یُوایل

1 2 3


باب 1

1 خُداوند کا کلام جو یُوایل بن فتُوایل پر نازل ہُوا۔
2 اے بُوڑھو سُنو !اے زمین کے سب باشندو کان لگاؤ!کیا تمہارے یا تمہارے باپ دادا کے ایّام میں کبھی ایسا ہوا؟۔
3 تم اپنی اولاد سے اس کا تزکرہ کرو اور تمہاری اولاد اپنی اولاد سےاور اُن کی اُولاد اپنی نسل سے بیان کرے۔
4 کہ جو کچھ ٹڈیوں کے ایک غول سےبچا اُسے دُوسرا غول نگل گیا اور جو کُچھ دُوسرے سے بچا اُسے تیسرا غول چٹ کر گیا اور جو کُچھ تیسرے سے بچااُسے چوتھا غول کھا گیا۔
5 اے متوالو جاگو اور تم ماتم کرؤ! اے مے نوشی کرنے والو نئی مے کے لے چلاؤ کیونکہ وہ تمہارے مُنہ سے چھین گی ہے ۔
6 کیونکہ میرے مُلک پر ایک قم چڑھ آئی ہے جس کے لوگ زور آور اور بے شُمار ہیں اُن کے دانت شیر ببر کے سے ہیں اور اُن کی داڑھیں شیرنی کی سی ہیں۔
7 انُہوں نے میرے تاکستان کو اُجاڑ ڈالا اور میرے انجیر کے درختوں کو توڑ ڈالا ہے۔انُہوں نے اُن کو بالکل چھیل چھال کر پھینک دیا۔اُن کی ڈالیاں سفید نکل آئیں۔
8 تم ماتم کُرو جس طرح دُلہن اپنی جوانی کے شوہر کے لےٹاٹ اوڑھ کر ماتم کرتی ہے۔
9 نذر کی قربانی اور تپانون خُداوندکے گھر سے موقوف ہو گئے۔ خُداوند کے خدمت گُزار کاہن ماتم کرتے ہیں۔
10 کھیت اُجڑ گے۔ زمین ماتم کرتی ہےکیونکہ غلّہ خراب ہو گیا ۔نئی مے ختم ہوگئی اور روغن ضائع ہوگیا۔
11 اے کسانو خجالت اُٹھاؤ۔اے تاکستان کے باغبانو نوحہ کروکیونکہ گیُہوں اور جو اور میدان کے تیار کھیت برباد ہو گئے۔
12 تاک خُشک ہوگئی۔ انجیر کا درخت مُر جھا گیا۔انار اور کھُجور اور سیب کے درخت ہاں میدان کے تمام درخت مُرجھا گئے اور بنی آدم سے خُوشی جاتی رہی۔
13 اے کاہنو! کمریں کُس کر ماتم کُرو۔اے مذبح پر خدمت کرنے والوں واویلا کرو۔اے میرے خُدا کے خادمو آو رات بھرٹاٹ اوڑھو کیونکہ نذر کی قربانی اور تپاون تمہارے خُدا کے گھر سے موقوف ہوگے۔
14 روزہ کے لے ایک دن مُقدّس کرو۔مُقدّس محفل فراہم کرو۔ بُزرگوں اور مُلک کے تمام باشندوں کوخُداوند اپنے خُدا کے گھر میں جمع کر کے اُس سے فریاد کرو۔
15 اُس روز پر افسوس ! کیونکہ خُداوند کا روز نزدیک ہے ۔وہ قادر مُطلق کی طرف سے بڑی ہلاکت کی مانند آئےگا
16 کیا ہماری آنکھوں کے سامنے روزی موقوف نہیں ہُوئی اور ہمارے خُدا کے گھر سےخُوشی و شادمانی جاتی نہیں رہی؟۔
17 بیج ڈھیلوں کے نیچے سڑ گیا۔غلّہ خانے خالی پڑے ہیں۔کھتے توڑ ڈالے گئے کیونکہ کھیتی سُوکھ گئی۔
18 جانور کیسے کراہتے ہیں!گائے بیل کے گلے پریشان ہیں کیونکہ اُن کے لے چراگاہ نہیں ہے۔ ہاں بھیڑوں کے گلے بھی نیست ہو گے ہیں ۔
19 اے خُداوند میں تیرے حُضور فریاد کرتا ہُوں کیونکہ آگ نے بیابان کی چراگاہوں کو جلا دیااور شُعلہ نے میدان کے سب درختوں کو بھسم کر دیا۔
20 جنگلی جانور بھی تیری طرف تکتے ہیں کیونکہ پانی کی ندیاں سُوکھ گیئں اورآگ بیابان کی چراگاہوں کو کھا گئی۔



باب 2

1 صُّیون میں نر سنگا پُھونکو۔میرے کوہ مُقدس پر سانس باندھ کر زور سے پُھونکو۔مُلک کے تمام باشندے تھر تھرائیں کیونکہ خُداوند کا روز چلا آتا ہے بلکہ آپہنچا ہے۔
2 اندھیرے اور تاریکی کا روز۔ابر سیاہ اور ظُلمات کا روز ہے۔ایک بڑی اور زبردست اُمت جس کی مانند نہ کبھی ہُوئی اور نہ سالہای دراز تک اُس کے بعد ہوگی پہاڑوں پر صُبح صادق کی طرح پھیل جاے گی۔
3 گویا اُن کے آگے آگے آگ بھسم کرتی جاتی ہےاور اُن کے پیچھے پیچھےشُعلہ جلاتا جاتا ہے۔اُن کے آگے زمین باغ عدن کی مانند اور اُن کے پیھچے ویران بیابان ہے۔ ہاں اُن سے کُچھ نہیں بچتا۔
4 اُن کی نمود گھوڑوں کی سی ہےاور سواروں کی مانند دوڑتے ہیں۔
5 پہاڑوں کی چوٹیوں پر رتھوں کے کھڑ کھڑانےاور بُھوسے کو بھسم کرنے والے شُعلہ آتش کے شور کی مانند بُلند ہوتے ہیں۔وہ جنگ کے لے صف بستہ زبردست قوم کی مانند ہیں۔
6 اُن کے رُو بُرو لوگ تھر تھراتے ہیں۔سب چہروں کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔
7 وہ پہلوانوں کی طرح دوڑتےاور جنگی مردوں کی طرح دیواروں پرچڑھ جاتے ہیں۔ اور صف نہیں توڑتے۔
8 وہ ایک دُوسرے کو نہیں دھکیلتے۔ہر ایک اپنی راہ پر چلا جاتا ہے۔وہ جنگی ہتھیاروں سے گُزر جاتے ہیں اوربے ترتیب نہیں ہوتے۔
9 وہ شہر کُود پڑتےاور دیواروں اور گھروں پر چڑھ کر چوروں کی طرح کھڑکیوں سے گُھس جاتے ہیں۔
10 اُن کے سامنے زمین و آسمان کانپتے اوراور تھر تھراتے ہیں۔ سُورج اور چاند تاریک اور ستارے بے نُور ہو جاتے ہیں۔
11 اور خُداوند اپنے لشکرکے سامنے للکارتاہےکیونکہ اُس کالشکر بے شُمار اور اُس کے حُکم کو انجام دینے والا زبردست ہےکیونکہ خُداوند کا روز عظیم نہایت خوُفناک ہے۔ کون اُس کی برداشت کر سکتا ہے؟۔
12 لیکن خُداوند فرماتا ہےاب بھی پُورے دل سے اور روزہ رکھ کراور گریہ زاری و ماتم کرتے ہُوئےمیری طرف رجُوع لاؤ ۔
13 اور اپنے کپڑوں کو نہیں بلکہ دلوں کو چاک کر کےخُداوند اپنے خُدا کی طرف متوجہ ہوکیونکہ وہ رحیم و مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہےاور عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔
14 کون جانتا ہے کہ وہ باز رہے اور برکت باقی چھوڑے جو خُداوند تمہارے خُدا کے لے نذد کی قربانی اور تپاون ہو۔
15 صُّیون میں نر سنگا پُھونکو اور روزہ کے لے ایک دن مُقدس کرو۔مُقدس محفل فراہم کرو۔
16 تم لوگوں کو جمع کرو۔ جماعت کو مُقدس کرو۔ بزرگوں کو اکھٹا کرو۔بچوں اور شیر خواروں کو بھی فراہم کرو۔ دُلہا اپنی کوٹھری سے اور دُلہن اپنے خلوت خانہ سے نکل آئے۔
17 کاہن یعنی خُداوند کے خادم ڈیوڑھی اور قربان گاہ کے درمیان گریہ زاری کریں اور کہیں اے خُداوند اپنے لوگوں پر رحم کر اور اپنی میراث کی توہین نہ ہونے دے۔ایسا نہ ہو کہ دُوسری قومیں اُن پر حکُومت کریں۔ وہ اُمتوں کے درمیان کیوں کہیں کہ اُن کا خُدا کہاں ہے؟۔
18 تب خُداوند کو اپنے مُلک کے لے غیرت آئی اور اُس نے اپنے لوگوں پر رحم کیا۔
19 پھر خُداوند نے اپنے لوگوں سے فرمایا میں تم کو اناج اور نئی مے اور تیل عطا فرماوں گا اور تم اُن ست سیر ہوگےاور میں پھر تم کو قوموں میں رُسوا نہ کُروں گا۔
20 اور شمالی لشکر تم سے دُور کُروں گااور اُسے خُشک بیابان میں ہانک دُوں گا۔اُس کے اگلے مشرق سُمندر میں اور پچھلے مغربی سُمندر میں ہوں گے۔اُس سے بدبو اُٹھے گی اور عفُونت پیھلے گی کیونکہ اُس نے بڑی گُستاخی کی ہے۔
21 اے زمین ہراسان نہ ہو۔خُوشی اور شادمانی کرکیونکہ خداوند نے بڑے بڑے کام کے ہیں۔
22 اے دشتی جانور و ہراسان نہ ہوکیونکہ بیابان کی چراگاہ سبز ہوتی ہےاور درخت اپنا پھل لاتے ہیں۔انجیر اور تاک اپنی پُوری پیداوار دیتے ہیں۔
23 پس اے بنی صیُّون خُوش ہواور خُداوند اپنے خُدا میں شادمانی کرو کیونکہ وہ تم کو پہلی برسات اعتدال سے بخشے گا۔وہی تمہارے لئےبارش یعنی پہلی اور پچھلی برسات بروقت بھیجے گا۔
24 یہاں تک کےکھیلہان گیہوں سے بھر جائیں گےاور حوض نئی مے اور تیل سے لبریز ہوں گے۔
25 اور اُن برسوں کا حاصل جو تمہارے خلاف بھیجی ہُوئی فوج ملخ نگل گئی اور کھا کر چٹ کر گئی تم کو واپس دُوں گا۔
26 اور تم خون کھاو گے اور سیر ہو گے اور خپداوند اپنے خُدا کے نام کی جس نے تم سے عجیب سلوک کیا ستایش کرو گےاور میرے لوگ ہرگز شرمندہ نہ ہوں گے۔
27 تب تم جانو گے کہ میں اسرائیل کے درمیان ہُوں اور میں خُداوند تمہارا خُدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں اور میرے لوگ کبھی شرمندہ نہ ہوں گے۔
28 اور اس کے بعد میں ہر فرد بشر پراپنی رُوح نازل کُروںگا اور تمہارے بیٹے بیٹیاں نبوت کریں گے۔تمہارے بوڑھے خواب اور جوان رویا دیکھیں گے۔
29 بلکہ میں ان ایّام میں غُلاموں اور لونڈیوں پر انپی روح نازل کُروں گا۔
30 اور میں زمین و آسمان میں عجائب ظاہر کُروں گایعنی خُون اورآگ اور دُھوئیں کے ستون۔
31 اس سے بیشتر کہ خُداوند کا خُوفناک روز عظیم آئے آفتاب تاریک اور مہتاب خُون ہو جائے گا۔
32 اور جو کوئی خُداوند کا نام لے گا نجات پاے گا کیونکہ کوہ صیون اور یروشیلم میں جیساخُداوند نے فرمایا ہے بچ نکلنے والے ہوں گے اور باقی لوگوں میں وہ جن کو خُداوند بُلاتا ہے۔


باب 3

1 اُن ایّام میں اور اُسی وقت جب میں یہُوداہ اوریروشیلم کے اسیروں کو واپس لاؤںگا۔
2 تو سب قوموں کو جمع کُروں گا اور اُن کو یہُو سفط کی وادی میں اُتارلاؤں گا اور وہاں اُن پر اپنی قوم اور میراث اسرائیل کےلئے جن کو اُہیوں نے قوموں کے درمیان پراگندہ کیا اور میرے مُلک کو بانٹ لیا حُجت ثابت کُروں گا۔
3 ہاں اُنہوں نے میرے لوگوں پر قرعہ ڈالااور ایک کسبی کے بدلے ایک لڑکا دیا اور مے کے لے ایک لڑکی بیچی تاکہ میخواری کریں۔
4 پس اے صُور و صید اور فلستین کے تمام علاقو میرے لے تمہاری کیا حقیقت ہے؟ کیا تم مُجھ کو بدکہ دو گے؟ اور اگر دو گے تو میں وہیں فورا تمہارا بدلہ تمہارے سر پر پھینک دُوں گا۔
5 چونکہ تُم نے میرا سونا چاندی لے لیا ہے اور میری لطیف و نفیس چیزیں اپنے مندروں میں لے گئے ہو۔
6 اور تم نے یہُوداہ اور یروشیلم کی اولاد کو یُونانیوں کے ہاتھ بیچا ہے تا کہ اُن کو اُن کی حدُود سے دُور کرو۔
7 اس لے میں اُن کو اُس جگہ سے جہاں تم نے بیچا ہے برا نگخیتہ کُروں گا اور تمہارا بدلہ تمہارے سر پر لاوں گا۔
8 اور تمہارے بیٹے بیٹیوں کو بنی یہُوداہ کے ہاتھ بیچوں گا اور وہ اُن کو اہل سبا کے ہاتھ جو دُور کے مُلک میں رہتے ہیں بیچیں گے کیونکہ یہ خُداوند کا فرمان ہے۔
9 قوموں کے درمیان اس بات کی مُنادی کرو۔لڑائی کی تیاری کرو۔بُہادُروں کو برا نگخیتہ کرو۔جنگی جوان حاضر ہوں۔ وہ چڑائی کریں۔
10 اپنے ہل کی پھالوں کو پیٹ کر تلواریں بناؤاور ہنسووں کو پیٹ کر بھالے۔ کمزور کہے کہ میں زور آور ہُوں۔
11 اے اردگرد کی سب قومو جلد آ کر جمع ہو جاؤاے خُداوند اپنے بہادُروں کو وہاں بھیج دے۔
12 قومیں برا نگخیتہ ہوں اور یُہوسفط کی وادی میں آئیں کیونکہ میں وہاں بیٹھ کر اردگرد کی سب قوموں کی عدالت کُروں گا۔
13 ہنسوا لگاو کیونکہ کھیت پک گیا ہے۔آؤروندو کیونکہ حوض لبا لب اور کو لُھولبریز ہیں کیونکہ اُن کی شرارت عظیم ہے۔
14 گروہ پر گروہ انفصال کی وادی میں ہے کیونکہ خُداوند کا دن انفصال کی وادی میں آپُہنچا۔
15 سورج اور چاند تاریک ہو جائیں گےاور ستاروں کا چمکنا بند ہو جائے گا۔
16 کیونکہ خُداوند صیون سے نعرہ مارے گا اور یروشیلم سے آواز بُلند کرے گااور آسمان و زمین کانپیں گےلیکن خُداوند اپنے لوگوں کی پناہ گاہ اوربنی اسرائیل کا قلعہ ہے۔
17 پس تم جانو گے میں خُداوند تمہارا خُدا ہُوں جو صیون میں اپنے کوہ مُقدس پر رہتا ہُوں تب یروشیلم بھی مُقدس ہو گااور پھر اُس میں کسی اجنبی کا گُزر نہ ہوگا۔
18 اور اُس روز پہاڑوں پر سے نئی مے ٹپکے گےاور ٹیلوں پر سے دُودھ بہے گا اور یہُوداہ کی سب ندیوں میں پانی جاری ہوگااور خُدواند کے گھر سے ایک چشمہ پُھوٹ نکلے گااور وادی شطیم کو سیراب کرئے گا۔
19 مصر ویرانہ ہوگا اور اُدوم سُنسان بیابان کیونکہ اُنہوں نے بنی یہُوداہ پر ظُلم کیااور اُن کے مُلک میں بے گُناہوں کا خُون بہایا۔
20 لیکن یہُوداہ ہمیشہ آباد اور یروشیلم پُشت در پُشت قائم رہے گا۔
21 کیونکہ میں اُن کا خُون پاک قراردُوں گاجو میں نے اب تک پاک قرار نہ دیا تھا کیونکہ خُداوند صیون میں سکونت پذیرہے۔+