شاخ کی مانند ہے۔
8 اور آون کے اُونچے مُقام جو اسرائیل کا گُناہ ہیں برباد کئے جائیں گے اور اُن کے مذبحوں پر کانٹے اور اُونٹکٹارے اُگیں گے اور وہ پہاڑوں سے کہیں گے ہم کو چُھپا لو اور ٹیلوں سے کہیں گے ہم پر آ گرو۔
9 اے اسرائیل ! تو جبعہ کے ایّام سے گُناہ کرتا آیا ہے۔ وہ وہیں ٹھہرے رہے تاکہ لڑائی جبعہ میں بدکرداروں کی نسل تک نہ پہنچا۔
10 میں جب چاہُوں اُن کو سزادُوں گا اور جب میں اُن کے دُو گناہوں کی سزادُوں گا تو لوگ اُن پر ہجوم کریں گے۔
11 افرائیم سدھائی ہُوئی بچھیا ہے جو داونا پسند کرتی ہے اور میں نے اُس کی خُوش نما گردن کو دریغ کیا لیکن میں افرائیم پر سوار بٹھاوُں گا۔ یہُوداہ ہل چلائے گا اور یعقوب ڈگیلے توڑے گا۔
12 اپنے لئے صداقت سے تحنم ریزی کرو۔شفقت سے فصل کاٹو اور اپنی اُفتادہ زمین میں ہل چلاو کیونکہ اب موقع ہے کہ تم خُداوند کے طالب ہو تاکہ وہ آے اور راستی کو تم پر برسائے۔
13 تم نے شرارت کا ہل چلایا۔ بدکرداری کی فصل کاٹی اور جُھوٹ کا پھل کھایا کیونکہ تو نے اپنی روش میں اپنے بہادروں کے انبوہ پر تکیہ کیا۔
14 اس لئے تیرے لوگوں کے خلاف ہنگامہ برپاہو گا اور تیرے سب قلعے مسمار کئے جائیں گے جس طرح شلمن نے لڑائی کے دن بیت اربیل کو مسمار کیا تھا جب کہ ماں اپنے بچوں سمیت ٹُکڑے ٹُکڑے ہو گئی۔
15 تُمہاری بے نہایت شرارت کے سبب سے بیت ایل میں تمہاری یہی حال ہوگا شاہ اسرائیل علی الصباح بالکل فنا ہو جائے گا۔


باب 11

1 جب اسرائیل ابھی بچہ ہی تھا میں نے اُس سے مُحبت رکھی اور اپنے بیٹے کو مصر سے بُلایا۔
2 ُانہوں نے جس قدراُن کو بُلایا اُسی قدر وہ دُرو ہوتے گئے اُنہوں نے بعلیم کے لے قربانیاں گُزرانیں اور تراشی ہُوئی مُورتوں کے لے بخُور جلایا۔
3 میں نے بنی افرائیم کو چلنا سکھایا۔میں نے اُن کو گود میں اُٹھایالیکن اُنہوں نے نہ جانا کہ میں ہی نے اُن کوصحت بخشی۔
4 میں نے اُن کو انسانی رشتوں اور مُحبت کی ڈوریوں سے کھینچا۔میں اُن کے حق میں اُن کی گردن پر سے جُوا اُتارنے والوں کی مانند ہُوااور میں نے اُن کے آگے کھانا رکھّا۔
5 وہ پھر مُلک مصر میں نہ جائیں گے بلکہ اسور اُن کا بادشاہ ہو گا کیونکہ وہ واپس آنے سے انکار کرتے ہیں۔
6 تلوار اُن کے شہروں پر آ پڑے گی اور اُن کے اڑینگوں کو کھا جائے گی اور یہ اُن ہی کی مشورت کا نتیجہ ہو گا۔
7 کیونکہ میرے لوگ مُجھ سے بر گشتگی پر آمادہ ہیں۔ باوُجُود یکہ اُنہوں نے اُن کو بُلایا کہ حق تعالٰی کی طرف رجُوع لائیں لیکن کسی نے نہ چاہا کہ اُس کی تمجید کرے۔
8 اے افرائیم میں تُجھ سے کیونکر دست بردار ہو جاوُں؟ اے اسرائیل میں تجھے کیونکر ترک کُروں؟میں کیونکر تجھے ادمہ کی مانند کُروںاور ضیوئیم کی مانند بناوُں؟ میرا دل مُجھ میں پیچ کھاتا ہے۔ میری شفقت موجزن ہے۔
9 میں اپنے قہر کی شدت کے مُطابق عمل نہیں کُروں گا۔میں ہرگز افرائیم کو ہلاک نہ کُروں گا کیونکہ میں انسان نہیں۔ خُدا ہُوں۔ تیرےدرمیان سکُونت کرنے والا قُدّوس اور میں قہر کے ساتھ نہیں آوُں گا۔
10 وہ خُداوند کی پیروی کریں گے جو شیر ببر کی طرح گرجے گا کیونکہ وہ گرجے گا اور اُس کے فرزند مغرب کی طرف سے کانپتے ہُوئے آئیں گے۔
11 وہ مصر سے پرندہ کی طرح اور اسُور کے مُلک سے کبوتر کی مانند کانپتے ہُوئے آئیں گے اور میں اُن کو اُن کے گھروں میں بساوُں گا خُداوند فرماتا ہے۔
12 افرائیم نے دروغگوئی سے اور اسرائیل کے گھرانے نے مُکاری سے مُجھ کو گھیرا ہے لیکن یہُوداہ اب تک خُدا کے ساتھ ہاں اُس قُدّوس و فادار کے ساتھ حُکمران ہے۔


باب 12

1 افرائیم ہوا چرتا ہے ۔پُوربی ہوا کے پیچھےدوڑتا ہے۔ وہ مُتواتر جُھوٹ پر جُھوٹ بولتا اور ظُلم کرتا ہے۔ وہ اسُوریوں سے عہد و پیمان کرتے اور مصر کو تیل بھیجتے ہیں۔
2 خُداوند کا یہُوداہ کے ساتھ بھی جھگڑا ہے اور یعقوُب کی روش کے مُطابق اُس کو سزا دے گا اور اُس کے اعمال کے مُوافق اُس کو جزا دے گا۔
3 اُس نے ڑحم میں اپنے بھائی کی ایڑی پکڑی اور وہ اپنی توانائی کے ایّام میں خُدا سے کُشتی لڑا۔
4 ہاں وہ فرشتہ سے کُشتی لڑا اور غالب آیا۔ اُس نے رو کر مُناجات کی۔ اُس نے اُسے بیت ایل میں پایا اور وہاں وہ ہم سے ہمکلام ہُوا۔
5 یعنی خُداوند ربُ الا فواج یہُوداہ اُس کی یاد گار ہے۔
6 پس تو اپنے خُدا کی طرف رجوع لا۔ نیکی اور راستی پر قائم اور ہمیشہ اپنے خُدا کا اُمید وار رہ ۔
7 وہ سوداگر ہے اور دغا کی ترازُو اُس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ظُلم دوست ہے۔
8 افرائیم توکہتا ہے میں دولتمند ہُوں اور میں نے بُہت سا مال حاصل کیا ہے میری ساری کمائی میں بدکرداری کا گُناہ نہ پائیں گے۔
9 لیکن میں مُلک مصر سے خُداوند تیرا خُدا ہُوں ۔ میں پھرتُجھ کو عید مُقدس کے ایّام کے دستُور پر خیموں میں بساوُں گا۔
10 میں نے تو نبیوں سے کلام کیا اور رویا پر رویا دکھائی اور نبیوں کے وسیلہ سے تشبیہات استعمال کیں۔
11 یقینا جلعاد میں بدکرداری ہے۔ وہ بالکل بطالت ہیں۔ وہ جلجال میں بیل قربان کرتے ہیں۔ اُن کی قربان گاہیں لھیت کی ریگھاریوں پر کے تودوں کی مانند ہیں۔
12 اور یعقوب ارام کی زمین کو بھاگ گیا۔ ہاں اسرائیل بیوی کی خاطر نوکر بنا ۔ اُس نے بیوی کی خاطر چو پانی کی۔
13 ایک نبی کے وسیلہ سے خُداوند اسرائیل کو مصر سے نکال لایا اور نبی ہی کےوسیلہ سے وپ محفوظ رہا۔ ( ۱۴ ) افرائیم نے بڑے سخت غضب انگیز کام کئے۔ اس لے اُس کا خُون اُسی کے گردن پر ہو گا اور اُس کا خُداوند اُس کی ملامت اُسی کے سر پر لائے گا۔
14


باب 13

1 افرائیم کے کلام میں ہیبت تھی وہ اسرائیل کے درمیان سرفراز کیا گیا۔ لیکن بعل کے سبب سے گُہنگار ہر کر فنا ہو گیا۔
2 اور اب وہ گُناہ پر گُناہ کرتے ہیں اُہنوں نے اپنے لے چاندی کی ڈھالی ہُوئی مارتیں بنائیں اور اپنی فہمید کے مُطابق بُت تیار کئے جو سب کے سب کاریگروں کا کام ہیں۔ وہ اُن کی بابت کہتے ہیں جو لوگ قربانی گُزارنتے ہیں بچھڑوں کو چُومیں ۔
3 اس لے وہ صُبح کے بادل اور شبنم کی مانند جلد جاتے رہیں گے اور بُھوسی کی مانند جس کو بگولا کیھلہان پر سے اُڑا لے جاتا ہے اور اُس دُھوئیں کی مانند جو دُودکش سے نکلتا ہے۔
4 لیکن میں مُلک مصر ہی سے خُداوند تیرا خُدا ہُوں اور میرے سوا تو کسی معبُود کو نہیں جانتا تھا کیونکہ میرے سوا کوئی اور نجات دینے والا نہیں ہے۔
5 میں نے بیابان میں یعنی خُشک زمین میں تیری خبر گیری کی۔
6 وہ اپنی چراگاہوں میں سیر ہُوئے اور سیر ہو کر اُن کے دل میں گمُنڈ سمایا اور مُجھے بُھول گئے۔
7 اس لئے میں اُن کے لئے شیر ببر کی مانند ہُوا۔ چیتے کی مانند راہ میں اُن کی گھات میں بیٹھوں گا۔
8 میں اُس ریچھنی کی مانند جس کے بچے چھن گئے ہُوں اُن سے دُوچار ہُوں گا اور اُن کے دل کا پردہ چاک کر کے شیر ببر کی طرح اُن کو وہیں نگل جاوُں گا۔ دشتی درندے اُن کو پھاڑ ڈالیں گے۔
9 اے اسراٰئیل یہی تیری ہلاکت ہے کہ تو میرا یعنی اپنے مددگار کامُخالف بنا۔
10 اب تیرا بادشاہ کہاں ہےکہ تُجھے تیرے سب شہروں میں بچائے؟ اور تیرے قاضی کہاں ہیں جن کی بابت تو کہتا تھا کہ تُجھے بادشاہ اور اُمرا عنایت کر؟۔
11 میں نے اپنے قہر میں تُجھے بادشاہ دیا اور غضب سے اُسے اُٹھا لیا۔
12 افرائیم کی بدکرداری باندھ رکھی گئی اور اُس کے گُناہ ذخیرہ میں جمع کئے گئے۔
13 وہ گویا دردزہ میں مُبتلا ہو گا۔ وہ بے دانش فرزند ہے۔ اب مُناسب ہے کی ولادت گاہ میں دیر نہ کرے۔
14 میں اُن کو پاتال کے قابُو سے نجات دُوں گا میں اُن کو موت سے چُھڑاوں گا۔ اے موت تیری وبا کہاں ہے؟ اے پاتال تیری ہلاکت کہاں ہے؟ میں ہرگز رحم نہ کُروں گا۔
15 اگرچہ وہ اپنے بھائیوں میں برومند ہو تو بھی پُوربی ہوا آے گے۔ خُداوند کا دم بیابان سے آے گا ار اُس کا سوتا سُوکھ جائے گا اور اُس کا چشمہ خُشک ہو جائے گا۔ وہ سب مرغُوب ظروف کا خزانہ لُوٹ لے گا۔
16 سامریہ اپنے جُرم کی سزا پائے گا کیونکہ اُس نے اپنے خُدا سے بغاوت کی ہے۔ وہ تلوار سے گر جائیں گے۔ اُن کے بچے پارہ پارہ ہوں گے اور بار دار عورتیں کے پیٹ اک کئے جائیں گے۔


باب 14

1 اے اسرائیل خُداوند اپنے خُدا کی طرف رجُوع لا کیونکہ تو اپنی بدکرداری کے سبب سے گر گیا ہے۔
2 کلام لے کر خُداوند کی طرف رجُوع لاواور کہو ہماری تمام بد کرداری کو دُور کر اور فضل سے ہم کو قبُول فرما۔ تب ہم اپنے لبوں سے قربانیاں گُزرانیں گے۔
3 اسُورہم کو نہیں بچائے گا ۔ ہم گھوڑوں پر سوار نہیں ہوں گے اور اپنی دستکاری کو خُدا نہ کہیں گے کیونکہ یتیموں پر رحم کرنے والا تو ہی ہے۔
4 میں اُن کی بر گشتگی کا چارہ کُروں گا۔ میں کُشادہ دلی سے اُن سے مُحبت رکھوں گاکیونکہ میرا قہر اُن پر سے ٹل گیا ہے۔
5 میں اسرائیل کے لے اوس کی مانند ہُوں گاوہ سوسن کی طرح پُھولے گا اور لُبنان کی طرح اپنی جڑیں پھیلائے گا۔
6 اُس کی ڈالیاں پیھلیں گی اور اُس میں زیتون کے درخت کی خُوبصورتی اور لُبنان کی سی خُوشبُو ہو گئی۔
7 اُس کے زیر سایہ رہنے والے بحال ہو جائیں گے۔وہ گیہوں کی مانند تروتازہ اور تاک کی مانند شگُفتہ ہوں گے۔ اُن کی شُہرت لُبنان کی مے کی سی ہوگی۔
8 افرائیم کہے گا اب مُجھے بُتوں سے کیا کام؟ میں خُداوند نے اُس کی سُنی ہے اور اُس پر نگاہ کُروں گا میں سر سبزسروکی مانند ہُوں۔تو مُجھ ہی سے برومند ہُوا۔
9 دانشمند کون ہے کہ وہ یہ باتیں سمجھے اور دُور اندیش کون ہے جو ان کو جانے؟ کیونکہ خُداوند کی راہیں راست ہیں اور صادق اُن میں چلیں گے لیکن خطاکار اُن میں گر پڑیں گے۔+