۲ پطرس

1 2 3


باب 1

1 شمعُون پطرس کی طرف سے جو یِسُوع مسِیح کا بندہ اور رَسُول ہے اُن لوگوں کے نام جِنہوں نے ہمارے خُدا اور مُنّجی یِسُوع مسِیح کی راستبازی میں ہمارا سا قِیمتی اِیمان پایا ہے۔
2 خُدا اور ہمارے خُداوند یِسُوع کی پہچان کے سبب سے فضل اور اِطمینان تُمہیں زِیادہ ہوتا رہے۔
3 کِیُونکہ اُس کی اِلٰہی قُدرت نے وہ سب چِیزیں جو زِندگی اور دِینداری سے مُتعلِق ہیں ہمیں اُس کی پہچان کے وسِیلہ سے عِنایت کِیں جِس نے ہم کو اپنے خاص جلال اور نیکی کے ذرِیعہ سے بُلایا۔
4 جِن کے باعِث اُس نے ہم سے قِیمتی اور نِہایت بڑے وعدے کِئے تاکہ اُن کے وسِیلہ سے تُم اُس خرابی سے چھُوٹ کر جو دُنیا میں بڑی خواہِش کے سبب سے ہے ذاتِ اِلٰہی میں شِریک ہو جاؤ۔
5 پَس اِسی باعِث تُم اپنی طرف سے کمال کوشِش کر کے اپنے اِیمان پر نیکی اور نیکی پر معرفت۔
6 اور معرفت پر پرہیزگاری اور پرہیزگاری پر صبر اور صبر پر دِینداری۔
7 اور دِینداری پر برادرانہ اُلفت اور برادرانہ اُلفت پر محبّت بڑھاؤ۔
8 کِیُونکہ اگر یہ باتیں تُم میں موجُود ہوں اور زِیادہ بھی ہوتی جائیں تو تُم کو ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کو پہچاننے میں بےکار اور بے پھَل نہ ہونے دیں گی۔
9 اور جِس میں یہ باتیں نہ ہوں وہ اَندھا ہے اور کوتاہ نظر اور اپنے پہلے گُناہوں کے دھوئے جانے کو بھُولے بَیٹھا ہے۔
10 پَس اَے بھائِیو! اپنے بُلاوے اور برگُزِیدگی کو ثابِت کرنے کی زِیادہ کوشِش کرو کِیُونکہ اَیسے کرو گے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے۔
11 بلکہ اِس سے تُم ہمارے خُداوند اور مُنّجی یِسُوع مسِیح کی ابدی بادشاہی میں بڑی عِزّت کے ساتھ داخِل کِئے جاؤ گے۔
12 اِس لِئے مَیں تُمہیں یہ باتیں یاد دِلانے کو ہمیشہ مُستعِد رہُوں گا اگرچہ تُم اُن سے واقِف اور اُس حق بات پر قائِم ہو جاؤ جو تُمہیں حاصِل ہے۔
13 اور جب تک میں اِس خیمہ میں ہُوں تُمہیں یاد دِلا دِلا کر اُبھارنا اپنے اُوپر واجِب سَمَجھتا ہُوں۔
14 کِیُونکہ ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کے بتانے کے مُوافِق مُجھے معلُوم ہے کہ میرے خیمہ کے گِرائے جانے کا وقت جلد آنے والا ہے۔
15 پَس مَیں اَیسی کوشِش کرُوں گا کہ میرے اِنتِقال کے بعد تُم اِن باتوں کو ہمیشہ یاد رکھ سکو۔
16 کِیُونکہ جب ہم نے تُمہیں اپنے خُداوند یِسُوع مسِیح کی قُدرت اور آمد سے واقِف کِیا تھا تو دغابازی کی گھڑی ہُوئی کہانیوں کی پیروی نہِیں کی تھی بلکہ خُود اُس کی عظمت کو دیکھا تھا۔
17 کہ اُس نے خُدا باپ سے اُس وقت عِزّت اور جلال پایا جب اُس افضل جلال میں سے اُسے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بَیٹا ہے جِس سے مَیں خُوش ہُوں۔
18 اور جب ہم اُس کے ساتھ مُقدّس پہاڑ پر تھے تو آسمان سے یہی آواز آتی سُنی۔
19 اور ہمارے پاس نبِیوں کا کلام ہے جو زِیادہ معُتبر ٹھہرا اور تُم اچھّا کرتے ہو جو یہ سَمَجھ کر اُس پر غور کرتے ہو کہ وہ ایک چراغ ہے جو اَندھیری جگہ میں روشنی بخشتا ہے جب تک پَو نہ پھٹنے اور صُبح کا سِتارہ تُمہارے دِلوں میں نہ چمکے۔
20 اور پہلے یہ جان لو کہ کِتابِ مُقدّس کی کِسی نُبُوّت کی بات کی تاوِیل کِسی کے ذاتی اِختیّار پر موقُوف نہِیں۔
21 کِیُونکہ نُبُوّت کی کوئی بات آدمِی کی خواہِش سے نہِیں ہُوئی بلکہ آدمِی رُوحُ القدُس کی تحریک کے سبب سے خُدا کی طرف سے بولتے تھے۔


باب 2

1 اور جِس طرح اُس اُمّت میں جھُوٹے نبی بھی تھے اُسی طرح تُم میں بھی جھُوٹے اُستاد ہوں گے جو پوشیدہ طَور پر ہلاک کرنے والی بِدعتیں نِکالیں گے اور اُس مالِک کا اِنکار کریں گے جِس نے اُنہِیں مول لِیا تھا اور اپنے آپ کو جلد ہلاکت میں ڈالیں گے۔
2 اور بہُتیرے اُن کی شہوت پرستی کی پیَروی کریں گے جِن کے سبب سے راہِ حق کی بدنامی ہوگی۔
3 اور وہ لالچ سے باتیں بنا کر تُم کو اپنے نفع کا سبب ٹھہرائیں گے اور جو قدِیم سے اُن کی سزا کا حُکم ہو چُکا ہے اُس کے آنے میں کُچھ دیر نہِیں اور اُن کی ہلاکت سوتی نہِیں۔
4 کِیُونکہ جب خُدا نے گُناہ کرنے والے فرِشتوں کو نہ چھوڑا بلکہ جہنّم میں بھیج کر تارِیک غاروں میں ڈال دِیا تاکہ عدالت کے دِن تک حراست میں رہیں۔
5 اور نہ پہلی دُنیا کو چھوڑا بلکہ بے دِین دُنیا پر طُوفان بھیج کر راستبازی کی منادی کرنے والےنُوح کو مع اَور سات آدمِیوں کو بَچا لِیا۔
6 اور سدُوم اور عمُوراہ کے شہروں کو خاکِ سِیاہ کر دِیا اور اُنہِیں ہلاکت کی سزا دی اور آیندہ زمانہ کے بے دِینوں کے لِئے جایِ عِبرت بنا دِیا۔
7 اور راستباز لُوط کو جو بے دِینوں کے ناپاک چال چلن سے دِق تھا رِہائی بخشی۔
8 (چُنانچہ وہ راستباز اُن میں رہ کر اور اُن کے بے شرع کاموں کو دیکھ کر گویا ہر روز اپنے سَچّے دِل کو شِکنجہ میں کھِنچتا تھا)۔
9 تو خُداوند دِینداروں کو آزمایش سے نِکال لیتا اور بدکاروں کو عدالت کے دِن تک سزا میں رکھنا جانتا ہے۔
10 خصوصاً اُن کو جو ناپاک خواہِشوں سے جِسم کی پَیروی کرتے ہیں اور حُکُومت کو ناچِیز جانتے ہیں۔ وہ گُستاخ اور خُودرائی ہیں اور عِزّت داروں پر لعن طعن کرنے سے نہِیں ڈرتے۔
11 باوُجُود یکہ فرِشتے جو طاقت اور قُدرت میں اُن سے بڑے ہیں خُداوند کے سامنے لعن طعن کے ساتھ نالِش نہِیں کرتے۔
12 لیکِن یہ لوگ بے عقل جانوروں کی مانِند ہیں جو پکڑنے جانے اور ہلاک ہونے کے لِئے حَیوانِ مُطلَق پَیدا ہُوئے ہیں۔ جِن باتوں سے ناواقِف ہیں اُن کے بارے میں اَوروں پر لعن طعن کرتے ہیں۔ اپنی خرابی میں خُود خراب کِئے جائیں گے۔
13 دُوسروں کے بُرا کرنے کے بدلے اِن ہی کا بُرا ہوگا۔ اُن کو دِن دِہاڑے عیاشی کرنے میں مَزا آتا ہے۔ یہ داغ اور عَیب ہیں۔ جب تُمہارے ساتھ کھاتے پِیتے ہیں تو اپنی طرف سے محبّت کی ضیافت کر کے عیش و عِشرت کرتے ہیں۔
14 اُن کی آنکھیں جِن میں زناکار عَورتیں بسی ہُوئی ہیں گُناہ سے رُک نہِیں سکتیں وہ بے قیام دِلوں کو پھَنساتے ہیں۔ اُن کا دِل لالچ کا مُشتاق ہے۔ وہ لعنت کی اُولاد ہیں۔
15 وہ سِیدھی راہ چھوڑ کر گُمراہ ہو گئے ہیں اور بعُور کے بَیٹے بلعام کی راہ پر ہو لِئے ہیں جِس نے ناراستی کی مزدُوری کو عِزیز جانا۔
16 مگر اپنے قُصُور پر یہ ملامت اُٹھائی کہ ایک بے زبان گدھی نے آدمِی کی طرح بول کر اُس نبی کو دِیوانگی سے باز رکھّا۔
17 وہ اَندھے کُوئیں ہیں اور اَیسے کہُر جِسے آندھی اُڑاتی ہے۔ اُن کے لِئے بے حد تارِیکی دھری ہے۔
18 وہ گھمنڈ کی بیہُوداہ باتیں بک بک کر شہوت پرستی کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو جِسمانی خواہِشوں میں پھنساتے ہیں جو گُمراہوں میں سے نِکل ہی رہے ہیں۔
19 وہ اُن سے تو آزادی کا وعدہ کرتے ہیں اور آپ خرابی کے غُلام بنے ہُوئے ہیں کِیُونکہ جو شَخص جِس سے مغلُوب ہے وہ اُس کا غلام ہے۔
20 اور جب وہ خُداوند اور یِسُوع مسِیح کی پہچان کے وسِیلہ سے دُنیا کی آلُودگی سے چھُوٹ کر پھِر اُن میں پھنسے اور اُن سے مغلُوب ہُوئے تو اُن کا پِچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہُؤا۔
21 کِیُونکہ راستبازی کی راہ کا نہ جاننا اُن کے لِئے اِس سے بہُتر ہوتا کہ اُسے جان کر اُس پاک حُکم سے پھِر جاتے جو اُنہِیں سونپا گیا تھا۔
22 اُن پر یہ سَچّی مِثل صادِق آتی ہے کہ کُتّا اپنی قَے کی طرف رُجُوع کرتا ہے اور نہلائی ہُوئی سُوأرنی دلدل میں لوٹنے کی طرف۔


باب 3

1 اَے عِزیزو! اَب مَیں تُمہیں یہ دُوسرا خط لِکھتا ہُوں اور یاد دِہانی کے طَور پر دونو خطوں سے تُمہارے صاف دِلوں کو اُبھارتا ہُوں۔
2 کہ تُم اُن باتوں کو جو پاک نبِیوں نے پیشتر کِیں اور خُداوند اور مُنّجی کے اُس حُکم کو یاد رکھّو جو تُمہارے رَسُولوں کی معرفت آیا تھا۔
3 اور یہ پہلے جان لو کہ اِخیر دِنوں میں اَیسے ہنسی ٹھٹھّا کرنے والے آئیں گے جو اپنی خواہِشوں کے مُوافِق چلیں گے۔
4 اور کہیں گے کہ اُس کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟ کِیُونکہ جب سے باپ دادا سوئے ہیں اُس وقت سے اَب تک سب کُچھ ویسا ہی ہے جَیسا خِلقَت کے شُرُوع سے تھا۔
5 وہ تو جان بُوجھ کر یہ بھُول گئے کہ خُدا کے کلام کے ذریعہ سے آسمان قدیِم سے موجُود ہیں اور زمِین پانی سے بنی اور پانی میں قائِم ہے۔
6 اِنہی کے ذریعہ سے اُس زمانہ کی دُنیا ڈُوب کر ہلاک ہُوئی۔
7 مگر اِس وقت کے آسمان اور زمِین اُسی کلام کے ذریعہ سے اِس لِئے رکھّے ہیں کہ جلائے جائیں اور وہ بے دِین آدمِیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دِن تک محفُوظ رہیں گے۔
8 اَے عِزیزو! یہ خاص بات تُم پر پوشِیدہ نہ رہے کہ خُداوند کے نزدِیک ایک دِن ہزار برس کے برابر ہے اور ہزار برس ایک دِن کے برابر۔
9 خُداوند اپنے وعدہ میں دیر نہِیں کرتا جَیسی دیر بعض لوگ سَمَجھتے ہیں بلکہ تُمہارے بارے میں تحمُّل کرتا ہے اِس لِئے کہ کِسی کی ہلاکت نہِیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی تَوبہ تک نوبت پہُنچے۔
10 لیکِن خُداوند کا دِن چور کی طرح آئے گا۔ اُس دِن آسمان بڑے شور و غُل کے ساتھ برباد ہو جائیں گے اور اجرامِ فلک حرارت کی شِدّت سے پِگھل جائیں گے اور زمِین اور اُس پر کے کام جل جائیں گے۔
11 جب یہ سب چِیزیں اِسی طرح پِگھلنے والی ہیں تو تُمہیں پاک چال چلن اور دِینداری میں کَیسا کُچھ ہونا چاہئے۔
12 اور خُدا کے اُس دِن کے آنے کا کَیسا کُچھ مُنتظِر اور مُشتاق رہنا چاہئے۔ جِس کے باعِث آسمان آگ سے پِگھل جائیں گے اور اجرامِ فلک حرارت کی شِدّت سے گل جائیں گے۔
13 لیکِن اُس کے وعدہ کے مُوافِق ہم نئے آسمان اور نئی زمِین کا اِنتظار کرتے ہیں جِن میں راستبازی بسی رہے گی۔
14 پَس اَے عِزیزو! چُونکہ تُم اِن باتوں کے مُنتظِر ہو اِس لِئے اُس کے سامنے اِطمینان کی حالت میں بے داغ اور بے عَیب نِکلنے کی کوشِش کرو۔
15 اور ہمارے خُداوند کے تحمُّل کو نِجات سَمَجھو۔ چُنانچہ ہمارے پیارے بھائِی پَولُس نے بھی اُس حِکمت کے مُوافِق جو اُسے عنایت ہُوئی تُمہیں یہی لِکھا ہے۔
16 اور اپنے سب خطوں میں اِن باتوں کو ذِکر کِیا ہے جِن میں بعض باتیں اَیسی ہیں جِن کا سَمَجھنا مُشکِل ہے اور جاہِل اور بے قیام لوگ اُن کے معنوں کو بھی صحیفوں کی طرح کھِینچ تان کر اپنے لِئے ہلاکت پَیدا کرتے ہیں۔
17 پَس اَے عِزیزو! چُونکہ تُم پہلے سے آگاہ ہو اِس لِئے ہوشیار رہو تاکہ بے دِینوں کی گُمراہی کی طرف کھِنچ کر اپنی مضبُوطی کو نہ چھوڑ دو۔
18 بلکہ ہمارے خُداوند اور مُنّجی یِسُوع مسِیح کے فضل اور عِرفان میں بڑھتے جاؤ۔ اُسی کی تمجِید اَب بھی ہو اور ابد تک ہوتی رہے۔ آمِین۔