حبقُوق

1 2 3


باب 1

1 حبقوق نبی کی رویاکا بار نبوت:-
2 اے خُداوند ! میں کب تک نالہ کُروں گا اور تو نہ سُنےگا؟ میں تیرے حُضور کب تک چلاوں گا ظُلم!ظُلم! اور تو نہ بچاے گا؟۔
3 تو کیوں مُجھے بدکرداری اور کج رفتاری دکھاتا ہے؟ کیونکہ ظُلم اور ستم میرے سامنے ہیں۔ فتنہ و فساد برپا ہوتے رہتے ہیں۔
4 اس لے شریعت کمزور ہو گی اور انصاف مُطلق جاری نہیں ہوتا کیونکہ شریر صادقوں کو گھیر لیتے ہیں۔ پس انصاف کا خُون ہو ریا ہے۔
5 قوموں پر نظر کرو اور دیکھو اور مُتعجب ہو کیونکہ میں تُمہارے ایام میں ایک ایسا کام کرنے کو ہوں کہ اگر کوئی تم سے اس کا بیان کرے تو تم ہرگز باور نہ کرو گے۔
6 کیونکہ دیکھو میں کسدیوں کو چڑھا لاوں گا۔ وہ تر شرو اور تند مزاج قوم ہیں جووُسعت زمین سے ہو کر گُزرتے ہیں تاکہ ان بستیوں پر جو ان کی نہیں ہیں قبضہ کر لیں۔
7 وہ ڈراونے اور ہیبت ناک ہیں۔ وہ خود ہی اپنی عدالت اور شان کا مصدر ہیں۔
8 ان کے گھوڑے چیتوں سے بھی تیز رفتار اور شام کو نکلنے والے بھیڑیوں سے زیادہ خونخوار ہیں اور ان کے سوار کودتے پھاندتے آتے ہیں۔ ہاں وہ دُور سے چلے آتے ہیں۔وہ عقاب کی مانند ہیں جو اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔
9 وہ سب غارتگری کو آتے ہیں۔ وہ سیدھے بڑھے چلے آتے ہیں اور ان کے اسیرریت کے ذروں کی مانند بے شمار ہوتے ہیں۔
10 وہ بادشاہوں کو ٹھٹھوں میں اڑاتے اور امرا کو مسخرہ بناتے ہیں۔ وہ قلعوں کو حقیر جانتے ہیں کیونکہ وہ مٹی سے دمدمے باندھ کر ان کو فتح کر لیتے ہیں۔
11 تب وہ گردباد کی ظرح گُزرتے اور خطا کر کے گہنگار ہوتے ہیں کیونکہ ان کازور ہی ان کاخُدا ہے۔
12 اے خُداوند میرے خُدا! اے میرے قدوس کیا تو ازل سے نہیں ہے؟ ہم نہیں مریں گے۔ اے خُداوند تو نےان کو عدالت کے لے ٹھہرایا ہے اور اے چٹان تونے ان کو تادیب کے لے مُقرر کیا ہے۔
13 تیری آنکھیں ایسی پاک ہیں کہ تو بدی کو دیکھ نہیں سکتا اور کجر فتاری پر نگاہ نہیں کر سکتا۔ پھر تو دغابازوں پر کیوں نظر کرتا ہے اور جب شریر اپنے سے زیادہ صادق کو نگل جاتا ہے تب تو کیوں خاموش رہتا ہے۔
14 اور نبی آدم کو سُمندر کی مچھلیوں اور کیڑے مکوڑوں کی مانند بناتا ہے جن پر کوئی حکومت کرنے والا نہیں؟۔
15 وہ ان سب کو شست سے اُٹھا لیتے ہیں اور اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور مہاجال میں جمع کرتے ہیں اس لے وہ شادمان اور خُوش وقت ہیں ۔
16 اسی لے وہ اپنے جال کے آگے قربانیاں گزرانتے ہیں اور اپنے مہاجال کے آگے بخور جلاتے ہیں کیونکہ ان کےو سیلہ سے ان کا بخرہ لذیز اور ان کی غذا چرب ہے۔
17 پس وہ اپنے جال کو خالی کرنے اور قوموں کو متواتر قتل کرنے سے بازنہ آئیں گئے۔


باب 2

1 میں اپنی دیدگاہ پر کھڑا رہوں گا اور بُرج پر چڑھ کر انتظار کُروں گا کہ وہ مُجھ سے کیا کہتاہے اور میں اپنی فریاد کی بابت کیا جواب دوں۔
2 تب خُداوند نے مُجھے جواب دیا اور فریاد کہ رویا کو تختیوں پر ایسی صفائی سے لکھ کہ لوگ دوڑتے ہوے بھی پڑھ سکیں۔
3 کیونکہ یہ رویا ایک مقررہ وقت کے لے ہے۔ یہ جلد وقوع میں آے گی اور خطا نہ کرے گی۔ اگرچہ اس میں دیر ہو تو بھی اس کا مُنتظر رہ کیونکہ یہ یقینا وقوع میں آے گی۔ تاخیر نہ کرے گی۔
4 دیکھ مُتکبر آدمی کا دل راست نہیں ہے لیکن صادق اپنے ایمان سے زندہ رہے گا۔
5 بے شک متکبر آدمی مے کی مانند دغاباز ہے۔ وہ اپنے گھر میں نہیں رہتا۔ وہ پاتال کی مانند اپنی ہوس بڑھاتا ہے۔ وہ موت کی مانند ہے۔ کبھی آسودہ نہیں ہوتا بلکہ سب قوموں کو اپنے پاس جمع کرتا ہے اور سب امتوں کو اپنے نزدیک فراہم کرتا ہے۔
6 کیا یہ سب اس پر مثل نہ لائیں گے اور طنزا نہ کہیں گے کہ اس پر افسوس جو اوروں کے مال سے مالدار ہوتا ہے! لیکن یہ کب تک؟ اور اس پر جو کثرت سے گرو لیتا ہے!۔
7 کیا وہ تجھے کھا جانے کو اچانک نہ اُٹھیں گے اور تجھے مضطرب کرنے کو بیدار نہ ہوں گے اور تو ان کے لے لوٹ نہ ہوگا؟۔
8 چونکہ تونے بہت سی قوموں کو لوٹ لیا اور مُلک و شہر و باشندوں میں خونریزی اور ستم گری کی ہے اس لے باقی ماندہ لوگ تجھے غارت کریں گے۔
9 اس پر افسوس جو اپنے گھرانے کے لے ناجائز نفع اٹھاتا ہے تا کہ اپنا آشیانہ بلندی پر بنائے اور مصیبت سے محفوظ رہے۔
10 تو نے بہت سی اُمتوں کو برباد کر کے اپنے گھرانے کے لے رُسوائی حاصل کی اور اپنی جان کا گُنہگار ہُوا۔
11 کیونکہ کے دیوار سے پتھر چلائیں گے اور محبت سے شہتیر جواب دیں گے۔
12 اس پر افسوس جو قصبہ کو خُونریزی سے اور شہر کو بدکرداری سے تعمیر کرتا ہے!۔
13 کیا یہ ربُ الافواج کی طرف سے نہیں کہ لوگوں کی محنت آگ کے لے ہوا اور قوموں کی مشقت بطالت کے لے؟۔
14 کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خُداوند کے جلال کے عرفان سے معمور ہو گی۔
15 اس پر افسوس جو اپنے ہمسایہ کو اپنے قہر کا جام پلا کر متوالا کرتا ہے تاکہ اس کو بے پردہ کرے۔
16 تو عزت کے عوض رسوائی سے بھر گیا ہے۔ تو بھی پی کر اپنی نامختونی ظاہر کر۔ خُداوند کے دہنے ہاتھ کا پیالہ اپنے دور میں تجھ تک پُہنچے گا اور رسوائی تیری شوکت کو ڈھانپ لے گی۔
17 چونکہ تونے ملک و شہر باشندوں میں خُونریزی اور ستم گری کی ہے اس لے وہ زیادتی جو لبنان پر ہوئی اور وہ ہلاکت جس سے جانور ڈر گے تجھ پر آئےگی۔
18 کھودی ہوئی مورت سے کیا حاصل کہ اس کے بنانے والے نے اسے کھود کر بنایا؟ ڈھالی ہوئی مورت اور جھوٹ سکھانے والے سے کیا فائدہ کہ اس کا بنانے والا اس پر بھروسا رکھتا اور گونگے بُتوں کو بناتا ہے؟ ۔
19 اس پر افسوس جو لکڑی سے کہتا ہے جاگ ! اور بے زبان پتھر سے کہ اُٹھ ! کیا وہ تعلیم دے سکتا ہے؟ دیکھ وہ تو سونے چاندی سے مڑھا ہے لیکن اس میں مطلق دم نہیں۔
20 مگر خُداوند اپنی مقدس ہیکل میں ہیں۔ ساری زمین اس کے حضور خاموش رہے۔


باب 3

1 شگایونوت کے سر پر حبقوق کی دُعا۔
2 اے خُداوند میں نے تیری شہرت سُنی اور ڈر گیا۔اے خُداوند اسی زمانہ میں اپنے کام کو بحال کر۔ اسی زمانے میں اس کو ظاہر کر۔ قہر کے وقت رحم کو یاد فرما۔
3 خُدا تیمان سے آیا اور قدوس کوہ فاران سے۔ سلاہ : اس کا ہاتھ جلال آسمان پر چھا گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہو گی۔
4 اس کی جگمگاہٹ نُور کی مانند تھی اس کے ہاتھ سے کرنیں نکلتی تھیں اور اس میں اس کی قدرت نہاں تھی۔
5 وبا اس کے آگے آگے چلتی تھی اور آتشی تیر اس کے قدموں سے نکلتے تھے۔
6 وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گی۔اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گیئں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں۔
7 میں نے کوشن کے خیموں کو مصیبت میں دیکھا۔ ملک مدیان کے پردے ہل گئے
8 اے خُداوند ! کیا تو ندیوں سے بیزار تھا؟ کیا تیرا قہر دریاوں پر تھا؟ کیا تیرا غضب سمندر پر تھا کہ تو اپنے گھوڑوں اور فتح یاب رتھوں پر سوار ہوا؟
9 تیری کمان غلاف سے نکالی گئی تیرا عہد قبائل کے ساتھ استوار تھا۔ سلاہ :تو نے زمین کو ندیوں سے چیر ڈالا
10 پہاڑ تجھے دیکھ کر کانپ گئے۔ سیلاب گزر گے۔ سمندر سے شور اُٹھا اور موجیں بُلند ہوئیں۔
11 تیرے اُڑنے والے تیروں کی روشنی سے تیرے چمکیلے بھالے کی جھلک سے آفتاب و مہتاب اپنے بُرجوں میں ٹھہر گئے۔
12 تو غضبناک ہو کر ملک میں سے گزرا۔ تو نے قہر سے قوموں کو پایمال کیا۔
13 تو اپنے لوگوں کی نجات کی خاطر نکلا۔ ہاں اپنے ممسوح کی نجات کی خاطر۔ تو نے شریر کے گھر کی چھت گرا دی اور اس کی بُنیاد بالکل کھود ڈالی۔ سلاہ :
14 تو نے اس کے لٹھ سے اس کے بہادروں کے سر پھوڑے۔ وہ مجھے پراگندہ کرنے کو گردباد کی طرح آئےوہ غریبوں کو تنہائی میں نگل جانے پر خُوش تھے۔
15 تو اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر سمندر سے ہاں بڑے سیلاب سے پار ہو گیا۔
16 میں نے سُنا اور میرا دل دہل گیا اس شور کے سبب سے میرے ہونٹ ہلنے لگے۔میری ہڈیاں بوسیدہ ہو گیئں اور میں کھڑے کھڑے کاپننے لگا لیکن میں صبر سے ان کے بُرے دن کا مُنتظر ہُوں جو اکٹھے ہو کر حملہ کرتے ہیں۔
17 اگرچہ انجیر کا درخت نہ پھولے اور تاک میں پھل نہ لگے اور زیتون کا حاصل ضائع ہو جائے اور کھیتوں میں کچھ پیداوار نہ ہو اور بھیڑ خانہ سے بھیڑیں جاتی رہیں اور طویلوں میں مویشی نہ ہوں ۔
18 تو بھی میں خُداوند سے خوش رہوں گا اور اپنے نجات بضش خُدا سے خوش وقت ہُوں گا۔
19 خُداوند خُدا میری توانائی ہے۔ وہ میرے پاوں ہرنی کے سے بنا دیتا ہے اور مُجھے میری اُونچی جہگوں میں چلاتا ہے۔ ( میر مُغنی کے لے میرے تاردار سازوں کے ساتھ )