نا حُوم

1 2 3


باب 1

1 نینوہ کی بابت بارِ نبوت ۔ اِلقوشی ناحُوم کی رویا کی کتاب۔:-
2 خُدا وند غیُور اور انتقام لینے والا خُدا ہے ہاں خُداوند انتقام لینے والا اور قُہار ہے۔ خُداوند اپنے مُخالفوں سے انتقام لیتا ہےاور اپنے دشمنوں کے لے قہر کو قائم رکھتا ہے۔
3 خُداوند قہر کرنے میں دھیما اور قُدرت میں بڑھ کر ہے اور مُجرم کو ہرگز بری نہ کرے گا۔ خُداوند کی راہ گر دیاد اور آندھی میں ہے۔ اور بادل اس کے پاوں کی گرد ہیں۔
4 وہی سُمندر کو ڈانٹتا اور سُکھا دیتا ہے اور سب ندیوں کو خُشک کر ڈالتا ہے بسن اور کرمل کُملا جاتے ہیں اور لبنان کی کونپیلں مرجھا جاتی ہیں۔
5 اس کے خُوف سے پہاڑ کاپنتےاور ٹیلے پگھل جاتے ہیں۔اس کے حضور زمین ہاں دنیا اور اس کی سب معموری تھرتھراتی ہے۔
6 کس کو اس کے قہر کی تاب ہے؟ اس کے قہر شدید کو کون برداشت کر سکتا ہے؟اس کا قہر آگ کی مانند نازل ہوتا ہے۔ وہ چٹانوں کو توڑ ڈالتا ہے۔
7 خُداوند بھلا ہےاور مُصیبت کے دن پناہ گا ہ ہے۔وہ اپنے توکل کرنے والوں کو جانتا ہے۔
8 لیکن اب وہ اس کے مکان کو بڑے سیلاب سےنیست و نابود کرے گا اور تاریکی اس کے دشمنوں کو رگیدے گی۔
9 تم خُداوند کے خلاف کیا منصوبہ باندھتے ہو؟ وہ نالکل نابود کر ڈالے گا۔ عذاب دوبارہ نہ آے گا۔
10 اگرچہ وہ اُلجھے ہوے کانٹوں کی مانند پیچیدہ اور اپنی مے سے ہوں تو بھی وہ سوکھے بھوسے کی طرح بالکل جلا دے جائیں گے۔
11 تجھ سے ایک ایسا شخص نلکا ہے جو خُداوند کے خلاف بُرے منصوبے باندھتا اور شرارت کی صلاح دیتا ہے۔
12 خُداوند یُوں فرماتا ہے اگرچہ وہ زبردست اور بہت سے ہوں تو بھی وہ کاٹے جائیں گے اور وہ برباد ہو جائے گا۔ اگرچہ میں نے تجھے دکھ دیا تو بھی پھر کبھی تجھے دُکھ نہ دُوں گا۔
13 اور اب میں اس کا جو تجھ پر سے توڑ ڈالوں گا اور تیرے بندھنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔
14 لیکن خُداوند نے تیری بابت یہ حُکم صادر فرمایا ہے کہ تیری نسل باقی نہ رہے۔ میں تیرے بت خانہ سے کھودی ہوئی اور ڈھالی ہوئی مورتوں کو بیست کُروں گا۔ میں تیرے لے قبر تیار کُروں گا کیونکہ تو نکما ہے۔
15 دیکھ جو خوش خبرتلاتا اور سلامتی کی مُنادی کرتا ہے اس کے پاوں پہاڑوں پر ہیں۔ اے یہُوداہ اپنی عیدیں منا اور اپنی نزریں ادا کر کیونکہ پھر خبیث تیرے درمیان سے نہیں گزرے گا۔ وہ صاف کاٹ ڈالا گیا ہے۔


باب 2

1 پراگندہ کرنے والا تجھ پر چڑھ آیا ہے۔قلعہ کو محفوظ رکھ۔ راہ کی نگہبانی کر۔ کمر بستہ ہو اور خُوب مضبوط رہ۔
2 کیونکہ خُداوند یعقوب کی رونق کو اسرائیل کی رونق کی مانند پھر بحال کرے گا اگرچہ غارت گروں نے ان کو غارت کیا ہے اور ان کی تاک کی شاخیں توڑ ڈالی ہیں۔
3 اس کے بہادروں کی سپریں سُرخ ہیں ۔اس کی تیاری کے وقت رتھ فولاد سے جھلکتے ہیں اور دیودار کے نیزے بشدت ہلتے ہیں۔
4 رتھ سڑکوں پر تُندی سے دوڑتےاور میدان میں بے تحاشا جاتے ہیں۔ وہ مشعلوں کی مانند چمکتے اور بجلی کی طرح کوندتے ہیں۔
5 وہ اپنے سردار کو بلاتا ہے۔ وہ ٹکریں کھاتے آتے ہیں۔ وہ جلدی جلدی فصیل پر ڑھتے ہیں اور اڑتلا تیار کیا جاتا ہے۔
6 نہروں کے پھاٹک کھل جاتے ہیں۔اور قصر گراز ہو جاتا ہے۔
7 ہُصب بے پردہ ہوئی اور اسیری میں لی گی۔اس کی لونڈیاں قُمریوں کی مانند کراہتی ہوئی ماتم کرتی اور پھاتی پیٹتی ہیں۔
8 نینوہ تو قدیم سے حوض کی مانند ہے تو بھی وہ بھاگے چلے جاتے ہیں۔ وہ پکارتے ہیں کہ ٹھہرو ٹھہڑو! پر کوئی مڑ کر نہیں دیکھتا۔
9 چاندی لُوٹو! سونا لُوٹو! کیونکہ مال کی کچھ انہتا نہیں۔ سب نفیس چیزیں کثرت سے ہیں۔
10 وہ خالی سُنسان اور ویران ہے۔ ان کے دل پگھل گئے اور گُھٹنے ٹکرانے لگے۔ ہر ایک کی کمر میں شدت سے درد ہے اور ان سب کے چہرے زرد ہو گے۔
11 شیروں کی مانند اور جو ان ببروں کی کھانے کی جگہ کہاں ہےجس میں شیر ببر اور شیرنی اور ان کے بچے بے خُوف پھرتے تھے۔
12 شیر ببر اپنے بچوں کی خوراک کے لے پھاڑتا تھا اور اپنی شیرینوں کے لے گلا گھونٹتا تھا اور اپنی ماندوں کو شکار سے اور غاروں کو پھاڑے ہووں سے بھرتا تھا۔
13 ربُ الا فواج فرماتا ہے دیکھ میں تیرا مُخالف ہوںاور اس کے رتھوں کو جلا کے دُھواں بنا دوں گا اور تلوار تیرے جوان ببروں کو کھا جائے گی اور میں تیرا شکار زمین پر سے مٹا ڈالوں گا اور تیرے ایلچیوں کی آواز پھر سُنائی نہ دے گی۔


باب 3

1 خُونریز شہر پر افسوس ! وہ جھوٹ اور لُوٹ سے بالکل بھرا ہے وہ لوٹ مار سے باز نہیں آتا۔
2 سُنو! اچانک لی آواز اور پہیوں کی کھڑکھڑاہٹ اور گھوڑوں کا کودنا اور رتھوں کے ہچکولے۔
3 دیکھو ! سواروں کا حملہ اور تلواروں کی چمک اور بھالوں کی جھلک اور متقولوں کے ڈھیر اور لاشوں کے تُودے۔لاشوں کی انتہا نہیں۔لاشوں سے ٹھوکر کھاتے ہیں۔
4 یہ اس خُوب صورت جادوگرنی فاحشہ کی بدکاری کی کثرت کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ قوموں کو اپنی بدکاری سےاور گھرانوں کو اپنی جادوگری سے بیچتی ہے۔
5 ربُ الافواج فرماتا ہے دیکھ میں تیرا مُخالف ہوں اور تیرے سامنے سے تیرا دامن اٹھادوں گا اور قوموں کو تیری برہنگی اور مملکتوں کو تیرا ستر دکھلاوں گا۔ہ
6 اور نجاست تجھ پر ڈالوں گا اور تُجھے رُسوا کُروں گا ہاں تُجھے انگشت نُما کر دُوں گا۔
7 اور جو کوئی تجھ پر نگاہ کرے گا تُجھ سے بھاگے گا اور کہے گا کہ نینوہ ویران ہُوا۔ اس پر کون ترس کھاے گا؟ میں تیرے لے تسلی دینے والے کہاں سے لاؤں؟۔
8 کیا تو آمون سے بہتر ہے جو نہروں کے درمیان بسا تھا اور پانی اس کی چاروں طرف تھا جس کی شہر پناہ دریا نیل تھا اور جس کی فصیل پانی تھا؟۔
9 کُوش اور مصر اس کی بے انتہا توانائی تھے۔ فوط اور لُوبیم اس کے حماتیی تھے۔
10 تو بھی جلا وطن اور اسیر ہُوا۔ اس کے بے سب کُوچوں میں پٹک دے گئے اور اُن کے شُرفا پر قُرعہ ڈالا گیا اور اس کے سب بُزرگ زنجیروں سے جکڑے گے۔
11 تو بھی مست ہو کر اپنے آپ کو چھپائے گا اور دشمن کے سامنے سے پناہ ڈھونڈے گا۔
12 تیرے سب قلعے انجیر کے درخت کی مانند ہیں جس پر پہلے پکے پھل لگے ہوں جس کو اگر کوئی ہلاے تو وہ کھانے والے کے مُنہ میں گھر پڑیں۔
13 دیکھ تیرے اندر تیرے مرد عورتیں بن گے۔ تیری مملکت کے پھاٹک تیرے دشمنوں کے سامنے کُھلے ہیں۔ آگ تیرے اڑبنگوں کو کھا گئی ۔
14 تو اپنے مُحاصرہ کے وقت کے لے پانی بھر لے اور اپنے قلعوں کو مضبوط کر۔ گڑھے میں اتر کر مٹی تیار کر اوع اینٹ کا سانچہ ہاتھ میں لے۔
15 وہاں آگ تُجھے کھا جائے گی۔ تلوار تُجھے کاٹ ڈالے گی۔ وہ ٹڈی کی طرح تُجھے چٹ کر جاے گی اگرچہ تو اپنے آپ کو چٹ کر جانے والی ٹڈیوں کی مانند فراوان کرے اور فوج ملخ کی مانند بے شُمار ہو جائے۔
16 تو نے اپنے سودا گروں کو آسمان کے ستاروں سے زیادہ فراوان کیا۔ چٹ کر جانے والی ٹڈی خراب کر کے اُڑ جاتی ہے۔
17 تیرے امراملخ اور تیرے سردار ٹڈیوں کا ہجوم ہیں جو سردی کے وقت جھاڑیوں میں رہتی ہیں اور آفتاب نکلتا ہے تو اُڑ جاتی ہیں اور ان کا مکان کوئی نہیں جانتا۔
18 اے شاہ اسور تیرے چرواہے سو گئے۔ سردار لیٹ گئے۔ تیری رعایا پہاڑوں پر پراگندہ ہوگئی ار اس کو فراہم کرنے والا کوئی نہیں۔
19 تیری شکستگی لاعلاج ہے۔ تیرا زخم کاری ہے۔ تیرا خال سُن کر سب تالی بجائیں گے کیونکہ کون ہے جس پر ہمشیہ تیری شرارت کا بار نہ تھا؟+