ملاکی

1 2 3 4


باب 1

1 خداوند کی طرف سے ملاکی کی معرفت اسرائیل کے لے بار نبوت :-
2 خداوند فرماتا ہے میں نے تم سے محبت رکھی تو بھی تم کہتے ہو تو نے کس بات میں ہم سے محبت ظاہر کی؟ خداوند فرماتا ہے کیا عیسو یعقوب کا بھائی نہ تھا؟لیکن میں نے یعقوب سے محبت رکھی۔
3 اور عیسو سے عداوت رکھی اور اس کے پہاڑوں کو ویران کیا اور اس کی میراث بیابان کے گیدڑوں کو دی
4 اگر ادوم کہے ہم برباد تو ہوے پر ویران جگہوں کو پھر آکر تعمیر کریں گے تو رب الافواج فرماتا ہے اگرچہ وہ تعمیر کریں پر میں ڈھاوں گا اور لوگ ان کا یہ نام رکھیں گے شرارت کا ملک۔ وہ لوگ جن پر ہمیشہ خداوند کا قہر ہے۔
5 اور تمہاری آنکھیں دیکھیں گی اور تم کہو گے کہ خداوند کی تمجید اسرائیل کی حدود سے آگے تک ہو۔
6 رب الافواج تم کو فرماتا ہے اے میرے نام کی تحقیر کرنے والے کاہنو! بیٹا اپنے باپ کی اور نوکر اپنے آقا کی تعظیم کرتا ہے۔پس اگر میں باپ ہوں تو میری عزت کہاں ہے ؟اور اگر آقا ہوں تو میرا خوف کہاں ہے؟پر تم کہتے ہو ہم نے کس بات میں تیرے نام کی تحقیر کی؟
7 تم میرے مزبح پر با پاک روٹی گزرا نتے اور کہتے ہو کہ ہم نے کس بات میں تیری توہین کی؟ اسی میں جو کہتے ہو خداوند کی میز حقیر ہے۔
8 جب تم اندھے کی قربانی کرتے ہو تو کوئی برائی نہیں!اور جب لنگڑے اور بیمار کوگزرانتے ہو تو کچھ نقصان نہیں ! اب یہی اپنے حاکم کی نذر کر۔ کیا وہ تجھ سے خوش ہو گا اور اس کا منظور نظر ہو گا؟ رب الافواج فرماتا ہے۔
9 اب ذرا خدا کو مناو تا کہ وہ ہم پر رحم فرماے۔ تمہارے ہی ہاتھوں نے یہ گزرانا ہے ۔کیا تم اس کے منظور نظر ہو گے ؟ رب الافواج فرماتا ہے۔
10 کاشکہ تم میں کوئی ایسا ہوتا جو دروازے بند کرتا اور تم میرے مذبح پر عبث آگ نہ جلاتے!رب الافواج فرماتا ہے میں تم سے خوش نہیں ہوں اور تمہارے ہاتھ کا ہدیہ ہرگز قبول نہ کرو گا۔
11 کیونکہ اافتاب کے طلوع سے غروب تے قوموں میں میرے نام کی تمجید ہو گی اور ہر جگہ میرے نام پر بخور جلائیں گے اور پاک ہدے گزرائیں گے کیونکہ قوموں میں میرے نام کی تمجید ہو گی رب الافواج فرماتا ہے ۔
12 لیکن تم اس بات میں اس کی توعین کرتے ہو کہ تم کہتے ہو خداوند کی میز پر کیا ہے ! اس پر کے ہدے بے حقیقت ہیں۔
13 اور تم نے کہا یہ کیسی زحمت ہے ! اور اس پر ناک چڑھائی رب الافواج فرماتا ہے۔ پھر تم لوٹ کا مال اور لنگڑے اور بیمار ذبحیے لاے اور اسی طرح کے ہدے گزرانے ۔ کیا میں ان کو تمہارے ہاتھ سے قبول کروں ؟ خداوند فرماتا ہے۔
14 لعنت اس دغاباز پر جس کے گلہ میں نر ہے پر خداوند کے لے عیب دار جانور کو نذر مان کر گزرانتا ہے کیونکہ میں شاہ عظیم ہوں اور قوموں میں میرا نام مہیب ہے رب الافواج فرماتا ہے۔


باب 2

1 اور اب اے کاہنو تمہارے لے یہ حکم ہے۔
2 رب الافواج فرماتا ہے اگر تم شنوانہ ہو گے اور میرے نام کی تمجید کو مدنظر رکھو گے تو میں تم کو اور تمہاری نعمتوں کو ملعون کروں گا بلکہ اس لے کہ تم نے اس مدنظر نہ رکھامیں ملعون کر چکا ہوں۔
3 دیکھو میں تمہارے بازو بیکار کر دو گا اور تمہارے منہ پر نجاست یعنی قربانیوں کی نجاست پھینکوں گا اور تم اسی کے ساتھ پھینک دے جاو گے۔
4 اور تم جان لو گے کہ میں نے تم کو یہ حکم اس لے دیا ہے کہ میرا عہد لاوی کے ساتھ قائم رہے رب الافواج فرماتا ہے۔
5 اس کے ساتھ میرا عہد زندگی اور سلامتی کا تھا اور میں نے اسے زندگی اورسلامتی اس لے بخشی کہ وہ ڈرتا رہے چنانچہ وہ مجھ سے ڈرا اور میرے نام سے ترسان رہا۔
6 سچائی کی شریعت اس کے منہ میں تھی اور اس کے لبوں پر ناراسی نہ پائی گی اور وہ میرے حضور سلامتی اور راستی سے چلتا رہا اور وہ بہتوں کو بدی کی راہ سے واپس لایا۔
7 کیونکہ لازم ہے کہ کاہن کے لب معرفت کو محفوظ رکھیں اور لوگ اس کے منہ سے شرعی مسائل پوچھیں کیونکہ وہ رب الافواج کا رسول ہے۔
8 پر تم راہ سے مخرف ہو گے ۔ تم شریعت میں بہتوں کے لے ٹھوکر کا باعث ہوے۔ تم نے لاوی کے عہد کو خراب کیا رب الافواج فرماتا ہے ۔
9 پس میں نے تم کو سب لوگوں کی نظر میں ذلیل اور حقیر کیا کیونکہ تم میری راہوں پر قائم نہ رہے بلکہ تم نے شرعی معاملات میں روداری کی۔
10 کیا ہم سب کا ایک ہی باپ نہیں ؟ کیا ایک ہی خدا نے ہم سب کو پیدا نہیں کیا؟پھر کیوں ہم اپنے بھائیوں سے بے وفائی کر کے اپنے باپ دادا کے عہد کی بے حرمتی کرتے ہیں۔
11 یہوداہ نے بے وفائی کی۔ اسرائیل اور یروشیلم میں مکروہ کام ہوا ہے۔ یہوداہ خداوند کی قدوسیت کو جو اس کو عزیز تھی بے حرمت کیا اور ایک غیر معبود کی بیٹی بیاہ لایا۔
12 خداوند ایسا کرنے والے سے زندہ جواب دہند اور رب الافواج کے حضور قربانی گزراننے والے یعقوب کے خیموں سے منقطع کر دے گا۔
13 پھر تمہارے اعمال کے سبب سے خداوند کے مزبح پر آہ و نالہ اور آنسووں کی ایسی کثرت ہے کہ وہ نہ تمہارےہدیہ کو دیکھے گا اور نہ تمہارے ہاتھ کی نزر کو خوشی سے قبول کرے گا۔
14 تو بھی تم کہتے ہو کہ سبب کیا ہے؟ سبب یہ ہے کہ خداوند تیرے اور تیری جوانی کی بیوی کے درمیان گواہ ہے۔ تو نے اس سے بے وفائی کی اگرچہ وہ تیری رفیق اور منکوحہ بیوی ہے۔
15 اور کیا اس نے ایک ہی کو پیدا نہیں کیا باوجودیکہ اس کے پاس اور ارواح موجود تھیں ؟ پھر کیوں ایک ہی کو پیدا کیا ؟ اس لے کہ خدا ترس نسل پیدا ہو۔ پس تم اپنے نفس سے خبر دار رہو اور کوئی اپنی جوانی کی بیوی سے بیوفائی نہ کرے۔
16 کیونکہ خداوند اسرائیل کا خدا فرماتا ہے میں طلاق سے بیزار ہوں اور اس سے بھی جو اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے رب الافواج فرماتا ہے اس لے تم اپنے نفس سے خبردار رہو تا کہ بے وفائی نہ کرو۔
17 تم نے اپنی باتوں سے خداوند کو بیزار کر دیا تو بھی تم کہتے ہو کس بات میں ہم نے اسے بیزار کیا؟ اسی میں جو کہتے ہو کہ ہر شخص جو برائی کرتا ہے خداوند کی نظر میں نیک ہے اور وہ اس سے خوش ہے اور یہ کہ عدل کا خدا کہاں ہے؟۔


باب 3

1 دیکھو میں اپنے رسول کو بھیجوں گا اور وہ میرے آگے راہ درست کرے گا اور خدا وند جس کے تم طالب ہو ناگہان اپنی ہیکل میں آموجود ہو گا ۔ ہاں عہد کا رسول جس کے تم آرزو مند ہو آے گا رب الافواج فرماتا ہے۔
2 پر اس کے آنے کے دن کی کس میں تاب ہے؟ اور جب اس کا ظہور ہو گا تو کون کھڑا رہ سکے گا؟کیونکہ وہ سنار کی آگ اور دھوبی کے صابون کی مانند ہے۔
3 اور وہ چاندی کو تانے اور پاک صاف کرنے والے کی مانند بٹھیے گا اور نبی لاوی کو سونے اور چاندی پاک صاف کرے گا تاکہ وہ راستبازی سے خداوند کے حضور ہدے گزرانیں ۔
4 تب یہوداہ اور یروشیلم کا ہدیہ خداوند کو پسند آے گا جیسا ایام قدیم اور گزشتہ زمانہ میں۔
5 اور میں عدالت کے لے تمہارے نزدیک آوں گا اور جادوگروں اور بدکاروں اور جھوٹی قسم کھانے والوں کے خلاف اور ان کے خلاف بھی جو مزدوروں کو مزدعری نہیں دتیے اور بیواوں اور یتیموں پر ستم کرتے اور مسافروں کی حق تلفی کرتے یہاںاور مجھ سے نہیں ڈرتے مستعد گواہ ہوں گا رب الافواج فرماتا ہے۔
6 کیونکہ میں خداوند لا تبدیل ہوں اسی لے اے بنی یعقوب تم نیست نہیں ہوے۔
7 تم اپنے باپ دادا کے ایام سے میرے آئین سے مخرف رہے اور ان کو نہیں مانا ۔ تم میری طرف رجوع ہو تو میں تمہاری طرف رجوع ہوں گا رب الافواج فرماتا ہے لیکن تم کہتے ہو کہ ہم کس بات میں رجوع ہوں؟۔
8 کیا کوئی آدمی خدا کو ٹھگے گا ؟ پر تم مجھ کو ٹھگتے ہو اورکہتے ہو ہم نے کس بات میں تجھے ٹھگا؟ دہ یکی اور ہدیہ میں ۔
9 پس تم سخت ملعون ہوے کیونکہ تم نے بلکہ تمام قوم نے مجھے ٹھگا۔
10 پوری دہ یکی ذخیرہ خانہ میں لاو تا کہ میرے گھر میں خوراک ہو اور اسی سے میرا امتحان کرو رب الافواج فرماتا ہے کہ میں تم پر آسمان کے دریچوں کو کھول کر برکت برستا ہوں کہ نہیں یہاں تک کہ تمہارے پاس اس کے لے جگہ نہ رہے۔
11 اور میں تمہاری خاطر ٹڈی کو ڈانٹوں گا اور وہ تمہاری زمین کے حاصل کو برباد نہ کرے گی اور تمہارے تاکستانوں کا پھل کچا نہ جھڑ جاے گا رب الافواھ فرماتا ہے۔
12 اور سب قومیں تم کو مبارک کہیں گی کیونکہ تم دلکشا مملکت ہو گے رب الافواج فرماتا ہے ۔
13 خدا وند فرماتا ہے تمہاری باتیں میرےخلاف بہت سخت ہیں تو بھی تم کہتے ہو ہم نے تیری مخالف میں کیا کہا؟ ۔
14 تم نے تو کہا خدا کی عبادت کرنا عبث رب الافواج کے احکام پر عمل کرنا اور اس کے حضور ماتم کرنا لا حاصل ہے۔
15 اور اب ہم مغروروں کو نیک بخت کہتے ہیں۔ شریر برومند ہوتے ہیں اور خدا کو آزمانے پر بھی رہائی پاتے ہیں۔
16 تب خدا ترسوں نے آپس میں گفتگو کی اور خداوند نے متوجہ ہو کر سنا اور ان کے لے جو خداوند سے ڈرتے اور اس کے نام کو یاد کرتے تھے اس کے حضور یادگار کا دفتر لکھا گیا۔
17 رب الافواج فرماتا ہے اس روز وہ میرے لوگ بلکہ میری خاص ملکیت ہوں گے اور میں ان پر ایسا رحیم ہوں گا جیسا باپ اپنے خدمت گزار بیٹے پر ہوتا ہے۔
18 تب تم رجوع لاو گے اور صادق اور شریر میں اور خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں امتیاز کرو گے۔


باب 4

1 کیونکہ وہ دن آتا ہے جو بھٹی کی مانند سوزان ہو گا۔ تب سب مغرور اور بد کردار بھوسے کی مانند ہوں گے اور وہ دن ان کو ایسا جلاے گا کہ شاخ و بن کچھ نہ چھوڑے گا رب الافواج فرماتا ہے ۔
2 لیکن تم پر جو میرے نام کی تعظیم کرتے ہو آفتاب صداقت طالع ہو گااور اس کی کرنوں میں شفا ہوگی اور تم گاوخانہ کے بچھڑوں کی طرح کودو پھاندو گے۔
3 اور تم شریروں کو پایمال کرو گے کیونکہ اس روز وہ تمہارے پاوں تلے کی راکھ ہوں گے رب الافواج فرماتا ہے۔
4 تم میرے بندہ موسی کی شریعت یعنی ان فرائض و احکام کو جو میں نے حورب پر تمام بنی اسرائیل کے لے فرماے یاد رکھو۔
5 دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔
6 اور وہ باپ کادل بیٹے کی طرف اور بیٹے کا دل باپ کی طرف مائل کرے گا۔ مبادا میں آوںاور زمین کو ملعون کروں۔+