لُوقا - Luke

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24


باب 1

1 چُونکہ بہُتوں نے اِس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمِیان واقِع ہُوئِیں اُن کو ترتیب وار بیان کریں۔
2 جَیسا کہ اُنہوں نے جو شُرُوع سے خُود دیکھنے والے اور کلام کے خادِم تھے اُن کو ہم تک پُہنچایا۔
3 اِس لِئے اَے معزز تھِیُفِلُس مَیں نے بھی مناسب جانا کہ سب باتوں کا سِلسِلہ شُرُوع سے ٹھِیک ٹھِیک دریافت کر کے اُن کو تیرے لِئے ترتیب سے لِکھُوں۔
4 تاکہ جِن باتوں کی تُو نے تعلِیم پائی ہے اُن کی پُختگی تُجھے معلُوم ہوجائے۔
5 یہُودیہ کے بادشاہ ہیرودِیس کے زمانہ میں اِبیّاہ کے فرِیق میں سے زکریاہ نام ایک کاہِن تھا اور اُس کی بِیوی ہارُون کی اَولاد میں سے تھی اور اُس کا نام اِلِیشبع تھا۔
6 اور وہ دونوں خُدا کے حُضُور راستباز اور خُداوند کے سب احکام و قوانِین پر بےعَیب چلنے والے تھے۔
7 اور اُن کے اَولاد نہ تھی کِیُونکہ اِلِیشبع بانجھ تھی اور دونوں عُمر رسِیدہ تھے۔
8 جب وہ خُدا کے حُضُور اپنے فرِیق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو اَیسا ہُؤا۔
9 کہ کہانت کے دستُور کے مُوافِق اُس کے نام کا قُرعہ نِکلا کہ خُداوند کے مَقدِس میں جا کر خُوشبُو جلائے۔
10 اور لوگوں کی ساری جماعت خُوشبُو جلاتے وقت باہِر دُعا کررہی تھی۔
11 کہ خُداوند کا فرِشتہ خُوشبُو کے مذبح کی دہنی طرف کھڑا ہُؤا اُس کو دِکھائی دِیا۔
12 اور زکریاہ دیکھ کر گھبرایا اور اُس پر دہشت چھا گئی۔
13 مگر فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے زکریاہ! خَوف نہ کر کِیُونکہ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیرے لِئے تیری بِیوی اِلِیشبع کے بَیٹا ہوگا۔ تُو اُس کا نام یُوحنّا رکھنا۔
14 اور تُجھے خُوشی و خُرّمی ہوگی اور بہُت سے لوگ اُس کی پَیدایش کے سبب سے خُوش ہوں گے۔
15 کِیُونکہ وہ خُداوند کے حُضُور میں بُزُرگ ہوگا اور ہرگِز نہ مَے نہ کوئی اور شراب پِیئگا اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گا۔
16 اور بہُت سے بنی اِسرائیل کو خُداوند کی طرف جو اُن کا خُدا ہے پھیریگا۔
17 اور وہ ایلِیاہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا کہ والِدوں کے دِل اَولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راستبازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خُداوند کے لِئے ایک مُستعِد قَوم تیّار کرے۔
18 زکریاہ نے فرِشتہ سے کہا مَیں اِس بات کو کِس طرح جانُوں؟ کِیُونکہ مِیں بُوڑھا ہُوں اور میری بِیوی عُمررسِیدہ ہے۔
19 فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں جِبرائیل ہُوں جو خُدا کے حُضُور کھڑا رہتا ہُوں اور اِس لِئے بھیجا گیا ہُوں کہ تُجھ سے کلام کرُوں اور تُجھے اِن باتوں کی خُوشخَبری دُوں۔
20 اور دیکھ جِس دِن تک یہ باتیں واقِع نہ ہولیں تُو چُپکا رہے گا۔ اور بول نہ سکے گا۔ اِس لِئے کہ تُو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پُوری ہوں گی یقِین نہ کِیا۔
21 اور لوگ زکریاہ کی راہ دیکھتے اور تعّجُب کرتے تھے کہ اُسے مَقدِس میں کِیُوں دیر لگی۔
22 جب وہ باہِر آیا تو اُن سے بول نہ سکا۔ پَس اُنہوں نے معلُوم کِیا کہ اُس نے مَقدِس میں رویا دیکھی ہے اور وہ اُن سے اِشارے کرتا تھا اور گُونگا ہی رہا۔
23 پھِر اَیسا ہُؤا کہ جب اُس کی خِدمت کے دِن پُورے ہوگئے تو وہ اپنے گھر گیا۔
24 اِن دِنوں کے بعد اُس کی بِیوی اِلِیشبع حاملہ ہُوئی اور اُس نے پانچ مہِینے تک اپنے تِئیں یہ کہہ کر چھِپائے رکھّا کہ۔
25 جب خُداوند نے میری رُسوائی لوگوں میں سے دُور کرنے کے لِئے مُجھ پر نظر کی اُن دِنوں میں اُس نے میرے لِئے اَیسا کِیا۔
26 چھٹے مہِینے میں جبرائیل فرِشتہ خُدا کی طرف سے گلِیل کے ایک شہر میں جِس کا نام ناصرۃ تھا ایک کُنواری کے پاس بھیجا گیا۔
27 جِس کی منگنی داؤد کے گھرانے کے ایک مرد یُوسُف نام سے ہُوئی تھی اور اُس کُنواری کا نام مریم تھا۔
28 اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اَندر آ کر کہا سَلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہے۔
29 وہ اِس کلام سے بہُت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سَلام ہے۔
30 فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مریم! خَوف نہ کر کِیُونکہ خُداوند کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہے۔
31 اور دیکھ تُو حامِلہ ہوگی اور تیرے بَیٹا ہوگا۔ اُس کا نام یِسُوع رکھنا۔
32 وہ بُزُرگ ہوگا اور خُدا تعالٰے کا بَیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤد کا تخت اُسے دے گا۔
33 اور وہ یَعقُوب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہوگا۔
34 مریم نے فرِشتہ سے کہا کہ یہ کیونکر ہوگا جبکہ مَیں مرد کو نہِیں جانتی؟
35 اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہوگا اور خُدا تعالٰے کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مَولُودِ مُقدّس خُدا کا بَیٹا کہلائے گا۔
36 اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلِیشبع کے بھی بُڑھاپے میں بَیٹا ہونے والا ہے اور اَب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہِینہ ہے۔
37 کِیُونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہوگا۔
38 مریم نے کہا دیکھ میں خُداوند کی بندی ہُوں۔ میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو۔ تب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا۔
39 اُن ہی دِنوں مریم اُٹھی اور جلدی سے پہاڑی مُلک میں یہُوداہ کے ایک شہر کو گئی۔
40 اور زکریاہ کے گھر میں داخِل ہوکر اِلِیشبع کو سَلام کِیا۔
41 اور جُونہی اِلِیشبع نے مریم کا سَلام سُنا تو اَیسا ہُؤا کہ بچّہ اُس کے پیٹ میں اُچھل پڑا اور اِلِیشبع رُوحُ القُدس سے بھر گئی۔
42 اور بُلند آواز سے پُکار کر کہنے لگی کہ تُو عَورتوں میں مُبارک اور تیرے پیٹ کا پھَل مُبارک ہے۔
43 اور مُجھ پر یہ فضل کہاں سے ہُؤا کہ میرے خُداوند کی ماں میرے پاس آئی؟
44 کِیُونکہ دیکھ جُونہی تیرے سَلام کی آواز میرے کان میں پُہنچی بچّہ مارے خُوشی کے میرے پیٹ میں اُچھل پڑا۔
45 اور مُبارک ہے وہ جو اِیمان لائی کِیُونکہ جو باتیں خُداوند کی طرف سے اُس سے کہی گئی تھِیں وہ پُوری ہوں گی۔
46 پھِر مریم نے کہا کہ میری جان خُداوند کی بڑائی کرتی ہے۔
47 اور میری رُوح میرے مُنّجی خُدا سے خُوش ہُوئی۔
48 کِیُونکہ اُس نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کی اور دیکھ اَب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھ کو مُبارک کہیں گے۔
49 کِیُونکہ اُس قادِر نے میرے لِئے بڑے بڑے کام کِئے ہیں اور اُس کا نام پاک ہے۔
50 اور اُس کا رحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں پُشت در پُشت رہتا ہے۔
51 اُس نے اپنے بازُو سے زور دِکھایا اور جو اپنے تِئیں بڑا سَمَجھتے تھے اُن کو پراگندہ کِیا۔
52 اُس نے اِختیّار والوں کو تخت سے گِرا دِیا اور پست حالوں کو بُلند کِیا۔
53 اُس نے بھُوکوں کو اچھّی چِیزوں سے سیر کردِیا اور دَولتمندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔
54 اُس نے اپنے خادِم اِسرائیل کو سنبھال لِیا تاکہ اپنی اُس رحمت کو یاد فرمائے۔
55 جو ابرہام اور اُس کی نسل پر ابد تک رہے گی جَیسا اُس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھا۔
56 اور مریم تین مہِینے کے قرِیب اُس کے ساتھ رہ کر اپنے گھر لَوٹ گئی۔
57 اور اِلِیشبع کے وضعِ حمل کا وقت آ پہُنچا اور اُس کے بَیٹا ہُؤا۔
58 اور اُس کے پڑوسِیوں اور رِشتہ داروں نے یہ سُن کر کہ خُداوند نے اُس پر بڑی رحمت کی اُس کے ساتھ خُوشی منائی۔
59 اور آٹھویں دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ لڑکے کا ختنہ کرنے آئے اور اُس کا نام اُس کے باپ کے نام پر زکریاہ رکھنے لگے۔
60 مگر اُس کی ماں نے کہا نہِیں بلکہ اُس کا نام یُوحنّا رکھّا جائے۔
61 اُنہوں نے اُس سے کہا کہ تیرے کُنبے میں کِسی کا یہ نام نہِیں۔
62 اور اُنہوں نے اُس کے باپ کو اِشارہ کِیا کہ تُو اُس کا نام کیا رکھنا چاہتا ہے؟
63 اُس نے تختی منگا کر یہ لِکھا کہ اِس کا نام یُوحنّا ہے اور سب نے تعّجُب کِیا۔
64 اُسی دم اُس کا مُنہ اور زبان کھُل گئی اور وہ بولنے اور خُدا کی حمد کرنے لگا۔
65 اور اُن کے آس پاس کے سب رہنے والوں پر دہشت چھاگئی اور یہُودیہ کے تمام پہاڑی مُلک میں اِن سب باتوں کا چرچا پھَیل گیا۔
66 اور سب سُننے والوں نے اُن کو دِل میں سوچ کر کہا تو یہ لڑکا کَیسا ہونے والا ہے؟ کِیُونکہ خُداوند کا ہاتھ اُس پر تھا۔
67 اور اُس کا باپ رُوحُ القُدس سے بھر گیا اور نبوُّت کی راہ سے کہنے لگا کہ۔
68 خُداوند اِسرائیل کے خُدا کی حمد ہو کِیُونکہ اُس نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کر کے اُسے چھُٹکارا دِیا۔
69 اور اپنے خادِم داؤد کے گھرانے میں ہمارے لِئے نِجات کا سِینگ نِکالا۔
70 (جَیسا اُس نے اپنے پاک نبِیوں کی زبانی کہا تھا جو کہ دُنیا کے شُرُوع سے ہوتے آئے ہیں۔ )
71 یعنی ہم کو ہمارے دُشمنوں سے اور سب کِینہ رکھنے والوں کے ہاتھوں سے نِجات بخشی۔
72 تاکہ ہمارے باپ دادا پر رحم کرے اور اپنے پاک عہد کو یاد فرمائے۔
73 یعنی اُس قَسم کو جو اُس نے ہمارے باپ ابرہام سے کھائی تھی۔
74 کہ وہ ہمیں یہ عِنایت کرے گا کہ اپنے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُوٹ کر۔
75 اُس کے حُضُور پاکِیزگی اور راستبازی سے عُمر بھر بیخوف اُس کی عِبادت کریں۔
76 اور اَے لڑکے تُو خُدا تعالٰے کا نبی کہلائے گا کِیُونکہ تُو خُداوند کی راہیں تیّار کرنے کو اُس کے آگے آگے چلے گا۔
77 تاکہ اُس کی اُمّت کو نِجات کا عِلم بخشے جو اُن کو گُناہوں کی مُعافی سے حاصِل ہو۔
78 یہ ہمارے خُدا کی عَین رحمت سے ہوگا جِس کے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پر طُلُوع کرے گا۔
79 تاکہ اُن کو جو اَندھیرے اور مَوت کے سایہ میں بَیٹھے ہیں روشنی بخشے اور ہمارے قدموں کو سَلامتی کی راہ پر ڈالے۔
80 اور وہ لڑکا بڑھتا اور رُوح میں قُوّت پاتا گیا اور اِسرائیل پر ظاہِر ہونے کے دِن تک جنگلوں میں رہا۔


باب 2

1 اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ قَیصراَوگوُستُس کی طرف سے یہ حُکم جاری ہُؤا کہ ساری دُنیا کے لوگوں کے نام لِکھے جائیں۔
2 یہ پہلی اِسم نوِیسی سُوریہ کے حاکِم کورِنیُس کے عہد میں ہُوئی۔
3 اور سب لوگ نام لِکھوانے کے لِئے اپنے اپنے شہر کو گئے۔
4 پَس یُوسُف بھی گلِیل کے شہر ناصرۃ سے داؤد کے شہر بیت لحم کو گیا جو یہُودیہ میں ہے۔ اِس لِئے کہ وہ داؤد کے گھرانے اور اَولاد سے تھا۔
5 تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حامِلہ تھی نام لِکھوائے۔
6 جب وہ وہاں تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے وضعِ حمل کو وقت آ پہُنچا۔
7 اور اُس کا پہلوٹا بَیٹا پَیدا ہُؤا اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھّا کِیُونکہ اُن کے واسطے سرای میں جگہ نہ تھی۔
8 اُسی علاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو مَیدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نِگہابانی کر رہے تھے۔
9 اور خُداوند کا فرِشتہ اُن کے پاس آکھڑ ہُؤا اور خُداوند کا جلال اُن کے چَوگِرد چمکا اور وہ نِہایت ڈر گئے۔
10 مگر فرِشتہ نے اُن سے کہا ڈرو مَت کِیُونکہ دیکھو مَیں تُمہیں بڑی خُوشی کی بشارت دیتا ہُوں جو ساری اُمّت کے واسطے ہوگی۔
11 کہ آج داؤد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنّجی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوند۔
12 اور اِس کا تُمہارے لِئے یہ نِشان ہے کہ تُم ایک بچّے کو کپڑے میں لِپٹا اور چرنی میں پڑا ہُؤا پاؤ گے۔
13 اور یکایک اُس فرِشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خُدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہِر ہُوئی کہ۔
14 عالمِ بالا پر خُدا کی تمجِید ہو اور زمِین پر اُن آدمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلح۔
15 جب فرِشتے اُن کے پاس سے آسمان پر چلے گئے تو اَیسا ہُؤا کہ چرواہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ بیت لحم کو چلیں اور یہ بات جو ہُوئی ہے اور جِس کی خُداوند نے ہم کو خَبر دی ہے دیکھیں۔
16 پَس اُنہوں نے جلدی سے جا کر مریم اور یُوسُف کو دیکھا اور اُس بچّے کو چرنی میں پڑا پایا۔
17 اور اُنہِیں دیکھ کر وہ بات جو اُس لڑکے کے حق میں اُن س کہی گئی تھی مشہُور کی۔
18 اور سب سُننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سے کہِیں تعّجُب کِیا۔
19 مگر مریم اِن باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غور کرتی رہی۔
20 اور چرواہے جَیسا اُن سے کہا گیا تھا وَیسا ہی سب کُچھ سُن کر اور دیکھ کر خُدا کی تمجِید اور حمد کرتے ہُوئے لَوٹ گئے۔
21 جب آٹھ دِن پُورے ہُوئے اور اُس کے ختنہ کا وقت آیا تو اُس کا نام یِسُوع رکھّا گیا جو فرِشتہ نے اُس کے رَحم میں پڑنے سے پہلے رکھّا تھا۔
22 پھِر جب مُوسٰے کی شَرِیعَت کے مُوافِق اُن کے پاک ہونے کے دِن پُورے ہوگئے تو وہ اُس کو یروشلِیم میں لائے تاکہ خُداوند کے آگے حاضِر کریں۔
23 (جَیسا کہ خُداوند کی شَرِیعَت میں لِکھا ہے کہ ہر ایک پہلوٹا خُداوند کے لِئے مُقدّس ٹھہریگا)۔
24 اور خُداوند کی شَرِیعَت کے اِس قَول کے مُوافِق قُربانی کریں کہ قُمریوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے لاؤ۔
25 اور دیکھو یروشلِیم میں شمعُون نام ایک آدمِی تھا اور وہ آدمِی راستباز اور خُدا ترس اور اِسرائیل کی تسلّی کا مُنتّظِر تھا اور رُوحُ القُدس اُس پر تھا۔
26 اور اُس کو رُوحُ القُدس سے آگاہی ہُوئی تھی کہ جب تک تُو خُداوند کے مسِیح کو دیکھ نہ لے مَوت کو نہ دیکھیگا۔
27 وہ رُوح کی ہِدایت سے ہَیکل میں آیا اور جِس وقت ماں باپ اُس لڑکے یِسُوع کو اَندر لائے تاکہ اُس کے لِئے شَرِیعَت کے دستُور پر عمل کریں۔
28 تو اُس نے اُسے اپنی گود میں لِیا اور خُدا کی حمد کر کے کہا کہ۔
29 اَے مالِک اَب تُو اپنے خادِم کو اپنے قَول کے مُوافِق سَلامتی سے رُخصت کرتا ہے۔
30 کِیُونکہ میری آنکھوں نے تیری نِجات دیکھ لی ہے۔
31 جو تُو نے سب اُمتّوں کے رُوبرُو تیّار کی ہے۔
32 تاکہ غَیر قَوموں کو روشنی دینے والا نُور اور تیری اُمّت اِسرائیل کا جلال بنے۔
33 اور اُس کا باپ اور اُس کی ماں اِن باتوں پر جو اُس کے حق میں کہی جاتی تھِیں تعّجُب کرتے تھے۔
34 اور شمعُون نے اُن کے لِئے دُعایِ خَیر کی اور اُس کی ماں مریم سے کہا دیکھ یہ اِسرائیل میں بہُتوں کے گِرنے اور اُٹھنے کے لِئے اور اَیسا نِشان ہونے کے لِئے مُقرّر ہُؤا ہے جِس کی مُخالفت کی جائے گی۔
35 بلکہ خُود تیری جان بھی تلوار سے چھِد جائے گی تاکہ بہُت لوگوں کے دِلوں کے خیال کھُل جائیں۔
36 اور آشر کے قبِیلہ میں سے حنّاہ نام فنوایل کی بیٹی ایک نبِیّہ تھی۔ وہ بہُت عُمر رسِیدہ تھی اور اُس نے اپنے کنوارپن کے بعد سات برس ایک شَوہر کے ساتھ گُذارے تھے۔
37 وہ چَوراسی برس سے بیوہ تھی اور ہَیکل سے جُدا نہ ہوتی تھی بلکہ رات دِن روزوں اور دُعاؤں کے ساتھ عِبادت کِیا کرتی تھی۔
38 اور وہ اُسی گھڑی وہاں آ کر خُدا کا شُکر کرنے لگی اور اُن سب سے جو یروشلِیم کے چھُٹکارے کے مُنتظِر تھے اُس کی بابت باتیں کرنے لگی۔
39 اور جب وہ خُداوند کی شَرِیعَت کے مُطابِق سب کُچھ کر چُکے تو گلِیل میں اپنے شہر ناصرۃ کو پھِر گئے۔
40 اور وہ لڑکا بڑھتا اور قُوّت پاتا گیا اور حِکمت سے معمُور ہوتا گیا اور خُدا کا فضل اُس پر تھا۔
41 اُس کے ماں باپ ہر برس عِیدِ فسح پر یروشلِیم کو جایا کرتے تھے۔
42 اور جب وہ بارہ برس کو ہُؤا تو وہ عِید کے دستُور کے مُوافِق یروشلِیم کو گئے۔
43 جب وہ اُن دِنوں کو پُورا کر کے لَوٹے تو وہ لڑکا یِسُوع یروشلِیم میں رہ گیا اور اُس کے ماں باپ کو خَبر نہ ہُوئی۔
44 مگر یہ سَمَجھ کر کہ وہ قافِلہ میں ہے ایک منزل نِکل گئے اور اُسے اپنے رِشتہ داروں اور جان پہچانوں میں ڈھُونڈنے لگے۔
45 جب نہ مِلا تو اُسے ڈھُونڈتے ہُوئے یروشلِیم تک واپَس گئے۔
46 اور تِین روز کے بعد اَیسا ہُؤا کہ اُنہوں نے اُسے ہَیکل میں اُستادوں کے بِیچ میں بَیٹھے اُن کی سُنتے اور اُن سے سوال کرتے ہُوئے پایا۔
47 اور جِتنے اُس کی سُن رہے تھے اُس کی سَمَجھ اور اُس کے جوابوں سے دَنگ تھے۔
48 وہ اُسے دیکھ کر حَیران ہُوئے اور اُس کی ماں نے اُس سے کہا! تُو نے کِیُوں ہم سے اَیسا کِیا؟ دیکھ تیرا باپ اور میں کُڑھتے ہُوئے تُجھے ڈھُونڈتے تھے۔
49 اُس نے اُن سے کہا تُم مُجھے کِیُوں ڈھُونڈتے تھے؟ کیا تُم کو معلُوم نہ تھا کہ مُجھے اپنے باپ کے ہاں ہونا ضرُور ہے؟
50 مگر جو بات اُس نے اُن سے کہی اُسے وہ نہ سَمَجھے۔
51 اور وہ اُن کے ساتھ روانہ ہوکر ناصرۃ میں آیا اور اُن کے تابِع رہا اور اُس کی ماں نے یہ سب باتیں اپنے دِل میں رکھِّیں۔
52 اور یِسُوع حِکمت اور قدوقامت میں اور خُدا کی اور اِنسان کی مقبُولیّت میں ترقّی کرتا گیا۔


باب 3

1 تِبریُس قیصر کی حُکُومت کے پندرھویں برس جب پُنطِیُس پِیلاطُس یہُودیہ کا حاکِم تھا اور ہیرودِیس گلِیل کا اُس کا بھائِی فِلپُّس اِتُورِیہّ اور ترخُونی تِس کا۔ اور لِسانیاس ابلینے کا حاکِم تھا۔
2 اور حنّاہ اور کائفِا سَردار کاہِن تھے اُس وقت خُدا کا کلام بِیابان میں زکریاہ کے بَیٹے یُوحنّا پر نازِل ہُؤا۔
3 اور وہ یَردَن کے سارے گِردنواح میں جا کر گُناہوں کی مُعافی کے لِئے تَوبہ کے بپتِسمہ کی منادی کرنے لگا۔
4 جَیسا یسعیاہ نبی کے کلام کی کِتاب میں لِکھا ہے کہ بِیابان میں پُکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خُداوند کی راہ تیّار کرو۔ اُس کے راستے سِیدھے بناؤ۔
5 ہر ایک گھاٹی بھر دی جائے گی اور ہر ایک پہاڑ اور ٹِیلہ نِیچا کِیا جائے گا اور جو ٹیڑھا ہے سِیدھا اور جو اُونچا نِیچا ہے ہموار راستہ بنیگا۔
6 اور ہر بشر خُدا کی نِجات دیکھیگا۔
7 پَس جو لوگ اُس سے بپتِسمہ لینے کو نِکل کر آتے تھے وہ اُن سے کہتا تھا اَے سانپ کے بچّو! تُمہیں کِس نے جتایا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟
8 پَس تَوبہ کے مُوافِق پھَل لاؤ اور اپنے دِلوں میں یہ کہنا شُرُوع نہ کرو ابرہام ہمارا باپ ہے کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتھّروں سے ابرہام کے لِئے اولاد پَیدا کر سکتا ہے۔
9 اور اَب تو دَرختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھّا ہے۔ پَس جو دَرخت اچھّا پھَل نہِیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔
10 لوگوں نے اُس سے پُوچھا پھِر ہم کِیا کریں؟
11 اُس نے جواب میں اُن سے کہا جِس کے پاس دو کُرتے ہوں وہ اُس کو جِس کے پاس نہ ہو بانٹ دے اور جِس کے پاس کھانا ہو وہ بھی اَیسا ہی کرے۔
12 اور محصُول لینے والے بھی بپتِسمہ لینے کو آئے اور اُس سے پُوچھا کہ اَے اُستاد ہم کیا کریں؟
13 اُس نے اُن سے کہا جو تُمہارے لِئے مُقرّر ہے اُس سے زیادہ نہ لینا۔
14 اور سِپاہِیوں نے بھی اُس سے پُوچھا کہ ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا نہ کِسی پر ظُلم کرو اور نہ کِسی سے نہ حق کُچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کفایت کرو۔
15 جب لوگ مُنتظِر تھے اور سب اپنے اپنے دِل میں یُوحنّا کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسِیح ہے یا نہِیں۔
16 تو یُوحنّا نے اُن سب سے جواب میں کہا مَیں تو تُمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُوں مگر جو مُجھ سے زور آور ہے وہ آنے والا ہے۔ مَیں اُس کی جُوتی کا تَسمہ کھولنے کے لائِق نہِیں۔ وہ تُمہیں رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتِسمہ دے گا۔
17 اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے تاکہ وہ اپنے کھلیہان کو خُوب صاف کرے اور گیہُوں کو اپنے کھتّے میں جمع کرے مگر بھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بُجھنے کی نہِیں۔
18 پَس وہ اَور بہُت سی نصِحیت کر کے لوگوں کو خُوشخَبری سُناتا رہا۔
19 لیکِن چَوتھائی مُلک کے حاکِم ہیرودِیس نے اپنے بھائِی فِلپُّس کی بِیوی ہیرودِیاس کے سبب سے اور اُن سے بُرائیوں کے باعِث جو ہیرودِیس نے کی تھِیں یُوحنّا سے ملامت اُٹھا کر۔
20 اِن سب سے بڑھ کر یہ بھی کِیا کہ اُس کو قَید میں ڈالا۔
21 جب سب لوگوں نے بپتِسمہ لِیا اور یِسُوع بھی بپتِسمہ پاکر دُعا کر رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ آسمان کھُل گیا۔
22 اور رُوحُ القُدس جسمانی صُورت میں کبُوتر کی مانِند اُس پر نازِل ہُؤا اور آسمان سے آواز آئی کہ تُو میرا پیارا بَیٹا ہے۔ تُجھ سے مَیں خُوش ہُوں۔
23 جب یِسُوع خُود تعلِیم دینے لگا قرِیباً تِیس برس کا تھا اور (جَیسا کے سَمَجھا جاتا تھا) یُوسُف کا بَیٹا تھا اور وہ عیلی کا۔
24 اور وہ متّات کا اور وہ لاوی کا اور وہ ملکی کا اور وہ ینّا کا اور وہ یُوسُف کا۔
25 اور وہ مِتّتیاہ کا اور وہ عاموس کا اور وہ ناحُوم کا اور وہ اِسلِیاہ کا اور وہ نوگہ کا۔
26 اور وہ ماعت کا اور وہ مِتّتیاہ کا اور وہ شِمعی کا اور وہ یوسیخ کا اور وہ یوداہ کا۔
27 اور وہ یُوحنّا کا اور وہ ریسا کا اور وہ زرُبابل کا اور وہ سیالتی ایل کا اور وہ نیری کا۔
28 اور وہ ملکی کا اور وہ ادّی کا اور وہ قوسام کا اور وہ اِلمودام کا اور وہ عِیر کا۔
29 اور وہ یشُوع کا اور وہ اِلیعزر کا اور وہ یورِیم کا اور وہ متّات کا اور وہ لاوی کا۔
30 اور وہ شمعُون کا اور وہ یہُوداہ کا اور وہ یُوسُف کا اور وہ یونان کا اور وہ اِلیاقِیم کا۔
31 اور وہ ملے آہ کا اور وہ مِناہ کا اور وہ متّتاہ کا اور وہ ناتن کا اور وہ داؤد کا۔
32 اور وہ یسّی کا اور وہ عوبید کا اور وہ بوعز کا اور وہ سلمون کا اور وہ نحسون کا۔
33 اور وہ عِمّینداب کا اور وہ ارنی کا اور وہ حصرُون کا اور وہ فارص کا اور وہ یہُوداہ کا۔
34 اور وہ یَعقُوب کا اور وہ اِضحاق کا اور وہ ابرہام کا اور وہ تارہ کا اور وہ نحُور کا۔
35 اور وہ سرُوج کا اور وہ رعُو کا اور وہ فلج کا اور وہ عِبر کا اور وہ سِلح کا۔
36 اور وہ قِینان کا اور وہ ارفِکسد کا اور وہ سِم کا اور وہ نوح کا اور وہ لمک کا۔
37 اور وہ متُوسلح کا اور وہ حنُوک کا اور وہ یارِد کا اور وہ مہلل ایل کا اور وہ قِینان کا۔
38 اور وہ انُوس کا اور وہ سیت کا اور وہ آدم کا اور وہ خُدا کا تھا۔


باب 4

1 پھِر یِسُوع رُوحُ القُدس سے بھرا ہُؤا یَردَن سے لَوٹا اور چالِیس دِن تک رُوح کی ہِدایت سے بِیابان میں پھِرتا رہا۔
2 اور اِبلِیس اُسے آزماتا رہا۔ اُن دِنوں میں اُس نے کُچھ نہ کھایا اور جب وہ دِن پُورے ہوگئے تو اُسے بھُوک لگی۔
3 اور اِبلِیس نے اُس سے کہا کہ اگر تُو خُدا کا بَیٹا ہے تو اِس پتھّر سے کہہ کہ روٹی بن جائے۔
4 یِسُوع نے اُس کو جواب دِیا لِکھا ہے کہ آدمِی صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہ رہے گا۔
5 اور اِبلِیس نے اُسے اُونچے پر لے جا کر دُنیا کی سب سلطنتیں پل بھر میں دِکھائیں۔
6 اور اُس سے کہا کہ یہ سارا اِختیّار اور اُن کی شان و شوکت مَیں تُجھے دے دُوں گا کِیُونکہ یہ میرے سُپرد ہے اور جِس کو چاہتا ہُوں دیتا ہُوں۔
7 پَس اگر تُو میرے آگے سِجدہ کرے تو یہ سب تیرا ہوگا۔
8 یِسُوع نے جواب میں اُس سے کہا لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عِبادت کر۔
9 اور وہ اُسے یروشلِیم میں لے گیا اور ہَیکل کے کنگُرے پر کھڑا کر کے اُس سے کہا کہ اگر تُو خُدا کا بَیٹا ہے تو اپنی تِئیں یہاں سے نِیچے گِرا دے۔
10 کِیُونکہ لِکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرِشتوں کو حُکم دے گا کہ تیری حِفاظت کریں۔
11 اور یہ بھی کہ وہ تُجھے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے۔ مبادا تیرے پاؤں کو پتھّر سے ٹھیس لگے۔
12 یِسُوع نے جواب میں اُس سے کہا فرمایا گیا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی آزمایش نہ کر۔
13 جب اِبلِیس تمام آزمایشیں کرچُکا تو کُچھ عرصہ کے لِئے اُس سے جُدا ہُؤا۔
14 پھِر یِسُوع رُوح کی قُوّت سے بھرا ہُؤا گلِیل کو لَوٹا اور سارے گِردنواح میں اُس کی شہُرت پھَیل گئی۔
15 اور وہ اُن کے عِبادت خانوں میں تعلِیم دیتا رہا اور سب اُس کی بڑائی کرتے رہے۔
16 اور وہ ناصرۃ میں آیا جہاں اُس نے پرورِش پائی تھی اور اپنے دستُور کے مُوافِق سَبت کے دِن عِبادت خانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہُؤا۔
17 اور یسعیاہ نبی کی کِتاب اُس کو دی گئی اور کِتاب کھول کر اُس نے وہ مقام نِکالا جہاں یہ لِکھا تھا کہ۔
18 خُداوند کا رُوح مُجھ پر ہے۔ اِس لِئے کہ اُس نے مُجھے غرِیبوں کو خُوشخَبری دینے کے لِئے مسح کِیا۔ اُس نے مُجھے بھیجا ہے کہ قَیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بِینائی پانے کی خَبر سُناؤں۔ کُچلے ہُوؤں کو آزاد کرؤں۔
19 اور خُداوند کے سالِ مقبُول کی منادی کرؤں۔
20 پھِر وہ کِتاب بند کر کے اور خادِم کو واپَس دے کر بَیٹھ گیا اور جِتنے عِبادت خانہ میں تھے سب کی آنکھیں اُس پر لگی تھِیں۔
21 وہ اُن سے کہنے لگا کہ آج یہ نوِشتہ تُمہارے سامنے پُورا ہُؤا۔
22 اور سب نے اُس پر گواہی دی اور اُن پُرفضل باتوں پر جو اُس کے مُنہ سے نِکلتی تھِیں تعّجُب کر کے کہنے لگے کیا یہ یُوسُف کا بَیٹا نہِیں؟
23 اُس نے اُن سے کہا تُم البتہّ یہ مثل مُجھ پر کہو گے کہ اَے حکِیم اپنے آپ کو تو اچھّا کر۔ جو کُچھ ہم نے سُنا ہے کہ کفرنحُوم میں کِیا گیا یہاں اپنے وطن میں بھی کر۔
24 اور اُس نے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ کوئی نبی اپنے وطن میں مقبُول نہِیں ہوتا۔
25 اور مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ ایلِیّاہ کے دِنوں میں جب ساڑھے تِین برس آسمان بند رہا یہاں تک کہ سارے مُلک میں سخت کال پڑا بہُت سے بیوائیں اِسرائیل میں تھِیں۔
26 لیکِن ایلِیّاہ اُن میں سے کِسی کے پاس نہ بھیجا گیا مگر مُلکِ صیدا کے شہر صارپت میں ایک بیوہ کے پاس۔
27 اور الیشع نبی کے وقت میں اِسرائیل کے درمِیان بہُت سے کوڑھی تھے لیکِن اُن میں سے کوئی پاک صاف نہ کِیا گیا مگر نعمان سَوریانی۔
28 جِتنے عِبادت خانہ میں تھے اِن باتوں کو سُنتے ہی قہر سے بھر گئے۔
29 اور اُٹھ کر اُس کو شہر سے باہِر نِکالا اور اُس پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے جِس پر اُن کا شہر آباد تھا تاکہ اُسے سر کے بل گِرا دیں۔
30 مگر وہ اُن کے بِیچ میں نِکل کر چلا گیا۔
31 پھِر وہ گلِیل کے شہر کفرنحُوم کو گیا اور سَبت کے دِن اُنہِیں تعلِیم دے رہا تھا۔
32 اور لوگ اُس کی تعلِیم سے حَیران تھے کِیُونکہ اُس کا کلام اِختیّار کے ساتھ تھا۔
33 اور عِبادت خانہ میں ایک آدمِی تھا جِس میں ناپاک دِیو کی رُوح تھی وہ بڑی آواز سے چِلّا اُٹھا کہ۔
34 اَے یِسُوع ناصری ہمَیں تُجھ سے کیا کام؟ کیا تُو ہمیں ہلاک کرنے آیا ہے؟ مَیں تُجھے جانتا ہُوں کہ تُو کَون ہے۔ خُدا کا قُدُّوس ہے۔
35 یِسُوع نے اُسے جھِڑک کرکہا چُپ رہ اور اُس میں سے نِکل جا۔ اِس پر بَدرُوح اُسے بِیچ میں پٹک کر بغَیر ضرر پہُنچائے اُس میں سے نِکل گئی۔
36 اور سب حَیران ہوکر آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَیسا کلام ہے؟ کِیُونکہ وہ اِختیّار اور قُدرت سے ناپاک رُوحوں کو حُکم دیتا ہے اور وہ نِکل جاتی ہیں۔
37 اور گِرد نواح میں ہر جگہ اُس کی دھُوم مچ گئی۔
38 پھِر وہ عِبادت خانہ سے اُٹھ کر شمعُون کے گھر میں داخِل ہُؤا اور شمعُون کی ساس کو بڑی تَپ چڑھی ہُوئی تھی اور اُنہوں نے اُس کے لِئے اُس سے عرض کی۔
39 وہ کھڑا ہوکر اُس کی طرف جھُکا اور تَپ کو جھِڑکا تو اُتر گئی اور وہ اُسی دم اُٹھ کر اُن کی خِدمت کرنے لگی۔
40 اور سُورج کے ڈُوبتے وقت وہ سب لوگ جِن کے ہاں طرح طرح کی بِیمارِیوں کے مرِیض تھے اُنہِیں اُس کے پاس لائے اور اُس نے اُن میں سے ہر ایک پر ہاتھ رکھ کر اُنہِیں اچھّا کِیا۔
41 اور بَدرُوحیں بھی چِلّا کر اور یہ کہہ کر کہ تُو خُدا کا بَیٹا ہے بہُتوں میں سے نِکل گِئیں اور وہ اُنہِیں جھِڑکتا اور بولنے نہ دیتا تھا کِیُونکہ وہ جانتی تھِیں کہ یہ مسِیح ہے۔
42 جب دِن ہُؤا تو وہ نِکل کر ایک وِیران جگہ میں گیا اور بھِیڑ کی بھِیڑ اُس کو ڈھُونڈتی ہُوئی اُس کے پاس آئی اور اُس کو روکنے لگی کہ ہمارے پاس سے نہ جا۔
43 اُس نے اُن سے کہا کہ مُجھے اَور شہروں میں بھی خُدا کی بادشاہی کی خُوشخَبری سُنانا ضرُور ہے کِیُونکہ مَیں اِسی لِئے بھیجا گیا ہُوں۔
44 اور وہ گلِیل کے عِبادت خانوں میں منادی کرتا رہا۔


باب 5

1 جب بھِیڑ اُس پر گِری پڑتی تھی اور خُدا کا کلام سُنتی تھی اور وہ گنِیسرت کی جھِیل کے کِنارے کھڑا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ۔
2 اُس نے جھِیل کے کِنارے دو کشتیاں لگی دیکھیں لیکِن مَچھلی پکڑنے والے اُن پر سے اُتر کر جال دھو رہے تھے۔
3 اور اُس نے اُن کشتیوں میں سے ایک پر چڑھ کر جو شمعُون کی تھی اُس سے دَرخواست کی کہ کِنارے سے ذرا ہٹا لے چل اور وہ بَیٹھ کر لوگوں کو کَشتی پر سے تعلِیم دینے لگا۔
4 جب کلام کر چُکا تو شمعُون سے کہا گہرے میں لے چل اور تُم شِکار کے لِئے اپنے جال ڈالو۔
5 شمعُون نے جواب میں کہا اَے اُستاد ہم نے رات بھر محنت کی اور کُچھ ہاتھ نہ آیا مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہُوں۔
6 یہ کِیا اور وہ مَچھلِیوں کا بڑا غول گھیر لائے اور اُن کے جال پھٹنے لگے۔
7 اور اُنہوں نے اپنے شریکوں کو جو دُوسری کَشتی پر تھے اِشارہ کِیا کہ آؤ ہماری مدد کرو۔ پَس اُنہوں نے آ کر دونوں کشتیاں یہاں تک بھر دِیں کہ ڈُوبنے لگیں۔
8 شمعُون پطرس یہ دیکھ کر یِسُوع کے پاؤں میں گِرا اور کہا اَے خُداوند! میرے پاس سے چلا جا کِیُونکہ مَیں گُنہگار آدمِی ہُوں۔
9 کِیُونکہ مَچھلِیوں کے اِس شِکار سے جو اُنہوں نے کِیا وہ اور اُس کے سب ساتھی بہُت حَیران ہُوئے۔
10 اور وَیسے ہی زبدی کے بَیٹے یَعقُوب اور یُوحنّا بھی جو شمعُون کے شرِیک تھے حَیران ہُوئے۔ یِسُوع نے شمعُون سے کہا خَوف نہ کر۔ اَب سے تُو آدمِیوں کا شِکار کِیا کرے گا۔
11 وہ کشتیوں کو کِنارے پر لے آئے اور سب کُچھ چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہولِئے۔
12 جب وہ شہر میں تھا تو دیکھو کوڑھ سے بھرا ہُؤا ایک آدمِی یِسُوع کو دیکھ کر مُنہ کے بل گِرا اور اُس کی مِنّت کر کے کہنے لگا اَے خُداوند! اگر تُو چاہے تو مُجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔
13 اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چھُؤا اور کہا مَیں چاہتا ہُوں۔ تُو پاک صاف ہوجا اور فوراً اُس کا کوڑھ جاتا رہا۔
14 اور اُس نے اُسے تاکِید کی کہ کِسی سے نہ کہنا بلکہ جا کر اپنی تِئیں کاہِن کو دِکھا اور جَیسا مُوسٰی نے مُقرّر کِیا ہے اپنے پاک صاف ہو جانے کی بابت نذر گُذران تاکہ اُن کے لِئے گواہی ہو۔
15 لیکِن اُس کا چرچا زیادہ پھَیلا اور بہُت سے لوگ جمع ہُوئے کہ اُس کی سُنیں اور اپنی بِیمارِیوں سے شِفا پائیں۔
16 مگر وہ جنگلوں میں الگ جا کر دُعا کِیا کرتا تھا۔
17 اور ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ تعلِیم دے رہا تھا اور فرِیسی اور شرع کے مُعلِّم وہاں بَیٹھے تھے جو گلِیل کے ہر گاؤں اور یہُودیہ اور یروشلِیم سے آئے تھے اور خُداوند کی قُدرت شِفا بخشنے کو اُس کے ساتھ تھی۔
18 اور دیکھو کئی مرد ایک آدمِی کو جو مفلُوج تھا چارپائی پر لائے اور کوشِش کی کہ اُسے اَندر لاکر اُس کے آگے رکھّیں۔
19 اور جب بھِیڑ کے سبب سے اُس کو اَندر لے جانے کی راہ نہ پائی تو کوٹھے پر چڑھ کر کھپریل میں سے اُس کو کھٹولے سمیت بِیچ میں یِسُوع کے سامنے اُتار دِیا۔
20 اُس نے اُن کا اِیمان دِیکھ کر کہا اَے آدمِی! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔
21 اِس پر فقیہ اور فرِیسی سوچنے لگے کہ یہ کَون ہے جو کُفر بکتا ہے؟ خُدا کے سِوا اور کَون گُناہ مُعاف کر سکتا ہے؟
22 یِسُوع نے اُن کے خیالوں کو معلُوم کر کے جواب میں اُن سے کہا تُم اپنے دِلوں میں کیا سوچتے ہو؟
23 آسان کیا ہے؟ یہ کہنا کہ تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے یا یہ کہنا کہ اُٹھ اور چل پھِر؟
24 لیکِن اِس لِئے کہ تُم جانو کہ اِبنِ آدم کو زمِین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیّار ہے۔ (اُس نے مفلُوج سے کہا) مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ اور اپنا کھٹولا اُٹھا کر اپنے گھر جا۔
25 اور وہ اُسی دم اُن کے سامنے اُٹھا اور جِس پر پڑا تھا اُسے اُٹھا کر خُدا کی تمجِید کرتا ہُؤا اپنے گھر چلا گیا۔
26 وہ سب کہ سب بڑے حَیران ہُوئے اور خُدا کی تمجِید کرنے لگے اور بہُت ڈر گئے اور کہنے لگے آج ہم نے عجِیب باتیں دیکھِیں۔
27 اِن باتوں کے بعد وہ باہِر گیا اور لاوی نام ایک محصُول لینے والے کو محصُول کی چوکی پر بَیٹھے دیکھا اور اُس سے کہا میرے پِیچھے ہولے۔
28 وہ سب کُچھ چھوڑ کر اُٹھا اور اُس کے پِیچھے ہولِیا۔
29 پھِر لاوی نے اپنے گھر میں اُس کی بڑی ضِیافت کی اور محصُول لینے والوں اور اَوروں کا جو اُن کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے بڑا مجمع تھا۔
30 اور فرِیسی اور اُن کے فقِیہ اُس کے شاگِردوں سے یہ کہہ کر بُڑ بُڑانے لگے کہ تُم کِیُوں محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کھاتے پِیتے ہو؟
31 یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ تندرُستوں کو طبِیب کی ضرُورت نہِیں بلکہ بِیماروں کو۔
32 مَیں راستبازوں کو نہِیں بلکہ گُنہگاروں کو تَوبہ کے لِئے بُلانے آیا ہُوں۔
33 اور اُنہوں نے اُس سے کہا کہ یُوحنّا کے شاگِرد اکثر روزہ رکھتے اور دُعائیں کِیا کرتے ہیں اور اِسی طرح فرِیسِیوں کے بھی مگر تیرے شاگِرد کھاتے پِیتے ہیں۔
34 یِسُوع نے اُن سے کہا کیا تُم براتیوں سے جب تک کے دُلہا اُن کے ساتھ ہے روزہ رکھوا سکتے ہو؟
35 مگر وہ دِن آئیں گے اور جب دُلہا اُن سے جُدّا کِیا جائے گا تب اُن دِنوں میں وہ روزہ رکھّیں گے۔
36 اور اُس نے اُن سے ایک تَمثِیل بھی کہی کہ کوئی آدمِی نئی پوشاک میں سے پھاڑ کر پُرانی پوشاک میں پَیوند نہِیں لگاتا ورنہ نئی بھی پھٹے گی اور اُس کا پَیوند پُرانی میں میل بھی نہ کھائے گا۔
37 اور کوئی شَخص نئی مَے پُرانی مشکوں میں نہِیں بھرتا نہِیں تو نئی مَے مشکوں کو پھاڑ کر خُود بھی بہ جائے گی اور مشکیں بھی برباد ہو جائیں گی۔
38 بلکہ نئی مَے نئی مشکوں میں بھرنا چاہیئے۔
39 اور کوئی آدمِی پُرانی مَے پِی کر نئی کی خواہِش نہِیں کرتا کِیُونکہ کہتا ہے کہ پُرانی ہی اچھّی ہے۔


باب 6

1 پھِر سَبت کے دِن یِوں ہُؤا کہ وہ کھیتوں میں ہوکر جا رہا تھا اور اُس کے شاگِرد بالیں توڑ توڑ کر اور ہاتھوں سے مل مل کر کھاتے جاتے تھے۔
2 اور فرِیسِیوں میں سے بعض کہنے لگے تُم وہ کام کِیُوں کرتے ہو جو سَبت کے دِن کرنا روا نہِیں؟
3 یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کیا تُم نے یہ بھی نہِیں پڑھا کہ جب داؤد اور اُس کے ساتھی بھُوکے تھے تو اُس نے کیا کِیا؟
4 وہ کیونکر خُدا کے گھر میں گیا اور نذر کی روٹِیاں لے کر کھائیں جِن کو کو کھانا کاہِنوں کے سِوا کِسی کو روا نہِیں اور اپنے ساتھِیوں کو بھی دِیں؟
5 پھِر اُس نے اُن سے کہا اِبنِ آدم سَبت کا مالِک ہے۔
6 اور یُوں ہُؤا کہ کِسی اور سَبت کو وہ عِبادت خانہ میں داخِل ہوکر تعلِیم دینے لگا اور وہاں ایک آدمِی تھا جِس کا دہنا ہاتھ سُوکھ گیا تھا۔
7 اور فقِیہ اور فرِیسی اُسی کی تاک میں تھے کہ آیا سَبت کے دِن اچھّا کرتا ہے یا نہِیں تاکہ اُس پر اِلزام لگانے کا موقع پائیں۔
8 مگر اُس کو اُن کے خیال معلُوم تھے۔ پَس اُس نے اُس آدمِی سے جِس کا ہاتھ سُوکھا تھا کہا اُٹھ اور بِیچ میں کھڑا ہو۔ وہ اُٹھ کھڑا ہُؤا۔
9 یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں تُم سے یہ پُوچھتا ہُوں کہ آیا سَبت کے دِن نیکی کرنا روا ہے یا بدی کرنا؟ جان بَچانا یا ہلاک کرنا؟
10 اور اُن سب پر نظر کر کے اُس سے کہا اپنا ہاتھ بڑھا۔ اُس نے بڑھایا اور اُس کا ہاتھ درُست ہوگیا۔
11 وہ آپے سے باہِر ہوکر ایک دُوسرے سے کہنے لگے کہ ہم یِسُوع کے ساتھ کیا کریں؟
12 اور اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ وہ پہاڑ پر دُعا کرنے کو نِکلا اور خُدا سے دُعا کرنے میں ساری رات گُذاری۔
13 جب دِن ہُؤا تو اُس نے اپنے شاگِردوں کو پاس بُلا کر اُن میں سے بارہ چُن لِئے اور اُن کو رَسُول کا لقب دِیا۔
14 یعنی شمعُون جِس کا نام اُس نے پطرس بھی رکھّا اور اُس کا بھائِی اِندریاس اور یَعقُوب اور یُوحنّا اور فِلپُّس اور برتُلمائی۔
15 اور متّی اور تُوما اور حلفئی کا بَیٹا یَعقُوب اور شمعُون جو زیلوتِیس کہلاتا تھا۔
16 اور یَعقُوب کا بَیٹا یہُوداہ اور یہُوداہ اِسکریُوتی جو اُس کا پکڑوانے والا ہُؤا۔
17 اور وہ اُن کے ساتھ اُتر کر ہموار جگہ پر کھڑا ہُؤا اور اُس کے شاگِردوں کی بڑی جماعت اور لوگوں کی بڑی بھِیڑ وہاں تھی جو سارے یہُودیہ اور یروشلِیم اور صُور اور صَیدا کے بحری کِنارے سے اُس کی سُننے اور اپنی بِیمارِیوں سے شِفا پانے کے لِئے اُس کے پاس آئی تھی۔
18 اور جو ناپاک رُوحوں سے دُکھ پاتے تھے وہ اچھّے کئے گئے۔
19 اور سب لوگ اُسے چھُونے کی کوشِش کرتے تھے کِیُونکہ قُوّت اُس سے نِکلتی اور سب کو شِفا بخشتی تھی۔
20 پھِر اُس نے اپنے شاگِردوں کی طرف نظر کر کے کہا مُبارک ہو تُم جو غریب ہو کِیُونکہ خُدا کی بادشاہی تُمہاری ہے۔
21 مُبارک ہو تُم جو اَب بھُوکے ہو کِیُونکہ آسُودہ ہوگے۔ مُبارک ہو تُم جو اَب روتے ہو کِیُونکہ ہنسوں گے۔
22 جب اِبنِ آدم کے سبب سے لوگ تُم سے عَداوَت رکھّیں گے اور تُمہیں خارِج کردیں گے اور لعن طعن کریں گے اور تُمہارا نام بُرا جان کر کاٹ دیں گے تو تُم مُبارک ہو گے۔
23 اُس دِن خُوش ہونا اور خُوشی کے مارے اُچھلنا۔ اِسی لِئے کہ دیکھو آسمان پر تُمہارا اجر بڑا ہے کِیُونکہ اُن کے باپ دادا نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کِیا کرتے تھے۔
24 مگر افسوس تُم پر جو دَولتمند ہو کِیُونکہ تُم اپنی تسلّی پاچُکے۔
25 افسوس تُم پر جو اَب سیر ہو کِیُونکہ بھُوکے ہوگے۔ افسوس تُم پر جو اَب ہنستے ہو کِیُونکہ ماتم کرو گے اور روؤ گے۔
26 افسوس تُم پر جب سب لوگ تُمہیں بھلا کہیں کِیُونکہ اُن کے باپ دادا جھُوٹے نبِیوں کے ساتھ بھی اَیسا ہی کِیا کرتے تھے۔
27 لیکِن مَیں تُم سُننے والوں سے کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبت رکھّو۔ جو تُم سے عَداوَت رکھّے اُن کا بھلا کرو۔
28 جو تُم پر لعنت کرے اُن کے لِئے بَرکَت چاہو۔ جو تُمہاری تحقِیر کریں اُن کے لِئے دُعا کرو۔
29 جو تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے اور جو تیرا چوغہ لے اُس کو کُرتا لینے سے بھی منع نہ کر۔
30 جو کوئی تُجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تیرا مال لے لے اُس سے طلب نہ کر۔
31 اور جَیسا تُم چاہتے ہو کہ لوگ تُمہارے ساتھ کریں تُم بھی اُن کے ساتھ وَیسا ہی کرو۔
32 اور اگر تُم اپنے مُحبت رکھّنے والوں ہی سے مُحبت رکھّو تو تُمہارا کیا اَحسان ہے؟ کِیُونکہ گُنہگار بھی اپنے مُحبت رکھّنے والوں سے مُحبت رکھّتے ہیں۔
33 اور اگر تُم اُن ہی کا بھلا کرو جو تُمہارا بھلا کریں تو تُمہارا کیا اَحسان ہے؟ کِیُونکہ گُنہگار بھی اَیسا ہی کرتے ہیں
34 اور اگر تُم اُن ہی کو قرض دو جِن سے وصُول ہونے کی اُمِید رکھتے ہو تو تُمہارا کیا اَحسان ہے؟ گُنہگار بھی گُنہگاروں کو قرض دیتے ہیں تاکہ پُورا وصُول کرلیں۔
35 مگر تُم اپنے دُشمنوں سے مُحبت رکھّو اور بھلا کرو اور بغَیر نا اُمِید ہُوئے قرض دو تو تُمہارا اجر بڑا ہوگا اور تُم خُدا تعالٰے کے بَیٹے ٹھہرو گے کِیُونکہ وہ ناشُکرو اور بدوں پر بھی مہربان ہے۔
36 جَیسا تُمہارا باپ رحیم ہے تُم بھی رحمدِل ہو۔
37 عیب جوئی نہ کرو۔ تُمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے۔ مُجرم نہ ٹھہراؤ۔ تُم بھی مُجرم نہ ٹھہرائے جاؤ گے۔ خلاصی دو تُم بھی خلاصی پاؤ گے۔
38 دِیا کرو۔ تُمہیں بھی دِیا جائے گا۔ اچھّا پیمانہ داب داب کر اور ہِلا ہِلا کر اور لبریز کر کے تُمہارے پلّے میں ڈالیں گے کِیُونکہ جِس پیمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تُمہارے لِئے ناپا جائے گا۔
39 اور اُس نے اُن سے ایک تَمثِیل بھی کہی کہ کیا اَندھے کو اَندھا راہ دِکھا سکتا ہے؟ کیا دونوں گڑھے میں نہ گِریں گے؟
40 شاگِرد اپنے اُستاد سے بڑا نہِیں بلکہ ہر ایک جب کامِل ہُؤا تو اپنے اُستاد جَیسا ہوگا۔
41 تُو کِیُوں اپنے بھائِی کی آنکھ کے تِنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہِیں کرتا؟
42 اور جب تُو اپنے آنکھ کے شہتِیر کو نہِیں دیکھتا تو اپنے بھائِی سے کیونکر کہہ سکتا ہے کہ بھائِی لا اُس تِنکے کو جو تیری آنکھ میں ہے نِکال دوں؟ اَے رِیاکار! پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نِکال۔ پھِر اُس تِنکے کو جو تیرے بھائِی کی آنکھ میں ہے اچھّی طرح دیکھ کر نِکال سکے گا۔
43 کِیُونکہ کوئی اچھّا دَرخت نہِیں جو بُرا پھَل لائے اور نہ کوئی بُرا دَرخت ہے جو اچھّا پھَل لائے۔
44 ہر دَرخت اپنے پھَل سے پہچانا جاتا ہے کِیُونکہ جھاڑیوں سے اَنجیر نہِیں توڑتے اور نہ جھڑبیری سے اَنگُور۔
45 اچھّا آدمِی اپنے دِل کے اچھّے خزانہ سے اچھّی چِیزیں نِکالتا ہے اور بُرا آدمِی بُرے خزانہ سے بُری چِیزیں نِکالتا ہے کِیُونکہ جو دِل میں بھرا ہے وُہی اُس کے مُنہ پر آتا ہے۔
46 جب تُم میرے کہنے پر عمل نہِیں کرتے ہو تو کِیُوں مُجھے خُداوند خُداوند کہتے ہو؟
47 جو کوئی میرے پاس آتا ہے اور میری باتیں سُن کر عمل کرتا ہے مَیں تُمہیں جتاتا ہُوں کہ وہ کِس کی مانِند ہے۔
48 وہ اُس آدمِی کی مانِند ہے جِس نے گھر بناتے وقت زمِین گہری کھود کر چٹان پر بنیاد ڈالی۔ اور جب طُوفان آیا اور سیلاب اُس گھر سے ٹکرایا تو اُسے ہلا نہ سکا کِیُونکہ وہ مضبوط بنا ہُؤا تھا۔
49 لیکِن جو سُن کر عمل میں نہِیں لاتا وہ اُس آدمِی کی مانِند ہے جِس نے زمِین پر گھر کو بے بُنیاد بنایا۔ جب سیلاب اُس پر زور سے آیا تو وہ فِی الفَور گِر پڑا اور وہ گھر بالکُل برباد ہُؤا۔


باب 7

1 جب وہ لوگوں کو اپنی سب باتیں سُنا چُکا تو کفر نحُوم میں آیا۔
2 اور کِسی صُوبہ دار کا نَوکر جو اُس کو عزِیز تھا بِیماری سے مرنے کو تھا۔
3 اُس نے یِسُوع کی خَبر سُن کر یہُودِیوں کے کئی بُزُرگوں کو اُس کے پاس بھیجا اور اُس سے دَرخواست کی کہ آ کر میرے نَوکر کو اچھّا کر۔
4 وہ یِسُوع کے پاس آئے اور اُس کی بڑی مِنّت کر کے کہنے لگے کہ وہ اِس لائِق ہے کہ تُو اُس کی خاطِر یہ کرے۔
5 کِیُونکہ وہ ہماری قَوم سے محبّت رکھتا ہے اور ہمارے عِبادت خانہ کو اُسی نے بنوایا۔
6 یِسُوع اُن کے ساتھ چلا مگر جب وہ گھر کے قرِیب پہُنچا تو صُوبہ دار نے بعض دوستوں کی معرفت اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند تکلِیف نہ کر کِیُونکہ مَیں اِس لائِق نہِیں کہ تُو میری چھت کے نِیچے آئے۔
7 اِسی سبب سے مَیں نے اپنے آپ کو بھی تیرے پاس آنے کے لائِق نہ سَمَجھا بلکہ زبان سے کہہ دے تو میرا خادِم شِفا پائے گا۔
8 کِیُونکہ مَیں بھی دُوسرے کے اِختیّار میں ہُوں اور سِپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہُوں جا تو وہ جاتا ہے اور دُوسرے سے آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نَوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔
9 یِسُوع نے یہ سُن کر اُس پر تعّجُب کِیا اور پھِر کر اُس بھِیڑ سے جو اُس کے پِیچھے آتی تھی کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نے اَیسا اِیمان اِسرائیل میں بھی نہِیں پایا۔
10 اور بھیجے ہُوئے لوگوں نے واپَس آ کر اُس نَوکر کو تندرُست پایا۔
11 تھوڑے عرصہ کے بعد اَیسا ہُؤا کہ وہ نائِین نام ایک شہر کو گیا اور اُس کے شاگِرد اور بہُت سے لوگ اُس کے ہمراہ تھے۔
12 جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدِیک پہُنچا تو دیکھو ایک مُردہ کو باہِر لِئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اِکلوتا بَیٹا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہُتیرے لوگ اُس کے ساتھ تھے۔
13 اُسے دیکھ کر خُداوند کو ترس آیا اور اُس سے کہا مَت رو۔
14 پھِر اُس نے پاس آ کر جنازہ کو چھُؤا اور اُٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور اُس نے کہا اَے جوان مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ۔
15 وہ مُردہ اُٹھ بَیٹھا اور بولنے لگا اور اُس نے اُسے اُس کی ماں کو سَونپ دِیا۔
16 اور سب پر دہشت چھاگئی اور خُدا کی تمجِید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہُؤا ہے اور خُدا نے اپنی اُمّت پر توجّہُ کی ہے۔
17 اور اُس کی نِسبت یہ خَبر سارے یہُودیہ اور تمام گِردنواح میں پھَیل گئی۔
18 اور یُوحنّا کو اُس کے شاگِردوں نے اِن سب باتوں کی خَبر دی۔
19 اِس پر یُوحنّا نے اپنے شاگِردوں میں سے دو کو بُلا کر خُداوند کے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟
20 اُنہوں نے اُس کے پاس آ کر کہا یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے نے ہمیں تیرے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا ہے کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟
21 اُسی گھڑی اُس نے بہُتوں کو بِیمارِیوں اور آفتوں اور بُری رُوحوں سے نِجات بخشی اور بہُت سے اندھوں کو بِینائی عطا کی۔
22 اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ جو کُچھ تُم نے دیکھا اور سُنا ہے جا کر یُوحنّا سے بیان کردو کہ اَندھے دیکھتے ہیں۔ لنگڑے چلتے پھِرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کِئے جاتے ہیں۔ بہرے سُنتے ہیں۔ مُردے زِندہ کِئے جاتے ہیں۔ غرِیبوں کو خُوشخَبری سُنائی جاتی ہے۔
23 اور مُبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔
24 جب یُوحنّا کے قاصِد چلے گئے تو یِسُوع یُوحنّا کے حق میں لوگوں سے کہنے لگا کہ تُم بِیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا سے ہِلتے ہُوئے سرکنڈے کو؟
25 تو پھِر کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا مہِین کپڑے پہنے ہُوئے شَخص کو؟ دیکھو جو چمکدار پوشاک پہنتے اور عَیش و عشرت میں رہتے ہیں وہ بادشاہی محلّوں میں ہوتے ہیں۔
26 تو پھِر تُم کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ایک نبی؟ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں بلکہ نبی سے بڑے کو۔
27 یہ وُہی ہے جِس کی بابت لِکھا ہے کہ دیکھ مَیں اپنا پَیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگے تیّار کرے گا۔
28 مَیں تُم سے کہتا ہُوں جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہِیں لیکِن جو خُدا کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔
29 اور سب عام لوگوں نے جب سُنا تو اُنہوں نے اور محصُول لینے والوں نے بھی یُوحنّا کا بپتِسمہ لے کر خُدا کو راستباز مان لِیا۔
30 مگر فرِیسِیوں اور شرع کے عالِموں نے اُس سے بپتِسمہ نہ لے کر خُدا کے اِرادہ کو اپنی نِسبت باطِل کر دِیا۔
31 پَس اِس زمانہ کے آدمِیوں کو مَیں کِس سے تشبِیہ دُوں اور وہ کِس کی مانِند ہیں؟
32 اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازار میں بَیٹھے ہُوئے ایک دُوسرے کو پُکار کر کہتے ہیں کہ ہم نے تُمہارے لِئے بانسلی بجائی اور تُم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کِیا اور تُم نہ روئے۔
33 کِیُونکہ یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا نہ تو روٹی کھاتا ہُؤا آیا نہ مَے پِیتا ہُؤا اور تُم کہتے ہو کہ اُس میں بَدرُوح ہے۔
34 اِبنِ آدم کھاتا پِیتا آیا اور تُم کہتے ہو کہ دیکھو کھاوُ اور شرابی آدمِی محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کا یار۔
35 لیکِن حِکمت اپنے سب لڑکوں کی طرف سے راست ثابِت ہُوئی۔
36 پھِر کِسی فرِیسی نے اُس سے دَرخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا۔ پَس وہ اُس فرِیسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بَیٹھا۔
37 تو دیکھو ایک بدچلن عَورت جو اُس شہر کی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ اُس فرِیسی کے گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا ہے سنگِ مر مر کے عِطردان میں عِطر لائی۔
38 اور اُس کے پاؤں کے پاس روتی ہُوئی پِیچھے کھڑی ہوکر اُس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُن کو پونچھا اور اُس کے پاؤں بہُت چُومے اور اُن پر عِطر ڈالا۔
39 اُس کی دعوت کرنے والا فرِیسی یہ دیکھ کر اپنے جِی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شَخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اُسے چھُوتی ہے وہ کَون اور کَیسی عَورت ہے کِیُونکہ بدچلن ہے۔
40 یِسُوع نے جواب میں اُس سے کہا اَے شمعُون مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے۔ اُس نے کہا اَے اُستاد کہہ۔
41 کِسی ساہُوکار کے دو قرضدار تھے۔ ایک پانسَو دِینار کا دُوسرا پچاس کا۔
42 جب اُن کے پاس ادا کرنے کو کُچھ نہ رہا تو اُس نے دونوں کو بخش دِیا۔ پَس اُن میں سے کَون اُس سے زیادہ محبّت رکھّے گا؟
43 شمعُون نے جواب میں اُس سے کہا میری دانِست میں وہ جِسے اُس نے زیادہ بخشا۔ اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹھِیک فیصلہ کِیا۔
44 اور اُس عَورت کی طرف پھِر کر اُس نے شمعُون سے کہا کیا تُو اِس عَورت کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر میں آیا۔ تُونے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دِیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے بھِگو دِئے اور اپنے بالوں سے پونچھے۔
45 تُونے مُجھ کو بوسہ نہ دِیا مگر اِس نے جب سے مَیں آیا ہُوں میرے پاؤں چُومنا نہ چھوڑا۔
46 تُونے میرے سر پر تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عِطر ڈالا ہے۔
47 اِسی لِئے مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ اِس کے گُناہ جو بہُت تھے مُعاف ہُوئے کِیُونکہ اِس نے بہُت محبّت کی مگر جِس کے تھوڑے گُناہ مُعاف ہُوئے وہ تھوڑی محبّت کرتا ہے۔
48 اور اُس عَورت سے کہا تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔
49 اِس پر وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے اپنے جِی میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے جو گُناہ بھی مُعاف کرتا ہے؟
50 مگر اُس نے عَورت سے کہا تیرے اِیمان نے تُجھے بَچا لِیا ہے۔ سَلامت چلی جا۔


باب 8

1 تھوڑے عرصہ کے بعد یُوں ہُؤا کہ وہ منادی کرتا اور خُدا کی بادشاہی کی خُوشخَبری سُناتا ہُؤا شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھِرنے لگا اور وہ بارہ اُس کے ساتھ تھے۔
2 اور بعض عَورتیں جِنہوں نے بُری رُوحوں اور بِیمارِیوں سے شِفا پائی تھی یعنی مریم جو مگدلینی کہلاتی تھی جِس میں سے سات بد رُوحیں نِکلی تھِیں۔
3 اور یُوأنہّ ہیرودِیس کے دِیوان خُوزہ کی بِیوی اور سُوسنّاہ اور بہُتیری اور عَورتیں بھی تھِیں جو اپنے مال سے اُن کی خِدمت کرتی تھِیں۔
4 پھِر جب بڑی بھِیڑ جمع ہُوئی اور ہر شہر کے لوگ اُس کے پاس چلے آتے تھے اُس نے تَمثِیل میں کہا کہ۔
5 ایک بونے والا اپنا بِیج بونے نِکلا اور بوتے وقت کُچھ راہ کے کِنارے گِرا اور رَوندا گیا اور ہوا کے پرِندوں نے اُسے چُگ لِیا۔
6 اور کُچھ چٹان پر گِرا اور اُگ کر سُوکھ گیا اِس لِئے کے اُس کو تری نہ پہُنچی۔
7 اور کُچھ جھاڑیوں میں گِرا اور جھاڑیوں نے ساتھ ساتھ بڑھ کر اُسے دبا لِیا۔
8 اور کُچھ اچھّی زمِین میں گِرا اور اُگ کر سَو گُنا پھَل لایا۔ یہ کہہ کر اُس نے پُکارا۔ جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے!۔
9 اُس کے شاگِردوں نے اُس سے پُوچھا کہ یہ تَمثِیل کیا ہے؟
10 اُس نے کہا تُم کو خُدا کی بادشاہی کے بھیدوں کی سَمَجھ دی گئی ہے مگر اَوروں کو تَمثِیلوں میں سُنایا جاتا ہے تاکہ دیکھتے ہُوئے نہ دیکھیں اور سُنتے ہُوئے نہ سَمَجھیں۔
11 وہ تَمثِیل یہ ہے کہ بِیج خُدا کا کلام ہے۔
12 راہ کے کِنارے کے وہ ہیں جِنہوں نے سُنا۔ پھِر اِبلِیس آ کر کلام کو اُن کے دِل سے چھِین لے جاتا ہے۔ اَیسا نہ ہوکہ اِیمان لاکر نِجات پائیں۔
13 اور چٹان پر کے وہ ہیں جو سُن کر کلام کو خُوشی سے قُبُول کرلیتے ہیں لیکِن جڑ نہِیں رکھتے مگر کُچھ عرصہ تک اِیمان رکھ کر آزمایش کے وقت پھِر جاتے ہیں۔
14 اور جو جھاڑیوں میں پڑا اُس سے وہ لوگ مُراد ہیں جِنہوں نے سُنا لیکِن ہوتے ہوتے اِس زِندگی کی فِکروں اور دَولت اور عَیش و عشرت میں پھنس جاتے ہیں اور اُن کا پھَل پکتا نہِیں۔
15 مگر اَچھّی زمِین کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر عُمدہ اور نیکدِل میں سنبھالے رہتے اور صبر سے پھَل لاتے ہیں۔
16 کوئی شَخص چراغ جلاکر برتن سے نہِیں چھِپاتا نہ پلنگ کے نِیچے رکھتا ہے بلکہ چِراغدان پر رکھتا ہے تاکہ اَندر آنے والوں کو روشنی دِکھائی دے۔
17 کِیُونکہ کوئی چِیز چھِپی نہِیں جو ظاہِر نہ ہو جائے گی اور نہ کوئی اَیسی پوشِیدہ بات ہے جو معلُوم نہ ہوگی اور ظہُور میں نہ آئے گی۔
18 پَس خَبردار رہو کہ تُم کِس طرح سُنتے ہو کِیُونکہ جِس کے پاس ہے اُسے دِیا جائے گا اور جِس کے پاس نہِیں ہے اُس سے وہ بھی لے لِیا جائے گا جو اپنا سَمَجھتا ہے۔
19 پھِر اُس کی ماں اور اُس کے بھائِی اُس کے پاس آئے مگر بھِیڑ کے سبب سے اُس تک پہُنچ نہ سکے۔
20 اور اُسے خَبر دی گئی کہ تیری ماں اور تیرے بھائِی باہِر کھڑے ہیں اور تُجھ سے مِلنا چاہتے ہیں۔
21 اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ میری ماں اور میرے بھائِی تو یہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔
22 پھِر ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ اور اُس کے شاگِرد کَشتی میں سوار ہُوئے اور اُس نے اُن سے کہا کہ آؤ جھِیل کے پار چلیں۔ پَس وہ روانہ ہُوئے۔
23 مگر جب کَشتی چلی جاتی تھی تو وہ سو گیا اور جھِیل پر بڑی آندھی آئی اور کَشتی پانی سے بھری جاتی تھی اور وہ خطرہ میں تھے۔
24 اُنہوں نے پاس آ کر اُسے جگایا اور کہا کہ صاحِب صاحِب ہم ہلاک ہُوئے جاتے ہیں! اُس نے اُٹھ کر ہوا کو اور پانی کے زور شور کو جھِڑکا اور دونوں تھم گئے اور امن ہوگیا۔
25 اُس نے اُن سے کہا تُمہارا اِیمان کہاں گیا؟ وہ ڈر گئے اور تعّجُب کر کے آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے؟ یہ تو ہوا اور پانی کو حُکم دیتا ہے اور وہ اُس کی مانتے ہیں۔
26 پھِر وہ گراسِینیوں کے علاقہ میں جا پہُنچے جو اُس پار گلِیل کے سامنے ہے۔
27 جب وہ کِنارے پر اُترا تو اُس شہر کا ایک مرد اُسے مِلا جِس میں بد رُوحیں تھِیں اور اُس نے بڑی مُدّت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہِیں بلکہ قَبروں میں رہا کرتا تھا۔
28 وہ یِسُوع کو دیکھ کر چِلّایا اور اُس کے آگے گِر کر بُلند آواز سے کہنے لگا اَے یِسُوع! خُدا تعالٰے کے بَیٹے مُجھے تُجھ سے کیا کام؟ تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے عذاب میں نہ ڈال۔
29 کِیُونکہ وہ اُس ناپاک رُوح کو حُکم دیتا تھا کہ اِس آدمِی میں سے نِکل جا۔ اِس لِئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہرچند لوگ اُسے زنجیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابُو میں رکھتے تھے تَو بھی وہ زنجیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بد رُوح اُس کو بِیابانوں میں بھگائے پھِرتی تھی۔
30 یِسُوع نے اُس سے پُوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا لشکر کِیُونکہ اُس میں بہُت سے بد رُوحیں تھِیں۔
31 اور وہ اُس کی مِنّت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حُکم نہ دے۔
32 وہاں پہاڑ پر سؤاروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کی مِنّت کی کہ ہمیں اُن کے اَندر جانے دے۔ اُس نے اُنہِیں جانے دِیا۔
33 اور بد رُوحیں اُس آدمِی میں سے نِکل کر سؤاروں کے اَندر گئِیں اور غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جھِیل میں جا پڑا اور ڈُوب مرا۔
34 یہ ماجرا دیکھ کر چرانے والے بھاگے اور جا کر شہر اور دیہات میں خَبر دی۔
35 لوگ اُس ماجرے کے دیکھنے کو نِکلے اور یِسُوع کے پاس آ کر اُس آدمِی کو جِس میں سے بد رُوحیں نِکلی تھِیں کپڑے پہنے اور ہوش میں یِسُوع کے پاؤں کے پاس بَیٹھے پایا اور ڈر گئے۔
36 اور دیکھنے والوں نے اُن کو خَبر دی کہ جِس میں بد رُوحیں تھی وہ کِس طرح اچھّا ہُؤا۔
37 اور گراسِینیوں کے گِردنواح کے سب لوگوں نے اُس سے دَرخواست کی کہ ہمارے پاس سے چلا جا کِیُونکہ اُن پر بڑی دہشت چھا گئی تھی۔ پَس وہ کَشتی میں بَیٹھ کر واپَس گیا۔
38 لیکِن جِس شَخص میں سے بد رُوحیں نِکل گئی تھِیں وہ اُس کی مِنّت کر کے کہنے لگا کہ مُجھے اپنے ساتھ رہنے دے مگر یِسُوع نے اُسے رُخصت کر کے کہا۔
39 اپنے گھر کو لَوٹ کر لوگوں سے بیان کر کہ خُدا نے تیرے لِئے کَیسے بڑے کام کِئے۔ وہ روانہ ہو کر تمام شہر میں چرچا کرنے لگا کہ یِسُوع نے میرے لِئے کَیسے بڑے کام کِئے۔
40 جب یِسُوع واپَس آ رہا تھا تو لوگ اُس سے خُوشی کے ساتھ مِلے کِیُونکہ سب اُس کی راہ تکتے تھے۔
41 اور دیکھو یائیر نام ایک شَخص جو عِبادت خانہ کا سَردار تھا آیا اور یِسُوع کے قدموں پر گِر کر اُس سے مِنّت کی کہ میرے گھر چل۔
42 کِیُونکہ اُس کی اِکلوتی بیٹی جو قریباً بارہ برس کی تھی مرنے کو تھی اور جب وہ جا رہا تھا تو لوگ اُس پر گِرے پڑتے تھے۔
43 اور ایک عَورت نے جِس کے بارہ برس سے خُون جاری تھا اور اپنا سارا مال حکِیموں پر خرچ کر چُکی تھی اور کِسی کے ہاتھ سے اچھّی نہ ہوسکی تھی۔
44 اُس کے پِیچھے آ کر اُس کی پوشاک کا کِنارہ چھُؤا اور اُسی دم اُس کا خُون بہنا بند ہوگیا۔
45 اِس پر یِسُوع نے کہا وہ کَون ہے جِس نے مُجھے چھُؤا؟ جب سب اِنکار کرنے لگے تو پطرس اور اُس کے ساتھیوں نے کہا کہ اَے صاحِب لوگ تُجھے دباتے اور تُجھ پر گِرے پڑتے ہیں۔
46 مگر یِسُوع نے کہا کہ کِسی نے مُجھے چھُؤا تو ہے کِیُونکہ مَیں نے معلُوم کِیا کہ قُوّت مُجھ سے نِکلی ہے۔
47 جب اُس عَورت نے دیکھا کہ مَیں چھِپ نہِیں سکتی تو کانپتی ہُوئی آئی اور اُس کے آگے گِر کر سب لوگوں کے سامنے بیان کِیا کہ مَیں نے کِس سبب سے تُجھے چھُؤا اور کِس طرح اُسی دم شِفا پا گئی۔
48 اُس نے اُس سے کہا بیٹی! تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کِیا ہے۔ سَلامت چلی جا۔
49 وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عِبادت خانہ کے سَردار کے ہاں سے کِسی نے آ کر کہا کہ تیری بیٹی مر گئی۔ اُستاد کو تکلِیف نہ دے۔
50 یِسُوع نے سُن کر اُسے جواب دِیا کہ خَوف نہ کر فقط اِعتِقاد رکھ۔ وہ بچ جائے گی۔
51 اور گھر میں پہُنچ کر پطرس اور یُوحنّا اور یَعقُوب اور لڑکی کے ماں باپ کے سِوا کِسی کو اپنے ساتھ اَندر نہ جانے دِیا۔
52 اور سب اُس کے لِئے رو پِیٹ رہے تھے مگر اُس نے کہا۔ ماتم نہ کرو۔ وہ مر نہِیں گئی بلکہ سوتی ہے۔
53 وہ اُس پر ہنسنے لگے کِیُونکہ جانتے تھے کہ وہ مر گئی ہے۔
54 مگر اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور پُکار کر کہا اَے لڑکی اُٹھ۔
55 اُس کی رُوح پھِر آئی اور وہ اُسی دم اُٹھی۔ پھِر یِسُوع نے حُکم دِیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دِیا جائے۔
56 اُس کے ماں باپ حَیران ہُوئے اور اُس نے اُنہِیں تاکِید کی کہ یہ ماجرا کِسی سے نہ کہنا۔


باب 9

1 پھِر اُس نے اُن بارہ کو بُلا کر اُنہِیں سب بد رُوحوں پر اور بِیمارِیوں کو دُور کرنے کے لِئے قُدرت اور اِختیّار بخشا۔
2 اور اُنہِیں خُدا کی بادشاہی کی منادی کرنے اور بِیماروں کو اچھّا کرنے کے لِئے بھیجا۔
3 اور اُن سے کہا کہ راہ کے لِئے کُچھ نہ لینا۔ نہ لاٹھی۔ نہ جھولی۔ نہ روٹی۔ نہ رُوپِیہ۔ نہ دو دو کُرتے رکھنا۔
4 اور جِس گھر میں داخِل ہو وَہیں رہنا اور وہِیں سے روانہ ہونا۔
5 اور جِس شہر کے لوگ تُمہیں قُبُول نہ کریں۔ اُس شہر سے نِکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ دینا تاکہ اُن پر گواہی ہو۔
6 پَس وہ روانہ ہوکر گاؤں گاؤں خُوشخَبری سُناتے اور ہر جگہ شِفا دیتے پھِرے۔
7 اور چوتھائی مُلک کا حاکِم ہیرودِیس سب احوال سُن کر گھبرا گیا۔ اِس لِئے کہ بعض کہتے تھے کہ یُوحنّا مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔
8 اور بعض یہ کہ ایلِیاہ ظاہِر ہُؤا ہے اور بعض یہ کہ قدیم نبِیوں میں سے کو جی اُٹھا ہے۔
9 مگر ہیرودِیس نے کہا کہ یُوحنّا کا تو مَیں نے سر کٹوا دِیا۔ اَب یہ کَون ہے جِس کی بابت اَیسی باتیں سُنتا ہُوں؟ پَس اُسے دیکھنے کی کوشِش میں رہا۔
10 پھِر رَسُولوں نے جو کُچھ کِیا تھا لَوٹ کر اُس سے بیان کِیا اور وہ اُن کو الگ لے کر بَیت صَیدا نام ایک شہر کو چلا گیا۔
11 یہ جان کر بھِیڑ اُس کے پِیچھے گئی اور وہ خُوشی کے ساتھ اُن سے مِلا اور اُن سے خُدا کی بادشاہی کی باتیں کرنے لگا اور جو شِفا پانے کے مُحتاج تھے اُنہِیں شِفا بخشی۔
12 جب دِن ڈھلنے لگا تو اُن بارہ نے آ کر اُس سے کہا کہ بھِیڑ کو رُخصت کر کہ چاروں طرف کے گاؤں اور بستِیوں میں جا ٹِکیں اور کھانے کی تدبیر کریں کِیُونکہ ہم یہاں ویران جگہ میں ہیں۔
13 اُس نے اُن سے کہا تُم ہی اُنہِیں کھانے کو دو۔ اُنہوں نے کہا ہمارے پاس پانچ روٹِیوں اور دو مچھلِیوں سے زیادہ موجُود نہِیں مگر ہاں ہم جا کر اِن سب لوگوں کے لِئے کھانا مول لے آئیں۔
14 کِیُونکہ وہ پانچہزار مرد کے قرِیب تھے۔ اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ اُن کو تخمِیناً پچاس پچاس کی قطاروں میں بِٹھاؤ۔
15 اُنہوں نے اُسی طرح کِیا اور سب کو بِٹھایا۔
16 پھِر اُس نے وہ پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں لِیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر اُن پر بَرکَت بخشی اور توڑ کر اپنے شاگِردوں کو دیتا گیا کہ لوگوں کے آگے رکھّیں۔
17 اُنہوں نے کھایا اور سب سیر ہوگئے اور اُن کے بچے ہُوئے ٹکڑوں کی بارہ ٹوکرِیاں اُٹھائی گئِیں۔
18 جب وہ تنہائی میں دُعا کر رہا تھا اور شاگِرد اُس کے پاس تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے اُن سے پُوچھا کہ لوگ مُجھے کیا کہتے ہیں؟
19 اُنہوں نے جواب میں کہا یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا اور بعض ایلِیاہ کہتے ہیں اور بعض یہ کہ قدِیم نبِیوں میں سے کوئی جی اُٹھا ہے۔
20 اُس نے اُن سے کہا لیکِن تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ پطرس نے جواب میں کہا کہ خُدا کا مسِیح۔
21 اُس نے اُن کو تاکِید کر کے حُکم دِیا کہ یہ کِسی سے نہ کہنا۔
22 اور کہا ضرُور ہے کہ اِبنِ آدم بہُت دُکھ اُٹھائے اور بُزُرگ اور سَردار کاہِن اور فقِیہ اُسے ردّ کریں اور وہ قتل کِیا جائے اور تِیسرے دِن جی اُٹھے۔
23 اور اُس نے سب سے کہا اگر کوئی میرے پِیچھے آنا چاہے تو اپنی خُودی سے اِنکار کرے اور ہر روز اپنی صلِیب اُٹھائے اور میرے پِیچھے ہولے۔
24 کِیُونکہ جو کوئی اپنی جان بَچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطِر اپنی جان کھوئے وُہی اُسے بَچائے گا۔
25 اور آدمِی اگر ساری دُنیا کو حاصِل کرے اور اپنی جان کو کھودے یا اُس کا نُقصان اُٹھائے تو اُسے کیا فائِدہ ہوگا؟
26 کِیُونکہ جو کوئی مُجھ سے اور میری باتوں سے شرمائے گا اِبنِ آدم بھی جب اپنے اور اپنے باپ کے اور پاک فرِشتوں کے جلال میں آئے گا تو اُس سے شرمائے گا۔
27 لیکِن مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ اُن میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعض اَیسے ہیں کہ جب تک خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہ لیں مَوت کا مزہ ہرگِز نہ چکھّیں گے۔
28 پھِر اِن باتوں کے کوئی آٹھ روز بعد اَیسا ہُؤا کہ وہ پطرس اور یُوحنّا اور یَعقُوب کو ہمراہ لے کر پہاڑپر دُعا کرنے گیا۔
29 جب وہ دُعا کر رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے چہرے کی صُورت بدل گئی اور اُس کی پوشاک سفید برّاق ہوگئی۔
30 اور دیکھو دو شَخص یعنی مُوسٰی اور ایلِیاہ اُس سے باتیں کر رہے تھے۔
31 یہ جلال میں دِکھائی دِئے اور اُس کے اِنتِقال کا ذِکر کرتے تھے جو یروشلِیم میں واقع ہونے کو تھا۔
32 مگر پطرس اور اُس کے ساتھی نِیند میں بھرے تھے اور جب اچھّی طرح بیدار ہُوئے تو اُس کے جلال کو اور اُن دو شَخصوں کو دیکھا جو اُس کے ساتھ کھڑے تھے۔
33 جب وہ اُس سے جُدا ہونے لگے تو اَیسا ہُؤا کہ پطرس نے یِسُوع سے کہا اَے صاحِب ہمارا یہاں رہنا اچھّا ہے۔ پَس ہم تِین ڈیرے بنائیں۔ ایک تیرے لِئے۔ ایک مُوسٰی کے لِئے۔ ایک ایلِیاہ کے لِئے۔ لیکِن وہ جانتا نہ تھا کہ کیا کہتا ہے۔
34 وہ یہ کہتا ہی تھا کہ بادل نے آ کر اُن پر سایہ کر لِیا اور جب وہ بادل میں گھِرنے لگے تو ڈر گئے۔
35 اور بادل میں سے ایک آواز آئی کہ یہ میرا برگُزِیدہ بَیٹا ہے۔ اِس کی سُنو۔
36 یہ آواز آتے ہی یِسُوع اکیلا پایا گیا اور وہ چُپ رہے اور جو باتیں دیکھی تھِیں اُن دِنوں میں کِسی کو اُن کی کُچھ خَبر نہ دی۔
37 دُوسرے دِن جب وہ پہاڑ سے اُترے تھے تو اَیسا ہُؤا کہ ایک بڑی بھِیڑ اُس سے آمِلی۔
38 اور دیکھو ایک آدمِی نے بھِیڑ میں سے چِلّا کر کہا اَے اُستاد! مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ میرے بَیٹے پر نظر کر کِیُونکہ وہ میرا اِکلوتا ہے۔
39 اور دیکھو ایک رُوح اُسے پکڑ لیتی ہے اور وہ یکایک چِیخ اُٹھتا ہے اور اُس کو اَیسا مروڑتی ہے کہ کف بھرلاتا ہے اور اُس کو کُچل کر مُشکِل سے چھوڑتی ہے۔
40 اور مَیں نے تیرے شاگِردوں کی مِنّت کی کہ اُسے نِکال دیں لیکِن وہ نہ نِکال سکے۔
41 یِسُوع نے جواب میں کہا اَے بے اِعتِقاد اور کجَرو قَوم مَیں کب تک تُمہارے ساتھ رہُوں گا اور تُمہاری برداشت کرُوں گا؟ اپنے بَیٹے کو یہاں لے آ۔
42 وہ آتا ہی تھا کہ بد رُوح نے اُسے پٹک کر مروڑا اور یِسُوع نے اُس ناپاک رُوح کو جھِڑکا اور لڑکے کو اچھّا کر کے اُس کے باپ کو دے دِیا۔
43 اور سب لوگ خُدا کی شان کو دیکھ کر حَیران ہُوئے۔ لیکِن جِس وقت سب لوگ اُن سب کاموں پر جو وہ کرتا تھا تعّجُب کر رہے تھے اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا۔
44 تُمہارے کانوں میں یہ باتیں پڑی رہیں کِیُونکہ اِبنِ آدم آدمِیوں کے ہاتھ میں حوالہ کِئے جانے کو ہے۔
45 لیکِن وہ اِس بات کو سَمَجھتے نہ تھے بلکہ یہ اُن سے چھِپائی گئی تاکہ اُسے معلُوم نہ کریں اور اِس بات کی بابت اُس سے پُوچھتے ہُوئے ڈرتے تھے۔
46 پھِر اُن میں یہ بحث شُرُوح ہُوئی کہ ہم میں سے بڑا کَون ہے؟
47 لیکِن یِسُوع نے اُن کے دِلوں کا خیال معلُوم کر کے ایک بچّہ کو لِیا اور اپنے پاس کھڑا کر کے اُن سے کہا۔
48 جو کوئی اِس بچّہ کو میرے نام پر قُبُول کرتا ہے وہ مُجھے قُبُول کرتا ہے اور جو مُجھے قُبُول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قُبُول کرتا ہے کِیُونکہ جو تُم میں سب سے چھوٹا ہے وُہی بڑا ہے۔
49 یُوحنّا نے جواب میں کہا اَے صاحِب ہم نے ایک شَخص کو تیرے نام سے بد رُوحیں نِکالتے دیکھا اور اُس کو منع کرنے لگے کِیُونکہ وہ ہمارے ساتھ تیری پَیروی نہِیں کرتا۔
50 لیکِن یِسُوع نے اُس سے کہا کہ اُسے منع نہ کرنا کِیُونکہ جو تُمہارے خِلاف نہِیں وہ تُمہاری طرف ہے۔
51 جب وہ دِن نذدِیک آئے کہ وہ اُوپر اُٹھایا جائے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے یروشلِیم جانے کو کمر باندھی۔
52 اور اپنے آگے قاصِد بھیجے۔ وہ جا کر سامرِیوں کے ایک گاؤں میں داخِل ہُوئے تاکہ اُس کے لِئے تیّاری کریں۔
53 لیکِن اُنہوں نے اُس کو ٹِکنے نہ دِیا کِیُونکہ اُس کا رُخ یروشلِیم کی طرف تھا۔
54 یہ دیکھ کر اُس کے شاگِرد یَعقُوب اور یُوحنّا نے کہا اَے خُداوند کیا تُو چاہتا ہے کہ ہم حُکم دیں کہ آسمان سے آگ نازِل ہو کر اُنہِیں بھسم کردے [جَیسا ایلِیاہ نے کِیا]۔
55 مگر اُس نے پھِر کر اُنہِیں جھِڑکا [تُم نہِیں جانتے کہ تُم کَیسی رُوح کے ہو۔
56 کِیُونکہ اِبنِ آدم لوگوں کی جان برباد کرنے نہِیں بلکہ بَچانے آیا] پھِر وہ کِسی اور گاؤں میں چلے گئے۔
57 جب وہ راہ میں چلے جاتے تھے تو کِسی نے اُس سے کہا جہاں کہِیں تُو جائے مَیں تیرے پِیچھے چلُوں گا۔
58 یِسُوع نے اُس سے کہا کہ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرِندوں کے گھونسلے مگر اِبنِ آدم کے لِئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہِیں۔
59 پھِر اُس نے دُوسرے سے کہا میرے پِیچھے چل۔ اُس نے کہا اَے خُداوند! مُجھے اِجازت دے کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کرُوں۔
60 اُس نے اُس سے کہا کہ مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دے لیکِن تُو جا کر خُدا کی بادشاہی کی خَبر پھَیلا۔
61 ایک اَور نے بھی کہا اَے خُداوند! مَیں تیرے پِیچھے چلُوں گا لیکِن پہلے مُجھے اِجازت دے کہ اپنے گھر کے لوگوں سے رُخصت ہو آؤں۔
62 یِسُوع نے اُس سے کہا جو کوئی اپنا ہاتھ ہل پر رکھکر پِیچھے دیکھتا ہے وہ خُدا کی بادشاہی کے لائِق نہِیں۔


باب 10

1 اِن باتوں کے بعد خُداوند نے ستّر آدمِی اَور مُقرّر کِئے اور جِس جِس شہر اور جگہ کو خُود جانے والا تھا وہاں اُنہِیں دو دو کر کے اپنے آگے بھیجا۔
2 اور وہ اُن سے کہنے لگا کہ فصل تو بہُت ہے لیکِن مزدُور تھوڑے ہیں اِس لِئے فصل کے مالِک کی مِنّت کرو کہ اپنی فصل کاٹنے کے لِئے مزدُور بھیجے۔
3 جاؤ۔ دیکھو مَیں تُم کو گویا برّوں کو بھیڑیوں کے بِیچ میں بھیجتا ہُوں۔
4 نہ بٹوا لے جاؤ نہ جھولی نہ جُوتیاں اور نہ راہ میں کِسی کو سَلام کرو۔
5 اور جِس گھر میں داخِل ہو پہلے کہو کہ اِس گھر کی سَلامتی ہو۔
6 اگر وہاں کوئی سَلامتی کا فرزند ہوگا تو تُمہارا سَلام اُس پر ٹھہریگا نہِیں تو تُم پر لَوٹ آئے گا۔
7 اُسی گھر میں رہو اور جو کُچھ اُن سے مِلے کھاؤ پِیو کِیُونکہ مزدُور اپنی مزدُوری کا حقدار ہے۔ گھر گھر نہ پھِرو۔
8 اور جِس شہر میں داخِل ہو اور وہاں کے لوگ تُمہیں قُبُول کریں تو جو کُچھ تُمہارے سامنے رکھّا جائے کھاؤ۔
9 اور وہاں کے بِیماروں کو اچھّا کرو اور اُن سے کہو کہ خُدا کی بادشاہی تُمہارے نزدِیک آ پہُنچی ہے۔
10 لیکِن جِس شہر میں داخِل ہو اور وہاں کے لوگ تُمہیں قُبُول نہ کریں تو اُس کے بازاروں میں جا کر کہو کہ۔
11 ہم اِس گرد کو بھی جو تُمہارے شہر سے ہمارے پاؤں میں لگی ہے تُمہارے سامنے جھاڑے دیتے ہیں مگر یہ جان لو کہ خُدا کی بادشاہی نزدِیک آ پہُنچی ہے۔
12 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُس دِن سدُوم کا حال اُس شہر کے حال سے زیادہ برداشت کے لائِق ہوگا۔
13 اَے خُرازین تُجھ پر افسوس! اَے بیت صَیدا تُجھ پر افسوس! کِیُونکہ جو مُعجِزے تُم میں ظاہِر ہُوئے اگر صُور اور صَیدا میں ظاہِر ہوتے تو وہ ٹاٹ اوڑھ کر اور خاک میں بَیٹھ کر کب کے تَوبہ کر لیتے۔
14 مگر عدالت میں صُور اور صَیدا کا حال تُمہارے حال سے زیادہ برداشت کے لائِق ہوگا۔
15 اور اَے کفر نحُوم کیا تُو آسمان تک بُلند کِیا جائے گا؟ نہِیں بلکہ تُو عالَمِ ارواح میں اُتارا جائے گا۔
16 جو تُمہاری سُنتا ہے وہ میری سُنتا ہے اور جو تُمہیں نہِیں مانتا وہ مُجھے نہِیں مانتا اور جو مُجھے نہِیں مانتا وہ میرے بھیجنے والے کو نہِیں مانتا۔
17 وہ ستر خُوش ہوکر پھِر آئے اور کہنے لگے اَے خُداوند تیرے نام سے بد رُوحیں بھی ہمارے تابِع ہیں۔
18 اُس نے اُن سے کہا مَیں شَیطان کو بِجلی کی طرح آسمان سے گِرا ہُؤا دیکھ رہا تھا۔
19 دیکھو مَیں نے تُم کو اِختیّار دِیا کہ سانپوں اور بِچھُوّؤں کو کُچلو اور دُشمن کی ساری قُدرت پر غالِب آؤ اور تُم کو ہرگِز کِسی چِیز سے ضرر نہ پہُنچیگا۔
20 تَو بھی اِس سے خُوش نہ ہو کہ رُوحیں تُمہارے تابِع ہیں بلکہ اِس سے خُوش ہو کہ تُمہارے نام آسمان پر لِکھے ہُوئے ہیں۔
21 اُسی گھڑی وہ رُوحُ القُدس سے خُوشی میں بھر گیا اور کہنے لگا اَے باپ آسمان اور زمِین کے خُداوند! مَیں تیری حمد کرتا ہُوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقلمندوں سے چھِپائِیں اور بچّوں پر ظاہِر کیں۔ ہاں اَے باپ کِیُونکہ اَیسا ہی تُجھے پسند آیا۔
22 میرے باپ کی طرف سے سب کُچھ مُجھے سونپا گیا اور کوئی نہِیں جانتا کہ بَیٹا کَون ہے سِوا باپ کے اور کوئی نہِیں جانتا کے باپ کَون ہے سِوا بَیٹے کے اور اُس شَخص کے جِس پر بَیٹا اُسے ظاہِر کرنا چاہے۔
23 اور شاگِردوں کی طرف مُتوّجِہ ہو کر خاص اُن ہی سے کہا مُبارک ہیں وہ آنکھیں جو یہ باتیں دیکھتی ہیں جِنہِیں تُم دیکھتے ہو۔
24 کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بہُت سے نبِیوں اور بادشاہوں نے چاہا کہ جو باتیں تُم دیکھتے ہو دیکھیں مگر نہ دیکھِیں اور جو باتیں تُم سُنتے ہو سُنیں مگر نہ سُنِیں۔
25 اور دیکھو ایک عالِم شرع اُٹھا اور یہ کہہ کر اُس کی آزمایش کرنے لگا کہ اَے اُستاد! مَیں کیا کرُوں کہ ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث بنُوں؟
26 اُس نے اُس سے کہا توریت میں کیا لِکھا ہے؟ تُو کِس طرح پڑھتا ہے؟
27 اُس نے جواب میں کہا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبّت رکھ اور اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر محبّت رکھ۔
28 اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹھِیک جواب دِیا۔ یہی کر تو تُو جِیئے گا۔
29 مگر اُس نے اپنے تئِیں راستباز ٹھہرانے کی غرض سے یِسُوع سے پُوچھا پھِر میرا پڑوسِی کَون ہے؟
30 یِسُوع نے جواب میں کہا کہ ایک آدمِی یروشلِیم سے یریحُو کی طرف جا رہا تھا کہ ڈآکُوؤں میں گھِر گیا۔ اُنہوں نے اُس کے کپڑے اُتار لِئے اور مارا بھی اور ادھمؤا چھوڑ کر چلے گئے۔
31 اِتّفاقاً ایک کاہِن اُس راہ سے جا رہا تھا اور اُسے دیکھ کر کترا کر چلا گیا۔
32 اِسی طرح ایک لاوی اُس جگہ آیا۔ وہ بھی اُسے دیکھ کر کترا کر چلا گیا۔
33 لیکِن ایک سامری سفر کرتے کرتے وہاں آ نِکلا اور اُسے دیکھ کر اُس نے ترس کھایا۔
34 اور اُس کے پاس آ کر اُس کے زخموں کو تیل اور مَے لگا کر باندھا اور اپنے جانور پر سوار کر کے سرای میں لے گیا اور اُس کی خَبر گیری کی۔
35 دُوسرے دِن دو دِینار نِکال کر بھٹیارے کو دِئے اور کہا اِس کی خَبر گیری کرنا اور جو کُچھ اِس سے زیادہ خرچ ہوگا مَیں پھِر آ کر تُجھے ادا کردُوں گا۔
36 اِن تِینوں میں سے اُس شَخص کا جو ڈاکوؤں میں گھِر گیا تھا تیری دانِست میں کَون پڑوسِی ٹھہرا؟
37 اُس نے کہا وہ جِس نے اُس پر رحم کِیا۔ یِسُوع نے اُس سے کہا جا۔ تُو بھی اَیسا ہی کر۔
38 پھِر جب جا رہے تھے تو وہ ایک گاؤں میں داخِل ہُؤا اور مرتھا نام ایک عَورت نے اُسے اپنے گھر میں اُتارا۔
39 اور مریم نام اُس کی ایک بہن تھی۔ وہ یِسُوع کے پاؤں کے پاس بَیٹھ کر اُس کا کلام سُن رہی تھی۔
40 لیکِن مرتھا خِدمت کرتے کرتے گھبرا گئی۔ پَس اُس کے پاس آ کر کہنے لگی اَے خُداوند! کیا تُجھے خیال نہِیں کہ میری بہن نے خِدمت کرنے کو مُجھے اکیلا چھوڑ دِیا ہے؟ پَس اُسے فرما کہ میری مدد کرے۔
41 خُداوند نے جواب میں اُس سے کہا مرتھا! مرتھا! تُو تو بہُت سی چِیزوں کی فِکر و تردُّد میں ہے۔
42 لیکِن ایک چِیز ضرُور ہے اور مریم نے وہ اچھّا حِصّہ چُن لِیا ہے جو اُس سے چھِینا نہ جائے گا۔


باب 11

1 پھِر اَیسا ہُؤا کہ وہ کِسی جگہ دُعا کر رہا تھا۔ جب کر چُکا تو اُس کے شاگِردوں میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے خُداوند جَیسا یُوحنّا نے اپنے شاگِردوں کو دُعا کرنا سِکھایا تُو بھی ہمیں سِکھا۔
2 اُس نے اُن سے کہا جب تُم دُعا کرو تو کہو اَے باپ تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔
3 ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دے۔
4 اور ہمارے گُناہ مُعاف کر کِیُونکہ ہم بھی اپنے ہر قرضدار کو مُعاف کرتے ہیں اور ہمیں آزمایش میں نہ لا۔
5 پھِر اُس نے اُن سے کہا تُم میں سے کَون ہے جِس کا ایک دوست ہو اور وہ آدھی رات کو اُس کے پاس جا کر اُس سے کہے اَے دوست مُجھے تِین روٹِیاں دے۔
6 کِیُونکہ میرا ایک دوست سفر کر کے میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کُچھ نہِیں کہ اُس کے آگے رکھُوں۔
7 اور وہ اَندر سے جواب میں کہے مُجھے تکلِیف نہ دے۔ اَب دروازہ بند ہے اور میرے لڑکے میرے پاس بِچھَونے پر ہیں۔ مَیں اُٹھ کر تُجھے دے نہِیں سکتا۔
8 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگرچہ وہ اِس سبب سے کہ اُس کا دوست ہے اُٹھ کر اُسے نہ دے تَو بھی اُس کی بیحیائی کے سبب سے اُٹھ کر جِتنی درکار ہیں اُسے دے گا۔
9 پَس مَیں تُم سے کہتا ہُوں کے مانگو تو تُمیں دِیا جائے گا۔ ڈھُونڈو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تُمہارے واسطے کھولا جائے گا۔
10 کِیُونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے مِلتا ہے اور جو ڈھُونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جائے گا۔
11 تُم میں سے اَیسا کَونسا باپ ہے کہ جب اُس کا بَیٹا روٹی مانگے تو اُسے پتھّر دے؟ یا مَچھلی مانگے تو مَچھلی کے بدلے اُسے سانپ دے؟
12 یا انڈا مانگے تو اُس کو بِچھُّو دے؟
13 پَس جب تُم بُرے ہوکر اپنے بچّوں کو اچھّی چِیزیں دینا جانتے ہو تو آسمانی باپ اپنے مانگنے والوں کو رُوحُ القُدس کِیُوں نہ دے گا؟
14 پھِر وہ ایک گُونگی بد رُوح کو نِکال رہا تھا اور جب وہ بد رُوح نِکل گئی تو اَیسا ہُؤا کہ گُونگا بولا اور لوگوں نے تعّجُب کِیا۔
15 لیکِن اُن میں سے بعض نے کہا یہ تو بد رُوحوں کر سَردار بعلزبُول کی مدد سے بد رُوحوں کو نِکالتا ہے۔
16 بعض اَور لوگ آزمایش کے لِئے اُس سے ایک آسمانی نِشان طلب کرنے لگے۔
17 مگر اُس نے اُن کے خیالات کو جان کر اُن سے کہا جِس سلطنت میں پھُوٹ پڑے وہ وِیران ہو جاتی ہے اور جِس گھر میں پھُوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے۔
18 اور اگر شَیطان بھی اپنے مُخالِف ہو جائے تو اُس کی سلطنت کِس طرح قائِم رہے گی؟ کِیُونکہ تُم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بد رُوحوں کو بعلزبُول کی مدد سے نِکالتا ہے۔
19 اور اگر مَیں بد رُوحوں کو بعلزبُول کی مدد سے نِکالتا ہُوں تو تُمہارے بَیٹے کِس کی مدد سے نِکالتے ہیں؟ پَس وُہی تُمہارے مُنصِف ہوں گے۔
20 لیکِن اگر مَیں بد رُوحوں کو خُدا کی قُدرت سے نِکالتا ہُوں تو خُدا کی بادشاہی تُمہارے پاس آ پہُنچی۔
21 جب زور آور آدمِی ہتھیار باندھے ہُوئے اپنی حویلی کی رکھوالی کرتا ہے تو اُس کا مال محفُوظ رہتا ہے۔
22 لیکِن جب اُس سے کوئی زور آور حملہ کر کے اُس پر غالِب آتا ہے تو اُس کے سب ہتھیار جِن پر اُس کا بھروسہ تھا چھِین لیتا اور اُس کا مال لُوٹ کر بانٹ دیتا ہے۔
23 جو میری طرف نہِیں وہ میرے خِلاف ہے اور جو میرے ساتھ جمع نہِیں کرتا وہ بکھیرتا ہے۔
24 جب ناپاک رُوح آدمِی میں سے نِکلتی ہے تو سُوکھے مقاموں میں آرام ڈھُونڈتی پھِرتی ہے اور جب نہِیں پاتی تو کہتی ہے کہ مَیں اپنے اُسی گھر میں لَوٹ جاؤں گی جِس سے نِکلی ہُوں۔
25 اور آ کر اُسے جھڑا ہُؤا اور آراستہ پاتی ہے۔
26 پھِر جا کر اَور سات رُوحیں اپنے سے بُری ہمراہ لے آتی ہے اور وہ اُس میں داخِل ہوکر وہاں بستی ہیں اور اُس آدمِی کا پِچھلا حال پہلے سے بھی خراب ہو جاتا ہے۔
27 جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ بھِیڑ میں سے ایک عَورت نے پُکار کر اُس سے کہا مُبارک ہے وہ پیٹ جِس میں تُو رہا اور وہ چھاتِیاں جو تُو نے چُوسِیں۔
28 اُس نے کہا ہاں۔ مگر زیادہ مُبارک وہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔
29 جب بڑی بھِیڑ ہوتی جاتی تھی تو وہ کہنے لگا کہ اِس زمانہ کے لوگ بُرے ہیں۔ وہ نِشان طلب کرتے ہیں مگر یُوناہ کے نِشان کے سِوا کوئی اَور نِشان اُن کو نہ دِیا جائے گا۔
30 کِیُونکہ جِس طرح یُوناہ نِینوہ کے لوگوں کے لِئے نِشان ٹھہرا اُسی طرح اِبنِ آدم بھی اِس زمانہ کے لوگوں کے لِئے ٹھہریگا۔
31 دکھّن کی ملکہ اِس زمانہ کے آدمِیوں کے ساتھ عدالت کے دِن اُٹھ کر اِن کو مُجرِم ٹھہرائے گی کِیُونکہ وہ دُنیا کے کِنارے سے سُلیمان کی حِکمت سُننے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سُلیمان سے بھی بڑا ہے۔
32 نِینوہ کے لوگ اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ عدالت کے دِن کھڑے ہوکر اِن کو مُجرِم ٹھہرائیں گے کِیُونکہ اُنہوں نے یُوناہ کی منادی پر تَوبہ کر لی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو یُوناہ سے بھی بڑا ہے۔
33 کوئی شَخص چراغ جلا کر تہ خانہ میں یا پَیمانہ کے نِیچے نہِیں رکھتا بلکہ چراغدان پر رکھتا ہے تاکہ اَندر آنے والوں کو روشنی دِکھائی دے۔
34 تیرے بَدَن کا چراغ تیری آنکھ ہے۔ جب تیری آنکھ دُرُست ہے تو تیرا سارا بَدَن بھی روشن ہے اور جب خراب ہے تو تیرا بَدَن بھی تارِیک ہے۔
35 پَس دیکھنا جو روشنی تُجھ میں ہے تارِیکی تو نہِیں۔
36 پَس اگر تیرا سارا بَدَن روشن ہو اور کوئی حصّہ تارِیک نہ رہے تو وہ تمام اَیسا روشن ہوگا جَیسا اُس وقت ہوتا ہے جب چراغ اپنی چمک سے تُجھے روشن کرتا ہے۔
37 جب وہ باتیں کر رہا تھا تو کِسی فرِیسی نے اُس کی دعوت کی۔ پَس وہ اَندر جا کر کھانا کھانے بَیٹھا۔
38 فرِیسی نے یہ دیکھ کر تعّجُب کِیا کہ اُس نے کھانے سے پہلے غُسل نہِیں کِیا۔
39 خُداوند نے اُس سے کہا اَے فرِیسیو تُم پیالے اور رکابی کو اُوپر سے تو صاف کرتے ہو لیکِن تُمہارے اَندر لُوٹ اور بدی بھری ہے۔
40 اَے نادانو جِس نے باہِر کو بنایا کیا اُس نے اَندر کو نہِیں بنایا؟
41 ہاں اَندر کی چِیزیں خَیرات کردو تو دیکھو سب کُچھ تُمہارے لِئے پاک ہوگا۔
42 لیکِن اَے فرِیسیو تُم پر اَفسوس کہ پودِینے اور سداب اور ہر ایک ترکاری پر دہ یکی دیتے ہو اور اِنصاف اور خُدا کی محبّت سے غافِل رہتے ہو۔ لازِم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔
43 اَے فرِیسیو تُم پر اَفسوس کہ تُم عِبادت خانوں میں اعلٰی درجہ کی کُرسِیاں اور بازاروں میں سَلام چاہتے ہو۔
44 تُم پر اَفسوس کِیُونکہ تُم اُن پوشِیدہ قَبروں کی مانِند ہو جِن پر آدمِی چلتے ہیں اور اُن کو اِس بات کی خَبر نہِیں۔
45 پھِر شرع کے عالِموں میں سے ایک نے جواب میں اُس سے کہا اَے اُستاد اِن باتوں کے کہنے سے تُو ہمیں بھی بے عِزّت کرتا ہے۔
46 اُس نے کہا اَے شرع کے عالِمو تُم پر بھی اَفسوس کہ تُم اَیسے بوجھ جِن کو اُٹھانا مُشکِل ہے آدمِیوں پر لادتے ہو اور آپ ایک انگلی بھی اُن بوجھوں کو نہِیں لگاتے۔
47 تُم پر اَفسوس کہ تُم تو نبِیوں کی قَبروں کو بناتے ہو اور تُمہارے باپ دادا نے اُن کو قتل کِیا تھا۔
48 پَس تُم گواہ ہو اور اپنے باپ دادا کے کاموں کو پسند کرتے ہو کِیُونکہ اُنہوں نے تو اُن کو قتل کِیا تھا اور تُم اُن کی قَبریں بناتے ہو۔
49 اِسی لِئے خُدا کی حِکمت نے کہا ہے کہ مَیں نبِیوں اور رَسُولوں کو اُن کے پاس بھیجُوںگی۔ وہ اُن میں سے بعض کو قتل کریں گے اور بعض کو ستائیں گے۔
50 تاکہ سب نبِیوں کے خُون کی جو بنایِ عالم سے بہایا گیا اِس زمانہ کے لوگوں سے باز پُرس ہو۔
51 ہابِل کے خُون سے لے کر اُس زکریاہ کے خُون تک جو قُربان گاہ اور مَقدِس کے بِیچ میں ہلاک ہُؤا۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ اِسی زمانہ کے لوگوں سے سب کی باز پُرس کی جائے گی۔
52 اَے شرع کے عالِمو تُم پر اَفسوس کہ تُم نے معرفت کی کُنجی چھِین لی تُم آپ بھی داخِل نہ ہُوئے اور داخِل ہونے والوں کو بھی روکا۔
53 جب وہ وہاں سے نِکلا تو فقِیہ اور فرِیسی اُسے بے طرح چمٹنے اور چھیڑنے لگے تاکہ وہ بہُت سی باتوں کا ذِکر کرے۔
54 اور اُسی کی گھات میں رہے تاکہ اُس کے مُنہ کی کوئی بات پکڑیں۔


باب 12

1 اِتنے میں جب ہزاروں آدمِیوں کی بھِیڑ لگ گئی یہاں تک کہ ایک دُوسرے پر گِرا پڑتا تھا تو اُس نے سب سے پہلے اپنے شاگِردوں سے یہ کہنا شُرُوع کِیا کہ اُس خمِیر سے ہوشیار رہنا جو فرِیسِیوں کی رِیاکاری ہے۔
2 کِیُونکہ کوئی چِیز ڈھکی نہِیں جو کھولی نہ جائے گی اور نہ کوئی چِیز چھِپی ہے جو جانی نہ جائے گی۔
3 اِس لِئے جو کُچھ تُم نے اندھرے میں کہا ہے وہ اُجالے میں سُنا جائے گا اور جو کُچھ تُم نے کوٹھرِیوں کے اَندر کان میں کہا ہے کوٹھوں پر اُس کی منادی کی جائے گی۔
4 مگر تُم دوستوں سے مَیں کہتا ہُوں کہ اُن سے نہ ڈرو جو بَدَن کو قتل کرتے ہیں اور اُس کے بعد اور کُچھ نہِیں کرسکتے۔
5 لیکِن مَیں تُمہیں جتاتا ہُوں کہ کِس سے ڈرنا چاہیئے۔ اُس سے ڈرو جِس کو اِختیّار ہے کہ قتل کرنے کے بعد جہنّم میں ڈالے۔ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُسی سے ڈرو۔
6 کیا دو پیسے کی پانچ چِڑیاں نہِیں بِکتِیں؟ تو بھی خُدا کہ حضُور اُن میں سے ایک بھی فراموش نہِیں ہوتی۔
7 بلکہ سر کے سارے بال بھی گِنے ہُوئے ہیں۔ ڈرو مت۔ تُمہاری قدر تو بہُت سی چِڑیوں سے زیادہ ہے۔
8 اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو کوئی آدمِیوں کے سامنے میرا اِقرار کرے اِبنِ آدم بھی خُدا کے فرِشتوں کے سامنے اُس کا اِقرار کرے گا۔
9 مگر جو آدمِیوں کے سامنے میرا اِنکار کرے خُدا کے فرِشتوں کے سامنے اُس کا اِنکار کِیا جائے گا۔
10 اور جو کوئی اِبنِ آدم کے خِلاف کوئی بات کہے اُس کو مُعاف کِیا جائے گا لیکِن جو رُوحُ القُدس کے حق میں کُفر بکے اُس کو مُعاف نہ کِیا جائے گا۔
11 اور جب وہ تُم کو عِبادت خانوں میں اور حاکِموں اور اِختیّار والوں کے پاس لے جائیں تو فِکر نہ کرنا کہ ہم کِس طرح یا کیا جواب دیں یا کیا کہیں۔
12 کِیُونکہ رُوحُ القُدس اُسی گھڑی تُمہیں سِکھا دے گا کہ کیا کہنا چاہیئے۔
13 پھِر بھِیڑ میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے اُستاد! میرے بھائِی سے کہہ کہ میراث کا میرا حصّہ مُجھے دے۔
14 اُس نے اُس سے کہا۔ میاں! کِس نے مُجھے تُمہارا مُنصِف یا بانٹنے والا مُقرّر کِیا ہے؟
15 اور اُس نے اُن سے کہا خَبردار! اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بَچائے رکھّو کِیُونکہ کِسی کی زِندگی اُس کے مال کی کثرت پر مَوقُوف نہِیں۔
16 اور اُس نے اُن سے ایک تَمثِیل کہی کہ کِسی دَولتمند کی زمِین میں بڑی فصل ہُوئی۔
17 پَس وہ اپنے دِل میں سوچ کر کہنے لگا مَیں کیا کرُوں کِیُونکہ میرے ہاں جگہ نہِیں جہاں اپنی پَیداوار بھر رکھّوں۔
18 اُس نے کہا مَیں یُوں کرُوں گا کہ اپنی کوٹھیاں ڈھا کر اُن سے بڑی بناؤں گا۔
19 اور اُن میں اپنا سارا اَناج اور مال بھر رکھّونگا اور اپنی جان سے کہوں گا اَے جان! تیرے پاس بہُت برسوں کے لِئے بہُت سا مال جمع ہے۔ چین کر۔ کھا پی۔ خُوش رہ۔
20 مگر خُداوند نے اُس سے کہا اَے نادان! اِسی رات تیری جان تُجھ سے طلب کر لی جائے گی۔ پَس جو کُچھ تُو نے تیّار کِیا ہے وہ کِس کا ہوگا؟
21 اَیسا ہی وہ شَخص ہے جو اپنے لِئے خزانہ جمع کرتا ہے اور خُدا کے نزدِیک دَولتمند نہِیں۔
22 پھِر اُس نے اپنے شاگِرد سے کہا اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے اور نہ اپنے بَدَن کی کہ کیا پہنیں گے۔
23 کِیُونکہ جان خُوراک سے بڑھ کر ہے اور بَدَن پوشاک سے۔
24 کوّؤں پر غور کرو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں۔ نہ اُن کے کھتّا ہوتا ہے نہ کوٹھی تو بھی خُدا اُنہِیں کھِلاتا ہے۔ تُمہاری قدر تو پرِندوں سے کہِیں زِیادہ ہے۔
25 تُم میں اَیسا کَون ہے جو فِکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بڑھا سکے؟
26 پَس جب سے چھوٹی بات نہِیں کرسکتے تو باقی چِیزوں کی فِکر کِیُوں کرتے ہو؟
27 سَوسن کے دَرختوں پر غور کرو کہ کِس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں تَو بھی مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ سُلیمان بھی باوجُود اپنی ساری شان و شوکت کے اُن میں سے کِسی کی مانِند مُلبّس نہ تھا۔
28 پَس جب خُدا مَیدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنُور میں جھونکی جائے گی اَیسی پوشاک پہناتا ہے تو اَے کم اِعتِقادو تُم کو کِیُوں نہ پہنائے گا؟
29 اور تُم اِس کی تلاش میں نہ رہو کہ کیا کھائیں گے کیا پہنیں گے اور نہ شکّی بنو۔
30 کِیُونکہ اِن سب چِیزوں کی تلاش میں دُنیا کی قَومیں رہتی ہیں لیکِن تُمہارا باپ جانتا ہے کہ تُم اِن چِیزوں کے محتاج ہو۔
31 ہاں اُس کی بادشاہی کی تلاش میں رہو تو یہ چِیزیں بھی تُمہیں مِل جائیں گی۔
32 اَے چھوٹے گلّے نہ ڈر کِیُونکہ تُمہارے باپ کو پسند آیا کہ تُمہیں بادشاہی دے۔
33 اپنا مال اسباب بیچ کر خَیرات کر دو اور اپنے لِئے اَیسے بٹوّے بناؤ جو پُرانے نہِیں ہوتے یعنی آسمان پر اَیسا خزانہ جو خالی نہِیں ہوتا۔ جہاں چور نزدِیک نہِیں جاتا اور کِیڑا خراب نہِیں کرتا۔
34 کِیُونکہ جہاں تُمہارا خزانہ ہے وَہیں تُمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔
35 تُمہاری کمریں بندھی رہیں اور تُمہارے چراغ جلتے رہیں۔
36 اور تُم اُن آدمِیوں کو مانِند بنو جو اپنے مالِک کی راہ دیکھتے ہوں کہ وہ شادِی میں سے کب لَوٹے گا تاکہ جب وہ آ کر دروازہ کھٹکھٹائے تو فوراً اُس کے واسطے کھول دیں۔
37 مُبارک ہیں وہ نَوکر جِن کا مالِک آ کر اُنہِیں جاگتا پائے۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ کمر باندھ کر اُنہِیں کھانا کھانے کو بِٹھائے گا اور پاس آ کر اُن کی خِدمت کرے گا۔
38 اور اگر وہ رات کے دُوسرے پہر میں یا تِیسرے پہر میں آ کر اُن کو اَیسے حال میں پائے تو وہ نَوکر مُبارک ہیں۔
39 لیکِن یہ جان رکھّو کہ اگر گھر کے مالِک کو معلُوم ہوتا کہ چور کِس گھڑی آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب لگنے نہ دیتا۔
40 تُم بھی تیّار رہو کِیُونکہ جِس گھڑی تُمہیں گُمان بھی نہ ہوگا اِبنِ آدم آ جائے گا۔
41 پطرس نے کہا اَے خُداوند تُو یہ تَمثِیل ہم سے ہی کہتا ہے یا سب سے؟
42 خُداوند نے کہا کَون ہے وہ دِیانتدار اور عقلمند داروغہ جِس کا مالِک اُس کے اپنے نَوکر چاکروں پر مُقرّر کرے کہ ہر ایک کی خُوراک وقت پر بانٹ دِیا کرے؟
43 مُبارک ہے وہ نَوکر جِس کا مالِک آ کر اُس کو اَیسا ہی کرتے پائے۔
44 مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ اُسے اپنے سارے مال پر مُختار کرے گا۔
45 لیکِن اگر وہ نَوکر اپنے دِل میں یہ کہہ کر کہ میرے مالِک کے آنے میں دیر ہے غلاموں اور لَونڈیوں کو مارنا اور کھا پی کر متوالا ہونا شُرُوع کرے۔
46 تو اُس نَوکر کا مالِک اَیسے دِن کہ وہ اُس کی راہ نہ دیکھتا ہو اور اَیسی گھڑی کہ وہ نہ جانتا ہو آ موجُود ہو گا۔ اور خُوب کوڑے لگا کر اُسے بے اِیمانوں میں شامِل کرے گا۔
47 اور وہ نَوکر جِس نے اپنے مالِک کی مرضی جان لی اور تیّاری نہ کی نہ اُس کی مرضی کے مُوفِق عمل کِیا بہُت مار کھائے گا۔
48 مگر جِس نے نہ جان کر مار کھانے کے کام کِیا وہ تھوڑی مار کھائے گا اور جِسے بہُت دِیا گیا اُس سے بہُت طلب کِیا جائے گا اور جِسے بہُت سونپا گیا اُس سے زیادہ طلب کریں گے۔
49 مَیں زمِین پر آگ بھڑکانے آیا ہُوں اور اگر لگ چُکی ہوتی تو مَیں کیا ہی خُوش ہوتا!
50 لیکِن مُجھے ایک بپتِسمہ لینا ہے اور جب تک وہ نہ ہولے مَیں بہُت ہی تنگ رہُوں گا!
51 کیا تُم گُمان کرتے ہو کہ مَیں زمِین پر صُلح کرانے آیا ہُوں؟ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہِیں بلکہ جُدائی کرانے۔
52 کِیُونکہ اَب سے ایک گھر کے پانچ آدمِی آپ میں مُخالفت رکھّیں گے۔ دو سے تِین اور تِین سے دو۔
53 باپ بَیٹے سے مُخالفت رکھّے گا اور بَیٹا باپ سے۔ ماں بَیٹی سے اور بَیٹی ماں سے۔ ساس بہو سے اور بہو ساس سے۔
54 پھِر اُس نے لوگوں سے بھی کہا جب بادل کو پچھّم سے اُٹھتے دیکھتے ہو تو فوراً کہتے ہو کہ مینہ برسیگا اور اَیسا ہی ہوتا ہے۔
55 اور جب تُم معلُوم کرتے ہو کہ دکھّنِا چل رہی ہے تو کہتے ہو کہ لُو چلے گی اور اَیسا ہی ہوتا ہے۔
56 اَے رِیاکارو زمِین اور آسمان کی صُورت میں تو اِمتیاز کرنا تُمہیں آتا ہے لیکِن اِس زمانہ کی بابت اِمتیاز کرنا کِیُوں نہِیں آتا؟
57 اور تُم اپنے آپ ہی کِیُوں فیصلہ نہِیں کرلیتے کہ کیا واجِب ہے۔
58 جب تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ حاکِم کے پاس جا رہا ہے تو راہ میں کوشِش کر کہ اُس سے چھُوٹ جائے۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ تُجھ کو مُنصِف کے پاس کھینچ کے لے جائے اور مُنصِف تُجھ کو سِپاہی کے حوالہ کرے اور سِپاہی تُجھے قَید میں ڈالے۔
59 مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ جب تک تُو دمڑی دمڑی ادا نہ کرے گا وہاں سے ہرگِز نہ چھُوٹے گا۔


باب 13

1 اُس وقت بعض لوگ حاضِر تھے جِنہوں نے اُسے اُن گلِیلوں کی خَبر دی جِن کا خُون پِیلاطُس نے اُن کے ذبِیحوں کے ساتھ مِلایا تھا۔
2 اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ اِن گلِیلوں نے اَیسا دُکھ پایا کیا وہ اِس لِئے تُمہاری دانِست میں اور سب گلِیلوں سے زِیادہ گُنہگار تھے؟
3 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہِیں بلکہ اگر تُم تَوبہ نہ کرو گے تو سب اِسی طرح ہلاک ہوگے۔
4 یا کیا وہ اٹھارہ آدمِی جِن پر شیلوخ کا بُرج گِرا اور دب کر مر گئے تُمہاری دانِست میں یروشلِیم کے اور سب رہنے والوں سے زِیادہ قُصُوروار تھے؟
5 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہِیں بلکہ اگر تُم تَوبہ نہ کرو گے تو سب اِسی طرح ہلاک ہوگے۔
6 پھِر اُس نے یہ تَمثِیل کہی کہ کِسی نے اپنے تاکِستان میں ایک انجِیر کا دَرخت لگایا۔ وہ اُس میں پھَل ڈھُونڈنے آیا اور نہ پایا۔
7 اِس پر اُس نے باغبان سے کہا کہ دیکھ تِین برس سے مَیں اِس انجِیر کے دَرخت میں پھَل ڈھُونڈنے آتا ہُوں اور نہِیں پاتا۔ اِسے کاٹ ڈال۔ یہ زمِین کو بھی کِیُوں روکے رہے؟
8 اُس نے جواب میں اُس سے کہا اَے خُداوند اِس سال تو اور بھی اُسے رہنے دے تاکہ مَیں اُس کے گِرد تھالا کھودُوں اور کھاد ڈالُوں۔
9 اگر آگے کو پھَلا تو خَیر نہِیں تو اُس کے بعد کاٹ ڈالنا۔
10 پھِر وہ سَبت کے دِن کِسی عِبادت خانہ میں تعلِیم دیتا تھا۔
11 اور دیکھو ایک عَورت تھی جِس کو اٹھارہ برس سے کِسی بد رُوح کے باعِث کمزوری تھی۔ وہ کُبڑی ہو گئی تھی اور کِسی طرح سِیدھی نہ ہوسکتی تھی۔
12 یِسُوع نے اُسے دیکھ کر بُلایا اور اُس سے کہا اَے عَورت تُو اپنی کمزوری سے چھُوٹ گئی۔
13 اور اُس نے اُس پر ہاتھ رکھّے۔ اُسی دم وہ سِیدھی ہو گئی اور خُدا کی تمجِید کرنے لگی۔
14 عِبادت خانہ کا سَردار اِس لِئے کہ یِسُوع نے سَبت کے دِن شِفا بخشی خفا ہوکر لوگوں سے کہنے لگا چھ دِن ہیں جِن میں کام کرنا چاہیئے پَس اُنہی میں آ کر شِفا پاؤ نہ کہ سَبت کے دِن۔
15 خُداوند نے اُس کے جواب میں کہا کہ اَے رِیاکارو! کیا ہر ایک تُم میں سے سَبت کے دِن اپنے بَیل یا گدھے کو تھان سے کھول کر پانی پِلانے نہِیں لے جاتا؟
16 پَس کیا واجِب نہ تھا کہ یہ جو ابرہام کی بَیٹی ہے جِس کو شَیطان نے اٹھارہ برس سے باندھ رکھّا تھا سَبت کے دِن اِس بند سے چھُڑائی جاتی؟
17 جب اُس نے یہ باتیں کہِیں تو اُس کے سب مُخالِف شرمِندہ ہُوئے اور ساری بھِیڑ اُن عالِیشان کاموں سے جو اُس سے ہوتے تھے خُوش ہُوئی۔
18 پَس وہ کہنے لگا خُدا کی بادشاہی کِس کی مانِند ہے؟ مَیں اُس کو کِس سے تشبِیہ دُوں؟
19 وہ رائی کے دانے کی مانِند ہے جِس کو ایک آدمِی نے لے کر اپنے باغ میں ڈال دِیا۔ وہ اُگ کر بڑا دَرخت ہوگیا اور ہوا کے پرِندوں نے اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کِیا۔
20 اُس نے پھِر کہا مَیں خُدا کی بادشاہی کو کِس سے تشبِیہ دُوں؟
21 وہ خَمِیر کی مانِند ہے جِسے ایک عَورت نے لے کر تِین پیمانہ آٹے میں مِلایا اور ہوتے ہوتے سب خَمِیر ہوگیا۔
22 وہ شہر شہر اور گاؤں کاؤں تعلِیم دیتا ہُؤا یروشِلیم کا سفر کر رہا تھا۔
23 اور کِسی شَخص نے اُس سے پُوچھا کہ اَے خُداوند! کیا نِجات پانے والے تھوڑے ہیں؟
24 اُس نے اُن سے کہا جانفشانی کرو کہ تنگ دروازہ سے داخِل ہو کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بہُتیرے داخِل ہونے کی کوشِش کریں گے اور نہ ہوسکیں گے۔
25 جب گھر کا مالِک اُٹھ کر دروازہ بند کر چُکا ہو اور تُم باہِر کھڑے دروازہ کھٹکھٹا کر یہ کہنا شُرُوع کرو کہ اَے خُداوند! ہمارے لِئے کھول دے اور وہ جواب دے کہ مَیں تُم کو نہِیں جانتا کہ کہاں کے ہو۔
26 اُس وقت تُم کہنا شُرُوع کرو گے کہ ہم نے تو تیرے رُوبرُو کھایا پِیا اور تُو نے ہمارے بازاروں میں تعلِِیم دی۔
27 مگر وہ کہے گا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نہِیں جانتا تُم کہاں کے ہو۔ اَے رِیاکارو! تُم سب مُجھ سے دُور ہو۔
28 وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہوگا جب تُم ابرہام اور اضحاق اور یَعقُوب اور سب نبِیوں کو خُدا کی بادشاہی میں شامِل اور اپنے آپ کو باہِر نِکالا ہُؤا دیکھو گے۔
29 اور پُورب پچھّم اُتر دکھن سے لوگ آ کر خُدا کی بادشاہی کی ضِیافت میں شرِیک ہوں گے۔
30 اور دیکھو بعض آخِر اَیسے ہیں جو اوّل ہوں گے اور بعض اوّل ہیں جو آخِر ہوں گے۔
31 اُسی گھڑی بعض فرِیسِیوں نے آ کر اُس سے کہا کہ نِکل کر یہاں سے چل دے کِیُونکہ ہیرودِیس تُجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔
32 اُس نے اُن سے کہا کہ جا کر اُس لَومڑی سے کہہ دو کہ دیکھ مَیں آج اور کل بد رُوحوں کو نِکالتا اور شِفا بخشنے کا کام انجام دیتا رہُوں گا اور تِیسرے دِن کمال کو پہُنچونگا۔
33 مگر مُجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرُور ہے کِیُونکہ مُمکِن نہِیں کہ نبی یروشلِیم سے باہِر ہلاک ہو۔
34 اَے یروشلِیم! اَے یروشلِیم! تُو جو نبِیوں کو قتل کرتی ہے اور جو تیرے پاس بھیجے گئے اُن کو سنگسار کرتی ہے کِتنی ہی بار مَیں نے چاہا کہ جِس طرح مرغی اپنے بچّوں کو پرّوں تَلے جمع کرتی ہے اُسی طرح مَیں بھی تیرے بچّوں کو جمع کر لُوں مگر تُم نے نہ چاہا!
35 دیکھو تُمہارا گھر تُمہارے ہی لِئے چھوڑا جاتا ہے اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مُجھ کو اُس وقت تک ہرگِز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہو گے کہ مُبارک ہے وہ جو خُدا کے نام سے آتا ہے۔


باب 14

1 پھِر اَیسا ہُؤا کہ وہ سَبت کے دِن فرِیسِیوں کے سَرداروں میں سے کِسی کے گھر کھانا کھانے کو گیا اور وہ اُس کی تاک میں رہے۔
2 اور دیکھو ایک شَخص اُس کے سامنے تھا جِسے جلِندر تھا۔
3 یِسُوع نے شرع کے عالِموں اور فرِیسِیوں سے کہا کہ سَبت کے دِن شِفا بخشنا روا ہے یا نہِیں؟
4 وہ چُپ رہ گئے۔ اُس نے اُسے ہاتھ لگا کر شِفا بخشی اور رُخصت کِیا۔
5 اور اُن سے کہا تُم میں اَیسا کَون ہے جِس کا گدھا یا بَیل کُنوئیں میں گِر پڑے اور وہ سَبت کے دِن اُس کو فوراً نہ نِکال لے؟
6 وہ اِن باتوں کا جواب نہ دے سکے۔
7 جب اُس نے دیکھا کے مہمان صدر جگہ کِس طرح پسند کرتے ہیں تو اُن سے ایک تَمثِیل کہی کہ۔
8 جب کوئی تُجھے شادِی میں بُلائے تو صدر جگہ پر نہ بَیٹھ کہ شاید اُس نے کِسی تُجھ سے بھی زِیادہ عِزّت دار کو بُلایا ہو۔
9 اور جِس نے تُجھے اور اُسے دونوں کو بُلایا ہے آ کر تُجھ سے کہے کہ اِس کو جگہ دے۔ پھِر تُجھے شرمِندہ ہوکر سب سے نِیچے بَیٹھنا پڑے۔
10 بلکہ جب تُو بُلایا جائے تو سب سے نِیچی جگہ جا بَیٹھ تاکہ جب تیرا بُلانے والا آئے تو تُجھ سے کہے اَے دوست آگے بڑھ کر بَیٹھ! تب اُن سب کی نظر میں جو تیرے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے ہیں تیری عِزّت ہوگی۔
11 کِیُونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کِیا جاَئے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کِیا جائے گا۔
12 پھِر اُس نے اپنے بُلانے والے سے بھی یہ کہا کہ جب تُو دِن کا یا رات کا کھانا تیّار کرے تو اپنے دوستوں یا بھائِیوں یا رِشتہ داروں یا دَولتمند پڑوسِیوں کو نہ بُلاتا اَیسا نہ ہو کہ وہ بھی تُجھے بُلائیں اور تیرا بدلہ ہو جائے۔
13 بلکہ جب تُو ضِیافت کرے تو غرِیبوں لُنجوں لنگڑوں اندھوں کو بُلا۔
14 اور تُجھ پر بَرکَت ہوگی کِیُونکہ اُن کے پاس تُجھ بدلہ دینے کو کُچھ نہِیں اور تُجھے راستبازوں کی قِیامت میں بدلہ مِلے گا۔
15 جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے اُن میں سے ایک نے یہ باتیں سُن کر اُس سے کہا مُبارک ہے وہ جو خُدا کی بادشاہی میں کھانا کھائے۔
16 اُس نے اُس سے کہا ایک شَخص نے بڑی ضِیافت کی اور بہُت سے لوگوں کو بُلایا۔
17 اور کھانے کے وقت اپنے نَوکر کو بھیجا کہ بُلائے ہُوؤں سے کہے کہ آؤ۔ اَب کھانا تیّار ہے۔
18 اِس پر سب نے مِل کر عُزر کرنا شُرُوع کِیا۔ پہلے نے اُس سے کہا مَیں نے کھیت خریدا ہے مُجھے ضرُور ہے کہ جا کر اُسے دیکھُوں۔ مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے معذُور رکھ۔
19 دُوسرے نے کہا مَیں نے پانچ جوڑی بَیل خریدے ہیں اور اُنہِیں آزمانے جاتا ہُوں۔ مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں مُجھے معذُور رکھ۔
20 ایک اور نے کہا مَیں نے بیاہ کِیا ہے۔ اِس سبب سے نہِیں آ سکتا۔
21 پَس اُس نَوکر نے آ کر اپنے مالِک کو اِن باتوں کی خَبر دی۔ اِس پر گھر کے مالِک نے غصّے ہوکر اپنے نَوکر سے کہا جلد شہر کے بازاروں اور کُوچوں میں جا کر غرِیبوں لُنجوں اندھوں اور لنگڑوں کو یہاں لے آ۔
22 نَوکر نے کہا اَے خُداوند! جَیسا تُو نے فرمایا وَیسا ہی ہُؤا اور اَب بھی جگہ ہے۔
23 مالِک نے اُس نَوکر سے کہا کہ سڑکوں اور کھیت کی باڑوں کی طرف جا اور لوگوں کو مجبُور کر کے لا تاکہ میرا گھر بھر جائے۔
24 کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو بُلائے گئے تھے اُن میں سے کوئی میرا کھانا چکھنے نہ پائے گا۔
25 جب بہُت سے لوگ اُس کے ساتھ جا رہے تھے تو اُس نے پھِر کر اُن سے کہا۔
26 اگر کوئی میرے پاس آئے اور اپنے باپ اور ماں اور بِیوی اور بچّوں اور بھائِیوں اور بہنوں بلکہ اپنی جان سے بھی دُشمنی نہ کرے تو میرا شاگِرد نہِیں ہو سکتا۔
27 جو کوئی اپنی صلِیب اُٹھا کر میرے پِیچھے نہ آئے وہ میرا شاگِرد نہِیں ہو سکتا۔
28 کِیُونکہ تُم میں سے اَیسا کون ہے کہ جب وہ ایک بُرج بنانا چاہے تو پہلے بَیٹھ کر لاگت کا حِساب نہ کرلے کہ آیا میرے پاس اُسے تیّار کرنے کا سامان ہے یا نہِیں؟
29 اَیسا نہ ہو کہ جب نیو ڈال کر تیّار نہ کر سکے تو سب دیکھنے والے یہ کہہ کر اُس پر ہنسنا شُرُوع کریں کہ۔
30 اِس شَخص نے عِمارت شُرُوع تو کی مگر تکمِیل نہ کرسکا۔
31 یا کَون اَیسا بادشاہ ہے جو دُوسرے بادشاہ سے لڑنے جاتا ہو اور پہلے بَیٹھ کر مَشوَرَہ نہ کرلے کہ آیا مَیں دس ہزار سے اُس کا مُقابلہ کر سکتا ہُوں یا نہِیں جو بِیس ہزار لے کر مُجھ پر چڑھا آتا ہے
32 نہِیں تو جب وہ ہنوز دُور ہی ہے ایلچی بھیج کر شرائطِ صُلح کی دَرخواست کرے گا۔
33 پَس اِسی طرح تُم میں سے جو کوئی اپنا سب کُچھ ترک نہ کرے وہ میرا شاگِرد نہِیں ہو سکتا۔
34 نمک اچھّا تو ہے لیکِن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کِس چِیز سے مزیدار کِیا جائے گا؟
35 نہ وہ زمِین کے کام کا رہا نہ کھاد کے۔ لوگ اُسے باہِر پھینک دیتے ہیں۔ جِس کے کان سُننے کے ہوں وہ سُن لے۔


باب 15

1 سب محصُول لینے والے اور گُنہگار اُس کے پاس آتے تھے تاکہ اُس کی باتیں سُنیں۔
2 اور فرِسی اور فقِیہ بُڑ بُڑا کر کہنے لگے یہ آدمِی گُنہگاروں سے مِلتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔
3 اُس نے اُن سے یہ تَمثِیل کہی کہ۔
4 تُم میں سے کَون سا اَیسا آدمِی ہے جِس کے پاس سو بھیڑیں ہوں اور اُن میں سے ایک کھو جائے تو نِنانوے کو بِیابان میں چھوڑ کر اُس کھوئی ہُوئی کو جب تک مِل نہ جائے ڈھُونڈتا نہ رہے؟
5 پھِر جب مِل جاتی ہے تو وہ خُوش ہو کر اُسے کندھے پر اُٹھا لیتا ہے۔
6 اور گھر پہُنچ کر دوستوں اور پڑوسِیوں کو بُلاتا ہے اور کہتا ہے میرے ساتھ خُوشی کرو کِیُونکہ میری کھوئی ہُوئی بھیڑ مِل گئی۔
7 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح نِنانوے راستبازوں کی نِسبت جو تَوبہ کی حاجت نہِیں رکھتے ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگار کے باعِث آسمان پر زِیادہ خُوشی ہوگی۔
8 یا کَون اَیسی عَورت ہے جِس کے پاس دَس درہم ہوں اور ایک کھو جائے تو وہ چراغ جلا کر گھر میں جھاڑو نہ دے اور جب تک مِل نہ جائے کوشِش سے ڈھُونڈتی نہ رہے؟
9 اور جب مِل جائے تو اپنی دوستوں اور پڑوسنوں کو بُلا کر نہ کہے کہ میرے ساتھ خُوشی کر کِیُونکہ میرا کھویا ہُؤا درہم مِل گیا۔
10 مَیں تُم سے کہتا ہُوں ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگار کے باعِث خُدا کے فرِشتوں کے سامنے خُوشی ہوتی ہے۔
11 پھِر اُس نے کہا کہ کِسی شَخص کے دو بَیٹے تھے۔
12 اُن میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا اَے باپ! مال کا جو حصّہ مُجھ کو پہُنچتا ہے مُجھے دیدے۔ اُس نے اپنا مال متاع اُنہِیں بانٹ دِیا۔
13 اور بہُت دِن نہ گُذرے کہ چھوٹا بَیٹا اپنا سب کُچھ جمع کر کے دُور دراز مُلک کو روانہ ہُؤا اور وہاں اپنا مال بدچلنی میں اُڑا دِیا۔
14 اور جب سب کُچھ خرچ کر چُکا تو اُس مُلک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔
15 پھِر اُس مُلک کے ایک باشِندہ کے ہاں جا پڑا۔ اُس نے اُس کو اپنے کھیتوں میں سوأر چرانے بھیجا۔
16 اور اُسے آرزو تھی کہ جو پھَلِیاں سوأر کھاتے تھے اُنہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اُسے نہ دیتا تھا۔
17 پھِر اُس نے ہوش میں آ کر کہا میرے باپ کے بہُت سے مزدُوروں کو افراط سے روٹی مِلتی ہے اور مَیں یہاں بھُوکا مر رہا ہُوں!
18 مَیں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اُس سے کہوں گا اَے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہُؤا۔
19 اب اِس لائِق نہِیں رہا پھِر تیرا بَیٹا کہلاؤں۔ مُجھے اپنے مزدُوروں جَیسا کرلے۔
20 پَس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔ وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اُسے دیکھ کر اُس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اُس کو گلے لگایا اور چُومہ۔
21 بَیٹے نے اُس سے کہا اَے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہُؤا۔ اَب اِس لائِق نہِیں رہا کہ پھِر تیرا بَیٹا کہلاؤں۔
22 باپ نے اپنے نَوکروں سے کہا اچھّے سے اچھّا لِباس جلد نِکال کر اُسے پہناؤ اور اُس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جُوتی پہناؤ۔
23 اور پلے ہُوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تاکہ ہم کھا کر خُوشی منائیں۔
24 کِیُونکہ میرا یہ بَیٹا مُردہ تھا۔ اَب زِندہ ہُؤا۔ کھو گیا تھا۔ اَب مِلا ہے۔ پَس وہ خُوشی منانے لگے۔
25 لیکِن اُس کا بڑا بَیٹا کھیت میں تھا۔ جب وہ آ کر گھر کے نذدِیک پہُنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سُنی۔
26 اور ایک نَوکر کو بُلا کر دریافت کرنے لگا یہ کیا ہو رہا ہے؟
27 اُس نے اُس سے کہا تیرا بھائِی آ گیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہُؤا بچھڑا زبح کرایا ہے کِیُونکہ اُسے بھلا چنگا پایا ہے۔
28 وہ غُصّے ہُؤا اور اَندر جانا نہ چاہا مگر اُس کا باپ باہِر جا کر اُسے منانے لگا۔
29 اُس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا دیکھ اِتنے برسوں سے مَیں تیری خِدمت کرتا ہُوں اور کبھی تیری حُکم عدولی نہِیں کی مگر مُجھے تُو نے کبھی ایک بکری کا بچّہ بھی نہ دِیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خُوشی مناتا۔
30 لیکِن جب تیرا یہ بَیٹا آیا جِس نے تیرا مال متاع کسبِیوں میں اُڑا دِیا تو اُس کے لِئے تُو نے پلا ہُؤا بچھڑا ذبح کرایا۔
31 اُس نے اُس سے کہا بَیٹا! تُو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کُچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے۔
32 لیکِن خُوشی منانا اور شادمان ہونا مُناسب تھا کِیُونکہ تیرا یہ بھائِی مُردہ تھا۔ اَب زِندہ ہُؤا۔ کھویا ہُؤا تھا۔ اَب مِلا ہے۔


باب 16

1 پھِر اُس نے شاگِردوں سے بھی کہا کہ کِسی دَولتمند کا ایک مُختار تھا۔ اُس کی لوگوں نے اُس سے شِکایت کی کہ یہ تیرا مال اُڑاتا ہے۔
2 پَس اُس نے اُس کو بُلا کر کہا کہ یہ کیا ہے جو مَیں تیرے حق میں سُنتا ہُوں؟ اپنی مُختاری کا حِساب دے کِیُونکہ آگے کو تُو مُختار نہِیں رہ سکتا۔
3 اُس مُختار نے اپنے جی میں کہا کہ کیا کرُوں؟ کِیُونکہ میرا مالِک مُجھ سے مُختاری چھِینے لیتا ہے۔ مٹّی تو مُجھ سے کھودی نہِیں جاتی اور بھِیک مانگنے سے شرم آتی ہے۔
4 مَیں سَمَجھ گیا کہ کیا کرُوں تاکہ جب مُختاری سے مَوقُوف ہو جاؤں تو لوگ مُجھے اپنے گھروں میں جگہ دیں۔
5 پَس اُس نے اپنے مالِک کے ایک ایک قرضدار کو بُلا کر پہلے سے پُوچھا کہ تُجھ پر میرے مالِک کا کیا آتا ہے؟
6 اُس نے کہا سَو من تیل۔ اُس نے اُس سے کہا اپنی دستاویز لے اور جلد بَیٹھ کر پچاس لِکھ دے۔
7 پھِر دُوسرے سے کہا تُجھ پر کیا آتا ہے؟ اُس نے کہا سَو من گیہُوں۔ اُس نے اُس سے کہا اپنی دستاویز لے کر اَسی لِکھ دے۔
8 اور مالِک نے بے اِیمان مُختار کی تعرِیف کی اِس لِئے کہ اُس نے ہوشیاری کی تھی کِیُونکہ اِس جہان کے فرزند اپنے ہمجِنسوں کے ساتھ مُعاملات میں نُور کے فرزندوں سے زِیادہ ہوشیار ہیں۔
9 اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ ناراستی کی دَولت سے اپنے لِئے دوست پَیدا کرو تاکہ جب وہ جاتی رہے تو یہ تُم کو ہمیشہ کے مسکنوں میں جگہ دیں۔
10 جو تھوڑے سے تھوڑے میں دِیانتدار ہے وہ بہُت میں بھی دِیانتدار ہے اور جو تھوڑے سے تھوڑے میں بددِیانت ہے وہ بہُت میں بھی بددِیانت ہے۔
11 پَس جب تُم ناراست دَولت میں دِیانتدار نہ ٹھہرے تو حقِیقی دَولت کَون تُمہارے سُپُرد کرے گا؟
12 اور اگر تُم بیگانہ مال میں دِیانتدار نہ ٹھہرے تو جو تُمہارا اپنا ہے اُسے کَون تُمہیں دے گا؟
13 کوئی نَوکر دو مالِکوں کو خِدمت نہِیں کر سکتا کِیُونکہ یا تو ایک سے عَداوَت رکھّے گا اور دُوسرے سے محبّت یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہِیں کرسکتے۔
14 فرِیسی جو زر دوست تھے اِن سب باتوں کو سُن کر اُسے ٹھٹھّے میں اُڑانے لگے۔
15 اُس نے اُن سے کہا کہ تُم وہ ہو کہ آدمِیوں کے سامنے اپنے آپ کو راستباز ٹھہراتے ہو لیکِن خُدا تُمہارے دِلوں کو جانتا ہے کِیُونکہ جو چِیز آدمِیوں کی نظر میں عالٰی قدر ہے وہ خُدا کے نذدِیک مکرُوہ ہے۔
16 شَرِیعَت اور انبِیا یُوحنّا تک رہے۔ اُس وقت سے خُدا کی بادشاہی کی خُوشخَبری دی جاتی ہے اور ہر ایک زور مار کر اُس میں داخِل ہوتا ہے۔
17 لیکِن آسمان اور زمِین کا ٹل جانا شَرِیعَت کے ایک لفظ کے مِٹ جانے سے آسان ہے۔
18 جو کوئی اپنی بِیوی کو چھوڑ کر دُوسری سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے اور جو شَخص شَوہر کی چھوڑی ہُوئی عَورت سے بیاہ کرے وہ بھی زِنا کرتا ہے۔
19 ایک دَولتمند تھا جو ارغوانی اور مہِین کپڑے پہنتا اور ہر روز خُوشی مناتا اور شان و شوکت سے رہتا تھا۔
20 اور لعزر نام ایک غرِیب ناسُوروں سے بھرا ہُؤا اُس کے دروازہ پر ڈالا گیا تھا۔
21 اُسے آرزُو تھی کہ دَولتمند کی میز سے گِرے ہُوئے ٹُکڑوں سے اپنا پیٹ بھرے بلکہ کُتّے بھی آ کر اُس کے ناسُور چاٹتے تھے۔
22 اور اَیسا ہُؤا کہ وہ غرِیب مر گیا اور فرِشتوں نے اُسے لیجا کر ابرہام کی گود میں پہُنچا دِیا اور دَولتمند بھی مُؤا اور دفن ہُؤا۔
23 اُس نے عالمِ ارواح کے درمِیان عذاب میں مُبتلا ہو کر اپنی آنکھیں اُٹھائِیں اور ابرہام کو دُور سے دیکھا اور اُس کی گود میں لعزر کو۔
24 اور اُس نے پُکار کر کہا اَے باپ ابرہام مُجھ پر رحم کر کے لعزر کو بھیج کہ اپنی اُنگلی کا سِرا پانی میں بھِگو کر میری زبان تر کرے کِیُونکہ مَیں اِس آگ میں تڑپتا ہُوں۔
25 ابرہام نے کہا بَیٹا! یاد کر کہ تُو اپنی زِندگی میں اپنی اچھّی چِیزیں لے چُکا اور اُسی طرح لعزر بُری چِیزیں لیکِن اَب وہ یہاں تسلّی پاتا ہے اور تُو تڑپتا ہے۔
26 اور اِن سب باتوں کے سِوا ہمارے تُمہارے درمِیان ایک بڑا گڑھا واقِع ہے۔ اَیسا کہ جو یہاں سے تُمہاری طرف پار جانا چاہیں نہ جا سکیں اور نہ کوئی اُدھر سے ہماری طرف آ سکے۔
27 اُس نے کہا پَس اَے باپ! مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ تُو اُسے میرے باپ کے گھر بھیج۔
28 کِیُونکہ میرے پانچ بھائِی ہیں تاکہ وہ اُن کے سامنے اِن باتوں کی گواہی دے۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ بھی اِس عذاب کی جگہ میں آئیں۔
29 ابرہام نے اُس سے کہا اُن کے پاس مُوسٰی اور انبِیا تو ہیں۔ اُن کی سُنیں۔
30 اُس نے کہا نہِیں اَے باپ ابرہام۔ ہاں اگر کوئی مُردوں میں سے اُن کے پاس جائے تو وہ تَوبہ کریں گے۔
31 اُس نے اُس سے کہا کہ جب وہ مُوسٰی اور نبِیوں ہی کی نہِیں سُنتے تو اگر مُردوں میں سے کوئی جی اُٹھے تو اُس کی بھی نہ مانیں گے۔


باب 17

1 پھِر اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ یہ نہِیں ہو سکتا کہ ٹھوکریں نہ لگیں لیکِن اُس پر افسوس ہے جِس کے باعِث سے لگیں!.
2 اِن چھوٹوں میں سے ایک کو ٹھوکر کھِلانے کی بہ نِسبت اُس شَخص کے لِئے یہ مُفِید ہوتا کہ چکّی کا پاٹ اُس کے گلے میں لٹکایا جاتا اور وہ سُمندر میں پھینکا جاتا۔
3 خَبردار رہو! اگر تیرا بھائِی گُناہ کرے تو اُسے ملامت کر۔ اگر تَوبہ کرے تو اُسے مُعاف کر۔
4 اور اگر وہ ایک دِن میں سات دفعہ تیرا گُناہ کرے اور ساتوں دفعہ تیرے پاس پھِر آ کر کہے کہ تَوبہ کرتا ہُوں تو اُسے مُعاف کر۔
5 اِس پر رَسُولوں نے خُداوند سے کہا ہمارے اِیمان کو بڑھا۔
6 خُداوند نے کہا کہ اگر تُم میں رائی کے دانے کے برابر بھی اِیمان ہوتا اور تُم اِس تُوت کے دَرخت سے کہتے کہ جڑ سے اُکھڑ کر سُمندر میں جا لگ تو تُمہاری مانتا۔
7 مگر تُم میں سے اَیسا کَون ہے جِس کا نَوکر ہل جوتتا یا گلہ بانی کرتا ہو اور جب وہ کھیت سے آئے تو اُس سے کہے کہ جلد آ کر کھانا کھانے بَیٹھ۔
8 اور یہ نہ کہے کہ میرا کھانا تیّار کر اور جب تک مَیں کھاؤں پِیُوں کمر باندھ کر میری خِدمت کر۔ اُس کے بعد تُو خُود کھا پی لینا؟
9 کیا وہ اِس لِئے اُس نَوکر کا احسان مانیگا کہ اُس نے اُن باتوں کی جِن کا حُکم ہُؤا تعمِیل کی؟
10 اِسی طرح تُم بھی جب اُن سب باتوں کی جِن کا تُمہیں حُکم ہُؤا تعمِیل کر چُکو تو کہو کہ ہم نِکمّے نَوکر ہیں۔ جو ہم پر کرنا فرض تھا وُہی کِیا ہے۔
11 اور اَیسا ہُؤا کہ یروشلِیم کو جاتے ہُوئے وہ سامریہ اور گلِیل کے بیچ سے ہوکر جا رہا تھا۔
12 اور ایک گاؤں میں داخِل ہوتے وقت دَس کوڑھی اُس کو مِلے۔
13 اُنہوں نے دُور کھڑے ہوکر بُلند آواز سے کہا اَے یِسُوع! اَے صاحِب! ہم پر رحم کر۔
14 اُس نے اُنہِیں دیکھ کر کہا جاؤ۔ اپنے تئِیں کاہِنوں کو دِکھاؤ اور اَیسا ہُؤا کہ وہ جاتے جاتے پاک صاف ہوگئے۔
15 پھِر اُن میں سے ایک یہ دیکھ کر کہ شِفا پا گیا بُلند آواز سے خُدا کی تمجِید کرتا ہُؤا لَوٹا۔
16 اور مُنہ کے بل یِسُوع کے پاؤں پر گِر کر اُس کا شُکر کرنے لگا اور وہ سامری تھا۔
17 یِسُوع نے جواب میں کہا کیا دسوں پاک صاف نہ ہُوئے؟ پھِر وہ نَو کہاں ہیں؟
18 کیا اِس پردیسی کے سِوا اَور نہ نِکلے جو لَوٹ کر خُدا کی تمجِید کرتے؟
19 پھِر اُس سے کہا اُٹھ کر چلا جا۔ تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کِیا ہے۔
20 جب فرِیسِیوں نے اُس سے پُوچھا کہ خُدا کی بادشاہی کب آئے گی؟ تو اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ خُدا کی بادشاہی ظاہِر طور پر نہ آئے گی۔
21 اور لوگ یہ نہ کہیں گے کہ دیکھو یہاں ہے! یا وہاں ہے! کِیُونکہ دیکھو خُدا کی بادشاہی تُمہارے درمِیان ہے۔
22 اُس نے شاگِردوں سے کہا وہ دِن آئیں گے کہ تُم کو اِبنِ آدم کے دِنوں میں سے ایک دِن کو دیکھنے کی آرزُو ہو گی اور نہ دیکھو گے۔
23 اور لوگ تُم سے کہنیں گے دیکھو وہاں ہے! یا دیکھو یہاں ہے! مگر تُم چلے نہ جانا نہ اُن کے پِیچھے ہو لینا۔
24 کِیُونکہ جَیسے بِجلی آسمان کی ایک طرف سے کَوند کر دُوسری طرف چمکتی ہے وَیسے ہی اِبنِ آدم اپنے دِن میں ظاہِر ہوگا۔
25 لیکِن پہلے ضرُور ہے کہ وہ دُکھ اُٹھائے اور اِس زمانہ کے لوگ اُسے ردّ کریں۔
26 اور جَیسا نُوح کے دِنوں میں ہُؤا تھا اُسی طرح اِبنِ آدم کے دِنوں میں بھی ہوگا۔
27 کہ لوگ کھاتے پِیتے تھے اور اُن میں بیاہ شادِی ہوتی تھی۔ اُس دِن تک جب نُوح کَشتی میں داخِل ہُؤا اور طُوفان نے آ کر سب کو ہلاک کِیا۔
28 اور جَیسا لُوط کے دِنوں میں ہُؤا تھا کہ لوگ کھاتے پِیتے اور خرِید و فروخت کرتے اور دَرخت لگاتے اور گھر بناتے تھے۔
29 لیکِن جِس دِن لُوط سدُوم سے نِکلا آگ اور گندھک نے آسمان سے برس کر سب کو ہلاک کِیا۔
30 اِبنِ آدم کے ظاہِر ہونے کے دِن بھی اَیسا ہی ہوگا۔
31 اُس دِن جو کوٹھے پر ہو اور اُس کا اسباب گھر میں ہو وہ اُسے لینے کو نہ اُترے اور اِسی طرح جو کھیت میں ہو وہ پِیچھے کو نہ لَوٹے۔
32 لُوط کی بِیوی کو یاد رکھّو۔
33 جو کوئی اپنی جان بَچانے کی کوشِش کرے وہ اُسے کھوئے گا اور جو کوئی اُسے کھوئے وہ اُس کو زِندہ رکھّے گا۔
34 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُس رات دو آدمِی ایک چار پائی پر سَوتے ہوں گے۔ ایک لے لِیا جائے گا اور دُوسرا چھوڑ دِیا جائے گا۔
35 دو عَورتیں ایک ساتھ چکّی پِستی ہوں گی۔ ایک لے لی جائے گی اور دُوسری چھوڑ دی جائے گی۔
36 [دو آدمِی کھیت میں ہوں گے ایک لے لِیا جائے گا اور دُوسرا چھوڑ دِیا جائے گا۔ ]
37 اُنہوں نے جواب میں اُس سے کہا کہ اَے خُداوند! یہ کہاں ہوگا؟ اُس نے اُن سے کہا جہاں مُردار ہے وہاں گِدھ بھی جمع ہوں گے۔


باب 18

1 پھِر اُس نے اِس غرض سے کہ ہر وقت دُعا کرتے رہنا اور ہمّت نہ ہارنا چاہیئے اُن سے یہ تَمثِیل کہی کہ۔
2 کِسی شہر میں ایک قاضی تھا۔ نہ وہ خُدا سے ڈرتا تھا نہ آدمِی کی کُچھ پروا کرتا تھا
3 اور اُسی شہر میں ایک بیوہ تھی جو اُس کے پاس آ کر یہ کہا کرتی تھی کہ میرا اِنصاف کر کے مُجھے مُدّعی سے بَچا۔
4 اُس نے کُچھ عرصہ تک تو نہ چاہا لیکِن آخِر اُس نے اپنے جی میں کہا کہ گو مَیں نہ خُدا سے ڈرتا اور نہ آدمِیوں کی کُچھ پروا کرتا ہُوں۔
5 تَو بھی اِس لِئے کہ یہ بیوا مُجھے ستاتی ہے مَیں اِس کا اِنصاف کرُوں گا۔ اَیسا نہ ہو کہ یہ بار بار آ کر آخِر کو میرا ناک میں دم کرے۔
6 خُداوند نے کہا سُنو یہ بے اِنصاف قاضی کیا کہتا ہے۔
7 پَس کیا خُدا اپنے برگُزِیدوں کا اِنصاف نہ کرے گا جو رات دِن اُس سے فریاد کرتے ہیں؟ اور کیا وہ اُن کے بارے میں دیر کرے گا؟
8 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ وہ جلد اُن کا اِنصاف کرے گا۔ تو بھی جب اِبنِ آدم آئے گا تو کیا زمِین پر اِیمان پائے گا؟
9 پھِر اُس نے بعض لوگوں سے جو اپنے پر بھروسہ رکھتے تھے کہ ہم راستباز ہیں اور باقی آدمِیوں کو ناچِیز جانتے تھے یہ تَمثِیل کہی۔
10 کہ دو شَخص ہَیکل میں دُعا کرنے گئے۔ ایک فرِیسی۔ دُوسرا محصُول لینے والا۔
11 فرِیسی کھڑا ہو کر اپنے جی میں یُوں دُعا کرنے لگا کہ اَے خُدا! مَیں تیرا شُکر ادا کرتا ہُوں کہ باقی آدمِیوں کی طرح ظالِم بے اِنصاف زِناکار یا اِس محصُول لینے والے کی مانِند نہِیں ہُوں۔
12 مَیں ہفتہ میں دو بار روزہ رکھتا اور اپنی ساری آمدنی پر دہ یکی دیتا ہُوں۔
13 لیکِن محصُول لینے والے نے دُور کھڑے ہو کر اِتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف آنکھ اُٹھائے بلکہ چھاتی پِیٹ پِیٹ کر کہا اَے خُدا! مُجھ گُنہگار پر رحم کر۔
14 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہ شَخص دُوسرے کی نِسبت راستباز ٹھہر کر اپنے گھر گیا کِیُونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کِیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کِیا جائے گا۔
15 پھِر لوگ اپنے چھوٹے بچّوں کو بھی اُس کے پاس لانے لگے تاکہ وہ اُن کو چھُوئے اور شاگِردوں نے دیکھ کر اُن کو جھِڑکا۔
16 مگر یِسُوع نے بچّوں کو اپنے پاس بُلایا اور کہا کہ بچّوں کو میرے پاس آنے دو اور اُنہِیں منع نہ کرو کِیُونکہ خُدا کی بادشاہی اَیسوں ہی کی ہے۔
17 مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی خُدا کی بادشاہی کو بچّے کی طرح قُبُول نہ کرے وہ اُس میں ہرگِز داخِل نہ ہوگا۔
18 پھِر کِسی سَردار نے اُس سے یہ سوال کِیا کہ اَے نیک اُستاد! مَیں کیا کرُوں تاکہ ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث بنُوں؟
19 یِسُوع نے اُس سے کہا تُو مُجھے کِیُوں نیک کہتا ہے؟ کوئی نیک نہِیں مگر ایک یعنی خُدا۔
20 تُو حُکموں کو تو جانتا ہے۔ زِنا نہ کر۔ خُون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ جھُوٹی گواہی نہ دے۔ اپنے باپ کی اور ماں کی عِزّت کر۔
21 اُس نے کہ مَیں نے لڑکپن سے اِن سب پر عمل کِیا ہے۔
22 یِسُوع نے یہ سُن کر اُس سے کہا ابھی تک تُجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اپنا سب کُچھ بیچ کر غرِیبوں کو بانٹ دے۔ تُجھے آسمان پر خزانہ مِلے گا اور آ کر میرے پِیچھے ہو لے۔
23 یہ سُن کر وہ بہُت غمگِین ہُؤا کِیُونکہ بڑا دَولتمند تھا۔
24 یِسُوع نے اُس کو دیکھ کر کہا کہ دَولتمندوں کا خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہونا کَیسا مُشکِل ہے!
25 کِیُونکہ اُنٹ کا سُوئی کے ناکے میں سے نِکل جانا اِس سے آسان ہے کہ دَولتمند خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہو۔
26 سُننے والوں نے کہا تو پھِر کَون نِجات پا سکتا ہے؟
27 اُس نے کہا جو اِنسان سے نہِیں ہو سکتا وہ خُدا سے ہو سکتا ہے۔
28 پطرس نے کہا دیکھ ہم تو اپنا گھر بار چھوڑ کر تیرے پِیچھے ہو لِئے ہیں۔
29 اُس نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ اَیسا کوئی نہِیں جِس نے گھر یا بِیوی یا بھائِیوں یا ماں باپ یا بچّوں کو خُدا کی بادشاہی کی خاطِر چھوڑ دِیا ہو۔
30 اور اِس زمانہ میں کئی گُنا زِیادہ نہ پائے اور آنے والے عالم میں ہمیشہ کی زِندگی۔
31 پھِر اُس نے اُن بارہ کو ساتھ لے کر اُن سے کہا کہ دیکھو ہم یروشلِیم کو جاتے ہیں اور جِتنی باتیں نبِیوں کی معرفت لِکھی گئی ہیں اِبنِ آدم کے حق میں پُوری ہوں گی۔
32 کِیُونکہ وہ غَیر قَوم والوں کے حوالہ کِیا جائے گا اور لوگ اُس کو ٹھَٹھَوں میں اُڑائیں گے اور بیعِزّت کریں گے اور اُس پر تھُوکیں گے۔
33 اور اُس کو کوڑے ماریں گے اور قتل کریں گے اور وہ تِیسرے دِن جی اُٹھے گا۔
34 لیکِن اُنہوں نے اِن میں سے کوئی بات نہ سَمَجھی اور یہ قَول اُن پر پوشِیدہ رہا اور اِن باتوں کا مطلب اُن کی سَمَجھ میں نہ آیا۔
35 جب وہ چلتے چلتے یریحُو کے نزدِیک پہُنچا تو اَیسا ہُؤا کہ ایک اَندھا راہ کے کِنارے بَیٹھا ہُؤا بھِیک مانگ رہا تھا۔
36 وہ بھِیڑ کے جانے کی آواز سُن کر پُوچھنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟
37 اُنہوں نے اُسے خَبر دی کہ یِسُوع ناصری جا رہا ہے۔
38 اُس نے چِلّا کر کہا اَے یِسُوع اِبنِ داؤد مُجھ پر رحم کر۔
39 جو آگے جاتے تھے وہ اُس کو ڈانٹنے لگے کہ چُپ رہے مگر وہ اَور بھی چِلّایا کہ اَے اِبنِ داؤد مُجھ پر رحم کر۔
40 یِسُوع نے کھڑے ہو کر حُکم دِیا کہ اُس کو میرے پاس لاؤ۔ جب وہ نزدِیک آیا تو اُس نے اُس سے پُوچھا۔
41 تُو کیا چاہتا ہے کہ مَیں تیرے لِئے کرُوں؟ اُس نے کہا اَے خُداوند یہ کہ مَیں بِینا ہو جاؤں۔
42 یِسُوع نے اُس سے کہا بِینا ہو جا۔ تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کِیا۔
43 وہ اُسی دم بِینا ہوگیا اور خُدا کی تمجِید کرتا ہُؤا اُس کے پِیچھے ہو لِیا اور سب لوگوں نے دیکھ کر خُدا کی حمد کی۔


باب 19

1 وہ یریحُو میں داخِل ہو کر جا رہا تھا۔
2 اور دیکھو زکائی نام ایک آدمِی تھا جو محصُول لینے والوں کا سَردار اور دَولتمند تھا۔
3 وہ یِسُوع کو دیکھنے کی کوشِش کرتا تھا کہ کَون سا ہے لیکِن بھِیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا۔ اِس لِئے کے اُس کا قد چھوٹا تھا۔
4 پَس اُسے دیکھنے کے لِئے آگے دَوڑ کر ایک گُولر کر پیڑ پر چڑھ گیا کِیُونکہ وہ اُسی راہ سے جانے کو تھا۔
5 جب یِسُوع اُس جگہ پہُنچا تو اُوپر نِگاہ کر کے اُس سے کہا اَے زکائی جلد اُتر آ کِیُونکہ آج مُجھے تیرے گھر رہنا ضرُور ہے۔
6 وہ جلد اُتر کر اُس کو خُوشی سے اپنے گھر لے گیا۔
7 جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بُڑ بُڑا کر کہنے لگے کہ یہ تو ایک گُنہگار شَخص کے ہاں جا اُترا۔
8 اور زکائی نے کھڑے ہو کر خُداوند سے کہا اَے خُداوند دیکھ مَیں اپنا آدھا مال غرِیبوں کو دیتا ہُوں اور اگر کِسی کا کُچھ ناحق لے لِیا ہے تَو اُس کو چَوگُنا ادا کرتا ہُوں۔
9 یِسُوع نے اُس سے کہا آج اِس گھر میں نِجات آئی ہے۔ اِس لِئے کہ یہ بھی ابرہام کا بَیٹا ہے۔
10 کِیُونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈھُونڈنے اور نِجات دینے آیا ہے۔
11 جب وہ اِن باتوں کو سُن رہے تھے تو اُس نے ایک تَمثِیل بھی کہی۔ اِس لِئے کہ روسلِیم کے نزدِیک تھا اور وہ گُمان کرتے تھے کہ خُدا کی بادشاہی ابھی ظاہِر ہُؤا چاہتی ہے۔
12 پَس اُس نے کہا کہ ایک امِیر دُور دراز مُلک کو چلا تاکہ بادشاہی حاصِل کر کے پھِر آئے۔
13 اُس نے اپنے نَوکروں میں سے دس کو بُلا کر اُنہِیں دس اشرفیاں دِیں اور اُن سے کہا کہ میرے واپَس آنے تک لین دین کرنا۔
14 لیکِن اُس کے شہر کے آدمِی اُس سے عَداوَت رکھتے تھے اور اُس کے پِیچھلے ایلچِیوں کی زبانی کہلا بھیجا کہ ہم نہِیں چاہتے کہ یہ ہم پر بادشاہی کرے۔
15 جب وہ بادشاہی حاصِل کر کے پھِر آیا تو اَیسا ہُؤا کہ اُن نَوکروں کو بُلا بھیجا جِن کو رُوپِیہ دِیا تھا۔ تاکہ معلُوم کرے کہ اُنہوں نے لین دین سے کیا کیا کمایا۔
16 پہلے نے حاضِر ہو کر کہا اَے خُداوند تیری اشرفی سے دس اشرفِیاں پَیدا ہوئِیں۔
17 اُس نے اُس سے کہا اَے اچھّے نَوکر شاباش! اِس لِئے کہ تُو نِہایت تھوڑے میں دِیانتدار نِکلا اَب تُو دس شہروں پر اِختیّار رکھ۔
18 دُوسرے نے آ کر کہا اَے خُداوند تیری اشرفی سے پانچ اشرفِیاں پَیدا ہوئِیں۔
19 اُس نے اُس سے بھی کہا کہ تُو بھی پانچ شہروں کا حاکِم ہو۔
20 تِیسرے نے کہا اَے خُداوند تیری اشرفی یہ ہے جِس کو مَیں نے رُومال میں باندھ رکھّا۔
21 کِیُونکہ مَیں تُجھ سے ڈرتا تھا اِس لِئے کہ تُو سخت آدمِی ہے۔ جو تُو نے نہِیں رکھّا اُسے اُٹھا لیتا ہے اور جو تُو نے نہِیں بویا اُسے کاٹتا ہے۔
22 اُس نے اُس سے کہا اَے شرِیر نَوکر مَیں تُجھ کو تیرے ہی مُنہ سے مُلزِم ٹھہراتا ہُوں۔ تُو مُجھے جانتا تھا کہ سخت آدمِی ہُوں اور جو مَیں نے نہِیں رکھّا اُسے اٹھا لیتا اور جو نہِیں بویا اُسے کاٹتا ہُوں۔
23 پھِر تُو نے میرا رُوپِیہ ساہُوکار کے ہاں کِیُوں نہ رکھ دِیا کہ مَیں آ کر اُسے سُود سمیت لے لیتا؟
24 اور اُس نے اُن سے کہا جو پاس کھڑے تھے کہ وہ اشرفی اُس سے لے لو اور دس اشرفی والے کو دے دو۔
25 (اُنہوں نے اُس سے کہا اَے خُداوند اُس کے پاس دس اشرفیاں تو ہیں۔ )
26 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جِس کے پاس ہے اُس کو دِیا جائے گا اور جِس کے پاس نہِیں اُس سے وہ بھی لے لِیا جائے گا جو اُس کے پاس ہے۔
27 مگر میرے اُن دُشمنوں کو جِنہوں نے نہ چاہا تھا کہ مَیں اُن پر بادشاہی کرُوں یہاں لا کر میرے سامنے قتل کرو۔
28 یہ باتیں کہہ کر وہ یروشلِیم کی طرف اُن کے آگے آگے چلا۔
29 جب وہ اُس پہاڑ پر جو زَیتُون کا کہلاتا ہے بَیت فگے اور بَیت عنِیاہ کے نزدِیک پہُنچا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے شاگِردوں میں سے دو کو یہ کہہ کر بھیجا۔
30 کہ سامنے کے گاؤں میں جاؤ اور اُس میں داخِل ہوتے ہی ایک گدھی کا بچّہ بندھا ہُؤا مِلے گا جِس پر کبھی کوئی آدمِی سوار نہِیں ہُؤا۔ اُسے کھول لاؤ۔
31 اور اگر کوئی تُم سے پُوچھے کہ کِیُوں کھولتے ہو؟ تو یُوں کہہ دینا کہ خُداوند کو اِس کی ضرُورت ہے۔
32 پَس جو بھیجے گئے تھے اُنہوں نے جا کر جَیسا اُس نے اُن سے کہا تھا وَیسا ہی پایا۔
33 جب گدھی کے بچّہ کو کھول رہے تھے تو اُس کے مالِکوں نے اُن سے کہا کہ اِس بچّہ کو کِیُوں کھولتے ہو؟
34 اُنہوں نے کہا کہ خُداوند کو اِس کی ضرُورت ہے۔
35 وہ اُس کو یِسُوع کے پاس لے آئے اور اپنے کپڑے اُس بچّہ پر ڈال کر یِسُوع کو سوار کِیا۔
36 جب جا رہا تھا تو وہ اپنے کپڑے راہ میں بِچھاتے جاتے تھے۔
37 اور جب وہ شہر کے نزدِیک زَیتُون کے پہاڑ کے اُتار پر پہُنچا تو شاگِردوں کی ساری جماعت اُن سب مُعجزوں کے سبب سے جو اُنہوں نے دیکھے تھے خُوش ہو کر بُلند آواز سے خُدا کی حمد کرنے لگی۔
38 کہ مُبارک ہے وہ بادشاہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے۔ آسمان پر صُلح اور عالمِ بالا پر جلال!
39 بھِیڑ میں سے بعض فرِیسِیوں نے اُس سے کہا اَے اُستاد! اپنے شاگِردوں کو ڈانٹ دے۔
40 اُس نے جواب میں کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر یہ چُپ رہیں تو پتھّر چِلّا اُٹھیں گے۔
41 جب نزدِیک آ کر شہر کو دیکھا تو اُس پر رویا اور کہا۔
42 کاش کہ تُو اپنے اِسی دِن میں سَلامتی کی باتیں جانتا! مگر اَب وہ تیری آنکھوں سے چھِپ گئی ہیں۔
43 کِیُونکہ وہ دِن تُجھ پر آئیں گے کہ تیرے دُشمن تیرے گِرد مورچہ باندھ کر تُجھے گھیر لیں گے اور ہر طرف سے تنگ کریں گے۔
44 اور تُجھ کو اور تیرے بچّوں کو جو تُجھ میں ہیں زمِین پر دے پٹکیں گے اور تُجھ میں کِسی پتھّر پر پتھّر باقی نہ چھوڑیں گے اِس لِئے کہ تُو نے اُس وقت کو نہ پہچانا جب تُجھ پر نِگاہ کی گئی۔
45 پھِر وہ ہَیکل میں جا کر بیچنے والوں کو نِکالنے لگا۔
46 اور اُن سے کہا لِکھا ہے کہ میرا گھر دُعا کا گھر ہو گا مگر تُم نے اِس کو ڈاکُوؤں کی کھوہ بنا دِیا۔
47 اور وہ ہر روز ہَیکل میں تعلِیم دیتا تھا مگر سَردار کاہِن اور فقِیہ اور قَوم کے رئِیس اُس کے ہلاک کرنے کی کوشِش میں تھے۔
48 لیکِن کوئی تدبِیر نہ نِکال سکے کہ یہ کِس طرح کریں کِیُونکہ سب لوگ بڑے شَوق سے اُس کی سُنتے تھے۔


باب 20

1 اُن دِنوں میں ایک روز اَیسا ہُؤا کہ جب وہ ہَیکل میں لوگوں کو تعلِیم اور خُوشخَبری دے رہا تھا تو سَردار کاہِن اور فقِیہ بُزُرگوں کے ساتھ اُس کے پاس آ کھڑے ہُوئے۔
2 اور کہنے لگے کہ ہمیں بتا۔ تُو اِن کاموں کو کِس اِختیّار سے کرتا ہے یا کَون ہے جِس نے تُجھ کو یہ اِختیّار دِیا ہے؟
3 اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ مَیں بھی تُم سے ایک بات پُوچھتا ہُوں۔ مُجھے بتاؤ۔
4 یُوحنّا کا بپتِسمہ آسمان کی طرف سے تھا یا اِنسان کی طرف سے؟
5 اُنہوں نے آپس میں صلاح کی کہ اگر ہم کہیں آسمان کی طرف سے تو وہ کہے گا تُم نے کیون اُس کا یقِین نہ کِیا؟
6 اور اگر کہیں کہ اِنسان کی طرف سے تو سب لوگ ہم کو سنگسار کریں گے کِیُونکہ اُنہِیں یقِین ہے کہ یُوحنّا نبی تھا۔
7 پَس اُنہوں نے جواب دِیا ہم نہِیں جانتے کہ کِس کی طرف سے تھا۔
8 یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں بھی تُمہیں نہِیں بتاتا کہ اِن کاموں کو کِس اِختیّار سے کرتا ہُوں۔
9 پھِر اُس نے لوگوں سے یہ تَمثِیل کہنی شُرُوع کی کہ ایک شَخص نے تاکِستان لگا کر باغبانوں کو ٹھیکے پر دِیا اور ایک بڑی مُدّت کے لِئے پردیس چلا گیا۔
10 اور پھَل کے مَوسم پر اُس نے ایک نَوکر باغبانوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ تاکِستان کے بھَل کا حِصّہ اُسے دیں لیکِن باغبانوں نے اُس کو پِیٹ کر خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔
11 پھِر اُس نے ایک اور نَوکر بھیجا۔ اُنہوں نے اُس کو بھی پِیٹ کر اور بےعِزّت کر کے خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔
12 پھِر اُس نے تِیسرا بھیجا۔ اُنہوں نے اُس کو بھی زخمی کر کے نِکال دِیا۔
13 اِس پر تاکِستان کے مالِک نے کہا کہ کیا کرُوں؟ مَیں اپنے پیارے بَیٹے کو بھیجُوں گا۔ شاید اُس کا لِحاظ کریں۔
14 جب باغبانوں نے اُسے دیکھا تو آپس میں صلاح کر کے کہا یہی وارِث ہے اِسے قتل کریں کہ مِیراث ہماری ہو جائے۔
15 پَس اُس کو تاکِستان سے باہِر نِکال کر قتل کِیا۔ اَب تاکِستان کا مالِک اُن کے ساتھ کیا کرے گا؟
16 وہ آ کر اُن باغبانوں کو ہلاک کرے گا اور تاکِستان اَوروں کو دے دے گا۔ اُنہوں نے یہ سُن کر کہا خُدا نہ کرے۔
17 اُس نے اُن کی طرف دیکھ کر کہا۔ پھِر یہ کیا لِکھا ہے کہ جِس پتھّر کو مِعماروں نے ردّ کِیا وُہی کونے کے سِرے کا پتھّر ہو گیا؟
18 جو کوئی اُس پتھّر پر گِرے گا اُس کے ٹُکڑے ٹُکڑے ہو جائیں گے لیکِن جِس پر وہ گِرے گا اُسے پِیس ڈالے گا۔
19 اُسی گھڑی فقِہوں اور سَردار کاہِنوں اُسے پکڑنے کی کوشِش کی مگر لوگوں سے ڈرے کِیُونکہ وہ سَمَجھ گئے تھے کہ اُس نے یہ تَمثِیل ہم پر کہی۔
20 اور وہ اُس کی تاک میں لگے اور جاسُوس بھیجے کہ راستباز بن کر اُس کی کوئی بات پکڑیں تاکہ اُس کو حاکِم کے قبضہ اور اِختیّار میں دے دیں۔
21 اُنہوں نے اُس سے یہ سوال کِیا کہ اَے اُستاد ہم جانتے ہیں کہ تیرا کلام اور تعلِیم دُرُست ہے اور تُو کِسی کی طرفداری نہِیں کرتا بلکہ سَچّائی سے خُدا کی تعلِیم دیتا ہے۔
22 ہمیں قَیصر کو خِراج دینا روا ہے یا نہِیں؟
23 اُس نے اُن کی مکّاری معلُوم کر کے اُن سے کہا۔
24 ایک دِینار مُجھے دِکھاؤ۔ اُس پر کِس کی صُورت اور نام ہے؟ اُنہوں نے کہا قَیصر کا۔
25 اُس نے اُن سے کہا پَس جو قَیصر کا ہے قَیصر کو اور جو خُدا کا ہے وہ خُدا کو ادا کرو۔
26 وہ لوگوں کے سامنے اُس قَول کو پکڑ نہ سکے بلکہ اُس کے جواب سے تعّجُب کر کے چُپ ہو رہے۔
27 پھِر صدُوقی جو کہتے ہیں کہ قِیامت ہے ہی نہِیں اُن میں سے بعض نے اُس کے پاس آ کر یہ سوال کِیا کہ۔
28 اَے اُستاد مُوسیٰ نے ہمارے لِئے لِکھا ہے کہ اگر کِسی کا بیاہا ہُؤا بھائِی بے اَولاد مر جائے تو اُس کا بھائِی اُس کی بِیوی کو کر لے اور اپنے بھائِی کے لِئے نسل پَیدا کرے۔
29 چُناچہ سات بھائِی تھے۔ پہلے نے بِیوی کی اور بے اَولاد مر گیا۔
30 پھِر دُوسرے نے اُسے لِیا اور تِیسرے نے بھی۔
31 اِسی طرح ساتوں بے اَولاد مر گئے۔
32 آخِر کو وہ عَورت بھی مر گئی۔
33 پَس قِیامت میں وہ عَورت اُن میں سے کِس کی بِیوی ہوگی؟ کِیُونکہ وہ ساتوں کی بِیوی بنی تھی۔
34 یِسُوع نے اُن سے کہا کہ اِس جہان کے فرزندوں میں تو بیاہ شادِی ہوتی ہے۔
35 لیکِن جو لوگ اِس لائِق ٹھہریں گے کہ اُس جہان کو حاصِل کریں اور مُردوں میں سے جی اُٹھیں اُن میں بیاہ شادِی نہ ہوگی۔
36 کِیُونکہ وہ پھِر مرنے کے بھی نہِیں اِس لِئے کے فرِشتوں کے برابر ہوں گے اور قِیامت کے فرزند ہو کر خُدا کے بھی فرزند ہوں گے۔
37 لیکِن اِس بات کو کہ مُردے جی اُٹھتے ہیں مُوسیٰ نے بھی جھاڑی کے ذِکر میں ظاہِر کِیا ہے۔ چُناچہ وہ خُداوند کو ابرہام کا خُدا اور اِضحاق کا خُدا اور یَعقُوب کا خُدا کہتا ہے۔
38 لیکِن خُدا مُردوں کا خُدا نہِیں بلکہ زِندوں کا ہے کِیُونکہ اُس کے نزدِیک سب زِندہ ہیں۔
39 تب بعض فقِیہوں نے جواب میں اُس سے کہا کہ اَے اُستاد تُو نے خُوب فرمایا۔
40 کِیُونکہ اُن کو اُس سے پھِر کوئی سوال کرنے کی جُرأت نہ ہُوئی۔
41 پھِر اُس نے اُن سے کہا مسِیح کو کِس طرح داؤد کا بَیٹا کہتے ہیں؟
42 داؤد تو زبُور میں آپ کہتا ہے کہ خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا میری دہنی طرف بَیٹھ۔
43 جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں تَلے کی چَوکی نہ کر دُوں۔
44 پَس داؤد تو اُسے خُداوند کہتا ہے پھِر وہ اُس کا بَیٹا کیونکر ٹھہرا؟
45 جب سب لوگ سُن رہے تھے تو اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا۔
46 کہ فقِیہوں سے خَبردار رہنا جو لمبے لمبے جامے پہنکر پھِرنے کا شَوق رکھتے ہیں اور بازاروں میں سَلام اور عِبادت خانوں میں اعلٰی درجہ کی کُرسِیاں اور ضِیافتوں میں صدر نشِینی پسند کرتے ہیں۔
47 وہ بیواؤں کے گھروں کو دبا بَیٹھتے ہیں اور دِکھاوے کے لِئے نماز کو طُول دیتے ہیں۔ اِنہِیں زِیادہ سزا ہوگی۔


باب 21

1 پھِر اُس نے آنکھ اُٹھا کر اُن دَولتمندوں کو دیکھا جو اپنی نذروں کے رُوپے ہَیکل کے خزانہ میں ڈال رہے تھے۔
2 اور ایک کنگال بیوہ کو بھی اُس میں دو دمڑِیاں ڈالتے دیکھا۔
3 اِس پر اُس نے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ اِس کنگال بیوہ نے سب سے زِیادہ ڈالا۔
4 کِیُونکہ اُن سب نے اپنے مال کی بہُتات سے نذر کا چندہ ڈالا مکر اِس نے اپنی ناداری کی حالت میں جتنی روزی اُس کے پاس تھی سب ڈال دی۔
5 اور جب بعض لوگ ہَیکل کی بابت کہہ رہے تھے کہ وہ نفِیس پتھّروں اور نذر کی ہُوئی چِیزوں سے آراستہ ہے تو اُس نے کہا۔
6 وہ دِن آئیں گے کہ اِن چِیزوں میں سے جو تُم دیکھتے ہو یہاں کِسی پتھّر پر پتھّر باقی نہ رہے گا جو گِرایا نہ جائے۔
7 اُنہوں نے اُس سے پُوچھا کہ اَے اُستاد! پھِر یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور جب وہ ہونے کو ہوں اُس وقت کا کیا نِشان ہے؟
8 اُس نے کہا خَبردار! گُمراہ نہ ہونا کِیُونکہ بہُتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ مَیں ہُوں اور یہ بھی کہ وقت نزدِیک آ پہُنچا ہے۔ تُم اُن کے پِیچھے نہ چلے جانا۔
9 اور جب لڑائیوں اور فسادوں کی افواہیں سُنو تو گھبرا نہ جانا کِیُونکہ اُن کا پہلے واقِع ہونا ضرُور ہے لیکِن اُس وقت فوراً خاتِمہ نہ ہوگا۔
10 پھِر اُس نے اُن سے کہا کہ قَوم پر قَوم اور سلطنت پر لطنت چڑھائی کرے گی۔
11 اور بڑے بڑے بھَونچال آئیں گے اور جابجا کال اور مری پڑے گی اور آسمان پر بڑی بڑی دہشتناک باتیں اور نِشانِیاں ظاہِر ہوں گی۔
12 لیکِن اِن سب باتوں سے پہلے وہ میرے نام کے سبب سے تُمہیں پکڑیں گے اور ستائیں گے اور عِبادت خانوں کی عدالت کے حوالہ کریں گے اور قَید خانوں میں ڈلوائیں گے اور بادشاہوں اور حاکِموں کے سامنے حاضِر کریں گے۔
13 اَور یہ تُمہارا گواہی دینے کا مَوقع ہوگا۔
14 پَس اپنے دِل میں ٹھان رکھّو کہ ہم پہلے سے فِکر نہ کریں گے کہ کیا جواب دیں۔
15 کِیُونکہ مَیں تُمہیں اَیسی زبان اور حِکمت دُوں گا کہ تُمہارے کِسی مُخالِف کو سامنا کرنے یا خِلاف کہنے کا مقدُور نہ ہوگا۔
16 اور تُمہیں ماں باپ اور بھائِی اور رِشتہ دار اور دوست بھی پکڑوائیں گے بلکہ وہ تُم میں سے بعض کو مروا ڈالیں گے۔
17 اور میرے نام کے سبب سے سب لوگ تُم سے عَداوَت رکھّیں گے۔
18 لیکِن تُمہارے سر کا ایک بال بھی بِیکا نہ ہوگا۔
19 اپنے صبر سے تُم اپنی جانیں بَچائے رکھّو گے۔
20 پھِر جب تُم یروشلِیم کو فَوجوں سے گھِرا ہُؤا دیکھو تو جان لینا کہ اُس کا اُجڑ جانا نزدِیک ہے۔
21 اُس وقت جو یہُودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو یروشلِیم کے اَندر ہوں باہِر نِکل جائیں اور جو دِیہات میں ہوں شہر میں نہ جائیں۔
22 کِیُونکہ یہ اِنتقام کے دِن ہوں گے جِن میں سب باتیں جو لِکھی ہیں پُوری ہو جائیں گی۔
23 اُن پر افسوس ہے جو اُن دِنوں میں حامِلہ ہوں اور جو دُودھ پِلاتی ہوں! کِیُونکہ مُلک میں بڑی مُصِیبت اور اِس قَوم پر غضب ہوگا۔
24 اور وہ تلوار کا لُقمہ ہو جائیں گے اور اسِیر ہو کر سب قَوموں میں پہُنچائے جائیں گے اور جب تک غَیر قَوموں کی مِیعاد پُوری نہ ہو یروشلِیم غَیر قَوموں سے پامال ہوتی رہے گی۔
25 اور سُورج اور چاند اور سِتاروں میں نِشان ظاہِر ہوں گے اور زمِین پر قَوموں کو تکلِیف ہوگی کِیُونکہ وہ سُمندر اور اُس کی لہروں کے شور سے گھبرا جائیں گی۔
26 اور ڈر کے مارے اور زمِین پر آنے والی بلاؤں کی راہ دیکھتے دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہے گی۔ اِس لِئے کہ آسمان کی قُوتیں ہِلائی جائیں گی۔
27 اُس وقت لوگ اِبنِ آدم کو قُدرت اور بڑے جلال کے ساتھ بادل میں آتے دیکھیں گے۔
28 اور جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہو کر سر اُوپر اُٹھانا اِس لِئے کہ تُمہاری مخلصی نزدِیک ہوگی۔
29 اور اُس نے اُن سے ایک تَمثِیل کہی کہ اِنجِیر کے دَرخت اور سب دَرختوں کو دیکھو۔
30 جُونہی اُن میں کونپلیں نِکلتی ہیں تُم دیکھ کر آپ ہی جان لیتے ہو کہ اَب گرمی نزدِیک ہے۔
31 اِسی طرح جب تُم اِن باتوں کو ہوتے دیکھو تو جان لو کہ خُدا کی بادشاہی نزدِیک ہے۔
32 مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہولیں یہ نسل ہرگِز تمام نہ ہوگی۔
33 آسمان اور زمِین ٹل جائیں گے لیکِن میری باتیں ہرگِز نہ ٹلیں گی۔
34 پَس خَبردار رہو۔ اَیسا نہ ہو کہ تُمہارے دِل خُمار اور نشہ بازی اور اِس زِندگی کی فِکروں سے سُست ہو جائیں اور وہ دِن تُم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔
35 کِیُونکہ جِتنے لوگ تمام رُویِ زمِین پر مَوجُود ہوں گے اُن سب پر وہ اِسی طرح آ پڑیگا۔
36 پَس ہر وقت جاگتے اور دُعا کرتے رہو تاکہ تُم کو اِن سب ہونے والی باتوں سے بچنے اور اِبنِ آدم کے حُضُور کھڑے ہونے کا مقدُور ہو۔
37 اور وہ ہر روز ہَیکل میں تعلِیم دیتا تھا اور رات کو باہِر جا کر اُس پہاڑ پر رہا کرتا تھا جو زَیتُون کا کہلاتا ہے۔
38 اور صُبح سویرے سب لوگ اُس کی باتیں سُننے کو ہَیکل میں اُس کے پاس آیا کرتے تھے۔


باب 22

1 اور عِیدِ فطِیر جِس کو عِیدِ فسح کہتے ہیں نزدِیک تھی۔
2 اور سَردار کاہِن اور فقِیہ مَوقع ڈھُونڈ رہے تھے کہ اُسے کِس طرح مار ڈالیں کِیُونکہ لوگوں سے ڈرتے تھے۔
3 اور شَیطان یہُوداہ میں سمایا جو اِسکریوتی کہلاتا اور اُن بارہ میں شُمار کِیا جاتا تھا۔
4 اُس نے جا کر سَردار کاہِنوں اور سِپاہِیوں کے سَرداروں سے مَشوَرَہ کِیا کہ اُس کو کِس طرح اُن کے حوالہ کرے۔
5 وہ خُوش ہُوئے اور اُسے رُوپے دینے کا اِقرار کِیا۔
6 اُس نے مان لِیا اور موقع ڈھُونڈنے لگا کہ اُسے بَغیر ہنگامہ اُن کے حوالہ کر دے۔
7 اور عِیدِ فطِیر کا دِن آیا جِس میں فسح ذبح کرنا فرض تھا۔
8 اور یِسُوع نے پطرس اور یُوحنّا کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جا کر ہمارے کھانے کے لِئے فسح تیّار کرو۔
9 اُنہوں نے اُس سے کہا تُو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیّار کریں؟
10 اُس نے اُن سے کہا دیکھو شہر میں داخِل ہوتے ہی تُمہیں ایک آدمِی پانی کا گھڑا لِئے ہُوئے مِلے گا۔ جِس گھر میں وہ جائے اُس کے پِیچھے چلے جانا۔
11 اور گھر کے مالِک سے کہنا کہ اُستاد تُجھ سے کہتا ہے وہ مہمان خانہ کہاں ہے جِس میں مَیں اپنے شاگِردوں کے ساتھ فسح کھاؤں؟
12 وہ تُمہیں ایک بڑا بالاخانہ آراستہ کِیا ہُؤا دِکھائے گا۔ وَہیں تیّاری کرنا۔
13 اُنہوں نے جا کر جَیسا اُس نے اُن سے کہا تھا وَیسا ہی پایا اور فسح تیّار کِیا۔
14 جب وقت ہوگیا تو وہ کھانا کھانے بَیٹھا اور رَسُول اُس کے ساتھ بَیٹھے۔
15 اُس نے اُن سے کہا مُجھے بڑی آرزُو تھی کہ دُکھ سہنے سے پہلے یہ فسح تُمہارے ساتھ کھاؤں۔
16 کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُسے کبھی نہ کھاؤں گا جب تک وہ خُدا کی بادشاہی میں پُورا نہ ہو۔
17 پھِر اُس نے پیالہ لے کر شُکر کِیا اور کہا کہ اِس کو لے کر آپس میں بانٹ لو۔
18 کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اَنگُور کا شِیرہ اَب سے کبھی نہ پِیُوں گا جب تک خُدا کی بادشاہی نہ آ لے۔
19 پھِر اُس نے روٹی لی اور شُکر کر کے توڑی اور یہ کہہ کر اُن کو دی کہ یہ میرا بَدَن ہے جو تُمہارے واسطے دِیا جاتا ہے۔ میری یادگارِی کے لِئے یہی کِیا کرو۔
20 اور اِسی طرح کھانے کے بعد پیالہ یہ کہہ کر دِیا کہ یہ پیالہ میرے اُس خُون میں نیا عہد ہے جو تُمہارے واسطے بہایا جاتا ہے۔
21 مگر دیکھو میرے پکڑوانے والے کا ہاتھ میرے ساتھ میز پر ہے۔
22 کِیُونکہ اِبنِ آدم تو جَیسا اُس کے واسطے مُقرّر ہے جاتا ہی ہے مگر اُس شَخص پر افسوس ہے جِس کے وسِیلہ سے وہ پکڑوایا جاتا ہے!
23 اِس پر وہ آپس میں پُوچھنے لگے کہ ہم میں سے کَون ہے جو یہ کام کرے گا؟
24 اور اُن میں یہ تکرار بھی ہُوئی کہ ہم میں سے کَون بڑا سَمَجھا جاتا ہے؟
25 اُس نے اُن سے کہا کہ غَیر قَوموں کے بادشاہ اُن پر حُکُومت چلاتے ہیں اور جو اُن پر اِختیّار رکھتے ہیں خُداوندِ نعِمت کہلاتے ہیں۔
26 مگر تُم اَیسے نہ ہونا بلکہ جو تُم میں بڑا ہے وہ چھوٹے کی مانِند اور جو سَردار ہے وہ خِدمت کرنے والے کی مانِند بنے۔
27 کِیُونکہ بڑا کَون ہے؟ وہ جو کھانا کھانے بَیٹھا یا وہ جو خِدمت کرتا ہے؟ کیا وہ نہِیں جو کھانا کھانے بَیٹھا ہے؟ لیکِن مَیں تُمہارے درمِیان خِدمت کرنے والے کی مانِند ہُوں۔
28 مگر تُم وہ ہے جو میری آزمایشوں میں برابر میرے ساتھ رہے۔
29 اور جیَسے میرے باپ نے میرے لِئے ایک بادشاہی مُقرّر کی ہے مَیں بھی تُمہارے لِئے مُقرّر کرتا ہُوں۔
30 تاکہ میری بادشاہی میں میری میز پر کھاؤ پِیو بلکہ تُم تختوں پر بَیٹھ کر اِسرائیل کے بارہ قبِیلوں کا اِنصاف کرو گے۔
31 شمعُون! شمعُون! دیکھ شَیطان نے تُم لوگوں کو مانگ لِیا تاکہ گیہُوں کی طرح پھٹکے۔
32 لیکِن مَیں نے تیرے لِئے دُعا کی کہ تیرا اِیمان جاتا نہ رہے اور جب تُو رُجُوع کرے تو اپنے بھائِیوں کو مضبُوط کرنا۔
33 اُس نے اُس سے کہا اَے خُداوند! تیرے ساتھ مَیں قَید ہونے بلکہ مرنے کو بھی تیّار ہُوں۔
34 اُس نے کہا اَے پطرس مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ آج مُرغ بانگ نہ دے گا جب تک تُو تِین بار میرا اِنکار نہ کرے کہ مُجھے نہِیں جانتا۔
35 ُپھِر اُس نے اُن سے کہا کہ جب مَیں نے تُمہیں بٹوے اور جھولی اور جُوتی بَغیر بھیجا تھا کیا تُم کِسی چِیز کے مُحتاج رہے تھے؟ اُنہوں نے کہا کِسی چِیز کے نہِیں۔
36 اُس نے اُن سے کہا مگر اَب جِس کے پاس بٹوا ہو وہ اُسے لے اور اِسی طرح جھولی بھی اور جِس کے پاس نہ ہو وہ اپنی پوشاک بیچ کر تلوار خرِیدے۔
37 کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہ جو لِکھا ہے کہ وہ بدکاروں میں گِنا گیا اُس کا میرے حق میں پُورا ہونا ضرُور ہے۔ اِس لِئے کہ جو کُچھ مُجھ سے نِسبت رکھتا ہے وہ پُورا ہونا ہے۔
38 اُنہوں نے کہا اَے خُداوند! دیکھ یہاں دو تلواریں ہیں۔ اُس نے اُن سے کہا بہُت ہیں۔
39 پھِر وہ نِکل کر اپنے دستُور کے مُوافِق زَیتُون کے پہاڑ کو گیا اور شاگِرد اُس کے پِیچھے ہو لِئے۔
40 اور اُس جگہ پہُنچ کر اُس نے اُن سے کہا دُعا کرو کہ آزمایش میں نہ پڑو۔
41 اور وہ اُن سے بمُشکِل الگ ہو کر کوئی پتھّر کے ٹپّے آگے بڑھا اور گھُٹنے ٹیک کر یُوں دُعا کرنے لگا کہ۔
42 اَے باپ اگر تُو چاہے تو یہ پیالہ مُجھے سے ہٹا لے تَو بھی میری مرضی نہِیں بلکہ تیری ہی مرضی پُوری ہو۔
43 اور آسمان سے ایک فرِشتہ اُس کو دِکھائی دِیا۔ وہ اُسے تقوِیت دیتا تھا۔
44 پھِر وہ سخت پریشانی میں مُبتلا ہو کر اَور بھی دِلسوزی سے دُعا کرنے لگا اور اُس کا پسِینہ گویا خُون کی بڑی بڑی بُوندیں ہو کر زمِین پر ٹپکتا تھا۔
45 جب دُعا سے اُٹھ کر شاگِردوں کے پاس آیا تو اُنہِیں غم کے مارے سوتے پایا۔
46 اور اُن سے کہا تُم سوتے کِیُوں ہو؟ اُٹھ کر دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔
47 وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ایک بھِیڑ آئی اور اُن بارہ میں سے وہ جِس کا نام یہُوداہ تھا اُن کے آگے آگے تھا۔ وہ یِسُوع کے پاس آیا کہ اُس کا بوسہ لے۔
48 یِسُوع نے اُس سے کہا اَے یہُوداہ کیا تُو بوسہ لے کر اِبنِ آدم کو پکڑواتا ہے؟
49 جب اُس کے ساتھِیوں نے معلُوم کِیا کہ کیا ہونے والا ہے تو کہا اَے خُداوند کیا ہم تلوار چلائیں؟
50 اور اُن میں سے ایک نے سَردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا دہنا کان اُڑا دِیا۔
51 یِسُوع نے جواب میں کہا اِتنے پر کِفایت کرو اور اُس کے کان کو چھُو کر اُس کو اچھّا کِیا۔
52 پھِر یِسُوع نے سَردار کاہِنوں اور ہَیکل کے سَرداروں اور بُزُورگوں سے جو اُس پر چڑھ آئے تھے کہا کیا تُم مُجھے ڈاکؤ جان کر تلواریں اور لاٹھِیاں لے کر نِکلے ہو؟
53 جب مَیں ہر روز ہَیکل میں تُمہارے ساتھ تھا تو تُم نے مُجھ پر ہاتھ نہ ڈالا لیکِن یہ تُمہاری گھڑی اور تارِیکی کا اِختیّار ہے۔
54 پھِر وہ اُسے پکڑ کر لے چلے اور سَردار کاہِن کے گھر میں لے گئے اور پطرس فاصِلہ پر اُس کے پِیچھے پِیچھے جاتا تھا۔
55 اور جب اُنہوں نے صحن کے بِیچ میں آگ جلائی اور مِل کر بَیٹھے تو پطرس اُن کے بِیچ میں بَیٹھ گیا۔
56 ایک لَونڈی نے اُسے آگ کی روشنی میں بَیٹھا ہُؤا دیکھ کر اُس پر خُوب نِگاہ کی اور کہا یہ بھی اُس کے ساتھ تھا۔
57 مگر اُس نے یہ کہہ کر اِنکار کِیا کہ اَے عَورت مَیں اُسے نہِیں جانتا۔
58 تھوڑی دیر کے بعد کوئی اور اُسے دیکھ کر کہنے لگا کہ تُو بھی اُنہی میں سے ہے۔ پطرس نے کہا مِیاں مَیں نہِیں ہُوں۔
59 کوئی گھنٹے بھر کے بعد کوئی اَور شَخص یقِینی طور سے کہنے لگا کہ یہ آدمِی بیشک اُس کے ساتھ تھا کِیُونکہ گلِیلی ہے۔
60 پطرس نے کہا مِیاں مَیں نہِیں جانتا تُو کیا کہتا ہے۔ وہ کہہ ہی رہا تھا کہ اُسی دم مُرغ نے بانگ دی۔
61 اور خُداوند نے پھِر کر پطرس کی طرف دیکھا اور پطرس کو خُداوند کی وہ بات یاد آئی جو اُس سے کہی تھی کہ آج مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا۔
62 اور وہ باہِر جا کر زار زار رویا۔
63 اور جو آدمِی یِسُوع کو پکڑے ہُوئے تھے اُس کو ٹھَٹھَوں میں اُڑاتے اور مارتے تھے۔
64 اور اُس کی آنکھیں بند کر کے اُس سے پُوچھتے تھے کہ نُبُوّت سے بتا تُجھے کِس نے مارا؟
65 اور اُنہوں نے طعنہ سے اَور بھی بہُت سی باتیں اُس کے خِلاف کہِیں۔
66 جب دِن ہُؤا تو سَردار کاہِن اور فقِیہ یعنی قَوم کے بُزُرگوں کی مجلِس جمع ہُوئی اور اُنہوں نے اُسے اپنی صدر عدالت میں لیجا کر کہا۔
67 اگر تُو مسِیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔ اُس نے اُن سے کہا اگر مَیں کہُوں تو یقِین نہ کرو گے۔
68 اور اگر پُوچھُوں تو جواب نہ دو گے۔
69 لیکِن اَب سے اِبنِ آدم قادِرِ مُطلَق خُدا کی دہنی طرف بَیٹھا رہے گا۔
70 اِس پر اُن سب نے کہا پَس کیا تُو خُدا کا بَیٹا ہے؟ اُس نے اُن سے کہا تُم خُود کہتے ہو کِیُونکہ مَیں ہُوں۔
71 اُنہوں نے کہا اَب ہمیں گواہی کی کیا حاجت رہی؟ کِیُونکہ ہم نے خُود اُسی کے مُنہ سے سُن لِیا ہے۔


باب 23

1 پھِر اُن کی ساری جماعت اُٹھ کر اُسے پِیلاطُس کے پاس لے گئی۔
2 اور اُنہوں نے اُس پر اِلزام لگانا شُرُوع کِیا کہ اِسے ہم نے اپنی قَوم کو بہکاتے اور قَیصر کو خِراج دینے سے منع کرتے اور اپنے آپ کو مسِیح بادشاہ کہتے پایا۔
3 پِیلاطُس نے اُس سے پُوچھا کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟ اُس نے اُس کے جواب میں کہا تُو خُود کہتا ہے۔
4 پِیلاطُس نے سَردار کاہِنوں اور عام لوگوں سے کہا مَیں اِس شَخص میں کُچھ قُصُور نہِیں پاتا۔
5 مگر وہ اَور بھی زور دے کر کہنے لگے کہ یہ تمام یہُودیہ میں بلکہ گلِیل سے لے کر یہاں تک لوگوں کو سِکھا سِکھا کر اُبھارتا ہے۔
6 یہ سُن کر پِیلاطُس نے پُوچھا کیا یہ آدمِی گلِیلی ہے؟
7 اور یہ معلُوم کر کے کہ ہیرودِیس کی عملداری کا ہے اُسے ہیرودِیس کے پاس بھیجا کِیُونکہ وہ بھی اُن دِنوں یروشلِیم میں تھا۔
8 ہیرودِیس یِسُوع کو دیکھ کر بہُت خُوش ہُؤا کِیُونکہ وہ مُدّت سے اُسے دیکھنے کا مُشتاق تھا۔ اِس لِئے کہ اُس نے اُس کا حال سُنا تھا اور اُس کا کوئی مُعجِزہ دیکھنے کا اُمِیدوار تھا۔
9 اور وہ اُس سے پہُتیری باتیں پُوچھتا رہا مگر اُس نے اُسے کُچھ جواب نہ دِیا۔
10 اور سَردار کاہِن اور فقِیہ کھڑے ہُوئے زور شور سے اُس پر اِلزام لگاتے رہے۔
11 پھِر ہیرودِیس نے اپنے سِپاہِیوں سمیت اُسے ذلِیل کِیا اور ٹھٹھّو میں اُڑایا اور چمکدار پوشاک پہنا کر اُس کو پِیلاطُس کے پاس واپَس بھیجا۔
12 اور اُسی دِن ہیرودِیس اور پِیلاطُس آپس میں دوست ہوگئے کِیُونکہ پہلے اُن میں دُشمنی تھی۔
13 پھِر پِیلاطُس نے سَردار کاہِنوں او سَرداروں اور عام لوگوں کو جمع کر کے۔
14 اُن سے کہا کہ تُم اِس شَخص کو لوگوں کا بہکانے والا ٹھہرا کر میرے پاس لائے ہو اور دیکھو مَیں نے تُمہارے سامنے ہی اُس کی تحقِیقات کی مگر جِن باتوں کا اِلزام تُم اُس پر لگاتے ہو اُن کی نِسبت نہ مَیں نے اُس میں کُچھ قُصُور پایا۔
15 یہ ہیرودِیس نے کِیُونکہ اُس نے اُسے ہمارے پاس واپَس بھیجا ہے اور دیکھو اُس سے کوئی اَیسا فِعل سرزد نہِیں ہُؤا جِس سے وہ قتل کے لائِق ٹھہرتا۔
16 پَس مَیں اُس کو پِٹوا کر چھوڑے دیتا ہُوں۔
17 [اُسے ہر عِید میں ضرُور تھا کہ کِسی کو اُن کی خاطِر چھوڑ دے]۔
18 وہ سب مِل کر چِلّا اُٹھے کہ اِسے لے جا اور ہماری خاطِر برابّا کو چھوڑ دے۔
19 (یہ کِسی بغاوت کے باعِث جو شہر میں ہُوئی تھی اور خُون کرنے کے سبب سے قَید میں ڈالا گیا تھا)۔
20 مگر پِیلاطُس نے یِسُوع کو چھوڑنے کے اِرادہ سے پھِر اُن سے کہا۔
21 لیکِن وہ چِلّا کر کہنے لگے کہ اِس کو صلِیب دے صلِیب!
22 اُس نے تِیسری بار اُن سے کہا کِیوں؟ اِس نے کیا بُرائی کی ہے؟ مَیں نے اِس میں قتل کی کوئی وجہ نہِیں پائی۔ پَس مَیں اِسے پِٹوا کر چھوڑے دیتا ہُوں۔
23 مگر وہ چِلّا چِلّا کر سر ہوتے رہے کہ اُسے صلِیب دی جائے اور اُن کا چِلّانا کارگر ہُؤا۔
24 پَس پِیلاطُس نے حُکم دِیا کہ اُن کی دَرخواست کے مُوافِق ہو۔
25 اور جو شَخص بغاوت اور خُون کرنے کے سبب سے قَید میں پڑا تھا اور جِسے اُنہوں نے مانگا تھا اُسے چھوڑ دِیا مگر یِسُوع کو اُن کی مرضی کے مُوفِق سِپاہِیوں کے حوالہ کِیا۔
26 اور جب اُس کو لِئے جاتے تھے تو اُنہوں نے شمعُون نام ایک کرینی کو جو دِیہات سے آتا تھا پکڑ کر صلِیب اُس پر رکھ دی کہ یِسُوع کے پِیچھے پِیچھے لے چلے۔
27 اور لوگوں کی ایک بڑی بھِیڑ اور بہُت سی عَورتیں جو اُس کے واسطے روتی پِٹتی تھِیں اُس کے پِیچھے پِیچھے چلِیں۔
28 یِسُوع نے اُن کی طرف پھِر کر کہا اَے یروشلِیم کی بَیٹیوں! میرے لِئے نہ رو بلکہ اپنے اور اپنے بچّوں کے لِئے رو۔
29 کِیُونکہ دیکھو وہ دِن آتے ہیں جِن میں کہیں گے مُبارک ہے بانجھیں اور وہ رحم جو بارور نہ ہُوئے اور وہ چھاتِیاں جِنہوں نے دُودھ نہ پِلایا۔
30 اُس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شُرُوع کریں گے کہ ہم پر گِر پڑو اور ٹِیلوں سے کہ ہمیں چھِپا لو۔
31 کِیُونکہ جب ہرے دَرخت کے ساتھ اَیسا کرتے ہیں تو سُوکھے کہ ساتھ کیا کُچھ نہ کِیا جائے گا؟
32 اور وہ دو اَور آدمِیوں کو بھی جو بدکار تھے لِئے جاتے تھے کہ اُس کے ساتھ قتل کِئے جائیں۔
33 جب وہ اُس جگہ پر پہُنچے جِسے کھوپڑی کہتے ہیں تو وہاں اُسے مصلُوب کِیا اور بدکاروں کو بھی ایک کو دہنِی اور دُوسرے کو بائیں طرف۔
34 یِسُوع نے کہا اَے باپ! اِن کو مُعاف کر کِیُونکہ یہ جانتے نہِیں کہ کیا کرتے ہیں۔ اور اُنہوں نے اُس کے کپڑوں کے حصّے کِئے اور اُن پر قُرعہ ڈالا۔
35 اور لوگ کھڑے دیکھ رہے تھے اور سَردار بھی ٹھٹھّے مار مار کر کہتے تھے کہ اِس نے اَوروں کو بَچایا۔ اگر یہ خُدا کا مسِیح اور اُس کا برگُزِیدہ ہے تو اپنے آپ کو بَچائے۔
36 سِپاہِیوں نے بھی پاس آ کر اور سِرکہ پیش کر کے اُس پر ٹھٹھّا مارا اور کہا کہ۔
37 اگر تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بَچا۔
38 اور ایک نوِشتہ بھی اُس کے اُوپر لگایا گیا تھا کہ یہ یہُودِیوں کا بادشاہ ہے۔
39 پھِر جو بدکار صلِیب پر لٹکائے گئے تھے اُن میں سے ایک اُسے یُوں طعنہ دینے لگا کہ کیا تُو مسِیح نہِیں؟ تُو اپنے آپکو اور ہم کو بَچا۔
40 مگر دُوسرے نے اُسے جھِڑک کر جواب دِیا کہ کیا تُو خُدا سے بھی نہِیں ڈرتا حالانکہ اُسی سزا میں گِرفتار ہے؟
41 اور ہماری سزا تو واجبی ہے کِیُونکہ اپنے کاموں کا بدلہ پا رہے ہیں لیکِن اِس نے کوئی بیجا کام نہِیں کِیا۔
42 پھِر اُس نے کہا اَے یِسُوع جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مُجھے یاد کرنا۔
43 اُس نے اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ آج ہی تُو میرے ساتھ فِردوس میں ہوگا۔
44 پھِر دوپہر کے قریب سے تِیسرے پہر تک تمام مُلک میں اَندھرا چھایا رہا۔
45 اور سُورج کی روشنی جاتی رہی اور مَقدِس کا پردہ بِیچ سے پھٹ گیا۔
46 پھِر یِسُوع نے بڑی آواز سے پُکار کر کہا اَے باپ! مَیں اپنے رُوح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں اور یہ کہہ کر دم دے دِیا۔
47 یہ ماجرہ دیکھ کر صُوبہ دار نے خُدا کی تمجِید کی اور کہا بیشک یہ آدمِی راستباز تھا۔
48 اور جِتنے لوگ اِس نظارہ کو آئے تھے یہ ماجرہ دیکھ کر چھاتی پِیٹتے ہُوئے لَوٹ گئے۔
49 اور اُس کے سب جان پہچان اور وہ عَورتیں جو گلِیل سے اُس کے ساتھ آئیں تھِیں دُور کھڑی یہ باتیں دیکھ رہیں تھِیں۔
50 اور دیکھو یُوسُف نام ایک شَخص مُشِیر تھا جو نیک اور راستباز آدمِی تھا۔
51 اور اُن کی صلاح اور کام سے رضامند نہ تھا۔ یہ یہُودِیوں کے شہر اَرمِتیہ کا باشِندہ اور خُدا کی بادشاہی کا مُنتظِر تھا
52 اُس نے پِیلاطُس کے پاس جا کر یِسُوع کی لاش مانگی۔
53 اور اُس کو اُتار کر مہِین چادر میں لپیٹا۔ پھِر ایک قَبر کے اَندر رکھ دِیا جو چٹان میں کھُدی ہُوئی تھی اور اُس میں کوئی کبھی رکھّا نہ گیا تھا۔
54 وہ تیّاری کا دِن تھا اور سَبت کا دِن شُرُوع ہونے کو تھا۔
55 اور اُن عَورتوں نے جو اُس کے ساتھ گلِیل سے آئیں تھِیں پِیچھے پِیچھے جا کر اُس قَبر کو دیکھا اور یہ بھی کہ اُس کی لاش کِس طرح رکھی گئی۔
56 اور لَوٹ کر خُوشبُودار چِیزیں اور عِطر تیّار کِیا۔


باب 24

1 سبت کے دِن تو اُنہوں نے حُکم کے مُطابِق آرام کِیا۔ لیکِن ہفتہ کے پہلے دِن وہ صُبح سویرے ہی اُن خُوشبُودار چِیزوں کو جو تیّار کی تھِیں لے کر قَبر پر آئیں۔
2 اور پتھّر کو قَبر پر سے لُڑھکا ہُؤا پایا۔
3 مگر اَندر جا کر خُداوند یِسُوع کی لاش نہ پائی۔
4 اور اَیسا ہُؤا کہ جب وہ اِس بات سے حَیران تھِیں تو دیکھو دو شَخص برّاق پوشاک پہنے اُن کے پاس آ کھڑے ہُوئے۔
5 جب وہ ڈر گئِیں اور اپنے سر زمِین پر جھُکائے تو اُنہوں نے اُن سے کہا کہ زِندہ کو مُردوں میں کِیُوں ڈھُونڈتی ہو
6 وہ یہاں نہِیں بلکہ جی اُٹھا ہے۔ یاد کرو کہ جب وہ گلِیل میں تھا تو اُس نے تُم سے کہا تھا۔
7 ضرُور ہے کہ اِبنِ آدم گُنہگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کِیا جائے اور مصلُوب ہو اور تِیسرے دِن جی اُٹھے۔
8 اُس کی باتیں اُنہِیں یاد آئیں۔
9 اور قَبر سے لَوٹ کر اُنہوں نے اُن گیارہ اور باقی سب لوگوں کو اِن سب باتوں کی خَبر دی۔
10 جِنہوں نے رَسُولوں سے یہ باتیں کہِیں اور مریم مگدلینی اور یوأنہ اور یَعقُوب کی ماں مریم اور اُن کے ساتھ کی باقی عَورتیں تھِیں۔
11 مگر یہ باتیں اُنہِیں کہانی سی معلُوم ہُوئیں اور اُنہوں نے اُن کا یقِین نہ کِیا۔
12 اِس پر پطرس اُٹھ کر قَبر تک دوڑا گیا اور جھُک کر نظر کی اور دیکھا کہ صِرف کَفن ہی کَفن ہے اور اِس ماجرے سے تعّجُب کرتا ہُؤا اپنے گھر چلا گیا۔
13 اور دیکھو اُسی دِن اُن میں سے دو آدمِی اُس گاؤں کی طرف جا رہے تھے جِس کا نام اِمّاؤس ہے۔ وہ یروشلِیم سے تقریباً سات میل کے فاصلہ پر ہے۔
14 اور وہ اِن سب باتوں کی بابت جو واقِع ہُوئی تھِیں آپس میں بات چِیت کرتے جاتے تھے۔
15 جب وہ بات چِیت اور پُوچھ پاچھ کر رہے تھے تو اَیسا ہُؤا کہ یِسُوع آپ نزدِیک آ کر اُن کے ساتھ ہو لِیا۔
16 لیکِن اُن کی آنکھیں بند کی گئی تھِیں کہ اُس کو نہ پہچانیں۔
17 اُس نے اُن سے کہا یہ کیا باتیں ہیں جو تُم چلتے چلتے آپس میں کرتے ہو؟ وہ غمگِین سے کھڑے ہو گئے۔
18 پھِر ایک نے جِس کا نام کِلیُپاس تھا جواب میں اُس سے کہا کیا تُو یروشلِیم میں اکیلا مُسافِر ہے جو نہِیں جانتا کہ اِن دِنوں اُس میں کیا کیا ہُؤا ہے؟
19 اُس نے اُن سے کہا کیا ہُؤا ہے؟ اُنہوں نے اُس سے کہا یِسُوع ناصری کا ماجرہ جو خُدا اور ساری اُمّت کے نزدِیک کام اور کلام میں قُدرت والا نبی تھا۔
20 اور سَردار کاہِنوں اور ہمارے حاکِموں نے اُس کو پکڑوا دِیا تاکہ اُس پر قتل کا حُکم دِیا جائے اور اُسے مصلُوب کِیا۔
21 لیکِن ہم کو اُمِید تھی کو مخلصی یہی دے گا اور علاوہ اِن سب باتوں کے اِس ماجرے کو آج تِیسرا دِن ہو گیا ہے۔
22 اور ہم میں سے چند عَورتوں نے بھی ہم کو حَیران کر دِیا ہے جو سویرے ہی قَبر پر گئِیں تھِیں۔
23 اور جب اُس کی لاش نہ پائی تو یہ کہتی ہُوئیں آئیں کہ ہم نے رویا میں فرِشتوں کو دیکھا۔ اُنہوں نے کہا وہ زِندہ ہے۔
24 اور بعض ہمارے ساتھِیوں میں سے قَبر پر گئے اور جَیسا عَورتوں نے کہا وَیسا ہی پایا مگر اُس کو نہ دیکھا۔
25 اُس نے اُن سے کہا اَے نادانوں اَور نبِیوں کی سب باتوں کے ماننے میں سُست اِعتِقادوں!
26 کیا مسِیح کو یہ دُکھ اُٹھا کر اپنے جلال میں داخِل ہونا ضرُور نہ تھا؟
27 پھِر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شُرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئیں ہیں وہ اُن کو سَمَجھا دیں۔
28 اِتنے میں وہ اُس گاؤں کے نزدِیک پہُنچ گئے جہاں جاتے تھے اور اُس کے ڈھنگ سے اَیسا معلُوم ہُؤا کہ وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
29 اُنہوں نے اُسے یہ کہہ کر مجبُور کِیا ہمارے ساتھ رہ کِیُونکہ شام ہُؤا چاہتی ہے اور دِن اَب بہُت ڈھل گیا۔ پَس وہ اَندر گیا تاکہ اُن کے ساتھ رہے۔
30 جب وہ اُن کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے روٹی لے کر بَرکَت دی اور توڑ کر اُن کو دینے لگا۔
31 اِس پر اُن کی آنکھیں کُھل گئیں اور اُنہوں نے اُس کو پہچان لِیا اور وہ اُن کی نظر سے غائب ہو گیا۔
32 اُنہوں نے آپس میں کہا کہ جب وہ راہ میں ہم سے باتیں کرتا اور ہم پر نوِشتوں کا بھید کھولتا تھا تو کیا ہمارے دِل جوش سے نہ بھر گئے تھے؟
33 پَس وہ اُسی گھڑی اُٹھ کر یروشلِیم کو لَوٹ گئے اور اُن گیارہ اور اُن کے ساتھِیوں کو اِکٹھّا پایا۔
34 وہ کہہ رہے تھے کہ خُداوند بیشک جی اُٹھا اور شمعُون کو دِکھائی دِیا ہے۔
35 اور اُنہوں نے راہ کا حال بیان کِیا اور یہ بھی کہ اُسے روٹی توڑتے وقت کِس طرح پہچانا۔
36 وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یِسُوع آپ اُن کے بِیچ میں آ کھڑا ہُؤا اور اُن سے کہا تُمہاری سَلامتی ہو۔
37 مگر اُنہوں نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سَمَجھا کہ کِسی رُوح کو دیکھتے ہیں۔
38 اُس نے اُن سے کہا تُم کِیُوں گھبراتے ہو؟ اور کِس واسطے تُمہارے دِل میں شک پَیدا ہوتے ہیں؟
39 میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ مَیں ہی ہُوں۔ مُجھے چھُو کر دیکھو کِیُونکہ رُوح کے گوشت اور ہڈّی نہِیں ہوتی جَیسا مُجھ میں دیکھتے ہو۔
40 اور یہ کہہ کر اُس نے اُنہِیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دِکھائے۔
41 جب مارے خُوشی کہ اُن کو یقِین نہ آیا اور تعّجُب کرتے تھے تو اُس نے اُن سے کہا کیا یہاں تُمہارے پاس کُچھ کھانے کو ہے؟
42 اُنہوں نے اُس سے بھُنی ہُوئی مَچھلی کی قتلہ دِیا۔
43 اُس نے لے کر اُن کے رُو برُو کھایا۔
44 پھِر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہے جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہِیں تھِیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی توریت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں۔
45 پھِر اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ کِتابِ مُقدّس کو سَمَجھیں۔
46 اور اُن سے کہا یُوں لِکھا ہے کہ مسِیح دُکھ اُٹھائے گا اور تِیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔
47 اور یروشلِیم سے شُرُوع کر کے سب قَوموں میں تَوبہ اور گُناہوں کی مُعافی کی منادی اُس کے نام سے کی جائے گی۔
48 تُم اِن باتوں کے گواہ ہو۔
49 اور دیکھو جِس کا میرے باپ نے وعدہ کِیا ہے مَیں اُس کو تُم پر نازِل کرُوں گا لیکِن جب تک عالمِ بالا سے تُم کو قُوّت کا لِباس نہ مِلے اِس شہر میں ٹھہرے رہو۔
50 پھِر وہ اُنہِیں بیتِ عنیاہ کے سامنے تک باہِر لے گیا اور اپنے ہاتھ اُٹھا کر اُنہِیں بَرکَت دی۔
51 جب وہ اُنہِیں بَرکَت دے رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ اُن سے جُدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھایا گیا۔
52 اور وہ اُس کو سِجدہ کر کے بڑی خُوشی سے یروشلِیم کو لَوٹ گئے۔
53 اور ہر وقت ہَیکل میں حاضِر ہو کر خُدا کی حمد کِیا کرتے تھے۔